دیکھیے بھئی کتاب پر سبق۔
قسم دوم، مجهول: بدان کہ فعل مجهول بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند و باقی را بنصب، چوں ضرب زید یوم الجمعۃ امام الامیر ضربا شدیدا فی دارہ تادیبا والخشبۃ۔
و فعل مجهول را فعل ما لم يسم فاعله گویند و مرفوعش را مفعول ما لم يسم فاعله گویند۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ حال جو ہے فاعل یا مفعول کی یا دونوں کی حالت بیان کرتا ہے، اور حال جو ہے وہ نکرہ ہوتا ہے، جبکہ ذوالحال اکثر معرفہ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار ذوالحال بھی نکرہ آ جاتا ہے۔ اس صورت میں حال کو ذوالحال پر مقدم کرنا واجب ہے، اس لیے کہ بعض صورتوں کے اندر موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہے۔ تو حال کو جب مقدم کر دیں گے تو پھر موصوف صفت ہونے کا شبہ نہیں پڑے گا، اس لیے کیونکہ صفت کبھی بھی موصوف پر مقدم نہیں ہوتی۔
نیز پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ حال کبھی کبھار جملہ بھی واقع ہوتا ہے، اور حال جب جملہ واقع ہو تو اس کا ربط ذوالحال کے ساتھ ضروری ہے، اور وہ ربط کبھی واؤ کے ذریعے دیتے ہیں، کبھی ضمیر کے ذریعے، اور کبھی دونوں کے ذریعے ربط دیتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ جملہ من حیث الجملہ مستقل ہے، اس میں بات پوری ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن اگر اس کو کسی سے جوڑنا پڑ جائے تو پھر درمیان میں ربط ضروری ہے۔ جیسے ریل گاڑی کا انجن ہے اور اس کے ڈبے ہیں، درمیان میں ربط ضروری ہے۔ تو جملے کو جس چیز سے بھی جوڑیں، درمیان میں ربط ضروری ہے۔
اور ربط عموماً غائب کی ضمیر کے ذریعے دیا جاتا ہے جو اس چیز کی طرف لوٹ رہی ہو جس کے ساتھ آپ جملے کو جوڑ رہے ہیں۔ تو یہ جملہ کبھی کبھار خبر بنتا ہے، اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو اس جملے میں ایک ضمیر ہونی چاہیے جو مبتدا کو لوٹے۔ اور جملے کو کبھی کبھار جو ہے وہ صفت بناتے ہیں نکرہ کے لیے، تو اس صورت میں جب جملہ صفت بن رہا ہو، صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں، تو اس جملے میں کوئی ضمیر چاہیے جو موصوف کی طرف لوٹے۔ اسی طرح جملہ جو ہے وہ حال بنتا ہے، تو حال کو ذوالحال سے جوڑنا پڑتا ہے، تو درمیان میں ربط چاہیے۔ اور کبھی جملہ جو ہے وہ صلہ بنتا ہے، تو صلہ کو موصول کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تو اس جملے میں کوئی ضمیر چاہیے جو موصول کی طرف لوٹے۔
اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ضمیریں تین قسم کی ہیں: متکلم، مخاطب، اور غائب۔ کچھ متکلم کی ضمیریں ہیں، کچھ مخاطب کی ضمیریں ہیں، اور کچھ غائب کی۔ اور مرجع صرف کس کا ہوتا ہے؟ غائب کی ضمیر کا۔ غائب کی ضمیر کا، کیونکہ مثلاً بولنے والا "أنا" یا "نحن" کہے، تو وہاں کوئی اشتباہ نہیں، سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ یہ بولنے والا اپنی بات کر رہا ہے۔ اور بولنے والا جب "أنت" یا "أنتما" یا "أنتم" کہے، تو وہاں بھی کوئی اشتباہ نہیں، سننے والے سب جانتے ہیں کہ یہ ہم سے خطاب کر رہا ہے اور "أنت" یا "أنتما" یا "أنتم" سے ہم مراد ہیں۔ تو مخاطب اور متکلم دونوں ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں، وہاں کسی قسم کا اشتباہ نہیں، لہٰذا مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا۔
ہاں البتہ غائب کی ضمیر ہے "هو" ہے یا "هما" ہے، اس کا معنی ہے "وہ"، تو "وہ" سے کون مراد ہے؟ زید، عمر، بکر، یا خالد؟ تو اس کے لیے پھر مرجع چاہیے۔ تو غائب کی ضمیر، پہلے ہمیشہ اس کا کیا ذکر ہوتا ہے؟ مرجع، اس کے بعد ضمیر ذکر ہوتی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "میرے پاس زید آیا تھا، پھر میں نے اس کا اکرام کیا"۔ دیکھو "اس کا اکرام کیا"، آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے؟ کس کا اکرام کیا؟ زید کا۔ تو ایک دفعہ زید آ گیا اور اس کا ذکر ہو گیا، تو پھر بعد میں اس کے لیے غائب کی ضمیر استعمال کی جاتی ہے۔ تو یہ جو "اس" ہے، یہ اردو میں ضمیر ہے بھئی ضمیر ہے۔
تو جملہ کبھی کبھار، جملہ کبھی کبھار خبر بنتا ہے، کبھی صفت بنتا ہے، کبھی حال بنتا ہے، اور کبھی صلہ۔ تو جس چیز سے بھی جوڑنا ہو، درمیان میں ربط ضروری ہے۔ اس کے بعد تمیز کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تمیز وہ اسم ہے جو مقدار سے ابہام کو دور کرے، اور وہ مقداریں ذکر کی تھیں کہ کبھی کبھار وہ مقدار عدد ہوگا جس سے تمیز ابہام کو دور کرے گی، کبھی وہ وزن ہوگا، کبھی کیل ہوگا، اور کبھی کبھار مساحت ہوگی۔ تو تمیز آ کر اس سے ابہام کو دور کر دے گی۔
اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو تمیز جو مقدار سے ابہام کو دور کرے، اس کے اندر یہی ممیز عامل ہوتا ہے۔ "عندي أحد عشر درهما"، میں نے بتایا تھا یہ "أحد عشر" یا اسی طرح جو بھی چیز ہو جس مقدار سے بھی تمیز ابہام کو دور کرے، اس کو ممیز کہتے ہیں اور آگے تمیز آتی ہے۔ تو تمیز جو ہے جس چیز سے ابہام کو دور کرے اس کو ممیز کہتے ہیں۔ اور یہ جو ممیز ہوتا ہے یہی عامل ہوتا ہے تمیز کے اندر۔
تو یہاں اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو بات چل رہی ہے فعل کے عمل کی، تو وہ تمیز جو مقدار سے ابہام کو دور کرے اس کے اندر تو فعل عامل نہ ہوا۔ تو جواب میں نے بتلایا کہ ہاں واقعی اس کے اندر فعل عامل نہیں ہے۔ فعل صرف اس پہلی قسم کے اندر عامل تھا، وہ تمیز جو نسبت سے ابہام کو دور کرے، وہ جو فعل کا اسناد ہو رہا ہے فاعل کی طرف۔ "طاب زيد نفسا"، زید اچھا ہے، زید خوش ہوا کس اعتبار سے؟ نفس کے اعتبار سے۔ بھئی یاد رکھو، یہ جو تمیز نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے، وہ جو فعل کی نسبت ہو رہی ہو فاعل کی طرف، تو وہاں تمیز جو ہے وہ فاعل کے درجے میں ہوتی ہے۔ مثلاً "طاب زيد نفسا"، "طاب" کا اسناد ہے "زيد" فاعل کی طرف، اور اس نسبت میں ابہام تھا کہ زید اچھا ہے، کس اعتبار سے اچھا ہے؟ تو وہاں "نفسا" نے آ کر ابہام کو دور کیا، تو اس کے اندر عامل فعل ہوتا ہے۔ اس "نفسا" کو نصب کس نے دیا؟ "طاب" نے۔ اور بات بھی فعل کے عمل کی چل رہی ہے، تو یہاں تو بات ٹھیک ہو گئی، لیکن مقدار کے اندر جو ہے وہ تمیز جو ہے، وہاں جو تمیز مقدار سے آتی ہے وہاں فعل عامل نہیں ہوتا۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ مصنف، کہ یہ تمیز کی بحث بڑی پیچیدہ اور مشکل ہے، تو مصنف نے کچھ تھوڑی سی تفصیل وہاں بیان کر دی کہ کبھی کبھار تمیز جو ہے وہ نسبت سے ابہام کو دور کرتی ہے اور اس کے اندر فعل عامل ہوتا ہے۔ اور پھر آگے مزید تفصیل بیان کی کہ تمیز کی ایک قسم وہ ہے جو مقدار سے ابہام کو دور کرتی ہے اور وہ دوسری قسم آ گئی۔ پھر مزید آگے بھی ایک دو جگہ پر وہ تمیز کی تھوڑی سی بات کریں گے، کیونکہ تمیز کی بحث بڑی مشکل ہے۔
