دیکھیے بھئی، کتاب پر آگے سبق۔
”أَخُوكَ“ وَ”أَبُوكَ“ وَ”حَمُوكِ“ بِكَسْرِ الْكَافِ؛ لِأَنَّ الْحَمَ قَرِيبُ الْمَرْأَةِ مِنْ جَانِبِ زَوْجِهَا، فَلَا يُضَافُ إِلَّا إِلَيْهَا، وَ”هَنُوكَ“ — وَالْهَنُ: الشَّيْءُ الْمُنْكَرُ الَّذِي يُسْتَهْجَنُ ذِكْرُهُ كَالْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ وَالصِّفَاتِ الذَّمِيمَةِ وَالْأَفْعَالِ الْقَبِيحَةِ — وَهَذِهِ الْأَسْمَاءُ الْأَرْبَعَةُ مَنْقُوصَاتٌ وَاوِيَّةٌ.
گزشتہ سبق میں ہم نے عامل کے بارے میں پڑھا اور پھر اس کے بعد اعراب کے اعتبار سے جو معرب کی قسمیں ہیں، ان کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔
صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”اَلْعَامِلُ مَا بِهِ يَتَقَوَّمُ الْمَعْنَى الْمُقْتَضِي لِلْإِعْرَابِ“ کہ عامل وہ چیز ہے جس کے ذریعے وہ معنی حاصل ہوتا ہے جو اعراب کا تقاضا کرتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے عامل، ایک ہے معنیِ مقتضی، ایک ہے اعراب اور ایک ہے اختلافِ آخر بھئی۔
تو سب سے پہلے جو ہے عامل جو ہے وہ معرب پر داخل ہوتا ہے، مثلاً "زید" کا لفظ ہے اس پر میں نے "جاء" فعل داخل کیا: ”جَاءَ زَيْدٌ“۔ اس "جاء" کا جب میں نے "زید" کی طرف اسناد کیا تو اس نے "زید" کے اندر فاعلیت والا معنی پیدا کر دیا۔ اور اس فاعلیت والے معنی نے پھر تقاضا کیا اعراب کا۔ اور پھر اعراب آیا اور پھر اس کی وجہ سے معرب کا آخر مختلف ہو گیا۔
تو پہلے کون داخل ہوا؟ پہلے داخل ہوا عامل اور عامل اس وہ سبب بنا کس کا؟ اس معنیِ مقتضی کا، وہ معنی جو اعراب کا تقاضا کرنے والا ہے یعنی فاعلیت ہے یا مفعولیت ہے یا مضاف الیہ ہے بھئی۔ اور پھر اس معنیِ مقتضی کی وجہ سے معمول پر، معرب پر جو ہے وہ اعراب آیا: رفع، نصب یا جر بھئی۔ اور پھر اس اعراب کی وجہ سے معرب کا آخر بدل گیا، مختلف ہو گیا۔
تو عامل معلوم ہوا کہ یہ سبب ہے، اس کی وجہ سے وہ معنیِ مقتضی پیدا ہوتا ہے معرب کے اندر جو اعراب کا تقاضا کرنے والا ہے یعنی اگر وہ فاعلیت والا معنی ہے تو رفع کا تقاضا کرے گا اور مفعولیت والا معنی ہے تو نصب کا تقاضا کرے گا اور اضافت والا معنی ہے تو جر کا تقاضا کرے گا بھئی۔
تو عامل جو ہے وہ سبب ہے اس معنیِ مقتضی کا بھئی۔ تو یہی تعریف کی صاحبِ قافیہ نے کہ ”اَلْعَامِلُ مَا بِهِ يَتَقَوَّمُ الْمَعْنَى الْمُقْتَضِي لِلْإِعْرَابِ“ کہ عامل وہ چیز ہے جس کی وجہ سے وہ معنی حاصل ہوتا ہے معرب میں جو اعراب کا تقاضا کرنے والا ہے۔ اور صاحبِ جامی نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ عاملِ لفظی کی بھی تعریف ہے اور عاملِ معنوی کی بھی۔ عامل چاہے لفظی ہو جیسے ”جَاءَ زَيْدٌ“ اس ”زَيْدٌ“ کے اندر "جاء" لفظ عمل کر رہا ہے۔ اور کبھی عامل معنوی ہوتا ہے یعنی معنی ہوتا ہے، لفظ نہیں ہوتا جیسے ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یہ جو مبتدا اور خبر ہیں۔ مبتدا میں عامل ابتدا ہے اور ابتدا معنی کا نام ہے اور اسی طرح خبر کے اندر بھی عامل ابتدا ہے اور ابتدا لفظ کا نام نہیں ہے بلکہ معنی کا نام ہے۔ ابتدا کسے کہتے ہیں؟ عاملِ لفظی سے خالی ہونا مسند اور مسند الیہ کا اور یہ صرف مبتدا اور خبر میں عامل ہے بھئی۔
اس کے بعد پھر اعراب کے اعتبار سے اسم کی تقسیم شروع کی تھی، وہی 16 قسمیں جو آپ نے نحو میر کے اندر پڑھیں یا وہی قسمیں جو آپ نے ہدایت النحو کے اندر پڑھیں، ان میں سے 5 قسمیں ہم نے پڑھ لی تھیں بھئی۔
پہلی قسم تھی مفرد منصرَف اور مفرد منصرَف دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جو مفرد ہو یعنی تثنیہ اور جمع نہ ہو، منصرَف ہو یعنی غیر منصرَف نہ ہو اور دوسری قسم تھی جمعِ مکسر منصرَف بھئی۔ جمعِ مکسر منصرَف یعنی جمع ہو اور مکسر ہو یعنی جس میں مفرد کا وزن ٹوٹ گیا ہو اور جو منصرَف ہو یعنی جمع منتہی الجموع کا صیغہ نہ ہو کیونکہ وہ تو غیر منصرَف ہے بھئی۔ تو جمع ہو، جمعِ مکسر منصرَف۔ جمعِ مکسر منصرَف۔
تو دیکھیے بھئی، صاحبِ قافیہ نے یہاں کہا "مفرد منصرَف" جبکہ ہدایت النحو اور نحو میر وغیرہ میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ "صحیح" کی قید بھی لگاتے ہیں: "مفرد منصرَف صحیح"۔ اور پھر اس کے ساتھ ایک اور قسم بھی ذکر کرتے ہیں: "جاری مجرائے صحیح" بھئی۔ مفرد منصرَف صحیح جو مفرد ہو یعنی تثنیہ جمع نہ ہو، منصرَف ہو یعنی غیر منصرَف نہ ہو، صحیح ہو یعنی ناقص نہ ہو بھئی، یعنی جس کے آخر میں حرفِ علت نہ آئے۔ جیسے ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“۔ یہ مفرد بھی ہے، منصرَف بھی ہے اور صحیح بھی ہے کیونکہ اس کے آخر میں دال ہے، واؤ، الف یا یا نہیں۔
اور ایک ہے جاری مجرائے صحیح بھئی۔ جاری مجرائے صحیح یعنی قائم مقامِ صحیح۔ جاری مجرائے صحیح آپ پڑھ چکے ہیں، وہ اسم ہے جس کے آخر میں واؤ یا یا آئے لیکن اس کا ماقبل ساکن ہو، جیسے ”دَلْوٌ“ اور ”ظَبْيٌ“۔ اور اس پر تینوں طرح کے اعراب لفظاً آتے ہیں: ”جَاءَنِي ظَبْيٌ“، ”رَأَيْتُ ظَبْيًا“، ”مَرَرْتُ بِظَبْيٍ“۔ ”جَاءَنِي دَلْوٌ“، ”رَأَيْتُ دَلْوًا“، ”مَرَرْتُ بِدَلْوٍ“۔ تو دیکھو، یہ صحیح تو نہیں لیکن یہ قائم مقامِ صحیح ہے، اس پر تینوں طرح کے اعراب آ سکتے ہیں جیسے صحیح پر، مفرد منصرَف صحیح پر جیسے تینوں اعراب آ سکتے تھے اسی طرح جاری مجرائے صحیح پر بھی تینوں اعراب آ سکتے ہیں: رفع، نصب اور جر۔ تو یہ صحیح تو نہیں لیکن قائم مقامِ صحیح ہے، جاری مجرائے صحیح ہے۔ قائم مقامِ صحیح کیوں ہے؟ کیونکہ اس پر بھی صحیح کی طرح تینوں اعراب آ سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ اس کے آخر میں بے شک واؤ یا یا ہے لیکن اس واؤ یا یا کا ماقبل ساکن ہے: ”ظَبْيٌ“ دیکھو یا سے ماقبل با ساکن ہے اور ”دَلْوٌ“ دیکھو واؤ سے ماقبل لام ساکن ہے۔ تو ماقبل میں ساکن آنے کی وجہ سے اب ان پر تینوں طرح کا اعراب پڑھنا آسان ہو گیا۔ تو یہ صحیح تو نہیں لیکن قائم مقامِ صحیح ہیں یا یوں کہو جاری مجرائے صحیح ہیں۔
تو صاحبِ قافیہ نے "مفرد منصرَف" کہا، صحیح کی قید ساتھ نہیں لگائی۔ کیونکہ اگر صحیح کی قید ساتھ لگا دیتے تو قائم مقامِ صحیح کو بھی پھر بیان کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو صحیح نہیں ہے، وہ تو کیا ہے؟ قائم مقامِ صحیح ہے۔ تو صاحبِ قافیہ نے صحیح کی قید نہیں لگائی تو اب یہ دونوں قسموں کو شامل ہو گیا: مفرد منصرَف چاہے وہ صحیح ہو، چاہے قائم مقامِ صحیح ہو۔ وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مفرد ہوتا ہے، منصرَف ہوتا ہے لیکن وہ قائم مقامِ صحیح ہے تو اگر صحیح کی قید لگا دیتے تو صحیح کے ساتھ ساتھ پھر قائم مقامِ صحیح کو الگ بیان کرنا پڑتا اور صاحبِ قافیہ کی کوشش ہوتی ہے مختصر سے مختصر لفظوں میں لمبی بات کر دیں۔ تو انہوں نے مفرد منصرَف کے ساتھ صحیح کی قید نہیں لگائی، جب صحیح کی قید نہیں لگائی تو اس میں دونوں آ گئے کہ مفرد منصرَف چاہے وہ صحیح ہو، چاہے صحیح کے قائم مقام ہو، صحیح نہ ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو اس میں گویا دو قسمیں آ گئیں، دو قسمیں آ گئیں۔
تو صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ مفرد منصرَف اور جمعِ مکسر منصرَف، ان دونوں کا اعراب ضمہ کے ساتھ آئے گا حالتِ رفعی میں، اور فتحہ کے ساتھ آئے گا حالتِ نصبی میں، اور کسرہ کے ساتھ آئے گا حالتِ جری میں۔ اور میں نے یہ بھی بتلا دیا کہ یہ دیکھنے میں دو قسمیں ہیں، حقیقت میں کتنی ہیں؟ تین قسمیں ہیں: ایک مفرد منصرَف صحیح اور ایک مفرد منصرَف قائم مقامِ صحیح اور اسی طرح جمعِ مکسر منصرَف۔
