دیکھیے بھئی، کتاب پر، بذاں کہ اسم بر دو صنف است۔ مذکر و مؤنث۔ مذکر آن است کہ درو، کہ درو علامت تانیث نہ باشد، چوں رجل۔ و مؤنث آن است کہ درو علامت تانیث باشد، چوں امرأۃ۔
و علامت تانیث چہار است۔ تا، چوں طلحۃ۔ و الف مقصورۃ، چوں حبلی۔ و الف ممدودۃ، چوں حمراء۔ و تا مقدرۃ، چوں أرضٌ کہ در اصل أرضۃ بود است۔
بہ دلیل عریضۃ، زیرا کہ تصغیر اسماء را بہ اصل خود برد۔ و این را مؤنث سماعی گویند۔
अच्छा भई।
مُصنّف نے آپ کو بتلایا تھا، کہ جب کوئی جُملہ ایسا آئے جس میں الفاظ زیادہ ہوں، تو سب سے پہلے اسم، فعل اور حرف کو الگ الگ کر لیں۔ اس کے بعد معرب اور مبنی کو پہچان لیں، ان کو الگ کر لیں۔ اس کے بعد عامل اور معمول کا پتہ لگا لیں، اور پھر ان کا آپس میں ربط دیکھ لیں کون سا لفظ کس کے ساتھ جُڑا ہے، کیسے جُڑا ہے، اور کس کے ساتھ نہیں جُڑا۔
اور جب یہ ساری چیزیں آپ جان لیں گے تو آپ کو مسند الیہ اور مسند کا پتہ چل جائے گا۔ اور مسند الیہ اور مسند کا جب آپ کو پتہ چل جائے، تو آپ کو جُملے کا معنی سمجھ میں آجائے گا۔ کیونکہ مسند الیہ وہ ہے جس کے بارے میں بات کی جائے، اور مسند وہ ہے جو بات کی جائے۔
اور پھر بھئی یہ چار چیزیں اب ہمیں کیسے پتہ چلیں گی؟ تو انہوں نے ایک ایک کی تفصیل بیان شُروع کی۔ کہ اسم، فعل اور حرف کو کیسے پہچانو گے؟ چنانچہ انہوں نے اسم اور فعل کی نشانیاں بیان کیں۔
اس کے بعد دوسری بات تھی کہ معرب اور مبنی کو پہچاننا ہے، ان کو کیسے پہچانیں گے؟ تو مُصنّف نے پھر آپ کو مبنی کی قِسمیں بتلائیں کہ مبنی آٹھ قِسم پر ہے۔ تمام ضمیریں ہیں اور اسمائے اشارہ ہیں اور اسمائے موصولہ ہیں اور اسمائے افعال ہیں، اسمائے اصوات ہیں، اسمائے ظروف ہیں، اسمائے کنایات ہیں اور مُرکّبِ بنائی ہے۔ یہ بار بار دہرایا کرو تاکہ ذہن میں ایسے جم جائیں، کہ سوتے جاگتے کوئی پوچھے، آپ کو سوچنا نہ پڑے بھئی، اور بار بار دہرانے سے چیز ذہن میں بالکل جم جاتی ہے، بیٹھ جاتی ہے۔ جیسے صرف میں آپ ابواب کو بار بار دہراتے ہیں، تو آپ کو بالکل حِفظ ہو جاتے ہیں، کوئی کہیں پر بھی پوچھ لے، آپ فورا سنا سکتے ہیں۔
تو مبنی کی آٹھ قِسمیں بتا دیں۔ اب معرب بیان کرنے لگے، لیکن معرب سے پہلے اب کچھ تقسیمیں بیان کر رہے ہیں، کہ یہ تقسیمات آپ کو سمجھ میں آجائیں گی، تو پھر معرب اور اس کی قِسموں کو پہچاننا آپ کے لیے آسان ہو جائے گا۔ تو گزشتہ سبق میں وہ تقسیمیں شُروع کی تھیں، اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسم جو ہے عموم و خصوص کے اعتبار سے دو قِسم پر ہے، یا معرفہ ہوگا یا نکرہ ہوگا۔
معارفہ وہ ہے جو کسی معین چیز پر دلالت کرے، اور نکرہ وہ ہے جو کسی معین چیز پر دلالت نہ کرے۔
جیسے میں نے کہا کتاب، کوئی خاص کتاب آپ کے ذہن میں نہیں آئی، بلکہ دُنیا کی ہر کتاب پر یہ لفظ بولا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب ہے، تو معلوم ہوا یہ نکرہ ہے۔ لیکن اگر اس کے بجائے میں کہوں زَید کی کتاب، دیکھو اب کون سی کتاب آپ کے ذہن میں آئی؟ جو زَید کی ہے، معلوم ہوا اب یہ معرفہ بن چُکا ہے، کتابُ زَیدِن، زَید کی کتاب یہ معرفہ بن چُکا ہے۔
تو معرفہ جو ہے وہ ہے جو کسی معین چیز پر دلالت کرے، معرفہ معرفت سے ہے، جِس کا معنی ہے پہچان، یعنی آپ کو اس کی پہچان ہوتی ہے، جیسے ہی وہ لفظ بولا جاتا ہے آپ سمجھ جاتے ہیں کس چیز کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر وہ معین چیز آپ کے ذہن میں آجائے تو معلوم ہوا یہ معرفہ ہے، اگر کوئی معین چیز آپ کے ذہن میں نہیں آتی، معلوم ہوا آپ کے لیے یہ معرفہ نہیں ہے، آپ کو اس کی پہچان نہیں ہے۔
تو اس میں بتلایا تھا کہ معرفہ جو ہے وہ سات قِسم پر ہے، اور پہلی قِسم کیا ہے؟ تمام ضمیریں، ضمیریں جو ہیں معرفہ ہیں کیونکہ ضمیر دلالت کرتی ہے یا تو متکلم پر، یا مُخاطب پر، یا ایسے غائب پر جِس کا ذکر پہلے ہو چُکا ہو۔
متکلم کی ضمیر کا درجہ سب سے اعلٰی ہے تعریف کے اندر کیونکہ انسان سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔ مُخاطب کا درجہ دُوسرے نمبر پر ہے کیونکہ مُخاطب وہ ہے جِس سے آپ بات کر رہے ہیں، جو آپ کے سامنے موجود ہے۔ اور غائب چونکہ آپ کی نگاہوں سے دُور ہے، لہٰذا اس کا درجہ آخری درجہ ہے، تو سب سے اعلٰی درجہ ضمیروں کا ہے۔
دُوسرا درجہ علم کا ہے، نام، جیسے کسی کے ماں باپ اس کا نام زَید رکھتے ہیں، کسی کا نام بَکر رکھتے ہیں، کسی کا نام خالد، تو جو نام لیا جاتا ہے دیکھو بِعَیْنِہٖ وہی ساتھی آپ کے ذہن میں اس کی صورت فورا آجاتی ہے۔
تو یہ علم کیا ہے؟ یہ معرفہ کی دُوسری قِسم۔
تیسرے نمبر پر اسمائے اشارہ ہیں، جِن کسی کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ چوتھے نمبر پر اسمائے موصولہ ہیں بھئی، جس میں موصول جِس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ۔ تو اس میں موصول کے بعد ہمیشہ ایک جُملہ آتا ہے جو اس کا صلہ کہلاتا ہے، اور اس میں موصول اس سے جُڑ کر پھر اس کا معنی ہمیں سمجھ میں آتا ہے۔
تو اس میں اشارہ اور اس میں موصول ان کو مُبہمات کہتے ہیں کہ یہ مُہم ہیں، کیونکہ اس میں اشارہ کے لیے ہمیشہ مُشارٌ الیہ چاہیے، ایسی چیز جِس کی طرف اشارہ کیا جائے، اور یہ اشارہ میں نے بتلایا ہاتھ یا انگلی کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور لفظوں میں بھی۔
مثلاً میں نے کتاب کی طرف اشارہ کیا ہٰذَا، آپ سمجھ گئے کہ اس سے یہ والی کتاب مراد ہے۔ میں نے آپ کے قلم کی طرف اشارہ کیا ہٰذَا، آپ سمجھ گئے کہ یہ آپ کا قلم اس سے مراد ہے۔
