دیکھیے بھئی کتاب پر۔
و تأکید معنوی بحشت لفظ است۔
نفس و عین و کلا و کلتا و کل و اجمع و اکتا و ابتع و ابصر۔
چوں جاءنی زید نفسہ و جاءنی زیدانی انفسہما و جاءنی زیدونا انفسہم۔
و عین را بری قیاس کن۔
گزشتہ سبق میں توابع کا بیان چل رہا تھا۔
اور سب سے پہلے انہوں نے اپ کو تابع کے بارے میں بتلایا کہ تابع کسے کہتے ہیں۔
انہوں نے بتلایا کہ تابع وہ لفظ ہے جو دوسرے نمبر پر یعنی دوسرے درجے میں آئے اور اس پر بھی وہی اعراب ہو جو اس سے ماقبل پر ہو اور یہ دونوں پر یہ اعراب ایک ہی جہت سے آئے یعنی دونوں میں اعراب کا تقاضا کرنے والی ایک ہی چیز ہو الگ الگ چیزیں نہ ہوں۔
اور پھر بتایا تھا کہ توابع پانچ ہیں، ان پانچ میں سے پہلی قسم صفت ہے اور صفت دو قسم پر ہے ایک صفت بحالہ اور ایک صفت بحال متعلقہ۔
صفت بحالہ وہ ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو اس کے متبوع میں یعنی موصوف میں پایا جائے اور صفت بحال متعلقہ وہ ایسا تابع ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو متبوع کے متعلق میں پایا جائے۔
متبوع کے متعلق میں پایا جائے اور صفت بحالہ جو ہے وہ دس چیزوں میں اپنے متبوع کے مطابق ہوگی۔
تعریف و تنکیر میں، تذکر و تانیث میں، افراد تثنیہ اور جمع میں اور رفع، نصب اور جر میں۔
جبکہ صفت بحال متعلقہ وہ صرف پانچ چیزوں میں اپنے متبوع کے مطابق ہوگی، تعریف و تنکیر میں اور رفع، نصب اور جر میں۔
تذکر و تانیث میں اس کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔ تذکر و تانیث میں یہ اپنے فاعل کے مطابق ہوگی فاعل یا نائب فاعل جو آگے آ رہا ہے اس میں ظاہر اگر وہ مذکر ہے تو یہ صفت مذکر آئے گی اور اگر وہ مونث ہے تو یہ صفت مونث آئے گی۔
اس میں متبوع کو نہیں دیکھنا یعنی تذکر و تانیث میں۔
نیز افراد، تثنیہ اور جمع میں بھی یہ اپنے متبوع کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ یہ ہمیشہ مفرد رہے گی۔
کیونکہ فعل کا فاعل یا نائب فاعل جب اس میں ظاہر آ جائے تو فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں یعنی پہلا یا چوتھا صیغہ۔
اسی طرح صفت کے صیغے کا جب فاعل یا نائب فاعل اس میں ظاہر آئے تو اسے بھی مفرد رکھتے ہیں اور صفت بحال متعلقہ میں اس کا فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ اس میں ظاہر آتا ہے۔
اور جب اس میں ظاہر آیا تو صفت کو ہمیشہ کیا رکھیں گے؟ مفرد رکھیں گے۔
اور پھر یہاں پر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کی صفت بنتا ہے، چاہے وہ جملہ اسمیہ ہو چاہے جملہ فعلیہ۔
وہ کس کی صفت بنتا ہے؟ نکرہ کی۔
اور آپ پڑھ چکے کہ تعریف و تنکیر میں صفت موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔
موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ اور پورا جملہ نکرہ کی صفت بن رہا ہے۔
اس سے آپ کو ایک اور بات بھی پتہ چل گئی کہ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔
جملے کے اندر چاہے بیس معرفہ آ جائیں لیکن جب سارے لفظ مل جل کر جملہ بن جائیں گے تو اب وہ نکرہ کے حکم میں ہے، لہذا نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا تو یہ آپس میں موصوف صفت بنیں گے۔
اور جملے کو کسی چیز سے جوڑنے کے لیے ربط چاہیے تو اس میں غائب کی ضمیر ہوگی جو اس چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ اسے ربط دے رہے ہیں اور صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے تو پورا جملہ صفت بن رہا ہے تو اس میں کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اس موصوف یعنی اس نکرہ کی طرف لوٹے، اسی طرح شبہ جملہ کو بھی جب کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری تو اس کے اندر بھی کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اس چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ اسے جوڑ رہے ہیں۔
اور جملہ صرف صفت ہی نہیں بنتا آپ پڑھ چکے ہیں جملہ کبھی خبر بھی بنتا ہے پورا جملہ مل کر وہ خبر بنے گا مبتدا کے لیے۔
تو اس کے اندر کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو مبتدا کو لوٹے اور کبھی پورا جملہ جو ہے وہ حال بنتا ہے تو اس کے اندر کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی طرف لوٹے؟ ذوالحال کی طرف بلکہ حال کو کبھی واؤ سے بھی ربط دیتے ہیں آپ پڑھ چکے ہیں کس کے ذریعے؟ واؤ کے ذریعے تو حال کو ذوالحال سے ربط دیتے ہیں کبھی واؤ کے ذریعے، کبھی ضمیر کے ذریعے اور کبھی دونوں کے ذریعے بھئی واؤ بھی لے آتے ہیں اور ضمیر بھی لے آتے ہیں۔
اسی طرح جملہ صلہ بنتا ہے موصول کا تو صلے کو موصول سے جوڑتے ہیں تو اس میں کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اس میں موصول کی طرف لوٹے، اسی طرح جملہ انہوں نے بتایا صفت بھی بنتا ہے تو صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں تو اس جملے میں کوئی ضمیر چاہیے جو اس موصوف کی طرف لوٹے اور اس کے علاوہ میں نے پھر ترکیب کی ایک دو نہایت قیمتی اور بنیادی باتیں آپ کو بتلائی تھیں۔
ایک تو یہ بات بتلائی کہ صفت کے صیغے کو اگر آپ متکلم یا مخاطب کی ضمیر سے جوڑیں تو اس میں پھر غائب کی ضمیر نہ نکالیں بلکہ اسی کے مطابق ضمیر نکالیں جس کے ساتھ آپ جوڑ رہے ہیں۔
اگر متکلم کی ضمیر سے صفت کے صیغے کو جوڑ رہے ہیں تو اس میں متکلم کی ضمیر نکالیں اور اگر مخاطب کی ضمیر سے آپ صفت کے صیغے کو جوڑ رہے ہیں تو اس میں مخاطب کی ضمیر نکالیں۔
جیسے انا قائم۔
پہلے کیا پڑھا تھا آپ نے؟ زید قائم۔
کیا ترکیب کی تھی؟ زید مرفوع لفظا مبتدا۔
قائم مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل۔
اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کی طرف تو یہ ربط آ گیا شبہ جملہ کا مبتدا سے تو اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا خبر ہو کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
اور اسی طرح اگر میں کہہ دوں ھوا قائم۔
ھوا سے زید کی طرف اشارہ ہے ھوا قائم تو اب بھی قائم کے اندر ھوا ضمیر نکالیں گے اور یہ ھوا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا جو ھوا ہے اس کی طرف کیونکہ خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔
لیکن اگر مبتدا متکلم یا مخاطب کی ضمیر ہے یا وہ ذوالحال متکلم یا مخاطب کی ضمیر ہے تو اس کے مطابق آپ صفت میں بھی ضمیر نکالیں گے انا قائم۔
تو یہ انا مرفوع محلا یہ ہے مبتدا اور قائم ہے اس کی خبر۔
تو ترکیب کیسے کریں گے؟ انا مرفوع محلا مبتدا، قائم مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل، اس کے اندر انا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل۔
اور یاد رکھو آپ سے اگر کوئی پوچھ لے کہ یہ انا ضمیر کا مرجع بتاؤ جو آپ نے قائم میں نکالی تو کبھی بھی یہ مت کہنا کہ یہ مرجع ہے اس کا۔
اگر آپ مرجع بتائیں گے وہ سمجھ جائے گا معلوم ہے اسے نحو کا کچھ علم نہیں ہے کیونکہ مرجع صرف غائب کی ضمیر کا ہوتا ہے متکلم یا مخاطب کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا۔