تو یہاں میں نے آپ کو بتلایا کہ وہ تمیز جو نسبت سے ابہام کو دور کرے، وہ جو فعل کی نسبت ہو رہی ہے فاعل کی طرف، تو اس سے جو تمیز ابہام کو دور کرے وہ فاعل کے درجے میں ہوتی ہے۔ "طاب زيد"، یہ "طاب" کی نسبت تھی زید کی طرف، اچھا ہوا یا اچھا ہے یا خوش ہوا، کون خوش ہوا؟ زید۔ آگے کس اعتبار سے؟ تو آگے "نفسا" نے آ کر ابہام کو دور کر دیا۔ یاد رکھو، یہ جو تمیز جو فعل کی فاعل کی طرف نسبت ہو، اس سے آ کر ابہام کو دور کرے، یہ تمیز فاعل کے درجے میں ہوتی ہے۔ کس کے درجے میں؟ فاعل کے درجے میں۔ تو "طاب زيد"، زید خوش ہوا کس اعتبار سے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ تو یہ تمیز نے ابہام کو دور کیا کس چیز سے؟ جو فعل کا اسناد ہو رہا تھا فاعل کی طرف۔ تو یہ تمیز خود فاعل کے درجے میں ہے، تو ترجمہ یوں کریں گے: زید کی ذات خوش ہوئی۔ زید کی ذات خوش ہوئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ مفعول بہ وہ اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے۔ اور یہ جو منصوبات ہیں، یہ مسند اور مسند الیہ کے بعد آتے ہیں۔ یہ نہ کلام کے اندر مسند بنتے ہیں اور نہ مسند الیہ، اس لیے ان منصوبات کو فضلہ کہتے ہیں۔ فضلہ کا معنی زائد چیز، یعنی ان کو آپ ذکر کریں یا نہ کریں بات پوری ہے۔ ہاں، ان کو ذکر، ان کا ذکر بیکار بھی نہیں ہے، ان کو ذکر کریں گے تو فائدہ اور بڑھ جائے گا۔ لیکن بہرحال بات یہ ہے کہ ان کے بغیر بھی کلام پورا ہو جاتا ہے، کیونکہ فعل مسند ہوتا ہے اور فاعل یا نائب فاعل مسند الیہ، اور باقی جو منصوبات ہیں وہ زائد ہیں، ان کو ذکر نہ بھی کریں تو کلام پورا ہو چکا، کیونکہ کلام کے لیے ایک مسند کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک مسند الیہ کی۔ تو اس لیے ان کو فضلہ کہتے ہیں۔
اس کے بعد اگلی فصل میں انہوں نے بتایا تھا کہ فاعل جو ہے وہ دو قسم پر ہے: کبھی اس میں ظاہر فاعل بنتا ہے اور کبھی ضمیر جو ہے وہ فاعل بنتی ہے۔ پھر وہ ضمیر جو ہے کبھی بارز ہوتی ہے اور کبھی مستتر ہوتی ہے۔ اس سے پہلے آپ نے پڑھا تھا کہ مونث دو قسم پر ہے: ایک مونث حقیقی اور ایک مونث غیر حقیقی۔ مونث حقیقی اسے کہتے ہیں جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود ہو، جیسے "امرأة"، یہ مونث حقیقی ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں "رجل" موجود ہے۔ "امرأة" کا معنی عورت اور "رجل" کا معنی مرد۔ اسی طرح "ناقة"، یہ ہے مونث حقیقی، کیونکہ اس کے مقابلے میں "جمل" موجود ہے۔ "ناقة" کا معنی ہے اونٹنی اور "جمل" کا معنی ہے اونٹ۔ تو دیکھو، جس مونث کے مقابلے میں مذکر حیوان موجود ہو اسے مونث حقیقی کہتے ہیں۔ اور جس مونث کے مقابلے میں مذکر حیوان موجود نہ ہو، اسے مونث غیر حقیقی کہتے ہیں، جیسے "شمس"۔ "شمس" کا لفظ عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے۔ "أرض"، "أرض" زمین کو کہتے ہیں، یہ بھی عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے۔ "دار"، "دار" گھر کو کہتے ہیں، عربی میں یہ بھی مونث استعمال ہوتا ہے۔ اور اسی طرح جیسے یا جیسے "ظلمة"، اس کے آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہے، تو یہ بھی مونث ہے۔ لیکن ان کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان نہیں، تو ان کو مونث غیر حقیقی کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ مونث غیر حقیقی۔
اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ فعل کا فاعل، جب فعل کا فاعل مونث حقیقی ہو تو فعل کو مونث رکھیں گے۔ جیسے آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ ہند نے پٹائی کی۔ ہند میں نے بتلایا مونث نام ہے، عورتوں کا نام ہے جو عرب میں عام استعمال ہوتا تھا۔ آپ کہنا چاہتے ہیں ہند نے پٹائی کی، تو آپ کہیں گے "ضربت هند"۔ ہند کیا ہے اس میں؟ اسم ظاہر۔ اور اسم ظاہر جب بھی فاعل بنے، فعل یا پہلا صیغہ لائیں گے یا چوتھا صیغہ۔ پہلا صیغہ ہے مذکر کا اور چوتھا صیغہ ہے مونث کا۔ تو اگر فاعل مونث حقیقی ہے تو فعل کو مونث لائیں گے۔ اب "ضرب هند" نہیں کہہ سکتے آپ، بلکہ کیا کہیں گے؟ "ضربت هند"۔
اور ہاں، اگر درمیان میں فصل آ گیا، یہ "ضربت" اور "هند" کے درمیان، مثلاً "اليوم" کا لفظ آپ لے آتے ہیں، "اليوم" کا معنی ہے آج۔ تو پھر، پھر فعل کو مذکر لانا بھی صحیح اور مونث لانا بھی صحیح۔ فاعل جب مونث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فصل ہو، یعنی کوئی اور لفظ بھی آ جائے، تو پھر فاعل بے شک مونث حقیقی ہے، لیکن چونکہ فصل آ گیا، فاعل فعل سے دور چلا گیا، اب فعل کو مذکر لانا بھی جائز اور مونث لانا بھی جائز۔ جیسے "ضرب هند"، یہ کہنا جائز نہیں، کیونکہ فعل فاعل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اور "ضربت هند" کہیں گے۔ لیکن درمیان میں فصل آ گیا، "اليوم" کا لفظ لے آئیں۔ اب دونوں کہہ سکتے ہیں: "ضرب اليوم هند" اور "ضربت اليوم هند"، دونوں طرح کہہ سکتے ہیں۔
"ضربت اليوم"، اس میں دیکھو "ضربت" کی تا بھی ساکن، اور آگے "اليوم" میں، "اليوم" الف لام، اس میں یہ جو ہمزہ ہے، شروع میں جو الف ہے، یہ گر جاتا ہے۔ تو "ضربت" کی تا بھی ساکن، اور آگے لام بھی ساکن، "اليوم" کا لام بھی ساکن، ہمزہ تو گر گیا۔ تو اجتماع ساکنین ہوا، دو ساکن جمع ہو گئے۔ اور جب بھی دو ساکن جمع ہو جائیں، تو یاد رکھیے اس صورت میں اگر اول حرف مدہ ہو، یعنی الف، واؤ، اور یا، اور ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو، یعنی الف سے پہلے زبر، یا واؤ سے پہلے پیش، یا یا سے پہلے زیر۔ تو پھر اس صورت میں اگر دو، اگر دو ساکن جمع ہو جائیں اور اول حرف مدہ ہو، یعنی ایسا الف یا جس سے پہلے زبر ہو، یا ایسا واؤ جس سے پہلے پیش ہو، یا ایسی یا جس سے پہلے زیر ہو۔ تو اس صورت میں حرف مدہ کو گرا دیتے ہیں۔ حرف مدہ کو گرا دیتے ہیں۔
جیسے "اليوم" ہے، اس پر "في" کا لفظ داخل کریں، "في" اور آگے ہے "اليوم"، ہمزہ گر گیا۔ اب "في" کی یا بھی ساکن اور "اليوم" کا لام بھی ساکن، دو ساکن جمع ہو گئے، درمیان والا ہمزہ یعنی الف گر گیا۔ اور دو ساکنوں میں سے پہلے جو پہلا ساکن کیا؟ یا ہے، اور وہ حرف مدہ ہے کیونکہ یا سے ماقبل فا پر زیر ہے۔ تو اس صورت میں یا کو گرا دیں گے، اور کیسے پڑھیں گے؟ "في اليوم"۔ پڑھنا تو چاہیے "في اليوم"، یا کو بھی پڑھنا چاہیے، لیکن اجتماع ساکنین میں جب اول حرف مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ "في اليوم"۔ اب فا کے نیچے آپ زیر تو پڑھ رہے ہیں، لیکن یا کو گرا دیا ہے، "في اليوم"۔
اور اگر دو ساکن جمع ہو جائیں، اجتماع ساکنین آئے اور ان میں سے پہلا حرف مدہ نہ ہو، تو پھر اس کو عموماً کسرہ کی حرکت دے دیتے ہیں۔ تو "ضربت" اور "اليوم"، اب تا اور لام جمع ہو گئے، تو تا کو کسرہ دے دیں گے: "ضربت اليوم هند"۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ "ضربت اليوم هند"۔
اور اگر فاعل مونث غیر حقیقی ہو یا جمع مکسر ہو، تو پھر دونوں چیزیں جائز، فعل کو مذکر لانا بھی جائز اور مونث لانا بھی جائز۔ آپ کہنا چاہتے ہیں: سورج طلوع ہوا، تو آپ مذکر فعل بھی لا سکتے ہیں اور مونث بھی، کیونکہ شمس مونث ہے، لیکن مونث غیر حقیقی ہے۔
