Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی، دیکھیے بھئی کتاب پر: وَاِنْ بَعْدَ اٰنْ لَا نَكِرَه مُفْرَد بَاشَدْ مُكَرَّر بَا نَكِرَه دِیگَرْ، دَرُ وُ پَنْجْ وَجَه رَوَا اَسْتْ، چُوں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ، وَلَا حَوْلٌ وَلَا قُوَّۃٌ اِلَّا بِاللہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃٌ اِلَّا بِاللہِ، وَلَا حَوْلٌ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃً اِلَّا بِاللہِ۔ گزشتہ سبق میں ہم پڑھ رہے تھے وہ حروف جو عمل کرتے ہیں اسماء کے اندر، اسم کے اندر۔ اور انہوں نے بتلایا تھا اپ کو کہ وہ پانچ قسم کے حروف ہیں جو اسم میں عمل کرتے ہیں۔ نمبر ایک حروفِ جارّہ۔ یہ سترہ ہیں اور اسماء پر داخل ہوتے ہیں اور ان کو جر دیتے ہیں۔ دوسری قسم جو پڑھی آپ نے وہ حروفِ مشبہ بالفعل ہیں۔ اور حروفِ مشبہ بالفعل جو ہیں وہ چھ حروف ہیں: اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ اور لَعَلَّ۔ یہ دو اسموں پر داخل ہوتے ہیں۔ پہلے کو یہ نصب دیتے ہیں اور دوسرے کو رفع۔ اور پہلے کو ان کا اسم کہتے ہیں اور دوسرے کو ان کی خبر۔ جیسے اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔ تو زَیْدًا ہوا اِنَّ کا اسم اور قَائِمٌ ہوئی اِنَّ کی خبر۔ اس کے بعد تیسری قسم کل ہم نے پڑھی تھی کہ مَا اور لَا مشابہ بِلَیْسَ۔ وہ مَا اور لَا جو مشابہ ہیں لَیْسَ کے ساتھ۔ اور یہ لَیْسَ جیسا عمل کرتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ لَیْسَ جو ہے یہ افعالِ ناقصہ میں سے ہے اور یہ اِنَّ، اَنَّ وغیرہ کے برعکس عمل کرتا ہے۔ اِنَّ اپنے اسم کو نصب دیتے تھے اور خبر کو رفع۔ اور یہ اس کا برعکس کرتے ہیں یعنی اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبر کو نصب۔ یہ افعالِ ناقصہ۔ اور افعالِ ناقصہ جیسے کَانَ، صَارَ وغیرہ، انہی میں سے ایک لَیْسَ ہے۔ یہ بھی چونکہ افعالِ ناقصہ میں سے ہے، یہ اپنے اسم کو رفع دیتا ہے اور خبر کو نصب۔ اور نیز یہ کلام کے اندر نفی پیدا کر دیتا ہے۔ زَیْدٌ قَائِمٌ کا معنی ہے زید کھڑا ہے، لیکن لَیْسَ زَیْدٌ قَائِمًا، اس کا معنی ہے زید کھڑا نہیں ہے۔ تو اسی طرح یہ جو مَا اور لَا ہیں، یہ بھی لَیْسَ کے مشابہ ہیں۔ یعنی جیسے لَیْسَ دو اسموں پر داخل ہوتا تھا، یہ بھی دو اسموں پر داخل ہوتے ہیں۔ اور پہلے کو یہ رفع دیتے ہیں اور دوسرے کو نصب، جیسے مَا زَیْدٌ قَائِمًا۔ اور پھر اس زَیْدٌ کو مَا کا اسم کہتے ہیں اور قَائِمًا کو مَا کی خبر کہتے ہیں۔ تو یہ مشابہ ہیں لَیْسَ کی طرح، جیسے وہ دو اسموں پر داخل ہوتا ہے، یہ بھی دو اسموں پر داخل ہوتا ہے۔ اور جیسے لَیْسَ کلام کے اندر نفی پیدا کر دیتا ہے، یہ بھی کلام میں نفی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس لیے اس مَا اور لَا کو مشابہ بِلَیْسَ کہتے ہیں۔ اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ مَا معرفہ اور نکرہ دونوں پر داخل ہو سکتا ہے، جبکہ لَا جو ہے وہ صرف نکرہ پر داخل ہوگا۔ یہ جو لَا مشابہ بِلَیْسَ ہے، یہ صرف کس پر داخل ہوگا؟ نکرہ پر۔ اور وہ جو مَا جو مشابہ بِلَیْسَ ہے، وہ معرفہ پر بھی داخل ہو سکتا ہے اور نکرہ پر بھی۔ یعنی اس کا اسم جو ہے، وہ معرفہ بھی ہو سکتا ہے اور نکرہ بھی۔ اس کے بعد اگلی بحث آئی تھی لائے نفی جنس کے بارے میں۔ لائے نفی جنس بھی دو اسموں پر داخل ہوتا ہے۔ اور اس کا اسم، وہ کبھی مبنی علی الفتح ہوتا ہے، کبھی اس کا اسم منصوب ہوتا ہے، اور کبھی یہ ملغٰی عن العمل ہوتا ہے یعنی عمل نہیں کرتا۔ تو اس کا اسم کبھی کیا ہوگا؟ مبنی علی الفتح۔ کبھی کیا ہوگا؟ منصوب۔ اور کبھی یہ ملغٰی عن العمل ہوگا۔ یہ کب ہوگا اور کس طرح ہوگا؟ میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ لائے نفی جنس کے اسم میں اگر تین شرطیں پوری ہیں تو وہ مبنی علی الفتح ہوگا۔ پہلی شرط یہ کہ وہ اسم لَا کے ساتھ جڑا ہوا ہو، درمیان میں کوئی اور لفظ نہ ہو۔ دوسری شرط کہ وہ اسم جو ہے وہ نکرہ ہو، معرفہ نہ ہو۔ تیسری شرط کہ وہ اسم جو ہے وہ مفرد ہو۔ کیا ہو؟ مفرد ہو۔ مفرد کا کیا معنی؟ مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو مفرد کا لفظ ہے نحو کے اندر، چار چیزوں کے مقابلے میں آتا ہے۔ تو جہاں کہیں بھی مفرد آ جائے، آپ نے ایک ہی معنی نہیں کرنا، بلکہ موقع محل دیکھنا ہے کہ یہاں یہ مفرد کس کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ کبھی مفرد جو ہے مرکب کے مقابلے میں آتا ہے، جب کہہ دیا جائے یہ لفظ مفرد ہے، تو پتہ چل گیا کہ یہ مرکب نہیں ہے۔ جیسے میں کہوں: زید مفرد ہے، اور اَحَدَ عَشَرَ یہ مرکب ہے۔ یا میں کہوں کہ رَجُلَانِ یہ مفرد ہے، اور اَحَدَ عَشَرَ یہ مرکب ہے۔ تو رَجُلَانِ میں نے کہا۔ آپ کے ذہن میں آئے گا یہ تو تثنیہ ہے، مفرد نہیں ہے۔ جواب میں نے بتلا دیا کہ یہاں مفرد مرکب کے مقابلے میں آ رہا ہے، تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں نہیں ہے۔ اور مفرد کا معنی ایک کلمہ، اور رَجُلَانِ یہ بھی کیا ہے؟ ایک کلمہ ہے۔ جبکہ اَحَدَ عَشَرَ، یہ کتنے کلمے ملے ہیں؟ دو کلمے، تو یہ مرکب ہے۔ تو کبھی مفرد کا لفظ مرکب کے مقابلے میں آتا ہے۔ کبھی مفرد کا لفظ جملے کے مقابلے میں آتا ہے۔ جب ایک لفظ کے، کچھ لفظ ہیں اور ان کے بارے میں کہہ دیا جائے یہ مفرد ہیں، تو معلوم ہوا یہ جملہ نہیں ہیں۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: اَلَّذِیْ ضَرَبَكَ، وہ شخص جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، میں کہتا ہوں یہ مفرد ہے۔ کیا معنی؟ کہ جملہ نہیں ہے۔ یعنی اس میں بات پوری نہیں ہے، جملے میں تو بات پوری ہوتی ہے۔ اب اَلَّذِیْ ضَرَبَكَ، دیکھو چار لفظ آ گئے: اَلَّذِیْ بھی، ضَرَبَ اور اس کے اندر ھُوَ ضمیر، اور آگے كَ ضمیر۔ تو چار لفظ آ گئے لیکن پھر بھی میں اس کو کیا کہہ رہا ہوں؟ مفرد۔ کیونکہ یہاں مفرد کس کے مقابلے میں ہے؟ جملے کے مقابلے میں ہے۔ اگر یہ مرکب کے مقابلے میں ہوتا، پھر میرا یہ کہنا صحیح نہیں تھا، کیونکہ مرکب کس کو کہتے ہیں جس میں دو یا دو سے زیادہ الفاظ ہوں، اور اَلَّذِیْ ضَرَبَكَ اس لحاظ سے تو یہ مفرد نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مفرد کبھی مرکب کے مقابلے میں آتا ہے، کبھی جملے کے مقابلے میں، اور کبھی تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں۔ جب ایک لفظ کے بارے میں کہہ دیا جائے یہ مفرد ہے، تو سمجھ جائیں کہ یہ تثنیہ اور جمع نہیں ہے۔ جیسے رَجُلَانِ، رَجُلَانِ، اب پہلے میں نے اس کو کیا کہا تھا؟ مفرد۔ لیکن وہ کس کے مقابلے میں تھا؟ وہ مرکب کے مقابلے میں میں نے کہا تھا۔ اور اب رَجُلَانِ، اب میں اس کو مفرد نہیں کہہ سکتا جب یہ تثنیہ اور جمع کی جب میں بات کر رہا ہوں، کیونکہ یہ خود کیا ہے؟ تثنیہ ہے، تو یہ مفرد نہیں ہے بلکہ تثنیہ ہے۔ مُسْلِمُوْنَ یہ مفرد نہیں ہے بلکہ جمع ہے۔ ہاں، مُسْلِمٌ یہ مفرد ہے، رَجُلٌ یہ مفرد ہے۔ تو کبھی مفرد تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں آتا ہے۔ جب مفرد کہہ دیا جائے تو معلوم ہوا یہ ایسا لفظ ہے جس کا ایک ہی فرد ہے، دو یا تین افراد پر یہ دلالت نہیں کر رہا۔ اور کبھی کبھار مفرد جو ہے، مضاف اور مشابہ مضاف کے مقابلے میں آتا ہے۔ مضاف تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک چیز کی اضافت کر دی جائے دوسری چیز کی طرف، یعنی نسبت کر دی جائے۔ جیسے غُلَامُ زَیْدٍ، کیا ترجمہ؟ زید کا غلام۔ دیکھو میں نے غلام کی نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف، کہ یہ غلام خالد یا بکر کا نہیں ہے بلکہ کس کا ہے؟ زید کا۔ تو اس کو عربی میں نسبت کو کہتے ہیں اضافت۔ تو یہ جو مضاف ہوتا ہے، اس کی اضافت ہوتی ہے، نسبت ہوتی ہے کس کی طرف؟ مضاف الیہ کی طرف۔ اور مضاف الیہ کے بغیر اس کا معنی پورا نہیں ہوتا۔ مثلاً میرے سامنے ایک غلام کھڑا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ زید کا غلام ہے، تو مجھے کیا کہنا پڑے گا؟ کہ ھٰذَا غُلَامُ زَیْدٍ، زید کی طرف نسبت کرنا پڑے گی۔ اور اگر میں زید کے لفظ کو ختم کر دوں اور کیا کہوں: ھٰذَا غُلَامٌ، اب بات پوری ہوئی؟ اتنا تو پتہ چل گیا یہ غلام ہے، لیکن میں تو صرف یہ نہیں بتانا چاہتا کہ یہ غلام ہے، میں تو کیا بتانا چاہتا ہوں؟ زید کا غلام ہے۔ جب زید کا غلام بتانا چاہتا ہوں تو نسبت کرنا پڑے گی، مضاف الیہ کو لانا پڑے گا، اس کے بغیر بات پوری نہیں ہے۔ تو غُلَامُ زَیْدٍ کہنا پڑے گا۔ تو مضاف کس کا محتاج ہوتا ہے؟ مضاف الیہ کا، اس کے بغیر اس کا معنی پورا نہیں۔ اسی طرح ایک مشابہ مضاف ہوتا ہے۔ مشابہ مضاف وہ اسم جس کا معنی پورا نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسرا اسم نہ ملایا جائے۔ مثلاً میں نے کل مثال ذکر کی تھی: طَالِعٌ۔ طَالِعٌ کا معنی ہے طلوع ہونے والا بھی، سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ اور اسی کا معنی طَلَعَ کا معنی اوپر چڑھنے کے بھی ہیں، تو طَالِعٌ کا معنی ہوا اوپر چڑھنے والا۔ طَالِعٌ، ط، ظ بھئی، ط کے ساتھ ہے یہ: طَالِعٌ۔ اب طَالِعٌ کا معنی ہے اوپر چڑھنے والا، دیکھو اس کا معنی پورا نہیں۔ بھئی اوپر چڑھنے والا کس چیز پر؟ درخت پر چڑھنے والا یا پہاڑ پر چڑھنے والا یا چھت پر چڑھنے والا؟ کوئی معنی پورا اس کا نہیں، تو اس کے لیے آگے ایک مفعول چاہیے جس سے اس کا معنی سمجھ میں آ جائے۔ مثلاً آپ کہہ دیتے ہیں: طَالِعًا جَبَلًا، کس پر چڑھنے والا؟ پہاڑ پر۔ یہ جَبَلًا منصوب ہے، مفعول بہ بنے گا طَالِعًا کے لیے۔ تو طَالِعٌ جو ہے وہ جبل کی طرف مضاف نہیں ہو رہا، ان میں اضافت نہیں ہے۔ ہاں، طَالِعٌ کا معنی جبل کے بغیر پورا نہیں ہو رہا یہاں پر، تو طَالِعٌ کو مشابہ مضاف کہیں گے۔ جیسے مضاف محتاج تھا کس کا؟ مضاف الیہ کا، کس چیز میں؟ اپنا معنی پورا بیان کرنے میں۔ مضاف محتاج تھا کس کا؟ مضاف الیہ کا، کس چیز میں؟ اپنا معنی پورا بیان کرنے میں۔ اسی طرح مشابہ مضاف بھی وہ ایسا اسم جو محتاج ہوتا ہے کسی دوسرے اسم کا اپنا معنی پورا ادا کرنے کے لیے۔ غُلَامُ زَیْدٍ، زید کا غلام، جب آپ زید کا غلام بتلانا چاہتے ہیں تو غلام کے لیے مضاف الیہ زید کو لانا پڑے گا۔ تو اسی طرح جب آپ پہاڑ پر چڑھنے والا بتلانا چاہتے ہیں تو طَالِعٌ کے لیے جبل کو ساتھ ملانا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو طَالِعًا جَبَلًا، یہ طَالِعٌ کیا ہے؟ مشابہ مضاف ہے۔ اچھا، بات یہ چل رہی تھی کہ لائے نفی جنس کا اسم جو ہے، وہ کبھی مبنی علی الفتح ہوتا ہے، اور اس کے لیے تین شرطیں ہیں۔ پہلی شرط کیا؟ کہ وہ لَا کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ دوسری شرط یہ کہ وہ اسم نکرہ ہو۔ اور تیسری شرط کہ وہ مفرد ہو، یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو۔ جب یہ تینوں شرطیں پوری ہوں گی تو لائے نفی جنس کا اسم مبنی علی الفتح ہوگا، جیسے لَا رَجُلَ فِی الدَّارِ، کوئی مرد اس گھر میں نہیں ہے۔ لَا رَجُلَ، تو یہ لَا رَجُلَ کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ اس میں تینوں شرطیں پوری۔ پہلی شرط کیا؟ یہ ساتھ جڑا ہوا ہے، دیکھو لَا رَجُلَ، رَجُلُ لَا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دوسری شرط بھی پوری کہ یہ نکرہ ہے۔ اور تیسری شرط بھی پوری کہ یہ مفرد ہے، یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہیں ہے۔ اور اگر تیسری شرط پوری نہ ہوئی، یعنی لَا کا اسم نکرہ بھی ہوا، ساتھ بھی جڑا ہوا، لیکن مضاف یا مشابہ مضاف ہے، تو پھر وہ منصوب ہوگا، اس پر نصب پڑھیں گے، جیسے لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ فِی الدَّارِ۔ لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ فِی الدَّارِ، کسی آدمی کا کوئی غلام خوش مزاج اس گھر میں نہیں ہے۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ دیکھو یہ ظَرِیْفٌ، یہ ہے خبرِ اول، اور فِی الدَّارِ یہ کیا ہے؟ خبرِ ثانی۔ تو یہاں دو خبریں لے کر آئے، حالانکہ ایک خبر بھی کافی تھی، لیکن ایک خبر صرف ظَرِیْفٌ کو لاتے تو اس میں جھوٹ کا احتمال تھا کہ لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ، کسی آدمی کا کوئی غلام خوش مزاج نہیں ہے، حالانکہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پوری دنیا میں کسی آدمی کا کوئی بھی غلام خوش مزاج نہ ہو۔ تو جھوٹ لازم آتا تھا، اس لیے فِی الدَّارِ کی دوسری خبر بھی لے آئے کہ اس گھر میں، کسی خاص گھر کی طرف اشارہ کر دیا، اس گھر میں کسی آدمی کا کوئی غلام خوش مزاج نہیں ہے۔ اور یہ تو آسانی سے ممکن ہے، کوئی بھی گھر ہو اور اس کے اندر کسی آدمی کا کوئی خوش مزاج غلام نہ ہو، یہ تو ہو سکتا ہے۔ تو دیکھو، ہمارے اسلاف دیکھو بھئی، کلام میں ایسا جملہ بھی پسند نہیں کرتے تھے جس سے جھوٹ لازم آئے۔ اور مسلمان تو جھوٹ بولنا جانتا ہی نہیں تھا بھئی۔ اور آج جھوٹ کتنا عام ہو گیا! کسی کو پروا ہی نہیں بھئی، پروا ہی نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے بھئی۔ مسلمان تو جانتا ہی نہیں تھا کہ جھوٹ کہتے کس کو ہیں۔ یہ اسلام جو پوری دنیا میں پھیلا ہے، یہ مسلمانوں کے کردار سے پھیلا ہے، جنگوں سے نہیں پھیلا۔ جنگیں تو تھوڑی سی ہوئیں، بعض علاقوں میں ہوئیں، بعض میں نہیں ہوئیں، لیکن جہاں مسلمان جاتا تھا، تجارت کے لیے جاتا یا کسی کام کے لیے جاتا، وہاں کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے کہ یہ آدمی تو جھوٹ اور دھوکہ جانتا ہی نہیں ہے! اپنا نقصان چاہے ہو جائے، سارا مال برباد ہو جائے، لیکن جھوٹ گوارا نہیں کرتا۔ تو اس کو، ان کو دیکھ دیکھ کر لوگ مسلمان ہو جایا کرتے تھے بھئی۔ یہ انڈونیشیا اور ملائیشیا، یہ ملک ہیں، اور وہاں کبھی فوجیں مسلمانوں کی گئیں ہی نہیں۔ باقی جگہ تو چلو کہیں نہ کہیں کبھی جنگیں ہوئیں، لیکن ان جگہوں پر تو کبھی جنگ ہوئی ہی نہیں مسلمانوں کی، لیکن پھر بھی یہ آج مسلمان ممالک ہیں۔ کیوں؟ تاجر جاتے تھے اور تاجروں کو دیکھ کر ہی لوگ مسلمان ہو جاتے تھے بھئی۔ تاجر کے مال اگر کوئی مال میں خرابی آ گئی تو وہ ہر خریدار کو بتاتا تھا: میرے اس مال میں یہ خرابی ہے، لینا چاہیں یا نہ لینا چاہیں آپ کی مرضی ہے بھئی۔ وہ لوگ حیران ہو جاتے کہ مال بیچ رہا ہے اور خرابی خود ہی ہمیں بتا رہا ہے! کبھی ایسا ہوتا خرابی زیادہ ہوتی تو وہ سارا اس کا مال ضائع ہو جاتا، لیکن وہ کسی کو دھوکے کے ذریعے ایک چیز بھی بیچنا گوارا نہیں کرتا تھا بھئی۔ تو اس طرح وہ لوگ دیکھتے گئے اور مسلمان ہوتے چلے گئے بھئی۔ تو سچ کو اپناؤ بھئی، سچ انسان کو بڑا آدمی بنا دیتا ہے، اور جھوٹے آدمی کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ وہ ایک جگہ، دو جگہ، چار جگہ، دس جگہ جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچاتا تو چلا جائے گا، لیکن آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل جاتا ہے اور کوئی اس پر اعتبار نہیں کرتا۔ اور آج کل ہمارے ہاں جھوٹ کتنا عام ہو گیا! چھ سات سال کا بچہ ہو وہ بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اور پہلے تو کبھی مسلمانوں میں تصور ہی نہیں تھا کہ جھوٹ بھی کوئی چیز ہے کہ نہیں۔ مسلمان جب ایک شخص، مسلمان کسی دوسرے کو کوئی بات کہہ دیتا تھا، تو دوسرا آنکھیں بند کر کے اس پر اعتماد کر لیتا، اس کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ وہ جانتے تھے مسلمان جھوٹ بول ہی نہیں سکتا بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے بھئی، اور جو ہمارے اسلاف کی صفات تھیں، اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ اچھا، تو لائے نفی جنس کا اسم، اس میں دو شرطیں پوریں لیکن تیسری شرط پوری نہیں تو وہ منصوب ہوگا، جیسے لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ فِی الدَّارِ۔ اب غُلَامَ رَجُلٍ، یہ غُلَامَ کیا ہے؟ منصوب ہے۔ غُلَامَ رَجُلٍ، غُلَامَ مضاف، رَجُلٍ مضاف الیہ۔ تو دیکھو، لائے نفی جنس کا اسم لَا کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور نکرہ ہے، کیونکہ نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو جائے تو بھی وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ اور نیز یہ مضاف بھی ہے۔ تیسری شرط، ہم نے تو کہا تھا تیسری شرط کیا تھی کہ مفرد ہونا چاہیے۔ تیسری شرط پوری نہیں ہے، یہ مفرد نہیں ہے بلکہ مضاف ہے، تو اس صورت میں یہ منصوب ہے۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ لَا رَجُلَ اس کو آپ نے مبنی کہا اور لَا غُلَامَ رَجُلٍ اس کو آپ نے منصوب کہا، اس کی کیا وجہ؟ میں نے وجہ ذکر کی تھی کہ ایک لفظ ہے، اس پر تنوین آتی ہے، پھر تنوین نہ آئے تو اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو اس پر الف لام آیا ہوگا یا وہ مضاف بن رہا ہوگا۔ تو الف لام بھی مانعِ تنوین، اور اضافت بھی مانعِ تنوین۔ جیسے غلام: غُلَامٌ، غُلَامًا، غُلَامٍ۔ دیکھو اس پر تینوں طرح کے اعراب... آتے ہیں، لیکن لا غلام رجل یہاں اس پر تنوین نہیں آ رہی۔ معلوم ہوا دو چیزوں میں سے ایک ہو چکی ہے، یا اس پر کیا آیا ہے؟ الف لام، اور الف لام تو یہاں نہیں۔ یا اس کی اضافت ہو رہی ہے اور واقعی یہاں پر غلام رجل غلام کی کیا ہو رہی ہے؟ اضافت۔ تو ایک اسم جس پر تنوین آتی ہے اور پھر اس پر کسی جگہ تنوین نہ آئے تو دو وجہ ہو سکتی ہیں؛ یا تو اس پر کیا داخل ہے؟ الف لام، یا اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ تو اضافت اور الف لام، یہ دو چیزیں مانع تنوین ہیں۔ کسی لفظ پر تنوین آتی ہو اور اس پر ان دو چیزوں میں سے کوئی ایک آ جائے تو اس سے تنوین ختم ہو جائے گی۔ جیسے رجل، اس پر تنوین آتی ہے لیکن اس پر اگر الف لام لے آئیں تو الرجل، اب تنوین نہیں آئے گی کیونکہ الف لام جو ہے وہ مانع تنوین ہے۔ تو مانع تنوین کتنی چیزیں؟ دو، یا الف لام یا اضافت۔ یہ کس اسم میں؟ جس پر تنوین آتی ہو۔ بھئی بعض اسم ہیں ان پر تو تنوین آتی ہی نہیں، جیسے غیر منصرف ہے اس پر تنوین آتی ہی نہیں، اس کی بات میں نہیں کر رہا۔ تو جن پر تنوین آتی ہو ان پر الف لام آئے یا ان کی اضافت ہو جائے تو تنوین ساقط ہو جائے گی۔ اور لا رجل فی الدار، جو پہلی مثال ہم نے پڑھی، لا رجل فی الدار، اس میں دیکھو رجل پر تنوین نہیں آ رہی اور مانع تنوین بھی کوئی چیز نہیں، الف لام بھی اس پر داخل نہیں اور اس کے آگے کوئی مضاف الیہ بھی نہیں تو یہ مضاف بھی نہیں بن رہا۔ پھر بھی اس پر تنوین نہیں آ رہی، اس سے پتہ چلا کہ لا رجل کیا بن چکا ہے؟ مبنی بن چکا ہے۔ کیا بن چکا ہے؟ مانع تنوین کوئی چیز نہیں اور تنوین نہیں آ رہی۔ تو یہ مبنی بن چکا ہے، اسی لیے لا رجل فی الدار، یہ رجل کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ اور لا غلام رجل ظریف فی الدار، یہ غلام رجل کیا ہے؟ منصوب ہے، یہ مبنی نہیں ہے، یہ معرب ہے۔ اس پر تنوین اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ اس کی، کیونکہ یہ مضاف ہے بھئی، مضاف۔ اور اگر پہلی دو شرطوں میں سے کوئی شرط پوری نہ ہو، یعنی لا کا اسم ساتھ جڑا ہوا نہ ہو یا لا کا اسم نکرہ نہ ہو بلکہ معرفہ ہو، تو اس صورت میں یاد رکھیے لا ملغیٰ عن العمل ہوگا، یہ عمل نہیں کرے گا۔ اور اس صورت میں تکرار لا بھی ہوگا اور اس لا کے ساتھ ایک اور اسم کا بھی تکرار ہوگا۔ جیسے لا زید فی الدار ولا عمرو، دیکھو لا زید، لا کے بعد معرفہ آیا تو لا نے عمل نہیں کیا۔ زید پہلے مرفوع تھا اب بھی کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ اور اس کے بعد ایک اور لا اور ایک اور معرفہ عمرو لانا پڑا۔ لا زید فی الدار ولا عمرو، یہ کون سی شرط پوری نہیں؟ دوسری شرط، دوسری شرط کیا تھی؟ نکرہ ہو۔ اگر پہلی شرط پوری نہ ہو، ساتھ جڑا ہوا نہ ہو، جیسے لا فی الدار رجل، تو یہاں ابھی ایک اور لا بھی لانا پڑے گا اور ایک اور اسم بھی، لا فی الدار رجل ولا امرأة۔ اور جب یہ لا ملغیٰ عن العمل ہو تو پھر یہ زید اور عمرو اس کے اندر عامل کون ہے؟ تو انہوں نے بتلایا تھا کہ ان کے اندر اب عامل ابتدا ہے۔ لا رجل فی الدار، اس رجل میں عامل کون؟ لا، لا نفی جنس۔ لا غلام رجل ظریف فی الدار، اس غلام رجل میں عامل کون؟ کس نے نصب دیا؟ یہ لا نے۔ اور لیکن لا زید فی الدار ولا عمرو، اس زید اور عمرو میں لا عامل نہیں ہے۔ یہ مرفوع ہیں، مبتدا ہیں اور فی الدار جو ہے ان کی خبر ہے، اور مبتدا اور خبر میں عامل ابتدا ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ اور ابتدا کسے کہتے ہیں؟ ابتدا عامل معنوی ہے۔ ابتدا کیا ہے؟ عامل معنوی ہے۔ اور یہ صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہوتی ہے ابتدا۔ توجہ ہے؟ انہوں نے بتایا تھا نا کہ عامل یا لفظی ہوگا یا معنوی۔ یہ جو معنوی عامل ہے اسم کے اندر، یہ صرف مبتدا اور خبر، یہ دو ہیں، ان کے اندر عامل معنوی ہے اور وہ عامل کیا؟ ابتدا، اس کا نام کیا ہے؟ ابتدا ہے۔ فعل مضارع بھی مرفوع آتا ہے لیکن اس کے اندر عامل کیا ہے؟ اس کا ناصب اور جازم سے خالی ہونا۔ توجہ ہے؟ فعل مضارع پر بھی کیا آتا ہے؟ رفع، اور رفع کب آتا ہے؟ جب عامل ناصب اور عامل جازم سے وہ خالی ہو۔ تو عامل معنوی صرف دو ہیں یاد رکھنا، ایک ابتدا ہے اور ابتدا کس کس میں عامل؟ مبتدا اور خبر میں، بس اور کسی چیز میں عامل نہیں۔ مبتدا کے بارے میں کبھی آپ سے کوئی پوچھے اس میں عامل کون؟ تو کہنا ابتدا۔ خبر کے بارے میں کوئی پوچھے اس میں عامل کون؟ تو آپ کیا کہنا؟ ابتدا۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں بھی کوئی رفع، نصب، جر جو کچھ آئے گا ان میں ابتدا عامل نہیں ہوگی، ابتدا صرف ان دو میں عامل۔ تو اسم کے اندر عامل معنوی صرف کیا ہے؟ ابتدا، اور یہ کس کس میں عامل بنتی ہے؟ مبتدا میں اور خبر میں۔ اور فعل مضارع کے اندر عامل معنوی کیا ہے، کس صورت میں ہے؟ جب فعل مضارع کیا ہو؟ مرفوع ہو۔ اور وہاں کیا ہے عامل معنوی؟ کہ وہ عامل ناصب سے اور عامل جازم سے خالی ہے۔ یہ ہے عامل، تو اب رفع آئے گا۔ توجہ ہے؟ یہ یاد رکھنا بھئی، طلبہ پریشان ہوتے ہیں کہ یہ ابتدا کیا چیز ہے۔ تو ابتدا صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے، اور ابتدا کہتے کسے ہیں؟ ادھر دیکھو، کس کس میں عامل ہے ابتدا؟ مبتدا اور اس کی خبر میں۔ انّ کی بھی خبر آئے گی اس میں ابتدا عامل نہیں، اس میں انّ عامل ہے۔ افعال ناقصہ کی بھی خبر آئے گی لیکن اس میں ابتدا عامل نہیں بلکہ افعال ناقصہ عامل ہیں۔ ما اور لا مشابہ بلیسَ ان کی بھی خبر آئے گی لیکن ان کی خبر میں بھی ابتدا عامل نہیں بلکہ ما اور لا مشابہ بلیسَ عامل ہیں۔ لا نفی جنس کی بھی خبر آئے گی لیکن لا نفی جنس کی خبر میں بھی ابتدا عامل نہیں بلکہ کون عامل ہے؟ لا نفی جنس خود عامل ہے۔ تو ابتدا صرف دو چیزوں میں عامل ہے، کس کس میں؟ مبتدا اور خبر۔ تو اب تعریف خود ہی بنا لیں، ابتدا کسے کہتے ہیں؟ دیکھو مبتدا اور خبر، مبتدا مسند الیہ ہے اور خبر مسند ہے۔ اب تعریف خود بنا لو کہ ابتدا کسے کہتے ہیں؟ کوئی اسم عامل لفظی سے خالی ہو اس طور پر کہ وہ مسند الیہ ہو یا مسند ہو۔ یا یوں کہو، کوئی مسند یا مسند الیہ جب وہ عامل لفظی سے خالی ہو تو اس میں عامل ابتدا ہوتی ہے۔ یا یوں کہو، کوئی مسند یا مسند الیہ جب کہ عامل لفظی سے خالی ہو تو اس کے اندر عامل معنوی ہوتا ہے اور اس کا نام ابتدا ہے۔ کوئی اسم کیا ہو؟ مسند ہو اور مسند الیہ ہو اور کس سے خالی ہو؟ عامل لفظی سے، اور یہ تعریف صرف مبتدا اور خبر پر صادق آتی ہے اور پورے نحو کے اندر آپ دیکھ لیں جتنے بھی معمول ہیں، کسی پر یہ تعریف صادق نہیں آتی۔ تو یہ صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے۔ تو ابتدا کسے کہتے ہیں؟ کہ کوئی مسند یا مسند الیہ ہو اور عامل لفظی سے خالی ہو تو کہتے ہیں اس کے اندر عامل کیا چیز ہے؟ ابتدا ہے، تو یہ اس کسی اسم کا عامل لفظی سے خالی ہونا اس طور پر کہ وہ مسند ہو یا مسند الیہ ہو بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، و اگر بعد آن لا نکرہ مفرد باشد مقرر با نکرہ دیگر۔ اب آپ کو بتلائیں گے کہ لا حول ولا قوة الا باللہ جیسی جگہوں میں پانچ طرح ان کو پڑھنا جائز ہے۔ کن کو؟ لا حول ولا قوة الا باللہ۔ ذرا اس لا حول ولا قوة الا باللہ پر ذرا نظر رکھیں کہ ان جیسی جگہوں میں پانچ طرح پڑھنا جائز ہے۔ بھئی ان جیسی جگہوں سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں جہاں پر لا کا اسم اس کے ساتھ جڑا ہوا ہو، توجہ ہے؟ لا کا اسم اس کے ساتھ جڑا ہوا ہو اور نکرہ ہو اور تکرار لا ہو ایک اور نکرہ کے ساتھ۔ لا حول، لا کا اسم نکرہ ہے اور ساتھ جڑا ہوا ہے اور تکرار لا ہے یعنی آگے ایک اور لا آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور نکرہ آ رہا ہے۔ اس طرح کی جو جگہ ہیں ان میں ان کو پانچ طرح پڑھنا جائز ہے، عرب ان کو پانچ طرح پڑھتے ہیں، جس طریقے سے بھی آپ پڑھ لیں وہ ٹھیک ہے۔ کون سی جگہ؟ جہاں پر لا کا اسم اس کے ساتھ جڑا ہوا ہو اور نکرہ ہو اور آگے ایک اور لا بھی آ رہا ہو اور اس کے ساتھ ایک اور نکرہ بھی آ رہا ہو۔ پھر دہرائیں، کون سی جگہ؟ جہاں پر لا کا اسم لا کے ساتھ جڑا ہوا ہو اور نکرہ ہو اور آگے ایک اور لا اور ایک اور نکرہ بھی آ رہا ہو، تو ان میں پانچ طرح پڑھنا جائز ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں و اگر بعد آن لا نکرہ مفرد باشد، اور اگر اس لا کے بعد نکرہ مفرد ہو، کیا ہو؟ ہاں نکرہ بھی مفرد ہو بھئی، تینوں شرطیں بھی، تینوں بلکہ پوری ہوں۔ لا کے ساتھ اسم جڑا ہو، دوسرا، دوسری شرط نکرہ ہو اور مفرد ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو، اور آگے ایک اور لا اور اس کے ساتھ ایک اور نکرہ آ رہا ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے عبارت بھئی۔ و اگر بعد آن لا نکرہ مفرد باشد، اگر اس لا کے بعد نکرہ مفرد ہو، مقرر با نکرہ دیگر، مقرر کا کیا معنی؟ جس میں تکرار یعنی ایک اور مرتبہ، مکرر تکرار کا معنی ہوتا ہے ایک چیز کو دوبارہ لے کر آنا۔ و اگر بعد آن لا نکرہ مفرد باشد، اگر اس لا کے بعد نکرہ مفرد ہو مقرر، یعنی لا کیا ہو؟ مقرر ہو، دو دفعہ آئے، با نکرہ دیگر، کس کے ساتھ؟ دوسرے نکرہ کے ساتھ، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں و اگر بعد آن لا نکرہ مفرد باشد مقرر با نکرہ دیگر، اور اگر اس لا کے بعد نکرہ مفرد ہو مقرر دوسرے نکرہ کے ساتھ، یعنی لا بھی دو دفعہ اور وہ نکرہ بھی دو دفعہ، تو درو، تو اس میں، پنج وجہ روا است، پانچ وجہیں جائز ہیں۔ پنج وجہ روا است، روا کا کیا معنی؟ جائز، پنج وجہ روا است، اس کے اندر پانچ وجہیں جائز ہیں، یعنی پانچ طرح سے اس کو پڑھنا جائز ہے۔ کون سی پانچ وجہیں؟ دیکھو بھئی، لا حول ولا قوة الا باللہ۔ لا حول، اس پر بھی دیکھو بغیر تنوین کے فتحہ پڑھا، اور ولا قوة، اس پر بھی تنوین نہیں فتحہ پڑھا۔ لا حول ولا قوة الا باللہ۔ اور آگے کیا ہے؟ ولا حولٌ ولا قوةٌ، دونوں پر رفع پڑھا اور تنوین پڑھی، لا حولٌ ولا قوةٌ الا باللہ۔ اور آگے ہے، تیسری صورت ہے، پہلے پر فتحہ ہے اور دوسرے پر تنوین کے ساتھ رفع ہے، ولا حولَ ولا قوةٌ الا باللہ۔ اگلی وجہ اس کے برعکس ہے کہ پہلے پر رفع ہے اور دوسرے پر فتحہ، لا حولٌ ولا قوةَ الا باللہ۔ اور پانچویں وجہ ہے ولا حولَ، اس میں تنوین نہیں، ولا قوةً، اس دوسرے میں تنوین، تو لا حولَ ولا قوةً الا باللہ۔ تو یہ پانچ صورتیں ہیں، پانچ طرح اس کو پڑھنا جائز ہے بھئی، اور ان میں سب سے اعلیٰ پہلی قسم ہے۔ پانچ طرح پڑھنا جائز ہے، ہم نے عربوں سے پانچ طرح اس کو سنا ہے لیکن سب سے اعلیٰ پہلی صورت ہے، کون سی؟ لا حولَ ولا قوةَ الا باللہ۔ یعنی دونوں پر فتحہ آئے بغیر تنوین کے۔ اب یہاں وہ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ تین طرح کے نام ہیں: رفعٌ نصبٌ جرٌّ، اور ضمٌّ فتحٌ کسرٌ، اور ضمۃٌ فتحۃٌ کسرۃٌ۔ یاد ہیں کہ بھول گئے بھئی؟ پھر میں پھر سن لیں: رفعٌ نصبٌ جرٌّ، یہ معرب کے ساتھ خاص ہیں۔ رفع، نصب، جر کس کے لیے بولتے ہیں؟ معرب کے لیے۔ اور ضمٌّ فتحٌ کسرٌ بغیر گول تا کے، یہ خاص ہیں مبنی کے ساتھ۔ اور ضمۃٌ فتحۃٌ کسرۃٌ گول تا کے ساتھ، یہ عام ہیں، معرب کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور مبنی کے لیے۔ پھر دہرائیں: رفعٌ نصبٌ جرٌّ، یہ کس کے ساتھ خاص؟ یہ معرب کے ساتھ خاص۔ اور ضمٌّ فتحٌ کسرٌ، یہ؟ یہ مبنی کے ساتھ خاص۔ اور ضمۃٌ فتحۃٌ کسرۃٌ، یہ کس کے ساتھ خاص؟ ہاں یہ معرب اور مبنی دونوں کے ساتھ بولے جاتے ہیں۔ اب مجھے بتانا بھئی، لا حولَ ولا قوةَ الا باللہ، توجہ ہے آپ کی؟ لا حولَ، لا حولَ، مانع تنوین کوئی چیز ہے؟ الف لام اس پر ہے؟ نہیں، اور اضافت ہو رہی ہے؟ نہیں، معلوم ہوا یہ کیا بن چکا؟ مبنی، یہ کیا بن چکا؟ مبنی۔ آگے ہے ولا قوةَ، جی اس پر الف لام ہے؟ نہیں، اور اضافت ہو رہی ہے؟ نہیں، مانع تنوین کوئی چیز نہیں پھر بھی تنوین نہیں آ رہی، معلوم ہوا یہ بھی کیا بن چکا؟ مبنی۔ معلوم ہوا یہ دونوں مبنی مبنی ہیں، کس چیز پر؟ ضمٌّ فتحٌ کسرٌ، مبنی کے لیے کیا بولتے ہیں؟ ضمٌّ فتحٌ کسرٌ، تو کیا کہیں گے؟ یہ مبنی علی الفتح ہیں۔ مبنی علی الفتح ہیں۔ منصوب کہہ سکتے ہو ان کو؟ زیداً، زیداً کیا ہے؟ منصوب، تو ان کو منصوب نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اس وقت معرب نہیں ہیں بلکہ کیا بن چکے؟ مبنی ہیں۔ تو یہ کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح۔ تو یوں کہو آسان لفظوں میں، دونوں پر فتحہ پڑھنا ہے۔ دونوں پر فتحہ پڑھنا ہے۔ اچھا تو دونوں مبنی علی، دونوں جز مبنی علی الفتح ہوئے۔ آگے آئیے، ولا حولٌ ولا قوةٌ الا باللہ، جی لا حولٌ، یہ؟ معرب ہے، تنوین آ رہی ہے، تو معرب کے لیے کیا بولیں گے یہاں اب؟ جی؟ ضمٌّ بولیں گے یا ضمۃٌ بولیں گے یا رفعٌ بولیں گے؟ رفعٌ۔ معرب کے لیے کیا آتا ہے؟ رفعٌ نصبٌ جرٌّ۔ تو کیا کہیں گے؟ یہ مرفوع ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ مرفوع ہے، اور ولا قوةٌ یہ بھی مرفوع ہے۔ بس آپ صرف اتنا بولیں، یہ مرفوع ہے، سننے والا اگر نحوی ہوا وہ خود ہی سمجھ جائے گا کہ یہ مبنی نہیں ہے، مبنی کے اندر مرفوع نہیں بولتے بلکہ یہ کیا ہے؟ معرب ہے اور رفع اس پر آ رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ولا حولٌ ولا قوةٌ، اس میں دونوں کیا ہیں؟ مرفوع ہیں، مرفوع ہیں۔ آگے ولا حولَ ولا قوةٌ الا باللہ، اس میں پہلا کیا ہے؟ مبنی، کس پر؟ فتحہ پر۔ تو پہلا ہے مبنی علی الفتح، اور دوسرا معرب، معرب ہے، مرفوع ہے، دوسرا مرفوع ہے، پہلا مبنی علی الفتح اور دوسرا مرفوع ہے۔ اگلی قسم میں آ جائیں، ولا حولٌ ولا قوةَ الا باللہ، اس میں پہلا ولا حولٌ کیا ہے؟ مرفوع ہے یعنی معرب ہے، ولا قوةَ اور یہ مبنی علی الفتح ہے۔ آگے آ جائیے، ولا حولَ ولا قوةً الا باللہ، جی ولا حولَ، یہ کیا ہے؟ مبنی علی الفتح، ولا قوةً، جی؟ یہ منصوب ہے، شاباش! حالانکہ دیکھو لا حولَ اس پر بھی زبر ہے، ولا قوةً اس پر بھی زبر، لیکن آپ نے ایک کو کیا کہا؟ مبنی علی الفتح، اور دوسرے کو آپ نے کیا کہا؟ منصوب، دیکھا منصوب سے پتہ چل گیا کہ یہ معرب ہے، مبنی نہیں ہے۔ تو کتنی وجہیں جائز؟ پانچ۔ پہلی وجہ کیا؟ کہ دونوں جز کیا ہوں؟ مبنی علی الفتح ہوں۔ دوسری ترکیب کیا؟ دونوں جز مرفوع ہوں۔ تیسری ترکیب؟ پہلا مبنی علی الفتح اور دوسرا مرفوع۔ اگلا اس سے برعکس ہے، کیا؟ پہلا مرفوع اور دوسرا مبنی علی الفتح۔ آخری؟ پہلا مبنی علی الفتح اور دوسرا منصوب ہے، شاباش! بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس میں یہ پانچ وجہیں پڑھنا جائز ہیں، اور اب اس کا ترجمہ بھی سمجھ لو، لا حول ولا قوة الا باللہ، یہ آپ اکثر پڑھتے ہیں، یاد رکھو یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے۔ اور یہ بہت مبارک کلمات ہیں ان کو پڑھا کریں بھئی خوب کثرت کے ساتھ، لا حول ولا قوة الا باللہ۔ حول کا معنی ہے پھرنا، کسی چیز سے پھر جانا، پلٹ جانا، واپس ہو جانا۔ تو لا حولَ، پھر گرنا نہیں ہے، پلٹنا نہیں ہے کسی چیز سے، الا باللہ، مگر کس کی مدد کے ساتھ؟ اللہ کی مدد سے۔ یعنی انسان کسی گناہ کو چھوڑ کر اس سے پلٹ نہیں سکتا۔ کسی گناہ کو یعنی چھوڑ نہیں سکتا الا باللہ، مگر کس کی مدد کے ساتھ؟ اللہ کی۔ اللہ کی مدد ہوگی تو اپ گناہ کو چھوڑ سکتے ہیں، اللہ کی مدد نہیں تو انسان کتنا ہی زور لگا لے گناہ سے اپنے اپ کو نہیں بچا سکتا۔ اور اسی طرح ولا قوة الا بالله، اور قوت نہیں ہے، طاقت نہیں ہے یعنی نیکی کرنے کی۔ نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے الا باللہ، مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ یاد رکھیں، یہ ہے مسلمان کا ایک عقیدہ، یہ ہونا چاہیے کہ جو ہم جو نیکیاں کرتے ہیں، یہ دل میں ہمیشہ یہ رکھیں، یہ جو اپ جتنی نیکیاں کرتے ہیں یہ اللہ کے توفیق سے کرتے ہیں۔ کس سے؟ اللہ نے اپ کو توفیق دی ہے تو اپ نیکی کر رہے ہیں۔ اور جتنے گناہوں سے اگر اپ بچتے ہیں تو یہ گناہوں سے بچنا بھی کس کی وجہ سے ہے؟ اللہ کی توفیق سے ہے۔ اگر اللہ کی توفیق نہ ہو تو انسان کسی گناہ سے بچ نہیں سکتا، اور اللہ کی توفیق نہ ہو تو انسان کوئی نیکی کر نہیں سکتا۔ جب یہ بات ذہن میں ائے گی تو کبھی بھی اپنی نیکیوں یا اچھائیوں پر ذہن میں تکبر نہیں ائے گا۔ بلکہ عاجزی ہی بڑھتی چلی جائے گی، جو بھی نیکی کریں گے اپ کا سر اللہ کے سامنے اور جھکتا چلا جائے گا کہ اے اللہ، میں جو بھی نیکی کر رہا ہوں یہ اپ کا مجھ پر فضل ہے، اپ کی توفیق ہے کہ مجھے نیکیوں میں لگایا ہوا ہے اور برائیوں سے مجھے بچا کر رکھا ہے۔ تو کسی گناہ سے انسان اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں بچ سکتا، اور کوئی نیکی کوئی انسان اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتا۔ تو یہ معنی ہے لا حول ولا قوة الا بالله۔ کسی گناہ سے بچنا اور کسی نیکی کی قوت بغیر اللہ کی توفیق کے نہیں ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہ خوب پڑھا کریں بھئی۔ کوئی بھی گناہ ہو، یہ کثرت سے پڑھیں، انشاء اللہ اللہ اس گناہ سے بچنے کی توفیق دے دیں گے۔ تو کہتے ہیں درو پنج وجہ رواست، اس کے اندر پانچ وجہیں جائز ہیں: چون لا حول ولا قوة الا بالله، ولا حول ولا قوة الا بالله، ولا حول ولا قوة الا بالله، ولا حول ولا قوة الا بالله، ولا حول ولا قوة الا بالله۔ پنجم حروف ندا و آن پنج است۔ پانچویں قسم جو ہے وہ حروف ندا ہیں۔ وہ حروف جو اسم میں عمل کرتے ہیں، وہ پانچ قسم۔ پس پہلی قسم حروف جارہ، دوسری قسم حروف مشبہ بالفعل، تیسری قسم ما و لا مشابہ بلیس، چوتھی قسم لا نفی جنس، اور اب پانچویں قسم اگئی: پنجم حروف ندا۔ پانچویں جو ہیں وہ حروف ندا ہیں۔ و آن پنج است، اور وہ پانچ ہیں: یا، و ایا، و هيا، و ای، و ہمزہ مفتوحہ۔ حروف ندا وہ حروف جن کے ذریعے کسی کو ندا دی جائے، اواز دی جائے، ان کو حروف ندا کہتے ہیں۔ مثلاً اپ اپنے ساتھی کو اواز دیتے ہیں، اس کا نام زید ہے: یا زید۔ تو یہ یا کیا ہے؟ حرف ندا۔ یہ جو حرف ندا ہوتا ہے، یاد رکھو، اس کے ذریعے کسی کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے: یا زید۔ کیا معنی؟ اپ زید کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں بھئی، متوجہ کر رہے ہیں۔ تو حروف ندا وہ حروف ہیں جس کے ذریعے کسی کی توجہ کو طلب کیا جاتا ہے کہ میری طرف متوجہ ہو جاؤ۔ انشا کی قسمیں اپ نے پڑھی تھیں بھئی، ان میں ایک ندا بھی پڑھا بھئی، ندا۔ تو یہ انشا کی قسموں میں سے ہے۔ تو پانچواں کیا ہے؟ حروف ندا۔ جس کے ذریعے کسی کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، یا یوں کہیں، کسی کی توجہ کو طلب کیا جاتا ہے: یا زید، میں کس کی توجہ اپنی طرف طلب کر رہا ہوں؟ زید، میں چاہتا ہوں کہ زید میری طرف متوجہ ہو جائے۔ تو یہ حروف ندا، اور یاد رکھیے یہ پانچ قسم کے حروف ہیں: یا، ایا، هيا، ای، اور ہمزہ مفتوحہ۔ یا، مثلاً میں کہتا ہوں یا زید۔ ایا، جیسے میں کہتا ہوں ایا زید۔ یا هيا، میں یوں کہوں گا هيا زید۔ یا ای بھئی، ای بھی حروف ندا میں سے ہے: ای زید۔ معنی وہی ہے يا زيد، ای زید۔ اور کبھی ہمزہ مفتوحہ بھی ندا کے لیے اتا ہے، صرف ہمزہ ہوگا اور اس پر زبر ہوگی: ا زید، ا زید۔ بات سمجھ میں ارہی ہے؟ تو یہ ا، یہ بھی کیا ہے؟ یہ ہمزہ مفتوحہ بھی حروف ندا میں سے ہے۔ تو حروف ندا کتنے ہیں؟ پانچ: یا، ایا، هيا، ای، اور ہمزہ مفتوحہ۔ تو کہتے ہیں حروف ندا و آن پنج است، اور وہ پانچ ہیں: یا، و ایا، و هيا، و ای، و ہمزہ مفتوحہ۔ و این حروف منادیٰ مضاف را بہ نصب کنند، چون یا عبد الله۔ یاد رکھو، اس کی تفصیل پہلے سمجھ لیں، پھر عبارت دیکھتے ہیں۔ یہ حروف ندا جس اسم پر داخل ہوتے ہیں، اس کو منادیٰ کہتے ہیں۔ یا تو ہے حرف ندا، اور جس پر یہ داخل ہو اس کو کیا کہیں گے؟ منادیٰ۔ یا زید، یہ زید کیا ہے؟ منادیٰ، یعنی جس کو ندا دی گئی، جس کو اواز دی گئی۔ اور یہ جو منادیٰ ہوتا ہے، یہ مفرد معرفہ ہو تو مبنی ہوگا علامت رفع پر۔ توجہ ہے؟ منادیٰ مفرد معرفہ ہو۔ منادیٰ کیا ہو؟ دہرائیں بھئی، منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو مبنی ہوگا علامت رفع پر۔ مبنی ہوگا، پھر دہرائیں۔ منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو اور معرفہ ہو، تو یہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ پھر دہرائیں، مجھے اواز نہیں ارہی سب کی۔ منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو اور معرفہ ہو، تو یہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ یعنی جو بھی رفع والی علامت اس منادیٰ پہاتی ہے، اس پر ہی وہ مبنی بن جائے گا۔ اسی پر وہ کیا بن جائے گا؟ مبنی بن جائے گا۔ جیسے زید۔ زید کیا ہے؟ منادیٰ ہے، اور منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو اور معرفہ۔ یہ زید بھی کیا ہے؟ مفرد ہے، کیا ہے؟ مفرد ہے۔ یاد رکھیے، مفرد کتنی چیزوں کے مقابلے— اچھا، مفرد کتنی چیزوں کے مقابلے میں اتا ہے؟ چار۔ نمبر ایک: تثنیہ اور جمع۔ نمبر دو: مرکب۔ نمبر تین: جملہ۔ اور نمبر چار: مضاف یا مشابہ مضاف۔ تو یہاں بھی مفرد ایا، یاد رکھنا، یہاں جو مفرد ایا وہ مضاف اور مشابہ مضاف کے مقابلے میں ایا۔ کس کے مقابلے میں؟ یعنی منادیٰ اگر مفرد ہو تو کیا معنی؟ مضاف بھی نہ ہو، مشابہ مضاف بھی نہ ہو۔ اور نیز معرفہ ہو، معرفہ ہو۔ یاد رکھیے معرفہ، میں نے پہلے بھی بتلایا تھا اپ کو کہ یہ جو الف لام ہے، یہ جس اسم پر داخل ہوتا ہے اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ رجل نکرہ تھا، الرجل، میں الف لام اس پر لے ایا، اب یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ کتاب نکرہ ہے، الکتاب، میں الف لام لے ایا، اب یہ کیا بن گئی؟ معرفہ بن گئی۔ اسی طرح یہ جو حرف ندا ہے، یہ بھی کسی لفظ پر جب داخل ہوتا ہے، اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایک ادمی اپ کے سامنے سے گزر رہا ہے اور اپ اس کو اواز دیتے ہیں، اپ کو اس کا نام نہیں اتا، یا جلدی میں— نام تو اتا ہے، جلدی میں اپ کے ذہن میں نام نہیں ایا، اپ نے اس کے— اپ نے اس سے کہا يا رجل، اے ادمی۔ اب دیکھو يا رجل اپ نے کہا، اواز دی ادمی کو۔ تو یہ اپ نے کسی متعین کو اواز دی ہے یا غیر متعین ادمی کو؟ متعین بھئی۔ تو اپ نے کس کو اواز دی ہے؟ متعین کو یا غیر متعین؟ بھئی ایک ادمی ہے، اپ کے سامنے سے گزر رہا ہے، اپ اس کو کہتے ہیں يا رجل۔ جی، تو یہ متعین کو اواز ہے یا غیر متعین کو؟ متعین، یہ جو اپ کے پاس سے گزر رہا ہے اپ اس کو اواز دے رہے ہیں۔ ارد گرد، دور اور ادمی کھڑے ہیں، اپ ان کو اواز نہیں دے رہے۔ تو يا رجل، یہ ندا ہوئی کس کو؟ متعین کو۔ تو یہ جو منادیٰ ہے، یہ جو رجل ایا، یہ متعین ہے یا غیر متعین؟ یہ متعین۔ تو دیکھا، یہ یا نے اس کو معرفہ بنا دیا۔ یا سے پتہ چلا یہ رجل کیا ہے؟ متعین ہے۔ اور جو چیز متعین ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرفہ۔ تو یہ جو یا ہے، یہ حروف ندا جتنے ہیں، یہ جس اسم پر داخل ہوتے ہیں اس کو معرفہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ وہ متعین ہو جاتا ہے۔ رجل، رجل تو دائیں بائیں کتنے ہی کھڑے تھے، لیکن جب میں نے کہا يا رجل، ایک خاص ادمی جو قریب تھا میرے، میں نے اس کی طرف— اس کو اواز دی ہے، اور وہ تو کیا ہے؟ متعین۔ معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ تو دیکھو یا نے رجل کو کیا بنا دیا؟ معرفہ بنا دیا، متعین کر دیا کہ یہی والا رجل مراد ہے، دائیں بائیں جو اور کھڑے ہیں وہ مراد نہیں ہیں۔ تو الف لام بھی جب کسی اسم پر داخل ہوتا ہے، اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ اور حروف ندا بھی جب کسی اسم پر داخل ہوتے ہیں، اس کو معرفہ بنا دیتے ہیں۔ تو یا اور الف لام، یہ الہ تعریف ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ الہ تعریف۔ الہ وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام کیا جائے۔ دیکھو، اپ لکھتے ہیں کس کے ذریعے؟ قلم کے ذریعے۔ اپ کسی کپڑے وغیرہ کو کاٹتے ہیں کس کے ذریعے؟ قینچی کے ذریعے۔ اور اسی طرح کوئی کسی کی پٹائی کرتا ہے لاٹھی کے ذریعے، تو یہ سب الات ہیں۔ دیکھو، قینچی کے ذریعے اپ نے کپڑے کو کاٹا، تو یہ قینچی الہ ہوئی کپڑا کاٹنے کے لیے۔ قلم کے ذریعے اپ نے لکھا، تو یہ قلم الہ ہوا لکھنے کا۔ اور لاٹھی کے ذریعے کسی کی پٹائی کی، تو یہ الہ ہوا پٹائی کرنے کا۔ تو کسی چیز کے ذریعے کوئی کام سر انجام دیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ الہ کہتے ہیں۔ تو یہ جو الف لام ہے اور حروف ندا، یہ الہ تعریف ہیں۔ یعنی یہ جس اسم پر داخل ہوں گے، ان کو معرفہ بنا دیں گے۔ توجہ ہے؟ الف لام اور یا کیا ہیں؟ الف لام اور حروف ندا، یہ سب کیا ہیں؟ الہ تعریف ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ کیا معنی الہ تعریف؟ جس اسم پر داخل ہوں گے اس کو کیا بنا دیں گے؟ معرفہ بنا دیں گے۔ تو یہ کسی اسم کو معرفہ بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔ تو یہ الہ تعریف ہیں۔ الہ تعریف۔ اچھا، میں نے کیا بیان کیا؟ کہ منادیٰ، توجہ ہے؟ کہ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو مبنی ہوگا علامت رفع پر۔ پھر دہراؤ، منادیٰ مفرد ہو۔ کیا معنی مفرد ہو؟ مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو، اور معرفہ ہو۔ نکرہ نہ ہو۔ تو معرفہ تو دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک معرفہ وہ ہے جو ندا سے پہلے ہی معرفہ ہے، اور ایک معرفہ وہ ہے جو ندا کے سبب معرفہ بن گیا۔ مثلاً میں نے زید کو اواز دی: یا زید۔ جی، یہ زید کیا ہے؟ معرفہ ہے یا نکرہ ہے؟ معرفہ، یہ تو علم ہے، نام ہے، اور نام کیا ہوتا ہے؟ معرفہ۔ تو زید کا لفظ ندا سے پہلے ہی معرفہ تھا۔ اب میں اس پر یا لایا، تو یہ تو پہلے ہی معرفہ ہے بھئی۔ یا نے اس کو معرفہ نہیں بنایا، یہ پہلے سے ہی کیا ہے؟ معرفہ۔ اور بعض اوقات یا جب ہم لے کراتے ہیں— یا سے مراد ہے حروف ندا، کوئی بھی حروف ندا— جب حروف ندا ہم لاتے ہیں تو وہ اسم معرفہ بن جاتا ہے، جیسے رجل۔ رجل تو نکرہ تھا، لیکن میں اس پر یا حرف ندا لے ایا: يا رجل۔ یا دوسرا کوئی لے ایا: هيا رجل، یا ايا رجل، یا ای رجل، یا ا رجل۔ تو یہ حرف ندا کس پر ایا؟ نکرہ پر۔ اس نے اس کو کیا بنا دیا؟ معرفہ۔ تو میں نے کیا کہا تھا کہ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ پھر دہراؤ، منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ مفرد ہو، کس کو نکال دیا؟ مضاف اور مشابہ مضاف، وہ ان کا یہ حکم نہیں، ان کی بات اگے بیان ہوگی۔ دوسری شرط کیا تھی؟ معرفہ ہو۔ معرفہ ہونا عام ہے، چاہے قبل النداء ہی وہ کیا ہو؟ معرفہ، چاہے ندا کے بعد کیا بن جائے؟ معرفہ۔ ندا سے معرفہ بنتا ہے یا نہیں بنتا؟ جی، تو قبل النداء چاہے معرفہ ہو، ندا سے پہلے ہی وہ معرفہ تھا جیسے زید وغیرہ، یا ندا کے بعد وہ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو جب منادیٰ مفرد ہو اور معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ دیکھو، زید کا رفع کس کے ساتھ اتا ہے؟ زید پر، رفع پڑھیں: زيدٌ، نصب پڑھیں: زيداً، جر پڑھیں: زيدٍ۔ پھر پڑھیں، رفع: زيدٌ، نصب: زيداً، جر: زيدٍ۔ تو زید میں علامت رفع کیا ہے؟ ضمہ ہے، کیا ہے؟ ضمہ ہے، تنوین کے ساتھ۔ تو زید کیا ہوا؟ اس کو میں ندا دینا چاہتا ہوں، منادیٰ بنانا چاہتا ہوں۔ تو یہ منادیٰ کون سا ہوا؟ مفرد ہے کہ نہیں ہے؟ مضاف یا مشابہ مضاف ہے یہ؟ نہیں، تو یہ مفرد ہوا۔ نیز یہ معرفہ ہے، چاہے قبل النداء معرفہ ہو چاہے بعد النداء، تو یہ معرفہ بھی ہے۔ اور منادیٰ جب مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامت رفع پر۔ اس کو بنا دو مبنی علامت رفع پر: یا زید۔ یہ مبنی بن گیا، کس پر؟ اپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبنی ہے؟ جی؟ اپ یہ نہیں کہہ رہے یہ مرفوع ہے، اپ کہہ رہے ہیں یہ مبنی علی الضم ہے۔ مبنی کیوں کہہ رہے ہو اس کو؟ اپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبنی ہے؟ شاباش، اس پہ تنوین نہیں ارہی بھئی۔ زید کا رفع تو کس کے ساتھ تھا؟ ضمہ کے ساتھ اور تنوین: زيدٌ، لیکن اب اپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یا زید۔ مانع تنوین کوئی چیز ہے؟ نہیں، پھر بھی تنوین نہیں پڑھ رہے، معلوم ہوا یہ کیا بن چکا؟ مبنی بن چکا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو جو علامت رفع ہوگی، اسی پر مبنی بن جائے گا۔ اور زید میں علامت رفع کیا تھی؟ ضمہ: زيدٌ، اسی پر اس کو مبنی بنا دو، کیسے پڑھو؟ زید، تو بن گیا یا زید۔ طریقہ سمجھ میں ایا؟ جس اسم میں جو بھی علامت رفع ہو، اسی پر وہ مبنی بن جائے گا۔ اب اپ دو ادمیوں کو، دو مردوں کو اواز دینا چاہتے ہیں۔ اپ کے سامنے دو ادمی ہیں، تو تثنیہ کے لیے کیا کہیں گے؟ رجل کی تثنیہ کیااتی ہے؟ رجلان۔ تو رجلان کا رفع کس کے ساتھ ہے؟ الف کے ساتھ۔ اسی پر اس کو مبنی بنا دو۔ اسی طرح پڑھو، اب تنوین گرتی تھی، باقی چیزیں نہ گراؤ: يا رجلان، اسی طرح پڑھ دو۔ یا رجلان۔ اب اپ سے کوئی پوچھے: یہ يا رجلان اس وقت معرب ہے یا مبنی؟ اپ کیا کہیں گے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامت رفع۔ علامت رفع کیا تھی اس کی؟ الف۔ تو اس وقت یہ مبنی ہے۔ تو جب یہ معرب ہوتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے، اس میں کوئی— اس میں کوئی فرق اپ کو نظر نہیں ارہا۔ زیدٌ کے اندر فرق نظر ایا تھا یا نہیں؟ وہاں تنوین گر گئی تھی، اس سے ہی اپ کو پتہ چل گیا، جو بھی اسم ائے گا وہ کیا بنتا چلا جائے گا؟ مبنی بنتا چلا جائے گا۔ معلوم ہوا يا رجلان، یہ رجلان اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامت رفع پر۔ مسلمون، جی، ندا دیں ذرا: یا مسلمون۔ جی، یہ بھی کیا ہے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامت رفع پر۔ اچھا، عیسیٰ، ندا دیں: یا عیسیٰ۔ کیا کہیں گے؟ یہ— اس کا رفع کس کے ساتھ اتا ہے؟ تقدیراً، تو یہ اسی طرح— اسی طرح تقدیراً، دیکھو یہاں کوئی حرکت وغیرہ نہیں ہے اخر میں، تو یہ مبنی ہے علامت رفع پر، اور اس کا رفع کیسا تھا؟ تقدیراً، تو یہ اسی طرح مبنی بن گیا۔ تو یا عیسیٰ، یہ عیسیٰ اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامت رفع پر۔ اچھا، قاضی، اس کو ذرا ندا دو: یا قاضی۔ یہ اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامت رفع پر۔ قاضی کا رفع کس کے ساتھ اتا ہے؟ تقدیراً، دیکھو یہاں پر بھی تقدیراً ہی ہے، کوئی ضمہ ہم پڑھ نہیں رہے۔ تو منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا کس پر؟ جی؟ علامت۔ اونچا کہو، الحمد للہ بھئی۔ الحمد للہ۔ یرحمک اللہ۔ جو چھینکے بھئی، الحمد للہ کہا کرے بھئی۔ تو منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا علامتِ رفع پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مفرد کہہ کر کس کو نکال دیا؟ مضاف اور مشابہ مضاف کو نکال دیا، ان کا یہ حکم نہیں ہے، وہ مبنی علامتِ رفع پر نہیں ہوں گے، وہ آگے حکم آنے والا ہے۔ اور نیز مفرد کے ساتھ ساتھ کیا ہو؟ معرفہ۔ کیا معنیٰ معرفہ؟ چاہے قبل النداء وہ معرفہ ہو، چاہے بعد النداء وہ معرفہ بن جائے، بس ہونا معرفہ چاہیے، تو یہ کیا ہوگا؟ مبنی ہوگا علامتِ رفع پر۔ اور اگر ان میں سے ان دونوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے، یعنی منادیٰ معرفہ نہ ہو بلکہ کیا ہو؟ نکرہ۔ یا مفرد نہ ہو، یعنی مضاف یا مشابہ مضاف ہو، تو پھر ان سب صورتوں میں اس کو اس پر نصب آئے گا۔ کیا آئے گا؟ نصب۔ کیا معنیٰ؟ نصب سے کیا پتہ چلا آپ کو؟ معرب ہوگا، مبنی ہوگا؟ معرب ہوگا۔ کیونکہ نصب کس کے ساتھ خاص ہے؟ معرب کے۔ تو اس صورت میں یہ منصوب ہوں گے۔ معلوم ہوا اب جہاں تنوین آ سکے وہاں تنوین بھی آئے گی۔ اب دیکھو مثال کے طور پر، ایک شخص کا نام ہے عبد اللہ۔ عبد اللہ۔ اب میں اس کو ندا دینا چاہتا ہوں۔ تو اس کا پہلا لفظ "عبد" کیا ہے؟ مضاف۔ اور لفظِ "اللہ" مضاف الیہ ہے۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ منادیٰ مفرد معرفہ ہو۔ یہ تو مفرد ہے؟ نہیں۔ بلکہ یہ تو کیا ہے؟ مضاف ہے۔ لہٰذا اب یہاں نصب آئے گا۔ یا عبدَ اللہِ۔ یا عبدَ اللہِ۔ یہ منادیٰ کیا ہے؟ مضاف ہے۔ اور ہم نے تو کہا تھا مبنی کب ہوتا ہے؟ جب وہ مفرد ہو اور معرفہ ہو۔ یہ معرفہ تو ہے لیکن مفرد نہیں ہے، یعنی مضاف ہے۔ تو اس پر نصب آئے گا۔ اور یہاں تنوین نہیں آئے گی کیونکہ مضاف پر تنوین نہیں آتی۔ تو یا عبدَ اللہِ۔ اب یہ عبد اللہ کا کوئی اعراب آپ سے پوچھے تو آپ کیا کہیں گے؟ منصوب ہے، منصوب ہے۔ مبنی نہیں کہیں گے بلکہ منصوب ہے، یعنی معرب ہے۔ دوسری مثال لے لیں، یہ تو تھی مثال مضاف کی۔ دوسری مثال، مشابہ مضاف کی۔ طالعاً جبلاً۔ طالعاً جبلاً، پہاڑ پر چڑھنے والا۔ میں اس کو ندا دینا چاہتا ہوں۔ جی، کیسے دوں گا ندا؟ یا طالعاً جبلاً۔ کیونکہ منادیٰ مضاف ہو یا مشابہ مضاف، تو وہ منصوب ہوتا ہے۔ تو نصب لے آئیں گے۔ اور نصب میں تنوین آئے گی یا نہیں آئے گی؟ آئے گی۔ اگر مانعِ تنوین کوئی چیز نہیں تو پھر تنوین آئے گی۔ اور طالعاً جبلاً، طالع پر الف لام ہے؟ نہیں۔ یا اضافه ہو رہی ہے؟ نہیں۔ تو مانعِ تنوین کوئی چیز نہیں، لہٰذا تنوین کے ساتھ نصب آئے گا۔ یا طالعاً جبلاً۔ یا طالعاً جبلاً۔ تیسری مثال کہ جس میں منادیٰ مفرد تو ہو، یعنی کیا معنیٰ؟ مفرد ہو کیا معنیٰ؟ مضاف یا مشابہ مضاف تو نہیں، لیکن معرفہ نہیں ہے بلکہ نکرہ ہے۔ تو اس صورت میں بھی وہ منصوب ہوگا۔ جیسے اندھا، اندھا آدمی کسی کو کہتا ہے: یا رجلاً خذ بیدی۔ یا رجلاً، اے آدمی! خذ بیدی، میرا ہاتھ پکڑ لے، میرا ہاتھ تھام لے۔ اب دیکھو اندھا ہے۔ وہ کسی رجل کو آواز دے رہا ہے۔ تو کیا اس کو کوئی آدمی نظر آ رہا ہے جس کو وہ خاص اسی کو آواز دے رہا ہے یا اس کا ارادہ ہے کوئی بھی قریب سے گزرنے والا آدمی اس کا ہاتھ پکڑ لے؟ کوئی بھی قریب سے گزرنے والا اس کا ہاتھ پکڑ لے۔ تو دیکھو یہاں "یا" داخل ہو رہا ہے رجل پر، لیکن رجل پھر بھی نکرہ کا نکرہ ہے کیونکہ متعین نہیں ہوا۔ معرفہ تو کس کو کہتے ہیں؟ جو متعین ہو۔ اب دیکھو جس کو دکھائی دے رہا ہے ایک شخص، وہ جب ندا دے گا رجل کو تو وہ کسی متعین کو ندا دے گا۔ جب متعین ہوا تو وہ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو یا رجلُ۔ وہ مبنی علی الضم ہو جائے گا، مفرد بھی ہے اور معرفہ بھی ہے۔ اور جب اندھا آواز دے رہا ہے، یہ مفرد تو ہے لیکن معرفہ نہیں بلکہ نکرہ ہے۔ جب نکرہ ہے تو پھر یہ منصوب ہوگا۔ اور کیسے پڑھیں گے؟ یا رجلاً۔ تو وہ آواز یوں دے گا: یا رجلاً خذ بیدی۔ توجہ ہے؟ یا رجلُ، وہ مبنی علی الضم ہوا، کیوں؟ یا رجلُ، پھر ادھر توجہ سے۔ یا رجلُ، وہ مبنی بن گیا تھا، کیوں مبنی بنا؟ وہ مفرد بھی تھا اور معرفہ بن گیا، متعین تھا، اس لیے وہ مبنی ہوا۔ اور یا رجلاً، یہ مفرد تو ہے لیکن متعین نہیں، معرفہ نہیں ہے، اس لیے یہ نکرہ ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا آپ کے سامنے آٹھ دس آدمی کھڑے ہیں اور آپ ان کو آواز دیتے ہیں، لیکن کسی ایک متعین کو بھی آواز نہیں دیتے، آپ ویسے ہی کہہ دیتے ہیں کہ کوئی ایک آ کر مجھے پانی دے دے۔ اب یا رجلُ آپ کہتے ہیں۔ تو کسی متعین کو کہہ رہے ہیں یا کوئی بھی آ جائے؟ کوئی بھی آ جائے۔ تو وہ بھی نکرہ کا نکرہ ہے۔ لہٰذا کیسے کہیں گے؟ یا رجلاً ائتنی بالماء، پانی لے آؤ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اندھے کی مثال اس لیے دیتے ہیں کہ وہاں تو اس کو نظر نہیں آ رہا، وہ کسی بھی آدمی کو آواز دے رہا ہے، کوئی بھی آدمی آ کر اس کی مدد کر دے۔ اس سے بات جلدی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لیکن اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ آپ جب بھی رجل کو ندا دیں گے وہ معرفہ ہوگا، نہیں، موقع دیکھیں گے۔ اگر آپ متعین آدمی کو ندا دے رہے ہیں تو یا رجلُ کہیں گے، اور اگر آپ غیر متعین کو ندا دے رہے ہیں تو کیسے کہیں گے؟ یا رجلاً۔ آٹھ دس، پندرہ بیس آدمی آپ کے قریب سے گزر رہے ہیں، آپ کا ارادہ کسی متعین کو نہیں ہے، کوئی آدمی آ کر آپ کی مدد کر جائے تو آپ کیسے کہیں گے؟ یا رجلاً۔ حاصلِ کلام پھر سن لو۔ منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا علامتِ رفع پر۔ مفرد ہو کیا معنیٰ؟ مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو۔ اور معرفہ ہو، چاہے قبل النداء معرفہ ہو، چاہے بعد النداء معرفہ ہو یعنی متعین ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو، دونوں میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ ہو، تو منادیٰ منصوب ہوگا۔ اور اس میں پھر دو صورتیں بن گئیں۔ پہلی صورت جس میں پہلی شرط پوری نہیں۔ پہلی شرط کیا تھی؟ مفرد ہو۔ وہ پوری نہ ہو یعنی مفرد نہ ہو۔ کیا ہو مفرد نہ ہو یعنی؟ مضاف یا مشابہ مضاف ہو، تو بھی منصوب ہوگا۔ یا دوسری شرط پوری نہ ہو، یعنی معرفہ نہ ہو، یعنی نکرہ غیر معین ہو، تو وہ بھی منصوب ہوگا۔ مضاف کی مثال: یا عبدَ اللہِ، یہ منصوب ہے۔ مشابہ مضاف کی مثال: یا طالعاً جبلاً، یہ بھی منصوب۔ اور نکرہ غیر معینہ کی مثال: یا رجلاً خذ بیدی، تو یہ سب منصوب ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھئے بھئی اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: "و ایں حروف منادائے مضاف را بنصب کنند"۔ اور یہ حروف منادائے مضاف کو نصب دیتے ہیں۔ "چوں یا عبدَ اللہِ"۔ "و مشابہ مضاف را"۔ اور مشابہ مضاف کو، "چوں یا طالعاً جبلاً"، اے پہاڑ پر چڑھنے والے! دیکھو یا عبد اللہ، اس کو بھی نصب دیا یا نے، اور طالعاً جبلاً کو بھی نصب دیا یا نے۔ یہاں کون سی شرط پوری نہیں؟ پہلی شرط پوری نہیں، ہم نے پہلی شرط کیا لگائی تھی؟ مفرد ہو، یہ دونوں مفرد نہیں۔ "و نکرۂ غیر معین را"۔ اور نکرۂ غیر معین کو بھی نصب دے گا، "چناں کہ اعمیٰ گوید"، جیسے کہ اندھا کہتا ہے۔ اعمیٰ، اندھا بھئی اندھا۔ "چناں کہ اعمیٰ گوید"، جیسے کہ اندھا کہتا ہے: "یا رجلاً خذ بیدی"، اے آدمی! میرا ہاتھ پکڑ لے۔ تو یہ تینوں صورتوں میں منصوب ہے۔ چاہے مضاف ہو، چاہے مشابہ مضاف ہو، چاہے نکرۂ غیر معین۔ مضاف اور مشابہ مضاف میں کون سی شرط پوری نہیں؟ مفرد والی۔ اور نکرۂ غیر معین میں کون سی شرط پوری نہیں؟ معرفہ والی۔ تو پھر ان صورتوں میں نصب ہے۔ "و منادائے مفرد معرفہ مبنی باشد"۔ اور منادائے مفرد معرفہ مبنی ہوگا، "بر علامتِ رفع"، کس پر؟ علامتِ رفع پر، اسی پر مبنی بن جائے گا۔ "چوں یا زیدُ"۔ "یا زیدُ، و یا زیدانِ، و یا مسلمونَ، و یا موسیٰ، و یا قاضی"۔ یہ سب کیا ہیں؟ مبنی۔ یا زیدُ مبنی ہے، معرب ہے؟ مبنی ہے۔ کیسے پتہ چل رہا ہے آپ کو؟ تنوین نہیں آ رہی حالانکہ مانعِ تنوین کوئی چیز نہیں۔ "بداں کہ اَیْ و ہمزہ برائے نزدیک است، و اَیَا و ہَیَا برائے دور، و یَا عام است"۔ بھئی ایک اور فائدہ بتلا رہے ہیں آخر میں آپ کو کہ بھئی حروفِ ندا پانچ ہیں۔ عربی بڑی وسیع زبان ہے بھئی۔ اب اندازہ لگاؤ آواز دینے کے لیے پانچ قسم کے حروف ہیں: یا، ایا، ہیا، ای، اور ہمزۂ مفتوحہ۔ اور اردو میں ایک ہی ہے: "اے زید!"، اے کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تو عربی میں ندا کے لیے بھی پانچ، اور یہ پانچ بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ اگر کوئی قریب ہو اس کی ندا کے لیے الگ لفظ ہے، کوئی دور ہو اس کی ندا کے لیے الگ لفظ ہے۔ اور پھر اس میں یاد رکھیں، جس میں حروف تھوڑے وہ قریب کے لیے، جن میں حروف زیادہ وہ دور کے لیے، اور "یا" عام ہے۔ "یا" کا لفظ قریب اور بعید سب کے لیے استعمال کرتے ہیں عرب۔ کوئی قریب ہو پھر بھی آواز دیتے ہیں: یا زیدُ، کوئی دور زید کھڑا ہے پھر بھی کہتے ہیں: یا زیدُ۔ جبکہ باقی قریب اور بعید کے لیے الگ ہیں۔ جن میں حروف تھوڑے وہ قریب کے لیے۔ کن میں حروف تھوڑے ہیں، کن دو میں؟ اَیْ، اَیْ، اس میں ہمزہ اور یا صرف دو حروف ہیں۔ اور ایک ہمزۂ مفتوحہ، اس میں ایک ہی حرف ہے، یہ قریب کے لیے ہیں۔ اور اَیَا اور ہَیَا، ان میں تین تین حروف ہیں: ہمزہ، یا اور الف، یا ہا، یا اور الف۔ تو یہ دور کے لیے ہیں۔ کوئی دور ہو آواز دینی ہو تو: ایا زیدُ یا ہیا زیدُ۔ اور "یا" میں نے بتلایا عام ہے۔ تو کہتے ہیں: "بداں کہ اَیْ و ہمزہ برائے نزدیک است"، اور جان لے تو کہ ای اور ہمزہ جو ہے وہ نزدیک کے لیے ہے، "و اَیَا و ہَیَا برائے دور"، اور ایا اور ہیا دور کے لیے ہے، "و یَا عام است"، اور یا عام ہے، یعنی قریب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بعید کے لیے بھی بھئی، دور کے لیے بھی۔ اچھا، یہاں ایک دو چھوٹی باتیں اور یاد رکھیں۔ ایک تو یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ آواز دینا چاہتے ہیں معرف باللام کو، کس کو؟ جس پر الف لام داخل ہے۔ مثلاً الرجل، آپ اس کو ندا دینا چاہتے ہیں، تو "یا الرجلُ" یوں نہیں کہیں گے بھئی۔ کیونکہ "یا" بھی آلۂ تعریف ہے اور الف لام بھی آلۂ تعریف۔ "یا" سے بھی کیا بن جاتا ہے کوئی لفظ؟ معرفہ۔ الف لام سے بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ تو "یا" اور الف لام کیا ہیں؟ آلۂ تعریف ہیں، آلۂ تعریف۔ اور آلۂ تعریف ہیں تو یہ جمع نہیں ہوں گے۔ لہٰذا الرجل کو آپ آواز دینا چاہتے ہیں تو درمیان میں مذکر کے لیے پھر "ایہا" بڑھا دیتے ہیں اور مؤنث کے لیے "ایتہا"۔ مذکر کے لیے؟ کس کے درمیان؟ "یا" اور الف لام کے درمیان۔ اب الرجل کو آواز دینا چاہتے ہیں تو یوں کہیں گے: یا ایہا الرجلُ۔ "ایہا" درمیان میں لے آئے۔ اور مؤنث ہو: یا ایتہا المرأۃُ۔ تو المرأۃ پر کیا لے آئے؟ "یا" اور المرأۃ کے درمیان ایتہا۔ اور "یا" اور الرجل کے درمیان کیا لے آئے؟ ایہا۔ تو مذکر میں کیسے کہیں گے؟ یا ایہا الرجلُ۔ اور مؤنث میں کیسے کہیں گے؟ یا ایتہا المرأۃُ۔ نیز اس میں موصول جس پر الف لام ہوتا ہے، اس میں بھی اسی طرح ہے۔ مثلاً الذی، اس پر آپ "یا" داخل کرنا چاہتے ہیں، تو اس پر بھی الف لام ہے، تو پھر اسی طرح کیا لے آئیں گے؟ یا ایہا الذی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور مؤنث ہو، اللتی، تو وہاں پر بھی اسی طرح: یا ایتہا اللتی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو جس اسم پر الف لام پہلے سے موجود ہے، اس کو آپ منادیٰ بنانا چاہتے ہیں تو حرفِ ندا اور منادیٰ کے درمیان کیا لے آئیں گے؟ مذکر کے لیے ایہا اور مؤنث کے لیے ایتہا۔ ہاں، لفظِ "اللہ" پر الف لام ہے، پھر بھی "یا" حرفِ ندا اس پر داخل ہوگا اور یہاں "ایہا" بھی درمیان میں نہیں لائیں گے اور کہیں گے: یا اللہ۔ یہ لفظِ اللہ کی خصوصیت ہے۔ یہ کس کی؟ لفظِ اللہ کی خصوصیت ہے کہ اس پر الف لام بھی ہے، پھر بھی "یا" داخل کرنا جائز ہے۔ اور نیز لفظِ اللہ پر یہ پانچ حروفِ ندا میں سے صرف "یا" داخل کرنا جائز ہے اور باقی داخل نہیں کر سکتے۔ "یا اللہ" تو کہہ سکتے ہیں، ایا یا ہیا یا ای یا ہمزہ کے ساتھ لفظِ اللہ کو نہیں جوڑ سکتے۔ اور نیز یاد رکھیے، کبھی حرفِ ندا محذوف بھی ہوتا ہے، حذف بھی کر لیتے ہیں۔ اور صرف کہتے ہیں: زیدُ! "یا" کو کیا کر دیا؟ حذف۔ اور جب حذف کرتے ہیں تو صرف "یا" کو ہی حذف کرتے ہیں، باقی چار میں سے کسی کو کبھی حذف نہیں کرتے۔ تو لفظِ اللہ کا کیا خاصہ؟ کہ اس پر الف لام ہے پھر بھی "یا" حرفِ ندا داخل کرنا جائز۔ اور نیز اس پر "یا" کے علاوہ کوئی اور حرفِ ندا بھی داخل نہیں کر سکتے۔ تو یہ لفظِ اللہ کی خصوصیات ہیں بھئی۔ اور بانی صاحب رحمہ اللہ کی لفظِ اللہ کی خصوصیات پر ایک الگ باقاعدہ تصنیف ہے، اور جس میں لفظِ اللہ بھئی، دیکھو یہ ایک لفظ ہے اللہ، اس لفظ کی تقریباً 800 سے زیادہ خصوصیات انہوں نے جمع کی ہیں نحوی، صرفی، ادبی وغیرہ۔ ایک دو خصوصیات جیسے میں نے ذکر کر دیں کہ لفظِ اللہ پر الف لام ہے، پھر بھی "یا" حرفِ ندا اس پر داخل ہوتا ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس پر "یا" کے علاوہ کوئی اور حرفِ ندا داخل نہیں ہو سکتا۔ باقی سب ناموں پر کوئی بھی حرفِ ندا داخل کر سکتے ہیں لیکن لفظِ اللہ پر صرف "یا" حرفِ ندا داخل ہوگا، اور حروفِ ندا داخل نہیں۔ تو اس کتاب میں انہوں نے لفظِ اللہ کی 800 سے زیادہ خصوصیات جمع کی ہیں۔ تو یہ ایک لفظ ہے اور اس پر دو جلدوں میں "فتح اللہ فی خصائص اسم اللہ"، اور کتاب کا نام ہے "فتح اللہ فی خصائص اسم اللہ"۔ اور تو دو جلدوں میں ہے اور تقریباً ہزار صفحات سے زیادہ اس میں اسی ایک لفظ کی خصوصیات ذکر کی ہیں۔ انسان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، اور پتہ چلتا ہے کہ وہ خالقِ ارض و سما جتنی عظیم ذات ہے، اس کا نام بھی ویسا ہی عظیم ہے بھئی۔ چلیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام پھر سن لیں۔ آج آپ نے پڑھا کہ لا نفی جنس کا اسم اگر نکرہ مفرد ہو اور اس کے بعد پھر "لا" اور ایک اور اسم نکرہ مفرد اس کے ساتھ آ جائے، تو وہاں پانچ وجہیں پڑھنا جائز ہے۔ جیسے: لا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ، اور لا حولٌ ولا قوۃٌ الا باللہ، اور لا حولَ ولا قوۃٌ الا باللہ، ولا حولٌ ولا قوۃَ الا باللہ، اور ولا حولَ ولا قوۃً الا باللہ۔ اس کے بعد حروفِ ندا کے بارے میں پڑھا، اور آپ نے پڑھا کہ حروفِ ندا پانچ ہیں: یا، ایا، ہیا، ای، اور ہمزۂ مفتوحہ۔ اور ان میں سے ایا اور ہیا بعید کے لیے ہیں، اور ای اور ہمزہ قریب کے لیے ہیں، اور "یا" عام ہے، قریب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بعید کے لیے بھی۔ اور منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو، مفرد ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو، اور معرفہ ہو چاہے قبل النداء معرفہ ہو چاہے بعد النداء، تو پھر یہ مبنی ہوگا کس پر؟ علامتِ رفع پر۔ اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی، یعنی چاہے وہ مفرد نہ ہوا، چاہے وہ معرفہ نہ ہوا، تو پھر وہ منصوب ہوگا۔ جیسے: یا عبدَ اللہِ، اور یا طالعاً جبلاً، اور اندھے کا کہنا: یا رجلاً خذ بیدی، تو یہ سب منصوب ہوں گے۔ اور اس کے علاوہ میں نے بتایا کہ اگر منادیٰ معرف باللام ہو تو اس پر حرفِ ندا اور اس منادیٰ کے درمیان مذکر کے لیے ایہا لائیں گے اور مؤنث کے لیے ایتہا لے کر آئیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
56 approved lectures · 26 of 56