دیکھیے بھئی آگے سبق کتاب پر!
سوم تاکید، و او تابع است کہ حال مطبوع را مقرر گرداند در نسبت یا در شمول تا سامع را شک نہ مانَد۔ و تاکید بر دو قسم است: لفظی و معنوی۔
تاکید لفظی بتکرارِ لفظ است، چون زیدٌ زیدٌ قائمٌ، و ضربَ ضربَ زیدٌ، و اِنَّ اِنَّ زیداً قائمٌ۔ و تاکید معنوی بحَشت لفظ است: نفسٌ، و عینٌ، و کلا، و کلتا، و کلٌّ، و اجمعُ، و اکتعُ، و ابتعُ، و ابصعُ۔
توابع کی بحث ہم پڑھ رہے تھے اور صاحبِ نحمیر نے آپ کو بتلایا کہ تابع ہر وہ لفظ ہے جو دوسرے درجے میں آئے اور اس پر بھی وہی اعراب آئے جو ماقبل پر آیا تھا اور دونوں پر جو اعراب آئے وہ ایک ہی جہت سے آئے یعنی جس جہت سے مطبوع پر اعراب آیا ہے، تابع پر بھی اسی جہت سے اعراب آئے۔
یعنی دونوں میں اعراب کا مقتضی ایک ہی چیز ہو۔ مطبوع میں جس چیز نے رفع کا تقاضا کیا ہو، تابع میں بھی وہی چیز رفع کا تقاضا کرے یا مطبوع کے اندر جس چیز نے نصب کا تقاضا کیا ہے، تابع کے اندر بھی وہی چیز نصب کا تقاضا کرے۔
اور اگر مطبوع پر جر ہے تو مطبوع میں جس چیز نے جر کا تقاضا کیا، تابع میں بھی وہی چیز جر کا تقاضا کرے۔
میں نے بتلایا تھا کہ یہ قید بڑھا دی ایک تو خبر کو تابع کی تعریف سے نکالنے کے لیے، کیونکہ خبر بھی مبتدا کے بعد دوسرے درجے میں آتی ہے اور اس پر بھی وہی اعراب ہوتا ہے، البتہ دونوں پر اعراب کی جہت الگ الگ ہے۔ مبتدا پر رفع آیا مسند الیہ ہونے کی حیثیت سے اور خبر پر رفع آیا مسند ہونے کی حیثیت سے۔
اور نیز یہ قید اس لیے لگائی تاکہ مفعول ثانی اور ثالث کو نکال دیں، کیونکہ مفعول ثانی وہ مفعول اول کے بعد آئے گا اور مفعول اول پر بھی نصب ہے اور مفعول ثانی پر بھی نصب، تو مفعول ثانی یا اسی طرح ثالث ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے دوسرے درجے میں آ رہا ہے اور اس پر بھی وہی اعراب ہے جو ماقبل پر ہے، لیکن دونوں میں اعراب کی جہت ایک نہیں، دونوں میں اعراب کا مقتضی ایک نہیں۔ پہلے پر جو نصب آیا وہ مفعول اول ہونے کی حیثیت سے آیا اور ثانی پر جو نصب آیا وہ مفعول ثانی ہونے کی حیثیت سے آیا۔
تو از یک جہت کے ذریعے مفعول ثانی، ثالث وغیرہ اور اسی طرح خبر کو نکالنا مقصود تھا، اس لیے یہ قید بڑھا دی۔
اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ تابع جو ہیں وہ پانچ قسم کے ہیں۔ سب سے پہلی قسم ہم نے جو پڑھی وہ وہ صفت ہے صفت۔
اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ صفت دو قسم پر ہے۔ ایک صفت وہ ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو اس کے مطبوع میں پایا جائے اور ایک صفت وہ ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو مطبوع کے متعلق میں پایا جائے۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ پہلی قسم کی جو صفت ہے، اس کو صفت بحالیہ کہتے ہیں اور دوسری قسم کی جو صفت ہے، اس کو صفت بحالِ متعلقہ کہتے ہیں۔
صفت بحالیہ ترجمے سے ہی آپ کو بات سمجھ میں آجیانی چاہیے: صفت بحالیہ اَی بحال الموصوفِ صفت ہے جو کس کی حالت بیان کر رہی ہے؟ موصوف کے اور صفت بحال متعلقہ اَی صفت بحال متعلقِ الموصوفِ وہ صفت جو موصوف کے متعلق کے حال کو بیان کر رہی ہے۔
اور پھر یہاں پر میں نے آپ کو ترکیب کی قیمتی اور بنیادی باتیں بتلائی تھیں کہ ہر فعلِ معروف کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے اور ہر فعلِ مجھول کے لیے ہمیشہ نائبِ فاعل چاہیے۔
اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے۔ اور فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آئے گا، کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح صفت کے جو صیغوں کا فاعل یا نائب فاعل آئے وہ بھی ان کے بعد آئے گا، ان پر کبھی مقدم نہیں ہو سکتا۔
نیز فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی آ سکتا ہے۔ جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی آ سکتا ہے۔
اسی طرح صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی آ سکتا ہے۔
نیز فاعل یا نائب فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح صفت کے صیغوں میں بھی جو ان کا فاعل یا نائب فاعل ہوگا وہ کبھی ان پر مقدم نہیں ہو سکتا۔
اور فاعل یا نائب فاعل آئے گا ایک ہی، اگر وہ ضمیر آگئی تو اس میں ظاہر نہیں آ سکتا اور اس میں ظاہر آگیا تو وہ ضمیر نہیں آ سکتی۔
صفت کے صیغوں میں بھی اسی طرح ہے، اگر فاعل یا نائب فاعل ضمیر آئی تو اس میں ظاہر نہیں آئے گا اور اگر اس میں ظاہر آیا تو پھر فاعل یا نائب فاعل ضمیر نہیں آئے گی۔
اور پھر یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ فعل کے جو چودہ صیغے ہیں، چاہے ماضی ہو چاہے مضارع ہو، ان میں سے صرف پہلا اور چوتھا صیغہ ہیں، ان کے لیے فاعل اس میں ظاہر آ سکتا ہے، باقی کسی صیغے کے لیے فاعل اس میں ظاہر نہیں آ سکتا، ان میں فاعل یا نائب فاعل ضمیر ہی ہوگی جو اسی فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی۔
ہاں کبھی وہ بارز ہوگی اور کبھی مستتر ہوگی چھپی ہوئی ہوگی۔
تو فاعل یا نائب فاعل اس میں ظاہر صرف دو صیغوں کے لیے آ سکتا ہے فعل کے، کون سے دو صیغے؟ پہلا اور چوتھا۔
اور پہلا بھی مفرد کا صیغہ اور چوتھا بھی مفرد کا صیغہ، پہلا ہے واحد مذکر غائب اور چوتھا ہے واحد مؤنث غائب۔
اس سے ایک اور ضابطہ آپ کو خود بخود سمجھ میں آگیا کہ فاعل جب بھی اس میں ظاہر ہو، فعل کو ہمیشہ مفرد رکھیں گے، پہلا یا چوتھا صیغہ۔
پھر وہ اس میں ظاہر کو دیکھ لینا، اگر وہ مذکر ہوا تو پہلا صیغہ لے آنا کیونکہ پہلا صیغہ مذکر کا ہے اور اگر وہ اس میں ظاہر مؤنث ہوا تو چوتھا صیغہ لے آنا کیونکہ چوتھا صیغہ کس کا ہے؟ مؤنث کا ہے۔
اور اسی طرح صفت کے صیغوں میں بھی ہے۔
صفت کے صیغوں کے اندر بھی جب فاعل یا نائب فاعل اس میں ظاہر آ جائے، تو صفت کے صیغے کو ہمیشہ مفرد رکھیں گے۔ کیا رکھیں گے؟ مفرد رکھیں گے۔
اگر صفت کا صیغہ تثنیہ یا جمع کا ہوا، تو پھر اس کے اندر ضمیر ہی فاعل یا نائب فاعل بنے گی، اس میں ظاہر کو وہ رفع نہیں دے سکتا۔ یہاں تک ضابطے سمجھ میں آگئے۔
پھر کچھ اور ضابطے ذکر ہوئے تھے۔ لہٰذا صفت دو قسم پر ہوئی، ایک صفت بحالیہ اور ایک صفت بحالِ متعلقہ۔
یاد رکھو! یہ جو صفت بحالِ متعلقہ ہے، یہ ہمیشہ اس کا فاعل یا نائب فاعل آگے اس میں ظاہر آئے گا۔ صفت بحالِ متعلقہ اس کے لیے فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ کیا آئے گا؟ آگے اس میں ظاہر آئے گا۔
اور صفت بحالیہ کے اندر عموماً ضمیر ہوگی، عموماً۔ صفت تو اس میں عموماً ضمیر ہوگی۔
جیسے انہوں نے مثال ذکر کی: جاءَنی رجلٌ عالِمٌ۔ عبارت پر نظر ہے؟ گزشتہ سبق میں آیا تھا، اس عبارت پر ذرا نظر رکھیں: جاءَنی رجلٌ عالِمٌ۔
جہاں صفت کی بات شروع ہوئی تھی کہ و تابع پَنْج نوع است، اول صفت و او تابع است کہ دلالت کند بر معنا کہ در مطبوع باشد چون جاءَنی رجلٌ عالِمٌ۔ ترکیب کیا کی تھی؟ جاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، رجلُن۔ نصب پر تلفظ کریں، رجلَن۔ جر پر کریں، رجلِن۔ دیکھا یہ اعراب کا لفظوں سے یعنی تلفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے۔
