و علامتِ فعل آنست کہ قد در اولش باشد چون: "قد ضرب"، یا سين باشد چون: "سيضرب"، یا سوف باشد چون: "سوف يضرب"، یا حرفِ جزم بود چون: "لم يضرب"، یا ضمیرِ مرفوعِ متصل بدو پیوندد چون: "ضربتُ"، "ضربتَ"، "ضربتِ"، یا تاء ساکن چون: "ضربت"، یا امر باشد چون: "اضرب"، یا نہی باشد چون: "لا تضرب"۔
و علامتِ حرف آنست کہ هیچ علامت از علاماتِ اسم و فعل درو نبود۔
اچھا بھئی! نحو میر ہم پڑھ رہے ہیں، جو تصنیف ہے میر سید السند کی۔ اور تو یہ میر سید السند اس نام سے بھی مشہور ہیں اور میر سید الشریف اس نام سے بھی مشہور ہیں بھئی۔ اور بڑی پیاری کتاب انہوں نے لکھی بھئی۔ سینکڑوں سال گزر گئے، یہ علماء کی توجہ کا مرکز ہے، ابتدائی طلباء کو یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے صرف ضروری ہے بھئی، صرف۔ صرف اور انہوں نے بھی خطبے میں ذکر کیا تھا کہ میری کتاب سے پورا فائدہ اٹھائیں گے وہ لوگ جب علمِ صرف کے ماہر ہوں گے، علمِ صرف پڑھ چکے ہوں گے۔
تو گزشتہ سبق میں ہم نے علاماتِ اسم پڑھنا شروع کی تھیں، اور اس سے گزشتہ سبق میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب کوئی بڑی عبارت آپ کے سامنے آئے، بڑا جملہ آئے جس میں دو سے زیادہ الفاظ ہیں؛ تو سب سے پہلے اس کے اندر اسم، فعل اور حرف کو الگ الگ کریں۔ اور پھر اس کے بعد معرب اور مبنی کو پہچان لیں۔ اور اس کے بعد عامل اور معمول کو دیکھ لیں۔ اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ یہ آپس میں، یہ کلمات کس طرح جڑے ہوئے ہیں، کس سے جڑے ہیں، کس سے نہیں جڑے۔ تو اس سے آپ کو مسند اور مسند الیہ کا پتہ چل جائے گا۔ اور جب مسند اور مسند الیہ کا پتہ آپ کو چل جائے گا تو آپ کو جملے کا صحیح صحیح معنی سمجھ میں آ جائے گا۔
تو اب ان چیزوں کو پہچاننا کیسے ہے، یہ جو چار پانچ چیزیں انہوں نے ترتیب وار بیان کر دیں؟ تو سب سے پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں۔ کس کو پہچان لیں؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لیں۔ تو اسم، فعل اور حرف کو کیسے پہچانیں گے؟ اس کے لیے انہوں نے اسم، فعل اور حرف کی نشانیاں بتلانا شروع کیں۔ اور گزشتہ سبق میں ہم نے اسم کی علامتیں پڑھی تھیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، ایک ہے اسم کی تعریف اور ایک ہے اسم کی علامتیں۔ تعریف سے کوئی چیز ذہن میں ممتاز ہو جاتی ہے، سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اور علامت سے خارج میں کوئی چیز ممتاز ہوتی ہے، باقی چیزوں سے الگ ہو جاتی ہے۔
جیسے کسی کی تلاش کے لیے آپ نے کسی کو بھیجا تو آپ اس کی نشانیاں اس کو بتلاتے ہیں کہ اس نے اس رنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے، اس رنگ کی پگڑی پہنی ہوگی، اس رنگ کے جوتے پہنے ہوں گے، یا اس رنگ کی گاڑی میں وہ بیٹھا ہوگا۔ تو وہ نشانیوں سے آپ خارج میں اس آدمی کو پہچانتے ہیں۔ تو اسی طرح یہ جو نشانیاں ہوتی ہیں، ان کے ذریعے اسم، فعل اور حرف کی آپ آسانی سے پہچان کر سکتے ہیں۔ اور پھر یہ نشانیوں اور ان علامتوں کے بارے میں یاد رکھیں کہ جو اسم کی علامتیں ہیں، وہ فعل میں نہیں ہوں گی۔ اور جو فعل کی علامتیں ہیں، وہ اسم میں نہیں ہوں گی۔ اگر علامتیں ایک دوسرے میں بھی پائی جائیں، پھر تو وہ علامت ہی نہ رہی بھئی! اگر وہ علامت اسم میں بھی ہے، فعل میں بھی ہے، حرف میں بھی ہے، تینوں میں آتی ہے، تو ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا، وہ علامت آ بھی جائے تو وہ تو اسم بھی ہو سکتا ہے، فعل بھی ہو سکتا ہے اور حرف بھی ہو سکتا ہے۔