تو یہ مُشارٌ الیہ اس کے لیے چاہیے، چاہے ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کریں، چاہے لفظوں میں اس کو ذکر کر دیں، ہٰذَا الکِتَاب، تو یہ ہٰذَا کے بعد اگر الف لام والا اسم آجائے، تو یہ اس کی لیے صِفت بنتا ہے، مُشارٌ الیہ بنتا ہے۔ ہٰذَا الکِتَاب کیا معنی؟ یہ کتاب۔
یا ہٰذَا القَلَم، یہ قلم، تو دیکھا کبھی مُشارٌ الیہ لفظوں میں ذکر ہوتا ہے، اور کبھی لفظوں میں ذکر نہیں ہو ذکر نہیں ہوتا، البتہ اس کی طرف ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کیا جاتا ہے جسے سُننے والا سمجھ جاتا ہے۔ اگر مُشارٌ الیہ نہ لفظوں میں ہوگا، نہ اشارے میں ہوگا، پھر آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔
مثلاً میں آپ کے سامنے کہتا ہوں ہٰذَا، کوئی اشارہ نہیں کیا، ہٰذَا، آپ کچھ سمجھے اس سے کیا مراد ہے؟ نہیں اس سے پتہ نہیں چلے گا جب تک مُشارٌ الیہ نہیں۔ تو اس لیے اس میں اشارہ کو مُبہم کہتے ہیں کہ اس کے لیے کیا چاہیے؟ مُشارٌ الیہ۔
اور اس میں موصول کو بھی مُبہم کہتے ہیں کیونکہ اس کے لیے صلہ چاہیے بھئی، صلہ۔
جب تک صلہ نہیں ملے گا موصول کا معنی ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گا۔ تو اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ کو مُبہمات کہتے ہیں کیونکہ اسمائے اشارہ محتاج ہیں مُشارٌ الیہ کے اور اس میں موصول محتاج ہے صلے کا بھئی۔
اس کے بعد ایک معرفہ کی قِسم آئی تھی معرفہ بِا نِداء، کسی کو آواز دی جائے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یا جو ہے حرفِ ندا ہے، عربی میں کسی کو آواز دینے کے لیے یا استعمال کرتے ہیں، یا زَیدُ، اے زَید! اور بھی حروف استعمال ہوتے ہیں وہ آگے آجائیں گے، تو بس صرف اس وقت اتنا یاد رکھیں، تو یا کے ذریعے آواز دی جاتی ہے اور آواز کو ندا کہتے ہیں، ندا، تو یا زَیدُ، اے زَید! اور یہ یا جِس لفظ پر داخل ہو جائے، اگر وہ نکرہ ہو تو یہ اس کو معرفہ بنا دیتی ہے، جیسے رَجُلٌ، کوئی آدمی ہے اس کو آپ آواز دینے لگے، اب نام تو آپ کو آتا نہیں، آپ اس کو کہتے ہیں یا رَجُلُ، اے آدمی! اب یہ رَجُلُ کیا ہے؟ معرفہ۔
کیوں معرفہ؟ کیونکہ اس پر کیا داخل ہوا؟ یا حرفِ ندا۔ اور آپ ایک معین آدمی کو آواز دے رہے ہیں، یا رَجُلُ، اے آدمی! اور اگر کافی سارے آدمی ہیں، معین نہیں ہیں، آپ ویسے ہی کہہ دیتے ہیں یا رَجُلُ، کوئی بھی ان میں سے تاکہ میری بات سُن لے، تو اس سُورت میں پھر یاد رکھنا یا رَجُلُ نہیں کہیں گے یا رَجُلاً، نکرہ کہیں گے کیونکہ آپ کسی معین کو آواز نہیں دے رہے بلکہ کس کو آواز دے رہے ہیں؟ غیرِ غیرِ معین کو۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو تو یہ یا جِس لفظ پر داخ جِس نکرہ پر داخل ہوتا ہے، اس کو معرفہ بنا دیتا ہے بشَرطیکہ وہ معین ہو، اگر معین نہیں تو پھر معرفہ نہیں بنائے گا۔ اسی طرح الف لام ہے، الف لام جب کسی نکرہ پر داخل ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، جیسے رَجُلُن نکرہ ہے، اس کا معنی ہے کوئی آدمی، لیکن اس پر الف لام لے آئے، اَ لرَّجُلُ تو یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا، معرفہ جو۔
اور ساتویں نمبر پر تھا کہ جو ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو بھئی۔ تو معرفہ بِا نِداء کے علاوہ باقی سب کی طرف جو بھی لفظ جو نکرہ مضاف ہو جائے وہ بھی معرفہ بن جائے گا، اور اسی دَرَجے کا معرفہ بنے گا جس دَرَجے والے معرفہ کی طرف وہ مضاف ہو۔
جیسے غُلامُہٗ، غلام کی اضافت میں نے ہا ضمیر کی طرف کر دی، تو یہ غلام کیا بن گیا؟ معرفہ۔
غُلامُہٗ، اس کا غلام، اور کس دَرَجے کا معرفہ بنا؟ ضمیر کی طرف میں نے اس کو مضاف کیا ہے، یہ پہلے دَرَجے کا معرفہ بن گیا بھئی۔
تو غلام تو عام تھا، ہر غلام پر بولا جا سکتا تھا دُنیا کے، لیکن جب آپ نے کہا غُلامُہٗ، اس کا غلام، کسی معین آدمی کے غلام کی طرف اشارہ کیا تو اب وہی مراد ہے دوسرا شخ دوسرا کوئی غلام مراد نہیں۔ یا غُلامُ زَیدِن، غلام تو ہر غلام پر بولا جا سکتا تھا، لیکن جب آپ نے زَید کی طرف اضافت کر دی، اب صرف کون مراد ہے؟ زَید کا غلام۔
اور اگر زَید کے تین چار غلام ہیں، کتنے؟ تین چار۔ ہاں، زَید کے چار غلام ہیں، میں نے آپ سے کہا غُلامُ زَیدِن، جی، سمجھ میں آیا کون سا غلام مراد ہے؟ نہیں، معلوم ہوا یہ ابھی بھی نکرہ ہے۔ کیونکہ معرفہ میں نے کیا بتایا تھا؟ کسی معین ذات پر دلالت کرے، کوئی معین غلام آیا آپ کے ذہن میں؟ اگر معین غلام آپ کے ذہن میں آتا تو پھر یہ معرفہ تھا، اب معین نہیں آرہا آپ کے ذہن میں تو یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ تو آپ یہ نہ کہیں یہ غلام کا لفظ تو زَید کی طرف مضاف ہے، یہ ہر حال میں معرفہ بنے گا، نہیں نہیں۔ بس ضابطہ وہی ہے، اگر معین ذات ہے، بنتی ہے، اور آپ کے ذہن میں آتی ہے، تو وہ معرفہ ہے، اگر معین ذات آپ کے ذہن میں نہیں آتی تو وہ نکرہ ہے۔
اور میں نے اس میں آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف لفظِ اللہ میں ہے بھئی، تو اس میں تعریف جو ہے ضمیروں سے بھی بڑھ کر ہے، تو یہ علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف ہے اس لفظ میں، لفظِ اللہ میں، اور لفظِ اللہ عَلَم ہے، نام ہے، خالقِ ارض و سما کا بھئی۔
اور سب سے زیادہ تنکیر، یعنی سب سے زیادہ عموم لفظِ شَیء اُن میں ہے، شَیء اُن۔ شَیء اُن کا معنی چیز، یہ ہر چیز پر صادق آتا ہے، تو اس میں سب سے زیادہ عموم ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تو یہ اَنکَر النَّکَرَات ہے، یعنی سب سے زیادہ تنکیر ہے اس نکرہ کے اندر۔
اور جبکہ لفظِ اللہ جو ہے اَعرَفُ المَعَارِف ہے، تمام معرفہ میں سب سے زیادہ اَعرَف ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی۔