تو رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ عالِمٌ، یہ اس کی صفت بنے گی، لیکن یہ صفت کا صیغہ آگیا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ طلبہ عموماً فعل آ جائے تو اس کے لیے تو فاعل یا نائب فاعل تلاش کرتے ہیں، لیکن صفت کے صیغے کے لیے عموماً فاعل یا نائب فاعل تلاش نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے پھر وہ ترکیب میں ان سے غلطی ہوتی ہے۔
تو عالِمٌ کون سا صیغہ؟ اسم فاعل۔ تو یہ عالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ مرفوع کیوں؟ صفت ہے۔ صفت ہے شاباش! اور صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر ہو۔ دیکھو! رجلٌ بھی مرفوع تھا، عالِمٌ بھی مرفوع ہے۔
میں نے رجلُن میں رفع کی وجہ पूछी تو آپ نے کیا کہا؟ فاعل ہے۔ اور میں نے عالِمُن میں رفع کی وجہ पूछी تو آپ نے کیا کہا؟ صفت ہے۔ تو دیکھا ہر ہر لفظ پر اعراب آپ نے الگ بتانا ہے، اس کی وجہ بتانی ہے۔
اور دیکھو دونوں میں اعراب کا مقتضی ایک ہی چیز ہے۔ جس فاعلیت نے جس فاعل ہونے نے تقاضا کیا کہ رجلُ پر کیا آنا چاہیے؟ رفع، کیونکہ یہ فاعل ہے۔ اسی فاعلیت نے تقاضا کیا کہ عالِمُن پر بھی کیا آنا چاہیے؟ رفع، کیونکہ یہ فاعل کی صفت ہے، یہ فاعل کا تابع ہے۔
تو عالِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ وہ کیوں مرفوع؟ وہ فاعل ہے شاباش! مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ اسم فاعل... ہاں شاباش! یہ عالِمُن کے اندر ہوا ضمیر ہے، یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجل موصوف کی طرف، کیونکہ صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے۔ یاد رکھو! جب تک آپ ربط نہیں دیں گے، یہ جڑے گا نہیں۔
تو اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
جی، عالِمُن کے اندر کون سی ضمیر نکالی تھی؟ ہوا اور وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجل۔ معلوم ہوا عالِمُن ہوا، عالم ہے وہ۔ کون عالم ہے؟ رجل۔ دیکھو عالِمُن ہوا، ہوا کا ترجمہ کیا، وہ۔ عالم ہے وہ، کون وہ، کس کی طرف راجع؟ رجل۔ عالم ہے وہ رجل۔ معلوم ہوا یہ عالم ہونا کس کی صفت ہے؟ رجل۔ وہ عالِم ہونے کی صفت کس کے اندر پائی جا رہی ہے؟ رجل میں۔
تو یہ عالِمُن کے اندر جو ہوا ضمیر ہے، اس نے بتا دیا کہ یہ عالم ہونا کس کے اندر ہے؟ یہ معنی رجل یعنی موصوف کے اندر ہے، کیونکہ ضمیر اس کو لوٹ رہی ہے۔
تو یہ شبہ جملہ ہو کر صفت۔ جاءَنی رجلٌ عالِمٌ، میرے پاس ایک عالم آدمی آیا۔ دیکھو یہ عالم ہونا کس کی صفت ہے؟ اسی رجل۔ تو یہ صفت بحالیہ ہے۔ عالِم یہ صفت بحالیہ ہے۔ یہ ایسے معنی پر دلالت کر رہی ہے، جو کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ مطبوع یعنی رجل میں۔ وہ عالم ہونے کی صفت کس میں ہے؟ رجل میں ہے، تو یہ صفت بحالیہ ہے۔
اگلی مثال میں آپ دیکھیں گے کہ وہ صفت بحالِ متعلقہ میں، وہ صفت کا معنی جو ہے وہ مطبوع میں نہیں پایا جائے گا بلکہ مطبوع کے متعلق میں پایا جائے گا، آپ دیکھیے اگلی ترکیب دیکھ لیں۔
جاءَنی رجلٌ حسنٌ غلامُہ۔ جاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ منصوب کیوں؟ مفعول بہ ہے۔ محلاً کیوں؟ مبنی ہے۔ تو منصوب محلاً مفعول بہ۔ رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ کر کے دکھاؤ! رجلُن۔ نصب پر رجلَن۔ جر پر رجلِن۔
حسنٌ، جی اعراب بولو! مرفوع لفظاً صفتِ مشبہ۔ مرفوع لفظ مرفوع کیوں؟ صفت ہے۔ اور صفت پر وہی اعراب ہوتا ہے جو موصوف ہو۔ اگر یہ رجلُن پر نصب ہوتا، رجلاً ہوتا تو یہاں بھی حسناً ہوتا۔ اگر وہ رجلِن ہوتا تو یہاں بھی حسنین ہوتا۔
تو حسنٌ مرفوع لفظاً صفتِ مشبہ۔ اور صفت کا صیغہ آگیا۔ اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو آگے غلامُہ۔ یاد رکھو! ایک اور ضابطہ سمجھ لو۔
فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے اور نائب فاعل بھی مرفوع۔ لہٰذا فعل کے بعد، فعل اگر پہلا یا چوتھا صیغہ ہو، کون سا؟ پہلا یا چوتھا۔ اور اس فعل کے بعد آگے کسی اسم پر رفع آ جائے، تو سمجھ جانا یہ فاعل یا نائب فاعل ہے۔
فعل کے آنے کے بعد آگے ہمیشہ سارے نصب آتے ہیں، لیکن اگر کسی لفظ پر کیا آ رہا ہے؟ رفع، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ فاعل یا نائب فاعل ہے۔ اگر فعل معروف ہوا تو اس کو فاعل بنا دینا، اگر فعل مجھول ہوا تو اس لفظ کو نائب فاعل بنا دینا۔
تو یہاں بھی صفت میں بھی اسی طرح ہے، صفت کے بعد یہ کیا آ رہا ہے؟ مرفوع۔ معلوم ہوا یہ اس کا فاعل بنے گا، غلامُہ۔ تو غلامُ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے حسن کے لیے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔
رفوع لفظاً مضاف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ جس اسم کے ساتھ بھی کیا آ جائے، ضمیرِ متصل۔ فعل نہیں، فعل نہیں۔ فعل کے ساتھ ضمیرِ متصل آئے وہ فاعل کی بھی ہو سکتی ہے اور مفعول کی۔ لیکن اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل آئے، تو وہ ہمیشہ مضافِ الیہ ہوگی۔ تو اسم مضاف ہوگا اور وہ ضمیر مضافِ الیہ ہوگی۔
تو ہا ضمیر اعراب بولو! مجرور محلاً مضافِ الیہ۔ بھئی مجرور! میں تو اس پر پیش پڑھ رہا ہوں، رفع پڑھ رہا ہوں، غلامُہ۔ یہ تو صفت ہے۔ ہاں شاباش! یہ کہ آپ کے جواب میں کہیں، یہ اس کی حرکت ہے، اعراب نہیں۔ کیونکہ یہ ضمیر ہے اور ضمیر پر تو اعراب ظاہر نہیں ہوتا، یہ تو مبنی ہے۔ یہ اس کی حرکت ہے، جیسے زیدُن، زیدُن کی زا پر کیا ہے؟ زبر ہے۔ یہ زبر اعراب ہے؟ اعراب تو آخر میں آتا ہے، تو یہ زا کی حرکت ہے۔ تو اسی طرح مبنی میں بھی جو ہے، اس کی حرکت ہوگی۔
ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل ہوا کس کے لیے؟ حسن کے لیے۔ صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ صفت نہیں بن سکتی، کیوں نہیں؟ ربط نہیں۔ ربط نہیں دیا۔ ربط ضرور دینا ہے، شبہ جملہ کو جس سے بھی جوڑنا ہے کہ ربط کیا ہے؟ غلامُ۔ ہاں حسنُن کے اپنے اندر کیوں ضمیر نہیں نکالی؟ کیونکہ فاعل آگے اس میں ظاہر غلامُہ آگیا، اب اس کے اندر ہوا ضمیر نہیں۔ اگر آگے فاعل نہ ہوتا غلامُہ تو پھر اسی کے اندر ہم ضمیر نکالتے، جیسے اوپر والی مثال میں رجلٌ عالِمٌ تھا، وہاں عالِمُن کے آگے کوئی اس میں ظاہر فاعل نہیں تھا، تو اسی عالِمُن کے اندر ہمیں ضمیر نکالنا پڑی۔
یہاں بھی اسی طرح ہوتا اگر غلامُہ آگے نہ ہوتا۔
تو غلامُہ کی ہا ضمیر یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ یہ حسن کو۔ ہاں غلامُہ کی ہا ضمیر، رجل کو۔ یہ حسنُن غلامُہ۔
سارے کو ہم صفت بنائیں گے۔ کس کی؟ رجل کی۔ تو درمیان میں ربط ضروری۔ تو ہا ضمیر کس کو راجع؟ رجل کو۔ اور ضمیر مرجع میں مطابقت ہے؟ رجل بھی مفرد مذکر، ہا ضمیر بھی مفرد مذکر۔
تو یہ شبہ جملہ ہو کر صفت اور موصوف صفت مل کر فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