تو یہ تین قسموں کا گویا یہی اعراب ہے۔ تو جـ... تو یہ جو ہیں، مفرد منصرَف اور جمعِ مکسر منصرَف، ان کا اعراب دو اعتبار سے اصل ہے، انہوں نے آپ کو بتلایا، دو اعتبار سے۔ ایک تو اس وـ... اعتبار سے کہ اصل اعراب کے اندر اعراب بالحرکۃ ہے۔ ایک اعراب بالحرف ہوتا ہے: ”جَاءَنِي أَبُوكَ“، ”رَأَيْتُ أَبَاكَ“، ”مَرَرْتُ بِأَبِيكَ“، یہ اعراب حرف کے ساتھ آ رہا ہے یعنی واؤ، الف اور یا۔ اور ایک اعراب بالحرکۃ ہوتا ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“۔ تو اصل جو ہے اعراب کے اندر، اعراب بالحرکۃ ہے۔ تو یہ ان دونوں کو بھی، مفرد منصرَف اور جمعِ مکسر منصرَف، ان دونوں کو ان دونوں کا اعراب بہیں اعتبار اصل ہے۔ ان دونوں کا کون سا اعراب ہے؟ اصل ہے، اصل اعراب بالحرف ہے یا بالحرکۃ ہے؟ بالحرکۃ ہے اور ان کا اعراب بھی بالحرکۃ ہے، تو بہیں اعتبار بھی ان کا اعراب اصل ہے۔ اور نیز اعراب بالحرکۃ میں بھی اصل یہ ہے کہ رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں الگ الگ قسم کا اعراب آنا چاہیے۔ تینوں حالتوں میں...؟ یہاں پر بھی دیکھو تینوں حالتوں میں الگ ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“۔ رفع ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ اور جر کسرہ کے ساتھ۔ حالانکہ آگے جمع مؤنث سالم ہے، اس میں رفع ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر دونوں کسرہ کے ساتھ، وہاں دیکھو نصب جر کے تابع ہے۔ تین قسم کے اعراب آ رہے ہیں یا اس پر دو ہی قسم کا اعراب ہے لفظوں کے اعتبار سے؟ رفع ہے اور نصب اور جر دونوں تو کسرہ کے ساتھ آ رہے ہیں۔ تو اعراب میں بھی اصل کیا ہے؟ اعراب بالحرکۃ ہونا چاہیے اور پھر اعراب بالحرکۃ میں بھی اصل کیا ہے کہ تینوں حالتوں میں الگ الگ حرکت آنی چاہیے۔ تو بہیں اعتبار ان دونوں کا اعراب اصل ہے کہ اعراب بالحرکۃ بھی ہے اور نیز تینوں حالتوں میں الگ الگ اعراب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد جمع مؤنث سالم کا اعراب بتلایا کہ اس کا رفع، اس کا رفع ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر کسرہ کے ساتھ آتا ہے: ”جَاءَنِي مُسْلِمَاتٌ“ دیکھو رفع آیا ضمہ کے ساتھ، اور ”رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍ“ اس کا نصب اور جر دونوں کسرہ کے ساتھ آئے۔ اور وجہ بھی ذکر کی تھی کہ اس کے اندر نصب کو بھی جر کے تابع کر دیا گیا۔ نصب کو بھی جر کے... کسرہ کے ساتھ تو جر آتا ہے لیکن نصب بھی کسرہ کے ساتھ آ رہا ہے تو نصب کو جر کے تابع کر دیا گیا۔ وجہ یہ کہ یہ فرع ہے جمع مذكر سالم کی اور فرع جو ہے وہ اصل کے موافق ہوتی ہے تو اصل کے اندر جو ہے وہ اـ... جمع مذكر سالم جو ہے: ”جَاءَنِي مُسْلِمُونَ“، ”رَأَيْتُ مُسْلِمِينَ“، ”مَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ“۔ تو اس اصل جو ہے یعنی جمع مذكر سالم، اس کے اندر نصب جر کے تابع تھا تو فرع یعنی جمع مؤنث سالم کے اندر بھی نصب کو جر کے تابع کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو ”وَجَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ“، ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ وَهُوَ مَا يَكُونُ بِالْأَلِفِ وَالتَّاءِ“۔ تو حاصل یہ کہ وہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ جمع مؤنث سالم جو ہے... ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ“ اس سے جمع مؤنث سالم اصطلاحی مراد ہے۔ ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو جمع کا لفظ ہے، مضاف ہو رہا ہے مؤنث کی طرف: ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ“ مؤنث کی جمع۔ اور ”السَّالِمُ“ یہ صفت ہے جمع کی اور جمع مرفوع تو ”السَّالِمُ“ کو بھی کیا پڑھیں؟ مرفوع کیونکہ صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر ہو۔ تو یہ مؤنث کی صفت نہیں ہے کیونکہ مؤنث تو مجرور ہے، وہ مضاف الیہ ہے، تو اس کو کیسے پڑھیں گے؟ ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ“۔ مؤنث کی وہ جمع جو سالم ہو۔ ترجمہ کیا ہوا؟ مؤنث کی وہ جمع جو سالم۔ تو ذہن میں فوراً آتا ہے کہ معلوم ہوا مؤنث کی جمع جب سالم آئے تو اس کا یہ اعراب ہے۔ اگر مذکر کی یہی والی جمع آ جائے تو پھر اس کا یہ اعراب نہیں۔ مؤنث کی جمع، کون سی جمع؟ سالم۔ دیکھو "مسلمۃ" کی جمع کیا آئی؟ "مسلمات"۔ یہ دیکھو، یہ "مسلمات" مؤنث کی جمع ہے یعنی "مسلمۃ" کی جمع ہے اور کون سی جمع ہے؟ سالم۔ معلوم ہوا اس کا اعراب یہ ہے۔ اس کا اعراب یہ ہے: رفع ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر کسرہ کے ساتھ۔ اگر مذکر کی یہ جمع آ جائے، معلوم ہوا اس کا یہ حکم نہیں۔ شائبہ یہ پیدا ہوتا ہے۔ جیسے "مجرور"، مذکر ہے یا مؤنث؟ مذکر ہے، اس کے آخر میں کوئی تانيث کی علامت نہیں، گول تا بھی نہیں ہے، الفِ مقصورہ یا الفِ ممدودہ بھی نہیں۔ تو "مجرور" کا لفظ مذکر ہے لیکن اس کی جمع آتی ہے "مجرورات" الف تا کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ اس کا حکم بیان نہیں ہو رہا، یہاں صرف کس کا حکم بیان ہو سکتا ہے... کس کا حکم بیان ہو رہا ہے؟ ”جَمْعُ الْمُؤَنَّثِ السَّالِمُ“ مؤنث کی وہ جمع جو سالم۔ یہ تو انہوں نے آپ کو بتلایا: ”وَهُوَ مَا يَكُونُ بِالْأَلِفِ وَالتَّاءِ“ کہ جمع مؤنث سالم سے مراد وہ جمع ہے جو الف اور تا کے ساتھ آئے۔ کس کے ساتھ آئے؟ الف اور تا کے ساتھ آئے، یعنی بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ لفظوں کے اعتبار سے نہ دیکھو بلکہ یہ اصطلاح میں جس کو جمع مؤنث سالم کہتے ہیں وہ یہاں مراد ہے۔ اور اصطلاح میں جمع مؤنث سالم کسے کہتے ہیں؟ جو الف تا کے ساتھ آئے، چاہے اس کا مفرد مذکر ہو، چاہے اس کا مفرد مؤنث ہو، اس سے قطع نظر۔ تو یہ ”وَهُوَ مَا يَكُونُ بِالْأَلِفِ وَالتَّاءِ“ کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ لفظوں کے لفظوں کے اعتبار سے آپ شائبے میں نہ پڑ جانا بلکہ یہ اس جمع کا نام ہے، جو بھی جمع الف تا کے ساتھ آئے، علمِ نحو میں اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ جمع مؤنث سالم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے اس کا مفرد مذکر ہو، چاہے اس کا مفرد مؤنث ہو، سب کا یہی حکم ہے کہ رفع آئے گا ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر آئیں گے کسرہ کے ساتھ۔ تو ”وَهُوَ مَا يَكُونُ بِالْأَلِفِ وَالتَّاءِ“ اس کے ذریعے صاحبِ جامی یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جمع مؤنث سالم سے اصطلاحی جمع مؤنث سالم مراد ہے اور وہ علمِ نحو میں کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں کیا آئے؟ الف تا آئے بھئی، الف تا آئے۔
آگے غیر منصرَف کا اعراب آ گیا، غیر منصرَف جو ہے: ”جَاءَنِي أَحْمَدُ“، ”رَأَيْتُ أَحْمَدَ“، ”مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ“۔ اس کے اندر دیکھو جر جو ہے، نصب کے تابع ہے: ”رَأَيْتُ أَحْمَدَ“، ”مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ“ دونوں صورتوں میں دیکھو فتحہ آ رہا ہے۔ غیر منصرَف ہے نا، کسرہ اور تنوین تو نہیں آئیں گے لیکن دونوں صورتوں میں فتحہ آ رہا ہے۔ تو جر کو کس کے تابع کر دیا یہاں پر؟ جر کو نصب کے تابع کر دیا۔ جمع مؤنث سالم میں... جمع مؤنث سالم میں نصب کو جر کے تابع کیا تھا، دونوں کسرہ کے ساتھ آ رہے تھے، اور غیر منصرَف میں... جر کو نصب کے تابع کر دیا، دونوں فتحہ کے ساتھ آ رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ فتحہ تو نصب کی علامت تھا نا۔
تو یہ پانچ قسمیں اعراب کی ہم پڑھ چکے ہیں، اب اگلی قسم دیکھیے بھئی۔ جی، آگے یہ آج کا سبق شروع ہو رہا ہے، دیکھیے بھئی:
”أَخُوكَ“ وَ”أَبُوكَ“ وَ”حَمُوكِ“ بِكَسْرِ الْكَافِ؛ لِأَنَّ الْحَمَ قَرِيبُ الْمَرْأَةِ مِنْ جَانِبِ زَوْجِهَا، فَلَا يُضَافُ إِلَّا إِلَيْهَا.
