دیکھیے بھئی آگے کتاب پر۔
قسم دوم: حروفے کہ فعلِ مضارع را بجزم کنند و آن پنج است: لم، و لما، و لامِ امر، و لاے نہی، و إن شرطیہ۔ چون لم ينصر، و لما ينصر، و لا تنصر، و إن تنصر أنصر۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ ”أن“ جو ہے وہ چھ چیزوں کے بعد مقدر ہوتا ہے۔ ان چھ میں سے پہلی چیز ”حتیٰ“ ہے۔ ”حتیٰ“ کے بعد ”أن“ مقدر ہوگا اور وہ فعلِ مضارع کو نصب دے گا۔ لیکن میں نے بتلایا تھا کہ اس میں ایک شرط یہ ہے کہ ”حتیٰ“ کا ماقبل وہ جو ہے زمانے کے اعتبار سے پہلے ہو اور ”حتیٰ“ کا مابعد جو ہے وہ زمانے کے اعتبار سے بعد میں ہو، یعنی دونوں کا زمانہ ایک نہیں ہونا چاہیے۔ جو ”حتیٰ“ سے پہلے ہے اس کا زمانہ بھی پہلے ہو اور جو ”حتیٰ“ کے بعد ہے اس کا زمانہ بھی بعد میں ہو۔
دوسرا ”لامِ جحد“ تھا جس کے بعد ”أن“ مقدر ہوتا ہے، اور ”لامِ جحد“ وہ لام ہے جو ”کانَ منفی“ کے بعد اس کی خبر پر داخل ہوتا ہے اور اس نفی میں تاکید پیدا کرتا ہے، یعنی زور پیدا کر دیتا ہے۔
تیسرا جو ہے وہ ”أو“ ہے جو ”إلیٰ أن“ یا ”إلا أن“ کے معنیٰ میں ہو۔ جمہور کے نزدیک یہ ”أو“ کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ ”إلیٰ أن“، اور امام سیبویہ کے نزدیک ”إلا أن“ کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ اور یہ جو ”أو“ ہے، یہ غایہ پر داخل ہوتا ہے۔ ماقبل میں ایک بات ذکر ہے اور مابعد اس کے لیے کیا قرار دیا جا رہا ہے؟ اس کو غایہ۔ جیسے لألزمنك أو تعطيني حقي۔ میں ضرور بالضرور آپ کے ساتھ لازم رہوں گا یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ معلوم ہوا جب حق دے دے گا تو لازم رہنا ختم کر دے گا۔ تو یہ مابعد کیا ہے ماقبل کے لیے؟ غایہ۔ اسی لیے یہ ”إلیٰ أن“ اور ”إلا أن“ کے معنیٰ میں ہے۔
اور چوتھا مقام جہاں پر ”أن“ مقدر ہوگا وہ ”واؤِ صرف“ ہے۔ واؤِ صرف۔ میں نے تفصیل بیان کی تھی بھئی کہ واؤِ صرف جو ہے، صرف کا معنیٰ ہے پھیرنا، منع کرنا، روکنا۔ اور یہ واؤ بھی چونکہ مابعد کا ماقبل پر براہِ راست عطف نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ ماقبل میں انشاء ہے اور مابعد میں خبر ہے۔ ماقبل میں کیا ہے جملہ؟ انشائیہ۔ اور مابعد میں کیا ہے جملہ؟ خبریہ ہے۔ اور انشاء اور خبر میں کوئی مناسبت نہیں۔ میں نے بتلایا تھا عطف کے لیے بھی کیا چاہیے؟ مناسبت چاہیے۔ تو مابعد میں ہے جملہ خبریہ اور ماقبل میں ہے جملہ انشائیہ، اور جملہ انشائیہ اور جملہ خبریہ میں کوئی مناسبت نہیں۔ تو یہ واؤ براہِ راست عطف سے مانع ہے، اس کو روکتا ہے، اس لیے اس کو واؤِ صرف کہتے ہیں۔
ہاں، پھر اس کے بعد ”أن“ مقدر ہوتا ہے اور وہ فعلِ مضارع کو نصب دیتا ہے۔ اور ”أن“ جو ہے ”أنِ مصدریہ“ ہے، وہ فعلِ مضارع کو کس معنیٰ میں کر دے گا؟ مصدر۔ تو مابعد کا جو جملہ ہے وہ مصدر کے معنیٰ میں ہو گیا۔ ماقبل جو انشاء تھا اس سے بھی مصدر نکال لیں گے اور مصدر پر مصدر کا عطف کر دیں گے۔ اور اس واؤ کا دوسرا نام ”واؤِ جمع“ ہے۔ واؤِ جمع۔ یعنی یہ دونوں چیزوں کی جمع پر دلالت کرتا ہے۔ دونوں چیزوں کی جمع۔ لہٰذا یہاں اسی لیے جو ہم نے مثالیں کی تھیں، اس کے ان کا جب معنیٰ بیان کیا تھا تو وہاں اجتمع فعلِ صفت کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا تھا۔
تو یہ واؤِ صرف کہلاتا ہے اور واؤِ صرف کی دو شرطیں انہوں نے آپ کو بتلائی تھیں۔ پہلی شرط کیا؟ کہ ماقبل اور مابعد کا زمانہ ایک ہو، اور دوسری شرط یہ کہ یہ واؤ چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ وہ چھ چیزیں کون سی ہیں؟ امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا اور عرض۔ ان میں سے نفی جو ہے وہ انشاء نہیں ہے۔ لیکن چونکہ نفی کی صورت کس کی جیسی ہے؟ نہی جیسی ہے، اور نہی تو انشاء ہے، تو نہی کا جب یہ حکم تھا تو نفی کو بھی یہی حکم دے دیا۔
اور اس کی پھر ہم نے مثالیں کی تھیں۔ مثلاً زرني وأكرمَك۔ یہ مثال تھی امر کی۔ زرني وأكرمَك۔ تو دیکھو زرني، یہ امر ہے، حکم دیا جا رہا ہے اور درمیان میں واؤ آیا۔ اور واؤ کون سا ہے؟ واؤِ صرف یا یوں کہیں واؤِ جمع۔ اور یہ آپ أكرمَك کا براہِ راست عطف زرني پر نہیں ہو سکتا، تو پھر ”أن“ مقدر ہوا یہاں پر۔ اب مفرد کا عطف مفرد پر ہو گیا کیونکہ ”أن“ نے جملے کو مصدر کے معنیٰ میں کر دیا، اور مصدر مفرد ہے، یعنی جملہ نہیں ہے، اس میں بات پوری نہیں، تو مفرد کا عطف مفرد پر ہو جائے گا۔
اور ترجمہ دیکھو۔ پہلی مثال کیا ذکر کی؟ زرني وأكرمَك۔ میں نے عربی میں ترجمہ کیا تھا: لتجتمع منك زيارة وإكرام مني۔ اب اسی کو ذرا اردو میں بھی سمجھ لیں، دیکھو اردو میں آپ کے لیے اور آسان ہو جائے گا۔ زرني وأكرمَك۔ جمع ہونا چاہیے۔ دیکھو یہ امر کا ترجمہ کر رہا ہوں۔ جمع ہونا چاہیے۔ دیکھو امر کا ترجمہ ”چاہیے“ کے ساتھ کرتے ہیں یا نہیں؟ ليضرب زيدٌ۔ ایک تو امر ہے حاضر: اضرب زيداً۔ کہ تو پٹائی کر زید کی۔ اور ایک امر غائب ہے: ليضرب زيدٌ، چاہیے کہ زید پٹائی کرے۔ تو دیکھو وہاں یہ جو لامِ امر ہے اس کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ ”چاہیے“ کے ساتھ۔ تو یہاں بھی ہم ”چاہیے“ کے ساتھ ہی امر کا ترجمہ کریں گے۔ آگے نہی آئے گی، نہی کا ترجمہ نہی کے ساتھ کریں گے۔ آگے استفہام آئے گا، دیکھنا اس میں استفہام والا ہم ترجمہ کریں گے۔ جہاں تمنا آئے گی وہاں تمنا والا ترجمہ کریں گے، اور جہاں درخواست یا عرض آئے گی وہاں ہم عرض والا یعنی درخواست والا ترجمہ کریں گے بھئی۔
جیسے پہلا کیا آیا؟ زرني وأكرمَك۔ چاہیے کہ جمع ہو آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام۔ جمع ہونا چاہیے، کیا چیز؟ آپ کی طرف سے زیارت۔ کہ آپ کیا کریں؟ میری زیارت۔ چاہیے کہ جمع ہو آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام، یعنی ان دو چیزوں کو جمع ہونا چاہیے۔ آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام، ان دونوں چیزوں کو جمع ہونا چاہیے۔ تو ترجمہ چاہے یوں کر لیں: چاہیے کہ جمع ہو آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام۔ یا یوں ترجمہ کریں: آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام جمع ہونا چاہیے۔ آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام جمع ہونا چاہیے۔ یہ ”جمع“ میں کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ یہ واؤِ صرف یا واؤِ جمع کا میں ترجمہ کر رہا ہوں۔ اور ”چاہیے“، یہ کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ امر۔ امر۔ ”چاہیے“ کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ امر۔ تو اب کریں ترجمہ: زرني وأكرمَك۔ آخر میں لے جائیں: آپ کی طرف سے زیارت اور میری طرف سے اکرام جمع ہونا چاہیے۔
اچھا، دوسری مثال پر آئیے: لا تأكل السمك وتشربَ اللبنَ۔ جی، ترجمہ کیجیے: لا تأكل۔ اب کیا آ رہی ہے؟ نہی۔ تو اب ترجمہ نہی والا کرنا۔ لا تأكل السمك۔ کس کے مچھلی کھانے سے روکا جا رہا ہے؟ مخاطب کو۔ کس کو؟ مخاطب کو۔ اور اسی کو دودھ پینے سے منع کیا جا رہا ہے۔ اب ترجمہ کریں۔ جمع نہیں ہونا چاہیے۔ اب نفی والا ترجمہ کرو۔ پہلے کیا تھا؟ جمع ہونا چاہیے، امر تھا۔ اب جمع نہیں ہونا چاہیے۔ جمع نہیں ہونا چاہیے آپ کی طرف سے مچھلی کا کھانا اور دودھ کا پینا۔ جمع نہیں ہونا چاہیے آپ کی طرف سے مچھلی کا کھانا اور دودھ کا پینا۔ جمع نہیں ہونا چاہیے، اس کو آخر میں لے جاؤ۔ آپ کی طرف سے مچھلی کا کھانا اور دودھ کا پینا جمع نہیں ہونا چاہیے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
