کتاب پر دیکھیے بھئی۔
بداں کہ اسم غیر متمکن مبنی است و اما اسم متمکن معرب است بشرط آن کہ در ترکیب واقع شود، و فعل مضارع معرب است بشرط آن کہ از نونهای جمع مؤنث و نون تأکید خالی باشد۔
پس در کلام عرب بیش از این دو قسم معرب نیست باقی ہمہ مبنی است۔ و اسم غیر متمکن اسم است کہ بامبنی اصل مشابهت دارد۔ و مبنى اصل سہ چیز است فعل ماضی و امر حاضر معروف و جملہ حروف۔ و اسم متمکن اسم است کہ بامبنی اصل مشابه نہ باشد۔
گزشتہ سبق میں معرب اور مبنی کی بحث شروع ہوئی تھی۔
مصنف نے آپ کو بتلایا کہ عربی زبان کے تمام کلمات یا وہ معرب ہیں اور یا مبنی ہیں۔
اور آپ نے پڑھا تھا معرب وہ ہے کہ جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلتا ہو، اور مبنی وہ ہے کہ جس کا آخر عوامل کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔ تو مبنی برقرار رہتا ہے اس پر جو حرکت ہوگی یا سکون ہوگا وہ اسی طرح برقرار رہے گا، جبکہ معرب جو ہے اس کا آخر عوامل کے بدلنے سے بدلے گا، جیسے زیدن، زیداً اور زیدین۔
تو زید پر کبھی رفع پڑھیں گے جب رفع والا عامل آئے، اور کبھی نصب پڑھیں گے جب نصب والا عامل آئے، اور کبھی جر پڑھیں گے جب جر والا عامل آئے بھئی۔
تو معرب کا اعراب کتنی قسم پر؟ تین قسم پر یا رفع یا نصب یا جر۔
جی تو یہ اسم کے اندر ہے۔
پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جاءنی زید اس کے اندر عامل کون ہے؟
جاء فعل جو ہے وہ عامل ہے۔
اور زید یہ کیا ہے؟
معمول ہے اور معرب ہے معرب ہے اور اس پر اعراب کیا ہے؟
رفع کہیں یا ضمہ۔
تو رفع اس کا اعراب اور محل اعراب کیا ہے؟ کہاں پر اعراب آتا ہے کس جگہ پر؟
آخری حرف پر۔
تو محل کا معنی جگہ محل اعراب اعراب کی جگہ اور وہ زید کا دال ہے۔ اس دال پر کبھی اس پر آپ رفع پڑھتے ہیں کبھی نصب پڑھتے ہیں اور کبھی جر پڑھتے ہیں، یا یوں کہیں کبھی پیش پڑھتے ہیں، کبھی زبر پڑھتے ہیں اور کبھی زیر پڑھتے ہیں۔
اور مبنی کے بارے میں بتلایا تھا انہوں نے کہ مبنی وہ ہے کہ جس کا آخر نہیں بدلتا، جیسے ہؤلاء۔
تو جاءنی زید و رأیت زیداً و مررت بزید۔ دیکھو اس میں زید کی حالتیں بدل رہی ہیں، لیکن اسی زید کو ہٹا کر اگر ہؤلاء یہ لفظ رکھ دیا جائے تو یہ مبنی ہے، یہ تینوں جگہ ایک جیسا ہی رہے گا۔
جاءنی ہؤلاء، رأیت ہؤلاء، مررت بہؤلاء۔ ہمزہ پر زیر ہے تو وہ زیر ہی رہے گی تینوں حالتوں میں۔
اور یہ جو زیر ہے اس کو بھی اعراب نہیں کہیں گے یہ یہ حرکت ہے مبنی کی حرکت ہے مبنی پر اعراب نہیں آتا۔
اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا آپ کو کہ تمام حروف جو ہیں وہ مبنی ہیں۔
عربی زبان میں جتنے حروف ہیں وہ سب مبنی ہیں۔
اسی طرح فعل ماضی وہ بھی مبنی ہے۔ اور امر حاضر وہ بھی مبنی ہے۔ جبکہ فعل مضارع کے اندر جو جمع مؤنث کے دو صیغے ہیں، یعنی چھٹا اور بارہواں صیغہ، جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث حاضر۔
تو یہ دو صیغے جو ہیں یہ مبنی ہیں اور باقی بارہ صیغے فعل مضارع کے وہ معرب ہیں بشرطیکہ ان کے ساتھ نون تأکید نہ ملا ہو۔
اور ان صیغوں کے ساتھ یہ جو بارہ صیغے ہیں ان کے ساتھ جب نون تأکید مل جائے تو پھر یہ مبنی بن جاتے ہیں۔ عام علماء کیا فرماتے ہیں یہ مبنی بن جاتے ہیں، لیکن میں نے بتایا تھا کہ علماء محققین فرماتے ہیں کہ باقی بارہ صیغوں کے ساتھ کس کے باقی بارہ صیغے فعل مضارع۔
فعل مضارع کے جو جمع مؤنث کے دو صیغوں کے علاوہ باقی بارہ صیغے ہیں ان کے ساتھ جب نون تأکید جڑ جائے تو ان میں سے وہ صیغے جن کے ساتھ نون اعرابی تھا، اور نون اعرابی سات صیغوں میں تھا تو وہ پھر بھی معرب ہی رہیں گے۔
چاہے نون تأکید ساتھ جڑ جائے پھر بھی وہ کیا رہیں گے؟ معرب۔
اور پانچ صیغے رہ گئے ان کے ساتھ جب نون تأکید جڑے گا تو وہ مبنی بن جائیں گے۔
تفصیل سمجھ میں آگئی۔
اور نون تأکید کے بارے میں بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تأکید کے لیے دو قسم کے نون عربی زبان میں آتے ہیں۔
ایک نون خفیفہ کہلاتا ہے اور ایک نون ثقیلہ۔
خفیفہ کا معنی ہلکا اور ثقیلہ کا معنی وزنی۔
نون ثقیلہ کو وزنی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ نون مشدد ہوتا ہے۔
یعنی یوں سمجھو دو نون ہوتے ہیں اور نون خفیفہ وہ اکیلا ایک نون ہوتا ہے۔
اور ظاہر سی بات ہے ایک نون کی ادائیگی آسان ہے، جبکہ دو نون یا یوں کہو نون مشدد کی ادائیگی زبان پر ذرا مشکل ہے، تو جو ہلکا تھا زبان پر آسانی سے ادا ہوتا تھا ایک نون، اس کو نون خفیفہ کہتے ہیں۔
اور وہ جو نون مشدد ہے جو ذرا زبان پر مشکل سے ادا ہوتا ہے اس کو نون ثقیلہ کہتے ہیں۔
جیسے اضربن اور اضربن۔
اضرب امر کا صیغہ ہے، اس کے آخر میں نون ثقی نون خفیفہ آیا تو پڑھیں گے اضربن۔
اور اس کے آخر میں نون ثقیلہ آجائے تو پڑھیں گے اضربن۔
تو دیکھو کس کا پڑھنا آسان؟
اضربن یعنی نون خفیفہ کا پڑھنا آسان اس لیے اس کو نون خفیفہ کہتے ہیں، خفیف کا معنی ہلکا، یہ زبان پر ہلکا ہے آسانی سے ادا ہوجاتا ہے۔
اور اضربن دیکھو یہاں نون مشدد آرہا ہے، اس کی ادائیگی ذرا اس کے مقابلے میں مشکل ہے، اس لیے اس کو نون ثقیلہ کہتے ہیں۔
ایک اور بات بھی ذکر کی تھی میں نے کہ تین چیزیں جو ہیں وہ مبنی الاصل ہیں۔
تین چیزیں مبنی الاصل ہیں۔
اصل یعنی ذات ذات۔
مبنی الاصل جن کی ذات ہی مبنی ہے، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی مبنی ہیں۔
اور وہ تین چیزیں کون کون سی ہیں؟ نمبر ایک فعل ماضی۔
نمبر دو تمام یا یوں کہیں۔
نمبر ایک تمام حروف۔
نمبر دو فعل ماضی۔
اور نمبر تین امر حاضر معروف۔
یہ تین آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے یہ مبنی الاصل ہیں۔
کون کون؟ تمام حروف، فعل ماضی اور امر حاضر معروف۔
اور اس کے علاوہ جتنے مبنی ہیں کلام عرب میں وہ سارے ان کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مبنی ہو جاتے ہیں۔
کسی کی مشابہت ماضی کے ساتھ ہے یا کسی کی یہ امر کے ساتھ ہے یا کسی کی حرف کے ساتھ ہے، تو جن کی ان کے ساتھ مشابہت آئے گی وہ بھی مبنی بن جائے گا۔
بات سمجھ میں آگئی۔
اب دیکھیے کتاب پر۔
آگے سبق دیکھیے بھئی! بداں کہ اسم غیر متمکن مبنی است و اما اسم متمکن معرب است بشرط آن کہ در ترکیب واقع شود۔
کہتے ہیں بداں کہ جان لے تو کہ اسم غیر متمکن مبنی است کہ اسم غیر متمکن مبنی ہے۔
اسم غیر متمکن۔