آگے بھئی اسماءِ ستہ مکبرہ کا اعراب آ رہا ہے۔ اسماءِ ستہ مکبرہ کا۔ اسماءِ ستہ مکبرہ آپ... ان کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ وہ یہ چھ اسم ہیں بھئی۔ اسماءِ ستہ مکبرہ بھئی: ”أَبٌ“، ”أَخٌ“، ”حَمٌ“، ”هَنٌ“، ”فَمٌ“ اور ”ذُو“ بھئی۔ یہ ہیں اسماءِ ستہ بھئی، اسماءِ ستہ۔ اور یہ ان کا اعراب حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ آئے گا، حالتِ نصبی میں الف کے ساتھ اور حالتِ جری میں یا کے ساتھ۔ لیکن اس میں دو تین شرطیں بھی آپ نے پڑھی ہوں گی کہ یہ اسماءِ ستہ جو ہیں مکبرہ ہوں یعنی ان کی تصغیر نہ ہو بھئی، مکبرہ۔ یاد رکھیے، یہ جو عام اسم ہوتا ہے اس کو اسمِ مکبر کہتے ہیں اور پھر ان کی تصغیر لائی جاتی ہے۔ تصغیر جیسے "کتاب" بھئی، عام اسم ہے تو اس کو کہیں گے یہ اسمِ مکبر ہے اور پھر اس کی تصغیر لائی جاتی ہے جو عموماً "فُعَيْل" وزن پر ہوتی ہے بھئی۔ تو اس کی تصغیر کیا آئی؟ "کُتَیْب" بھئی۔ اور تصغیر کے اندر چھوٹا ہونے کا معنی ہوتا ہے، کبھی اور معانی کے لیے بھی لائی جاتی ہے، کبھی شفقت کے لیے، کبھی تحقیر وغیرہ کے لیے، تو بہرحال اس... یہ عموماً اس میں چھوٹا ہونے کا معنی ہوتا ہے۔ تو "کتاب" کا معنی تو کتاب، لیکن "کُتَیْبٌ" اس کا معنی ہے چھوٹی سی کتاب یا یوں کہیں کتابچہ، کتابچہ۔ تو کتاب عام کتاب، اس کو اسمِ مکبر کہیں گے اور جو تصغیر آئی اس کی، وہ اسمِ مصغر ہے۔ تو عام اسم کو اسمِ مکبر کہتے ہیں۔ جیسے "رجل"، یہ کیا ہے؟ یہ اسمِ مکبر ہے اور اس کی تصغیر کیا لائیں گے؟ "رُجَیْلٌ"، "فُعَيْل" وزن پر چھوٹا سا آدمی۔ تو عام اسم کو اسمِ مکبر کہتے ہیں۔
تو یہ جو اسماءِ ستہ ہیں، ان کا اعراب واؤ، الف اور یا کے ساتھ آئے گا لیکن اس میں تین شرطیں ذکر کرتے ہیں علماءِ نحو بھئی۔ پہلی شرط یہ کہ یہ مکبرہ ہونے چاہئیں یعنی ان کی تصغیر نہ ہو بھئی، اس کا یہ حکم نہیں۔ اور نیز اسماءِ ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، جب یہ مکبرہ ہوں، ان کی مصغر کا یہ حکم نہیں، اور نیز یہ موحدہ ہوں، جب یہ مفرد ہوں تب یہ حکم ہے، واؤ، الف، یا کے ساتھ ان کا اعراب آئے گا۔ اگر یہ تثنیہ یا جمع ہوئے تو پھر وہی تثنیہ یا جمع والا اعراب آئے گا بھئی۔ تثنیہ اور جمع، تثنیہ کا اعراب کیا تھا؟ "رجل" سے تثنیہ بناؤ: "رجلاَنِ"۔ حالتِ رفعی میں کیا کہتے ہیں؟ "رجلاَنِ"۔ حالتِ نصبی، جری میں کیا کہتے ہیں؟ "رجلَيْنِ"۔ اسی طرح جمع مذکر سالم ہے: "مسلموُنَ" حالتِ رفعی میں، اور حالتِ نصبی، جری میں کیا کہتے ہیں؟ "مسلمِیْنَ"۔ تو جیسے تثنیہ اور جمع کا اعراب ہوتا ہے، اگر یہ بھی تثنیہ اور جمع ہوئے تو ان میں بھی وہی تثنیہ اور جمع والا اعراب آئے گا۔ تو اس لیے کہا کہ یہ اسماءِ ستہ مکبرہ ہوں یعنی ان کی تصغیر نہ ہو، موحدہ یعنی مفرد ہوں، تثنیہ، جمع نہ ہوں ورنہ تثنیہ، جمع والا اعراب آئے گا۔ اور تیسری شرط اس میں یہ لگاتے ہیں کہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، یہ مضاف ہوں لیکن یاءِ متکلم کی طرف مضاف نہ ہوں کیونکہ اگر یاءِ متکلم کی طرف مضاف ہوئے جیسے "غلامی"، "غلامی" یا ضمیر، یاءِ متکلم کی طرف مضاف ہے تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہے۔ توجہ ہے؟ اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری: رفع بھی، نصب بھی اور جر بھی۔ تو اگر یہ بھی یاءِ متکلم کی طرف مضاف ہوئے تو ان کا اعراب بھی تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا۔ تو لہٰذا اسماءِ ستہ ہوں، مکبرہ ہوں یعنی ان کی تصغیر نہ ہو، موحدہ ہوں یعنی تثنیہ، جمع نہ ہوں، اور مضافہ الی غیر یاء المتکلم، مضاف ہوں لیکن یاءِ متکلم کی طرف مضاف نہ ہوں، پھر ان کا اعراب یہ ہے کہ رفع واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ اور جر یا کے ساتھ: ”جَاءَنِي أَبُوكَ“، ”رَأَيْتُ أَبَاكَ“، ”مَرَرْتُ بِأَبِيكَ“۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
اب یہی بیان کر رہے ہیں صاحبِ قافیہ بھی، اور درمیان میں صاحبِ جامی جو ہیں، ہر ایک کی تفصیل بھی بیان کریں گے، اور آخر میں پھر یہی باتیں جو میں نے کیں وہ تفصیل سے اعراب کے اندر ذکر کریں گے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر:
کہتے ہیں: ”أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكِ“۔
”أَخُوكَ“ آپ کا بھئی، اس میں مذکر کی ضمیر بھی پڑھنا صحیح، مؤنث کی پڑھنا بھی صحیح۔ ”أَخُوكَ“ یعنی یہ مذکر کو کہا جا رہا ہے، تو ایک مرد جو ہے تیرا بھئی ”أَخُوكَ“۔ اور ”أَخُوكِ“ مخاطبہ عورت ہے، اس کے لیے آئے گا ”أَخُوكِ“ تیرا بھئی، تمہارا بھئی یعنی عورت ہے۔ ”أَخُوكَ“ کاف پر فتحہ ہو تو یہ مذکر کی ضمیر ہے اور کاف کے نیچے کسرہ ہو تو یہ مؤنث کی ضمیر ہے۔ تو اس میں دیکھو، بھئی مذکر کا بھی ہو سکتا ہے، مذکر مخاطب کا بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث مخاطبہ کا بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہاں ”أَخُوكَ“ پڑھنا بھی صحیح اور ”أَخُوكِ“ پڑھنا بھی صحیح۔ اسی طرح ”أَبُوكَ“ تمہارا باپ، تمہارے ابو، اس میں ”أَبُوكَ“ پڑھنا بھی صحیح اور ”أَبُوكِ“ پڑھنا بھی صحیح۔ لیکن ”حَمُوكِ“ آپ کو بتائیں گے کہ اس کو کاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھنا، اس لیے کیونکہ "حَمْ" جو ہے، "حَمْ" عورت کا جو سسر ہوتا ہے اس کو "حَمْ" کہتے ہیں۔ عورت کا نکاح ہوا تو اس کے خاوند کا جو باپ ہے، وہ اس کا سسر ہے۔ یا اسی طرح خاوند کا بھئی جو ہے، اس کو بھی "حَمْ" کہتے ہیں۔ تو یعنی خاوند کی طرف سے جو عورت کے رشتے دار بن جائیں، ان کو "حَمْ" کہا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ رشتے دار عورت کے ہوئے، لہٰذا ”حَمُوكِ“ یہاں کاف کے نیچے زیر پڑھو یعنی یعنی مؤنث کی ضمیر اس کو پڑھو۔ اس ”حَمُوكِ“ کو کس طرح پڑھنا ہے؟ کاف کے کسرے کے ساتھ کیونکہ "حَمْ" کس کا ہوتا ہے؟ عورت کا ہوتا ہے، بات سمجھ میں آئی؟ جبکہ بعضوں نے کہا کہ میاں بیوی دونوں کی طرف سے ایک دوسرے کے جو رشتے دار بنیں، مرد رشتے دار، ان کو "حَمْ" کہا جاتا ہے۔ معلوم ہوا خاوند کا جو باپ ہے وہ بیوی کے لیے "حَمْ" ہے یا خاوند کا جو بھئی ہے وہ بیوی کے لیے کیا ہے؟ "حَمْ" ہے۔ اور بیوی کا جو باپ ہے وہ خاوند کے لیے "حَمْ" ہے یا اس کا بھئی جو ہے وہ خـ... خاوند کے لیے "حَمْ" ہے۔ تو بعض فرماتے ہیں کہ یہ صرف جو مرد کی طرف سے جو اس کا مرد کا باپ ہے یا اس کا بھئی ہے تو یہ بیوی کے "حَمْ" کہلاتے ہیں جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ نہیں یہ دونوں کے لیے ہیں، مرد کے لیے بیوی کے باپ اور بھئی وغیرہ "حَمْ" ہیں اور بیوی کے لیے خاوند کے باپ اور بھئی "حَمْ" ہیں۔ اگر اس قول کو لے لیا جائے پھر تو ”حَمُوكَ“ اور ”حَمُوكِ“ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، پھر کیونکہ "حَمْ" خاوند کا بھی ہو سکتا ہے جو بیوی کے رشتے دار ہیں اور "حَمْ" بیوی کا بھی ہو سکتا ہے جو خاوند کے رشتے دار ہیں بھئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكِ بِكَسْرِ الْكَافِ“ یہ ”حَمُوكِ“ جو ہے، یہ کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے ”لِأَنَّ الْحَمَ قَرِيبُ الْمَرْأَةِ مِنْ جَانِبِ زَوْجِهَا“ اس لیے کیونکہ "حَمْ" جو ہوتا ہے وہ عورت کا قریبی ہے یعنی اس کا رشتے دار ہے ”مِنْ جَانِبِ زَوْجِهَا“ اس کے خاوند کی جانب سے یعنی اس کا سسر یا خاوند کا بھئی جو ہے ”فَلَا يُضَافُ إِلَّا إِلَيْهَا“ لہٰذا اس "حَمْ" کی اضافت نہیں کی جاتی ”إِلَّا إِلَيْهَا“ مگر مؤنث کی طرف۔ کس کی طرف؟ مؤنث، ”حَمُوكِ“ ہی کہنا پڑے گا، ”حَمُوكَ“ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ عورت کے رشتے دار بن گئے ہیں بھئی۔ ہاں، اور میں نے بتایا اگر دوسرا قول لے لو کہ دونوں... تو پھر اس صورت میں ”حَمُوكِ“ پڑھنا بھی صحیح اور ”حَمُوكَ“ پڑھنا بھی صحیح جب دونوں طرف کے رشتے دار ایک دوسرے کے لیے، میاں بیوی کے لیے "حَمْ" کہلاتے ہیں۔