آگے آئیے: ما تأتينا وتحدثَنا۔ یہ اب نہی نہیں ہے، یہاں ”چاہیے“ کے ساتھ ترجمہ نہیں کرنا بلکہ یہ نفی ہے، نفی۔ اور نفی، اس میں خبر ہوتی ہے، وہ انشاء نہیں۔ ما تأتينا، کیا معنیٰ؟ آپ ہمارے پاس نہیں آتے۔ تو اسی کے مطابق ترجمہ کر لیں۔ جمع نہیں ہوتا۔ جمع نہیں ہوتا۔ دیکھو ”ہوتا“ میں کہہ رہا ہوں، جمع نہیں ہوتا۔ ”جمع نہیں ہونا چاہیے“، وہ کس کا ترجمہ تھا؟ نہی کا۔ ”جمع نہیں ہونا چاہیے“، وہ تھا نہی کا، نہی میں روکا جاتا ہے۔ اور نفی میں صرف ایک بات بیان کی جاتی ہے۔ ما تأتينا وتحدثَنا۔ جمع نہیں ہوتا آپ کا آنا۔ اتيان ذکر ہے نا، آنا۔ جمع نہیں ہوتا آپ کا آنا اور آپ کا ہم سے باتیں کرنا۔ جمع نہیں ہوتا آپ کا آنا اور آپ کا ہم سے باتیں کرنا۔ اب اس ”جمع نہیں ہوتا“ کو آخر میں لے جاؤ۔ آپ کا آنا اور ہم سے باتیں کرنا جمع نہیں ہوتا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
آگے آئیے: هل عندكم ماء وأشربَه؟ یہاں سوال کے ساتھ جمع کو لے آؤ۔ کیا جمع ہو سکتا ہے؟ هل عندكم ماء؟ کیا جمع ہو سکتا ہے؟ یہ ”کیا“ میں کیوں لایا؟ استفہام ہے۔ هل عندكم، تو ”کیا“ لے کر آیا۔ اور جمع اسی طرح لے آؤ کیونکہ واؤِ جمع ہے۔ کیا جمع ہو سکتا ہے؟ کیا چیز جمع ہو سکتی ہے؟ آپ کے پاس پانی کا ہونا اور میرا اس کو پینا۔ کیا جمع ہو سکتا ہے آپ کے پاس پانی کا ہونا اور میرا اس کو پینا؟ اب اس کو با محاورہ کر لو۔ کیا، ”کیا“ تو ہمیشہ شروع میں ہی لاتے ہیں، تو اس کو یہ شروع میں ہی رہے گا۔ ہاں، ”جمع“ کا لفظ آخر میں لے جاؤ۔ کیا آپ کے پاس پانی کا ہونا اور میرا اس کو پینا جمع ہو سکتے ہیں؟ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟
اگلی مثال تھی: ليت لي مالاً وأنفَقَه۔ کاش کہ میرے پاس مال ہوتا کہ میں اس کو خرچ کرتا۔ جی، اب اس کا کریں ترجمہ واؤِ جمع والا۔ ليت لي مالاً۔ ليت کس لیے آتا ہے؟ ليت کس لیے آتا ہے؟ تمنا کے لیے، اور اس کا ترجمہ کیا کرتے ہیں؟ ”کاش“ کے ساتھ۔ تو اسی طرح اب ترجمہ کر لو۔ کاش کہ جمع ہوتا۔ کیا چیز جمع ہوتی؟ ليت لي مالاً، کاش کہ جمع ہوتا میرے لیے مال اور وأنفَقَه، اور پھر میرا اس اور میرا اس کو خرچ کرنا۔ کاش کہ جمع ہوتا میرے لیے مال کا ہونا اور اس کا خرچ کرنا۔ اب با محاورہ کر لیں۔ کاش کہ میرے لیے مال کا ہونا اور اس کا خرچ کرنا جمع ہوتے۔ دیکھو ”کاش“ کے ساتھ ترجمہ کیا۔
اگلا ہے عرض بھئی۔ اس کو درخواست کہتے ہیں، درخواست کرنا کسی سے، کسی بات کی گزارش کرنا، یعنی نرم لفظوں میں کسی سے کوئی بات کسی کام کا کہنا نرم لفظوں میں۔ یعنی نرم لفظوں میں کسی سے کوئی کام طلب کرنا۔ امر میں تو حکم ہوتا ہے نا: اضرب زيداً، کیا کرو؟ زید کی پٹائی کرو۔ یہاں پر نرم لفظوں میں کسی کام کو طلب کیا جاتا ہے۔ اس کو اردو میں درخواست بھی کہتے ہیں۔ درخواست اور گزارش بھی۔ ألا تنزل بنا وتصيبَ خيراً۔ کیا ألا، ألا عرض کے لیے لے کر آ رہے ہیں۔ کیا جمع نہیں ہو سکتا؟ ألا، ألا کس لیے؟ ہمزہ کس لیے آتا ہے؟ استفہام، اور لا کس لیے ہوتا ہے؟ نفی۔ ہمزہ ہے استفہام کے لیے اور لا ہے نہی، یعنی کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟ تو ألا تنزل بنا، کیا جمع نہیں ہو سکتا؟ کیا چیز؟ تنزل بنا، کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ تو کیا جمع نہیں ہو سکتا آپ کا تشریف لانا وتصيبَ خيراً اور ہماری طرف سے آپ کو خیر کا پہنچنا؟ کیا جمع نہیں ہو سکتا آپ کا آنا، آپ کا تشریف لانا اور ہماری طرف سے آپ کو خیر کا پہنچنا؟ اب اس کو با محاورہ کر لو۔ جمع کو آگے لے جاؤ۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کا تشریف لانا اور ہمارا آپ کو خیر پہنچانا جمع ہو جائیں؟ اور یہ سوال نہیں کر رہا، یہ درخواست کر رہا۔
بات سمجھ میں آگئی درخواست کر رہا ہے کہ کیا یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں؟ یعنی ان دونوں کو جمع ہونا چاہیے، آپ کو تشریف لانی چاہیے اور ہماری طرف سے پھر خیر پہنچنی چاہیے۔
ترجمہ دیکھیں، اسی کے مطابق کیا جس قسم کا صیغہ استعمال ہوا تھا۔ زُرْنِي وَأُكْرِمَكَ کا، یہاں امر تھا تو ہم نے ترجمہ بھی امر والا کیا۔ لَا تَأْكُلِ السَّمَكَ وَتَشْرَبَ اللَّبَنَ، یہاں نہی تھی تو ہم نے ترجمہ بھی نہی والا کیا۔ مَا تَأْتِينَا وَتُحَدِّثَنَا، یہ نفی تھی تو ہم نے ترجمہ بھی نفی والا کیا۔ هَلْ عِنْدَكُمْ مَاءٌ وَأَشْرَبَهُ، یہ استفہام تھا تو ہم نے ترجمہ بھی استفہام والا کیا۔ اسی طرح آگے لَيْتَ لِي مَالًا وَأُنْفِقَهُ، اس کا ترجمہ ہم نے تمنا والا کیا۔ اور أَلَا تَنْزِلُ بِنَا وَتُصِيبَ خَيْرًا، اس کا ترجمہ ہم نے عرض والا کیا۔
کل جو میں نے مثالیں لکھوائی تھیں، انہی کا ترجمہ عربی میں لکھوایا تھا۔ جیسے زُرْنِي وَأُكْرِمَكَ، اس کا ترجمہ میں نے کیا لکھوایا تھا؟ لِتَجْتَمِعَ مِنْكَ زِيَارَةٌ وَإِكْرَامٌ مِنِّي۔ بس وہی میں نے عربی میں بیان کیا تھا اور اب اردو میں بیان کر دیا، بات سمجھ میں آگئی؟
تو خلاصہ ذکر ہو رہا تھا کل کے سبق کا۔ تو چوتھی جگہ جہاں پر اَنْ مقدر ہوگا، وہ واؤِ صرف ہے۔ اور اس کے بعد پھر فعلِ مضارع کو وہ کیا کرے گا؟ نصب دے گا۔
اگلا تھا لامِ کَے۔ لامِ کَے میں نے بتلایا تھا یہ وہ لام ہے جو کَے کا معنی ادا کرتا ہے۔ اور کَے کیا معنی ادا کرتا تھا؟ وہ سببیت کے لیے، وہ سبب بیان کرتا تھا۔ تو یہ لام بھی سبب بیان کرے گا۔ اور وہی مثال ہے وہ جو کَے کے لیے ذکر ہوئی تھی، البتہ کَے کی جگہ وہاں لام لے آئیں۔ أَسْلَمْتُ لِأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو یہ لامِ کَے ہے جو سبب کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد اَنْ مقدر ہوتا ہے اور پھر وہ فعلِ مضارع کو نصب دیتا ہے۔
اور چھٹی جگہ تھی وہ فا جو کہ چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ میں نے بتلایا تھا کہ اس فا کے اندر بھی دو شرطیں ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ اول جو ہے یعنی فا کا ماقبل وہ سبب ہو کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، یعنی جو فا کے مابعد ہے۔ یعنی اول سبب بنے ثانی کے لیے۔ اور دوسری شرط کیا تھی کہ یہ کتنی چیزوں کے جواب میں آئے؟ چھ چیزوں کے، وہی چھ چیزیں۔
تو وہ واؤ کے اندر جو مثالیں تھیں ان کے اندر ماقبل اور مابعد کا زمانہ ایک تھا، یعنی دونوں کے جمع ہونے کو ذکر کیا گیا تھا کہ یہ دونوں جمع ہونے چاہئیں یا جمع نہیں ہونے چاہئیں۔ اور یہاں پر اول کیا بنے گا؟ سبب کس کے لیے؟ ثانی کے لیے۔ اور وہی مثالیں تھیں، صرف ایک مثال ہمیں بدلنا پڑی کیونکہ وہاں ماقبل مابعد کے لیے سبب نہیں بن رہا تھا۔
کیا کیا مثالیں تھیں؟ زُرْنِي فَأُكْرِمَكَ۔ زُرْنِي فَأُكْرِمَكَ کہ آپ میری زیارت کیجیے تاکہ میں آپ کا اکرام کروں۔ لَا تَشْتِمْنِي فَأَضْرِبَكَ، آپ مجھے گالی نہ دیجیے کہ پھر میں آپ کی پٹائی کروں۔ مَا تَأْتِينَا فَتُحَدِّثَنَا، آپ ہمارے پاس نہیں آتے تاکہ ہم سے باتیں کریں۔
تو یہ والی جو فا ہے نا فا، اس کا ترجمہ "تاکہ" کے ساتھ کرو، تاکہ، اس لیے کہ۔ دیکھو اس وجہ کے لیے کیا لاتے ہیں؟ اس لیے کہ اور تاکہ۔ آپ سے کوئی پوچھتا ہے: آپ نے محنت کی، کس لیے؟ آپ کہتے ہیں تاکہ میں امتحان میں بہترین طریقے سے کامیاب ہو جاؤں۔ تو دیکھا، تاکہ کس لیے لے کر آتے ہیں؟ سبب بیان کرنے کے لیے۔ آپ سے کس نے پوچھا: آپ نے محنت کیوں کی؟ آپ جواب میں کیا کہتے ہیں؟ تاکہ میں امتحان میں بہترین طریقے سے کامیاب ہو جاؤں۔ تو دیکھا، سبب کے لیے "تاکہ" لے کر آتے ہیں۔
یہاں پر بھی دیکھ لیں، سب میں تو یہ لفظ "تاکہ" نہیں آئے گا لیکن اکثر مثالوں میں درست بن جائے گا۔ زُرْنِي فَأُكْرِمَكَ، آپ میری زیارت کیجیے تاکہ میں آپ کا اکرام کروں۔ دیکھو یہاں "تاکہ" کا لفظ صحیح جڑ گیا۔ یا یوں کر لیں: زُرْنِي فَأُكْرِمَكَ، آپ میری زیارت کیجیے اس لیے کہ میں آپ کا اکرام کروں۔
اور لَا تَشْتِمْنِي فَأَضْرِبَكَ، آپ مجھے گالی نہ دیجیے تاکہ میں آپ کی پٹائی کروں، یہاں ذرا مناسب نہیں بن رہا۔ اس جملے میں "تاکہ" ذرا مناسب نہیں بن رہا، تو یہاں یوں ترجمہ کر لیں: لَا تَشْتِمْنِي فَأَضْرِبَكَ، آپ مجھے گالی نہ دیجیے کہ میں پھر آپ کی پٹائی کروں۔
