Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 34
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی، آگے سبق کتاب پر: وَالحَالُ جُملَةً نِيز بَاشَد چُنانچه رَأَيْتُ الأَمِيرَ وَهُوَ رَاكِبٌ، وَتَمييز اِسمِست كه رَفعِ إِبهام كُنَد اَز عَدَد چُون عِندِي أَحَدَ عَشَرَ دِرهَماً، يَا اَز وَزن چُون عِندِي رِطلٌ زَيتاً، يَا اَز كَيل چُون عِندِي قَفِيزَانِ بُرّاً، يَا اَز مَسَاحَت چُون مَا فِي السَّمَاءِ قَدرُ رَاحَةٍ سَحَاباً، وَمَفعُول بِهِ اِسمِست كه فِعلِ فَاعِل بَر وِ وَاقِع شَوَد چُون ضَرَبَ زَيدٌ عَمرَاً۔ فعل کیا عمل کرتا ہے؟ یہ تفصیل ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ اور انہوں نے بتلایا کہ ہر فعل عمل کرتا ہے۔ اور فعل معروف جو ہے، خواہ لازم ہو خواہ متعدی، وہ وہ فاعل کو رفع دیتا ہے اور چھ چیزوں کو نصب دیتا ہے۔ وہ چھ چیزیں کون سی ہیں؟ نمبر ایک: مفعول مطلق۔ نمبر دو: مفعول فیہ۔ نمبر تین: مفعول معہ۔ نمبر چار: مفعول لہ۔ نمبر پانچ: حال۔ اور نمبر چھ: تمیز۔ یہ چھ چیزوں کو ہر فعل معروف نصب دیتا ہے، خواہ لازم ہو یا فعل متعدی۔ ہاں، فعل متعدی ایک ساتویں چیز، مفعول بہ کو بھی نصب دیتا ہے، مفعول بہ کو۔ اور گزشتہ سبق میں مصنف ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بتلایا، سب سے پہلے بتلایا کہ فاعل کسے کہتے ہیں۔ کہ فاعل وہ اسم ہے کہ جس سے پہلے فعل ہو اور اس فعل کا اسناد ہو رہا ہو اس اسم کی طرف، کس طریقے پر؟ قیام کے طریقے پر۔ کہ وہ فعل اس اسم کے ساتھ، یعنی فاعل کے ساتھ، قائم ہو، اس پر واقع نہ ہو۔ اس کے ساتھ قائم ہو۔ یہ قائم ہو، اس قید کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ نائب الفاعل کو نکال دیا، کیونکہ نائب الفاعل اس پر فعل واقع ہوتا ہے، وہ دراصل مفعول ہوتا ہے، فاعل نہیں ہوتا بھئی۔ اس کے بعد انہوں نے مفعول مطلق کے بارے میں بتلایا کہ وہ مصدر ہے جو فعل کے بعد آتا ہے اور اسی فعل کے معنی میں ہوتا ہے، جیسے ضربت ضرباً۔ اور مفعول فیہ وہ اسم ہے جس کے اندر اس فعل مذکور کو کیا جائے، اور یہ زمانے اور مکان کا نام ہے، زمانے اور جگہ کا نام ہے۔ اور اس کا دوسرا نام ظرف ہے۔ تو ظرف دو قسم پر ہو گیا: ایک ظرف زمان اور ایک ظرف مکان۔ اور ظرف مکان کی مثال جیسے جلست عندک، اور ظرف زمان کی مثال صمت يوم الجمعة۔ اس کے بعد مفعول معہ کے بارے میں بتلایا کہ مفعول معہ وہ اسم ہے جو واؤ بمعنی مع کے بعد واقع ہو۔ اس کے بعد مفعول لہ کے بارے میں بتلایا، مفعول لہ وہ اسم ہے، یا یوں کہیں وہ مصدر ہے کہ جو فعل کے بعد آتا ہے اور اس کی علت بیان کرتا ہے، جیسے ضربتہ تادیباً یا قعدت عن الحرب جبناً۔ اس کے بعد حال کی بحث آئی تھی، حال کے بارے میں انہوں نے تفصیل بیان کی کہ حال وہ نکرہ اسم ہے—حال ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ نکرہ—کہ حال وہ نکرہ اسم ہے جو فاعل کی حالت بیان کرے، یا مفعول کی حالت بیان کرے، یا دونوں کی حالت بیان کرے۔ اور جس کی حالت بیان کی جائے اس کو ذوالحال کہتے ہیں: جاء زید راکباً۔ یہ راکباً کیا ہے؟ حال۔ دیکھو، یہ ہے نکرہ۔ اور کس کی حالت بیان کی؟ فاعل کی: جاء زید۔ تو یہ زید کیا ہے؟ فاعل، اور اس کی حالت بیان ہو رہی ہے۔ اور جس کی حالت بیان ہو اسے ذوالحال کہتے ہیں، تو زید ہوا ذوالحال۔ زید ہوا ذوالحال۔ اور یہ ذوالحال جو ہے، انہوں نے آپ کو بتلایا، اکثر یہ معرفہ ہوتا ہے۔ اگر ذوالحال کبھی نکرہ آ جائے، تو ذوالحال بھی نکرہ، آگے حال جو آئے گا وہ بھی کیا ہے؟ نکرہ۔ تو وہاں موصوف صفت ہونے کا شبہ پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں حال کو ذوالحال پر مقدم کرنا واجب ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو، ایک ہوتی ہے صفت اور ایک ہے موصوف۔ عربی زبان میں موصوف پہلے آتا ہے اور صفت اس کے بعد آتی ہے۔ جبکہ اردو میں اس کا برعکس ہے: صفت پہلے آتی ہے اور موصوف بعد میں۔ مثلاً میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں "بہادر آدمی"، تو عربی میں کہوں گا: رجل شجاع۔ رجل ہے موصوف اور شجاع ہے اس کی صفت۔ اور یاد رکھو، موصوف صفت پر ایک ہی اعراب آتا ہے۔ جو اعراب موصوف پر ہوگا وہی اعراب صفت پر آئے گا۔ اگر موصوف پر رفع ہے تو صفت پر بھی کیا پڑھیں گے؟ رفع۔ اگر موصوف منصوب ہے تو صفت بھی منصوب آپ لے کر آئیں گے۔ اور اگر موصوف جو ہے وہ مجرور ہے تو صفت بھی مجرور لائیں گے۔ تو صفت جو ہوتی ہے وہ موصوف کے تابع ہوتی ہے، موصوف کے مطابق آتی ہے۔ موصوف پر جو اعراب وہی اعراب صفت پر۔ اور نیز موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ آتی ہے۔ اور موصوف اگر نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ۔ اسی طرح موصوف مذکر ہو تو صفت بھی مذکر آتی ہے۔ موصوف اگر مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث۔ توجہ ہے؟ صفت کس کے تابع ہوتی ہے؟ موصوف کے، اعراب کے اندر بھی، تعریف و تنکیر کے اندر بھی، اور تذکیر و تانيث میں بھی۔ اعراب بھی وہی آئے گا صفت پر جو موصوف کا ہے۔ نکرہ بھی اگر موصوف نکرہ تو صفت بھی نکرہ۔ موصوف معرفہ تو صفت بھی معرفہ۔ موصوف اگر مذکر تو صفت بھی مذکر۔ موصوف اگر مؤنث تو صفت بھی مؤنث۔ تو عربی میں موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد میں آتی ہے اور صفت موصوف کے تابع ہوتی ہے، یعنی اسی کے مطابق آتی ہے۔ جبکہ اردو میں برعکس ہے۔ اردو میں صفت پہلے آتی ہے اور موصوف بعد میں آتا ہے۔ جیسے رجل شجاع، رجل تھا موصوف اور شجاع ہے صفت۔ رجل کا معنی مرد، مرد بھئی، کوئی آدمی۔ اور شجاع کا معنی بہادر۔ تو دیکھو مرد، یہ لفظ پہلے آیا، اور شجاع یعنی بہادر عربی کے اندر بعد میں آیا۔ لیکن اردو میں کیا کرتے ہیں؟ اردو میں اگر آپ اس کو لے کر جائیں گے تو صفت کو پہلے لے آئیں گے، یعنی بہادر کو، اور آدمی کو اس کے بعد: "بہادر آدمی" یا "بہادر مرد"۔ تو اردو میں صفت مقدم ہے اور آدمی یا مرد جو موصوف ہے وہ مؤخر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عربی میں صفت کیا ہوتی ہے؟ مؤخر ہوتی ہے، اور موصوف مقدم۔ بات چل رہی تھی کہ ذوالحال بھی کبھی کبھار نکرہ آ جاتا ہے۔ حال تو آئے گا ہی ہمیشہ نکرہ۔ ذوالحال بھی اگر نکرہ آ جائے، تو ذوالحال پہلے آتا ہے اور اس کے بعد حال آتا ہے۔ تو ذوالحال بھی نکرہ آ گیا اور حال بھی کیا ہے؟ نکرہ۔ تو دیکھنے میں شبہ پڑے گا کہ شاید یہ موصوف صفت ہیں۔ سننے والے کو شبہ پڑے گا کہ شاید یہ موصوف صفت ہیں۔ حالانکہ آپ موصوف صفت بنانا چاہ رہے ہیں اس کو یا ذوالحال اور حال بنانا چاہ رہے ہیں؟ ذوالحال اور حال۔ تو کہنے والا تو حال اور ذوالحال بنانا چاہتا ہے، لیکن ذوالحال بھی نکرہ ہے اور حال بھی نکرہ، سننے والا سمجھے گا شاید یہ موصوف صفت ہیں۔ تو اس کو اشتباہ لگ سکتا ہے، اس کو غلطی لگ سکتی ہے، لہٰذا اس صورت میں حال کو مقدم کرنا واجب ہے۔ تو حال پہلے آ جائے گا اور ذوالحال بعد میں۔ توجہ ہے؟ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ذوالحال کبھی کبھار نکرہ بھی آ جاتا ہے۔ ذوالحال اکثر معرفہ ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار ذوالحال نکرہ بھی آ سکتا ہے۔ اور جب ذوالحال نکرہ آئے تو حال کو اس پر مقدم کرنا واجب ہے، حال کو اس پر مقدم کرنا واجب ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر حال کو مقدم نہیں کریں گے تو بعض صورتوں کے اندر موصوف صفت کا شبہ پڑے گا۔ توجہ ہے؟ دیکھو، حال تو ہوگا ہی نکرہ ہمیشہ۔ ذوالحال اکثر معرفہ ہوتا ہے، اکثر معرفہ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار ذوالحال بھی نکرہ آ جاتا ہے۔ تو ذوالحال بھی ہوا نکرہ، اور اس کے بعد حال آ رہا ہے وہ بھی کیا ہے؟ نکرہ۔ تو بعض صورتوں کے اندر یہاں شبہ پڑے گا کہ شاید یہ آپس میں ذوالحال اور حال نہیں ہیں، بلکہ یہ آپس میں موصوف صفت ہیں۔ آپس میں موصوف صفت ہیں۔ یاد رکھو، یہ جو موصوف صفت جو ہیں، عربی میں صفت بعد میں آتی ہے اور اردو میں صفت مقدم آتی ہے۔ تو موصوف پر اگر رفع ہو تو صفت پر بھی رفع ہوتا ہے۔ موصوف پر اگر نصب ہو تو صفت پر بھی نصب۔ موصوف پر اگر جر ہو تو صفت پر بھی جر۔ نیز موصوف صفت میں تعریف و تنکیر کے اندر بھی مطابقت ہوتی ہے۔ موصوف اگر معرفہ ہو تو صفت بھی کیا لائیں گے آپ؟ معرفہ۔ موصوف اگر نکرہ ہو تو صفت بھی کیا لائیں گے؟ نکرہ۔ اور نیز تذکیر و تانيث میں بھی مطابقت ہوتی ہے: موصوف اگر مذکر ہو تو صفت بھی مذکر لائیں گے، اور موصوف اگر مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث لائیں گے۔ تو عربی کے اندر صفت بعد میں آتی ہے، موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد میں۔ اور آپ نے پڑھا کہ حال جو ہے، حال، یہ فاعل یا مفعول بہ کی حالت بیان کرتا ہے۔ فاعل پر آتا ہے رفع، اور مفعول بہ پر آتا ہے نصب۔ تو لہٰذا جب ذوالحال نکرہ ہو اور مفعول بہ ہو، تو اس پر کیا پڑھیں گے ذوالحال پر؟ نصب۔ اور آگے جو حال آئے گا وہ بھی اس پر بھی نصب۔ تو دونوں میں موصوف صفت کا شبہ پڑے گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: رأيت رجلاً راكباً۔ اب رأيت فعل بافاعل، یہ رجلاً یہ ذوالحال ہے اور یہ مفعول ہے، منصوب ہے۔ آگے راكباً یہ حال ہے، یہ بھی منصوب، یہ بھی منصوب۔ تو آپ تو ذوالحال اور حال بنانا چاہتے ہیں، رجلاً کو ذوالحال اور راكباً کو حال، لیکن سننے والا اور پڑھنے والا یہ سمجھے گا کہ شاید یہ دونوں موصوف صفت ہیں۔ کیونکہ موصوف صفت پر ایک جیسا اعراب آتا ہے، یہاں پر بھی رأيت رجلاً راكباً، رجلاً پر بھی کیا ہے؟ نصب، اور راكباً پر بھی نصب۔ تو دونوں میں اعراب ایک جیسا۔ نیز تذکیر و تانيث میں بھی دونوں ایک جیسے: رجلاً مذکر تو راكباً بھی مذکر۔ نیز تعریف و تنکیر میں بھی ایک جیسے: رجلاً بھی نکرہ اور راكباً بھی نکرہ۔ تو سننے والا یہی سمجھے گا کہ یہ شاید موصوف صفت ہیں۔ رأيت رجلاً راكباً، سننے والا کیا سمجھے گا؟ رجلاً ہے موصوف اور راكباً ہے اس کی صفت۔ حالانکہ آپ کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ رجلاً ہے ذوالحال اور راكباً ہے حال۔ تو یہاں حالت نصبی میں، یعنی نصب والی حالت، یعنی مفعول بہ ہو جب ذوالحال، اس وقت موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں راكباً کو مقدم کرنا واجب، اور یوں کہیں گے: رأيت راكباً رجلاً۔ یہ راكباً مقدم آ گیا، اس نے مقدم ہونے نے بتلا دیا کہ یہ صفت نہیں ہے رجل کی، اس لیے کیونکہ موصوف صفت کے اندر ہمیشہ موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد میں۔ اگر یہ موصوف صفت ہوتے تو رجلاً پہلے ہوتا اور راكباً بعد میں، لیکن راكباً جب مقدم ہے، پتہ چل گیا یہ صفت نہیں ہے بلکہ یہ حال ہے۔ تو ذوالحال فاعل بھی ہو سکتا ہے اور مفعول بہ بھی۔ جب ذوالحال فاعل ہوگا اس پر تو آئے گا رفع: جاء رجلٌ راكباً۔ توجہ ہے؟ جاء رجلٌ راكباً، رجلٌ پر کون سا اعراب؟ رفع۔ اور راكباً پر کون سا اعراب؟ نصب۔ ان دونوں کا اعراب جب الگ الگ ہے، اسی سے پتہ چل گیا کہ یہ دونوں موصوف صفت نہیں ہیں۔ کیونکہ موصوف صفت کا تو اعراب ایک جیسا ہوتا ہے۔ رجلٌ کا رفع اور راكباً کا نصب یہ بتلا رہا ہے یہ موصوف صفت نہیں ہے، بلکہ یہ راكباً حال بن رہا ہے کس سے؟ رجل سے۔ توجہ ہے؟ دیکھو رجلٌ بھی نکرہ اور راكباً بھی نکرہ، اور رجلٌ مقدم اور راكباً مؤخر، لیکن پھر بھی موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑ رہا۔ جبکہ مفعول کی حالت میں موصوف صفت کا شبہ پڑتا تھا: رأيت رجلاً راكباً، وہاں حال کو اگر مؤخر کریں تو موصوف صفت کا شبہ پڑتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو جب ذوالحال مرفوع ہو، پھر موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑتا، کیونکہ حال پر نصب ہی بتلا دے گا کہ یہ حال ہے۔ لیکن جب ذوالحال منصوب ہو تو اس وقت شبہ پڑتا ہے۔ تو اس وقت پھر حال کو مقدم کرنا واجب۔ اور جب ایک حالت میں حال کو مقدم کرنا واجب ہوا، تو دوسری حالت یعنی رفع والی حالت میں بھی حال کو مقدم کرنا واجب ہو گیا، تاکہ دونوں صورتیں ایک جیسی ہو جائیں۔ یعنی جب بھی ذوالحال نکرہ آئے، حال کو مقدم کرنا واجب ہو، ورنہ کہیں واجب ہوگا اور کہیں واجب نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ جاء رجلٌ راكباً، یہاں موصوف صفت کا شبہ پڑ رہا ہے؟ نہیں۔ توجه ہے؟ جاء رجلٌ راكباً، رجلٌ ذوالحال ہے اور راكباً حال۔ تو جب ذوالحال پر رفع ہو، تو پھر اس وقت موصوف صفت ہونے کا شبہ نہیں۔ لیکن جب ذوالحال پر نصب ہو، رأيت رجلاً راكباً، یہاں کس چیز کا شبہ پڑتا ہے؟ موصوف صفت۔ تو جب ذوالحال پر نصب ہو تو اس وقت حال کو مقدم کرنا لازم ہوا۔ جب حالت نصبی میں، جب ذوالحال نکرہ ہو اور کس حالت میں ہو؟ نصبی حالت میں، تو حال کو مقدم کرنا واجب ہوا۔ جب ایک حالت میں حال کو مقدم کرنا واجب، تو دوسری حالت جس میں ذوالحال پر کیا ہو؟ رفع، ہے نکرہ ہی اور رفع ہے، تو اس حال میں بھی لازم قرار دے دیا کہ اس وقت بھی کیا کیا جائے؟ حال کو مقدم کیا جائے تاکہ دونوں ایک جیسے ہو جائیں۔ یہ نہیں کہ بعض جگہ حال مقدم ہو رہا ہے جب ذوالحال نکرہ ہے، اور بعض جگہ حال مقدم نہیں ہو رہا۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل یا مفعول کی۔ فاعل پر کون سا اعراب؟ رفع۔ اور مفعول پر؟ نصب۔ اور آگے خود حال پر کون سا اعراب آئے گا؟ نصب۔ تو جب ذوالحال کیا ہو؟ نکرہ، ذوالحال نکرہ ہو، انہوں نے بتایا حال کو مقدم کرنا واجب ہے۔ جاء رجلٌ راكباً، یوں نہیں کہیں گے، بلکہ کیا کہیں گے؟ جاء راكباً رجلٌ کہیں گے۔ یا اسی طرح رأيت راكباً رجلاً کہیں گے۔ بھئی کیوں؟ وجہ یہ کہ اگر حال کو مقدم نہ کریں، تو وہ صورت جس میں ذوالحال منصوب ہوتا ہے، تو آگے حال بھی منصوب ہوا، تو دونوں دیکھو دونوں نکرہ بھی ہیں، اور دونوں پر اعراب بھی ایک جیسا ہے اور دونوں تذکیر و تانیث میں بھی ایک جیسے ہیں۔ تو لہٰذا سننے والا اور پڑھنے والا کیا سمجھے گا؟ یہ شاید آپس میں کیا بن رہے ہیں؟ موصوف صفت، حالانکہ آپ تو موصوف صفت نہیں بنا رہے، بلکہ ایک کو ذوالحال اور دوسرے کو حال بنا رہے ہیں۔ جب ذوالحال منصوب ہو، اس وقت حال کو مقدم کرنا واجب ہے تاکہ التباس سے، اشتباہ سے بچ جائیں۔ تو جب اس ایک حالت میں حال کو مقدم کرنا لازم ہوا، تو دوسری حالت میں، یعنی جس میں ذوالحال پر رفع ہے، جہاں موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑتا، وہاں پر بھی مقدم کرنا واجب ہوا۔ پھر سنو حاصل کلام۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ حال تو ہمیشہ نکرہ ہوتا ہے، لیکن ذوالحال بھی کبھی کبھار نکرہ آ جاتا ہے۔ اس صورت میں حال کو ذوالحال پر مقدم کرنا واجب ہے تاکہ کہیں موصوف صفت کا شبہ نہ پڑے۔ آپ کے ذہن میں سوال آ سکتا ہے کہ ذوالحال اگر فاعل ہو، تو اس پر تو رفع آئے گا، وہاں تو موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑتا۔ تو جواب میں نے دے دیا کہ جب ذوالحال پر نصب ہو، اس وقت موصوف صفت ہونے کا شبہ پڑتا ہے، تو اس وقت حال کو مقدم کرنا واجب۔ جب اس وقت حال کو مقدم کرنا واجب، تو جس وقت ذوالحال پر رفع ہو، اس وقت بھی حال کو مقدم کرنا واجب ہوا، جب دونوں نکرہ ہوں، جب ذوالحال نکرہ ہو۔ جب معرفہ ہو، پھر تو مقدم کرنا واجب نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں، جی گزشتہ سبق کی آخری سطر بھی دیکھ لیں۔ "وفاعل ومفعول را ذوالحال گویند" اور فاعل اور مفعول کو ذوالحال کہتے ہیں۔ "وآن غالباً معرفہ باشد" اور وہ اکثر معرفہ ہو گا۔ "واگر نکرہ باشد" اور اگر ذوالحال نکرہ ہو، "حال را مقدم دارند" تو حال کو مقدم رکھتے ہیں، "چوں جاءنی راکباً رجلٌ"۔ "جاءنی راکباً رجلٌ"۔ جی، ترکیب کیجیے۔ "جاء" فعل۔ آگے یہ نون جو ہے، اس کو نونِ وقایہ کہتے ہیں۔ اور یہ یا ضمیر جو ہے، یہ مفعول بہ ہے بھئی، مفعول بہ۔ اور مفعول بہ کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو یہ منصوب ہے محلاً۔ "جاء" فعل۔ نون وقایہ۔ یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ اور آخر میں آ رہا ہے "رجلٌ"، یہ مرفوع ہے، فاعل ہے "جاء" کے لیے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعل کے لیے فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی۔ اب مجھے بتائیے، یہ "رجلٌ"، یہ ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اسمِ ظاہر ہے۔ اور اسمِ ظاہر کون سے صیغے کے لیے فاعل بن سکتا ہے؟ پہلے یا چوتھے کے لیے۔ تو "جاء"، دیکھو یہ پہلا صیغہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو فاعل جب اسمِ ظاہر ہو، تو فعل ہمیشہ پہلا یا چوتھا صیغہ آئے گا۔ مذکر ہو تو پہلا صیغہ اور مؤنث ہو تو چوتھا صیغہ۔ تو یہ "رجلٌ" ہے مرفوع لفظاً فاعل۔ اور "راکباً" منصوب لفظاً یہ حال ہے، کس سے؟ "رجلٌ" سے۔ بھئی بتایا نا، حال کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل اور مفعول کی۔ اور فاعل، تو یہاں پر کون ہے؟ "رجلٌ" فاعل ہے۔ جی، تو یہ اس کی حالت بیان کر رہا ہے۔ تو ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ "جاء" کے لیے۔ "جاء" فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ یہ نونِ وقایہ ہے بھئی، نونِ وقایہ۔ نونِ وقایہ اس کے بارے میں تفصیل سن لیں بھئی۔ "جاء" کیا ہے؟ فعلِ ماضی۔ اور آپ نے پڑھا ہے ماضی مبنی ہے، بلکہ مبنی الأصل ہے۔ اور اس کے آگے مفعول آ رہا ہے، "یا" بھئی، یا ضمیر۔ اور "یا" اپنے سے ماقبل کسرہ چاہتی ہے۔ "کتابی"، کیا معنی؟ میری کتاب۔ "قلمی"، کیا معنی؟ میرا قلم۔ تو دیکھو "یا" سے پہلے "کتابی" کی با کے نیچے زیر آ گئی۔ "یا" سے پہلے "قلمی" کی میم پر کیا آ گئی؟ زیر آ گئی۔ تو "یا" اپنے سے ماقبل کسرہ چاہتی ہے۔ تو "جاءنی"، یہ "جاء" کا مفعول کیا آ رہا ہے؟ "یا" ہے۔ "یا" اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ چاہتی ہے۔ اور "جاء"، یہ تو مبنی ہے، یہ اپنے آخر میں کسرہ آنے نہیں دے رہا۔ یہ ہمزہ پر ہم کسرہ نہیں پڑھ سکتے کیونکہ ماضی ہے، مبنی ہے، اور مبنی کی حالت بدلتی نہیں۔ تو مبنی کا آخر برقرار رہتا ہے۔ تو پھر اب کیا کریں؟ "یا" اپنے سے ماقبل کسرہ چاہتی ہے، اور "جاء" اس کسرہ کو آنے نہیں دے رہا۔ تو پھر اس صورت میں درمیان میں نون لے آتے ہیں، اور وہ کسرہ اس نون کو دے دیتے ہیں۔ تو اس سے دونوں کا مسئلہ حل ہو گیا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں "جاءنی"، دیکھو اب "یا" سے ماقبل کسرہ آ گیا، "یا" کا مسئلہ بھی حل ہوا۔ اور "جاء" چاہتا تھا میرے آخر میں، میرا آخر نہ بدلے، اس کا آخر بھی بچ گیا، اس کا آخر نہیں بدلا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نونِ وقایہ، نونِ وقایہ۔ یہ جب ماضی کے بعد، جب یا ضمیر آ جائے، ضمیرِ متصل، تو پھر نونِ وقایہ لے آتے ہیں۔ کس کے بعد؟ ماضی کے بعد، اگر کیا آ جائے؟ یا ضمیرِ متصل آ جائے، تو درمیان میں کیا لے آتے ہیں؟ نونِ وقایہ۔ کیوں لاتے ہیں؟ "وقی یقِی وقایة"، وقایہ کا معنی ہے بچانا، بچانا۔ اس نون نے بھی ماضی کے آخر کو بدلنے سے بچا لیا۔ اس نون نے بھی... توجہ ہے؟ تو پھر آواز کیوں نہیں آتی؟ تو "جاءنی"، دیکھو یہ نونِ وقایہ ہے۔ وقایہ کا کیا معنی؟ بچانا۔ اس نے بھی کیا کیا؟ بچا لیا۔ کس کو؟ ماضی کے آخر کو بدلنے سے، یا یوں کہیں کسرے سے بچا لیا۔ اس لیے اس کو نونِ وقایہ کہتے ہیں۔ پھر سنو ترکیب۔ "جاء" فعل۔ نون وقایہ۔ یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ آگے "رجلٌ" مرفوع لفظاً فاعل ہے، اور کیا بن رہا ہے؟ ذوالحال۔ اور "راکباً" منصوب لفظاً یہ حال ہے، کس سے؟ "رجلٌ" فاعل سے۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ کیا بن گیا؟ فاعل بن گیا "جاء" کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ "جاءنی" آیا میرے پاس، "راکباً رجلٌ" ایک آدمی سوار ہو کر۔ آیا میرے پاس ایک آدمی سوار ہو کر۔ تو دیکھو، یہاں پر حال کو مقدم کیا گیا ذوالحال پر۔ اگرچہ شبہ نہیں پڑتا، کیونکہ "راکباً" پر ہے نصب اور "رجلٌ" پر ہے رفع۔ اگر "راکباً" مؤخر بھی ہوتا، تو بھی موصوف صفت کا شبہ نہیں پڑ سکتا تھا۔ لیکن ایک حالت میں شبہ پڑتا تھا، اور وہ کون سی حالت؟ جب ذوالحال کیا ہو؟ منصوب۔ جب ذوالحال منصوب ہو، تو آگے حال بھی، پر بھی نصب ہے، تو پھر وہاں موصوف صفت کا شبہ پڑ سکتا تھا۔ لہٰذا وہاں اس کا کیا علاج کیا گیا؟ کہ حال کو ذوالحال پر مقدم کرنا لازم قرار دیا، یعنی جب ذوالحال نکرہ تھا۔ تو جب اس حالت میں ذوالحال پر حال کو مقدم کرنا واجب قرار دیا، تو باقی جگہ بھی ذوالحال جب نکرہ ہو، تو حال کو مقدم کرنا واجب ہے۔ تو یہاں "رجلٌ" دیکھو نکرہ ہے، اس لیے حال کو مقدم کرنا واجب ہوا۔ "وحال جملہ نیز باشد" اور حال جملہ بھی ہو گا، "چناںچہ" جیسے کہ "رأیت الأمیر وهو راکبٌ"۔ بھئی، ابھی تک انہوں نے یہ بتلایا تھا کہ حال جو ہے، وہ فاعل یا مفعول کی حالت بیان کرتا ہے۔ اور جتنی مثالیں انہوں نے ذکر کیں، اس میں حال مفرد تھا، جملہ نہیں تھا۔ "جاء زیدٌ راکباً"، یہ "راکباً" کیا ہے؟ حال ہے۔ اور یہ جملہ ہے یا مفرد ہے؟ مفرد ہے۔ اور "ضربت زیداً مشدوداً"، یہ "مشدوداً" کیا ہے؟ حال ہے اور مفرد ہے۔ اور "لقیت زیداً راکبینِ"، یہ "راکبینِ" بھی کیا ہے؟ مفرد ہے، حال ہے اور مفرد ہے۔ تو اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ حال ہمیشہ مفرد ہی نہیں آتا، کبھی کبھار پورا جملہ بھی حال آ جاتا ہے، پورا جملہ بھی۔ جیسے یہ مثال آ گئی: "رأیت الأمیر وهو راکبٌ"۔ "رأیت الأمیر"، ترکیب کیا ہو گی؟ "رأیتُ" فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ "الأمیرَ"، یہ منصوب میں کیوں پڑھ رہا ہوں؟ مفعول بہ ہے، شاباش! اور مفعول بہ منصوب ہوتا ہے۔ تو "الأمیرَ" منصوب، کون سا منصوب؟ لفظاً ہے۔ لفظوں میں ہم تلفظ کر رہے ہیں اس کے نصب پر، "الأمیرَ"۔ تو "الأمیرَ" منصوب لفظاً مفعول بہ ہے، لیکن پہلے اس کو ذوالحال بنا دو، کیونکہ آگے حال آ رہا ہے۔ تو "الأمیرَ" منصوب لفظاً ذوالحال۔ واؤ، اس واؤ کو واؤِ حالیہ کہتے ہیں، حال والا واؤ۔ یہ واؤ کون سا ہے؟ حال والا واؤ بھئی۔ بھئی لاہوری کا کیا معنی؟ لاہور والا۔ اسی طرح یہ واؤ حالیہ ہے، یعنی حال والا۔ یہ "هو راکبٌ"، یہ پورا جملہ ہے۔ "هو" مبتدا، اور "راکبٌ" اس کی خبر۔ "هو" کا اعراب بولو۔ مرفوع محلاً مبتدا۔ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ میں نے آپ کو بتایا تھا، جب کسی لفظ کے بارے میں آپ کو پتہ چل جائے یہ مبتدا ہے، ساتھ ہی آپ کو اس کا اعراب بھی پتہ چل جانا چاہیے کہ اس کا کیا اعراب ہے۔ اس پر رفع آنا ہے ہر حال میں۔ ہاں، رفع کون سا آئے گا؟ لفظاً، یا تقدیرًا، یا محلاً۔ وہ آپ نے غور کرنا ہے کہ یہ معرب ہے یا مبنی۔ اگر معرب ہے، تو اعراب اس میں یا لفظاً آتا ہے یا تقدیرًا، جیسے وہ 16 قسموں میں تھا۔ اور اگر وہ مبنی ہے، تو اعراب کیسے آئے گا؟ محلاً۔ تو یہ "هو" کیا ہے؟ مبتدا، میں نے آپ کو بتا دیا۔ اب اعراب آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ مبتدا ہے تو اعراب کیا ہو گا؟ مرفوع۔ اور پھر دیکھو، محلاً ہے، لفظاً ہے یا تقدیرًا؟ تو آپ نے غور کیا تو "هو" تو ضمیر ہے، اور ضمیر پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً۔ تو "هو" ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ اور "راکبٌ" خبر، اعراب بولو۔ مرفوع لفظاً خبر۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ خبر ہے، خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، کر کے دکھاؤ۔ "راکبٌ"، دیکھو سننے سے ہی پتہ چل گیا آپ نے رفع پڑھا۔ اور نصب پڑھیں، "راکباً"، دیکھو سننے سے ہی پتہ چل گیا آپ نے نصب پڑھا ہے۔ اور جر پڑھیں، "راکبٍ"۔ تو "راکبٌ"، "راکباً"، "راکبٍ"، دیکھو سننے سے اعراب کا پتہ چل رہا ہے۔ تو یہ مرفوع ہے لفظاً، اور یہ خبر ہے۔ مبتدا خبر مل کر یہ حال ہوا، کس سے؟ ذوالحال "الأمیرَ" سے۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ ہوا۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ۔ "الأمیرَ" پر نصب کیوں پڑھا تھا؟ مفعول بہ تھا نا، تو اب حال کو جوڑ کر بنا دو۔ تو ذوالحال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ ہوا "رأیتُ" فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے کیسے پڑھیں گے؟ "رأیت الأمیر وهو راکبٌ"۔ ترجمہ کریں گے: "رأیت الأمیر"، میں نے امیر کو دیکھا، امیر یعنی سردار۔ اسی سے ہے امیر المؤمنین، امیر المؤمنین۔ میں نے امیر المؤمنین کو دیکھا "وهو راکبٌ"، اس حال میں کہ وہ سوار تھے۔ یعنی میں نے امیر المؤمنین کو سواری کی حالت میں دیکھا، یا یوں کہو، میں نے امیر المؤمنین کو سواری کرتے ہوئے دیکھا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو کبھی کبھار حال جملہ بنتا ہے، جملہ بنتا ہے۔ اور یہ جو واؤ آیا، اس کو واؤِ حالیہ کہتے ہیں، اور یہ ربط دیتا ہے حال کے ساتھ۔ یاد رکھو، جب حال جملہ ہو، ابھی انہوں نے بتایا آپ کو کہ کبھی کبھار حال کیا بنتا ہے؟ جملہ۔ یاد رکھو، جملہ جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو، درمیان میں ربط چاہیے۔ کیا چاہیے؟ جملے میں بات پوری ہوتی ہے۔ "زیدٌ قائمٌ"، کیا ترجمہ؟ زید کھڑا ہے۔ اس جملے کو کسی اور چیز سے جوڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے اندر بات پوری ہے۔ آپ کسی کو بھی کہیں "زیدٌ قائمٌ"، یا کہیں "زیدٌ عالمٌ"۔ "زیدٌ" ہوا مبتدا، اور "عالمٌ" ہوئی اس کی خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ، اور جملے میں بات پوری ہو گئی، زید عالم ہے، یا زید قائم ہے، زید کھڑا ہوا ہے۔ یہ کسی سے جوڑنے کا محتاج نہیں، اس میں بات پوری ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو کسی سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو درمیان میں ربط چاہیے۔ کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، جوڑ چاہیے۔ جیسے، جیسے ایک ریل گاڑی کا انجن ہوتا ہے، اور پیچھے آٹھ دس ڈبے ہوتے ہیں۔ انجن اور ڈبوں کے درمیان کیا چاہیے؟ ربط اور جوڑ چاہیے۔ جوڑ ہو گا تو ریل گاڑی کو لے کر وہ انجن چلے گا۔ اگر جوڑ نہیں، تو انجن ریل گاڑی کو لے کر نہیں چل سکتا۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، جب آپ ترکیب کر رہے ہوں، اور آپ پورے جملے کو اٹھا کر کسی چیز سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو درمیان میں ربط ضروری ہے۔ کیا ضروری؟ ربط ضروری ہے۔ تو یہاں پر بھی، آپ "وهو راکبٌ"، یہ پورا جملہ جو ہے، یا یوں کہیں "هو راکبٌ"، یہ "هو راکبٌ" پورا جملہ ہے۔ آپ اس کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ حال، اور حال کس سے جڑتا ہے؟ ذوالحال سے۔ تو آپ اس کو اٹھا کر ذوالحال سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو درمیان میں ربط ضروری ہے، جوڑ ضروری ہے۔ اور ربط دینے کی کئی صورتیں ہوتی ہیں، لیکن حال کے اندر آپ کو بتائیں گے، حال کے اندر ربط یا تو واؤ کے ذریعے دیں گے یا ضمیر کے ذریعے۔ کس کے ذریعے؟ واؤ کے ذریعے یا ضمیر کے ذریعے۔ یعنی درمیان میں واؤ لے آئیں گے، جیسے یہاں "وهو"، یہ واؤ کس لیے لائے ہیں؟ ربط دینے کے لیے۔ اور کبھی کبھار ضمیر لے آتے ہیں، ضمیر۔ اور کون سی ضمیر؟ جی، ضمیر لے آئیں گے، ضمیر غائب کی بھئی، جو ذوالحال کی طرف لوٹ رہی ہو۔ آپ نے پڑھا تھا ضمیریں تین قسم کی ہیں۔ ایک... ایک متکلم کی ضمیر ہے۔ ایک مخاطب کی ضمیر ہے، اور ایک غائب کی ہے۔ اس میں متکلم کی ضمیر ہے، اس میں پھر دو صورتیں ہیں، یا واحد متکلم ہے یا جمع متکلم۔ مخاطب کی ضمیر ہے، وہ پھر چھ قسم کی ہو گئی، کون سی؟ أنت، أنتَ، أنتما، أنتم، أنتِ، أنتما، أنتنَّ۔ واحد ہو گی، تثنیہ ہو گی، جمع ہو گی، پھر مذکر ہو سکتی ہے یا مؤنث۔ غائب میں بھی اسی طرح ہے، هو،هما، هم، هي، هما، هنَّ۔ یا مفرد ہو گی، یا تثنیہ، یا جمع، یا مذکر ہو گی، یا مؤنث۔ تو بہرحال جو بھی ہے، حاصلِ کلام یہ ضمیریں تین قسم کی ہیں۔ یا کس کی؟ متکلم کی، یا مخاطب کی، یا غائب کی۔ تو تین ہی قسم کی ضمیریں ہیں۔ اور ان میں یاد رکھو، جو غائب کی ضمیر ہے، اس کے لیے مرجع کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس چیز... کوئی چیز پہلے ذکر ہو، پھر ہی غائب کی ضمیر لا سکتے ہیں۔ متکلم اور مخاطب ایک دوسرے کے سامنے سامنے ہیں۔ دیکھو میں بات کر رہا ہوں، میں ہوں متکلم، اور آپ سب میرے مخاطب ہیں، میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔ تو متکلم اور مخاطب ایک دوسرے کے سامنے... ہوتے ہیں۔ تو متکلم اور مخاطب ایک دوسرے کے سامنے سامنے ہوتے ہیں۔ میں تقریر کر رہا ہوں۔ تقریر کے دوران میں انا کہتا ہوں یعنی "میں"۔ تو اپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے کہ "میں" سے کون مراد ہے؟ یہ بات کرنے والا اپنی بات کر رہا ہے، یہ مراد ہے۔ اور میں اپ لوگوں سے بات کر رہا ہوں، تو میں "اپ"، "اپ" بار بار کہہ رہا ہوں یا نہیں؟ تو یہ "اپ" سے اپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے میں کس کو، اس سے کون مراد ہے؟ مخاطب جتنے ہیں سب مراد ہیں۔ تو متکلم اور مخاطب ایک دوسرے کے سامنے سامنے ہوتے ہیں۔ وہاں متکلم کی ضمیر استعمال کرے، انا کہے، تو سننے والا سمجھ جاتا ہے یہ متکلم اپنے بارے میں کہہ رہا ہے۔ اور انت یا انتما وغیرہ کہے، تو سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ یہ ہماری بات کر رہا ہے۔ لیکن جب ہوا غائب کی ضمیر لائیں، تو اس کے لیے مرجع چاہیے کہ ہوا سے کون مراد ہے؟ ہوا سے تو زید بھی مراد ہو سکتا ہے، بکر بھی مراد ہو سکتا ہے، خالد بھی مراد ہو سکتا ہے، کوئی اور چیز بھی مراد ہو سکتی ہے۔ تو غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے۔ کیا چاہیے؟ مرجع، یعنی جس کی طرف وہ ضمیر لوٹ رہی ہے کہ وہ کون وہ مراد ہے؟ تو پہلے کسی کا ذکر ہو، تو پہلے کسی کا ذکر ہوتا ہے، پھر اس کے بعد غائب کی ضمیر لاتے ہیں، فوراً غائب کی ضمیر نہیں لاتے۔ اپ اپنے ایک ساتھی کو ملے، اور ملتے ہی اس نے اپ سے کہا کہ وہ میرے گھر ایا تھا۔ اپ کا ساتھی کہے گا بھئی کون؟ کس کی بات کر رہے ہیں؟ کیوں؟ کیونکہ کسی کا ذکر ایا ہی نہیں اور اپ نے فوراً غائب کی ضمیر استعمال کر لی۔ تو غائب کی ضمیر کا پتہ ہی نہیں چلے گا جب تک اس کے لیے کوئی مرجع پہلے ذکر نہ کیا جائے۔ ہاں، اپ کا ساتھی اپ کو ملا اور اپ کو بتایا کہ زید بیمار ہے، کل وہ میرے گھر ایا تھا۔ کل وہ، اب اپ سمجھ گئے کہ نہیں؟ کہ وہ سے کون مراد ہے؟ زید، کیونکہ ابھی ابھی اس کا ذکر ہوا۔ تو غائب کی ضمیر کے لیے پہلے مرجع چاہیے۔ ایک چیز پہلے ذکر ہونی چاہیے، پھر اس کے لیے کون سی ضمیر لے کر آتے ہیں؟ غائب کی۔ متکلم کی ضمیر کے لیے مرجع نہیں چاہیے کیونکہ متکلم بات کرنے والا ہے۔ مخاطب کی ضمیر کے لیے مرجع نہیں چاہیے کیونکہ مخاطب اس کے سامنے موجود ہے۔ ہاں، غائب کی ضمیر کے لیے مرجع چاہیے کہ بھئی وہ، ہوا یا ہما یا ہم، وہ سب کون ہیں وہ سب بھئی؟ اس کے لیے مرجع چاہیے۔ تو پہلے غائب کا کوئی ذکر اتا ہے، پھر اس کے بعد اس کے لیے ضمیر استعمال کی جاتی ہے۔ تو مرجع کس کا ہوتا ہے؟ غائب کے ضمیر کا، متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں۔ یہ نہ ہو اپ سے کوئی پوچھے، متکلم کی ضمیر لکھی ہو اور اپ سے پوچھے اس کا مرجع کیا ہے؟ اور اپ سوچ میں ڈوب جائیں۔ وہ کہے گا معلوم ہوا اس کو نحو کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ یا انت ضمیر لکھی ہو اور اپ سے پوچھے، ہاں بھئی! اس ضمیر کا مرجع بتاؤ؟ اور اپ سوچ میں ڈوب جائیں، وہ سمجھ جائے گا اس کو نحو کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مرجع متکلم یا مخاطب کی ضمیر کا نہیں ہوتا۔ اپ سے کہے انت ضمیر کا مرجع بتلاؤ، اپ کہیں گے بھئی! یہ مخاطب کی ضمیر ہے، اس کا مرجع نہیں ہوتا۔ انت مخاطب جو سامنے ہو جس سے بات کی جا رہی ہو وہ مراد ہوتا ہے۔ اور انا لکھا ہو یا نحن لکھا ہو اور وہ کہے یہ ضمیر متکلم کی ہے اس کا مرجع بتاؤ، تو اپ کہیں بھئی! یہ متکلم کی ضمیر ہے، متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا۔ متکلم بات کرنے والے کو کہتے ہیں، تو وہ جس سے بات کر رہا ہے وہ بھی سامنے ہوتا ہے اور جس سے بات کر رہا ہے وہ بھی سامنے۔ ہاں، ہوا غائب کی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے، اس کا ذکر پہلے ہونا چاہیے۔ اگر وہ پہلے ذکر نہیں، تو پھر ہوا لانا بیکار ہوگا، کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا ہوا سے کون مراد ہے۔ تو ہوا کے لیے ہمیشہ، غائب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مرجع۔ تو بات چل رہی تھی کہ حال جب جملہ ہو۔ حال کیا واقع ہو؟ جملہ۔ تو جملہ میں نے بتایا مستقل ہوتا ہے، اس میں بات پوری ہوتی ہے، وہ کسی چیز سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن اپ اس کو ذوالحال سے جوڑنا چاہتے ہیں، اپ ایک جملے کو حال بنانا چاہتے ہیں، تو ذوالحال کے ساتھ ربط ضروری ہے اور ربط کی پھر دو صورتیں ہیں۔ کبھی اس جملے کے اندر غائب کی ضمیر لے آتے ہیں جو اس ذوالحال کو لوٹتی ہے۔ جیسے یہاں دیکھ لو: رأيت الأمیر وهو راكب۔ وہو راكب، یہاں دیکھو ہوا راکب، یہ ہوا ضمیر جو ہے، یہ امیر کو لوٹ رہی ہے۔ میں نے امیر کو دیکھا اس حال میں کہ وہ سوار تھے۔ اس حال میں کہ وہ سوار تھے، کس کو اشارہ ہو رہا ہے؟ امیر کو، دیکھو اس ہوا ضمیر نے بھی ربط دیا اور نیز یہ واؤ جو ہے یہ بھی ربط کے لیے اگیا۔ تو جملہ جب بھی حال واقع ہو، تو ذوالحال کے ساتھ اس کا ربط ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ جملہ جب بھی حال واقع ہو، تو ذوالحال کے ساتھ اس کا ربط ضروری ہے اور وہ ربط کبھی واؤ کے ذریعے دیتے ہیں اور کبھی ضمیر کے ذریعے اور کبھی دونوں کے ذریعے دیتے ہیں۔ یہاں دونوں کے ذریعے ربط دے دیا، واؤ بھی لے آئے اور ہوا راکب کے اندر ہوا ضمیر بھی لے آئے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو کہتے ہیں: والحال جملة نیز باشد، اور حال جملہ بھی ہوگا۔ چنانچہ رأيت الأمیر وهو راكب، میں نے امیر کو دیکھا وہو راكب اس حال میں کہ وہ سوار تھے۔ اس حال میں کہ وہ سوار تھے، ہم عموماً اردو میں یہ ترجمہ کرتے ہیں لیکن یہ استعمال نہیں ہوتا، لیکن طلباء کو سمجھانے کے لیے یہ ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ طالب علم سمجھ جائے کہ یہ کیا واقع ہو رہا ہے؟ یہ حال ہے، حال ہے۔ با محاورہ جب ترجمہ کریں تو وہاں اپ نے ایسا نہیں کرنا، طلباء کو سمجھانے کے لیے بے شک یہ ترجمہ کریں کہ اس حال میں کہ وہ سوار، اس حال میں، جیسے ہی میں نے یہ لفظ بولا طالب علم سمجھ گیا کہ یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ لیکن عام ادمی کے سامنے کہیں گے تو وہ حیران ہوگا یہ کیسا ترجمہ کر رہا ہے؟ تو وہاں حال کو جملے کے اندر لے آئیں: رأيت الأمیر وهو راكب، میں نے امیر کو سواری کرتے ہوئے دیکھا۔ طریقہ سمجھ میں ایا؟ پھر سنو! حال کبھی کبھار جملہ واقع ہوتا ہے اور جملہ من حیث الجملہ مستقل ہوتا ہے، اس میں بات پوری ہوتی ہے، وہ کسی چیز سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن اپ اس جملے کو حال بنانا چاہتے ہیں اور حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذوالحال سے، تو یہاں بھی ربط ضروری ہے اور ربط کتنی چیزوں کے ذریعے دیا جا سکتا ہے؟ دو چیزوں سے، جب جملہ حال بن رہا ہو، کبھی تو واؤ کے ذریعے ربط دیتے ہیں اور کبھی ضمیر کے ذریعے اور کبھی دونوں کے ذریعے۔ ایک اور بات یاد رکھیں، جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو، درمیان میں ربط ضروری ہے۔ یہاں تو کس سے جوڑا؟ ذوالحال سے۔ یاد رکھو، کبھی پورا جملہ مبتدا کی خبر بنتا ہے۔ کبھی پورا جملہ مبتدا کی خبر بنتا ہے۔ تو اپ پورے جملے کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مبتدا سے۔ پورا جملہ جب خبر بن رہا ہے اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو گویا اپ پورے جملے کو اٹھا کر مبتدا سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو وہاں بھی ربط ضروری ہے اور اس جملے میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے غائب کی جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو لوٹے، صورت سمجھ میں اگئی؟ اسی طرح پورا جملہ کبھی کبھار صفت بنتا ہے۔ اور صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے، تو وہاں پر بھی اس جملے کا موصوف سے ربط ضروری ہے، تو اس جملے میں کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ موصوف۔ اسی طرح پورا جملہ صلہ بنتا ہے۔ اس میں موصول اتا ہے اور اس میں موصول کے بعد اس کا صلہ، تو پورا جملہ کبھی صلہ بنتا ہے اور صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول سے، تو وہاں بھی کوئی ربط ہونا چاہیے موصول کے ساتھ اور کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اسم موصول کو لوٹے۔ توجہ ہے؟ پورا جملہ کبھی کبھار خبر بنتا ہے، کبھی حال بنتا ہے، کبھی صفت بنتا ہے اور کبھی صلہ بنتا ہے۔ پھر دہرائو! پورا جملہ کبھی کبھار خبر بنتا ہے، کبھی صفت کہہ لو، پھر دہرائو! پورا جملہ کبھی خبر بنتا ہے، کبھی پورا جملہ صفت بنتا ہے، کبھی پورا جملہ حال بنتا ہے اور کبھی پورا جملہ صلہ بنتا ہے۔ بہرحال، جملہ جو بھی بنے اس کو جس چیز سے جوڑ رہے ہیں، درمیان میں ربط ضروری ہے اور ربط عموماً غائب کی ضمیر کے ذریعے دیا جاتا ہے کہ اس جملے میں کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اس چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ اپ اس کو جوڑ رہے ہیں۔ جب پورا جملہ خبر بنے، تو خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو اس میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو۔ اور اگر پورا جملہ صفت بنے، تو صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے، تو اس جملے میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے غائب کی جو موصوف کو لوٹے۔ اور اگر پورا جملہ حال بنے، تو حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذوالحال سے، تو اس جملے میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو ذوالحال کو لوٹے۔ اور اگر پورا جملہ صلہ بن رہا ہے، تو صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول سے، تو اس میں کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو اس کو موصول کے ساتھ ربط دے دے، اس کے ساتھ جوڑ دے۔ جیسے بھئی! زید ضرب، زید ضرب، ترکیب کیجیے! زید ضرب، یہ زید ضرب کے لیے فاعل بن سکتا ہے؟ نہیں بن سکتا، کیوں نہیں بن سکتا؟ کیونکہ فاعل ہمیشہ فعل کے بعد اتا ہے اور زید ضرب، یہاں تو زید ضرب پر مقدم ہے۔ پھر اس صورت میں اس کو مبتدا بنا دو، اور مبتدا پر کون سا اعراب اتا ہے؟ رفع، اسی لیے میں نے "زیدٌ" پڑھا۔ زیدٌ، اعراب بولو! مرفوع لفظاً مبتدا۔ اگے، ضرب فعل، فعل کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل، اگے کوئی فاعل ا رہا ہے؟ نہیں، پھر کیا کریں؟ اسی کے اندر ہوا ضمیر نکال لیں۔ زید کو فاعل نہیں بنا سکتے کیونکہ وہ تو مقدم ہے، تو پھر اسی کے اندر کیا کرو؟ ہوا ضمیر نکال لو۔ ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ تو اس کے اندر ہوا ضمیر نکال لیں، اس کا اعراب بولو! مرفوع محلاً، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنی ہے، ضمیر ہے، تو مرفوع محلاً فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، اپ پورے جملے کو خبر بنا رہے ہیں، اپ پورے جملے کو مبتدا سے جوڑ رہے ہیں، تو پورا جملہ ہو کر یہ خبر۔ فوراً اپ کا ساتھی کہے گا، نہیں بھئی! یہ خبر نہیں بن سکتی کیونکہ اپ نے ربط نہیں دیا، ہم نے پڑھا ہے کہ جملے کو جب کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا ضروری؟ ربط ضروری، اپ نے کوئی ربط نہیں دیا، ایک طرف ہے زیدٌ مبتدا، دوسری طرف ضرب پورا جملہ ہے، اپ اس کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ مبتدا کی خبر، اس سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو اس جملے کا ربط چاہیے زید کے ساتھ۔ تو ربط کیا ہے؟ اسی کے اندر جو ہوا ضمیر ہے ضرب کے اندر، وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو لوٹ رہی ہے، دیکھو ربط اگیا۔ اپ نے صرف بتانا تھا کہ ہوا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو، بس اسی سے ربط اگیا، ربط کا پتہ چل گیا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو ہوا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کی طرف۔ اور تو یہ ربط اگیا، اب یہ جملہ فعلیہ، یہ خبر بن گیا مبتدا کی، اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا بھئی، اسمیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں ایا؟ جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا ضروری؟ ربط ضروری، اور ربط کا ایک طریقہ اپ نے پڑھ لیا کہ ربط عموماً کس کے ذریعے دیں گے؟ کوئی غائب کی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی طرف لوٹے؟ اس چیز کی طرف لوٹے جس سے اپ اسے جوڑنا چاہتے ہیں۔ اور یہ بھی خیال رکھنا ہے، ضمیر اور مرجع میں مطابقت بھی دیکھنی ہے، زیدٌ بھی کیا ہے؟ مفرد مذکر، اور ہوا ضمیر بھی کون سی ہے؟ مفرد مذکر۔ تو ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہونی چاہیے بھئی۔ اچھا، چلیے بس کرتے ہیں بھئی! حاصل کلام پھر سن لیں۔ اج ہم نے حال کے بارے میں مزید تفصیل پڑھی۔ انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ حال ہمیشہ نکرہ ہوتا ہے اور ذوالحال معرفہ ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار ذوالحال بھی نکرہ ا جاتا ہے، تو اس صورت میں ذوالحال پر حال کو مقدم کرنا واجب ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر اپ حال کو ذوالحال پر مقدم نہیں کرتے، تو یہاں موصوف صفت ہونے کا شبہ پڑے گا بعض صورتوں میں، تو جب بعض صورتوں میں شبہ پڑتا تھا، تو سب کے لیے ہی ایک ہی ضابطہ بنا دیا کہ ذوالحال جب بھی نکرہ ہو، حال کو مقدم کرنا واجب ہے، چاہے شبہ پڑے چاہے شبہ نہ پڑے۔ بعض صورتوں میں پڑتا تھا یا نہیں شبہ؟ کون سی حالت؟ جب ذوالحال پر نصب، تو حال پر بھی نصب، اس صورت میں شبہ پڑتا تھا، لیکن جب ذوالحال پر رفع ہو، یعنی وہ فاعل ہو، پھر تو شبہ بھی نہیں پڑتا، لیکن سب کو ایک ہی جیسا بنا دیا، سب کے لیے ایک ہی حکم لگا دیا سب پر کہ جب ذوالحال نکرہ ہو، تو حال کو اس پر مقدم کرنا واجب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپ کو بتلایا کہ حال کبھی کبھار جملہ بھی بنتا ہے، جیسے رأيت الأمیر وهو راكب۔ یہ وهو راكب کیا ہے؟ پورا جملہ ہے اور یہ حال بن رہا ہے۔ میں نے اپ کو بتلایا کہ جب جملہ حال بنے، تو ربط دینے کے لیے کبھی واؤ لاتے ہیں، کبھی غائب کی ضمیر لاتے ہیں اور کبھی دونوں لے آتے ہیں، جیسے یہاں پر دونوں لے آئے، واؤ بھی لے آئے ربط دینے کے لیے اور ہوا ضمیر بھی لے آئے۔ بات سمجھ میں اگئی؟ اور نیز تفصیل بھی میں نے بیان کر دی کہ جملہ من حیث الجملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی چیز سے جڑنے کا محتاج نہیں، اس کے اندر بات پوری ہو رہی ہے، جملے کو کسی کے سامنے ذکر کریں اس کو پوری بات سمجھ میں ا جاتی ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن اگر اپ اس کو کسی چیز سے جوڑنا چاہتے ہیں، تو درمیان میں ربط ضروری ہے، اور ربط کی ایک صورت اج اپ نے پڑھ لی کہ ربط عموماً کس کے ذریعے دیتے ہیں؟ کوئی غائب کی ضمیر ہوتی ہے جو اس چیز کی طرف لوٹے گی جس کے ساتھ اپ اس کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اپ پورا جملہ کو خبر بناتے ہیں، تو خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے، تو اس جملے میں ایک ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو۔ اور اگر اپ پورے جملے کو صفت بنانا چاہتے ہیں، تو صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں، تو اس میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ موصوف کو۔ اور اگر اپ پورے جملے کو حال بنانا چاہتے ہیں، تو حال کو ذوالحال سے جوڑتے ہیں، تو اس میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ ذوالحال کو۔ اور اگر اپ، اور اگر پورا جملہ صلہ بن رہا ہے، تو صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول سے، تو اس جملے میں کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ اسم موصول کو۔ تو ان میں ربط کی ایک صورت میں نے سب میں بیان کر دی کہ کون سی ضمیر لے اؤ اس جملے میں؟ غائب کی ضمیر، جو اسی چیز کی طرف لوٹے جس کے ساتھ اپ اس کو جوڑ رہے ہیں۔ لیکن حال میں، حال میں ربط ضمیر کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور واؤ کے ذریعے بھی۔ باقی جگہ پر واؤ کے ذریعے ربط نہیں دے سکتے، اگر جملہ خبر بن رہا ہے تو اپ واؤ کے ذریعے ربط نہیں دے سکتے، اگر جملہ صلہ بن رہا ہے تو اپ واؤ کے ذریعے ربط نہیں دے سکتے، اگر جملہ صفت بن رہا ہے تو اپ واؤ کے ذریعے ربط نہیں دے سکتے۔ تو حال کے اندر خاص طور پر وہاں ربط ضمیر کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور واؤ کے ذریعے بھی، اور دونوں کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
56 approved lectures · 35 of 56