بھئی مبنی الاصل تین چیزیں ہیں۔ توجہ ہے؟
جی۔
کون کون سی؟
نمبر ایک تمام حروف۔
نمبر دو فعل ماضی۔
نمبر تین امر حاضر۔
ان میں کوئی اسم ہے؟
نہیں تمام حروف ہیں، اسم تو کوئی نہیں، اسم کی بات نہیں ہوئی، پھر فعل ماضی ہے وہ بھی فعل ہے، پھر فعل امر حاضر ہے وہ بھی کیا ہے؟ فعل۔
تو دیکھو اسم ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، تو مبنی الاصل جو ہیں وہ غیر اسم ہیں۔
وہ غیر اسم ہیں، اسم کے علاوہ اور چیزیں ہیں۔
ہاں اسم بھی تو مبنی ہوتا ہے، تو یاد رکھو وہ اسم غیر متمکن کہلاتا ہے۔
جو اسم مبنی ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟
اسم غیر متمکن۔
اسم غیر متمکن کہلاتا ہے، اور وہ اسم جو معرب ہو اس کو اسم متمکن کہتے ہیں۔
تو اسم گویا دو قسم پر ہو گیا، کچھ اسم غیر متمکن ہے اور کچھ اسم متمکن۔
اسم متمکن کسے کہتے ہیں؟
جو معرب ہے۔
اور غیر متمکن کسے کہتے ہیں؟
جو مبنی ہے۔
تو چاہے آپ متمکن کہہ لیں، چاہے آپ معرب کہہ لیں، چاہے آپ غیر متمکن کہہ لیں، چاہے آپ مبنی کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
جی۔
تو کہتے ہیں بداں کہ اسم غیر متمکن مبنی است جان لے تو کہ اسم غیر متمکن جو ہے وہ مبنی ہے۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھیں اسم متمکن وہ معرب ہے۔
اسم متمکن معرب ہے۔
تو علماء عموماً اس کی وجہ لکھتے ہیں اس کو اسم متمکن اس لیے کہتے ہیں کہ تمکن کا معنی ہے جگہ دینا۔
تمکن کا معنی ہے جگہ دینا۔
تو یہ چونکہ اعراب کو اپنے اوپر جگہ دیتا ہے، اس کا آخر بدلتا ہے یا نہیں معرب کا؟ تو یہ اعراب کو جگہ دے رہا ہے، اس لیے اس کو اسم متمکن کہتے ہیں۔
اور مبنی جو ہے وہ تو بدلتا نہیں وہ اعراب کو اپنے اوپر جگہ نہیں دیتا اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ غیر متمکن۔
تو یہ وجہ ذکر کرتے ہیں، حالانکہ تمکن کا معنی ہے خود جگہ پکڑنا۔
انہوں نے کیا کہا؟
اسم متمکن جو یہ اعراب کو جگہ دیتا ہے۔
حالانکہ متمکن کا معنی ہے خود جگہ پکڑنے والا۔
تو تمکن کون سا باب ہے؟
باب تفعُل۔
اور ایک ہے باب تفعیل تمکین بھئی، مکن یمکن تمکینا۔
اس کا معنی ہے جگہ دینا۔
تمکن کا معنی ہے خود جگہ پکڑنا کسی جگہ پر۔
اور تمکین کا معنی ہے دوسرے کو جگہ دینا۔
بات سمجھ میں آگئی؟
تو بہرحال یہ کہہ سکتے ہیں پھر کہ باب تفعُل کس معنی میں ہے؟ باب تفعیل کے معنی میں ہے۔
تمکن کس معنی میں ہے؟ تمکین کے معنی میں ہے۔
یا یوں کہیں متمکن کس معنی میں ہے؟ مکن یمکن تمکینا فہو مُمکّن، مُمکّن۔
تو معلوم ہوا یہ متمکن کس معنی میں ہے؟ مُمکّن کے معنی میں ہے۔
بات سمجھ میں آگئی۔
میں نے کیا بات کی؟
کہ علماء کیا وجہ ذکر فرماتے ہیں اس میں متمکن کو متمکن کیوں کہتے ہیں؟
کیونکہ یہ اعراب کو جگہ دیتا ہے۔
تو معلوم ہوا یہ متمکن کس معنی میں ہے؟
مُمکّن کے معنی میں ہے۔
یا یوں کہو یہ باب تفعُل کس معنی میں ہے؟ باب تفعیل کے معنی میں ہے۔
باب تفعیل کے معنی میں۔
ہاں ایک صورت میں اس کا معنی صحیح ہو سکتا ہے۔
متمکن اسم متمکن کا دوسرا معنی لغت میں لکھا ہے اگر وہ معنی کر لیا جائے تو پھر متمکن کو مُمکّن کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں۔
تمکن کا ایک معنی ہے قادر ہونا، کسی چیز پر قادر ہونا۔
کسی چیز پر قادر ہونا۔
تو اگر یہ معنی کر لیا جائے پھر بات ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اسم متمکن وہ اسم ہے جو اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے۔
देखو متمکن ہے یعنی قادر ہے، کس چیز پر قادر ہے؟ اعراب کو جگہ دینے پر۔
بھئی تو اب معنی درست ہو گیا، تو اس متمکن کو اسم متمکن کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے۔
زیدون، زیداً، زیدین دیکھو یہ اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے، اور ہؤلاء وہ بدل نہیں رہا معلوم ہوا وہ اعراب کو جگہ دینے پر قادر نہیں ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟
تو متمکن کو متمکن ہی کے معنی میں رکھیں بشرطیکہ اس کا معنی کیا کر لیا جائے؟ تمکن کا معنی قادر ہونے کے کر لیا جائے تو اس صورت میں متمکن کا لفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔
اس متمکن کو مُمکّن کے یعنی دوسرے باب کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی۔
کیا بات ہوئی؟
علماء نے کیا معنی بیان کیا؟
اس کو متمکن کیوں کہتے ہیں؟
عراب کو جگہ دیتا ہے۔
حالانکہ یہ تمکن کا معنی تو خود جگہ پکڑنا، دوسرے کو جگہ دینا یہ معنی نہیں ہے اس کا، خود جگہ پکڑ لینا تو اس صورت میں تو معنی صحیح نہیں بنتا۔
ہاں دوسرا معنی کر لیا جائے تمکن کا کیا معنی ہے؟ قادر ہونا۔
تو اس تو اس میں متمکن کو متمکن کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے، یہ اپنے اوپر اعراب کو جگہ دے دیتا ہے، جبکہ اسم غیر متمکن اپنے اوپر اعراب کو جگہ دینے پر قادر نہیں ہے۔
اب وجہ سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں بداں کہ اسم غیر متمکن مبنی است جان لے تو کہ اسم غیر متمکن جو ہے وہ مبنی ہے، واما اسم متمکن معرب است باقی اسم متمکن جو ہے وہ معرب ہے، بشرط آن کہ در ترکیب واقع شود اس شرط پر کہ یہ ترکیب میں واقع ہو۔
اور اب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اسم متمکن جو ہے وہ معرب ہے۔
مثلاً دیکھو لفظ زید ہے، توجہ ہے؟
زید۔
جی زید معرب ہے یا مبنی ہے؟
معرب ہے۔
معرب ہے۔
یاد رکھو اس میں علماء کے دو گروہ ہیں بھئی، بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ اکیلا زید مبنی ہے۔
اکیلا زید مبنی ہے۔
معرب نہیں ہے۔
آپ اس کو پڑھنا چاہتے ہیں زیدون۔
اکیلا لفظ ہے زید۔
آپ کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟
زیدون وہ کہتے ہیں نہیں پڑھ سکتے کیونکہ رفع کے لیے کوئی عامل چاہیے، رفع خود بخود نہیں آتا۔
تو آپ اس کو زیدون نہیں پڑھ سکتے بلکہ زید پڑھیں گے۔
آپ اس کو زیداً پڑھنا چاہتے ہیں اکیلے لفظ کو نہیں پڑھ سکتے کیوں؟ کیونکہ نصب کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے اور یہاں کوئی عامل ہے؟
نہیں ہے۔
نہیں یا آپ زایدین پڑھنا چاہتے ہیں، اکیلے صرف سے زاید کو نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اکیلا زاید ہے اور جر چا پڑھنا چاہتے ہیں آپ اور جر کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی عامل۔ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جو اسم متمکن ہے، توجہ ہے، یہ جو اسم متمکن ہے اگر یہ ترکیب میں واقع ہو۔