اب دیکھو، دیکھو، رجلٌ حسنٌ غلامُہ، ایسا آدمی حسنٌ غلامُہ کہ اچھا ہے غلامُہ اس کا غلام۔ اب مجھے بتائیے، یہ اچھا ہونا یہ صفت رجل کے اندر پائی جا رہی ہے یا اس کے غلام میں؟
اچھا وہ آدمی ہے یا اس کا غلام ہے؟ اس کا غلام۔ تو دیکھو یہ حسنٌ، یہ لفظوں میں صفت ہے رجل کی۔ لفظوں میں کس کی صفت؟ دیکھو رجل پر رفع تو حسن پر بھی کیا ہے؟ رفع تو یہ لفظوں میں حسن جو ہے، یہ لفظوں میں صفت ہے رجل کی۔
لیکن معنی کے اعتبار سے صفت ہے غلامُ، غلامُ الرجل کی۔ کس کی؟ غلامُہ کی یعنی غلام الرجل کی۔ ہا ضمیر رجل کو راجع ہے نا؟ تو غلامُہ کی، تو اچھا کون ہے؟ اس کا غلام۔ تو جاءنی رجلٌ، آیا میرے پاس ایسا آدمی حسنٌ غلامُہ کہ اچھا ہے اس کا غلام۔
تو حسنٌ لفظوں میں کس کی صفت؟ رجل کی رجل کی۔ لیکن معنی کے اعتبار سے یہ کس کی صفت؟ غلامُ غلامُ الرجل کی۔ یہ اچھا کون ہے؟ وہ آدمی ہے یا اس کا غلام ہے؟ تو حسنٌ لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل رجل کی اور معنی میں صفت اس کے متعلق یعنی اس کے غلام کی۔ غلامُہ کی جگہ چاہے ابوُہ لے آئیں، جاءنی رجلٌ حسنٌ ابوُہ، پھر اسی طرح کر لیں ترکیب۔
میرے پاس ایسا آدمی آیا حسنٌ ابوُہ، کہ اس کا باپ اچھا ہے۔ تو دیکھو اچھا ہونے کی حسن، لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل کی۔ رجل کی، اور معنی میں صفت کس کی؟ ابو الرجل ابو الرجل۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صفت بحالہٖ کسے کہتے ہیں؟ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع جاءنی رجلٌ عالمٌ، یہ کون سی صفت ہے؟ صفت بحالہٖ۔ صفت بحالہٖ کسے کہتے ہیں؟ وہ صفت جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع میں۔ وہ عالم کون ہے؟ وہ آدمی ہے۔ اور صفت بحالہٖ متعلقہٖ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع کے متعلق میں۔ حسنٌ لفظوں میں صفت رجل کی اور معنی میں صفت اس کے غلام کی، اس کے متعلق کی۔ یا اس کے باپ کی اور باپ بھی اس کا متعلق ہے۔ متعلق جس آدمی کا تعلق ہو، کسی بھی قسم کا۔
جیسے غلامُہ اس آدمی کا غلام، معلوم ہوا وہ آدمی مالک ہے اور غلام اس کا مملوک ہے۔ دیکھو دونوں میں تعلق ہے کہ نہیں؟ یا ابوُہ ابو الرجل اس آدمی کا باپ، دیکھو باپ اور بیٹے میں کیا ہے؟ تعلق ہے۔ تو کوئی بھی، کسی بھی قسم کا تعلق ہوگا وہاں۔
تو صفت بحالہٖ میں نے آسان لفظوں میں بتایا تھا، صفت بحالہٖ لفظوں میں جس کی صفت ہو، معنی میں بھی توجہ ہے؟ صفت بحالہٖ کسے کہتے ہیں؟ جو لفظوں میں جس کی صفت ہو، معنی میں بھی اسی کی۔ جاءنی رجلٌ عالمٌ، یہ عالم لفظوں میں کس کی صفت؟ رجل کی اور معنی میں بھی کس کی صفت؟ رجل کی۔ یہ عالم ہونا اسی کے اندر پایا جا رہا ہے اور صفت بحالہٖ متعلقہٖ کسے کہتے ہیں؟ جو لفظوں میں صفت ہو ایک کی اور معنی میں صفت ہو اس کے متعلق کی۔ رجلٌ حسنٌ غلامُہ، یہ حسنٌ لفظوں میں صفت کس کی؟ رجل کی، کیونکہ اس کے تابع ہے، اس پر رفع تو اس پر بھی رفع۔ لیکن معنی میں صفت کس کی؟ غلام الرجل کی یا ابو الرجل کی۔ کیونکہ اچھا ہونے کا معنی کس میں ہے؟ اس کے غلام میں یا اس کے باپ میں۔
اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ صفت بحالہٖ اپنے مطبوع کے تابع ہوگی۔ اس کے مط اپنے مطبوع کے مطابق ہوگی دس چیزوں میں۔ توجہ ہے؟
اپنے مطبوع کے مطابق ہوگی دس چیزوں میں۔ کون کون سی دس چیزیں؟ تعریف و تنکیر، تذکیر و تانیث، افراد، تثنیہ، جمع اور رفع، نصب، جر۔ پھر دہرائیں۔
کہ صفت بحالہٖ دس چیزوں میں مطابق ہوگی اپنے مطبوع کے۔ دو چیزیں پہلی دو کون سی؟ تعریف و تنکیر، موصوف معرفہ تو صفت بھی معرفہ، موصوف نکرہ تو صفت بھی نکرہ۔ اور دوسری دو چیزیں کیا؟ تذکیر و تانیث یعنی مذکر مونث ہونے میں، اگر موصوف مذکر تو صفت بھی مذکر، موصوف مونث تو صفت بھی مونث ہوگی۔
اور اگلی تین چیزیں افراد، تثنیہ اور جمع۔ یعنی مفرد، تثنیہ یا جمع ہونے میں، موصوف مفرد ہوگا تو صفت بھی مفرد، موصوف تثنیہ ہوگا تو صفت بھی تثنیہ، موصوف جمع ہوگا تو صفت بھی جمع۔ اور آخری تین چیزیں کیا؟ رفع، نصب، جر یعنی موصوف پر رفع تو صفت پر بھی رفع، موصوف پر نصب تو صفت پر بھی نصب اور موصوف پر جر تو صفت پر بھی جر آئے گا۔
جبکہ صفت بحالہٖ متعلقہٖ وہ پانچ چیزوں میں اپنے مطبوع کے مطابق ہوگی۔
پانچ چیزوں میں۔ کون کون سی؟ تعریف و تنکیر، تعریف و تنکیر میں، اگر موصوف معرفہ ہوگا تو صفت بھی معرفہ۔ اگر موصوف نکرہ ہوگا تو صفت بھی نکرہ۔ اور باقی تین چیزیں رفع، نصب اور جر۔ رفع، نصب اور جر۔ یعنی موصوف پر رفع ہے تو اس صفت پر بھی رفع، موصوف پر نصب تو صفت پر بھی نصب، موصوف پر جر تو صفت پر بھی جر۔
اور پانچ چیزوں میں مطابقت نہیں ہوگی۔ کون سی پانچ چیزیں؟
پہلی دو کیا؟ ہاں، جس میں مطابقت نہیں ہوگی۔ تذکیر و تانیث کس میں؟ تذکیر و تانیث میں، یہاں موصوف کے ساتھ مطابقت نہیں ہوگی۔ توجہ ہے؟ موصوف آیا، ادھر دیکھیے، موصوف آیا۔ موصوف کے بعد صفت بحالہٖ متعلقہٖ آ رہی ہے۔ یہ صفت بحالہٖ متعلقہٖ موصوف کے مطابق نہیں ہوگی مذکر مونث ہونے میں۔
موصوف مذکر ہو تو ضروری نہیں یہ بھی مذکر ہو۔ موصوف مونث ہو تو ضروری نہیں یہ بھی مونث ہو۔
بھئی کیوں؟ وجہ آپ سمجھ لیں، پھر آسان ہے۔ بھئی کیوں نہیں ہوگی مذکر مونث ہونے میں یہ اپنے موصوف کے مطابق؟
وجہ یہ کہ یہ صفت بحالہٖ متعلقہٖ ہے اور صفت بحالہٖ متعلقہٖ کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر آتی ہے یا اس میں ظاہر آتا ہے؟ اس میں ظاہر۔ کیا آتا ہے؟ اس میں ظاہر۔ اس میں ہمیشہ اس میں ظاہر آتا ہے۔ حسنٌ غلامُہ، یہ غلامُہ کیا ہے؟ اس میں ظاہر۔ حسنٌ ابوُہ، یہ ابوُہ کیا ہے؟ اس میں ظاہر۔ جبکہ پیچھے آیا تھا رجلٌ عالمٌ، وہاں عالمُ کے اندر کیا نکالی تھی؟ ضمیر۔ تو یہ جو صفت بحالہٖ متعلقہٖ ہوتی ہے، اس کا فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ آگے کیا آئے گا؟ اس میں ظاہر۔ اور جب کسی فعل کا فاعل یا نائب فاعل اس میں ظاہر ہو تو فعل کو اس کے مطابق لاتے ہیں۔ کیا معنی؟ پہلا یا چوتھا صیغہ ہی لانا ہے۔
جیسے لیکن لائیں گے کون سا؟ مذکر کے لیے مذکر اور مونث کے لیے مونث۔ مثلاً میں زیدٌ کو فاعل بنانا چاہتا ہوں ضربا کے لیے۔
تو ضربا لوں گا یا ضربت لوں گا؟ ضربا کیوں؟ کیونکہ زید مذکر ہے۔ اچھا اور میں ہند لانا چاہتا ہوں، ہند عورت کا نام۔ تو ضربا لوں گا یا ضربت؟ ضربت۔ اب ضربت لوں گا کیونکہ یہ ہند کیا ہے؟ مونث۔ تو دیکھو یہاں پر بھی صفت بحالہٖ متعلقہٖ، اس کے اندر آگے فاعل یا نائب فاعل کیا آ رہا ہے؟ اس میں ظاہر۔ توجہ ہے؟ صفت بحالہٖ متعلقہٖ، پہلے کون آیا؟ موصوف۔ پھر آئی صفت اور پھر آگے اس میں ظاہر کیا آئے گا؟ فاعل یا نائب فاعل۔ تو یہ جو صفت ہوگی، یہ اپنے فاعل کے اعتبار سے مذکر یا مونث ہوگی، موصوف کے اعتبار سے نہیں۔ آگے فاعل اگر کیا ہوا؟
جی؟ مذکر تو اس کو کیا لائیں گے؟ مذکر۔ اگر وہ مونث ہوا تو اس کو بھی کیا لائیں گے؟ مونث۔ جیسے یہ جو مثال آئی تھی، جاءنی رجلٌ حسنٌ ابوُہ، حسنٌ ابوُہ۔
