Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 46
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LEC s53 آگے سبق دیکھیے بھئی: وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ وَوَزْنُ فِعْلٍ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبُ فَقَوْلُهُ زَائِدَةً مَنْصُوبٌ عَلَى أَنَّهُ حَالٌ إِذِ الْمَعْنَى وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ حَالَ كَوْنِهَا زَائِدَةً وَقَوْلُهُ أَلِفٌ فَاعِلُ الظَّرْفِ أَعْنِي مِنْ قَبْلِهَا أَوْ مُبْتَدَأٌ خَبَرُهُ الظَّرْفُ الْمُتَقَدِّمُ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے غیرِ منصرِف کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسمِ معرب جو ہے وہ دو قسم پر ہے: یا وہ منصرِف ہو گا یا غیرِ منصرِف۔ اور منصرِف جو ہے وہ اصل ہے، اسم میں اصل کیا ہے؟ وہ منصرِف ہونا چاہیے اور غیرِ منصرِف جو ہے وہ خلافِ اصل ہے۔ تو مصنف جو ہے صاحبِ قافیہ کو پہلے منصرِف کو ذکر کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ اصل ہے اور اس کے بعد غیرِ منصرِف کو۔ تو شارحِ جامی نے آپ کو بتلایا کہ غیرِ منصرِف کو صاحبِ قافیہ نے اس لیے مقدم فرمایا کیونکہ غیرِ منصرِف قلیل ہیں، تھوڑے سے ہیں اور منصرِف زیادہ ہیں۔ تو اگر منصرِف کو بیان کرتے تو بڑی لمبی تفصیل بیان کرنا پڑتی۔ تو پہلے غیرِ منصرِف کو بیان کر دیا، اور غیرِ منصرِف جب آپ کو سمجھ میں آ گیا تو منصرِف بھی آپ کو خود ہی سمجھ میں آ جائے گا کیونکہ تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا، کیونکہ چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چل جاتا ہے۔ جیسے آپ کو سردی کا پتہ چل جائے، سردی آپ کو سمجھ میں آ جائے تو گرمی کو بھی سمجھ جائیں گے۔ صبح کا پتہ چل جائے تو شام کا بھی آپ کو پتہ چل جائے گا۔ دن آپ کو سمجھ میں آ جائے تو رات بھی آپ کو سمجھ میں آ جائے گی بھئی۔ تو چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چلتا ہے۔ تو صاحبِ قافیہ پہلے غیرِ منصرِف کو لے آئے کیونکہ اس کی بحثیں تھوڑی تھیں۔ اور جب غیرِ منصرِف آپ کو سمجھ میں آ گیا تو منصرِف بھی اسی پر قیاس کرتے ہوئے سمجھ میں آ جائے گا کہ جو ایسا نہیں ہو گا، جو غیرِ منصرِف جیسے نہیں ہو گا، معلوم ہوا وہ کیا ہو گا؟ وہ معرب منصرِف ہو گا بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ غیرِ منصرِف جو ہے کہ غیرِ منصرِف وہ اسمِ معرب ہے جس میں دو ایسی علتیں ہوں جو مؤثر ہو جائیں جب اکٹھی ہو جائیں اور شرطیں ان کی پوری ہو جائیں تو وہ اثر ڈالیں اپنا اسم کے اوپر اور اس کو کیا بنا دیں؟ غیرِ منصرِف۔ تو اس میں دو علتیں ہوں کتنی علتوں میں سے؟ نو علتوں میں سے، یا کوئی ایک ایسی علت ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ اور یہ ایک علت دو کے قائم مقام کس طرح ہو گی؟ کہ یہ ایک ہی اسی طرح مؤثر بن جائے گی جس طرح وہ دو مل کر مؤثر ہوتی تھیں بھئی۔ اور پھر اس کے بعد اسبابِ منعِ صرف آئے تھے شعر کی صورت میں: کیا؟ کہ عَدْلٌ وَوَصْفٌ وَتَأْنِيثٌ وَمَعْرِفَةٌ وَعُجْمَةٌ ثُمَّ جَمْعٌ ثُمَّ تَرْكِيبُ۔ اور اس شعر سے پہلے وَهِيَ لے کر آئے تھے صاحبِ قافیہ، اور یہ هِيَ ضمیر راجع ہے عِلَلِ تِسْعَةٍ کو۔ تو وہ عِلَلِ تِسْعَةٍ جو ہیں آگے شعر کے اندر وہ نو بیان کر دیں۔ تو یہاں اشکال ہوتا تھا کہ وَهِيَ ضمیر تو راجع ہے عِلَلِ تِسْعَةٍ کو، اور عِلَلِ تِسْعَةٍ جمع ہے، تو گویا مبتدا ہے جمع، اور آگے آ گیا عَدْلٌ وَوَصْفٌ، تو یہاں ہر ایک کا حمل نہیں ہو سکتا جمع پر۔ کیونکہ ورنہ تو پھر عبارت یوں بن جائے گی: وَالْعِلَلُ التِّسْعُ عَدْلٌ، علتِ تسعہ عدل ہیں۔ اور پھر اسی طرح: عِلَلُ التِّسْعِ وَصْفٌ، اور یہ درست نہیں ہے، مفرد کا حمل جمع پر صحیح نہیں۔ تو صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر عطف مقدم ہے حمل پر، پہلے ان سب کا عطف کرو اور پھر جب مجموعہ بن جائے تو اس سارے مجموعے کو خبر بنا دو عِلَلِ تِسْعَةٍ کے لیے۔ تو یہ مجموعہ، یہ نو امور جو ہیں، یہ ہیں عِلَلِ تِسْعَةٍ بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو شعر کے اندر جو ثُمَّ کا لفظ آیا، یہ تراخی کے لیے یہاں نہیں ہے بلکہ صرف وزنِ شعری کی رعایت کے لیے ہے، اس کی حفاظت کے لیے ہے۔ اگر واؤ لاتے تو شعر کا وزن برقرار نہ رہتا، اس لیے ثُمَّ لے کر آئے تاکہ شعر کا وزن برقرار رہے۔ اب آگے دیکھیے بھئی۔ وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ وَوَزْنُ فِعْلٍ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبُ اس شعر کی بڑی لمبی تفصیل بیان کریں گے صاحبِ جامی بھئی۔ جی، یہاں ترکیب سمجھ لو: وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ۔ وَالنُّونُ، زَائِدَةً، یہ جو زَائِدَةً آیا یہ منصوب ہے، یہ حال ہے نون سے۔ توجہ ہے؟ بہت مشکل باتیں آئیں گی، خوب توجہ سے سمجھ لو بھئی، ساری ترکیب کی باتیں ہیں۔ وَالنُّونُ، یہ ہے ذوالحال، اور زَائِدَةً، یہ ہے حال اور حال منصوب ہوتا ہے۔ اور نون، اس حال میں کہ وہ زائد ہو۔ تو یہ زَائِدَةً حال ہے نون سے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ قافیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ حال جو ہے وہ فاعل یا مفعول کی حالت بیان کرتا ہے۔ اور یہ نون نہ تو یہ فاعل ہے اور نہ یہ مفعول ہے، یہ تو خبر بن رہا ہے۔ کیا بن رہا ہے؟ خبر بن رہا ہے۔ پیچھے آیا تھا: عَدْلٌ وَوَصْفٌ وَتَأْنِيثٌ، یہ سارے مل کر عِلَلِ تِسْعَةٍ کی خبر بن رہے ہیں۔ تو آپ کو صاحبِ جامی بتلائیں گے کہ نہیں، یہاں نون معنیٰ کے اعتبار سے جو ہے وہ فاعل ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ جو اشعار ہیں ان میں موانعِ صرف ذکر ہو رہے ہیں، یعنی وہ چیزیں جو صرف کے لیے مانع ہیں، یعنی منصرِف ہونے کے لیے مانع بن جاتی ہیں، کلمہ منصرِف نہیں رہتا بلکہ کیا بن جاتا ہے؟ غیرِ منصرِف۔ تو یہ موانعِ صرف کا بیان ہو رہا ہے ان اشعار کے اندر، تو گویا یہ نون جو ہے معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے۔ گویا عبارت یوں ہے: وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ، نون جو ہے وہ روک دیتا ہے الصَّرْفَ، منصرِف ہونے کو۔ صرف کو روک دیتا ہے یعنی، تو یہ معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے، لفظوں کے اعتبار سے تو فاعل نہیں لیکن معنیٰ کے اعتبار سے فاعل ہے۔ کس طرح عبارت بن گئی؟ وَتَمْنَعُ النُّونُ، اور الصَّرْفَ مفعول بہ بھی نکال لو، نون منع کرتا ہے، کس چیز کو منع کرتا ہے؟ صرف کو، تو دیکھو نون فاعل ہے معنیٰ کے اعتبار سے اور جب یہ فاعل ہے تو فاعل سے تو حال آ سکتا ہے۔ تو زَائِدَةً اس سے کیا بن گیا؟ حال بن گیا۔ اب ترکیب سنو: اَنُّونُ، یہ مرفوع لفظاً، یہ ہے ذوالحال بھئی۔ اور زَائِدَةً، زَائِدَةً منصوب لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل۔ آپ کو میں نے بتایا تھا جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے، صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ اور صفت کے صیغے اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ بنتے ہیں۔ اور جیسے جملے کو کسی چیز سے جوڑنے کے لیے ربط چاہیے، شبہ جملہ کو بھی جوڑنے کے لیے ربط چاہیے۔ تو زَائِدَةً منصوب لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ هِيَ ضمیر میں نے کیوں نکالی، هُوَ کیوں نہیں نکالی؟ کیونکہ مؤنث کا صیغہ ہے: زَائِدَةً، جب یہ مؤنث کا صیغہ ہے تو مؤنث ضمیر نکالیں گے۔ تو اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور اس ضمیر کا اعراب کیا؟ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں؟ کیونکہ وہ اس زائدہ کے لیے فاعل ہے اور فاعل مرفوع ہوتا ہے، اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ مبنی ہے، ضمیر ہے، مبنی کا اعراب محلاً ہوتا ہے۔ تو زَائِدَةً منصوب لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو، کس کو راجع؟ ذوالحال یہ جو نون آیا، تو اس سے ربط آ گیا۔ اور آپ یہ نہ کہیں نون کا لفظ تو مذکر ہے، بھئی یاد رکھو، یہ جو حروف ہیں نا حروف، یہ عربی میں مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں اور مؤنث بھی استعمال ہوتے ہیں، اور زیادہ تر مؤنث ہی استعمال ہوتے ہیں۔ تو نون بھی ایک حرف ہے، جب یہ حرف ہے تو یہ مؤنث زیادہ استعمال ہوتا ہے، تو اس لیے هِيَ ضمیر اس کی طرف راجع کی۔ تو زَائِدَةً منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ نون کو راجع، اور اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال۔ شبہ جملہ ہو کر حال کس کے لیے؟ نون کے لیے، اور یہ حال بن سکتا ہے کیونکہ ہم نے ربط بھی دے دیا بھئی۔ شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے بھی کیا چاہیے؟ ربط، تو یہ حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذوالحال سے، اسی لیے ضمیر ہم نے ذوالحال کی طرف راجع کی۔ آگے دیکھیے: مِنْ قَبْلِهَا۔ مِنْ جارّہ، قَبْلِ مجرور لفظاً مضاف۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ حرفِ جر داخل ہے، اور مضاف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے هَا ضمیر کی طرف؟ ہاں، کسی اسم کے ساتھ بھی جب ضمیرِ متصل آ جائے تو وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ تو قَبْلِ مجرور لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، اور محلاً کیوں؟ مبنی ہے ضمیر ہے، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور مِنْ کے لیے، جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوا ثَابِتَةً سے۔ ثَابِتَةً سے، بلکہ ثَابِتَةً سے اس کو متعلق کر لو ثَابِتَةً سے۔ جیسے پیچھے زَائِدَةً تھا، وہ حال بن رہا تھا نون سے، اسی طرح یہاں ثَابِتَةً ہم منصوب نکال لیتے ہیں، اس کو بھی ہم حال بنائیں گے کس سے؟ اسی نون سے۔ زَائِدَةً کو حال بنایا تھا کس سے؟ نون سے، تو ثَابِتَةً نکال کر اس کو بھی کیا کر لیں گے؟ حال بنا لیں گے نون سے۔ جی، تو مِنْ قَبْلِهَا جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَةً سے، ثَابِتَةً منصوب لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، منصوب کیوں؟ کیونکہ حال ہے اور حال منصوب ہوتا ہے، اور صیغہ اسمِ فاعل، اور اس کے اندر... جی؟ ہاں، اس کے اندر هِيَ ضمیر نہ نکالو، یہ جو آگے أَلِفٌ آ رہا ہے، اسی کو اس کا فاعل بنا دو۔ کیا بنا دو؟ فاعل۔ اچھا، جب الف کو فاعل بنا رہے ہو تو ثَابِتَةً نکالنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، ثَابِتًا بھی نکال سکتے ہو۔ کیا نکال سکتے ہو؟ ثَابِتًا بلکہ نکالو، ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل، منصوب لفظاً، اور آگے جو أَلِفٌ آ رہا تھا، وہ اس کے لیے فاعل ہے، تو یہ أَلِفٌ کو رفع کس نے دیا؟ ثَابِتًا نے دیا، توجہ ہے؟ تو ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل، یہ اپنے فاعل کون ہے اس کا فاعل؟ أَلِفٌ، اور اپنے متعلق جو مِنْ قَبْلِهَا ہے، ان سے مل کر شبہ جملہ ہو کر نون سے حال۔ نہیں بھئی، حال نہیں بن سکتا، شبہ جملہ کو بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو تو کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، ہم نے ربط نہیں دیا، ربط بتاؤ: مِنْ قَبْلِهَا، اس یہ هَا ضمیر نون کو راجع ہے کہ اس نون سے پہلے الف ہو۔ اس نون سے... تو یہ هَا ضمیر راجع ہے، یہ نون کی طرف بھئی۔ اور میں نے بتایا کہ نون حرف ہے اور حرف عربی میں زیادہ تر مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ تو اس لیے مؤنث کی ضمیر راجع کی۔ تو عبارت کیا بن گئی؟ وَالنُّونُ زَائِدَةً ثَابِتًا مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، اور نون، اس حال میں کہ زائد ہو اور اس حال میں کہ ثابت ہو اس نون سے پہلے الف۔ اس نون سے پہلے الف ثابت ہو، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ الف کو فاعل بنایا کس کے لیے؟ ثَابِتًا کے لیے۔ توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی ترکیب کے اندر، ترکیب کے اندر کہ یہ جو ثَابِتًا ہم نکالتے ہیں، یہ طلباء کو سمجھانے کے لیے نکالتے ہیں، یہاں کوئی ثَابِتًا نہیں، ثَابِتًا جا چکا اور اس کی جگہ مِنْ قَبْلِهَا نے پکڑ لی ہے بھئی۔ مِنْ قَبْلِهَا نے کیا کیا ہے؟ اس کی جگہ پکڑ لی ہے، اور جو جو عمل ثَابِتًا کر رہا تھا، اب یہ ظرف کرے گا یعنی یہ جار مجرور۔ جار مجرور کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں، اور جار مجرور کا متعلق اگر عبارت میں ذکر ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ لغو، اور اگر ان کا متعلق عبارت میں محذوف ہو تو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر۔ تو اس کو ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ تو ثَابِتًا جا چکا ہے، مِنْ قَبْلِهَا نے اس کی جگہ پکڑ لی، یہ ظرفِ مستقر ہے، اور اب یہ وہ سارے عمل کرے گا جو ثَابِتًا کر رہا تھا۔ ثَابِتًا کیا عمل کر رہا تھا؟ الف کو فاعل کو رفع دے رہا تھا، اب یہ أَلِفٌ کو رفع یہ ظرف دے گا۔ مِنْ قَبْلِهَا کیا کرے گا؟ الف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب سنو ترکیب سنو بھئی، اب کوئی ثَابِتًا نکالنے کی ضرورت نہیں، ترکیب سنو: مِنْ قَبْلِهَا، یہ جار مجرور مل کر ظرفِ مستقر ہوا، اور أَلِفٌ اس کے لیے فاعل ہو گیا۔ اور اس کے اندر هَا ضمیر جو تھی وہ کس کو راجع تھی؟ نون کو، اس سے ربط آ گیا، تو یہ ظرفِ مستقر اپنے فاعل سے مل کر یہ حال ہوا کس کے لیے؟ نون کے لیے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ ایک ترکیب، دوسری ترکیب۔ دوسری ترکیب: کہ یہ الف کو مِنْ قَبْلِهَا ظرف کے لیے فاعل نہ بناؤ۔ بلکہ مِنْ قَبْلِهَا، یہ جار مجرور ہے، اس کو بنا دو خبرِ مقدم، اور الف کو بنا دو مبتدائے مؤخر۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جار مجرور کبھی مبتدا نہیں بنتے، خبر تو بن سکتے ہیں مبتدا نہیں۔ تو مِنْ قَبْلِهَا، یہ جار مجرور ہے، اس کو کیا بنا دو؟ خبرِ مقدم، اور الف کو کیا بنا دو؟ مبتدائے مؤخر۔ پہلے الف مرفوع تھا کس وجہ سے؟ ظرف کا فاعل تھا اور فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ اب الف مرفوع ہے کس وجہ سے؟ مبتدا ہے اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ کہ پہلے مِنْ قَبْلِهَا ظرف تھا۔ وہ منصوب تھا محلاً کیونکہ حال بن رہا تھا اور حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اور اب مِنْ قَبْلِهَا کیا بن رہا ہے؟ خبر بن رہا ہے، تو اس وقت یہ مرفوع ہے محلاً، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب مِنْ قَبْلِهَا کو ہم خبر بنائیں گے اور الف کو مبتدا کس طرح دیکھو: مِنْ قَبْلِهَا، یہ جار مجرور مل کر متعلق ہو گئے کس سے؟ ثَابِتٌ سے، کس سے؟ ثَابِتٌ سے۔ ثَابِتٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ پہلے کیا نکالا تھا؟ ثَابِتً منصوب نکالا تھا کیونکہ حال تھا، اب کیا نکالا؟ ثَابِتٌ کیونکہ اب خبر بنا رہے ہیں، خبر مرفوع ہوتی ہے۔ تو مِنْ قَبْلِهَا جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ثَابِتٌ سے، ثَابِتٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، مرفوع کیوں؟ خبر ہے، اور اس کے اندر هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ جی؟ خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے جوڑتے ہیں، تو اس کے اندر هُوَ ضمیر جو کس کو راجع ہے؟ الف کو راجع ہے، اور آپ چاہیں تو ثَابِتَةٌ مؤنث نکال لیں۔ کیونکہ الف حرف ہے اور حرف عربی میں مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں اور مؤنث بھی، تو دونوں میں سے جو بھی صیغہ جو بھی ضمیر آپ لے آئیں۔ اچھا، تو ثَابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل جو هُوَ ہے اور متعلق جو مِنْ قَبْلِهَا ہے، ان سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ اور أَلِفٌ مرفوع ہے، یہ ہے مبتدا، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر یہ حال ہے اَنُّونُ سے۔ پہلے وہ ظرف حال تھا۔ اب پورا جملہ حال ہے، تو یہ پورا جملہ محلاً منصوب ہے کیونکہ جملہ مبنی ہوتا ہے بھئی۔ تو پورا جملہ محلاً منصوب ہے اور جملے کو بھی جب کسی چیز سے جوڑنا ہو تو درمیان میں کیا ضروری؟ ربط ضروری، اور ربط ہم دے چکے: مِنْ قَبْلِهَا کی هَا ضمیر کس کو راجع ہے؟ نون، تو گویا نون سے دو حال آ گئے۔ ایک کیا؟ زَائِدَةً، یہ حالِ مفرد آیا، اور ایک مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، یہ پورا جملہ بھی حال ہے۔ ترجمہ وہی ہو گا۔ اور نون، اس حال میں کہ وہ زائد ہو، اور اس حال میں کہ اس نون سے پہلے الف ہو۔ توجہ ہے؟ تو ایک ترکیب یہ ہو گئی: زَائِدَةً حالِ مفرد، اور مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، یہ پورا جملہ بھی حال، دونوں حال بن گئے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک ترکیب ہم نے اس سے پہلے کیا کی؟ زَائِدَةً یہ بھی حالِ مفرد، اور دوسرا کیا تھا؟ مِنْ قَبْلِهَا اس ظرف کو ہم نے حال بنایا تھا۔ مِنْ قَبْلِهَا ظرفِ مستقر تھا اور الف اس کے لیے فاعل تھا، تو اس صورت میں بھی یہ حال تھا، تو اس صورت میں بھی یہ حالِ مفرد ہے یعنی جملہ نہیں ہے، جملہ نہیں۔ تو اَنُّونُ ذوالحال، زَائِدَةً یہ پہلا حال، اور مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، اس کو جملہ نہ بناؤ ظرف بناؤ، یہ کیا ہے؟ حالِ ثانی، یا دوسری صورت اس کو جملہ بناؤ اور یہ بھی حال، دو حال ہو گئے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ دونوں حال آ رہے ہیں نون سے، تو اس کو کہتے ہیں احوالِ مترادفہ۔ ایک ہی ذوالحال سے کئی حال آ جائیں تو ان کو احوالِ مترادفہ کہتے ہیں۔ مترادف کا معنیٰ ہے ایک دوسرے جیسے ہیں، یہ سب ایک دوسرے جیسے ہیں یعنی ایک ہی ذوالحال سے حال واقع ہو رہے ہیں۔ ایک ہی ذوالحال سے حال واقع ہو رہے ہیں، اور ایک ہوتے ہیں احوالِ متداخلہ۔ احوالِ متداخلہ اسے کہتے ہیں کہ پہلے ذوالحال آتا ہے، پھر اس سے آگے حال آتا ہے اور اس حال کے اندر ایک ضمیر ہوتی ہے، اس سے آگے پھر حال آتا ہے۔ تو ذوالحال سے کیا آیا؟ حال، اور پھر حال سے آگے کیا آ گیا؟ حال آ گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ احوالِ متداخلہ، یہ ایک دوسرے کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔ ذوالحال سے حال آیا اور پھر اس حال سے آگے کیا آ گیا؟ پھر حال آ گیا، تو یہ ایک دوسرے میں داخل ہو گئے۔ تو یہ احوالِ متداخلہ بھی بنا سکتے ہو اور احوالِ مترادفہ بھی بنا سکتے ہو۔ احوالِ مترادفہ تو ہم نے بنا لیا۔ نون کو ذوالحال بنایا اور باقی دونوں کو حال۔ احوالِ متداخلہ کیسے بنیں گے؟ دیکھو، زَائِدَةً کے اندر هِيَ ضمیر تھی، اس کو بنا دو ذوالحال، اور آگے مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ اس سارے کو حال۔ اس زَائِدَةً کے اندر کون سی ضمیر تھی؟ هِيَ ضمیر تھی، کس کو راجع تھی؟ نون کو راجع تھی، تو معنیٰ ابھی بھی اسی طرح رہے گا، معنیٰ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ چاہے نون سے حال بناؤ یا نون کی ضمیر سے حال بناؤ، بات تو ایک ہی ہے۔ لیکن نام ان کا بدل جائے گا، اب احوالِ متداخلہ کہلائیں گے۔ تو کس طرح؟ زَائِدَةً حال، اور اس کے اندر هِيَ ضمیر جو کس کو راجع ہے؟ نون کو راجع ہے، وہ پھر ذوالحال، اور آگے مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ یہ اس سے کیا بنے گا؟ حال بنے گا، اور اس میں حال بننے کی وہی دو صورتیں تھیں: یا تو ظرف بنا دو اور الف کو اس کے لیے فاعل بنا دو، یا اس کو پورا جملہ بنا دو اور حال بنا دو۔ ہاں، یہ فرق پڑ گیا کہ پہلے مِنْ قَبْلِهَا کی هَا ضمیر کس کو راجع تھی؟ نون کو، کیونکہ نون ذوالحال تھا۔ اب ذوالحال کون ہے؟ زَائِدَةً کے اندر هِيَ ضمیر ہے، اب مِنْ قَبْلِهَا کی هَا ضمیر اس کو راجع کریں گے۔ اور وہ بھی مؤنث، اور یہ ضمیر بھی مؤنث، دیکھو ضمیر مرجع میں مطابقت ہے۔ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: فَقَوْلُهُ زَائِدَةً مَنْصُوبٌ عَلَى أَنَّهُ حَالٌ، اور مصنف کا قول زَائِدَةً یہ منصوب ہے بناء بر اس کے کہ یہ حال ہے۔ بھئی یہ حال ہے، اور حال تو صرف کس کی حالت بیان کرتا ہے؟ فاعل یا مفعول کی، اور نون تو فاعل نہیں، تو وہ آپ کو صاحبِ جامی بتائیں گے کہ معنیٰ کے اعتبار سے نون فاعل ہے، کس طرح؟ وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ، کہ نون مانعِ صرف ہے۔ تو کہتے ہیں: إِذِ الْمَعْنَى، کیونکہ معنیٰ یہ ہے: وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ حَالَ كَوْنِهَا زَائِدَةً، اور نون جو ہے یہ منع کرتا ہے، روکتا ہے صرف کو، یعنی منصرِف ہونے کو حَالَ كَوْنِهَا زَائِدَةً اس حال میں کہ وہ زائد ہوتا ہے۔ دیکھو نون کو فاعل بھی بنا دیا اور زَائِدَةً کے بارے میں بتلا دیا حَالَ كَوْنِهَا زَائِدَةً کہ یہ زَائِدَةً کیا واقع ہو رہا ہے؟ اس فاعل سے حال ہے۔ تو کہتے ہیں: وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ حَالَ كَوْنِهَا زَائِدَةً، اور نون جو ہے یہ صرف کو روکتا ہے اس حال میں کہ یہ زائدہ ہو۔ وَقَوْلُهُ أَلِفٌ، الف کے بارے میں ہم نے کیا پڑھا تھا؟ دو ترکیبیں تھیں: یا تو اس کو ظرف کا فاعل بناؤ، یا اس کو مبتدائے مؤخر بناؤ، وہی بیان کر رہے ہیں: وَقَوْلُهُ أَلِفٌ، اور ماتن کا قول الف فَاعِلُ الظَّرْفِ، یہ ظرف کا فاعل ہے أَعْنِي مِنْ قَبْلِهَا، یعنی کہ مِنْ قَبْلِهَا۔ یہ جو مِنْ قَبْلِهَا کا ظرف ہے، اس کا فاعل ہے أَوْ مُبْتَدَأٌ، یا یہ مبتدا ہے خَبَرُهُ الظَّرْفُ الْمُتَقَدِّمُ، اور اس کی خبر وہ ظرف ہے جو اس سے مقدم ہے، جو اس سے پہلے آئی ہے یعنی مِنْ قَبْلِهَا۔ وَلَا يَخْفَى، اب دیکھو پہلے معنیٰ سمجھ لو ذرا اوپر پھر متن پر آ جاؤ: وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ۔ اور نون، اس حال میں کہ وہ نون زائد ہو، توجہ سے سنو، اور اس حال میں کہ اس نون سے پہلے الف ہو۔ کس کے زائد ہونے کا پتہ چلا؟ نون کے، نون اس حال میں کہ وہ نون کیا ہو؟ زائد ہو، اور اس حال میں کہ اس نون سے پہلے کیا ہو؟ الف ہو، بھئی الف کے زائد ہونے کا تو پتہ نہیں چلا۔ صرف اتنا کہا: یہ نون زائد ہے اور اس نون سے پہلے کیا ہے؟ الف ہے، زائد تو صرف نون ہے۔ زَائِدَةً کس سے حال ہے؟ نون سے، نون اس حال میں کہ وہ زائد ہے، معلوم ہوا یہ نون زائد ہے۔ اور اس نون سے پہلے کیا ہے؟ الف ہے، یہ تو بتا دیا کہ نون سے پہلے الف ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ الف بھی زائد ہے، حالانکہ وہ الف بھی زائد ہے، یہ بھی بتانا چاہیے یا نہیں؟ دونوں زائد ہوتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ الف نون زائدتان، یا صرف کہتے ہیں نون زائدہ کہتے ہیں؟ الف نون زائدتان، دونوں کو زائد کہتے ہیں نحوی حضرات، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں عبارت سے نون کا زائد ہونا تو سمجھ میں آ رہا ہے، لیکن الف کا زائد ہونا سمجھ میں نہیں آ رہا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَخْفَى، اور یہ بات مخفی نہیں ہے، یہ بات پوشیدہ نہیں ہے أَنَّهُ لَا يُفْهَمُ مِنْ هَذَا التَّوْجِيهِ کہ مفہوم نہیں ہوتا اس توجیہ سے، یہ جو توجیہ کی گئی، یہ جو ترکیب وغیرہ کی گئی اس سے سمجھ میں نہیں آتا زِيَادَةُ الْأَلِفِ، الف کا زائد ہونا۔ اس توجیہ سے الف کا زائد ہونا سمجھ میں نہیں آتا مَعَ أَنَّهَا أَيْضًا زَائِدَةٌ، بوجود اس کے کہ وہ بھی زائد ہے۔ حالانکہ وہ بھی زائد ہے وَلِهَذَا يُعَبَّرُ عَنْهُمَا بِالْأَلِفِ وَالنُّونِ الزَّائِدَتَيْنِ، اسی لیے ان دونوں کو تعبیر کیا جاتا ہے الف نون زائدتین کے ساتھ، دیکھو دونوں کو زائدتین کہتے ہیں۔ تو دونوں کو تعبیر زائدتین کے ساتھ کیا جاتا ہے، تو معلوم ہوا دونوں زائد ہیں، جب دونوں زائد ہیں تو شعر سے بھی پتہ چلنا چاہیے کہ دونوں زائد ہیں، حالانکہ شعر سے صرف کیا سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ نون زائد ہے۔ ذرا ترجمہ پھر دیکھ لو: وَلَا يَخْفَى أَنَّهُ لَا يُفْهَمُ مِنْ هَذَا التَّوْجِيهِ زِيَادَةُ الْأَلِفِ، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اس توجیہ سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ الف زائد ہے مَعَ أَنَّهَا أَيْضًا زَائِدَةٌ، باوجود اس کے کہ الف بھی زائد ہے وَلِهَذَا، اور اسی وجہ سے کہ یہ الف بھی زائد ہے يُعَبَّرُ عَنْهُمَا، ان دونوں کو تعبیر کیا جاتا ہے بِالْأَلِفِ وَالنُّونِ الزَّائِدَتَيْنِ، الف اور نون زائدتین کے ساتھ کہ یہ دونوں زائد ہیں۔ وَلَوْ جُعِلَ، اب اور ترکیب بتائیں گے صاحبِ جامی۔ صاحبِ جامی۔ دیکھو، وہ دوسری ترکیب ذرا پہلے متن پہ آؤ، آپ اس کو حل کر لیں۔ وَالنُّونُ زَائِدَةً، اب یوں کریں کہ زَائِدَةً کو حال بنایا ہے نون سے، توجہ ہے؟ توجہ ہے؟ اور زَائِدَةً کے اندر هِيَ ضمیر نکالی تھی، نہیں، اب هِيَ ضمیر نہ نکالو، اب آگے الف کو اسی زائدہ کے لیے فاعل بنا دو۔ اسی الف کو زائدہ کے لیے فاعل بنا دو، توجہ ہے؟ اور مِنْ قَبْلِهَا کو کس سے جوڑا تھا؟ ثَابِتٌ یا ثَابِتًا سے جوڑا تھا، یعنی یہ ظرفِ مستقر تھا۔ ظرفِ مستقر تھا یعنی اس کا عامل محذوف تھا۔ اب یوں کرو اس کو ظرفِ لغو بناؤ، اس کو زائدہ سے ہی جوڑ دو۔ ثَابِتًا کے بجائے زَائِدَةً لفظوں میں موجود ہے، اسی کے ساتھ اس کو جوڑ دو۔ زائد ہو مِنْ قَبْلِهَا، نون سے پہلے۔ نون سے پہلے زائد ہو، الف، کیا زائد ہو؟ الف۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے، کیا ترکیب کرو: زَائِدَةً حال ہے کس سے؟ نون سے۔ لیکن اس زَائِدَةً کے لیے آگے الف کو فاعل بنا دو، اب زَائِدَةً میں ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں، اور مِنْ قَبْلِهَا کو پہلے ظرفِ مستقر بنایا تھا، ظرفِ مستقر نہ بناؤ، اس کو اسی زَائِدَةً سے جوڑ دو، جار مجرور آٹھ چیزوں سے جڑتے ہیں، کون کون سی آٹھ چیزیں ہیں؟ فعل ہے، مصدر ہے، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل، مبالغے کے صیغے اور اسمِ فعل۔ تو دیکھو اس کے اندر اسمِ فاعل بھی ہے، اور زَائِدَةً بھی کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ فاعل، تو یہ مِنْ قَبْلِهَا کو اسی زائدہ سے جوڑ دو، اور اس کی هَا ضمیر کس کو راجع؟ نون کو راجع ہے، اس نے ربط دے دیا۔ اب تو زائدہ میں کوئی ضمیر نہیں ہے ربط دینے کے لیے کیونکہ الف اس کا فاعل بن گیا، تو یہ جو مِنْ قَبْلِهَا میں هَا ضمیر ہے، یہ کس کو راجع کرو؟ نون کو، اب ربط آ گیا۔ وَالنُّونُ زَائِدَةً صَابِتًا مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، اور نون اس حال میں کہ زائد ہو اس نون سے پہلے الف۔ اور نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ توجہ ہے؟ اچھا، اب اس عبارت میں ذرا غور کرو۔ اس عبارت سے کس کا زائد ہونا سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور نون، اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ جی، کس کا زائد ہونا سمجھ میں آ رہا ہے؟ الف کا زائد ہونا سمجھ میں آ رہا ہے، نون کا زائد ہونا تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ تو آپ کو شارحِ جامی بتائیں گے کہ اس میں نون کا زائد ہونا بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ نون کا زائد ہونا بھی سمجھ میں آ جاتا ہے، کس طرح؟ صاحبِ جامی کی ذرا تقریر سنو، دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: وَلَوْ جُعِلَ الْأَلِفُ فَاعِلًا لِقَوْلِهِ زَائِدَةً، اور اگر الف کو فاعل بنا دیا جائے ماتن کے قول زَائِدَةً کے لیے، وَالظَّرْفُ مُتَعَلِّقًا بِالزِّيَادَةِ، اور یہ جو ظرف ہے اس کو زیادت کے ساتھ متعلق کر دیا جائے۔ زَائِدَةً کے ساتھ اس کو متعلق کر دیا جائے، وَأُرِيدَ بِزِيَادَةِ الْأَلِفِ قَبْلَ النُّونِ، اور ارادہ کیا جائے الف کی نون سے قبل زیادت سے۔ کیا بات سمجھ میں آ رہی تھی متن سے؟ وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، ترجمہ کرو ذرا: اور نون اس حال میں کہ نون سے پہلے الف زائد ہو۔ یہ جو لفظ ہیں کہ نون سے پہلے الف زائد ہو، اس میں صرف الف کی زیادتی کا ارادہ نہ کیا جائے بلکہ نون کی زیادتی کا بھی ارادہ کر لیا جائے۔ دونوں کا ارادہ کر لیا جائے۔ اور نون، اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ یعنی اس زائد ہونے میں دونوں کے اشتراک کا ارادہ کر لیا جائے کہ زائد ہونے میں نون اور الف دونوں شریک ہیں، البتہ زائد ہونے کے اندر الف نون سے پہلے آیا ہے۔ الف نون سے زائد ہونے میں دونوں شریک ہیں، البتہ الف اس اس وصف میں اس پر مقدم ہے، پہلے الف زائد ہے اور پھر نون زائد ہے، توجہ ہے؟ بظاہر کیا مفہوم ہوتا ہے؟ زائد صرف کون ہے؟ الف، لیکن صاحبِ جامی فرماتے ہیں کہ اس سے نون کا زائد ہونا بھی مفہوم ہو جاتا ہے اگر یہ ارادہ کر لیا جائے کہ یہ جو زائد ہونا بیان کیا جا رہا ہے، کس کا زائد ہونا؟ الف کا، یہ صرف الف کا زائد ہونا بیان نہیں ہو رہا بلکہ دونوں کا ارادہ کر لیا جائے اور نون اس حال میں کہ زیادہ ہو اس سے پہلے الف۔ یعنی زیادہ ہونے میں دونوں کے اشتراک کا ارادہ کر لیا جائے کہ زائد ہونے میں نون اور الف دونوں شریک ہیں، البتہ زائد ہونے کے اندر الف نون سے پہلے آیا ہے۔ یعنی اس وصف میں اس پر مقدم ہے، پہلے الف زائد ہے اور پھر نون زائد ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: وَلَوْ جُعِلَ الْأَلِفُ فَاعِلًا لِقَوْلِهِ زَائِدَةً، اور اگر الف کو فاعل بنا دیا جائے ماتن کے قول زَائِدَةً کے لیے، وَالظَّرْفُ مُتَعَلِّقًا بِالزِّيَادَةِ، اور یہ جو ظرف ہے اس کو زیادت کے ساتھ متعلق کر دیا جائے۔ زَائِدَةً کے ساتھ اس کو متعلق کر دیا جائے، وَأُرِيدَ بِزِيَادَةِ الْأَلِفِ قَبْلَ النُّونِ، اور ارادہ کیا جائے نون کے الف سے قبل زائد ہونے سے۔ کہ نون الف سے پہلے زائد ہے۔ تو نون کے الف سے قبل زائد ہونے کے ذریعے ارادہ کیا جائے: اِشْتِرَاكُهُمَا فِي وَصْفِ الزِّيَادَةِ، کہ دونوں شریک ہیں وصفِ زیادت میں۔ زائد ہونے میں دونوں شریک ہیں، وَتَقَدُّمُ الْأَلِفِ عَلَيْهَا فِي هَذَا الْوَصْفِ، اس کا عطف ہے اِشْتِرَاكُهُمَا سے۔ ارادہ کیا جائے کس کے ذریعے؟ ارادہ کیا جائے، وہ جو عبارت آئی تھی: زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، نون سے پہلے الف کے زائد ہونا۔ نون سے پہلے الف کے زائد ہونے سے یہ ارادہ کیا جائے کہ یہ دونوں وصفِ زیادت میں شریک ہیں، یعنی جیسے الف زائد ہے اسی طرح نون بھی زائد ہے، اس کا ارادہ کیا جائے، وَتَقَدُّمُ الْأَلِفِ عَلَيْهَا فِي هَذَا الْوَصْفِ، اور یہ ارادہ کیا جائے کہ الف اس پر اس وصف میں مقدم ہے، یعنی زائد ہونے میں۔ دونوں شریک ہیں، لیکن الف اس پر اس وصف میں مقدم ہے۔ تو فُهِمَ زِيَادَتُهُمَا جَمِيعًا، تو دونوں کی زیادتی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اگر یہ ارادہ کر لیا جائے۔ کیا ارادہ کیا کس سے؟ کون سی عبارت سے؟ الف کا نون سے پہلے زائد ہونے سے یہ ارادہ کر لیا جائے کہ یہ دونوں اس زائد ہونے میں شریک ہیں، البتہ الف اس پر زائد ہونے میں مقدم ہے۔ تو جب یہ ارادہ کر لیا جائے گا، تو فُهِمَ زِيَادَتُهُمَا جَمِيعًا، تو ان دونوں کی زیادتی سمجھ میں آ جائے گی، جمعاً دونوں کی اکٹھی بھئی۔ تو اس صورت میں دونوں کی زائد ہونا اکٹھا سمجھ میں آ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ بس وہ جو دوسرا جملہ جو صاحبِ جامی ذکر کریں گے: جَاءَ زَيْدٌ رَاكِبًا مِنْ قَبْلِهِ أَخُوهُ، آیا زید اس حال میں کہ اس سے پہلے اس کا بھئی سوار تھا۔ معلوم ہوا زید بھی سوار ہے، بھئی بھی سوار ہے، لیکن بھئی سوار ہونے میں اس پر مقدم ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ نون سے پہلے الف زائد ہے۔ معلوم ہوا یہ بھی زائد ہے، لیکن الف اس سے پہلے زائد ہونے میں مقدم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا كَمَا إِذَا قُلْتَ، اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہ آپ کہیں: جَاءَ زَيْدٌ رَاكِبًا مِنْ قَبْلِهِ أَخُوهُ، آیا زید اس حال میں کہ اس سے پہلے اس کا بھئی سوار تھا، فَإِنَّهُ يَدُلُّ عَلَى اشْتِرَاكِهِمَا فِي وَصْفِ الرُّكُوبِ، اس لیے کیونکہ یہ مثال جو ہے یہ دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں شریک ہیں وصفِ رکوب میں، وَتَقَدُّمِ أَخِيهِ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْوَصْفِ، اور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا بھئی اس پر مقدم ہے اس وصف میں۔ فَإِنَّهُ يَدُلُّ عَلَى اشْتِرَاكِهِمَا، اِشْتِرَاكِهِمَا پر عطف ہے وَتَقَدُّمِ أَخِيهِ، یہ کلام دلالت کرتا ہے کس چیز پر؟ دو چیزوں پر۔ ایک کیا؟ عَلَى اشْتِرَاكِهِمَا فِي وَصْفِ الرُّكُوبِ، ایک تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ دونوں شریک ہیں وصفِ رکوب میں، اور ایک اس بات پر دلالت کرتا ہے وَتَقَدُّمِ أَخِيهِ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْوَصْفِ، اور اس کا بھئی اس پر مقدم ہے اس وصف میں، دو چیزیں اس سے سمجھ میں آ رہی ہیں۔ کہ دونوں سواری کے وصف میں شریک ہیں اور بھئی اس وصف میں اس پر مقدم ہے۔ یہ معنیٰ ہے: فَإِنَّهُ يَدُلُّ عَلَى اشْتِرَاكِهِمَا فِي وَصْفِ الرُّكُوبِ وَتَقَدُّمِ أَخِيهِ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْوَصْفِ، کیونکہ یہ مثال جو ہے یہ دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں شریک ہیں وصفِ رکوب میں اور اس کے بھئی کے مقدم ہونے پر اس کے اوپر اس وصف میں۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 22 of 50