بذاں کہ اسم بر دو صنف است۔ مذکر و مؤنث۔ مذکر آن است کہ درو علامت تانیث نہ باشد چوں رجل۔ و مؤنث آن است کہ درو علامت تانیث باشد چوں امرأۃ۔
اب دُوسری تقسیم کرنے لگے ہیں اسم کی جنس کے اعتبار سے کہ یا تو وہ مذکر ہوگا یا مؤنث ہوگا۔
مذکر وہ ہے کہ جِس میں کوئی تانیث والی علامت نہ ہو، اور مؤنث وہ ہے جِس میں کوئی تانیث والی علامت ہو۔
توجہ ہے؟
مؤنث کون سا اسم ہوگا جِس میں کوئی تانیث والی علامت ہو وہ مؤنث ہے، اور جِس اسم میں تانیث والی علامت نہ ہو وہ مذکر ہے۔
اور آپ کو بتلائیں گے کہ تانیث کی چار علامتیں ہیں، چار علامتیں۔
ایک تانیث کی علامت ہے گول تا، بھئی گول تا، جو لفظوں کے آخر میں جُڑتی ہے، ضَاربَۃُن، پہلے کیا تھا؟ ضَاربُن۔ پھر اس کے آخر میں کیا جوڑ دی؟ گول تا۔ ضَاربَۃُن۔ تو یہ مؤنث ہے بھئی۔ فاتِحَۃُن، یہ کیا ہے؟ مؤنث۔ مانِعَۃُن، یہ کیا ہے؟ مؤنث۔ مُکَرَّمَۃُن، یہ کیا ہے؟ مؤنث۔ تو تانیث کی ایک علامت کیا ہے؟ گول تا۔ جِس لفظ کے آخر میں گول تا جُڑی ہوئی ہو، سمجھ جائیں کہ یہ مؤنث ہے بھئی، مؤنث۔
تانیث کی دُوسری علامت ہے الفِ مقصورہ، اور تانیث کی تیسری علامت ہے الفِ ممدودہ۔
الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ اس کا ذکر پہلے بھی آ چُکا ہے۔ الفِ مقصورہ وہ الف جو ممدودہ نہ ہو، یعنی جِس کے آخر میں ہمزہ نہ ہو۔ الفِ ممدودہ وہ ہے جِس کے اخ جِس الف کے بعد ہمزہ آجائے، ہمزہ آجائے۔ جیسے حمراء۔ حمراء، الف آیا آخر میں کس طرح؟ ح، م، ر، ا، الف اور ہمزہ۔ یہ الف کے بعد ہمزہ آجائے تو یہ الفِ ممدودہ کہلاتا ہے، اور اس کو خوب لمبا کیا جاتا ہے، قرآن میں بھی آپ پڑھتے ہیں، کہیں پر مَد پڑھتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ مَد جہاں پڑھا جاتا ہے وہ اس میں جہاں الف کے بعد ہمزہ ہو، وہاں پر بھی مَد پڑھا جاتا ہے، اس کو کھینچ کر خوب لمبا کیا جاتا ہے۔
تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ الفِ ممدودہ۔ اور وہ الف جِس کے آ جِس کے بعد ہمزہ نہ ہو، یعنی عام الف، اس کو الفِ مقصورہ کہتے ہیں۔
ممدودہ، مدّ کا معنی ہے کھینچنا۔ ممدودہ جِس کو کھینچا جائے۔
اور مقصورہ قصر کا کیا معنی ہے؟ چھوٹا۔ مقصورہ کا معنی چھوٹا ہے، یعنی اس کو زیادہ کھینچنا نہیں۔ جیسے حبلی۔ حبلی، دیکھو آخر میں میں الف پڑھ رہا ہوں، یہ کیا ہے؟ الفِ مقصورہ ہے۔ اگر الف کے بعد ہمزہ آئے تو یہ کیا ہے؟ الفِ ممدودہ، اور اگر الف کے بعد ہمزہ نہ آئے تو یہ الفِ مقصورہ ہے بھئی، الفِ مقصورہ۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بس طلبہ سمجھتے ہیں شائد الفِ مقصورہ جو ہے یہ کھڑی زبر کا نام ہے۔
حبلی، اس کے آخر میں یا لکھتے ہیں اور یا کے اوپر کیا لکھتے ہیں؟ کھڑی زبر۔ تو طلبہ سمجھتے ہیں شائد یہ کھڑی زبر الفِ مقصورہ اس کو کہتے ہیں نہیں بھئی۔ الفِ مقصورہ بس الف ہے، لیکن اس کو زیادہ لمبا نہیں کرنا، اس کے بعد ہمزہ نہیں ہے، تو اس الف کو کیا کہیں گے؟ الفِ مقصورہ۔ جیسے عصا، عصا، ع، ص، الف۔
ع، ص، الف۔ اب دیکھو یہاں پر تو یا بھی نہیں ہے اور کھڑی زبر بھی نہیں ہے، لیکن یہ جو آخر میں ہے اس کو کہیں گے الفِ مقصورہ، کیا کہیں گے؟ تو وہ الف جِس کے بعد ہمزہ نہ آئے وہ ہے الفِ مقصورہ، یعنی اس کو زیادہ کھینچنا نہیں، زیادہ لمبا نہیں کرنا۔ اور وہ الف جِس کے بعد ہمزہ آئے وہ الفِ ممدودہ ہے یعنی اس کو لمبا کرنا ہے، کھینچنا ہے۔
تو تانیث کی علامتیں بیان ہو رہی تھیں۔ پہلی علامت کیا میں نے ذکر کی؟ گول تا ہے بھئی، گول تا۔ اور دُوسری علامت کیا ہے؟ الفِ مقصورہ، اور تیسری علامت کیا ہے؟ الفِ ممدودہ۔ لیکن یاد رکھنا جہاں بھی کسی لفظ
آخر میں الف مقصورہ آ جائے تو آپ یہ نہ سمجھنا کہ یہ مؤنث ہے۔ اچھا پھر سنو۔ تو تانیث کی پہلی علامت کیا ذکر ہوئی کہ اس کے آخر میں کیا آئے گا؟ اس لفظ گول تا۔ دوسری علامت ہے کہ اس اسم کے آخر میں الف مقصورہ آ جائے جیسے حبلی حبلی حبلی کا معنی ہے حاملہ حاملہ وہ عورت جس کے پیٹ میں بچہ ہو تو حبلی کا کیا معنی ہے حاملہ تو دیکھو اس کے آخر میں الف مقصورہ آرہا ہے۔ آخر میں ہمزہ نہیں ہے الف ہے لیکن الف کے بعد ہمزہ نہیں تو یہ الف مقصورہ ہے۔ اور یہ کس کی علامت ہے؟ تانیث کی۔ تو حبلی کیا ہے؟ مؤنث ہے۔ اور کبھی الف کے بعد ہمزہ آتا ہے وہ الف ممدودہ ہے جیسے حمراء حا میم را الف اور ہمزہ تو یہ حمراء کیا ہے؟ مؤنث ہے کیونکہ اس کے آخر میں کیا موجود ہے؟ الف ممدودہ تو تانیث کی پہلی علامت کیا؟ گول تا کسی لفظ کے آخر میں آئے دوسری علامت کسی لفظ کے آخر میں الف مقصورہ آئے اور تیسری علامت کسی لفظ کے آخر میں الف ممدودہ آئے بھئی۔ لیکن یاد رکھنا کسی بھی لفظ کے آخر میں الف مقصورہ آ جائے یا الف ممدودہ آ جائے تو فوراً آپ یہ نہ سمجھنا کہ یہ مؤنث ہے بھئی۔ یہ الف مقصورہ اور الف ممدودہ اور مقاصد کے لئے بھی عربی میں آتے ہیں۔ توجہ ہے؟ یہ الف مقصورہ تانیث کے علاوہ ویسے بھی آتا ہے عربی میں۔ اسی طرح الف ممدودہ تانیث کے علاوہ بھی عربی میں آتا ہے۔ تو الف مقصورہ جب بھی کلام میں آئے گا کبھی وہ تانیث کے لئے ہوگا اور کبھی تانیث کے لئے نہیں ہوگا۔ الف ممدودہ کسی اسم کے آخر میں آ جائے تو کبھی وہ تانیث کے لئے ہوگا اور کبھی تانیث کے لئے نہیں ہوگا۔ تو اب آپ اس کو پہچانیں گے کیسے؟ کہ کون سا الف ممدودہ تانیث کے لئے ہے اور کون سا نہیں ہے؟ کون سا الف مقصورہ تانیث کے لئے ہے اور کون سا نہیں ہے؟ تو یاد رکھیں، پہچان تو پوری پہچان تو ابھی آپ کو نہیں ہو سکتی آہستہ آہستہ جوں جوں آگے کتابیں پڑھتے جائیں گے آپ کو پہچان بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن بس اتنا یاد رکھیں وہ الف مقصورہ اور وہ الف ممدودہ جو تانیث کے لئے ہوتے ہیں ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تین حرف اصلی کے بعد آئیں گے۔ کس کے بعد آئیں گے؟ تین صرف میں پڑھا یا نہیں حروف اصلی اور حروف زائد؟ جو فا عین لام کے مقابلے میں آئے وہ کیا ہے حروف اصلی اور جو فا عین لام کے مقابلے میں نہ ہوں وہ کیا ہیں حروف زائد۔ تو وہ الف مقصورہ اور وہ الف ممدودہ جو تانیث کے لئے ہوں ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تین حروف اصلی کے بعد آئیں گے اس سے پہلے نہیں آ سکتے۔ اگر دو حرفوں کے بعد آ جائیں یہ الف مقصورہ یا الف ممدودہ آپ سمجھ جائیں کہ یہ تانیث والا نہیں ہے۔ تانیث والا کم از کم کتنے حروف کے بعد آئے گا؟ تین کے بعد آئے گا یا تین سے زیادہ ہو جائیں لیکن تین سے کم نہیں۔ تو تین حروف اصلیہ کے بعد یہ آئیں گے بھئی۔ یہ ایک نشانی یاد رکھنا بھئی۔ تو دیکھو حبلی حبلی کے آخر میں کیا ہے؟ الف مقصورہ اور کتنے حروف کے بعد ہے؟ تین کے بعد۔ حا با لام اور لام کے بعد پھر الف آرہا ہے۔ حبلی اور اسی طرح حمراء میں نے بتایا کتنے حروف کے بعد ہے؟ تین۔ حا میم را کے بعد پھر الف ہے اور الف کے بعد ہمزہ۔ تو یہ ایک نشانی یاد رکھنا کہ الف مقصورہ اور الف ممدودہ جو تانیث کے لئے ہو وہ کم از کم تین حرف اصلی کے بعد ہوں گے اس سے پہلے نہیں آ سکتے۔ لہذا عصا عصا عین صاد الف یہ آخر میں الف مقصورہ آرہا ہے۔ یہ تانیث والا ہے کہ تانیث غیر تانیث والا ہے؟ ہاں یہ تانیث والا نہیں کیونکہ دو حرف کے بعد آرہا ہے۔ تو کتنی نشانیاں ہو گئیں؟ تین۔ پہلی نشانی کیا؟ گول تا۔ دوسری نشانی الف مقصورہ۔ تیسری نشانی الف ممدودہ۔ اور چوتھی نشانی یہ بیان کریں گے کہ وہ تا مقدرہ ہے۔ تا مقدرہ قدر یقدر تقدیر کا معنی ہے فرض کرنا۔ فرض کرنا تو یہ بھی تا جو ہے یہ فرض کر لی جاتی ہے حقیقت میں موجود نہیں۔ جیسے ارضن ارضن الف یعنی ہمزہ ہے شروع میں پھر را ہے اور پھر ضاد ہے۔ ارضن زمین کو کہتے ہیں۔ زمین اور اس یہ اصل میں ارضتن تھا بھئی۔ اصل میں کیا تھا؟ ارضتن تھا اس کے آخر میں گول تا جڑی ہوئی تھی۔ پھر اس گول تا کو ختم کر دیا گیا تو ارضن رہ گیا ارضن رہ گیا اب اس وقت ارضن ہے کوئی گول تا جڑی ہوئی ہے؟ اس وقت کوئی گول تا جڑی ہوئی نہیں ہے تو یہ اس کو کہیں گے تا مقدرہ کہ تا موجود ہے آپ فرض کر لیں میں نے بتایا تھا قدر یقدر تقدیر کا کیا معنی ہے؟ فرض کرنا تو مقدرہ جس کو فرض کر لیا جائے تو اس کے آخر میں تا تو ارضن آخر میں تو ضاد ہے لیکن آپ فرض کر لیں کہ یہاں پر گول تا اس وقت موجود ہے تو یہ ہے تا مقدرہ یہ وہی گول تا ہے کبھی لفظوں میں آتی ہے اور کبھی یہ مقدر ہوتی ہے فرض کرنا پڑتی ہے موجود نہیں۔ جیسے طلحت اس کے آخر میں گول تا لفظوں میں موجود ہے اور ارضن کے آخر میں گول تا لفظوں میں موجود نہیں بلکہ آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ فرض کرنا پڑے گا کہ یہاں گول تا موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی دیکھیے بھئی کتاب پر۔ بداں کہ اسم بر دو صنف است صنف کا معنی ہے قسم قسم جان لے تو کہ اسم جو ہے دو صنف پر ہے یعنی اس کی دو قسمیں ہیں مذکر و مؤنث۔ ایک قسم کیا ہے؟ مذکر اور دوسری قسم مؤنث۔ مذکر آن است آن است بھئی نون پر زبر پڑھنا ہے بھئی۔ مذکر آن است مذکر وہ ہے کہ در او علامت تانیث نباشد کہ اس میں در او اصل میں تھا در او در او در کا معنی میں او کا معنی اس کہ در او کہ اس میں علامت تانیث نباشد اس میں تانیث کی کوئی علامت نہ ہو جو رجل جیسے رجل رجل میں دیکھو نہ گول تا ہے نہ الف مقصورہ ہے نہ الف ممدودہ ہے اور نہ یہاں تا مقدرہ۔ ومؤنث آن است اور مؤنث وہ ہے کہ در او علامت تانیث باشد کہ اس میں علامت تانیث ہو جو امرأہ جیسے امرأہ امرأہ عورت کو کہتے ہیں مرد کو رجل اور عورت کو امرأہ تو دیکھو امرأہ کے آخر میں کیا آ گئی؟ گول تا تو یہ تانیث کی علامت معلوم ہوا یہ لفظ مؤنث ہے۔ و علامت تانیث چہار است اور تانیث کی علامتیں چار ہیں۔ تا جو طلحت ایک تا ہے جیسے طلحت وہی گول تا طلحت میری کتاب میں تنوین لکھی ہوئی ہے طلحت پر۔ تنوین نہیں ہونی چاہیے بھئی کیونکہ یہ غیر منصر ف ہے یہ آگے چل کر آپ پڑھیں گے۔ طلحت صرف پیش پڑھیں تنوین نہیں۔ طلحت دیکھو اس کے آخر میں کیا ہے؟ گول تا طلحت دیکھو نام کسی مرد کا ہوتا ہے۔ کس کا؟ آپ بھی عام سنتے رہتے ہوں گے بعض ساتھیوں کا کیا نام ہوتا ہے؟ طلحہ تو نام تو مرد کا ہے لیکن اس کے آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہے اور گول تا کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث کی تو یہ لفظ گویا کہ مؤنث ہے مؤنث۔ والف مقصورہ دوسری علامت ہے الف مقصورہ جو حبلی جیسے حبلی حبلی کا کیا معنی؟ حاملہ عورت بھئی۔ تو یہ دیکھو آخر میں الف آیا اور الف کے بعد ہمزہ نہیں ہے۔ و الف ممدودہ اور تیسری علامت ہے الف ممدودہ جو حمراء جیسے حمراء دیکھو یہاں الف کے بعد ہمزہ موجود ہے اور یہ بھی غیر منصر ف ہے اسی لئے آپ دیکھ رہے ہیں حمراء آخر میں تنوین نہیں آرہی بھئی یہ آگے چل کر آپ پڑھ لیں گے تو بس یعنی اس کے اوپر تنوین نہیں پڑھنی حمراء یوں نہیں پڑھنا حمراء یوں پڑھیں۔ و تا مقدرہ اور چوتھی علامت ہے تا مقدرہ یعنی وہ تا جس کو فرض کر لیا جائے جو ارضن جیسے ارضن یہ کس کو کہتے ہیں؟ زمین کو کہ در اصل ارضتن بود است کہ یہ اصل میں ارضتن تھا بھئی۔ یہ لفظ اصل میں ارضتن تھا آخر میں گول تا موجود تھی۔ بدلیل اریزتن اب ایک ضابطہ یاد رکھیں۔ انہوں نے کیا کہا ارضسن اصل میں کیا تھا؟ ارضتن تھا۔ بھئی ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ اصل میں ارضتن تھا ہم تو عربوں سے جب بھی سنتے ہیں ارضسن ہی سنتے ہیں ارضتن کہیں نہیں سنتے کتابوں میں جب بھی پڑھتے ہیں ارضسن لکھا ہوتا ہے ارضتن نہیں لکھا ہوتا تو آپ کو کیسے پتہ چلا کہ اس کے آخر میں گول تا تھی تو آپ کو ضابطہ بتلائیں گے۔ یاد رکھو یاد رکھو جب کسی لفظ کے اصل کا پتہ چلانا ہو عربی زبان میں تو اس لفظ کی تصغیر نکال لیتے ہیں یا اسی طرح اس کی جمع تکسیر بنا لیتے ہیں اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ تصغیر یا جمع تکسیر تصغیر کا ذکر پہلے بھی آ چکا ہے میں نے بتلایا تھا کہ کسی لفظ کسی چیز میں چھوٹا ہونے کا معنی پیدا کرنے کے لئے اس کو فعیل وزن پر لے جاتے ہیں۔ فعیل فا عین یا اور لام فعیل جیسے اس کی کیا مثال پہلے گزری تھی کتاب کتاب عام کتاب کو کہتے ہیں اور اگر آپ کہنا چاہتے ہیں چھوٹی سی کتاب تو اس کو فعیل وزن پر لے جائیں فعیل یعنی کتیب کتیب کا کیا معنی چھوٹی سی کتاب یا اردو میں کہیں کتابچہ کتابچہ۔ اور اسی طرح رجل کا معنی مرد اور اگر آپ کسی کی تحقیر کے طور پر کہنا چاہیں وہ چھوٹا سا مرد ہے تو آپ کہیں گے رجیل دیکھا فعیل تو یہ تصغیر ہے۔ کس وزن پر لاتے ہیں؟ فعیل عموماً فعیل صرف یہی وزن نہیں ہے لیکن یہ عام وزن بس فی الحال آپ اتنا یاد رکھیں اس کو فعیل وزن پر لے جاتے ہیں۔ اور یاد رکھو جب کسی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہو کہ یہ اصل میں کیا تھا عربی زبان میں لفظ میں تبدیلی آتی ہے بعض اوقات ایک دو حرف اس میں سے گرا دیتے ہیں یا ان کو بدل دیتے ہیں جیسے آپ صرف میں پڑھ چکے ہیں قال اصل میں کیا تھا؟ قالوا تھا و کو کس سے بدلا؟ الف سے قال ہوا رما اصل میں کیا تھا؟ رما یا تھا یا کو کس سے بدلا؟ الف سے تو عربی میں اس طرح حروف کو بدلتے ہیں کبھی ان کو گرا دیتے ہیں تو تو اب ارضن یہ اصل میں کیا تھا؟ کیا یہی لفظ تھا یا کچھ اور تھا؟ تو اس کے اصل کا پتہ چلانے کے لئے اس لفظ کو اس کی تصغیر دیکھ لیتے ہیں عرب کیا استعمال کرتے ہیں ہم نے اس کی تصغیر دیکھی تو عرب اس کی تصغیر جو استعمال کرتے ہیں وہ ہے فعیلۃ وزن پر یعنی اریزتن اس کی تصغیر کیا ہے؟ اریزتن آخر میں گول تا آرہی ہے۔ کتاب کی تصغیر میں نے بنائی کتاب کی کیا بنی کیا بنائی کتیب کوئی گول تا ہے آخر میں؟ نہیں رجل کی تصغیر میں نے کیا بنائی رجیل کوئی گول تا ہے؟ نہیں ہے لیکن ارضن کی تصغیر ہم دیکھتے ہیں کہ عرب جب استعمال کرتے ہیں تو وہ اریزتن بولتے ہیں آخر میں گول تا بھی ہوتی ہے معلوم ہوا کہ ارضن میں گول تا موجود تھی اور تصغیر میں وہ ابھی تک موجود ہے اریزتن تو ارضن میں بھی کیا موجود تھی؟ گول تا موجود تھی پھر اس کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا گرا دیا گیا تو لیکن تصغیر میں ابھی تک موجود ہے۔ تو عربی میں جب بھی کسی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہو کہ یہ اصل میں لفظ کس طرح تھا کوئی اس میں تبدیلی تو نہیں ہوئی کوئی اس میں حرف تو نہیں گرا تو اس کو تصغیر کی اس کی دیکھ لیتے ہیں تو چنانچہ ہم نے ارضن کی تصغیر دیکھی تو تصغیر کیا ہے؟ اریزتن اس تصغیر میں کیا آرہی ہے؟ گول تا معلوم ہوا اصل لفظ میں بھی گول تا موجود تھی جس کو گرا دیا گیا معلوم ہوا است ارضن اصل میں کیا تھا؟ ارضتن تھا کیا تھا؟ ارضن اصل میں ارضتن تھا گول تا موجود تھی۔ تو جیسے کسی لفظ کی اصل معلوم کرنے کے لئے اس کی تصغیر دیکھتے ہیں اسی طرح اس کی جمع تکسیر بھی دیکھتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں؟ جمع تکسیر بھی کسی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہو تو یا تو اس کی تصغیر بنا کر دیکھ لو یا اس کی جمع تکسیر۔ جمع تکسیر کسے کہتے ہیں؟ یہ انشاءاللہ چند ایک آدھ سبق کے بعد اس کا ذکر آ جائے گا وہاں میں بیان کر دوں گا بس فی الحال اتنا یاد رکھیں کہ اس عربی میں کسی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہو تو اس کی تصغیر بنا لیتے ہیں اس کی تصغیر دیکھ لیتے ہیں تو اس سے پتہ چلا کہ ارضن اصل میں کیا تھا؟ ارضتن تھا۔ تو کہتے ہیں و تا مقدرہ چوتھی علامت جو ہے وہ تا مقدرہ ہے جو ارضن جیسے کہ ارضن کہ در اصل ارضتن بود است کہ اصل میں یہ ارضتن تھا اصل میں اب آپ کو کیسے پتہ چلا ارضتن تھا وجہ سمجھ میں آگئی کہ تصغیر سے پتہ چلا۔ بدلیل اریزتن کہتے ہیں اریزتن دلیل اس کی وجہ سے اریزتن یعنی اس کی جو تصغیر ہے زیرا کہ زیرا کا معنی ہے اس لئے کہ اس لئے کہ زیرا کہ اس لئے کہ تصغیر اسماء را کہ تصغیر جو ہے وہ اسماء کو با اصل خود اپنی اصل پر برود لے جاتی ہے کہ تصغیر اسماء را کہ تصغیر جو ہے اسماء کو اسماء جمع ہے اسم کی کہ تصغیر جو ہے اسموں کو با اصل خود برود ان کی اصل پر لے جاتی ہے یعنی کسی اسم کی اصل کا پتہ چلانا ہو تو اس کی تصغیر دیکھ لو تصغیر کیا کرتی ہے اسم کو اپنی اصل پر لے جاتی ہے جیسا وہ اصل میں تھا تصغیر سے آپ کو پتہ چل جائے گا اریزتن سے پتہ چل گیا کہ ارز اصل میں کیا تھا؟ ارضتن تھا۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں بدلیل اریزتن اریزتن کی دلیل کی وجہ سے زیرا کہ تصغیر اسماء را با اصل خود برد اس لئے کیونکہ تصغیر جو ہے وہ اسموں کو اپنی اصل پر لے جاتی ہے و ایں را مؤنث سماعی گویند اور اس کو مؤنث سماعی کہتے ہیں اس کو یہ جس لفظ میں تا مقدرہ مانی جائے اس کو مؤنث سماعی کہتے ہیں۔ سماع کا معنی ہے سننا سننا کہ تو دیکھو ارضن کا لفظ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ بھئی دیکھو جیسے اردو میں بعض الفاظ مذکر استعمال ہوتے ہیں اور بعض مؤنث جیسے میں نے پہلے بھی مثال ذکر کی تھی آپ اپنی کتاب کے بارے میں بتانا چاہیں کسی کو تو آپ کہتے ہیں یہ میری کتاب ہے اور قلم کے بارے میں بتلانا چاہیں تو آپ کہتے ہیں یہ میرا قلم ہے دیکھو کتاب کے لئے میری کا لفظ لائے اور قلم کے لئے میرا کا لفظ لائے معلوم ہوا کتاب اردو میں مؤنث ہے اس لئے آپ میری کا لفظ لائے اور قلم کے لئے آپ میرا کا لفظ لائے معلوم ہوا قلم اردو میں مذکر ہے تو اسی طرح عربی میں بھی بعض الفاظ مذکر استعمال ہوتے ہیں اور بعض مؤنث تین نشانیاں چار نشانیاں انہوں نے بتلا دیں کون سی؟ جس اسم کے آخر میں گول تا ہو وہ عربی میں کیا استعمال ہوتا ہے؟ مؤنث دوسری علامت کیا ہے جس اسم کے آخر میں الف مقصورہ ہو وہ بھی مؤنث استعمال ہوتا ہے تیسرا جس اسم کے آخر میں الف ممدودہ ہو وہ بھی مؤنث استعمال ہوتا ہے چوتھی علامت کیا ذکر کی؟ جس اسم کے آخر میں تا مقدرہ ہو وہ بھی مؤنث استعمال ہوتا ہے لیکن تا مقدرہ وہ تو ہمیں نظر نہیں آتی وہ تو ہم نے فرض ہمیں فرض کرنی پڑتی ہے تو (یعنی یوں کہو لفظوں میں کوئی علامت نہیں ہوتی ارضن میں لفظوں میں کوئی تانیث والی علامت نہیں ہے تو اس کو یاد رکھیے اس کو کہتے ہیں مؤنث سماعی سماع کا معنی سننا سننا یعنی ہم
ے عربوں سے اس کو مونث سنا ہے، وہ اس کو مونث استعمال کرتے ہیں۔ ارض میں بظاہر تانیث والی کوئی علامت نہیں، لیکن ہم نے جب بھی عربوں کا کلام سنا، ہم نے سنا کہ وہ اس ارض کو مونث استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی صفت لاتے ہیں تو مونث لاتے ہیں، اس کی طرف ضمیر لوٹاتے ہیں تو مونث کی لوٹاتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ لفظ عرب کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ مونث کی طرح اور علامت تو کوئی نہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں مونث سماعی۔ کیا کہتے ہیں؟ یعنی سننے سے ہمیں پتہ چلا عربوں سے کہ یہ کیا ہے؟ مونث ہے۔ یعنی سماع سننے پر موقوف ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مونث ہے۔
تو اس کو مونث سماعی کہتے ہیں۔ یعنی لفظوں میں بظاہر کوئی تانیث والی علامت نہیں ہے۔ یاد رکھو عربی میں بہت سے الفاظ ہیں، آپ آگے چل کر جگہ جگہ پڑھیں گے۔ شمس، شمس سورج کو کہتے ہیں، لیکن دیکھو یہاں اس کے آخر میں نہ گول تا ہے، نہ الف مقصورہ ہے، نہ الف ممدودہ ہے، لیکن عرب اس کو کیا استعمال کرتے ہیں؟ مونث استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے فعل آتے ہیں وہ بھی مونث کا، اس کی طرف ضمیر لوٹاتے ہیں وہ بھی مونث کی۔ اس کی صفت لاتے ہیں وہ بھی مونث۔ اس کی خبر لاتے ہیں وہ بھی مونث لے کر آتے ہیں۔ معلوم ہوا عربی میں یہ لفظ مونث ہے۔
لیکن علامت تو کوئی موجود نہیں، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ یہ مونث سماعی ہے، یعنی ہر یعنی عربوں سے ہم نے اس طرح سنا ہے کہ وہ اس کو مونث استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح دار، دار گھر کو کہتے ہیں۔ دیکھو اس کے آخر میں گول تا بھی نہیں۔ اس کے آخر میں الف مقصورہ یا الف ممدودہ بھی نہیں۔ لیکن ہم نے عربوں سے سنا ہے کہ وہ دار کے لفظ دار دال الف را گھر کو کہتے ہیں کہ کہ عرب جو ہیں وہ دار کا لفظ ہمیشہ کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ مونث استعمال کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ کون سا مونث ہے؟ مونث سماعی یعنی لفظوں میں کوئی علامت نہیں لیکن ہم نے عربوں سے اس کو مونث سنا ہے۔
اسی طرح خمر، خ م را خمر شراب کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ یہ بھی مونث استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح نار بھئی، نون الف را نار یہ بھی عربی میں کیا استعمال ہوتا ہے؟ مونث استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح عین، عین یا نون، عین آنکھ کو بھی کہتے ہیں گھٹنے، کئی معنی آتے ہیں۔ تو یہ بھی عربی میں کیا استعمال ہوتا ہے؟ مونث استعمال ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے مونث سماعی۔
تو مصنف نے کیا بیان کیا؟ کہ اسم دو قسم پر ہے یا مذکر ہوگا یا مونث۔ مذکر کون سا؟ جس میں تانیث کی کوئی علامت نہ ہو۔ اور مونث کون سا؟ جس میں تانیث کی علامت ہو۔ اور تانیث کی کتنی علامتیں بیان کیں؟ چار۔ پہلی علامت جس اسم کے آخر میں گول تا ہو۔ دوسری علامت جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ تیسری علامت جس کے آخر میں الف ممدودہ ہو۔ اور چوتھی علامت جس کے آخر میں تا مقدرہ ہو۔ اور اس کا نام انہوں نے کیا رکھا؟ یہ مونث سماعی ہے۔
یہ تو مصنف کی تقسیم ہے، لیکن عام علماء مونث کی اس طرح تقسیم نہیں کرتے کہ اس کی چار علامتیں ہیں۔ عام کتابیں نحو کی آپ کھولیں گے وہاں ذرا بہتر انداز میں ہے۔ مصنف نے چار قسمیں بنائیں، لیکن انہوں نے اولاً مونث کی دو قسمیں بنائیں کہ مونث یا قیاسی ہوگا یا سماعی۔ مونث یا تو وہ ذرا آسان ہے، وہ بھی سن لیں۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ مونث یا قیاسی ہوگا یا سماعی۔ قیاسی وہ ہے جو قیاس کے مطابق ہو، یعنی قانون کے مطابق ہو اور سماعی وہ ہے جو قیاس کے یا قانون کے مطابق نہیں، بس عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے۔
اور پھر قیاسی کی تین قسمیں بنا دیں۔ کون سی؟ ایک جس کے وہ اسم جس کے آخر میں گول تا ہو، دوسرا وہ اسم جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو، تیسرا وہ جو جس کے آخر میں الف ممدودہ ہو۔ یہ قیاسی ہے، ضابطے کے مطابق ہے، جس لفظ کے آخر میں گول تا آئے اس کو کیا شمار کرنا چاہیے؟ مونث۔ جس اسم کے آخر میں الف مقصورہ آئے اسے کیا شمار کرنا چاہیے؟ مونث۔ اور اسی طرح جس اسم کے آخر میں الف ممدودہ آئے اسے کیا شمار کرنا چاہیے؟ مونث۔ تو یہ تین تو ضابطے کے مطابق ہیں، یہ تین قسمیں، اس لیے ان کا نام کیا رکھا؟ قیاسی ہیں، یعنی یہ قانون کے مطابق ہیں۔ قانون کے مطابق اور چوتھی قسم اس کا نام انہوں نے سماعی رکھا اور وہ کوئی علامت نہیں ہے، علامت نہیں۔
