دیکھیے کتاب پر ویں ہفتاد ضمیر است چہارده مرفوع متصل ضربتو ضربنا ضربت ضربتُما ضربتم ضربتي ضربتُما ضربتن ضرب ضربا ضربوا ضربت ضربتا ضربنا۔
و چہارده مرفوع منفصل انا نحن أنتَ أنتُما أنتُم أنتِ أنتُما أنتُنَّ هو هما هم هي هما هنَّ۔
و چہارده منصوب متصل ضربنی ضربنا ضربک ضربکما ضربکم ضربکی ضربکما ضربکُنَّ ضربه ضربهما ضربهم ضربها ضربهما ضربهنَّ۔
و چہارده منصوب منفصل إيَّاي إيَّانَا إيَّاک إيَّاكُمَا إيَّاكُم إيَّاکِ إيَّاكُمَا إيَّاكُنَّ إيَّاهُ إيَّاهُمَا إيَّاهُم إيَّاهَا إيَّاهُمَا إيَّاهُنَّ۔
و چہارده مجرور متصل لی لَنَا لکَ لکُمَا لکُم لکِ لکُمَا لکُنَّ لہُ لہُمَا لہُم لھَا لہُمَا لہُنَّ۔
بھئی چند سَو قبل مصنّف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو پھر سب سے پہلے آپ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں اور ایک دوسرے سے الگ کر لیں اور اس کے بعد پھر معرب اور مبنی کی پہچان کر لیں کہ معرب اور مبنی کیا ہیں، کون کون سے ہیں اور اس کے بعد عامل کون ہے اور معمول کون ہے یہ پہچان لیں اور اس کے بعد پھر یہ لفظ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں، کون سا لفظ کس کے ساتھ جڑا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑا ہوا یہ پہچان لیں۔ جب یہ ساری چیزیں آپ پہچان لیں گے، یہ چاروں چیزیں نمبر پہلی، پہلی چیز کیا؟ اسم، فعل اور حرف۔ دوسری معرب اور مبنی۔ تیسری عامل اور معمول اور چوتھی کہ یہ لفظ کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب یہ چار چیزیں آپ پہچان لیں گے تو آپ کو مسند اور مسندٌ الیہ کا پتہ چل جائے گا کہ کلام میں کون سی چیز مسندٌ الیہ بن رہی ہے اور کون سی چیز مسند بن رہی ہے۔ میں نے بتلایا تھا بھئی مسند اور مسندٌ الیہ زیدٌ قائمٌ۔ زیدٌ کیا ہے؟ مسندٌ الیہ اس کو مبتدا کہتے ہیں اور قائمٌ یہ کیا ہے؟ مسند ہے اور اس کو خبر کہتے ہیں۔ آسان زبان میں یوں سمجھو، جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہے مسندٌ الیہ اور جو بات کی جائے وہ ہے مسند۔ زیدٌ قائمٌ، زید کھڑا ہے، کس کے بارے میں میں نے بات کی؟ زید کے بارے میں، تو زید ہے مسندٌ الیہ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے یہ ہے مسند۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو مسندٌ الیہ جملہ اسمیہ کے اندر مسندٌ الیہ وہ ہے جس کے بارے میں بات کی جائے اور مسند وہ ہے جو بات کی جائے تو جب یہ چاروں چیزیں آپ کو پتہ چل جائیں گی تو آپ کو علم ہو جائے گا کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے اور کیا بات کی جا رہی ہے تو جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہو اس کو کیا بنا دو مسندٌ الیہ اور جو بات کی جا رہی ہو اسے مسند بنا دو اور مسند اور مسندٌ الیہ مل کر پورا جملہ ہو جائے گا۔ جملے کے دو ہی جز ہوتے ہیں، ایک مسندٌ الیہ اور ایک مسند۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ ایک مسند بھئی۔ تو چنانچہ یہ چار چیزیں انہوں نے کہا تھا یہ پہچان لو تو آپ کو مسند اور مسندٌ الیہ کی پہچان ہو جائے گی اور جملے کا پتہ چل جائے گا۔ پھر ان چار چیزوں کو پہچاننا کیسے ہے؟ تو سب سے پہلے اسم، فعل، حرف کی علامتیں ذکر کی تھیں۔ پہلا کام کیا بتایا تھا؟ اسم، فعل اور حرف کو الگ کر لو، پہچان لو۔ تو چنانچہ انہوں نے اسم، فعل اور حرف کی علامتیں ذکر کر دیں۔ دوسرا کام کیا بتلایا تھا کہ معرب اور مبنی کو پہچان لو تو وہ معرب اور مبنی انہوں نے معرب اور مبنی کی پہچان کیسے ہوگی وہ شروع کروا دیا کہ معرب وہ ہے جس کا آخر عوامل کے آنے سے بدلتا ہے اور مبنی وہ ہے جس کا آخر نہیں بدلتا۔ توجہ ہے؟ معرب وہ ہے جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے اور مبنی وہ ہے جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔ جاءني زیدٌ، رَأَیتُ زیدًا، مررتُ بِزيدٍ دیکھو زیدٌ، زیدًا، زیدٍ تین حالتوں میں وہ بدل رہا ہے، تینوں حالتوں میں۔ کبھی آپ اس پر رفع پڑھ رہے ہیں، کبھی نصب پڑھ رہے ہیں اور کبھی جر پڑھ رہے ہیں اور بَاز اوقات ایک لفظ ایسا ہوتا ہے اس کا آخر نہیں بدلتا جیسے ھؤلاءِ۔ اب اسی زید کو اٹھائیں اور ھؤلاءِ رکھ دیں، جاءني ھؤلاءِ، رَأَیتُ ھؤلاءِ، مررتُ بِھؤلاءِ دیکھو کوئی فرق نہیں آ رہا، تینوں حالتوں میں ھمزہ کے نیچے ہم زیر پڑھ رہے ہیں۔ معلوم ہوا یہ مبنی ہے۔ تو معرب وہ ہے جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہے اور مبنی وہ ہے جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔
پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مبنی کیا کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تمام حروف مبنی ہیں۔ دوسری بات یہ بتائی کہ فعلِ ماضی جو ہے وہ مبنی ہے۔ تیسرا مبنی انہوں نے بتلایا کہ کون سا ہے؟ فعلِ امر حاضر۔ اضربْ اضربَا یہ جو فعلِ امر حاضر ہے یہ سارا کیا ہے؟ مبنی ہے۔ اس کے بعد بتلایا تھا کہ فعلِ مضارع کے وہ صیغے جن کے ساتھ جمع مؤنث کی نون ملی ہوئی ہے یعنی چھٹا اور بارہواں صیغہ یاضربنَ اور تضربنَ یہ چھٹا اور بارہواں صیغہ جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر، یہ دونوں صیغے مبنی ہیں۔ اور اسی طرح فعلِ مضارع کے باقی صیغوں کے ساتھ اگر نونِ تاکید مل جائے تو وہ بھی کیا بن جاتے ہیں؟ مبنی۔ میں نے اس میں آپ کو تفصیل بتلائی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عام علماء جو ہیں وہ فرماتے ہیں فعلِ مضارع کے باقی بارہ جو صیغے ہیں، کل صیغے کتنے ہیں؟ چودہ۔ چودہ میں سے دو تو مبنی ہو گئے، کون سے دو؟ چھٹا اور بارہواں یعنی جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر، یہ دو تو مبنی، باقی بارہ صیغے رہ گئے تو باقی بارہ صیغوں کے ساتھ اگر نونِ تاکید ملے گا تو پھر وہ وہ بھی کیا بن جائیں گے؟ مبنی۔ یہ عام علماء فرماتے ہیں، وہ بارہ کے بارہ صیغے مبنی بن جائیں گے۔ لیکن علمائے محققین کیا فرماتے ہیں؟ کہ کہ ان میں سے سات صیغے وہ ہیں جن کے ساتھ نونِ اعرابی جڑا ہوا ہے، یضربُ، یضربانی دیکھا یہ نون آ گیا، یضربونَ دیکھو یہ نون آ گیا، تضربُ، تضربانی یہ بھی کیا آ گیا نون آ گیا اور اس کے بعد یضربنَ یہ تو جمع مؤنث والا آ گیا یہ اور پھر تضربُ، تضربانی، تضربونَ یہ نون آ رہے ہیں دونوں جگہ اور تضربینَ اور تضربانی ان سب میں نون آ رہا ہے۔ تو وہ صیغے جن کے آخر میں نونِ اعرابی ہے، نونِ اعرابی وہ سات صیغے ہیں، ان کے ساتھ اگر نونِ تاکید جڑے گا تو وہ معرب ہی رہیں گے۔ باقی پانچ رہ گئے۔ بارہ میں سے سات کیا ہیں؟ ان کے ساتھ نونِ اعرابی۔ ان کے ساتھ نونِ تاکید جڑے گا تو وہ معرب ہی رہیں گے اور باقی جو پانچ ہیں ان کے ساتھ جب نونِ تاکید جڑے گا تو وہ مبنی بن جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح سب کو؟ اور نونِ تاکید کے بارے میں بھی میں نے بتلایا تھا کہ نونِ تاکید وہ ہے جو کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے آتا ہے۔ عرب نے عربوں نے جب کسی کلام میں زور پیدا کرنا ہو تو نونِ تاکید ساتھ جوڑتے ہیں اور یہ دو قسم کے نون ہیں، ایک کو نونِ خفیفہ کہتے ہیں، ایک کو نونِ ثقیلہ۔ نونِ خفیفہ وہ اکیلا ایک نون ہوتا ہے، ساکن ہوتا ہے اور نونِ ثقیلہ وہ نون مشدد نون کا نام ہے۔ جیسے اضربْ کا کیا معنی ہے؟ تو پٹائی کر لیکن اس کے ساتھ نونِ خفیفہ جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں اضربنْ۔ دیکھو نونِ ساکن ساتھ جوڑ دیا۔ اضربنْ، اضربْ کا معنی تھا تو پٹائی کر، اب اسی میں زور پیدا کرنا ہے اضربنْ تو ضرور پٹائی کر۔ دیکھو زور آ گیا کلام کے اندر یا اس کے ساتھ نونِ ثقیلہ ملاتے ہیں، اضربنَّ، اضربنَّ تو دیکھو کلام میں زور پیدا ہو گیا کہ تو ضرور پٹائی کر۔ بات سمجھ میں آ رہی؟ تو یہ تاکید کے لیے آتے ہیں یعنی کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے۔
اس کے بعد انہوں نے مبنی الاصل بتلایا۔ مبنی الاصل کتنی چیزیں ہیں؟ تین چیزیں ہیں۔ تمام حروف، فعلِ ماضی اور فعلِ امر حاضر معروف۔ یہ تین چیزیں مبنی الاصل ہیں۔ اصل کا معنی ان کی ذات، یعنی ذات کے اعتبار سے ہی مبنی ہیں اور باقی چیزیں جو مبنی ہوں گی وہ ان کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مبنی ہو جائیں گی۔ جن کی ان کے ساتھ مشابہت آئے گی تو وہ بھی کیا بن جائیں گی؟ مبنی اور وہ ہے اسمِ غیر متمکن۔ ایک ہے اسمِ متمکن اور ایک اسمِ غیر۔ اسمِ متمکن وہ ہے جس پر اعراب آتا ہے، جس کا آخر بدلتا ہے اور اسمِ غیر متمکن وہ یعنی اس کو کہیں مبنی ہے، اسمِ غیر متمکن کیا ہے؟ مبنی ہے، یعنی وہ اعراب کو جگہ نہیں دیتا۔ اس کی مشابہت ہوتی ہے ان تین میں سے کسی ایک کے ساتھ۔ پھر سنو، مبنی کتنی چیزیں؟ مبنی الاصل تین چیزیں۔ نمبر ایک تمام حروف اور فعلِ ماضی اور فعلِ امر حاضر دیکھو ان تین میں سے اسم ایک بھی نہیں ہے۔ یا تمام حروف ہیں یا فعلِ ماضی ہے یا فعلِ امر حاضر ہے۔ تو یہ اسم نہیں۔ البتہ اسم میں بھی مبنی آتا ہے تو اس کو اسمِ غیر متمکن کہتے ہیں۔ غیر متمکن اور جو اسم معرب ہوتا ہے اس کو اسمِ متمکن کہتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسمِ متمکن جو اعراب کو جگہ دیتا ہے وہ معرب ہے لیکن شرط یہ ہے وہ ترکیب میں واقع ہو۔ زیدٌ، زیدًا، زیدٍ آپ تین اعراب اس پر پڑھتے ہیں تو یہ کیا ہے اسمِ متمکن لیکن یہ معرب کب کہلائے گا؟ جب ترکیب میں ہو اور ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی ساتھ موجود ہو۔ آپ نے پڑھا تھا کہ ایک ہے رفع، ایک ہے نصب اور ایک ہے جر اور رفع نصب جر یہ خود آتے ہیں یا ان کے لیے کوئی عامل چاہیے؟ عامل چاہیے، یہ خود بخود نہیں آئیں گے، آپ زیدٌ پڑھنا چاہتے ہیں، خود نہیں پڑھ سکتے بھئی، کوئی عامل چاہیے جو اس کو رفع دے، آپ زیدًا پڑھنا چاہتے ہیں، نہیں پڑھ سکتے جب تک کوئی نصب دینے والا عامل نہ ہو، آپ زیدٍ پڑھنا چاہتے ہیں، خود نہیں پڑھ سکتے جب تک کوئی جر دینے والا عامل نہ ہو تو اسمِ متمکن معرب ہے بشرطیکہ وہ ترکیب میں واقع ہو اور ترکیب بھی کیسی ہو؟ اس کا عامل ساتھ موجود ہو۔ جاء زیدٌ۔ ترکیب کا کیا معنی؟ جوڑنا جوڑنا، کسی دوسرے لفظ کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ جاء زیدٌ، زیدٌ کو کس کے ساتھ جوڑا؟ جاء کے ساتھ اور جاء فعل ہے اور یہ اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے تو اس نے زید کو بھی اپنا فاعل بناتے ہوئے رفع دے دیا تو جاء زیدٌ، تو اب زید کیا ہے؟ یہ اسمِ متمکن ہے اور کس میں واقع ہو رہا ہے؟ ترکیب میں اور ساتھ اس کا عامل بھی موجود ہے اس لیے اس کو معرب کہیں گے۔ اس اسمِ متمکن کو کیا کہیں گے؟ معرب۔ لیکن اگر یہ عامل اس کے ساتھ نہ ہو اکیلا زید ہو تو پھر یہ مبنی ہے۔ اکیلا زید ہو تو یہ مبنی ہے کیونکہ اگرچہ یہ اسمِ متمکن ہے، اعراب کو جگہ دے گا لیکن کب جگہ دے گا جب ترکیب میں ہو اور ترکیب میں بھی اس کا عامل ساتھ موجود ہو۔ اگر ترکیب میں ہو اور عامل ساتھ موجود نہ ہو پھر بھی یہ مبنی ہے۔ ترکیب میں ہو لیکن عامل موجود نہ ہو، پھر بھی کیا ہے؟ مبنی۔ تو معلوم ہوا اس اسمِ متمکن معرب ہے لیکن شرط کیا ہے؟ ترکیب میں ہو اور کس کے ساتھ ہو ترکیب میں؟ اپنے عامل۔ تو آسان لفظوں میں یوں کہو کہ اسمِ متمکن معرب ہے بشرطیکہ وہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔ بشرطیکہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔ اور دوسری قسم ہے اسم کی اسمِ غیر متمکن۔ اسمِ غیر متمکن وہ ہے جو مبنی الاصل کے مشابہ ہوتا ہے۔ یعنی وہ حروف کے ساتھ اس کی کوئی مشابہت ہو جائے گی یا فعلِ ماضی کے ساتھ اس کی کوئی مشابہت ہوگی یا فعلِ امر حاضر کے ساتھ اس کی کوئی مشابہت ہوگی اور یہ تینوں تو ہیں مبنی الاصل تو ان کے جو مشابہ ہوگا وہ بھی کیا بن جائے گا؟ مبنی تو اس کو اسمِ غیر متمکن کہیں گے۔ اور اس اسمِ غیر متمکن کی انہوں نے بتلایا تھا آپ کو کہ آٹھ قسمیں ہیں۔ پہلی قسم ضمیریں جو ہیں وہ ہم نے پڑھنا شروع کی تھیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر دوبارہ سے یہ فصل دیکھ لیتے ہیں، اخری فصل۔ فصل، بداں کہ اسمِ غیر متمکن ہشت قسم است، جان لے تو کہ اسمِ غیر متمکن جو ہے وہ آٹھ قسم پر ہے۔ اسمِ غیر متمکن یعنی کہ مبنی، مبنی۔ اسم کے اندر یہی مبنی ہے نا، اسم دو قسم پر ہے یا معرب ہوگا یا اور جو غیر متمکن ہے اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ مبنی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اسمِ غیر متمکن ہشت قسم است، اسمِ غیر متمکن جو ہے وہ آٹھ قسم پر ہے۔ اول مضمرات، پہلی قسم جو ہے وہ ضمیریں ہیں۔ مضمرات جمع ہے مضمر کی اور مضمر ضمیر کو کہتے ہیں۔ تو پہلی قسم تمام ضمیریں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ کلام کے تین طریقے ہیں۔ ایک تکلم ہے، ایک خطاب ہے اور ایک غیبت ہے۔ تکلم جب انسان اپنے بارے میں بات کرے اور اپنے بارے میں بات کرنے والے کو متکلم کہتے ہیں۔ مثلاً میں اپنے بارے میں بات کرتا ہوں کہ میں آج بازار گیا تھا، آج میں نے یہ کام کیا، آج میں نے وہ کام کیا، دیکھو میں اپنے ہی بات کر رہا ہوں۔ تو یہ جو اپنے بارے میں بات کی جائے یہ انداز جو ہے کلام کا اس کو تکلم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تکلم اور یہ جو بات کرنے والا ہوتا ہے اس کو متکلم کہتے ہیں، متکلم۔ اور دوسرا طریقہ ہے کلام کا خطاب جو سامنے موجود ہے، جس سے بات کی جائے جیسے میں اس وقت متکلم ہوں اور آپ سارے میرے مخاطب ہیں، آپ سے میں بات کر رہا ہوں۔ تو میں کیا ہوا؟ متکلم اور آپ لوگ جو سب سامنے بیٹھے ہیں، آپ کیا ہیں؟ مخاطب۔ میں نے بتلایا تھا مخاطب کی طاء پر زبر پڑھنا ہے، مخاطب یعنی جن سے خطاب کیا جائے۔ طلباء عموماً مخاطب پڑھتے ہیں، طاء کے نیچے زیر پڑھتے ہیں۔ مخاطب کا معنی تو ہے خطاب کرنے والا یعنی بات کرنے والا اور وہ تو متکلم ہے تو میں متکلم بھی کہلاؤں گا اور میں مخاطب بھی کہلاؤں گا۔ اور آپ کیا کہلائیں گے جو بات سننے والے ہیں؟ مخاطب۔ تو کلام، میں نے بتایا کلام کے تین طریقے ہیں۔ ایک طریقہ کیا؟ تکلم والا کہ انسان اپنے بارے میں بات کرے کہ میں آج بازار گیا تھا، میں نے آج یہ کام کیا، میں نے آج وہ کام کیا۔ دیکھو اپنے بارے میں بات کر رہا ہے۔ دوسرا طریقہ ہے خطاب والا جس میں مخاطب سے الفاظ استعمال ہوتے ہیں مثلاً آپ کا کیا حال ہے؟ آپ آج کہاں گئے تھے؟ آپ کس درجے میں پڑھتے ہیں؟ دیکھو میں مخاطب جو ہیں ان سے بات کر رہا ہوں تو اس کو کہتے ہیں خطاب۔ خطاب اور تیسرا طریقہ ہے غیبت کا بھئی، غائب جس میں کسی غائب تیسرے آدمی کے بارے میں بات کی جائے۔ ایک ہوا متکلم، ایک ہوا مخاطب اور جو تیسرے کسی کے بارے میں بات کی جائے اس کو کہتے ہیں غیبت بھئی، غائب، یعنی غائب، غائب کہہ لیں، متکلم، مخاطب اور غائب۔ تو یاد رکھیے کہ یہ جو متکلم اور مخاطب ہیں ان کے لیے ضمیریں استعمال کی جاتی ہیں۔ کس کے لیے؟ دیکھو میں آپ کو اپنے بارے میں بتلاتا ہوں کہ میں آج بازار گیا تھا، میں نے آج یہ کام کیا تو متکلم میں، میں یا ہم کا لفظ استعمال کرتا ہے اگر جمع ہوں۔ اور اپنا نام استعمال نہیں کرتا، حالانکہ متکلم کا بھی تو کوئی نام ہوگا لیکن بار کیا وہ اپنا نام استعمال کرتا ہے بات کرتے ہوئے؟ نہیں، وہ ہر جگہ میں یعنی ضمیر استعمال کرتا ہے اپنے لیے۔ اور مخاطب جو سامنے موجود ہوتا ہے، اس کا بھی نام نہیں لیتا مثلاً میرے سامنے اگر ایک ساتھی ہے، اس کا نام عبداللہ ہے تو میں اس کو یہ نہیں کہوں گا عبداللہ کا کیا حال ہے؟ بلکہ کیا کہوں گا؟ آپ کا کیا حال ہے؟ تو جو مخاطب ہوتا ہے اس کو بھی ضمیر کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اور متکلم اپنے آپ کو بھی کس کے ساتھ ذکر کرتا ہے؟ ضمیر کے ساتھ۔ اور جو غائب ہوتا ہے اس کا کبھی نام لیا جاتا ہے یا کوئی ایسی چیز ذکر کر دی جاتی ہے جس ایک دفعہ اس کا ذکر کسی طریقے سے کر دیا جاتا ہے پھر اس غائب کے لیے بھی عموماً ضمیریں ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ مثلاً پہلی دفعہ مثلاً میں اس کا نام لے لوں گا کہ زید میرا بڑا گہرا دوست ہے، اب ایک دفعہ میں نے نام ذکر کر دیا اب آگے میں بار بار زید نہیں کہوں گا کہ زید مثلاً دیکھو، زید میرا بڑا گہرا دوست ہے، زید تیسرے درجے میں پڑھتا ہے، زید بڑا محنتی ہے
