Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 04 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل: بدان کہ عواملِ اعراب بر دو قسم است، لفظی و معنوی۔ لفظی بر سہ قسم است: حروف، و افعال، و اسماء۔ و ایں را در سہ باب یاد کنیم انشاء اللہ تعالیٰ۔ بابِ اول: در حروفِ عاملہ، و درو دو فصل است۔ فصلِ اول: در حروفِ عاملہ در اسم، و آن پنج قسم است۔ قسمِ اول: حروفِ جر، و آن ہفدہ است۔ اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مضارع کا اعراب تین قسم پر ہے: رفع، نصب، اور جزم۔ اسم کا اعراب تھا رفع، نصب، اور جر؛ جبکہ مضارع کا اعراب ہے رفع، نصب، اور جزم۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اعراب کے اعتبار سے فعلِ مضارع کی چار قسمیں ہیں بھئی، چار قسمیں۔ وہاں پر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعلِ مضارع کے جو 14 صیغے ہیں، ان میں سے دو صیغے تو مبنی ہیں۔ دونوں جو جمع مؤنث کے ہیں، جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر۔ یعنی یَضْرِبْنَ اور تَضْرِبْنَ۔ یہ دو تو مبنی ہیں، یہ تو ہماری بحث سے خارج؛ کیونکہ یہاں ہم فعلِ مضارع کا اعراب پڑھ رہے ہیں اور یہ مبنی ہیں، اور مبنی پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ باقی رہ گئے 12 صیغے۔ ان 12 صیغوں میں سے سات صیغوں کے اندر نونِ اعرابی اور ضمیرِ بارز آتی ہے۔ وہ سات صیغے کون سے ہیں؟ اس میں سے چار جو ہیں وہ تثنیہ کے صیغے ہیں۔ دو جمع مذکر کے صیغے ہیں: یَضْرِبُونَ اور تَضْرِبُونَ۔ اور ایک واحد مؤنث مخاطبہ کا صیغہ ہے، کون سا صیغہ؟ تَضْرِبِينَ۔ تو یہ جو سات صیغے ہیں، ان کے اندر ضمیرِ بارز مرفوع بھی موجود اور نونِ اعرابی بھی موجود ہے۔ تو 12 میں سے یہ سات نکل گئے، باقی کتنے صیغے رہ گئے؟ پانچ صیغے۔ تو وہ جو پانچ صیغے ہیں، یعنی کون کون سے؟ یَضْرِبُ، تَضْرِبُ، پھر دوبارہ تَضْرِبُ، اور اَضْرِبُ، اور نَضْرِبُ۔ یہ پانچ صیغے بھئی، یہ پانچ صیغے۔ تو یہ پانچ صیغوں کا اعراب الگ ذکر ہوگا، اور وہ سات صیغوں کا اعراب الگ ذکر ہوگا۔ پھر فعلِ مضارع، وہ یا تو صحیح ہوگا یا معتل ہوگا۔ صحیح سے کیا مراد ہے؟ کہ جس فعلِ مضارع کے آخر میں کوئی حرفِ علت نہ آئے بھئی۔ ایک ہے صرف میں صحیح، ایک ہے نحو کے اندر صحیح۔ صرف میں صحیح کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کے ف، ع، ل کے مقابلے میں حرفِ علت بھی نہ ہو، ہمزہ بھی نہ ہو، اور دو حرف ایک جنس کے بھی نہ ہوں۔ لیکن نحوی نے بحث کرنی ہے اعراب سے، اور اعراب آتا ہے آخری حرف پر۔ لہٰذا نحوی صرف آخری حرف کو دیکھے گا۔ اگر آخری حرف کی جگہ حرفِ علت نہیں ہے تو وہ صحیح ہے نحویوں کے نزدیک۔ اور اگر وہاں حرفِ علت آ گیا، یعنی واؤ، الف، یا یا، تو پھر وہ معتل ہے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا معتلٌّ، یہ لام مشدد ہے۔ معتل اس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر حرفِ علت آئے۔ لیکن صرف میں معتل اور ہے اور نحو میں معتل اور۔ صرف میں تو ف، ع، ل تینوں میں سے کسی کی جگہ بھی حرفِ علت آ جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟ معتل۔ اگر ف کی جگہ آئے تو اسے مثال، اگر ع کی جگہ آئے تو اسے اجوف، اور اگر ل کی جگہ حرفِ علت آئے تو اسے ناقص۔ اور اگر دو جگہ پر حرفِ علت آئے تو اسے لفیف کہتے ہیں۔ جبکہ نحو کے اندر صرف آخری حرف کو دیکھیں گے۔ اگر آخری حرف کی جگہ حرفِ علت آ جائے (واؤ، الف، یا یا) تو اس کو معتل کہتے ہیں بھئی، معتل۔ اور معتل پھر تین طرح کا ہو سکتا ہے۔ آخر میں یا تو واؤ آئے گا، یا یا آئے گی، یا الف آئے گا۔ اگر آخر میں واؤ آئے تو وہ معتلِ واوی ہے۔ اگر آخر میں یا آئے تو وہ معتلِ یائی ہے۔ اور اگر آخر میں الف آئے تو وہ معتلِ الفی ہے بھئی۔ تو یہ جو پانچ صیغے ہیں، پانچ صیغے بھئی، کون کون سے؟ یَضْرِبُ، تَضْرِبُ، دوبارہ پھر تَضْرِبُ، اَضْرِبُ، اور نَضْرِبُ۔ یہ پانچ صیغے جو ہیں، اگر یہ صحیح کے ہیں تو پھر یہ پہلی قسم۔ اور یہ پانچ صیغے اگر معتلِ یائی یا معتلِ واوی ہے تو یہ دوسری قسم۔ اور یہ پانچ صیغے اگر یہ معتلِ الفی ہیں تو یہ تیسری قسم۔ اور اگر آخر میں ضمیرِ بارز اور نونِ اعرابی ہے، یعنی وہ جو سات صیغے ہیں، تو وہ پھر چوتھی قسم ہے۔ اور اس چوتھی قسم میں چاہے وہ صحیح ہو، چاہے معتلِ یائی ہو، چاہے معتلِ واوی ہو، چاہے معتلِ الفی— یا یوں کہو مختصر لفظوں میں، کہ یہ جو چوتھی قسم ہے، اس میں صحیح بھی آ جائے گا اور معتل بھی آ جائے گا۔ چاہے صحیح ہو، چاہے معتل، جو بھی معتل ہو، چاہے الفی ہو، یائی ہو، یا واوی، سب اس کے اندر آ گئے۔ تو یہ چار قسم پر ہو گیا فعلِ مضارع اعراب کے اعتبار سے۔ پہلی قسم کیا؟ کہ صحیح ہو اور ضمائرِ بارزہ مرفوعہ سے اور نونِ اعرابی سے خالی ہو۔ دوسری قسم؟ معتلِ واوی ہو یا یائی ہو، یہی پانچ صیغے۔ اور تیسری قسم؟ کہ معتلِ الفی ہو۔ اور چوتھی قسم؟ کہ جس کے ساتھ ضمیرِ بارز جڑی ہوئی ہو اور نونِ اعرابی جڑا ہوا ہو، یعنی سات صیغے، چاہے صحیح کے ہوں، چاہے معتل کے ہوں بھئی، معتل کے۔ صحیح کی کوئی مثال بھئی، فعلِ مضارع ہو اور صحیح ہو؟ جیسے یَضْرِبُ۔ معتلِ واوی کی کوئی مثال دیں بھئی؟ یَدْعُو یا یَغْزُو، آخر میں واؤ ہے۔ معتلِ یائی کی کوئی مثال دیں بھئی؟ یَرْمِي، آخر میں یا آ رہی ہے۔ اور معتلِ الفی کی کوئی مثال دیں؟ یَرْضَى، دیکھو آخر میں الف ہے بھئی، الف ہے۔ اور پھر ان کا اعراب کیا ہے؟ آپ ایک ایک صیغے کو لے کر اس پر تینوں حالتوں میں اس کو لے جائیں تو آپ کو اس کے اعراب کا پتہ چل جائے گا۔ یَضْرِبُ، اس پر کوئی عاملِ ناصب لے آئیں۔ کیسے پڑھیں گے؟ لَنْ یَّضْرِبَ۔ کوئی جازم عامل لے آئیں اس پر؟ لَمْ یَضْرِبْ۔ دیکھو اعراب کا پتہ چل گیا کہ حالتِ رفعی میں یَضْرِبُ پڑھیں گے، اور حالتِ نصبی میں لَنْ یَّضْرِبَ پڑھیں گے، اور حالتِ جزمی میں لَمْ یَضْرِبْ۔ معلوم ہوا اس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ، اور جزم سکون کے ساتھ آئے گا بھئی، سکون کے ساتھ۔ اور میں نے یہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ اسم کے اندر رفع کے لیے کوئی عامل چاہیے، لیکن فعلِ مضارع کے اندر رفع کے لیے کوئی عامل نہیں چاہیے۔ فعلِ مضارع پر جب کوئی نصب دینے والا عامل نہ ہو اور جزم دینے والا عامل نہ ہو تو وہ فعلِ مضارع کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ تو اب آپ یہ نہ کہیں یَضْرِبُ اس پر رفع کیوں پڑھ رہے ہیں؟ عامل کیا ہے؟ رفع کے لیے تو کیا چاہیے؟ عامل، لیکن وہ اسم کے اندر ہے۔ اسم کے اندر رفع کے لیے عامل چاہیے، فعلِ مضارع کے اندر رفع کے لیے اس کا ناصب اور جازم سے خالی ہونا ضروری ہے، بس۔ اور کوئی عامل نہیں چاہیے رفع کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ دوسری قسم کیا تھی؟ معتلِ واوی اور یائی۔ جی، اس کا اعراب بھئی، آپ خود ایک صیغہ کوئی لے لیں اور اس پر تینوں اعراب جاری کر کے دیکھ لیں، آپ کو اعراب پتہ چل جائے گا۔ جیسے یَرْمِي، حالتِ رفعی میں کیا پڑھا؟ یَرْمِي۔ حالتِ نصبی میں لے جائیں: لَنْ یَّرْمِیَ۔ حالتِ جزمی میں لے جائیں: لَمْ یَرْمِ۔ دیکھا؟ اب آپ اعراب خود بنا لیں کہ معتلِ یائی اور واوی ہو تو رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ رفع آئے گا تقدیراً، نصب آئے گا لفظاً، اور جزم آئے گا حذفِ لام کے ساتھ۔ جزم کیسے آئے گا؟ پھر دیکھ لو: یَرْمِي، دیکھو رفع ہے تقدیراً، یا ساکن ہے۔ اور لَنْ یَّرْمِیَ، فتحہ کیا ہے؟ لفظاً ہے۔ اور لَمْ یَرْمِ، جی جزم کیسے آیا؟ حذفِ لام، وہ یا گر گئی۔ واوی میں بھی دیکھ لیں: یَغْزُو، یہ کون سی حالت ہے؟ حالتِ رفعی۔ اور لَنْ یَّغْزُوَ، یہ کون سی حالت ہے؟ حالتِ نصبی۔ اور لَمْ یَغْزُ، یہ کون سی حالت؟ جزمی، دیکھو واؤ گر گیا آخر سے۔ تو اس طرح آپ صیغے کو ذہن میں رکھیں، پھر آپ اعراب خود سوچ کر دیکھ لیں کہ کیا اعراب بنتا ہے اس کا۔ اور معتلِ الفی، اس کا اعراب کیا تھا؟ اس کا ایک صیغہ لے آئیں: یَرْضَى۔ جی حالتِ رفعی میں ہے یَرْضَى۔ تو رفع کیا ہے؟ تقدیراً۔ حالتِ نصبی میں لے آئیں: لَنْ یَّرْضَى، فتحہ بھی تقدیراً۔ اور حالتِ جزمی میں لے آئیں: لَمْ یَرْضَ، اب کیا ہے؟ حذفِ لام۔ تو دیکھو معتلِ الفی کے اندر رفع بھی تقدیراً، نصب بھی تقدیراً، اور جزم حذفِ لام کے ساتھ ہے۔ اور وہ صیغے جن میں نونِ اعرابی آتا ہے، چاہے وہ معتل ہوں اور چاہے صحیح، وہ بھی ایک آدھ صیغہ لیں، آپ کو پتہ چل جائے گا۔ جیسے یَضْرِبَانِ، دیکھو اس کے اندر الف ضمیرِ بارز مرفوع بھی ہے اور نونِ اعرابی بھی ہے۔ تو اس کو پڑھیں ذرا، کیسے پڑھیں گے؟ حالتِ رفعی میں: یَضْرِبَانِ، دیکھو نون آپ پڑھ رہے ہیں، تو حالتِ رفعی میں ہے اثباتِ نون، نون کو آپ نے ثابت رکھنا ہے۔ اور حالتِ نصبی میں لے جائیں: لَنْ یَّضْرِبَا، دیکھو حالتِ نصبی میں نون حذف ہو گیا، حذفِ نون کے ساتھ ہے۔ اور حالتِ جزمی میں لے جائیں: لَمْ یَضْرِبَا، اس میں بھی دیکھیں نون گر گیا۔ تو حالتِ رفعی میں کیسے پڑھا؟ یَضْرِبَانِ۔ اور حالتِ نصبی میں؟ لَنْ یَّضْرِبَا، دیکھو نون گر گیا۔ اور حالتِ جزمی میں؟ لَمْ یَضْرِبَا، اب بھی نون گر گیا۔ تو دیکھو وہ صیغے، وہ سات صیغے چاہے صحیح کے ہوں یا معتل کے، جن کے آخر میں ضمیرِ بارز ہے اور نونِ اعرابی ہے، ان کا رفع اثباتِ نون کے ساتھ، اور نصب اور جزم حذفِ نون، حذفِ نون، اور نصب اور جزم حذفِ نون کے ساتھ آئے گا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آگے دیکھیے بھئی۔ فصل: بدان کہ عواملِ اعراب بر دو قسم است، لفظی و معنوی۔ لفظی بر سہ قسم است: حروف، و افعال، و اسماء۔ و ایں را در سہ باب یاد کنیم انشاء اللہ تعالیٰ۔ بھئی، انہوں نے بتلایا تھا چند صفحات قبل کہ جب جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو سب سے پہلے اسم، فعل، اور حرف کو پہچان لو۔ اس کے بعد معرب اور مبنی کو پہچان لو۔ اس کے بعد عامل اور معمول کو پہچان لو۔ اس کے بعد یہ دیکھو کہ کون سا لفظ کس لفظ کے ساتھ جڑتا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑتا۔ اس سے آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا اور آپ کو جملے کا صحیح صحیح معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ پھر دہرائیں! کیا ذکر کیا تھا؟ جملے میں الفاظ زیادہ ہوں تو سب سے پہلے کیا کرو؟ اسم، فعل، اور حرف کو پہچان لو۔ دوسرا کام کیا کرو؟ معرب اور مبنی کو پہچان لو۔ تیسرا کام؟ عامل اور معمول کو پہچان لو۔ چوتھا کام؟ کون سا کلمہ کس کلمے کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا۔ اور اس سے آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا، یعنی یہ چار کام کر لیں گے تو آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا۔ کون سے چار کام؟ نمبر 1: اسم، فعل، اور حرف کو پہچان لو۔ نمبر 2: معرب اور مبنی کو۔ نمبر 3: عامل اور معمول کو۔ اور نمبر 4: ان کے آپس میں جوڑ اور ربط دیکھ لو، کون سا کلمہ کس کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا۔ یہ چار چیزیں پہچان لو تو پھر آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا اور جملے کا معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ آسان لفظوں میں: جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور مسند؟ جو بات کی جائے۔ تو جس کے بارے میں بات کی جائے وہ بھی پتہ چل جائے گا، اور جو بات کی جائے گی وہ بھی پتہ چل جائے گی۔ زَیْدٌ قَائِمٌ، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، تو وہ ہوا مسند الیہ۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے، تو قَائِمٌ خبر ہو گئی۔ تو اس طرح ہر جملے میں آپ غور کریں گے، جس کے بارے میں بات کی جائے وہ مسند الیہ، اور جو بات کی جائے وہ مسند ہے، مسند ہے۔ تو انہوں نے بتلایا چار چیزیں آپ کر لیں۔ پہلی چیز کیا بتلائی؟ اسم، فعل، اور حرف کو پہچان لیں۔ تو یہ پہچانیں گے کیسے؟ تو انہوں نے اسم، فعل، اور حرف کی نشانیاں بتلائیں، ان کی علامتیں آپ کو بتلائیں۔ پھر اس کے بعد اگلا مرحلہ کیا تھا؟ کہ معرب اور مبنی کو پہچان لو۔ تو پھر انہوں نے معرب اور مبنی کی آپ کو پہچان کروائی کہ مبنی جو ہے وہ اٹھ چیزیں ہیں بھئی۔ مبنی اٹھ قسم کا اسم ہے۔ نمبر 1: تمام ضمیریں۔ نمبر 2: اسمائے اشارہ۔ نمبر 3: اسمائے موصولہ۔ نمبر 4: اسمائے افعال۔ نمبر 5: اسمائے اصوات۔ نمبر 6: اسمائے ظروف۔ نمبر 7: اسمائے کنایات۔ اور نمبر 8: مرکبِ بنائی۔ یہ آپ کو یاد ہونے چاہئیں۔ پھر اس کے بعد، تو یہ مبنی کی پہچان کروا دی۔ اس کے بعد پھر معرب کی پہچان کروانی تھی، تو سب سے پہلے چند ضروری چیزیں تھیں وہ ذکر کیں کہ معرفہ کسے کہتے ہیں اور نکرہ کسے کہتے ہیں۔ تو آپ کو معرفہ اور نکرہ کی پہچان کروائی۔ معرفہ کتنی چیزیں ہیں؟ معرفہ کتنی قسم پر ہے؟ سات۔ نمبر 1: ترتیب سے، نمبر 1: تمام ضمیریں۔ نمبر 2: علم۔ نمبر 3: اسمائے اشارہ۔ نمبر 4: اسمائے موصولہ۔ نمبر 5: معرفہ بالنداء۔ نمبر 6: معرف باللام، یعنی معرفہ بالف لام۔ اور نمبر 7: جو اس معرفہ بالنداء کے علاوہ جو پانچ ہیں، ان کی طرف جو مضاف ہو جائے۔ اور اسی طرح انہوں نے آپ کو مذکر اور مؤنث کے بارے میں بھی بتلایا۔ مؤنث کسے کہتے ہیں؟ جس میں کوئی تانیث کی علامت ہو۔ اور تانیث کی کتنی علامتیں؟ چار علامتیں۔ نمبر 1: گول تا ہے۔ نمبر 2: الفِ مقصورہ۔ نمبر 3: الفِ ممدودہ۔ نمبر 4: تاۓ مقدرہ، تاۓ مقدرہ۔ پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مؤنثِ حقیقی کسے کہتے ہیں؟ تو مؤنثِ حقیقی کسے کہتے ہیں جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان ہو۔ اور اس کے مقابلے میں کیا تھا؟ مؤنثِ لفظی، جو لفظوں کے اعتبار سے تو مؤنث ہے لیکن حقیقتاً وہ مؤنث نہیں ہے، یعنی جس کے مقابلے میں مذکر حیوان نہ ہو۔ پھر انہوں نے بتایا مفرد، تثنیہ، اور جمع کسے کہتے ہیں۔ مفرد کسے کہتے ہیں؟ جو ایک پر دلالت کرے، ایک فرد پر۔ اور تثنیہ کسے کہتے ہیں؟ جی، پوری تعریف کریں! جس مفرد کے ساتھ کیا ملا دیا جائے؟ الف نون یا یا اور نون کو، اور وہ کتنے پر دلالت کرے؟ دو پر۔ جیسے رَجُلٌ سے رَجُلَانِ اور رَجُلَیْنِ۔ تو یہ ضروری ہے، تثنیہ اسی کو کہیں گے جس کا کوئی مفرد بھی ہو۔ اگر مفرد نہیں تو اس کو تثنیہ نہیں کہیں گے۔ جیسے كِلَا اور كِلْتَا، یہ دو پر دلالت کرتے ہیں۔ كِلَا کا معنی وہ دو مذکر، كِلْتَا کا معنی وہ دو مؤنث، لیکن ان کو تثنیہ نہیں کہتے کیونکہ ان کے آخر میں الف نون نہیں۔ تثنیہ کہتے ہی اس کو ہیں جس کے آخر میں کیا ہو؟ الف نون۔ اسی طرح اِثْنَانِ اور اِثْنَتَانِ، ان کو بھی تثنیہ نہیں کہتے؛ کیونکہ اگرچہ ان کے آخر میں الف نون ہے، لیکن ان کا مفرد کوئی نہیں۔ حالانکہ تثنیہ میں کیا ضروری؟ کوئی اس کا مفرد ہو، اور پھر مفرد کے آخر میں کیا کیا جائے؟ الف نون یا یا اور نون کو جوڑا جائے۔ اس کے بعد پھر انہوں نے جمع کے بارے میں بتلایا۔ جمع کسے کہتے ہیں؟ جمع وہ ہے کہ جس کے مفرد میں کوئی تبدیلی کر دی جائے اور پھر وہ دو سے زیادہ پر دلالت کرے۔ میں تبدیلی کی یہ جمع بن گئی۔ اسی طرح رجل کی جمع کیا ہے؟ رجال۔ دیکھو رجل میں تبدیلی کی اور رجال اب یہ دو سے زیادہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور اسی طرح اسد، اسد شیر کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع کیا؟ اسد، اسد۔ یہاں دیکھو اسی مفرد کے اندر کیا ہوئی؟ تبدیلی ہو گئی۔ اور کبھی یہ تبدیلی تقدیرا ہوتی ہے، جیسے فلک کشتی کو کہتے ہیں۔ اس کا مفرد بھی فلک اور جمع بھی فلک۔ لیکن یہاں پر تو قانون ٹوٹ رہا تھا۔ نحویوں نے قانون کیا بنایا کہ جمع کسے کہتے ہیں جس کے واحد ہو، مفرد ہو اور اس مفرد میں کیا کی جائے؟ تبدیلی۔ اور یہاں تو مفرد بھی فلک، جمع بھی فلک۔ تو انہوں نے کہا تبدیلی یہاں بھی ہوئی ہے لیکن تقدیرا ہوئی ہے، یعنی فرض کر لو تبدیلی ہوئی ہے۔ فلک جب یہ مفرد ہو تو کس وزن پر؟ قفل وزن پر، قفل مفرد ہے اس کی جمع اقفال آتی ہے۔ اور جب یہ فلک جمع ہو تو یہ کس وزن پر ہے؟ اسد وزن پر ہے اور اسد جمع ہے اسد کی۔ تو فرض کر لو کہ فلک جب مفرد تھا تو وہ اور فعل وزن تھا اور جب جمع بنا تو یہ اور فعل وزن ہے۔ بظاہر تو دونوں ایک ہیں، تبدیلی تو کوئی نہیں ہوئی لیکن انہوں نے کیا کہا فرض کر لو یہاں تبدیلی ہو چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جمع کے لیے مفرد ضروری ہے، اس مفرد میں تبدیلی کر کے پھر دو سے زیادہ پر وہ دلالت کرے گا۔ اگر مفرد نہیں اور وہ ویسے ہی تین یا تین سے زیادہ پر دلالت کر رہا ہے جیسے قوم۔ قوم کتنے افراد کو کہتے ہیں؟ کم از کم تین مرد ہوں تو ان کو قوم کہتے ہیں، تین سے کم ہو تو قوم نہیں۔ اب دیکھو قوم یہ تو مفرد ہے، اس کی جمع آتی ہے اقوام، اقوام۔ تو یہ تو مفرد ہے اور تین سے زیادہ پر دلالت کر رہا ہے۔ تو تین سے زیادہ پر جو دلالت کرے اس کو جمع نہیں کہتے ورنہ اس کو بھی جمع کہنا چاہیے، بلکہ جمع تو کس کو کہتے ہیں جس کا کوئی مفرد ہو، پھر مفرد میں تبدیلی کر کے کیا بنا لو؟ جمع بنا لو۔ تو یہاں تو کوئی مفرد اس کا اور ہے ہی نہیں، یہ خود ہی مفرد ہے۔ تو اس طرح کا لفظ جو تین سے زیادہ پر، تین یا تین سے زیادہ پر دلالت کرے اس کو اسم جمع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اسم جمع، جیسے جماعت کا لفظ، جماعت کا لفظ۔ تین یا تین سے زیادہ افراد ہوں تو کیا بن جاتی ہے؟ ایک جماعت بن جاتی ہے۔ اب جماعت یہ تو خود مفرد ہے، اس کی جمع کیا آتی ہے؟ جماعات۔ لہذا اس کو جمع نہیں کہیں گے۔ جماعت کتنے افراد پر دلالت کر رہا ہے؟ تین یا تین سے زیادہ، یا یوں کہو دو سے زیادہ پر دلالت کر رہا ہے۔ جماعت کتنے پر دلالت کر رہا ہے؟ اور جمع بھی دو سے زیادہ پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس کو جمع نہیں کہیں گے۔ کیوں نہیں کہیں گے؟ کیونکہ اس کا کوئی مفرد نہیں ہے۔ مفرد ہوتا اور اس میں تبدیلی کر کے آپ نے دو سے زیادہ پر دلالت کرتا یہ، تو پھر اس کو جمع کہتے۔ تو ایسے لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ اسم جمع، جو جمع کا اسم ہے خود جمع نہیں ہے، یعنی تین پر دلالت کر رہا ہے یا زیادہ پر۔ اس کے بعد انہوں نے جمع مذكر سالم اور جمع مونث سالم کے بارے میں بتایا۔ جمع مذكر سالم کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں واؤ نون یا یا نون ملا دیں۔ اور جمع مونث سالم کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف اور تا جوڑ دیں۔ اس کے بعد معرب کے اعراب کے اعتبار سے 16 قسمیں بتلا دیں آپ کو کہ معرب جو ہے اعراب کے اعتبار سے 16 قسم پر ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرا معرب جو ہے وہ فعل مضارع ہے۔ تو اس کے بعد انہوں نے فعل مضارع کا اعراب بتلایا کہ فعل مضارع کے اعراب تین قسم پر ہے، رفع، نصب اور جزم۔ اور اعراب کے اعتبار سے خود فعل مضارع کتنی قسم پر؟ چار قسم پر۔ پہلی قسم صحیح، صحیح ہو اور ضمائر بارزہ مرفوعہ سے خالی۔ دوسرے قسم دوسری قسم معتل یائی یا واوی ہو اور ضمائر بارزہ مرفوعہ سے خالی ہو۔ تیسری قسم معتل الفی ہو اور ضمائر بارزہ مرفوعہ سے خالی۔ اور چوتھی قسم صحیح ہو یا معتل ہو لیکن آخر میں ضمیر بارز مرفوع اور نون اعرابی آتا ہو۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو انہوں نے کیا کہا تھا چار چیزیں کر لیں۔ پہلی کیا، پہلی بات کیا کی تھی؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں۔ تو اس کے لیے اس کی ساری نشانیاں دونوں کی بتلا دیں، اسم کی بھی اور فعل کی بھی اور حرف کی بھی۔ اس کے بعد کہا تھا معرب اور مبنی کو پہچان لیں، تو معرب اور مبنی کی بھی پوری تفصیل بیان کر دیں۔ مبنی کیا کیا چیزیں ہیں اور معرب کیا کیا چیزیں ہیں، اس میں متمکن بھی ہے، فعل مضارع بھی ہے، اور اس میں متمکن کا اعراب رفع، نصب اور جر کے ساتھ آتا ہے، اور فعل مضارع کا اعراب رفع، نصب اور جزم کے ساتھ آتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اب تیسرا مرحلہ آیا، کیا؟ کتنی چیزیں ذکر ہوئی تھیں؟ انہوں نے کہا تھا اگر جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو چار کام کرنا۔ نمبر ایک، اسم، فعل اور حرف کو پہچان لینا۔ تو انہوں نے نشانیاں بتا دیں اسم، فعل اور حرف کی۔ پھر دوسرا کام کیا کرو؟ معرب اور مبنی کو پہچان لو۔ تو مبنی بھی بتلا دیے، معرب بھی بتلا دیے، اس میں متمکن بھی ہے اور فعل مضارع بھی ہے معرب۔ اب تیسرا مرحلہ کیا تھا؟ عامل اور معمول کو پہچان لیں۔ تو اب وہ عامل کا کون عامل کون کون بنیں گے، کب کہاں بنیں گے، وہ اب بیان شروع کرنے لگے ہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فصل: بدان کہ عوامل اعراب بر دو قسم است۔ جان لے تو کہ اعراب کے جو عامل ہیں، عوامل جمع ہے عامل کی۔ عوامل جمع ہے عامل کی۔ بدان کہ تو جان لے کہ عوامل اعراب کہ اعراب کے جو عامل ہیں، یعنی وہ عامل جو اعراب دیتے ہیں، بر دو قسم است وہ دو قسم پر ہیں، لفظی و معنوی۔ لفظی اور معنوی، کچھ لفظی ہیں یعنی کچھ لفظ ہیں، کچھ لفظ ہیں۔ اور کچھ معنوی ہیں یعنی وہاں لفظ عامل نہیں ہوتا بلکہ معنی عامل ہوتا ہے۔ جیسے فعل مضارع، فعل مضارع پر رفع آتا ہے، اس کے لیے کوئی عامل ہے؟ نہیں، بلکہ معنی عامل ہے کہ عامل ناصب نہیں ہونا چاہیے اور عامل جازم نہیں ہونا چاہیے۔ پھر دہراؤ، فعل مضارع پر رفع آتا ہے، فعل مضارع میں رفع کے لیے کوئی عامل چاہیے؟ نہیں۔ ہاں، نصب کے لیے بھی عامل چاہیے، جزم کے لیے بھی عامل چاہیے۔ تو فعل مضارع پر رفع کب آئے گا؟ جب وہ عامل ناصب سے بھی خالی ہو اور عامل جازم سے بھی۔ جب دونوں سے خالی ہے اور آپ اس پر رفع پڑھ رہے ہیں، معلوم ہوا کوئی لفظ عمل نہیں کر رہا بلکہ یہاں عامل کون ہے؟ معنی ہے۔ کیا معنی؟ یہی معنی جو ابھی ذکر کیا کہ وہ ناصب اور جازم سے خالی ہو۔ تو کہتے ہیں جان لے تو کہ اعراب کے جو عامل ہیں وہ دو قسم پر ہیں لفظی و معنوی، کچھ لفظی ہیں اور کچھ معنوی۔ کبھی لفظوں میں عامل ہوگا، جاء زید، جاء زید۔ جاء فعل، زید مرفوع فاعل۔ فاعل مرفوع ہوتا ہے، فاعل پر رفع پڑھتے ہیں۔ تو جاء نے زید میں عمل کیا اور اس کو رفع دے دیا۔ تو اب آپ سے کوئی پوچھے کہ زید کے اندر عامل کون؟ آپ کیا کہیں گے؟ جاء فعل عامل ہے۔ اور جاء لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ لفظ ہے، آپ تلفظ کرتے ہیں یا نہیں اس پر؟ تو جاء لفظ ہے، تو دیکھو یہاں باقاعدہ لفظ عمل کر رہا ہے، تو یہ ہے عامل لفظی۔ توجہ ہے؟ زید کو کس نے رفع دیا؟ جاء نے، اور جاء کیا ہے؟ لفظ ہے، لفظ ہے، جس پہ زبان سے ہم تلفظ کرتے ہیں۔ تو یہ عامل لفظی ہوا۔ اور یضرب، یہاں پر بھی آپ رفع پڑھ رہے ہیں، کوئی لفظوں میں کوئی عامل ہے؟ نہیں، تو یہ عامل معنوی ہوا۔ توجہ ہے؟ اگر کوئی لفظ عمل کر کے کوئی اعراب دیتا ہے تو اس کو عامل لفظی کہتے ہیں۔ اور اگر کوئی لفظ نہیں ہے جو اعراب دے رہا ہے تو اس کو عامل معنوی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں لفظی بر سہ قسم است۔ اور پھر لفظی تین قسم پر ہے، جو لفظی عامل ہے وہ تین قسم پر، کیونکہ وہ عامل یا اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا۔ تین ہی قسمیں ہیں نا لفظ کی، یا اسم یا فعل یا حرف۔ تو اسم جو ہے کبھی وہ عمل کرے گا رفع یا نصب وغیرہ دے گا۔ کبھی فعل عمل کرے گا رفع، نصب وغیرہ دے گا، جیسے جاء زید، یہ زید کو کس نے رفع دیا؟ جاء نے جو کہ فعل ہے۔ اور کبھی حرف جو ہے وہ عمل کرے گا اور رفع، نصب، جر دے گا، جیسے فی الدار، یہ فی کیا ہے؟ حروف جارہ میں، یہ جر دیتا ہے، تو الدار مجرور ہے۔ تو لفظی عامل کتنی قسم پر؟ تین۔ یا وہ اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا۔ تو کہتے ہیں لفظی بر سہ قسم است، لفظی عامل تین قسم پر ہے۔ حروف و افعال و اسماء، حروف ہیں، افعال ہیں اور اسماء۔ سوال: سب سے پہلے اسم کو ذکر کرنا چاہیے تھا، پھر فعل کو، پھر حرف کو۔ لیکن مصنف نے کیا کیا؟ حروف کو پہلے ذکر کیا، فعل کو دوسرے نمبر پر اور اسم کو تیسرے نمبر پر۔ اس کی کیا وجہ؟ وجہ سمجھ لیں۔ یہ جو حروف ہیں، یاد رکھو، کچھ حروف اسم میں عمل کرتے ہیں اور کچھ حروف فعل میں عمل کرتے ہیں۔ تو حروف کا دائرہ عمل زیادہ ہوا، یہ اسم میں بھی عمل کرتے ہیں اور فعل میں بھی، اس لیے سب سے مقدم ذکر کیا ان کو۔ جبکہ فعل وہ صرف اسم کے اندر عمل کرتا ہے۔ فعل اسم کے اندر عمل کرتا ہے۔ اور اسم وہ صرف اسم کے اندر عمل کرتا ہے۔ توجہ ہے؟ حروف کس کس میں عمل کرتے ہیں؟ اسم میں بھی اور فعل میں بھی۔ اور فعل صرف کس میں عمل کرتا ہے؟ وہ صرف اسم میں عمل کرتا ہے، وہ حرف میں عمل نہیں کرتا۔ اور اسم وہ تو صرف اپنی ہی قسم میں یعنی اسم صرف اسم میں عمل کرتا ہے، فعل اور حرف میں عمل نہیں کرتا۔ تو کل قسمیں کتنی؟ تین، اسم، فعل اور حرف۔ تو حرف سب سے مقدم کیونکہ یہ باقی دونوں قسموں میں عمل کرتا ہے۔ فعل دوسرے نمبر پر کیونکہ باقی فعل ایک نکال لیا، باقی کتنی قسمیں بچیں؟ دو۔ اور فعل ان میں سے اسم کے اندر تو عمل کرتا ہے، حرف کے اندر عمل نہیں کرتا۔ اور تیسرا رہ گیا اسم، اسم کے بعد کو نکال لیا، باقی کتنے بچے؟ دو، حرف اور فعل۔ اسم نہ فعل میں عمل کرتا ہے نہ حرف میں عمل کرتا ہے، اپنی ہی جیسے کسی اسم میں عمل کرتا ہے۔ تو اسم کا درجہ سب سے کم ہوا۔ اسم بھی ایک میں عمل کرتا ہے لیکن اپنی ہی جنس میں۔ اور فعل بھی عمل کرتا ہے لیکن فعل کس میں اپنے اندر عمل کرتا ہے یا اسم میں کرتا ہے؟ تو یہ دوسری قسم کے اندر، مخالف قسم میں عمل کرتا ہے، لہذا اس کا درجہ اسم سے بڑھ گیا۔ تو سب سے پہلا درجہ کس کا؟ حروف کا، کیونکہ وہ اسم میں بھی عمل کرتے ہیں اور فعل میں بھی۔ اور دوسرا درجہ کس کا؟ فعل کا، وہ ایک میں عمل کرتا ہے لیکن مخالف قسم میں عمل کرتا ہے اپنے اندر عمل نہیں کرتا۔ اور تیسرا آخری درجہ اسم کا ہے کیونکہ اسم بھی ایک میں ہی عمل کرتا ہے لیکن وہ صرف اپنی قسم یعنی اسم ہی میں عمل کرتا ہے، باقی جو دو مخالف قسمیں ہیں یعنی فعل اور حرف ان میں وہ عمل نہیں کرتا۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں لفظی بر سہ قسم است، لفظی جو ہے وہ تین قسم پر ہے۔ حروف و افعال و اسماء، حروف ہیں، افعال ہیں اور اسماء۔ و ایں را در سہ باب یاد کنیم انشاء اللہ تعالیٰ، اور ان کو تین بابوں میں ہم ذکر کریں گے، ان کو ہم تین بابوں میں ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ تو یہ آ گیا، وہ تین باب ذکر کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ دیکھو یہاں لکھا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ میری کتاب میں ان شاء کے نون کو شین کے ساتھ جوڑ کر لکھا ہے۔ آپ کی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے؟ نہیں، یہ جڑا نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ یہ ان الگ ہے، ان الگ ہے اور شاء الگ ہے۔ تو یہ آپ جب کبھی بھی لکھیں ان شاء اللہ، تو یہ ان کے نون کو الگ لکھیں اور شاء کو الگ لکھیں۔ دونوں کو جوڑ دیا تو یہ تو انشاء لفظ بن گیا، انشاء، انشاء۔ تو انشاء، ان، شاء، الگ الگ لفظ ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، باب اول در حروف عاملہ، پہلا باب حروف عاملہ کے بیان میں، یعنی وہ حروف جو عمل کرتے ہیں۔ و درو دو فصل است، اور اس میں دو فصلیں ہیں۔ و درو، درو اصل میں کیا تھا؟ در او، در او۔ اور اس میں دو فصل است، دو فصلیں ہیں۔ ایک فصل میں وہ حروف ذکر کریں گے جو اسم میں عمل کرتے ہیں، اور ایک فصل میں وہ حروف ذکر کریں گے جو فعل کے اندر عمل کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں فصل اول در حروف عاملہ، پہلی فصل حروف عاملہ کے بارے میں۔ فصل اول در حروف عاملہ در اسم، پہلی فصل ان حروف عاملہ کے بیان میں در اسم، جو عمل کرتے ہیں کس کے اندر؟ اسم میں۔ تو یوں ترجمہ کر لیں، فصل اول در حروف عاملہ در اسم، پہلی فصل ان حروف کے بیان میں جو عمل کرتے ہیں در اسم، اسم میں۔ و آن پنج قسم است، اور وہ پانچ قسم پر ہیں۔ یعنی پانچ قسم کے حروف ہیں۔ قسم اول حروف جر، پہلی قسم حروف جر۔ پہلی قسم حروف جر ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ جر جو ہے وہ اسم کا خاصہ ہے۔ جر صرف اسم پر آتا ہے، فعل پر بھی جر نہیں آئے گا اور حرف پر بھی جر نہیں۔ کیوں نہیں آئے گا؟ کیونکہ جر جو ہے وہ حرف جر کی وجہ سے آتا ہے، اور حرف جر صرف کس پر داخل ہوتا ہے؟ اسم پر۔ تو کہتے ہیں قسم اول حروف جر، پہلی قسم حروف جر ہیں۔ و آن ہفتدہ است، اور وہ سترہ ہیں۔ ہفت دہ کا کیا معنی؟ ہفت کا معنی سات اور دہ کا معنی دس، ہفت دہ، سترہ۔ و آن ہفتدہ است، اور وہ سترہ ہیں۔ با، ایک با ہے، و من، من ہے، و الی، و حتیٰ، و فی، و لام، و رب، و واو قسم۔ واؤ آتا ہے قسم کے لیے، جیسے واللہِ، یہ واؤ کس لیے ہے؟ قسم کے لیے۔ و تائے قسم، اور کبھی تا بھی آتی ہے قسم کے لیے، تاللہِ، تا دو نقطوں والی۔ تو یہ بھی قسم کے لیے آتی ہے۔ تو واو قسم، و تائے قسم، و عن، و علیٰ، و کاف تشبیہ۔ کاف تشبیہ کے لیے آتا ہے، ایک چیز دوسری چیز جیسی ہے، تو اس کے لیے کاف لاتے ہیں۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں، زید كالأَسَدِ، زید شیر جیسا ہے۔ یا یوں کہو، زید كَعَمْرٍو، زید عمر جیسا ہے۔ تو یہ تشبیہ کے لیے کاف آتا ہے۔ و مذ، و منذ، و حاشا، و خلا، و عدا۔ یہ سترہ حروف ہیں، با ہے، من ہے، الی، حتیٰ، فی، لام، رب، واو قسم ہے، تائے قسم ہے، عن، علیٰ، کاف تشبیہ ہے، مذ، منذ، حاشا، خلا اور عدا۔ یہ سترہ حروف ہیں بھئی۔ بلکہ ان کو اشعار میں یاد جمع کیا ہے کسی شاعر نے، وہ شعر دیکھ لیں اور وہ یاد ہونا چاہیے۔ تو یہ سترہ حروف آپ کو زبانی یاد ہونے چاہئیں۔ تو کہتے ہیں ایں حروف در اسم روند، یہ حروف جو ہے اسم میں جاتے ہیں یعنی اسم پر داخل ہوتے ہیں۔ رفتن کا معنی ہے جانا۔ رفتن، جانا۔ روند، جائیں۔ توجہ ہے؟ اسی سے روند ہے، روند۔ ایں حروف در اسم روند، یہ حروف اسم میں داخل ہوتے ہیں، اسم پر داخل ہوتے ہیں۔ فی الدار، الدار کیا ہے؟ اسم۔ اور اس پر کیا داخل ہو گیا؟ فی۔ یعنی اسم کے شروع میں آ جاتے ہیں۔ اسم پر داخل ہونے کا کیا معنی؟ اسم سے پہلے آتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ایں حروف در اسم روند، یہ حروف اسم پر داخل ہوتے ہیں۔ و آخرش را بجار کنند، اور اس کے آخر کو جر دیتے ہیں۔ چون المال لزیدٍ، جیسے کہ المال لزیدٍ، یہ مال زید کا ہے۔ المال، یا وہ مال زید کا ہے۔ تو دیکھو یہ لزیدٍ، یہ لام جارہ ہے، لام جارہ۔ اور یہ زید پر داخل ہوا اور اس نے زید کو جر دے دیا، لزیدٍ۔ اب آپ اس کو لزیداً یا لزیدٌ نہیں پڑھ سکتے، کیونکہ یہ لام جارہ کیا کر رہا ہے زید کو؟ جر دے رہا ہے، کسرا آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں المال لزیدٍ، وہ مال زید کا ہے۔ کسی خاص مال کی طرف اشارہ کیا۔ دوم حروف مشبہ بالفعل۔ دوسری قسم جو ہے، بھئی انہوں نے کیا بیان کیا؟ یہ باب ہے کس کے بارے میں؟ حروف عاملہ۔ اور حروف عاملہ یا اسم میں عمل کریں گے یا فعل میں۔ تو پہلی فصل کس کے بارے میں؟ وہ حروف عاملہ جو کس میں عمل کریں؟ اسم میں۔ اور بتلایا کہ یہ کتنی قسم پر ہیں؟ پانچ قسم پر۔ پہلی قسم حروف جارہ، وہ ذکر کر دیے۔ اب دوسری قسم آ گئی۔ کہتے ہیں دوم حروف مشبہ بالفعل، دوسرے جو ہیں حروف مشبہ بالفعل ہیں۔ و آن شش است، اور وہ چھ ہیں۔ انّ، و انّ، و کانّ، و لکنّ، و لیت، و لعلّ۔ تو انّ ہے، انّ ہے، کانّ ہے، لکنّ، لیت، لعلّ۔ یہ چھ حروف جو ہیں، یہ حروف مشبہ بالفعل کہلاتے ہیں۔ کیا کہلاتے ہیں؟ حروف مشبہ بالفعل۔ یعنی یہ فعل کے مشابہ ہیں، فعل کے مشابہ۔ لفظوں میں بھی فعل کے مشابہ اور معنی میں بھی فعل کے مشابہ۔ مشابہ۔ لفظوں میں کیسے مشابہ؟ کہ ان کے حروف گنو۔ انّ، کتنے حروف ہیں؟ تین۔ یہ حرفِ مشدد دو حرف ہوتے ہیں۔ تو ایک شروع میں حمزہ، یہ جو الف ہے یہ حمزہ۔ میں نے بتلایا تھا، الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر الف لکھا ہو اور وہ متحرک ہو، اس پر زبر، زیر یا پیش ہو تو سمجھ جائیں یہ حمزہ ہے الف کی صورت، صورت الف کی ہے اور دراصل حمزہ۔ تو انّ میں ایک شروع میں حمزہ آیا اور آگے نونِ مشدد آیا اور مشدد حرف کتنے حرف ہوتے ہیں؟ دو۔ تو گویا دو نون آ گئے، تو تین حرف ہو گئے، یعنی یہ ثلاثی ہے۔ انّ کیا ہے؟ ثلاثی۔ انّ، اس میں کتنے حروف؟ اس میں بھی تین، یہ بھی ثلاثی ہے۔ کأنّ، اس میں کتنے حروف؟ چار ہیں، کاف، حمزہ اور دو نون، تو یہ رباعی ہے، رباعی۔ ولکنّ، لیکنّ کے اندر؟ پانچ۔ لام کے بعد الف پڑھ رہا ہوں میں کہ نہیں پڑھ رہا؟ ہاں الف بھی ہے۔ تو لام، الف، کاف اور دو نون کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ تو یہ خماسی ہوا۔ لیتَ، اس میں کتنے حروف؟ تین، یہ بھی ثلاثی۔ لعلّ، اس میں چار، تو یہ رباعی ہے۔ تو دیکھیں جیسے فعل ثلاثی، رباعی اور خماسی ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی ثلاثی، رباعی اور خماسی ہیں۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ہم نے تو فعل خماسی نہیں پڑھا، صرف ثلاثی پڑھا ہے اور رباعی پڑھا ہے۔ کوئی فعلِ خماسی پڑھا، خماسی مجرد یا خماسی مزید فیہ؟ نہیں۔ تو فعل تو صرف ثلاثی اور رباعی ہوتا ہے اور آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ فعل کی طرح ہیں، جیسے فعل ثلاثی ہوتا ہے، رباعی ہوتا ہے، خماسی۔ اسی طرح یہ بھی ثلاثی ہیں، رباعی ہیں اور خماسی۔ بھئی یاد رکھو، وہ ثلاثی اور رباعی، وہ اور تقسیم ہے، وہ حروفِ اصلی کے اعتبار سے ہے۔ تین حرفِ اصلی ہوں تو فعل کیا کہلائے گا؟ ثلاثی۔ اور چار حرفِ اصلی ہوں تو فعل کیا کہلائے گا؟ رباعی۔ یہاں حرفِ اصلی نہیں، صرف مطلقاً حروف کو دیکھنا ہے۔ کسی کے حروف تین ہیں، کسی کے چار ہیں اور کسی کے پانچ۔ اسی طرح فعل کے اندر آپ غور کر لیں۔ ضربَ، کتنے حروف؟ تین۔ پہلے صیغے کو بس دیکھنا ہے۔ منعَ، کتنے حروف؟ تین۔ اکرمَ، کتنے حروف؟ چار۔ تو یہ رباعی ہے۔ حرفِ اصلی نہیں، حرفِ اصلی کے اعتبار سے تو اکرمَ بھی کیا ہے؟ ثلاثی ہے البتہ مزید فیہ ہے، لیکن کل حروف کتنے ہیں اکرمَ میں؟ چار۔ تو یعنی کل حروف کے اعتبار سے یہ رباعی ہے۔ اسی طرح افتعلَ، آپ نے کیا پڑھا گردانوں میں؟ اکتسبَ، کتنے حروف؟ پانچ۔ الف، کاف، تا دو نقطوں والی، سین اور با، تو پانچ حروف ہیں۔ تو دیکھا، فعل بھی کبھی ثلاثی ہوتا ہے، کبھی رباعی اور خماسی۔ حروفِ اصلی کے اعتبار سے نہیں، ویسے ہی کتنے حروف ہوتے ہیں؟ یعنی ماضی کے پہلے صیغے میں کبھی تین ہوتے ہیں، کبھی چار اور کبھی پانچ۔ تو ان کے اندر بھی کوئی تین حرف والا ہے، کوئی چار والا اور کوئی پانچ والا۔ طریقہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ حروف مشبہ بالفصل کہلاتے ہیں۔ یہ فعل کے مشابہ ہیں، حروف میں مشابہ ہیں آپ نے دیکھ لیا۔ نیز یہ مشابہ ہیں ماضی کے ساتھ۔ ماضی مبنی علی الفتح ہوتی ہے۔ ضربَ، آخر میں کیا پڑھا؟ فتحہ۔ اکرمَ، آخر میں کیا پڑھا؟ فتحہ۔ بھئی یہ یاد رکھنا، آپ اکثر جگہ پڑھتے ہیں کہ ماضی مبنی علی الفتح ہے، یہ پہلا صیغہ مراد ہے۔ ورنہ سارے صیغے مبنی علی الفتح نہیں۔ ضربَ، با پر کیا ہے؟ زبر۔ ضربا، تثنیہ میں آ جاؤ، ابھی بھی با پر کیا ہے؟ فتحہ۔ ضربوا، اب با پر کیا ہے؟ ضمہ۔ تو یہ ماضی، یہ جمع جو ہے مبنی علی الضم ہے۔ آگے چلو۔ ضربَت، ابھی بھی با پر کیا ہے؟ فتحہ۔ ضربَتا، با پر فتحہ۔ اور ضربنَ، اب با پر با ساکن ہے، تو یہ مبنی علی السکون ہے۔ تو بس آپ آخری حرف کو دیکھتے جائیں اور اس کے مطابق۔ تو ماضی کبھی مبنی علی الفتح ہوتی ہے، کبھی مبنی علی الضم اور کبھی مبنی علی السکون۔ لیکن مبنی علی الفتح زیادہ بولتے ہیں کیونکہ پہلا صیغہ مراد لے لیتے ہیں اور پہلا صیغہ تو مبنی علی الفتح ہوتا ہے۔ تو ضربَ، ماضی مبنی علی الفتح ہے۔ اکرمَ، یہ بھی کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ اکتسبَ، یہ بھی کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ احمرّ، یہ بھی کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ تو دیکھا، تو جیسے ماضی مبنی علی الفتح ہوتی ہے، اسی طرح یہ سارے بھی مبنی علی الفتح ہیں۔ انّ، آخر میں کیا آیا؟ فتحہ۔ انّ، اس میں بھی فتحہ۔ کأنّ، لیکنّ، لیتَ، لعلّ، سب کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح ہیں۔ تو یہ ماضی کے مشابہ ہو گئے، حروف کے اعتبار سے بھی ثلاثی، رباعی اور خماسی اور مبنی علی الفتح ہونے میں بھی۔ اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ فعل کے مشابہ ہیں۔ یہ فعل کا معنی ادا کرتے ہیں۔ فعل کا معنی، انّ اور انّ، ان کا معنی ہوتا ہے حققتُ۔ اس کا اردو میں ترجمہ کرتے ہیں "بے شک"۔ انّ اور انّ کا ترجمہ عموماً کیا کرتے ہیں؟ بے شک یا یقیناً، یقیناً۔ انّ زیداً قائمٌ، بے شک زید کھڑا ہے۔ پہلے کیا تھا؟ زیدٌ قائمٌ۔ زیدٌ قائمٌ، ترجمہ کیا؟ زید کھڑا ہے۔ پھر اسی پر انّ لے آئے۔ انّ زیداً قائمٌ، اب ترجمہ کیا کریں گے؟ بے شک زید کھڑا ہے، یا یوں کہو یقیناً زید کھڑا ہے۔ جب بے شک نہیں تو بات یقینی ہوئی، اس لیے یقیناً کہہ دو، یقیناً زید کھڑا ہے۔ تو انّ اور انّ کا ترجمہ بے شک کے ساتھ کرتے ہیں عموماً۔ اور کأنّ، کأنّ اس کا ترجمہ کرتے ہیں "گویا کہ"۔ گویا کہ، کأنّ زیداً اسدٌ، گویا کہ زید شیر ہے۔ گویا کہ زید شیر ہے، دیکھو زید کو شیر کے ساتھ تشبیہ دی۔ اچھا، ولکنّ، لیکنّ کا ترجمہ عموماً "لیکن" کے ساتھ کرتے ہیں۔ زیدٌ حاضرٌ، زید حاضر ہے، لیکنّ عمراً غائبٌ، لیکنّ عمراً غائبٌ، لیکن عمر غائب ہے۔ تو لیکنّ کا ترجمہ لیکن سے۔ لیتَ، لیتَ تمنا کے لیے آتا ہے۔ لیتَ الشبابَ یعودُ یا لیتَ الوقتَ یعودُ، کاش وہ وقت یا گزرا ہوا وقت واپس آ جائے۔ تمنا کی، تو لیتَ کا ترجمہ عموماً "کاش" کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیتَ الوقتَ یعودُ، کاش وہ وقت جو گزرا ہوا ہے وہ واپس آ جائے۔ تو لیتَ کا ترجمہ کاش کے ساتھ۔ اور لعلّ، اس کا ترجمہ "شاید" کے ساتھ کرتے ہیں۔ لعلّ عمراً غائبٌ، شاید عمر غائب ہوگا یا امید ہے عمر غائب ہوگا، موقع کے مطابق جو بھی ترجمہ بہتر لگے۔ تو یہ فعل والا معنی ادا کرتے ہیں۔ انّ اور انّ، فعل، یہ بے شک ترجمہ کرتے ہیں۔ اور تو یہ فعل کا ترجمہ ہے، حققتُ، فعل کیا ہے؟ تو یہ لفظوں میں بھی فعل کی طرح، یعنی یہ ثلاثی اور رباعی اور خماسی ہیں۔ اور نیز یہ مبنی علی الفتح ہیں جیسے فعلِ ماضی ہوتا ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے بھی فعل کی طرح کہ یہ فعل والا معنی ادا کرتے ہیں۔ تو انّ اور انّ، یہ حققتُ کا معنی ادا کرتے ہیں۔ معنی وہی، یقیناً اور بے شک۔ اور کأنّ، یہ تشبیہ والا معنی ادا کرتے ہیں، گویا کہ۔ تو شبھتُ، شبھتُ فعل ہے۔ یہ اس کا معنی ادا کر رہا ہے۔ ولکنّ، ولکنّ یہ استدراک کے لیے آتا ہے، یہ استدرکتُ کا معنی ادا کرتا ہے۔ کس کا معنی؟ استدراک کہتے ہیں کہ کوئی شخص کوئی بات ذکر کرے اور اس بات سے دوسرے کے ذہن میں ایک وہم آ سکتا ہے، تو آگے وہ لیکنّ کے ذریعے اس وہم کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں استدراک۔ کہ کلام سے کسی کے ذہن میں کوئی وہم پیدا ہو سکتا ہے، لہٰذا مصنف آگے، بولنے والا آگے لیکنّ لا کر اس وہم کو دور کر دیتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا، زیدٌ حاضرٌ، زید حاضر ہے۔ آپ کے ذہن میں فوراً وہم آیا کہ زید اور عمر گہرے دوست ہیں، جب زید حاضر ہے تو عمر بھی ضرور حاضر ہوگا۔ تو آپ کے ذہن میں یہ وہم آ سکتا ہے۔ جب میں کیا کہوں گا؟ زیدٌ حاضرٌ، تو میں اس وہم کو دور کرتا ہوں۔ ولکنّ عمراً غائبٌ، لیکن عمر کیا ہے؟ غائب۔ تو دیکھو ایک وہم جو آپ کے ذہن میں آ سکتا تھا، میں نے لیکنّ کے ذریعے اس کو دور کر دیا۔ اس کو کہتے ہیں استدراک۔ کیا کہتے ہیں؟ استدراک۔ تو لیکنّ کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے۔ اور لیتَ تمنا کے لیے آتا ہے، تمنیتُ، دیکھو تمنیتُ فعل کا معنی ادا کر رہا ہے۔ اور لعلّ ترجی یعنی امید کے لیے آتا ہے اور ترجیتُ، یہ کیا ہے؟ فعل۔ تو یہ سارے فعل والا معنی ادا کرتے ہیں۔ انّ اور انّ، حققتُ۔ دہرا لیں بھئی۔ انّ اور انّ، حققتُ، اس فعل کا معنی ادا کرتا ہے۔ کأنّ، شبھتُ۔ کأنّ، شبھتُ۔ پھر دہرائیں، انّ اور انّ، حققتُ۔ کأنّ، شبھتُ۔ لیکنّ، استدرکتُ۔ لیتَ، تمنیتُ۔ اور لعلّ، ترجیتُ۔ تو دیکھو لفظوں میں بھی یہ فعل کی طرح اور معنی میں بھی فعل کی طرح، اس لیے ان کو حروفِ مشبہ بالفعل کہتے ہیں۔ اور یاد رکھیے، یہ دو اسموں پر داخل ہوتے ہیں۔ پہلے کو نصب دیتے ہیں اور دوسرے کو رفع۔ یعنی ایک کو نصب دیتے ہیں اور ایک کو رفع۔ جس کو نصب دیتے ہیں، اس کو ان کا اسم کہتے ہیں کہ یہ ان کا اسم ہے۔ جس کو یہ کیا کریں؟ نصب دیں۔ اور جس کو یہ رفع دیں، اس کو ان کی خبر کہتے ہیں۔ جیسے زیدٌ قائمٌ، یہ پورا جملہ ہے۔ کتنے اسم ہیں؟ دو۔ اس پر ذرا انّ لے آؤ۔ اس پر ذرا انّ لے آؤ۔ انّ زیداً قائمٌ۔ انّ ان دو اسموں پر آیا اور اس نے پہلے اسم کو نصب دیا۔ پہلے تھا زیدٌ قائمٌ، زیدٌ پر رفع تھا۔ اب انّ زیداً، انّ نے کیا کیا؟ زیداً کو نصب دے دیا اور قائمٌ کو رفع دے دیا۔ تو انّ زیداً قائمٌ۔ اب پہلے زیدٌ تھا مبتدا اور قائمٌ تھا خبر۔ لیکن اب جب انّ آ گیا، اب ان کو مبتدا خبر نہیں کہیں گے بلکہ کہیں گے یہ جو زید ہے، انّ زیداً، یہ زید یہ انّ کا اسم ہے۔ اور قائمٌ یہ انّ کی خبر ہے۔ توجہ ہے؟ زیدٌ قائمٌ، زیدٌ پہلے کیا تھا؟ مبتدا، مبتدا۔ اور قائمٌ کیا تھی؟ مبتدا کی خبر۔ لیکن اب، اب انّ زیداً قائمٌ، اب کیا ہے؟ زیداً انّ کا اسم ہے اور قائمٌ یہ انّ کی خبر ہے۔ اور زیدٌ قائمٌ کا کیا ترجمہ تھا؟ زید کھڑا ہے۔ اور انّ زیداً قائمٌ، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ بے شک زید کھڑا ہے، یا دوسرا ترجمہ کر لو، یقیناً زید کھڑا ہے۔ تو کہتے ہیں: "این حروف را اسمے باید منصوب"، ان حروف کے لیے اسم چاہیے۔ "باید" کا معنی چاہیے، چاہیے۔ "این حروف را اسمے باید"، ان حروف کے لیے ایک اسم چاہیے منصوب۔ کیسا اسم چاہیے؟ منصوب، یعنی یہ اس کو نصب دیں گے۔ ان حروف کے لیے ایک اسم چاہیے منصوب "و خبرے مرفوع" اور ایک خبر مرفوع چاہیے، یعنی خبر کو یہ کیا کریں گے؟ رفع۔ اسم کو نصب دیں گے اور خبر کو رفع اور اسم کو کیا کہیں گے؟ یہ ان کا اسم ہے۔ سب میں اسی طرح ہے۔ کأنّ زیداً اسدٌ، توجہ ہے؟ کأنّ زیداً اسدٌ، یہ زیداً کیا ہے؟ کأنّ کا اسم۔ اور اسدٌ، یہ کأنّ کی خبر ہے۔ لیتَ الوقتَ یعودُ، یہ الوقتَ کیا ہے؟ لیتَ کا اسم اور یعودُ یہ کیا ہے؟ لیتَ کی خبر ہے۔ تو کہتے ہیں: "این حروف را اسمے باید منصوب و خبرے مرفوع"، ان حروف کے لیے ایک اسم منصوب چاہیے اور ایک خبر مرفوع، "چوں انّ زیداً قائمٌ"، جیسے انّ زیداً قائمٌ۔ "زید را اسمِ انّ گویند"، یا "زید را اسمِ انّ گویند"، زید کو انّ کا اسم کہتے ہیں۔ "و قائمٌ را خبرِ انّ"، اور قائمٌ کو انّ کی خبر کہتے ہیں۔ "بدان کہ"، جان لے تو "کہ انّ و انّ حروفِ تحقیق است"، کہ انّ اور انّ حروفِ تحقیق ہیں۔ انّ اور انّ کیا ہیں؟ حروفِ تحقیق۔ ان کا ترجمہ میں نے کیا بتلایا؟ کیا کریں گے؟ بے شک۔ معلوم ہوا جب شک نہیں تو بات تحقیقی ہے، یقینی ہے۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ حروفِ تحقیق، یعنی ان کے ذریعے کوئی یقینی بات کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: "انّ و انّ حروفِ تحقیق است"، انّ اور انّ حروفِ تحقیق ہیں۔ "و کأنّ حرفِ تشبیہ"، اور کأنّ کیا ہے؟ حرفِ تشبیہ ہے، تشبیہ دینے کے لیے آتا ہے۔ "و لیکنّ حرفِ استدراک"، اور لیکنّ حرفِ استدراک ہے۔ استدراک کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک کلام سے ایک وہم پیدا ہو اور آگے کلام لا کر اس لیکنّ کے ذریعے اس وہم کو دور کر دیا جائے۔ تو لیکنّ حرفِ استدراک۔ "و لیتَ حرفِ تمنی"، اور لیتَ حرفِ تمنی ہے۔ اس کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ کاش کے ساتھ، کاش۔ "و لعلّ حرفِ ترجی"، اور لعلّ حرفِ ترجی ہے، یعنی امید کے لیے ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی۔ حاصلِ کلام پھر سن لیں۔ آج آپ نے پڑھا کہ اعراب کو، کے جو عامل ہیں وہ دو قسم پر ہیں۔ کچھ لفظی ہیں اور کچھ معنوی۔ لفظی وہ ہے جب لفظ عمل کرے اور معنوی وہ ہیں جہاں لفظ عمل نہیں کرتا بلکہ معنی عمل کرتا ہے۔ اور لفظی پھر بتایا تین قسم پر ہیں۔ یا حروف ہوں گے یا افعال ہوں گے یا اسماء۔ حروف کو مقدم کیا کیونکہ حروف اسم میں بھی عمل کرتے ہیں اور فعل میں بھی۔ پھر فعل کو دوسرے نمبر پر لائے کیونکہ فعل اسم کے اندر یعنی اپنے مخالف قسم میں عمل کرتا ہے اگرچہ ایک میں ہی عمل کرتا ہے۔ اور آخر میں اسم کو لائے کیونکہ اسم بھی اگرچہ ایک میں ہی عمل کرتا ہے، لیکن اپنے مخالف قسم میں عمل نہیں کرتا بلکہ اپنے ہی مثل، یعنی اسم اسم ہی میں عمل کرتا ہے۔ جی، اس کے بعد انہوں نے بتلایا کہ ہم تین باب ذکر کریں گے۔ ایک میں حروف کا عمل بتائیں گے، ایک میں فعل کا عمل بتلائیں گے اور ایک میں اسم کا عمل بتلائیں گے۔ تو پہلا باب جو ہے حروفِ عاملہ کے بارے میں شروع کیا اور بتلایا یہ حروف دو قسم پر ہیں۔ کچھ حروف اسم میں عمل کرتے ہیں، وہ ایک فصل میں ہم ذکر کریں گے۔ اور کچھ حروف فعل میں عمل کرتے ہیں، وہ دوسری قسم میں ہم ذکر کریں گے۔ اور پھر بتلایا کہ وہ حروف جو اسم میں عمل کرتے ہیں، وہ پانچ قسم کے ہیں۔ دو قسمیں آج ہم نے پڑھیں۔ پہلی قسم کیا؟ حروفِ جارہ۔ یہ حرفِ، یہ اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اسم کو جر دیتے ہیں۔ اور دوسری قسم پڑھی حروفِ مشبہ بالفعل اور حروفِ مشبہ بالفعل ان کو حروفِ مشبہ بالفعل کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ فعل کے مشابہ ہیں، لفظوں میں بھی اور معنی میں بھی۔ لفظوں کے اندر مشابہت یہ کہ فعل جیسے ثلاثی، رباعی اور خماسی ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی ثلاثی، رباعی اور خماسی ہیں۔ نیز مشابہت لفظوں میں یہ بھی ہے کہ جیسے فعل، فعلِ ماضی مبنی علی الفتح ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی سب کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح ہیں۔ اور معنی کے اندر بھی یہ فعل کے مشابہ ہیں کہ یہ مختلف افعال کا معنی ادا کرتے ہیں۔ انّ اور انّ، یہ حروفِ تحقیق ہیں، یہ حققتُ کا معنی ادا کرتے ہیں۔ اور کأنّ، یہ حرفِ تشبیہ ہے، یہ، یہ شبھتُ کا معنی ادا کرتا ہے۔ اور لیکنّ، یہ حرفِ استدراک ہے اور یہ استدرکتُ فعل کا معنی ادا کرتا ہے۔ اور لیتَ، یہ حرفِ تمنی ہے اور یہ تمنیتُ فعل کا معنی ادا کرتا ہے۔ اور لعلّ، یہ حرفِ ترجی ہے اور یہ ترجیتُ کا معنی ادا کرتا ہے۔ تو دیکھو لفظوں میں بھی فعل کے ساتھ مشابہت اور معنی میں بھی فعل کے ساتھ مشابہت ہے بھئی۔ اور یہ ایک اسم اور خبر چاہتے ہیں۔ اسم کو یہ نصب دیتے ہیں اور خبر کو یہ رفع دیتے ہیں۔ انّ زیداً قائمٌ، یہ زیداً کیا ہے؟ انّ کا اسم۔ اور قائمٌ، یہ کیا ہے؟ انّ کی خبر۔ انّ کا اسم ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، اسی لیے انّ زیداً، میں نے نصب پڑھا۔ اور انّ کی خبر ہمیشہ مرفوع ہوتی ہے، اس لیے میں نے قائمٌ رفع کے ساتھ پڑھا۔ تو یہ سارے اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ یہ سب، یہ چھ ہیں چھ، اور چھ کے چھ اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں اور اپنے خبر کو رفع دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔ سبق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بھئی، اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی۔ آمین۔
56 approved lectures · 24 of 56