اور مَا تَأْتِينَا فَتُحَدِّثَنَا، جی اس کا ترجمہ کیجیے۔ آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے تاکہ ہم سے بات کریں۔ هَلْ عِنْدَكُمْ مَاءٌ فَأَشْرَبَهُ، کیا آپ کے پاس پانی ہے تاکہ میں اس کو پی لوں؟ لَيْتَ لِي مَالًا فَأُنْفِقَهُ، کاش کہ میرے پاس مال ہوتا تاکہ میں اس کو خرچ کرتا۔ أَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِيبَ خَيْرًا، کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے تاکہ آپ کو خیر پہنچے؟
دیکھو اب "تاکہ" کے ساتھ سب کا ترجمہ بہترین ہو گیا، صرف لَا تَشْتِمْنِي فَأَضْرِبَكَ، اس کا ذرا زیادہ مناسب معلوم نہیں ہو رہا، باقی سب "تاکہ" کے لفظ کے ساتھ یا "اس لیے کہ" لفظ کے ساتھ ٹھیک ہیں۔
آگے دیکھیے بھئی۔ قسمِ دوم: حروفِ کہ فعلِ مضارع را بجزم کنند و آن پنج است: لم، و لما، و لامِ امر، و لاۓ نہی، و ان شرطیہ۔ چون لم ینصر، و لما ینصر، و لا تنصر، و ان تنصر انصر۔
بیان چل رہا ہے ان حروف کا جو فعلِ مضارع میں عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتلایا کہ وہ دو قسم کے حروف ہیں۔ کچھ فعلِ مضارع کو نصب دیتے ہیں اور کچھ فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں۔ وہ حروف جو نصب دیتے تھے ان کا بیان گزر گیا۔ اور اب وہ دوسرے قسم کے حروف آگئے جو فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں، اب ان کا بیان کرنے لگے ہیں۔
تو کہتے ہیں: قسمِ دوم حروفِ کہ فعلِ مضارع را بجزم کنند، دوسری قسم وہ حروف جو کہ فعلِ مضارع کو بجزم کنند جزم دیتے ہیں۔ و آن پنج است، اور وہ پانچ ہیں: لم، و لما، و لامِ امر، و لاۓ نہی، و ان شرطیہ۔ ایک لم ہے، ایک لما ہے، ایک لامِ امر ہے، ایک لاۓ نہی ہے اور ایک ان شرطیہ ہے۔
لم بھئی لم، آپ گردانوں کے اندر پڑھ چکے ہیں گردانیں بھئی۔ لم کیا عمل کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ اور اگر آخر میں نونِ اعرابی ہو تو اس کو گرا دیتا ہے، کیونکہ نونِ اعرابی والے صیغوں میں جزم کس طرح آتا ہے؟ فعلِ مضارع کا اعراب پڑھا تھا نا آپ نے، چار قسم پر، کتنی قسم پر؟ چار۔ اور وہاں نونِ اعرابی والے صیغوں میں جزم میں بھی نون اعرابی گرتا تھا اور نصب کی صورت میں بھی نون اعرابی گرتا تھا۔
تو یہ لم جو ہے جزم دیتا ہے فعلِ مضارع کو۔ تو لفظوں میں کیا عمل کیا؟ جزم دیا۔ اور معنی میں یہ عمل کرتا ہے کہ یہ فعلِ مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ یَضْرِبُ کا معنی ہے "وہ پٹائی کرتا ہے یا کرے گا"، حال یا استقبال والا معنی۔ لیکن جب لم آیا تو نفی بھی آگئی اور معنی بھی کون سا ہو گیا؟ ماضی والا۔ لَمْ یَضْرِبْ، دیکھو لفظوں میں جزم آگیا، آخر میں جزم آیا۔ اور ترجمہ اب کیا کریں گے؟ اس نے پٹائی نہیں کی۔ زمانہ ماضی میں، زمانہ ماضی آگیا بھئی۔ نفی آگئی کہ پٹائی نہیں کی اور کس زمانے میں؟ ماضی میں۔
تو لَمْ یَضْرِبْ اور مَا ضَرَبَ دونوں کا ایک معنی ہے۔ مَا ضَرَبَ کیا معنی؟ مَا ضَرَبَ، ضَرَبَ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا۔ مَا ضَرَبَ، اس نے پٹائی نہیں کی۔ اور لَمْ یَضْرِبْ، اس کا بھی کیا معنی؟ اس نے پٹائی نہیں کی۔ یہ دونوں ماضی ہیں۔ لفظوں کے اعتبار سے ایک ماضی ہے، ایک فعلِ مضارع، لیکن معنی کے اعتبار سے دونوں ماضی ہیں۔ مَا ضَرَبَ بھی ماضی، یہ لفظوں میں بھی ماضی، ماضی کا صیغہ ہے۔ اور لَمْ یَضْرِبْ، یہ لفظوں میں تو فعلِ مضارع ہے لیکن معنی میں ماضی ہے بھئی۔ تو لَمْ یَضْرِبْ کا کیا معنی؟ اس نے نہیں مارا کس زمانے میں؟ ماضی میں۔ اب حال اور استقبال والا ترجمہ آپ نہیں کر سکتے، طریقہ سمجھ میں آیا؟
تو دیکھیں وہ پانچ ہیں: لم۔ لم کا بیان ہو گیا۔ وَلَمَّا، لما بھی لم کی طرح ہے بھئی۔ لما بھی لم کی طرح ہے۔ یہ بھی فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ لَمَّا یَضْرِبْ، دیکھو اس نے جزم دے دیا۔ اور یہ فعلِ مضارع کو، یہ بھی ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ فعلِ مضارع میں تو کون سا معنی ہوتا ہے؟ حال یا استقبال۔ لیکن جب لما آگیا تو اب یہاں بھی ماضی والا ترجمہ ہوگا۔
لیکن فرق یہ ہے لم اور لما کے درمیان کہ لم جو ہے وہ ماضی کو پورا نہیں گھیرتا۔ لَمْ یَضْرِبْ، اس نے پٹائی نہیں کی۔ لیکن جب آپ کہیں لَمَّا یَضْرِبْ، یہ بات جب اس نے، جس شخص نے زبان سے یہ جملہ بولا لَمَّا یَضْرِبْ، اس زمانے سے لے کر پیچھے ساری ماضی کا اس نے احاطہ کر لیا، ساری ماضی کو گھیر لیا۔ اور ترجمہ اب یوں نہیں کریں گے لَمَّا یَضْرِبْ "اس نے نہیں مارا"، نہیں۔ "اس نے ابھی تک نہیں مارا"۔ اس نے... دیکھا؟ ساری ماضی آگئی یا نہیں؟ اس میں ساری ماضی آگئی کہ اس نے گزشتہ زمانے میں کسی بھی وقت پٹائی نہیں کی، ابھی تک، یعنی زمانہ حال تک اس نے گزشتہ زمانے میں کوئی پٹائی نہیں کی۔
تو لَمْ یَضْرِبْ کا کیا معنی؟ اس نے پٹائی نہیں کی۔ یہ بھی زمانہ ماضی، لیکن یہ پورا زمانہ ماضی کا احاطہ نہیں کرتا، پوری ماضی کو نہیں گھیرتا۔ لیکن لَمَّا یَضْرِبْ، یہ کیا کرتا ہے؟ پوری ماضی کو گھیر لیتا ہے اور پوری ماضی کے اندر ہی اس فعل کی نفی کر دیتا ہے اور نیز اس میں آگے اس کام کے ہونے کی امید بھی ہوتی ہے۔ لَمَّا یَضْرِبْ، اس نے ابھی تک نہیں مارا، معلوم ہوا آگے مارنے کی امید ہے کہ وہ پٹائی کرے گا، امید ہے۔
تو لما کیا کرتا ہے؟ وہ بھی نفی کا فائدہ دیتا ہے اور فعلِ مضارع کو کس معنی میں کرتا ہے؟ ماضی کے معنی میں کرتا ہے۔ اور نیز کیا فائدہ دیتا ہے؟ کہ وہ پوری ماضی کا احاطہ کر لیتا ہے اور پوری ماضی کے اندر ہی اس فعل کی نفی کر دیتا ہے اور اس کے اندر امید بھی ہوتی ہے۔
جیسے، جیسے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی اور زیادہ۔ مثلاً کوئی شخص، کسی نے آپ سے پوچھا کہ کیا امیر المؤمنین سوار ہو گئے ہیں؟ تو آپ جواب میں کہتے ہیں: قَامَ الْأَمِيرُ وَلَمَّا يَرْكَبْ۔ قَامَ الْأَمِيرُ، امیر المؤمنین کھڑے ہو گئے ہیں، اٹھ گئے ہیں۔ وَلَمَّا يَرْكَبْ، رَكِبَ یَرْکَبُ کے معنی ہیں سوار ہونا، سواری پر سوار ہونا۔ وَلَمَّا يَرْكَبْ، اور ابھی تک وہ سوار نہیں ہوئے۔ امیر المؤمنین کھڑے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک وہ سوار نہیں ہوئے۔ تو دیکھو پوری ماضی کا احاطہ کر لیا کہ اس وقت سے لے کر ابھی تک سوار نہیں ہوئے۔ اور آگے امید بھی آگئی کہ عنقریب وہ کیا ہوں گے؟ سوار ہوں گے۔ ابھی تک سوار نہیں ہوئے، معلوم ہوا آگے وہ سوار ہوں گے۔
تو کہتے ہیں وہ پانچ ہیں: لم، و لما، و لامِ امر۔ تیسرا لامِ امر ہے بھئی، لامِ امر۔ لامِ امر آپ گردانیں یاد کر چکے ہیں بھئی۔ ایک امر حاضر معروف ہے: اِضْرِبْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبُوْا، اِضْرِبِيْ، اِضْرِبَا، اِضْرِبْنَ۔ یہ امر حاضر ہے، یہ مخاطب کے لیے ہوتا ہے جو سامنے موجود ہے، اس کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اِضْرِبْ تو پٹائی کر، اِضْرِبَا تم دونوں پٹائی کرو، اِضْرِبُوْا تم سب پٹائی کرو، اِضْرِبِيْ تو ایک عورت پٹائی کر، اِضْرِبَا تم دو عورتیں پٹائی کرو اور اِضْرِبْنَ تم سب عورتیں پٹائی کرو۔ تو اس میں مخاطب کو حکم دیا جا رہا ہے، اس کو کہتے ہیں امر حاضر معروف۔
امر حاضر معروف، اور دوسرا وہ امر غائب ہے بھئی۔ اور اس میں غائب کے بھی صیغے آ جائیں گے اور متکلم کے بھی، اور وہ لام کے ساتھ ہوتا ہے، لامِ امر بھئی۔ جیسے: لِیَضْرِبْ، چاہیے کہ وہ پٹائی کرے۔ تو امر حاضر کے صیغے کیا تھے؟ اِضْرِبْ۔ اور غائب کا کیا ہے؟ لِیَضْرِبْ۔ یہ لام جو آیا ہے، یہ ہے لامِ امر بھئی۔ اور اس میں دیکھو دوسرے سے کام کو طلب کیا جا رہا ہے۔ لِیَضْرِبْ زَیْدٌ، زید کو پٹائی کرنی چاہیے۔ تو دیکھو زید سے پٹائی طلب کی جا رہی ہے۔ اور زید حاضر نہیں، سامنے موجود نہیں، بلکہ غائب ہے۔ تو یہ امر کون سا ہوا؟ امر غائب۔ اور یہ کس کے ساتھ آتا ہے؟ لامِ امر۔ لامِ امر، اور یہ لامِ امر کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع...