چنانچہ آپ کہہ سکتے ہیں طلَع الشمسُ اور آپ مؤنث فعل بھی لا سکتے ہیں طلعتِ الشمسُ اور اگر آپ اسی طرح جمع مکسر لے آئیں فاعل وہاں بھی دونوں طرح فعل کا لانا جائز ہے، مذکر بھی اور مؤنث بھی جیسے الرجالُ، یہ جمع ہے رجل کی، جمع مکسر ہے، اس کو فاعل بنایا تو مذکر فعل بھی لا سکتے ہیں اور مؤنث بھی، ضرب الرجالُ اور ضربتِ الرجالُ، دونوں طرح کہنا صحیح۔
اور اگر آپ فاعل ضمیر کو بنانا چاہتے ہیں جو مؤنث کی طرف لوٹ رہی ہے، توجہ ہے؟ انہوں نے آپ کو بتلا دیا اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو اور درمیان میں فصل نہ ہو تو پھر فعل کو مؤنث لائیں گے اور اگر درمیان میں فصل ہو تو فعل کو مذکر لانا بھی جائز اور مؤنث لانا بھی جائز، جبکہ فاعل مؤنث غیر حقیقی ہو پھر چاہے فصل ہو چاہے فصل نہ ہو دونوں صورتوں میں فعل کو مذکر لانا بھی جائز اور مؤنث لانا بھی جائز، لیکن اگر فاعل مؤنث ہے اور وہ پہلے گزر چکا ہے اب آپ ضمیر اس کی طرف لوٹانا چاہتے ہیں یعنی فعل کے لیے ضمیر کو فاعل بنانا چاہتے ہیں اور وہ ضمیر کسی مؤنث کی طرف لوٹے گی چاہے وہ مؤنث حقیقی ہو چاہے مؤنث غیر حقیقی، جب ضمیر لوٹانی ہے تو پھر فعل کو مؤنث ہی لانا پڑے گا یعنی مؤنث ہی کی ضمیر لوٹا سکتے ہیں مذکر ضمیر نہیں لوٹا سکتے، لہٰذا الشمسُ طلعت، دیکھا الشمس مقدم ہو گیا اور طلعت کے اندر میں ضمیر لوٹانا چاہتا ہوں شمس کو تو شمس تو مؤنث غیر حقیقی ہے اور مؤنث غیر حقیقی جب فاعل بنتا تھا فعل کو مذکر لانا بھی جائز تھا اور مؤنث لانا بھی جائز، لیکن جب اس کی طرف ضمیر لوٹانی ہے پھر مؤنث ہی کی ضمیر لوٹانا پڑے گی مذکر کی نہیں لوٹا سکتے، لہٰذا الشمسُ طلَع یہ نہیں کہہ سکتے بلکہ کیا کہنا پڑے گا؟ الشمسُ طلعت بھئی، طلعت کے اندر ہِیَ ضمیر ہے جو شمس کو راجع ہے، الشمسُ طلعت۔ اور اسی طرح ہندٌ ضربت، دیکھا ہند مؤنث ہے اس کی طرف ضمیر لوٹانا چاہتے ہیں تو پھر مؤنث ہی کی ضمیر لوٹانا پڑے گی۔
اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ فاعل اگر مذکر ہو، فاعل اگر مذکر ہو جمع کے علاوہ تو پھر فعل کو مذکر رکھتے ہیں، فاعل اگر کیا ہو؟ مذکر ہو جیسے رجل ہے اس کو آپ فاعل بنانا چاہتے ہیں اور جمع کے علاوہ ہو یعنی جمع نہ ہو، جمع مکسر کا تو حکم بتا دیا کہ اس کے اندر فعل کو مذکر لانا بھی جائز اور مؤنث لانا بھی جائز، لیکن اگر فاعل مذکر ہے اور جمع کے علاوہ ہے پھر فعل کو ہمیشہ مذکر ہی لائیں گے، ضرب الرجلُ کہہ سکتے ہیں ضربتِ الرجلُ نہیں کہہ سکتے، اسی طرح اگر جمع ہے لیکن جمع مذکر سالم ہے، جمع مذکر سالم ہے، مسلمون، تو پھر وہاں بھی فعل کو ہمیشہ مذکر لائیں گے، عام جمع میں تو جائز تھا فعل چاہے مذکر لاؤ چاہے مؤنث، ضرب الرجالُ کہنا بھی صحیح اور ضربتِ الرجالُ کہنا بھی صحیح، لیکن اگر آپ المسلمون کو فاعل بنانا چاہتے ہیں پھر فعل کو مذکر ہی لانا پڑے گا مؤنث نہیں لا سکتے، ضرب المسلمون کہیں گے ضربتِ المسلمون نہیں کہہ سکتے، کیوں؟ وجہ کیا؟ کہ المسلمون کے اندر واؤ آ رہی ہے اور یہ واؤ جمع مذکر کی علامت ہے تو جب جمع مذکر کی علامت لفظوں میں موجود ہے فاعل کے اندر تو فعل کو بھی مذکر ہی لائیں گے مؤنث نہیں لائیں گے ورنہ تو دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، آپ فعل مؤنث لے آئیں اور آگے فاعل کے اندر مذکر والی علامت ہو یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتے، لہٰذا جب جمع مذکر سالم فاعل ہو تو فعل کو ہمیشہ مذکر رکھیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی، قسم دوم مجہول: بداں کہ فعلِ مجہول بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند و باقی را بنصب چون ضُرب زیدٌ یوم الجمعۃِ امام الامیرِ ضرباً شدیداً فی دارہِ تادیباً والخشبۃَ۔
بھئی انہوں نے جب یہ باب شروع کیا تھا، باب دوم در عمل افعال، وہاں انہوں نے بتایا تھا کہ افعال جو ہیں اعمال کے اعتبار سے دو قسم پر ہیں، قسم اول معروف، پہلی قسم کیا تھی؟ فعل معروف، اب دوسری قسم کا آ گیا ذکر، قسم دوم مجہول، فعل کی دوسری قسم کیا ہے؟ فعل مجہول، بداں کہ فعلِ مجہول بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند تو جان لے کہ فعل مجہول جو ہے بجائے فاعل، وہ فاعل کے بجائے مفعول بہ را برفع کند مفعول بہ کو رفع دیتا ہے فعل مجہول فاعل کو رفع نہیں دیتا بلکہ مفعول بہ کو رفع دیتا ہے اور پھر اس کو نائب الفاعل کہتے ہیں، دیکھو اس جملے پر ذرا غور کرنا: ضرب زیدٌ عمراً، ضرب فعل معروف ہے اور فعل معروف کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ فاعل کی طرف، تو زیدٌ یہاں پر فاعل ہے اور اسی لیے ہم اس پر رفع پڑھ رہے ہیں کیونکہ فاعل پر رفع آتا ہے، اور عمراً مفعول ہے، اب فعل معروف کا اسناد فاعل کی طرف تھا، اب ہم اس کو فعل مجہول بنانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ ضرب کی جگہ فعل مجہول لے آؤ ضُرب، اور فاعل کو حذف کر دو بھئی، فعل مجہول کے لیے فاعل کو ذکر نہیں کرتے تو زیدٌ کو حذف کر دیا اور آگے عمراً منصوب تھا اس کو اب زیدٌ کی جگہ لے آؤ اور زیدٌ پر رفع تھا تو عمروٌ پر بھی کیا پڑھو؟ رفع، اب ضُرب کا اسناد عمروٌ کی طرف ہو گیا اور یوں کہیں گے: ضُرب عمروٌ، ضُرب عمروٌ، دیکھا یہ عمروٌ مفعول بہ تھا اس کی طرف ضُرب فعل مجہول کا اسناد کر دیا گیا اور فاعل کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا، ضُرب عمروٌ ترجمہ کریں: عمرو کی پٹائی ہوئی، عمرو کی پٹائی کی گئی، پہلے کیا تھا؟ ضرب زیدٌ عمراً، پٹائی کی، کس نے کی؟ زید نے، اور کس کی کی؟ عمرو کی، فاعل کا پتہ تھا کہ پٹائی کرنے والا کون ہے، فعل مجہول میں فاعل کا پتہ نہیں ہوتا، ضُرب عمروٌ، کیا ترجمہ؟ عمرو کی پٹائی کی گئی، کس نے کی؟ کوئی پتہ نہیں، فعل مجہول لایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ فاعل کا بتلانا مقصود نہیں ہوتا، فاعل کو چھپانا ہوتا ہے یا فاعل کا پتہ ہی نہیں ہوتا تو پھر فعل مجہول کا سہارا لیتے ہیں، تو ضُرب عمروٌ، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل مجہول کا فاعل ذکر نہیں ہوتا اور اس کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ مفعول بہ کی طرف اور مفعول بہ کو کس کا قائم مقام کر دیا؟ فاعل کا، اور فاعل پر رفع تھا تو مفعول بہ پر بھی کیا پڑھیں گے اب؟ رفع، اور اب اس کو مفعول بہ نہیں کہیں گے بلکہ نائب الفاعل کہیں گے، کیا کہیں گے؟ ہے مفعول بہ ہی لیکن اب اس کو کیا کہیں گے؟ نائب الفاعل، مفعول بہ کہو تو ذہن میں آتا ہے کہ وہ منصوب ہوتا ہے لیکن جب آپ نائب الفاعل کہیں تو دو باتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں ایک تو یہ کہ یہ مفعول بہ ہے لیکن اس پر نصب نہیں پڑھنا بلکہ رفع پڑھنا ہے کیونکہ فعل مجہول کا اس کی طرف اسناد ہو رہا ہے۔
دیکھیے بھئی کتاب پر: بداں کہ فعلِ مجہول بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند، تو جان لے کہ فعل مجہول جو ہے بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند، وہ فاعل کے بجائے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے و باقی را بنصب اور باقی کو نصب۔