متکلم بات کرنے والا ہوتا ہے مخاطب اس کے سامنے موجود ہوتا ہے وہاں انا کہیں مخاطب سمجھ جاتا ہے متکلم اپنی بات کر رہا ہے اور متکلم جب انت یا انتما کہتا ہے تو مخاطب سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ہماری بات کر رہا ہے تو انا اور انت وغیرہ میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔
ہاں ہوا ضمیر جب لائیں تو ہوا ضمیر تو زید کو بھی لوٹ سکتی ہے عمر کو بھی، بکر کو بھی، خالد کو بھی کسی کو بھی لوٹ سکتی ہے تو وہاں اس کے لیے مرجع چاہیے تو مرجع صرف کس کا ہوتا ہے؟ غائب کی ضمیر کا۔
یاد رکھو یہ جو انا قائم قائم کے اندر کون سی ضمیر نکالی؟ انا یاد رکھو یہ ربط دینے کی دوسری صورت ہے۔
ربط دینے کی دوسری پہلی صورت ربط دینے کی کئی صورتیں ہیں۔
یاد رکھو جملہ یا شبہ جملہ کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا ضروری؟ ربط۔
ربط دینے کی کئی صورتیں ہیں ایک صورت جو سب سے عام استعمال ہوتی ہے وہ غائب کی ضمیر لے آؤ۔
ابھی تک آپ یہی پہلا طریقہ پڑھ رہے تھے کہ کیا لے آؤ؟ غائب کی ضمیر جو اسی چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ آپ اس جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہیں۔
اور یہ دوسری قسم آ گئی انا قائم قائم کے اندر بھی کیا ضمیر نکال لی انا یاد رکھو یہ ربط کی دوسری قسم ہے۔
ربط دینے کی دوسری صورت یہ ہے کہ آپ جس جس ضمیر کے ساتھ یوں کہیں جس چیز کے ساتھ آپ جس چیز کے ساتھ جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہیں اسی چیز کو دوبارہ اس جملہ یا شبہ جملہ میں ذکر کر دو۔
توجہ ہے؟ آپ جملہ یا شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑنا چاہتے ہیں مبتدا کی خبر بنانا چاہتے ہیں یا ذوالحال سے حال بنانا چاہتے ہیں یا موصول کا صلہ بنانا چاہتے ہیں یا موصوف کی صفت بنانا چاہتے ہیں۔
تو ایک صورت یہ ہے کہ اس جملہ میں کیا لے آؤ؟ غائب کی ضمیر دوسری صورت یہ ہے ربط دینے کی کہ جس چیز سے آپ جوڑ رہے ہیں اس کو دوبارہ اسی جملہ میں لے آؤ جب وہ دوبارہ آ جائے گا اور جوڑنا بھی اسی کے ساتھ ہے تو ربط آ جائے گا۔
جیسے مثال سے دیکھو بات سمجھ میں آئے گی۔
الحاقۃ ما الحاقۃ۔
الحاقۃ یہ ہے مبتدا، الحاقۃ کیا ہے؟ مبتدا اور مل الحاقۃ یہ پورا جملہ ہے۔
مل الحاقۃ حقہ کیا چیز ہے؟ تو الحاقۃ ہوا مبتدا اور مل الحاقۃ یہ پورا جملہ اس کی خبر ہے توجہ ہے؟ پورا جملہ اس کی خبر ہے۔
تو یہ پورا جملہ خبر ہے تو الحاقۃ کیا ہوا؟ مبتدا اور مل الحاقۃ اس کی خبر تو یہ مل الحاقۃ پورا جملہ ہے اور یہ کیا بن رہا ہے؟ خبر بن رہا ہے۔
تو خبر کیا ہے؟ دہرائیں مل الحاقۃ اور اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ الحاقۃ سے اور وہ الحاقۃ خود ہی اس خبر کے اندر آ گیا مل الحاقۃ یہ الحاقۃ آ گیا یا نہیں اس کے اندر تو یہ الحاقۃ تو اس کے اندر آ گیا تو جوڑنا بھی تھا الحاقۃ سے اور وہ خود ہی اس کے اندر آ گیا تو ربط آ گیا۔
بات سمجھ میں آ گئی تو ربط آ گیا۔
اسی طرح انا قائم۔
یہ قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ انا سے تو جوڑ بھی انا سے رہے ہیں اور قائم کے اندر بھی خود کون سی ضمیر آ گئی؟ انا تو جس سے جوڑ رہے ہیں وہ خود ہی اس کے اندر آ گیا لہذا ربط آ گیا۔
اب یہ نہ کہنا کہ یہ انا ضمیر اس انا ضمیر کو لوٹ رہی ہے یہاں پھر آپ غلطی کر جائیں گے بلکہ صرف کیا کہنا؟
کہ انا ضمیر جس چیز کے ساتھ ہم جوڑ رہے ہیں وہی ضمیر دوبارہ اس کے اندر آ گئی تو ربط آ گیا تو یہاں مرجع نہیں دیکھنا آپ نے کیونکہ مرجع صرف غائب کی ضمیر کا ہوتا ہے۔
تو یہ دوسری ربط کی صورت آ گئی ربط دینے کی پہلی صورت کیا تھی؟
کوئی غائب کی ضمیر رکھتے ہیں اس جملہ یا شبہ جملہ میں جس کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ جس لفظ سے بھی آپ جوڑ رہے ہیں چاہے مبتدا سے، چاہے موصوف سے، چاہے ذوالحال سے، چاہے موصول سے اور دوسری صورت کیا؟ کہ خود ہو کہ ہاں جس سے جوڑ رہے ہیں اس کو خود ہی اس جملہ کے اندر ذکر کر دیں۔
انا قائم یہ قائم کو میں کس سے جوڑ رہا ہوں؟ انا سے اور قائم کے اندر بھی کیا ہے؟ انا تو ربط آ گیا بھئی۔
دوسری ترکیب کیجیے نحن قائمون۔
نحن اعراب بولو، نحن مرفوع محلا مبتدا۔
مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے اور مبتدا ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔
محلا کیوں؟ مبنی ہے شاباش ضمیر ہے۔
قائمون اعراب بولو۔
مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل۔
مرفوع کیوں؟ خبر ہے کیونکہ خبر ہے اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔
اور لفظا کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔
قائمون میں تو زبر پڑھ رہا ہوں رفع کدھر ہے؟ شاباش یہ حرکت ہے رفع کیا چیز ہے؟ واؤ ہے اور وہ واؤ میں پڑھ رہا ہوں قائمون اور یہ حالت نصبی جری میں ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ قائمین دیکھا تو قائمون میں رفع واؤ پڑھ رہا ہوں بھئی۔
میں رفع پڑھ رہا ہوں جو کہ واؤ ہے۔
अच्छा तो صیغہ صفت کا آ گیا اس کے اندر کون سی ضمیر؟ نحن ضمیر دیکھا ہم نحن سے جوڑ رہے ہیں وہی ضمیر دوبارہ آگے آ کے ربط آ گیا۔
اس نحن کا اعراب بولو۔
مرفوع محلا مرفوع کیوں؟ وہ قائمون کا فاعل ہے اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا خبر ہو کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
انت قائم ترکیب کیجیے انت مرفوع محلا مبتدا۔
قائم مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل۔
اس کے اندر انت ضمیر دیکھا مخاطب سے جوڑ رہے ہیں تو انت نکالیں انت ضمیر اس کے اندر مرفوع محلا اس کا فاعل اس میں اور یہ ربط بھی آ گیا اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا خبر ہو کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
انتما قائمان ترکیب کیجیے۔
انتما قائمانی اعراب بولو۔
انتما مرفوع محلا مبتدا، قائمان مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل۔
مرفوع کیوں؟ خبر ہے۔
لفظا کیوں؟ اس کے رفع پر آپ تلفظ قائمان میں تو زیر پڑھ رہا ہوں۔
تو ویسے شاباش یہ اس کی حرکت ہے اعراب کیا ہے؟ الف ہے تثنیہ کا رفع الف کے ساتھ قائمان اور نصب اور جر یا کے ساتھ کیسے پڑھیں گے؟ قائمی تو میں اس وقت قائمان الف پڑھ رہا ہوں تو یہ مرفوع ہے لفظا۔
اس کے اندر کون سی ضمیر؟ انتما قائمان قائمان میں کون سی ضمیر؟ انتما اعراب بولو۔
مرفوع محلا اس کا فاعل اور ربط آ گیا انتما سے جوڑ رہے ہیں قائمان کو اور انتما ہی اس کے اندر آ گیا۔
تو مرفوع محلا اس کا فاعل انتما بھئی۔
اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا خبر ہو کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
انتم قائمون انتم اعراب بولو۔
انتم مرفوع محلا مبتدا، قائمون مرفوع لفظا صغہ اس میں فاعل۔
اور اس کے اندر انتم ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل۔
اس میں اور یہ ربط بھی آ گیا اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا خبر ہو کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
انتم قائمون تم کھڑے ہو۔
ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ اور ایک اور قیمتی بات میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ فعل کے اندر یہ جو الف اور واؤ آئیں یہ ضمیر
