دیکھیے بھئی کتاب پر۔ پانزدهم اسم منقص، و آن اسمیست که آخرش یای ماقبل مکسور باشد چون قاضی، رفعش به تقدیر ضمه باشد و نصبش به فتحه لفظی و جرش به تقدیر کسره چون جاء القاضی و رأیت القاضی و مررت بالقاضی۔
اعراب کے اعتبار سے ہم اسم کی قسمیں پڑھ رہے ہیں بھئی۔ مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ اسم کا اعراب تین قسم پر ہے: رفع، نصب اور جر۔ اور اعراب کے اعتبار سے اسم متمکن جو ہے وہ 16 قسم پر ہے، یعنی اس کی 16 قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کیا؟ مفرد منصرف صحیح، جیسے زیدٌ۔ دوسرا مفرد منصرف جاری مجری صحیح، جیسے دلوٌ۔ تیسرا جمع مکسر منصرف، جیسے رجالٌ۔ اور ان کا رفع ضمه کے ساتھ، نصب فتحه کے ساتھ اور جر کسره کے ساتھ۔
چوتھی قسم آپ نے پڑھی، وہ جمع مؤنث سالم ہے۔ یہ ساری قسمیں آپ کو زبانی یاد ہونی چاہئیں بھئی۔ کتاب کی طرف دیکھ کر پڑھتے ہیں تو فائدہ نہیں بھئی۔ یہ اعراب ہر جگہ، جہاں بھی عبارت پڑھیں گے، یہی کام آئے گا۔ تو زبانی ساری قسمیں اور ان کی ایک ایک مثال، اور پھر اعراب جو جو مثال وہ دے رہے ہیں، وہ یاد کرتے جائیں بھئی۔ چوتھی قسم تھی جمع مؤنث سالم، جیسے مسلماتٌ۔ اس کا رفع ضمه کے ساتھ، اور نصب اور جر کسره کے ساتھ۔ یہاں فتحه نہیں آئے گا۔ تو اس کا نصب بھی جر کے تابع ہے، یعنی جر کی صورت میں، جر کی طرح کا ہوتا ہے۔
پانچویں قسم تھی غیر منصرف۔ اور غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس میں منع صرف کے دو سبب ہوں یا کوئی ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ اور اسباب منع صرف کتنے ہیں؟ نو ہیں۔ نمبر ایک: عدل۔ نمبر دو: وصف۔ نمبر تین: تانیث۔ نمبر چار: معرفہ۔ نمبر پانچ: عجمہ۔ نمبر چھ: جمع۔ نمبر سات: ترکیب۔ نمبر آٹھ: وزن فعل۔ اور نمبر نو: الف نون زائدتان بھئی۔ اور ان میں سے کتنے سبب ہیں جو دو کے قائم مقام ہیں؟ تین ہیں۔ کون کون سے؟ تانیث بالف مقصورہ، اور تانیث بالف ممدودہ، اور نمبر تین جمع منتهی جموع جو ہے، اس کا صیغہ۔
اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ غیر منصرف پر کسره بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ جیسے اس کی مثال: جاءنی عمرُ، رأیت عمرَ، مررت بعمرَ۔ اچھا، اس کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمه کے ساتھ۔ نصب اور جر دونوں فتحه کے ساتھ۔ تو دیکھو اس کا جر نصب کے تابع ہے، یعنی نصب جیسا ہے۔ مسلمات میں نصب کس کی طرح تھا؟ جر کی طرح۔ اور یہاں پر غیر منصرف میں جر کس کی طرح ہے؟ نصب کی، جر کس کی طرح ہے؟ نصب کی طرح ہے، یعنی اس جیسا ہے۔
اگلی قسم کیا تھی؟ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ، جس وقت کہ وہ کیا ہوں؟ مضاف ہوں یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ یہ ساری شرطیں ہوں: اسمائے ستہ میں سے ہو، مکبر ہو یعنی مصغر نہ ہو، اور موحد ہو یعنی مفرد ہو، تثنیہ جمع نہ ہو، اور یا متکلم کے علاوہ کی طرف مضاف ہو۔ تو اس وقت اس کا اعراب کس کے ساتھ آئے گا؟ رفع واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ، اور جر یا کے ساتھ۔ جیسے جاء أخوک، رأیت أباك، اور مررت بأبيك۔ اور اسمائے ستہ مکبرہ کون سے ہیں، وہ بھی ساتھ روزانہ دہرایا کریں: نمبر ایک ابٌ، نمبر دو اخٌ، نمبر تین حمٌ، نمبر چار هنٌ، نمبر پانچ فمٌ، اور نمبر چھ ذو مال۔ اس میں ذو مال میں سے کیا مراد ہے؟ ذو مراد ہے۔
اعراب کے اعتبار سے اسم کی ساتویں قسم: مثنیٰ، جیسے رجلان۔ آٹھویں قسم: کلا اور کلتا، جب کہ یہ مضاف ہوں کس کی طرف؟ ہاں، بات پوری کریں، آٹھویں قسم کلا اور کلتا جب یہ مضاف ہوں ضمیر کی طرف۔ اور نویں قسم: اثنان اور اثنتان۔ ان کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ۔ نصب اور جر ایسی یا جس کا ماقبل مفتوح ہو۔
اچھا، انہوں نے تثنیہ کو الگ شمار کیا، کلا اور کلتا کو اور اثنان اثنتان کو الگ۔ میں نے وجہ بتلائی تھی، کیونکہ تثنیہ یا مثنیٰ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا کوئی مفرد ہو اور مفرد کے آخر میں الف یا نون، یا یا نون ملا کر تثنیہ بنایا جائے۔ اور کلا اور کلتا اس میں تو الف نون ہے ہی نہیں۔ تو یہ اگرچہ دو پر دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ اصطلاحی تثنیہ یا مثنیٰ نہیں ہیں۔ اور اسی طرح اثنان اور اثنتان، ان کے آخر میں اگرچہ الف نون ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا مفرد نہیں۔ کیونکہ تثنیہ میں کیا ضروری؟ کوئی مفرد ہو اور اس مفرد کے آخر میں کیا ملایا جائے؟ الف نون یا یا نون کو، جب کہ اس میں ایسا نہیں۔
اور دسویں قسم: جمع مذكر سالم، جیسے مسلمون۔ گیارہویں قسم: اولو۔ اولو کس معنی میں ہے؟ ذو کے معنی میں ہے، یعنی یہ اسی ذو کی جمع ہے۔ لیکن میں نے بتایا تھا یہ لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں ہے، بلکہ معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے۔ لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع کیوں نہیں؟ کیونکہ ذو میں کیا ہے؟ ذال اور واؤ۔ اور جمع کس کو کہتے تھے؟ کہ مفرد میں تبدیلی کر کے جمع بنائی جائے۔ اور اولو، اولو کے اندر تو ذال ہے ہی نہیں سرے سے۔ تو یہ معلوم ہوا اسی میں تبدیلی نہیں کی گئی، یہ الگ لفظ ہے۔ ہاں، معنی کے اعتبار سے یہ اس کی جمع کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ ذو مال کا کیا معنی تھا؟ مال والا۔ اور اولو مال کا کیا معنی؟ مال والے۔ تو یہ معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں ہے۔
