Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 42
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LEC s54 وَقَوْلُهُ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ یعنی أَنَّ ذِكْرَ الْعِلَلِ بِصُورَةِ النَّظْمِ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى الْحِفْظِ لِأَنَّ حِفْظَ النَّظْمِ أَسْهَلُ أَوْ الْقَوْلُ بِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْأُمُورِ التِّسْعَةِ عِلَّةٌ قَوْلٌ تَقْرِيبِيٌّ لَا تَحْقِيقِيٌّ إِذِ الْعِلَّةُ فِي الْحَقِيقَةِ اثْنَانِ مِنْهَا لَا وَاحِدٌ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے ترکیب حل کی تھی: وَالنُّونُ زَائِدَةً مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ نون جو ہے، یہ ذوالحال ہے اور زَائِدَةً اس سے حال ہے۔ اس پر اشکال ہوا کہ وَالنُّونُ، نون تو خبر بن رہا ہے عطف کے ذریعے اور صاحبِ قافیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ حال جو ہے وہ فاعل یا مفعول کی حالت بیان کرتا ہے، کسی اور چیز کی حالت بیان نہیں کرتا۔ تو یہ نون، یہ تو خبر ہے، اس سے تو زَائِدَةً حال آ ہی نہیں سکتا۔ تو جواب دے دیا تھا صاحبِ جامی نے کہ نون جو ہے لفظوں کے اعتبار سے بےشک خبر بن رہا ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ فاعل ہے بھئی، یعنی یہ فاعل کے درجے میں ہے۔ کیونکہ یہاں موانعِ صرف ذکر ہو رہے ہیں بھئی، اور موانعِ صرف میں سے ایک کیا ہے؟ نون بھی ہے۔ معلوم ہوا کہ نون بھی منع کرتا ہے صرف کو، أَيْ تَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ، نون منع کرتا ہے صرف کو، نون مانعِ صرف ہے، تو دیکھو یہ فاعل بن گیا معنیٰ کے اعتبار سے تَمْنَعُ فعل کے لیے بھئی۔ تو وَتَمْنَعُ النُّونُ الصَّرْفَ، نون صرف کو منع کرتا ہے، تو معنیٰ کے اعتبار سے یہ فاعل ہے، اور جب یہ فاعل ہے تو اس سے حال کا آنا صحیح ہے۔ تو زَائِدَةً یہ حال ہے، اور اس کے اندر هِيَ ضمیر جو ذوالحال یعنی نون کو راجع ہے۔ اور حروف میں نے بتایا مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں عربی میں اور مؤنث بھی، لیکن زیادہ تر مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ تو یہ ایک حال ہوا نون سے۔ آگے مِنْ قَبْلِهَا، یہ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتًا سے۔ یہ دوسرا حال، ثَابِتًا منصوب نکالا کیونکہ یہ بھی حال بنے گا۔ تو ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل اور مِنْ قَبْلِهَا اس ثَابِتًا سے متعلق ہوا، اور أَلِفٌ اس ثَابِتًا کے لیے فاعل بنا دو۔ ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ تو ثَابِتًا مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، یہ أَلِفٌ کیا بنا ثَابِتًا کے لیے؟ فاعل، اور مِنْ قَبْلِهَا یہ متعلق ہے ثَابِتًا سے، اور اس کو حال بنانا ہے کس سے؟ نون سے، تو ذوالحال سے ربط بھی ضروری ہے کیونکہ یہ شبہ جملہ بنے گا، اور جس طرح جملے کے لیے ربط ضروری، اسی طرح شبہ جملہ کے لیے بھی ربط ضروری۔ تو یہ جو مِنْ قَبْلِهَا، یہ هَا ضمیر نون کو راجع ہے، مِنْ قَبْلِهَا أَيْ مِنْ قَبْلِ النُّونِ، نون سے پہلے۔ تو ثَابِتًا مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، یہ سارا جو ہے یہ حال بن جائے گا۔ لیکن میں نے بتایا تھا کہ ثَابِتًا، یہ تو طلباء کو سمجھانے کے لیے بتلایا جاتا ہے کہ مِنْ قَبْلِهَا کس سے متعلق ہے؟ ثَابِتًا۔ جیسے زَيْدٌ فِي الدَّارِ، زَيْدٌ مبتدا، فِي جارّہ، الدَّارِ مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ ثَابِتٌ، اور ثَابِتٌ مرفوع ہے کیونکہ یہ کیا بنے گا؟ خبر۔ اور اس کے اندر هُوَ ضمیر فاعل جو کس کو راجع ہے؟ مبتدا کو یعنی زید کو۔ تو ثَابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق یعنی فِي الدَّارِ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ لیکن یاد رکھو، یہ طلباء کو سمجھانے کے لیے بتلایا جاتا ہے کہ جار مجرور ثَابِتٌ سے متعلق ہے، حالانکہ حقیقت میں یہاں کوئی ثَابِتٌ نہیں، ثَابِتٌ جا چکا اور فِي الدَّارِ نے اس کی جگہ پکڑ لی۔ اور میں نے وجہ بھی ذکر کی تھی کہ اس کو ظرفِ مستقر کیوں کہتے ہیں۔ مستقر، یہ ظرف کا صیغہ ہے۔ یہ اسمِ مفعول کا صیغہ نہیں ہے بلکہ یہ ظرف کا صیغہ ہے۔ مستقر کا کیا معنیٰ ہوا؟ قرار پکڑنے کی جگہ۔ تو بھئی اس کو ظرفِ مستقر کیوں کہتے ہیں؟ وجہ یہ کہ وہ ثَابِتٌ چلا گیا اور اس کی جگہ یہ فِي الدَّارِ آ گیا، اور اب وہ جو جو عمل ثَابِتٌ کر رہا تھا، وہ سارے عمل فِي الدَّارِ کرے گا۔ اور وہ کیا کر رہا تھا عمل؟ وہ هُوَ ضمیر کو رفع دے رہا تھا جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی، تو ثَابِتٌ تو چلا گیا لیکن اس هُوَ ضمیر نے اس فِي الدَّارِ میں قرار پکڑ لیا۔ تو یہ فِي الدَّارِ اس ضمیر کے قرار پکڑنے کی جگہ ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر کہ اس کے اندر وہ ضمیر قرار پکڑ لیتی ہے، یہ اس کے قرار پکڑنے کی جگہ ہے۔ اب تو وہ سارا عمل فِي الدَّارِ کر رہا ہے، وہ ضمیر اس کے اندر چھپ گئی اور اس کو اب رفع کون دے رہا ہے؟ یہ ظرف، یہ فِي الدَّارِ رفع دے رہا ہے، اور یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ زید کو یعنی مبتدا کو راجع ہے۔ تو یہاں پر بھی، میں نے کیا بتلایا؟ وَالنُّونُ زَائِدَةً، وَالنُّونُ، نون ہے ذوالحال، زَائِدَةً یہ ہے حال نون سے، اور اسی طرح مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، یہ مِنْ قَبْلِهَا ظرفِ مستقر ہے اور أَلِفٌ اس کے لیے فاعل ہے۔ اور یہ ظرفِ مستقر یہ حالِ ثانی ہے اَنُّونُ سے۔ تو ایک ہی ذوالحال سے دو یا تین حال آ جائیں تو ان کو احوالِ مترادفہ کہتے ہیں کہ یعنی ایک ہی ذوالحال سے یہ آ رہے ہیں۔ مترادف کا معنیٰ ایک دوسرے جیسے ہیں، تو یہ بھی کیا ہیں؟ ایک دوسرے جیسے ہیں، ایک ہی ذوالحال سے کئی حال آ رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ زَائِدَةً یہ بھی حالِ مفرد ہے یعنی جملہ نہیں، اور مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ یہ بھی حالِ مفرد ہے یعنی جملہ نہیں۔ دوسری ترکیب یہ تھی کہ یہ مِنْ قَبْلِهَا کو بنا دو خبرِ مقدم، اور أَلِفٌ کو کیا بنا دو؟ مبتدائے مؤخر۔ توجہ ہے؟ اور مِنْ قَبْلِهَا کس سے متعلق؟ ثَابِتٌ سے، اب ثَابِتٌ مرفوع نکالا۔ پہلے منصوب نکالا تھا، پہلے منصوب کیوں تھا؟ کیونکہ حال تھا۔ اب مرفوع کیوں نکالا؟ کیونکہ اب یہ خبرِ مقدم ہے، اور الفٌ اس کے لیے کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر، اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ اور یہ ثَابِتٌ کے اندر هُوَ ضمیر اب کس کو لوٹائیں گے؟ مبتدا کو، کیونکہ یہ خبر ہے اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو ثَابِتٌ مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ، تو ثَابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر هُوَ ضمیر جو الف کو راجع ہے، مِنْ قَبْلِهَا جار مجرور اس سے متعلق ہو گئے، تو اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبرِ مقدم، اور أَلِفٌ مبتدائے مؤخر۔ اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر یہ پورا جملہ حال ہے۔ تو چاہے آپ اس کو ظرف بنا کر حال بنا دو، چاہے پورے جملہ اسمیہ بنا کر حال بنا دو، دونوں میں معنیٰ میں بھی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں حال واقع ہو رہے ہیں۔ چاہے ظرف بناؤ اور ظرف کو حال بناؤ، چاہے پورے جملے کو حال بناؤ۔ تو یہ احوالِ متداخلہ ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو: اَنُّونُ ہے ذوالحال، زَائِدَةً یہ حال اس یہ بھی حال نون سے، اور مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ یا تو اس کو ظرفِ مستقر بنا کر کیا کر دو؟ حال بنا دو، یا اس کو پورا جملہ بنا کر حال بنا دو اسی نون سے۔ یا دوسری ترکیب یہ ہے کہ زَائِدَةً جو حال ہے، اس کے اندر جو ضمیر ہے، هِيَ ضمیر جو کس کو راجع؟ نون کو، اس کو بنا دو ذوالحال۔ پہلا ذوالحال کون؟ نون، نون سے حال کیا آیا؟ زَائِدَةً، اور پھر اس زَائِدَةً کے اندر جو هِيَ ضمیر ہے اس کو دوبارہ ذوالحال بناؤ، اور آگے مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ اس کو ظرف یا جملہ بنا کر اس هِيَ ضمیر سے حال بنا دو۔ تو دیکھو اب یہ حال سے حال آ رہا ہے، تو ان کو کہتے ہیں احوالِ متداخلہ یعنی وہ حال جو ایک دوسرے کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب ترجمہ کیا ہو گا؟ وَالنُّونُ، اور نون جو ہے، زَائِدَةً اس حال میں کہ وہ زائد ہو، مِنْ قَبْلِهَا أَلِفٌ اور اس حال میں ہو نون کہ اس سے پہلے الف ہو۔ توجہ ہے؟ نون اس حال میں کہ زائد ہو، اور نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف ہو۔ اس سے تو صرف نون کا زائد ہونا معلوم ہو رہا ہے۔ الف کا زائد ہونا تو نہیں معلوم ہو رہا، الف کے بارے میں تو صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ نون سے پہلے کیا ہو؟ الف ہو۔ تو اس سے صرف نون کا زائد ہونا معلوم ہوا۔ صاحبِ جامی نے کہا تھا، یہاں ایک تیسری ترکیب کر لو تو پھر نون اور الف دونوں کا زائدہ ہونا معلوم ہو جائے گا۔ کس طرح؟ کہ یہ زائدہ کو حال بناؤ نون سے، اور زَائِدَةً کے اندر هِيَ ضمیر فاعل کی نہ نکالو، بلکہ آگے جو الف آ رہا ہے، اسی کو فاعل بنا دو زَائِدَةً کے لیے۔ اور مِنْ قَبْلِهَا جار مجرور کے لیے ثَابِتًا نہ نکالو، اس کو اسی زَائِدَةً سے جوڑ دو۔ تو یہ دونوں زَائِدَةً سے جڑ گئے، الف بھی اور مِنْ قَبْلِهَا بھی۔ مِنْ قَبْلِهَا یہ اب ظرفِ لغو بن گیا، کیا بن گیا؟ پہلے ظرفِ مستقر تھا اس کا عامل محذوف تھا، اب ظرفِ لغو بن گیا کیونکہ عامل ذکر ہے۔ تو مِنْ قَبْلِهَا بھی زَائِدَةً سے ذکر، اور الف بھی زَائِدَةً سے متعلق یعنی اس کے لیے فاعل بن گیا بھئی۔ اب کیا ترجمہ ہو گا؟ کہ اور نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ اور نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ کہتے ہیں اس سے الف کا زائد ہونا بھی معلوم ہو رہا ہے اور نون کا زائد ہونا بھی۔ کس طرح؟ ہمیں تو صرف الف کا زائد ہونا معلوم ہو رہا ہے۔ کس طرح؟ دیکھو پھر ترجمہ سنو: اور نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو۔ دیکھو الف کے زائد ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔ صاحبِ قافیہ کہتے ہیں نہیں، یہ اسی طرح کا کلام ہے جیسے عرب کہتے ہیں: جَاءَ زَيْدٌ رَاكِبًا مِنْ قَبْلِهِ أَخُوهُ، آیا زید اس حال میں کہ اس سے پہلے اس کا بھئی سوار تھا۔ معلوم ہوا زید بھی سوار ہے، لیکن اس سے پہلے اس کا بھئی سوار ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ نون اس حال میں کہ اس سے پہلے الف زائد ہو، معلوم ہوا نون بھی زائد ہے لیکن اس سے پہلے الف زائد ہے۔ اب آئیے آج کے سبق پر بھئی: وَقَوْلُهُ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ يَعْنِي أَنَّ ذِكْرَ الْعِلَلِ بِصُورَةِ النَّظْمِ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى الْحِفْظِ لِأَنَّ حِفْظَ النَّظْمِ أَسْهَلُ اب ترکیب بیان کر رہے ہیں کہ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ، یہ تقریب مصدر ہے، تو اس کا کیا معنیٰ؟ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ، یہ والا قول قریب کرنا ہے، کیا مراد ہے؟ تو بتلا رہے ہیں، پہلی تو جی جو میں نے ذکر کر دی تھی کہ یہ تقریب کس معنیٰ میں ہے؟ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے معنیٰ میں کر لیں گے۔ یہاں یہ صاحبِ جامی جو ترکیب کر رہے ہیں تو یہ اسمِ فاعل کے معنیٰ میں لینا پڑے گا۔ سنو، کس طرح؟ ادھر دیکھیے: وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ، یہ والا قول تقریب ہے یعنی مقرب ہے۔ یہ والا قول، یہ والا قول قریب کرنے والا ہے کس کو؟ ان نو علتوں کو۔ یہ والا قول قریب کرنے والا ہے، کس کو قریب کر رہا ہے؟ ان نو علتوں کو قریب کر رہا ہے، کس چیز کے قریب کر رہا ہے؟ إِلَى الْحِفْظِ، یاد کرنے کے۔ یہ ان نو علتوں کو یاد کرنے کے قریب کرنے والا ہے کیونکہ شعر کی صورت میں ہے علتیں، تو یہ جلدی یاد ہو جائیں گی، جلدی حفظ ہو جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: وَقَوْلُهُ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ يَعْنِي أَنَّ ذِكْرَ الْعِلَلِ بِصُورَةِ النَّظْمِ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى الْحِفْظِ لِأَنَّ حِفْظَ النَّظْمِ أَسْهَلُ، اور ماتن کا قول جو آیا کہ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ، یعنی ان علتوں کو نظم کی صورت میں ذکر کرنا تَقْرِيبٌ لَهَا، یہ ان علتوں کو قریب کرنا ہے إِلَى الْحِفْظِ، حفظ کے لِأَنَّ حِفْظَ النَّظْمِ أَسْهَلُ، اس لیے کیونکہ نظم کو حفظ کرنا زیادہ آسان ہے، یعنی نثر کے مقابلے میں بھئی۔ تو یہ تقریب یہاں کس معنیٰ میں لے لیں گے؟ مُقَرِّبٌ۔ کہ یہ کلام یعنی یہ نظم، یہ مُقَرِّبٌ، یہ قریب کرنے والی ہے، کس کو قریب کرنے والی ہے؟ ان نو علتوں کو، دیکھو لَهَا آیا، قریب کرنے والی Laha ان نو علتوں کو إِلَى الْحِفْظِ، کس کے؟ حفظ کے۔ أَوْ الْقَوْلُ بِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ... دوسری توجیہ بیان کریں گے کہ یہ والا قول تقریب ہے، کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں معنیٰ یہ ہے، یہ والا قول تقریبی ہے، تحقیقی نہیں۔ تو گویا یہاں یائے نسبت جو ہے وہ محذوف ہے۔ لاہور سے لاہوریٌّ، یہ یائے مشدد ساتھ ملاتے ہیں نسبت کے لیے۔ لاہوریٌّ کیا معنیٰ؟ لاہور والا۔ تو یہ یائے نسبت کے لیے ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح، یہ جو تقریب ہے اس کے آخر میں یائے نسبت محذوف ہے، کہ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبِيٌّ۔ اور آپ کو میں بتلا چکا ہوں کہ یہ جس کے ساتھ یائے مشدد لگ جائے، یہ بھی صفت ہوتا ہے۔ لاہوریٌّ، لاہور والا، معلوم ہوا کوئی ذات یا کوئی چیز ہے جو اس کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے۔ بعض علماء اس کو اسمِ مفعول کی تاویل میں کر لیتے ہیں اور اس کو اسمِ منسوب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اسمِ منسوب۔ منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول والا، تو یہ اس کو مفعول کی تاویل میں کر لیتے ہیں اور مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے۔ مضروبٌ کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، اور ضاربٌ کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ تو لہٰذا وہ کہتے ہیں یہ اسمِ منسوب ہے اور اس کے اندر پھر جو ضمیر نکالتے ہیں وہ نائب الفاعل بناتے ہیں۔ لاہور تو جگہ کا نام، لیکن لاہوریٌّ جب آپ نے کہہ دیا، اب یہ اسمِ منسوب بن گیا، اب یہ صفت کے صیغے کے درجے میں ہے، اب اس کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے بھئی۔ تو اگر یہ اسمِ منسوب کی تاویل میں کر لیں گے تو یہ مفعول کی تاویل میں ہو گا اور اس کے اندر جو ضمیر ہو گی وہ نائب الفاعل بنے گی۔ جبکہ بعض علماء اس کی تاویل اسمِ فاعل کے ساتھ کر لیتے ہیں کہ یہ اسمِ منسوب نہیں ہے بلکہ یہ اسمِ منتسب ہے۔ دیکھو منتسب اسمِ فاعل کا صیغہ ہے۔ منتسب وہ اسم جس کی نسبت ہو رہی ہے۔ تو یہ اسمِ منتسب ہے، اب بھی ضمیر اس کے اندر نکالیں گے لیکن اب اس کو نائب فاعل نہیں بنائیں گے بلکہ یہ اسمِ فاعل کے درجے میں ہے تو اس کے اندر ضمیر فاعل کے درجے میں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی تقریب جو ہے اس کے ساتھ یائے نسبت محذوف نکال لی: تَقْرِيبِيٌّ۔ اب یہ صفت کے درجے میں ہو گیا، اب اس کو اسمِ فاعل اسمِ مفعول کے درجے میں لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ خود ہی یہ جب تقریبی بن گیا تو اس میں فاعل یا اسمِ مفعول کے درجے میں ہے بھئی۔ تو یہ قول تقریبی ہے، تحقیقی نہیں۔ ان نو میں سے ہر ایک کو علت قرار دیا یعنی ان میں سے ہر ایک کو علت قرار دینا یہ تقریبی قول ہے، تحقیقی نہیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کو مجازاً علت کہا گیا ہے، یہ علت نہیں ہے حقیقت میں، ورنہ تو علت کے ہوتے ہوئے تو معلول ضرور ہوتا ہے، پھر تو ایک بھی پائی جائے تو غیرِ منصرِف کا ہونا ضروری ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: أَوْ الْقَوْلُ بِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْأُمُورِ التِّسْعَةِ عِلَّةٌ قَوْلٌ تَقْرِيبِيٌّ لَا تَحْقِيقِيٌّ إِذِ الْعِلَّةُ فِي الْحَقِيقَةِ اثْنَانِ مِنْهَا لَا وَاحِدٌ، اور یہ قول کہ ان امورِ تسعہ میں سے ہر ایک جو ہے وہ علت ہے قَوْلٌ تَقْرِيبِيٌّ، یہ تقریبی قول ہے لَا تَحْقِيقِيٌّ، تحقیقی قول نہیں، یعنی ان کو مجازاً علت کہا گیا ہے إِذِ الْعِلَّةُ فِي الْحَقِيقَةِ اثْنَانِ مِنْهَا لَا وَاحِدٌ، اس لیے کیونکہ علت حقیقت کے اندر ان میں سے دو ہیں لَا وَاحِدٌ، ایک نہیں ہے۔ أَوْ الْقَوْلُ بِأَنَّهَا تِسْعٌ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى الصَّوَابِ، یا یہ قول کہ یہ نو ہیں، یہ تیسری توجیہ بیان کر رہے ہیں کہ وَهَذَا الْقَوْلُ تَقْرِيبٌ۔ تیسری توجیہ، بھئی یاد رکھو، یہ جو غیرِ منصرِف کے اسباب ہیں اس میں علماء کے کئی مذاہب ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسبابِ منعِ صرف دو ہیں بس۔ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسبابِ منعِ صرف 11 ہیں۔ جبکہ جمہور فرماتے ہیں کہ اسبابِ منعِ صرف نو ہیں۔ تو دیکھو تین قول آ گئے، تین مذاہب آ گئے ان علتوں کے بارے میں۔ پہلا مذہب کیا کہ یہ علتیں صرف دو ہیں۔ دوسرا مذہب کیا کہ یہ 11 ہیں۔ اور تیسرا مذہب جو ہے کہ یہ علتیں نو ہیں۔ تو ان علتوں کو اس شعر میں کتنا شمار کیا گیا؟ نو۔ تو یہ والا قول جس میں ان علتوں کو نو بتلایا گیا ہے، یہ مُقَرِّبٌ لَهَا إِلَى الصَّوَابِ، یہ ان علتوں کو درست بات کے قریب کرنے والا ہے یعنی صحیح مذہب کے قریب کرنے والا ہے۔ صحیح مذہب بھی کیا ہے کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ نو ہے۔ تو اس صورت میں بھی تقریب بمعنیٰ مقرب کے ہے کہ یہ قول قریب کرنے والا ہے، کن کو؟ ان علتوں کو قریب کرنے والا ہے، کس کے؟ درست مذہب کے۔ أَوْ الْقَوْلُ بِأَنَّهَا تِسْعٌ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى الصَّوَابِ، یا یہ قول کہ یہ نو ہیں علتیں، یہ قول قریب کرنے والا ہے لَهَا ان علتوں کو إِلَى الصَّوَابِ درست بات کے لِأَنَّ فِي عَدَدِهَا خِلَافًا، اس لیے کیونکہ ان علتوں کی تعداد میں اختلاف ہے فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهَا تِسْعٌ، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ علتیں نو ہیں وَقَالَ بَعْضُهُمْ اثْنَانِ، اور بعض فرماتے ہیں دو ہیں وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَحَدَ عَشَرَ، اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ علتیں 11 ہیں لَكِنَّ الْقَوْلَ بِأَنَّهَا تِسْعٌ تَقْرِيبٌ لَهَا إِلَى مَا هُوَ الصَّوَابُ مِنَ الْمَذَاهِبِ الثَّلَاثَةِ، لیکن ان علتوں کے نو ہونے کا جو قول ہے تَقْرِيبٌ لَهَا أَيْ مُقَرِّبٌ لَهَا، وہ ان کو قریب کرنے والا ہے إِلَى مَا هُوَ الصَّوَابُ، اس بات کی طرف جو صحیح ہے مِنَ الْمَذَاهِبِ الثَّلَاثَةِ تین مذہبوں میں سے، جو درست ہے اس کے قریب کرنے والا ہے یہ قول۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ أَمْثِلَةَ الْعِلَلِ الْمَذْكُورَةِ عَلَى تَرْتِيبِ ذِكْرِهَا فِي الْبَيْتَيْنِ۔ اب آگے ان ساروں کی مثالیں ذکر کریں گے، یہ جتنے اسبابِ منعِ صرف ذکر ہوئے، نو اسبابِ منعِ صرف ہیں، تو نو ہی مثالیں ذکر کریں گے اور اسی ترتیب سے جس ترتیب سے وہ اسبابِ منعِ صرف شعر میں ذکر تھے بھئی۔ ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ أَمْثِلَةَ الْعِلَلِ الْمَذْكُورَةِ عَلَى تَرْتِيبِ ذِكْرِهَا فِي الْبَيْتَيْنِ، پھر ذکر کیا ماتن نے أَمْثِلَةَ الْعِلَلِ الْمَذْكُورَةِ ان مذکورہ علتوں کی مثالوں کو عَلَى تَرْتِيبِ ذِكْرِهَا فِي الْبَيْتَيْنِ، اسی ترتیب پر جس پر وہ ذکر ہیں ان دو شعروں میں فَقَالَ، تو فرمایا: مِثْلُ عُمَرَ، متن دیکھو پہلے: مِثْلُ عُمَرَ وَأَحْمَرَ وَطَلْحَةَ وَزَيْنَبَ وَإِبْرَاهِيمَ وَمَسَاجِدَ وَمَعْدِي كَرِبَ وَعِمْرَانَ وَأَحْمَدَ۔ یہ ہے متن متن، اب درمیان میں صاحبِ جامی ہر ایک کے بارے میں بتلاتے جائیں گے کہ یہ کس چیز کی مثال ہے۔ تو کہتے ہیں: مِثْلُ عُمَرَ، مِثَالٌ لِلْعَدْلِ، جیسے کہ عمر ہے، یہ مثال ہے عدل کی۔ عمر کے اندر کون سے دو اسبابِ منعِ صرف ہیں؟ ایک عدل اور ایک علمیت ہے بھئی۔ وَأَحْمَرَ، مِثَالٌ لِلْوَصْفِ، یہ مثال ہے وصف کی۔ احمر اس میں کون سے دو اسبابِ منعِ صرف ہیں؟ ایک وزنِ فعل ہے اور ایک وصف ہے۔ وَطَلْحَةَ، مِثَالٌ لِلتَّأْنِيثِ، یہ مثال ہے تانیث کی۔ طلحہ اس میں کون سے دو اسباب ہیں؟ ایک تانیث اور ایک علمیت بھئی۔ وَزَيْنَبَ، مِثَالٌ لِلْمَعْرِفَةِ، اور زینب یہ مثال ہے معرفہ کی۔ اس میں کون سے دو سبب ہیں؟ ایک علمیت ہے اور ایک تانیثِ معنوی ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، دو مثالیں ذکر کیں، دو علم یہاں لائے صاحبِ قافیہ: ایک طَلْحَةَ، دیکھو اس کے آخر میں تائے تانیث جڑی ہوئی ہے۔ یہ نام مذکر کا ہے، لیکن بہرحال یہ تانیث مؤثر ہو گی اور علمیت اور تانیث دونوں جمع ہو گئے تو یہ غیرِ منصرِف ہو گا۔ یہ نام مذکر کا ہے۔ اور آگے معرفہ کے لیے زینب کی مثال لائے۔ دراصل، دراصل مصنف تانیث کی دو قسموں کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں: ایک تانیثِ لفظی ہے، ایک تانیثِ معنوی۔ تانیثِ لفظی جس میں لفظوں میں کوئی تانیث کی علامت موجود ہو، اور تانیث کی تین علامتیں ہیں: ایک تائے مربوطہ ہے یعنی گول تا بھئی، اور ایک الفِ مقصورہ ہے، اور ایک الفِ ممدودہ، الفِ ممدودہ جس کے بعد ہمزہ آتا ہے بھئی، جس کی وجہ سے اس کو اور خوب لمبا کیا جاتا ہے، کھینچا جاتا ہے۔ تو تین علامتیں ہو گئیں تانیثِ لفظی کی: تائے مربوطہ، الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ۔ تو طلحہ مثال لا کر اشارہ کر دیا تانیثِ لفظی کی طرف کیونکہ اس میں گول تا موجود ہے۔ اور زینب لا کر اشارہ کر دیا تانیثِ معنوی کی طرف کہ زینب مؤنث کا نام ہے، معنیٰ کے اعتبار سے تو یہ مؤنث ہے بھئی کیونکہ مؤنث کا نام ہے، لیکن اس میں تانیث والی کوئی علامت نہیں، نہ گول تا ہے، نہ الفِ مقصورہ ہے اور نہ الفِ ممدودہ ہے۔ تو یہ دو مثالیں لا کر تانیث کی دو قسموں کی طرف اشارہ کر دیا۔ تو کہتے ہیں: وَزَيْنَبَ، مِثَالٌ لِلْمَعْرِفَةِ، زینب جو ہے یہ معرفہ کی مثال ہے وَفِي إِيرَادِ زَيْنَبَ مِثَالًا لِلْمَعْرِفَةِ، أَوْرَدَ يُورِدُ إِيرَادٌ کا معنیٰ ہے لانا، وَفِي إِيرَادِ زَيْنَبَ، اور زینب کے لفظ کو لانا مِثَالًا لِلْمَعْرِفَةِ، معرفہ کے لیے مثال کے طور پر بَعْدَ طَلْحَةَ، کس کے بعد؟ طلحہ کے بعد، إِشَارَةٌ إِلَى قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ اللَّفْظِيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ، یہ اشارہ ہے تانیث کی دو قسمیں جو ہیں لفظی اور معنوی ان کی طرف اشارہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی یاد رکھو، ایک عبارت کا نقطہ: کبھی ایک چیز کو اجمالاً ذکر کیا جاتا ہے اور پھر آگے اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "میرے تین دوست ہیں"۔ دیکھو اجمال ہے، کون کون ہیں، تفصیل میں نے ذکر نہیں کی، اس کو کہتے ہیں اجمال، "میرے تین دوست ہیں"۔ پھر آگے میں تفصیل بیان کر دیتا ہوں: "زید، اور عمرو، اور بکر"۔ یہ ہے تفصیل بھئی، ایک ایک فرد کے بارے میں میں نے بتلا دیا۔ تو اجمال جس میں ساروں کو اکٹھا ذکر کر دیا جائے وہ ہے اجمال، اور ایک ایک کو الگ ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تفصیل۔ تو جب بھی اجمال کے بعد تفصیل آ جائے عبارت میں، تو وہاں عموماً تین طرح کے اعراب پڑھنا جائز ہوتے ہیں۔ کتنے؟ تین۔ جیسے یہاں دیکھو: إِشَارَةٌ إِلَى قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، یہ اصل میں تھا قِسْمَيْنِ۔ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا اور پھر یا کو حرکت دے دی کسرہ والی تو کیا بن گیا؟ قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، تانیث کی دو قسمیں۔ تو اس میں اشارہ ہے تانیث کی دو قسموں کی طرف، یہ ہے اجمال، کون سی دو قسمیں؟ کوئی تفصیل نہیں۔ لیکن پھر آگے آگے آ گیا: اللَّفْظِيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ، یہ تفصیل آ گئی۔ تو اجمال کے بعد جب تفصیل آئے، وہاں تین طرح کے اعراب پڑھ سکتے ہیں۔ دیکھو، یہ قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، اس کو بنا لو مبدل منہ، اور اللَّفْظِيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ ان دونوں کو بدل بنا دو۔ دو وہ جہاں اس میں اشارہ ہے تانیث کی دو قسموں کی طرف، یعنی کہ لفظی اور معنوی، دیکھا؟ تو اس کو بدل بناتے ہیں اور بدل کا وہی اعراب ہوتا ہے جو مبدل منہ کا ہو۔ وہ دو قسمیں تانیث کی کون سی ہیں؟ لفظی اور معنوی، تو یہ لفظی اور معنوی کو بدل بنایا کس سے؟ تانیث سے نہیں، قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، تانیث کی دو قسموں سے، توجہ ہے؟ اور قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، یہ اس پر إِلَى داخل ہے مجرور ہے۔ تو لہٰذا اللَّفْظِيِّ وَالْمَعْنَوِيِّ ان کو بھی مجرور پڑھو۔ تو یہ بدل بن گئے اور بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ ان کو مفعول بنا دو أَعْنِي فعل کے لیے۔ إِشَارَةٌ إِلَى قِسْمَيِ التَّأْنِيثِ، اس میں اشارہ ہے تانیث کی دو قسموں کی طرف أَعْنِي اللَّفْظِيَّ وَالْمَعْنَوِيَّ، میری مراد لفظی اور معنوی ہے۔ دیکھا؟ أَعْنِي فعل آیا، اس کے اندر أَنَا ضمیر فاعل متکلم کا صیغہ ہے، اور اللَّفْظِيَّ وَالْمَعْنَوِيَّ یہ اس کے لیے کیا بن جائیں گے؟ مفعول بن جائیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ دو ترکیبیں۔ تیسری ترکیب یہ ہے کہ ان کو خبر بنا دو ان کے لیے مبتدا محذوف نکال دو۔ کہ دو قسمیں تانیث کی وہ کون سی ہیں؟ هُمَا اللَّفْظِيُّ وَالْمَعْنَوِيُّ، وہ دو قسمیں هُمَا مبتدا اور اللَّفْظِيُّ وَالْمَعْنَوِيُّ اس کے لیے خبر۔ تو وہ دو قسمیں جو ہیں وہ لفظی اور معنوی ہیں۔ تو دیکھو ایک ہی مبتدا دونوں کے لیے نکال لیا۔ یا چاہو تو دونوں کے لیے الگ الگ مبتدا نکال لو: أَحَدُهُمَا اللَّفْظِيُّ وَالثَّانِيَهُمَا المَعْنَوِيُّ، ان میں سے ایک لفظی ہے اور دوسرا معنوی ہے۔ تو أَحَدُهُمَا مبتدا، اللَّفْظِيُّ اس کی خبر اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ اور ثَانِيهُمَا مبتدا اور المَعْنَوِيُّ اس کی خبر اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ تو اس صورت میں پھر رفع پڑھیں گے۔ تو تین ترکیبیں، جہاں بھی اجمال کے بعد تفصیل آ جائے، وہاں تین ترکیبیں جائز ہوتی ہیں۔ تین ترکیبیں جائز ہوتی ہیں: ایک ترکیب کیا کہ اس کو ماقبل سے بدل بنا دو۔ دوسری ترکیب کیا کہ اس کو أَعْنِي فعل کے لیے مفعول بنا دو۔ تیسری کہ اس کو خبر بنا دو۔ بدل بناؤ تو بدل پر وہی اعراب جو مبدل منہ پر ہے۔ أَعْنِي کے لیے مفعول بناؤ تو پھر اس پر نصب پڑھو۔ اور اگر مبتدا کے لیے خبر بناؤ تو خبر مرفوع ہوتی ہے پھر رفع پڑھو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو اللَّفْظِيُّ وَالْمَعْنَوِيُّ آیا، اس پر تینوں طرح کے اعراب آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اگے دیکھیے: وَإِبْرَاهِيمَ، مِثَالٌ لِلْعُجْمَةِ، اور ابراہیم جو ہے یہ مثال ہے عجمہ کی۔ ابراہیم، مثال ہے عجمہ کی۔ کون کون سے دو سبب ہیں ابراہیم میں؟ ایک علمیت ہے اور ایک عجمہ ہے، عجمی نام ہے۔ آپ کہیں گے یہ تو عربی نام ہے، قرآن میں آیا ہے بھئی حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ جواب یہ کہ عربی زبان اس وقت بنی ہی نہیں تھی بھئی، اس کے بعد عربی زبان بنتی چلی گئی آہستہ آہستہ، سینکڑوں سال گزرے پھر آہستہ آہستہ عربی زبان بن گئی بھئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان عربی نہیں تھی بھئی۔ تو یہ عجمی نام ہے، عربی نہیں ہے کیونکہ اس وقت عربی کا وجود ہی نہیں تھا۔ وَمَسَاجِدَ، مِثَالٌ لِلْجَمْعِ، اور مساجد یہ مثال ہے جمع کی بھئی۔ یعنی جمع منتحى الجمع ہے اور یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی۔ وَمَعْدِي كَرِبَ، مِثَالٌ لِلتَّرْكِيبِ، یہ ترکیب کی مثال ہے، معدی اور کرب دو الگ الگ لفظ تھے، ایک تھا معدی، دوسرا کرب۔ ان دونوں کو جوڑ دیا تو یہ معدیکرب، یہ اس میں ترکیب ہے دو لفظوں کو جوڑا گیا ہے۔ تو معدیکرب میں کون سے دو سبب؟ ایک علمیت اور ایک ترکیب ہے بھئی۔ وَعِمْرَانَ، مِثَالٌ لِلْأَلِفِ وَالنُّونِ، یہ مثال ہے اس الف اور نون کی جو زائد ہوتے ہیں۔ جو زائد ہوتے ہیں، اس میں کون سے دو سبب ہیں؟ ایک علمیت اور ایک الف نون مزیدتان بھئی۔ وَأَحْمَدَ، مِثَالٌ لِوَزْنِ الْفِعْلِ، یہ مثال ہے وزنِ فعل کی۔ مثال ہے وزنِ فعل کی، احمد میں کون سے دو سبب؟ ایک وزنِ فعل اور ایک علم ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: کہتے ہیں: وَحُكْمُهُ، أَيْ حُكْمُ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ وَالْأَثَرُ الْمُتَرَتِّبُ عَلَيْهِ مِنْ حَيْثُ اشْتِمَالِهِ عَلَى عِلَّتَيْنِ أَوْ وَاحِدَةٍ مِنْهَا تَقُومُ مَقَامَهُمَا۔ اب حکم بیان کرنے لگے ہیں غیرِ منصرِف کا۔ پہلے متن متن دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: وَحُكْمُهُ أَنْ لَا كَسْرَةَ وَلَا تَنِوِينَ۔ حکم اس کا یہ ہے أَنْ لَا كَسْرَةَ وَلَا تَنِوِينَ، کہ غیرِ منصرِف جو ہے اس میں نہ کسرہ آتا ہے اور نہ تنوین بھئی۔ کسرہ بھی نہیں آئے گا: جَاءَنِي أَحْمَدُ، دیکھو تنوین بھی نہیں۔ وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ، مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ، کسرہ بھی نہیں اور تنوین بھی نہیں۔ اس کا جر بھی کس کے تابع ہوتا ہے؟ نصب کے تابع ہوتا ہے، اس پر فتحہ آتا ہے جر کی صورت میں بھی۔ مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ۔ جی، أَحْمَدَ کا اعراب بتاؤ اس پر با جارّہ داخل ہے: مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ۔ ترکیب سنو: مَرَرْتُ فعل با فاعل، تُ ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ با جارّہ، أَحْمَدَ مجرور کون سا؟ لفظاً، محلاً، تقدیراً؟ جی؟ لفظاً، لفظاً، یا أَحْمَدَ اس پر فتحہ پر آپ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ ہاں، تو اس پر آپ باقاعدہ تلفظ کر رہے ہیں، تو یہ لفظاً مجرور ہے، ہاں اس کا جر آتا ہی فتحہ کی صورت میں ہے۔ یہ جر ہی ہے اس وقت اس پر اور آپ اس پر تلفظ بھی کر رہے ہیں، تو یہ اعرابِ لفظی ہے بھئی۔ جی، تو غیرِ منصرِف کا حکم کیا ہے کہ أَنْ لَا كَسْرَةَ وَلَا تَنِوِينَ، نہ تو اس پر کسرہ آتا ہے اور نہ تنوین آتی ہے بھئی۔ یہ جو عبارت ہے: أَنْ لَا كَسْرَةَ وَلَا تَنِوِينَ، یہ اسی طرح ہے جیسا ہے: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ۔ أَنْ لَا كَسْرَةَ وَلَا تَنِوِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ، اور اس کے اندر آپ نے پڑھا ہے کہ پانچ وجہیں پڑھنا جائز ہیں۔ تو وہی پانچ وجہیں یہاں بھی جائز ہوں گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ آگے آ جائے گا جہاں لائے نفی جنس کا بیان ہے، اس کے اندر لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کا ذکر آ جائے گا، وہاں ہم وہ پانچ وجہیں پڑھیں گے۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ یہ عبارت بھی اسی قبیل سے ہے، جیسے وہاں پانچ وجہیں پڑھنا جائز، یہاں بھی پانچ وجہیں پڑھنا جائز ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر: وَحُكْمُهُ، اور اس کا حکم، بھئی یہ ضمیر کس کو راجع؟ آگے بتلا دیا: أَيْ حُكْمُ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ، کہ یہ ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ غیرِ منصرِف ہے۔ غیرِ منصرِف کا حکم یہ ہے: وَالْأَثَرُ الْمُتَرَتِّبُ عَلَيْهِ مِنْ حَيْثُ اشْتِمَالِهِ عَلَى عِلَّتَيْنِ أَوْ وَاحِدَةٍ مِنْهَا تَقُومُ مَقَامَهُمَا۔ یہ یاد رکھیے، یہ عطفِ تفسیری ہے۔ عطفِ تفسیری میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، یہ جو حروفِ عاطفہ ہیں ان سے ماقبل والے کو کہتے ہیں معطوف علیہ اور مابعد والے کو کہتے ہیں معطوف۔ جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، واؤ سے ماقبل زید آیا، اس کو کیا کہیں گے؟ معطوف علیہ، اور واؤ کے جو مابعد آیا اس کو کیا کہیں گے؟ معطوف۔ اور یاد رکھو یہ معطوف علیہ اور معطوف ایک دوسرے سے غیر ہوتے ہیں، عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ عطف مغایرت کا، جب میں نے کہا "میرے پاس زید اور عمرو آیا"، زید اور عمرو آیا، یہ لفظ "اور" بیچ میں بتلا رہا ہے کہ دونوں الگ الگ ہیں، ایک نہیں ہے ورنہ "اور" لانے کی ضرورت نہیں تھی بھئی۔ تو یہاں بھی جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، جب عمرو اور زید کے درمیان واؤ آپ لے آئے تو یہ عطف کر رہے ہیں اور عطف تقاضا کرتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مغائر ہیں، الگ الگ ہیں، دونوں ایک ذات نہیں ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ معطوف علیہ اور معطوف دونوں ایک ہی ہوتے ہیں، اور وہ عطفِ تفسیری ہے۔ وہ عطفِ، عطفِ تفسیری میں دیکھو ایک لفظ لایا جاتا ہے اور پھر اس کا معنیٰ آگے بیان کیا جاتا ہے اور حرفِ أَيْ کے ساتھ نہیں معنیٰ بیان کرتے، بلکہ درمیان میں حرفِ عطف واؤ لے آتے ہیں۔ مثلاً میں نے ایک ساتھی کے سامنے ذکر کیا: رَأَيْتُ غَضَنْفَرًا، اب مجھے پتہ ہے کہ اس کو غضنفر کا معنیٰ سمجھ میں نہیں آئے گا، تو ایک صورت یہ ہے میں معنیٰ آگے یوں بیان کر دوں: رَأَيْتُ غَضَنْفَرًا أَيْ أَسَدًا۔ أَيْ، میں نے غضنفر یعنی شیر کو دیکھا۔ اب یہ أَيْ نے تفسیر کر دی غضنفر کی کیونکہ أَيْ حرفِ تفسیر ہے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص صرف اور نحو اور عربی قوانین جاننے والا ہے تو اب میں اس کو أَيْ کے بجائے درمیان میں واؤ لے آؤں گا: رَأَيْتُ غَضَنْفَرًا وَأَسَدًا۔ معنیٰ وہی ہے، میں نے شیر کو دیکھا۔ کیوں؟ کیونکہ غضنفر اور اسد الگ الگ نہیں ہیں، غضنفر کا معنیٰ بھی شیر، اسد کا معنیٰ بھی شیر۔ تو غضنفر کا معنیٰ میں نے بیان کر دیا عطف کر کے، تو یہاں معطوف اور معطوف علیہ دونوں ایک ہی ہیں۔ یہ عطفِ تفسیری کہلاتا ہے، یہ معطوف جو ہے وَأَسَدًا، یہ تفسیر کر رہا ہے کس کی؟ غضنفر کی کہ غضنفر کسے کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی وَالْأَثَرُ الْمُتَرَتِّبُ عَلَيْهِ، یہ حکم کی تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ حکم کسے کہتے ہیں: وہ اثر جو کسی شے پر مرتب ہوتا ہے۔ وہ اثر جو کسی شے پر مرتب ہوتا ہے اس کو اس شے کا حکم کہتے ہیں۔ تو غیرِ منصرِف پر کیا حکم مرتب ہوتا ہے، کیا اثر مرتب ہوتا ہے؟ جب اس میں دو علتیں آ جاتی ہیں تو اس پر یہ حکم مرتب ہوتا ہے کہ اب نہ کسرہ آ سکتا ہے اور نہ تنوین۔ تو دیکھو یہ اس پر اثر مرتب ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَحُكْمُهُ أَيْ حُكْمُ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ، غیرِ منصرِف کا حکم۔ وَالْأَثَرُ الْمُتَرَتِّبُ عَلَيْهِ، اور وہ اثر جو اس پر مرتب ہو مِنْ حَيْثُ اشْتِمَالِهِ عَلَى عِلَّتَيْنِ أَوْ وَاحِدَةٍ مِنْهَا تَقُومُ مَقَامَهُمَا، اس حیثیت سے کہ وہ مشتمل ہے دو علتوں پر یا ایک ایسی علت پر جو ان دو کے قائم مقام ہے۔ یہ حیثیت کی قید لگا دی۔ حیثیت کی قید، وجہ یہ کہ ادھر دیکھیے: جَاءَنِي أَحْمَدُ، جَاءَنِي أَحْمَدُ، ترکیب میں احمد کیا بن رہا ہے؟ فاعل، اور فاعل ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا آیا؟ رفع۔ رَأَيْتُ أَحْمَدَ، اب احمد کیا بن رہا ہے؟ مفعول بن رہا ہے، اور مفعول ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا اثر مرتب ہوا؟ نصب آ گیا۔ مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ، احمد پر با جارّہ داخل ہے، یہ کیا واقع ہو رہا ہے؟ مضاف الیہ، مجرور واقع ہو رہا ہے، اور مجرور ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا اثر مرتب ہوا؟ اس پر جر آ گیا۔ تو ایک ہی چیز میں کئی حیثیتیں ہو سکتی ہیں۔ دیکھو اب یہ احمد غیرِ منصرِف ہے، لیکن فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ کہ اس پر رفع آئے گا۔ مفعول ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ کہ اس پر نصب آئے گا۔ اور مضاف الیہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم یہ کہ اس پر جر آئے گا۔ بتلا رہے ہیں کہ مضاف الیہ کے حکم سے مراد یہ ہے، وہ اثر جو اس پر مرتب ہو فاعل ہونے کی حیثیت سے نہیں، مفعول یا مضاف الیہ ہونے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ کس حیثیت سے؟ غیرِ منصرِف ہونے کی حیثیت سے یعنی دو علتیں پائے جانے کی وجہ سے جو حکم اس پر مرتب ہو وہ مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہر حکم مراد نہیں ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: مِنْ حَيْثُ اشْتِمَالِهِ عَلَى عِلَّتَيْنِ، اس حیثیت سے کہ وہ مشتمل ہے دو علتوں پر أَوْ وَاحِدَةٍ مِنْهَا تَقُومُ مَقَامَهُمَا، یا ایک ایسی علت پر جو ان دو کے قائم مقام ہے۔ اس حیثیت سے کہ اس میں دو علتیں ہیں یا ایک قائم مقام دو کے ہے، اس حیثیت سے غیرِ منصرِف کا حکم کیا؟ کسرہ بھی نہیں آئے گا اور تنوین بھی نہیں۔ اور فاعل ہونے کی حیثیت سے اس کا حکم کیا؟ اس پر رفع آئے گا۔ تو وہ حیثیت اور تھی، یہ حیثیت اور ہے۔ تو یہ جو کسرہ اور تنوین نہیں آئے گا غیرِ منصرِف پر، یہ کس حیثیت سے ہے؟ غیرِ منصرِف ہونے کی حیثیت سے ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: أَنْ لَا كَسْرَةَ فِيهِ وَلَا تَنِوِينَ، أَنْ لَا كَسْرَةَ فِيهِ، یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ كَسْرَةَ لائے نفی جنس کا اسم ہے، اور فِيهِ خبر جو ہے محذوف ہے۔ کہ أَنْ لَا كَسْرَةَ فِيهِ، کہ اس میں نہ تو کسرہ ہوتا ہے وَلَا تَنِوِينَ، اور نہ تنوین آتی ہے۔ وَذَلِكَ لِأَنَّ لِكُلِّ عِلَّةٍ فَرْعِيَّةً، فَإِذَا وَقَعَ فِي الاِسْمِ عِلَّتَانِ حَصَلَ فِيهِ فَرْعِيَّتَانِ۔ یہاں سے اب وجہ بیان کرنے لگے ہیں کہ غیرِ منصرِف پر کسرہ اور تنوین کیوں نہیں آتے بھئی؟ دیکھو، عجیب تقریر ہے علمائے نحو کی انسان حیران رہتا ہے۔ ایسے انداز میں، اتنے خوبصورت انداز میں یہ ضابطے ذکر کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے یہ ضوابط کو دیکھ دیکھ کر عربی زبان بنائی گئی۔ حالانکہ عربی زبان پہلے ہے اور ضابطے بعد میں ہیں، لیکن وہ ضابطے ایسے زبردست ہیں اور ایسے کمال کے بنا دیے کہ جیسے یوں لگتا ہے ان کو دیکھ کر عربی زبان بنائی گئی۔ اب سوال پیدا ہوا کہ یہ غیرِ منصرِف پر کسرہ اور تنوین کیوں نہیں آتے؟ ایک تو سیدھا سا جواب ہے: بھئی ہم نے عربوں سے اسی طرح سنا ہے، وہ اس پر کسرہ اور تنوین پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ کسرہ اور تنوین نہیں، لیکن بھئی سوال یہ ہے، عرب کیوں نہیں پڑھتے، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اب اس کی وجہ بتائیں گے کہ اس وجہ سے بھئی۔ اور بتائیں گے آپ کو کہ یہ جو غیرِ منصرِف ہوتا ہے، اس میں دو علتیں پائی جاتی ہیں، اور ہر علت جو ہے اس میں فرعیت ہے۔ ہر علت میں کیا ہے؟ فرعیت، دیکھو یہ یائے مشدد ساتھ جوڑ دی فرع کے، یہ مصدریت کے لیے ہے، مصدر بنانے کے لیے۔ فرعیت کا کیا معنیٰ؟ فرع ہونا۔ ایک ہوتا ہے اصل، ایک ہے فرع، اور ایک اسی سے مصدر بنا لیا: فرعیت۔ کیا معنیٰ؟ فرع ہونا۔ تو یاد رکھو، یہ جو نو علتیں ذکر ہوئیں، ان میں سے ہر علت میں فرعیت ہے یعنی ہر علت فرع ہے۔ ہر علت میں فرع ہونے والی صفت پائی جا رہی ہے۔ تو جب اسم کے اندر، جب اسم کے اندر دو علتیں آ جائیں، تو گویا اس میں دو فرعیتیں آ گئیں۔ کیونکہ ہر علت میں کیا ہے؟ فرعیت ہے۔ تو جب دو علتیں اسم میں آ گئیں تو کتنی فرعیتیں آ گئیں؟ دو فرعیتیں آ گئیں یعنی دو اعتبار سے وہ اسم فرع ہو گیا۔ دو اعتبار سے وہ اسم فرع ہو گیا، تو اس کی مشابہت ہو گئی فعل کے ساتھ۔ اور فعل کے اندر بھی دو فرعیتیں پائی جاتی ہیں، تو اسم میں جب دو فرعیتیں آئیں تو یہ فعل کے مشابہ ہوا، اور جب فعل کے مشابہ ہوا تو فعل والا حکم ہم نے دے دیا۔ فعل کے اندر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں۔ فعل کا اعراب کیا ہے؟ رفع، نصب اور جزم، جر نہیں آتا۔ جر، تو فعل کے اندر جر نہیں، تو لہٰذا یہی حکم ہم نے اسم کو بھی دے دیا، اب اس میں غیرِ منصرِف کو بھی کہ اس میں کسرہ نہیں آئے گا۔ اور نیز فعل پر تنوین بھی نہیں نہیں آتی تھی، کیونکہ تنوین، تنوین سے مراد تنوینِ تمکن ہے۔ تنوینِ تمکن جو بتلاتی ہے کہ اسم اپنی اصل پر ہے۔ یاد رکھو، اسم کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ متمکن ہو۔ اسم دو قسم پر ہے: ایک اسمِ متمکن، ایک اسمِ غیرِ متمکن۔ غیرِ متمکن جو ہے مبنیات کو کہتے ہیں، جو اسم کی قسمیں ہیں نہ مبنی: ضمیر ہے، اسماءِ اشارہ، اسماءِ موصولہ وغیرہ، ان کو کہتے ہیں غیرِ متمکن۔ یہ اعراب کو جگہ نہیں دیتے۔ اور باقی اسم کیا کہلاتے ہیں عام اسم؟ اسمِ متمکن، وہ اعراب کو جگہ دیتے ہیں، جو مثالیں آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں: جَاءَنِي زَيْدٌ، رَأَيْتُ زَيْدًا وغیرہ، یہ سارے اعراب کو جگہ دیتے ہیں۔ تو اسم کے اندر اصل ہے کہ وہ متمکن ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ غیرِ متمکن ہے تو دراصل اس کی مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت آ گئی۔ مبنی الاصل کیا کیا ہیں؟ فعلِ ماضی ہے، فعلِ امر ہے اور تمام حروف۔ دیکھو اس میں اسم ایک بھی نہیں۔ فعلِ ماضی ہے، فعلِ امر ہے اور تمام حروف۔ تو ان کے ساتھ جب اسم کی مشابہت آ جاتی ہے خاص قسم کی مشابہت، تو وہ اسم بھی مبنی بن جاتا ہے۔ غیرِ متمکن بن جاتا ہے، خود اپنی ذات کے اعتبار سے اسم غیرِ متمکن نہیں ہوتا، ان مشابہتوں کی وجہ سے غیرِ متمکن بنتا ہے۔ معلوم ہوا اسم کے اندر اصل کیا ہے؟ کہ وہ کیا ہونا چاہیے؟ متمکن ہونا چاہیے۔ اور یہ جو تنوینِ تمکن ہے، یہ اسم پر جب آتی ہے یہ بتلا دیتی ہے کہ یہ اسم اپنی اصل پر ہے۔ جَاءَنِي زَيْدٌ، رَأَيْتُ زَيْدًا، مَرَرْتُ بِزَيْدٍ، اس پر تنوین آ رہی ہے، معلوم ہوا اسم اپنی اصل پر ہے۔ اسم اپنی اصل پر ہے، اور جب میں نے کہا: جَاءَنِي أَحْمَدُ، رَأَيْتُ أَحْمَدَ، مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ، معلوم ہوا اسم اپنی اصل پر نہیں ہے، اس کی مشابہت آ گئی ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ اور فعل پر کسرہ اور تنوین نہیں آتی تھی، اس لیے اب اس پر بھی کسرہ اور تنوین نہیں آئے گی۔ تو یہ اسم اب اپنی اصل پر ہے یا اصل سے نکل گیا ہے؟ اصل سے نکل گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا، معلوم ہوا تنوینِ تمکن اسم کے متمکن ہونے کی علامت ہے یعنی اسم کے اپنی اصل پر ہونے کی علامت ہے۔ اور جب اسم کی مشابہت کس کے ساتھ آ گئی؟ فعل کے ساتھ، توجہ ہے؟ پھر سنو، پھر سنو: یہ جتنی نو علتیں بیان ہوئیں، ہر علت میں فرعیت ہے یعنی فرع ہونے والا وصف ہے۔ ہر علت اصل نہیں ہے بلکہ فرع ہے، اس میں فرع ہونے والا وصف ہے۔ وہ موصوف ہے کس کے ساتھ؟ فرعیت کے ساتھ، اس میں فرع ہونے والا وصف ہے۔ تو جب اسم کے اندر دو علتیں آ گئیں، تو کتنی فرعیتیں آ گئیں؟ دو فرعیتیں آ گئیں، دو اعتبار سے وہ اسم فرع بن گیا۔ تو اس کی مشابہت ہوئی کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، وہ بھی دو اعتبار سے فرع تھا۔ تو اس کو بھی فعل والا حکم دے دیا، اور فعل پر تو کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی، لہٰذا اس پر کسرہ بھی نہیں آئے گا اور تنوین بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ پریشان نہیں ہونا، میں تفصیل بیان کروں گا، انشاءاللہ بالکل اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گا۔ فعل میں دو فرعیتیں کیا ہیں؟ فعل میں ایک فرعیت یہ ہے کہ یہ محتاج ہوتا ہے فاعل کا بھئی۔ فاعل کے بغیر فعل ہو سکتا ہے؟ ضَرَبَ کا فعل پایا جائے اور کوئی فاعل نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا فعل اپنے وجود میں فاعل کا محتاج ہے۔ فاعل ہو گا تو فعل ہو سکتا ہے، فاعل نہیں تو فعل بھی نہیں۔ تو فعل محتاج ہوا فاعل کا، اور ایک ہوتا ہے محتاج ہونا اور ایک ہوتا ہے غیرِ محتاج ہونا، اصل یہ ہے کہ محتاج نہیں ہونا چاہیے، اور محتاج ہونا اس کی فرع ہے۔ اصل کیا ہے؟ محتاج نہ ہو، اور محتاج ہونا اس کی فرع ہے۔ تو اسم جو ہے وہ فاعل کا محتاج نہیں ہوتا، اسم ہوا اصل، اور فعل فاعل کا محتاج ہے، تو فعل ہوا فرع بھئی۔ جیسے یہی بات پیچھے آئی تھی، کہاں پر؟ کہ ایک ہے اسمِ ظاہر، ایک ہے ضمیر۔ اسمِ ظاہر اصل ہے اور ضمیر فرع۔ کیوں؟ کیونکہ اسمِ ظاہر وہ کسی چیز کا محتاج نہیں اپنا معنیٰ بتانے میں، جبکہ ضمیر اپنا معنیٰ بتانے میں مَكْنِيٌّ عَنْهُ کی محتاج ہے جس سے کنایہ کیا گیا۔ جس سے کنایہ کیا گیا، یہ بحث کہاں پر آئی تھی؟ کِلَا کے اندر یہ بات آئی تھی۔ کِلَا کا جب اعراب ذکر کیا تھا کہ کِلَا جب ضمیر کی طرف مضاف ہو گا تو اس کا اعراب بالحرف آئے گا: كِلَاهُمَا اور كِلَيْهِمَا۔ اور جب یہ اسمِ ظاہر کی طرف مضاف ہو گا: كِلَا الرَّجُلَيْنِ، تو پھر اس کا اعراب بالحركات آئے گا بھئی۔ وہاں یہ ذکر ہوا تھا کہ کِلَا جب مضاف ہو اسمِ ظاہر کی طرف، تو اسمِ ظاہر اصل ہے۔ تو پھر اس کو اعراب بھی اس کے لفظ یعنی اصل کے اعتبار سے دیا اور وہ اعراب بالحركات ہے۔ اور کِلَا جب مضاف ہو ضمیر کی طرف، اور ضمیر تو فرع ہے، تو اس کو اعراب بھی فرع والا دیا یعنی اعراب بالحرف دیا بھئی۔ تو اس میں ظاہر اصل ہے اور ضمیر فرع۔ کس طرح اسمِ ظاہر اصل ہے؟ کہ وہ مَكْنِيٌّ عَنْهُ جس سے کنایہ کیا گیا، اس کا محتاج نہیں۔ اور ضمیر محتاج ہوتی ہے مَكْنِيٌّ عَنْهُ کی۔ دیکھو میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ، میرے پاس زید آیا، وَهُوَ أَخِي، اور وہ میرا بھئی ہے۔ اس هُوَ سے کون مراد؟ زید۔ تو دیکھو هُوَ بول کر ایک اسم بول کر دوسرے اسم کا کنایہ کیا، هُوَ سے کون مراد؟ زید۔ ضمیر میں ایک اسم بول کر کنایہ کیا جاتا ہے دوسرے اسم سے۔ تو اس میں کنایہ ہے۔ کنایہ بھی کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ بول کر دوسرے معنیٰ کا ارادہ کرنا۔ تو اس ضمیر میں بھی کیا ہوتا ہے؟ کنایہ ہوتا ہے، ایک اسم سے کنایہ کیا گیا دوسرے اسم کا۔ تو گویا ضمیر محتاج ہو گئی مَكْنِيٌّ عَنْهُ کی جس سے کنایہ کیا گیا ہے۔ کوئی مَكْنِيٌّ عَنْهُ ہو گا تو ضمیر کا معنیٰ هُوَ کا معنیٰ سمجھ میں آئے گا، اگر پیچھے زید کا ذکر ہی نہیں گزرا تو هُوَ کا معنیٰ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ تو اسمِ ظاہر کسی کا محتاج نہیں اور ضمیر مَكْنِيٌّ عَنْهُ کی محتاج ہے، تو وہ فرع ہوئی۔ اور اسمِ ظاہر کیا ہوا؟ اصل۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ یہ جو فعل ہے، یہ محتاج ہے فاعل کا، اسم کسی چیز کا محتاج نہیں، تو اسم ہوا اصل، اور فعل محتاج ہے فاعل کا، اور محتاج ہونا یہ فرع ہے۔ تو فعل ہوا فرع بھئی۔ یہ ایک فرعیت آ گئی فعل کے اندر، فرع ہونے کا وصف آیا۔ دوسرا، فعل مشتق ہوتا ہے مصدر سے، ضَرْبٌ سے ضَرَبَ بنا۔ ضَرْبٌ سے؟ ضَرَبَ بنا۔ تو ضَرْبٌ مصدر ہے، وہ ہے مشتق منہ۔ اور فعل کیا ہے؟ مشتق۔ تو فعل کے لیے اصل کیا؟ مصدر، اور فعل کیا اس کی؟ فرع۔ توجہ ہے؟ مشتق منہ اصل ہوتا ہے اور مشتق فرع۔ تو فعل محتاج ہونے کے اعتبار سے بھی فرع، اور اسی طرح فعل مشتق ہونے کے اعتبار سے بھی فرع۔ تو دو فرعیتیں ہیں فعل کے اندر۔ دو اعتبار سے فعل فرع ہے، محتاج ہونے کے اعتبار سے بھی کہ یہ فاعل کا محتاج ہے، اور مشتق ہونے کے اعتبار سے بھی کہ یہ اسم سے مشتق ہے۔ اور اسم دو اعتبار سے اصل ہے کہ وہ محتاج بھی نہیں کسی کا اور وہ مشتق منہ بھی ہے فعل کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو فعل میں دو فرعیتیں آ گئیں۔ تو اسی طرح یہ جو علتیں ہیں، ان میں سے ہر ایک میں فرعیت ہے۔ تو جب دو علتیں کسی اسم میں آئیں گی تو اس اسم میں بھی دو فرعیتیں آ گئیں، دو اعتبار سے وہ فرع بن گیا۔ تو اس کی مشابہت ہوئی کس کے ساتھ؟ فعل سے، وہ بھی دو اعتبار سے فرع تھا۔ تو اس کو بھی فعل والا حکم دے دیا، اور فعل پر تو کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ لہٰذا اس پر کسرہ بھی نہیں آئے گا اور تنوین بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ لِأَنَّ لِكُلِّ عِلَّةٍ فَرْعِيَّةً، اور یہ اس وجہ سے کہ اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آتا، وہ اس وجہ سے لِأَنَّ لِكُلِّ عِلَّةٍ فَرْعِيَّةً، اس لیے کیونکہ ہر علت کے لیے فرعیت ہے یعنی فرع ہونا ہے۔ فَإِذَا وَقَعَ فِي الاِسْمِ عِلَّتَانِ حَصَلَ فِيهِ فَرْعِيَّتَانِ، تو جب واقع ہو جائیں اسم کے اندر دو علتیں، تو حاصل ہو گئیں اس میں دو فرعیتیں۔ فَيُشْبِهُ الْفِعْلَ، تو یہ اسم فعل کے مشابہ ہوا مِنْ حَيْثُ إِنَّ لَهُ فَرْعِيَّتَيْنِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الاِسْمِ، کہ فعل کے لیے بھی دو فرعیتیں ہوتی ہیں اسم کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ اسم کی نسبت سے اس میں دو فرعیتیں۔ اسم کسی کا محتاج نہیں اور فعل محتاج ہے۔ اسم مشتق نہیں اور وہ مشتق ہے۔ مِنْ حَيْثُ إِنَّ لَهُ فَرْعِيَّتَيْنِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الاِسْمِ، تو اس حیثیت سے کہ فعل کے لیے بھی دو فرعیتیں ہوتی ہیں اسم کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ إِحْدَاهُمَا افْتِقَارُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، ان دو فرعیتوں میں سے ایک تو یہ ہے کہ فعل جو ہے وہ محتاج ہوتا ہے فاعل کا۔ وَأُخْرَاهُمَا، اور دوسری فرعیت جو ہے اِشْتِقَاقُهُ مِنَ الْمَصْدَرِ، وہ فعل کا مشتق ہونا ہے مصدر سے۔ فَمُنِعَ مِنْهُ الْإِعْرَابُ الْمُخْتَصُّ بِالاِسْمِ۔ ادھر دیکھیے: جب اسم کے اندر دو علتیں آ گئیں، تو گویا اس میں دو فرعیتیں آ گئیں۔ جب دو فرعیتیں آ گئیں تو اس کی مشابہت ہو گئی کس سے؟ فعل سے۔ جب فعل سے مشابہت ہو گئی تو اب اس سے وہ اعراب منع کر دیے گئے، روک دیے گئے جو اسم کے ساتھ مختص ہیں۔ کسرہ اور تنوین کس کے ساتھ مختص؟ اسم، تو جو چیز اسم کے ساتھ مختص تھی اب وہ منع کر دی گئی، اب وہ نہیں آ سکتی کیونکہ اس لفظ کی مشابہت کس کے ساتھ آ گئی ہے؟ فعل کے ساتھ آ گئی ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: فَمُنِعَ مِنْهُ الْإِعْرَابُ الْمُخْتَصُّ بِالاِسْمِ، تو روک دیا گیا اس اسم سے جس کے اندر دو علتیں آئی تھیں، تو اس سے روک دیا گیا الْإِعْرَابُ الْمُخْتَصُّ بِالاِسْمِ، وہ اعراب جو خاص ہے اسم کے ساتھ۔ وہ کون سا اعراب ہے جو اسم کے ساتھ خاص ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ الْجَرُّ وَالتَّنْوِينُ الَّذِي هُوَ عَلَامَةُ التَّمَكُّنِ، وہ جر ہے اور وہ تنوین ہے جو کہ تمکن کی علامت ہے۔ جو بتلاتی ہے کہ اسم اپنی اصل پر ہے۔ تنوینِ تمکن، یہ بتلاتی ہے کہ اسم اپنی اصل پر ہے۔ یاد رکھو، آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ یہ تنوین پانچ قسم پر ہے۔ ایک تنوینِ تمکن ہے، ایک تنوینِ عوض ہے، ایک تنوینِ مقابلہ ہے، ایک تنوینِ ترنم ہے، اور ایک تنوینِ تنکیر ہے بھئی۔ یہاں صرف تنوینِ تمکن اسم پر نہیں آ سکتی۔ کیونکہ وہ کیا بتلاتی ہے؟ کہ اسم اپنی اصل پر ہے۔ تنوینوں کی تفصیل کیا تھی؟ تنوینِ تمکن، جیسے غُلَامٌ، زَيْدٌ وغیرہ پر تنوین آتی ہے۔ یہ تنکیر والی تنوین نہیں ہے بلکہ یہ تمکن والی ہے۔ ورنہ اگر یہ تنکیر والی ہوتی تو پھر تو زَيْدٌ پر نہیں آنی چاہیے تھی کیونکہ وہ تو معرفہ ہے۔ تو یہ صرف یہ بتلا رہی ہے کہ اسم متمکن ہے، اپنی اصل پر ہے، غیرِ منصرِف نہیں ہے۔ اور دوسری تنکیرِ عوض ہے جو مضافٌ الیہ کے عوض آتی ہے، جیسے كُلٌّ۔ كُلٌّ پر جو تنوین کہیں پر بھی آپ کو نظر آئے سمجھ جائیں کہ یہ عوض ہے مضافٌ الیہ سے، کیونکہ كُلُّ کا معنیٰ ہے سارا۔ بھئی کس چیز کا سارا؟ آگے مضافٌ الیہ چاہیے بھئی۔ تو كُلُّ وَاحِدٍ، تو دیکھو وَاحِدٍ کو ختم کیا اور كُلٌّ پر کیا لے آئے؟ تنوین۔ یا حِينَئِذٍ، یہ حِينَئِذٍ کے آخر میں جو تنوین آ رہی ہے، یہ تنوین عوض ہے مضافٌ الیہ سے۔ اصل میں تھا حِينَ إِذْ كَانَ كَذَا۔ كَانَ كَذَا کو حذف کیا اور إِذٍ کو تنوین دے دی۔ تو یہ ہے تنوینِ عوض، اور ایک تنوینِ ترنم ہے۔ تنوینِ ترنم یہ اسم کے ساتھ خاص نہیں، یہ تو فعل میں بھی آ جاتی ہے، حرف میں بھی۔ یہ صرف اشعار کے اندر آتی ہے۔ اگلی قسم ہے تنوینِ تنکیر بھئی۔ یہ تنوینِ تنکیر یہ صرف اسمِ فعل میں آتی ہے، جیسے صَهْ اور صَهٍ۔ صَهْ کا معنیٰ ہے ابھی خاموش ہو جاؤ، یہ معرفہ ہے۔ اور صَهٍ کا معنیٰ ہے کبھی تو خاموش ہو جاؤ، تو یہ نکرہ ہے بھئی۔ اور ایک ہے تنوینِ مقابلہ۔ تنوینِ مقابلہ وہ ہے جو جمع مؤنث سالم پر آتی ہے: مُسْلِمَاتٌ اور مُسْلِمَاتٍ۔ یہ تنوینِ مقابلہ ہے بھئی۔ جیسے مُسْلِمُونَ اور مُسْلِمِينَ، وہاں پر ایک نون تھا، یہ نون تنوین کے قائم مقام ہے۔ کس کے قائم مقام؟ تنوین کے قائم مقام۔ تو جمع مذکر سالم کو جب نون دے دیا گیا جو تنوین کے قائم مقام ہے، تو ادھر مُسْلِمَاتٍ کو بھی ایک تنوین اس کے مقابلے میں دے دی گئی، کیونکہ وہ بھی جمع سالم ہے، یہ بھی جمع سالم ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا مُسْلِمَاتٍ اور مُسْلِمَاتٌ، یہ تنوین تنکیر کے لیے نہیں، یہ عوض کے لیے نہیں، یہ تمکن کے لیے نہیں، یہ کس لیے ہے؟ مقابلے کے لیے ہے۔ لہٰذا ایک عورت کا نام مُسْلِمَاتٌ رکھ دیا گیا۔ کیا رکھ دیا گیا؟ مُسْلِمَاتٌ۔ اب یہ دیکھو نام بن گیا، علمیت بھی آ گئی۔ علمیت بھی آ گئی اور تانیث، یہ جمع مؤنث سالم ہے، تانیث بھی آ گئی۔ تو اب کیسے پڑھیں گے؟ جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتُ پڑھیں گے؟ نہیں، جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتٌ پڑھیں گے بھئی۔ یہ غیرِ منصرِف ہے، لیکن پھر بھی مُسْلِمَاتٌ پڑھیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیوں؟ کیونکہ یہ جو تنوین اس پر آ رہی ہے یہ تمکن والی نہیں ہے۔ غیرِ منصرِف سے تمکن والی تنوین گرتی ہے۔ یہ تو تنوین کون سی ہے؟ مقابلے والی ہے۔ ابھی بھی بات آپ کو سمجھ میں نہ آئی ہو، دوسری مثال دیکھو: کسی آدمی کا نام مُسْلِمُونَ رکھ دیتے ہیں۔ اب یہ وصف بھی ہے اور علم بھی ہے۔ تو کیا نون آخر سے گرے گا؟ نہیں۔ تو جیسے یہ نون نہیں گرتا، اسی طرح مُسْلِمَاتٌ سے تنوین بھی نہیں گرے گی کیونکہ یہ تمکن والے نہیں ہیں۔ صرف کون سی تنوین گرتی ہے؟ تمکن والی تنوین گرتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: وَهُوَ الْجَرُّ وَالتَّنْوِينُ الَّذِي هُوَ عَلَامَةُ التَّمَكُّنِ، یعنی وہ اعراب جو اسم کے ساتھ خاص ہے وہ جر ہے اور وہ تنوین جو کہ تمکن کی علامت ہے۔ وَإِنَّمَا قُلْنَا لِكُلِّ عِلَّةٍ فَرْعِيَّةٌ، اور ہم نے کہا کہ ہر علت کے لیے فرعیت ہے۔ لِأَنَّ...