ابوُہ کی جگہ اگر امُہ ہوتا، کیا ہوتا؟ امُہ مذکر مونث؟ ام ماں کو کہتے ہیں مونث۔ تو اس کے لیے پھر حسنٌ نہ کہتے، پھر حسنۃٌ کہتے۔ کیا کہتے؟ حسنۃٌ۔ کیونکہ امُہ مونث، تو صفت کو بھی اس کے مطابق کیا لے آتے؟ مونث۔ تو عبارت یوں بنتی: جاءنی رجلٌ حسنۃٌ امُہ، جاءنی رجلٌ حسنۃٌ امُہ۔
وجہ سمجھ میں آئی؟ کہ تذکیر و تانیث میں صفت بحالہٖ متعلقہٖ اپنے موصوف کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ کس کے مطابق ہوگی؟ اپنے فاعل کے، کس کے؟ اپنے فاعل یا نائب فاعل کے۔ اگر وہ مذکر ہوا تو یہ صفت بھی کیا لے آؤ؟ مذکر۔ اگر وہ مونث ہوا تو اس کو بھی کیا لے آؤ؟ مونث۔ اس میں موصوف کو نہ دیکھنا۔ موصوف مذکر و مونث ہو جیسا بھی ہو، اس سے غرض نہیں۔ اس لیے کیونکہ یہ لفظوں میں بے شک موصوف کی صفت ہے لیکن معنی میں اپنے فاعل کے یعنی اس کے متعلق کی صفت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، اب اس کو دہرائیں۔ کس چیز میں مطابقت ضروری نہیں صفت بحالہٖ متعلقہٖ میں؟
مذکر مونث ہونے میں۔ کیوں نہیں مطابقت ضروری؟ پھر کس کے ساتھ مطابقت ضروری ہے؟ فاعل کے ساتھ۔ حاصل پھر سن لو۔ تو صفت بحالہٖ متعلقہٖ، وہ لفظوں میں تو صفت ہوتی ہے موصوف کی لیکن معنی میں صفت ہوتی ہے اس کے متعلق کی اور آگے اس کا فاعل اس میں ظاہر آ رہا ہوتا ہے۔ تو تذکیر و تانیث میں یہ اپنے فاعل کے مطابق ہوگی۔ اگر وہ مذکر ہوا تو اس صفت کو کیا لائیں گے؟ مذکر۔ اگر وہ مونث ہوا تو اس کو مونث لائیں گے۔
تو معلوم ہوا تذکیر و تانیث میں یہ صفت اپنے موصوف کے مطابق نہیں ہوگی یعنی ضروری نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے مطابقت ویسے ہو جائے لیکن دیکھنا اپنے فاعل یا نائب فاعل کو ہے۔
دوسرا، افراد تثنیہ اور جمع میں۔
اس کا موصوف مفرد ہے، تثنیہ ہے یا جمع۔ تو صفت کو بھی آ لیکن صفت کون سی ہے؟ اس میں ظاہر۔ توجہ ہے؟ صفت بحالہٖ متعلقہٖ، اس میں انہوں نے کیا بتایا؟ کتنی چیزوں میں مطابقت ضروری ہے؟
پانچ چیزوں میں مطابقت۔ کون سی پہلی دو؟ تعریف و تنکیر۔ معرفہ نکرہ میں اس کی طرح لے آؤ اور اعراب میں بھی اس کی طرح ہو۔ لیکن تذکیر و تانیث میں بھی کس کو دیکھنا ہے؟ فاعل نائب فاعل کو دیکھنا ہے۔ اور اسی طرح افراد مفرد تثنیہ جمع ہونے میں بھی کس کو دیکھنا ہے؟ فاعل کو۔ کیا معنی؟ یعنی کہ جو فاعل، فاعل اس میں ظاہر ہو۔ فاعل اگر اس میں ظاہر ہو تو فعل کو ہمیشہ فاعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ صفت بحالہٖ متعلقہٖ، یہ ہمیشہ مفرد رہے گی۔
یہ ہمیشہ مفرد رہے گی۔ واہ آگے جو اس میں ظاہر ہے چاہے وہ مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع اس کو نہیں دیکھنا۔ کیونکہ وہ ہے تو اس میں ظاہر۔
جی جی۔
مثلاً دیکھو، جاءنی رجلٌ حسنٌ غلامُہ، توجہ ہے۔ جاءنی رجلٌ حسنٌ غلامُہ۔
حسنٌ، حسنٌ مفرد ہے، تثنیہ ہے یا جمع؟ مفرد ہے۔ اور غلامُہ، وہ اس میں ظاہر ہے۔ اور جب اس میں ظاہر فاعل ہو تو فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ اسی طرح صفت کے صیغے کو بھی ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد۔ تو غلامُہ فاعل ہے۔ اس کی جگہ ذرا تثنیہ لے آؤ۔ غلمانی، غلام کی تثنیہ کیا؟ غلمانی اور پھر ہا ضمیر کی طرف اضافت کریں گے تو نون گر جائے گا، غلاماہ۔
تو حسنٌ اب بھی مفرد رہے گا۔ جاءنی رجلٌ حسنٌ غلاماہ۔
آپ سے کوئی کہے یہ غلاماہ مرفوع کیوں؟ آپ کیا کہیں گے؟
یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ حسن کے لیے۔ بھئی حسن تو مفرد ہے اور غلاماہ تو تثنیہ ہے۔ کیا جواب دیں گے؟ اس میں ظاہر۔ ہاں، غلاماہ اس میں ظاہر ہے اور اس میں ظاہر جب فاعل یا نائب فاعل ہو تو فعل یا صفت کو کیا رکھتے ہیں؟ مفرد۔ تو حسنٌ مفرد ہی رہے گا چاہے آگے غلام مفرد آ جائے، چاہے تثنیہ آئے، چاہے جمع۔ جمع لے آؤ۔ جاءنی رجلٌ حسنٌ غلمانُہ۔
حسنٌ، غلمانُہ، دیکھا، یہ غلمان کیا ہے؟ غلام کی جمع اور دیکھو یہ جمع ہے لیکن حسنٌ مفرد ہے۔
تو معلوم ہوا صفت بحالہٖ متعلقہٖ وہ ہمیشہ مفرد رہے گی، تثنیہ یا جمع نہیں ہوگی۔
اور نیز تذکیر و تانیث میں یہ اپنے فاعل کے مطابق ہوگی۔ فاعل اگر مذکر تو یہ صفت بھی مذکر۔ اگر وہ فاعل مونث تو صفت بھی مونث۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
جی۔
اور پھر انہوں نے آخر میں آپ کو یہ بھی بتایا کہ یہ جو جملہ ہوتا ہے،
یہ بھی کبھی کبھار نکرہ کی صفت بنتا ہے۔
توجہ ہے؟ جملہ بھی کبھی کبھار نکرہ کی صفت بنتا ہے۔ اور میں نے بتایا تھا جملہ جو ہے، وہ جب بھی کسی چیز سے جوڑیں درمیان میں کیا ضروری؟ ربط ضروری۔ جیسے شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑنا ہو تو ربط ضروری۔ اسی طرح جملے کو بھی جب کسی چیز سے جوڑنا ہو تو ربط ضروری۔
تو اسی لیے انہوں نے مثال کیا دی تھی؟ جاءنی رجلٌ ابوُہ عالمٌ۔
جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف ہے اور ابوُہ عالمٌ یہ پورا جملہ اس کی صفت بن رہا ہے۔ اور اس پورے جملے میں ابوُہ ہے مبتدا اور عالمٌ ہے اس کی خبر۔
اس کی ترکیب میں ایک دو باتیں ذرا سمجھ لیں۔ ترکیب دیکھو۔ جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ توجہ ہے؟ رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف ہے۔
مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ ہے تو یہ فاعل لیکن ابھی موصوف کہو کیونکہ آگے صفت کو جوڑ کر ہم اسے فاعل بنائیں گے۔ تو رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ آگے ابوُہ۔
ترکیب پہ نظر ہے بھئی؟ گزشتہ سبق کے بالکل آخر میں یہ مثال آئی تھی۔
ابوُہ۔ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ یہ مبتدا ہے۔ یہ کیا ہے؟ پورا جملہ صفت بنے گا نا، صرف ابوُہ صفت نہیں ہے، ابوُہ عالمٌ پورا جملہ صفت ہے رجل کی۔
تو ابوُہ مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا۔ ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، جو کس کو راجع؟ رجل۔ دیکھا یہ موصوف سے ربط دے دیا ہم نے۔
تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا۔ مبتدا صفت نہیں، پورے جملے کو صفت بنائیں گے۔ یہ مبتدا۔ عالمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔
اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ شاباش، ابوُہ کو لوٹانا ہے۔ کیونکہ یہ خبر ہے ابوُہ کی اور خبر کو مبتدا سے جوڑتے ہیں۔ یہ ضمیر رجل کو نہیں لوٹانی۔
جی۔
یہ رجل کی صفت نہیں ہے، ابوہ عالم پورا جملہ اس کی صفت ہے۔ تو عالم کے اندر ہوا ضمیر کس کو لوٹاؤ؟ ابوہ کو۔ تو عالم صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔
تو عالم صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ مبتدا۔ اور ہر ربط دیا یا نہیں دیا آپ نے؟ ربط دے دیا۔ تو پھر مبتدا اپنی خبر سے مل کر تو یہ جملہ اسمیہ ہو کر یہ صفت کس کی؟ رجل کی اور ربط دیا یا نہیں دیا؟ ربط ابوہ کی ہا ضمیر ربط دے رہی ہے۔ تو یہ صفت موصوف صفت مل کر فاعل ہے جا کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