ارے کو جزم دیتا ہے۔ لِیَضْرِبْ، کس طرح تھی گردان؟ لِیَضْرِبْ لِیَضْرِبَا لِیَضْرِبُوْا لِتَضْرِبْ لِتَضْرِبَا لِیَضْرِبْنَ لِأَضْرِبْ لِنَضْرِبْ، متکلم کے صیغے بھی اس میں آ گئے۔ تو یہ لامِ امر ہے۔ یہ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔
وَ لَاَئِ نَہی، اور چوتھا ہے لائے نَہی۔ نہی کی جو لا ہے، نہی کے لیے جو لا استعمال ہوتا ہے، لَا تَضْرِبْ تو پٹائی نہ کر۔ یہ لا کون سا ہے؟ نہی والا، اور یہ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ ایک ہے نفی اور ایک ہے نہی۔ نہی والا جو لا ہے، وہ جزم دے گا، لَا تَضْرِبْ تو پٹائی نہ کر۔ اور جو نفی ہے، لَا تَضْرِبُ، لَا تَضْرِبُ۔ اب مضارع کا اپنا ہی ترجمہ کریں گے، کیا معنی؟ دیکھو فرق کیسے ہوا، لَا تَضْرِبُ اور لَا تَضْرِبْ۔ کیسے پتہ چلے گا کون سا لا نفی والا ہے اور کون سا نہی والا ہے؟ ہاں شاباش، لائے نہی جو ہے وہ آخر میں جزم دے گا، لَا تَضْرِبْ۔ اور نفی والا جزم نہیں دے گا، فعلِ مضارع اسی طرح مرفوع رہے گا بھئی۔
لَا تَضْرِبُ، لَا تَضْرِبُ، ترجمہ کریں۔ تو پٹائی نہیں کرتا، حال والا ترجمہ کرو یا مستقبل والا، تو پٹائی نہیں کرے گا۔ تو لَا تَضْرِبْ نہی تھی تو اس میں روکا جا رہا تھا، لَا تَضْرِبْ تو پٹائی نہ کر۔ اور لَا تَضْرِبُ یہ نہی نہیں ہے بلکہ یہ نفی ہے اور یہ فعلِ مضارع کے مطابق ترجمہ ہوگا اور فعلِ مضارع میں تو حال کا بھی احتمال ہوتا ہے اور مستقبل کا بھی، تو دونوں ترجمے ٹھیک ہیں۔ لَا تَضْرِبُ، آپ پٹائی نہیں کر رہے، یا آپ پٹائی نہیں کرتے، دونوں ترجمے ٹھیک ہیں۔ یا مستقبل والا، لَا تَضْرِبُ، آپ پٹائی نہیں کریں گے۔ یہاں حکم نہیں دیا جا رہا، ویسے ایک بات بیان کی جا رہی ہے۔ تو نفی میں کیا ہوتا ہے؟ خبر دی جاتی ہے، اور نہی میں کسی چیز سے روکا جاتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں چوتھا جو ہے لائے نہی ہے، نہی کا جو لا ہے وہ بھی جزم دیتا ہے۔ وَ اِنْ شَرْطِیَّۃ، اور پانچواں جو ہے اِن شرطیہ ہے۔ اِن شرطیہ، وہ بھی کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے، فعلِ مضارع کو۔ اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ، اِنْ تَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ یہ اِن جو ہے فعلِ مضارع کو جزم بھی دیتا ہے اور نیز اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے، بلکہ ماضی پر بھی اگر یہ داخل ہو جائے تو ماضی کو بھی مستقبل کے معنی میں کر دے گا۔ اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ، تَضْرِبْ کون سا صیغہ؟ مضارع، اَضْرِبْ یہ بھی کون سا صیغہ؟ مضارع۔ یہ جزم کیوں آیا؟ اِن کی وجہ سے۔ اِن کیا کرتا ہے؟ فعلِ مضارع کو جزم دیتا ہے۔ اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ، تو اِن نے ایک تو لفظوں میں عمل کیا، جزم دے دیا، اور معنی میں عمل کیا کہ فعلِ مضارع کو کس کے ساتھ خاص کر دیا؟ مستقبل۔ فعلِ مضارع میں تو حال والا بھی ترجمہ ہو سکتا تھا اور مستقبل والا بھی، لیکن اِن نے اس کو کس معنی کے ساتھ خاص کر دیا؟ مستقبل والے۔ اب ترجمہ کریں گے، اِنْ تَضْرِبْ اگر آپ پٹائی کریں گے، اَضْرِبْ تو میں بھی پٹائی کروں گا۔
تو یہ اگر ماضی پر بھی داخل ہو جائے، اس کو بھی مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔ اِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، اِنْ ضَرَبْتَ، ضَرَبْتَ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا، اور ضَرَبْتُ یہ بھی ماضی والا۔ اِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، ترجمہ کریں۔ ترجمہ وہی ہوگا، اِنْ ضَرَبْتَ اگر تم پٹائی کرو گے، ضَرَبْتُ تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ تو دیکھا، یہاں پر بھی یہ اِن نے ماضی کے ترجمے کو، ماضی کے معنی کو کس کے ساتھ خاص کر دیا؟ مستقبل کے ساتھ۔
اور نیز اِن میں اور یہ ماقبل والے حروف میں یہ فرق ہے کہ وہ ایک ایک فعل کو جزم دیتے تھے۔ لَمْ یَضْرِبْ، ایک فعل کو جزم دیا۔ لَمَّا یَضْرِبْ، ایک فعل کو جزم دیا۔ لِیَضْرِبْ، ایک فعل کو جزم دیا۔ لَا تَضْرِبْ، ایک فعل کو جزم دیا۔ لیکن اِن دو فعلوں کو جزم دے سکتا ہے، اگر پہلا بھی مضارع ہو اور آگے دوسرا بھی مضارع ہو تو دونوں کو جزم دے گا۔ اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا تو میں بھی پٹائی کروں گا۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں وَ اِنْ شَرْطِیَّۃ اور پانچواں حرف جو جزم دیتا ہے وہ اِن شرطیہ ہے۔ چُوں لَمْ یَنْصُرْ، جیسے لَمْ یَنْصُرْ۔ کیا معنی لَمْ یَنْصُرْ؟ ترجمہ کریں، نَصَرَ یَنْصُرُ کا معنی مدد کرنا۔ تو لَمْ یَنْصُرْ، جی؟ کیا بات ہے، سب کی آواز نہیں آ رہی ہے، ابھی تک بات نہیں سمجھ میں آئی شاید سب کو، کیوں ترجمہ کرتے ہوئے گھبرا رہے ہو؟ لَمْ یَنْصُرْ، یہ کون سا زمانہ آ جائے گا؟ ماضی والا، جی، لَمْ یَنْصُرْ اس نے مدد نہیں کی، زمانۂ ماضی میں۔
وَ لَمَّا یَنْصُرْ، ترجمہ کیجیے۔ لَمَّا یَنْصُرْ، اس نے ابھی تک مدد نہیں کی۔ دیکھو پھر زمانۂ ماضی آ گیا اور ماضی کا احاطہ بھی ہو گیا اور نیز امید بھی ہے کہ وہ کیا کرے گا؟ مستقبل میں امید ہے وہ مدد کرے گا۔
وَ لَا تَنْصُرْ، جی ترجمہ کیجیے۔ جی، امر نہی، بھئی امر کی مثال آپ کی کتابوں میں بھی نہیں ہے؟ ہے؟ جی امر کی مثال ہونی چاہیے بھئی۔ لِیَنْصُرْ، ترجمہ کیجیے۔ چاہیے کہ وہ مدد کرے، دیکھو یہ لِیَنْصُرْ، اور یہ بھی مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔
وَ لَا تَنْصُرْ، تو مدد نہ کر، نہی ہے، روکا جا رہا ہے۔ کیسے پتہ چلا نہی ہے؟ آ جزم، جب جزم ہے تو نہی والا ترجمہ کرو۔ اگر ہوتا لَا تَنْصُرُ، پھر کیا ترجمہ ہوتا؟ آپ مدد نہیں کرتے، حال والا ترجمہ کرو، یا حال والا دوسرا ترجمہ کر لو، آپ مدد نہیں کر رہے۔ آپ مدد نہیں کر رہے، حال ہے نا، حال کی بات کر رہا ہوں۔ آپ مدد نہیں کر رہے، یا آپ مدد نہیں کرتے، یا مستقبل والا ترجمہ کر لو، لَا تَنْصُرُ، آپ مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر ہو لَا تَنْصُرْ، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ آپ مدد نہ کریں، لَا تَنْصُرْ، آپ مدد نہ کریں یا تو مدد نہ کر، روکا جا رہا ہے، روکا جا رہا ہے۔