رکہب رکہب ترکیب کا معنی ہے جوڑنا جوڑنا۔ تو ترکیب میں یعنی اس کے ساتھ اس کا عامل جڑا ہوا ہو تو پھر یہ معرب ہے۔ اگر عامل جڑا ہوا نہیں تو یہ مبنی ہے۔ تو اکیلا زاید کیا ہے؟ مبنی۔ ہاں جب اس کے ساتھ جا جوڑ دیا جا اس کے ساتھ یہ جڑ گیا جا زایدون۔ اب جا نے کیا کیا زاید کو؟ رفع دیا۔ تو اب جا زایدون میں زاید کیا ہے؟ معرب ہے۔ اور اکیلا زاید مبنی ہے۔
دوسری مثال لے لیں رأیت زاید۔ رأیت نے کیا کیا زاید کو؟ نصب دیا۔ تو اکیلا زاید تو تھا مبنی لیکن رأیت اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں آگیا یعنی اس کے ساتھ جڑ گیا تو اب یہ کیا کہلائے گا؟ معرب۔ رأیت زاید یہ زاید کیا ہے؟ معرب اور اکیلا زاید مبنی۔ یا اس کے ساتھ حرف جر جوڑو۔ بزاید، با جار ہے وہ جر دیتی ہے۔
تو بزاید اب زاید کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے اپنے عامل کے ساتھ۔ اپنے عامل کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو اس زاید کو کیا کہیں گے؟ یہ معرب کہیں گے کیونکہ جر دینے والا عامل اس کے ساتھ جڑ گیا ہے اور آپ اس پر جر پڑھ رہے ہیں تو یہ اس وقت مجرور ہے۔ اکیلا زاید کیا تھا؟ مبنی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ اسم متمکن یعنی وہ اسم جو اعراب کو جگہ دے دیتا ہے وہ بھی جب تک ترکیب میں واقع نہیں ہوگا وہ بھی مبنی ہے۔
اس میں متمکن جب تک اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع نہیں ہوگا وہ بھی کیا ہے؟ مبنی۔ اور جب وہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو جائے یعنی اس کے ساتھ جا کر جڑ جائے اور وہ اس کے اندر عمل کرے تو پھر اب یہ کیا بن گیا؟ معرب بن گیا اس سے پہلے کیا تھا؟ مبنی تھا۔
اگر یہ ترکیب میں جڑا توجہ ہے اگر اسم متمکن ترکیب میں تو واقع ہو یعنی کسی چیز لفظ کے ساتھ تو جڑ جائے لیکن وہاں اس کا عامل نہ ہو تو بھی یہ مبنی ہے۔ تو بھی یاد رکھنا آگے ذکر بھی آ جائے گا کلام عرب میں دو قسم کے اسم مجرور ہوتے ہیں۔
دو معرب۔ دو چیزوں پر جر آتا ہے دو چیزوں پر۔ ایک جس پر حرف جر داخل ہو جائے بزاید یہ زاید پر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ جر اور دوسرا مضاف الیہ کتاب زاید۔ آپ نے پڑھا تھا یعنی مرکب مرکب اضافی۔
مرکب اضافی جس میں پہلا لفظ کیا کہلاتا تھا؟ مضاف اور دوسرا کیا کہلاتا تھا؟ مضاف الیہ اور مضاف الیہ پر انہوں نے بتایا تھا کہ جر آ جاتا ہے۔ تو مضاف کیا کرتا ہے؟ عامل ہے اور مضاف الیہ اس کا معمول اور مضاف الیہ پر کیا پڑھتے ہیں؟ جر۔
تو مضاف الیہ پر جر پڑھا جاتا ہے۔ تو جر کبھی مضاف کی وجہ سے آتا ہے اور کبھی حرف جر کی وجہ سے۔ توجہ ہے؟ جر کتنی وجہ سے آتا ہے؟ صرف دو وجہ سے۔
یا تو کسی لفظ پر مضاف داخل ہوا ہو تو اور یہ مضاف الیہ بن رہا ہو تو اس پر کیا پڑھو؟ جر۔ کتاب زاید۔ کتاب زاید کیا ترجمہ؟ کتاب زاید، زاید کی کتاب۔ غلام زاید کیا ترجمہ کریں گے؟ زاید کا غلام۔
تو غلام ہوا مضاف اور زایدین ہوا مضاف الیہ اور مضاف الیہ پر کیا پڑھتے ہیں؟ جر۔ تو ایک تو مضاف الیہ ہے جس پر جر آتا ہے اور ایک مجرور ہے جس پر حرف جر داخل ہو جیسے بزاید۔ یہ با کیا ہے؟ جارہ۔ یہ لفظ زاید پر داخل تو زاید پر کیا پڑھیں گے؟ جر۔
تو کلام عرب میں دو ہی مجرور ہیں۔ یا تو کسی لفظ پر کیا داخل ہو جائے؟ حرف جر۔ تو اس پر کیا پڑھیں گے؟ اس لفظ پر جر پڑھیں گے۔ یا اس پر کیا آجائے؟ مضاف آجائے تو یہ مضاف الیہ بنے گا اور اس پر جر پڑھیں گے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔
اب دیکھیے مثلاً میں آپ کو بتانا یہ چاہتا تھا کہ اسم متمکن جب ترکیب میں واقع ہو تو وہ کیا بنے گا؟
اس میں توجہ ہے۔ اس میں متمکن جب کس میں واقع ہو؟ اس میں انہوں نے کہا انہوں نے بتلایا کہ اما اسم متمکن معرب است باقی اسم متمکن وہ معرب ہے بشرط آن کہ در ترکیب واقع شود۔ اس شرط پر کہ وہ ترکیب میں واقع ہو۔
اس شرط پر کہ وہ ترکیب میں واقع ہو۔ بشرط کہ ترکیب میں واقع ہو لیکن یاد رکھو ترکیب ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی ہو۔ اکیلا ترکیب میں تو واقع ہو جائے لیکن عامل ساتھ نہ ہو تو بھی وہ مبنی ہے۔
میرا خیال بات نہیں سمجھ آئی۔ انہوں نے کیا کہا؟ اس میں متمکن کیا ہے؟ وہ معرب ہے لیکن کس شرط پر کہ کس میں واقع ہو؟ ترکیب میں لیکن میں نے بتایا ترکیب بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں اس کا عامل ہو جو اس کو رفع نصب یا جر دینے والا ہو۔
اگر عامل نہیں تو بے شک ترکیب میں واقع ہو جائے پھر بھی وہ مبنی ہے۔ جیسے دیکھو غلام زاید توجہ ہے؟ غلام زاید جی زایدین کیا ہے؟ مضاف الیہ جی تو یہ معرب ہے مبنی ہے؟ معرب ہے کیوں؟ یہ کون سا اسم ہے؟ متمکن ہے اسم متمکن ہے اور کس میں واقع ہے؟ ترکیب میں دوسرے لفظ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور نیز عامل اس کا موجود ہے کہ عامل نہیں موجود؟
عامل موجود ہے یہ غلام کا لفظ کیا کر رہا ہے؟ زاید یہ غلام کا لفظ مضاف ہے اور زاید مضاف الیہ تو دیکھو زاید کا لفظ ترکیب میں واقع ہوا اور کس کے ساتھ ترکیب میں ہے؟ اپنے عامل کے ساتھ تو یہ معرب ہے یہ کیا ہے؟ معرب۔
اب آؤ ذرا غلام کے لفظ پر جی یہ غلام کا لفظ بتاؤ مجھے آپ اس کو کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ غلام زاید، میم پر پیش پڑھنا چاہتے ہیں؟ نہیں پڑھ سکتے۔ کیوں؟ پیش خود آتی ہے یا عامل کی وجہ سے؟ عامل کی وجہ سے لہٰذا غلام زاید نہیں پڑھ سکتے۔
غلام زاید میم کو ساکن پڑھو گے۔ غلام زاید ہم تو بولتے ہیں غلام زاید لیکن وہ سمجھانے کے لیے ہوتا ہے لیکن اس وقت یہ ضابطہ ذکر ہو رہا ہے کہ ان علماء کے نزدیک عامل کے لیے رفع کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عامل۔
نصب کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عامل۔ جر کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عامل اور غلام کا کوئی عامل ہے یہاں پر جو اس کو رفع دے؟ نہیں۔ اگر جا ہوتا جا غلام زاید زاید کا غلام آگیا تو پھر جا کیا کرتا؟ غلام کو رفع دے دیتا تو ہم کہتے کہ یہ غلام کیا ہے؟ معرب۔