یکھو، جس چیز سے جوڑنا ہے اس کے ساتھ ربط دے رہے ہیں۔ ابوہ عالم یہ پورا جملہ صفت ہے رجل کی۔ لہذا اس کے اندر کوئی ضمیر چاہیے تھی جو ربط دے رجل سے تو ابوہ کے لیے وہ ضمیر لے آئے۔ اس کے ساتھ یہ ضمیر لے آئے۔ یہ ضمیریں ویسے نہیں لا رہے، یہ ربط کے لیے لاتے جا رہے ہیں۔ ہر ہر مثال میں یہ ضمیر لا رہے ہیں کس لیے؟ ربط دینے کے لیے۔ تو ابوہ کی ہا ضمیر نے رجل سے ربط دیا۔ اور عالم کے اندر جو ہوا ضمیر تھی، اس نے کس سے ربط دیا؟ ابوہ سے کیونکہ وہ خبر ہے۔
کیونکہ وہ خبر ہے کس کے لیے؟ ابوہ کے لیے اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو حاصل کلام یہ کہ جملہ یا شبہ جملہ کو جس سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آگیا۔
یہاں ایک اور بڑی قیمتی بات یاد رکھیں۔ یاد رکھو صفت کے صیغے کو اگر متکلم کی ضمیر سے یا مخاطب کی ضمیر سے جوڑیں، تو اس میں وہی ضمیر نکالنا۔ اس میں وہی ضمیر۔ مثلا انا قائم۔
انا قائم تو یہ انا مرفوع محلا یہ ہے مبتدا اور قائم یہ خبر ہے اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو اس قائم کے اندر آپ نے انا ضمیر نکالنی ہے، ہوا ضمیر نہیں۔ کون سی ضمیر نکالنی ہے؟ انا۔ تو قائم مرفوع لفظا صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر انا ضمیر مرفوع محلا جس کا فاعل۔
اور اگر آپ سے کوئی پوچھے اس انا ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے؟
جی۔ ہاں شاباش۔ یہ متکلم کی ضمیر ہے اور مرجع صرف کس ضمیر کا ہوتا ہے؟ غائب کا ہوتا ہے۔
تو یہاں جو ربط آیا، وہ ربط کی دوسری صورت آگئی۔ انا قائم۔ یہ قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ انا سے۔ یہ ربط کی دوسری قسم آگئی کہ جس لفظ سے آپ جملہ یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہوں، وہ لفظ خود ہی اس کے اندر آجائے۔ تو قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ انا سے اور قائم کے اندر بھی انا آگیا۔
نحن قائمون۔
یہاں پر قائمون کے اندر کیا نکالیں گے؟ نحن۔
انت قائم، یہاں قائم میں کیا نکالیں گے؟ انت۔
متکلم اور مخاطب کی ضمیر سے جب صفت کے صیغے کو آپ جوڑیں، تو صفت کے صیغے میں غائب کی ضمیر نہ نکالنا، بلکہ کون سی ضمیر نکالنا؟ وہی جس کے ساتھ آپ جوڑ رہے ہیں۔ انا سے جوڑ رہے ہیں تو اس میں بھی صفت کے صیغے میں بھی انا نکالو۔ نحن سے جوڑ رہے ہیں تو صفت کے صیغے میں بھی نحن نکالیں۔ انت سے جوڑ رہے ہیں تو صفت کے صیغے میں بھی انت نکالیں۔ انتما سے جوڑ رہے ہیں تو صفت کے صیغے میں بھی انتما نکالیں اور انتم سے جوڑ رہے ہیں تو صفت کے صیغے میں بھی انتم۔ حاصل کلام کیا؟ کہ صفت کے صیغے کو جب متکلم یا مخاطب کی ضمیر سے جوڑیں تو اس میں وہی ضمیر نکالنا۔
ایک اخری چھوٹی سی بات ترکیب کی یاد رکھیں۔ یاد رکھیں جو فعل کے اندر الف اور و آتے ہیں یہ ضمیریں ہیں۔
ضرب، ضربا، دیکھو الف آگیا، ضربوا، و آگیا۔ یہ فعل کے اندر جو الف اور و آتے ہیں، یہ ضمیریں ہیں۔ ضربا یہ تثنیہ کی ضمیر ہے، تثنیہ مذکر غائب اور ضربوا یہ جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے۔ توجہ ہے؟ جو صیغہ ہو وہی ضمیر بول دیا کرو۔ ضربا کون سا صیغہ؟ تثنیہ مذکر غائب تو یہ الف بھی کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر غائب کی۔ ضربوا یہ کون سا صیغہ؟ جمع مذکر غائب تو یہ و بھی جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے۔
اسی طرح فعل مضارع میں کر لیں، یضرب، یضربانی، یہ نون تو اعرابی ہے، لیکن یہ الف کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ یضربون، یہ نون تو اعرابی ہے لیکن یہ و کیا ہے؟ ضمیر۔ تو یاد رکھو فعل کے اندر جو الف اور و آئیں، وہ تثنیہ اور جمع کی ضمیریں ہیں۔
لیکن صفت کے صیغوں میں جو الف اور و آجائیں، وہ ضمیریں نہیں ہیں، وہ صرف تثنیہ اور جمع کی علامتیں ہیں۔ ضربا اس کے اندر الف کیا؟ ضمیر۔ ضربوا اس کے اندر یہ و کیا؟ ضمیر۔ لیکن قائم، قائمان، قائمان میں یہ جو الف ہے، یہ ضمیر نہیں۔ یہ صرف تثنیہ کی علامت ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ یہ لفظ تثنیہ ہے، مفرد نہیں ہے، جمع نہیں ہے۔ قائمان اس میں و آیا، لیکن یہ و صرف جمع کی علامت ہے، یہ ضمیر نہیں۔
تو صفت کے صیغوں میں جو الف اور و آئیں، وہ ضمیریں ہیں یا تثنیہ اور جمع کی علامتیں ہیں؟ وہ اور فعل میں جو الف اور و آئیں، وہ ضمیریں ہیں۔ اچھا دلیل ساتھ یاد رکھو پھر آپ کو یہ بات بھولے گی نہیں۔
یہ جو صفت کے صیغے ہیں دیکھو، حالت رفی میں کہتے ہیں قائمان، حالت نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ قائمین۔ وہ الف یا سے بدل گیا، معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں تھی، اگر یہ ضمیر ہوتی تو اس نے یا سے نہیں بدلنا تھا، کیونکہ ضمیر تو مبنی ہوتی ہے، مبنی کی تو حالت بدلتی نہیں۔ قائمان، اس کو حالت نصبی جری میں لے جائیں۔
قائمین۔ دیکھو و کس سے بدل گیا؟ یا سے، معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں تھی، اگر یہ ضمیر ہوتی تو یہ یا سے کبھی نہ بدلتی، کیونکہ ضمیر تو مبنی ہوتی ہے، اور مبنی میں تو کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
دلیل سمجھ میں آگئی؟ جی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں دوم تاکید وہ تابع ہے کہ حال مطبوع را مقرر گردانند در نسبت یا در شمول تا سامع را شک نہ ماند۔
و تاکید بر دو قسم است: لفظی و معنوی۔
تاکید لفظی بہ تکرار لفظ است، نحو زید زید قائم، و ضرب ضرب زید، و ان ان زیدا قائم۔
و تاکید معنوی بہ ہشت بہ ہشت لفظ است: نفس، و عین، و کلا، و کلتا، و کل، و اجمع، و اکتع، و ابتع، و ابصع۔
آج دوسرا تابع آگیا بھئی۔ دوسرے تابع کا نام ہے تاکید بھئی، تاکید۔
تاکید کا معنی ہے پکا کرنا، پختہ کرنا۔
تاکید کا کیا معنی؟ پختہ کرنا، پکا کرنا۔ تاکید اس کو کہتے ہیں کہ ایک لفظ کے بعد ایک اور لفظ آکر اس کو پکا کر دیتا ہے، اس کو پختہ کر دیتا ہے۔
اور پھر یہ پکا یا پختہ کرنا کبھی نسبت میں ہوتا ہے اور کبھی شمول میں۔ یہ پکا اور پختہ کرنا کس میں ہوگا؟ کبھی نسبت میں ہوگا اور کبھی شمول میں۔ میں تفصیل بیان کرتا ہوں، بس آپ باتیں غور سے سنتے رہیں۔
تو تاکید وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کو پکا کرتا ہے، اس کو پختہ کرتا ہے نسبت میں یا شمول میں۔ نسبت میں مثلا دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلا میں کہتا ہوں جاءنی امیرالمؤمنین۔ میرے پاس حضرت امیرالمؤمنین تشریف لائے۔
سننے والے کے ذہن میں خیال آسکتا ہے کہ بھئی امیرالمؤمنین خود نہیں آئے ہوں گے، وہ تو بڑے مصروف آدمی ہیں، اور بڑے آدمی ہیں اور مصروف بھی ہیں، انہوں نے اپنے کسی خاص آدمی یا اپنے سیکرٹری کو بھیج دیا ہوگا۔ لیکن امیرالمؤمنین کا سیکرٹری یا خاص آدمی بھی آگیا تو یوں سمجھو کون آگیا؟ امیرالمؤمنین ہی آگئے۔ تو آئے تو امیرالمؤمنین نہیں ہیں، ان کا قریبی آدمی یا سیکرٹری آیا ہے، لیکن اس کو تعبیر کس سے کر دیا کہ کون آئے ہیں؟ امیرالمؤمنین۔