ادمی نہیں۔ بار بار نام نہیں لوں گا، نام یا اس کا ذکر ایک دفعہ ہو جائے گا، پھر اس کے بعد ضمیریں چل پڑیں گی، اس کے لیے ضمیریں استعمال ہوں گی۔ مثلاً میں نے کہا زیڈ میرا بڑا گہرا دوست ہے، وہ تیسرے درجے میں پڑھتا ہے۔ وہ بڑا محنتی طالب علم ہے۔ دیکھو اب وہ ضمیر کا ذکر شروع ہو گیا غائب کی۔
تو متکلم اپنے لیے بھی اپنے آپ کو بھی ضمیر کے ساتھ ذکر کرتا ہے، مخاطب کو بھی ضمیر کے ساتھ ذکر کرتا ہے اور غائب کو بھی ضمیر کے ساتھ ذکر کرتا ہے، بشرطیکہ اس غائب کا پہلے ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہو۔
اگر ایک دفعہ بھی ذکر نہیں ہوا اور میں کہنے آپ کو کہوں بھئی وہ بڑا محنتی آدمی ہے، آپ فورا پوچھیں گے بھئی کون؟ کس کی بات آپ کر رہے ہیں؟ تو پہلے ایک دفعہ اس کا ذکر ضروری ہے، چاہے نام لے لیں، چاہے کسی اور انداز میں ذکر کر دیں، لیکن پہلے ایک دفعہ اس کا ذکر ہونا چاہیے، تاکہ سننے والے کو پتہ چل جائے کس کی بات ہو رہی ہے اور اس کے بعد ضمیر وہ استعمال کی جائے۔
تو ضمیر کسے کہتے ہیں؟
جو متکلم پر دلالت کرے یعنی بات کرنے والا، یا کس پر دلالت کرے؟ مخاطب پر، یا ایسے غائب پر جس کا ذکر ایک دفعہ ہو چکا ہو۔
تعریف سمجھ میں آ گئی؟ ضمیر کسے کہتے ہیں؟
جو متکلم پر دلالت کرے یا مخاطب پر یا ایسے غائب پر جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو بھئی، ہو چکا ہو۔
تو ضمیر کسے کہتے ہیں؟
جو متکلم یا مخاطب یا ایسے غائب پر دلالت کرے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو۔
تو کہتے ہیں اول مضمرات پہلی قسم جو ہے وہ ضمیریں ہیں، چوں انا۔ انا کا معنی میں، میں۔ من اور مرد و زن من مرد و زن، یہ مرد اور عورت دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مرد ہو وہ بھی کہے گا میں، میں آج بازار گیا تھا یا میں نے آج سبق پڑھا، اور عورت ہو وہ بھی یہی کہے گی میں نے آج سبق پڑھا، دیکھو میں کا لفظ مذکر بھی استعمال کرتا ہے اور مؤنث بھی۔ اس لیے کہا من، میں، مرد و زن، مرد اور عورت یعنی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زن عورت کو کہتے ہیں فارسی میں۔
و ضربتو، ضربتو میں نے پٹائی کی، زدم من، میں نے مارا۔ زدن کا معنی ہوتا ہے مارنا، زدم من، میں نے مارا۔ تو یہ ضربتو کے اندر جو تا ہے، یہ ضمیر ہے۔
و اِیَّایا، اِیَّایا، یہ خاص مرا، یعنی خاص طور پر مجھے، خاص طور پر مجھے یا میرے لیے۔ تو یہ اِیَّایا یہ بھی ضمیر ہے۔
و ضربنی، ضربا، ضربنی، بزد مرا، اس نے مجھے مارا۔ ضربا اس نے مارا، نی مجھے۔ تو یہ آخر میں یا ضمیر متکلم کی ہے۔
و لی، و لی مرا، اس یہ لام جارہ ہے اور یا متکلم کی ضمیر ہے، میرے لیے یا میرا۔
تو دیکھو یہ ساری متکلم کی ضمیریں ہیں، انا، یہ بھی متکلم کی ضمیر ہے، میں چاہے مرد ہو یا عورت۔ ضربتو، یہ تا بھی متکلم کی ضمیر ہے، میں نے مارا۔ اِیَّایا، یہ بھی متکلم کی ضمیر ہے، خاص طور پر میرے لیے یا خاص طور پر مجھے۔ و ضربنی، مارا مجھے، یہ یا بھی کیا ہے؟ متکلم کی ضمیر ہے۔ و لی، یہاں پر بھی یا کیا ہے؟ متکلم کی ضمیر۔ تو یہ پانچوں متکلم کی ضمیریں ہیں۔
یہ آگے آپ کو تفصیل بتلائیں گے۔
جیسے فعل ماضی اور مضارع وغیرہ کے چودہ چودہ صیغے ہیں، اسی طرح یہاں ضمیریں بھی چودہ قسم کی بنیں گی۔
چودہ قسم کی، کیسے؟
یا واحد کی ہوگی، یا تثنیہ کی ہوگی، یا جمع کی ہوگی۔ پھر یا مذکر کے لیے ہوگی، یا مؤنث کے لیے، پھر غائب کے لیے ہوگی، یا حاضر کے لیے ہوگی، اور یا پھر متکلم کے لیے ہوگی، تو یہ کل چودہ ضمیریں بن جاتی ہیں۔
چودہ ضمیریں، ان میں تفصیل یاد رکھنا۔
یہ پانچ قسم کی ضمیریں انہوں نے ذکر کر دیں، دیکھو انا یہ ایک قسم والی ضمیر، ضربتو یہ دوسری قسم والی ضمیر، اِیَّایا تیسری قسم کی ضمیر، ضربنی چوتھی قسم کی ضمیر اور لی یہ پانچویں قسم کی ضمیر ہے۔
تفصیل یاد رکھو۔
یہ یہ جو پانچ قسم کی ہیں، ہر ایک کی چودہ صورتیں بنیں گی، چودہ قسم کی ضمیریں بنیں گی ہر ایک کی اور چودہ پنجے ستر، تو کل یہ ستر ضمیریں بنیں گی۔ اسی لیے انہوں نے کیا کہا؟ و ایں ہفتاد ضمیر است، اور یہ ستر ضمیریں ہیں۔ ہفت کا معنی سات، اور ہفتاد کا معنی ستر، تو یہ ستر ضمیریں ہیں، کل کتنی قسم کی ہیں؟ پانچ قسم، اور ہر قسم میں کتنی ضمیریں؟ چودہ چودہ ضمیریں، تو چودہ پنجے ستر ضمیریں ہوگئیں۔
اس میں یاد رکھنا، کچھ ضمیر متصل ہیں، کچھ منفصل۔
متصل اور منفصل، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، متصل کا معنی جڑی ہوئی، منفصل کا معنی علیحدہ، علیحدہ۔ تو متصل وہ ضمیر ہوگی جو اپنے عامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی۔
متصل کونسی ضمیر؟ جو اپنے عامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی، اور منفصل وہ ضمیر ہے جو اپنے عامل سے الگ ہو۔
تو متصل کونسی ضمیر؟ جو عامل کے ساتھ جڑی ہو، اور منفصل کونسی ضمیر؟ جو اپنے عامل سے الگ ہو۔
پھر اس کے بعد چاہے متصل ہو چاہے منفصل، یا یہ مرفوع ہوگی یا منصوب ہوگی یا مجرور۔
یا مرفوع یا منصوب یا مجرور۔
अच्छा, सबसे पहले متصل को देख लो। ضمیر متصل، ضمیر متصل جی یہ کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر۔ یا مرفوع ہوگی، متصل کا کیا معنی؟ اپنے عامل کے ساتھ جڑی، پوری بات کریں، کس کے ساتھ جڑی ہو؟ اپنے عامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہو اور یہ کتنی قسم پر ہے متصل؟ تین قسم پر۔ یا یہ مرفوع ہوگی، یا یہ منصوب ہوگی، یا یہ مجرور ہوگی، تو تین قسمیں ہوگئیں۔ تین قسمیں۔