ہوتیں ہیں تثنیہ اور جمع کی۔ زاربا، زاربا، زاربو، یہ جو زاربا الف آیا اور زاربو یہ جو واؤ آیا، یہ الف اور واؤ کیا ہیں؟ ضمیریں ہیں تثنیہ اور جمع کی۔ جبکہ صفت کے صیغوں میں جو الف اور واؤ آتے ہیں، یہ ضمیریں نہیں، یہ صرف تثنیہ اور جمع کی علامت ہیں۔
قائم سے تثنیہ کیا بنے گا؟ قائمانی، یہ جو الف آیا، یہ تثنیہ کی ضمیر نہیں ہے، یہ صرف تثنیہ کی علامت ہے۔ اس نے صرف اتنا بتایا، یہ تثنیہ ہے اور قائمون اس میں جو واؤ آیا یہ جمع کی ضمیر نہیں، بلکہ جمع کی علامت ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ دلیل یاد رکھو، پھر اپ کو بھولے گا نہیں۔ کہ یہ حالتِ نصبی جری میں بدل جاتے ہیں۔ قائمانِ جو تثنیہ تھا، وہ حالتِ نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ قائمن دیکھا الف یا سے بدل گیا، معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں، ضمیر تو بدلتی نہیں ہے اور قائمون حالتِ نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ قائمن دیکھو، وہ واؤ یا سے بدل گیا، معلوم ہوا یہ جمع کی ضمیر نہیں ہے بلکہ صرف جمع کی علامت ہے۔
اس کے بعد گزشتہ سبق میں ہم نے تاکید کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا اور انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ تاکید وہ تابع ہے کہ جو مطبوع کے حال کو پکا کرے، اس کو مضبوط کرے، کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں۔
یعنی نسبت کے اندر اس کو پکا کر دے کہ یہ جس فعل کی، یا جس صفت کی، یا جس چیز کی نسبت مطبوع کی طرف کی جا رہی ہے، یہ یہ نسبت اسی کی طرف ہے اس میں کوئی غلطی یا کوئی مجاز نہیں ہے۔
مجھ سے میں نے کہا جاءنی امیرالمومنین، امیرالمومنین، یہ دوسرا امیرالمومنین جو میں لایا، یہ تاکید ہے اول کی، اس نے اول امیرالمومنین کو پکا کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ جو آنے کی نسبت امیرالمومنین کی طرف ہو رہی ہے، یہ امیرالمومنین ہی کی طرف نسبت ہے، یہ کسی ان کے سیکرٹری یا ان کے قریبی آدمی، وہ کوئی اس سے مراد نہیں۔
اور دوسرا تھا کہ شمول میں اپنے مطبوع کو پکا کرے تابع، جیسے جاءنی القوم کلہم۔ جاءنی القوم، وہ لوگ کوئی خاص جماعت تھی، مثلاً دس آدمیوں کی جماعت تھی۔ تو میں نے اس کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ، جاءنی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے، تو سننے والے کے ذہن میں یہ وہم پیدا ہو سکتا تھا کہ بھئی! سارے نہیں آئے ہوں گے لیکن اکثر آ گئے ہوں گے اور عموماً جب اکثر آ جائیں تو سب لوگ کہہ دیتے ہیں کہ گویا سارے ہی آئے تھے۔ تو جاءنی القوم کا ایک ہے حقیقی معنی۔ حقیقی معنی یہ ہے، جاءنی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے۔
مطلب ہے سارے آئے۔ کیا آئے؟ سارے ایک بھی نہیں بچا، سارے آئے۔ اور ایک اس کا مجازی معنی ہے۔ کیا؟ کہ اکثر آئے۔ جب بھی کوئی چیز ذکر کی جاتی ہے، عموماً اکثر مراد لے لیتے ہیں، سارے کم ہی مراد ہوتے ہیں، آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں۔ آپ کا کسی سے کوئی جھگڑا چل رہا تھا اور پھر فیصلے کی بات آئی، وہ سارے، وہ آئے آپ کے پاس۔ مثلاً دس آدمیوں سے جھگڑا تھا۔ سات آٹھ بھی آ جائیں تو آپ کیا کہہ دیتے ہیں؟ کہ وہ سارے ہی میرے پاس آئے تھے۔ تو یہ حالانکہ سارے تو نہیں تھے لیکن اکثر تھے تو اکثر کو کس سے تعبیر کر دیا جاتا ہے؟ ساروں کے ساتھ، سب کے ساتھ۔ تو یہاں پر بھی، جاءنی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے، تو سننے والے کے ذہن میں وہم آ سکتا ہے کہ سارے نہیں آئے ہوں گے، اکثر آئے ہوں گے۔
لذا، متکلم اس کا علاج پہلے سے ہی کرتا ہے۔ وہ صرف جاءنی القوم نہیں کہتا کہ اس سے تو دوسرے کے ذہن میں شک رہے گا یا اس کو وہ مجاز کا احتمال، وہ مجاز مراد لے لے گا۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ تاکید لے آتا ہے اور یوں کہتا ہے: جاءنی القوم کلہم، آئے میرے پاس وہ سب لوگ۔ یہ کلہم نے آ کر القوم کو پکا کر دیا، کس میں؟ شمول میں، کہ یہ القوم کا لفظ اپنے تمام افراد کو شامل ہے، صرف اکثر کو شامل نہیں ہے، بلکہ تمام کو شامل ہے۔
یا جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں جب حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا تو اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں۔ تو فسجد الملائکۃ تو سجدہ کیا ملائکہ نے، فرشتوں نے تو ذہن میں آ سکتا تھا کہ اکثر نے کیا ہوگا تو اس کے لیے آگے کیا ذکر کر دیا؟ کلہم۔ تمام نے فسجد الملائکۃ کلہم، تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ معلوم ہوا ایک بھی باقی نہیں بچا، سب نے کیا کیا؟ سجدہ کیا، اللہ کا حکم تھا بھئی! تو سب نے اس پر عمل کیا۔
پھر تھا کہ پتہ نہیں الگ الگ کیا ہوگا، کچھ نے پہلے کر لیا ہوگا، کچھ نے بعد میں کر لیا ہوگا۔ نہیں، آگے اجمعون صفت لائی گئی۔ سب نے اکٹھے سجدہ کیا۔ فسجد الملائکۃ کلہم اجمعون تو تمام فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا۔
تو یہ جو کلہم آیا اور اجمعون آیا، یہ تاکید ہیں بھئی! تاکید، الملائکہ کی۔
تو تاکید کسے کہتے ہیں؟ وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کے حال کو پکا کرے، پختہ کرے، مضبوط کرے، کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں بھئی! شمول میں۔ اور اس تاکید کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تاکیدِ لفظی اور ایک تاکیدِ معنوی۔
تاکیدِ لفظی یہ ہے کہ اسی لفظ کو دوبارہ لے آئیں، ایک ہی لفظ کو جب دوبارہ لائیں گے تو یہ تاکیدِ لفظی ہے۔ جیسے جاءنی زیدٌ زیدٌ یا زیدٌ زیدٌ قائمٌ۔ یہ زیدٌ ثانی اول کی تاکید ہے۔ ضرب ضرب زیدٌ یہ ضرب کیا ہے؟ ضربِ اول کی تاکید ہے۔ اور إنَّ إنَّ زیداً قائمٌ یہ انّ ثانی جو ہے، یہ انّ اول کی تاکید ہے۔
و تاکیدِ معنوی بحشت لفظ است، اور تاکیدِ معنوی وہ آٹھ لفظوں سے ہے۔ بھئی تاکیدِ لفظی تو یہ تھی کہ بعینہِ وہی لفظ دوبارہ آئے، البتہ تاکیدِ معنوی اس میں وہی لفظ دوبارہ نہیں آتا، یہ کچھ خاص لفظ ہیں، آٹھ نو لفظ ہیں، یہ آ جاتے ہیں آگے اور یہ اپنے مطبوع کو پکا کر دیتے ہیں، نسبت میں یا شمول میں۔ تو یہ آٹھ لفظ ہیں اس لیے ان کو تاکیدِ معنوی کہتے ہیں کیونکہ یہ معنی کے اعتبار سے اسی کو پکا کر رہے ہیں لیکن لفظ یہ الگ ہیں اور وہ لفظ کون سے ہیں؟ نفسٌ، عینہِ، کلا، کلتا، کلٌّ، اجمعُ، اکتعُ، ابتعُ اور اجمعُ۔
اس میں سے کلا اور کلتا کو انہوں نے ایک ہی شمار کیا۔ اس لیے کہ یہ ایک ہی چیز ہے، صرف مذکر کے لیے کلا ہے اور مؤنث کے لیے کلتا ہے بھئی! کلتا۔
اور پھر اس میں یاد رکھو، ان کو استعمال کیسے کرنا ہے؟ نفس اور عیں بھئی! یاد رکھو یہ جو نفس اور عیں، توجہ ہے؟ یہ نفس اور عیں یہ مفرد کی تاکید کے لیے بھی آتے ہیں، تثنیہ کی تاکید کے لیے بھی آتے ہیں اور جمع کی تاکید کے لیے بھی۔
نفس اور عیں مفرد، تثنیہ، جمع، تینوں کی تاکید کے لیے آپ نفس اور عیں استعمال کر سکتے ہیں۔
کلا اور کلتا یہ آپ صرف تثنیہ کی تاکید کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کلا اور کلتا صرف تثنیہ کی تاکید کے لیے، یہ مفرد کے لیے بھی آپ استعمال نہیں کر سکتے اور جمع کے لیے بھی استعمال نہیں کر سکتے۔