دراصل عربوں سے ہم نے کچھ لفظ سنے بلکہ یوں کہیں ہم نے ہر کلام عرب کو دیکھا تو دیکھا کہ وہ کچھ لفظوں کو مذکر استعمال کرتے ہیں اور کچھ لفظوں کو مونث۔ تو علماء نے پھر غور کیا کہ کن لفظوں کو وہ مونث استعمال کرتے ہیں اور کن کو مذکر؟ تو ان کو تین نشانیاں ملیں۔ ایک گول تا ملی، جس لفظ کے آخر میں گول تا ہو عرب اس کو مونث شمار کرتے ہیں۔ ایک جس کے آخر میں تانیث والا الف مقصورہ، اس کو کیا شمار کرتے ہیں؟ مونث۔ ایک جس کے آخر میں تانیث والا الف ممدودہ ہو، اس کو بھی کیا شمار کرتے ہیں؟ مونث۔ میں نے کہا تانیث والا الف مقصورہ کیونکہ الف مقصورہ تانیث کے بغیر بھی ہوتا ہے۔ میں نے کہا تانیث والا الف ممدودہ کیونکہ تانیث کے بغیر بھی الف ممدودہ ہوتا ہے۔ تو یہ تین تو نشانیاں تھیں جو جو لکھنے میں یا سننے میں تلفظ میں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ ان کو سنتے ہی آدمی کو پتہ چل جاتا ہے یہ لفظ کیا ہے؟ مونث۔ تو یہ تین تو علامتیں تھیں، لیکن کچھ لفظ علماء نے دیکھے کہ اس میں تانیث والی کوئی علامت نہیں لیکن عرب اس کو پھر بھی مونث استعمال کرتے ہیں۔ جیسے مثالیں گزر گئیں، ارض، اس میں کوئی علامت نہیں، نہ گول تا ہے، نہ الف مقصورہ ہے، نہ الف ممدودہ، لیکن عرب اس کو کیا استعمال کرتے ہیں؟ مونث۔
اسی طرح نار، نار آگ کو کہتے ہیں، اس کو بھی اسی طرح مونث استعمال کرتے ہیں۔ خمر، اس میں بھی کوئی علامت نہیں ہے، اس کو بھی کیا استعمال کرتے ہیں؟ مونث۔ عین، اس کے اندر بھی تانیث والی کوئی علامت نہیں، لیکن کیا استعمال کرتے ہیں؟ مونث۔ اور اسی طرح شمس ہے۔ تو بہت سے الفاظ عربی زبان میں علماء کو ایسے ملے جن میں تانیث والی کوئی علامت نہیں، لیکن عرب اس کو کیا کرتے ہیں، کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ مونث کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ تو علماء مجبور ہو گئے اور انہوں نے اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے کہا کہ ان میں تا مقدرہ ہے۔ ان لفظوں میں کیا ہے؟ تا مقدرہ ہے۔ تا مقدرہ ہے یعنی فرض کر لو تا موجود ہے، یہ ایک علامت انہوں نے مقرر کر لی۔
اور اس کا نام مونث سماعی رکھا کیونکہ اس کی کوئی علامت نہیں ہے، یہ صرف سننے سے ہی پتہ چلے گا۔ آپ کلام عرب کو پڑھیں اور ان کے اشعار دیکھیں، ان کی کتابیں دیکھیں، آپ کو وہاں سے پتہ چلے گا کہ کس لفظ کو مذکر استعمال کر رہے ہیں اور کس لفظ کو مونث استعمال کر رہے ہیں۔ جہاں علامتیں ہیں، گول تا ہے یا الف مقصورہ ہے یا الف ممدودہ ہے، وہ تو آپ پہچان لیں گے، لیکن جہاں ان میں سے کوئی علامت نہیں، تو وہاں آپ کے لیے پہچاننا مشکل ہوگا، وہاں پھر آپ کو کلام عرب میں ڈھونڈنا پڑے گا کہ انہوں نے اس لفظ کو کس طرح استعمال کیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ تا مقدرہ اس کا یہ کیوں ماننا پڑی علماء کو؟ کیونکہ انہوں نے ضابطہ بنایا تھا۔ توجہ ہے؟ انہوں نے ضابطہ بنایا تھا کہ جس اسم میں تانیث والی علامت ہوگی، وہی مونث ہوگا۔ جس میں تانیث والی علامت نہیں وہ مونث بھی نہیں۔ تو کچھ لفظ ایسے ملے جن میں کوئی علامت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے تو ضابطہ کیا بنایا تھا؟ علامت ہے تو مونث ہے، علامت نہیں تو مونث بھی نہیں۔ اب ضابطہ ٹوٹ رہا تھا، تو ضابطے کو بچانے کے لیے کیا کہہ دیا؟ کہ ان میں، ان میں تا مقدرہ موجود ہے، تا، یعنی فرض کر لو ایک تا ان کے اندر موجود ہے، اب ضابطہ بچ گیا۔ تو تا مقدرہ علامت نہیں ہے، نظر نہیں آتی، لیکن ویسے ماننا پڑتی ہے اور اصل پتہ ہمیں عربوں کی کتابوں سے چلتا ہے، ان کے اشعار سے، انہوں نے کسی لفظ کو مونث استعمال کیا ہوتا ہے، تو پھر ہمیں پتہ چلتا ہے یہ مونث ہے اور علامت نہیں ہوتی تو پھر ہم کیا کہتے ہیں اس میں کیا ہے؟ تا مقدرہ ہے، وہ ہمیں ماننا پڑتی ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟
ترجمہ سارا اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ پھر آخری ایک سطر دیکھ لیں۔ کہتے ہیں وتا مقدرہ اور چوتھی علامت تا مقدرہ ہے، چو ارض جیسے کہ ارض، کہ در اصل أرضۃ بوداست، کہ اصل میں یہ أرضۃ تھا بدلیل عریزۃ، عریزۃ کی دلیل سے، یعنی فعیلۃ جو اس کی تصغیر ہے، اس دلیل سے زہرہ کے تصغیر اسماء را با اصل خود برد، برد، یہ را پر فتحہ پڑھنا ہے بھئی، برد۔ اس لیے کیونکہ تصغیر جو ہے وہ اسموں کو با اصل خود برد، اپنی اصل پر لے جاتی ہے۔ تصغیر جس اسم کی بن جس اسم کی بھی بناؤ، وہ اس کی اس وہ اس کی اصل ظاہر کر دے گی و این را مونث سماعی گویند، اور اس کو مونث سماعی کہتے ہیں۔
وبدان کہ مونث بر دو قسم است، حقیقی اور لفظی۔ یہاں سے ایک چھوٹی سی آسان سی تقسیم کر رہے ہیں، آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مونث خود دو قسم پر ہے یا وہ مونث حقیقی ہوگا یا مونث لفظی۔ بھئی، مونث حقیقی کسے کہتے ہیں؟ آسان سی بات ہے، ہر وہ مونث جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود ہو، اس کو مونث حقیقی کہتے ہیں۔ اور جس مونث کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود نہ ہو، اس کو مونث لفظی کہتے ہیں۔
جیسے امرأت، مذکر ہے یا مونث؟ مونث ہے۔ اور اس کے مقابلے میں رجل، مذکر موجود ہے۔ تو جس مونث کے مقابلے میں مذکر حیوان موجود ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مونث حقیقی۔ تو امرأت کون سا مونث ہے؟ مونث حقیقی کیونکہ اس کے مقابلے میں کیا موجود ہے؟ مذکر حیوان، یعنی رجل موجود ہے۔