اور جو منفصل ہے، منفصل، وہ صرف دو قسم پر ہے۔ یا وہ مرفوع ہوگی یا منصوب، مجرور نہیں ہو سکتی۔
ضمیر اگر اپنے عامل سے الگ ہو جائے تو وہ یا تو مرفوع ہوگی، اس رفع کا مقام، رفع پڑھیں گے، یا وہ منصوب ہوگی، مجرور نہیں ہے۔
توجہ ہے؟ طلبہ کو عموماً ضمیروں کا پتہ نہیں چلتا بھئی ابتدائی کتاب ہے، یہیں سے اچھی طرح سمجھ لو۔
یا ضمیر کیا ہوگی؟ پھر دوبارہ سنیں، یا متصل ہوگی یا منفصل۔ متصل کا کیا معنی؟ جڑا ہوا، یہ ارادی بات کر رہے ہو، اپنے عامل سے جڑی ہوئی ہو، اپنے عامل سے جڑی ہوئی ہوگی، تو متصل کونسی ہے جو اپنے عامل سے جڑی ہو، منفصل جو اپنے عامل سے جڑی ہوئی نہ ہو۔ تو یہ جو متصل ہے یہ تینوں قسم کی ہو سکتی ہے، مرفوع بھی، منصوب بھی اور مجرور بھی۔ لیکن جو منفصل ہے جو اپنے عامل سے الگ ہو چکی ہے، وہ یا مرفوع ہوگی یا منصوب، مجرور نہیں ہو سکتی، جب الگ ہو ہی نہیں سکتی تو اس لیے مجرور منفصل کوئی قسم ہی نہیں ہے۔ مجرور صرف متصل ہی آتی ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟ کیا؟
کہ ضمیر میں اصل کیا ہے؟ کس صورت میں استعمال کرنی چاہیے؟ متصل ضمیر استعمال کرنی چاہیے، لیکن اگر متصل استعمال نہ کر سکیں، پھر منفصل سے کام چلانا پڑتا ہے۔
ضمیر میں پہلی کیا صورت ہے؟ کوشش کی جاتی ہے کونسی ضمیر لائی جائے؟ متصل کیونکہ متصل چھوٹی ہوتی ہے، چھوٹی سی، ایک آدھ حرف عموماً ہوتا ہے، تو وہ آسانی سے ادائگی میں بھی آسانی ہوتی ہے، تو کوشش کی جاتی ہے متصل لائی جائے۔ اگر متصل نہ لائی جا سکے، مجبوری ہو عامل کے ساتھ نہیں جڑ سکتی تو پھر منفصل یعنی علیحدہ ضمیر لائی جاتی ہے جو اپنے عامل سے جڑی ہوئی نہ ہو۔
اور مرفو مرفوع جو ہے، ضمیر، وہ اپنے عامل سے علیحدہ ہو جاتی ہے، منصوب جو ہے وہ بھی اپنے عامل سے علیحدہ ہو جاتی ہے، لیکن مجرور جو ضمیر ہے وہ اپنے عامل سے الگ نہیں ہو سکتی۔
ابھی میں نے بتایا نا منفصل کی کتنی قسمیں؟ دو، کون کون سی؟ مرفوع اور منصوب۔ مجرور نہیں ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ اپنے عامل سے علیحدہ ہو ہی نہیں سکتی، اگر عامل، مرفوع جو ہے وہ اپنے عامل سے علیحدہ ہو سکتی ہے، تو مرفوع منفصل ایک قسم ہو گئی۔ منصوب بھی اپنے عامل سے علیحدہ ہو سکتی ہے، تو منصوب منفصل دوسری قسم ہو گئی، لیکن مجرور اپنے عامل سے الگ ہو ہی نہیں سکتی، اس لیے مجرور منفصل کوئی قسم ہی نہیں۔
مجرور صرف متصل ہی آتی ہے۔
بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ جی دیکھیے اب کتاب پر، تو کہتے ہیں و ایں ہفتاد ضمیر است اور یہ ستر ضمیریں ہیں، چہاردا مرفوع متصل، چہاردا، چودہ، چودہ۔ چودہ مرفوع متصل ہیں بھئی، مرفوع، یعنی مرفوع ہوں گی، مسند الہ بنیں گی اور متصل ہوں گی، جڑی ہوئی ہوں گی اپنے عامل کے ساتھ۔
جیسے ضربتو، ضربنا، ضربتا، ضربتوما، ضربتم، ضربتی، ضربتوما، ضربتون۔ ضربا، ضربا، ضربو، ضربت، ضربتا، ضربنا۔
جی ضمیریں بتاؤ بھئی، میں سب بتلا چکا ہوں آپ کو۔ ضربتو میں کیا ضمیر ہے؟ تا ضمیر ہے شاباش۔ ضربنا میں، نا ضمیر ہے۔ ضربتا میں، تا ضمیر ہے۔ ضربتوما میں، توما ضمیر ہے۔ ضربتم میں، تم ضمیر ہے۔ ضربتی میں، ہاں تا ضمیر ہے۔ ضربتی میں، تا ضمیر ہے۔ ضربتوما میں، توما ضمیر ہے۔ ضربتون میں، تونا ضمیر ہے۔ ضربا کے اندر، ہوا ضمیر ہے۔ ضربا میں، الف ضمیر ہے۔ ضربو میں، واو ضمیر ہے۔ ضربت میں، ھیا۔ ھیا، یہ تا تانیث کی علامت ہے، یہ جو تا ساکن ہے لمبی، یہ ضمیر نہیں ہے۔ تو ضربت میں، ھیا ضمیر ہے۔ ضربتا میں، ہاں الف الف۔ یہ تا تو وہی تانیث والی ہے جو ابھی میں نے بتائی، یہ الف کی وجہ سے اس پر زبرت آگے ورنہ یہ ساکن تھی، تو ضربتا میں کیا ضمیر ہے؟ الف ضمیر ہے اور ضربنا میں، نون ضمیر ہے، نون ضمیر ہے۔
اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوگا کہ ہم نے صرف میں یہ گردان اور طرح پڑھی تھی۔ وہاں کیسے تھی؟ ضربا ضربا ضربو، ضربا سے شروع ہوتی تھی اور یہاں انہوں نے کس کے ساتھ شروع کی ہے؟ ضربتو ضربنا، آخری صیغوں کو شروع میں لے آئے اور پھر آخری سے جو پہلے تھے ان کو بعد میں لے آئے اور جو شروع والے تھے ان کو سب سے آخر میں لے گئے یعنی پوری گردان کو الٹ دیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
بھئی وجہ یہ ہے کہ کہ علم صرف میں فعل کی گردانیں کی جاتی ہیں، کس میں؟ علم صرف میں فعل کی گردانیں کی جاتی ہیں، وہ فعل کے بارے میں بحث کرتے ہیں، فعل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ سب سے پہلے وہ صیغہ لاتے ہیں جس کے ساتھ کوئی ضمیر جڑی ہوئی بارز نہ ہو۔
کوئی بارز یعنی ظاہر ضمیر اس کے ساتھ جڑی ہوئی نہ ہو اور وہ کون سا صیغہ ہے؟ ضربا ہے۔
ضربا ہے۔ ضربتو کے اندر تو تا جڑی ہوئی ہے، ضربتا کے اندر بھی تا جڑی ہوئی ہے، لیکن ضربا کے ساتھ کوئی بارز ضمیر جڑی ہوئی نہیں ہے۔ ہاں، اس کے اندر تو ضمیر چھپی ہوگی، لیکن خود اس کے ساتھ ظاہر یعنی بارز ضمیر جڑی ہوئی نہیں، یعنی اس میں مستتر نکالیں گے ضمیر، تو اس لیے وہ اس فعل کو سب سے شروع میں لاتے ہیں کہ یہ صرف فعل ہے گویا اس کے ساتھ کوئی ضمیر بارز جڑی ہوئی نہیں۔
تو لہٰذا وہ غائب کے صیغے پہلے لاتے ہیں کیونکہ یہ ضربا کونسا صیغہ ہے؟ غائب کا، ضربا ضربا ضربو، ضربت ضربتا ضربنا۔