اور کلٌّ اور اجمعُ، اکتعُ، ابتعُ، اجمعُ یہ جو باقی ہیں، یہ آپ جمع کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور مفرد کے لیے بھی۔ تثنیہ کے لیے یہ آپ استعمال نہیں کر سکتے۔
کلٌّ اور اجمعُ وغیرہ یہ صرف کس کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟ مفرد یا جمع، مفرد یا جمع، تثنیہ کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔
پھر دہراؤ! نفسٌ اور عیں کے ذریعے آپ کس کی تاکید لا سکتے ہیں؟ مفرد، تثنیہ اور جمع، تینوں کی تاکید لا سکتے ہیں۔ کلا اور کلتا کے ذریعے صرف تثنیہ کی تاکید لا سکتے ہیں، مفرد یا جمع کی نہیں لا سکتے اور کلٌّ اور اجمعُ وغیرہ کے ذریعے آپ مفرد کی، اور جمع کی تاکید لا سکتے ہیں، تثنیہ کی تاکید نہیں لا سکتے۔
اب یہ استعمال کیسے ہوں گے وہ طریقہ بھی سمجھ لیں۔ یاد رکھیے، یہ جو نفس اور عیں کا لفظ ہے، اس کو مفرد کے لیے جب استعمال کریں تو اس لفظ کو بھی مفرد رکھیں، نفس یہ مفرد ہے، اس کو اسی طرح رکھو اور اس کے ساتھ ضمیر لے آؤ مفرد کی جو اس چیز کی طرف لوٹے جس کی آپ تاکید لائے ہیں۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں، جاءنی زیدٌ۔ جاءنی زیدٌ، تو اس کے ساتھ میں تاکید لے آتا ہوں: نفسہِ، ای نفسِ زیدٍ۔ ہا ضمیر کس کو راجع؟ زیدٌ۔ جاءنی زیدٌ نفسہِ۔
جاءنی زیدٌ، میرے پاس زید آیا، اس پر دوسرے کے ذہن میں وہم آ سکتا ہے کہ زید تو بڑا آدمی ہے، وہ خود نہیں آیا ہوگا، اس نے اپنے سیکرٹری کو بھیج دیا ہوگا یا زبان سے غلطی سے زید نکل گیا، یہ کہنا تو عمر چاہتا تھا، زبان پر کیا آ گیا؟ جاءنی عمر کہنا چاہتا تھا اور زبان پر کیا آ گیا؟ جاءنی زیدٌ۔ تو سننے والے کے ذہن میں آ سکتا ہے کہ یہ اس سے غلطی سے لفظ بولا گیا ہے، یا زید سے بول کر زید نہیں مراد، اس کا کوئی سیکرٹری یا قریبی آدمی مراد ہے، چنانچہ وہ اس کے لیے تاکید لاتا ہے، ایک تاکید لفظی کی صورت ہے، اسی لفظ کو دوبارہ لے آئے، جاءنی زیدٌ زیدٌ۔ یہ زیدٌ ثانی نے کیا کیا؟ زیدٌ اول کو پکا کر دیا، بتلا دیا کہ یہ جو آنے کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے، اس سے زید ہی مراد ہے، کوئی اور مراد نہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آپ تاکیدِ معنوی لے آئیں یعنی نفس کا لفظ لے آئیں، جاءنی زیدٌ نفسہِ۔ زید میرے پاس خود آیا تھا۔ زید میرے پاس خود آیا تھا۔ دیکھو! ایک ہے زید، ایک ہے نفسِ زید، یعنی ذاتِ زید۔ زید اور ذاتِ زید ایک ہی فرد ہے، کہ الگ ہیں نفسِ ذاتِ زید؟ ایک ہی ہے، تو دیکھو یہ اسی کی تاکید پیدا، اسی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔
تو جاءنی زیدٌ نفسہِ اور نفسہِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو۔ مجھے آواز آئے سب کی تاکہ مجھے پتہ چلے آپ کو بات سمجھ میں آ رہی ہے، تو پھر آگے میں چلتا جاؤں۔ آواز کم آتی ہے، میں سمجھتا ہوں شاید بات سمجھ میں نہیں آئی۔
تو جاءنی زیدٌ نفسہِ۔ جاءنی فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلّاً مفعول بہ، زیدٌ مرفوع لفظاً، یہ فاعل ہے لیکن ابھی فاعل نہ کہو بلکہ کیا کہو؟ مؤکد۔ فاعل بھی آپ کہہ دیں کوئی غلط نہیں ہے، لیکن ہمارے ہاں رواج جس طرح ہے، تو عرب کے ہاں آسان ہے، وہ سیدھا سیدھا وہ یہ پھر واپس جوڑتے نہیں ہیں، سیدھا بتلاتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں کہ یہ زیدٌ مرفوع ہے، فاعل ہے۔ بس آگے چلیں۔ نفسہِ، یہ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ تاکید ہے، بس آگے چلے جاتے ہیں۔ اور ہمارے ہاں ان ساروں کو آگے والوں کو سمیٹ کر جوڑتے ہیں، ملاتے ہیں اور اس سے بعض اوقات بڑی مشکل بن جاتی ہے بھئی، کس انداز میں اس کو بیان کرے، وہ بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تو جاءنی زیدٌ نفسہِ، جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلّاً مفعول بہ، زیدٌ مرفوع لفظاً مؤکد، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ آگے نفسہِ، نفس مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ یہ تاکید ہے، یہ تابع ہے، اس پر وہی اعراب جو مؤکد پر تھا۔ تو مرفوع لفظاً مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ اس آگے کیونکہ یہ اسم ہے اور اسم کے ساتھ اگر جب بھی ضمیر متصل آ جائے، وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ تو ہا ضمیر مجرور محلّاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ تاکید ہوئی زید کے لیے۔ زید مؤکد اپنی تاکید سے مل کر یہ فاعل ہوا، جاء کے لیے۔ جاء فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
ترجمہ کریں: جاءنی زیدٌ نفسہِ، میرے پاس زید خود آیا۔
زید خود آیا۔ تو دیکھو! یہ نفسہِ یہ تاکید ہے کس کی؟ زید کی اور زید مفرد ہے، تثنیہ ہے یا جمع؟ مفرد ہے اور نفس اور عیں کے ذریعے مفرد کی بھی تاکید لاتے ہیں، تثنیہ کی بھی اور جمع کی بھی۔ ہاں، پھر مفرد کے لیے مفرد لائیں گے، اسی لفظ کو تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع۔ مفرد تھا زید، تو نفس کا لفظ بھی ہم مفرد لائے اور اس کے ساتھ ہا ضمیر بھی مفرد کی جوڑ دی۔ نفسہِ۔
اگر تثنیہ ہوتا، تو نفس کی تثنیہ کیا؟ نفسها، نفسها اور ہا ضمیر بھی تثنیہ کی لے آؤ، ہما۔ اور نفسها کی اضافت کر دو ہما کی طرف اور آپ نے پڑھا ہے کہ اضافت کی صورت میں نونِ تثنیہ بھی گر جاتا ہے اور نونِ جمع بھی گر جاتا ہے۔ نونِ تثنیہ بھی اور نونِ جمع بھی اور اسی طرح تنوین بھی گر جاتی ہے اضافت کی صورت میں۔ تو نفسها کی اضافت کریں ہما کی طرف، کیا بنے گا؟ نفساهما، نفساهما۔ اور حالتِ رفعی میں کہیں گے نفساهما، حالتِ نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ نفسيهما، نفسيهما، نفسيني تھا نا! نفسيني پھر نون گر گیا۔
جی، تو میں اب الزیدانی کی تاکید لانا چاہتا ہوں: جاءنی الزیدانی نفساهما، جاءنی الزیدانی نفساهما، ترکیب کیجیے: جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلّاً مفعول بہ، الزیدانی مرفوع لفظاً مؤکد، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے اور لفظاً کیوں؟ میں تو الزیدانی نون کے نیچے زیر پڑھ رہا ہوں۔ آپ کہیں گے یہ حرکت ہے، اصل اس کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف اور الزیدانی دیکھو میں آخر میں الف پڑھ رہا ہوں۔ اور تو یہ ہے مؤکد اور آگے نفساهما، یہ کیا بنے گی اس کی؟ تاکید۔ اور یہ مرفوع تھا تو نفساء، یہ لفظ بھی کیا ہے؟ مرفوع۔ اگر منصوب یا مجرور ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ نفسيهما پڑھتے۔ تو نفسهِ مرفوع، لفظاً، مضاف، هما ضمیر ایراب بولو، مجرور محلّاً مضاف الیہ اور هما ضمیر کس کو راجع؟ الزیدانی جو مؤکد ہے، اس کو راجع۔ تو نفسها مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ تاکید، تاکید ہوئی زید کے لیے۔ زید مؤکد اپنی تاکید سے مل کر یہ فاعل ہوا جاء کے لیے۔ جاء فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
آک تاکید مل کر فاعل ہوا جاءنی کے لیے، اور جاءنی فعل اپنے فاعل اور مفعول بہی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جاءنی زیدانی نفسہما.
ترجمہ کیجیے: آئے میرے پاس وہ دو زید خود. میرے پاس خود وہ دو زید آئے.
یا یوں کہیں میرے پاس وہ دو زید خود آئے. میرے پاس وہ دو زید خود آئے.