اور بارہویں قسم تھی عشرون تا تسعون۔ تو یہ جو مسلمون ہے، اولو ہے، اور عشرون تا تسعون ہے، ان کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ ماقبل مضموم۔ اور نصب اور جر یا ماقبل مکسور کے ساتھ۔ جیسے جاء مسلمون، اور رأیت مسلمین، اور مررت بمسلمین۔
تیرہویں قسم جو آپ نے پڑھی تھی وہ اسم مقصور ہے بھئی، اسم مقصور۔ اسم مقصور کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف مقصورہ آئے۔ الف مقصورہ کس الف کو کہتے ہیں؟ جس کے بعد ہمزہ نہ ہو۔ اور اگر الف کے بعد ہمزہ ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ الف ممدودہ۔ تو اسم مقصور وہ اسم ہے کہ اس کے آخر میں الف مقصورہ ہو، جیسے موسیٰ۔
اور چودہویں قسم تھی جمع مذكر سالم کے علاوہ کوئی اور اسم، جب وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء متکلم کی طرف۔ تو ان دونوں کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ ان دونوں کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری۔ اسم مقصور کا بھی اور کوئی اسم جب مضاف ہو یاء متکلم کی طرف علاوہ جمع مذكر سالم کے۔ تو تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری، یعنی رفع بھی تقدیری، نصب بھی تقدیری، جر بھی تقدیری۔ یعنی لفظوں کے اعتبار سے یہ اسم اسی طرح رہے گا، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جیسے جاء موسیٰ، رأیت موسیٰ، مررت بموسیٰ۔ یا وہ دوسرا اسم لے آئیں: جاء غلامی، رأیت غلامی، مررت بغلامی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، کوئی اسم جب مضاف ہوتا ہے یا کی طرف، تو اس یا کو ساکن پڑھنا بھی ٹھیک: غلامی، دیکھو یا کو میں ساکن پڑھ رہا ہوں۔ اور اس یا پر فتحه پڑھنا بھی صحیح ہے: غلامیَ۔ غلامی اور غلامیَ، دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ لیکن یہ جو یا پر زبر پڑھ رہا ہوں، یہ کوئی اعراب نہیں ہے، عرب دونوں طرح اس کو پڑھتے ہیں، کبھی غلامی پڑھ دیتے ہیں اور کبھی غلامیَ پڑھ دیتے ہیں۔
اب آگے دیکھیے بھئی سبق۔ پانزدهم اسم منقص، و آن اسمیست که آخرش یای ماقبل مکسور باشد چون قاضی، رفعش به تقدیر ضمه باشد و نصبش به فتحه لفظی و جرش به تقدیر کسره چون جاء القاضی و رأیت القاضی و مررت بالقاضی۔
تو 15ویں قسم جو ہے اسم منقوص ہے، منقوص۔ منقوص لفظ کو دیکھ رہے ہیں بھئی؟ میم، نون، قاف ہے دو نقطوں والا، واؤ اور صاد: منقوص۔ یہ ناقص سے ہے، ناقص۔ اسم منقوص اس اسم کو کہتے ہیں جس کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کسره ہو۔ جیسے قاضی۔ دیکھو قاضی کے آخر میں یا ہے اور یا سے ماقبل کسره ہے۔ تو اسم منقوص کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس کے آخر میں یا ہو اور یا کا ماقبل کسره ہو بھئی، جیسے قاضی۔
طلباء کو بعض اوقات اشتباہ لگتا ہے: غلامی، اس کو بھی وہ اسم منقوص کہہ دیتے ہیں، اور قاضی، اس کو بھی اسم منقوص کہتے ہیں، دونوں کی صورتیں ایک جیسی ہیں۔ لیکن خود آپ غور کر لیں بھئی، قاضی، قاضی کا کیا معنی؟ اردو میں بھی قاضی، وہی ترجمہ ہوگا۔ اور ایک ہی لفظ ہے یہ۔ جب کہ غلامی، یہ دو لفظ ہیں بھئی۔ ایک غلام الگ ہے اور یا متکلم کی ضمیر الگ ہے بھئی۔ تو غلامی کا کیا ترجمہ؟ میرا غلام۔ یہ دیکھو، یہ جو میرا کا لفظ آپ لا رہے ہیں، یہی بتلا رہا ہے کہ یہاں دو لفظ ہیں۔ قاضی میں کہا آپ نے: میرا قاضی؟ نہیں، وہاں قاضی کا صرف ترجمہ آپ نے قاضی کے ساتھ ہی کیا۔ اور غلامی کا ترجمہ کیا کیا؟ میرا غلام۔ یا کتابی، یہ کیا ہے؟ میری کتاب۔ تو یہ الگ قسم ہے جو ابھی 14ویں قسم گزری کہ کوئی اسم علاوہ جمع مذكر سالم کے جب مضاف ہو کس کی طرف؟ یاء متکلم کی طرف، تو وہاں دو لفظ ہوتے ہیں۔ ایک اسم ہوتا ہے اور ایک آگے متکلم کی ضمیر۔ جیسے کتابی، کتاب الگ ہے اور یا متکلم کی ضمیر الگ ہے۔ جب کہ اسم منقوص میں اس یا جو ہوگی وہ اسی لفظ کا حصہ ہوگی۔
تو اسم منقوص ناقص سے ہے بھئی۔ طلباء کو عموماً اسم مقصور اور اسم منقوص میں بھی اشتباہ لگ جاتا ہے۔ ایک کیا ہے؟ اسم مقصور۔ ایک کیا ہے؟ اسم منقوص۔ آپ نے تو ابھی پڑھا، تو ہو سکتا ہے ابھی آپ فرق آسانی سے کر لیں، لیکن جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو پھر شبہ پیدا ہوتا ہے۔ بعض طلباء اسم مقصور کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ اسم منقوص۔ اور کبھی اسم مقصور کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ اسم منقوص۔ بھئی نام یاد رکھیں: اسم مقصور، دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس کے آخر میں کیا ہوگا؟ الف مقصورہ، دیکھو اسی سے نام بنا: اسم مقصور۔ اور اسم منقوص ناقص سے ہے، ناقص۔ اور ناقص کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں کیا ہو؟ حرف علت ہو۔ تو یہاں پر بھی آخر میں قاضی کے اندر آخر میں یا ہے اور ماقبل کسره ہے، تو یہ اسم منقوص ہے۔