”وَهَنُوكَ“۔ ”وَهَنُوكَ“ "ہَن" کسے کہتے ہیں؟ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالْهَنُ الشَّيْءُ الْمُنْكَرُ الَّذِي يُسْتَهْجَنُ ذِكْرُهُ“ "ہَن" جو ہے ”اَلشَّيْءُ الْمُنْكَرُ“ وہ ناپسندیدہ چیز ہے ”الَّذِي يُسْتَهْجَنُ ذِكْرُهُ“ جس کا ذکر معیوب ہے۔ جس کا ذکر معیوب ہے، جس کو عیب سمجھا جاتا ہے جس کے ذکر کو۔ بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ "ہَن" کا معنی سمجھ لو، "ہَن" وہ چیز جس کا ذکر عیب سمجھا جاتا ہو، جس کا ذکر کرنا عیب ہو۔ جیسے کہ انسان کی شرمگاہ ہے۔ اب انسان کی شرمگاہ کو "ہَن" کہتے ہیں، اسی طرح کوئی ایسی بات جس کا ذکر عیب جو قابلِ مذمت ہو، بری ہو۔ اس کو بھی "ہَن" کہتے ہیں یا اسی طرح کوئی بری عادت یا فعل وغیرہ ہو اس کو بھی "ہَن" کہتے ہیں۔ تو ہر وہ چیز جس کا ذکر عیب ہو، اس کو عربی میں "ہَن" کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْهَنُ الشَّيْءُ الْمُنْكَرُ الَّذِي يُسْتَهْجَنُ ذِكْرُهُ“ اور "ہَن" وہ ناپسندیدہ چیز ہے، منکر: ناپسندیدہ۔ ”وَالْهَنُ الشَّيْءُ الْمُنْكَرُ الَّذِي يُسْتَهْجَنُ ذِكْرُهُ“ اور "ہَن" وہ ناپسندیدہ چیز ہے کہ جس کا ذکر معیوب ہو یعنی جس کے ذکر کو برا سمجھا جاتا ہے ”كَالْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ“ جیسے کہ عورتِ غلیظہ ہے۔ یاد رکھو، "عورت" عربی زبان میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ عورت وہ چیز جس کو چھپایا جائے بھئی، جس کا ظاہر کرنا عیب ہو بھئی، اس کو عورت کہتے ہیں بھئی، عورت۔ اور خاص طور پر پھر "عورتِ غلیظہ" لفظ جب بولا جائے تو اس سے مراد شرمگاہ ہوتی ہے۔ عورت ہر وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو، اور پھر خاص طور پر جب اس کے ساتھ غلیظہ کی قید لگا دی جائے ”اَلْعَوْرَةُ الْغَلِيظَةُ“ تو پھر یہ خاص طور پر انسان کی شرمگاہ کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں ایک اور ادبی نقطہ آپ کو بتلاؤں بھئی، والد صاحب رحمہ اللہ جو ذکر فرماتے تھے بھئی۔ فرماتے تھے دیکھو: ”اَلْعَوْرَةُ“ عورت کا کیا معنی؟ وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ اور اردو زبان میں بھی خاتون کو عورت کہتے ہیں، خواتین ہیں یا عورتیں ہیں، بولتے ہیں یا نہیں؟ دیکھا! تو اس میں یہ ادبی نقطہ یہ ہے کہ عورت جو ہے اس کو بھی باپرپردہ ہونا چاہیے، اس کا ظاہر کرنا عیب ہے، تو اس میں دیکھو یہ عورت کو جو عورت کہتے ہیں وہ اس وجہ سے عورت کہتے ہیں اردو میں کیونکہ اس کا ظاہر کرنا اور بے پردہ کرنا عیب ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”كَالْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ“ جیسے کہ عورتِ غلیظہ ہے یعنی انسان کی شرمگاہ ”وَالصِّفَاتِ الذَّمِيمَةِ“ اور جیسے کہ قابلِ مذمت صفات ہیں، بتلا رہے ہیں "ہَن" کسے کہتے ہیں: وہ چیز جس کا ذکر کرنا عیب ہو جیسے کہ عورتِ غلیظہ ہے، اور جیسے صفاتِ ذمیمہ ہے، قابلِ مذمت صفات، بری صفات جو ہوتی ہیں ”وَالْأَفْعَالِ الْقَبِيحَةِ“ اور اسی طرح جو قبیح افعال ہیں، ناپسندیدہ افعال ہیں۔ ان سب کو "ہَن" کہتے ہیں، ان کیونکہ ان سب کا ذکر ناپسندیدہ ہے بھئی۔
”وَهَذِهِ الْأَسْمَاءُ الْأَرْبَعَةُ مَنْقُوصَاتٌ وَاوِيَّةٌ“ اور یہ چار اسم جو ہیں: یہ ”أَخُوكَ“، ”وَأَبُوكَ“، ”وَحَمُوكِ“، ”وَهَنُوكَ“، یہ چار اسم ”مَنْقُوصَاتٌ وَاوِيَّةٌ“ یہ ناقصِ واوی ہیں بھئی۔ منقوص، ناقص سے ہے جس کے آخر میں حرفِ علت آئے بھئی۔ آپ جانتے ہیں حروفِ علت واؤ، الف اور یا ہیں بھئی۔ اور جس اسم کے آخر میں حروفِ علت آئیں، اس کو ناقص کہتے ہیں، جس کے درمیان میں آئیں اس کو اجوف کہتے ہیں، اور جس کے شروع میں آئیں اس کو مثال کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ جو چاروں اسم آئے، یہ منقوصاتِ واویہ ہیں یعنی ناقص ہیں اور ناقص بھی کون سے ہیں؟ واوی ہیں یعنی ان کے آخر میں واؤ ہے بھئی۔ یاد رکھو ”أَخٌ“... اس ”أَخٌ“، ”أَبٌ“، ”حَمٌ“، ”هَنٌ“۔ علماءِ نحو فرماتے ہیں کہ ان سب کے آخر میں واؤ تھا جس کو حذف کر دیا گیا، گرا دیا گیا بھئی۔ ان سب کے آخر میں واؤ تھا، ”أَخٌ“ اس وقت تو ہمزہ اور خا ہیں لیکن اس کے آخر میں واؤ بھی تھا جو جس کو گرا دیا گیا، ساقط کر دیا گیا۔ ”أَبٌ“ اس وقت تو ہمزہ اور با ہے لیکن آخر میں کیا تھا؟ واؤ بھی تھا بھئی، اور دلیل کیا ہے؟ تو دیکھو، تثنیہ میں وہ واؤ آ جاتا ہے۔ ”أَبٌ“ کی تثنیہ کیا؟ ”أَبَوَانِ“۔ ”أَخٌ“ کی تثنیہ کیا؟ ”أَخَوَانِ“۔ دیکھا! اور اسی طرح ”حَمٌ“ کی تثنیہ؟ ”حَمَوَانِ“۔ اور ”هَنٌ“ کی؟ ”هَنَوَانِ“۔ تو ان سب میں دیکھو واؤ آ رہا ہے۔ تثنیہ کے اندر، تثنیہ کیسے بناتے ہیں؟ آخر میں الف نون جوڑتے ہیں نا، تو ”أَبَوَانِ“ تو الف نون جوڑا اور یہ واؤ کہاں سے آیا؟ یہ واؤ جو حذف ہوا تھا وہ واپس آ گیا تثنیہ بناتے وقت بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الْأَسْمَاءُ الْأَرْبَعَةُ مَنْقُوصَاتٌ وَاوِيَّةٌ“ اور یہ چار اسماء جو ہیں، یہ منقوصاتِ واویہ ہیں۔
”وَفُوكَ“
”وَفُوكَ“ بھئی یہ ”فُوكَ“ کا معنی ہے آپ کا منہ۔ یہ وہی "فَم" ہے "فَم"، منہ کو کیا کہتے ہیں؟ "فَم"۔ یہ اصل میں تھا "فَوْہٌ" بھئی، توجہ ہے؟ "فَم" کا لاـ... "فَم" منہ کو کہتے ہیں، یہ اصل میں "فَوْہٌ" تھا بھئی، آخر میں ہا تھی اور درمیان میں واؤ تھا، تو یہ اجوف ہوا، اجوفِ واوی ہوا، توجہ ہے؟ درمیان میں واؤ ہے تو اجوفِ واوی ہوا، پھر اس ہا کو خلافِ قیاس حذف کر لیا گیا، خلافِ قیاس، تو کیا رہ گیا؟ "فَوٌ"۔ واؤ متحرک ہو گیا اور ماقبل فا پر فتحہ ہے، اور واؤ یا یا متحرک ہوں اور ماقبل فتحہ ہو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، تو کیا بن جاتا؟ "فَانْ" بھئی، نونِ تنوین بھی تو ہے آخر میں، "فَوٌ" سے کیا بن جاتا؟ "فَانْ"۔ اور پھر الف گر جاتا تو کیا رہ جاتا؟ "فَنْ" یعنی صرف فا رہ جاتی، صرف فا رہ جاتی۔ تو اصل میں یہ "فَوْہٌ" تھا، ہا کو خلافِ قیاس حذف کر دیا گیا اور پھر واؤ کو میم سے بدل دیا گیا کیونکہ اگر واؤ کو باقی رکھتے تو واؤ نے بھی گر جانا تھا۔ واؤ نے اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر جانا تھا الف ہو کر بھئی، تو لہٰذا اس کو کس سے بدل دیا گیا؟ میم سے، کیونکہ واؤ بھی شفوی ہے اور میم بھی شفوی ہے۔ "شَفَۃٌ" کس کو کہتے ہیں؟ ہونٹ کو، تو واؤ بھی ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے اور میم بھی۔ آپ ذرا واؤ ادا کریں۔ واؤ! دیکھا! یہ ہونٹوں سے ادا ہو رہا ہے۔ میم ادا کریں ذرا۔ میم! دیکھا! اس... یہ بھی ہونٹوں سے ادا ہو رہا ہے۔ تو واؤ بھی شفوی تھا، ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے، میم بھی شفوی ہے، ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے، تو واؤ کو میم سے بدل دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر جب اضافت کرتے ہیں تو وہ واؤ آپ واپس لے آتے ہیں۔ جیسے ”فُوكَ“، "فَمُکَ" نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ ”فُوكَ“۔ ”فُوكَ“ وہ واؤ واپس آ گیا، کیوں؟ کیونکہ اب آخر میں مضاف الیہ آ کر جڑ گیا ہے، اب واؤ کے گرنے کا خطرہ نہیں بھئی۔ اب تو اضافت ہو رہی ہے، اب تو آخر میں تنوین ہے ہی نہیں، اب واؤ کے گرنے کا خطرہ نہیں، لہٰذا اس میں پھر واؤ پڑھتے ہیں بھئی۔ اور یاد رکھنا، یہ واؤ کو واپس لانا ضروری نہیں ہے اضافت کے وقت، کبھی اسی میم کو برقرار رکھتے ہیں اور کبھی واپس واؤ کو لے آتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں طرح صحیح ہے: واؤ کے ساتھ بھی ”فُوكَ“ کہنا بھی صحیح اور "فَمُکَ" یوں میم کے ساتھ کہنا بھی صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفُوكَ وَهُوَ أَجْوَفُ وَاوِيٌّ“۔ یاد رکھو، ان سب کے اندر جو کاف آ رہے ہیں، سوائے ”حَمُوكِ“، اس میں کاف کے نیچے کسرہ پڑھیں، باقی سب کے اندر کاف پر فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں، مذکر کی ضمیر بھی بنا سکتے ہیں اور کاف کے نیچے کسرہ بھی پڑھ سکتے ہیں یعنی مؤنث کی ضمیر بھی۔