پھر اس میں ایک اور بات یاد رکھیں، یہ نفسہما آپ نے تثنیہ کی اضافت کر دی کس کی طرف؟ تثنیہ کی ضمیر کی طرف لیکن عرب کے ہاں یہ پسندیدہ نہیں کہ تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی ضمیر کی طرف کریں یا یوں کہیں کہ تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف یہ عرب کے ہاں پسندیدہ نہیں. لہذا جب ایسا موقع آ جائے کہ تثنیہ کی اضافت کرنی پڑ جائے تثنیہ کی طرف، تو پہلے تثنیہ کو وہ جمع سے بدل دیتے ہیں.
کس سے بدلتے ہیں؟ جمع سے۔ تو آگے ہما ضمیر کو تو اسی طرح رکھیں گے لیکن نفسا کو بدل دیں گے نفس کی، نفس مفرد ہے، تثنیہ ہے نفسانی اور جمع ہے انفس.
جمع کیا ہے؟ انفس۔ تو انفسہما نہ کہیں بلکہ کیا کہیں؟ انفسہما. جاءنی زیدانی انفسہما. بھئی یہ انفس ہم کیوں لائے؟ انفس تو جمع ہے اور یہ تو دو افراد ہیں، میں نے ضابطہ بتلا دیا کہ عرب کے ہاں تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسندیدہ نہیں ہے. خصوصاً جب دونوں ایک ہی چیز مراد ہوں، الگ الگ چیزیں ہوں پھر تو بات ٹھیک تھی، تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف بھی کر دیتے لیکن نفساہما.
نفساہما اس سے کس کا نفس مراد؟ زید کا۔ تو ہما ضمیر اس سے بھی کون مراد؟ زید مراد ہے تو دونوں کا مدلول جب ایک ہی ہے تو پھر اس صورت میں وہ تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسند نہیں کرتے بلکہ پھر پہلے لفظ کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جمع سے تو نفساہما کے بجائے کیا کہیں گے؟ انفسہما۔ جاءنی زیدانی انفسہما. چنانچہ قرآن میں بھی آپ پڑھتے ہیں والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما ایدیہما.
ایدی جمع ہے کس کی؟ ید کی۔ پیچھے ذکر آیا والسارق والسارقۃ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والا عورت دو کا ذکر آیا تھا، تو دو کے جب ہاتھ کاٹیں گے تو کتنے ہاتھ ہو گئے؟ دو۔ دونوں کا ہاتھ کاٹیں گے نا؟ تو ید کی تثنیہ کیا؟ یدانی۔ یدانی اور حالتِ نصبی جری میں کیسے کہیں گے؟ یدینی۔ اور اس یدینی کی اضافت ہما ضمیر کی طرف کرو، نون کو گرا دو کیا بن گیا؟ یدیہما ہونا تو یوں چاہیے والسارق والسارقۃ فاقطعوا یدیہما لیکن قرآن میں کیا ہے؟ ایدیہما۔ ایدی جمع ہے ید کی تو دیکھا جب تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف ہو تو پھر وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ تثنیہ کو جمع سے تو جب تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف ہو تو وہ اول کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جمع سے۔ اسی لیے قرآن میں بھی ایدیہما کہا گیا، بات سمجھ میں آ گئی.
تو بہرحال کہنا دونوں طرح ٹھیک ہے جاءنی زیدانی نفسہما یوں بھی کہہ سکتے ہیں اور جاءنی زیدانی انفسہما لیکن زیادہ پسندیدہ کیا ہے؟ کس طرح کہا جائے؟ انفسہما کہا جائے.
اور اگر جمع ہے تو پھر جاءنی زیدون۔ الزیدون میں لے آیا، اب میں اس کی تاکید نفس کے ساتھ لانا چاہتا ہوں تو نفس کی جمع کیا؟ انفس۔ اور ضمیر بھی جمع کی لے آؤ کیا بن جائے گا؟ انفسھم۔ جاءنی زیدون انفسھم.
طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جو مفرد میں کیا کہیں گے؟ جاءنی زید نفسہ۔ تثنیہ میں کیا کہیں گے؟ جاءنی زیدانی انفسہما۔ اور جمع میں کیا کہیں گے؟ جاءنی زیدون انفسہم. دیکھا، معلوم ہوا نفس کے ذریعے جب آپ کسی نفس یا عین، عین بھی اسی طرح ہے، نفس اور عین کے ذریعے آپ مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں، تثنیہ کی بھی تاکید لا سکتے ہیں اور جمع کی بھی.
اور ہر ایک کے مطابق صیغہ بھی بدلے گا اور ضمیر بھی بدلے گی۔ مفرد کے لیے نفسہ کہا، نفس بھی مفرد اور ہا ضمیر بھی مفرد۔ تثنیہ کے لیے نفساہما یا انفسہما کہا، صیغہ بھی بدلا اور ضمیر بھی بدلی۔ اور جمع کے لیے انفسھم کہا، صیغہ بھی بدلا نفس کا اور ضمیر بھی بدل دی۔ اسی طرح عین کے اندر ہے، عین بھی بعینہ بالکل اسی طرح ہے۔ جی اب عین کا لفظ بولیں، جاءنی زید عینُہ.
جاءنی زید عینُہ۔ تثنیہ لائیں، جاءنی زیدانی عیناہما. عائناہما۔ تثنیہ ہی لے آئیں، اب جمع لے آئیں جاءنی زیدانی.
تثنیہ میں دو صورتیں جائز ہیں نا؟ پہلی صورت کیا؟ کہ دونوں کو تثنیہ رکھو، دوسری صورت کیا؟ پہلے کو جمع کر دو اور دوسری تثنیہ کی تو دونوں دہرالہ لو، پہلی کیا؟ جاءنی زیدانی دیکھو میں تثنیہ لا رہا ہوں، جاءنی زیدانی عیناہما.
اور دوسری صورت، جاءنی زیدانی اعینُہما۔ عین کی جمع اعین جیسے نفس کی جمع انفس۔ جاءنی زیدانی اعینُہما۔ جمع کے لیے، جاءنی زیدون اعینُہم. طریقہ سمجھ میں آیا؟ کہ معلوم ہوا نفس اور عین کے ذریعے مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں، تثنیہ کی بھی اور جمع کی بھی، لیکن مفرد کے لیے صیغہ بھی مفرد ہوگا اور ضمیر بھی مفرد، تثنیہ کے لیے صیغہ بھی تثنیہ اور ضمیر بھی تثنیہ، یا صیغہ جمع والا لے آؤ جو زیادہ پسندیدہ ہے، اور جمع کے لیے صیغہ بھی جمع کا اور ضمیر بھی جمع کی.
معلوم ہوا نفس، عین کے ذریعے مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں، تثنیہ کی بھی اور جمع کی بھی، صیغہ بھی بدلے گا اور ضمیر بھی بدلے گی.
یہی بیان کریں، دیکھیے کتاب پر تو جاءنی زید نفسہ و جاءنی زیدانی انفسہما.
دیکھا، نفساہما کو ذکر نہیں کیا، اگرچہ وہ بھی آپ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ پسندیدہ نہیں۔ و جاءنی زیدون انفسہم، آئے میرے پاس وہ سب زید، اور میرے پاس وہ سب زید خود آئے.
و عین رابع قياسٌ، اور عین کو بھی اسی پر قیاس کر لیجیے.
نفس کی انہوں نے مثالیں دے دیں، نفس کا لفظ مفرد کے لیے بھی تاکید لے آئے، تثنیہ کے لیے بھی لے آئے اور جمع کے لیے بھی۔ آگے عین کے بارے میں کہتے ہیں وعین رابع قياسٌ، عین کو آپ اسی پر قیاس کر لیجیے یعنی خود اس کی مثالیں بنا لیجیے۔ ہم نے وہ مثالیں بھی کر لیں.
آआगे کلا اور کلتا کے بارے میں بتانے لگے ہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلا اور کلتا یہ صرف تثنیہ کی تاکید کے لیے آتے ہیں.
اور یہ بھی یاد رکھنا، ان کے ساتھ ضمیر ہوگی.
جیسے نفسہ، نفسہم، انفسہما وغیرہ کے ساتھ کیا جڑی ہوئی تھی؟ ضمیر۔ یہاں بھی کلاہما.
اور کلتاہما.
کلاہما حالتِ رفعی میں کہیں گے کلاہما اور حالتِ نصبی جری میں کلیہما.
اور اسی طرح مؤنث ہو تو حالتِ رفعی میں کیا کہیں گے کلتاہما اور حالتِ نصبی جری میں کلتیہما، بات سمجھ میں آ گئی.
مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں میرے پاس وہ دو زید آئے تھے، تو میں کیا کہوں گا؟ جاءنی الزیدانی کلاہما.
الزیدانی مرفوع فاعل ہے، تو کلاہما بھی کیا لے آیا میں؟ مرفوع لے آیا.