تو لامِ امر یہ بھی فعلِ مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، لِیَنْصُرْ چاہیے کہ وہ مدد کرے، دیکھو مستقبل کی بات ہے۔ اور لَا تَنْصُرْ تو مدد نہ کر، یہ بھی کس کی بات ہو رہی ہے؟ مستقبل کی، کہ مستقبل میں مدد نہ کر۔
وَ اِنْ تَنْصُرْ اَنْصُرْ، اِنْ تَنْصُرْ اَنْصُرْ، اگر تو مدد کرے گا، اَنْصُرْ تو میں بھی مدد کروں گا۔
بِدَانْ کِہ اِیں دَرْ دُوْ جُمْلَہ رَوَدْ، جان لے تو کہ اِن جو ہے دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ رَوَدْ، رَفْتَن کا معنی ہوتا ہے جانا، جانا۔ رَفْتَن کا معنی جانا، رَوَدْ جائے۔ تو اِن جو ہے، جو دو جملوں پر جاتا ہے یعنی دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ اِیں دَرْ دُوْ جُمْلَہ رَوَدْ، اِن جو ہے وہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ چُوں اِنْ تَضْرِبْ اَضْرِبْ، اگر تو پٹائی کرے گا تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ جُمْلَۂ اَوَّلْ رَا شَرْطْ گوَیَنْدْ، پہلے جملے کو، اِنْ تَضْرِبْ یہ ہے شرط، اور اَضْرِبْ یہ ہے جزا۔ اگر تو پٹائی کرے گا، یہ ہے شرط۔ تو میں بھی پٹائی کروں گا، یہ ہے جزا، جزا۔
تو جُمْلَۂ اَوَّلْ رَا شَرْطْ گوَیَنْدْ، پہلے جملے کو شرط کہتے ہیں، وَ جُمْلَۂ دُوُمّ رَا جَزَا، اور دوسرے جملے کو جزا۔ وَ اِیں بَرَائے مُسْتَقْبَلْ اَسْتْ اَگَرْ چِہ دَرْ مَاضِیْ رَوَدْ، اور اِن جو ہے وہ مستقبل کے لیے ہے اگرچہ در ماضی رود، اگرچہ وہ ماضی میں داخل ہو۔ ماضی پر بھی داخل ہو جائے تو اس ماضی کو یہ اِن کس معنی میں کر دے گا؟ مستقبل کے معنی میں۔ جیسے اِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، ترجمہ کیجیے۔ اگر تو پٹائی کرے گا، ضَرَبْتُ میں بھی پٹائی کروں گا۔
وَ اِیں جَا جَزَمْ تَقْدِیْرِیْ بَوَدْ، وَ اِیں جَا، بھئی اِن تو کیا کرتا ہے؟ جزم دیتا ہے، اور یہاں تو ماضی کے صیغے آ گئے، تو کیا ان کو یہ جزم نہیں دے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں، یہ ماضی کیا ہے؟ مبنی ہے، بلکہ مبنی الأصل ہے۔ ماضی کیا ہے؟ مبنی الأصل ہے، اور مبنی الأصل کے اندر اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی جزم ظاہر نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں وَ اِیں جَا جَزَمْ تَقْدِیْرِیْ بَوَدْ، اور یہاں پر جزم تقدیری ہوگا۔ وَ اِیں جَا جَزَمْ تَقْدِیْرِیْ بَوَدْ، اور یہاں پر جزم تقدیری ہوگا، زِیْرَا کِہ مَاضِیْ مُعْرَبْ نِیْسْتْ۔ زِیْرَا کِہ، اس لیے کہ، زِیْرَا کِہ، اس لیے کہ، یہ زیرا کا ترجمہ کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں وَ اِیں جَا جَزَمْ تَقْدِیْرِیْ بَوَدْ اور یہاں پر جزم تقدیری ہوگا، زِیْرَا کِہ مَاضِیْ مُعْرَبْ نِیْسْتْ اس لیے کہ ماضی معرب نہیں ہے۔
اس لیے کہ، تو اِنْ، اِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ، تو اس کے اندر جزم لفظوں میں نہیں آئے گا بلکہ تقدیراً آئے گا۔ کیا آئے گا؟ آپ کے ذہنوں میں فوراً اشکال پیدا ہوگا کہ یہ جو تقدیراً اعراب ہے، وہ تو معرب کے اندر آتا ہے۔ یا معرب میں کیا آتا ہے اعراب؟ یا لفظاً یا تقدیراً، اور مبنی کے اندر اعراب محلاً آتا ہے بھئی۔ مبنی کے اندر محلاً، محل معنی جگہ، جگہ کے اعتبار سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں جَائَنِیْ ہٰذَا، پہلے دوسرا دیکھیں، جَائَنِیْ زَیْدٌ۔ زَیْدٌ مرفوع ہے، کیونکہ یہ فاعل ہے جَاءَ کے لیے، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو یہ زَیْدٌ مرفوع ہے اور کون سا مرفوع ہے؟ لفظاً، یعنی تلفظ سے بھی آپ کو رفع کا پتہ چل رہا ہے یا نہیں؟ زَیْدٌ، زَیْدً، زَیْدٍ، جی اعراب کا پتہ چل رہا ہے؟ زَیْدٌ، میں نے کیا پڑھا؟ رفع، زَیْدً، نصب، زَیْدٍ، جر۔ تو دیکھو تلفظ سے ہی اعراب کا پتہ چلے، اس کو اعرابِ لفظی کہتے ہیں۔ جَائَنِیْ زَیْدٌ، یہ زید مرفوع ہے اور کون سا مرفوع ہے؟ لفظاً، یعنی تلفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے۔
اور کبھی رفع یا نصب یا جر تقدیراً ہوتا ہے، جیسے جَائَنِیَ الْقَاضِیْ۔ جَائَنِیَ الْقَاضِیْ، آیا میرے پاس قاضی، اب القَاضِیْ یہ فاعل ہے، زید کی جگہ القَاضِیْ میں فاعل لے آیا۔ تو اس پر رفع ہے، لیکن رفع لفظوں میں نظر آ رہا ہے آپ کو؟ نہیں، بلکہ تقدیراً ہے۔ تو یہاں تلفظ سے رفع کا پتہ نہیں چل رہا بلکہ یہ رفع تقدیراً ہے۔
تو جو لفظاً اور تقدیراً اعراب ہوتا ہے، یہ کس کے اندر ہوتا ہے؟ معرب میں، توجہ ہے؟ لفظاً بھی اعراب کس میں؟ معرب میں، اور تقدیراً بھی معرب میں۔ لفظاً کا کیا معنی؟ کہ تلفظ سے ہی اعراب کا پتہ چلے۔ اور تقدیراً کا کیا معنی؟ فرض کر لیں رفع یا نصب یا جر آ چکا ہے، لفظوں سے اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ تو بس حاصلِ کلام یہ کہ معرب کے اندر اعراب لفظاً بھی ہو سکتا ہے اور تقدیراً بھی۔ جبکہ مبنی کے اندر اعراب محلاً آتا ہے، محلاً۔ جیسے یہی پر اب میں زید کی جگہ ھٰذَا لے آتا ہوں، اور ھٰذَا آپ نے پڑھا ہے، یہ اسمِ غیر متمکن ہے، یہ مبنی ہے، یہ اعراب کو جگہ نہیں دیتا۔ تو جَائَنِیْ ہٰذَا۔ جَائَنِیْ ہٰذَا، آیا میرے پاس یہ، یعنی یہ شخص۔ تو ھٰذَا اسمِ اشارہ ہے اور یہ فاعل بن رہا ہے کس کا؟ جَاءَ کا۔ تو اس کا اعراب کیا ہوگا؟ ہے مرفوع ہی، کیونکہ فاعل ہے، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو ہے تو مرفوع ہی، لیکن محلاً ہے۔ محل کا معنی ہے جگہ، جگہ۔ یعنی یہ جگہ رفع والی ہے، اگر کوئی معرب آتا تو رفع نظر بھی آ جاتا، جَائَنِیْ زَیْدٌ۔ دیکھا معرب آیا، رفع ظاہر ہوا کہ نہیں ہوا؟ تو معرب آتا تو رفع ظاہر ہو جاتا، لیکن معرب نہیں آیا، اس وقت کیا آیا؟ ھٰذَا، جَائَنِیْ ہٰذَا۔ تو یہ کس جگہ پر آیا؟ فاعل کی جگہ پر، اور فاعل کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو اس کو کہیں گے یہ مرفوع ہے محلاً۔ محل کا کیا معنی؟ جگہ۔ یعنی یہ جگہ کے اعتبار سے اس پر رفع ہے، جگہ کے اعتبار سے مرفوع ہے، لفظوں کے اعتبار سے نہیں ہے، یعنی لفظوں میں رفع نظر نہیں آ رہا۔
تو معرب میں اعراب کیسے آئے گا؟ لفظاً یا تقدیراً، اور مبنی میں اعراب کیسے آئے گا؟ محلاً۔ تو یہاں پر بھی کتاب میں کیا آیا کہ یہاں پر جزم تقدیر...