اسم منقوص کا اعراب یاد رکھنا بھئی۔ اسم منقوص کے اندر رفع بھی تقدیرًا آئے گا اور جر بھی تقدیرًا آئے گا، جب کہ فتحه لفظی ہوگا۔
جیسے جاء القاضی۔ اصل میں تھا جاء القاضیُ۔ توجہ ہے؟ جاء القاضیُ، یا پر ضمه تھا۔ لیکن آپ صرف میں پڑھ چکے ہیں، یا پر ضمه ثقیل ہے، اس لیے گرا دیا۔ تو کیا بن گیا؟ جاء القاضی۔ تو یا پر ضمه ثقیل ہے، یا پر ضمه نہیں آتا۔ تو آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے بھئی۔ تو یا پر ضمه کیا ہے؟ ثقیل، تو یا پر ضمه نہیں آئے گا۔ تو جاء القاضی، تو دیکھو ضمه لفظًا موجود ہے؟ نہیں۔ تو کیا کہیں گے؟ ضمه تقدیرًا ہے۔ فرض کر لو ضمه آ گیا ہے۔ فرض کر لو ضمه، کیوں، فرض کیوں کرتے ہیں؟ وجہ میں پچھلے سبق میں ذکر کر چکا ہوں، کیوں فرض کرتے ہیں یہ اعراب کو؟ کیونکہ یہ معرب ہے، اور معرب کہتے کس کو ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہو۔ تو یہاں پر بھی فرض کر لو کہ اس کا آخر بدل رہا ہے۔ اگر آخر نہیں بدلے گا، یہ تو معرب کی تعریف سے خارج ہو جائے گا۔ تو یہاں فرض کر لو کہ تبدیلی آ گئی ہے۔ اور اس، تو یا پر ضمه ثقیل ہے، یا پر ضمه ثقیل ہے تو اس ضمہ کو گرا دیا۔
اور فتحه لفظًا آئے گا: رأیت القاضیَ، یہ یا پر آپ فتحه پڑھیں گے۔ فتحه، تو یہ اعراب کا فتحه ہے۔ میں نے بتایا تھا غلامی اور غلامیَ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ توجہ ہے؟ غلامی اور غلامیَ، دونوں طرح پڑھنا جائز۔ وہ اعراب نہیں تھا۔ وہ یا، غلامی، کتنے لفظوں سے مرکب؟ دو: ایک غلام اور ایک یا ہے متکلم کی۔ اور یا متکلم کی ضمیر ہے، اور ضمیر وہ مبنی ہے یا معرب ہے؟ ضمیر تو کیا ہے؟ مبنی۔ اور مبنی پر تو اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ تو اس پر جو فتحه تھا، وہ ویسے حرکت تھی۔ غلامی اور غلامیَ، یا کو ساکن پڑھنا بھی صحیح، اور یا پر فتحه پڑھنا بھی صحیح۔ لیکن یہاں پر قاضیَ کے اندر جو یا پر فتحه پڑھ رہے ہیں، یہ اعراب ہے باقاعدہ۔ یہ یا قاضی کے لفظ کی اپنی یا ہے، کوئی الگ کلمہ نہیں ہے۔
تو قاضی کے اندر رفع کیا آئے گا؟ تقدیرًا۔ اور نصب کیا آئے گا؟ لفظًا آئے گا۔ لفظًا کا کیا معنی؟ یعنی ہم اس پر تلفظ کریں گے: قاضیَ۔ سننے سے نصب کا پتہ چل رہا ہے آپ کو؟ قاضیَ، دیکھو سننے سے ہی آپ کو پتہ چل رہا ہے، تلفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ یہ جو میں زبان سے ادا کر رہا ہوں، تلفظ کر رہا ہوں، اس سے ہی آپ کو پتہ چل گیا۔ اب پھر بتائیں مجھے: القاضی، جی میں نے کوئی اعراب پڑھا؟ نہیں۔ القاضیَ، اب میں نے کوئی اعراب پڑھا؟ دیکھا، سننے سے ہی آپ کو تلفظ سے ہی آپ کو پتہ چل گیا۔ تو یہ اعراب ہوا لفظی۔ اعرابِ لفظی کا کیا معنی؟ تلفظ سے پتہ چل جائے۔
تو لہذا القاضی، یہ حالتِ رفعی میں ہے، تو رفع ہوا تقدیرًا۔ فرض کر لو رفع آ چکا۔ اور القاضیَ، یہ فتحه کیا ہے؟ لفظی ہے، لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے۔
اور جر جو ہے، تو وہ وہ بھی تقدیرًا آتا ہے۔ اصل میں تھا القاضیِ، یا کے نیچے زیر تھی۔ لیکن یا پر جیسے...
م ثقیل ہے اسی طرح یا پر کسرہ بھی ثقیل ہے، لہٰذا وہ کسرہ گر جائے گا تو القاضی رہ جائے گا۔ تو حالت رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ جاء القاضی۔ اور حالت نصبی میں؟ رأیت القاضی، یا فتحہ لفظی ہے۔ اور جر کی صورت میں؟ مررت بالقاضی۔ دیکھو یہاں جر بھی تقدیراً ہے۔ وجہ سمجھ میں آ رہی ہے؟
دیکھو، میں نے آپ کو بتلایا تھا مبنی کے اندر اعراب نہیں آتا، مبنی اعراب کو جگہ نہیں دیتا۔ چاہے کوئی مانع، کوئی رکاوٹ ہو یا رکاوٹ نہ ہو، جیسے هؤلاء۔ هؤلاء کے آخر میں کیا ہے؟ ہمزہ، اور ہمزہ پر اعراب آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا؟ ہمزہ پر تو اعراب آ سکتا ہے، شیءٌ، شیءًا، شیءٍ۔ دیکھا، ادھر ہمزہ کے اوپر تینوں اعراب آ رہے ہیں۔ لیکن هؤلاء مبنی ہے اور هؤلاء کے ہمزہ کے نیچے زیر، تو ہر حال میں یہ زیر برقرار رہتی ہے۔ جاء هؤلاءِ، رأیت هؤلاءِ، مررت بهؤلاءِ۔ دیکھا، تینوں حالتوں میں یکساں ہے حالانکہ کوئی مانع نہیں، ہمزہ پر تینوں اعراب آ سکتے ہیں۔ تو مبنی پر اعراب نہیں آتا، چاہے کوئی مانع ہو، چاہے کوئی مانع نہ ہو۔ لیکن معرب میں ہمیشہ اعراب آتا ہے، الا یہ کہ کوئی مانع آ جائے، کوئی رکاوٹ آ جائے۔
بعض اوقات تو اعراب کا پڑھنا ممکن ہی نہیں ہوتا، جیسے جاء موسیٰ۔ موسیٰ کے آخر میں کیا آیا؟ الفِ مقصورہ۔ اور الف پر حرکت کوئی آ ہی نہیں سکتی، اعراب کوئی آ ہی نہیں سکتا اس کے اوپر۔ اور غلامی، دوسری قسم کیا تھی؟ وہ اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ یاءِ متکلم کی طرف سوائے جمع مذکر سالم کے۔ اس پر بھی وہاں پر بھی غلامی، غلام الگ ہے اور یا الگ۔ غلام پر اعراب نہیں آ سکتا کیونکہ غلام کے بعد کیا آ رہی ہے؟ یا، اور یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ، لہٰذا غلام پر اعراب نہیں آ سکتا، رکاوٹ آ گئی۔
اسی طرح القاضی کے اندر دیکھ لیں، اسمِ منقص جو ہے، وہاں بھی رکاوٹ ہے۔ کہ یہاں اعراب کا پڑھنا ممکن تو ہے، القاضِیُ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ یا القاضِیِ کسرہ بھی پڑھ سکتے ہیں، لیکن ثقیل ہے، عربی زبان میں اس کو بڑا ثقیل سمجھا جاتا ہے، وہ اس کو پڑھتے ہی نہیں ہیں، اتنا ثقیل سمجھتے ہیں۔ تو موسیٰ لفظ کے اندر تو اعراب کا پڑھنا ممکن ہی نہیں تھا، اور القاضی میں اعراب کا پڑھنا ممکن تو ہے لیکن ثقیل ہے یعنی مشکل ہے زبان پر اس کی ادائیگی، اس لیے عرب نہیں پڑھتے۔