بھئی دیکھو انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعل معروف چھ چیزوں کو نصب دیتا ہے چاہے لازم ہو چاہے متعدی، چھ چیزیں کون سی تھیں؟ نمبر ایک: مفعول مطلق، نمبر دو: مفعول فیہ، نمبر تین: مفعول معہ، نمبر چار: مفعول لہ، نمبر پانچ: حال اور نمبر چھ: تمیز، یہ چھ چیزوں کو فعل نصب دیتا ہے اور فعل متعدی ایک ساتویں چیز مفعول بہ کو بھی نصب دیتا ہے، تو یہ سات چیزوں کو فعل متعدی نصب دے رہا ہے، توجہ ہے؟ فعل متعدی معروف تھا، اب جب ہم نے اس کو فعل مجہول بنا دیا، توجہ ہے؟ فعل متعدی ہے اور وہ کتنی چیزوں کو نصب دے رہا ہے آگے؟ سات چیزوں کو، تو فاعل کو تو ہم نے حذف کر دیا فعل مجہول لے آئے اور اب یہ رفع دے دے گا کس کو؟ مفعول بہ کو، مفعول بہ کو رفع دے دے گا اس کو نائب الفاعل کہیں گے اور باقی جتنے منصوب تھے وہ اسی طرح منصوب رہیں گے، باقی منصوب سارے اسی طرح رہیں گے صرف جو نائب الفاعل جس کو بنایا اس پر رفع پڑھیں گے اور باقی اسی طرح منصوب رہیں گے، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ فعل مجہول بجائے فاعل مفعول بہ را برفع کند کہ فعل مجہول فاعل کے بجائے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے و باقی را بنصب اور باقی کو نصب، باقی جو چھ ہیں اسی طرح منصوب آئیں گے اگر آپ ان کو لے کر آتے ہیں۔
چوں جیسے کہ یہ اب آگے مثال ذکر کر رہے ہیں: ضُرب زیدٌ، پٹائی کی گئی کس کی؟ زید کی، اب فاعل کا پتہ نہیں کس نے پٹائی کی، فعل مجہول کو لایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ فاعل کو حذف کرنا ہے، فاعل کو چھپانا ہے یا اس وجہ سے کہ فاعل کا پتہ ہی نہیں ہے کس نے پٹائی کی ہے، تو لہٰذا ضُرب زیدٌ یہ مفعول بہ ہے نائب الفاعل ہے بھئی اس وقت، ضُرب زیدٌ پٹائی کی گئی زید کی یومَ الجمعۃِ، یومَ الجمعۃِ یہ کیا بنے گا؟ یہ مفعول فیہ ہے اور مفعول فیہ دو قسم پر تھا یا وہ ظرف زمان ہو گا یا ظرف مکان، یہ یومَ الجمعۃِ یہ زمانہ ہے یا جگہ ہے؟ زمانہ ہے، اور آگے امامَ الامیرِ، امیر کے سامنے یعنی امیر المؤمنین کے سامنے، امام کا معنی ہے سامنے اور سامنے جگہ ہے دیکھو آپ میرے سامنے ہیں یہ جگہ ہے، کچھ دائیں طرف بیٹھے ہیں یہ بھی جگہ ہے، کچھ بائیں طرف بیٹھے ہیں یہ بھی جگہ ہے، تو سامنے آگے پیچھے دائیں بائیں اوپر نیچے یہ سب کیا ہیں؟ جگہ، تو یہ ظرف مکان ہیں، تو یومَ الجمعۃِ کیا بنا؟ ظرف زمان، اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ اعراب کیا ہوتا ہے اس کا؟ منصوب، مفعول فیہ ہے اس لیے یومَ الجمعۃِ پڑھا، یومَ مضاف وہ منصوب ہے اور الجمعۃِ مجرور ہے کیونکہ وہ تو مضاف الیہ ہے بھئی، تو یومَ الجمعۃِ منصوب ہے، امامَ الامیرِ یہ پھر مضاف اور مضاف الیہ ہیں امام مضاف الامیرِ مضافٌ الیہ، اور اس میں پھر اعتبار مضاف کا ہوتا ہے تو امامَ الامیرِ میں نصب پڑھ رہا ہوں، نصب کیوں پڑھ رہا ہوں؟ کیونکہ یہ ظرف مکان ہے یہ بھی مفعول فیہ ہے اور مفعول فیہ پر نصب پڑھا جاتا ہے تو دونوں منصوب، ضرباً شدیداً یہ کیا ہے؟ یہ مفعول مطلق ہے دیکھو مصدر ہے اور ماقبل فعل کے معنی میں ہے، جب بھی مصدر ماقبل فعل کے معنی میں ہو تو اس کو وہ مفعول مطلق ہوتا ہے، یہ ضرباً یہ مصدر ہے اور ماقبل میں فعل ضُرب ذکر ہے تو یہ اسی کے معنی میں ہوا، مصدر بھی ہے اور ماقبل فعل کے معنی میں بھی ہے تو یہ مفعول مطلق ہے اور یہ شدیداً اسی ضرباً کی صفت ہے، کیسی ضرب لگائی؟ سخت ضرب لگائی، اور دیکھو میں نے آپ کو بتایا تھا کہ موصوف صفت میں مطابقت ہوتی ہے اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ، موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ، نیز تذکیر و تانيث میں بھی مطابقت ہوتی ہے موصوف اگر مذکر ہو تو صفت بھی مذکر، موصوف اگر مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث، نیز اعراب میں بھی مطابقت ہوتی ہے موصوف پر نصب تو صفت پر بھی نصب، موصوف پر رفع تو صفت پر بھی رفع اور موصوف پر جر ہو تو صفت پر بھی جر، یہاں دیکھو ضرباً ہے موصوف اور شدیداً ہے اس کی صفت، ضرباً دیکھو یہ منصوب ہے تو شدیداً صفت بھی منصوب، نیز ضرباً مذکر ہے دیکھو تانیث کی کوئی علامت ساتھ نہیں ہے نہ گول تا ہے نہ الف مقصورہ ہے نہ الف ممدودہ ہے تو شدیداً یہ بھی کیا ہے؟ مذکر، اور نیز ضرباً یہ نکرہ ہے معرفہ کی قسموں میں سے کوئی قسم نہیں، کیا یہ ضمیر ہے؟ علم کسی کا نام ہے؟ اسم اشارہ ہے؟ اسم موصول ہے؟ معرفہ بالنلاء ہے؟ یا یہ معرف باللام ہے اس پر الف لام داخل ہوا ہے؟ نہیں، اور یہ کسی اور معرفہ کی طرف مضاف بھی نہیں، تو یہ نکرہ ہے ضرباً تو شدیداً بھی نکرہ اس کی صفت لائی گئی، تو ضرباً شدیداً یہ ہے مفعول مطلق، فی دارہِ، فی جارہ، دارہِ مجرور ہے دار مضاف ہے اور ہ ضمیر مضافٌ الیہ، میں نے بتلایا تھا جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے ان کو آپس میں کیا بنانا ہے؟ مضاف اور مضاف الیہ بنانا ہے، تو دارہِ، دار اسم ہے یا فعل ہے؟ اسم ہے، اور اسم کے ساتھ ہ ضمیر آ گئی دارہِ، تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف اور مضاف الیہ بنیں گے، تو دار مضاف مجرور ہے مضاف ہے، مجرور اس لیے کیونکہ اس پر فی جارہ داخل ہے اور حرف جر، جر دیتا ہے، اور ہ ضمیر اعراب بولو: مجرور، کون سا مجرور؟ محلاً، آپ کہہ رہے ہیں مجرور محلاً فی دارہِ، میں تو ہ کے نیچے باقاعدہ زیر پڑھ رہا ہوں یہ تو مجرور لفظاً ہونا چاہیے آپ محلاً کیوں کہہ رہے ہیں؟ آپ کہیں گے یہ اس کی حرکت ہے یہ اعراب نہیں کیونکہ یہ تو ضمیر ہے اور ضمیر ہم نے پڑھا ہے کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی پر اعراب لفظاً نہیں آتا بلکہ محلاً آتا ہے، تو فی دارہِ اس پر جو میں زیر پڑھ رہا ہوں چونکہ اس سے ماقبل دار کے آخر میں زیر تھی تو ہ پر بھی زیر پڑھ دی گئی، اگر ماقبل میں زبر یا پیش ہوتی تو پھر اس کی حرکت کچھ اور ہوتی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو فی دارہِ یہ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہو گئے اسی ضُرب سے، تادیباً، ادب سکھانے کے لیے، یہ کیا بنے گا؟ یہ مفعول لہ ہے جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے، زید کی پٹائی کی گئی کس لیے کی گئی؟ تادیباً، ادب سکھانے کے لیے، دیکھو تادیب مصدر ہے اور ماقبل فعل کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ ماقبل اگر ماقبل فعل کے معنی میں ہوتا تو یہ کیا ہوتا؟ یہ مفعول مطلق ہوتا، یہ ماقبل فعل کی علت اور وجہ اور سبب بیان کر رہا ہے تو یہ مفعول لہ ہے، والخشبۃَ، یہ واؤ بمعنی مع کے ہے اور الخشبۃَ یہ مفعول معہ ہے، مفعول معہ ہے بھئی۔
ایک ایک لفظ کا پتہ چل گیا بھئی؟ تو یہ الخشبۃَ مفعول معہ ہے اور مفعول معہ آپ نے پڑھا منصوب ہوتا ہے اسی لیے الخشبۃَ اس پر نصب پڑھا گیا۔