یہ اس میں متمکن ہے اور ترکیب میں واقع ہے اور ترکیب بھی ایسی ہے جس میں اس کا عامل بھی موجود ہے تو ہم اس کو معرب کہتے لیکن اس وقت جا نہیں ہے آپ غلام زاید نہیں پڑھ سکتے۔ آپ غلام زاید میم پر زبر پڑھنا چاہتے ہیں؟ نہیں پڑھ سکتے کیونکہ عامل نہیں ہے نصب والا۔
آپ میم پر زیر پڑھنا چاہتے ہیں؟ غلام زاید یہاں غلام زاید بھی نہیں پڑھ سکتے کیونکہ جر دینے والا کوئی عامل یہاں موجود نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو معلوم ہوا علماء کا ایک گروہ جو ہے وہ کیا فرماتے ہیں؟
کہ اس میں متمکن وہ معرب ہے توجہ ہے؟ اور خود ہی معرب ہے یا اس کے لیے شرط ذکر کرتے ہیں؟ شرط ذکر کرتے ہیں کہ اس میں متمکن معرب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کس کے اندر ہو؟ ترکیب اور میں نے بتایا وہ ترکیب بھی کیسی ہو کہ اس کے اندر اس کا عامل موجود ہو جو رفع دینے والا ہو یا نصب دینے والا ہو یا جر۔
اگر عامل نہیں تو بھی یہ مبنی ہی رہے گا جیسے غلام زاید جیسے غلام زاید اس میں غلام بھی ترکیب میں ہے دیکھو جڑا ہوا ہے۔ زایدین بھی ترکیب میں ہے جڑا ہوا ہے اور دونوں اس میں متمکن ہیں لیکن غلام مبنی ہے اور زاید کیا ہے؟ معرب۔ غلام کیوں مبنی؟
کیونکہ عامل ساتھ نہیں اور زاید کیوں معرب؟ کیونکہ اس کا عامل ساتھ موجود ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟
تو علماء کا پہلا گروہ ان کا قول ذکر ہو گیا وہ کیا فرماتے ہیں؟
کہ اس میں متمکن وہ معرب ہے توجہ ہے؟ اور خود ہی معرب ہے یا اس کے لیے شرط ذکر کرتے ہیں؟ شرط ذکر کرتے ہیں کہ اس میں متمکن معرب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کہ وہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو تو وہ معرب ہے۔
جبکہ علماء کا دوسرا گروہ وہ ترکیب کی شرط نہیں لگاتے وہ کیا کہتے ہیں اس میں متمکن معرب ہے ہر حال میں۔
اس میں متمکن ہر حال میں معرب ہے چاہے وہ ترکیب میں ہو چاہے ترکیب میں نہ ہو۔
جاءنی زاید وہ کہتے ہیں یہ بھی معرب ہے اور زاید اکیلا یہ بھی معرب ہے۔ توجہ ہے؟ میں نے بتایا نا کہ رفع نصب جر کے لیے کوئی وجہ چاہیے۔ عامل ہوگا تو رفع پڑھیں گے۔
عامل ہوگا تو نصب پڑھیں گے۔ عامل ہوگا تو جر پڑھیں گے۔ رفع نصب جر خود بخود نہیں آتے تو لہٰذا یہ علماء کیا فرماتے ہیں ایک گروہ علماء کا کیا فرماتا ہے؟
کہ اس میں متمکن معرب ہے لیکن شرط یہ کہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔
جاءنی زاید یہ زاید کیا ہے؟ معرب ہے۔ معرب اگر اکیلا زاید ہو وہ اس میں متمکن تو ہے لیکن معرب نہیں ہے۔ تو اس میں متمکن کے معرب ہونے کے لیے پہلے علماء کے پہلے گروہ نے کیا شرط لگائی؟
کہ وہ اس میں متمکن جو اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو وہ معرب ہے ورنہ معرب نہیں۔
اکیلا زاید وہ کہتے ہیں مبنی ہے۔
اکیلا زاید مبنی جبکہ علماء کا دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ اکیلا زاید بھی معرب ہے ترکیب میں واقع ہونے کی کوئی شرط نہیں۔ وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے زاید پر اس وقت نہ آپ رفع پڑھ سکتے ہیں نہ نصب پڑھ سکتے ہیں اور نہ جر پڑھ سکتے ہیں کیونکہ عامل ساتھ نہیں ہے لیکن عامل ساتھ نہ ہو تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ مبنی بن گیا وہ اب بھی معرب ہے۔
یعنی اس میں صلاحیت ہے جب بھی عامل آئے گا یہ اعراب کو جگہ دے دے گا۔
اس میں صلاحیت زاید جب بھی اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں آئے گا تو اعراب کو جگہ دے گا کہ نہیں دے گا؟
جگہ دے گا تو وہ کہتے ہیں بس صلاحیت کافی ہے اس وقت بے شک زاید کے ساتھ عامل نہیں اکیلا زاید لفظ۔ عامل ہے ساتھ؟ نہیں جب عامل نہیں تو زایدون بھی نہیں پڑھ سکتے زایدن بھی نہیں زایدین بھی نہیں۔
لیکن اس میں صلاحیت ہے جب بھی عامل جڑے گا یہ اعراب کو جگہ دے دے گا تو علماء تو علماء کا یہ گروہ کہتا ہے کہ بس اس کے اندر صلاحیت ہونا کافی ہے اور ترکیب میں اپنے عامل کے ساتھ جڑنا ضروری نہیں۔
نہیں سمجھ میں آئی بات علماء کا پہلا گروہ کیا کہتا ہے؟
کہ زاید مثلاً اس متمکن ہے اس یہ اسم متمکن ہے اس میں متمکن معرب ہے بشرط کہ وہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو اور دوسرا گروہ کیا کہتا ہے؟ ترکیب میں واقع ہونا ضروری نہیں۔ اس میں صلاحیت ہے زاید اکیلا ہے اس وقت نہ آپ اس پر رفع پڑھ سکتے ہیں نہ نصب نہ جر لیکن اس میں صلاحیت ہے آپ جب بھی اس کے ساتھ عامل کو جوڑیں گے یہ اعراب کو جگہ دے دے گا تو بس صلاحیت کافی ہے ترکیب میں واقع ہونا ضروری نہیں۔ تو لہٰذا یہ کہتے ہیں اکیلا زاید لفظ وہ معرب ہے۔
اور پہلے گروہ والے کیا کہتے تھے؟
کہ ترکیب میں نہیں ہے اس لیے مبنی ہے تو یہ گروہ کہتے ہیں یہ دوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ بس صلاحیت کافی ہے چاہے ترکیب میں واقع ہو یا نہ ہو اس کو ہر حال میں معرب کہیں گے۔
جبکہ وہ کہتے ہیں ترکیب میں نہ ہو تو مبنی کہیں گے اور ترکیب میں ہو تو معرب کہیں گے۔ فرق سمجھ میں آگیا؟
تو کہتے ہیں واما اسم متمکن معرب است باقی اسم متمکن جو ہے وہ معرب ہے بشرط آن کہ در ترکیب واقع شود با این شرط بشرط آن کہ اس شرط پر کہ در ترکیب واقع شود کہ ترکیب میں واقع ہو۔
وفعل مضارع معرب است اور فعل مضارع معرب ہے بشرط آن کہ از نون ہائے جمع مؤنث ونون تاکید خالی باشد اور فعل مضارع معرب ہے۔
فعل ماضی تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ فعل ماضی کیا ہے؟ مبنی ہے بلکہ مبنی الاصل ہے اصل ہے۔ لیکن فعل مضارع وہ معرب ہے ہاں اس میں دو صیغے ہیں۔ کون سے دو صیغے؟ جمع مؤنث والے وہ مبنی ہیں۔
اور باقی باقیوں کے اندر اگر نون تاکید ملے گا تو پانچ صیغے جو ہیں وہ مبنی بنیں گے اور سات صیغے ہیں وہ نون تاکید کے ملنے کے باوجود وہ کیا رہیں گے؟ معرب رہیں گے۔ تو وہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں وفعل مضارع معرب است اور فعل مضارع کیا ہے؟ معرب ہے بشرط آن کہ از نون ہائے جمع مؤنث ونون تاکید خالی باشد کہ وہ جمع مؤنث کے نونوں سے ونون تاکید اور نون تاکید سے خالی ہو۔
اس میں جمع مؤنث کا نون بھی نہ آئے اور نون تاکید بھی نہ آئے بھئی۔
انہوں نے کیا کہا؟ وفعل مضارع معرب است اور فعل مضارع معرب ہے بشرط آن کہ از نون ہائے جمع مؤنث ونون تاکید خالی باشد کہ وہ جمع مؤنث کے نونوں سے اور تاکید کے نون سے خالی ہو۔