تو کہتے ہیں: ”وَفُوكَ وَهُوَ أَجْوَفُ وَاوِيٌّ“ اور یہ اجوفِ واوی ہے، ”لاَمُهُ هَاءٌ“ بھئی، اجوف ہے موصوف، "واویٌّ" اس کی صفتِ اول ہے، توجہ ہے؟ اور اجوف نکرہ ہے اور آپ نے پڑھا ہے نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے، اور فعل ویسے ہی نکرہ کے لیے صفت بنے گا یا پورا جملہ بن کر صفت بنے گا؟ پورا جملہ بن کر صفت بنے گا، معلوم ہوا جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی ”لاَمُهُ“ یہ ہے مبتدا اور ”هَاءٌ“... تو ”لاَمُهُ“ ہے مبتدا اور ”هَاءٌ“ ہے اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو اجوف نکرہ ہے موصوف ہے، "واویٌّ" اس کی صفتِ اول ہے اور ”لاَمُهُ هَاءٌ“ یہ جملہ اسمیہ جو مبتدا خبر سے مل کر بن رہا ہے، یہ اس کی صفتِ ثانی ہے۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لاتے ہیں۔ اب ترجمہ سنو: ”وَهُوَ أَجْوَفُ وَاوِيٌّ لاَمُهُ هَاءٌ“ اور یہ ایسا اجوفِ واوی ہے جس کا لام ہا ہے۔ جس کا لام ہا ہے، ”إِذْ أَصْلُهُ فَوْهٌ“ اس لیے کیونکہ اس کی اصل "فَوْہٌ" ہے۔ "فَوْہٌ" بھئی، فا کس کی جگہ؟ حروفِ اصلیہ کا پتہ کیسے چلاتے ہیں؟ فا، عین، لام کے مقابلے میں لاتے ہیں، تو "فَوْہٌ" بروزنِ "فَعْلٌ"۔ فا کے مقابلے میں فا، یہ بھی حرفِ اصلی، واؤ عین کے مقابلے میں، معلوم ہوا واؤ اصلی ہے، تو یہ اجوفِ واوی ہے، اور لام کے مقابلے میں ہا ہے، تو وہ ہا گر گئی جو لام کے مقابلے میں تھی۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهُوَ أَجْوَفُ وَاوِيٌّ لاَمُهُ هَاءٌ إِذْ أَصْلُهُ فَوْهٌ“ یہ ایسا اجوفِ واوی ہے کہ اس کا لام ہا ہے کیونکہ اس کی اصل جو ہے وہ "فَوْہٌ" ہے۔
”وَذُو مَالٍ“
”وَذُو مَالٍ“ کہتے ہیں: ”وَهُوَ لَفِيفٌ مَقْرُونٌ“۔ ادھر دیکھیے بھئی، آپ جانتے ہیں لفائف... لفیف کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو حرفِ اصلی حروفِ علت ہوں بھئی، اور پھر یہ دو قسم پر ہے: ایک لفیفِ مقرون، ایک لفیفِ مفروق۔ لفیفِ مقرون کسے کہتے ہیں؟ کہ مقرون "قرن" سے ہے: ملے ہوئے، جس میں دونوں حرفِ علت ملے ہوئے ہوں، اکٹھے ہوں، ساتھ ساتھ ہوں، اور یہ عین اور لام کی جگہ جب حرفِ علت آ جائیں تو اس کو لفیفِ مقرون کہتے ہیں۔ عین اور لام کی جگہ، دیکھو عین اور لام جڑے ہوئے ہیں، درمیان میں کوئی اور حرف نہیں آ رہا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ لفیفِ مقرون۔ اور اگر حروفِ علت ایک فا کی جگہ آئے اور ایک لام کی جگہ آئے تو دیکھو دو حرفِ علت آ گئے، ہے تو لفیف لیکن کون سا لفیف ہے؟ مفروق ہے کیونکہ یہ دو حرفِ علت یہ آپس میں جدا جدا ہیں بھئی، درمیان میں عین آ رہا ہے، وہ حرفِ علت نہیں ہے۔ تو لفیفِ مقرون کسے کہیں گے جس میں دونوں حرفِ علت اکٹھے ہوں، جڑے ہوئے ہوں، اور لفیفِ مفروق کسے کہیں گے جس میں دونوں حرفِ علت جدا جدا ہوں، الگ الگ ہوں بھئی۔
اب "ذو" کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے کہ یہ بھئی لفیفِ مقرون ہے، اصل میں یہ تھا "ذَوَوٌ" بھئی، "ذَوَوٌ"۔ تو دیکھو دو واؤ آ رہے ہیں اور دونوں اکٹھے ہیں، درمیان میں کوئی اور حرف نہیں، تو یہ لفیفِ مقرون ہے بھئی، لفیفِ مقرون۔ تو اس میں سے بھی آخر سے ایک واؤ کو حذف کر دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ لَفِيفٌ مَقْرُونٌ بِالْوَاوَيْنِ“ اور یہ لفیفِ مقرون ہے دو واؤ کے ساتھ ”إِذْ أَصْلُهُ ذَوَوٌ“ اس لیے کیونکہ اس کی اصل کیا ہے؟ "ذَوَوٌ" ہے بھئی، "ذَوَوٌ" ہے۔
”وَإِنَّمَا أُضِيفَ...“ بھئی دیکھیے، ذرا مثالوں پر غور کیجیے: ”أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكِ وَهَنُوكَ وَفُوكَ وَذُو مَالٍ“۔ باقی سب کی اضافت ضمیر کی طرف کی ہے اور "ذو" کی اضافت ضمیر کی طرف نہیں کی بلکہ "مال" کی طرف کر دی، تو یہ اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی، وجہ یہ ہے کہ جو "ذو" ہے، "ذو" اس کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ مضاف ہو اسمِ جنس کی طرف۔ کس کی طرف مضاف ہو؟ اسمِ جنس کی طرف مضاف ہو، یہ ضمیر کی طرف مضاف ہوتا ہی نہیں۔ یہ اسمِ جنس کو کسی کی صفت بناتا ہے۔ جیسے مثلاً "مال" ہے، میں مال کو "رجل" کی صفت بنانا چاہتا ہوں لیکن "رَجُلٌ مَالٌ" میں نہیں کہہ سکتا بھئی، کیونکہ رـ... رجل اور ہے، مال اور، تو پھر "ذو" کا سہارا لیا جاتا ہے: "رَجُلٌ ذُو مَالٍ" مال والا آدمی، اب دیکھو، ترجمہ ٹھیک ہو گیا۔ اب اس کا صفت بننا صحیح۔ تو "ذو" کا کیا معنی ہے؟ "والا"، "والا"۔ "ذُو مَالٍ": مال والا، اور اس کی مؤنث یاد رکھو "ذات" آتی ہے۔ اگر عورت ہو مال والی تو کہیں گے: "امْرَأَةٌ ذَاتُ مَالٍ" مال والی عورت۔ تو مذکر کے لیے "ذو" اور مؤنث کے لیے "ذات"۔
اور پھر یاد رکھو، یہ جو "ذو" ہے، اس کی جمع "ذَوُونَ" بھی آتی ہے اور اسی طرح "أُولُو" بھی آتی ہے۔ "ذَوُونَ" اسی لفظ سے ہے، دیکھو یہ جیسے "رجل" کی جمع کیا ہے؟ "رجال"، دیکھو لفظ وہی حروف جو "رجل" میں تھے، وہی کس میں ہیں؟ "رجال" میں۔ اور یہ جو "ذو" ہے اس کی جمع "ذَوُونَ" بھی آتی ہے اور "أُولُو" بھی آتا ہے۔ "ذَوُونَ"... دیکھو آپ کہنا چاہتے ہیں: کئی آدمی مال والے، تو کیا کہیں گے؟ "رَجُلٌ ذَوُو مَالٍ"۔ ایک آدمی ہے تو "رَجُلٌ ذُو مَالٍ"، اور کئی آدمی ہیں تو "رَجُلٌ ذَوُو مَالٍ" کہیں گے بھئی، اور "أُولُو" بھی کہہ سکتے ہیں: "رِجَالٌ أُولُو مَالٍ" بھی کہہ سکتے ہیں۔ معلوم ہوا "ذَوُونَ" بھی جمع ہے "ذو" کی اور "أُولُو" بھی جمع ہے "ذو" کی۔ یعنی معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں ہے کیونکہ "ذو" کے اندر ذال اور واؤ آ رہے ہیں، "أُولُو" کے اندر تو ذال اور واؤ نہیں ہیں۔ تو لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے "أُولُو" اس کی جمع ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لفظوں کے اعتبار سے "ذو" کی جمع کیا؟ "ذَوُونَ"، جیسے "مسلمُونَ"۔ توجہ ہے؟ "مسلمُونَ" حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ؟ واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی، جری میں یا کے ساتھ۔ "ذَوُو مَالٍ" حالتِ رفعی میں کہیں گے، حالتِ نصبی، جری میں کہیں گے "ذَوِي مَالٍ"، نون اضافت سے گر گیا بھئی۔ اور اسی کی جمع "أُولُو" بھی آتی ہے لیکن "أُولُو" کو کہتے ہیں کہ یہ اس کے لفظ سے نہیں ہے جمع۔ "ذو" کی جمع "ذَوُونَ" بھی آتی ہے اور "أُولُو" بھی، لیکن "ذَوُونَ" اسی کے لفظ سے ہے، جیسے "ذو" کے اندر ذال اور واؤ، اسی طرح "ذَوُونَ" میں بھی ذال اور واؤ، تو کہتے ہیں یہ اسی کے لفظ سے جمع آ رہی ہے۔ اور "أُولُو"، "أُولُو" معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں کیونکہ لفظوں کے اعتبار سے تو "ذو" میں ذال اور واؤ ہیں اور "أُولُو" میں تو ذال اور واؤ نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى الاِسْمِ الظَّاهِرِ دُونَ الْكَافِ“ اور "ذو" جو ہے اس کی اضافت اسمِ ظاہر کی طرف کی جاتی ہے نہ کہ کاف یعنی ضمیر کی طرف، ”لِأَنَّهُ لَا يُضَافُ إِلَّا إِلَى أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ“ اس لیے کیونکہ اس کی اضافت نہیں کی جاتی مگر اسماءِ اجناس کی طرف۔ "ذو" کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ اسمِ جنس کو کسی چیز کی صفت بنائے۔ جیسے "رجل" کی صفت میں "مال" بنانا چاہتا ہوں لیکن "مال" براہِ راست صفت نہیں بن سکتی تو اس کے لیے کس کو وضع کیا گیا ہے؟ "ذو" کو، یہ "ذو" آ کر اس "مال" کو اس "رجل" کی صفت بنائے گا۔ کیسے کہیں گے؟ "رَجُلٌ ذُو مَالٍ"۔ تو "رَجُلٌ مَالٌ" میں نہیں کہہ سکتا تھا تو میں نے "ذو" کا سہارا لیا، اس کی مدد لی: "رَجُلٌ ذُو مَالٍ" مال والا آدمی، یا "رَجُلٌ ذُو عِلْمٍ" علم والا آدمی، "رَجُلٌ ذُو فَضْلٍ" فضل والا آدمی، "رَجُلٌ ذُو جَاهٍ" مرتبے والا، بڑے مرتبے والا آدمی۔ تو "ذو" کو اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ یہ جنس کو صفت بناتا ہے کسی چیز کے لیے، تو یہ ہمیشہ اسمِ جنس کی طرف مضاف ہوگا، ضمیر کی طرف مضاف نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى الاِسْمِ الظَّاهِرِ دُونَ الْكَافِ لِأَنَّهُ لَا يُضَافُ إِلَّا إِلَى أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ“ اور "ذو" جو ہے اس کی اضافت کی جاتی ہے اسمِ ظاہر کی طرف نہ کہ کاف کی طرف، اس لیے کیونکہ اس کی اضافت نہیں کی جاتی مگر اسماءِ اجناس کی طرف۔
