Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی کتاب پر باب دوم در عمل افعال بیداں کہ هیچ فعل غیر عامل نیست و افعال در اعمال بر دو گونہ است۔ قسم اول معروف بیداں کہ فعل معروف خواہ لازم باشد یا متعدی فاعل را بر رفع کند، چون قام زیدٌ و ضرب عمروٌ۔ و شش اسم را بہ نصب کند اول مفعول مطلق را، چون قام زیدٌ قیامًا و ضرب زیدٌ ضربًا۔ و دوم مفعول فیہ را، چون صمتُ یومَ الجمعةِ و جلستُ فوقَکَ۔ سیوم مفعول معہ را، چون جاءَ البردُ و الجباباتي أي مع الجباباتي۔ چہارم مفعول لہ را، چون قمتُ إکرامًا لزیدٍ و ضربتُہ تأدیبًا۔ پنجم حال را، چون جاءَ زیدٌ راکبًا۔ ششم تمیز را وقتی کہ در نسبت فعل بہ فاعل ابہام باشد، چون طابَ زیدٌ نفسًا۔ بھئی گزشتہ اسباق میں گزشتہ اسباق میں عواملِ اعراب کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عامل یا تو لفظی ہوگا یا معنوی ہوگا بھئی۔ اور معنوی عامل دو ہی ہیں: ایک ابتدا ہے جو عامل ہے مبتدا اور خبر میں اور ایک ہے فعل مضارع کا عاملِ ناصب سے خالی ہونا۔ بس یہ دو عامل معنوی ہیں۔ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ فعلِ مضارع جب مرفوع ہوتا ہے اور اسی طرح مبتدا اور خبر ان میں عامل معنوی ہے اور عامل معنوی کیا؟ ان کا عاملِ لفظی سے خالی ہونا۔ یہ کیا ہیں؟ عاملِ معنوی۔ عاملِ لفظی سے خالی ہیں۔ جب عاملِ لفظی سے خالی ہیں لیکن ان سب پر رفع تو آ رہا ہے تو معلوم ہوا ان کے اندر عامل کیا ہے؟ معنوی ہے یعنی معنی عامل ہے بھئی، معنی عامل ہے۔ اور ابتدا کے بارے میں میں نے بتلایا تھا، ابتدا کسے کہتے ہیں؟ کہ کوئی مسندالیہ ہو یا مسند ہو اور عاملِ لفظی سے خالی ہو۔ مسندالیہ ہو یا مسند ہو اور عاملِ لفظی سے خالی ہو تو بس وہ ہے وہ ہے ابتدا۔ اور یہ صرف مبتدا اور خبر کے اندر ہے۔ ان دونوں پر رفع آتا ہے لیکن کوئی عامل لفظی نہیں ہوتا تو اس کا نام انہوں نے کیا رکھ دیا؟ ابتدا تو طلباء پریشان ہوتے ہیں پتا نہیں ابتدا کیا چیز ہے، ابتدا کچھ بھی نہیں بھئی بس مبتدا اور خبر پر رفع آ رہا ہے لیکن ان میں عامل کوئی لفظی عامل نہیں تو ان کے اندر عامل کیا ہے؟ ابتدا ہے یعنی یہ لفظی عامل سے خالی ہیں یہ ہے ابتدا کہ مسندالیہ ہو یا مسند ہو اور عاملِ لفظی سے خالی ہو اور وہ صرف کس میں ہے؟ مبتدا اور خبر میں۔ اور پھر انہوں نے بتلایا تھا کہ عاملِ لفظی جو ہیں تین قسم پر ہیں حروف ہیں، افعال ہیں اور اسماء۔ سب سے پہلے حروف کا بیان شروع کیا اور کہا حروف جو ہیں وہ عامل وہ کبھی اسم میں عمل کرتے ہیں اور کبھی فعل کے اندر۔ اسم کے اندر جو عمل کرتے ہیں وہ پانچ قسم کے ہیں۔ حروفِ جارہ ہیں، حروفِ مشبہ بہ فعل ہیں، ماولہ مشبہتان بلیس ہیں، اور لائے نفی جنس ہے اور حروفِ ندا ہیں بھئی۔ جبکہ فعل کے اندر دو قسم کے عامل ہیں حروف بھئی۔ کچھ فعل کو نصب دیتے ہیں اور کچھ فعل کو جزم دیتے ہیں۔ نصب چار حروف دیتے ہیں ان، لن ناصبہ، کَ اور اِذن۔ جبکہ ان جو ہے چھ جگہ مقدر ہوتا ہے۔ وہ چھ جگہیں کون سی ہیں؟ حتیٰ کے بعد، لامِ جحود کے بعد اور وہ او جو الی ان یا الا ان کے کے معنی میں ہو یا اسی طرح واؤِ صرف کے بعد اور لامِ کَ کے بعد اور فا جو چھ چیزوں کے جواب میں آئے، جبکہ آخری سبق میں ہم نے پڑھا تھا وہ حروف جو فعلِ مضارع کو فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں اور وہ پانچ ہیں: لم، لما، لامِ امر، لائے نہی اور ان شرطیہ۔ لم اور لما یہ دونوں فعلِ مضارع میں عمل کرتے ہیں اور اس کو جزم دیتے ہیں اور دونوں مضارع کو ماضی کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ لیکن لم اور لما میں فرق یہ ہے کہ لم جو ہے ساری ماضی کا احاطہ نہیں کرتا جبکہ لما جو ہے ساری ماضی کا احاطہ کر لیتا ہے اور مستقبل کے اندر اس میں امید ہوتی ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: قام الأمیرُ ولما یرکَبْ۔ امیرالمومنین اٹھ گئے ہیں، کھڑے ہو گئے ہیں ولما یرکَبْ لیکن ابھی تک سوار نہیں ہوئے۔ دیکھو پوری ماضی کا احاطہ کر لیا کہ جب سے کھڑے ہوئے ہیں اس کے بعد وہ سوار نہیں ہوئے اور آگے امید بھی ہے کہ آگے وہ سوار ہوں گے۔ قام الأمیرُ ولما یرکَبْ۔ امیرالمومنین کھڑے ہو گئے لیکن ابھی تک وہ سوار نہیں ہوئے۔ تو پوری ماضی کا احاطہ بھی کر لیا اور مستقبل میں اس کی امید بھی ہے بھئی۔ اور اس کے بعد لامِ امر اور لائے نہی بھئی۔ لامِ امر بھی کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے فعلِ مضارع کو: لِیَضرِبْ۔ اور یہ فعلِ مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ چاہیے کہ وہ پٹائی کرے، کس زمانے میں؟ مستقبل میں۔ دیکھو جس وقت میں نے کہا معلوم ہوا اب پٹائی نہیں کر رہا لیکن میں کہتا ہوں: لِیَضرِبْ چاہیے کہ وہ پٹائی کرے، دیکھو میرے کہنے کے بعد میں اس سے طلب کر رہا ہوں تو وہ کون سا زمانہ ہے؟ مستقبل والا ہے۔ اور لا تَضرِبْ، یہ ہے لائے نہی بھئی۔ لائے نہی اور یہ یہ بھی فعلِ مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے اور اس کے اندر فعل سے روکنا ہوتا ہے۔ امر میں فعل کو طلب کیا جاتا ہے کہ یہ فعل کرنا چاہیے اسے اور نہی کے اندر فعل سے روکا جاتا ہے: لا تَضرِبْ تو پٹائی نہ کر۔ تو لائے نہی اور لامِ امر، یہ دونوں فعلِ مضارع کو کس معنی میں کر دیتے ہیں؟ مستقبل کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد پانچواں حرف جو فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے وہ ان ہے اور اس کو ان شرطیہ کہتے ہیں اور یہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے، ایک کو شرط کہتے ہیں اور دوسرے کو جزا۔ شرط اور جزا دونوں میں فعلِ مضارع ہو تو یہ دونوں کو جزم دیتا ہے: إن تضرِبْ أضرِبْ۔ إن تضرِبْ أضرِبْ۔ ان کے جو ساتھ فعل جڑا ہوا ہو وہ ہے شرط اور اگلا جملہ جو آئے گا وہ ہے جزا: إن تضرِبْ أضرِبْ۔ یہ تضرِبْ کیا ہے؟ شرط اور أضرِبْ جزا۔ تو شرط اور جزا اگر دونوں فعلِ مضارع ہوں تو ان دونوں کو جزم دے گا، جزم دینا واجب ہے۔ إن تضرِبْ أضرِبْ۔ إن تضرِبوا أضرِبْیوں پڑھنا درست نہیں ہے بھئی۔ کیسے پڑھیں گے؟ إن تضرِبْ أضرِبْ۔ اگر صرف شرط، شرط جو ہے وہ فعلِ مضارع ہے تو پھر بھی یہ جزم ضرور دے گا۔ إن تضرِبْ ضَرَبْتُ۔ إن تضرِبْ ضَرَبْتُ۔ ترجمہ وہی ہوگا، ان جو ہے مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے إن تضرِبْ اگر تم پٹائی کرو گے ضَرَبْتُ دیکھو یہ ماضی ہے لیکن ترجمہ پھر وہی مستقبل والا کریں گے: ضَرَبْتُ تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ ان دو جملوں پر داخل ہوتا ہے اگر دونوں فعلِ مضارع ہوں تو دونوں کو جزم دے گا وجوبًا۔ اگر صرف شرط ہو اور شرط تو ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے تو اس صورت میں بھی وجوبًا جزم دے گا۔ لیکن اگر صرف جزا ہوئی فعلِ مضارع اور شرط جو ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے وہ فعلِ ماضی ہے توجہ ہے؟ فعلِ مضارع دونوں جگہ آ سکتا ہے نا۔ جی تو کبھی تو دونوں جگہ آئے گا، کبھی صرف شرط میں فعلِ مضارع ہوگا، جزا میں نہیں اور کبھی جزا میں فعلِ مضارع ہوگا، شرط میں نہیں۔ تو شرط جو ہے یہ فعلِ ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تو شرط کے اندر تو وہ ہر حال میں جزم دے گا اگر فعلِ مضارع ہو، إن تضرِبْ أضرِبْ۔ شرط اور جزا دونوں کیا ہیں؟ مضارع ہیں تو دونوں میں جزم دے گا۔ اگر صرف شرط ہے فعلِ مضارع تب بھی ضرور عمل کرے گا: إن تضرِبْ ضَرَبْتُ کیونکہ شرط اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، قریب ہے تو یہ اس میں ضرور عمل کرے گا۔ اور اگر فعلِ مضارع دور چلا جائے یعنی جزا میں تو فعلِ مضارع ہے لیکن شرط میں نہیں ہے تو پھر اس صورت میں دونوں صورتیں جائز، جزم دینا بھی جائز اور جزم نہ دینا بھی جائز ہے۔ إن ضربتَ أضرِبُ۔ إن ضربتَ أضرِبْ۔ إن ضربتَ ضربتا کیا ہے؟ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی ہے تو قریب ماضی آ گئی، ماضی کے اندر تو یہ عمل نہیں کر سکتا اور دور فعلِ مضارع جزا کے اندر آ رہا ہے تو وہاں دونوں صورتیں جائز، جزم دینا بھی جائز اور جزم نہ دینا بھی جائز تو کیسے پڑھیں گے؟ جزم دیں إن ضربتَ أضرِبْ اور جزم نہ دیں إن ضربتَ أضرِبُ دونوں طرح پڑھنا جائز۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ جی۔ تو یہ ان جو ہے اس کو حرفِ شرط کہتے ہیں اور یہ مستقبل کے ساتھ مضارع کو خاص کر دیتا ہے۔ مضارع میں ویسے تو حال اور استقبال دونوں معنی ہوتے ہیں، لیکن یہ اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے اور ماضی پر داخل ہو جائے تو ماضی کو بھی یہ مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔ إن ضربتَ ضربتو ترجمہ وہی ہوگا مستقبل والا، اگر آپ پٹائی کریں گے تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ اور پھر یہاں پر آیا انہوں نے ذکر کیا تھا کہ فعلِ ماضی کے اندر جو جزم ہوگا وہ تقدیر ہوگا۔ فعلِ ماضی میں جزم کیونکہ ان جزم دیتا ہے تو اگر ماضی کیا ہوئی؟ ماضی کے اوپر داخل ہوا تو اس میں بھی کیا دے گا؟ جزم، لیکن جزم کیا ہوگا؟ تقدیدی۔ تو اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ماضی تو مبنی ہے، بلکہ مبنی الاصل ہے اور تقدیدی اعراب تو صرف کس کے اندر آتا ہے؟ معرب کے اندر۔ معرب میں اعراب کبھی لفظی ہوتا ہے اور کبھی تقدیدی۔ کیا معنی تقدیدی؟ فرض کر لو۔ فرض کر لیا جاتا ہے۔ جبکہ مبنی کے اندر تو اعراب محلًا آتا ہے۔ محل یعنی جگہ کے اعتبار سے، جگہ کے اعتبار سے۔ تو انہوں نے تو کیا کہا؟ ماضی کے اندر اعراب تقدیدی ہوگا۔ میں نے بتلایا یہ کلام مجاز پر محمول کر لیں۔ یعنی معنی یہ ہے کہ لفظوں میں اعراب نہیں آئے گا۔ لفظوں میں اعراب نظر نہیں آئے گا، اب وہ اعراب نہ نظر آنے کی دو صورتیں ہیں، معرب پر بھی کبھی اعراب نظر نہیں آتا اس کو اعرابِ تقدیدی کہتے ہیں اور ماضی پر اعراب نظر نہیں آتا اس کو محلی کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اعرابِ محلی سمجھے کہ میں نے ذکر کیا تھا۔ اعرابِ محلی بھئی دیکھو، یہ جو معرب ہے نا اس میں دو طرح اعراب آتا ہے، کبھی لفظًا اور کبھی تقدیرًا۔ 16 قسمیں یاد ہیں؟ 16 قسموں میں اسم منقوص جو ہے، یعنی قاضی یا اسم مقصور جو ہے یعنی موسیٰ اور عیسیٰ جن کے اخر میں الفِ مقصورہ ہو، ان میں اعراب تینوں حالتوں میں تقدیدی نہیں۔ اس میں مقصور میں تینوں حالتوں میں اعراب تقدیدی ہوتا تھا اور قاضی جیسے یعنی اسم منقوص میں رفع اور جر کی حال، رفع اور جر کی حالت میں اعراب تقدیدی ہوتا تھا اور اگر کوئی اسم مضاف ہو علاوہ جمع مذکر سالم کے کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف، غلامی، کتابی، قرمی، دیکھو یہ یا کی طرف مضاف ہو رہے ہیں تو اس میں بھی اعراب تینوں حالتوں میں تقدیدی اور میں نے آپ کو بتایا تھا غلامی۔ غلام مضاف ہے اور یا مضافٌ الیہ تو غلام کا اعراب الگ بتانا ہے اور یا کا اعراب الگ۔ غلام کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیدی۔ چاہے رفع، اس پر رفع بھی آ سکتا ہے، نصب بھی اور جر بھی، لیکن ہوگا تقدیرًا۔ اور یا مضافٌ الیہ ہے، اس کا اعراب ہمیشہ وہ کیا ہو گئے مجرور اور ضمیر ہے تو محلًا آئے گا مجرور ہے محلًا تو مبنی کے اندر جو اعراب ہوتا ہے محلًا۔ محل کا معنی ہے جگہ، جگہ۔ یعنی اس جگہ اگر کوئی معرب ہوتا تو اعراب ظاہر ہو جاتا، لیکن یہاں پر تو کیا آ گیا؟ مبنی اور مبنی پر تو اعراب ظاہر نہیں ہوتا، تو پھر مبنی کے بارے میں کہتے ہیں یہ مرفوع ہے محلًا یا منصوب ہے محلًا یا مجرور ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی جی۔ میں نے کہا جاءَ زیدٌ یہ زیدٌ کیا ہے؟ فاعل اور جاءَ اس کو رفع دے رہا ہے اور رفع لفظوں میں نظر آ رہا ہے؟ سن تلفظ سے پتہ چل رہا ہے جاءَ زیدٌ۔ اعراب کا پتہ چل رہا ہے زیدٌ میں نے کون سا اعراب پڑھا؟ رفع۔ زیدًا میں نے کیا پڑھا؟ نصب۔ زیدِن میں نے کیا پڑھا؟ جر۔ تو یہ اعراب، اس کو اعرابِ لفظی کہتے ہیں کہ جس کا پتہ تلفظ سے ہی چل جاتا ہے سننے والے کو۔ تو یہ اعرابِ لفظی، اور کبھی اعراب معرب میں تقدیرًا آتا ہے۔ جاءَ عیسیٰ، رایتُ عیسیٰ، مررتُ بِعیسیٰ۔ دیکھو تینوں حالتوں میں عیسیٰ اسی طرح ہے، لیکن ہے تو یہ معرب، تو کیا کہیں گے یہاں پر اعراب ہے تقدیرًا ہے یعنی فرض کر لو رفع بھی آ رہا ہے، نصب بھی آ رہا ہے اور جر بھی آ رہا ہے۔ جبکہ مبنی، اس میں اعراب محلًا کہتے ہیں۔ مثلاً اب زید کی جگہ میں ھٰذَا لے آتا ہوں، جاءَ ھٰذَا، رایتُ ھٰذَا، مررتُ بِھٰذَا، یہ اس میں اشارہ ہے اور اس میں اشارہ آپ نے پڑھا کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے۔ تو اس پر اعراب محلًا آئے گا۔ جاءَ ھٰذَا، یہ ھٰذَا فاعل ہے اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو یہ مرفوع ہے محلًا، جگہ کے اعتبار سے، یعنی اگر اس جگہ زید جیسا کوئی معرب آ جاتا تو اعراب لفظوں میں ہمیں نظر آ جاتا۔ اور رایتُ ھٰذَا، یہ منصوب ہے ھٰذَا اور کون سا منصوب ہے؟ محلًا، کیوں محلًا؟ کیونکہ یہ مبنی ہے، تو مبنی میں اعراب کیسے آتا ہے؟ محلًا یعنی یہ جگہ نصب والی ہے، اگر اس کی جگہ کوئی معرب آتا تو یہاں پر نصب ہمیں نظر آ جاتا، تلفظ سے ہی ہمیں پتہ چل جاتا۔ اور مررتُ بِھٰذَا، یہ ھٰذَا مجرور ہے کیونکہ اس پر باءِ جارہ داخل ہے اور کون سا مجرور ہے؟ محلًا کیونکہ یہ مبنی ہے۔ اگر اس کی جگہ زید جیسا کوئی معرب آ جاتا مررتُ بِزیدٍ تو دیکھو اس پر جر ظاہر ہو جاتا، لفظوں میں آ جاتا۔ تو مبنی پر اعراب کیسے آتا ہے؟ توجہ ہے۔ مبنی پر اعراب کیسے آتا ہے؟ محلًا اور معرب پر لفظًا اور تقدیرًا۔ پھر دہراؤ۔ معرب پر اعراب کیسے آئے گا؟ لفظًا یا تقدیرًا۔ اور مبنی میں اعراب کیسے آئے گا؟ محلًا۔ جیسے مبتدا اور خبر۔ مبتدا اور خبر۔ مبتدا پر کون سا اعراب اتا ہے؟ رفع۔ خبر پر بھی رفع۔ مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع ہوتی ہے۔ اگر یہ معرب ہوئے تو اعراب تلفظ سے پتہ چل جائے گا۔ زید قائم۔ زید پر کیا پڑھا؟ رفع کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ قائم پر کیا پڑھا؟ رفع کیونکہ یہ خبر ہے۔ مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی مرفوع۔ تو دیکھو رفع لفظوں میں ہمیں نظر آرہا ہے سن تلفظ سے یعنی پتہ چل رہا ہے۔ تلفظ سے ہی پتہ چل جائے گا۔ اچھا زید رفع لفظوں میں آیا اس کو ذرا بدل دو۔ عیسی قائم۔ اب عیسی اب بھی کیا ہے؟ مرفوع کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ لیکن اب اعراب کیا ہے؟ تقدیراً کیونکہ اس میں مقصور ہے اور اس میں مقصور پر اعراب کیسے آتا ہے؟ تقدیراً آتا ہے۔ اور اس کی جگہ اگر مبنی آ جائے کوئی مثلاً ہذا قائم۔ یہ آدمی کھڑا ہے۔ اب ہذا کیا ہے؟ جی مبتدا ہے۔ اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع اور مبتدا کی جگہ کیا آیا ہے؟ ہذا تو ہذا ہے مبتدا۔ اور لیکن یہ تو ہے مبنی تو کیا کہیں گے اس پر اعراب کون سا ہے؟ محلاً۔ محلاً کا کیا معنی؟ محل کسے کہتے ہیں؟ جگہ۔ یعنی یہ جگہ تو رفع والی ہے، اگر اس یہاں پر زید وغیرہ کوئی لفظ معرب آ جاتا تو یہ رفع ظاہر ہو جاتا تلفظ میں آ جاتا۔ لیکن اس جگہ پر تو مبنی آ گیا اور مبنی تو اعراب کو جگہ نہیں دیتا اس لیے اعراب ظاہر نہیں ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی تو اعراب یہ تین ہی قسم پر ہے۔ کبھی اعراب کیا ہوگا؟ لفظاً، کبھی تقدیراً، کبھی محلاً۔ لفظاً کس میں آئے گا؟ معرب میں اور تقدیراً یہ بھی معرب میں اور محلاً مبنی کے اندر۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آپ نے پڑھا حروف جارہ ہمیشہ جر دیتے ہیں۔ اگر یہ حروف جارہ یہ معرب پر داخل ہوں گے تو جر دیں گے کبھی لفظاً اور کبھی تقدیراً۔ اور اگر یہی حروف جارہ کس پر داخل ہو جائیں؟ مبنی پر تو بھی جر دیں گے لیکن وہ جر کون سا ہوگا؟ محلاً یعنی جگہ کے اعتبار سے کہ وہ جر والی جگہ ہے۔ تو محل کا کیا معنی؟ جگہ۔ جگہ بھئی۔ اچھا خلاصہ چل رہا تھا گزشتہ دن کے سبق کا، پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو إن ہے یہ فعل ماضی پر بھی داخل ہو جائے تو ماضی پر جزم تقدیری ہوگا۔ میں نے بتلا دیا کہ ماضی تو کیا ہے؟ مبنی اور تقدیراً اعراب تو کس میں آتا ہے؟ معرب میں تو پھر مصنف اس کہنے کا کیا معنی؟ میں نے بتلایا تھا کہ تقدیراً سے مراد یہ ہے ان کی کہ یعنی لفظوں میں اعراب نہیں آئے گا، لفظوں میں اعراب نہیں۔ یعنی تقدیراً اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں کر رہے، تقدیراً تو اصل کس میں استعمال ہوتا ہے؟ معرب میں، کس میں استعمال ہوتا ہے تقدیراً؟ معرب میں، لیکن یہاں تقدیراً کا معنی یعنی جہاں اعراب لفظوں میں نہ آئے تو وہ تقدیر اعراب پر بھی بولا جائے گا اور محلی اعراب پر بھی بولا جائے گا تو معنی یہ ہے کہ اعراب لفظوں میں نہیں آتا۔ پھر انہوں نے بتلایا تھا کہ اگر شرط کی جزا، توجہ ہے؟ شرط کی جزا جملہ اسمیہ ہو یا امر ہو یا نہیں ہو یا دعا ہو تو پھر جزا پر فا کا داخل کرنا واجب ہے۔ میں نے وجہ ذکر کی تھی کہ یہ فا کس لیے لائی جاتی ہے؟ ربط دینے کے لیے، جوڑ دینے کے لیے۔ دیکھو شرط وہ بھی پورا جملہ، جزا بھی پورا جملہ اور جملے میں بات پوری ہوتی ہے۔ میں آپ سے کہتا ہوں زید قائم۔ کیا ترجمہ؟ زید کھڑا ہے۔ بات پوری ہو گئی یا نہیں؟ عمرو جالس، عمرو بیٹھا ہے۔ بات پوری ہوئی کہ نہیں؟ تو جملے میں بات پوری ہوتی ہے، جملہ کسی دوسرے جملے سے جڑنے کا محتاج نہیں۔ لیکن شرط اور جزا میں دو جملوں کو جوڑا جاتا ہے، پہلے کو کہتے ہیں شرط اور دوسرے کو کہتے ہیں جزا۔ تو شرط اور جزا میں ربط ہوتا ہے، إن تضرب اگر تم پٹائی کرو گے تو میں بھی تمہاری پٹائی کروں گا۔ دیکھا دو جملوں کو جوڑ دیا اور ان میں ربط بھی ہے۔ ربط جوڑ اگر تم پٹائی کرو گے تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ اگر ذرا ان کو ذرا ہٹاؤ۔ تضرب، تضرب۔ آپ پٹائی کرتے ہو؟ کسی اور جملے سے جڑنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، اضرب، میں پٹائی کرتا ہوں۔ تضرب کا معنی آپ پٹائی کرتے ہیں اس کو کسی جملے سے جڑنے کی، کسی اور جملے سے جڑنے کی ضرورت نہیں اور اضرب کا معنی میں پٹائی کرتا ہوں کسی جملے سے جڑنے کی ضرورت نہیں۔ تو کیا ترجمہ تضرب کا؟ آپ پٹائی کرتے ہیں لیکن جب إن آیا، إن تضرب اگر آپ پٹائی کرو گے، اضرب تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ دیکھا اب ترجمہ ہی بدل گیا جب دونوں کو آپس میں جوڑا یہ کس نے جوڑا ان کو؟ ان نے تو إن جو ہے شرط اور جزا پر داخل ہوتا ہے اور یہ دو جملے ہوتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان ان ربط دے دیتا ہے۔ اب صرف شرط کہو، إن تضرب اگر آپ میری پٹائی کرو گے۔ بات پوری ہوئی؟ نہیں دیکھا، یہ کس نے معنی میں تبدیلی پیدا کی؟ إن نے، تو إن اس طرح ربط دیتا ہے کہ پھر شرط کا سے بات پوری نہیں ہوتی اس کے لیے جزا کو ساتھ ملانا پڑے گا۔ تو جب تک إن داخل نہیں تھا تضرب کا کیا معنی تھا؟ آپ پٹائی کرتے ہیں اس میں بات پوری تھی لیکن جب إن داخل ہوا اب بات پوری نہیں تو ان دو جملوں میں اس طرح ربط دیتا ہے کہ وہ آپس میں جڑیں گے تو بات پوری ہوگی نہیں جڑیں گے تو بات پوری نہیں۔ تو جب دو جملوں کو جوڑ رہے ہیں تو درمیان میں ربط چاہیے۔ إن کے ساتھ جو جڑا ہوا ہے جملہ وہ ہے شرط اور جو دور جملہ ہے وہ ہے جزا۔ تو اگر إن جزا کے معنی میں تبدیلی پیدا کر چکا تو ربط آ چکا۔ لھذا فا لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ فا کس لیے لائی جاتی ہے؟ ربط دینے کے لیے، جوڑ دینے کے لیے۔ تو إن نے اگر جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کر دی ہے تو ربط آ چکا ہے فا لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر إن نے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تو ربط نہیں آیا ابھی بھی ربط چاہیے تو پھر کیا لانی پڑے گی؟ فا لانی پڑے گی۔ تو إن کس میں تبدیلی پیدا کرے؟ جزا کے معنی میں تو پھر ربط ہوگا اگر جزا کے معنی میں تبدیلی نہیں تو پھر ربط بھی نہیں۔ اور کیا تبدیلی پیدا کرے گا؟ إن جزا کے زمانے کو بدل دے۔ إن کیا کر دے؟ جزا کے زمانے کو بدل دے۔ تو اگر اس نے یہ تبدیلی پیدا کر دی، جزا کے معنی کو بدل دیا ہے تو ربط آ چکا، لھذا فا لانے کی ضرورت نہیں۔ إن ضربتا ضربتو۔ إن ضربتا، ضربتو۔ صیغے کون سے؟ ماضی لیکن ہم ترجمہ کس کا کر رہے ہیں؟ مستقبل۔ إن ضربتا یہ تو ہے شرط اور ضربتو یہ ہے جزا۔ ضربتو کا ویسے کیا ترجمہ؟ ماضی والا، ماضی کا ترجمہ کرو۔ صرف ضربتو میں پٹائی۔ میں نے پٹائی کی لیکن اب کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ إن کے آنے کے بعد؟ میں پٹائی کروں گا، دیکھا ماضی کے بجائے کون سا ترجمہ کر رہے ہیں؟ مستقبل۔ تو إن نے جزا کے معنی کو ماضی سے کس کی طرف بدل دیا؟ مستقبل کی طرف بدل دیا، تو ربط آ چکا۔ لھذا اب فا نہیں لائیں گے۔ إن ضربتا ضربتو یہاں فا درمیان میں نہیں لا سکتے۔ بات سمجھ میں آگئی، إن کیا کرتا ہے؟ إن کی جزا کے معنی کو اگر بدل دے تو پھر ربط آ گیا اور کس طرح بدلتا ہے؟ اس کے زمانے کو کس کی طرف بدل دے؟ مستقبل کی طرف تو ربط آ چکا فا لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر زمانہ نہیں بدلا تو پھر فا لے کر آئیں گے۔ تو جملہ اسمیہ ہے جیسے مثال تھی إن تأتنی فأنت مکرم۔ اگر آپ میرے پاس آئیں گے فأنت مکرم تو آپ معزز آدمی ہیں۔ اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو آپ معزز آدمی ہیں۔ اچھا ذرا ان کو ختم کرو، أنت مکرم ترجمہ کرو۔ آپ معزز آدمی ہیں، اب بھی یہی ترجمہ اور ان لے آؤ، إن تأتنی فأنت مکرم اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو آپ معزز آدمی ہیں، اب بھی وہی ترجمہ۔ معلوم ہوا إن نے اس کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی جب جملہ اسمیہ ہے تو اب فا کا لانا واجب اسی لیے ہم فا لائے، إن تأتنی فأنت مکرم۔ اور نیز امر یا نہیں ہو، امر یا نہیں یا دعا ہو امر بھی کس کے ساتھ خاص ہوتا ہے؟ مستقبل کے ساتھ۔ ليضرب کیا معنی؟ چاہیے کہ وہ پٹائی کرے، کس زمانے میں؟ مستقبل میں۔ لا تضرب تو پٹائی نہ کر، کس زمانے میں؟ مستقبل میں۔ اور اسی طرح دعا ہے وہ بھی مستقبل کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ جزاک اللہ خیراً، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، دیکھو یہ کس کے ساتھ خاص ہے؟ تو یہ تو پہلے ہی سے مستقبل کے ساتھ خاص ہیں تو ان کے آنے سے ان کے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ إن تو کس معنی میں کرتا ہے؟ مستقبل میں اور یہ تو پہلے ہی مستقبل والا معنی ان کے اندر موجود ہے، یہ مستقبل کے ساتھ ہی خاص ہیں تو ان کے ان تو ان کے آنے سے ان کے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تبدیلی نہیں آئی تو ربط نہیں آیا، جب ربط نہیں آیا تو اب کیا لانا پڑے گی؟ فا لانی پڑے گی۔ اور فعل مضارع ہو اگر، إن تضرب أضرب یہاں فا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ لانا کیوں جائز؟ کہ ربط نہیں ہے، کیوں؟ ربط کیوں نہیں؟ کیونکہ فعل مضارع میں تو پہلے ہی حال اور استقبال دونوں معنی ہوتے ہیں۔ تو اب ان نے اس کو کیا کیا؟ مستقبل کے ساتھ خاص کر دیا، اب حال والا ترجمہ نہیں کر سکتے، معلوم ہوا کوئی تبدیلی آ گئی، فرق پڑ گیا، پہلے کیا فرق، پہلے کیا تھا؟ حال اور استقبال دونوں معنی تھے، لیکن اب صرف کون سا معنی ہے؟ مستقبل والا، تو بیں لحاظ دیکھو تبدیلی آ چکی ہے، ربط آ چکا ہے، فا لانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر دوسرے لحاظ سے دیکھو کہ مضارع کے اندر تو مستقبل والا معنی پہلے بھی موجود تھا، ان کے آنے کے بعد کوئی نیا معنی یہاں نہیں آیا، تو بیں لحاظ دیکھو تو ربط نہیں آیا، لھذا فا کا فا لے آؤ۔ تو فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی، آگے دیکھیے بھئی۔ باب دوم در عمل افعال۔ یہ دوسرا باب ہے افعال کے عمل کے بیان میں۔ فعل کی جمع افعال، افعال۔ پہلا باب کس کا تھا؟ اس پچھلا باب حروف کے عمل کے بارے میں کہ حروف کبھی اسم میں عمل کرتے ہیں اور کبھی فعل میں۔ اب افعال کا بیان آئے گا کہ فعل کیا کیا عمل کرتا ہے؟ کہاں رفع دیتا ہے اور کہاں کہاں نصب دیتا ہے، اب وہ بیان کریں گے۔ تو یاد رکھنا۔ یاد رکھنا، پہلے سمجھ لیں سارا۔ یاد رکھو ہر فعل عمل کرتا ہے۔ ہر فعل عمل کرتا ہے۔ کوئی فعل ایسا نہیں جو عمل نہ کرتا ہو، ہر فعل عمل کرتا ہے۔ اور پھر فعل یاد رکھو دو قسم پر ہے۔ ایک فعل معروف ہے، ایک فعل مجہول ہے۔ فعل معروف یاد رکھنا۔ یہ فاعل کو رفع دیتا ہے۔ اور فعل مجہول نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ ضرب پٹائی کی۔ بھئی کس نے کی؟ کوئی ذات چاہیے جو پٹائی کرنے والی ہو، خود بخود پٹائی نہیں ہو سکتی، اور جو یہ فعل کو سر انجام دینے والا ہو یا جس کے ساتھ یہ فعل قائم ہو، اس کو فاعل کہتے ہیں۔ مثلاً میں نے کہا ضرب زید۔ پٹائی کس نے کی؟ زید نے۔ زید نہ ہوتا تو یہ والی پٹائی ہوتی؟ نہیں، آپ کہیں گے بھئی عمر، عمر بھی تو کر سکتا ہے پٹائی، بکر بھی تو کر سکتا ہے، نہیں، یہ والی پٹائی جو کس نے کی ہے؟ زید نے، یہ والی پٹائی ہو سکتی تھی؟ نہیں، اگر عمر پٹائی کرتا وہ عمر والی پٹائی ہوتی، زید والی پٹائی نہ ہوتی۔ تو ضرب زید کس نے پٹائی کی؟ زید نے، اگر زید نہ ہوتا، یہ زید والی پٹائی ہو سکتی تھی؟ نہیں تو دیکھا، یہ اس کو فاعل کہتے ہیں۔ یعنی جو اس فعل کو کرنے والا ہے یا جس کے ساتھ وہ فعل قائم ہے، جس کے ساتھ وہ ضرب زید، ضرب زید یہ پٹائی کس نے کی؟ زید نے کی، بھئی یاد رکھنا، فعل پھر یہ دو قسم پر، کبھی وہ فعل کو کرنے والا ہوگا، فعل کو کرنے والا یہ ضرب خود ہوتی ہے یا زید نے لگائی تو پھر پائی گئی؟ دیکھا یہ زید کس سے، زید نے اس فعل کو سرجام دیا ہے، اور بعض اوقات ہے فعل اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے، جیسے مات زید۔ زید مر گیا۔ یہ موت کا فعل اس کو کرنا پڑا یا موت خود بخود اس کے ساتھ، یعنی، یہ، مرنے کا فعل اس کے ساتھ مل گیا، خود بخود، جی، یہ، مل گیا، یعنی یوں کہیں، یہ فعل اس کے مرنے کا فعل زید کے ساتھ قائم ہو گیا۔ مرنے کا فعل زید کے ساتھ قائم ہو گیا۔ معلوم ہو کون مرا ہے؟ زید، تو اگر زید نہ ہوتا تو یہ موت زید ہو سکتی تھی؟ نہیں، موت بکر، موت خالد تو ہو سکتی تھی لیکن زید کی موت نہیں۔ زید کی موت کس کی وجہ سے ہے؟ زید، زید مرا تو زید کی موت ہوئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے تو بتلانا یہ چاہتا ہوں، کچھ فعل ایسے ہوتے ہیں جو انسان یا کوئی چیز خود کرتی ہے، جیسے ضرب زید، یہ ضرب زید نے خود، خود اس نے یہ فعل سرانجام دیا، اس نے اس کو کیا، اور بعض اوقات فعل کرتے نہیں، فعل اس ایک چیز کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ فعل اس کے ساتھ، یعنی وہ ذات ہے تو وہ فعل ہے، وہ ذات نہیں تو وہ فعل بھی نہیں، جیسے مات زید۔ مثلاً کوئی شخص بیمار ہے اور مر گیا۔ بیمار ہے اور مر گیا۔ یہ مرنے کا فعل اس نے سرانجام دیا؟ اپنی مرضی سے، اپنے اختیار سے؟ نہیں نہیں نہیں، موت اس کے ساتھ آ کر جڑ گئی۔ ہاں! یہ آدمی نہ ہوتا تو اس آدمی کا مرنا بھی نہ ہوتا۔ تو مات زید، مات زید میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ زید کی موت۔ اور یہ زید کے مرنے کا عمل اس نے اپنے اختیار سے کیا ہے یا خود ہی غیر اختیاری طور پر ہوا؟ غیر اختیاری طور پر۔ لیکن قائم زید کے ساتھ ہی ہے یہ فعل، زید ہے تو زید کا مرنا بھی ہے، زید نہیں تو زید کا مرنا بھی نہیں۔ مات بکر کون مرا؟ بکر! بکر ہے، بکر کی ذات تھی تو موت بکر بھی ہوئی۔ بکر کی ذات نہ ہوتی تو موت بکر بھی نہ ہوتی۔ تو فعل فاعل کے ساتھ کبھی فاعل اس کو کیا کرتا ہے؟ سر انجام دیتا ہے، کبھی فعل اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ وہ سر انجام نہیں دیتا لیکن اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ مثلاً زید بے ہوش ہو گیا۔ اب بے ہوش کوئی ادمی اپنے اختیار سے ہوتا ہے یا غیر اختیاری طور پر؟ غیر اختیاری۔ لیکن اگر زید نہ ہوتا تو یہ بے ہوش ہونا ہوتا؟ نہیں۔ تو بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ فعل فاعل جو ہوتا ہے وہ کبھی فعل کو اپنے اختیار سے سر انجام دیتا ہے، اس کو کرتا ہے جیسے ضرب زید، زید نے پٹائی کی۔ کس طرح کی؟ اپنے اختیار سے۔ اکلا زید، زید نے کھانا کھایا۔ کس طرح کھایا؟ اپنے اختیار سے۔ شرب زید، زید نے پانی پیا کس سے؟ اپنے اختیار سے۔ تو فعل دو قسم کے ہو گئے۔ کچھ وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنے اختیار سے سر انجام دیتا ہے یا کوئی بھی چیز اپنے اختیار سے سر انجام دیتی ہے اور کچھ ایسے فعل ہوتے ہیں جو اپنے اختیار میں تو نہیں ہوتے لیکن کسی چیز کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور وہ چیز ہے تو یہ فعل بھی ہے، وہ نہیں تو یہ فعل بھی نہیں، جیسے مات زید، زید کیا ہوا؟ مر گیا۔ اب یہ مرنا کیا ہے؟ زید کے اپنے اختیار سے نہیں لیکن یہ زید کا مرنا ہے، زید تھا تو یہ مرنا بھی پایا گیا، زید نہ ہوتا تو یہ مرنا بھی نہ ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل جس چیز کے ساتھ قائم ہو، اس کو فاعل کہتے ہیں۔ وہ ذات ہے تو فعل ہے، وہ ذات نہیں تو فعل بھی نہیں۔ اس کو فاعل کہتے ہیں۔ فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔ توجہ ہے؟ فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔ کیا وہ اپنے اختیار سے کرنا ضروری ہے؟ نہیں، چاہے اپنے اختیار سے کرے یا نہ کرے لیکن فعل اس کے ساتھ قائم ہے۔ یہ یوں کہو، فعل کا اس کی طرف اسناد ہے۔ فعل کا اس کی طرف اسناد ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا، یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ مات زید، زید نہ ہوتا تو یہ موت زید ہو سکتی تھی؟ نہیں۔ موت خالد ہو سکتی ہے اور موت بکر، موت کوئی اور بھی، لیکن یہ زید کی موت تبھی ہوگی جب کون ہو؟ زید ہو۔ تو یہ والی موت اس زید کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ تو یہ یوں کہیں گے، یہ فعل زید کے ساتھ قائم ہے۔ تو فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے۔ کیا معنی قائم ہونے کا؟ کبھی وہ اس کو اپنے اختیار سے سرانجام دینے والا ہوگا اور کبھی اپنے اختیار سے سرانجام دینے والا نہیں ہوگا، لیکن فعل کا وجود اسی کی وجہ سے ہے۔ اگر وہ ہے تو فعل کا وجود ہے، اگر وہ نہیں تو فعل کا وجود بھی نہیں ہے۔ تو اس کو علمی رنگ میں یوں کہیں گے کہ ایک تو یہ لفظ کہ یہ فعل اس کے ساتھ قائم ہے۔ ضرب زید، فعل کس یہ ضرب کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ مات زید، مات زید، یہ موت کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ تو یوں آپ نے کہنا ہے جب آپ کو یہ کہیں لفظ اجائے کہ یہ فعل اس کے ساتھ قائم ہے، قائم ہے، معلوم ہوا یہ ذات ہے تو یہ فعل ہے، یہ نہ ہوتی تو یہ فعل بھی نہ ہوتا۔ تو اس کو کہتے ہیں اسناد بھئی۔ ضرب کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ مات کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ اور ایک ہوتا ہے مفعول جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے۔ جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے۔ ضرب زید عمرا۔ زید نے کس کی پٹائی کی؟ عمر کی۔ تو فعل قائم کس کے ساتھ ہے؟ زید کے ساتھ اور یہ فعل واقع کس پر ہوا؟ عمر پر۔ یہ پٹائی کس پر واقع ہوئی؟ عمر پر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو جس پر یہ فعل واقع ہو اس کو مفعول بہی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مفعول بہی۔ آگے اس کا ذکر آنے والا ہے۔ جس پر فعل واقع ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول بہی۔ مفعول بہی، توجہ ہے؟ یا دوسری مثال لے لو۔ شرب زید ماء۔ زید نے پانی پیا۔ یہ شرب، یہ پانی پینے کا فعل کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ زید ہے تو یہ پینا بھی ہے، زید نہ ہوتا تو یہ پینا بھی نہ ہوتا۔ اور یہ فعل کس پر واقع؟ پانی پر۔ اس نے کیا چیز پی ہے؟ پانی۔ پانی نہ ہوتا تو بھی یہ شرب کا فعل نہیں ہو سکتا تھا۔ یوں کہو، کوئی مشروب ہے تو شرب ہو سکتا ہے، کوئی مشروب نہیں تو شرب بھی نہیں۔ کوئی آپ مجھے مثال دکھا سکتے ہیں؟ کوئی پی جانے والا، کوئی مشروب نہ ہونا چاہیے، نہ دودھ، نہ پانی، کچھ بھی نہیں لیکن شرب کا فعل پایا جائے۔ نہیں۔ شرب کے لیے مشروب کا ہونا ضروری ہے، چاہے دودھ ہو، چاہے چائے ہو، چاہے پانی ہو، کوئی نہ کوئی مشروب ہونا چاہیے۔ شرب زید ماء، تو کیا کہیں گے؟ یہ شرب کا فعل کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ اور یہ شرب کا فعل کس پر واقع؟ پانی پر، یعنی یہ مفعول بہی ہے، اس پر یہ شرب کا فعل واقع ہوا ہے، اس کو زید نے پیا ہے۔ اس پانی کو زید نے پیا ہے۔ تو مفعول بہی کسے کہتے ہیں؟ جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ اچھا، جیسے فعل فاعل کے ساتھ قائم ہوتا ہے تو کیا اس میں ضروری ہے کہ فاعل اس کو اپنے اختیار سے کرنے والا ہو؟ نہیں، اپنے اختیار سے کرنے والا ضروری نہیں۔ اسی طرح یاد رکھو مفعول بہی اس کو کہتے ہیں جس پر فاعل کا فعل واقع ہو لیکن اس میں واقع ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہیں گے، فعل کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔ کیا ہے؟ تعلق۔ فعل کا اس کے ساتھ تعلق۔ یوں کہیں گے۔ ضرب زید عمرا، جی۔ یہ ضرب کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ، معلوم ہوا زید کون ہے؟ فاعل ہے۔ زید نہ ہوتا تو یہ ضرب زید ہو سکتی تھی؟ نہیں۔ زید ہے تو ضرب زید ہے، زید نہیں تو ضرب زید بھی نہیں۔ بکر، خالد وغیرہ کی ضرب تو ہو سکتی تھی، زید کی ضرب نہیں ہو سکتی تھی۔ اور ضرب زید عمرا، یہ فعل کس پر واقع؟ عمر پر۔ تو عمر کو کیا کہیں گے؟ مفعول بہی اور یوں کہیں گے یہ ضرب مفعول بہی پر واقع ہے۔ یہ ضرب عمر پر واقع ہے یا یوں کہیں گے کہ اس ضرب کا تعلق ہے کس کے ساتھ؟ عمر کے ساتھ۔ تو اس میں واقع ہونا ضروری نہیں، بس تعلق ہوتا ہے۔ واقع ہونا ضروری نہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں، مثلاً نادیت زیدا۔ نادیت زیدا۔ میں نے آواز دی، زیدا، کس کو؟ زید کو۔ آواز دینے والا کون؟ متکلم، نادیت، کس نے آواز دی؟ یا یوں کہو، نادا زید عمرا، یہ مثال بنا لیں۔ نادا زید عمرا، ندا دی۔ کس نے؟ زید نے۔ کس کو؟ عمر کو۔ جی، یہ نادا ینادی منادا، یہ فعل کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ جو فاعل ہوتا ہے اس کے لیے قائم کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ فعل کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ زید ہے تو یہ والی ندا، یعنی یہ پکارنا اور آواز دینا بھی ہے اور اگر زید نہیں تو یہ ندا دینا اور پکارنا بھی نہیں۔ اور نادا زید عمرا، مفعول بہی کون؟ عمرا۔ کیا ہے؟ مفعول بہی۔ لیکن کیا اس پر یہ ندا واقع ہوئی ہے؟ جی؟ بات سمجھ میں، ہاں، ندا کا اس کے ساتھ کیا ہے؟ ضرب تو عمر پر واقع ہوئی تھی لیکن ندا تو عمر پر واقع نہیں ہوئی۔ ہاں، یوں کہیں گے، یعنی اس کا اس فعل کے ساتھ تعلق ہے۔ عمر کا اس فعل کے ساتھ۔ نادا ینادی مناداة کا کیا معنی؟ ندا دینا، آواز دینا، آواز دینا کسی کو پکارنا۔ تو یہ ندا کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ اور یہ ندا کس کو دی گئی؟ عمر کو۔ تو عمر کیا ہوا؟ مفعول بہی۔ اور کیا کہیں گے؟ اس فعل کا عمر کا۔ اس فعل کا، یہ اب یہ ندا عمر پر واقع ہوئی ہے؟ کوئی عمر کو جا کر چیز لگی ہے؟ اس پر کوئی فعل ہوا ہے؟ نہیں، ہاں، فعل کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔ بتلانا یہ چاہتا ہوں، ضرب زید عمرا، یہاں باقاعدہ ضرب واقع ہو رہی ہے کس پر؟ عمر پر۔ اور نادا زید عمرا، یہاں ندا عمر پر واقع نہیں ہو رہی لیکن یہ بھی مفعول بہی تھا، وہ بھی مفعول بہی۔ تو مفعول بہی کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ فعل باقاعدہ اس کے اوپر واقع ہو، بلکہ فعل کا اس کے ساتھ تعلق ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ تعلق ہوتا ہے۔ ہاں، کبھی فعل اس پر واقع ہوگا اور کبھی واقع نہیں ہوگا۔ جیسے آپ، جیسے کہتے ہیں، دعا زید عمرا، زید نے پکارا۔ دعا کا کیا معنی؟ پکارنا، اس کا بھی وہی معنی ہے پکارنا، آواز دینا۔ دعا زید عمرا، پکارنے والا کون؟ زید۔ تو یہ، یہ دعا جو ہے اس کا، یہ فعل کس کے ساتھ قائم؟ زید کے ساتھ۔ زید ہے تو یہ پکارنا بھی ہے، زید نہیں تو یہ پکارنا بھی نہیں۔ اور مفعول بہی کون؟ عمرا۔ دعا زید عمرا، مفعول بہی کون؟ عمرا۔ اور کیا عمر پر یہ پکارنا واقع ہوا ہے؟ نہیں، پکارنا واقع نہیں۔ ہاں، اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ تو جیسے فاعل کے اندر، فاعل دو قسم پہ ہیں، کچھ وہ ہیں جو اس، جو اس فعل کو اپنے اختیار سے کرنے والے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو فعل کو اپنے اختیار سے تو نہیں کرتے لیکن فعل کا ان کے سا- فعل ان کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ وہ ہیں تو فعل ہے، وہ نہیں تو فعل بھی نہیں۔ اسی طرح مفعول بہی بھی، بعض اوقات اس پر کیا ہوتا ہے؟ فعل واقع ہوتا ہے۔ لیکن ہر جگہ آپ اسی طرح نہ دیکھیں بلکہ جیسے دعا زید عمرا، یہاں دا، یہ جو پکارنا ہے یہ عمر پر واقع نہیں۔ یا نادا زید عمرا، یہاں یہ ندا عمر پر واقع نہیں۔ ہاں، اس کے ساتھ فعل کا تعلق ہے، یعنی اس کو آواز دی گئی ہے۔ اس کو آواز دی گئی ہے۔ تو اس کو مفعول بہی کہتے ہیں۔ اس کو آسان لفظوں میں بس یہی یوں سمجھ لیں کہ مفعول بہی وہ ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ اور اس کے لیے تعلق کا لفظ بولتے ہیں۔ ضرب زید عمرا۔ کیا کہیں گے؟ یہ ضرب قائم ہے کس کے ساتھ؟ زید کے ساتھ اور اس ضرب کا تعلق ہے کس کے ساتھ؟ عمر کے ساتھ۔ تو فاعل کے لیے قائم کا لفظ بولتے ہیں اور مفعول کے لیے تعلق کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ یوں کہیں کہ اس ضرب کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف اور اس ضرب کا تعلق ہے کس کے ساتھ؟ عمر کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہیں یہ جملہ آجائے، اس فے، یہ فعل قائم ہے فلاں کے ساتھ۔ آپ سمجھ جائیں کہ یہ فلاں کون ذکر ہو رہا ہے؟ فاعل ذکر ہو رہا ہے۔ اور کہیں آجائے اس فعل کا تعلق ہے اس کے ساتھ، آپ سمجھ جائیں یہ کون ذکر ہو رہا ہے؟ مفعول ذکر ہو رہا ہے۔ توجہ ہے؟ قائم کے لفظ کے ساتھ جس کو ذکر کیا جائے وہ کون ہوتا ہے؟ فاعل اور تعلق کے ساتھ لفظ کے ساتھ ذکر کیا جائے وہ کون ہوتا ہے؟ وہ عموماً مفعول ہوتا ہے۔ یعنی فاعل نہیں ہوتا، بس اتنا یاد رکھیں۔ تعلق جب کہا جائے تو فاعل کے لیے تعلق کا لفظ نہیں بولتے۔ فاعل کے لیے یا تو قائم کا لفظ بولتے ہیں یا اسناد کا لفظ بولتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ ہر فعل جو ہے وہ عمل ضرور کرتا ہے اور وہ اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے۔ ضرب زید عمرا۔ ضرب کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف اور تو زید کیا ہے؟ ضرب کے لیے فاعل۔ اور یاد رکھو فاعل مرفوع ہوتا ہے، اس پر رفع پڑھتے ہیں۔ اسی لیے ضرب زید، زید پر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ رفع پڑھ رہا ہوں۔ اور مفعول بہی منصوب ہوتا ہے، اسی لیے عمر پر میں نصب پڑھ رہا ہوں۔ ضرب زید عمرا۔ اس کے بجائے اگر میں یوں پڑھوں ضرب عمرو زیداً، کیا پتہ چلا آپ کو؟ کہ ضرب کس کے ساتھ قائم؟ عمر کس سے پتہ چلا؟ رفع سے۔ توجہ ہے؟ ضرب عمرو زیداً، عمر پر کیا پڑھ رہا ہوں؟ رفع۔ اور رفع بتلا رہا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ فاعل ہے۔ یہ فاعل ہے۔ ضرب لگانے والا اس وقت عمر ہے اور زیداً، زیداً کا نصب کیا بتلا رہا ہے؟ یہ مفعول ہے۔ تو فاعل پر ہمیشہ کیا پڑھنا ہے؟ رفع اور مفعول بہی پر کیا پڑھنا ہے؟ نصب پڑھنا ہے۔ جس لفظ پر رفع آ رہا ہو، فعل کے بعد، فعل کے انے کے بعد جس لفظ پر رفع آ رہا ہو، آپ سمجھ جائیں یہ فاعل ہے، فعل اس کے ساتھ قائم ہے۔ اس کی طرف فعل کا اسناد ہے۔ یہ ہے تو فعل ہے، یہ نہیں تو فعل بھی نہیں۔ اور جس پر نصب آ رہا ہو، آپ سمجھ جائیں یہ کون ہے؟ مفعول ہے۔ تو ضرب عمرو زیداً، فاعل کون؟ عمرو۔ اور مفعول کون؟ زیداً۔ اور پھر کبھی کیا کرتے ہیں؟ فعل کو مجہول بنا دیتے ہیں۔ ضرب سے بنا لیا ضرب۔ گردانیں یاد ہیں یا نہیں؟ جی گردانوں میں آپ نے پڑھا ہے۔ ضرب کیا ہے؟ فعل مجہول۔ جب فعل کو مجہول بناتے ہیں، فاعل کو لفظوں سے ختم کر دیتے ہیں، حذف کر دیتے ہیں۔ مثلاً ضرب زید عمرا۔ پٹائی کرنے والا کون؟ زید۔ اور کس پر واقع ہوئی؟ عمر پر واقع ہوئی۔ جی، اب اس سے بنا لو ضرب۔ ضرب سے کیا بنایا؟ ضرب اور فاعل کو حذف کر لو۔ زید کو ختم کر دو عبارت سے۔ اور وہ، فاعل کی جگہ عمر کو لے آؤ۔ عمر کیا تھا؟ مفعول تھا۔ اب اس کو عمر پڑھو۔ ضرب عمر۔ عمر کی پٹائی کی گئی۔ عمر کی پٹائی کی گئی۔ تو دیکھو، فعل معروف تھا ضرب، اس نے کس کو رفع دیا؟ زید کو اور زید کیا تھا؟ فاعل۔ فعل مجہول ضرب، اس نے کس کو رفع دیا؟ عمر کو۔ کس کو؟ نہیں توجہ سبق کی طرف۔ پھر سنو۔ فعل معروف کیا تھا؟ ضرب زید عمرا۔ ضرب کون سا فعل؟ معروف اور زید کیا ہے؟ فاعل۔ معلوم ہوا ضرب لگانے والا کون؟ زید۔ اور عمرا کیا ہے؟ مفعول۔ تو ضرب نے کس کو رفع دیا؟ زید یعنی فاعل کو رفع دیا۔ تو فعل معروف کس کو رفع دیتا ہے؟ فاعل کو رفع دیتا ہے یعنی جس کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے۔ لیکن کبھی فعل کون سا لے آتے ہیں؟ مجہول۔ تو ضرب زید عمرا، اب اسی کو ہم بدلتے ہیں فعل مجہول میں۔ ضرب کو بنا دو ضرب اور جو فاعل تھا اس کو ختم کر دو، زید کو یہاں سے ہٹا دو اور وہ جو عمر مفعول تھا، اس کو کس کی جگہ لے آؤ؟ زید۔ اور زید پر رفع تھا اس پر بھی کیا پڑھو؟ رفع پڑھو۔ اب پڑھیں گے ضرب عمرو۔ ضرب کیا ترجمہ؟ عمر کو پٹائی کی گئی۔ عمر کو مارا گیا عمر کی پٹائی کی گئی یہ فعل مجہول ہے۔ اور عمر یہ فاعل ہے؟ نہیں۔ یہ مفعول ہے۔ تو فعل مجہول کا اسناد مفعول کی طرف ہوتا ہے۔ اور فعل مجہول اس کو رفع دیتا ہے۔ فعل معروف کس کو رفع دیتا تھا؟ فاعل کو۔ اور فعل مجہول کس کو رفع دیتا ہے؟ مفعول کو۔ توجہ ہے؟ فعل مجہول کس کو رفع دیتا ہے؟ مفعول کو۔ اور اس مفعول کی جگہ پہلے کیا تھا؟ فاعل تھا۔ تو یہ فاعل چلا گیا اور یہ اس کی جگہ آگیا تو اس کو کہتے ہیں نائب الفاعل۔ کیا کہتے ہیں؟ یعنی یہ فاعل کا نائب ہے، اس کا خلیفہ ہے، اس کی جگہ پر آیا ہے۔ تو ضرب عمرو ضرب فعل مجہول اور عمر کیا ہے؟ نائب الفاعل۔ نائب الفاعل کہہ لو یا مفعول کہہ لو بات ایک ہی ہے۔ ضرب زید۔ یہ زید کیا ہے؟ فاعل۔ اور ضرب عمرو یہ عمر کیا ہے؟ مفعول کہہ لو یا نائب الفاعل۔ نائب الفاعل زیادہ بولتے ہیں کیونکہ یہ اب یہ فعل کا اس کی طرف باقاعدہ اسناد ہو رہا ہے۔ ضرب زید۔ ضرب کا اسناد کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ زید کون ہے؟ فاعل ہے۔ اور ضرب عمرو۔ ضرب کا اسناد کس کی طرف؟ عمر کی طرف۔ اور عمر کیا ہے؟ نائب الفاعل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو فعل، جو بھی فعل ہو، وہ ہمیشہ ایک اسم کو رفع ضرور دینا چاہتا ہے۔ توجہ ہے؟ فعل رفع بھی دیتا ہے، نصب بھی دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ فعل رفع بھی دیتا ہے اور انہوں نے، یہ آپ کو بتائیں گے کہ دنیا کا کوئی فعل ایسا نہیں جو عمل نہیں کرتا۔ ہر فعل نے عمل کرنا ہے اور دو عمل کرتا ہے فعل۔ ایک رفع دیتا ہے، ایک نصب دیتا ہے۔ رفع یہ صرف کس کو دیتا ہے؟ فاعل یا نائب الفاعل۔ فاعل یا نائب الفاعل۔ فاعل کو کون رفع دیتا ہے؟ فعل معروف اور نائب الفاعل کو کون رفع دیتا ہے؟ فعل مجہول۔ تو فعل چاہے معروف ہو چاہے مجہول، دونوں نے ایک اسم کو رفع دینا ہے۔ ہر حال میں۔ فعل معروف کس کو رفع دے گا؟ فاعل کو۔ فعل مجہول کس کو رفع دے گا؟ نائب الفاعل۔ نائب الفاعل درحقیقت کون ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے۔ پھر دہراؤ۔ ہر فعل کیا چاہتا ہے؟ کتنے اسموں کو رفع دے؟ ہر فعل ایک اسم کو رفع ضرور دیتا ہے اور وہ اسم اس کا فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے۔ فعل معروف ہو تو وہ فاعل کو رفع دیتا ہے اور فعل مجہول ہو تو نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے۔ اور ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعل آ جائے اور آگے فاعل یا نائب فاعل نہ آئے۔ ہمیشہ اس کے بعد کون آئے گا؟ فاعل یا نائب۔ یعنی فعل نے ہر حال میں رفع ضرور دینا ہے۔ اور جس کو رفع دے گا وہ اس کا فاعل ہوگا یا نائب الفاعل۔ فعل معروف ہوا تو وہ فاعل ہوگا وہ مرفوع۔ اور اگر فعل مجہول ہوا تو وہ نائب الفاعل ہوگا وہ مرفوع۔ تو ہر فعل نے ہمیشہ کیا کرنا ہے؟ رفع ضرور دے گا ایک اسم کو اور جس کو رفع دے وہ کیا کہلائے گا اس کا؟ فاعل یا نائب فاعل۔ فاعل یا نائب فعل معروف کس کو رفع دے گا؟ فاعل کو۔ فعل مجہول کس کو دے گا؟ نائب فاعل کو۔ فعل ہمیشہ ایک اسم کو رفع ضرور دیتا ہے۔ اگر فعل معروف ہو کس کو رفع دیتا ہے؟ فاعل کو۔ اور فعل مجہول ہو تو نائب فاعل۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعل تو آ جائے اور آگے اس کا فاعل یا نائب فاعل نہ آئے۔ تو فعل ہوتا ہے مسند اور جس کو یہ رفع دیتا ہے وہ ہوتا ہے مسند الیہ۔ مسند الیہ بھئی۔ ضرب زید۔ ضرب کیا؟ مسند اور زید کیا؟ مسند الیہ یعنی فاعل۔ اور ضرب عمرو۔ ضرب کیا؟ مسند اور عمرو کیا؟ مسند الیہ۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ مسند اور مسند الیہ سے مل کر کلام پورا ہو جاتا ہے۔ لہذا مفعول لفظوں میں ذکر کریں یا نہ کریں کلام پورا ہو گیا۔ ضرب زید۔ زید نے پٹائی کی۔ بات پوری ہو گئی۔ مفعول کو ذکر کریں یا نہ کریں۔ بات کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی۔ تو ضرب زید۔ ضرب مسند اور زید مسند الیہ۔ اور ضرب عمرو۔ ضرب مسند اور عمرو مسند الیہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو ہر فعل کیا کرتا ہے؟ کسی ایک اسم کو رفع ضرور دے گا اور وہ اس کا فاعل یا نائب فاعل کہلائے گا۔ اگر فعل معروف ہو تو کس کو رفع دے گا؟ فاعل۔ فعل مجہول ہو تو نائب فاعل کو رفع دے گا۔ پھر یاد رکھنا فعل کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی۔ ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی۔ اس میں ظاہر بھی۔ ضمیر جانتے ہو؟ ضمیریں آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسم ظاہر کسے کہتے ہیں یہ سمجھ لو۔ یاد رکھو اسم ظاہر یہ ضمیر کے مقابلے میں ہے۔ اسم ظاہر ضمیر کے یعنی دنیا کا کوئی بھی اسم لے آئیں اور پھر آپ دیکھیں یہ ضمیر ہے یا ضمیر نہیں۔ اگر وہ ضمیر نہیں ہے تو وہ اسم ظاہر ہے۔ اگر وہ ضمیر نہیں تو اسم ظاہر۔ یعنی دنیا کے سارے اسم لے آؤ، اس میں سے ضمیریں نکال لو۔ ضمیریں کتنی؟ جی؟ کتنے تھے؟ 14 پنجے 70۔ 70 طرح کی ضمیریں ہیں۔ بس وہ 70 ضمیریں نکال لو۔ باقی سارے دنیا کے اسم وہ اسم ظاہر کہلاتے ہیں۔ کیا کہلاتے ہیں؟ اسم ظاہر۔ اب آپ مجھے بتانا۔ میں اسم بولتا جاؤں گا۔ آپ نے مجھے بتانا ہے یہ اسم ضمیر ہے یا اسم ظاہر ہے۔ جی انت؟ ہاں یہ اسم ہے۔ اسم ضمیر کہہ لو یا ضمیر کہہ لو ایک ہی بات ہے۔ ہوا؟ ضمیر۔ کتاب؟ اسم ظاہر۔ زید؟ اسم ظاہر۔ عمر؟ اسم ظاہر۔ بکر؟ اسم ظاہر۔ قلم؟ اسم ظاہر۔ کتاب؟ اسم ظاہر۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کوئی بھی اسم لے لو اگر وہ ضمیر نہیں وہ پھر کیا ہے؟ اسم ظاہر ہے۔ تو فعل کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسم ظاہر بھی آ سکتی ہے۔ ضرب زید۔ جی ضرب کا فاعل کون؟ زید۔ یہ ضمیر ہے یا اسم ظاہر ہے؟ اسم ظاہر ہے۔ تو فعل نے ہر حال میں ایک اسم کو رفع دینا ہے اور جس کو یہ رفع دے گا وہ ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر لیکن رفع ایک ہی کو دے گا، دو یا تین کو رفع نہیں دے سکتا۔ فاعل یا نائب فاعل ایک ہی آئے گا دو یا تین نہیں آ سکتے۔ ضرب زید۔ ضرب زید ذرا ترکیب سنو۔ ضرب فعل اور زید اس کا فاعل۔ اس زید کو رفع کس نے دیا؟ ضرب نے۔ تو ضرب فعل، زید مرفوع، لفظاً فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں؟ لفظاً اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ تو زید مرفوع لفظاً فاعل۔ جی۔ اور اب اپ کا آپ نے کہا فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بنتا ہے تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ آپ نے ترکیب کر لی۔ ایک ساتھی آپ کا اٹھا اور اس نے کہا کہ بھئی آپ نے ترکیب غلط کی ہے۔ ہم نے صرف میں پڑھا ہے، ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہوتی ہے اور وہ فاعل ہوتی ہے۔ آپ نے وہ ضمیر ترکیب میں ذکر ہی نہیں کی، تو کیا جواب دیں گے؟ آپ کہیں گے فعل کا فاعل یا نائب فاعل ایک آ سکتا ہے، دو نہیں۔ اگر ضرب کے اندر ہوا ضمیر نکالیں اور اس ضرب کے اندر ہوا ضمیر مان لیں اور اس کو فاعل قرار دے دیں تو پھر زید کو فاعل نہیں بنا سکتے۔ کیونکہ فاعل یا نائب فاعل ایک ہی ہوتا ہے۔ ایک ہی اسم کو فعل رفع دیتا ہے دو یا تین کو وہ رفع نہیں دے سکتا۔ تو ضرب کے اندر اگر ہوا ضمیر نکالیں گے وہ بن جائے گی فاعل اور فاعل کیا ہوتا ہے مرفوع اور ہوا ضمیر تو کیا ہے؟ مبنی تو اس کا یہ اس کو کہیں گے یہ مرفوع ہے محلاً۔ ہوا ضمیر کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ فاعل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع اور محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنی ہے۔ مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً کہ جگہ کے اعتبار سے یعنی لفظوں میں اعراب نہیں آئے گا۔ تو ضرب کے اندر اگر ہوا ضمیر نکالیں وہ کیا ہوگی؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ فاعل مرفوع ہوتا ہے اور محلاً کیوں؟ مبنی ہے۔ اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً۔ تو اگر اس کو آپ فاعل بنا دیں گے تو ضرب تو فعل ہے اور فعل صرف ایک اسم کو رفع دیتا ہے تو اس نے ہوا کو رفع دے دیا تو اب یہ زید کو رفع نہیں دے سکتا بھئی۔ کیونکہ پھر تو فاعل دو بن جائیں گے۔ فاعل دو نہیں ہو سکتے فاعل ایک ہی ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو فعل جب بھی آئے گا آپ نے فوراً اس کے بعد فاعل یا نائب فاعل کو تلاش کرنا ہے کیونکہ ہر فعل ایک نہ ایک اسم کو رفع ضرور دیتا ہے اور جس اسم کو وہ رفع دے اس کو اس کا فاعل یا نائب فاعل کہتے ہیں۔ تو ضرب نے جب زید کو رفع دے دیا معلوم ہوا ضرب کے اندر ہوا ضمیر نہیں ہے۔ اور اگر ہوا ضمیر آپ نکالتے ہو پھر زید اس کے لیے فاعل نہیں بن سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کیونکہ فاعل یا نائب فاعل ایک ہوتا ہے، دو یا تین نہیں ہوتے۔ تو ضرب کے اندر اگر ہوا ضمیر مانیں تو فعل کا فاعل ضمیر۔ اور اگر ضرب کے لیے زید کو فاعل بنائیں تو ضرب کا فاعل اسم ظاہر ہے۔ توجہ ہے؟ تو فعل کا فاعل ایک ہی آئے گا۔ وہ ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن آئے گا ایک ہی۔ اگر ضمیر فاعل آگئی تو اسم ظاہر نہیں آ سکتا اور اگر اسم ظاہر آگیا ضمیر فاعل کی نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ہر فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کتنے چاہئیں؟ ایک۔ اور وہ ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسم ظاہر۔ اگر ضمیر آگئی تو اس میں ظاہر فاعل یا نائب فاعل نہیں آ سکتا اور اگر اس میں ظاہر آگیا ضمیر فاعل یا نائب فاعل نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے ذرا میں نے پہلے بھی پہچان کروائی تھی فعل ماضی اور فعل مضارع کے اندر ضمیریں نکالتے ہیں کس فعل میں کون سی ضمیر فاعل کی ہے۔ پہلے پہلے فعل ماضی بھئی۔ ضرب ضربا ضربوا ضربت ضربتا ضربنا ضربت ضربتوما ضربتم ضربتی ضربتوما ضربتن ضربتو ضربنا۔ جی فعل ماضی میں ضرب کے اندر فاعل کیا؟ ہوا ہوا۔ ہوا کا اعراب بولو۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ فاعل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ مبنی ہے ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے۔ اچھا ضرب، ضربا اس کے اندر الف ہے۔ کیا ہے؟ الف ہے۔ آپ نے گردانوں میں پڑھا ہوگا ہما ہے۔ ہما وہ ویسے سمجھانے کے لیے بتلاتے ہیں ابتدائی طلبہ کو ویسے یہ ہما نہیں ہے۔ اس کے اندر یہ الف ہے۔ ضاد را با یہ فعل کا مادہ ہے۔ ضرب یضرب ضربا مصدر کیا ہے؟ ضرب۔ ضاد را با یہ فعل کا مادہ ہے۔ ان حروف سے فعل بنا ہے۔ تو اس سے جو آگے زائد حروف آئیں گے وہ عموماً ضمیریں ہوتی ہیں۔ سوائے ضربت کے۔ ضربت کے اندر یہ جو لمبی تا ہے یہ فاعل کی ضمیر نہیں یہ تانیث کی علامت ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ جی میں پھر بیان کرتا ہوں۔ اچھا ضرب کے اندر فاعل ہوا، اعراب بولو مرفوع محلاً۔ اور جب میں کہوں ضرب زید اب ضرب کے اندر ضمیر ہے؟ نہیں کیوں نہیں ہے؟ اب اس میں ظاہر فاعل آیا اور فاعل ایک ہی آ سکتا ہے یا ضمیر ہوگی یا اسم ظاہر۔ جب زید فاعل ہے تو اس کے اندر ہوا ضمیر نہیں ہے۔ تو ضرب نے ایک فعل ایک چیز کو رفع دینا تھا وہ اس نے زید کو رفع دے دیا اب اس کے اندر ہوا ضمیر کو یہ رفع نہیں دے سکتا، ضمیر اس کے اندر نہیں ہے۔ اور جب ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہے، ضرب نے اس کو رفع دے دیا تو اب یہ زید کو رفع نہیں دے سکتا۔ अच्छा, گردان میں ہم گردان کر رہے تھے ماضی کی۔ ضرب کے اندر فاعل ہوا، اعراب بولو مرفوع محلاً۔ ضرب، تثنیہ کا صیغہ۔ اس میں فاعل کیا؟ الف اعراب بولو مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ فاعل۔ محلاً کیوں؟ مبنی ہے۔ ضربوا اس کے اندر فاعل بولو۔ واؤ ضمیر ہے شاباش۔ اور اعراب بولو۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ فاعل مرفوع ہوتا ہے اور محلاً کیوں؟ مبنی ہے۔ ضربت یہ باقی سب فعل کے ساتھ جو بھی حرف جڑے گا وہ ضمیریں ہیں لیکن یہ ضربت یہ جو لمبی تا جڑتی ہے، یہ جو چوتھا صیغہ ہے واحد مونث غائب کا، یہ تا تانیث کی علامت ہے۔ یہ ضمیر نہیں ہے۔ جیسے ضارب اور ضاربۃ۔ ضاربۃ کے اندر یہ گول تا کس چیز کی ہے؟ تانیث کی ہے۔ تو ضربت کے اندر یہ لمبی تا تانیث کی علامت ہے۔ یہ ضربت کی لمبی تا بتلا رہی ہے کہ اس فعل کو کسی مونث نے کیا ہے۔ ضربت زینب۔ ضربت زینب زینب نے پٹائی کی۔ تو ضربت کی تا سے ہی پتہ چل گیا کہ آگے فاعل جو ہے وہ کوئی مونث آنے والا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو ضربت کے اندر فاعل کی ضمیر؟ یہ تا تو تانیث کی ہے، ضمیر اب اس کے اندر نکالنی پڑے گی۔ ضربت میں۔ ہوا اس کا اعراب بولو۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ محلاً کیوں؟ مبنی۔ شاباش۔ ضربتا اس میں الف۔ تا نہیں۔ یہ جو تا ہے وہی تانیث والی ہے اور یہ جو الف ہے آخر میں، یہ ضمیر ہے۔ ضمیر ہے۔ اور جو صیغہ ہو وہی ضمیر ہے۔ ضربتا یہ کون سا صیغہ؟ تثنیہ مونث غائب تو یہ الف بھی کون سی ضمیر؟ تثنیہ مونث غائب کی ضمیر۔ ضربنا اس کے اندر یہ نون ہے۔ اس کا اعراب بولو۔ مرفوع محلاً۔ ضربتا تا ضمیر۔ تا ضمیر۔ مرفوع محلاً۔ ضربتما تما ضمیر۔ ضربتم تم ضمیر۔ ضربتی ہاں ہاں تی نہیں۔ تا ضمیر۔ ضربتی میں، میں نے بتلایا تھا کہ جب بھی کوئی کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو۔ کون؟ ایک حرف پر مشتمل۔ کون کلمہ کلمہ یہ لفظ کی بات نہیں کر رہا کلمہ کس پر مشتمل ہو؟ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ بامعنی لفظ کو جس کا کچھ معنی ہو یہ ضربتی کی تا کا کچھ معنی ہے کہ نہیں ہے؟ اچھا الف با تا سا ان کا کوئی معنی ہے؟ نہیں ان کا کوئی معنی نہیں تو یہ یہ حروف ہیں حروف تہجی لیکن ضربتی کی تا کا کچھ نہ کچھ معنی ہے یہ ضمیر ہے اس کا معنی ہے تو یہ کیا ہوا کلمہ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو تو یہ بامعنی لفظ ہے اور با کلمہ جب ایک حرف پر مشتمل ہو تو اس کا جب نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو کس کے اندر تھا حروف تہجی میں اور حروف تہجی میں یہ ضربتی کے اخر میں کون سا حرف ہے؟ تا ہے ضربتا کے اخر میں بھی کیا ہے؟ تا ہے ضربتو کے اخر میں بھی کیا ہے؟ تا ہے ضربا اس کے اخر میں کیا ہے؟ الف ہے جب بھی کوئی کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو تو اس کا نام لینا ہو تو کون سا نام لیتے ہیں؟ وہ جو حروف تہجی میں اس کا نام تھا ضربا اس کے اخر میں کون سا حرف ا رہا ہے؟ اس کو حروف تہجی میں الف کہتے ہیں دیکھا تو اب ضربا کے اخر میں آپ نے کہا الف فاعل ہے ویسے تو کہنا چاہیے تھا آ فاعل ہے کیا کہنا چاہیے تھا؟ جیسے ضربتی میں اگر آپ کہتے ہیں تی فاعل ہے تو ضربا میں کیا کہنا چاہیے؟ آ فاعل ہے لیکن نہیں ایک حرف ہے اور بامعنی ہے معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ یہ الف کیا ہے؟ ضمیر ہے نا اس کا کچھ معنی ہے یا نہیں؟ تو یہ کیا ہوا کلمہ اور کلمہ کتنے حروف پر مشتمل ہے؟ ایک جب ایک حرف پر مشتمل ہو تو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو کس میں تھا حروف تہجی میں تو ضربتا کے اندر ضمیر کون سی؟ تا ضربتما میں تما ضربتم میں تم ضربتی میں تا ضربتما میں تما ضربتُنَّ میں تُنَّ ضربتم میں تا ضمیر پھر تا کہنا ہے تو نہیں کہنا بھئی کیونکہ یہ ایک حرف ہے اور ضربنا میں نا ضمیر ہے اور ان سب کا اعراب بولو مرفوع محلا مرفوع کیوں؟ فاعل محلا کیوں؟ مبنی ہیں اچھا اب مضارع میں اجاؤ یضرب اس کے اندر ہوا ضمیر ہوا ضمیر ہے اور اعراب بولو مرفوع محلا سب مرفوع محلا ہیں فاعل کی ضمیریں ہیں یہ سب مرفوع متصل ضمیریں ہیں مرفوع ہیں کیوں مرفوع ہیں؟ فاعل ہیں اور متصل ہیں فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں کوئی اس کے اندر چھپی ہوئی ہے کوئی ساتھ جڑی ہوئی ہے تو ساری جڑی ہوئی ہیں فعل کے ساتھ تو یضرب میں ہوا یضربانی میں یہ نون اعرابی ہے یضربانی میں الف یضربانی میں الف اور اعراب بولو مرفوع محلا شاباش یضربونا میں واؤ ہے یہ نون اعرابی ہے بھی میں نے بتایا تھا سات صیغے ہیں ان میں نون اعرابی اتا ہے چار تثنیہ والے ہیں یضربانی تضربانی پھر تضربانی پھر تضربانی اور دو جمع مذکر کے صیغے ہیں یضربونا اور تضربونا اور ایک واحد مؤنث کا ہے تضربینہ یہ سارے نون کون سے ہیں؟ نون اعرابی پھر دہراؤ چار کون سے تثنیہ دو جمع مذکر والے اور ایک واحد مؤنث تضربینہ اور جبکہ جمع مؤنث کے جو دو صیغے ہیں یضربنا اور تضربنا یہ نون اعرابی نہیں یہ نون جمع مؤنث کی ضمیر ہے یہ جمع مؤنث کی اور یہ دو صیغے مبنی ہیں مضارع کے باقی بارہ صیغے کیا ہیں؟ معرب ہیں پھر دہراؤ یضرب کے اندر ضمیر کون سی شروع سے یضرب میں ہوا یضربانی میں الف یضربونا میں واؤ تضرب تضرب ہیہ ہیہ واحد مؤنث غائب ہیہ اور تضربانی الف یضربنا نون ہے تضرب انت انت مخاطب کا صیغہ ہے تضرب میں انت تضربانی میں الف تضربونا میں واؤ ہے تضربینہ یا ہے نون اعرابی ہے اور یا ضمیر ہے کون سی ضمیر ہے یا؟ واحد مؤنث مخاطب کی ضمیر ہے پھر تضربانی اس میں الف ہے تضربنا نون ہے اضرب انا ہے اضرب انا اور نضرب نحن یہ الف اضرب کے شروع میں الف ہے یہ فاعل نہیں ہو سکتا یاد رکھنا فاعل ہمیشہ فعل کے بعد اتا ہے اور اضرب تو کیا ہے؟ ضاد را با سے پہلے ا رہا ہے یہ مضارع کی علامت ہے یہ فاعل نہیں تو فاعل ہمیشہ کب ائے گا فعل کے بعد تو فاعل ہو یا نائب فاعل ہو وہ ہمیشہ فعل کے بعد اتا ہے پھر سنو حاصل کلام فعل معروف ہو یا فعل مجہول وہ ہمیشہ ایک اسم کو رفع ضرور دے گا اور جس اسم کو رفع دے گا اس کو ان کا فاعل یا نائب فاعل کہیں گے فعل معروف ہو تو فاعل کہیں گے فعل مجہول ہو تو نائب فاعل کہیں گے اور فاعل یا نائب فاعل ایک ا سکتا ہے دو یا زیادہ نہیں ا سکتے اور فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی اگر ضمیر اجائے تو اس میں ظاہر نہیں ا سکتا اور اس میں ظاہر اجائے تو ضمیر نہیں آ سکتی اور پھر میں ضمیروں کی بھی پہچان کروا دی ایک ایک صیغے کے اندر اور مضارع کے اندر میں نے بتلا دیا مضارع میں شبہ پڑتا ہے یضرب یہ یضرب کے شروع میں یا ہے بس طلبہ کہتے ہیں شاید یہ فاعل ہے یا اضرب کے شروع میں الف ہے یہ فاعل ہے یا نضرب کے شروع میں نون ہے یہ فاعل ہے میں نے بتلا دیا کہ فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ فعل کے بعد ائیں گے کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے لہذا ضرب زید یہ زید کیا ہے؟ فاعل ہے لیکن اگر اس زید کو فعل سے پہلے لے اؤں زید ضرب زید ضرب اب کوئی کہنا چاہے کہ یہ زید مرفوع ہے فاعل ہے آپ فورا کیا کہیں گے؟ نہیں جی زید ضرب جی کہتا ہے یہ زید فاعل ہے آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ فاعل فعل پر کبھی مقدم نہیں ہو سکتا یہ ترکیب میں کچھ اور بن رہا ہوگا فاعل نہیں بن سکتا توجہ ہے؟ زید ضرب کوئی کہتا ہے یہ زید جو فعل پر مقدم ہے یہ فاعل ہے آپ کیا کہیں گے؟ فاعل کبھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا تو زید ضرب تو ضرب کے لیے فاعل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے پھر کیا کریں گے؟ اسی کے اندر ضمیر نکالیں گے کیونکہ آگے تو کوئی اس میں ظاہر موجود نہیں ہے یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہر فعل کے لیے کیا چاہیے ایک فاعل یا اور وہ فاعل یا نائب فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے اور فاعل یا نائب فاعل ایک ہی آ سکتا ہے ایک سے زیادہ نہیں اور وہ اس میں ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں ظاہر اگر ضمیر ہوئی تو اس میں ظاہر نہیں آ سکتا اور اگر اس میں ظاہر ہوا تو ضمیر نہیں آ سکتی اور یہ بھی یاد رکھیں فعل کے آنے کے بعد یہی ایک مرفوع ائے گا یہ جو فاعل یا نائب فاعل ہے باقی جتنے آگے ائیں گے وہ یا سارے منصوب ہوں گے یا مجرور ہوں گے وہ ہی سارے کیا ہوں گے منصوب یا مجرور اور مجرور تو صرف دو ہی ہیں کون سے دو؟ ایک مضاف علیہ اور دوسرا جس پر حرف جر داخل ہو تو باقی سارے منصوب ہوں گے تو فعل کے انے کے بعد مرفوع صرف کون ائے گا؟ فاعل یا نائب فاعل باقی سارے منصوب یا مجرور پھر ان میں مجرور کو بھی علیحدہ کرنا بڑا اسان ہے مجرور تو صرف کتنے ہیں؟ دو نمبر ایک مضاف علیہ نمبر دو جس پر حرف جر داخل ہو جس پر حرف جر داخل ہو اب اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ فعل کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی ہو سکتا ہے اب ایک اور چھوٹی سی بات یاد رکھنا کس صیغے کے لیے اس میں ظاہر فاعل بن سکتا ہے؟ تو آپ نے چودہ صیغے پڑھے ماضی کے بھی چودہ مضارع کے بھی چودہ ان میں سے یاد رکھیں پہلا اور چوتھا صیغہ پہلا کون سا صیغہ؟ ضرب اور چوتھا ضربت مضارع کے اندر پہلا یضرب اور چوتھا تضرب یعنی پہلا صیغہ کون سا ہے واحد مذکر غائب اور چوتھا کون سا ہے واحد مؤنث غائب یہ جو دو صیغے ہیں پہلا اور چوتھا چاہے ماضی میں ہیں چاہے مضارع میں ان دو صیغوں کے لیے فاعل اس میں ظاہر آ سکتا ہے باقی بارہ صیغوں کے اندر فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی جو اسی فعل کے ساتھ جڑی ہوگی اور پھر وہ یا بارز ہوگی یا مستتر ہوگی بارز کا کیا معنی؟ ظاہر ہوگی اور یا مستتر ہوگی اس کے اندر چھپی ہوئی ہوگی ضرب کے اندر ہوا ضمیر چھپی ہوتی ہے اور ضربتا کے اخر میں تا ضمیر بارز ہوتی ہے توجہ ہے؟ ضمیر مستتر کیا جو فعل کے اندر چھپی ہو بارز جو ظاہر ہو یعنی اس پر آپ باقاعدہ تلفظ کرتے ہیں ضربا یہ الف بارز ہے مستتر ہے؟ بارز ہے اس پر آپ تلفظ کر رہے ہیں ضربوا یہ واؤ بارز ہے مستتر ہے؟ بارز ہے کیونکہ آپ اس واؤ کو پڑھ رہے ہیں نہیں پڑھ رہے؟ پڑھ رہے ہیں تو کتنے صیغے ہیں جن کے لیے فاعل اس میں ظاہر آ سکتا ہے؟ دو صیغے ماضی میں بھی دو صیغے مضارع میں بھی دو صیغے کون سے صیغے پہلا اور چوتھا پہلا صیغہ کون سا واحد مذکر غائب اور چوتھا کون سا واحد مؤنث غائب یہ دو صیغے ہیں جن کے لیے فاعل اس میں ظاہر آ سکتا ہے باقی بارہ صیغوں میں فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی پھر وہ کبھی ضمیر مستتر ہوگی اور کبھی بارز وہ اب صیغے کے مطابق خود غور کر لیں گے لذا پہلا یا چوتھا صیغہ اجائے جملے میں تو آگے دیکھو کوئی اس میں ظاہر اس کے لیے فاعل تو نہیں بن رہا توجہ ہے؟ جب پہلا یا چوتھا صیغہ اجائے تو آگے لفظوں میں تلاش کرو کہ کوئی اس میں ظاہر اس کے لیے فاعل تو نہیں بن رہا اگر فاعل بن رہا ہو اس پر کیا پڑھ دو؟ رفع فاعل کیا ہوتا ہے فاعل ہو یا نائب فاعل ہو فعل معروف ہو یا مجھول دونوں میں ایک ہی جیسا ہے اس پر کیا پڑھو رفع اگر اس میں ظاہر فاعل یا نائب فاعل بن رہا ہو اس پر کیا پڑھو رفع اور پھر اس فعل کے اندر ضمیر نہ نکالنا کیونکہ فاعل یا نائب فاعل ایک ہو سکتا ہے دو نہیں اور اگر آگے کوئی اس میں ظاہر فاعل یا نائب فاعل نہ ملے تو اسی فعل میں پھر ضمیر نکال دینا کیونکہ فاعل یا نائب فاعل کے بغیر فعل نہیں آ سکتا وہ تو ضرور چاہیے کیا کہا میں نے اگر جملے میں کیا اجائے پہلا یا چوتھا تو پھر اس کے لیے فاعل اس میں ظاہر آ سکتا ہے لہذا اگلے اگلے لفظوں میں کیا کر لو؟ تلاش کر لو کہ کوئی اس میں ظاہر فاعل یا نائب فاعل بن رہا ہے یا نہیں اگر مل جائے تو اس پر کیا پڑھ دو رفع اور اس فعل کے اندر پھر ضمیر نہ نکالو کیوں ضمیر کیوں نکالی؟ کیونکہ فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے کیونکہ فعل ہوتا ہے مسند اور فاعل یا نائب فاعل کیا ہوتا ہے مسند الہ اور کلام کس سے بنتا ہے؟ مسند اور مسند الہ ہی سے بنتا ہے جبکہ باقی سارے کیا ہوں گے منصوب یا مجرور اور مجرور تو صرف دو ہیں ایک مضاف علیہ ایک جس پر حرف جر داخل ہو باقی سارے منصوب رہ جائیں گے اور تو ان دو صیغے یہ دو صیغے جب ائیں تو آگے اس میں ظاہر تلاش کرو فاعل تو نہیں بن رہا یا نائب فاعل اور اگر باقی بارہ صیغوں میں سے کوئی صیغہ اجائے تو پھر آگے تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے انہی کے ساتھ جڑی ہوئی فاعل یا نائب فاعل کی ضمیر ہوگی یا مستتر ہوگی یا بارز اس میں ظاہر باقی بارہ کے لیے فاعل یا نائب فاعل نہیں بن سکتا ضابطہ سب کو سمجھ میں اگیا اچھی طرح؟ بس حاصل کلام پھر سن لو اگرچہ آج تو بہت زیادہ تکرار ہو گیا اسی چیز کا لیکن پھر سن لو ہر فعل عمل کرتا ہے وہ کبھی رفع دیتا ہے اور کبھی نصب لیکن رفع صرف کس کو دیتا ہے؟ فاعل یا نائب فاعل فعل معروف ہو وہ کس کو رفع دیتا ہے فاعل کو اور فعل مجہول نائب فاعل نائب فاعل دراصل کیا ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے اور یہ جو فاعل یا نائب فاعل ہیں ان کے ساتھ فعل قائم ہوتا ہے یہ ہیں تو فعل ہے یہ نہیں تو فعل بھی نہیں اور یہ کیا بنتے ہیں؟ مسند الہ اور فعل کیا ہوتا ہے مسند تو ان کا وجود ضروری ہے تو ہر فعل ایک ہی فاعل یا نائب فاعل کو رفع دے گا دو یا زیادہ کو رفع نہیں دے سکتا اور فاعل یا نائب فاعل ضرور آئے گا ایسا نہیں ہو سکتا فعل آئے اور فاعل یا نائب فاعل نہ ائے اور وہ ایک ہی ہوگا اور پھر وہ ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اس میں ظاہر بھی اگر اس ضمیر ہے تو پھر اس میں ظاہر فاعل نہیں یا نائب فاعل نہیں بنے گا اور اگر وہ اس میں ظاہر ہے تو پھر ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں اور فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آئیں گے کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتے اور جب آپ کو ایک چیز کے بارے میں پتہ چل رہا ہے کہ یہ فاعل ہے یا نائب فاعل تو ساتھ ہی آپ کو اس کے اعراب کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے باقی جتنے آگے ائیں گے وہ ہوں گے یا منصوب یا مجرور اور منصوب اور مجرور کو پھر علیحدہ کرنا وہ بھی بڑا اسان ہے ان میں سے مجرور تو صرف دو ہی ہیں ایک مضاف علیہ اور ایک جس پر حرف جر داخل ہو باقی سارے منصوب رہ جائیں گے جو فاعل ہے اس کی طرف فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے اس کی طرف فعل کا اسناد ہوتا ہے فعل مسند بنتا ہے اور فاعل یا نائب فاعل مسند الہ اور یہ جو مفعول ہوتا ہے اس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے یا یوں کہیں اس کے ساتھ فعل کا تعلق ہوتا ہے بات اچھی طرح سمجھ میں اگئی چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
56 approved lectures · 30 of 56