ضُرِبَ زَيْدٌ، زید کی پٹائی کی گئی۔ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، جمعے کے دن۔ أَمَامَ الْأَمِيرِ، امیر المؤمنین کے سامنے۔ ضَرْبًا شَدِيدًا، کیسی پٹائی؟ سخت پٹائی۔ فِي دَارِهِ، اس کے گھر میں، یعنی زید کے گھر میں یا امیر المؤمنین کے گھر میں کہہ لیں۔ فِي دَارِهِ، اس کے گھر میں۔ تَأْدِيبًا، کس لیے کی گئی پٹائی؟ ادب سکھانے کے لیے۔ وَالْخَشَبَةَ، أي مَعَ الْخَشَبَةِ، خشبة لکڑی کو کہتے ہیں۔ مَعَ الْخَشَبَةِ، کس کے ساتھ؟ لکڑی کے ساتھ، یعنی لکڑی کے ساتھ زید کی سخت پٹائی کی گئی جمعے کے دن امیر کے سامنے اس کے گھر میں ادب سکھانے کے لیے۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھو، ضُرِبَ فعلِ مجہول آیا۔ زَيْدٌ، یہ اصل میں مفعول بہ تھا، زید کی پٹائی ہوئی ہے۔ تو اس کو نائب الفاعل بنایا، اس پر رفع آ گیا۔ اور باقی جتنے آگے منصوبات آئے، وہ اسی طرح منصوب ہیں۔ جیسے فعلِ معروف ان کو نصب دیتا تھا، فعلِ مجہول بھی کیا کر رہا ہے؟ باقی سب کو نصب دے رہا ہے۔ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، یہ بھی منصوب ہے، ظرفِ زمان ہے۔ أَمَامَ الْأَمِيرِ، یہ بھی منصوب ہے، یہ ظرفِ مکان ہے۔ یہ دونوں مفعول فیہ ہو گئے۔ ضَرْبًا شَدِيدًا، یہ مفعولِ مطلق ہے، وہ منصوب ہوتا ہے، یہ بھی منصوب ہے۔ فِي دَارِهِ تَأْدِيبًا، تَأْدِيبًا یہ مفعول لہ ہے، یہ منصوب ہوتا ہے، یہاں بھی منصوب ہے۔ وَالْخَشَبَةَ، یہ مفعول معہ ہے، یہ منصوب ہوتا ہے، یہاں پر بھی منصوب۔ تو یعنی فعلِ مجہول بالکل فعلِ معروف جیسا عمل کرتا ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ وہ فعلِ معروف فاعل کو رفع دیتا ہے اور یہ نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے۔ باقی چیزیں جو بچ گئیں، ان سب کو جیسے فعلِ معروف نصب دیتا تھا، فعلِ مجہول بھی نصب دے گا۔
آگے دیکھیے۔ و فعلِ مجہول را فعلِ ما لم یسم فاعلہ گویند۔ اور فعلِ مجہول کو فعلِ ما لم یسم فاعلہ گویند، کہتے ہیں۔ فعلِ مجہول کو؟ جی، عبارت پہ نظر رکھیں، فعلِ مجہول کو فعلِ ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں۔ و مرفوعش را، اور اس کا جو مرفوع ہے، میں نے بتایا شین فارسی میں کس کے لیے آتا ہے؟ اس کے لیے۔ و مرفوعش، اس کا جو مرفوع ہے، یعنی فعلِ مجہول کا، اس کو مفعولِ ما لم یسم فاعلہ گویند، اس کو مفعولِ ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں۔
مفعولِ ما لم یسم فاعلہ۔ اب ذرا توجہ سے سننا۔ فعلِ مجہول کو کیا کہتے ہیں؟ فعلِ ما لم یسم فاعلہ۔ فعلِ ما لم یسم فاعلہ کیوں کہتے ہیں؟ میں وجہ سمجھا رہا ہوں۔ دیکھو اس کے لفظوں پہ ذرا غور کرو۔ فعلِ ما، ما سے کیا مراد؟ مفعول۔ یہاں مفعول کا لفظ رکھیں۔ فعلِ مفعول، اس مفعول کا فعل لم یسم کہ ذکر نہیں کیا گیا فاعلہ اس کے فاعل کو۔ بھئی ضُرِبَ زَيْدٌ، زید کی پٹائی کی گئی، فاعل کا پتا ہے؟ نہیں۔ اس کے فعلِ مجہول کے فاعل کا پتا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس فعل کو کیا کہتے ہیں؟ فعلِ ما لم یسم فاعلہ۔ فعلِ ما لم یسم فاعلہ کیوں کہتے ہیں؟ میں وجہ سمجھا رہا ہوں۔ دیکھو اس کے لفظوں پہ ذرا غور کرو۔ فعلِ ما، ما سے کیا مراد؟ مفعول۔ یہاں مفعول کا لفظ رکھیں۔ فعلِ مفعول، اس مفعول کا فعل لم یسم فاعلہ جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا۔ ضُرِبَ زَيْدٌ، یہ ضُرِبَ ضُرِبَ زَيْدٌ، زَيْدٌ کیا ہے؟ مفعول ہے، ہے تو نائب فاعل لیکن اصل میں کیا ہے؟ مفعول۔ تو یہ جو ضُرِبَ ہے، یہ اس مفعول کا فعل ہے جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا۔ تو فعلِ ما لم یسم فاعلہ، فعل اس مفعول کا لم یسم فاعلہ جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا۔ یہاں ما سے کیا مراد؟ مفعول بھئی۔
آگے آئیے، و مرفوعش را مفعولِ ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں۔ بھئی ضُرِبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ مفعولِ ما لم یسم فاعلہ۔ ضُرِبَ کیا تھا؟ فعلِ ما لم یسم فاعلہ۔ توجہ ہے؟ ضُرِبَ کیا تھا؟ فعلِ ما لم یسم فاعلہ۔ اور زَيْدٌ، ضُرِبَ زَيْدٌ، اس میں یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ مفعولِ ما لم یسم فاعلہ۔ یہاں ما سے مراد فعل ہے۔ یہاں ما سے مراد فعل۔ مفعولِ فعل، ما کی جگہ فعل رکھ دیں۔ مفعولِ فعل، اس فعل کا مفعول لم یسم فاعلہ جس کے فاعل کو ذکر ضُرِبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ مفعول ہے۔ کس فعل کا؟ جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا گیا۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں کہ و فعلِ مجہول را فعلِ ما لم یسم فاعلہ گویند، اور فعلِ مجہول کو فعلِ ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں، و مرفوعش را، اور اس کا جو مرفوع ہوتا ہے یعنی نائب الفاعل ہوتا ہے اس کو مفعولِ ما لم یسم فاعلہ گویند، اس کو مفعولِ ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں۔
فصل: بدان کہ فعلِ متعدی بر چہار قسم است۔ تو جان لے کہ فعلِ متعدی جو ہے وہ چار قسم پر ہے، یعنی فعلِ متعدی کی چار قسمیں ہیں۔ آگے آپ کو بتائیں گے کہ فعلِ متعدی ایک وہ ہے جو صرف ایک مفعول کا تقاضا کرے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ، زید نے پٹائی کی۔ کسی ایک کی بھی پٹائی کی جائے تو ضرب کا فعل پایا جائے گا۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًو، زید نے کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی۔ دیکھو، پٹائی پائی گئی یا نہیں پائی گئی؟ یا دو کی پٹائی کرنا ضروری ہے؟ جی؟ دو کی یہاں ضرورت نہیں، ایک سے ہی فعلِ ضرب پایا جائے گا۔ اور جبکہ کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں جو دو مفعول کا تقاضا کرتے ہیں، اور کچھ فعل ایسے ہوتے ہیں جو تین مفعولوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ یہ آپ کو بتا رہے ہیں کہ فعلِ متعدی چار قسم پر ہے۔ چار قسمیں کس طرح ہیں؟ پہلی قسم وہ فعلِ متعدی جو کتنے مفعولوں کا تقاضا کرے؟ ایک۔ دوسری قسم وہ جو کتنے؟ دو مفعولوں کا تقاضا کرے۔ اور तीसरी قسم جو تین مفعولوں کا تقاضا کرے۔ تین قسمیں ہو گئیں؟ پھر ان میں سے جو دو مفعولوں کا تقاضا کرنے والا فعلِ متعدی ہے، وہ دو مفعول دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ وہ دونوں مفعول دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ یا تو ان دونوں میں سے ایک کو حذف کرنا جائز ہوگا یا جائز نہیں۔ ایک فعل ہے، وہ دو مفعول چاہتا ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے المفعول فضلۃ، مفعول کیا، مفعول منصوب ہوتا ہے نا، اور المنصوب فضلۃ یعنی المفعول فضلۃ کہہ لیں، مفعول کیا ہوتا ہے؟ فضلہ ہوتا ہے، زائد چیز، اس کو حذف کرنا جائز ہوتا ہے۔ اس فعلِ متعدی کی بات کر رہا ہوں جو کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو۔ دیکھو، کل تین قسمیں بنا دیں۔ ایک فعلِ متعدی وہ ہے جو کتنے مفعول کا تقاضا کرے گا؟ ایک۔ دوسرا وہ ہے جو کتنے کا تقاضا کرے گا؟ دو کا۔ اور تیسرا وہ ہے جو کتنے کا تقاضا کرے گا؟ تین۔ یہ تین قسمیں ہو گئیں؟ پھر ان میں سے وہ فعلِ متعدی جو دو مفعولوں کا تقاضا کر رہا تھا، اس کے دو مفعول پھر دو قسم کے ہو جائیں گے۔ کتنی قسمیں؟ دو قسم کے، وہ فعل جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے وہ دو قسم کے، وہ فعل دو قسم کے ہیں۔ وہ فعل دو قسم کے۔ کچھ ایسے فعل ہیں کہ وہ دو مفعولوں کا تقاضا کرتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہوتا ہے۔ اور کچھ فعلِ متعدی ایسے ہیں جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتے ہیں اور آپ ان میں سے ایک کو حذف کر دیں اور ایک کو باقی رکھیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ یا تو دونوں کو حذف کرو یا دونوں کو باقی رکھو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ فعل جو متعدی ہو کتنے مفعولوں کی طرف؟ دو مفعولوں کی طرف، وہ کتنی قسم کے؟ دو قسم کے۔ ایک پہلی قسم وہ کہ جو دو مفعول چاہتا ہے اور ان دونوں میں سے ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہو، یہ پہلی قسم۔ اور دوسری قسم وہ کہ جس میں ایک کو حذف کرنا اور دوسرے کو باقی رکھنا جائز نہ ہو، تو کل کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار قسمیں ہو گئیں، کل چار قسمیں ہو گئیں۔ اب سنو پھر بھئی کہ فعل آپ کو بتائیں گے کہ فعل چار قسم پر ہے فعلِ متعدی۔ یا تو وہ ایک مفعول کا تقاضا کرے گا، یہ پہلی قسم۔ دوسری قسم وہ فعلِ متعدی جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے اور ان میں سے ایک کو حذف کرنا جائز، ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز۔ اور تیسری قسم وہ ہے، وہ فعلِ متعدی جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے لیکن ان دو مفعولوں میں سے ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز نہیں، یا تو دونوں کو حذف کرو یا دونوں کو باقی رکھو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور چوتھی قسم وہ ہے وہ فعلِ متعدی جو تین مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔
فصل: بدان کہ فعلِ متعدی بر چہار قسم است، جان لے تو کہ فعلِ متعدی چار قسم پر ہے۔ اول: متعدی بہ یک مفعول، وہ فعل جو متعدی ہو ایک مفعول کو، چون ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًو، پٹائی کی زید نے عمرو کی۔ یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول بھئی، اور ایک مفعول پر بات پوری ہو گئی۔ میں نے بتایا تھا بھئی، فعلِ متعدی کے معنی میں آپ نے غور کرنا ہے۔ کس میں؟ معنی میں۔ فعلِ لازم اور فعلِ متعدی کے معنی میں غور کریں، کوئی بھی فعل ہو کہ اس کے لیے کوئی مفعول چاہیے یا اس کے بغیر بھی یہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہر ضرب کے لیے کیا چاہیے؟ مضروب۔ ہر شرب کے لیے؟ مشروب۔ ہر اکل کے لیے؟ ماکول۔ تو آپ نے معنی میں غور کرنا ہے۔ تو یہ ضرب کے لیے ایک مضروب کافی ہے، ضرب کے لیے ایک مفعول چاہیے، اس سے ضرب پائی جائے گی۔ یہاں دو مفعولوں کی ضرورت نہیں۔ کبھی فعل دو مفعول چاہتا ہے، جیسے أَعْطَيْتُ، میں نے عطا کیا، میں نے دیا۔ کس کو دیا؟ مثلاً زید کو۔ أَعْطَيْتُ زَيْدًا، میں نے زید کو دیا۔ بات ابھی بھی پوری نہیں ہوئی۔ بھئی، کیا دیا؟ دِرْهَمًا، أَعْطَيْتُ زَيْدًا دِرْهَمًا، دیکھا دو مفعول چاہیے، دو مفعول۔ یہاں آپ خود دیکھ لیں کہ دینے کے اندر ایک تو وہ چیز چاہیے جو دینی ہے اور ایک وہ فرد چاہیے جس کو دینا ہے، تو دیکھا یہ دو مفعول چاہتا ہے۔ یا جیسے نام رکھنا، نام رکھنا، کسی کا نام رکھنا۔ سَمَّيْتُ، میں نے نام رکھا الرَّجُلَ، اس آدمی کا۔ ابھی بھی بات پوری نہیں کہ کیا نام رکھا آپ نے؟ تو مثلاً میں کہتا ہوں زَيْدًا، سَمَّيْتُ الرَّجُلَ زَيْدًا، میں نے اس آدمی کا نام زید رکھا۔ تو اس کے لیے دو مفعول چاہیے۔ ایک وہ ذات چاہیے جس کا نام رکھا ہے اور ایک جو نام رکھا ہے وہ بھی چاہیے، پھر بات پوری ہوگی، اس کے بغیر بات پوری نہیں۔ یا جیسے عَلِمْتُ زَيْدًا فَاضِلًا، یا عَلِمْتُ زَيْدًا فَاضِلًا، میں نے زید کو فاضل جانا۔ میں نے زید کو فاضل جانا۔ دیکھا، کس کو جانا؟ زید کو، اور کیا جانا؟ فاضل، تو دو مفعول چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ آپ نے فعل کے مفہوم پر غور کرنا ہے کہ وہ ایک مفعول چاہتا ہے یا دو چاہتا ہے یا تین چاہتا ہے۔
تو کہتے ہیں: اول متعدی بہ یک مفعول، پہلی قسم وہ فعل کی پہلی قسم وہ ہے فعل کی جو متعدی ہو ایک مفعول کو، چون ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًو، پٹائی کی زید نے عمرو کی۔ یہ عمراً کیا ہے؟ مفعول بھئی، اور ایک مفعول پر بات پوری ہو گئی۔ دوم: متعدی بہ دو مفعول، دوسرا جو ہے، دوسری قسم وہ ہے، وہ فعل جو متعدی ہو دو مفعولوں کو کہ اقتصار بر یک مفعول روا باشد۔ اقتصار کا معنی ہے اکتفا کرنا، اکتفا کرنا، کہ اقتصار بر یک مفعول کہ ایک ہی مفعول پر اکتفا کر لینا روا باشد، جائز ہو۔ روا باشد؟ جائز ہو۔ ایک مفعول پر اکتفا کرنا جائز ہو، یعنی ایک مفعول کو آپ حذف کر لیں اور ایک کو ذکر کر دیں، یہ جائز ہو بھئی۔ جیسے أَعْطَيْتُ زَيْدًا دِرْهَمًا۔ أَعْطَيْتُ زَيْدًا دِرْهَمًا، یہ أَعْطَيْتُ دو مفعول چاہتا ہے۔ زَيْدًا ہے مفعولِ اول اور دِرْهَمًا ہے مفعولِ ثانی۔ آپ چاہیں تو دونوں حذف کر دیں، أَعْطَيْتُ، میں نے عطا کیا۔ کس کو عطا کیا؟ کیا عطا کیا؟ نہ بتائیں بھئی، کیونکہ المفعول فضلۃ، مفعول کیا ہے؟ فضلہ۔ اور آپ چاہیں تو دونوں کو ذکر کر دیں، أَعْطَيْتُ زَيْدًا دِرْهَمًا، کس کو دیا؟ زید کو، اور کیا دیا؟ درہم دیا۔ اور آپ چاہیں تو دونوں میں سے ایک کو باقی رکھیں اور ایک کو حذف کر دیں۔ جس کو مرضی حذف کریں، جس کو مرضی ذکر کریں۔ آپ چاہیں تو زید کو ذکر کریں اور درہم کو حذف کر دیں۔ اور آپ چاہیں تو زید کو حذف کر دیں اور درہم کو ذکر کر دیں۔ أَعْطَيْتُ زَيْدًا، میں نے زید کو دیا۔ کیا دیا؟ کوئی ضرورت نہیں ذکر کرنے کی، آپ نہیں بتانا چاہتے۔ اور آپ چاہیں تو زید کو حذف کریں اور دِرْهَمًا کو ذکر کر دیں، أَعْطَيْتُ دِرْهَمًا، میں نے درہم دیا۔ کس کو دیا؟ آپ نہیں بتانا چاہتے، آپ حذف کر لیں۔ یا سننے والے کو پہلے ہی پتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس لیے آپ ذکر نہیں کرتے۔ تو أَعْطَيْتُ زَيْدًا دِرْهَمًا، أَعْطَيْتُ دو مفعول چاہتا ہے۔ اور ان دو مفعولوں میں سے کسی ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہے، اور چاہیں تو دونوں کو بھی حذف کر دیں۔ لیکن دونوں کو حذف کرنے کو ذکر نہیں کر رہے، اس لیے کہ وہ پہلے بتا چکے ہیں کہ المنصوب فضلۃ، اسی میں گویا آ گیا، المفعول فضلۃ، مفعول بھی کیا ہے؟ فضلہ، اس کو حذف کرنا جائز ہے۔ صرف یہاں جو فرق آ رہا ہے وہ فرق یہ ہے کہ دو مفعولوں والے فعل وہ دو قسم پر ہیں۔ کچھ میں ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہوتا ہے، اور کچھ میں ایک کو حذف کر کے دوسرے کو باقی رکھنا جائز نہیں ہوتا، اس لیے صرف اسی فرق کو بیان کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: دوم متعدی بہ دو مفعول، دوسرا وہ جو متعدی ہو دو مفعول کو کہ اقتصار بر یک مفعول روا باشد، کہ اکتفا ایک مفعول پر جائز ہو، یعنی ایک کو حذف کر دیا اور ایک کو باقی رکھا یہ جائز ہو، چون أَعْطَى، جیسے أَعْطَى، أَعْطَى کا فعل ہے۔ و آنچه در معنی او باشد، اور وہ فعل جو اس کے معنی میں ہوں۔ جو فعل اس کے معنی میں یعنی ہر وہ فعل آپ عربی میں غور کر لیں جہاں آپ کو ایسے فعل مل جائیں جو دو مفعولوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ آپ اس میں غور کر لیں، ایک کو حذف کرنا جائز ہے یا حذف کرنا جائز نہیں؟ اگر ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہے، تو آپ سمجھ جائیں یہ کس باب سے ہیں؟ بابِ أَعْطَيْتُ سے۔ اچھا یہ بھی سن لیں۔