گیری ہے، جزم؟ حالانکہ ذکر کس کو کر رہے ہیں، فعل ماضی کو! اور فعل ماضی تو مبنی ہے۔ تو کیا کہنا چاہیے تھا؟ کہ جزم یہاں محلاً ہے، لیکن انہوں نے تقدیراً کہا۔ تو جواب یہ کہ یہ کلام مجاز پر محمول ہے۔ کس پر محمول ہے؟ مجاز پر محمول ہے۔ یعنی تقدیراً حقیقی معنیٰ مراد نہیں۔
بھئی دیکھو، ایک ہے حقیقت، ایک ہے مجاز۔ ایک لفظ کو جس معنیٰ کے لیے مقرر کیا جائے، اسی معنیٰ میں استعمال کریں تو اس کو کہتے ہیں حقیقت۔ اور دوسرے معنیٰ میں استعمال کریں تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ جیسے شیر۔ شیر جو ہے، وہ ایک جنگلی درندے کا نام ہے۔ شیر ایک جنگلی درندے کا نام ہے۔ لیکن کبھی کبھار بہادر آدمی کو بھی شیر کہہ دیتے ہیں۔ تو شیر کا لفظ کس کے لیے مقرر ہے؟ جنگلی درندے کے لیے۔ اردو زبان میں اسے جنگلی درندے کے لیے مقرر کیا گیا۔ لیکن یہی لفظ کبھی بول دیتے ہیں کس کے لیے؟ بہادر آدمی کے لیے۔ اب بہادر آدمی کے لیے تو شیر کا لفظ نہیں مقرر کیا گیا تھا، لیکن چونکہ وہ شیر جیسا بہادر ہے، لہٰذا اس بہادر آدمی کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ شیر۔ مثلاً دیکھو، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ آج میں چڑیا گھر گیا تھا، وہاں میں نے شیر دیکھا۔ تو اس شیر سے کون سا معنیٰ مراد ہے؟ جنگلی درندہ، یعنی جس کے لیے اس لفظ کو مقرر کیا گیا تھا وہی معنیٰ مراد ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں حقیقت، لفظ اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور دوسری صورت کہ کوئی آپ کا ساتھی کمرے کے اندر داخل ہوا اور میں نے کہا شیر آ گیا۔ اب دیکھو بھئی، کمرے میں کوئی جنگلی درندہ داخل ہوا؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا یہاں شیر کا کون سا معنیٰ مراد ہے؟ بہادر آدمی، بہادر آدمی مراد ہے۔ یعنی میرے کہنے کا مطلب یہ کہ بہادر آدمی کمرے میں داخل ہوا ہے۔ تو یہ شیر کا حقیقی معنیٰ نہیں، تو اس کو پھر کہتے ہیں مجازی معنیٰ۔ کیا کہتے ہیں؟ مجازی۔ تو لفظ اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو تو اس کو کہتے ہیں حقیقت، اور لفظ کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال ہو تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ تو یہاں پر بھی مصنف نے تقدیری کا لفظ بولا، معلوم ہوا مجازاً تقدیری کہا۔ مجازاً تقدیری، یعنی مراد یہ ہے مصنف بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ اعراب لفظوں میں نہیں ہوگا۔ تقدیری کا لفظ بول کر—بھئی تقدیری بھی لفظوں میں نہیں آتا اور محلاً اعراب بھی لفظوں میں نہیں—تو یہاں تقدیری کا کیا معنیٰ کر لیں؟ نہیں نہیں، فرض کرنا وہ تو اس کا حقیقی معنیٰ ہے۔ کہ اعراب لفظوں میں نہیں۔ اعراب لفظوں میں نہیں ہوگا۔ اور محلاً میں بھی کیا ہوتا ہے، اعراب لفظوں میں نہیں۔ تو یہ تقدیراً حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں، کیونکہ اگر حقیقی معنیٰ مراد ہو، وہ تو صرف کس میں آتا ہے؟ معرب میں آتا ہے۔ معرب میں اعراب لفظاً بھی ہو سکتا ہے اور تقدیراً بھی۔ مبنی میں تو اعراب تقدیراً نہیں ہوتا۔ تو ہم کیا کہیں گے؟ یہاں تقدیراً سے کیا مراد ہے؟ مجازی معنیٰ مراد ہے۔ کیا معنیٰ؟ یعنی کیا معنیٰ؟ کس طرح کریں گے ترجمہ؟ کہ اعراب لفظوں میں نہیں ہوگا۔ اعراب لفظوں میں نہیں ہوگا۔ اب یہ تقدیری اعراب کو بھی شامل اور محلی اعراب کو بھی شامل، یعنی دونوں اس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تو مصنف بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہاں اعراب لفظوں میں نہیں ہوگا، کیونکہ فعل ماضی ہے اور فعل ماضی تو معرب نہیں ہے بلکہ وہ تو مبنی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "و ایں جا جزم تقدیری بود"—اور یہاں پر جزم جو ہے تقدیری ہوگا، یعنی لفظوں میں نہیں ہوگا، یوں ترجمہ کریں—"زیرا کہ ماضی معرب نیست"—اس لیے کیونکہ ماضی معرب نہیں ہے۔ "و بداں کہ چون جزائے شرط جملہ اسمیہ باشد یا امر یا نہی یا دعا، فا در جزا آوردن لازم بود"۔ بھئی، "اِن" حرف شرط ہے اور یہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ پہلے جملے کو کہتے ہیں شرط اور دوسرے کو کہتے ہیں جزا۔ "اِن تضرب اضرب"—یہ "اِن تضرب" یہ کون سا جملہ؟ شرط۔ اور "اضرب" یہ جزا۔ اور آپ آگے چل کر پڑھیں گے کہ شرط کی جزا پر "فَ" داخل کرتے ہیں۔ شرط کی جزا پر "فَ" داخل کرتے ہیں۔ "فَ" داخل کرتے ہیں۔ اب "فَ" کہاں لائیں گے اور کہاں نہیں لائیں گے؟ تو آپ کو کچھ جگہ بتلا رہے ہیں۔ بھئی، چونکہ یہ ابتدائی کتاب ہے، پوری گہری بات وہ نہیں کرتے، بس آسان سی چند باتیں ذکر کر دیتے ہیں کہ طالب علم کچھ باتیں کم از کم اس درجے میں یاد کر لے، باقی تفصیل اگلی بڑی کتابوں میں آ جائے گی۔ اگر ہر چیز وہ یہاں بیان کرنا شروع کر دیں، پھر تو ابتدائی طالب علم مشکل میں پڑ جائے گا، وہ تو یاد ہی نہیں کر سکے گا۔ تو چند جگہ انہوں نے بتا دیں کہ کچھ جگہ جہاں پر "فَ" کا لانا ضروری ہے، وہ یہ جگہ ہیں۔ ساری بھی نہیں ذکر کیں، ان میں سے چند ایک ذکر کر دیں، اور باقی تفصیل کہاں آ جائے گی؟ بڑی کتابوں کے اندر، آگے جب آپ کتابیں پڑھیں گے بھئی۔
تو میں نے کیا بتلایا؟ کہ "اِن" کیا ہے؟ حرف شرط۔ اور یہ کتنے جملوں پر داخل ہوتا ہے؟ دو جملوں پر۔ تو پہلے جملے کو کہتے ہیں شرط، دوسرے کو کہتے ہیں جزا۔ اور جزا پر "فَ" لے کر آتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ نہیں، کبھی "فَ" لاتے ہیں اور کبھی "فَ" نہیں لاتے۔ تو یہاں یاد رکھیں، تین قسم کے مقامات ہیں۔ بعض اوقات بعض اوقات "فَ" کا لانا لازم ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات "فَ" کا چھوڑنا لازم ہوتا ہے، آپ "فَ" لا ہی نہیں سکتے، اگر لائیں گے تو کلام عرب کے اعتبار سے آپ غلطی کریں گے۔ اور کچھ جگہ ایسی ہیں جہاں پر "فَ" لے آئیں تو بھی ٹھیک، نہ لائیں تو بھی ٹھیک۔ تو کتنی قسم کی جگہ ہو گئیں؟ تین۔ کچھ جگہ وہ جہاں "فَ" کا لانا لازم یعنی ضروری ہے۔ اور کچھ جگہ ہیں جہاں "فَ" کا نہ لانا ضروری ہے۔ اور کچھ جگہ ہیں جہاں پر "فَ" لائیں تو بھی ٹھیک، تو بھی درست ہے اور "فَ" نہ لائیں تو بھی درست ہے بھئی۔
اب پوری تفصیل نہیں بیان کر رہے، بس صرف اتنا، ان میں سے ایک جگہ بتا دی کہ یہ چار قسم کے جملے اگر جزا بنیں تو ان پر "فَ" کا لانا لازم ہے۔ "اِن" کتنے جملوں پر داخل ہوگا؟ ادھر دیکھو بھئی، "اِن" کتنے جملوں پر داخل ہوگا؟ دو۔ یہ ہے پہلا جملہ اور یہ ہے دوسرا جملہ۔ تو پہلے جملے کو کیا کہتے ہیں؟ شرط۔ اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ جزا۔ اس جزا پر "فَ" لے کر آتے ہیں۔ تو چند جگہ مصنف ذکر کریں گے جہاں "فَ" کا لانا لازم ہے۔ جہاں "فَ" کا لانا—وہ کون سی جگہ ہیں؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "و بداں کہ"—اور تو جان لے کہ—"چوں جزائے شرط"—کہ جب شرط کی جزا جو ہے—"جملہ اسمیہ باشد"—کون سا جملہ ہو؟ جملہ اسمیہ۔ یہ کس کی بات کر رہے ہیں؟ شرط کی جزا، یعنی جو جزا ہے، جو دوسرا جملہ ہے، اگر وہ کیا ہو؟ جملہ اسمیہ ہو۔ "یا امر"—یا وہ کیا ہو؟ امر ہو۔ "یا نہی"—یا وہ کیا ہو؟ نہی ہو۔ "یا دعا"—یا جزا کیا ہو؟ دعا ہو۔ "فا در جزا آوردن لازم بود"—تو "فَ" کو جزا میں لانا لازم ہوگا۔ اگر جزا کیا ہو؟ جملہ اسمیہ ہو یا امر ہو یا نہی ہو یا دعا ہو، تو پھر "فَ" کا لانا لازم ہوگا۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "چوں جزائے شرط جملہ اسمیہ باشد یا امر یا نہی یا دعا، فا در جزا آوردن لازم بود"۔ "چوں جزائے شرط"—جب شرط کی جزا—"جملہ اسمیہ باشد"—جملہ اسمیہ ہو—"یا امر"—یا امر ہو—"یا نہی"—یا نہی ہو—"یا دعا"—یا دعا ہو—"فا در جزا آوردن لازم بود"—تو "فَ" کو جزا میں لانا لازم ہوگا۔ "چناں کہ گوئی"—جیسے کہ آپ کہتے ہیں: "إِنْ تَأْتِنِي فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"۔ "عطاء" یا "یأتی" کا معنیٰ ہے آنا۔ "إِنْ تَأْتِنِي"—اگر آپ میرے پاس آئیں گے—"فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"—تو آپ معزز ہیں بھئی۔ "إِنْ تَأْتِنِي"—اگر آپ میرے پاس آئیں گے—"فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"—تو آپ معزز ہیں۔ مکرم جس کا اکرام کیا جائے، جس کی عزت کی جائے۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ "إِنْ تَأْتِنِي"—اگر آپ میرے پاس تشریف لائیں گے—"فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"—تو آپ معزز ہیں، آپ معزز آدمی ہیں، آپ سے یہی امید ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں۔ تو "إِنْ تَأْتِنِي فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"—اگر آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو آپ معزز ہیں۔ یہ دیکھو "فَ" لے کر آئے: "فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"۔ اور کس پر لائے؟ جزا پر۔ اور جزا کون سا جملہ ہے؟ جملہ اسمیہ۔ "أَنْتَ مُكْرَمٌ"—"أَنْتَ" ہے مبتدا اور "مُكْرَمٌ" ہے اس کی خبر۔ مبتدا، خبر مل کر جملہ اسمیہ۔ اور "إِنْ تَأْتِنِي" یہ ہے شرط۔ تو جزا کیا آئی؟ "أَنْتَ مُكْرَمٌ"—جملہ اسمیہ۔ تو اس پر "فَ" کا لانا لازم ہے۔ "إِنْ تَأْتِنِي فَأَنْتَ مُكْرَمٌ"—اسی لیے "فَ" لائی گئی۔ "فَ" کے بغیر آپ لائیں تو کلام غلط ہے۔ "إِنْ تَأْتِنِي أَنْتَ مُكْرَمٌ"—یوں کہنا صحیح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دوسری مثال: "وَإِنْ رَأَيْتَ زَيْدًا فَأَكْرِمْهُ"۔ "إِنْ رَأَيْتَ زَيْدًا"—اگر آپ زید کو دیکھیں—"فَأَكْرِمْهُ"—تو اس کا اکرام کیجیے۔ "أَكْرِمْ" امر آ گیا۔ "إِنْ رَأَيْتَ زَيْدًا"—یہ ہے شرط۔ "فَأَكْرِمْهُ"—یہ ہے جزا۔ اور جزا کون سا صیغہ آیا؟ امر۔ تو یہ امر آ گیا، اور جزا جب بھی امر ہو تو اس پر "فَ" کا لانا لازم، اسی لیے "فَ" لے آئے۔ "وَإِنْ رَأَيْتَ زَيْدًا فَأَكْرِمْهُ"—اور اگر آپ زید کو دیکھیں تو اس کا اکرام کرنا یعنی اس کی عزت کرنا۔