یہ اس جملہ سے وہم پیدا ہو سکتا ہے۔ کون سے جملہ سے؟ جاءنی امیرالمؤمنین۔ میرے پاس کون آئے؟ امیرالمؤمنین۔ سننے والے کے ذہن میں یہ وہم آسکتا ہے، لہذا میں جب یہ جملہ بولا تو میں نے ساتھ ہی اس وہم کو بھی ختم کر دیا اور میں نے یوں نہیں کہا جاءنی امیرالمؤمنین کیونکہ اس جملہ سے تو وہم آسکتا ہے، ہو سکتا ہے امیرالمؤمنین نہ آئے ہوں تو میں نے جملہ یوں بولا جاءنی امیرالمؤمنین امیرالمؤمنین۔
دو دفعہ امیرالمؤمنین کہا۔ یہ جو دوسری دفعہ امیرالمؤمنین آیا، اس نے پہلے امیرالمؤمنین کو پکا کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ جو امیرالمؤمنین کا لفظ میں نے بولا ہے، یہ کسی غلطی یا مجاز کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقت میں کون آئے تھے؟ امیرالمؤمنین۔
دیکھو اس میں مجاز کا بھی احتمال، ایک لفظ کا حقیقی معنی ہوتا ہے ایک مجازی معنی۔ حقیقی معنی مثلا شیر، شیر اردو میں کس کو کہتے ہیں؟ جنگلی درندے کو لیکن مجازاً کس کو کہہ دیتے ہیں؟ بہادر آدمی کو بھی۔ তো ایک لفظ کا حقیقی معنی آتا ہے اور ایک مجازی معنی۔ تو یہاں پر بھی امیرالمؤمنین کا حقیقی معنی تو کیا؟ امیرالمؤمنین کی اپنی ذات اور اس کا مجازی معنی کیا؟ کہ ان کا کوئی قریبی آدمی یا ان کا سیکرٹری مراد لے لیں اور اسی کو کیا کہہ دیں؟ امیرالمؤمنین تو یہاں پر اس میں مجاز کا بھی احتمال تھا کہ امیرالمؤمنین سے ہو سکتا ہے وہ نہ مراد ہوں بلکہ ان کا قریبی آدمی یا ان کا سیکرٹری مراد ہو۔ نیز غلطی کا بھی احتمال ہے۔ سننے والا سمجھے گا کہ شاید کہیں زبان سے غلطی سے امیرالمؤمنین کہہ دیا ہے، کوئی اور بڑا آدمی آیا ہوگا یا زید بکر وغیرہ کسی کی بات کرنے لگے تھے یہ، زبان سے کیا نکل آیا؟ غلطی سے امیرالمؤمنین نکل آیا۔
تو اس اس کلام میں غلطی کا بھی احتمال (یعنی سننے والا، سننے والا وہم کر سکتا ہے کہ شاید بولنے والے سے غلطی ہو گئی) یا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے تو جب میں نے دوسری دفعہ امیرالمؤمنین کا لفظ ساتھ ملا دیا اور یوں جملہ یوں کہا جاءنی امیرالمؤمنین امیرالمؤمنین تو اس دوسری دفعہ جو امیرالمؤمنین کا لفظ آیا، اس نے پہلے لفظ کو پکا کر دیا، اس کو پختہ کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ پہلی دفعہ چونکہ یہ جو امیرالمؤمنین کو میں نے ذکر کیا ہے، یہ غلطی سے نہیں کیا اور نیز یہ بتلا دیا کہ امیرالمؤمنین سے امیرالمؤمنین ہی مراد ہیں، ان کا کوئی قریبی آدمی یا سیکرٹری مراد نہیں۔
تو دیکھا جاءنی امیرالمؤمنین میں نے آنے کی نسبت کی ہے کس کی طرف؟ امیرالمؤمنین کی طرف۔ اس دوسرے امیرالمؤمنین نے اس نسبت کو پکا کر دیا۔
جہاں توجہ ہے؟ جاءنی امیرالمؤمنین میں نے آنے کی نسبت کس کی طرف کی؟ امیرالمؤمنین کی طرف۔ سننے والے کے ذہن میں آسکتا تھا کہ یہ کیا ہوئی ہے؟ غلطی، لیکن جب دوسرا امیرالمؤمنین میں لایا، اس نے غلطی کے وہم کو دور کر دیا، بتلا دیا کہ میں نے غلطی سے نہیں کہا، امیرالمؤمنین سے امیرالمؤمنین ہی مراد ہیں۔ یا سننے والے کے ذہن میں کیا آسکتا تھا؟ امیرالمؤمنین نہیں آئے ہوں گے، وہ تو بڑے مصروف آدمی ہیں، بڑے آدمی ہیں تو ہو سکتا ہے کون مراد ہو؟ ہو سکتا ہے ان کا قریبی آدمی یا سیکرٹری مراد ہو، لیکن جب میں دوسری دفعہ امیرالمؤمنین لایا، اس نے آکر پہلے امیرالمؤمنین کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔
بات سمجھ میں آگئی؟ کہ معلوم ہوا کہ یہ جو آنے کی نسبت امیرالمؤمنین کی طرف کی ہے کہ کون تشریف لائے ہیں؟ امیرالمؤمنین۔ یہ جو آنے کی اور تشریف لانے کی نسبت میں حضرت امیرالمؤمنین کی طرف کر رہا ہوں، یہ کوئی غلطی یا مجاز کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں امیرالمؤمنین ہی مراد ہیں۔ توجہ ہے؟ تو تاکید کسے کہتے ہیں؟
وہ تابع ہے، وہ تابع ہے جو مطبوع کو پکا کرے۔ کیا کرے؟ مطبوع کو پکا کرے۔ نسبت میں کس چیز میں؟ نسبت میں۔ کیسے؟ جاءنی امیرالمؤمنین یہ جاء کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ امیرالمؤمنین کی طرف۔ تو دیکھو ایک امیرالمؤمنین میں پہلے لایا، ایک دوسرا امیرالمؤمنین لایا، یہ پہلا امیرالمؤمنین ہے مطبوع اور دوسرا ہے تابع۔
یاد رکھو ایک ہی لفظ جب دو دفعہ ذکر کیا جائے، تو ثانی کو تاکید کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ تاکید کہتے ہیں اور پہلے کو کہیں گے مؤکد کیا کہیں گے؟ جیسے موصوف اور صفت تھے، اسی طرح یہاں مؤکد اور تاکید ہیں۔ جو اعراب مؤکد پر ہوتا ہے وہی اعراب تاکید پر بھی ہوتا ہے۔ تو جب میں نے کہا جاءنی امیرالمؤمنین امیرالمؤمنین دو دفعہ کہا تو پہلا امیرالمؤمنین وہ ہے مطبوع، یعنی وہ ہے مؤکد اور دوسرا امیرالمؤمنین وہ کیا ہے؟
تابع ہے اور وہ تاکید ہے۔
اور پہلے پر جو اعراب تھا امیرالمؤمنین، راء پر رفع تھا۔ اسی طرح ثانی میں بھی کیا ہے امیرالمؤمنین، راء پر رفع ہے۔ امیرالمؤمنین کی راء پر رفع ہے۔ اسی طرح ثانی میں بھی امیرالمؤمنین کی راء پر رفع ہے۔
تو یہ جو ثانی امیرالمؤمنین لایا، اس نے پہلے امیرالمؤمنین کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ کس چیز میں؟ یہ جو آنے کی نسبت ہو رہی تھی کس کی طرف؟ امیرالمؤمنین کی طرف۔ اس میں پکا کر دیا کہ اے امیرالمؤمنین ہی ہیں، ان کا کوئی قریبی آدمی یا ان کا سیکرٹری نہیں آیا۔
دیکھا، تو تاکید کسے کہتے ہیں؟
وہ تابع ہے، وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کو پکا کرے۔ کس چیز میں؟ نسبت میں یعنی جو نسبت مطبوع کی طرف ہو رہی ہے اس میں اس کو جاءنی، آئے، کون آئے؟
امیرالمؤمنین تو آنے کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ امیرالمؤمنین کی طرف۔ اس ثانی امیرالمؤمنین کے لفظ نے آکر پہلے امیرالمؤمنین کو پکا کر دیا کہ یہ جو آنے کی نسبت امیرالمؤمنین کی طرف ہو رہی ہے، یہ امیرالمؤمنین ہی کی طرف ہے، وہیں مراد ہیں، یہاں کوئی غلطی نہیں ہوئی۔
اور کبھی کبھار یہ جو تاکید ہے شمول کے اندر مطبوع کو پکا کرتی ہے۔ کبھی کبھار کیا کرتی ہے تاکید؟ شمول میں۔ پہلا کیا تھا کس میں پکا کیا تھا مطبوع کو؟ نسبت میں یعنی وہ جو فعل کی نسبت ہو رہی تھی اور اب شمول میں۔ دیکھو اس کی بھی وضاحت مثال سے ہوگی۔ مثلا میں آپ سے کہتا ہوں جاءنی القوم، آے میرے پاس وہ لوگ ایک خاص جماعت مثلا درجہ اولی والے مراد ہیں، درجہ اولی والے دس افراد ہیں، دس طلباء ہیں۔
تو میں نے کہا القوم دیکھو الف لام لایا ان کی طرف اشارہ ہے، وہ لوگ، وہ طلباء۔
تو میں نے کیا کہا؟ جاءنی القوم، میرے پاس وہ لوگ آئے۔
تو وہ لوگوں سے وہ کتنے افراد ہیں؟ 10۔ حقیقی معنی تو یہ ہے کہ دس کے دس آ گئے۔
حقیقی معنی کیا؟ دس کے دس آ گئے۔ لیکن عموماً بول چال میں جب اکثر، اکثر افراد آ جائیں تو بھی اس کو کل کے ساتھ تعبیر دیتے ہیں۔