بھئی ترجمے پہ نظر ہے؟ انہوں نے کیا کہا؟ فعل مضارع معرب است فعل مضارع معرب ہے بشرط آن کہ از نون ہائے جمع مؤنث ونون تاکید خالی باشد بہ این شرط کہ وہ جمع مؤنث کے نون اور تاکید کے نون سے خالی ہو۔
میں نے آپ کو دو قول ذکر کیے بھئی۔ فعل مضارع میں دو صیغے تو مبنی ہیں باقی بارہ صیغوں میں جب نون تاکید آجائے چاہے وہ نون خفیفہ ہو چاہے نون ثقیلہ
جب وہ آ جائے تو وہ معرب رہیں گے یا مبنی بنیں گے؟ تو علماء کے دو گروہ ہیں۔ عام علماء فرماتے ہیں کہ نون تاکید جب ان بارہ صیغوں کے ساتھ آئے گا تو یہ بھی مبنی بن جائیں گے۔
اور جبکہ علمائے محققین کیا فرماتے ہیں کہ ان بارہ میں سے سات صیغوں میں نون اعرابی ہے اور پانچ میں نون اعرابی نہیں۔ جن میں نون اعرابی نہیں ہے وہ پانچ صیغے تو مبنی بنیں گے جب ان کے ساتھ نون تاکید آ جائے۔ لیکن باقی سات صیغے جن میں نون اعرابی ہے ان کے ساتھ اگر نون تاکید بھی جڑ جائے پھر بھی وہ معرب ہی رہیں گے۔
بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن صاحب کتاب کیا فرما رہے ہیں؟ وہ فرما رہے ہیں کہ فعل مضارع وہ نون جمع مؤنث اور نون تاکید سے خالی ہو تو معرب ہے۔ معلوم ہوا نون تاکید کے ساتھ ہو تو وہ مبنی ہے۔ معلوم ہوا انہوں نے عام علماء کے قول کو اختیار کیا ہے۔
ایک عام علماء کا قول ہے اور ایک علمائے محققین کا قول ہے۔ تو یا تو انہوں نے عام علماء کے ساتھ ہیں مصنف اور ان کی بھی یہی رائے ہے کہ جب نون تاکید فعل مضارع میں آ جائے تو سارے ہی صیغے مبنی بن جاتے ہیں۔
سارے ہی صیغے مبنی بنتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اس قول کو تو یا تو ان کی رائے بھی یہی ہے عام علماء کے ساتھ اس لیے انہوں نے اس قول کو اختیار کیا لیکن زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ ابتدائی کتاب ہے ابتدائی طلبہ کے لیے ہے اس لیے یہاں انہوں نے تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ بس آسانی سے چھوٹی چھوٹی موٹی موٹی باتیں کر رہے ہیں جو طلبہ تھوڑی یاد کر لیں۔ یہ صرف نحو کا تعارف کرواتے جا رہے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ کوئی ترکیب وغیرہ اور گہری باتیں نہیں کر رہے، یہ صرف نحو کا تعارف کرواتے جا رہے ہیں۔ ایک اسم ہوتا ہے، ایک فعل ہوتا ہے، ایک حرف ہوتا ہے، اسم کی یہ نشانی ہے، فعل کی یہ نشانیاں ہیں اور ایک معرب ہوتا ہے، ایک مبنی ہوتا ہے، رفع ہوتا ہے، نصب دیکھو صرف نام ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں آسان آسان باتیں کر رہے ہیں تو یہاں پر بھی انہوں نے آسان سی بات کر دی زیادہ تحقیقی بات نہیں کی بس آسان بات جو طلبہ یاد کر لیں کہ بھئی فعل مضارع کے ساتھ جب نون تاکید جڑ جائے گا تو وہ کیا بن جائے گا؟ مبنی بن جائے گا۔ اگلے درجات میں کہتے ہیں وہ خود ہی تفصیل دیکھ لیں گے کہ وہ کتنے سارے صیغے مبنی بنتے ہیں یا بعض صیغے مبنی بنتے ہیں۔
تو یہاں انہوں نے آسان قول جو تھا اس کو ذکر کر دیا کیونکہ یہ ابتدائی کتاب ہے، ابتدائی درجے کے طلبہ ہیں تو ان کے لیے آسانی ہوگی یاد کرنے میں۔
اس لیے انہوں نے کہا کہ فعل مضارع معرب است اور فعل مضارع معرب ہے بشرط آنکہ از نون ہائے جمع مؤنث و نون تاکید خالی باشد۔ بہ این شرط کہ وہ جمع مؤنث کے نونوں سے اور نون تاکید سے خالی ہو۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے پس در کلام عرب بیش ازیں دو قسم معرب نیست۔ پس کلام عرب میں پس در کلام عرب، پس کلام عرب میں یعنی عربی زبان میں بیش ازیں دو قسم۔ بیش کا معنی زیادہ، زیادہ۔
ازیں یہ اصل میں تھا ازیں، از کا کیا معنی؟ سے، ای کا کیا معنی؟ یہ، یہ۔
بیش ازیں اس سے زیادہ۔ پس در کلام عرب، پس عرب کلام عرب میں یعنی عربی زبان میں بیش ازیں، اس سے زیادہ۔
بیش ازیں دو قسم، بیش ازیں دو۔ ان دو قسموں سے زیادہ معرب نیست، معرب نہیں۔ کلام عرب میں دو ہی معرب ہیں بھئی ایک اسم متمکن جبکہ وہ ترکیب میں واقع ہو اپنے عامل کے ساتھ اور دوسرا فعل مضارع بشرطیکہ وہ نون تاکید اور نون جمع مؤنث سے خالی ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں پس در کلام عرب بیش ازیں دو قسم معرب نیست، پس کلام عرب کے اندر ان دو قسموں سے زیادہ معرب نہیں ہے، باقی ہمہ مبنی است۔ ہمہ کا معنی سب، سارے، سارے۔ باقی ہمہ مبنی است، باقی سب مبنی ہیں۔
अच्छा इन्होंने शुरू में क्या बतलाया था؟ कि इसमें गैर मتمکن مبنی است۔
اور اس میں متمکن معرب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے عامل کے ساتھ ترکیب میں واقع ہو۔
تو اب بتلانے لگے ہیں کہ اس میں غیر متمکن جو ہے جس کو ہم نے کہا وہ مبنی ہے وہ کون سا اسم ہے؟
تو وہ بتلائیں گے آپ کو کہ اس میں غیر متمکن وہ اسم ہے جو مبنی الأصل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو۔
اسم غیر متمکن وہ اسم ہے جو مبنی الأصل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو۔ یعنی کوئی اسم وہ فعل ماضی یا امر حاضر یا تمام حروف ان میں سے کسی کے مشابہ ہو جائے، مبنی الأصل کتنی چیزیں ہیں؟ تین، نمبر ایک تمام حروف، نمبر دو فعل ماضی، نمبر تین امر حاضر۔ تو کوئی اسم ان تین میں سے کسی کے مشابہ ہو جائے، ان جیسا ہو جائے تو وہ غیر متمکن کہلائے گا۔
اور وہ مبنی ہوگا۔
و اسم غیر متمکن اسم است اور اسم غیر متمکن اسم است وہ اسم ہے کہ با مبنی اصل مشابہت دارد کہ وہ مبنی و مبنی الأصل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو، یعنی اس کی مبنی الأصل کے ساتھ مشابہت ہو۔
اور میں نے بتلایا تھا آپ کو گزشتہ سبق میں کہ ہر مشابہت نہیں مراد۔ خاص مشابہتیں مراد ہیں۔
خاص مشابہتیں۔
جیسے جیسے احد عشرہ کو سامنے رکھیں۔ احد عشرہ کیا ہے؟ مرکب بنائی اور یہ اس کے دونوں جز مبنی ہیں: احد عشرہ، احد کی دال پر بھی زبر پڑھیں گے اور عشرہ کی را پر بھی زبر اور یہ بدلے گا نہیں، ہر حال میں یہ اسی طرح پڑھنا پڑے گا۔
تو احد عشرہ کیا ہے؟ مرکب بنائی۔ بھئی یہ کیوں یہ کیوں مبنی ہے؟ وجہ میں نے ذکر کی تھی کہ اس کے اندر واؤ چھپ گیا ہے۔
اور واؤ واؤ وہ تو حرف ہے اور تمام حروف کیا ہیں؟ مبنی۔ تو واؤ بھی کیا ہے؟ مبنی اور جب یہ واؤ احد عشرہ میں چھپ گیا، یوں کہو احد عشرہ میں واؤ والا معنی آ گیا، تو یہ کس کی طرح ہوا؟ واؤ کی طرح ہو گیا۔