اس فعل متعدی کی بات ہو رہی ہے جو دو مفعول چاہتا ہے۔ وہ پھر کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ کچھ وہ فعل متعدی بہ دو مفعول ہیں جن میں ایک مفعول پر اکتفا جائز ہے، کچھ وہ ہیں جن میں ایک پر اکتفا جائز نہیں۔ وہ فعل متعدی جو دو مفعول چاہتا ہے اور ایک مفعول پر اکتفا جائز ہے، اس کو کہتے ہیں یہ باب اعطيت کا فعل ہے۔ کس کا فعل ہے؟ باب اعطيت کا، یعنی اعطيت جیسا ہے۔ اعطيت کے باب والا ہے یعنی اعطيت جیسا ہے۔ اور وہ فعل جو دو مفعول چاہتا ہے اور ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز نہ ہو، اس کو کہتے ہیں یہ باب علمت ہے۔ کس باب سے ہے؟ باب علمت۔ علم يعلم کا کیا معنیٰ؟ جاننا، لیکن یہاں جاننے کے معنیٰ میں نہیں ہے، یہاں یہ یقین کرنے کے معنیٰ میں ہے۔ علمت زيداً فاضلاً، میں نے یقین کر لیا کہ زید فاضل ہے۔
تو اگر فعل متعدی دو مفعول چاہتا ہو اور ایک پر اکتفا جائز ہو، تو کیا کہیں گے؟ یہ کس باب سے ہے؟ باب اعطيت سے۔ اور اگر ایک کو حذف کرنا جائز نہ ہو، تو کیا کہیں گے؟ یہ کس باب سے ہے؟ باب علمت سے ہے۔
دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: دوم متعدی بہ دو مفعول کہ اقتصار بر یک مفعول روا باشد، دوم متعدی بہ دو مفعول کہ اقتصار (کتفاء) ایک مفعول پر جائز ہو، چون اعطى، جیسے اعطى ہے، وآنچہ در معنیٰ او باشد، اور وہ جو اس کے معنیٰ میں ہو۔ اور وہ فعل جو اس اعطى کے معنیٰ میں ہو، کیا معنیٰ؟ معنیٰ اس جیسا ہو یہ مراد نہیں ہے، معنیٰ تو ہر فعل کا الگ الگ ہوتا ہے، مراد یہ ہے جو اس جیسا ہو، یعنی باب اعطيت والا فعل ہو۔ کوئی بھی ایسا فعل جس کے ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہو، کیا کہتے ہیں یہ کس باب سے ہے؟ باب اعطيت سے ہے۔
جیسے میں نے مثال ذکر کی: سميت الرجل زيداً، میں نے اس ادمی کا نام زید رکھا۔ تو یہاں بھی ایک مفعول کو باقی رکھنا اور ایک کو حذف کرنا جائز۔ معلوم ہوا یہ بھی کس باب سے ہے؟ باب اعطيت سے۔ یہ اسی کے معنیٰ میں ہے۔ حالانکہ معنیٰ دونوں کا الگ ہے کہ ایک جیسا ہے؟ اعطى کا معنیٰ اور، اور سمى کا معنیٰ اور، لیکن پھر بھی کہیں گے یہ اسی کے معنیٰ میں ہے۔ کیا معنیٰ اس کے معنیٰ میں ہے؟ یعنی اس جیسا ہے، جیسے وہاں ایک مفعول کو حذف کرنا جائز تھا، یہاں بھی ایک مفعول کو حذف کرنا جائز۔ یا جیسے کسوت، یا سقيت۔ سقيت زيداً ماءً۔ میں نے پلایا زید کو الماء، کیا پلایا؟ پانی۔ سقيت زيداً الماء۔ اب صرف اپ یہ کہہ دیں: سقيت، میں نے پلایا، زید کو بھی حذف کر دیں، الماء کو بھی حذف کر دیں، یہ بھی جائز۔ یا سقيت زيداً، میں نے کس کو پلایا؟ زید کو، ماءً کو حذف کر دیں، کوئی حرج نہیں۔ اور اپ چاہیں تو سقيت الماء، میں نے پانی پلایا، کس کو پلایا؟ اس کو حذف کر دیں۔ تو معلوم ہوا اس کے ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز، تو یہ کس باب سے ہے؟ باب اعطيت سے، یا یوں کہیں یہ بھی اسی کے معنیٰ میں ہے۔ تو جہاں بھی ایسا ہو کہ ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہو، تو کہیں گے کہ یہ اعطيت کے معنیٰ میں ہے۔
یہ معنیٰ ہے کہ چون اعطى، جیسے اعطى ہے، وآنچہ در معنیٰ او باشد، اور وہ جو اس کے معنیٰ میں ہو۔ چون اعطيت زيداً درهماً، میں نے زید کو درہم دیا، واینجا اعطيت زيداً نیز جائز است، اور یہاں پر اعطيت زيداً بھی جائز ہے۔ اور بلکہ زید کو ہٹائیں، یہاں درہم لے ائیں: اعطيت درهماً، یہ بھی جائز ہے۔ اور اپ چاہیں تو دونوں کو حذف کر لیں: اعطيت، میں نے عطا کیا، یہ بھی جائز ہے۔
سیوم متعدی بہ دو مفعول، تیسرا فعل وہ ہے جو متعدی ہو دو مفعول کو، کہ اقتصار بر یک مفعول روا نہ باشد، کہ اکتفا ایک مفعول پر جائز نہ ہو، واین در افعال قلوب است، اور یہ کس میں ہے؟ افعالِ قلوب میں ہے، چون علمت و ظننت و حسبت و خلت و زعمت و رأيت و وجدت، یہ افعالِ قلوب ہیں بھئی، یہ افعالِ قلوب۔ ان کو افعالِ قلوب کہتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق قلب سے ہے، دل سے ہے، ہاتھ پاؤں سے کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ ضرب میں دیکھو ہاتھ سے ضرب لگانا پڑتی ہے، اکل میں دیکھو منہ سے کوئی چیز کھاتے ہیں، اور شرب میں بھی منہ سے کوئی چیز پیتے ہیں۔ لیکن یہ افعالِ قلوب ہیں، اس میں اعضا کا اور اعضا کا دخل نہیں، صرف قلب کا دخل ہے۔ جیسے علمت زيداً فاضلاً، میں نے زید کو فاضل جانا، یعنی میں نے زید کو فاضل ہونے کا یقین کیا، تو دیکھو صرف یقین کرنا پڑا، ہاتھ پاؤں وغیرہ سے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، تو ان کو افعالِ قلوب کہتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق صرف قلب سے ہوتا ہے، اعضا سے ان افعال کا تعلق نہیں ہوتا۔
اور یہ بھی یاد رکھیں، یہ جو افعالِ قلوب ہیں، ان کا دوسرا نام ہے افعالِ شک و یقین۔ ان کا دوسرا نام کیا ہے؟ افعالِ شک و یقین۔ اگر کوئی افعالِ شک و یقین کہہ دے تو اپ نے پریشان نہیں ہونا، یہ انہی افعالِ قلوب کا دوسرا نام ہے۔ افعالِ شک و یقین اس لیے کہتے ہیں ان کو، کیونکہ یہ جو افعالِ قلوب انہوں نے ذکر کیے، ان میں سے کچھ شک کے لیے آتے ہیں اور کچھ یقین کے لیے آتے ہیں۔ یقین میں کیا ہوتا ہے؟ اپ ایک چیز کو مان لیتے ہیں۔ اور شک میں کیا ہوتا ہے؟ مانتے نہیں ہیں، بلکہ دوسری جانب کا بھی خیال ہے۔ مثلاً کوئی اپ کو کہے: زید عالم ہے، تو اپ کے ذہن میں یہ بھی خیال اتا ہے، ہو سکتا ہے عالم نہ ہو۔ تو اس میں دوسری جانب کا بھی شک ہوتا ہے، تو اس لیے ان کو افعالِ شک و یقین کہتے ہیں کہ بعضوں کے اندر یقین ہے اور بعضوں کے اندر شک ہے بھئی۔ یہ بعض افعال یقین کا معنیٰ ادا کرتے ہیں اور بعض شک والا اور غالب ظن والا معنیٰ ادا کرتے ہیں۔
جیسے علمت، و ظننت، و حسبت، و خلت، و زعمت، و رأيت، و وجدت۔ ان میں سے یاد رکھو: علمت اور اخری دو رأيت و وجدت، علمت، رأيت اور وجدت، یہ تین یقین کے لیے آتے ہیں۔ جب اپ کو کسی چیز کا یقین ہوتا ہے تب اپ یوں کہیں گے، اپ کہیں گے: علمت زيداً فاضلاً، میں نے یقین کیا کہ زید فاضل ہے، یعنی میں نے مان لیا، میں نے یقین کر لیا کہ زید فاضل ہے۔ یا رأيت زيداً عالماً، کیا معنیٰ؟ وہی ترجمہ، میں نے زید کو عالم جانا، کیا معنیٰ؟ یعنی میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے۔ وجدت زيداً عالماً، میں نے زید کو عالم پایا، کیا معنیٰ؟ میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے، میں نے مان لیا کہ زید عالم ہے۔ تو یہ علمت، رأيت اور وجدت، یہ یقین کے لیے۔
اور ظننت، حسبت اور خلت، کتاب پر نظر ہے؟ ظننت، حسبت اور خلت، یہ سب ظن کے لیے آتے ہیں۔ ظننت زيداً عالماً، میرا گمان ہے کہ زید عالم ہے۔ حسبت زيداً عالماً، میرا گمان ہے کہ زید عالم ہے۔ اور خلت زيداً عالماً، میرا خیال ہے، میرا گمان ہے کہ زید عالم ہے۔ تو باقی تین کس کے لیے ہیں؟ گمان، ظن کے لیے ہیں۔ کس کے لیے؟ دیکھو جس میں یقین نہیں ہے، یقین نہیں ہے۔ اور جو زعمت ہے، یہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کبھی یہ یقین کے لیے استعمال ہو جاتا ہے اور کبھی ظن کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔ ظن کا معنیٰ گمان، گمان۔ کبھی یہ یقین کے لیے استعمال ہو جاتا ہے اور کبھی ظن کے لیے۔