”فَإِعْرَابُ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ السِّتَّةِ...“ اچھا بھئی، بھئی دیکھیے، یہ عبارت آئی، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ ”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى... إِلَى...“ اور آگے ”اَلِاسْمِ“ ہے، کیسے پڑھیں گے؟ عموماً طلباء پڑھتے ہیں: "إِلَى الاِسْمِ"، "إِلَى الاِسْمِ"۔ نہیں بھئی، "اسم" کا ہمزہ وصلی ہے، وہ درجِ عبارت میں گر جائے گا۔ تو "اسم" کا سین بھی ساکن اور ماقبل میں لام بھی ساکن، تو پھر اب ”اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“ تو لام کو کسرہ والی حرکت دے دی، کیا بن گیا؟ "اَلِاسْمِ"، "اَلِاسْمِ"۔ اور پھر جب اس "اَلِاسْمِ" پر کوئی اور حرف داخل ہوگا تو یہ "اَلْ" کا ہمزہ بھی گر جائے گا کیونکہ یہ بھی ہمزہِ وصلی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس پر "إِلَى" لفظ آیا، کیا لفظ آیا؟ "إِلَى" آیا۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ جب اس طرح کوئی حرف وغیرہ داخل ہو بھئی، تو اس کا طریقہ کیا ہے کہ "اَلْإِسْلَامُ" پر اس کو داخل کر کے پڑھو: "اَلْإِسْلَامُ"، اس میں ہمزہ قطعی ہے "إسلام" کا، تو وہ نہیں گرے گا۔ اب اس پر "إِلَى" کو داخل کرو، کیسے پڑھیں گے؟ "إِلَى الْإِسْلَامِ"، دیکھو پہلے تھا "إِلَى"، "إِلَى" کے آخر میں الف تھا، لیکن "إِلَى الْإِسْلَامِ" دیکھو وہ الف گر گیا۔ الف گر گیا، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”إِلَى لِسْمِ“ آیا، ”إِلَى لِسْمِ“۔ اور یہاں پر دیکھو لام کیا ہے؟ لام کو ہم نے کسرہ والی حرکت دے دی ہے اور یہ حرکت اس کی عارضی ہے یا مستقل ہے؟ یہ حرکت اس کی عارضی ہے کیونکہ لام بھی ساکن تھا، سین بھی ساکن تھا، تو ہم نے لام کو کسرہ والی حرکت دے دی تو یہ عارضی حرکت ہے، اور یاد رکھو عارضی حرکت کا کوئی اعتبار نہیں، یوں سمجھو یہ ابھی بھی ساکن ہے۔ یہ ابھی بھی ساکن ہے اور اس پر آ گیا "إِلَى"، تو "إِلَى" کے آخر میں الف ساکن اور اگلا لام "لِسْمِ" کا لام بھی ساکن ہے، تو اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آیا، اور اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آئے تو کیا کرتے ہیں؟ اگر اول مدہ ہو تو اس کو گراتے ہیں، اگر مدہ نہ ہو تو پھر ”اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ“ پھر اس کو حرکت دیتے ہیں۔ تو "إِلَى" کا الف بھی ساکن اور آگے "لِسْمِ" کا لام بھی ساکن، تو اب الف اور لام دو ساکن اکٹھے ہو گئے اور ان میں سے اول الف جو ہے وہ حرفِ مدہ ہے تو وہ گر جائے گا۔ تو "إِلَى" نہیں پڑھیں گے، اب "إِلَ" پڑھیں گے "إِلَ"، صرف لام پر زبر پڑھیں گے اور "لِسْمِ" کے لام کے نیچے اسی طرح زیر پڑھنا ہے: "إِلَى لِسْمِ"، "إِلَ لِسْمِ"۔ دیکھو، اب دیکھو میں عبارت پڑھوں گا: ”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى لِسْمِ الظَّاهِرِ“ ”إِلَى لِسْمِ الظَّاهِرِ“۔ سننے والا سمجھتا ہے شاید میں نے یہ پڑھا: "إِلَى الاِسْمِ الظَّاهِرِ"۔ پہلے دیکھو ایک میں، میں "اسم" پڑھوں گا، "اسم"، اور یہ پڑھنا درست نہیں ہے، غلط ہے بھئی، لیکن دیکھو: ”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى الاِسْمِ“۔ اور پھر اب میں بغیر ہمزہ کے پڑھوں گا، صحیح طریقے سے: ”وَإِنَّمَا أُضِيفَ ذُو إِلَى لِسْمِ“۔ دیکھو، سننے سے پتہ نہیں چلتا تو صحیح طریقہ یہ ہے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اسی طرح اگر اس "اَلِاسْمِ" پر "فِي" داخل ہوتا تو کیسے پڑھتے؟ "اَلْإِسْلَامُ" پر "فِي" داخل کرو: "فِي الْإِسْلَامِ"۔ وہاں پر بھی دیکھو "اَلْإِسْلَامُ" کا لام بھی ساکن اور "فِي" کی یا بھی ساکن، تو اجتماعِ ساکنین آیا، اول مدہ ہے، یا اس کو گرا دیا، تو کیا بن گیا؟ "فِي الْإِسْلَامِ"، یا گر گئی۔ اگر یا ہوتی تو کیسے پڑھتے؟ "فِيلِ إِسْلَامِ"، لیکن یا تو گر گئی: "فِلْ إِسْلَامِ"۔ معلوم ہوا "فِي" کو جب "اَلْإِسْلَامُ" سے جوڑتے ہیں تو یا گر جاتی ہے، فا کے نیچے صرف زیر پڑھتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی ذرا "فِي" لے آؤ، "اَلِاسْمِ" پر "فِي" لے آؤ، کیسے پڑھیں گے؟ "فِي"..."فِي" کو داخل کرو: "فِي لِسْمِ"، "فِي لِسْمِ"۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
اچھا، ذرا "مِنْ" اگر یہاں ہوتا، "مِنْ" کیسے پڑھتے؟ "مِنَ الْإِسْلَامِ"، دیکھا! وہاں معلوم ہوا نون پر زبر پڑھتے ہیں، نون پر زبر۔ تو یہاں ذرا "مِنْ" لے آؤ، "اَلِاسْمِ" پر داخل کرو: "مِنَ لِسْمِ"، وہاں "مِنَ الْإِسْلَامِ" پڑھتے تھے، نون پر زبر پڑھتے تھے، یہاں بھی نون پر زبر پڑھو: "مِنَ لِسْمِ"۔ یہ تو طلباء سب اسی طرح پڑھتے ہیں: "مِنَ لِسْمِ"۔ "مِنَ لِسْمِ"، جوڑنے کی نہیں ضرورت، "مِنَ لِسْمِ"۔ دیکھو، "مِنَ لِسْمِ"، سننے والا سمجھتا ہے شاید "مِنَ الاِسْمِ" پڑھ رہے ہیں حالانکہ "مِنَ الاِسْمِ" میں نہیں پڑھ رہا، "مِنَ لِسْمِ"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو اس طرح کا جب بھی موقع آ جائے کہ یہ جو لام کو حرکت دے دی ہے، "اَلِاسْمِ" نے دیکھو لام کو کیا دے دی ہے؟ حرکت دے دی ہے کیونکہ اسم کا ہمزہ گر چکا ہے، لام بھی ساکن ہے، آگے سین بھی ساکن ہے۔ تو اس طرح کے لفظ پر جب بھی آپ نے کسی حرف کو داخل کیا اور آپ پریشان ہیں کہ پڑھنا کیسے ہے، تو اس کو "اَلْإِسْلَامُ" پر داخل کر کے دیکھو، جیسی... جیسے وہاں کیا جاتا ہے، ویسا ہی یہاں بھی کر کر اس کو پڑھ دیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ آگے دیکھیے۔
کہتے ہیں: ”فَإِعْرَابُ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ السِّتَّةِ“ تو اعراب ان چھ اسموں کا... بھئی چھ کے چھ گنوا دیے، ہر ایک کے بارے میں تفصیل بھی بیان کر دی صاحبِ جامی نے، اب ان کا اعراب بیان کریں گے۔ ان کا اعراب آپ جانتے ہیں، ان کا اعراب کس طرح ہے؟ رفع واؤ کے ساتھ، اور نصب الف کے ساتھ، اور جر یا کے ساتھ۔ وہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”فَإِعْرَابُ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ السِّتَّةِ“ تو ان چھ اسموں کا اعراب جو ہے ”بِالْوَاوِ“ رفعاً، واؤ کے ساتھ آئے گا۔ ”بِالْوَاوِ“... دیکھو، متن متن ذرا دیکھو:
”بِالْوَاوِ وَالْأَلِفِ وَالْيَاءِ“
ان کا اعراب جو ہے ”بِالْوَاوِ وَالْأَلِفِ وَالْيَاءِ“ واؤ، الف اور یا کے ساتھ آئے گا۔ صاحبِ قافیہ کے پاس الفاظ نہیں ہوتے، مختصر لفظوں میں لمبی بات کرنی ہے، تو بس اتنا بتا دیا: ان کا اعراب واؤ، الف اور یا کے ساتھ آئے گا۔ واؤ کہاں آئے گا، الف کہاں آئے گا، یا کہاں آئے گا، یہ نہیں بتایا، وہ آپ خود سمجھ جائیں۔ واؤ کب آئے گا؟ حالتِ رفعی میں۔ الف کس حالت میں آئے گا؟ حالتِ نصبی میں، اور یا کس حالت میں آئے گی؟ حالتِ جری میں۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں، دیکھو: ”بِالْوَاوِ رَفْعًا“ یعنی أي حالۃ الرفع، تو ان کا اعراب واؤ کے ساتھ ہوگا حالتِ رفع میں، ”وَالْأَلِفِ“ اور ان کا اعراب الف کے ساتھ ہوگا ”نَصْبًا“ أي حالۃ النصب، نصب کی حالت میں، ”وَالْيَاءِ“ اور ان کا اعراب یا کے ساتھ ہوگا ”جَرًّا“ أي حالۃ الجر یعنی جر کی حالت میں۔