واؤ کا معنی ہے نا اور اور اردو زبان میں، زید و عمرو (یعنی زید اور عمرو) تو یہ جو واؤ ہے، یہ واؤ یہ کس کے اندر چھپ گیا؟ احد عشرہ میں اصل میں کیا تھا؟ احد و عشرون تو جب یہ واؤ چھپ گیا تو احد عشرہ میں واؤ کا معنی آ گیا تو یہ واؤ کی طرح ہو گیا۔
واؤ کا معنی بھی اور تھا، اس کے اندر بھی کون سا معنی آ گیا؟ اور والا تو یہ اس جیسا ہو گیا، اور وہ تو تھا مبنی تو یہ بھی کیا بن گیا؟ مبنی ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو اس طرح کی خاص کچھ مشابہتیں مراد ہیں۔
تو کہتے ہیں وہ اسم غیر متمکن اسم است کہ با مبنی اصل مشابہت دارد اور اسم غیر متمکن وہ اسم ہے کہ جو مبنی الأصل کے ساتھ مشابہت دارد رکھتا ہے و مبنی الأصل سے چیز است اور مبنی الأصل تین چیزیں ہیں: سہ، تین کو کہتے ہیں۔ و مبنی الأصل سے چیز است اور مبنی الأصل جو ہیں تین چیزیں ہیں، فعل ماضی و امر حاضر معروف و جملہ حروف۔ ایک تو فعل ماضی ہے اور ایک امر حاضر معروف ہے و جملہ حروف اور تمام حروف ہیں، جملہ کا کیا معنی؟ تمام اور تمام حروف۔
جی و اسم متمکن اسم است اور اسم متمکن وہ اسم ہے کہ با مبنی اصل مشابه نہ باشد کہ جو مبنی الأصل کے مشابہ نہ ہو نہ ہو، جو اسم مبنی الأصل کے مشابہ ہے وہ اسم غیر متمکن اور جو اسم مبنی الأصل کے مشابہ نہیں وہ اسم متمکن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیں، کہتے ہیں و مبنی الأصل سے چیز است اور مبنی الأصل تین چیزیں ہیں، فعل ماضی و امر حاضر معروف و جملہ حروف، فعل ماضی ہے، امر حاضر معروف ہے اور تمام حروف و اسم متمکن اسم است اور اسم متمکن وہ اسم ہے کہ با مبنی اصل مشابه نہ باشد کہ جو مبنی الأصل کے مشابہ نہ ہو، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ مبنی الأصل کتنی چیزیں ہیں؟ تین، نمبر ایک تمام حروف۔ نمبر دو فعل ماضی۔ نمبر تین امر حاضر معروف۔
اور یہ تینوں دیکھیں ان میں اسم کوئی نہیں ہے یا حروف ہیں یا فعل ہے، جبکہ اسم، اسم دو قسم پر ہے یا وہ اسم متمکن ہے یا اسم غیر متمکن۔
اور اس میں غیر متمکن کسے کہتے ہیں؟
جو مبنی الأصل کے مشابہ ہو اور ہر مشابہت مراد ہے یا کچھ خاص مشابہتیں ہیں؟ کچھ خاص مشابہتیں ہیں، وہ تفصیل آپ اگلی کتابوں میں جا کر پڑھیں گے، بس اتنا یاد رکھیں کہ اسم غیر متمکن وہ ہے جو مبنی الأصل کے مشابہ ہو۔ جب مبنی الأصل کے مشابہ ہوا تو مبنی الأصل تو ذات کے اعتبار سے ہی مبنی ہیں، یہ اسم جب ان جیسا ہوگا تو یہ بھی کیا بن جائے گا؟ مبنی بن جائے گا اور اسم متمکن کس کو کہتے ہیں؟ جو مبنی الأصل کے مشابہ نہ ہو۔ جب یہ مبنی الأصل کے مشابہ نہیں ہوگا تو یہ اعراب کو جگہ دے گا، رفع کی صورت میں اس پر رفع آئے گا، نصب بھی آئے گا اور جر بھی آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی فصل، بدان کہ اسم غیر متمکن ہشت قسم است، ہشت کا معنی ہے آٹھ۔ بدان کہ تو جان لے کہ اسم غیر متمکن ہشت قسم است، اسم غیر متمکن جو ہے وہ آٹھ قسم پر ہے، اس کی آٹھ قسمیں ہیں۔
اول مضمرات، نمبر ایک کیا ہے؟ مضمرات ہے بھئی۔ یہ نشان لگا لیں، یہ آپ کو علیحدہ یاد کرنا چاہیے آٹھ قسموں کو، نام لے ہر ایک کا نام اس پر ہلکا سا نشان لگائیں یا یاد رکھیں۔ آگے دیکھو سات آٹھ سطروں کے بعد یا نو سطروں کے بعد آ رہا ہے، دوم اسمائے اشارات بھئی، مل گیا؟
دوم، اس کو عموماً طلبہ دوم پڑھتے ہیں، دوم نہیں پڑھنا بھئی اس کو، دوم، دال پر بھی پیش اور واؤ مشدد ہے اس پر بھی پیش پڑھنا ہے۔
اول دوم، دوم ملا؟ جی، دوم اسمائے اشارات۔
مل گیا بھئی؟ جی، یہ نمبر دو ہے، آگے ایک دو سطروں کے بعد آ رہا ہے سوم اسمائے موصولہ۔
سوم صرف ایک یا دو سطروں کے بعد یہ آ رہا ہے، ایک کے بعد سوم اسمائے موصولہ۔ اس کو سوم پڑھنا، سین کے نیچے زیر، واؤ مشدد ہے اور اس پر پیش پڑھنا، سوم تیسرا۔
تو سوم اسمائے موصولہ، اس کے بعد پھر بھئی، اس کے بعد دو تین سطروں کے بعد آ رہا ہے چہارم اسمائے افعال بھئی۔
چہارم اسمائے افعال، یہ چوتھی قسم آ گئی غیر متمکن کی، اور آگے ہے ایک سطر کے بعد ڈیڑھ کے بعد پنجم اسمائے اصوات بھئی۔
اسمائے اصوات، اس کے بعد پھر آدھی سطر کے بعد ہے ششم اسمائے ظروف بھئی۔
اسمائے ظروف، یہ چھٹی قسم ہے، اس کے بعد پھر دو تین سطروں کے بعد ہے ہفتم اسمائے کنایات، ساتویں قسم کیا ہے؟ اسمائے کنایات، اور پھر اس کے بعد ایک سطر بعد ہے ہشتم مرکب بنائی۔
ہشتم مرکب بنائی۔
تو یہ آٹھ قسمیں ہیں کس کی؟ اسم غیر متمکن کی۔ یہ آپ کو اکٹھی یاد ہونی چاہیے، یعنی نام لیں باقاعدہ سب کا ترتیب سے، کہ اول کیا ہے؟ مضمرات۔ نمبر دو، اسمائے اشارات۔ نمبر تین، اسمائے موصولہ۔ نمبر چار، اسمائے افعال۔ نمبر پانچ، اسمائے اصوات۔ نمبر چھ، اسمائے ظروف۔ نمبر سات، اسمائے کنایات۔ اور نمبر آٹھ، مرکب بنائی۔ تو یہ آٹھ آپ نے کل یاد کرنے ہیں بھئی۔
اب دیکھیے کتاب پر فصل بدان کہ اسم غیر متمکن ہشت قسم است، جان لے تو کہ اسم غیر متمکن آٹھ قسم پر ہے، اول مضمرات، پہلی قسم کیا ہے؟ مضمرات۔
مضمرات یعنی ضمیریں، ضمیریں۔
ضمیر کو مضمر کہتے ہیں، مضمر۔
تو مضمرات یعنی ضمیریں جو آنا، جیسے آنا، آنا کا معنی ہے من، میں، میں۔
آپ بھی اردو میں بات کرتے ہیں تو بتاتے ہیں اپنے ساتھی کو کہ میں آج بازار گیا تھا، تو اپنے آپ کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ میں کے ساتھ یا آپ اپنا نام لیتے ہیں؟ نہیں، جب بھی اپنے ساتھیوں سے کوئی بات کرتا ہے تو اپنے لیے ضمیر استعمال کرتا ہے کہ میں نے آج یہ کام کیا، میں نے آج سبق پڑھا، میں نے آج نوافل پڑھے، میں نے آج تلاوت کی، میں نے آج مطالعہ کیا، میں نے آج تکرار کیا، دیکھو میں کا لفظ بول رہا ہے۔
تو یہ ضمیر ہے اور سامنے جو ہوتا ہے، اس کے لیے بھی ضمیر استعمال کرتے ہیں، آپ کا کیا حال ہے؟ آپ آج کہاں گئے تھے؟ آپ نے کیا کھانا کھایا؟ دیکھو آپ کا لفظ بول رہا ہے، نام نہیں لے رہا اس کا بار بار، اپنے لیے بھی انسان ضمیر استعمال کرتا ہے اور جو سامنے ہوتا ہے جس سے بات کر رہا ہو، اس کے لیے بھی ضمیر استعمال کرتا ہے۔ مثلاً بات کرنے والے کا نام زید ہے۔
تو وہ دوسرے کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ بازار گیا تھا، تو زید خود بات کر رہا ہے، وہ کیا کہے گا؟ میں بازار گیا تھا یا یوں کہے گا زید آج بازار گیا تھا؟ دیکھا اپنا نام متکلم نہیں لیتا بلکہ ضمیر کے ساتھ اپنے آپ کو ذکر کرتا ہے اور مخاطب کو، مخاطب جسے بات کر رہا ہوتا ہے، مثلاً اس کا نام عمر ہے۔