تو معرب میں اعراب آئے گا مگر یہ کہ کوئی رکاوٹ آ جائے جس کی وجہ سے اعراب پڑھا ہی نہ جا سکے یا اعراب کا پڑھنا مشکل ہو، ثقیل ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں قاضی میں ثقیل ہے۔ اسمِ منقص کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس کے آخر میں یا ہو اور ماقبل اس کے کسرہ ہو۔ اور اس کا اعراب رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمہ تقدیری کے ساتھ۔ نصب؟ فتحہ لفظی۔ اور جر؟ تقدیری کسرہ۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟
دیکھیے بھئی ترجمہ، پانزدہم اسمِ منقص، 15واں جو ہے اسمِ منقص ہے۔ وآن اسمے است اور وہ وہ اسم ہے کہ آخرش یاءِ ماقبل مکسور باشد کہ اس کا آخر یاءِ ماقبل مکسور ہو۔ چون قاضی، رفعش بہ تقدیرِ ضمہ باشد اس کا رفع جو ہے تقدیرِ ضمہ کے ساتھ ہوگا۔ و نصبش بہ فتحہ لفظی اور اس کا نصب بفتحہ لفظی فتحہ لفظی کے ساتھ ہوگا۔ و جرش بہ تقدیرِ کسرہ اور اس کا جر تقدیرِ کسرہ کے ساتھ ہوگا۔ چون جاء القاضی، دیکھو رفع تقدیراً ہے۔ و رأیت القاضیَ، دیکھو نصب جو ہے وہ فتحہ لفظی کے ساتھ ہے۔ و مررت بالقاضی، اور جر بھی تقدیراً ہے۔
اس میں ایک اور بات یاد رکھنا، ایک اور بات یاد رکھنا۔ کہ یہ جو قاضی جیسے الفاظ ہیں، ان پر الف لام آئے تو اور طرح پڑھنا ہے اور الف لام کے بغیر ہوں تو اور پڑھیں گے بھئی۔ دیکھو، ابھی ہم نے الف لام کے ساتھ پڑھا۔ حالتِ رفعی میں کیسے پڑھا؟ جاء القاضی۔ حالتِ نصبی میں؟ رأیت القاضیَ۔ اور حالتِ جری میں؟ مررت بالقاضی۔ دیکھو یا کو آپ پڑھ رہے ہیں، لیکن حالتِ رفعی میں یا ساکن ہے، حالتِ جری میں بھی یا ساکن ہے، اور حالتِ نصبی میں یا پر فتحہ ہے، فتحہ لفظی۔ توجہ ہے؟ پھر سنو۔ حالتِ رفعی میں آپ یا پڑھ رہے ہیں لیکن یا ساکن ہے۔ حالتِ جری میں بھی آپ یا پڑھ رہے ہیں لیکن یا ساکن ہے۔ اور حالتِ نصبی میں یا پر کیا ہے؟ فتحہ ہے لفظی بھئی، توجہ ہے؟
اب اسی سے اگر الف لام ختم کر دیں، الف لام ختم کر دیں، اب تنوین آئے گی، تنوین آئے گی۔ قاضی، قاضی لفظ ہے۔ اب ذرا اس یا پر تنوین لے آؤ حالتِ رفعی میں۔ قاضِیٌ، توجہ ہے؟ قاضِیٌ۔ قاضِیٌ، یہ قاضِیٌ کے آخر میں یہ نون میں کس چیز کا پڑھ رہا ہوں؟ یہ تنوین ہے، الف لام نہیں ہے نا۔ الف لام ہو تو تنوین نہیں آتی۔ یاد رکھیں الف لام اور تنوین جمع نہیں ہوتے۔ الف لام آ جائے تو تنوین نہیں آئے گی، اور تنوین موجود ہو تو الف لام نہیں ہوتا۔ تو قاضِیٌ میں الف لام نہیں، لہٰذا تنوین آ گئی۔ اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے۔ تو قاضِیٌ پڑھا آپ نے، اور قاضِیٌ میں یا پر ضمہ ہے اور آپ صرف میں پڑھ چکے ہیں یا پر ضمہ ثقیل ہے۔ تو لہٰذا یا پر سے ضمہ گرا دیا، یا ساکن ہو گئی۔ اب کیسے پڑھیں گے؟ قاضِین۔
قاضِین، یا ضاد اور نون کے درمیان یا ہے جو ساکن ہو گئی۔ پہلے کیا تھا؟ قاضِیٌ۔ پھر یا کیا ہوئی؟ ساکن، پڑھنی ابھی بھی ہے، موجود ہے۔ کیسے پڑھیں گے؟ قاضِین، ضاد کو لمبا کریں، پتہ چلے کہ یا اس کے بعد موجود ہے، تو قاضِین۔ تو اجتماعِ ساکنین آ گیا، یا بھی ساکن، آگے نون جو تنوین والا ہے وہ بھی ساکن۔ تو اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ آیا، اور اس صورت میں اگر اول مدہ ہو، دو ساکنین میں سے اول مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں۔ یہاں پر بھی یا مدہ ہے، اس کو گرا دیں گے۔
مدہ کسے کہتے ہیں؟ واؤ، الف اور یا، جب ان سے ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو تو ان کو حروفِ مدہ کہتے ہیں۔ واؤ سے پہلے ضمہ آ جائے، مسلمون، دیکھو یہ میم کو لمبا کرنا پڑا، کیوں؟ کیونکہ اس کے مابعد کیا ہے؟ واؤ حرفِ مدہ ہے۔ حرفِ مدہ کسے کہتے ہیں؟ واؤ سے پہلے کیا ہو؟ ضمہ، الف سے پہلے فتحہ، اور یا سے پہلے کسرہ ہو، توجہ ہے؟ تو مسلمون کے آخر میں جو واؤ ہے، وہ کون سا ہے؟ واؤِ مدہ ہے۔ مسلمین کے آخر میں جو یا ہے، یا کون سی یا ہے؟ یاءِ مدہ ہے۔ اور الف سے ماقبل تو ہمیشہ فتحہ ہی ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تینوں حروف جب ان سے ماقبل حرکت ان کے موافق ہو تو ان کو حروفِ مدہ کہتے ہیں۔ واؤ کے موافق ہے ضمہ، تو واؤ سے ماقبل ضمہ ہو اور واؤ ساکن ہو تو اس کو حرفِ مدہ کہیں گے۔ الف ساکن ہوتا ہے اور اس سے پہلے آتا ہی فتحہ ہے، تو الف بھی ہمیشہ حرفِ مدہ ہوتا ہے۔ اور یا، یا جب ساکن ہو اور ماقبل اس کے کسرہ ہو جو اس کے موافق ہے تو اس کو حرفِ مدہ کہتے ہیں۔
تو قاضِیٌ، قاضِیٌ تھا، پھر یا پر ضمہ ثقیل تھا، گرا دیا، کیا بن گیا؟ قاضِین۔ یا بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین آیا، دو ساکن اکٹھے ہو گئے۔ اور اول یا ہے اور یا حرفِ مدہ ہے یہاں پر، کیونکہ یا سے ماقبل کسرہ ہے۔ تو ایسی ساکن یا جس سے پہلے کسرہ ہو، اس کو حرفِ مدہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ایسا واؤ، ایسا واؤ ساکن جس سے پہلے ضمہ ہو تو اس واؤ کو حرفِ مدہ کہتے ہیں۔ اور اسی طرح الف سے پہلے ہمیشہ فتحہ ہوتا ہے، تو الف بھی کیا ہے؟ حرفِ مدہ۔ مدہ کا کیا معنیٰ؟ کھینچنا۔ دیکھو اس میں اسی حرکت کو کھینچ کر لمبا کیا جاتا ہے۔ مسلمون، دیکھو اسی ضمہ کو لمبا کر دیا۔ مسلمین، دیکھو اسی میم کی زیر کو لمبا کر دیا۔