تو اس لیے وہ ایسی ایسی علامتیں اور نشانیاں آپ کو بتلائیں گے، اسم کی نشانیاں جو صرف اسم میں پائی جائیں، فعل اور حرف میں نہ ہوں۔ فعل کے اندر جو نشانیاں ہوں گی، وہ اسم اور حرف کے اندر آپ کو نہیں ملیں گی۔ تو ان نشانیوں کے ذریعے آپ آسانی سے اسم، فعل اور حرف کو پہچان سکیں گے۔
تو کل کے سبق میں اسم کی علامتیں آپ نے پڑھی تھیں۔ انہوں نے گیارہ علامتیں آپ کو بتلائیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ گیارہ ہی علامتیں نہیں ہیں، یہاں انہوں نے موٹی موٹی اور آسان علامتیں، جو ابتدائی درجے کے طلباء آسانی سے یاد کر سکیں، وہ انہوں نے بیان کر دیں۔ تو کوئی گیارہ علامتیں بیان کیں۔ حالانکہ اسم کی کوئی پچیس تیس یا اس سے بھی زیادہ علامتیں علماء نے ذکر فرمائی ہیں۔ اسی طرح فعل کی یہ غالباً آٹھ دس علامتیں صرف ذکر کریں گے۔ فعل کی بھی حالانکہ پندرہ بیس سے بھی زائد علامتیں علماء نے اور کتابوں میں بیان کی ہیں۔ تو یہاں صرف وہ موٹی موٹی اور آسان علامتیں، جو آپ لوگ آسانی سے سمجھ سکیں اور یاد کر سکیں، وہ بیان کریں گے۔
تو کل گیارہ علامتیں اسم کی بتلائی تھیں۔ پہلی علامت کیا تھی کہ اس کے شروع میں کیا آئے؟ الف لام۔ یہ آپ کو یاد ہونی چاہئیں بھئی، ان کے ذریعے آپ فوراً حل کریں گے، عبارت حل ہوگی، سمجھ میں آئے گی آپ کو۔ پہلی علامت یہ کہ کسی لفظ کے شروع میں الف لام آ جائے تو آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ دوسری علامت یہ کہ اس، کسی لفظ کے شروع میں حرفِ جر آ جائے تو پھر آپ سمجھ جائیں یہ اسم ہے۔ اور حروفِ جارہ کل سترہ ہیں۔ کل کتنے ہیں؟ سترہ ہیں۔ اور یہ آگے ان کا ذکر آ جائے گا۔ بس اتنا یاد رکھیں، کسی بھی لفظ کے شروع میں حرفِ جر آ جائے تو وہ اسم ہے، کیونکہ فعل یا حرف پر حرفِ جر داخل نہیں ہو سکتا۔
تیسری علامت انہوں نے یہ ذکر کی تھی کہ جس لفظ کے آخر میں تنوین آ جائے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ اسم ہے۔ تنوین فعل یا حرف کے آخر میں نہیں آئے گی۔ اور چوتھی علامت انہوں نے یہ بتلائی تھی کہ وہ لفظ مسند الیہ ہو۔ دیکھو، ایک ہے مسند، ایک ہے مسند الیہ۔ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ آسان لفظوں میں، جس کے بارے میں بات کی جائے۔ "زیدٌ قائمٌ"، کس کے بارے میں بات کی؟ زید۔ تو زید ہوا مسند الیہ۔ اور کیا بات کی؟ "قائمٌ"، وہ کھڑا ہے، تو یہ ہے مسند۔ تو مسند الیہ وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کی جائے، اور مسند وہ جو بات کی جائے اس کو مسند کہتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ فعل صرف مسند بنتا ہے، مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ اور حرف نہ مسند بنتا ہے اور نہ مسند الیہ، جبکہ اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ تو مسند الیہ صرف اسم بن سکتا ہے اور کوئی بھی نہیں۔ تو جب کوئی لفظ مسند الیہ ہو تو آپ سمجھ جائیں یہ اسم ہے۔