باقی ترکیب اسی طرح ہے، جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منسوب محلاً مفعول بہ، الزیدانی مرفوع لفظاً مؤکد، کلاہما، کلا مرفوع لفظاً مضاف، ہما ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ جو کس کو راجع؟ الزیدانی کو۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر تاکید ہوئی کس کے لیے؟ الزیدانی کے لیے۔ مؤکد اپنی تاکید سے مل کر فاعل ہوا جاءنی کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا.
تو کہتے ہیں وجاءنی زیدانی کلاہما، دیکھا ضمیر بھی ساتھ آ گئی اور تثنیہ کے لیے آیا کلاہما۔ والہندانی کلتاہما، و جاءنی الہندانی کلتاہما۔ میں نے آپ کو بتایا تھا یہ ہند جو ہے عورتوں کا نام تھا عرب میں عام استعمال ہوتا تھا.
اور یہ بڑا خفیف سا نام ہے، آسان سا بھئی ہند آسانی سے ادا ہو جاتا ہے.
تو یہ عام استعمال ہونے والا نام تھا، تو کہتے ہیں جاءنی الہندانی کلتاہما، میرے پاس وہ دو ہند خود آئیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں وکلا وکلتا خاصّان بمسنّی، اور کلا اور کلتا وہ خاص ہیں بمسنّی کس کے ساتھ؟ تثنیہ کے ساتھ، ان کے ذریعے صرف تثنیہ کی تاکید لاتے ہیں.
وجاءنی القوم کلّہم اجمعون واقطعون وابتعون وابسعُون.
اور یہ جو کلّو اور اجمعو ہیں، میں نے بتلایا تھا اس کے ذریعے کس کی تاکید لا سکتے ہیں؟ مفرد کی، مفرد کی بھی اور جمع کی بھی۔ تثنیہ کی تاکید ان کے ذریعے نہیں لا سکتے.
مثلاً، جاءنی القوم، آئے میرے پاس وہ لوگ، كلّہم، کلہم تاکید لے آئے.
یا اجمعون لے آئیں، جاءنی القوم اجمعون.
ترکیب اسی طرح.
ترکیب کر لیں، جاءنی القوم کلہم.
جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ.
اور القوم مرفوع لفظاً مؤکّد.
اور کلہم، کل مرفوع لفظاً مضاف، ھم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، اور کس کو راجع؟ القوم کو راجع۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر تاکید، مؤکّد اپنی تاکید سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی.
یا اب اجمعون لے آئیں، جاءنی القوم اجمعون.
بلکہ سب کو جوڑیں، جاءنی القوم اجمعون واقطعون وابتعون وابسعُون، یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے واقطعون وابتعون وابسعُون، یاد رکھو یہ و نہیں یہ کتابت کی غلطی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں یہ و کے بغیر آئیں گے، و کے بغیر آئیں گے.
تو و نہیں درمیان میں ہونا چاہیے، کلام یوں ہوگا جاءنی القوم.
کلہم لے آئے یا نہ لائیں، اجمعون، اب اجمعون کی بات کریں، کلہم کے ساتھ بھی اجمعون لا سکتے ہو، فستجد الملائکة کلّہم اجمعون، اور کلہم کے بغیر بھی لا سکتے ہو، تو کلہم کے بغیر ذرا لے آئیں، جاءنی القوم اجمعون، اقطعون، ابتعون، ابسعُون، یہ و ختم کریں بھئی! جاءنی القوم اجمعون، اقطعون، ابتعون، ابسعُون.
تو یہ اجمعون دیکھو تاکید کے لیے لے آئے، ترکیب اسی طرح ہے، ترکیب کیجیے، جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، القوم مرفوع لفظاً مؤکّد.
کلہم کا طریقہ آ گیا؟ اجمعون کو جوڑ لیں، وہ کلہم کو جوڑنا چاہتے ہیں اس کو بھی اسی طرح کر لیں، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا ہوا؟ تاکید، اور اجمعون یہ بھی مرفوع لفظاً تاکید، کیا ہے؟ مرفوع لفظاً تاکید، اقطعون یہ بھی مرفوع لفظاً تاکید، ابتعون یہ بھی مرفوع لفظاً تاکید، ابسعُون یہ بھی مرفوع لفظاً تاکید، یہ سب کس کی تاکیدات ہیں؟ القوم کی، یہ سب کس کی تاکیدات ہیں؟ القوم کی.
تو کلہم یہ بھی القوم کی تاکید، اجمعون یہ بھی القوم کی تاکید، اقطعون اور ابتعون ابسعُون یہ سب بھی کس کی تاکید ہیں؟ القوم کی تاکید ہیں، لہذا ان سب پر وہی اعراب جو القوم پر آیا.
اور یاد رکھنا یہ جو اقطعون، ابتعون، ابسعُون ہیں، یوں کہیں، یہ جو اقطع، ابتع اور ابسعُ ہیں، یہ.
تو یہ اجمعُ کے تابع ہیں.
کیا ہیں؟ تابع۔ یہ معنی نہیں کہ اجمعُ کو مؤکّد بناؤ اور ان کو کیا بناؤ؟ تاکید۔ یعنی تابع ہونے کا معنی یہ ہے کہ استعمال میں یہ اس کے تابع ہیں، اجمعُ لو گے تو آگے اقطعُ، ابتعُ یا ابسعُ لا سکتے ہیں، اجمعُ نہیں لاؤ گے تو اکیلے اقطعُ، ابتعُ یا ابسعُ کو نہیں لا سکتے.
تو یہ تینوں کس کے تابع؟ اجمعُ۔ تابع ہونے کا کیا معنی؟ وہ مؤکّد یہ تاکید؟ نہیں نہیں، یہ صرف کیا معنی، استعمال اس کے ساتھ ہوتے ہیں اس کے بغیر نہیں۔ اور پھر یہ کتنے ہیں اجمعُ کے بعد؟ تین ہیں.
اقطعُ، ابتعُ اور ابسعُ، یہ تینوں تابع ہیں اجمعُ کے استعمال میں، اجمعُ لو گے تو تینوں کو لا سکتے ہو، اجمعُ نہیں لائے تو یہ بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اور پھر ان تینوں کو چاہے لاؤ، چاہے ان میں سے دو کو لاؤ، چاہے، چاہے ان میں سے ایک کو لاؤ، چاہے ایک کو بھی نہ لاؤ، صرف اجمعُ لے آؤ.
تو اجمعُ کے ساتھ صرف اقطعُ لے آئے یا اجمعُ کے ساتھ صرف ابتعُ لے آئیں، یا اجمعُ کے ساتھ صرف ابسعُ لے آئیں.
بات سمجھ میں آ گئی؟ یا دو کو لے آئیں، یا تینوں کو لے آئیں، یا کسی ایک کو بھی نہ لائیں، جاءنی القوم اجمعون بس.
طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ لیکن جب بھی لانا ہے اقطعُ، ابتعُ ابسعُ کو کس کے ساتھ لانا ہے؟ اجمعُ کے ساتھ، پھر چاہے ایک لائن میں سے چاہے دو لائن چاہے تینوں لائن.
کلّو کے اندر کلّو کے استعمال کا طریقہ، کلّو کے ذریعے کس کس کی تاکید لا سکتے ہیں آپ؟ مفرد کی، مفرد کی بھی اور جمع کی بھی.
تو کلّو کے ساتھ ہمیشہ ضمیر مضاف الیہ آئے گی، اور وہ ضمیر مفرد کے لیے مفرد آئے گی اور جمع کے لیے جمع.
جمع کی مثال تو آ گئی، جاءنی القوم کلہم.
اور جو اجمعُ ہے وہ بھی اسی طرح ہے، مفرد کے لیے مفرد آئے گا جمع کے لیے جمع، جمع کی مثال تو آ گئی، جاءنی القوم اجمعون، جاءنی القوم اجمعون.