جی، تو قاضِیٌ تھا، پھر کیا کیا؟ یا پر ضمہ ثقیل تھا، گرا دیا، کیا بنا؟ قاضِین۔ پھر اجتماعِ ساکنین ہوا، یا بھی ساکن، نون بھی ساکن۔ اور جب اجتماعِ ساکنین ہو اور اول ساکن حرفِ مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں۔ تو یا گر گئی، کیا بن گیا؟ قاضٍ۔ پہلے تھا قاضِین، اب بن گیا قاضٍ۔ اور اس کو لکھتے کیسے ہیں؟ ضاد کے نیچے دو زیر ڈال دیتے ہیں، یا کو لکھتے بھی نہیں ہیں۔ قاضٍ، قاف الف اور ضاد، اور ضاد کے نیچے دو زیر۔ یعنی تنوین ڈال دی تو قاضٍ۔ تو حالتِ رفعی میں پڑھیں گے، جاء قاضٍ۔ جاء قاضٍ، یہ میں رفع پڑھ رہا ہوں۔ اصل میں قاضٍ کیا تھا؟ قاضِیٌ تھا، توجہ ہے؟ جاء قاضٍ، اصل میں کیا تھا؟ قاضِیٌ تھا۔ پھر یا پر ضمہ ثقیل، گرا دیا، کیا بن گیا؟ قاضِین۔ پھر اجتماعِ ساکنین سے یا بھی گر گئی تو کیا بن گیا؟ قاضٍ۔ جاء قاضٍ۔
اب کہیں کتاب میں لکھا ہو قاضٍ، قاف الف اور ضاد، اور ضاد کے نیچے دو زیر۔ اور کوئی آپ سے پوچھے یہ کون سی قسم ہے اعراب کے اعتبار سے اسم کی؟ تو آپ یاد رکھنا، یہ وہی اسمِ منقص ہے۔ یہ وہی اسمِ منقص ہے۔ کوئی اعتراض کرے گا کہ اسمِ منقص تو اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں یا ہو اور ماقبل کسرہ ہو، یہاں تو کوئی یا موجود نہیں۔ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ یا تقدیراً موجود ہے۔ کس وجہ سے گری ہے؟ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گری ہے، ورنہ یا یہاں یا موجود تھی۔ اگر الف لام ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ جاء القاضی۔ اب یا نہیں گرے گی کیونکہ تنوین نہیں ہے۔ اور تنوین اور یا میں تو اجتماعِ ساکنین آتا تھا تو یا گرتی تھی۔ اب تو اجتماعِ ساکنین ہے ہی نہیں، لہٰذا یا نہیں گری، جاء القاضی، رأیت القاضیَ، مررت بالقاضی۔ توجہ ہے؟
اور حالت، جب الف لام نہ ہو، پھر کیسے پڑھیں گے؟ جاء قاضٍ، اور رأیت قاضِیًا، فتحہ آئے گا اسی طرح۔ جاء، الف لام کی صورت میں کیسے پڑھتے تھے؟ رأیت القاضیَ، وہاں یا پر فتحہ آتا تھا، تنوین نہیں۔ لیکن جب الف لام نہیں ہے تو تنوین آئے گی، رأیت قاضِیًا۔ اور جری حالت میں پھر اسی طرح، مررت بقاضٍ۔ اصل میں کیا تھا؟ قاضِیٍ، قاضِیٍ، حالتِ جری میں۔ پھر یا پر کسرہ ثقیل، گرا دیا، یا ساکن ہو گئی، کیا بن گیا؟ پھر اسی طرح قاضِین بن گیا۔ پھر یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی تو کیا بن گیا؟ قاضٍ۔ تو حالتِ رفعی میں بھی پڑھیں گے قاضٍ، اور حالتِ جری میں بھی پڑھیں گے قاضٍ، اور حالتِ نصبی میں قاضِیًا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
اب پھر دہراؤ، الف لام کے ساتھ کیسے پڑھیں گے؟ حالتِ رفعی میں القاضی۔ پھر پڑھو، حالتِ رفعی میں القاضی۔ حالتِ نصبی میں القاضیَ، اور حالتِ جری میں القاضی۔ اور اگر الف لام نہ ہو، پھر حالتِ رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ قاضٍ۔ حالتِ نصبی میں قاضِیًا، اور حالتِ جری میں قاضٍ۔ تو جہاں کہیں آپ کو ایسا لفظ مل جائے قاضٍ، تو آپ سمجھ جائیں، یا یہ حالتِ رفعی میں ہے یا حالتِ جری میں ہے، کیونکہ ان دو حالتوں میں یا گرتی ہے۔
تو یہاں آپ نے دیکھا، قاضٍ کون سی قسم ہے اسم کی؟ اسمِ منقص ہے۔ اگر کوئی کہے یا کدھر گئی؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ یا تقدیراً موجود ہے۔ کس وجہ سے گری ہے؟ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گری ہے۔ اگر اجتماعِ ساکنین نہ ہوتا، یا نہ گرتی، جیسے الف لام لے آؤ تو اجتماعِ ساکنین نہیں ہوگا اور یا بھی نہیں گرے گی۔
اور اسی طرح اسمِ مقصور میں بھی کبھی الف تقدیراً ہوتا ہے، گر جاتا ہے۔ جیسے ہُدًى، ہُدًى، ہُدًى۔ آپ سے کوئی پوچھے یہ 16 قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ آپ بتائیں کہ یہ اسمِ مقصور ہے، ہُدًى۔ بھئی وہ کہے گا اسمِ مقصور تو اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، یہاں تو کوئی الف نہیں ہے، ہُدًى پڑھ رہا ہوں میں۔ تو آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ الف تقدیراً موجود ہے، اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا ہے۔ اصل میں کیا تھا؟ ہُدَیٌ، ہُدَیٌ، توجہ ہے؟ ہاء، دال اور یا، اور یا پر تنوین لے آئے، ہُدَیٌ۔
پھر یا پر ضمہ یا پر ثقیل، نہیں نہیں، یہ قانون دوسرے نمبر پر لگتا ہے۔ اول یہ دیکھو، واؤ اور یا متحرک ہوں اور ماقبل فتحہ ہو تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے۔ توجہ ہے؟ قاضٍ، قاضِیٌ تھا۔ وہاں یا سے ماقبل فتحہ تھا؟ قاضِیٌ، نہیں، وہاں تو یا سے ماقبل کسرہ تھا۔ توجہ نہیں ہے میرا خیال۔ قاضِیٌ میں یا پر سے ہم نے ضمہ گرایا، کیوں گرایا؟ ثقیل تھا۔ لیکن یاد رکھو، یہ قانون دوسرے نمبر پر لگتا ہے۔ اس سے پہلے ایک اور قانون، یا اور واؤ متحرک ہوں، ماقبل فتحہ ہو تو اس کو الف سے بدلتے ہیں۔ جیسے قَالَ اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ۔ واؤ متحرک، ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔
تو یہاں پر بھی ہُدَیٌ تھا، ہُدَیٌ۔ اور یا پر ضمہ ثقیل ہے، لیکن اس سے پہلے ایک اور قانون لگتا ہے، کون سا قانون؟ قَالَ والا، کہ واؤ یا یا متحرک ماقبل مفتوح۔ تو قَالَ والا کہہ لیں یا رَمَى والا کہہ لیں، دونوں کو ملا کر ایک ہی قانون بنا دیا کہ واؤ اور یا متحرک ماقبل فتحہ ہو تو اس کو الف سے بدلتے ہیں۔ تو ہُدَیٌ، یا متحرک ہے، ماقبل دال پر فتحہ ہے۔ یا کو کس سے بدلا؟ الف سے، الف سے۔ اور تنوین کا نون ابھی بھی موجود ہے، کیسے پڑھیں گے؟ ہُدَان۔ پہلے کیا تھا؟ ہُدَیٌ۔ اب کیا ہے؟ ہُدَان۔ الف بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہٖ آیا۔ اول مدہ ہے الف، اس کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ ہُدًى، ہُدًى۔
تو یہ کون سی قسم ہے؟ اسمِ مقصور ہے۔ الف تھا یا نہیں ابھی آپ نے دیکھا؟ تو الف وہ اجتماعِ ساکنین سے گر گیا ہے، ورنہ یہاں الف موجود ہے۔ تو ہُدًى، اس کو لکھتے کیسے ہیں؟ قاضٍ کو کیسے لکھا تھا؟ یا لکھی تھی کہ نہیں لکھی؟ وہاں یا نہیں لکھیں گے، ضاد کے نیچے دو زیر ڈال دیں گے۔ لیکن یہاں یا لکھیں گے، ہُدًى۔ کیسے؟ ہاء، دال اور یا، اور دال کے اوپر دو زبریں ڈال دیں گے۔ ہاء، دال اور یا۔ یاد رکھو، جو یا آخر میں ہو اور الف سے بدل جائے، اس کو لکھتے ہیں۔ جو یا آخر میں ہو اور الف سے
بدل جائے، اس یا کو لکھتے ہیں۔ اور قاضٍ کے اندر یا الف سے کوئی بدلی تھی؟ نہیں، لہٰذا وہ یا گر گئی، لیکن ہدًى میں یا کس سے بدلی تھی؟ الف سے۔ یہ لکھیں گے تو ہا، دال اور یا، اور دال کے اوپر دو زبریں ڈال دیں گے، تو اس طرح ہدًى۔ اسی طرح فتًى، فتًى۔ فا، تا دو نقطوں والی اور یا۔ فتًى کا معنی ہوتا ہے جوان، جوان۔ یہ بھی اصل میں کیا تھا؟ فتَيٌ تھا، پھر یا کس سے بدلی؟ الف سے، تو کیا بنا؟ فتَان۔ پھر الف اجتماعِ ساکنین سے گر گیا تو کیا بن گیا؟ فتًى۔
تو اس کی بہت سی مثالیں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ تو فتًى آپ سے کوئی پوچھے، یہ سولہ قسموں میں کون سی قسم ہے، آپ کیا کہیں گے؟ اسمِ مقصور ہے۔ ہدًى کیا ہے؟ اسمِ مقصور۔ معنًى، معنًى، یہ بھی کیا ہے؟ اسمِ مقصور ہے۔ معنًى بھی اسی طرح ہے بھئی، اصل میں کیا تھا؟ معنَيٌ۔ تو یہ معنًى پڑھتے ہیں، اور ہاں جب الف لام آ جائے، پھر یا نہیں گرتی۔
پھر اسی ہدًى پر آ جائیں ذرا۔ ہدًى، اصل میں کیا تھا؟ ہدَيٌ۔ اچھا، اس پر ذرا الف لام لے آؤ۔ اَلہُدَیُ، توجہ ہے؟ اب تنوین نہیں ہے۔ اَلہُدَیُ، تو یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے، اَلہُدَى۔ تو اب وہ الف نہیں گرے گا، اَلہُدَى، اَلمَعرَفَى، اَلمَعنَى۔ توجہ ہے؟ اَلمَعنَى۔ اگر الف لام نہ ہوتا کیسے پڑھتے؟ معنًى۔ اَلمَعنَى، الف لام کے بغیر پڑھو: معنًى۔ اَلہُدَى، الف لام کے بغیر پڑھو: ہدًى۔ اَلفَتَى، اس کو الف لام کے بغیر پڑھو: فتًى۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو بہت سے لفظ ایسے ملیں گے جن کے آخر میں تنوین آ رہی ہوگی، دو زبر ہوں گے، آپ سمجھ جائیں یہ اسمِ مقصور ہے۔ اور بہت سے لفظ ایسے ملیں گے کہ آخر میں الف کے بعد جو حرف ہوگا اس کے نیچے دو زیریں ہوں گی، جیسے قاضٍ۔ آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ اسمِ منقوص۔ رامٍ، رامٍ، رمى یرمی سے اسمِ فاعل کیا آتا ہے؟ رامٍ۔ وہ بھی اصل میں کیا تھا؟ رامِیٌ تھا بھئی، تو قاضی کی طرح تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے بھئی۔ شانزدہم: جمع مذکر سالم مضاف بہ یائے متکلم۔ سولھویں قسم بھئی: جمع مذکر سالم مضاف بہ یائے متکلم، جب وہ مضاف ہو یائے متکلم کو۔ بھئی چودھویں قسم کیا بتلائی تھی؟ کوئی بھی اسم مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف، علاوہ جمع مذکر سالم کے۔ جمع مذکر سالم کو نکال دیا تھا۔ اب اس کو علیحدہ قسم کی صورت میں ذکر کر رہے ہیں کہ جب جمع مذکر سالم یہ مضاف ہو یائے متکلم کی طرف تو اس کا اعراب کیا ہوگا۔ چودھویں قسم کا اعراب کیا تھا؟ تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری تھا۔ لیکن جمع مذکر سالم جب مضاف ہوتا ہے یائے متکلم کی طرف، تو دو حالتوں میں اس کا اعراب لفظی ہے، ایک حالت میں اعراب تقدیری ہے۔ توجہ ہے؟
جیسے مسلمون، مسلمون، یہ کیا ہے؟ جمع مذکر سالم۔ اس کی اضافت کر دی یائے متکلم کی طرف۔ اور ایک اور ضابطہ یاد رکھنا، یہ جو تثنیہ کا نون ہوتا ہے، اور یہ جو جمع مذکر سالم کا نون ہوتا ہے، جب اس کی اضافت کی جائے تو یہ دونوں نون گر جاتے ہیں۔ رجلانِ، یہ نون کون سا ہے؟ تثنیہ والا۔ اور مسلمون، یہ نون کون سا ہے؟ جمع والا۔ تو یہ جو تثنیہ اور جمع کے نون ہیں، جب یہ مضاف بنتے ہیں، تو یہ نون دونوں گر جاتے ہیں۔ تو رجلانِ، یہ نون ہے، اس کی اضافت کریں گے تو یہ نون گر جائے گا۔ اور مسلمون کے آخر میں نون ہے، جب اضافت کریں گے تو یہ نون گر جائے گا۔