تو اس سے کیسے پوچھتا ہے آپ کا کیا حال ہے؟ یا یوں کہتا ہے عمر کا کیا حال ہے؟ ہاں، عمر کا حال، عمر نہیں کیونکہ اس کا نام ضمیر کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، تو انسان اپنے بارے میں بھی ضمیر
استعمال کرتا ہے، متکلم جو ہوتا ہے اور جو مخاطب ہوتا ہے، یعنی جس سے وہ بات کر رہا ہے، اس کو مخاطب کہتے ہیں۔ جو بات کرنے والا ہو، اس کو کہتے ہیں متکلم۔ اور جس سے بات کر رہا ہے، اس کو کہتے ہیں مخاطب۔ اور جو کوئی تیسرے کے بارے میں بات کی جائے، اس کو کہتے ہیں غائب بھئی، غائب۔ توجہ ہے؟ جی۔
بات کرنے والے کو کیا کہتے ہیں؟ متکلم۔ جس سے بات کی جائے، وہ کون ہے؟ مخاطب۔ مخاطب نہیں کہنا، طاء کے نیچے زیر پڑھ دی تو یہ متکلم ہی کا نام ہے۔ مخاطب کا معنی ہے خطاب کرنے والا، بات کرنے والا اور بات کرنے والا تو کون ہے؟ متکلم ہے۔ تو مخاطب پڑھنا۔ تو متکلم کس کو کہتے ہیں؟ جو بات کرنے والا ہے اور جس سے بات کی جا رہی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مخاطب اور اگر کسی تیسرے کے بارے میں بات کی جائے جو یہاں موجود نہیں، تو اس کو کہتے ہیں غائب بھئی۔ تو کلام کے یہی تین طریقے ہوتے ہیں۔ کبھی متکلم والا انداز اپنایا جاتا ہے، کبھی خطاب والا اور کبھی غیبت والا یعنی غائب والا۔
آپ تین ہی طرح کلام کرتے ہیں بھئی۔ کبھی اپنے بارے میں بات کریں گے، میں نے یہ کام کیا، کبھی مخاطب کے بارے میں بات کریں گے کہ آپ کا کیا حال ہے، اور کبھی تیسرے آدمی کے بارے میں بات کریں گے کہ زید آج لاہور گیا تھا۔ تو جو تیسرا ہے، وہ ہے غائب بھئی۔ متکلم بات کرنے والا، مخاطب جس سے بات کی جائے اور جو تیسرا ہے، وہ کیا ہے؟ غائب کہلاتا ہے تو کلام کے تین طریقے ہو گئے۔ یا متکلم کے انداز میں بات کرتا ہے انسان یعنی اپنے بارے میں بات کرتا ہے، یا خطاب کے انداز میں بات کرتا ہے، یعنی مخاطب سے بات کرتا ہے، یا غیبت کے انداز میں بات کرتا ہے یعنی وہ تیسرا آدمی جو یہاں موجود نہیں ہے، جو موجود نہیں ہے، اس کا پہلے اول نام لیتے ہیں۔
مثلاً میں آپ سے زید کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ زید اس وقت یہاں موجود نہیں۔ اپنے بارے میں بات کروں تو میں کیا؟ متکلم۔ آپ کے بارے میں بات کروں تو آپ کون ہیں؟ مخاطب۔ اور زید کے بارے میں بات کروں جو یہاں موجود نہیں تو زید کیا ہے؟ غائب۔ تو یہ جو غائب ہوتا ہے، یاد رکھو، پہلے اس کا نام لیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ نام لینے کے بعد پھر بار بار نام عموماً نہیں لیتے، پھر اس کو بھی ضمیر سے ذکر کرتے ہیں۔
توجہ ہے؟ جی۔ انسان اپنے بارے میں بھی نام لیتا ہے یا ضمیر ذکر کرتا ہے؟ ضمیر کے میں نے یوں کیا یا ہم نے یوں کیا، اور سامنے جو ہوتا ہے مخاطب، اس کے لیے بھی کیا استعمال کرتا ہے؟ ضمیر کہ آپ کا کیا حال ہے یا آپ سب کا کیا حال ہے اور جو غائب ہے، اس کے لیے پہلے نام ذکر کرتے ہیں ایک دفعہ اور پھر ضمیریں ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے زید کی بات کرنا چاہتا ہوں، تو میں کہوں گا کہ زید آج میرے پاس آیا تھا، پھر میں زید سے کہا، یوں نہیں کہوں گا، پھر میں اس سے کہا، دیکھا، پھر میں اس سے بات کی، وہ کافی دیر بیٹھا رہا، دیکھو وہ کہہ رہا ہوں وہ، وہ۔ اب بار بار زید نہیں کہہ رہا بلکہ اس یا وہ یہ ضمیریں استعمال کر رہا ہوں۔
پھر سنو، میں کس کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں؟ زید۔ তো پہلی دفعہ نام لوں گا، اس کے بعد ضمیریں ذکر کروں گا، زید آج صبح میرے پاس آیا تھا، وہ وہ بیمار لگ رہا تھا، دیکھو وہ میں نے کہا، وہ بیمار لگ رہا تھا، وہ کافی دیر میرے پاس بیٹھا رہا، وہ مجھ سے باتیں کرتا رہا، دیکھو اب میں وہ کا لفظ لا رہا ہوں اور وہ کیا ہے؟ ضمیر ہے تو غائب جو ہوتا ہے پہلے اس کا نام ذکر کرتے ہیں تاکہ سننے والے کو پتہ لگے کس کی بات ہو رہی ہے اور اس کے بعد پھر دوبارہ اس کا نام عموماً نہیں لیا جاتا بلکہ ضمیروں کے ساتھ اس کو ذکر کرتے ہیں۔
تو ضمیریں گویا تین قسم کی ہو گئیں۔ یا ضمیر متکلم کی ہوگی، جیسے انا، میں، میں اور یہ بات کرنے والا چاہے مذکر ہو یا مونث ہو، دونوں اپنے لیے میں کا لفظ بولیں گے۔ کوئی مرد بول رہا ہے، وہ بھی کہے گا میں آج بازار گیا تھا۔ عورت کہے گی وہ بھی کہے گی میں آج بازار گئی تھی۔ دیکھو میں ہی کا لفظ عورت بھی استعمال کر رہی ہے اور مرد بھی۔ اسی طرح عربی میں انا ہے، انا یا نحن یہ مذکر بھی استعمال کرتے ہیں اور مونث۔ انا کا معنی میں اور نحن کا معنی ہم، ہم۔
تو یہ ضمیریں ہیں اور مخاطب کے لیے مثلاً انت اور انتما اور انتم یہ ضمیریں استعمال کرتے ہیں، انت، انت تو ایک مرد، انتما تم دو مرد اور انتم تم سب مرد اور مونث کے لیے انتی، انتی تو ایک عورت اور انتما تم دو عورتیں اور انتن تم سب عورتیں بات سمجھ میں آرہی ہے اور غائب کے لیے ہوا، ہوا واحد مذکر کے لیے واحد مذکر کے لیے ہوا وہ وہ اور تثنیہ کے لیے ھما وہ دو مرد اور جمع کے لیے ھم وہ سب مرد اور ایک عورت کے لیے ھیا وہ ایک عورت اور ھما وہ دو عورتیں اور ھن وہ سب عورتیں تو یہ ضمیریں ہیں تو ضمیر وہ ہے جس کے ذریعے اس متکلم، مخاطب یا غائب کو ذکر کیا جائے، توجہ ہے؟ ضمیر وہ ہے جس کے ذریعے متکلم یا مخاطب یا غائب نہیں، غائب والی بات پوری نہیں۔ ایسے غائب کو ذکر کیا جائے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہو۔
پہلی دفعہ غائب کے لیے نام لیں گے یا نہیں لیں گے؟ بغیر نام کے ہی آپ کہہ دیں وہ میرے پاس آیا تھا، کسی کو پتہ لگے گا کس کی بات ہو رہی ہے؟ نہیں تو پہلی دفعہ اس کا کچھ ذکر ہو جس سے دوسرے کو پتہ تو چلے کس غائب کی بات ہو رہی ہے تو لہٰذا چاہے نام لے لیں یا کسی بھی انداز میں بس پتہ لگ جائے کہ میں زید کی بات کر رہا ہوں تو پھر میں اس کے بعد وہ کا لفظ لے کر آؤں گا تو ضمیر وہ اسم ہے جس کے ذریعے متکلم کس کو ذکر کیا جائے؟ متکلم اپنے آپ کو ذکر کرے یا مخاطب کو ذکر کرے یا ایسے غائب کو پوری بات کریں، ایسے غائب کو جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہو پھر دہرائیں ضمیر وہ ہے جس کے ذریعے متکلم اپنے آپ کو ذکر کرے یا مخاطب کو یا ایسے غائب کو جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہو تو ضمیر جو ہے وہ متکلم اپنے لیے استعمال کرتا ہے مخاطب کے لیے بھی استعمال کرتا ہے اور ایسے غائب کے لیے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہو۔
دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فصل: بيداں کہ اسم غیر متمکن ہشت قسم است جان لے تو کہ اسم غیر متمکن آٹھ قسم پر ہے اول مضمرات پہلی قسم وہ ضمیریں ہیں چون انا جیسے میں چون انا من من، من کا معنی ہے میں فارسی زبان میں من کا کیا معنی؟ میں اور آگے لکھا مرد و زن مرد اور عورت، زن عورت کو کہتے ہیں۔ میں مرد اور عورت یعنی یہ میں کا لفظ مرد بھی استعمال کرتا ہے اور عورت بھی استعمال کرتی ہے۔
و ضربتو ضربتو میں نے پٹائی کی دیکھو زدم من میں نے مارا۔ زدم من، زدن کا معنی ہوتا ہے مارنا تو یہ فارسی میں ترجمہ کر رہے ہیں ضربتو ای زدم من میں نے مارا۔ و ایا یا یہ بھی ضمیر ہے اچھا یہ ضربتو کے اندر دیکھو ضربتو یہ تا ضمیر ہے چند سبق پہلے یہ ذکر ہوا تھا ضربتو میں یہ تا ضمیر ہے آگے دیکھیے و ایا یا یہ بھی متکلم کی ضمیر ہے ایا یا خاص مرا خاص مجھے توجہ ہے؟ خاص مرا ترجمہ کیا ہے؟ خاص طور پر مجھے، خاص طور پر مجھے جی۔
و ضربنی ضربنی بزدم مرا اس نے مارا مجھے بزدم اس نے مارا مرا مجھے ضربنی یاد رکھو ضرب فعل ہے اور یہ نون وقایہ کا ہے اور یا متکلم کی ضمیر ہے ضرب مارا اس نے نی یعنی مجھے یہ جو نون ہے یہ نون وقایہ کا ہے اور یا متکلم کی ضمیر ہے کہ مجھے یا کا کیا معنی مجھے مجھے یہ جو نون ہے یہ نون وقایہ ہے۔
یاد رکھیں یہ جو نون وقایہ ہے نا یہ عموماً ما قبل میں فتحہ ہو نا فتحہ ضربہ ضربہ کی با پر کیا پڑھتے ہیں؟ فتحہ یعنی زبر پڑھتے ہیں اب اس کے ساتھ میں دوسرے کو بتانا چاہتا ہوں کہ ضربہ اس نے مارا مجھے کس کو مارا؟ مجھے متکلم اپنے بارے میں بتانا چاہتا ہے اور متکلم کے لیے ضمیر کون سی ہے؟ یا، یا ضمیر ہے اب وہ اس یا ضمیر کو ضربہ کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے اور یا اپنے سے ماقبل زیر چاہتی ہے کیا چاہتی ہے؟ زیر چاہتی ہے تو اگر یا کو ہم براہ راست ضربہ کے ساتھ جوڑ دیں تو کیسے پڑھیں گے؟ ضربی حالانکہ ضربہ کی با پر زبر رہنا چاہیے اس کو آپ بدل نہیں سکتے کیونکہ وہ مبنی ہے آپ نے پڑھا ہے نہیں یہ ماضی ہے ماضی کیا ہے مبنی الاصل تو اس با پر زبر کو برقرار رکھنا ہے اب کیا کریں یا کو جوڑنا چاہتے ہیں یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کہ مجھ سے پہلے کیا آنا چاہیے؟ کسرہ، ضربی پڑھنا چاہیے اور ضربہ کی با وہ بدل نہیں رہی کیونکہ وہ مبنی ہے تو پھر اس صورت میں درمیان میں نون کا اضافہ کرتے ہیں اور نون کو زیر دے دیتے ہیں ضربنی ضربنی تو دیکھو اب دونوں مقصد حل ہو گئے یا سے ماقبل نون پر زیر بھی آ گئی اور ضربہ کی با پر فتحہ بھی برقرار رہا تو اس نون کو نون وقایہ کہتے ہیں تو وقایقی وقایہ کا معنی ہوتا ہے بچانا، حفاظت کرنا تو ضربنی دیکھو اس میں اس نون نے کیا کیا با کے آخری کو بچا لیا اس پر فتحہ کو برقرار رکھا اگر یہ نون نہ آتا تو پھر با پر کیا پڑھنا پڑتا؟ کسرہ اور کسرہ تو اس پر نہیں پڑھ سکتے تھے اس فتحہ کی حفاظت ضروری تھی اس کو بچانا ضروری تھا تو لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں نون وقایہ کہ جس نے اس با کے فتحہ کو بچا لیا اس کی حفاظت کی۔
تو ضربنی بزدم مرا مارا اس نے مرا مجھے ولی یہ لی بھی کیا ہے ضمیر اس میں لام جار ہے اور یہ یا جو ہے متکلم کی ضمیر ہے لی کا معنی ہے مرا میرے لیے مرا میرے لیے تو دیکھو کہیں پر مرا کا ترجمہ میں مجھے کے ساتھ کر رہا ہوں اور کہیں مرا کا ترجمہ میرے لیے تو آپ نے خیال کرنا ہے بھئی۔ پھر سنیں بھئی چون انا من مرد و زن جیسے میں مرد اور عورت دونوں کے لیے یہ من آئے گا یعنی انا آئے گا و ضربتو اس میں تا ضمیر ہے زدم من میں نے مارا و ایا یا خاص مرا خاص طور پر مجھے و ضربنی بزدم مرا مارا اس نے مجھے ولی مرا میرے لیے یعنی میرا و ہفتاد ضمیر است اور یہ 70 ضمیریں ہیں ہفتاد کا معنی 70 ہفت سات کو کہتے ہیں سات فارسی زبان میں ہفتاد 70 این ہفتاد ضمیر است جی یہ 70 ضمیریں ہیں بھئی دیکھو یہ جو ضمیریں ہیں نا یہ پانچ قسم پر ہیں۔ کتنی قسم کی ہیں؟ پانچ ضمیر خود یا وہ متکلم کی ہوگی یا مخاطب کی ہوگی یا ایسے غائب کی ہوگی جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو تو یہ تین قسمیں تو ہر جگہ جاری ہوں گی لیکن خود اس کے علاوہ ضمیر کی پانچ قسمیں ہیں۔
کتنی قسمیں؟ پانچ اور ان پانچ میں سے ہر ایک کے اندر پھر غائب کی بھی ہیں متکلم کی بھی ہیں اور مخاطب کی (یعنی پانچ قسمیں پہلی قسم جو ہے اس میں کچھ ضمیریں غائب کی ہوں گی، کچھ ضمیریں متکلم کی ہوں گی، کچھ ضمیریں مخاطب کی ہوں گی۔
پھر دوسری قسم میں بھی کچھ ضمیریں غائب کی ہوں گی، کچھ ضمیریں مخاطب کی اور کچھ ضمیریں متکلم کی، تیسری قسم ہے اس میں بھی کچھ ضمیریں غائب کی، کچھ ضمیریں مخاطب کی اور کچھ ضمیریں متکلم کی تو یہ ہر ایک میں آئے گا پانچ قسموں میں اور ہر ضمیر کے اندر پوری گردان آپ کو یہ بتلائیں گے جیسے ماضی اور مضارع میں آپ نے 14 صیغوں کی گردان پڑھی تھی ضرب، ضربا، ضربوا، ضربت، ضربتا، ضربنا، ضربت، ضربتما، ضربتم، ضربتی، ضربتما، ضربتن، ضربتو، ضربنا تو جیسے یہ جو ہیں 14 صیغے ہیں گردان میں اسی طرح یہ جو یہ جو ضمیریں ہیں ان کی بھی گردانیں آپ کو بتلائیں گے 14 قسم کی ضمیریں آئیں گی ہر گردان میں اور کل کتنی قسم کی ہیں یہ پانچ ابھی بتایا نا پانچ قسم اور ہر ایک میں 14 ہوں 14 قسم کی ضمیریں ہوں تو کل کتنے بن گئے؟ 14 پنج 70 تو یہ 70 ضمیریں ہیں بات سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے پہلے سب کی مثال بھی دے دی ایک قسم ہے انا یہ انا یہ پہلی ضمیر ہے آگے یہ 14 ضمیریں بنیں گی آگے ضربتو یہ بھی کیا ہے؟ 14 ضمیریں بنیں گی اور ایا یا یہ بھی کتنی بنے گی؟ 14 ضرب نی جو گزرا اس میں بھی کتنی بنیں گی؟ 14 اور لی یہ بھی کتنی بنیں گی؟ 14 تو 14 پنج 70 ہو جائیں گی ترتیب سمجھ میں آرہی ہے کتنی قسم کی ضمیریں ہیں؟ پانچ اور وہ پانچوں کی ایک ایک مثال انہوں نے ذکر کر دی پانچوں کی ایک ایک مثال۔
چلیے بس کرتے ہیں یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی تو باقی انشاءاللہ کل کر لیں گے چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