Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 58
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل بدان کہ لفظ مستعمل در سخن عرب بر دو قسم است: مفرد و مرکب۔ مفرد لفظی باشدتنہا کہ دلالت کند بر یک معنیٰ، و آن را کلمہ گویند۔ و کلمہ بر سہ قسم است: اسم، چون رجلٌ؛ و فعل، چون ضربَ؛ و حرف، چون هل؛ چنانکہ در تصریف معلوم شدہ است۔ اچھا بھئی، پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے۔ گزشتہ سبق میں ہم نے نحو میر کتاب شروع کی اور اس کا خطبہ پڑھا بھئی۔ تو گزشتہ سبق میں ہم نے نحو میر کا خطبہ پڑھا۔ اور خطبے میں جیسے کہ ہمارے تمام بزرگوں کا طریقہ ہے، مصنف نے بھی کتاب کا آغاز بسم اللہ سے کیا، بسم اللہ کے بعد اللہ کی حمد و ثنا ذکر کی، اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام کو ذکر کیا بھئی۔ اس کے بعد مصنف نے تین باتیں ذکر کیں آگے بھئی۔ تین باتیں ذکر کیں۔ ایک تو کتاب کا تعارف کروایا اور آپ کو بتلایا کہ یہ کتاب میں نے علم نحو میں لکھی ہے، اور یہ بڑی کتاب نہیں ہے مختصر کتاب ہے، اور کس فن میں ہے علم نحو میں۔ اور دوسری آپ کو شرائط بتلائیں کہ میری کتاب پڑھنے کے لیے یہ یہ چیزیں آپ نے پہلے پڑھی ہوں گی تو پھر میری کتاب سے آپ پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور تین چیزیں ذکر فرمائیں۔ پہلی بات انہوں نے یہ ذکر کی کہ آپ کو عربی زبان کے مفردات یاد ہوں، یعنی الفاظ یاد ہوں اور ان کے معانی آپ کو یاد ہوں۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے آپ کو گردانیں یاد ہوں علم صرف کی۔ دوسری بات یہ ذکر کی کہ آپ کو اشتقاق کا پتہ ہونا چاہیے میری کتاب پھر ہی پورا فائدہ دے گی۔ اور اشتقاق میں نے بتلایا تھا ایک لفظ سے دوسرے لفظ کو بنانا، اس کا پتہ بھی علم صرف سے چلتا ہے۔ اور تیسری بات یہ ذکر کی کہ آپ کو علم صرف کی اہم باتیں یاد ہوں یعنی اس کے جو قوانین ہیں، جو تعلیلات ہوتی ہیں کس طریقے سے ہوتی ہیں، وہ ساری آپ کو یاد ہونی چاہئیں۔ تو تین چیزیں آپ کو اس کتاب کے پڑھنے سے پہلے ان تین چیزوں کا پتہ ہونا چاہیے، اور حاصل کلام یہ ہے کہ آپ کو علم صرف آنا چاہیے کیونکہ یہ تینوں چیزیں ان کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ علم صرف سے۔ پھر مصنف نے اپنی کتاب کے فائدے بتلائے کہ اگر آپ کو علم صرف آتا ہوگا اور اس کے بعد میری کتاب پڑھیں گے تو میری کتاب آپ کو دو فائدے دے گی۔ ایک تو یہ کہ آپ کو عربی زبان کی ترکیب کا طریقہ آسانی سے آپ جان لیں گے۔ عربی زبان کی ترکیب آپ آسانی سے جان لیں گے، اور نیز اس کے ذریعے آپ کو معرب اور مبنی کی جلدی پہچان ہوگی، اور عربی زبان پڑھنے کا ملکہ آپ حاصل ہی کر لیں گے، اس میں قوت دے دے گی۔ عربی زبان پڑھنے کے اندر آپ کو قوت دے گی اللہ کی توفیق اور مدد سے۔ یہ تھا گزشتہ سبق کا خلاصہ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے بھئی آگے۔ فصل۔ یاد رکھیے یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ وہ اپنے کلام کے مختصر حصے بنا لیتے ہیں۔ اس کے اندر مختلف انواع کی باتیں ہیں، تو ایک ایک نوع کو ایک ایک فصل میں اکٹھا ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ تو اس طرح طالب علم کو بھی آسانی ہوتی ہے کہ ایک فصل کے بعد جب دوسری فصل آتی ہے طالب علم سمجھ جاتا ہے کہ اب یہ کچھ مختلف قسم کے تھوڑے مسائل اکٹھے ذکر ہونے لگے ہیں۔ تو یہاں بھی انہوں نے کیا ذکر کر دی؟ فصل ذکر کر دی، فصل بھئی۔ تو یہاں وہ فصلیں ذکر کریں گے، اور پھر دو چار پانچ سطروں کے بعد پھر فصل ذکر کریں گے۔ تو پہلی فصل کے اندر وہ لفظ کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں فصل۔ بدان کہ، یہ وہی بدان ہے، اوپر آیا تھا نا اما بعد بدان، اسی بدان کے ساتھ 'کہ' کا لفظ جڑ گیا۔ تو بدان کہ، تو جان لے کہ لفظ مستعمل در سخن عرب۔ سخن پڑھنا اس کو بھئی، سین پر زبر ہے، خاء پر پیش ہے۔ لفظ مستعمل در سخن عرب، یہاں فارسی کی ایک اور بات یاد رکھنا، فارسی میں موصوف صفت کے درمیان زیر پڑھتے ہیں۔ موصوف صفت کے درمیان زیر۔ اسی طرح مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان بھی زیر پڑھتے ہیں۔ مثلاً کتابِ زید، کیا معنی؟ ترجمہ آخر سے ہوگا، زید کی کتاب۔ تو یہ جو 'کی' کا لفظ ہے اس کے لیے کیا لے آتے ہیں درمیان میں؟ زیر لے آتے ہیں۔ تو کتابِ زید، با کے نیچے زیر پڑھی۔ جیسے عربی میں ہے نا کتابُ زیدٍ، عربی میں کیا ہوتا ہے؟ مضاف الیہ پر زیر آتی ہے آخر میں، لیکن یہاں مضاف پر زیر آ جاتی ہے، اور یوں پڑھیں گے کتابِ زید۔ لیکن یہ جو زیر ہے عربی فارسی زبان میں، صرف مضاف کے لیے نہیں آتی، یہ موصوف صفت کے درمیان بھی آتی ہے۔ تو یہ مضاف مضاف الیہ کے لیے بھی آتی ہے، جیسے سخنِ عرب، کیا ترجمہ کریں گے؟ سخن کا معنی ہے بات بھئی، بات، کلام بھئی۔ سخنِ عرب، عرب کا کلام، عرب کی بات۔ اسی طرح کتابِ زید، کتابِ زید کا کیا معنی؟ زید کی کتاب۔ قلمِ عمرو، کیا معنی؟ عمرو کا قلم۔ اور اسی طرح موصوف صفت کی کوئی مثال لے آئیں، مثلاً آگے آئے گا مرکبِ مفید، اور مرکبِ غیر مفید، یہ آگے آئے گا۔ تو مرکبِ مفید، دیکھو یہاں بھی با کے نیچے زیر پڑھی۔ لیکن یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ نہیں ہیں۔ مفید کا مرکب، نہیں نہیں نہیں، وہ مرکب خود کیا ہے؟ مفید ہے، فائد۔ تو یہ موصوف صفت ہیں۔ یا اور مثال بنا لو بھئی، کتابِ قدیم۔ کتابِ قدیم، پرانی کتاب۔ دیکھو اب یہ با کے نیچے زیر ہے، لیکن یہ مضاف مضاف الیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ موصوف صفت ہیں۔ تو فارسی میں پہلے لفظ پر زیر جب آ جائے، تو سمجھ جائیں آگے یا تو مضاف الیہ آ رہا ہے یا آگے صفت آ رہی ہے۔ اور یہ اب آپ نے پہچاننا ہے، بلکہ آپ نے خود دیکھنا عبارت میں جہاں مضاف مضاف الیہ بن رہے ہیں یعنی آپ کو کا، کے، کی کا لفظ بیچ میں لانا پڑتا ہے، جیسے کتابِ زید، زید کی کتاب۔ تو اب آپ نے اس کو کتاب زید نہیں پڑھنا بلکہ کیا پڑھنا ہے؟ کتابِ زید، یہاں کتاب میں زیر نہیں ہوگی آپ نے زیر پڑھنی ہے۔ اسی طرح جہاں موصوف صفت ہوں، وہاں پر بھی زیر نہیں ہوگی لیکن آپ نے پھر زیر پڑھنی ہے۔ جیسے پچھلی عبارت میں آیا تھا سوادِ خواندن۔ سوادِ خواند، سواد کا معنی تھا مہارت، خواندن کا معنی پڑھنا، پڑھنے کا ملکہ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بدان کہ لفظِ مستعمل، دیکھا یہاں بھی میں نے زیر پڑھی، کیوں؟ یہ موصوف صفت ہیں، وہ لفظ جو استعمال ہوتا ہے، یہ مضاف مضاف الیہ نہیں ہیں موصوف صفت ہیں۔ بدان کہ، بدان کہ جان لے تو کہ لفظِ مستعمل در سخنِ عرب بر دو قسم است۔ اچھا بھئی، پہلے یہ سمجھ لیں اس کو پھر ہم ترجمہ کرتے ہیں۔ یہاں آپ کو مصنف بتلائیں گے کہ وہ الفاظ جو عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں وہ دو قسم پر ہیں، یا وہ مفرد ہوگا یا وہ مرکب ہوگا۔ عربی زبان کے الفاظ جو آپ استعمال کرتے ہیں، جو عرب استعمال کرتے ہیں، جو زبان بولتے ہیں عربی، وہ کتنی قسم کے ہیں؟ دو قسم کے۔ یا وہ کیا ہوں گے؟ مفرد، یا کیا ہوں گے؟ مرکب۔ مفرد آسان ہے، ایک لفظ اکیلا لفظ ہو اور اس کا ایک ہی معنی ہو۔ مفرد اکیلا لفظ ہو اور اس کا بھئی ایک لفظ ہوگا تو اس کا ایک معنی ہوگا، دو لفظ ہوں گے تو دو معنی ہوں گے، تین ہوں گے تو تین ہوں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں کتاب، دیکھا آپ یہ اپنے سامنے رکھی ہوئی یہ سمجھ گئے کہ یہ جو ہمارے سامنے پڑھنے کے لیے چیز رکھی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ اور اسی طرح ایک ہوتی ہے کاپی جس پر آپ کیا کرتے ہیں؟ لکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہے گلاس جس میں آپ کیا کرتے ہیں؟ پانی پیتے ہیں۔ ایک ہے پنکھا جس کو آپ چلاتے ہیں، کس کے لیے؟ ہوا حاصل کرنے کے لیے۔ ایک ہے بجلی کا بلب جس کو آپ جلاتے ہیں، کس لیے جلاتے ہیں؟ روشنی کے لیے۔ تو دیکھو ایک ایک لفظ میں بولتا جا رہا ہوں اور اس کا معنی آپ سمجھتے جا رہے ہیں۔ میں نے کتاب کہا، آپ سمجھ گئے یا نہیں؟ میں نے بلب کہا، آپ سمجھ گئے۔ میں نے پنکھا کہا، آپ سمجھ گئے۔ میں نے دیوار کہا، آپ سمجھ گئے۔ میں نے درخت کہا، آپ سم، کیونکہ یہ ایک ایک نام رکھا گیا ہے ایک ایک چیز کا یا ایک معنی کا۔ تو جیسے ہی وہ لفظ بولتے ہیں وہ چیز یا وہ معنی ذہن کے اندر آ جاتا ہے۔ اس کی صور، مثلاً زید آپ کا ایک ساتھی ہے، جیسے ہی میں کہوں گا زید، آپ کے ذہن میں فوراً اس کی صورت آ گئی، ہاں وہ والا ساتھی ہمارا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو ایک لفظ ہوتا ہے، ایک معنی پر دلالت کرتا ہے اس کو مفرد کہتے ہیں۔ مفرد کا کیا معنی؟ اکیلا، اس کا معنی ہی اکیلا ہے، ایک۔ تو مفرد کہتے ہیں۔ اور اگر دو یا زیادہ لفظ ہوں، تو ان کے معنی بھی کتنے ہوں گے؟ دو یا زیادہ، تو اس کو مرکب کہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں کتابُ زیدٍ، جی یہ مفرد ہے یا مرکب ہے؟ کتابُ زیدٍ، مرکب ہے، دو لفظ ہیں، کتابُ زیدٍ، دو لفظ ہیں، زید کی کتاب۔ کتاب الگ اور زید الگ ہے۔ تو مفرد ایک لفظ ہوگا، مثلاً صرف کتاب، صرف قلم، یہ مفرد ہے۔ اسی طرح درخت، یہ مفرد ہے۔ مسجد، دیکھو ایک لفظ ہے، یہ سارے کیا ہیں؟ مفرد۔ اور اب دیکھنا دو یا تین لفظ آئیں تو وہ سمجھ جائیں مرکب ہیں۔ کتابُ زید، یہ کیا ہے؟ مرکب ہے۔ مسجدُ مدرسۃٍ، مرکب ہے۔ اور اسی طرح زیدٌ عالمٌ، یہ بھی کیا ہے؟ مرکب ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ایک لفظ ہے اور اس کا ایک ہی معنی ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مفرد۔ اور اگر لفظ زیادہ ہیں تو پھر وہ کیا کہلائے گا؟ مرکب، کیونکہ لفظ زیادہ تو معنی بھی زیادہ ہوں گے۔ تو عربی زبان کے الفاظ کتنی قسم پر؟ دو، یا وہ مفرد یا مرکب۔ دیکھیے بھئی، فصل۔ بدان کہ، جان لے تو کہ لفظِ مستعمل در سخنِ عرب بر دو قسم است، کہ وہ لفظ جو استعمال ہوتے ہیں در سخنِ عرب، عربی زبان میں۔ میں نے بتلایا اس کو سخُن پڑھنا، سین پر زبر، خاء پر پیش، اور نون کے نیچے زیر پڑھنا کیونکہ یہ مضاف بن رہا ہے، عرب اس کے لیے مضاف الیہ ہے۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ سخنِ عرب، عرب کا کلام، عرب کی بات بھئی۔ عربوں کی جو بات ہے، بدان کہ لفظِ مستعمل در سخنِ عرب، جان لے تو کہ وہ لفظ جو استعمال ہوتا ہے عربی زبان میں یا عربی کلام میں بر دو قسم است، وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے۔ قسم است، قسم است، یہ دیکھو است، یہ اصل لفظ فارسی کا کیا ہے؟ است، شروع میں الف ہوتا ہے۔ لیکن یہ الف کبھی کبھار حذف کر دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں تخفیف کے لیے، تاکہ کلام مختصر ہو جائے اور خوبصورت ہو جائے۔ پھر اس صورت میں یاد رکھو، اس سے ماقبل جو حرف آ رہا ہو اس پر زبر پڑھنا۔ اس پر ہاں است سے پہلے جو لفظ تھا اس پر زبر پڑھنا ہے، اور یہاں اس سے پہلے کیا ہے؟ قسم، اور قسم کا آخری حرف کیا ہے؟ میم، تو اس میم پر زبر پڑھنا۔ کیسے؟ بر دو قسم است، بر دو قسم است۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ جی۔ تو سخن کا کیا ترجمہ کیا؟ کلام يا بات، یا یوں کہو زبان، زبان۔ عرب، عرب کی زبان۔ بدان کہ جان لے تو کہ لفظِ مستعمل در سخنِ عرب بر دو قسم است، جان لے تو کہ وہ لفظ جو استعمال ہوتا ہے عربی زبان میں یا عربی کلام میں بر دو قسم است، وہ دو قسم پر ہے۔ مفرد و مرکب، مفرد اور مرکب۔ یاد رکھو یہ جو دو لفظوں میں واؤ آئے، فارسی میں یہ واؤ جب آئے تو اس کو علیحدہ نہیں پڑھنا، مفرد و مرکب یوں نہیں پڑھنا۔ عموماً طلباء یوں پڑھتے ہیں، یوں نہیں پڑھنا آپ نے: مفرد و مرکب، یوں نہیں پڑھنا۔ بلکہ جو ماقبل میں آخری حرف ہو اس پر پیش پڑھ دینا۔ ہاں، مفردُ و مرکب۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جہاں بھی پڑھنا ہے آپ نے اس طرح پڑھنا ہے: مفردُ و مرکب۔ کوئی اور بھی لفظ ہو وہاں آپ نے پیش، مجہول سا پیش پڑھ دینا ہے اور اس واؤ کو نہیں پڑھنا۔ ہاں، مفرد پر رک گئے، اب آپ پڑھنے لگے ہیں پھر الگ پڑھ لیں: و مرکب۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو مفردُ و مرکب، مفرد اور مرکب، دو قسمیں ہیں۔ مفرد لفظی باشد تنہا کہ دلالت کند بر یک معنیٰ۔ اچھا، میں نے ابھی آپ کو بتلایا کہ ایک ہے مفرد اور ایک ہے مرکب۔ مفرد کسے کہتے ہیں؟ ایک ہی لفظ ہو اور کتنے معنی ہوں؟ ایک ہی معنی ہو، اس پر دلالت کرے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفرد، مفرد کہتے ہیں۔ اب دیکھو وہی بیان کر رہے ہیں۔ مفرد لفظے باشد، یہ یہ لمبی یا ہونی چاہیے تھی بھئی، بڑی یا۔ لفظے۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ کل میں نے آپ کو بتایا تھا سبق میں بھئی، لفظے۔ فارسی زبان میں بڑی یا آخر میں بڑھاتے ہیں جب ایک کا معنی ادا کرنا ہو۔ کتابے۔ کیا معنی؟ ایک کتاب۔ مختصرے۔ ایک مختصر۔ اب یہاں آیا لفظے۔ کیا معنی؟ ایک لفظ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ مفرد لفظے باشد، مفرد وہ ایک لفظ ہے تنہا، تنہا کا معنی اکیلا۔ مفرد لفظے باشد تنہا، مفرد وہ ایک اکیلا لفظ ہے کہ دلالت کند کہ وہ دلالت کرتا بر یک معنی، یک معنی پر۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مفرد لفظِ باشد تنہا۔ تنہا کا کیا معنیٰ؟ اکیلا۔ مفرد لفظِ باشد تنہا، مفرد وہ ایک اکیلا لفظ ہوتا ہے کہ دلالت کند کہ وہ دلالت کرتا ہے بر یک معنی، ایک معنی پر، و آن را کلمہ گویند اور اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ یہ آن، چاہے تو نون پڑھ لیں، چاہے نون غنہ پڑھ لیں۔ اس کو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ و آن را کلمہ گویند۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ مفرد کیا ہوتا ہے؟ ایک اکیلا لفظ ہوتا ہے اور کتنے معنی پر دلالت کرتا ہے؟ ایک معنی پر۔ دلالت کا معنیٰ یعنی وہ معنی سمجھ میں آ جاتا ہے فوراً، اس ایک معنی۔ میں نے زید کہا، کس کی صورت ذہن میں آئی؟ زید کی۔ میں نے کتاب کہا، کس کی صورت ذہن میں آئی؟ کتاب کی۔ میں نے گلاس کہا، کس کی صورت آئی؟ گلاس کی۔ میں نے درخت کہا، کس کی صورت آئی؟ درخت کی۔ میں نے پہاڑ کہا، کس کی صورت آئی؟ دیکھا، جو جو میں ذکر کرتا جا رہا ہوں، وہ آپ کے ذہن میں آتا جا رہا ہے، اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز سمجھ میں آ رہی ہے، میرے زبان کے لفظ سے آپ کو خارج کی ایک چیز سمجھ میں آ جاتی ہے فوراً۔ میں نے کہا گلاس، میں نے تو لفظ بولا ہے منہ سے، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن آ گیا فوراً جس میں پانی پیا جاتا ہے۔ میں نے درخت کہا، فوراً آپ کے ذہن میں ایک چیز ذہن میں آ گئی۔ میں نے پہاڑ کہا، فوراً ایک چیز، تو یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ لفظ اس چیز پر دلالت کر رہے ہیں، اس کو دلالت کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں مفرد لفظِ باشد تنہا کہ دلالت کند بر یک معنی، مفرد لفظِ باشد تنہا، مفرد وہ ایک اکیلا لفظ ہوتا ہے کہ دلالت کند بر یک معنی کہ وہ دلالت کرتا ہے ایک معنی پر۔ دلالت کرنے کا کیا معنیٰ؟ کہ وہ چیز ہمیں اس سے سمجھ میں آتی ہے، ذہن میں آتی ہے۔ و آن را کلمہ گویند، اور اس مفرد کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ مفرد ہی کا دوسرا نام کلمہ ہے، کلمہ۔ لام کے نیچے زیر پڑھنا ہے، کلمہ، کلمہ۔ و کلمہ بر سہ قسم است، اور کلمہ سہ، سہ کا معنیٰ تین، و کلمہ بر سہ قسم است، اور کلمہ تین قسم پر ہے۔ کلمہ کی تین قسمیں ہیں یاد رکھنا، یا یوں کہو مفرد کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل، اور حرف۔ کتنی قسمیں ہیں؟ تین: اسم، فعل، اور حرف۔ اسم، کہتے ہیں اسم چون رجلٌ، اسم جیسے رجلٌ۔ و فعل چون ضرب، اور فعل جیسے ضرب۔ و حرف چون هل، اور حرف جیسے هل۔ چون کا معنیٰ ہے جیسے، جیسے، یہ اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں۔ یہ باتیں آگے کتابوں میں آ جائیں گی پھر تفصیل سے۔ آپ کو بتائیں گے کہ اسم وہ اکیلا لفظ ہے جو کسی معنی پر دلالت کرتا ہے اور وہ اس دلالت کرنے میں کسی دوسرے کلمے کا محتاج نہیں، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہیں۔ اچھی طرح اس کو سمجھ لیں، اسم۔ اگرچہ یہ ابتدائی کتاب ہے، یہاں ضرورت نہیں ہے اتنی تفصیل بیان کرنے کی، لیکن بہرحال میں ذکر کر دیتا ہوں، امید ہے انشاء اللہ آپ کو سمجھ میں آ جائے گی بات۔ یاد رکھو مفرد یا یوں کہو کلمہ کی، کلمہ جو ہے اس کی تین قسمیں ہیں: ایک اسم، ایک فعل، اور ایک حرف۔ اسم اور فعل یہ دونوں جو ہیں، یہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتے ہیں اور کسی دوسرے کلمے کے ساتھ ملنے کے یہ محتاج نہیں۔ اسم بھی اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے گا، جیسے ہی آپ اسم بولیں گے، جیسے دیکھو جیسے ہی میں نے کہا زید، فوراً آپ کے ذہن میں کس کی صورت آ گئی؟ زید کی۔ کسی اور لفظ کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں، یہ خود بخود اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ یا دوسری مثال لے لو کتاب، میں نے جیسے ہی کتاب کہا، آپ کے ذہن میں ایک چیز کی صورت فوراً ذہن میں آ گئی، کسی دوسرے کلمے کو ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں۔ یا قلم، جیسے ہی میں نے قلم کہا، فوراً ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، کسی دوسرے کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ تو اسم جو ہے وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے۔ دلالت کرتا ہے یعنی وہ چیز فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے، کسی دوسرے کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور نیز اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا نہیں ہوتا۔ تین زمانے یعنی ماضی، حال، اور مستقبل۔ میں نے کہا کتاب، آپ کو ایک چیز فوراً سمجھ میں آ گئی، کسی اور کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور کیا اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہے؟ کتاب، ماضی ہے یہاں؟ کہ زمانہ ماضی میں تھی، یا زمانہ حال میں ہے، یا زمانہ مستقبل میں ہے جو آنے والا ہے؟ نہیں، یہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسم اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے اور دلالت کرنے میں، یوں کہیں اسم اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے اور دلالت کرنے میں یہ کسی دوسرے کلمے کا محتاج نہیں ہوتا، اور نمبر تین یہ کہ اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہیں ہوتا، تین چیزیں ہوتی ہیں۔ جبکہ فعل، فعل بھی اسی طرح ہے، اس میں صرف فرق اتنا ہے کہ اس میں تین زمانوں میں سے ایک زمانہ ساتھ ملا ہوگا۔ فعل اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے گا، کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں، اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوگا۔ جیسے ضرب، ضرب کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا، ماضی کا۔ ضرب، اس آدمی نے مارا، کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں، زمانہ گزشتہ میں، دیکھو زمانہ ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یا اِضرب، اِضرب امر کا صیغہ لے آؤ۔ اِضرب، تو پٹائی کر، تو مار۔ اب یہاں دیکھو کون سا زمانہ ہے؟ مستقبل والا۔ جب میں نے آپ کو کہا اِضرب، ابھی تو آپ پٹائی نہیں کر رہے نا، ہاں لیکن میں آپ کو کیا کہہ رہا ہوں کہ آپ پٹائی کریں، یعنی اگلے آنے والے زمانے میں، اگلے منٹ میں یا اگلے لمحے میں کیا کریں؟ پٹائی کریں، یعنی مستقبل میں۔ تو اس کے اندر دیکھو مستقبل والا زمانہ ہے۔ اِضرب فعل ہے، فعلِ امر ہے، اور اس کے ساتھ کون سا زمانہ جڑا ہوا ہے؟ مستقبل۔ اور ایک مضارع ہے، مضارع میں حال اور استقبال دونوں میں، دونوں کا احتمال ہوتا ہے، ہوتا ایک وقت میں ایک ہی زمانہ ہے، جیسے یضربُ۔ یضربُ کا کیا معنیٰ؟ وہ پٹائی کرتا ہے یا پٹائی کرے گا۔ یا یوں کہیں، وہ پٹائی کر رہا ہے یا وہ پٹائی کرے گا۔ کر رہا ہے، کیا معنیٰ؟ ابھی حال میں وہ کیا کر رہا ہے؟ پٹائی کر رہا ہے۔ یا اس کا مستقبل والا بھی ترجمہ کر سکتے ہیں، وہ پٹائی کرے، کل پٹائی مثلاً کرے گا، مستقبل میں۔ فعلِ مضارع میں دونوں زمانوں کا احتمال ہے، حال بھی اور استقبال بھی۔ عرب حال کے لیے بھی فعلِ مضارع بولتے ہیں اور مستقبل کے لیے بھی فعلِ مضارع۔ لیکن ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد ہوگا۔ اگر یضربُ کا معنیٰ میں کروں زید اس وقت پٹائی کر رہا ہے، تو پھر کرے گا یہ ترجمہ میں نہیں کر سکتا، یعنی یہی کرنا پڑے گا، ایک ہی معنی کرنا پڑے گا۔ اور اگر میرا ارادہ کس کا ہے؟ یا یوں کہیں مثلاً یضربُ زیدٌ، میں ارادہ کرتا ہوں حال کا، تو اب اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ زید پٹائی کر رہا ہے۔ اب یہاں زید پٹائی کرے گا، یہ ترجمہ نہیں کر سکتے کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی، ایک ہی زمانہ اس کے اندر، ایک ہی زمانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ استعمال میں پھر ایک ہی زمانہ آئے گا۔ احتمال دونوں کے، اور استعمال میں ایک۔ جب میں بولوں گا، ہاں اگر میرا ارادہ ہے زید کل پٹائی کرے گا اور میں کہتا ہوں یضربُ زیدٌ غداً، زید کل پٹائی کرے گا، تو اب حال والا ترجمہ آپ نہیں کر سکتے۔ آپ یہ نہ کہیں یہ تو مضارع ہے، مضارع میں تو دونوں ترجمے ہوتے ہیں۔ بھئی ہوتے ہیں دونوں احتمال، لیکن ایک وقت میں آپ ایک ہی معنی کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اسم کیا ہوتا ہے؟ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے۔ خود بخود دلالت کا کیا معنیٰ؟ کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں۔ اور دوسری بات اس میں کیا؟ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ تو اسم میں گویا دو باتیں ہو گئیں: ایک تو یہ کہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے گا، کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں، اور دوسری بات یہ کہ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوگا۔ جبکہ فعل، وہ بھی خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، کوئی اور کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن اس میں تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ ساتھ ملا ہوا ہوگا۔ جبکہ کلمہ کی تیسری قسم جو ہے، وہ حرف ہے۔ حرف جو ہے وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا۔ وہ اپنے معنی پر تبھی دلالت کرے گا جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کلمہ جوڑا جائے، ملایا جائے۔ جیسے مِنْ، مِنْ جو ہے نا مِنْ، یہ اردو میں آپ اس کا ترجمہ کرتے ہیں سے، سے۔ تو یہ مِنْ جو ہے ابتداء کے لیے ہے عربی میں۔ ابتداء یعنی جہاں سے کسی چیز کا آغاز ہو، کسی چیز کی ابتداء ہو، کوئی چیز شروع ہو وہاں سے، اس کے لیے مِنْ آتا ہے۔ لیکن مِنْ خود یہ شروع کا معنیٰ ادا نہیں کرتا۔ آپ کسی عرب کے سامنے سو دفعہ کہیں مِنْ مِنْ مِنْ، وہ کہے گا یہ کیا کہہ رہے ہو، مجھے تو کوئی آپ کے یہ کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ ہاں اس مِنْ کے ساتھ لفظ جوڑ دو، اب معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں سیرتُ، سارَ یسیرُ سیراً کا معنیٰ ہے चलना, चलना۔ سیرتُ، میں چلا مِنَ البیتِ یا مِنَ الدارِ، گھر سے اِلَی المسجدِ، کہاں تک؟ مسجد۔ تو سیرتُ مِنَ البیتِ اِلَی المسجدِ، میں کمرے سے کہاں تک آیا؟ مسجد تک۔ اب توجہ رکھنا لفظوں پر، سیرتُ مِنَ البیتِ، میں کہاں سے چلا؟ گھر سے یا کمرے سے۔ میرے چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے۔ یہ کس نے بتایا؟ مِنْ نے۔ سیرتُ نے تو صرف اتنا بتایا کہ میں چلا ہوں، لیکن یہ چلنے کا آغاز کہاں سے ہوا اور کہاں پہ ختم ہوا؟ یہ آغاز کہاں سے ہوا؟ کمرے سے، البیت سے، گھر سے۔ اور یہ کس نے بتایا؟ مِنْ نے، سیرتُ مِنَ البیتِ۔ اور اِلَی المسجدِ، یہ اِلٰى بھی حرف ہے، یہ انتہاء بتلانے کے لیے آتا ہے۔ تو یہ اِلٰى بتلا رہا ہے میرے چلنے کی انتہاء کہاں پر ہوئی؟ مسجد۔ تو یہ کس نے بتایا؟ اِلٰى نے۔ سیرتُ نے تو صرف اتنا بتلایا کہ میں چلا ہوں۔ لیکن اس چلنے کا کہیں سے آغاز ہوا اور کہیں انتہاء ہوا، کہاں انتہاء ہوئی؟ وہ دو حروف نے بتلا دیا، مِنْ نے بتلایا کہ آغاز کہاں سے ہوا، اور اِلٰى نے بتلایا کہ اختتام کہاں پر ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو حروف ہوتے ہیں، یہ اپنا معنی خود ادا نہیں کر سکتے، خود ادا نہیں۔ ان کے ساتھ دوسرے کلمے جڑیں گے تو پھر ان کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ اکیلا مِنْ کہو یا اکیلا اِلٰى کہو، تو اس کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ہاں اس کے ساتھ اور لفظ جوڑ دو، جیسے سیرتُ فعل کو میں نے جوڑا اور مِنَ البیتِ البیت کو میں نے ساتھ جوڑا، اب اس کا معنی سمجھ میں آ گیا کہ یہ ابتداء بیان کر رہا ہے چلنے کی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام، مفرد کا دوسرا نام کیا ہے؟ کلمہ ہے، کلمہ، کلمہ نہیں کہنا، کلمہ ہے، کلمہ۔ اور یہ کلمہ کتنی قسم پر؟ تین قسم پر، یا یوں کہیں مفرد تین قسم پر ہے: نمبر ایک اسم، نمبر دو فعل، نمبر تین حرف۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے، کسی دوسرے کلمے کا محتاج نہیں، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ اور فعل، وہ بھی اپنے معنی پر خود دلالت کرتا ہے اور کسی دوسرے کلمے کا محتاج نہیں ہوتا، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ساتھ ملا ہوتا ہے۔ اور حرف جو ہے، وہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا، وہ کسی دوسرے کلمے کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ دوسرے کلمے اس کے ساتھ جڑیں گے تو اس کا معنی سمجھ میں آئے گا، جیسے مِنْ اور اِلٰى کا معنی تب سمجھ میں آئے گا جب اس کے ساتھ یہ سیرتُ اور البیت اور المسجد کو سب جوڑ دیا، اب ان کا معنی سمجھ میں آ گیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو بہرحال اتنی تفصیل یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی، بس اتنا یاد رکھیں کہ کلمہ کی تین قسمیں ہیں: ایک اسم ہے، ایک فعل ہے، اور ایک حرف ہے۔ اسم کی مثال دے دی رجلٌ، اور فعل کی مثال جیسے ضربَ، اور حرف کی مثال جیسے هل۔ هل جو ہے نا هل، یہ سوال کے لیے آتا ہے، کسی سے کوئی بات پوچھنی ہو۔ مثلاً میں آپ سے پوچھتا ہوں هل ضربَ زیدٌ؟ کیا زید نے پٹائی کی؟ تو میں آپ سے سوال پوچھ رہا ہوں، تو اس سوال کے لیے کیا استعمال ہوتا ہے؟ هل۔ تو یہ بھی حرف ہے اور یہ اپنا معنی ادا نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ دوسرے کلمے نہ جڑیں بھئی۔ دیکھیے دوبارہ کتاب پر، کہتے ہیں و کلمہ بر سہ قسم است، اور کلمہ جو ہے وہ تین قسم پر ہے: اسم چون رجلٌ، اسم جیسے رجلٌ، و فعل چون ضربَ، اور فعل جیسے ضربَ، و حرف چون هل، اور حرف جیسے هل، چنانکہ در تصریف معلوم شدہ است، جیسے علمِ صرف میں، میں نے بتلایا تھا تصریف کس کا نام ہے؟ علمِ صرف۔ چنانکہ در تصریف معلوم معلوم شدہ است۔ جیسا کہ علمِ صرف میں معلوم ہو چکا ہے۔ جیسا کہ علمِ صرف میں معلوم... دیکھا، بتلایا تھا انہوں نے شروع میں ہی، میری کتاب سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ آپ نے علمِ صرف پڑھا ہوا ہو۔ اسی کو ذکر کیا کہ آپ علمِ صرف میں یہ پڑھ چکے ہوں گے کہ کلمہ کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ امّا مرکب، لفظے باشد کہ از دو کلمہ یا بیشتر حاصل شدہ باشد۔ باقی مرکب جو ہے، یعنی امّا مرکب... تو مرکب جو ہے، یا یوں ترجمہ کر لیں: باقی مرکب جو ہے... دو لفظ ذکر کیے تھے نا، کہ لفظِ مستعمل کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو: مفرد اور مرکب۔ مفرد کو بیان کر دیا، اب مرکب بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: باقی مرکب جو ہے لفظے باشد، وہ لفظ ہے۔ اچھا، امّا مرکب لفظے باشد... وہ لفظے کا پھر ترجمہ ایک لفظ کے ساتھ نہ کرو، وہ لفظے باشد وہ لفظ ہے۔ کیا ہے؟ وہ لفظ ہے۔ امّا مرکب لفظے باشد، باقی مرکب جو ہے وہ لفظ ہے، کہ از دو کلمہ یا بیشتر حاصل شدہ باشد، کہ وہ دو کلموں سے یا بیشتر... بیشتر کا معنی زیادہ... دو کلموں سے یا زیادہ سے حاصل ہوا ہو۔ مرکب وہ لفظ ہے جو کہ دو یا زیادہ کلموں سے حاصل ہوا ہو۔ بتلایا تھا نا مفرد جو ہے وہ ایک اکیلا لفظ ہوگا، ایک معنی پر دلالت کرے گا، اور مرکب جو دو یا دو سے زیادہ کلموں سے حاصل ہوگا۔ تو کہتے ہیں: امّا مرکب لفظے باشد، مرکب وہ لفظ ہے کہ از دو کلمہ یا بیشتر حاصل شدہ باشد، جو کہ دو کلموں سے یا دو سے زیادہ سے حاصل ہوا ہو۔ و مرکب بر دو گونہ است، اور مرکب دو قسموں پر ہے۔ و مرکب بر دو گونہ است، گونہ معنی قسم۔ بر دو گونہ است، یعنی دو قسم پر ہے: مفید و غیر مفید۔ مفید اور غیر مفید بھئی۔ پہلے سمجھ لیں بھئی! یاد رکھو مرکب جو ہے وہ دو قسموں پر ہے: ایک مرکبِ مفید اور ایک مرکبِ غیر مفید بھئی، غیر مفید۔ مرکبِ مفید... اَفَادَ یُفِیْدُ اِفَادَۃً فَہُوَ مُفِیْدٌ، اسمِ فاعل ہے، فائدہ دینے والا۔ مرکبِ مفید وہ ہے جو فائدہ دے، اور مرکبِ غیر مفید جو فائدہ نہ دے۔ کیا معنی فائدہ دے؟ یعنی مرکبِ مفید وہ ہے کہ اس کو زبان سے ادا کرنے والا جب ادا کر لے تو سامنے جو سن رہا ہے اس کو خبر یا طلب معلوم ہو جائے۔ توجہ ہے؟ مثلاً میں مرکبِ مفید پر تکلم کرتا ہوں، زبان سے بولتا ہوں: زَیْدٌ عَالِمٌ۔ زَیْدٌ عَالِمٌ۔ دیکھو جیسے ہی میں نے یہ جملہ بولا اور میں خاموش ہوا، آپ کو ایک بات پتہ چل گئی کہ زید عالم ہے۔ زید عالم ہے۔ مثلاً آپ کو پہلے پتہ نہیں تھا، اب آپ کو پتہ چل گیا کہ زید جس کا ذکر چلتا رہتا ہے، جس کی بات یہاں یا جس کا ذکر ہو رہا تھا، وہ عام آدمی نہیں ہے بلکہ کون ہے؟ عالم ہے۔ تو دیکھو زَیْدٌ عَالِمٌ، ایک لفظ ہے یا دو ہیں؟ دو ہیں۔ معلوم ہوا مفرد تو نہیں ہے، یہ کیا ہے؟ مرکب۔ اور پھر مرکب دو قسموں پر ہے: یا مفید ہے یا غیر مفید۔ اور اس نے دیکھو آپ کو فائدہ دیا اس مرکب نے، اس سے آپ کو ایک بات کا پتہ چل گیا جو آپ کو پہلے علم نہیں تھی۔ تو یہ ہے مرکبِ مفید۔ یہ مرکبِ مفید، کبھی تو اس میں کوئی بات بتلائی جاتی ہے، کوئی خبر دی جاتی ہے، جیسے میں نے ابھی آپ کو بات بتلائی۔ کیا بات بتلائی؟ زَیْدٌ عَالِمٌ، زید عالم ہے۔ اس کو علمی رنگ میں یوں کہیں گے: میں نے آپ کو خبر دی۔ یا یوں کہیں گے آسان لفظوں میں اردو میں: میں نے آپ کو ایک بات بتلائی۔ تو مرکبِ مفید میں یا تو کیا جائے گا؟ دوسرے کو خبر دی جائے گی، کوئی بات بتلائی جائے گی۔ یا اس کے ذریعے بعض اوقات طلب وغیرہ کا بھی پتہ چلتا ہے مرکبِ مفید کے ذریعے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟ کیا زید نے پٹائی کی؟ دیکھو میں سوال پوچھ رہا ہوں آپ سے۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: اِضْرِبْ عَمْراً، عمرو کی پٹائی کرو۔ تو دیکھو اب ان دونوں جملوں میں، میں آپ کو کوئی خبر نہیں دے رہا۔ میں نے کہا: ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟ میں آپ کو کوئی بات بتلا رہا ہوں یا آپ سے بات پوچھ رہا ہوں؟ میں آپ سے بات پوچھ رہا ہوں، میں آپ سے ایک چیز، ایک بات طلب کر رہا ہوں۔ بات کیا کر رہا ہوں؟ طلب کر رہا ہوں۔ تو یہ جو مرکبِ مفید ہوتا ہے، اس کے ذریعے یا تو کوئی بات بتلائی جاتی ہے یا اس کے ذریعے کوئی طلب کی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ کیا کیا جاتا ہے؟ کوئی بات بتلائی، کوئی خبر دی جائے گی یا اس کے ذریعے کوئی طلب ہوگی، اس میں کوئی طلب۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا: ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟ کیا زید نے پٹائی کی؟ تو دیکھو طلب ہے، میں آپ سے ایک چیز طلب کر رہا ہوں، پوچھ رہا ہوں ایک بات آپ سے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ طلب۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: اِضْرِبْ عَمْراً، کیا کرو؟ عمرو کی پٹائی کرو۔ دیکھو میں آپ سے مطالبہ کر رہا ہوں عمرو کی پٹائی کا، تو دیکھو ایک چیز آپ سے طلب کر رہا ہوں کہ ایسا کرو۔ توجہ ہے؟ تو مرکبِ مفید میں یا تو خبر ہوگی یا طلب۔ مرکبِ مفید میں... یا تو کوئی بات بتلائی جائے گی یا اس میں کوئی چیز طلب کی جائے گی۔ یہ مرکبِ مفید۔ پھر سنو! مرکبِ مفید وہ ہے کہ جب بات کرنے والا وہ بات کر لے اور خاموش ہو جائے، پوری کر لے بات، تو سننے والے کو یا تو کوئی خبر معلوم ہو یا اس کو کوئی طلب معلوم ہو۔ زَیْدٌ عَالِمٌ، جی، کوئی بات معلوم ہوئی آپ کو؟ جی، تو یہ کیا ہے؟ مرکبِ مفید۔ ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟ کیا زید نے پٹائی کی؟ جی، اس میں کیا ہے؟ طلب معلوم ہوا، میں طلب کوئی چیز کر رہا ہوں، تو اس کو بھی کیا کہیں گے؟ مرکبِ مفید۔ اِضْرِبْ عَمْراً، یہ بھی کیا ہے؟ مرکبِ مفید۔ اور اگر مرکب تو ہو لیکن اس میں نہ خبر ہو نہ طلب ہو تو اس کو مرکبِ غیر مفید کہتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید کی کتاب، کِتَابُ زَیْدٍ۔ کِتَابُ زَیْدٍ، ترجمہ کریں: زید کی کتاب۔ دیکھو بات پوری نہیں ہے۔ بات پوری ہے؟ آپ کہیں گے: اس کی کتاب کو کیا ہوا؟ بات تو پوری کریں آپ۔ معلوم ہوا آپ کو نہ کوئی اس سے خبر حاصل ہوئی اور نہ کوئی اس میں طلب... نہ خبر کا پتہ چلا اور نہ طلب۔ معلوم ہوا یہ مرکبِ مفید نہیں ہے بلکہ... بس آسان لفظوں میں یوں کہو: مرکبِ مفید وہ ہے جس میں بات پوری ہو، اور مرکبِ غیر مفید وہ ہے جس میں بات پوری نہ ہو۔ مثلاً میں آپ سے 10 لفظ ذکر کرتا ہوں۔ مثلاً سنو ذرا غور سے کہ بات پوری ہے یا نہیں: کتاب، قلم، زید، عمرو، بکر، درخت، پہاڑ، بجلی، بارش، پانی۔ جی؟ کیا ہے؟ غیر مفید۔ دیکھا، آپ کہیں گے: بات تو پوری کریں، ان ساری چیزوں کو کیا ہوا بھئی؟ تو نہ یہاں کوئی طلب ہے اور نہ کوئی خبر ہے۔ تو آسان لفظوں میں مرکبِ مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات... جس میں بات پوری ہو، اور جس میں بات پوری نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکبِ غیر مفید۔ زید کا وہ جو تیسرا بیٹا ہے نا... دیکھو، تین، چار، پانچ لفظ میں نے بول دیے: زید کا وہ جو تیسرا بیٹا ہے نا... بات پوری ہوئی؟ نہیں۔ کون سا مرکب؟ غیر مفید۔ دیکھا، تو آپ نے لفظوں کو نہیں دیکھنا، آپ نے صرف یہ دیکھنا ہے: بات پوری ہو گئی کہ نہیں ہوئی پوری؟ ہاں، اب میں کہہ دوں: زید کا وہ جو تیسرا بیٹا ہے نا وہ میرا دوست ہے۔ اب... پوری ہو گئی، معلوم ہوا یہ اب مرکبِ مفید بن گیا۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ جہاں بات پوری ہو وہ کیا ہے؟ مرکبِ مفید۔ جہاں بات پوری نہیں وہ غیر مفید، چاہے 10 لفظ ہوں چاہے 20 لفظ ہوں، جب بات پوری نہیں ہے تو وہ مرکبِ غیر مفید ہے۔ اچھا، دیکھیے بھئی ترجمہ۔ کہتے ہیں: و مرکب بر دو گونہ است، مرکب دو قسم پر ہے: مفید و غیر مفید، ایک مفید ہے اور ایک غیر مفید۔ مفید آن است، یہ دیکھو ملا دیا، آن... آن کا معنی وہ، وہ۔ اور اس کے ساتھ است بھی ہے، است۔ است کا ہمزہ گرا دیا اور اس کو نون کے ساتھ جوڑ دیا، اب اس نون پر زبر پڑھنا: مفید آنَست۔ مفید وہ ہے، مفید مرکبِ مفید وہ ہے کہ چون قائل بر آن سکوت کند، کہ جب قائل... قائل: کہنے والا، بولنے والا... کہ چون قائل بر آن سکوت کند، کہ جب کہنے والا اس مرکب پر سکوت کرے، یعنی خاموش ہو جائے، زبان سے ادا کر دے... سامع را خبرے یا طلبے معلوم شود، سامع کو کوئی خبر یا کوئی طلب معلوم ہو۔ جب بولنے والا کیا کرے؟ دیکھو، زید کا وہ جو تیسرا بیٹا ہے نا... دیکھو میں خاموش ہو گیا۔ آپ کو کوئی طلب معلوم ہوئی؟ نہیں۔ کوئی بات معلوم ہوئی؟ نہیں۔ معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ غیر۔ تو جب کہنے والا بات پر خاموش ہو جائے اور سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو جائے، تو معلوم ہوا یہ مرکبِ مفید ہے۔ اور اگر بات کرنے والا بات کر کے خاموش ہو جائے اور سننے والے کو نہ کوئی خبر کا پتہ چلے نہ طلب کا، تو وہ کیا ہے؟ مرکبِ غیر مفید۔ تو کہتے ہیں: مفید آنَست، مفید وہ ہے کہ چون قائل بر آن سکوت کند، کہ جب بات کرنے والا اس پر سکوت کرے یعنی خاموشی اختیار کرے... سامع را خبرے یا طلبے معلوم شود، تو سننے والے کو... سامع: سننے والا... سننے والے کو خبر یا طلب معلوم ہو۔ و آن را جملہ گویند، اور مرکبِ مفید کو جملہ کہتے ہیں۔ و کلام نیز، اور کلام بھی۔ و آن را جملہ گویند و کلام نیز، اور اس مرکبِ مفید کو جملہ کہتے ہیں اور کلام بھی۔ معلوم ہوا مرکبِ مفید کے تین نام ہو گئے: پہلا نام مرکبِ مفید، دوسرا نام جملہ، تیسرا نام کلام۔ چاہے کوئی جملہ کہہ دے، چاہے کوئی کلام کہہ دے، چاہے کوئی مرکبِ مفید کہہ دے، تینوں ایک ہی چیز ہیں۔ مثلاً میں پھر کہتا ہوں: زید کا وہ جو تیسرا بیٹا ہے... جی، یہ جملہ ہے؟ نہیں۔ یہ کلام ہے؟ نہیں۔ تو بس یہ... جب یہ مرکبِ مفید نہیں تو معلوم ہوا جملہ بھی نہیں اور کلام بھی نہیں۔ اچھا، تو کہتے ہیں: و آن را جملہ گویند و کلام نیز، اور اس مرکبِ مفید کو جملہ کہتے ہیں اور کلام بھی۔ پس جملہ بر دو قسم است، پس جملہ جو ہے دو قسم پر ہے: خبریہ و انشائیہ، خبریہ اور انشائیہ بھئی۔ چلیے بس بھئی، یہ پھر اگلے سبق میں آ جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام پھر سن لو: آج آپ نے پڑھا کہ وہ لفظ جو عرب اپنی زبان میں استعمال کرتے ہیں، وہ دو قسم پر ہیں: یا وہ مفرد ہیں یا مرکب ہیں۔ مفرد وہ اکیلا لفظ ہے جو ایک معنی پر دلالت کرے، اور اس کو کلمہ بھی کہتے ہیں، اور اس کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف بھئی۔ اور اسم اور فعل، حرف میں، میں نے فرق بھی بتلا دیا۔ اسم کون سا کلمہ ہے؟ جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے، اور کسی دوسرے کلمے کو ساتھ جوڑنے کا محتاج نہ ہو، اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ اور فعل وہ ہے کہ جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے، اور معنی ادا کرنے میں وہ اس کے ساتھ کسی... کسی دوسرے کلمے کو جوڑنے کی ضرورت نہ ہو، اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھو، فعل کا اپنا معنی الگ ہوگا اور زمانہ الگ جڑا ہوگا۔ ضَرَبَ... ضَرَبَ، ضرب سے ہے، ایک تو اس میں پٹائی کرنے کا معنی ہے، یہ اس کا اپنا معنی ہے، اور ضَرَبَ اس نے زمانہ بتلایا، کون سا زمانہ؟ ماضی والا۔ تو فعل کا اپنا معنی الگ ہوگا اور ساتھ زمانہ بھی جڑا ہوا ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور حرف وہ ہے جو... حرف وہ ہے جو اپنا معنی خود بخود ادا نہ کرے بلکہ اپنا معنی ادا کرنے میں دوسرے کلمے کا محتاج ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مرکب جو ہے، وہ ہے جو دو یا دو سے زیادہ کلموں سے حاصل ہو، اور وہ دو قسم پر ہے: یا وہ مرکبِ مفید ہوگا یا غیر مفید۔ مفید کسے کہیں گے؟ جس میں بات... جس میں بات پوری ہو جائے، شاباش۔ جس میں بات کیا ہو جائے؟ پوری ہو جائے، یعنی جب کہنے والا وہ بول کر خاموش ہو، تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو جائے، کہ یا تو یہ مجھے کچھ بتلانا چاہتا ہے یا مجھ سے کوئی چیز طلب کر رہا ہے۔ اور اس کا دوسرا نام کیا ہے مرکبِ مفید کا؟ جملہ، اور کلام بھی اس کو کہتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد بتایا کہ جملہ دو قسم پر ہے: جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ، وہ آگے کل کے سبق میں آ جائے گا۔ تو پریشان آپ نے نہیں ہونا۔ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو، کل پھر انشاء اللہ یہ سبق کو دوبارہ اچھی طرح کر لیں گے، اور خوب اچھی طرح آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ چلیے بس بھئی! ھٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْکَلَامِ۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
56 approved lectures · 2 of 56