لہٰذا میں مسلمون کی اضافت کرتا ہوں یا کی طرف۔ مسلمون + یا، یا کو میں نے ساتھ جوڑا۔ جیسے ہی یا کو جوڑا نون گر گیا۔ تو کیا بن گیا؟ مسلموویا۔ توجہ ہے؟ مسلموویا، نون کیوں گرا؟ اضافت کی وجہ سے۔ اچھا، اس کے بعد مسلموویا، واؤ اور یا آخر میں اکٹھے ہو گئے۔ اور یہ قانون ہے صرف میں آپ نے پڑھا ہے کہ واؤ اور یا جب اکٹھے ہو جائیں، چاہے واؤ پہلے ہو چاہے یا پہلے ہو، اور ان میں سے پہلا ساکن ہو، تو اس واؤ کو یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ واؤ اور یا اکٹھے ہو جائیں، چاہے واؤ پہلے ہو چاہے یا پہلے، اور ان میں سے پہلا والا ساکن ہو، تو واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ تو مسلموویا، واؤ اور یا اکٹھے ہو گئے۔ اور ان میں سے پہلے کون ہے؟ واؤ، اور وہ ساکن ہے۔ تو واؤ کو یا کیا، اور اس کا یا میں ادغام کیا، تو کیا بن گیا؟ مسلمُیَّا، مسلمُیَّا۔ توجہ ہے؟ اور اب مسلمُیَّا، آخر میں یائے مشدد، یائے مشدد اور اس سے پہلے میم پر ضمہ ہے، حالانکہ یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ چاہتی ہے۔ لہٰذا ماقبل والے میم کو کسرہ دے دیا، تو بن گیا مسلمِیَّ۔ کیا بن گیا؟ مسلمِیَّ بن گیا۔
تو جب جمع مذکر سالم کی اضافت ہو یائے متکلم کی طرف، تو اس کو ہمیشہ اسی طرح پڑھتے ہیں: مسلمِیَّ۔ کیسے پڑھتے ہیں؟ مسلمِیَّ۔ جاء مسلمِیَّ، رأیت مسلمِیَّ، مررت بمسلمِیَّ۔ تینوں حالتوں میں یہ ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حالتِ رفعی میں اس کا اعراب ہے تقدیری، اور حالتِ نصبی جری میں ہے اس کا اعراب لفظی۔ توجہ ہے؟
حالتِ رفعی میں... پہلے تو ایک بات یہ یاد رکھیں، غلامی، غلامی، کوئی بھی اسم جب مضاف ہو یائے متکلم کی طرف تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ اعراب تقدیری ہوتا ہے۔ اور غلامی، غلام کا اعراب الگ اور یا جو مضاف الیہ ہے اس کا اعراب الگ ہے۔ وہ مضاف الیہ ہے، وہ مجرور ہے۔ تو غلامی سارے کا اکٹھا اعراب نہیں ہوتا۔ غلامی میں غلام کا اعراب الگ بتاؤ گے کہ یہ مرفوع ہے، منصوب ہے يا مجرور۔ اور یا جو مضاف الیہ ہے اس کا اعراب الگ بتاؤ گے۔ اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ تو یا جو ہے وہ مجرور محلاً ہوگی کیونکہ مبنی ہے بھئی، اور مضاف الیہ ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
تو مسلمِیَّ بھی اسی طرح ہے۔ یہاں مسلمون کا اعراب الگ بتاؤ گے، اور جو آخر میں یا مضاف الیہ ہے اس کا اعراب الگ بتائیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب توجہ کرنا بھئی۔ یہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ تینوں حالتوں میں یکساں رہے گا: جاء مسلمِیَّ، رأیت مسلمِیَّ، مررت بمسلمِیَّ۔ لیکن اس کا اعراب ایک حالت میں تقدیری ہے حالتِ رفعی میں۔ توجہ کرنا بھئی، پھر اب آپ کو بات سمجھ میں آ گئی تو پھر خود ہی ذہن میں بیٹھ جائے گی۔ اس کا اعراب ایک حالت میں تقدیری ہے اور دو حالتوں میں لفظی ہے۔ کیا معنی لفظی؟ یعنی تلفظ میں وہ اعراب آئے گا۔ ایک حالت میں تقدیری ہے، اور وہ کون سی حالت؟ حالتِ رفعی۔ حالتِ رفعی میں یہ مسلمِیَّ کا اعراب تقدیری، اور حالتِ نصبی جری میں اس کا اعراب لفظی۔ بھئی کیوں؟ تقدیری کیوں، لفظی کیوں حالانکہ تینوں حالتوں میں ہم ایک جیسا پڑھ رہے ہیں: جاء مسلمِیَّ، رأیت مسلمِیَّ، مررت بمسلمِیَّ۔
بات چل رہی ہے مسلمون کی، اور وہ مضاف ہے اس وقت کس کی طرف؟ یا کی طرف۔ تو یا کا اعراب تو آپ نے الگ ہی بتانا ہے۔ یہ مسلمون اس وقت اس کے جب اضافت کی حالت میں ہے یائے متکلم کی طرف، تو حالتِ رفعی میں رفع کیا ہوگا؟ تقدیراً۔ اور نصب اور جر کیا ہوں گے؟ لفظاً۔ اب خود غور کرنا۔ میں نے پڑھا مسلمِیَّ حالتِ رفعی میں: جاء مسلمِیَّ۔ مسلمِیَّ میں کتنے لفظ؟ دو۔ ایک مسلمون اور دوسری یا۔ اور مسلمون کا رفع کس کے ساتھ آتا تھا؟ واؤ کے ساتھ۔ اور میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ جاء مسلمِیَّ۔ میں واؤ پر تلفظ کر رہا ہوں؟ واؤ کہیں ہے اس وقت؟ نہیں، تو کہیں گے رفع تقدیری ہے۔ وہ واؤ تو کس سے بدل چکا؟ یا سے بدل کر یا میں ادغام ہو گیا، واؤ تو باقی نہ رہا۔ تو واؤ پر دیکھو ہم تلفظ نہیں کر رہے۔ تو اعراب کیا ہوا؟ تقدیری۔
اور ہاں، مسلمون حالتِ نصبی جری میں اس کا کیا اعراب تھا؟ یا ماقبل مکسور۔ اور مسلمِیَّ، میں حالتِ نصبی میں پڑھتا ہوں: رأیت مسلمِیَّ۔ رأیت... یہ کون سی حالت ہے؟ حالتِ نصبی۔ اور حالتِ نصبی میں مسلمون کا اعراب کس کے ساتھ تھا؟ یا ماقبل مکسور۔ اور مسلمِیَّ، یا آخر میں دو یا ہیں۔ یائے مشدد کتنی یا ہوتی ہیں؟ دو یا۔ کوئی بھی حرف مشدد ہو تو وہ دو حروف ہوتے ہیں۔ تو مسلمِیَّ، کتنی یا آخر میں؟ دو یا۔ ایک آخری یا تو متکلم والی، اور ماقبل والی یا اعراب والی ہے۔ مسلمِیَّ، توجہ ہے؟ تو مسلمِیَّ میں اس کا نصب کس کے ساتھ آتا تھا؟ یا ماقبل مکسور۔ اور مسلمِیَّ، یہاں پر بھی یا ماقبل مکسور موجود ہے کہ موجود نہیں؟ موجود ہے۔ وہ یا بھی ہے اور ایک متکلم والی یا بھی ہے، اور دونوں کا ادغام کر دیا گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