"وَإِنْ أَتَاكَ عَمْرٌو فَلَا تُهِنْهُ"۔ اگر "إِنْ أَتَاكَ عَمْرٌو"—اگر آپ کے پاس عمرو آئے—"فَلَا تُهِنْهُ"—تو اس کی اہانت نہ کرنا، اس کی بے عزتی نہ کرنا۔ "إِنْ أَتَاكَ عَمْرٌو"—یہ ہے شرط۔ "فَلَا تُهِنْهُ"—یہ ہے جزا۔ اور جزا دیکھو نہی ہے: "فَلَا تُهِنْهُ"—اس کی اہانت نہ کرنا، اس کی بے عزتی نہ کرنا۔ تو اسی لیے اس پر "فَ" کا لانا لازم ہے۔ "وَإِنْ أَتَاكَ عَمْرٌو فَلَا تُهِنْهُ"—اور اگر آپ کے پاس عمرو آئے تو اس کی بے عزتی مت کرنا۔
"وَإِنْ أَكْرَمْتَنِي فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"۔ "إِنْ أَكْرَمْتَنِي"—اگر آپ میرا اکرام کریں گے—"فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"—تو اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اگر آپ میرا اکرام کریں گے تو اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ "إِنْ أَكْرَمْتَنِي"—یہ ہے شرط۔ اور "فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"—یہ ہے جزا۔ اور جزا کیا ہے؟ دعا ہے۔ دعا دے رہا ہے نا—"فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"—اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ تو جزا کیا واقع ہوئی؟ دعا۔ اور جزا جب بھی دعا ہو تو اس پر "فَ" کا لانا لازم ہے، ضروری ہے۔ اسی لیے "فَ" لائے: "إِنْ أَكْرَمْتَنِي فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا"۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اور بھی جگہ ہیں بھئی، جہاں "فَ" کا لانا لازم ہے۔ لیکن مصنف نے بس چونکہ ابتدائی کتاب ہے، مختصر بات کی، دو چار جگہ بتا دیں۔ طالب علم کم از کم ان کو یاد کر لے گا، اگلے درجے میں جائے گا وہاں مزید تفصیل آ جائے گی۔ تو کچھ پہلے یاد کی ہوں گی، کچھ اور یاد کر لے گا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
ضابطہ یاد رکھو بھئی کہ کیسے پتہ چلے گا "فَ" کا لانا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ آسان سا ضابطہ ہے۔ "اِن" جو ہے نا "اِن"، یہ یہ آپ نے پڑھا: "إِنْ تَنْصُرْ أَنْصُرْ"، یا "إِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ"—اگر آپ پٹائی کریں گے تو میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا۔ یہ جو "اِن" ہے، یہ شرط میں بھی عمل کرتا ہے اور جزا میں بھی۔ شرط کو بھی جزم دیتا ہے اور جزا کو بھی جزم دیتا ہے۔ تو آپ نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ "اِن" نے جزا کے معنیٰ میں یعنی اس کے زمانے میں کوئی تبدیلی کی ہے یا تبدیلی نہیں کی؟ توجہ ہے؟ پہلا جملہ کیا؟ شرط۔ دوسرا؟ جزا۔ میں جزا کی بات کر رہا ہوں کہ "اِن" جزا کے اندر بھی عمل کرتا ہے۔ تو "اِن" نے اگر جزا کے معنیٰ میں تبدیلی پیدا کی ہے تو اچھا، ہاں۔ بھئی دیکھو، پہلا جملہ کیا؟ شرط۔ دوسرا؟ جزا۔ یہ شرط اور جزا دو جملے ہیں، ان کے درمیان ربط چاہیے۔ کیا چاہیے؟ ربط اور جوڑ چاہیے۔ جملے میں بات پوری ہو جاتی ہے، "زَيْدٌ قَائِمٌ"—بات
پوری ہوگئی۔ عمرو جالس، عمرو بیٹھا ہوا ہے۔ زید قائم، زید کھڑا ہے۔ عمرو جالس، عمرو بیٹھا۔ دیکھو ہر ہر جملے میں بات پوری ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کے محتاج نہیں۔
زید قائم، بات پوری ہوگئی۔ عمرو جالس، بات پوری ہوگئی کہ عمرو بیٹھا ہوا ہے۔ اس، تو جملے کو کسی دوسرے جملے سے جڑنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن شرط اور جزا جب آپ بناتے ہیں، ایک کو بناتے ہیں شرط، ایک کو بناتے ہیں جزا، تو دونوں میں ربط چاہیے۔
دونوں جملوں میں ربط چاہیے، جوڑ چاہیے۔ پھر جب ربط اور جوڑ ہوگا، تبھی پہلے کو کہیں گے شرط اور دوسرے کو کہیں گے جزا۔ اگر ربط ہی نہیں، تو پھر شرط اور جزا بھی نہیں بن سکتے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو ان کتنے جملوں پر داخل ہوتا ہے؟ دو۔ پہلے کو شرط، دوسرے کو جزا کہتے ہیں اور دونوں میں کیا ضروری؟ ربط ضروری۔ دونوں میں ربط ضروری اور یہ جو فا ہے، یہ ربط دینے کے لیے لائی جاتی ہے۔
فا کس لیے لائی جاتی ہے؟ ربط دینے کے لیے لائی جاتی ہے۔ تو آپ نے فا کے لانے سے پہلے غور کرنا ہے کہ ربط آ چکا کہ ربط نہیں آیا۔ اگر ربط آ چکا، پھر فا لانے کی ضرورت نہیں اور اگر ربط نہیں آیا، تو پھر فا لے آؤ تاکہ ربط آ جائے شرط اور جزا میں۔ توجہ ہے؟ آپ ایک جملے کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ شرط اور دوسرے کو جزا، تو دونوں میں ربط چاہیے۔ تو لہٰذا دیکھ لیں کہ دونوں میں، کہ دونوں کے اندر ربط آیا ہے یا نہیں۔ اگر ربط آ چکا، پھر فا لانے کی ضرورت نہیں اور اگر ابھی تک ربط نہیں آیا، تو پھر کیا لے آؤ؟ فا لے آؤ تاکہ ربط آ جائے۔
اب ربط کیسے آئے گا؟ آپ نے یہ غور کرنا ہے۔ آپ نے پڑھا کہ ان شرط میں بھی عمل کرتا ہے اور جزا میں بھی۔ تو پہلا جملہ کیا؟ شرط، دوسرا جزا۔ تو اس جزا کی میں بات کر رہا ہوں۔ آپ نے دیکھنا ہے کہ ان نے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کی یا تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اگر تبدیلی پیدا کر دی ہے جزا کے معنی میں، کس نے؟ ان نے۔ کس میں تبدیلی پیدا کی ہے؟ جزا۔ توجہ سے بھئی، شرط کی بات نہیں کر رہا۔ آپ نے دیکھنا ہے کہ ان نے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کی یا تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اگر ان نے جزا کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے، تو ربط آ چکا۔
تو ربط آ چکا اور اگر تبدیلی پیدا نہیں کی، تو ربط نہیں آیا، پھر فا کو لانا لازم ہے۔ توجہ ہے؟ جی، اب دیکھو ذرا۔ ان مثالوں پہ نظر رکھو۔
ان تأتنی فأنت مکرم۔ اگر آپ میرے پاس آئیں گے فأنت مکرم، تو آپ تو مکرم آدمی ہیں۔ آپ تو معزز آدمی ہیں۔ توجہ ہے؟ ذرا صرف أنت مکرم جزا پہ نظر رکھو۔ شرط کو ختم کر دو۔ أنت مکرم ترجمہ کرو۔ آپ معزز آدمی ہیں۔ آپ معزز، اب ذرا ان کے ساتھ جوڑ کر دیکھو، ترجمے میں کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں؟ ان تأتنی فأنت مکرم۔ اگر آپ، اگر آپ میرے پاس تشریف لاتے ہیں، تو آپ، تو آپ معزز آدمی ہیں۔ پہلے بھی یہی ترجمہ تھا آپ معزز آدمی ہیں، اب بھی کیا ترجمہ ہے؟ آپ معزز آدمی ہیں، ترجمے میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ معلوم ہوا ربط نہیں آیا، لہٰذا اب فا کا لانا لازم۔
توجہ ہے؟ أنت مکرم کا ترجمہ پہلے کیا تھا؟ آپ معزز ہیں، آپ عزت دار آدمی ہیں۔ اور ان تأتنی فأنت مکرم اب بھی ترجمہ کیا ہے کہ آپ، اگر آپ میرے پاس تشریف لاتے ہیں، تو آپ معزز آدمی ہیں، اب بھی وہی ترجمہ کر رہے ہیں۔ تو معلوم ہوا ان نے أنت مکرم جو جزا ہے، اس کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ جب تبدیلی پیدا نہیں کی، معلوم ہوا ربط نہیں آیا۔ جب ربط نہیں آیا، تو اب ربط چاہیے، تو کیا لے آؤ؟ فا لے آؤ، فا کا لانا لازم ہے۔ اسی لیے فأنت مکرم کہا۔ ان تأتنی فأنت مکرم، اگر آپ میرے پاس تشریف لاتے ہیں، تو آپ تو معزز آدمی ہیں، یعنی مجھے آپ سے یہی امید ہے۔