تو القام مؤكد اپنی ساری تاکیدات سے مل کر یہ فاعل بن جائے گا کس کے لیے؟ جاء کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ তো چاہے صرف کلوہم لے آئیں، چاہے صرف اجمعون لے آئیں، چاہے یہ ساروں کو لے آئیں، جس طریقے سے بھی آپ تاکید لانا چاہتے ہیں، لا سکتے ہیں۔ لیکن لائیں گے تاکید مفرد یا جمع کی ہی، تثنیہ کی تاکید نہیں لائیں گے۔ اور اجمعو کے اندر میں نے طریقہ بتایا، اجمعو میں کیا کریں گے؟ مفرد کے لیے مفرد لائیں گے اور جمع کے لیے جمع لائیں گے۔ مذکر کے لیے مذکر لائیں گے، مؤنث کے لیے مؤنث لائیں گے۔
مثلاً: جاء النيل هندات۔ ہند کی جمع لے آؤ، هندات۔ جاء النيل هندات۔ اس کی تاکید لائیں کلو کے ساتھ۔
جاء النيل هندات كلو کے ساتھ ضمیر جمع مؤنث کی لے آؤ، كلوهن۔ جاء النيل هندات كلوهن۔ یا کلھا بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ جمع بتاویل جماعۃ کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، تو کلھا بھی کہہ سکتے ہیں۔ جاء النيل هندات کلھا یا جاء النيل هندات كلوهن۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟
اور مذکر کے لیے جاء القوم اجمعونا کہا تھا۔ اور مؤنث کے لیے کیا کہیں گے؟ پھر یاد رکھو، یاد رکھو۔ یہ جو اجمعو ہے نا اجمعو، اس کی مؤنث ہے جمعاء۔ اجمعو کی مؤنث کیا ہے؟ جمعاء۔ جیسے یہ افعل صفتی ہے نا، افعل صفتی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ افعل وزن میں اس میں تفضیل بھی آتا ہے اور اسی افعل وزن پر صفت مشبہ بھی آتی ہے۔ طلبہ سمجھتے ہیں شاید یہ سب اس میں تفضیل ہیں، لیکن یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، ایک اس میں تفضیل، ایک افعل صفتی یعنی صفت مشبہ، جیسے ابیض۔
ج جیسے پہلے دیکھ لو، ازرب۔ ازرب کا کیا معنی؟ یہ اس میں تفضیل ہے، زیادہ پٹائی کرنے والا۔ اور ابیض، یہ بھی اسی وزن پر ہے، لیکن یہ اس میں تفضیل نہیں ہے، یہ صفت مشبہ۔ تو ابیض کا معنی زیادہ سفید نہیں بلکہ اس کا کیا معنی ہے؟ سفید۔ تو جو اس میں تفضیل تھا ازرب، اس کی مؤنث کیا آتی تھی؟
ازرب والجمع أزارب والمنث منه زرباء فعلى، اس کی جمع فعلی آتی تھی۔ جبکہ یہ جو افعل صفتی ہے، اس کی جمع فعلاء آخر میں ھمزہ آتا ہے۔ فعلاء، تو ابیض کی مؤنث کیا آئے گی؟ بیضاء۔ احمر، یہ بھی صفت مشبہ ہے، اس کی مؤنث کیا آئے گی؟ حمراء۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے آپ کو؟ فعلاء وزن پر۔ اور یہ بھی غیر منصرف ہے۔ کیونکہ الف تانیث آ گیا۔ الف تانیث کتنے سببوں کی قائم مقام ہے؟ دو سببوں کی قائم مقام ہے۔ تو اجمعو کی تانیث کیا آئے گی؟ جمعاء۔ اکطع کی تانیث کیا آئے گی؟ قطعا۔ ابطع کی تانیث کیا آئے گی؟ بتعا۔
بناتے جاؤ کوئی کیا بات ہے، مشکل ہے؟ فعلاء وزن بناؤ۔ جی! اجمعو کی مؤنث کیا آئے گی؟ جمعاء، فعلاء۔ جی! اکطع کی مؤنث بناؤ، قطعا۔ ابطع کی مؤنث بناؤ، بتعا۔ ابسعو کی مؤنث بناؤ، بسعا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ جی!
اور نیز اجمعو کی جمع کیا آئے گی؟ جمع مذکر؟ اجمعونا، آگے اکطعونا، آگے ابطعونا اور ابسعوونا۔ یہ اجمعو، اکطعو وغیرہ کس کس کی تاکید کے لیے آتے ہیں؟ مفرد کی بھی اور جمع کی بھی۔ تو مفرد میں آپ کو بتا دیا، مذکر کے لیے کیا کہیں گے؟ اجمعو، اکطعو، ابطعو اور ابسع۔ مؤنث کے لیے کیا کہیں گے؟
جمعاء، قطعا، بتعا اور بسعا۔ اور یہ جمع کے لیے بھی تو آتے ہیں، اور جمع بھی مذکر بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث۔ جمع مذکر ہو تو کیا کہیں گے؟ اجمعونا، اکطعونا، ابطعونا اور ابسعونا۔ اور اگر جمع مؤنث ہو، پھر کیا کہیں گے؟
جمعاء تو مفرد تھا۔ جمع مؤنث تو پھر کہیں گے جمعو، کیا کہیں گے؟ جمعو، قطع، بتع، بسع۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ کیا کہیں گے؟ جمعو، قطع، بتع، بسع۔ تو اجمعو کے ذریعے آپ مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں اور جمع کی بھی۔ اور مفرد کے لیے مفرد صیغہ لاؤ اور جمع کے لیے جمع لاؤ۔ اور اگر وہ مفرد مذکر ہے، تو مذکر والا مفرد لاؤ، اور اگر مؤنث ہے تو مؤنث والا لاؤ۔ اور اگر وہ جمع مذکر ہے، تو جمع مذکر لاؤ، اور اگر وہ جمع مؤنث ہے، تو جمع مؤنث لے کر آؤ۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
अच्छा یہاں ایک اور بات یاد رکھیں کہ یہ کلو اور اجمعو کلو اور اجمعو یہ مفرد کی تاکید کے لیے بھی آتے ہیں اور جمع کی تاکید۔ بھئی جمع میں تو ہمیں بات سمجھ میں آتی ہے، جاء القوم کلهم وہ لوگ سارے آئے، وہ لوگ۔ توجہ ہے؟ جاء القوم کلهم وہ لوگ سارے آئے، یہاں تو کلهم تاکید بن سکتا ہے، مفرد میں تو تاکید بن ہی نہیں سکتا۔ کیسے؟
مثلاً میں زید کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، جاءنی زید کله سارا زید آ گیا تھا، کوئی کہتا ہے بھئی؟ نہیں، تو پھر یہ مفرد کی تاکید کیسے بنے گا؟ جمع میں تو تاکید بن سکتا ہے۔ جمع میں تو افراد الگ الگ ہو جاتے ہیں، تو کچھ آئے کچھ نہ آئے، یہ تو ہو سکتا ہے، تو وہاں آپ کلهم لا کر بتلاتے ہیں کہ سارے آئے تھے۔
جمع میں تو افراد الگ الگ ہیں نا؟ تو اگر کلهم نہ کہوں تو احتمال ہے پتہ نہیں سارے آئے ہوں گے یا سارے نہیں، لیکن جب کلهم کہا تو اس نے کیا بتایا؟ سارے آئے تھے۔ تو مفرد، مفرد میں تو افراد ہی نہیں ہوتے، وہ تو ایک فرد ہوتا ہے، تو وہاں کل و اجمعو سے کیسے تاکید لائیں گے اور کس جگہ پر؟ تو یاد رکھنا کل و اجمعو کے ذریعے مفرد کی تاکید تب لا سکتے ہیں جب اس مفرد کے اندر بھی ٹکڑے ہو سکیں، کیا ہو سکیں؟
ٹکڑے اور حصے ہو سکیں، چاہے وہ ٹکڑے حسّن ہوں (یعنی آنکھوں سے نظر آئیں)، چاہے حکماً ہوں (یعنی حکم لگا دیا جائے)۔ کیا ہوں؟ ٹکڑے ہو سکیں، یا یوں کہیں جس میں کہ اس میں ٹکڑے ہو سکیں، کیا ہو سکیں؟ ٹکڑے ہو سکیں۔ یا یوں کہو عام زیادہ آسان لفظوں میں۔
کل و اجمعو کے ذریعے مفرد کی تاکید اس وقت لانا جائز ہے جب اس مفرد میں کے ٹکڑے ہو سکیں، یعنی اس کی تقسیم ہو سکے، چاہے حقیقتاً تقسیم ہو، چاہے حکماً۔ حقیقتاً تقسیم ہو اس کے ٹکڑے ہوں یعنی آنکھوں سے نظر آئیں، جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں أكلت التفاحة كلّها۔
أكلت التفاحة كلّها، تفاحة سیب کو کہتے ہیں، سیب۔ أكلت التفاحة میں نے سیب کھایا، کلّها سارا کا سارا۔ دیکھا التفاحة مفرد ہے اور اس کی تاکید کلو کے ساتھ لائی گئی اس لیے کہ اس کے ٹکڑے ہونا ممکن ہے۔ سیب کے ٹکڑے کیے جا سکتے ہیں۔ تو بس اس چیز کے ٹکڑے ہونے چاہئیں، یعنی اس میں تقسیم ہونی چاہیے، اگر وہ تقسیم کو قبول کرے، چاہے