مثلاً وہ تو ہیں 10، ان میں سے سات آے میرے پاس۔ چھ یا سات اور چھ اور سات کیا ہیں؟ آدھے سے زیادہ ہیں یعنی اکثر ہیں۔ کیا ہیں؟ اکثر ہیں۔ তো اکثر آدھے تو میں نے کہہ دیا کہ میں نے یوں ہی کہہ دیا کہ گویا سارے ہی آ گئے۔
توجہ ہے؟ یا دوسری مثال لے لو جاءنی طلبۃ الدرجہ
جانی طلبۃ الدرجۃ اولیٰ میرے پاس درجۂ اولیٰ والے طالب علم آئے اور درجۂ اولیٰ والے کتنے ہیں؟ مثلاً دس ہیں۔
تو اب سننے والے کے ذہن میں خیال آ سکتا ہے کہ دس کے دس نہیں آئے ہوں گے لیکن آدھے سے زیادہ یعنی اکثر آ گئے، چھ، سات یا آٹھ آ گئے اور اکثر آ گئے تو یوں سمجھو گویا سارے ہی آ گئے، اس لیے یوں کہہ دیا جانی طلبۃ الدرجۃ اولیٰ کہ درجۂ اولیٰ والے طلبہ آ گئے تو اس کے ذہن میں شک آ سکتا ہے کہ شاید سارے نہیں آئے ہوں گے، اکثر آ گئے ہوں گے۔
تو آگے میں آگے کُلھم کہہ دیتا ہوں، جانی طلبۃ الدرجۃ اولیٰ کُلھم سارے کے سارے، یہ کُلھم نے کیا کیا؟ ان درجۂ اولیٰ کے طلبہ کی یہ تاکید آ گئی، اس نے ان کو پکا کر دیا اور بتلا دیا کہ سارے مراد ہیں، اکثر مراد نہیں ہیں۔
یا میں کہتا ہوں جانی القوم، آئے میرے پاس وہ لوگ تو سننے والے کے ذہن میں خیال آیا کہ وہ دس کے دس نہیں آئے ہوں گے، چھ، سات یا آٹھ آ گئے ہوں گے یا نو آ گئے ہوں گے تو اس کو کس سب کے ساتھ تعبیر کر دیا۔ کس کے ساتھ؟ کہ وہ لوگ میرے پاس آئے تو اس کے ذہن میں خیال آ سکتا ہے کہ سارے نہیں آئے ہوں گے، اکثر آ گئے ہوں گے تو اس کو جانی القوم کہہ دیا، تو وہ آگے بولنے والا کیا کرتا ہے؟ وہ اس کا علاج ابھی سے کرتا ہے کہ کُلھم کا لفظ ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ بتلا دے کہ یہ جو میں نے القوم کا لفظ بولا اس سے اکثر مراد نہیں ہیں بلکہ ان کے سارے یعنی یہ ساروں کو شامل ہے، ساروں کو شامل ہے تو یہ دیکھا یہ شمول کا فائدہ دیا کس نے؟ کُلھم نے، جانی القوم کُلھم، آئے میرے پاس وہ لوگ، کُلھم سارے کے سارے۔
تو اس نے کس چیز کا فائدہ دیا یہ کُلھم نے؟ شمول کا کہ سارے افراد کو شامل ہے یعنی میں نے القوم کا لفظ بولا تھا، میں کیا لفظ بولا تھا؟ یا میں بولنا چاہتا ہوں تو سننے والے کے ذہن میں وہم آ سکتا ہے کہ القوم کا لفظ بولا وہ لوگ لیکن سارے نہیں مراد ہوں گے، کیا مراد ہوں گے؟ اکثر لیکن جب میں نے کُلھم اس کی تاکید ذکر کر دی تو اس نے کیا فائدہ دیا؟ شمول کا فائدہ دیا کہ یہ لفظ اپنے تمام افراد کو شامل ہے، کوئی بھی باقی نہیں، اکثر مراد نہیں ہے۔
یا رَب میں نے کہا جانی طلبۃ الدرجۃ اولیٰ، درجۂ اولیٰ والے میرے پاس آئے اور تو اور ساتھ کیا کہا؟ کُلھم، جانی طلبۃ الدرجۃ اولیٰ کُلھم یہ اس کُلھم نے کیا بتلایا؟ کہ یہ جو درجۂ اولیٰ والے طلبہ ذکر کیے، اس سے اکثر مراد نہیں ہے بلکہ یہ سارے افراد کو شامل ہے۔
یہ لفظ اپنے سارے افراد کو شامل ہے۔
تو جانی القوم کُلھم، اس کُلھم نے کیا فائدہ دیا؟ کہ القوم کا لفظ میں نے بولا، توجہ، القوم کا لفظ ہے متبوع اور کُلھم ہے اس کی تاکید یا یوں کہیں، القوم کا لفظ ہے مؤکد اور متبوع اور کُلھم کا لفظ ہے اس کی تاکید اور یہ اس کے تابع ہے۔
جو متبوع پر اعراب آتا ہے، وہی اعراب تابع پر بھی آتا ہے، تو القوم کا لفظ کیا؟ مؤکد اور کُلھم کا لفظ تاکید، اس کُلھم کے لفظ نے کیا فائدہ دیا؟ شمول کا، کس چیز کا؟ شمول کا۔
اس نے شمول کا فائدہ دیا، اس نے یہ بتلایا کہ یہ لفظ اپنے سارے افراد کو شامل ہے۔
یہ لفظ اپنے سارے افراد۔ القوم میں نے کیا بتایا؟ کہ بعض اوقات لفظ ذکر کیا جاتا ہے اور اکثر افراد مراد لے لیے جاتے ہیں، جانی القوم، وہ لوگ میرے پاس آئے، اکثر بھی آئے ہوں تو لوگ کہہ دیتے ہیں جانی القوم، میرے پاس وہ لوگ آئے تھے، آپ بھی یہاں بول چال میں استعمال کرتے ہیں۔
کسی جماعت میں سے یا کسی میں سے اکثر آ جائیں تو آپ کہتے ہیں وہ درجے والے آئے تھے یا فلاں لوگ آئے تھے، اکثر جب آ جائیں تو یہاں پر بھی سننے والے کے ذہن میں وہم آ سکتا ہے کہ القوم کا لفظ بولا اور یہ کتنے افراد کو شامل ہے؟ دس، لیکن دس کے دس نہیں آئے ہوں گے، چھ، سات یا آٹھ یا نو آ گئے ہوں گے، لیکن القوم کی تاکید کیا آئی؟ جانی القوم کُلھم، اس کُلھم نے کس کا فائدہ دیا؟ شمول کا، کس کا؟ شمول کا۔
کہ شمول کیا معنی؟ یہ بتلایا کہ یہاں القوم سے اس کے سارے افراد مراد ہیں، یعنی یہ اپنے سارے افراد کو شامل ہے، صرف اکثر کو نہیں، بلکہ سارے تو دیکھو یہ شمول کا فائدہ دیا۔
تو تاکید کسے کہتے ہیں؟ ایسا تابع جو اپنے متبوع کو پکا کرے کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں، توجہ ہے؟ تاکید ایسا تابع ہے، دہرابو بھئی زبان سے، تاکید ایسا تابع ہے جو اپنے متبوع کو پکا کرے، اس کو پختہ کرے، کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں۔
دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں دوم تاکید، توابع میں سے دوسرا جو ہے وہ تاکید ہے و وہ تابع ہے کہ حالِ متبوع را مقرر گرداند، کہ جو متبوع کی حالت کو مقرر گرداند، اس کو پکا کر دے، پکا کر دیتا ہے، اس کو مضبوط کر دیتا ہے، در نسبت، کس کے اندر؟ نسبت میں یا در شمول یا شمول میں، تا سامع را شک نماند، تاکہ سننے والے کو شک نہ رہے، تاکہ سننے والے کو شک نہ رہے۔
بھئی جیسے اگر میں صرف یہ کہتا جانی امیرالمؤمنین تو سننے والے کو شک ہو سکتا تھا کہ امیرالمؤمنین خود نہیں آئے ہوں گے، بلکہ ان کا قریبی یا سیکرٹری آیا ہوگا، لیکن دوسرا امیرالمؤمنین جب میں لایا، اس نے امیرالمؤمنین کو پکا کر دیا کہ امیرالمؤمنین سے امیرالمؤمنین ہی مراد ہیں، تو اور کس چیز میں پکا کیا؟ نسبت میں، نسبت میں، وہ جو نسبت آنے کی کی جا رہی تھی امیرالمؤمنین کی طرف، اس نسبت میں اس کو پکا کر دیا کہ امیرالمؤمنین سے امیرالمؤمنین ہی مراد ہیں۔
یا اپنے متبوع کو پکا کرے گا تاکید، کس چیز کے اندر؟ شمول میں، جہاں اس کے افراد زیادہ ہوں، مثلاً میں نے کہا جانی القوم، میرے پاس وہ لوگ آئے، سننے والے کو سننے والے کو شک ہو سکتا تھا کہ سارے نہیں آئے ہوں گے، بلکہ اکثر آئے ہوں گے، تو آگے کُلھم تاکید نے آ کر اس کے شک کو دور کر دیا اور بتلایا کہ القوم کا لفظ یہاں پر اپنے سارے افراد کو شامل ہے، یہاں اکثر مراد نہیں ہے، بلکہ سارے مراد ہیں۔
تو کہتے ہیں تاکید و وہ تاکید، تاکید وہ تابع ہے کہ حالِ متبوع را مقرر گرداند، جو متبوع کے حال کو، یعنی اس کی حالت کو پکا کر دیتا ہے، در نسبت یا در شمول، نسبت میں یا شمول میں، تا سامع را شک نماند، یہاں تک کہ سننے والے کو شک نہیں رہتا۔
و تاکید بر دو قسم است اور تاکید دو قسم پر ہے، لفظی و معنوی، ایک تاکید لفظی ہے اور ایک تاکید معنوی۔
یاد رکھو! تاکید لفظی یہ ہے کہ آپ بعینہ اسی لفظ کو دوبارہ لے آئیں، جانی امیرالمؤمنین امیرالمؤمنین، دیکھو اسی امیرالمؤمنین کے لفظ کو میں دوبارہ لے آیا، یہ ہے تاکید لفظی۔
کیا ہے؟ تاکید لفظی۔
اور تاکید معنوی، وہ آپ کو بتائیں گے اٹھ نو لفظ ہیں، کُل ہے، عین ہے، نفس ہے، کلا، کِلتا، اجمع، أبتع، أپصع وغیرہ، وہ الفاظ ہیں ان کے ساتھ ہوگی۔