لہٰذا رأیت مسلمِیَّ، اس کا اعراب لفظی ہوا یا تقدیری؟ لفظی۔ وہ یا ہم ابھی بھی اس پر تلفظ کر رہے ہیں۔ مسلمون، رفع کس کے ساتھ آتا تھا؟ واؤ کے ساتھ۔ اور مسلمِیَّ میں واؤ ہے؟ نہیں، لہٰذا رفع تقدیراً۔ اور مسلمون کا نصب اور جر کس کے ساتھ آتا تھا؟ یا ماقبل مکسور۔ اور مسلمِیَّ میں نصب کی حالت ہو چاہے جر کی حالت، یا ماقبل مکسور موجود ہے۔ تو نصب اور جر لفظی ہے، اور رفع تقدیری ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: شانزدہم: جمع مذکر سالم مضاف بہ یائے متکلم۔ سولھواں جو ہے جمع مذکر سالم مضاف ہو یائے متکلم کی طرف، چون مسلمِیَّ، جیسے مسلمِیَّ۔ رفعش بتقدیرِ واؤ باشد، اس کا رفع تقدیرِ واؤ کے ساتھ ہوگا۔ و نصب و جرش بہ یائے ماقبل مکسور، اور اس کا نصب اور جر یائے ماقبل مکسور کے ساتھ، چون ہؤلاء مسلمِیَّ، جیسے کہ ہؤلاء مسلمِیَّ۔ کہ در اصل مسلمون بود، کہ اصل میں یہ مسلمون تھا۔ جی، پھر کیا کیا؟ ادھر دیکھیے۔ پھر... پھر یا آئی تو نون گر گیا۔ پھر واؤ اور یا جمع ہوئے، اول ساکن ہو تو پھر واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ پھر مسلمُیَّ ہوا، اس کے بعد میم کو کسرہ دیتے ہیں تو مسلمِیَّ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ سارا اب وہ بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: کہ در اصل مسلمون بود، کہ یہ اصل میں مسلمون تھا۔ نون باضافت ساقط شد، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ واؤ و یا جمع شدہ بودند، واؤ اور یا جمع ہو گئے تھے۔ و سابق ساکن بود، اور ان میں سے پہلا جو تھا وہ ساکن تھا۔ میں نے کیا بتلایا تھا؟ واؤ اور یا جب جمع ہو جائیں، چاہے واؤ پہلے ہو چاہے یا پہلے ہو، اور اول ساکن ہو تو پھر واؤ کو یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ وہی بیان کر رہے ہیں کہ واؤ و یا جمع شدہ بودند، واؤ اور یا دونوں جمع ہو گئے تھے۔ و سابق ساکن بود، اور پہلا جو ان میں تھا وہ ساکن تھا، یعنی واؤ۔ تو واؤ را بہ یا بدل کردند، تو واؤ کو یا سے بدل دیا۔ و یا را در یا ادغام کردند، اور یا کا یا میں ادغام کر دیا۔ تو مسلمُیَّ شد، تو مسلمُیَّ ہو گیا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ نہیں، مسلمِیَّ نہیں، مسلمُیَّ ہوا ہے، ابھی میم کو ابھی ہم نے کسرہ نہیں دیا، وہ اب بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: مسلمُیَّ شد، مسلمُیَّ ہو گیا۔ ضمہء میم را بہ کسرہ بدل کردند، تو میم کے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا، تو مسلمِیَّ ہو گیا۔ و رأیت مسلمِیَّ، و مررت بمسلمِیَّ۔ تو یہ حالتِ نصبی جری میں بھی آ گیا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
کہ سولھویں قسم کیا ہے؟ جمع مذکر سالم جب وہ مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف۔ تو میں نے بتایا جب یہ مضاف ہے تو دراصل دو لفظ ہیں یہاں، ایک مضاف، ایک مضافٌ الیہ۔ دونوں کا اعراب الگ الگ آئے گا۔ مسلمون کا اعراب الگ اور یا کا اعراب الگ۔ یا کا اعراب کیا ہوگا؟ مجرور۔ کیوں مجرور؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ اور کون سا مجرور؟ محلاً۔ محل کے، یعنی جگہ کے، کیونکہ مبنی ہے، مبنی پر لفظاً یا تقدیراً اعراب نہیں آتا۔ تو مسلمِیَّ، اس کا اعراب حالتِ رفعی میں تقدیری، اور حالتِ نصبی جری میں لفظی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے، بس بھئی۔ حاصلِ کلام یہ کہ آج آپ نے اعراب کے اعتبار سے پندرھویں اور سولھویں قسم پڑھی اسم کی۔ پندرھویں قسم تھی اسمِ منقوص۔ اور اسمِ منقوص کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جس کے آخر میں یا ہو اور یا کا ماقبل مکسور، یا یوں کہیں، وہ اسم جس کے آخر میں ایسی یا ہو جس کا ماقبل مکسور ہو، جیسے قاضی۔ اور اس کا اعراب کیا؟ حالتِ رفعی میں تقدیری، اور حالتِ جری میں بھی تقدیری، اور حالتِ نصبی میں لفظی ہوگا فتحہ کے ساتھ۔ جیسے جاء القاضی، رأیت القاضیَ، مررت بالقاضی۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ اس کے، اس پر جب الف لام ہو تو یہ یا برقرار رہتی ہے جیسے ابھی آپ نے دیکھا۔ اور اگر الف لام نہ ہو تو پھر حالتِ رفعی اور جری میں یا گر جائے گی۔ کیسے پڑھیں گے؟ جاء قاضٍ، رأیت قاضیاً، فتحہ اسی طرح آئے گا، اور مررت بقاضٍ۔ تو ضاد کے نیچے دو زیر آ جائیں گے، یا گر جائے گی، لکھنے میں بھی نہیں آئے گی۔
اور اسی طرح اسمِ مقصور میں بھی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ وہاں بھی آپ کو بعض اوقات تنوین ملے گی، جیسے ہدًى، فتًى، معنًى۔ تو کوئی آپ سے پوچھے یہ سولہ قسموں میں کون سا اسم ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ اسمِ مقصور ہے۔ وہ کہے گا اس کے... اس کے آخر میں تو الف آتا ہے، تو آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ الف تقدیراً موجود ہے۔ وہ کس وجہ سے گرا ہے؟ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گرا ہے، تو تقدیراً ابھی بھی موجود ہے گویا۔ اور اگر الف تنوین نہ آتی، الف لام آ جاتا، تو پھر وہ الف نہ گرتا، نظر بھی آتا، جیسے اَلہُدَى، اَلفَتَى، اَلمَعنَى۔
اس کے بعد سولھویں قسم جو تھی، وہ جمع مذکر سالم جب وہ مضاف ہو یائے متکلم کی طرف، تو اس کا اعراب حالتِ رفعی میں تقدیراً، اور حالتِ نصبی جری میں لفظاً۔ حالتِ رفعی میں تقدیرِ واؤ، یعنی واؤ تقدیراً ہے، اور حالتِ نصبی جری میں یا لفظاً موجود ہے۔ وجہ سب کو سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی۔ ھذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