حسّناً تقسیم کو کرے (یعنی ظاہراً آنکھوں سے بھی نظر آئے اس کی تقسیم) یا حسّناً تو تقسیم نہیں ہے، تو پھر حکماً کم از کم وہ تقسیم کو قبول کرے، جیسے اشتريت الغلام کلّه میں نے سارے کے سارے غلام کو خرید لیا۔ اب دیکھو یہ غلام جو ہے یہ اس کے حصے اور ٹکڑے ہو سکتے ہیں، حقیقتاً تو نہیں لیکن حکماً حکم لگا دیا جاتا ہے، دو آدمی مل کر غلام خریدتے ہیں تو کہتے ہیں یہ آدھا غلام ایک کا ہے اور آدھا غلام دوسرے کا۔ تو دیکھو یہ حکماً حکم لگا دیا گیا کہ اس کے دو حصے ہیں۔
حقیقت میں تو دو ٹکڑے کریں گے وہ تو زندہ ہی نہیں رہے گا، وہ تو ختم ہو جائے گا، تو حکماً کیا ہے اس کے کتنے حصے کر دیے؟ دو حصے کر دیے۔ (یعنی حکم لگا دیا دو حصے ہونے کا)۔ تو بعض چیزیں، بعض چیزیں ایک ہوں گی لیکن اس میں ٹکڑے ہو سکتے ہیں، حصے ہو سکتے ہیں، ظاہری کہ حقیقتاً بھی ٹکڑے ہو سکتے ہیں، جیسے أكلت التفاحة كلّها کہ میں نے سارا سیب کھا لیا، یا جیسے قرأت القرآن كله میں نے پورا قرآن پڑھا۔ الگ الگ سپارے دیکھا اس کے تیس حصے ہو گئے، تو اس میں تیس سپارے ہیں، تو یہ قرآن تو ایک ہے لیکن اس کے حصے ہو سکتے ہیں۔
اس میں تقسیم ہو سکتی ہے، تو جس چیز میں تقسیم ہو سکے چاہے حسّناً ہو چاہے حکماً، اس کے لیے کلو کو اور اجمعو کو تاکید کے طور پر لا سکتے ہیں اور اگر اس کے حصے اور ٹکڑے نہیں ہو سکتے، تو پھر اس مفرد کے لیے کلو اور اجمعو کو تاکید کے طور پر لانا صحیح نہیں ہے۔
تو دیکھو غلام کے حصے تو دو ٹکڑے نہیں، لیکن حکماً کیا ہیں؟ دو حصے ہو گئے، یا تین آدمیوں نے مل کر خرید لیا، تو کیا حکم لگایا؟ غلام کے کتنے حصے ہیں؟ تین، چار نے مل کر خریدا، تو غلام کے کتنے حصے ہیں؟ چار تو دیکھا! تو یہاں حکم لگ جاتا ہے کہ اس کے ایک سے زیادہ حصے ہیں۔ تو یہاں پر پھر کلو آپ لا سکتے ہیں اور اجمعو۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں: میں نے پورا غلام خرید لیا، تو آپ کہیں گے اشتريت العبد کلّه۔
اشتريت العبد كلّه میں نے وہ پورا وہ پورا غلام خرید لیا۔ دیکھو اب کلّه تاکید ہے کس کی؟ العبد کی۔ اشتريت العبد، العبد کا کیا معنی؟ غلام، بندہ۔ اشتريت العبد میں نے وہ غلام خریدا، کوئی متعین غلام ہے اور کلّه یہ اس کی تاکید ہے۔ العبد اس پر کیا اعراب تھا؟
اشتريت العبد نصب منصوب ہے، تو اس کی تاکید پر بھی وہی اعراب آئے گا کلّه۔ میں نے وہ سارا غلام خرید لیا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا کہ کلو اور اجمعو کے ذریعے مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں اور جمع کی بھی۔ اور کلو کے اندر ضمیر بدلے گی، مفرد کے لیے مفرد کی ضمیر آئے گی، جمع کے لیے جمع کی ضمیر آئے گی۔
اور اجمعو اس کے ذریعے مفرد کی بھی تاکید لا سکتے ہیں اور جمع کی بھی۔ تو یہ مفرد کے لیے مفرد آئے گا اور جمع کے لیے جمع۔ اور نیز مذکر کے لیے مذکر آئے گا اور مؤنث کے لیے مؤنث استعمال ہوگا۔ اجمعو میں صرف صیغہ بدلے گا اور کلو میں صرف ضمیر بدلے گی موقع کے مطابق۔
تو کہتے ہیں وجاء النيل القوم كلهم اجمعون وقطعونا وبتعونا وابعونا۔ بدان کہ اکطع و ابطع و ابسع اتباعد با اجمعو تو جان لے کہ اکطع، ابطع اور ابسع اتباعند با اجمعو، یہ اجمعو کے تابع ہیں۔ کیا معنی تابع ہیں؟
ترکیب میں اس کے تابع ہیں یا استعمال میں؟ استعمال میں اس کے تابع ہیں، پس بدون اجمعو پس یہ بغیر اجمعو کے ومقدم بر اجمعو نباشند اور اجمعو پر مقدم نہیں ہوں گے۔ یہ اکطع، ابطع اور ابسع یہ اجمعو کے بغیر بھی نہیں استعمال ہوں گے اور اجمعو پر مقدم بھی نہیں ہوں گے، یہ اجمعو کے بعد ہی لانے پڑیں گے اگر آپ لے کر آتے ہیں۔
تو کہتے ہیں دوبارہ دیکھیں بدان کہ اکطع و ابطع و ابسع اتباعند با اجمعو، کہ یہ تابع ہیں اجمعو کے، پس بدون اجمعو پس یہ اجمعو کے بغیر ومقدم بر اجمعو اور اجمعو پر مقدم نہ باشند نہیں ہوں گے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح۔
حاصل کلام پھر سن لیں بھئی۔ آج آپ نے تاکید کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ تاکید وہ تابع ہے، جو اپنے متبوع کو پکا کرتا ہے (یعنی اس کو پختہ کرتا ہے) نسبت میں یا شمول میں۔
اور یہ تاکید دو قسم پر ہے، یا تاکید لفظی ہوگی یا تاکید معنوی۔ تاکید لفظی جو ہے، کہ وہ اسی لفظ کو دوبارہ ذکر کر دیا جائے، تو یہ تاکید لفظی ہے۔ اور تاکید معنوی وہ آٹھ لفظوں کے ساتھ ہوتی ہے، کون کون سے؟ نفس، عین، کلا، کلتا، کل، اجمع، اکطع، ابطع اور ابسع۔ اس میں کلا اور کلتا کو ایک ہی شمار کریں کیونکہ یہ مذکر اور مؤنث کا فرق ہے، ایک مذکر کے لیے، ایک مؤنث کے لیے، ورنہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔
اور اس پھر انہوں نے بتایا کہ نفس اور عین اس کے لیے مفرد، تثنیہ اور جمع تینوں کی تاکید لا سکتے ہیں، اور اس ان میں صیغہ بھی بدلے گا اور ضمیر بھی۔ مفرد کے لیے مفرد، تثنیہ کے لیے تثنیہ اور جمع کے لیے جمع۔ صیغہ بھی بدلے گا اور ضمیر بھی بدلے گی۔ جبکہ کلا اور کلتا، یہ ضمیر کی طرف مضاف ہو کر تاکید بنیں گے اور یہ صرف تثنیہ کی تاکید کے لیے آتے ہیں، نہ مفرد کی تاکید کے لیے آئیں گے اور نہ جمع کی تاکید کے لیے۔
جبکہ کلّ اور اجمع، اکطع، ابطع اور ابسع، یہ مفرد کی تاکید کے لیے بھی آتے ہیں اور جمع کی تاکید کے لیے بھی، لیکن یہ اسی مفرد کی تاکید کے لیے آئیں گے جس مفرد کے ٹکڑے ہو سکیں۔ اور جس جگہ جس فعل میں ٹکڑے نہ ہو سکیں، وہاں کلو اور اجمعو تاکید کے طور پر مفرد کے لیے نہیں آئیں گے۔
غلام کے خریداری میں تو ٹکڑے ہو سکتے ہیں، مملوک ہونے میں تو ٹکڑے ہو سکتے ہیں، آدھے کے مالک آپ ہوں، آدھے کا مالک زید۔ لیکن میں کہتا ہوں جاء النيل الغلام کلّه وہ غلام سارا کا سارا آیا، یہ بھی یہاں پر دیکھو آنے میں تو ٹکڑے نہیں ہو سکتے کہ آدھا غلام آ جائے اور آدھا نہ آئے، تو یہاں پر پھر کلّه تاکید نہیں لا سکتے۔ تو تاکید کلو اور اجمعو کے ذریعے مفرد کی وہاں آئے گی جہاں پر اس مفرد کے اس فعل میں کیا ہو سکیں؟ ٹکڑے ہو سکیں۔
اور جمع کی تاکید کے لیے بھی یہ کلو اور اجمعو آئیں گے، اور اس میں بتایا کہ یہ اکطع، ابطع، ابسع یہ اجمعو کے تابع ہیں استعمال میں، لہٰذا یہ اجمعو کے بغیر بھی نہیں آئیں گے اور ہمیشہ اجمعو کے بعد ہی آئیں گے، کبھی اس پر مقدم نہیں ہوں گے۔ اور پھر ان میں سے اجمعو کے ساتھ آپ چاہے تینوں کو استعمال کر لیں، چاہے کسی کو بھی نہ لائیں، چاہے ان میں سے ایک کو لے آئیں، چاہے دو کو اور چاہے تینوں کو لے آئیں، جیسے مرضی آپ لانا چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
اور پھر انہوں نے یہ بھی آپ کو بتلایا کہ کلو مفرد کی تاکید کے لیے آتا ہے اور جمع کی تاکید کے لیے بھی، تو کلو میں صرف ضمیر بدلے گی، اور اجمعو کے اندر صیغہ بدلے گا۔ تو مفرد کے لیے مفرد اور جمع کے لیے جمع۔ اور نیز مذکر کے لیے مذکر اور مؤنث کے لیے مؤنث استعمال ہوگا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