”وَلَكِنْ لَا مُطْلَقًا، بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا...“ جی، اب شرطیں بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ اسماءِ ستہ مکبرہ کا یہ اعراب ہوگا واؤ، الف اور یا کے ساتھ، لیکن کتنی شرطیں ہیں؟ تین۔ کون کون سی؟ مکبرہ ہونے چاہئیں، مصغر نہیں، نیز، دوسری شرط: موحد یعنی مفرد ہونے چاہئیں، تثنیہ، جمع نہیں ہونے چاہئیں، اور تیسری شرط: کہ یہ مضاف ہونے چاہئیں یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف بھئی۔ بغیر اضافت کے ہوں گے تو بھی ان کا یہ اعراب نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بغیر اضافت کے ہوں تو کیسے پڑھیں گے؟ ”جَاءَنِي أَخٌ“، ”رَأَيْتُ أَخًا“، ”مَرَرْتُ بِأَخٍ“۔ توجہ ہے؟
تو ان کا اعراب واؤ، الف اور یا کے ساتھ ہوگا ”وَلَكِنْ لَا مُطْلَقًا بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً“ لیکن مطلقاً ان کا اعراب واؤ، الف اور یا کے ساتھ نہیں ہوگا۔ مطلقاً یعنی بغیر کسی قید کے، ان کا اعراب ہمیشہ واؤ، الف، یا کے ساتھ آئے، نہیں نہیں، تین شرطیں ہیں، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں صاحبِ جامی بھئی: ”بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً“ بلکہ مکبر ہونے کی حالت میں، ”إِذْ مُصَغَّرَاتُهَا مُعْرَبَةٌ بِالْحَرَكَاتِ“ اس لیے کیونکہ ان کے جو مصغرات ہیں، وہ حرکات کے ساتھ معرب ہیں۔
ان کا اعراب اسماءِ ستہ مکبرہ... ابھی بتایا، ان کا اعراب کس کے ساتھ ہے؟ واؤ، الف اور یا کے ساتھ، لیکن کس وقت؟ جب یہ مکبر بھی ہوں، مفرد بھی ہوں اور یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف مضاف بھی ہوں۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط ختم ہوئی تو پھر یہ اعراب واؤ، الف، یا کے ساتھ نہیں آئے گا۔ مثلاً پہلی شرط کیا؟ کہ یہ مکبر ہونے چاہئیں۔ اگر مکبر والی شرط ختم کر دو، مصغر لے آؤ، مثلاً "أخ" کی تصغیر ہے "أُخَیٌّ"، "أخ" کی تصغیر کیا ہے؟ "أُخَیٌّ"، "فُعَيْلٌ" وزن ہے نا، "أُخَیٌّ"، دو یا تھیں پھر یا کا یا میں ادغام کر دیا، کیا بن گیا؟ "أُخَیٌّ"۔ تو "أُخَیٌّ"... تو اس کے آخر میں یاءِ مشدد آ رہی ہے، اور یاد رکھنا، جس اسم کے آخر میں یاءِ مشدد یا واؤِ مشدد آ جائے وہ جاری مجرائے صحیح ہے۔ جس اسم کے آخر میں یاءِ مشدد یا واؤِ مشدد آ جائے وہ کیا ہے؟ جاری مجرائے صحیح، اور جاری مجرائے صحیح کا اعراب کس طرح آتا تھا؟ "زید" کی طرح تھا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“۔ جیسے ”جَاءَنِي دَلْوٌ“، ”رَأَيْتُ دَلْوًا“، ”مَرَرْتُ بِدَلْوٍ“۔ تو ان میں تینوں اعراب الگ الگ حرکتوں کے ساتھ آتے ہیں۔ جیسے "لاہوریٌّ": ”جَاءَنِي لَاهُورِيٌّ“، ”رَأَيْتُ لَاهُورِيًّا“، ”مَرَرْتُ بِلَاهُورِيٍّ“۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ جس اسم کے آخر میں بھی کیا آ جائے؟ واؤِ مشدد یا یاءِ مشدد، وہ دراصل کیا ہے؟ جاری مجرائے صحیح ہے۔ بھئی، جاری مجرائے صحیح کسے کہتے تھے؟ جس کے آخر میں واؤ یا یا ہو اور ماقبل اس کا ساکن ہو۔ تو "لاہوریٌّ" بھی ایسا ہی ہے، "لاہوریٌّ" اس کے آخر میں یہ جو یاءِ مشدد ہے دراصل کتنی یا ہیں؟ دو یا، جن میں سے پہلی ساکن ہے اور دوسری متحرک ہے۔ تو یا متحرک، ماقبل ساکن آ گیا یا نہیں؟ "ظبیٌّ" کی طرح ہوا کہ نہیں؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح "مدعوٌّ" مثلاً، "مدعوٌّ" کے آخر میں کیا ہے؟ واؤِ مشدد، اور واؤِ مشدد دراصل کتنے واؤ ہوتے ہیں؟ دو واؤ، جن میں سے پہلا ساکن ہوتا ہے اور دوسرا متحرک، تو آخر میں گویا واؤ آیا اور واؤ کا ماقبل جو واؤ ہے وہ ساکن ہے۔ دو یا ہیں نا، دوسری متحرک ہے تو پہلے اس سے ماقبل والی یا کیا ہوئی؟ ساکن۔ اسی طرح "مدعوٌّ" میں بھی کتنے واؤ ہیں؟ دو، دوسرا واؤ تو متحرک ہے لیکن پہلا کیا ہے؟ ساکن، تو دیکھو واؤ اور یا اور ماقبل ساکن ہے تو یہ جاری مجرائے صحیح ہے بھئی۔
تو بات یہ چل رہی تھی کہ اسماءِ ستہ مکبرہ جو ہیں، ان کا اعراب واؤ، الف، یا کے ساتھ آئے گا، لیکن تین شرطیں ہیں: مکبر بھی ہوں اور مفرد بھی ہوں اور یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف مضاف بھی ہوں۔ تو مضاف بھی ہونا چاہیے لیکن یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف بھئی۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط نہیں ہوگی تو پھر یہ اعراب نہیں ہوگا، مثلاً اگر مکبر والی شرط پوری نہیں ہے، ان کی تصغیر لے آؤ، میں نے بتایا "أخ" کی تصغیر کیا آتی ہے؟ "أُخَیٌّ"۔ جب "أُخَیٌّ" آیا تو یہ کون سی قسم بن گیا اعراب کے اعتبار سے؟ جاری مجرائے صحیح بن گیا، کیا بن گیا؟ جاری مجرائے صحیح، اور جاری مجرائے صحیح میں اعراب تینوں طرح کے آتے ہیں: ”جَاءَنِي ظَبْيٌ“، ”رَأَيْتُ ظَبْيًا“، ”مَرَرْتُ بِظَبْيٍ“۔ یہاں بھی اسی طرح ہوگا: ”جَاءَنِي أُخَيُّكَ“، ”جَاءَنِي...“ توجہ ہے؟ تین شرطیں تھیں نا، کون کون سی؟ مکبر بھی ہو، موحد بھی ہو اور مضاف بھی ہو غیر یاءِ متکلم کی طرف۔ ہم نے صرف پہلی شرط ختم کی ہے، مکبر نہیں لائے بلکہ کیا لے آئے؟ مصغر لے آئے، باقی موحد والی شرط ابھی بھی ہے۔ "أُخَيُّكَ" مفرد ہے، تثنیہ یا جمع ہے؟ مفرد ہے، اور نیز مضاف ہو رہا ہے کاف کی طرف یعنی غیر یاءِ متکلم کی طرف، تو دو شرطیں تو پوری ہیں: مفرد بھی ہے اور مضاف بھی ہے غیر یاءِ متکلم کی طرف، لیکن پہلی شرط پوری نہیں کہ مکبر نہیں ہے، تو اس صورت میں وہی جاری مجرائے صحیح والا اعراب آئے گا: ”جَاءَنِي أُخَيُّكَ“، ”رَأَيْتُ أُخَيَّكَ“، ”مَرَرْتُ بِأُخَيِّكَ“۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
کہتے ہیں: ”إِذْ مُصَغَّرَاتُهَا مُعْرَبَةٌ بِالْحَرَكَاتِ“ اس لیے کیونکہ ان کے جو مصغرات ہیں، وہ حرکات کے ساتھ معرب ہیں ”نَحْوُ: جَاءَنِي أُخَيُّكَ وَرَأَيْتُ أُخَيَّكَ وَمَرَرْتُ بِأُخَيِّكَ“۔ تو "أُخَيُّكَ" آپ کا چھوٹا بھئی۔
”وَمُوَحَّدَةً“ اور دوسری شرط کیا ہے؟ پیچھے کیا آیا تھا؟ ”وَلَكِنْ لَا مُطْلَقًا بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً“ کہ مطلقاً ان کا اعراب واؤ، الف، یا کے ساتھ نہیں ہے ”بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً“ بلکہ مکبر ہونے کی حالت میں ہے، آگے آ رہا ہے: ”وَمُوَحَّدَةً“ أي حالۃ کونہا موحدۃ، ان کے موحد ہونے کی حالت میں ہے، یہ دوسری شرط آ گئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ "موحدۃً" کا عطف کس پر ہے؟ "مکبرۃً" پر ہے بھئی، ”بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً وَمُوَحَّدَةً“۔ اور موحد ہونے کی حالت میں ”إِذِ الْمُثَنَّى وَالْمَجْمُوعُ مِنْهَا مُعْرَبٌ بِإِعْرَابِ التَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے جو تثنیہ اور جمع ہوں، وہ معرب ہوں گے تثنیہ اور جمع کے اعراب کے ساتھ۔ تثنیہ اور جمع... مثلاً تثنیہ بناؤ "أخ" کی: "أَخَوَانِ"۔ جی، حالتِ رفعی میں کیا کہیں گے؟ ”جَاءَنِي...“ ”جَاءَنِي أَخَوَاكَ“ ”جَاءَنِي...“ ”أَخَوَاكَ“۔ اب صرف دوسری شرط ختم کی ہے ہم نے، مکبر ہے ابھی بھی، تصغیر تو نہیں لائے، "أَخَوَاكَ"، تصغیر نہیں ہے۔ ہاں، موحد کی شرط ہم نے ختم کر دی، مفرد نہیں رکھا بلکہ کیا لے آئے؟ تثنیہ لے آئے، اور اضافت ابھی بھی ہے کاف ضمیر کی طرف۔ تو ”جَاءَنِي أَخَوَاكَ“، ”رَأَيْتُ أَخَوَيْكَ“، ”مَرَرْتُ بِأَخَوَيْكَ“۔ تو دیکھو، جب موحد نہ رہے تو پھر تثنیہ ہوئے تو تثنیہ والا اعراب آئے گا اور جمع ہوئے تو جمع والا اعراب آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمُوَحَّدَةً“ اور اس حال میں کہ وہ موحد ہوں، یہ دوسری شرط آ گئی، ”إِذِ الْمُثَنَّى وَالْمَجْمُوعُ مِنْهَا مُعْرَبٌ بِإِعْرَابِ التَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ“ اس لیے کیونکہ تثنیہ اور جمع ان میں سے جو ہیں، وہ معرب ہیں تثنیہ اور جمع کے اعراب کے ساتھ۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟
انہوں نے کیا کہا تھا؟ ”بِالْوَاوِ وَالْأَلِفِ وَالْيَاءِ“ کہ اسماءِ ستہ کا اعراب کیا ہے؟ واؤ، الف اور یا کے ساتھ۔ آگے بتلا دیا: ”وَلَكِنْ لَا مُطْلَقًا“ مطلقاً نہیں ہے ”بَلْ حَالَةَ كَوْنِهَا مُكَبَّرَةً وَمُوَحَّدَةً“ بلکہ مکبر اور موحد ہونے کی حالت میں یہ اعراب ہے۔ اچھا، آگے ابھی ایک اور شرط بھی آنے والی ہے کہ اضافت بھی ہو، وہ بھی آئے گی آگے:
”مُضَافَةً إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“ اس حال میں کہ یہ مضاف ہوں لیکن یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف مضاف ہوں۔ توجہ ہے؟ یہ متن ہے: ”مُضَافَةً إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“۔
متـ... ذرا متن متن پھر دیکھو، صرف متن دیکھو: ”أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكِ وَهَنُوكَ وَفُوكَ وَذُو مَالٍ بِالْوَاوِ وَالْأَلِفِ وَالْيَاءِ مُضَافَةً إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“۔ دیکھو، متن کے اندر "مکبرۃً" کی قید بھی نہیں آئی اور "موحدۃً" کی قید بھی نہیں آئی، لیکن "مضافۃً" کی قید آگے آ گئی متن کے اندر، تیسری شرط آ گئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی شرطیں تو تین ہیں، تو "مضافۃً" تیسری شرط تو ذکر کر دی اور پہلی دو ذکر نہیں کیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی، وہاں مثالوں پر ہی اکتفا کر لیا، مثالیں ہی ایسی ذکر کیں: ”أَبُوكَ“، ”أَخُوكَ“ وغیرہ۔ یہ سارے کیا ہیں؟ مکبر ذکر کیے، تصغیر کسی کی ذکر نہیں کی۔ نیز، یہ سارے جو ہیں، یہ مفرد ذکر کیے، تثنیہ یا جمع ذکر نہیں کیے۔ تو مکبر ہونا اور موحد ہونا اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ بات مثالوں سے ہی سمجھ میں آ رہی تھی۔ ہاں، مضاف ہونا اس کی وضاحت کی ضرورت تھی، اس لیے وہ متن میں ذکر کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلی دو شرطیں کیوں نہیں ذکر کیں؟ مثالوں پر ہی اکتفا کر لیا کہ مثالوں سے ہی یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔
کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَمْ يُصَرِّحْ بِهَذَيْنِ الْقَيْدَيْنِ اكْتِفَاءً بِالْأَمْثِلَةِ“ اور مصنف نے یہ "مکبرۃً" اور "موحدۃً" کی ان دو قیدوں کی تصریح نہیں کی ”اكْتِفَاءً بِالْأَمْثِلَةِ“ اکتفا کرتے ہوئے مثالوں پر۔ مثالوں پر ہی اکتفا کر لیا کہ مثالوں سے ہی موحد ہونا بھی سمجھ میں آ رہا ہے اور مکبر ہونا بھی سمجھ میں آ رہا ہے۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”مُضَافَةً“ اس حال میں کہ یہ کیا ہوں؟ مضاف، ”لِأَنَّهَا إِذَا كَانَتْ مُكَبَّرَةً وَمُوَحَّدَةً وَلَمْ تَكُنْ مُضَافَةً“ بھئی، وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: دیکھو، اگر پہلی دونوں شرطیں پوری ہوئیں، مکبر بھی ہو، موحد بھی ہو لیکن مضاف نہ ہو... مضاف نہ ہو، جیسے ”جَاءَنِي أَخٌ“، ”رَأَيْتُ أَخًا“، ”مَرَرْتُ بِأَخٍ“۔ دیکھو، اس میں تو اعراب بالحرکۃ آ رہا ہے، واؤ، الف، یا تو نہیں ہے، ”جَاءَنِي أَخٌ“ ضمہ آ رہا ہے، ”رَأَيْتُ أَخًا“ فتحہ آ رہا ہے، ”مَرَرْتُ بِأَخٍ“ دیکھو کسرہ آ رہا ہے۔ تو اگر یہ مضاف نہیں ہوں گے، موحد بھی ہوں، مکبر بھی ہوں لیکن مضاف نہ ہوں، پھر ان کا اعراب واؤ، الف، یا کے ساتھ نہیں آئے گا بلکہ ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے ساتھ آئے گا۔
اب دیکھیے، "مضافۃً"، آگے ذکر کر رہے ہیں، وجہ کہ یہ قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا إِذَا كَانَتْ مُكَبَّرَةً وَمُوَحَّدَةً وَلَمْ تَكُنْ مُضَافَةً أَصْلًا“ اس لیے کیونکہ جب یہ اسماء مکبر بھی ہوں، موحد بھی ہوں، لیکن یہ مضاف نہ ہوں اصلاً، قطعاً، قطعی طور پر سـ... یعنی سرے سے مضاف ہی نہ ہوں ”فَإِعْرَابُهَا بِالْحَرَكَاتِ“ تو پھر ان کا اعراب جو ہے وہ حرکات کے ساتھ ہوگا: ”نَحْوُ: جَاءَنِي أَخٌ وَرَأَيْتُ أَخًا وَمَرَرْتُ بِأَخٍ“۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
”فَيَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ مُضَافَةً“ تو مناسب یہ ہے کہ یہ اسماءِ ستہ مضاف ہونے چاہئیں ”وَلَكِنْ إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“ لیکن یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف ہونے چاہئیں۔ بھئی، کیوں؟ یاءِ متکلم کے علاوہ کی طرف کیوں؟ وجہ یہ کہ اگر یاءِ متکلم کی طرف ان کی اضافت کریں گے تو پھر یہ "غلامی" کی طرح بن جائیں گے، اور "غلامی" کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری تھا: ”جَاءَنِي غُلَامِي“، ”رَأَيْتُ غُلَامِي“، ”مَرَرْتُ بِغُلَامِي“۔ میں نے آپ کو بتایا تھا "غلامی"، غلام مضاف ہے اور یا ضمیر مضاف الیہ۔ یا کا اعراب الگ بتانا ہے، غلام کا اعراب الگ۔ یا تو مجرور ہے محلاً کیونکہ مضاف الیہ ہے، غلام مضاف، یا ضمیر مضاف الیہ، اور یا ضمیر ہے، مبنی ہے، تو اس کا اعراب تو ہمیشہ محلاً آئے گا۔ بات چل رہی ہے لفظِ "غلام" کی جو مضاف ہو رہا ہے یا کی طرف، اس کا کیا اعراب ہے؟ تو آپ پڑھ چکے کہ اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہے: ”جَاءَنِي غُلَامِي“، یہ مرفوع ہے تقدیراً، مرفوع ہے تقدیراً۔ رفعے پر آپ کوئی تلفظ کر رہے ہیں؟ "غُلاَمِي"، جی، میم کے نیچے زیر ہے، رفع نہیں ہے، اور ”رَأَيْتُ غُلَامِي“ دیکھو اب فتحہ بھی کیا ہے؟ تقدیراً ہے، اور اسی طرح ”مَرَرْتُ بِغُلَامِي“ جر بھی تقدیراً ہے۔ بھئی، جر کیوں تقدیراً ہے؟ جر تو موجود ہے: ”مَرَرْتُ بِغُلَامِي“ با جارہ ہے اور "غلامی" کی میم کے نیچے بھی کیا ہے؟ زیر، کسرہ تو موجود ہے۔ تو جواب یہ کہ یہ کسرہ با کی وجہ سے نہیں آیا، یہ یا کی وجہ سے کسرہ ہے بھئی، تو یہ اعراب نہیں ہے، یہ حرکت ہے، توجہ ہے؟ یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی تھی؟ کسرہ، تو غلام کو جب یا سے جوڑا تو یا سے ماقبل میم تھا، اس کے نیچے کیا آ گیا؟ کسرہ۔ تو کسرہ پہلے کا موجود ہے، مضاف مضاف الیہ آپس میں جڑ چکے ہیں، اب ان کے اوپر آپ نے عامل با جارہ کو داخل کیا: ”مَرَرْتُ بِغُلَامِي“۔ تو با جارہ کی وجہ سے یہ کسرہ آیا یا یہ کسرہ پہلے کا موجود ہے؟ یہ پہلے کا موجود ہے بھئی، جب یہ پہلے کا موجود ہے تو اس کو جر قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ صرف حرکت ہے بھئی۔ تو تینوں حالتوں میں اعراب تقدیری ہے "غلامی" کا، تو اسی طرح جب یہ اسماءِ ستہ کی اضافت یا کی طرف کریں گے تو اس کا اعراب بھی تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا: ”جَاءَنِي أَبِي“، ”رَأَيْتُ أَبِي“، ”مَرَرْتُ بِأَبِي“۔ دیکھا! تینوں حالتوں میں "أب" کا اعراب تقدیری ہے۔
تو کہتے ہیں: ”فَيَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ مُضَافَةً وَلَكِنْ إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“ تو مناسب یہ ہے کہ یہ مضاف ہونا چاہیے لیکن غیر یاءِ متکلم کی طرف ہونا چاہیے، ”لِأَنَّهَا إِذَا كَانَتْ مُضَافَةً إِلَى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ“ اس لیے کیونکہ جب یہ مضاف ہوگا یاءِ متکلم کی طرف ”فَحَالُهَا كَسَائِرِ الْأَسْمَاءِ الْمُضَافَةِ إِلَيْهَا“ تو پھر ان کا حال بھی ان باقی اسماء کی طرح ہوگا جو مضاف ہوتے ہیں یا کی طرف، جیسے اور اسماء جب یا کی طرف مضاف ہوتے ہیں تو ان کا اعراب تقدیری ہوتا ہے، تو ان کا بھی اعراب پھر کیا ہوگا؟ تقدیری ہوگا اگر یا کی طرف مضاف ہوں۔
چلیے بس کریں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