اس کے بعد مخاطب اور متکلم کے صیغے رہ گئے، تو پھر وہ مخاطب کے لاتے ہیں کیونکہ مخاطب کے چھ صیغے ہیں اور متکلم کے دو صیغے ہیں، تو پہلے جو ذرا لمبی بحث تھی جس میں اس کو لے آئے اور اس کے سب سے آخر میں متکلم کو لے آئے۔
صرفی کیا کرتے ہیں؟ سب سے پہلے کس فعل کو لاتے ہیں؟ جس کے ساتھ کوئی ضمیر بارز جڑی ہوئی نہ ہو اور وہ غائب کی صیغے ہیں۔ غائب کا پہلا صیغہ ہے، اور اس کے بعد کون کون رہ گئے؟ مخاطب رہ گئے اور متکلم، تو وہ کس کو دوبارہ بعد میں کس کو لاتے ہیں؟ مخاطب کو، کیوں؟ کیونکہ اس کے صیغے زیادہ ہیں اور متکلم کے صیغے تھوڑے ہیں تو پہلے وہ جو لمبی چیز ہے اس کو ذکر کر دیے تاکہ وہ گزرے آسان چیز آخر میں رہ جائے۔
جبکہ علم نحو میں تعریف و تنکیر سے بحث کی جاتی ہے۔ آگے یاد رکھنا، آگے معرفہ اور نکرہ کا بیان آئے گا۔
معارفہ اسے کہتے ہیں جو کسی معین چیز پر دلالت کرے اور نکرہ اسے کہتے ہیں جو غیر معین پر دلالت کرے۔
معارفہ کسے کہتے ہیں؟ معین چیز پر دلالت کرے اور نکرہ غیر معین چیز پر، جیسے میں آپ سے کہتا ہوں کتابی، میری کتاب۔ معلوم ہوا یہ خاص کتاب جو میرے سامنے ہے، یہ مراد ہے کیونکہ میں نے کیا کہا؟ کتابی میری کتاب۔
تاب۔ اور اگر میں صرف کہوں کتاب، تو پھر تو جو آپ سب کے سامنے کتابیں پڑھی ہیں کسی پر بھی یہ لفظ صادق آ سکتا ہے یہ بھی کتاب ہے وہ بھی کتاب ہے اور وہ بھی کتاب۔ تو کتاب ہے نکرہ۔ اور کتابی یہ کیا ہے؟ معرفہ۔ دیکھو معین چیز پہ دلالت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ ایک کیا ہے؟ کتاب اور ایک کیا ہے؟ کتابی۔ کتابی کہا تو یہ معین کتاب مراد ہوئی یا غیر معین؟ معین۔ معین۔ یہ صرف میری کتاب کو میں کہہ اپنی کتاب کو کہہ سکتا ہوں کہ یہ میری کتاب ہے۔ آپ کی کتاب کو میں کتابی نہیں کہہ سکتا۔ ہاں! اگر میں صرف کتاب کہوں، تو یہ ہر کتاب پر یہ لفظ بولا جا سکتا ہے۔ آپ کے سامنے جو ہے وہ بھی کتاب ہے، میرے سامنے جو ہے وہ بھی کتاب ہے۔ تو معرفہ کسے کہتے ہیں؟ معین چیز پر دلالت کرے اور نکرہ کسے کہتے ہیں؟ غیر۔ جی! تو کتابی معرفہ ہے یا نکرہ؟ معرفہ۔ یہ معین کتاب یعنی میری کتاب پر دلالت کر رہا ہے اور صرف کتاب یہ کیا ہے؟ غیر معین۔ یہ ہر کتاب پر بولا جا سکتا ہے تو یہ نکرہ ہے۔ تو صرفی فعل سے بحث کرتا ہے اور نحوی تعریف اور تنکیر۔ تعریف کا معنی معرفہ کرنا اور تنکیر کا معنی نکرہ کر بنانا۔ تو نحوی جو ہے تعریف اور تنکیر یہ یوں کہو معرفہ اور نکرہ کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ اور معرفہ کا معنی ہے؟ کیا معنی؟ معین چیز۔ یہ معرفت سے ہے، معرفت۔ اور معرفت کہتے ہیں پہچان کو۔ معرفت کسے کہتے ہیں؟ پہچان کو۔ اب مجھے بتاؤ، ایک ہے متکلم بولنے والا، ایک اس کے سامنے مخاطب ہے، اور ایک تیسرا شخص ہے غائب۔ انسان جو بولنے والا ہو، اس کو سب سے زیادہ اپنے بارے میں پتا ہوتا ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ، تو وہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے، اور دوسرے نمبر پر مخاطب کیونکہ وہ اس کے سامنے موجود ہے، اور غائب جو ہے وہ تو غائب ہے، اس کا سب سے آخری درجہ ہے۔ تو متکلم بھی معرفہ ہے ضمیر، مخاطب کی بھی معرفہ، اور غائب کی بھی معرفہ۔ لیکن سب سے زیادہ تعریف کس میں، سب سے زیادہ کس کو انسان پہچانتا ہے؟ اپنے آپ کو۔ دوسرے نمبر پر مخاطب کو اور آخری درجہ کس کا ہے؟ غائب کا۔ تو اسی لیے یہاں پر گردانوں میں متکلم کے صیغے سب سے پہلے لائے کیونکہ وہ سب سے زیادہ معرفہ ہیں۔ انسان سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے، دوسرے درجے پر کس کو لائے؟ مخاطب کیونکہ متکلم کے بعد دوسرا درجہ مخاطب کا ہے، اور غائب کا سب سے آخری درجہ ہے اس کو آخر میں لائے۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے بھئی! ضربتو، ضربنا۔ دیکھو متکلم کے صیغے پہلے لائے کیونکہ انسان سب سے زیادہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے، پھر ضربتا، ضربتمَا، ضربتم، ضربتی، ضربتمَا، ضربتنّ۔ مخاطب کے صیغے اس کے بعد لائے کیونکہ اپنے بعد انسان جو سامنے موجود ہے اس کو زیادہ جانتا ہے، اور آخر میں ضربا، ضربا، ضربوا، ضربت، ضربتا، ضربنا۔ یہ چھ، یہ چھ صیغے غائب کے ہیں۔ اور ضمیریں میں نے بتلا دیں کس میں کون سی ضمیر ہے بھئی۔ اور یہ ساری کون سی ضمیریں ہیں؟ مرفوع ہیں کیونکہ فاعل ہیں، مسند الیہ ہیں، اور متصل ہیں اپنے عامل یعنی ضربا کے ساتھ یہ جڑی ہوئی ہیں۔ ضربتو، یہ تا کس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے؟ ضربا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگلے آگے دیکھیے! و چہاردا مرفوع منفصل، اور چودہ جو ہیں مرفوع منفصل ہیں، ضمیریں۔ اور وہ کون سی؟ انا، نحن، انتا، انتمَا، انتم، انتی، انتمَا، انتنّ۔ ہوا، ہما، ھم، ہی، ہما، ھنّ۔ انا، میں، نحن، ہم، انتا، تو ایک مرد، انتمَا، تم دو مرد، انتم، تم سب مرد۔ انتی، تو ایک عورت، انتمَا، تم دو عورتیں، انتنّ، تم سب عورتیں۔ ہوا، وہ ایک مرد، ہما، وہ دو مرد، ھم، وہ سب مرد، ہی، وہ ایک عورت، ہما، وہ دو عورتیں، اور ھنّ، وہ سب عورتیں۔ تو دیکھو یہاں بھی وہی ترتیب ہے۔ پہلے متکلم کی دو ضمیریں لائے، اس کے بعد چھ ضمیریں مخاطب کی لائے، اور پھر چھ ضمیریں غائب کی لے کر آئے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے، پہلی قسم کیا ہے مرفوع متصل، اور یہ کیا ہے مرفوع منفصل۔ تو یہ مرفوع منفصل کہاں لائیں گے؟ جہاں اپنے عامل کے ساتھ جوڑنے کی گنجائش نہ ہو، کوئی ایسی صورت بن جائے کہ عامل ساتھ نہیں آ سکتا، اور مقام بھی کون سا ہے؟ رفع والا ہے۔ مقام بھی کون سا ہے؟ رفع والا ہے تو پھر یہ مرفوع منفصل لائیں گے۔ اور اگر عامل کے ساتھ نہیں جڑ سکتی ضمیر، لیکن مقام نصب والا ہے تو پھر یہ والی لائیں گے یا منسوب منفصل لائیں گے؟ منسوب منفصل۔ ہاں، تو آپ نے رفع اور نصب کا بھی خیال رکھنا ہے، نصب والے مقام میں منسوب لانا اور رفع والے مقام میں مرفوع بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی! و چہاردا منسوب متصل اور چودہ ضمیریں جو ہیں منسوب متصل ہیں۔ ضربنی، ضرب مارا اس نے، نی مجھے۔ یہ نون بھی قایا ہے میں نے بتلایا تھا نون وقایہ۔ اور یہ یا کس چیز کی ہے؟ متکلم کی ہے یہ ضمیر، اس کی بات ہو رہی ہے یہ جو یا ہے یا۔ ضربنا اس میں یہ جو نا ہے، ضربکا اس میں کاف ہے، ضربکما اس میں کما ہے، ضربکم اس کے اندر کم ہے، ضربکی اس میں اس میں کاف ہے۔ پھر سنو! ضربنی اس کے اندر یا ضمیر ہے متکلم کی جو آخر میں آ رہی ہے۔ ضربنا اس کے اندر نا ضمیر ہے۔ ضربکا اس کے اندر کاف ضمیر ہے۔ ضربکما کے اندر کما ضمیر ہے۔ ضربکم میں کم ضمیر ہے۔ ضربکی کاف ضمیر۔ کاف کیوں کہہ رہے ہو؟ کی کیوں نہیں کہتے؟ کی ضمیر ہے۔ ہاں وہ کلمہ جو ایک حرف پر مشتمل ہو، اس کا جب نام لینا ہو وہ تو وہ نام لیتے ہیں جو حروف تہجی میں اس کا نام تھا اور حروف تہجی میں اس حرف کو کیا کہتے ہیں؟ کاف کہتے ہیں۔ تو ضربکی اس میں کاف ضمیر ہے، ضربکما میں کما ضمیر ہے، ضربکنّ میں کنّ ضمیر ہے۔ ضربہ، جی! ہاں! عموما طلبہ کہتے ہیں ہو ضمیر ہے، ہو نہیں ہا، یہ ایک حرف ہے نا؟ ایک حرف کا نام الف، با، تا، سا، جیم میں کیا ہے؟ اس کو ہا کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہا کہتے ہیں۔ تو یہ ہا ضمیر ہے، تو آپ یہ نہ کہیں ہا تو مونث کی ضمیر ہے، آگے آ رہا ہے ضربھا، وہاں بھی کیا ضمیر ہے؟ ہا ہاں، اس کو بھی ہا کہیں گے، اس کو بھی ہا کہیں گے، نام ایک جیسے ہیں۔ تو ضربہ میں کون سی ضمیر ہے؟ ہا ضمیر، ضربہما میں ہما ضمیر، ضربھم میں ھم ضمیر، ضربھا میں ہا ضمیر، ضربھما میں ہما ضمیر اور ضربھنّ میں ھنّ ضمیر ہے بھئی! تو یہ سارے منسوب ہیں کیونکہ یہ مفعول بن رہی ہیں۔ ضربا کے اندر ہوا ضمیر فاعل کی ہے، ضربا اس نے مارا، نی یعنی مجھے۔ اس نے مجھے مارا۔ ضربنا اس نے ہمیں مارا۔ تو یہ مفعول کی ضمیریں ہیں، اور آگے بتائیں گے آپ کو کہ مفعول منسوب ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے! و چہاردا منسوب منفصل اور چودہ منسوب منفصل ہیں، اور وہ کون سی ہیں؟ ایايا، ایانا، یہ ایايا ساری ضمیر ہے بھئی۔ یہ ساری کیا ہے؟ ضمیر۔ ایايا، ایانا، ایاک، جی! ایاک یہ ساری ضمیر ہے، صرف کاف نہ کہنا، ایاک یہ اسی طرح استعمال ہوگا، اور یہ اپنے عامل سے جڑی ہوئی نہیں، علیحدہ ہے۔ تو دوبارہ دیکھیے! ایايا خاص طور پر مجھے، ایانا خاص طور پر ہمیں، ایاک خاص طور پر آپ کو، ایاکما خاص طور پر تم دونوں مردوں کو، ایاکم خاص طور پر تم سب کو، ایاکی خاص طور پر تجھ ایک عورت کو، ایاکما خاص طور پر تم دو عورتوں کو، ایاکنّ خاص طور پر تم سب عورتوں کو۔ ایاہو خاص طور پر اس مرد کو، ایاھما خاص طور پر ان دو مردوں کو، ایاھم خاص طور پر ان سب مردوں کو، ایاھا خاص طور پر اس ایک عورت کو، ایاھما ان دو عورتوں کو، ایاھنّ ان سب عورتوں کو۔ یہ منسوب منفصل آ گئی۔ پہلے اس سے پیچھے کیا تھا؟ منسوب متصل اور یہ کیا ہے منسوب منفصل۔ تو نصب کا مقام ہو اور عامل کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے تو پھر کیا لے آؤ؟ منسوب منفصل، اور اگر رفع کا مقام ہو تو پھر مرفوع منفصل لاؤ بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی! و چہاردا مجرور متصل اور چودہ ضمیریں جو ہیں مجرور متصل ہیں۔ کون کون سی؟ لی، لنا، لکا۔ یہ لی اس میں لام جو ہے یہ حرف جر ہے، یہ جو یا ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہ متکلم کی ضمیر ہے۔ لی میرا، لنا ہمارا، لکا تمہارا، لکما تم دو مردوں کا، لکم تم سب مردوں کا، لکی تجھ ایک عورت کا، لکما تم دو عورتوں کا، لیکنّ تم سب عورتوں کا، لہ اس کا، لہما ان دو مردوں کا، لہو اس ایک مرد کا، لہما ان دو مردوں کا، لہوم سب مردوں کا، لھا اس ایک عورت کا، لہما ان دو عورتوں کا، لہنّ ان سب عورتوں کا۔ تو یہ لام جار رہا ہے، اور اس کے باقی ضمیر ہے۔ لی اس میں کیا ضمیر ہے؟ یا۔ لنا میں نا۔ لکا میں کاف۔ لکما میں کما۔ لکم میں کم۔ لکی میں کاف۔ لکما کما۔ لیکنّ میں کنّ۔ لہو میں ہا۔ لہما میں ہما۔ لھم میں ھم۔ لھم میں ھم ضمیر۔ لھا میں ہا ضمیر۔ لہما میں ہما ضمیر اور لہنّ میں ھنّ ضمیر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، ضمیریں کتنی قسم پر؟ یا وہ متصل ہوگی یا منفصل۔ متصل کی کتنی قسمیں؟ تین۔ کون کون سی؟ مرفوع یا منسوب یا مجرور۔ اور منفصل کی کتنی قسمیں؟ دو قسمیں، کون کون سی؟ مرفوع یا منسوب۔ اور مجرور منفصل ضمیر عربی زبان میں نہیں ہے کیونکہ یہ مجرور جو ہے وہ اپنے عامل سے جدا نہیں ہو سکتی۔ اب ایک تھوڑا سا اور غور کر لیں ذرا ان ضمیروں پر۔ یہ جو متصل ہیں، متصل پہلی کون سی ضمیر آئی؟ مرفوع متصل، ضربتو، ضربنا۔ یہ جو مرفوع متصل ہے، یاد رکھنا یہ فعل کے ساتھ جڑے گی۔ مرفوع متصل کس کے ساتھ جڑے گی؟ فعل، دیکھو فعل کی مثال دی ہے ضربتو، ضربنا، ضربتا۔ یہ اسم یا حرف کے ساتھ نہیں جڑ سکتی۔ توجہ ہے؟ مرفوع متصل ضمیر، مرفوع بھی ہو، اور متصل ہو اپنے عامل کے ساتھ، تو یہ ہمیشہ جڑی ہوئی آئے گی، لیکن کس کے ساتھ جڑی ہوئی آئے گی؟ فعل کے ساتھ جڑی ہوئی آئے گی، کبھی بھی اسم یا حرف کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں آئے گی۔ اب دوسری پر آ جاؤ! منسوب متصل۔ منسوب متصل، یاد رکھو دیکھو کس کے ساتھ جوڑی جوڑی ہے؟ ضربنی، کس کے ساتھ جوڑی ہے؟ فعل کے ساتھ۔ یہ فعل کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے، اور یہ حرف کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے۔ انہوں نے تو فعل کی مثال دے دی، حرف کے ساتھ بھی یہ جڑ سکتی ہے، جیسے حروف مشبہ بالفعل آئیں گے آگے آپ پڑھیں گے، انّا انّنی انّنا انّکا انّکما اب ذرا گردان پر نظر رکھو۔ منسوب متصل کیا ہے؟ ضربنی یہ ضربہ کو فعل ہے، اس کو ہٹا دو اور انّا کو لے آؤ۔ انّنی انّنا انّکا۔ نظر ہے گردان پر؟ انّکما، انّکم، انّکی، انّکما، انّکنّ، انّہ، انّھما، انّھم، انّھا، انّھما، انّھنّ۔ معلوم ہوا، یہ منسوب متصل جو ہے فعل کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے اور حرف کے ساتھ بھی۔ انّ کیا ہے؟ حرف، حرف۔ پھر دہراؤ! منسوب متصل کس کے ساتھ جڑ سکتی ہے؟ فعل کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ مرفوع متصل جو پہلے گزری تھی، وہ صرف کس سے جڑتی ہے؟ فعل کے ساتھ۔ فعل سے جڑتی ہے۔ اور یہ منسوب متصل فعل کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ اور آخر میں آ رہی ہے مجرور متصل۔ لی، لنا، لکا، یہ لام کیا ہے؟ حرف، حرف حرف جار ہے۔ حرف جار ہے، اور حرف جار جر دیتا ہے۔ آپ نے پڑھا یا نہیں؟ حروف جار کیا کرتے ہیں؟ جر دیتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کلام عرب میں دو ہی چیزیں مجرور ہیں، ایک جس پر حرف جار داخل ہو جائے، اور ایک مضاف الیہ۔ یہاں لی اس پر لام جار داخل ہے، تو یہ یا ضمیر کون سی ہے؟ مجرور ہے کیونکہ حرف جار کیا دیتا ہے؟ جر، اسی لیے اس کا نام مجرور ہے، اور متصل ہے، جڑی ہوئی ہے اس کے ساتھ۔ تو یہ جو مجرور متصل ہے، یہ حرف کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے جیسے یہاں حرف لام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اور یہ ضمیر اسم کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے، اور اسم کے ساتھ جڑے گی تو یہ مضاف الیہ بن جائے گی۔ مجرور دو ہی ہیں نا! کون سے؟ ایک جس پر حرف جار داخل ہو، جیسے یہ لی، لنا، لکا۔ کیا داخل ہوا؟ حرف جار۔ اور دوسرا مجرور کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ اور مضاف الیہ سے پہلے کیا آتا ہے؟ مضاف۔ اور مضاف اسم کی علامت ہے، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا۔ مضاف ہمیشہ کون ہوتا ہے؟ اسم۔ معلوم ہوا اس ضمیر پر اسم داخل کریں، تو بھی یہ مجرور آ سکتی ہے، جیسے کتابی۔ کیا معنی؟ میری کتاب۔ اب دیکھو، اسی ضمیر پر نظر رکھو، اب میں کتاب کا لفظ جوڑوں گا اور یہ لام کو ہٹا دوں گا۔ کتابی، کتابنا، کتابکا، کتابکما، کتابکم، کتابکی، کتابکما، کتابکنّ، کتابہ، کتابھما، کتابھم، کتابھا، کتابھما، کتابھنّ۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ معلوم ہوا مجرور متصل کس کس کے ساتھ جڑ سکتی ہے؟ اسم کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ پھر دہراؤ، مرفوع متصل صرف کس سے جڑتی ہے؟ فعل کے ساتھ۔ منسوب متصل کس سے جڑتی ہے؟ فعل کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ اور مجرور متصل کس سے جڑتی ہے؟ اسم کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ حاصل کلام یہ آج آپ نے ضمیروں کے بارے میں پڑھا۔ میں نے آپ کو بتلایا ضمیر وہ ہے، جو متکلم یا مخاطب یا ایسے غائب پر دلالت کرے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو۔ اور اس کی پانچ صورتیں بنتی ہیں بھئی، پانچ صورتیں! یا تو یہ متصل ہوگی یا منفصل۔ متصل ہو تو یا تو یہ مرفوع ہوگی یا منسوب ہوگی یا مجرور۔ اور اگر یہ منفصل ہو تو پھر یہ مرفوع ہوگی یا منسوب۔ مجرور نہیں ہو سکتی۔ اور میں نے بتایا تھا ضمیروں میں اصل یہ ہے کہ اگر آپ اپنے کلام میں ضمیر استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو متصل لے کر آؤ۔ اگر متصل کی گنجائش نہ ہو، پھر کیا لے آؤ؟ منفصل لے آؤ۔ اور منفصل صرف مرفوع یا منسوب ہو سکتی ہے۔ جو مجرور ہوتی ہے، وہ اپنے عامل سے جدا نہیں ہو سکتی۔ وہ ہمیشہ عامل کے ساتھ جڑی ہوئی آئے گی۔ اور پھر آپ کو یہ بھی بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کی چودہ چودہ قسم کی ضمیریں ہیں، ہر گردان میں۔ ان میں مرفوع متصل صرف کس کے ساتھ جڑتی ہے؟ فعل کے ساتھ۔ منسوب متصل جو ہے وہ حرف کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے اور فعل کے ساتھ بھی۔ اور مجرور متصل جو ہے وہ اسم کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے اور حرف کے ساتھ بھی۔ اور یہ بھی آپ کو میں نے بتایا کہ یہ کچھ مرفوع ہیں، کچھ منسوب ہیں، کچھ مجرور۔ تو رفع کے مقام میں مرفوع لانی ہے، نصب کے مقام میں منسوب لانی ہے، اور جر کے مقام میں مجرور لانی ہے، مجرور لانی ہے۔ تو یہ کل، تو یہ کل ستر ضمیریں ہو گئیں بھئی۔ تفصیل بیان ہو گئی بھئی۔ تو یہ اس میں متمکن کی پہلی قسم ہم نے پڑھی ہے، یہ ضمیریں بھئی۔ باقی قسمیں ہم انشاءاللہ کل پڑھیں گے۔ چلیے بس! ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