اسی طرح ناقۃ، نون الف، قاف دو نقطوں والا اور گول تا، ناقۃ اونٹنی کو کہتے ہیں، اور جمیل، ج م ل، جمیل جو ہے اونٹ کو کہتے ہیں۔ تو دیکھو ناقۃ، یہ مونث ہے۔ اس کے آخر میں کیا جڑی ہوئی ہے؟ گول تا، تو ناقۃ مونث ہے اور یہ مونث حقیقی ہے یا لفظی ہے؟ حقیقی ہے۔ کیوں، مونث حقیقی کیوں ہے؟ کیونکہ اس کے مقابلے میں مذکر حیوان، یعنی جمیل موجود ہے۔ جمیل جو ہے، نر اونٹ کو کہتے ہیں بھئی۔ اور اگر مونث کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود نہ ہو، تو اس کو مونث لفظی کہتے ہیں۔ جیسے ظلمۃ، ط، ض، ض، ل، م اور گول تا، ظلمۃ۔ ظلمۃ عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں، اندھیرے کو، اندھیرے کو۔ ظلمۃ۔ تو ظلمۃ مونث ہے یا مذکر؟ مونث۔ کیسے پتہ چلا؟ آخر میں گول تا ہے۔ اور یہ مونث حقیقی ہے یا لفظی ہے؟ لفظی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود نہیں۔ اسی طرح قوت، قاف دو نقطوں والا، واؤ مشدد اور گول تا، قوت۔ قوت کا معنی ہے طاقت۔ تو قوت کیا ہے، مذکر یا مونث؟ مونث۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں گول تا موجود ہے، شاباش۔ اور یہ مونث حقیقی ہے یا مونث لفظی ہے؟ مونث لفظی ہے، شاباش۔ کیسے پتہ چلا آپ کو؟ کیونکہ اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود نہیں ہے۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں و بدأن کہ مونث بر دو قسم است، اور جان لیاتو کہ مونث دو قسم پر ہے، حقیقی اور لفظی، ایک مونث حقیقی ہے اور ایک مونث لفظی ہے۔ حقیقی جو حقیقت کے اعتبار سے مونث ہے، اور لفظی جو صرف لفظوں میں مونث ہے، دیکھو ظلمۃ، قوت، لفظوں کے اعتبار سے تو مونث ہے، تانیث کی علامت ہے، حقيقتاً یہ مونث نہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں مذکر حیوان نہیں۔ حقیقی آنست، حقیقی وہ ہے کہ با إزاء او، توجہ ہے یہ لفظ کو کیسے پڑھنا ہے؟ إزاء۔ ہاں، إزاء، الف، زا، الف اور ہمزہ، إزاء ان کا معنی ہوتا ہے کسی کے مقابلے میں، کسی کے سامنے۔ با إزاء او، کہ اس کے مقابلے میں، توجہ ہے؟ حقیقی آنست، مونث حقیقی وہ ہے کہ با إزاء او، کہ اس کے مقابلے میں حیوان مذکر باشد، کوئی مذکر حیوان ہو۔ حیوان، یہ دوسری لمبی یا ہونی چاہیے تھی بھئی۔ تو تو اس کے مقابلے میں حیوان مذکر باشد، کوئی مذکر حیوان ہو، چو امرأت جیسے امرأت کہ با إزاء او رجلون است، کہ اس کے مقابلے میں با إزاء او، او او، او نہ پڑھنا، الف پہ پیش نہیں پڑھنی بھئی، کہ با إزاء او، کہ اس کے مقابلے میں رجلون است، رجل ہے، امرأت کے مقابلے میں رجل ہے۔ و ناقۃ، اور ناقۃ، کس کو کہتے ہیں؟ اونٹنی۔ و ناقۃ کہ با، کہ با إزاء او جملون است، کہ اس کے مقابلے میں جمل ہے، یعنی نر اونٹ ہے۔ و لفظی آنست، اور مونث لفظی وہ ہے کہ با إزاء او حیوان مذکر نہ باشد، کہ اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان نہ ہو، چو ظلمۃ، جیسے ظلمۃ و قوت۔ ظلمۃ کا کیا معنی؟ تاریکی اور اندھیرا اور قوت کا معنی طاقت۔
अच्छा चलिए बस करें भाई, बात यहां तक समझ में आ गई؟ आज हमने पढ़ा कि اسم جو ہے جنس کے اعتبار سے دو قسم پر ہے، یا وہ مذکر ہوگا یا مونث۔ مذکر وہ ہے جس میں تانیث والی کوئی علامت نہ ہو اور مونث وہ ہے جس میں تانیث کی کوئی علامت ہو اور تانیث کی انہوں نے چار علامتیں بتلائیں۔ ایک نمبر ایک، گول تا، نمبر دو، الف مقصورہ، نمبر تین، الف ممدودہ اور نمبر چار، تا مقدرہ اور تا مقدرہ جس اسم میں ہو اس کو مونث سماعی کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ ہم سماع پر موقوف ہیں، چونکہ ہم نے عربوں سے ایک لفظ کو مونث سنا ہے، اگرچہ اس میں کوئی علامت نہیں ہوتی تانیث والی، اس لیے اس کو مونث سماعی کہتے ہیں۔ تو مصنف نے چار علامتیں بیان کیں، حالانکہ چوتھی کوئی علامت نہیں ہے۔ دیگر مصنفین نے اور طریقے سے تقسیم کی۔ انہوں نے کہا کہ مونث کی دو قسمیں ہیں، یا مونث یا مونث قیاسی ہوگا یا سماعی ہوگا۔ قیاسی وہ جو قانون کے مطابق ہو، سماعی وہ جو جس میں کوئی قانون نہ ہو، بس عربوں سے ہم نے اس کو مونث سنا ہے۔ اور قیاسی اس میں پھر بتلایا تھا، قیاسی وہ ہے جس میں تین علامتوں میں سے کوئی علامت پائی جائے، گول تا ہو یا الف مقصورہ ہو یا الف ممدودہ، تو یہ جن لفظوں میں آئے تو یہ قانون کے مطابق مونث چیزیں، مونث علامت آئی، تو ان کو ہونا بھی کیا چاہیے؟ مونث۔ اور کچھ لفظ ایسے ہیں ان میں کوئی تانیث والی علامت نہیں، لیکن پھر بھی عرب ان کو مونث استعمال کرتے ہیں، تو وہ مونث سماعی ہے بھئی۔
ہاں اس کے بعد پھر ایک اور قیمتی بات انہوں نے ذکر کی کہ کسی اسم کی اصل کا پتہ چلانا ہو تو اس کی تصغیر نکال کر دیکھ لو، تصغیر سے اس اسم کی اصل کا آپ کو پتہ چل جائے گا۔ جیسے ارض، اس کے آخر میں گول تا نہیں ہے، لیکن جب ہم نے اس کی تصغیر دیکھی جو عرب استعمال کرتے ہیں، تو وہ اس کی تصغیر عریزۃ استعمال کرتے ہیں۔ لفظ میں گول تا نہیں تھی، لیکن تصغیر میں گول تا ہے، معلوم ہوا کہ لفظ میں بھی گول تا موجود تھی، جس کو بعد میں حذف کر لیا گیا۔ تو ارض اصل میں کیا تھا؟ أرضۃ تھا اور اس کی تصغیر سے پتہ چلا، تصغیر اس کی کیا ہے؟ عریزۃ۔ تو کسی بھی لفظ کی اصل کا پتہ چلانا ہو تو اس کی تصغیر دیکھ لو، یہ اسی طرح جمع تکثیر دیکھ لو، جمع تکثیر کا ذکر آگے آنے والا ہے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بتلایا کہ مونث دو قسم پر ہے یا وہ حقیقی ہوگا یا لفظی۔ مونث حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود ہو۔ اور مونث لفظی کسے کہتے ہیں؟ جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان موجود نہ ہو، اگرچہ وہ خود تو مونث ہے، لیکن کوئی مذکر حیوان اس کے مقابلے میں نہیں۔ تو وہ مونث لفظی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقۃ الكلام۔