تاکید کی کتنے قسمیں؟ دو، تاکید لفظی کسے کہیں گے؟ کہ وہی لفظ دوبارہ آ جائے اور تاکید معنوی، کچھ مخصوص لفظ ہیں جو آگے وہ ذکر کریں گے آٹھ، نو، ان کے ساتھ ہوتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ فائدہ وہی ہوگا، یا وہ نسبت میں تاکید پیدا کریں گے یا شمول میں۔
تو کہتے ہیں کہ تاکید بر دو قسم است، تاکید دو قسم پر ہے، لفظی و معنوی، ایک لفظی ہے اور ایک معنوی۔
تاکید لفظی بتکرار لفظ است، تاکید لفظی تکرار لفظ کے ساتھ ہے، تکرار کہتے ہیں ایک چیز کو دوبارہ لانا۔
جانی امیرالمؤمنین امیرالمؤمنین، امیرالمؤمنین، یہ دوسرے لفظ کو میں دوبارہ لایا، یہ ہے تاکید لفظی۔
کہتے ہیں تاکید لفظی بتکرار لفظ است، کہ تاکید لفظی جو ہے وہ لفظ کے تکرار کے ساتھ ہوتی ہے، چو زید قائم۔
اصل میں تو تھا زید قائم، لیکن میں نے کیا کہا؟ زید زید قائم، زید کا لفظ دو دفعہ لایا، اور کوئی بھی لفظ جب دو دفعہ لایا جائے، تو یہ جو دوسرا ہوتا ہے، یہ پہلے کی تاکید ہوتا ہے۔
یہ تو تھی اسم کی مثال، فعل کی مثال، ضرب ضرب زید۔
دیکھو وہی ضرب میں دوبارہ لے آیا، تو یہ جو ثانی ضرب ہے، یہ پہلے کی تاکید ہے۔
وانّ انّ زیداً قائم، یہاں دیکھو انّ دو دفعہ لے آئے، تو یہ دوسرا انّ پہلے کی تاکید ہے۔
بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ تاکید اسم میں بھی آتی ہے، فعل میں بھی اور حرف میں بھی۔
اگرچہ ہماری بحث یہاں اسم کی چل رہی ہے۔
کس کی؟ کیونکہ یہ جو توابع ہیں، یہ اسم کے اندر ہوتے ہیں۔
موصوف، صفت، مؤکد، تاکید، وغیرہ، یہ کس میں ہوں گے؟ اسم۔
تو بحث تو اسم کی چل رہی ہے، لیکن چونکہ تاکید کی بات آ گئی، اور تاکید تو فعل اور حرف میں بھی آتی ہے، تو ان کی بھی مثالیں ساتھ ہی ویسے سمجھانے کے لیے ذکر کر دیں۔
و تاکید معنوی بحثت لفظ است، اور تاکید معنوی جو ہے وہ آٹھ لفظوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
نفس و عین و کلا و کلتا و کل و اجمع و أقطع و أبصع و أوسع۔
یہ ذرا لفظوں کو گنیں بھئی، انہوں نے کہا تاکید معنوی آٹھ لفظوں سے ہوتی ہے، یہ لفظ گنیں ذرا کتنے ہیں؟ یہ نو ہیں۔
آپ کہیں گے انہوں نے ہمیں آٹھ کہا اور گنوا دیے نو۔
یاد رکھو اس میں کلا اور کلتا کو ایک شمار کرو، کیونکہ کلا اور کلتا ایک ہی چیز ہیں، بس صرف ایک مذکر کے لیے ہے اور ایک مؤنث کے لیے، کلا مذکر کے لیے اور کلتا مؤنث کے لیے، تو ان کو ایک شمار کرو تو باقی پھر سارے ملا کر آٹھ ہو جائیں گے۔
بھئی۔
تو یہ آٹھ لفظ ہیں، ایک نفس، نفس کا لفظ ہے، و عین، عین ہے، و کلا و کلتا، و کلّ اور کلّ کا لفظ ہے، و اجمع، و أقطع، و أبصع، و أوسع، چو جاء نی زید نفسہ۔
جانی زید آیا میرے پاس زید۔
نفسہ خود۔
میرے پاس زید خود آیا، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ جانی زید نفسہ۔
میرے پاس زید خود آیا۔
جی، ترکیب کیجیے۔
جاؤ، فعل، نون، وقایہ، یا ضمیر، منصوب، محلاً، مفعول بہ، زید، مرفوع، لفظاً، مؤکد، کیونکہ آگے تاکید آ رہی ہے، مؤکد۔
مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، شاباش۔
اچھا، نفسہ، نفس، مرفوع، لفظاً، مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ تاکید ہے، اور تاکید کا وہی اعراب جو کس کا ہو؟ مؤکد کا۔
البتہ زید پر تنوین آئی تھی، اس پر تنوین نہیں، کیونکہ یہ مضاف ہے اور مضاف پر تنوین نہیں آتی۔
تو نفس، مرفوع لفظاً، مضاف، ہا ضمیر، مجرور، محلاً، مضافالیہ، کس کو راجع؟ زید کو۔
تو ہا ضمیر، زید کو راجع، مضاف اپنے مضافالیہ سے مل کر، تاکید۔
مؤکد، تاکید، مل کر فاعل ہوا جائہ کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
یہ نفسہ پر رفع کیوں آیا؟ کیونکہ یہ تاکید ہے، اور تاکید پر وہی اعراب آتا ہے جو مؤکد پر۔
ترجمہ کریں، جانی زید نفسہ۔
میرے پاس زید خود آیا۔
بھئی! میں اکیلا اگر کہتا جانی زید، میرے پاس زید آیا۔
تو سننے والے کو شک ہو سکتا تھا کہ بھئی! زید تو بڑا آدمی ہے، وہ نہیں آیا ہوگا، اس نے اپنے کسی سیکرٹری کو بھیج دیا ہوگا۔
تو جب نفسہ کہہ دیا، اس نفسہ نے کیا بتلایا؟ خود آیا ہے، تو یہ اسی کی تاکید ہے، اس نے، یہ جو آنے کی نسبت زید کی طرف ہو رہی تھی، اس نسبت میں نفسہ نے کیا کیا؟ زید کو پکا کر دیا۔
تو یہاں میں یوں کہہ دوں جانی زید زید، اس کا بھی یہی معنی، اور جانی زید نفسہ، اس کا بھی وہی معنی۔
ہے۔
لیکن وہی لفظ اگر دوبارہ لاؤ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید لفظی، اور یہ نفسہ کا لفظ لے کر آئے، یہ تو وہی لفظ نہیں ہے، تو اس کو کہیں گے تاکید معنوی۔
معنی کے اعتبار سے یہ وہی ہے۔
نفسہ سے کیا مراد ہے؟ نفسِ زید۔
نفسہ، ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو۔
تو زید اور نفسِ زید ایک ہی چیز ہے یا نہیں؟ زید اور ذاتِ زید دونوں ایک ہی چیز ہیں۔
تو یہ اسی کو پکا کر رہا ہے، لیکن لفظ الگ ہیں۔
دوسرا لفظ زید نہیں ہے، دوسرا کیا ہے؟ نفسہ ہے، تو اس کو تاکید لفظی نہیں کہیں گے، بلکہ کیا کہیں گے؟ تاکید معنوی۔
ایک اور جملہ میں آپ کے سامنے بولتا ہوں۔
ذرا اس کی ترکیب مجھے بتاؤ۔
ضربتو۔
زیدا۔
اور اس کی تاکید لے آؤ، نفس کے ساتھ۔
ضربتو۔
زیدا۔
نفسہ۔
جی؟ شاباش، نفسہ، یہ نفسا پر زبر کیوں پڑا آپ نے نفسہ؟ کیونکہ یہ زیداً کی کیا ہے؟ تاکید، اور تاکید پر وہی اعراب ہوتا ہے جو کس پر ہو؟ مؤکد پر ہو۔
تو یہاں زیداً منسوب تھا، تو نفسہ بھی منسوب۔
چلیے میرا خیال بس کرتے ہیں، باقی انشاءاللہ اگلے سبق میں پڑھ لیں گے۔
حاصل کلام یہ کہ آج آپ نے تاکید کے بارے میں پڑھا۔
انہوں نے بتلایا کہ تاکید بھی تابع ہے، یعنی اس پر بھی وہی اعراب آتا ہے جو ماقبل پر ہوتا ہے اور ایک ہی جہت سے وہ اعراب آتا ہے دونوں پر، متبوع پر بھی اور تابع پر۔
تو تاکید وہ تابع ہے جو اپنے متبوع کو پکا کرے، اس کو پختہ کرے، کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں۔
نسبت میں کیا معنی؟ یعنی جس چیز کی نسبت متبوع کی طرف ہو رہی ہے، وہاں وہ متبوع ہی مراد ہے، اس کا کوئی قریبی وغیرہ مراد نہیں۔
یا وہ اپنے متبوع کو پکا کرے گا، کس چیز میں؟ شمول میں، یعنی یہ بتلائے گا کہ جو متبوع ہے، اس کے سارے افراد مراد ہیں، اکثر افراد مراد، جانی القوم کُلھم، تو القوم کا لفظ لایا، مثلاً دس افراد ہیں، فرض کرو دس افراد، تو القوم سے سننے والا کو، سننے والے کو شک ہو سکتا تھا کہ سارے نہیں مراد ہوں گے، اکثر مراد ہوں گے، لیکن آگے کُلھم تاکید نے آ کر بتلا دیا کہ القوم اپنے تمام افراد کو شامل ہے، صرف اکثر افراد کو شامل نہیں ہے۔
تو تاکید وہ تابع ہے جو اپنے متبوع کو پکا کرے، اس کو پختہ کرے، کس چیز میں؟ نسبت میں یا شمول میں، اور اس کی کتنی قسمیں؟ دو، ایک تاکید لفظی ہے اور ایک تاکید معنوی۔
تاکید لفظی کسے کہتے ہیں؟ کہ یہ اسی لفظ کو دوبارہ لے آئیں، جانی زید زید، اور تاکید معنوی کسے کہتے ہیں؟ کہ کچھ آٹھ، نو الفاظ ہیں، ان کو لے آئیں، تو یہ بھی معنی کے اعتبار سے چونکہ اسی کی طرح ہیں، اسی کو پکا کر رہے ہیں، اس لحاظ سے اس کو تاکید لفظی نہیں کہتے، بلکہ اس کو تاکید معنوی کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