Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ووائو صرف، ولامِ کَے، وفائے کہ در جوابِ شش چیز است: امر و نہی و نفی و استفہام و تمنا و عرض، وامثلتہا مشہورۃ۔ اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے ان حروف کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا جو فعلِ مضارع پر عمل کرتے ہیں۔ آپ نے پڑھا، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ حروف جو فعلِ مضارع میں عمل کرتے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ جو ہیں وہ نصب دیتے ہیں اور کچھ جزم دیتے ہیں۔ تو جو نصب دیتے ہیں، وہ چار حروف ہیں۔ چار حروف، ان میں سے پہلا جو ہے "أن" ہے، "أن"۔ اور اس کو "أن مصدریہ" کہتے ہیں، کیونکہ یہ فعلِ مضارع پر داخل ہو کر اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ یعنی "أن" کے داخل ہونے سے پہلے تو فعلِ مضارع اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بن رہا تھا، لیکن جب "أن" اس پر داخل ہوا، اب یہ جملہ نہ رہا، مفرد بن گیا، مصدر بن گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو، یہاں مفرد کا لفظ میں بول رہا ہوں کہ وہ مفرد بن گیا۔ یہ مفرد کس کے مقابلے میں ہے؟ جملہ! جملہ! فعلِ مضارع پہلے کیا تھا؟ جملہ تھا۔ اب "أن" آیا تو کیا بن گیا؟ مفرد بن گیا۔ کیا بن گیا؟ یعنی غیرِ جملہ، اب اس میں یعنی بات پوری نہیں ہے، ادھوری بات ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں مفرد کس کے مقابلے میں آیا؟ جملے کے مقابلے میں۔ تو جب "أن مصدریہ" فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے اور مصدر مفرد ہوتا ہے، یعنی اس میں بات پوری نہیں ہوتی۔ "ضربٌ"، کیا معنی؟ مارنا، پٹائی کرنا۔ بات پوری ہوئی؟ نہیں۔ اور کھانا، پینا، سونا، جاگنا، دیکھو یہ سب مصدر ہیں اور سب مفرد ہیں، کسی میں بھی بات پوری نہیں۔ ان کے ساتھ اور لفظوں کو جوڑیں گے تو پھر بات پوری ہوگی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "ضربٌ مصدرٌ ہے"، دیکھو اب بات پوری ہو گئی۔ اکیلا "ضربٌ" تھا تو اس میں بات پوری نہیں، لیکن "ضربٌ مصدرٌ ہے"، اب آپ کو بات سمجھ میں آ گئی کہ یہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ ویسے میں سارا دن بھی کہتا رہوں "ضربٌ"، "ضربٌ"، "ضربٌ"، آپ کہیں گے بھئی کیا کہنا چاہتے ہیں، ہمیں آپ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ تو "ضربٌ مصدرٌ ہے"، اب بات کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی۔ تو یہ جو "أن" ہے، فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر، اور مصدر مفرد ہوتا ہے۔ تو اس "أن" کو "أن مصدریہ" کہتے ہیں۔ اور مصدر کے معنی میں کیسے کرتا ہے، میں نے طریقہ بھی سکھلایا تھا۔ مثلاً "تضربُ"، "تضربُ" ایک فعل ہے۔ اس پر میں "أن" کو لے آیا: "أن تضربَ"، دیکھو اس نے نصب دے دیا اور معنی میں کیا عمل کیا؟ اس کو کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں کر دیا۔ مصدر کا طریقہ کیا تھا؟ کس طرح مصدر کے معنی میں کرتے تھے؟ اسی فعل کا مصدر لے لیتے اور پھر اس فعل کے اندر "أن تضربَ"، "تضربُ" کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ "أنتَ" ضمیر ہے، مثلاً یہ مخاطب والا صیغہ ہے۔ تو "أنتَ"، اب اس کا مصدر کیا ہے "تضربُ" کا؟ "ضربٌ"۔ اس مصدر کی اضافت کرنی ہے پھر اس فاعل یا نائب فاعل جو بھی ہو اس کی طرف بھئی۔ تو فاعل کیا ہے؟ "أنتَ"۔ تو "ضرب" کی اضافت کرنی ہے "أنتَ" کی طرف، لیکن "أنتَ" تو ہے ضمیرِ مرفوع اور ہمیں ایسی ضمیر چاہیے جو مضاف الیہ بنے، مجرور ہو۔ تو وہ کون سی ضمیر ہے؟ مجرور ضمیرِ متصل۔ وہ کون سی ضمیر تھی؟ گردان یاد ہے اس کی؟ "لَهُ، لَهُمَا، لَهُمْ، لَكَ، لَكُمَا، لَكُمْ، لَكِ، لَكُمَا، لَكُنَّ، لَهَا، لَهُمَا، لَهُنَّ"۔ تو کون سی ضمیر ہے؟ "لَكَ"، "لَكَ"۔ یہ مخاطب، یہ بھی مفرد مذکر مخاطب کی ضمیر ہے۔ اور اس کی طرف اب اضافت کر دو "ضرب" کی: "ضربُكَ"، "ضربُكَ"۔ تو "أن تضربَ"، یہ کس معنی میں ہوا؟ "ضربُكَ"۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی اور مصدر لے لیں، اس سے بھی کر لیں تا کہ اور آپ کو طریقہ اچھی طرح آ جائے بھئی۔ "تقولينَ"، "تقولينَ"، یہ کون سا صیغہ ہے؟ واحد مؤنث مخاطبہ، فعلِ مضارع ہے "تقولينَ"۔ اس پر ذرا "أن" داخل کریں۔ تو یہ آخر سے نونِ اعرابی کو گرا دے گا: "أن تقولي"۔ جی، اب اس کو مصدر کے معنی میں کریں بھئی۔ "قالَ یقولُ" کا مصدر کیا آتا ہے؟ "قولٌ" بھئی، ہاں اب، اور "تقولينَ" اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ "أنتِ"، جی، تو "قول" کی اضافت کریں "أنتِ" کی طرف۔ اور "أنتِ" تو کون سی ضمیر ہے؟ مرفوع، ہمیں کون سی چاہیے؟ مجرور، کیونکہ اس نے مضاف الیہ بننا ہے اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ تو "أنتِ" ہے واحد مؤنث مخاطبہ کی ضمیر۔ آپ نے بھی یہی ضمیر لانی ہے، واحد مؤنث مخاطبہ والی، لیکن کون سی ہونی چاہیے؟ مجرور۔ جی، وہاں پھر چلے جائیں بھئی: "لَهُ، لَهُمَا، لَهُمْ، لَكَ، لَكُمَا، لَكُمْ، لَكِ"، "لَكِ"، یہ دیکھا، یہ آ گئی واحد مؤنث مخاطبہ کی ضمیر۔ اس کاف کو لے آئیں یہاں پر جوڑ دیں۔ جی، کیا بن گیا؟ "قولُكِ"، "قولُكِ"، "قولُكَ" نہیں بھئی، یہ مخاطبہ کی ضمیر ہے، بلکہ "قولُكِ"۔ آپ "قولُكِ"، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو جس فعل پر بھی "أن" داخل ہوگا، اس کا مصدر لے لیں اور پھر اس کے اندر جو فاعل کی ضمیر ہے، اس کی طرف اس کی اضافت کر دیں۔ تو لہٰذا "أن تقومَ"، یہ کس معنی میں ہوا؟ "قیامُكَ"، شاباش، "قیامُكَ"، آپ کا قیام۔ اب کسی کو سارا دن کہتے رہو "قیامُكَ"، "قیامُكَ"، آپ کا قیام، آپ کا قیام، تو وہ کہے گا بھئی آپ کی بات مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی، بات پوری کریں۔ تو، تو پھر آپ کہتے ہیں "أریدُ قیامَكَ"، میں آپ کا قیام چاہتا ہوں، اب بات پوری ہو گئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو حروفِ فعلِ مضارع کو جو نصب دینے والے پہلا حرف ہے "أن"، دوسرا ہے "لن" ناصبہ، جیسے "لن یخرجَ زیدٌ"۔ اور یہ کس معنی میں کر دیتا ہے فعلِ مضارع کو؟ استقبال کے معنی میں، اور نیز اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے۔ "لن یخرجَ زیدٌ"، کیا معنی؟ زید ہرگز نہیں نکلے گا۔ تیسرا ہے "کَے"، اور "کَے" جو ہے سبب بیان کرنے کے لیے آتا ہے، سبب بیان کرنے کے لیے، جیسے "أسلمتُ کَے أَدخلَ الجنۃَ"، "أسلمتُ کَے أَدخلَ الجنۃَ"، کیا معنی؟ میں اسلام لایا تا کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو دیکھو اسلام لانے کی وجہ اور علت ذکر کی جا رہی ہے کہ میں اسلام کیوں لایا ہوں تا کہ میں جنت، تو یہ ما بعد جو ہے، یہ سبب ہے ماقبل کے لیے۔ ما بعد سبب ہے کس کے لیے؟ ذرا توجہ کرنا بھئی، ایک عجیب بات آپ کو بتلاؤں۔ "أسلمتُ"، ایک شخص کہتا ہے: میں اسلام لایا، کیوں؟ تا کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اچھا، مجھے بتائیے، اسلام لانے کی وجہ کیا؟ دخولِ جنت۔ اچھا، جنت میں داخل ہونے کی وجہ کیا؟ اسلام لانا۔ تو آدمی حیران ہوتا ہے، یہ پہلے والا دوسرے کے لیے سبب ہے یا دوسرا پہلے کے لیے سبب ہے؟ تو یہاں دونوں آپ کہہ سکتے ہیں۔ پہلا سبب ہے کس کے لیے؟ دوسرے کے لیے، اور دوسرا سبب ہے پہلے کے لیے۔ بھئی کس طرح؟ بھئی یاد رکھو، ایک ہے ذہن میں اور ایک ہے خارج میں۔ ذہن میں، ذہن میں یہ جنت میں داخل ہونا سبب ہے کس کے لیے؟ کوئی شخص مسلمان کیوں ہوتا ہے؟ اس کے ذہن میں کیا ارادہ ہوتا ہے؟ میں جنت میں جاؤں۔ تو ذہن کے اندر ثانی جو ہوتا ہے، وہ سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ اسلام لانے کے، پہلے کے لیے۔ پھر دہراؤ، ذہن میں ثانی جو ہوتا ہے، وہ سبب بنتا ہے کس کے لیے؟ پہلے کے لیے۔ یعنی ذہن میں پہلے وہ ثانی آتا ہے اور پھر اس کے لیے کیا کرتا ہے کوئی پہلا والا فعل کرتا ہے۔ جیسے ذہن میں تھا کہ میں کہاں جاؤں؟ جنت میں داخل ہو جاؤں، تو اس کے لیے پھر کیا کیا؟ اسلام۔ تو جنت میں داخل ہونا یہ سبب ہے کس کے لیے؟ اسلام کے لیے، بات سمجھ میں آئی؟ ذہن میں۔ اور خارج میں، اسلام کا لانا سبب ہے کس کے لیے؟ اسلام لائے گا تو جنت میں بھی داخل ہوگا، اسلام نہیں لائے گا تو جنت میں بھی داخل نہیں۔ تو خارج میں پہلا سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے، اول اور ثانی کہو۔ خارج میں اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، اور ذہن میں ثانی سبب ہے کس کے لیے؟ اول کے لیے۔ اور چوتھا تھا "إذن" بھئی، "إذن"۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ "إذن"، یہ کسی کلام کے جواب میں بولتے ہیں اور اس لیے اس کو حرفِ جواب بھی کہتے ہیں، اور یہ فعلِ مضارع کو نصب دیتا ہے۔ مثلاً کسی نے آپ سے کہا: "أنا آتيكَ غداً"، کل میں آپ کے پاس آؤں گا۔ تو اب اس کلام کے جواب میں آپ کہتے ہیں: "إذن أُكرمَكَ"، تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو دیکھو "إذن" نے "أُكرمَ" فعل کو نصب دیا۔ اصل میں تو تھا "أُكرمُكَ"، لیکن اب "إذن" آیا تو "أُكرمَكَ" پڑھیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ "أن" جو ہے وہ چھ چیزوں کے بعد مقدر ہوتا ہے۔ یہ وہی "أن مصدریہ" ہے، لیکن وہ جو "أن" تھا، وہ لفظوں میں آتا تھا، عبارت میں آتا تھا، اس کو علیحدہ ذکر کیا۔ اور چھ چیزوں کے بعد "أن" جو ہے وہ مقدر ہوتا ہے، یعنی فرض کر لیں وہاں "أن" موجود ہے اور وہ فعلِ مضارع کو نصب دے رہا ہے۔ اور یہ نحویوں کو کیوں فرض کرنا پڑا؟ کیونکہ نحویوں نے دیکھا کہ بعض جگہ فعلِ مضارع پر عرب نصب پڑھتے ہیں اور وہاں کوئی نصب دینے والا حرف نہیں ہوتا، لیکن عرب کیا پڑھتے ہیں؟ نصب۔ مثلاً جیسے آگے مثال ہے: "سرْتُ حتّى أدخلَ البلدَ"، میں چلوں گا یہاں تک کہ میں شہر میں داخل ہو جاؤں۔ اب "حتّى" کے بعد "أدخلَ" یہ عرب نصب پڑھتے ہیں، حالانکہ کوئی نصب دینے والا حرف یہاں نہیں۔ نہ "أن" ہے، نہ "لن" ہے، نہ "کَے" ہے، نہ "إذن" ہے۔ پھر بھی کیا ہے فعلِ مضارع پر؟ نصب پڑھا جا رہا ہے۔ اور حالانکہ نصب تو یہ چار حروف دیتے ہیں۔ تو لہٰذا انہوں نے کہا یہاں "أن" مقدر ہے۔ اور "أن" تو کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے، تو یہ "أن" مقدر بھی کیا کر رہا ہے؟ اس کو نصب۔ اور پھر وہ جگہیں تلاش کیں کہ کتنی جگہیں ایسی ہیں جہاں "أن" مقدر ہوتا ہے اور اس طرح نصب دیتا ہے، تو وہ چھ جگہیں نکلیں بھئی پورے کلامِ عرب میں۔ اب ان کو ذکر کر رہے ہیں۔ اور "أن" ہی کو اس لیے مقدر مانا، اس لیے کیونکہ کسی اور حرف کو یہاں مقدر مانیں تو معنی صحیح نہیں بنتا، "أن" کے ساتھ معنی صحیح بنتا ہے۔ تو وہ چھ جگہیں کون سی ہیں؟ پہلا ہے "حتّى": "سرْتُ حتّى أدخلَ البلدَ"، میں چلوں گا یہاں تک کہ میں اس شہر میں داخل ہو جاؤں۔ دوسرا "لامِ جحد" ہے۔ لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہو۔ اور اس کے بعد بھی "أن" مقدر ہوتا ہے اور فعلِ مضارع منصوب ہوگا اس "أنِ" مقدرہ کی وجہ سے۔ جیسے "ما كانَ اللهُ لِیُعذِّبَهُم"، اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے۔ اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے۔ تو یہ جو "ما كانَ"، یہ دیکھو "کانَ" آیا اور "کانَ" پر "ما" حرفِ نفی داخل ہے، تو یہ "کانَ" منفی ہوا۔ اور اس کی اسم ہے لفظِ اللہ، اور "لِیُعذِّبَهُم" یہ اس کی خبر ہے۔ اور اس خبر پر یہ لام داخل ہے، اور یہ کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے، زور پیدا کر دیتا ہے۔ میں نے مثال سے سمجھایا تھا کہ تاکید کسے کہتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی کو آپ کہتے ہیں کہ، ایک آدمی سے آپ کوئی کام کہتے ہیں اور کہتے ہیں: جلدی کرو۔ ایک دفعہ آپ نے کہا: جلدی کرو۔ اور ایک صورت یہ ہے آپ اس کو کہتے ہیں: جلدی کرو، جلدی کرو۔ دیکھو، کس میں زور زیادہ؟ جب دو دفعہ آپ کہیں، اس میں زور زیادہ۔ یا اور مثال لے لو، جیسے آپ کسی سے کہتے ہیں: میں نے کل سبق یاد کیا تھا۔ مثلاً وہ ساتھی آپ کی بات نہیں مانتا، تو پھر آپ قسم کھاتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے کل سبق یاد کیا تھا۔ دیکھا؟ ایک ہے ویسے کہنا: میں نے کل سبق یاد کیا تھا۔ اور ایک ہے: اللہ کی قسم میں نے کل سبق یاد کیا تھا۔ کس میں زور زیادہ؟ جس قسم والے میں، دیکھا؟ آپ نے پہلے عام کلام کیا تو دوسرے نے انکار کر دیا، پھر آپ نے قسم کھا کر اس میں خوب زور پیدا کر دیا کہ میں واقعی سچ کہہ رہا ہوں۔ تو جیسے قسم سے کلام میں زور پیدا ہوتا ہے، تاکید پیدا ہوتی ہے، اسی طرح یہاں بھی یہ لام کے ذریعے کلام میں تاکید، لیکن تاکید کے درجے مختلف ہیں بھئی۔ کسی سے تھوڑی تاکید آتی ہے، کسی سے زیادہ تاکید۔ قسم کے ذریعے تو بہت زیادہ تاکید کلام میں آ جاتی ہے۔ تو اس لام کے ذریعے بھی کلام میں کیا آتی ہے؟ تاکید آتی ہے بھئی۔ قسم کے درجے کی تاکید تو نہ ہو، لیکن بہرحال اس کے ذریعے تاکید آتی ہے، زور، کلام زور دار ہو جاتا ہے۔ اور تیسرا تھا "أو" بھئی، "أو"۔ وہ "أو" جو "إلى أن" یا "إلاّ أن" کے معنی میں ہو۔ جیسے "لألْزَمنَّكَ أو تُعْطِیَنِي حقِّي"، "لألْزَمنَّكَ"، میں ضرور بالضرور تمہارے ساتھ لازم رہوں گا، یعنی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، تمہارے ساتھ جڑا رہوں گا، "أو تُعْطِیَنِي حقِّي"، یعنی "إلى أن تُعْطِیَنِي حقِّي"، یہاں تک کہ تم مجھے میرا حق دے دو۔ تو یہ جو "أو" ہے نا "أو"، یہ غایت پر داخل ہوتا ہے۔ کس پر؟ ماقبل میں کیا ہے؟ میں تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، میں تمہارے ساتھ لازم رہوں گا۔ اور یہ پیچھا کب چھوڑوں گا؟ جب تم کیا کر دو؟ دیکھا، تو غایت کا معنی ہوتا ہے انتہا، جس پر کسی چیز کی کیا ہو؟ انتہا۔ دیکھو، لازم رہنا یا پیچھا نہ چھوڑنے کی انتہا کب ہوگی؟ یہ کب ختم ہوگا؟ جب وہ حق دے دے گا۔ تو یہ "أو" جو ہے غایت پر داخل ہوتا ہے، جو ماقبل کے لیے کیا ہو؟ غایت۔ ماقبل میں کیا کہا؟ میں پیچھا نہیں چھوڑوں گا یا میں آپ کے ساتھ لازم رہوں گا، اور یہ کب ختم ہوگا جب آپ کیا کر دیں؟ حق، جب حق دے دیں گے تو پھر میں آپ کا پیچھا چھوڑ دوں گا۔ تو ماقبل کی انتہا ما بعد پر ہو جائے گی۔ تو ما بعد یعنی ماقبل کے لیے کیا ہے؟ غایت ہے، کیا ہے؟ یعنی ما بعد آ گیا تو ماقبل والا کام کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، تو اس کو کہتے ہیں غایت۔ تو یہ جو "أو" ہے، ایسے غایت پر داخل ہوتا ہے۔ تو آپ نے خود غور کر لینا ہے، آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ غایت بیان کیا جا رہا ہے۔ اور یہ "أو" "إلى أن" کے معنی میں ہے یا "إلاّ أن"۔ "إلى أن" جمہور نحویوں کے نزدیک یہ "أو" "إلى أن" کے معنی میں ہے۔ جبکہ امامِ سیبویہ رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں یہ "إلاّ أن" کے معنی میں ہے۔ دیکھو "إلى أن"، یہاں تک کہ۔ اور "إلاّ أن"، مگر یہ کہ، ترجمہ یوں کریں گے۔ "إلى أن" کا کیا، "إلى أن" کا کیا معنی؟ یہاں تک کہ۔ "لألْزَمنَّكَ"، میں تمہارے ساتھ ضرور بالضرور لازم رہوں گا، "إلى" إلى أن تعطيني حقي إلى أن تعطيني حقي: یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ اور اگر "إلا أن" کریں، تو "إلا أن" کا معنیٰ ہے "مگر یہ کہ"، "مگر یہ کہ"۔ لألزمنك إلا أن تعطيني حقي: میں آپ کے ساتھ ضرور بالضرور لازم رہوں گا، إلا أن: مگر یہ کہ آپ میرا حق مجھے دے دیں۔ تو دیکھو معنیٰ دونوں کا ایک ہی جیسا ہے، البتہ جمہور کے نزدیک یہ "إلى أن" کے معنیٰ میں اور امام سیبویہ کے نزدیک "إلا أن" کے معنیٰ میں ہے۔ تو دونوں کو ذکر کر دیا، کیونکہ امام سیبویہ نحو کے بہت بڑے امام ہیں، ان کی بات علم نحو کے اندر پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی۔ وواو الصرف، ولام كَي، وفاءٌ في جواب شش چيز است: امر، ونهي، ونفي، واستفهام، وتمني، وعرض، وأمثلتها مشهورة۔ میں نے الگ الگ پڑھا: امر، ونہی، ونفی، واستفہام، وتمنی، وعرض۔ اور میں نے بتلایا تھا فارسی میں یہ جو واؤ ہے، اس کو الگ نہیں پڑھتے۔ آپ کو سمجھانے کے لیے میں الگ الگ بھی پڑھتا ہوں، ان کو جب ملانا ہو، پھر واؤ کو ماقبل حرف پر پیش کی صورت میں پڑھ دیتے ہیں۔ جیسے دیکھو امر، ونہی۔ امر کے بعد کیا آ رہا ہے؟ واؤ۔ تو اسی امر کی را پر میں پیش پڑھ دوں گا، بس واؤ کو نہیں پڑھوں گا۔ اور آگے نہی ہے، نہی کے بعد پھر واؤ ہے، تو اسی نہی کی یا پر میں کیا پڑھ دوں گا؟ پیش پڑھ دوں گا۔ دیکھیے بھئی، اس طرح: امر و نہی و نفی و استفہام و تمنی و عرض۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں وہ چھ چیزیں جن کے بعد، جن کے بعد ان مقدر ہوتا ہے۔ تین چیزیں گزر گئیں۔ نمبر ایک: حتٰی۔ نمبر دو: لام جحد۔ اور نمبر تین: او۔ وہ او جو کس معنیٰ میں ہو؟ إلى أن یا إلا أن۔ ویسے او ہو، تو اس کے بعد ان مقدر نہیں ہوگا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جاءني زيد أو عمرو۔ میرے پاس زید یا عمرو آیا تھا۔ تو دیکھو یہاں او جو ہے، او ہے، لیکن یہاں ان مقدر نہیں۔ اس ایک تو اس کی نشانی یہ ہے کہ اس او کے بعد فعل مضارع ہوگا۔ کیا ہوگا؟ فعل مضارع۔ اور نیز وہ غائیاً بن رہا ہوگا ماقبل کا۔ چوتھی جگہ ہے: واو الصرف۔ پانچویں ہے: لام كَي۔ اور چھٹی ہے: وفاءٌ في جواب شش چيز است۔ وہ فا جو کہ چھ چیزوں کے جواب میں ہے۔ وہ فا جو چھ چیزوں کے جواب میں آئے، یعنی چھ چیزوں کے بعد آئے بھئی، اس فا کے بعد بھی ان مقدر ہوگا۔ وہ چھ چیزیں کون سی ہیں؟ امر ہے، نہی ہے، نفی ہے، استفہام ہے، تمنی ہے، اور عرض ہے بھئی، عرض ہے۔ یہ چھ چیزیں ہیں۔ یہ چھ چیزیں ہیں۔ یہ جو چھ چیزیں ہیں، یاد رکھو۔ ان کے جواب میں اگر فا آئے، تو اس فا کے بعد کیا مقدر؟ ان۔ اسی طرح ان ہی چھ چیزوں کے جواب میں واؤ آ جائے، تو اس کو واؤ صرف کہتے ہیں۔ یہ جو چھ چیزیں آئیں: امر، نہی، نفی، استفہام، تمنی اور عرض۔ ان ہی چھ چیزوں کے بعد اگر واؤ آ جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ واؤ صرف بھئی، واؤ صرف۔ صرف کا معنیٰ ہے پھیرنا، پھیرنا، روکنا، باز رکھنا۔ تو واؤ صرف وہ صرف جو پھیرتا ہے، روکتا ہے۔ یہ واؤ دراصل مانع بنتا ہے عطف سے۔ یہ واؤ کیا بنتا ہے؟ مانع بنتا ہے عطف سے۔ دیکھو بھئی، جاءني زيد وعمرو۔ میرے پاس زید آیا اور عمرو آیا۔ یہ واؤ کے ذریعے عطف کیا جاتا ہے۔ واؤ کے ذریعے عطف۔ مثلاً جاءني زيد۔ یہ زیدٌ کیا ہے؟ فاعل۔ یہ فاعل، اور فاعل مرفوع ہوتا ہے، اس لیے میں نے اس پر رفع پڑھا: جاءني زيدٌ۔ اور میں بتلانا چاہتا ہوں کہ عمرو بھی میرے پاس آیا، تو میں اسی فاعل پر واؤ کے ذریعے عطف کروں گا۔ اور جو واؤ سے پہلے ہو، اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ، اس پر عطف کیا گیا ہے۔ اور جو واؤ کے بعد ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں معطوف، یعنی اس کا عطف کیا گیا ہے۔ توجہ ہے؟ جاءني زيد وعمرو۔ عمرو کا میں عطف کر رہا ہوں کس پر؟ زید پر۔ اور کس حرف کے ذریعے؟ واؤ کے ذریعے۔ تو جو واؤ سے پہلے ہو، اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ، یعنی جس پر عطف کیا جائے۔ اور جس کا عطف کیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف۔ جاءني زيد وعمرو۔ عمرو کا عطف میں نے کس پر کیا؟ زید پر۔ تو عمرو کیا ہوا؟ معطوف۔ اور زید کیا ہوا؟ معطوف علیہ۔ دیکھو ترجمے میں بھی غور کر لو، آپ کو سمجھ میں آ جائے گا۔ معطوف علیہ: عطف کیا گیا ہے علیہ اس کے اوپر۔ اور معطوف: یہ عمرو کیا ہے؟ معطوف، اس کا عطف کیا گیا ہے۔ تو واؤ کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ عطف۔ اور یاد رکھو معطوف اور معطوف علیہ کا اعراب ایک ہی ہوتا ہے۔ معطوف اور معطوف علیہ کا اعراب ایک، لہٰذا جاءني زيدٌ، یہ زیدٌ کیوں مرفوع؟ فاعل ہے۔ وعمروٌ، عمروٌ بھی مرفوع ہے۔ کیوں مرفوع؟ اب یہ نہ کہیں یہ فاعل ہے، فاعل تو ایک ہی ہوتا ہے، وہ کون تھا؟ زید۔ ہاں پھر یہ عمروٌ کیوں مرفوع؟ کیونکہ یہ معطوف ہے کس پر؟ زید پر۔ اور معطوف پر وہی اعراب آتا ہے جو کس پر آتا ہے؟ معطوف علیہ پر۔ تو اس لیے عمرو پر بھی ہم نے رفع پڑھا: جاءني زيد وعمرو۔ تو میرے پاس زید آیا اور عمرو آیا۔ تو یہ جو واؤ ہے، یہ عطف کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو اس میں پھر مفرد کا عطف مفرد پر ہوتا ہے اور جملے کا عطف جملے پر۔ توجہ ہے؟ مفرد کا عطف مفرد پر ہوتا ہے اور جملے کا عطف جملے پر۔ یاد رکھو جو معطوف علیہ جو وہ ہے جو پہلے آئے، اور معطوف وہ ہے جو بعد میں آئے، ان دونوں میں مناسبت ہونی چاہیے۔ اگر مناسبت نہیں، تو عطف جائز نہیں۔ ان دونوں میں کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زيد قائم وعمرو جالس۔ توجہ ہے؟ زيد قائم، یہ پورا جملہ ہے۔ زید مبتدا اور قائم اس کی خبر، اور پورا جملہ مل کر معطوف علیہ۔ اور آگے پورے جملے کا عطف ہو رہا ہے: وعمرو جالس۔ عمرو ہے مبتدا اور جالس اس کی خبر، اور یہ پورا جملہ اسمیہ۔ تو واؤ سے ماقبل بھی جملہ اسمیہ اور واؤ کے مابعد بھی جملہ اسمیہ۔ تو لہٰذا دونوں جملوں میں مناسبت آ گئی۔ پہلا جملہ بھی اسمیہ، یا یوں کہو جملہ خبریہ ہے جس میں خبر۔ آپ نے پڑھا ہے جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ خبریہ اور ایک جملہ انشائیہ۔ جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ اور ہمارا جتنا کلام ہوتا ہے، تقریباً سارا جملہ خبریہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی جملہ انشائیہ بھی آ جاتا ہے درمیان میں۔ تو زیادہ تر ہماری باتیں کس قسم کی ہیں؟ جملہ خبریہ۔ دیکھو یہ میں جتنی تقریر کر رہا ہوں، یہ ساری جملہ خبریہ ہیں۔ ہاں درمیان میں میں کہہ دیتا ہوں: بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ کیا ہے؟ یہ میں سوال پوچھ رہا ہوں، یہ ہے جملہ انشائیہ۔ تو باقی اکثر باتیں کیا ہیں؟ جملہ خبریہ، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ آپ بھی غور کر لیں جتنا آپ آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ میں آج، میں نے سبق پڑھا، آج میں گھر گیا تھا، آج میں نے فلاں چیز خریدی، آج میں نے اتنا قرآن پڑھا، یہ سارے کیا ہیں؟ جملہ خبریہ۔ تو دیکھو زيد قائم، یہ بھی جملہ خبریہ۔ اور عمرو جالس، یہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے۔ تو دو جملوں میں مناسبت ہو تو پھر عطف کرتے ہیں ایک کا دوسرے پر۔ زيد قائم وعمرو جالس۔ تو زيد قائم، یہ بھی جملہ خبریہ۔ اور آگے عمرو جالس، وہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے۔ اور صرف جملہ ہونے کے اعتبار سے مناسبت کافی نہیں کہ ایک جملہ خبریہ ہو دوسرا بھی جملہ خبریہ ہو۔ بلکہ اور بھی مناسبتیں دیکھی جاتی ہیں، پھر عطف کیا جاتا ہے۔ تفصیل آپ آگے انشاء اللہ اگلے درجات میں پڑھ لیں گے۔ مسند اور مسند علیہ، دونوں کے مسند میں بھی مناسبت ہونی چاہیے۔ دونوں کے مسند علیہ میں بھی مناسبت ہونی چاہیے اور دونوں کے مسند میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے بھئی۔ ایک کا مسند علیہ کون؟ زید۔ دوسرے کا مسند علیہ؟ عمرو ہے۔ ان دونوں میں بھی مناسبت ہونی چاہیے۔ مثلاً دونوں گہرے دوست ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ مثلاً یہ ایک قسم کا میں تعلق بیان کر رہا ہوں۔ یہ نہیں، کوئی بھی، کوئی بھی تعلق، کوئی نہ کوئی نسبت وہاں ہونی چاہیے۔ یا دونوں کے درمیان دشمنی ہو۔ یا دونوں میں، دونوں آپس میں بھئی ہوں۔ یعنی کوئی نہ کوئی آپس میں مناسبت ہونی چاہیے۔ اور دوسرا مسند، دونوں کے مسند میں بھی مناسبت ہونی چاہیے۔ ایک کا مسند: قائمٌ۔ دوسرے کا مسند: جالسٌ۔ ایک میں قیام کا ذکر ہے، کھڑے ہونے کا، ایک میں بیٹھنے کا ذکر ہے۔ دیکھو کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں مناسبت ہے۔ کیا ہے؟ مناسبت ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو کھڑا ہے وہ بیٹھا نہیں اور جو بیٹھا ہے وہ کھڑا ہے۔ تو کسی بھی قسم کی بس کچھ مناسبت دونوں میں ہونی چاہیے۔ دونوں کے مسند علیہ میں بھی اور دونوں کے مسند میں۔ بہرحال یہ اتنی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، ویسے ایک بات میں نے بیان کر دی۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ ایک جملے کا عطف دوسرے جملے پر تب ہوگا جب دونوں میں مناسبت ہو۔ اگر ایک جملہ خبریہ ہے تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ خبریہ۔ اور اگر ایک انشائیہ ہے تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ انشائیہ، انشائیہ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ چھ چیزیں آتی ہیں۔ کون سی چھ چیزیں؟ امر، نہی، نفی، استفہام، تمنی اور عرض۔ اور ان کے بعد واؤ آتا ہے۔ ان کے بعد واؤ آتا ہے۔ اور واؤ کے بعد آگے فعل مضارع، فعل آ جاتا ہے یعنی جملہ خبریہ۔ یہ چیزیں تو کیا ہیں؟ جملہ انشائیہ ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ دیکھو امر بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ نہی بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ بنے گا۔ نفی البتہ وہ نہیں ہے۔ استفہام بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ تمنی بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ اور عرض بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ تو یہ سب جملہ انشائیہ ہیں۔ اور واؤ کے مابعد جملہ خبریہ آ جاتا ہے۔ اور انشاء اور خبر میں تو کوئی مناسبت نہیں ہے۔ تو لیکن واؤ آ گیا۔ اب عطف تو کرنا ہے۔ کیا کریں؟ کوئی صورت سمجھ میں نہیں آ رہی۔ تو پھر وہاں پر ان مقدر مان لیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ تو جو ان ہے، یہ واؤ کے بعد جو جملہ خبریہ تھا، اس کو مصدر کے معنیٰ میں کر دے گا۔ کس معنیٰ میں؟ اور ماقبل میں جو جملہ انشائیہ تھا، اس سے بھی ایک مصدر بنا لیں گے۔ اس کے پورے جملے سے جو بات سمجھ میں آ رہی ہے، جو اس کا مضمون سمجھ میں آ رہا ہے، اس سے بھی ایک مصدر بنا لیں گے۔ اور مصدر کا عطف کس پر ہو جائے گا؟ مصدر پر ہو جائے گا۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، لیکن بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ جو واؤ ہے، اس کو واؤ صرف کہتے ہیں۔ صرف کا معنیٰ ہے پھیرنا، روکنا، منع کرنا۔ یہ واؤ بھی کیا کرتا ہے؟ مابعد کا عطف ماقبل پر نہیں ہونے دیتا۔ مابعد کا عطف کیوں نہیں ہونے دیتا؟ کیونکہ مابعد میں کیا ہوتا ہے؟ جملہ خبریہ، اور ماقبل میں کیا ہوتا ہے؟ جملہ انشائیہ۔ پھر کیا کیا جاتا ہے؟ اس کے بعد ان مقدر نکالا جاتا ہے۔ اور وہ ان کیا کرتا ہے؟ پورے جملہ خبریہ کو کس معنیٰ میں کر دیتا ہے؟ مصدر۔ اور ماقبل والے جملہ انشائیہ سے بھی کیا بنا لیتے ہیں؟ اس سے بھی ایک مصدر نکال لیتے ہیں۔ اور مصدر کا عطف مصدر پر کر دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو واؤ صرف کہتے ہیں۔ واؤ صرف۔ اور اس میں میں نے بتایا یہ ماقبل والے سب انشاء ہیں۔ امر بھی انشاء۔ نہی بھی انشاء۔ استفہام بھی انشاء۔ تمنی بھی انشاء۔ اور عرض بھی انشاء۔ ہاں نفی رہ گئی۔ نفی تو انشاء نہیں ہے۔ وہاں تو عطف ہو سکتا ہے۔ نفی تو جملہ خبریہ ہے اور مابعد بھی جملہ خبریہ، ماقبل بھی جملہ خبریہ۔ وہاں تو عطف ہونا چاہیے۔ لیکن یہ نفی چونکہ نہی جیسی ہوتی ہے۔ نفی بھی کس جیسی ہوتی ہے؟ مثلاً نفی اور نہی میں فرق جانتے ہو؟ لا تضرب، یہ کیا ہے؟ نہی ہے۔ اس میں روکا جا رہا ہے: پٹائی نہ کرو۔ اور نہی، نفی لے آؤ۔ لا تضربُ، کیا ترجمہ؟ آپ پٹائی نہیں کر رہے۔ تو دیکھو دونوں میں مناسبت ہے۔ نہی میں بھی حرفِ لا آیا تھا، اور لا تضربُ نفی میں بھی کیا آ رہا ہے؟ لا آ رہا ہے۔ تو دونوں میں کیا ہے؟ مناسبت ہے۔ دونوں ایک دوسرے جیسے ہیں، لگتے ہیں بظاہر۔ اس لیے نفی کو بھی کس پر محمول کر لیا؟ نہی پر۔ اور نہی کے اندر تو ان مقدر ہوتا تھا، تو نفی میں بھی ان مقدر ہوگا۔ تو واؤ صرف کسے کہتے ہیں؟ جو ان چھ چیزوں کے بعد آئے اور اس کو واؤ صرف کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ صرف کا معنیٰ ہے روکنا۔ یہ بھی کیا کر دیتا ہے؟ مابعد کے عطف کو ماقبل سے روک دیتا ہے۔ براہِ، یعنی براہِ راست ان کے بغیر تو عطف ہو سکے گا، لیکن ان کے بغیر عطف نہیں ہو سکتا۔ تو وہاں پھر ان لاتے ہیں اور اس کے بعد پھر عطف کرتے ہیں۔ اور یہ چھ چیزیں، ان کی مثالیں لکھ لیں بھئی۔ مثالیں کاپیاں نکالیں، ان سب کی، یہ چھ چیزوں کے جواب میں واؤ آئے اور وہاں ان مقدر ہو، اس کی مثالیں لکھ لیجیے بھئی۔ بلکہ لکھ لیں، تفصیل بھی کچھ لکھ لیں: واؤ صرف، لکھیں بھئی، عنوان دیں: واؤ صرف۔ اور ذرا جلدی جلدی لکھو بھئی۔ واؤ صرف۔ صرف کا معنیٰ ہے روکنا۔ صرف کا معنیٰ ہے روکنا اور منع کرنا اور منع کرنا۔ اسے واوِ جمع بھی کہتے ہیں۔ جمع: ج، م، ع بھئی۔ ج، م، ع۔ اسے واوِ جمع بھی کہتے ہیں۔ اور اس کی دو شرطیں ہیں۔ اس کی دو شرطیں ہیں۔ نمبر ایک: واؤ سے ماقبل واؤ سے ماقبل اور واؤ کے مابعد کا زمانہ ایک ہو۔ واؤ سے ماقبل اور واؤ کے مابعد کا زمانہ ایک ہو۔ واؤ سے ماقبل اور واؤ سے مابعد کا زمانہ ایک ہو۔ دوسری شرط: یہ واؤ چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ یہ واؤ چھ چیزوں کے جواب میں آئے۔ یہ واؤ چھ چیزوں کے جواب میں آئے، یعنی امر، یعنی امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا، اور عرض کے بعد آئے۔ چھ چیزیں لکھ لیں: امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا اور عرض کے بعد آئے۔ ان کی مثالیں، ان سب کی مثالیں۔ نمبر ایک: امر کی مثال۔ نمبر ایک: امر کی مثال۔ زرنی (ز، ر، اور ن، ی) زرنی واکرمک۔ زرنی واکرمک۔ نہایت کی مثال، نہایت کی مثال۔ لا تاکل، لا تاکل (ت ہے دو نقطوں والی اور اس کے ساتھ الف لکھیں ملا کر اور الف کے اوپر ہمزہ ڈال دیں) لا تاکل اور آگے چھوٹا کاف اور لام، لا تاکل السمك (السمک: الف، لام، س، م، کاف چھوٹا) السمك وتشررب اللبن (اللبن: دو لام ہیں بھئی) اللبن (الف، لام، لام، با اور نون) اللبن۔ جی، آگے لکھئے نفی کی مثال: ما تاتینا، ما تاتینا (اسی طرح ت اور الف لکھیں، الف کے اوپر ہمزہ ڈال دیں اور آگے تینا: ت، ی، ن، الف) ما تاتینا وتحدثنا وتحدثنا (ت دو نقطوں والی، ح، د مشدد ہے، ث اور نون، الف) ث اور نون، الف۔ ما تاتینا وتحدثنا، لکھ لیا؟ آگے استفہام کی مثال، استفہام کی مثال: هل عندکم، هل، هل عندکم ماء (میم، الف اور ہمزہ) هل عندکم ماء واشربه، واشربه، لکھ لیا؟ آگے تمنا کی مثال: لیت لی، لیت الگ ہے بھئی حرف تمنا، لیت (لام، ی اور لمبی ت) لیت لی، لی (لام، ی) لی مالا (میم، الف اور لام، الف، میم، الف اور لام، الف اور اوپر تنوین ڈال دیں دو زبر) لیت لی مالا وانفقه، وانفقه (الف ہے یعنی ہمزہ، نون، ف، ق دو نقطوں والا اور ہ) لیت لی مالا وانفقه۔ عرض کی مثال، عرض کی مثال: الا تنزل بنا، الا (الف اور پھر لام، الف) الا تنزل (ت دو نقطوں والی ہے، نون، ز، لام) الا تنزل بنا (بنا الگ لکھنا ہے: با، نون، الف) الا تنزل بنا وتصیب، وتصیب (یہ ص کے ساتھ ہے بھئی: ت دو نقطوں والی، ص، ی اور با) وتصیب خیرا، خیرا (ر کے اوپر دو زبر ہیں اور پھر الف ہے) خیرا۔ لکھ لیا بھئی؟ اب ان کو سمجھ لیں بھئی۔ دیکھئے! زرنی واکرمک، اصل میں تو تھا اکرمُ، رفع ہونا چاہئے تھا لیکن نصب عرب پڑھتے ہیں: واکرمَک۔ معلوم ہوا اس واؤ کے بعد کیا مقدر ہے؟ ان مقدر ہے۔ تو زرنی واکرمک۔ جی، زرنی زیارت سے ہے، امر ہے، زار یزور زیارۃ، الامر منہ: زر۔ زرنی: آپ میری زیارت کیجئے یعنی میرے پاس آئیے گا، واکرمک: کہ میں آپ کا اکرام کروں۔ آپ میرے پاس آئیے گا کہ میں آپ کا اکرام کروں۔ اچھا دیکھو! زرنی یہ امر ہے، واکرمک یہ اکرمُ فعل مضارع ہے اور یہ تو جملہ خبریہ ہے۔ آپ میری زیارت کیجئے۔ میں آپ کا اکرام کروں گا، دیکھو میں آپ کا اکرام کروں گا، یہ جملہ خبریہ ہے۔ جملہ خبریہ صرف حال میں نہیں، استقبال میں بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک ساتھی دوسرے کو دھمک، دوسرے کو کہتا ہے: میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ دوسرا ساتھی کہتا ہے: نہیں بھئی، یہ ویسے ہی جھوٹ بول رہا ہے یا یہ ویسے ہی مذاق کر رہا ہے۔ تو خبر جو آپ بات کرتے ہیں، جملہ خبریہ وہ ماضی بھی ہو سکتا ہے، حال بھی اور مستقبل بھی۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے کو کہتا ہے: زید کل آئے گا۔ ایک اور ساتھی اٹھا اور اس نے کہا: یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ دیکھو! مستقبل کی بات ہے لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے؟ جھوٹ بول رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جملہ خبریہ کا صرف حال یا ماضی میں ہو پھر ہی سچا، جھوٹا نہیں بلکہ مستقبل میں ہو پھر بھی وہ جملہ خبریہ ہے۔ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں میں نے یہ تفصیل بیان اس لئے کی کیونکہ زرنی واکرمک، یہ اکرمَ تو مستقبل کی بات ہو رہی ہے تو آپ یہ نہ کہیں کہ یہ تو مستقبل کی بات ہے تو جملہ خبریہ نہیں ہے۔ نہیں بھئی! جملہ خبریہ ماضی میں بھی ہو سکتا ہے، حال کے بارے میں بھی اور مستقبل کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے۔ آپ میری زیارت کیجئے گا، میں آپ کا اکرام کروں گا، آپ کی عزت کروں گا۔ اور دیکھو! دونوں شرطیں پوری ہیں۔ پہلی شرط کیا تھی؟ دونوں کا زمانہ ایک ہو، تو یہاں بھی دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ کیا معنی ہے؟ کس طرح ایک ہے؟ جب آپ میری زیارت کریں گے، میں آپ کی کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا اسی وقت۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ تو دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ اور نہی کی مثال: لا تاکل السمک وتشرب اللبن۔ لا تاکل: تو نہ کھا، السمک: سمک مچھلی کو کہتے ہیں، وتشرب اللبن: شرب کا معنی پینا اور اللبن یہ دودھ کو کہتے ہیں۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن: تو مچھلی نہ کھا وتشرب اللبن کہ تو دودھ پیے۔ یاد رکھو! یہاں مناسب ترجمہ اردو میں نہیں بن رہا۔ اس کو واؤ جمع بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ واؤ جمع بھی کہتے ہیں۔ یہ دو چیزوں کو جمع کر دیتا ہے۔ دو چیزوں کو معنی یہ ہے کہ مچھلی کھائے اور دودھ پیے، ان دونوں کو جمع نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم مچھلی بھی کھاؤ اور دودھ بھی پیو، کیونکہ مشہور ہے جو مچھلی کے ساتھ دودھ پی لے، اس کو وہ برص کی بیماری لگ جاتی ہے، وہ جسم پر سفید سفید داغ لگ جاتے ہیں۔ سفید سفید داغ، مچھلی کے ساتھ کیا کھا لے؟ دودھ پی لے۔ لیکن شاید یہ کوئی خاص مچھلی ہو گی، عام مچھلی میں ایسا نہیں ہوتا۔ میں نے ایسے بھی لوگوں کو دیکھا کہ دودھ ہی میں مچھلی بناتے ہیں، پکاتے ہیں دودھ کے اندر ہی بھئی! اور مچھلی کے ساتھ دودھ بھی استعمال کرتے ہیں، تو کوئی ہو سکتا ہے اگر کوئی خاص مچھلی ہو، اس کے ساتھ اگر دودھ پیا جائے تو جسم پر سفید داغ پڑ جاتے ہوں۔ لا تاکل السمک وتشرب اللبن، معنی سمجھ میں آیا؟ کیا کہنا چاہتا ہے کہنے والا؟ دیکھئے! مچھلی کے کھانے اور دودھ کے پینے کو جمع نہ کرو۔ ان دونوں کو یعنی دیکھو دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ مچھلی کا کھانا جس زمانے میں ہو، اسی کے ساتھ ہی کیا ہو؟ دودھ کا پینا بھی ہو، ایسا نہ کرو، اس سے روکا جا رہا ہے۔ تو اس واؤ کو کیا کہتے ہیں؟ واؤ جمع۔ دیکھو! اب اس کا ترجمہ ترجمے سے بات سمجھ میں آئے گی۔ اس کا ترجمہ اگر کرنا پڑے، دیکھو واؤ کے بعد کیا مقدر ہے؟ ان، اور وہ اس کو کس معنی میں کر دے گا؟ مصدر کے معنی میں، اور ماقبل کا جملہ انشائیہ ہے، اس سے بھی ہم کیا نکال لیں گے؟ مصدر، اور مصدر کا عطف کس پر ہو جائے گا؟ مصدر پر، اور یہ واؤ کس لئے آتا ہے؟ اس واؤ کا دوسرا نام کیا ہے؟ واؤ جمع، تو جمع کا فعل یہاں بنا لیتے ہیں اور مصدر کا عطف مصدر پر کریں گے۔ توجہ ہے؟ کیا کریں گے؟ جمع والا فعل لے آئیں گے کیونکہ یہ واؤ کیا کہلاتا ہے؟ واؤ جمع، اور اور مصدر کا عطف مصدر پر کریں گے، تو جیسے لا تاکل السمک وتشرب اللبن، اس کا ترجمہ کریں گے: لا یجتمع منک (یہ بلکہ آگے آپ لکھ لیں، ایک یہ لکھ لیں یہ کم از کم ایک جملہ لکھ لیں) اسی کے آگے لکھیں لا تاکل السمک وتشرب اللبن، اس کے آگے لکھ لیں: ای (الف اور ی، ای کا معنی ہے یعنی یعنی) تفسیر کے لئے آتا ہے۔ ای لا یجتمع (یجتمع: آخر میں عین ہے بھئی) لا یجتمع منک منک اکل السمک اکل السمک وشرب اللبن وشرب اللبن، بس بھئی! لکھ لیا؟ لا یجتمع منک اکل السمک وشرب اللبن۔ لا تاکل السمک، اس سے ہم نے کیا مصدر بنا لیا؟ اکل السمک، اور لا تاکل اس کے اندر مخاطب کی ضمیر تھی، تو وہ منک کو ساتھ لے آئے: لا یجتمع منک، لا یجتمع منک، یہ منک کہاں سے لے کر آئے؟ یہ جو مخاطب کی ضمیر تھی نا "لا تاکل" تو نہ کھا، مخاطب کی ضمیر تھی، اور "منک" یہ کاف بھی کس کی ضمیر ہے؟ مخاطب کی ضمیر ہے، تو اس کو الگ جوڑ دیا۔ اچھا تو لا تاکل السمک، اس سے مصدر کیا بنا؟ اکل السمک، اور وتشرب اللبن، اس سے مصدر کیا بنا؟ شرب اللبن، تو کیا بن گئی عبارت؟ لا یجتمع منک: جمع نہیں ہونا چاہئے تمہاری طرف سے، اکل السمک وشرب اللبن: مچھلی کا کھانا اور دودھ کا پینا، یہ دو چیزیں تمہاری طرف سے جمع نہیں ہونی چاہئیں یعنی ایک زمانے میں یہ نہ کرنا ورنہ نقصان ہو گا۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ واؤ یہ لا یجتمع میں کہاں سے لایا؟ کیونکہ یہ واؤ کس لئے ہے؟ جمع کے لئے ہے، تو واؤ جمع ہے اس لئے جمع والا فعل یہاں لے آئے کہ ان دو چیزوں کو جمع نہ کرو، معنی سمجھ میں آ گیا؟ جیسے پچھلا فعل تھا: زرنی واکرمک، زرنی واکرمک، اس کا اس کی عبارت کیسے بنا لیں گے اسی کے اسی کی طرح؟ زرنی واکرم، بھئی لا تاکل السمک وتشرب اللبن، اس کے لئے ہم نے فعل کیا بنایا؟ لا یجتمع، دیکھا "لا" لے کر آئے یہاں بھی، کیونکہ وہاں بھی کیا تھا؟ لا تاکل السمک، وہاں بھی "لا" تھا، یہاں بھی کیا لے آئے؟ لا۔ اور پہلی مثال کیا ہے؟ زرنی واکرمک، اس کو بھی ہم اسی طرح بناتے ہیں اس سے، تو زرنی یہاں "لا" ہے؟ نہیں، زرنی کون سا صیغہ ہے؟ امر کا، تو ہم بھی امر کا صیغہ لے آئیں گے اجتماع سے: لیجتمع۔ آپ نے پڑھا ہے: ایک امر حاضر ہے اور ایک امر غائب ہے۔ امر غائب میں کیا لاتے ہیں؟ لام: لیضرب چاہئے کہ وہ پٹائی کرے، اضرب کا کیا معنی؟ تو پٹائی کر، اور لیضرب: چاہئے کہ وہ پٹائی کرے، تو یہاں بھی امر کا ہم صیغہ لے آئیں گے اس کے مطابق، زرنی: امر کا صیغہ ہے، لیجتمع: یہ بھی کون سا صیغہ ہے؟ امر کا، تو امر کا صیغہ لے آئے: لیجتمع۔ زیارت کا لفظ آ رہا ہے تو مؤنث فعل لاؤ: لتجتمع، لتجتمع منک زیارۃ جمع ہونا چاہئے تیری طرف سے زیارت و اکرام منی اور میری طرف سے اکرام، لتجتمع منک زیارۃ و اکرام منی: تمہاری زیارت اور میرا اکرام، یہ دونوں جمع ہونے چاہئیں۔ تمہاری زیارت اور میرا اکرام، توجہ ہے؟ زرنی، زرنی سے امر کیا مصدر کیا بنا؟ زیارت، اور واکرمک، اس سے مصدر کیا بنا؟ اکرام منی: میری طرف سے اکرام، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ دیکھئے بھئی مثالیں: تو لا تاکل السمک وتشرب اللبن یعنی تم مچھلی اور دودھ نہ پیو اکٹھا، معنی سمجھ میں آ گیا۔ ما تاتینا وتحدثنا: آپ ہمارے پاس نہیں آتے کہ ہم سے باتیں کریں۔ آپ ہمارے پاس نہیں آتے کہ ہم سے باتیں کریں۔ اور هل عندکم ماء واشربه: هل عندکم ماء، کیا آپ کے پاس پانی ہے؟ واشربه: کہ میں اس کو پی لوں، کیا آپ کے پاس پانی ہے کہ میں اس کو پی لوں؟ لیت لی مالا وانفقه: کاش کہ میرے پاس مال ہوتا کہ میں اس کو خرچ کرتا، لیت لی مالا: کاش کہ میرے پاس مال ہوتا، وانفقه: کہ میں اس کو خرچ کرتا۔ آگے: الا تنزل بنا وتصیب خیرا: کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے؟ الا تنزل بنا: کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے؟ وتصیب خیرا: کہ آپ کو خیر پہنچتی، آپ کو بھلائی پہنچتی ہماری طرف سے، معنی سب کا سمجھ میں آ گیا؟ پھر دیکھ لیجئے: زرنی واکرمک: آپ میری زیارت کیجئے کہ میں آپ کا اکرام کروں، لا تاکل السمک وتشرب اللبن: آپ ایسا نہ کریں کہ مچھلی کھائیں اور دودھ پییں، معنی سمجھ میں آیا؟ ما تاتینا وتحدثنا: آپ ہمارے پاس نہیں آتے کہ ہم سے باتیں کریں، هل عندکم ماء واشربه: کیا آپ کے پاس پانی ہے کہ میں اس کو پی لوں؟ لیت لی مالا... مالاً وأنفقهُ. کاش کہ میرے پاس مال ہوتا کہ میں اس کو خرچ کرتا۔ ألا تنزل بنا وتصيب خيراً. کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ آپ کو خیر پہنچتی؟ تو یہاں سب میں دیکھیں واؤ کے بعد فعل مضارع پر ہم نصب پڑھ رہے ہیں۔ وأكرمك، وتَشرَبَ اللَّبَنَ، وتُحَدِّثَنا، وأشربَهُ، وأنفقَهُ، وتُصيبَ خيراً. سب پر نصب پڑھ رہے ہیں، کیونکہ اس واؤ کے بعد ان مقدر ہے۔ اور ان میں، میں نے عبارت ذکر کر دی کہ زُرني وأكرمَك. یہ کیا ہے؟ لتجتمع منك زيارة وإكرام مني۔ لتجتمع منك زِیارَةٌ وإکْرامٌ مِنِّي. اور جو آیا تھا لا تأکل السمك وتَشرَبَ اللَّبَنَ. أي لا يجتمع منك أكل السمك وشرب اللبن۔ آگے تھا ما تأتینا وتُحَدِّثَنا. أي لا يجتمع منك إتيان وتحديثك إيانا۔ لا يجتمع منك إتيان وتحديثك إيانا، جمع نہیں ہوتا آپ کی طرف سے آنا—لا يجتمع منك إتيان، إتيان کا معنی آنا—جمع نہیں ہوتا آپ کی طرف سے آنا وتحديثك إيانا اور آپ کا ہم سے بات کرنا۔ حدث يحدث تحديث وتحديثك إيانا اور آپ کا ہم سے بات کرنا، یعنی آپ کا آنا اور ہم سے بات کرنا یہ جمع نہیں ہوتے۔ اور اگلا کیا تھا؟ آگے، هل عندكم ماء وأشربَهُ. اس کے، اس کو اس طرح کر لیں گے: هل يجتمع منكم وجود ماء؟ هل، هل يجتمع منكم وجود ماء وشرب مني؟ کیا جمع ہو سکتا ہے تمہاری طرف سے پانی کا ہونا اور میری طرف سے پینا؟ دیکھو میں جمع والا لفظ لا رہا ہوں ہر جگہ، کیونکہ یہ واؤ کون سا ہے؟ واؤ جمع۔ یعنی کیا یہ دو چیزیں جمع ہو سکتی ہیں کہ آپ کے پاس پانی ہو اور میں اس کو پی لوں؟ هل يجتمع منكم وجود ماء وشرب مني؟ اگلا جملہ کیا تھا؟ ليت لي مالاً وأنفقَهُ. کاش کہ میرے پاس مال ہوتا کہ میں اس کو خرچ کرتا۔ یہ کس معنی میں ہے؟ ليت يجتمع لي ثبوت مال وإفقام مني. ليت يجتمع لي ثبوت مال وإفقام مني. کاش کہ جمع ہو جاتا میرے لیے مال کا ہونا اور اس کا خرچ کرنا، یعنی یہ دونوں ہوتے۔ اگلا جملہ تھا: ألا تنزل بنا وتصيب خيراً۔ ألا تنزل بنا، تو یہ اس معنی میں ہو جائے گا: ألا يجتمع منك نزول؟ ألا يجتمع منك نزول، کیا جمع نہیں ہو سکتا آپ کا آنا وإصابة خير مني اور میری طرف سے خیر کا پہنچنا؟ یعنی آپ کی طرف سے آنا اور میری طرف سے خیر کا پہنچنا جمع نہیں ہو سکتے؟ ألا يجتمع منك نزول وإصابة خير مني۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے فاء کے بارے میں بھی لکھ لیں تھوڑا سا۔ فاء کے بعد ان کے مقدر ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ فاء کے بعد ان کے مقدر ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ نمبر ایک: اول سبب ہو ثانی کے لیے۔ اول سبب ہو ثانی کے لیے۔ اول سبب ہو ثانی کے لیے، یعنی ماقبل سبب ہو مابعد کے لیے۔ یعنی ماقبل سبب ہو مابعد کے لیے۔ دوسری شرط: وہ فاء چھ چیزوں کے جواب میں ہو۔ وہ فاء چھ چیزوں کے جواب میں ہو۔ یعنی امر، امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا، اور عرض۔ وہی چھ چیزیں جو پہلے ذکر ہوئی تھیں۔ وہ فاء چھ چیزوں کے جواب میں ہو: امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا، اور عرض۔ مثالیں: امر کی مثال: زُرني فأكرمَك۔ زُرني فأكرمَك۔ دیکھو وہی پہلی مثال ہے، وہاں واؤ تھا اور یہاں فاء ہے۔ زُرني فأكرمَك۔ نہی کی مثال: لا تشتمني۔ نہی کی مثال: لا تشتمني—تاء ہے دو نقطوں والی دونوں جگہ—لا تشتمني فأضربَك۔ فأضربَك۔ صرف یہ مثال الگ ہے، باقی ساری اسی طرح کی مثالیں آئیں گی۔ پہلی مثال اوپر کیا تھی؟ زُرني وأكرمَك، اور یہاں کیا ہے؟ فأكرم۔ زُرني فأكرمَك، صرف واؤ کی جگہ فاء آیا۔ لیکن دوسری مثال میں نے بدل دی۔ اس لیے، کیونکہ یہاں شرط ہے۔ کیا شرط؟ پہلی شرط کیا ہے؟ کہ فاء کے بعد ان مقدر ہوگا، دو شرطیں ہیں۔ پہلی شرط کیا؟ کہ اول سبب ہو ثانی کے لیے۔ وہاں اول سبب نہیں تھا ثانی کے لیے، تو میں نے یہاں دوسری مثال لے آیا کہ لا تشتمني، کہ آپ مجھے گالی نہ دیجیے فأضربَك کہ میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ دیکھا؟ اب گالی کا دینا، یہ سبب ہے کس چیز کا؟ پٹائی کرنے کا۔ لیکن وہاں ایسا نہیں تھا، تو اس لیے یہ مثال بدل دی۔ باقی سب وہی مثالیں ہیں۔ نفی کی مثال: ما تأتينا فتحدثنا۔ نفی کی مثال، نفی کی مثال: ما تأتينا فتحدثنا۔ ما تأتينا فتحدثنا۔ استفہام کی مثال: استفہام کی مثال: هل عندكم ماء فأشربَهُ۔ فأشربَهُ۔ هل عندكم ماء فأشربَهُ۔ تمنا کی مثال: تمنا کی مثال: ليت لي مالاً۔ ليت لي مالاً فأنفقَهُ۔ فأنفقَهُ۔ عرض کی مثال: ألا تنزل بنا۔ ألا تنزل بنا فتصيب خيراً۔ فتصيب خيراً۔ فتصيب میں صاد ہے—صاد،یاء،باء—فتصيب خيراً۔ تو دیکھو اس میں دو شرطیں ہیں۔ جہاں واؤ آیا تھا، ان دونوں کا زمانہ ایک تھا بھئی۔ مچھلی کھانے اور دودھ پینے کا زمانہ ایک ہو، اس سے منع کیا گیا تھا۔ زیارت کے ساتھ اکرام کا زمانہ ایک تھا۔ آنے کا اور بات کرنے کا زمانہ ایک تھا۔ پانی کے ہونے اور اس کے پینے کا زمانہ ایک تھا۔ مال کے ہونے اور اس کے خرچ کرنے کا زمانہ ایک تھا۔ اور تشریف لانے اور خیر کے پہنچنے کا زمانہ ایک ہے، پہلی مثالوں میں واؤ والی میں۔ اور یہاں، یہاں اول سبب ہوگا کس کے لیے؟ ثانی کے لیے۔ یہاں یہ شرط ضروری ہے، کہ پہلا جو چیز ذکر ہو وہ سبب ہو اور ثانی اس کا مسبب ہو، یعنی اس کی وجہ سے ہو۔ جیسے: زُرني فأكرمَك، آپ میری زیارت کیجیے، پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ آپ میری زیارت کریں گے، پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ اچھا، لا تشتمني فأضربك، آپ مجھے گالی نہ دیجیے فأضربك، پھر میں آپ کی—تو میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ دیکھو، گالی دینا یہ سبب ہے کس کا؟ پٹائی کرنے کا۔ اور ما تأتينا فتحدثنا، کہ آپ ہمارے پاس نہیں آتے کہ ہم سے باتیں کریں۔ آپ ہمارے پاس نہیں آتے کہ ہم سے باتیں کریں، تو دیکھو، آنا یہ سبب ہے کس کا؟ باتیں کرنے کا۔ اور هل عندكم ماء فأشربه، کیا آپ کے پاس پانی ہے کہ میں اس کو پی لیتا؟ تو پانی کا ہونا یہ سبب ہے کس کا؟ پینے کا۔ اور ليت لي مالاً فأنفقه، اور کاش کہ میرے پاس مال ہوتا تو میں اس کو خرچ کرتا، تو دیکھو، مال کا ہونا یہ سبب ہے خرچ کرنے کا۔ اور ألا تنزل بنا فتصيب خيراً، کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ پھر آپ کو خیر پہنچتی؟ تو یہاں آنا اور تشریف لانا یہ سبب ہے کس کا؟ خیر کے پہنچنے کا۔ تو دیکھو، سبب جیسے اس میں ہے، اوپر والوں میں بھی سبب تھا۔ لیکن وہاں سبب کو نہیں دیکھنا، وہاں زمانہ ایک ہونا چاہیے۔ اور یہاں اول کو کیا ہونا چاہیے ثانی کے لیے؟ سبب۔ اسی لیے دوسری مثال میں نے بدل دی۔ وہاں تھا لا تأكل السمك وتَشرَبَ اللَّبَنَ، ان دونوں کا زمانہ ایک تھا۔ لہٰذا وہاں واؤ تو لا سکتے ہیں اور وہاں ان مقدر ہوگا۔ لیکن یہاں وہ مثال نہیں بنتی تھی، تو میں نے مثال بدل دی: لا تشتمني فأضربك۔ اب دیکھو گالی دینا یہ سبب ہے پٹائی کرنے کا، تو یہاں ایسی مثال ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو باقی پانچ مثالیں وہی آپ یاد کر لیں، واؤ کی جگہ فاء لے آئیں۔ اور وہاں پر کیا ہم لائے تھے؟ واؤ جمع کے لیے تھا، تو اجتمع يجتمع یہ والا فعل ہم لے کر آ رہے تھے معنی بیان کرتے ہوئے۔ اور یہاں کان يكون کو لے آئیں، بس۔ کیسے؟ زُرني فأكرمك، کیسے کہیں گے؟ زُرني، ليكون—امر کا صیغہ لائیں گے نا، اسی کے مطابق لائیں گے—ليكن منك زيارة وإكرام مني۔ لیکن، ہونا چاہیے۔ چاہیے کہ ہو آپ کی طرف سے زیارت، پھر اکرام میری طرف سے۔ اور آگے کیا تھا؟ لا تشتمني فأضربك، أي لا يكن منك شتم فضرب مني۔ لا يكن منك شتم فضرب مني، آپ کی طرف سے گالی، پھر میری طرف سے پٹائی نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی نہ آپ مجھے گالی دیں اور نہ میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ اور آگے تھا کہ ما تأتينا فتحدثنا، أي لا يكن منك إتيان فتحديثك إيانا، کہ آپ کی طرف سے آنا اور ہم سے بات کرنا نہیں ہے۔ آپ کی طرف سے آنا اور ہماری طرف سے بات کرنا نہیں ہے۔ ہاں، ما تأتينا فتحدثنا، لا يكن کہہ دیں یا ليس کہہ دیں۔ ليس منك إتيان فتحديثك إيانا، یا یوں کہیں: لا يكن منك إتيان فتحديثك إيانا، کہ آپ کی طرف سے آنا اور پھر آپ کا ہم سے باتیں کرنا نہیں ہے، نہیں ہے۔ اور آگے تھا: هل عندكم ماء فأشربه۔ تو هل يكون منكم ماء فشرب مني؟ هل يكون منكم ماء فشرب مني؟ کیا آپ کی طرف سے پانی اور میری طرف سے پینا یہ دونوں ہو سکتے ہیں؟ اور آگے؟ ليت لي مالاً فأنفقه۔ یہاں: ليت لي ثبوت مال فإِنفاق مني۔ ليت لي ثبوت مال فإِنفاق مني، کاش کہ میری طرف سے مال کا ہونا اور خرچ کرنا ہوتا۔ اور آخری مثال تھی: ألا تنزل بنا فتصيب خيراً۔ ألا يكون منك نزول وإصابة خير مني؟ ألا يكون منك نزول وإصابة خير مني؟ یعنی آپ کی طرف سے آنا اور پھر میری طرف سے خیر کا پہنچنا نہیں ہو سکتے؟ کیا یہ دونوں چیزیں نہیں ہو سکتیں؟ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح؟ اچھا، بس آپ اتنا یاد رکھیں۔ یہ مثالیں ذرا یاد کر لینا۔ اور اتنا یاد کر لینا کہ واؤ کے بعد ان مقدر ہو، دو شرطیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دونوں کا زمانہ ایک ہو اور دوسرا یہ کہ وہ واؤ چھ چیزوں کے جواب میں ہو۔ اسی طرح فاء کے بعد ان مقدر ہوگا، اس کی بھی دو شرطیں ہیں: کہ ماقبل مابعد کے لیے سبب ہو اور وہ فاء کتنی چیزوں کے جواب میں ہو؟ چھ چیزوں کے جواب میں۔ اور اس کی مثالیں بھی یاد کر لیں۔ باقی یہ جو میں نے عبارت کا معنی کیا عربی میں، ليجتمع وغیرہ—ليجتمع منك زيارة وإكرام مني وغیرہ—یہ یاد نہ بھی ہوں کوئی حرج نہیں، اس پر پریشان نہیں ہونا۔ بس مثالیں آپ کو یاد ہونی چاہئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے، اب عبارت دیکھ لیجیے بھئی۔ وواو الصرف، اور واؤ صرف جو ہے، اس کے بعد ان مقدر ہوگا۔ اس کی تفصیل میں نے بیان کر دی۔ ولام كَي، اور لامِ کَی کے بعد بھی ان مقدر ہوگا۔ بھئی، یہ لامِ کَی؟ وہی مثال، کَی کی مثال کیا گزری تھی؟ أسلمتُ كَي أدخلَ الجنةَ۔ یہاں کَی کو اٹھائیں اور لام رکھ دیں: أسلمتُ لأدخلَ الجنةَ۔ أسلمتُ لأدخلَ الجنةَ، یہ لام کَی کا معنی ادا کر رہا ہے۔ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ لامِ کَی۔ کَی کس لیے آتا تھا؟ سبب بیان کرنے کے لیے۔ یہ لام بھی کیا کرتا ہے؟ سبب بیان کرتا ہے۔ اور اس کے بعد ان مقدر ہوتا ہے۔ أسلمتُ، میں اسلام لایا لأدخلَ الجنةَ تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اور میں نے بتلایا کہ اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، اور ثانی سبب ہے کس کے لیے؟ اول کے لیے۔ تو پھر، تو میں نے فرق بتلایا تھا کہ ایک ہے ذہن میں اور ایک ہے خارج میں۔ ذہن میں، ذہن میں یہ ثانی سبب ہے کس کے لیے؟ اول کے لیے۔ کوئی شخص دخولِ جنت چاہتا ہے، تو وہ اسلام لے کر آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دخولِ جنت سبب بن گیا کس کا؟ اسلام کے لانے کا۔ اور خارج میں، خارج میں اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے۔ اسلام لے کر آئے گا تو پھر آگے جنت میں بھی وہ داخل ہو جائے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ اور آگے ہے: وفاءٍ كائنةٍ في جوابِ شَشْ چِیز است۔ اور وہ، اور فاء کہ جو چھ چیزوں کے جواب میں ہو: امر، نہی، نفی، استفہام، تمنا، اور عرض۔ وأمثلتها مشهورة، اور ان کی مثالیں مشہور ہیں۔ امثلہ جمع ہے مثال کی۔ وأمثلتها مشهورة، اور ان کی مثالیں مشہور ہیں۔ میں نے مثالیں آپ کو لکھوا دیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
56 approved lectures · 28 of 56