اچھا، یاد رکھو جو تبدیلی ہوگی نا، وہ زمانے کے اعتبار سے ہوگی۔ تبدیلی زمانے، یعنی زمانہ کو بدل دے گا ان۔ حال کی جگہ مثلاً مستقبل لے آتا ہے۔ یا ماضی کی جگہ کیا لے آتا ہے؟ مستقبل۔ ان ضربت ضربت، ترجمہ کریں۔ اگر تو پٹائی کرے گا، تو میں بھی پٹائی کروں۔ ان ضربت، یہ تو ہے شرط، اس کی میں بات نہیں کر رہا۔ لیکن پھر اس میں بھی دیکھ لو ان ضربت، صیغہ کون سا؟ ماضی۔ ترجمہ کون سا کر رہے ہو؟ مستقبل والا۔ یہ ترجمہ کس نے بدلا؟ ان نے، اس نے معنی میں تبدیلی پیدا کی۔ ان ضربت، اگر آپ پٹائی کرو گے ضربت، تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ صیغہ کون سا؟ ضربت، صیغہ ہے ماضی کا اور ترجمہ کون سا کر رہے ہو؟ مستقبل والا۔ یہ کیوں کر رہے ہو؟ ان کی وجہ سے۔ معلوم ہوا ان نے کیا کر دیا؟ معنی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ جب تبدیلی پیدا کر دی ہے، تو ربط آ چکا۔ جب ربط آ چکا، اب فا لانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا اسی لیے آپ دیکھیں۔ کتاب میں تھا ان ضربت ضربت، وہاں فا لے کر نہیں آئے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگلی مثال دیکھیں۔ ان رأیت زیداً فأکرمہ۔ اگر تو زید کو دیکھے فأکرمہ، تو اس کا اکرام کر۔ جی، ذرا فأکرم کو لے آئیں جزا، اس کے معنی کو ہم نے دیکھنا ہے کہ اس میں ان نے تبدیلی کی یا نہیں۔ اس کا ترجمہ کریں، صرف جزا کا اکیلی جزا کا۔ أکرمہ، ترجمہ کریں۔ تو اس کا اکرام کر۔ تو اس کا اکرام کر اور اب جزا بنا کر پھر دیکھیں، ترجمے میں کوئی فرق آتا ہے یا نہیں؟ ان رأیت زیداً فأکرمہ، اگر تو زید کو دیکھے، تو اس کا اکرام کر۔ ترجمے میں کوئی فرق آیا؟ نہیں۔ بھئی دیکھو، ان کس معنی میں کر دیتا ہے فعل کو، فعل مضارع کو؟ مستقبل۔ لیکن یہاں تو فأکرم ہے، أکرم کون سا صیغہ؟ امر۔ اور امر ہوتا ہی کس معنی میں ہے؟ مستقبل کے معنی میں، تو ان نے زمانے میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ جب تبدیلی پیدا نہیں کی، تو ربط نہیں آیا۔ جب ربط نہیں آیا، تو ربط تو چاہیے، پھر کیا لے آؤ؟ فا لے آؤ۔ تو ان رأیت زیداً فأکرمہ، اگر تو زید کو دیکھے، تو اس کا اکرام کر۔
وان اتاک عمرو فلا تہنہ۔ اگر تیرے پاس عمرو آئے، تو اس کی بے عزتی مت کرنا، اس کی اہانت نہ کرنا۔ جزا کیا ہے؟ فلا تہنہ۔ اس کا ترجمہ کریں، صرف جزا کا، اکیلی جزا کا، لا تہنہ۔ تو اس کی توہین نہ کر، اہانت نہ کر اور یہاں دیکھو۔ کون سا زمانہ ہے؟ مستقبل والا، تو اس کی اہانت نہ کر۔ کون سا زمانہ ہے؟ تو نہی میں ہوتا ہی مستقبل والا زمانہ ہے۔ تو ان کے آنے سے زمانے میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ پہلے بھی مستقبل والا زمانہ تھا، اب بھی کون سا زمانہ ہے؟ تو لہٰذا ربط نہیں آیا، تو اب کیا لے آؤ؟ فا۔ تو یہ اس لیے فا لائے وان اتاک عمرو فلا تہنہ۔
اگلا جملہ، ان اکرمتنی فجزاک اللہ خیرا۔ اگر تو میرا اکرام کرے، تو اللہ تجھے جزائے خیر دے۔ جی، جزا کیا ہے؟ جزا یہاں کون سا جملہ ہے؟ جزاک اللہ خیرا۔ جزاک اللہ خیرا، اس کا ذرا ترجمہ کریں، بغیر جزا بنائے، ویسے ترجمہ کریں۔ کسی کو کہا جائے جزاک اللہ خیرا، کیا ترجمہ ہوتا ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے، یعنی کس زمانے میں؟ مستقبل میں۔ تو یہاں تو پہلے ہی مستقبل والا معنی ہے، لہٰذا ان نے اس کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، لہٰذا اب کیا لانا پڑے گی؟ فا۔ تو اس لیے کہا ان اکرمتنی فجزاک اللہ خیرا۔
ایک مثال پیچھے آئی تھی، وہ بھی ذرا دیکھ لیں۔ پیچھے آیا تھا، ان تضرب اضرب۔ ان تضرب اضرب، اگر تو پٹائی کرے گا، تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ جی، ان نے اضرب کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کی؟ جی؟ جی۔ کیا تبدیلی پیدا کی؟ صیغے پہ غور کرو، ان تضرب اضرب۔ تضرب بھی کون سا صیغہ؟ مضارع کا۔ اضرب بھی کون سا صیغہ؟ مضارع کا۔ تو یہاں دونوں احتمال ہیں۔ دیکھا جائے تو تبدیلی پیدا کر دی اس نے معنی میں، کس طرح؟ پہلے مضارع میں حال اور استقبال دونوں زمانوں کا احتمال تھا، لیکن ان کے بعد اب صرف کون سا ترجمہ کریں گے؟ مستقبل والا کریں گے۔ تو دیکھا جائے تو یہاں پر معنی میں تبدیلی آ چکی ہے، ان نے اپنا اثر دکھا دیا ہے۔ لہٰذا جب تبدیلی آ گئی ہے، تو اب ربط آ چکا۔ جب ربط آ چکا، اب فا لانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا اسی لیے آپ نے دیکھا ان تضرب اضرب۔
اور دیکھا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑا ان کے آنے سے۔ ان کے آنے سے کوئی فرق نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ مستقبل کا معنی تو اضرب کے اندر پہلے بھی تھا۔ اور اب بھی کون سا معنی ہے؟ مستقبل والا۔ تو بایں لحاظ دیکھا جائے کہ مضارع میں تو مستقبل والا معنی پہلے بھی ہوتا ہے، تو ان کے آنے سے کوئی نیا زمانہ اس میں نہیں آیا، بایں لحاظ دیکھا جائے تو ربط نہیں آیا۔ لہٰذا فا لے آؤ۔ تو جب فعل مضارع ہو، اس میں دونوں صورتیں ہیں۔ فا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ فا نہیں لائیں گے، کیوں نہیں لائیں گے؟ کیونکہ ربط آ چکا۔ کیا ربط آیا؟ پہلے حال اور استقبال دونوں احتمال تھے، اب مضارع صرف کس کے ساتھ خاص ہوا؟ اس اعتبار سے اثر پڑ گیا ہے، معنی بدل گیا ہے، لہٰذا فا لانے کی ضرورت نہیں۔ اور دیکھا جائے بایں لحاظ دیکھا جائے کہ مستقبل کا معنی تو مضارع میں پہلے سے ہی موجود تھا، کوئی فرق نہیں پڑا، ان نے کوئی اثر نہیں ڈالا، تو ربط نہیں آیا۔ تو ربط کے لیے کیا لے آؤ؟ فا۔ تو جب ان کی جزا فعل مضارع ہو، تو اس پر فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ ان تضرب اضرب، یوں بھی صحیح ہے بغیر فا کے اور ان تضرب فاضرب، فا کے ساتھ بھی صحیح ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
حاصل کلام یہ کہ آج آپ نے ان حروف کے بارے میں پڑھا جو فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا وہ پانچ حروف ہیں: لم، لما، لام امر، لاۓ نہی اور ان شرطیہ۔ لم جو ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے اور اس کو ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے۔ لما بھی فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور اس کو ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے، لیکن لم اور لما میں یہ فرق ہے کہ لما سارے زمانہ ماضی کا احاطہ کر لیتا ہے اور نیز اس میں آگے اس کام کے ہونے کی امید ہوتی ہے۔ لما یضرب، کیا معنی؟ اس نے ابھی تک پٹائی نہیں کی۔ معلوم ہوا پورے زمانہ ماضی کا احاطہ ہو گیا کہ اس نے زمانہ ماضی میں پٹائی نہیں کی اور آگے امید ہے کہ وہ پٹائی کرے گا۔
اس کے بعد لام امر تھا۔ لام امر آپ نے پڑھا ہے لیضرب، لیضربا، لیضربوا، جو غائب کے صیغوں میں لام امر آتا ہے اور یہ بھی فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ اگلا ہے لاۓ نہی۔ لاۓ نہی جو کسی کام سے روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لا تضرب، تو پٹائی نہ کر۔ یہ بھی فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور فعل مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، اب حال والا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔
اور آخری ہے ان شرطیہ۔ ان شرطیہ انہوں نے بتایا کہ یہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ پہلے کو شرط کہتے ہیں اور دوسرے کو جزا اور یہ شرط اور جزا دونوں میں عمل کرتا ہے۔ دونوں میں فعل مضارع ہو تو دونوں کو کیا کرے گا یہ؟ جزم دے دے گا، جزم دے گا، جزم دے گا۔ اور یہ اس کو مستقبل کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، اگرچہ ماضی ہی کیوں نہ ہو۔ ان ضربت ضربت، کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر تو پٹائی کرے گا، تو میں بھی پٹائی کروں گا۔ تو ماضی پر بھی ان داخل ہو جائے، اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے۔
اور پھر انہوں نے بتلایا کہ شرط کی جو جزا ہے، اس پر فا کا لانا واجب ہے۔ کتنی صورتوں میں؟ چار صورتوں میں، اگر شرط کی جزا کیا ہو؟ جملہ اسمیہ ہو یا امر ہو یا نہی ہو یا دعا ہو، تو پھر فا کا لانا واجب ہے۔ میں نے ضابطہ بتلا دیا کہ ان جو ہے وہ جزا میں عمل کرتا ہے۔ آپ جزا میں غور کر لیں کہ ان نے اس کے زمانے میں کوئی تبدیلی پیدا کی یا تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اگر ان نے اس جزا کے معنی میں، یعنی اس کے زمانے کو بدل دیا ہے، معلوم ہوا ربط آ چکا شرط اور جزا کے درمیان، اب فا لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر ان نے جزا کے معنی میں، یعنی اس کے زمانے میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، تو ربط ابھی تک نہیں آیا، لہٰذا اس صورت میں فا کا لانا ضروری ہے، واجب ہے۔
اور اگر، اگر شرط کی جزا فعل مضارع ہو، تو فعل مضارع کے اندر دونوں احتمال ہیں۔ دیکھا جائے تو معنی میں تبدیلی آ چکی اور دیکھا جائے تو تبدیلی نہیں آئی۔ تو لہٰذا وہاں دونوں صورتیں جائز ہیں: فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