اب بتائیے مجھے یقین کے لیے کون کون سے تین ہیں؟ علمت، رأيت اور وجدت۔ اور ظن کے لیے کون سے تین ہیں؟ ظننت، حسبت اور خلت۔ جس میں اپ کہتے ہیں: میرا خیال ہے، میرا گمان ہے، یعنی یقین تو نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ زید عالم ہے۔ اور زعمت دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، ظن کے لیے بھی اور یقین کے لیے بھی۔ اور یہ سارے دو دو مفعول چاہتے ہیں اور ان کے ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز نہیں۔ تو یہ افعالِ قلوب ہیں۔
جیسے علمت زيداً فاضلاً۔ ترجمہ کیجیے: علمت زيداً فاضلاً، افعالِ قلوب ہیں، ابھی جو میں نے ترجمہ بتایا اس کے مطابق ترجمہ کریں۔ میں نے جانا نہیں کہنا، کیا کہنا ہے؟ میں نے یقین کیا یا کہو میں نے مان لیا کہ زید عالم ہے۔
بعض صورتوں میں یہی افعال ایک ایک مفعول بھی چاہتے ہیں، اگر ان کا اپ معنیٰ بدل دیں گے نا، تو پھر ایک مفعول چاہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: کوئی ادمی تھا تو وہ میں نے اپ کو بتایا میں نے اس کو پہچان لیا ہے۔ میں نے اس ادمی کو پہچان لیا۔ تو میں کہوں گا: علمت الرجل، میں نے اس ادمی کو پہچان لیا۔ اپ کہیں گے بھئی علمت تو دو مفعول چاہتا ہے۔ جواب یہ کہ یہ اس وقت افعالِ قلوب میں سے نہیں ہے۔ کس میں سے؟ یہ اصطلاحی افعالِ قلوب، جن کو علمِ نحو والے افعالِ قلوب کہتے ہیں، یہ ان میں سے نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں علمت بمعنیٰ عرفت کے ہے۔ کس معنیٰ میں ہے؟ یعنی میں نے اس ادمی کو پہچان لیا، اور پہچاننے کے لیے ایک مفعول کافی ہے، ایک شخص ہو اور اپ اس کو پہچان لیں۔ جبکہ وہاں پر کیا تھا؟ علمت زيداً عالماً، وہاں یقین کرنا تھا۔ علمت الرجل، اس کا ترجمہ کریں: میں نے اس ادمی کو پہچان لیا۔ اگر افعالِ قلوب میں سے ہوتا تو اپ یقین کے ساتھ ترجمہ کرتے: میں نے اس ادمی کا یقین کر لیا۔ بھئی کیا یقین کر لیا کہ وہ نیک ہے، عالم ہے، عالم نہیں ہے، کس چیز کا یقین کیا؟ تو وہاں وہ دو مفعول چاہتا ہے۔ اور کبھی علمت کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ عرفت، یعنی پہچاننے کے معنیٰ میں، پھر وہ ایک ہی مفعول چاہے گا۔
یا جیسے رأيت، رأيت کا بھی یہاں کیا ترجمہ کیا؟ رأيت زيداً عالماً، میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے، یعنی دل سے دیکھنا مراد ہے، افعالِ قلوب ہیں نا۔ دل سے دیکھنا مراد ہے۔ میں نے دیکھا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، یعنی میں نے مان لیا کہ زید عالم ہے۔ ایک انکھوں سے دیکھنا ہوتا ہے، رؤیتِ بصری۔ رؤیتِ بصر، انکھیں نگاہوں کو کہتے ہیں۔ رؤیتِ بصری، انکھوں سے کسی کو دیکھنا، وہ ایک ہی مفعول چاہتا ہے: رأيت زيداً، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو، یعنی میں نے دور سے زید کو دیکھا۔ اب یہاں ایک ہی مفعول ہے، کیونکہ یہ یقین کرنے کے معنیٰ میں نہیں ہے بلکہ یہ انکھوں سے دیکھنے کے معنیٰ میں ہے۔ تو یہی افعال بعض اوقات اور معانی میں استعمال ہوتے ہیں، پھر ایک ہی مفعول چاہیے، اور جب یہ افعالِ قلوب کے معنیٰ میں ہوں پھر دو مفعول چاہیں۔ تو رأيت زيداً، میں نے صرف ایک مفعول ذکر کیا، اپ سمجھ جائیں یہ اس وقت افعالِ قلوب میں سے نہیں ہے بلکہ کس میں سے ہے؟ یعنی انکھوں سے دیکھنا مراد ہے، دل سے دیکھنا مراد نہیں ہے۔ اور دوسرا رأيت زيداً عالماً، میں نے یقین کیا، میں نے دیکھا کہ زید کیا ہے؟ عالم، معلوم ہوا یہ کون سا دیکھنا مراد ہے؟ دل سے، یعنی میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے، میں نے مان لیا کہ زید عالم ہے۔ تو یہ مان لینے اور یقین کرنے کے معنیٰ میں ہے۔
یا وجدت، وجدت کا کیا معنیٰ؟ میں نے پایا۔ وجدت زيداً عالماً، میں نے زید کو عالم پایا، یہ افعالِ قلوب میں سے ہے، دو مفعول چاہتا ہے۔ اور پانا، کیا معنیٰ؟ یعنی دل سے ایک چیز کو ایسا پایا، یعنی میں نے مان لیا۔ اور کبھی وجدت بمعنیٰ خارج میں کوئی چیز گھمی ہوئی اپ کو مل جائے، اپ کہتے ہیں: میں نے اپنی کتاب کو پا لیا، یعنی کتاب مجھے مل گئی، تو پھر یہ ایک ہی مفعول چاہے گا، اب یہ افعالِ قلوب میں سے نہیں ہے۔
اور ان کے دو مفعولوں میں سے ایک کو حذف کرنا اس لیے نہیں جائز، وجہ سمجھ لیں بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ ان کے جو دو مفعول ہیں، وہ اپس میں مبتدا خبر کے درجے میں ہیں۔ ان کے دو مفعول مبتدا خبر کے درجے میں ہیں۔ علمت زيداً فاضلاً، ذرا علمت کو ہٹاؤ، زيداً فاضلاً، زیدٌ کو بناؤ مبتدا اور فاضلٌ کو بناؤ خبر: زيدٌ فاضلٌ، زید کیا ہے؟ فاضل ہے۔ یا علمت زيداً عالماً، میں نے یقین کیا کہ زید عالم ہے، ذرا علمت کو ہٹاؤ۔ زيداً عالماً، نصب کیوں پڑھ رہے تھے اپ؟ کیونکہ علمت نصب دے رہا تھا۔ اپ نے علمت کو ختم کیا، نصب بھی ختم: زيدٌ عالمٌ، زيدٌ مبتدا اور عالمٌ خبر، زید عالم ہے۔ یہ جو دونوں مفعول ہوتے ہیں، یہ کس درجے میں ہوتے ہیں؟ مبتدا خبر کے درجے میں۔ اسی لیے ان میں سے ایک کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز نہیں، کیونکہ مبتدا اور خبر دونوں ایک دوسرے کے، مبتدا اور خبر ملیں گے تو بات پوری ہوگی، مبتدا خبر نہیں ملیں گے تو بات بھی پوری نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں اگئی؟
دیکھیے بھئی کتاب پر: سیوم متعدی بہ دو مفعول، تیسرا وہ فعل جو متعدی ہو دو مفعول کو، کہ اقتصار بر یک مفعول روا نہ باشد، کہ اکتفا ایک مفعول پر جائز نہ ہو، واین در افعال قلوب است، اور یہ کس میں ہے؟ افعالِ قلوب میں ہے۔ چون علمت و ظننت و حسبت و خلت و زعمت و رأيت و وجدت۔ چون علمت زيداً فاضلاً، میں نے زید کو فاضل جانا، یعنی میں نے یقین کیا کہ زید فاضل ہے۔ و ظننت زيداً عالماً، اور میں نے گمان کیا کہ زید عالم ہے۔ بات سمجھ میں اگئی؟
اچھا، چلیے بس کریں۔ باقی انشاء اللہ اگلے سبق میں، اور کل پھر ان کا میں خلاصہ بھی بیان کر دوں گا اور آگے ابھی تفصیل کچھ باقی بھی ہے، تو وہ کل پڑھیں گے۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ اج اپ نے پڑھا کہ فعلِ مجہول جو ہے وہ فاعل کے بجائے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے اور باقی جو معمول ہیں ان سب کو فعلِ معروف کی طرح ہی نصب دیتا ہے۔ اور فعلِ مجہول کو فعلِ ما لم يسم فاعلہ کہتے ہیں، اور اس کا جو مرفوع ہے یعنی نائب الفاعل اس کو مفعولُ ما لم يسم فاعلہ کہتے ہیں۔
پھر انہوں نے اپ کو یہ بھی بتلایا کہ فعلِ متعدی چار قسم پر ہے: یا تو وہ متعدی ہوگا ایک مفعول کو، یا متعدی ہوگا دو مفعولوں کو جن میں سے ایک پر اکتفا جائز ہوگا، اور یا وہ متعدی ہوگا دو مفعولوں کو جن میں سے ایک پر اکتفا جائز نہیں، یا وہ متعدی ہوگا تین مفعولوں کو بھئی۔ تین مفعولوں کو۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