، کیونکہ، اب آگے تفصیل بیان کریں گے کہ ہر علت میں فرعیت کیسے ہے۔ عدل میں فرعیت کیسے ہے؟ وصف میں فرعیت کیسے ہے؟ تانیث میں فرعیت کیسے ہے؟ ایک ایک کو بیان کریں گے، دیکھیے بھئی: وَإِنَّمَا قُلْنَا لِكُلِّ عِلَّةٍ فَرْعِيَّةٌ، اور ہم نے کہا کہ ہر علت کے لیے فرعیت ہے یعنی فرع ہونا ہے۔ لِأَنَّ الْعَدْلَ فَرْعُ الْمَعْدُولِ عَنْهُ، اس لیے کیونکہ عدل جو ہے وہ فرع ہے معدول عنہ کی۔ بھئی دیکھیے، عدل کہتے ہیں اسم کو پھیرنا ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف۔ جیسے یہ عُمَرُ لفظ ہے، اس کے بارے میں کہتے ہیں یہ اصل میں تھا عَامِرٌ۔ عَامِرٌ، اور پھر پھیر کر ایک نئی صورت عُمَرُ دے دی گئی۔ اب مجھے بتائیے: عَامِرٌ یہ ہے اصل، اور عُمَرُ کیا ہو گیا؟ فرع۔ تو دیکھو، تو عَامِرٌ یہ ہے معدول عنہ جس سے پھیرا گیا ہے۔ عُمَرُ کو پھیرا گیا، تو عُمَرُ ہوا معدول، اور عَامِرٌ ہوا معدول عنہ۔ تو دیکھو عدل جو ہے، وہ فرع ہے کس کی؟ معدول عنہ کی فرع ہے۔ جس میں عدل آئے گا وہ معدول عنہ کی فرع بن جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ معدول عنہ ہوا اصل، اور معدول ہوا فرع۔ لِأَنَّ الْعَدْلَ فَرْعُ الْمَعْدُولِ عَنْهُ، اس لیے کیونکہ عدل جو ہے وہ فرع ہے معدول عنہ کی۔ وَالْوَصْفَ فَرْعُ الْمَوْصُوفِ، اور وصف جو ہے فرع ہے موصوف کی۔ ایک ہوتا ہے موصوف، ایک ہے صفت۔ موصوف اصل ہے، موصوف ہو گا تو صفت ہو گی، موصوف نہیں تو صفت بھی نہیں۔ تو اس لیے وَالْوَصْفَ فَرْعُ الْمَوْصُوفِ، وصف جو ہے وہ فرع ہے موصوف کی۔ وَالتَّأْنِيثَ فَرْعُ التَّذْكِيرِ، اور تانیث جو ہے وہ فرع ہے تذکیر کی۔ تانیث فرع ہے تذکیر کی۔ مذکر ہونا اصل ہے، مؤنث ہونا فرع ہے۔ لِأَنَّكَ تَقُولُ قَائِمٌ ثُمَّ قَائِمَةٌ، اس لیے کیونکہ آپ پہلے قَائِمٌ کہتے ہیں، پھر قَائِمَةٌ کہتے ہیں۔ پہلے مذکر صیغہ بنا، پھر اس کے ساتھ تانیث کی علامت جوڑ کر کیا بنا لیا گیا؟ مؤنث بنا لیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ امام رازی رحمہ اللہ تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں کہ تانیث جو ہے وہ فرع ہے تذکیر کی لفظاً بھی اور معنًى بھی۔ لفظاً بھی فرع ہے، پہلے مذکر کا لفظ بنا پھر اس کے بعد مؤنث کا لفظ بنا۔ اور معنًى بھی تانیث فرع ہے تذکیر کی، لِأَنَّ الذَّكَرَ أَكْمَلُ مِنَ الْأُنْثَى، کیونکہ مذکر جو ہے وہ مؤنث کے مقابلے میں زیادہ کامل ہے بھئی۔ لِأَنَّ الذَّكَرَ أَكْمَلُ مِنَ الْأُنْثَى، مذکر مؤنث کے مقابلے میں زیادہ کامل ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَالتَّعْرِيفَ فَرْعُ التَّنْكِيرِ، اور تعریف یعنی معرفہ ہونا، یہ فرع ہے تنکیر کی یعنی نکرہ ہونے کی۔ لِأَنَّكَ تَقُولُ رَجُلٌ، اس لیے کیونکہ آپ پہلے رَجُلٌ کہتے ہیں ثُمَّ الرَّجُلُ، پھر اَلرَّجُلُ کہتے ہیں۔ پھر اس کو معرفہ بناتے ہیں، تو معلوم ہوا نکرہ اصل ہے اور معرفہ اس کی فرع ہے بھئی۔ وَالْعُجْمَةَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ فَرْعُ الْعَرَبِيَّةِ، عجمہ بھئی، عجمی زبان والا ہونا کسی لفظ کا، یہ فرع ہے عربی ہونے کی۔ کیونکہ ہر زبان میں اصل کیا ہے کہ اپنی ہی زبان کے الفاظ ہونے چاہئیں یا دوسری زبان کے ہونے چاہئیں؟ اپنی زبان کے۔ تو اپنی زبان کے ہونا یہ ہے اصل، دوسری زبان کا ہونا یہ ہے فرع۔ یہ معنیٰ ہے: وَالْعُجْمَةَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ فَرْعُ الْعَرَبِيَّةِ، اور عجمہ عربی کلام کے اندر یہ فرع ہے عربی ہونے کی إِذِ الْأَصْلُ فِي كُلِّ كَلَامٍ أَنْ لَا يُخَالِطَهُ لِسَانٌ آخَرُ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے ہر کلام میں وہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی اور زبان نہ ملی ہوئی ہو۔ تو جو اور زبان ملے گی وہ کیا ہو گی؟ فرع ہو گی بھئی۔ وَالْجَمْعَ فَرْعُ الْوَاحِدِ، اور جمع جو ہے وہ فرع ہے واحد کی۔ کیونکہ مفرد ہوتا ہے، اس مفرد سے پھر جمع بنتی ہے بھئی۔ جمع کے لیے مفرد کا ہونا ضروری ہے، تو جمع فرع ہوئی کس کی؟ واحد یعنی مفرد کی۔ تو کہتے ہیں: وَالْجَمْعَ فَرْعُ الْوَاحِدِ، جمع جو ہے فرع ہے واحد کی۔ وَالتَّرْكِيبَ فَرْعُ الْإِفْرَادِ، اور ترکیب فرع ہے افراد یعنی مفرد ہونے کی۔ ترکیب فرع ہے مفرد ہونے کی۔ ترکیب میں کیا کرتے ہیں؟ دو لفظوں کو جوڑتے ہیں نا، پھر ہی ترکیب ہو گی، پھر ہی مرکب بنے گا۔ تو وہ دو الگ الگ مفرد تھے، اور ان کو جوڑ کر پھر مرکب بنایا، تو مفرد ہے اصل اور ترکیب ہے فرع۔ وہ مفرد نہ ہوتے تو یہ ترکیب بھی نہیں ہو سکتی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالتَّرْكِيبَ فَرْعُ الْإِفْرَادِ، اور ترکیب جو ہے وہ فرع ہے مفرد ہونے کی۔ وَالْأَلِفَ وَالنُّونَ الزَّائِدَتَيْنِ فَرْعُ مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ، اور الف نون زائدتان جو ہیں وہ فرع ہیں مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ کی۔ یہ فرع ہیں مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ کی، جن پر ان کی زیادتی کی گئی۔ جیسے عِمْرَانَ، عمران میں یہ جو الف نون زائدتان ہیں، یہ فرع ہیں کس کی؟ ع، م، ر، اس کو ذرا الگ کر دو۔ اس کے ساتھ کس کو جوڑا؟ الف نون کو۔ معلوم ہوا ع، م، ر وہ اصل ہے، اور الف نون ان کی فرع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو الف نون کیا ہیں؟ زائد، اور کس پر ان کو بڑھایا؟ کس پر الف نون کا اضافہ کیا؟ ع، م، ر پر، تو ان کو کہیں گے مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ، وہ جن پر ان کو بڑھایا گیا۔ ع، م، ر پر الف نون کو بڑھایا گیا، تو ع، م، ر کیا ہوئے؟ مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ۔ تو مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ وہ اصل، اور الف نون زائدتان اس کی فرع بھئی۔ وہ ہوں گے تو الف نون بڑھاؤ گے، اگر وہی نہیں ہیں تو کس پر الف نون آپ بڑھاؤ گے بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْأَلِفَ وَالنُّونَ الزَّائِدَتَيْنِ فَرْعُ مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ، الف اور نون زائدتان یہ فرع ہیں مَا زِيدَتَا عَلَيْهِ کی بھئی۔ وَوَزْنَ الْفِعْلِ فَرْعُ وَزْنِ الاِسْمِ، اور وزنِ فعل فرع ہے وزنِ اسم کی۔ ادھر دیکھیے: أَحْمَرُ، اس میں کیا آیا؟ وزنِ فعل، توجہ ہے؟ وزنِ فعل، معلوم ہوا فعل والا وزن کس میں آ گیا؟ اسم۔ اصل تو یہ ہے کہ اسم کے اندر اپنا ہی وزن آنا چاہیے، کسی دوسرے کا وزن نہیں آنا چاہیے۔ تو جب دوسرے کا وزن اسم کے اندر آ گیا، تو یہ فرع ہو گیا اسم کے وزن کی۔ اسم کا اپنا وزن اصل، اور یہ وزن جو نیا آیا، یہ فرع۔ کیونکہ اصل یہی ہے کہ اسم کا وزن اسم میں ہونا چاہیے، فعل کا وزن فعل میں ہونا چاہیے۔ تو جب فعل کا وزن اسم میں آ گیا، تو یہ اسم کے وزن کی فرع ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَوَزْنَ الْفِعْلِ فَرْعُ وَزْنِ الاِسْمِ، وزنِ فعل جو ہے وہ فرع ہے وزنِ اسم کی۔ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي كُلِّ نَوْعٍ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ الْوَزْنُ الْمُخْتَصُّ بِنَوْعٍ آخَرَ، اس لیے کیونکہ اصل جو ہے ہر قسم کے اندر وہ یہ ہے کہ اس کے اندر وہ وزن نہ پایا جائے جو خاص ہو دوسری نوع کے ساتھ۔ فَإِذَا وُجِدَ فِيهِ هَذَا الْوَزْنُ، تو جب اس کے اندر وہ والا وزن پایا گیا یعنی دوسری نوع والا، دوسری قسم والا، كَانَ فَرْعًا لِوَزْنِهِ الْأَصْلِيِّ، تو یہ اس چیز کے وزنِ اصلی کے لیے فرع ہوا۔ یعنی اسم کے اندر جب فعل والا وزن آیا، تو اسم کے وزنِ اصلی کے لیے یہ کیا بن گیا؟ فرع بن گیا۔ اسم کا اپنا وزن وہ اصلی، اور یہ فعل والا وزن جو اس میں آیا، اسم میں، یہ اس کی فرع۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس کریں بھئی۔ سارا حل ہو گیا اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 23 of 50