پانچویں علامت انہوں نے یہ ذکر کی تھی کہ کوئی لفظ اگر مضاف ہو تو آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ مضاف ہونا اسم کی علامت ہے۔ اور اسی طرح اگر کوئی مصغر ہو، مصغر، میں نے بتلایا تھا کہ کسی اسم سے اس میں چھوٹا ہونے کا معنی پیدا کرنے کے لیے تصغیر بنائی جاتی ہے۔ کیا بنائی جاتی ہے؟ تصغیر۔ جیسے "رجلٌ" سے "رجیلٌ"، یعنی فعیل وزن پر لے جاتے ہیں عموماً بھئی۔ اور بھی اوزان ہیں لیکن بس آپ اتنا یاد رکھیں کہ اس کو فعیل وزن پر لے جاتے ہیں۔ تو دیکھو، جیسے "رجیلٌ"، کیا معنی ہوگا؟ رجل کا معنی تھا آدمی، مرد۔ تو رجیل کا معنی چھوٹا آدمی یا چھوٹا مرد۔ اسی طرح کتاب، اس کی تصغیر کیا آئے گی؟ کتیب۔ یعنی چھوٹی کتاب۔ اور نیز یہ کبھی کبھار محبت کے لیے بھی یہ تصغیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اور کبھی تحقیر اور اہانت کے لیے بھی تصغیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، ایک آدمی بد اخلاق ہے، کسی نے اس کا ذکر کیا کہ وہ، مطلب رجل کے ساتھ اس کو ذکر کیا، تو دوسرے نے تحقیر کے طور پر کہا کہ بھئی وہ رجل کہلانے کے لائق نہیں ہے، وہ تو بد اخلاق آدمی ہے، وہ رجیل ہے، چھوٹا سا ایک آدمی ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تصغیر، یہ کس کی علامت ہے؟ اسم کی۔ تصغیر کس میں آئے گی؟ صرف اسم میں آئے گی۔ تو "قریشٌ"، یہ کیا ہے؟ مصغر ہے، یہ اسم ہے، فعیل وزن پر۔ اس کے بعد اگلی علامت انہوں نے ذکر کی تھی کہ کوئی لفظ منسوب ہو۔ اسمِ منسوب اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں یائے مشدد ہو۔ یہ کسی چیز کی طرف نسبت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے لاہور کی طرف کسی چیز کی آپ نسبت کرنا چاہیں تو یائے مشدد آخر میں ملا دیں گے، "لاہوریٌ"، یعنی لاہور والا۔ پاکستان کی طرف کسی کی نسبت کرنا چاہیں تو اس کے آخر میں یائے مشدد ملا دیں گے، "پاکستانیٌ"، پاکستان والا یا پاکستان کی طرف منسوب۔
تو اس کو اسمِ منسوب کہتے ہیں۔ یا وہ تثنیہ اور جمع ہو بھئی۔ تثنیہ میں نے بتلایا تھا، تثنیہ کہ جو دو پر دلالت کرے، دو افراد پر۔ جیسے رجل کا معنی ایک آدمی، لیکن اسی سے ہم تثنیہ بنانا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے، عربی میں آخر میں الف اور نون بڑھا دیتے ہیں۔ تو وہ بن جائے گا "رجلاٰنِ"۔ "رجلاٰنِ" کا کیا معنی؟ دو آدمی۔ کتاب کا معنی ایک کتاب، اور دو کتابوں میں کیا کہیں گے؟ "کتاباٰنِ"۔ تو کبھی الف نون آتا ہے اور کبھی یا نون آخر میں آئے گی۔ "رجلٌ"، "رجلاٰنِ" اور "رجَلَيْنِ"۔ کتاب سے "کتاباٰنِ" اور "کتابَيْنِ"۔ قلم سے "قلماٰنِ" اور "قلمَيْنِ"۔ یہ تثنیہ ہے۔ اور ایک علامت جو ہے وہ جمع ہے۔ جمع ہونا بھی اسم کی علامت ہے۔ جیسے ایک ہو تو کہیں گے "رجلٌ"، دو ہوں تو کہیں گے "رجلاٰنِ" یا "رجَلَيْنِ"، اور دو سے زیادہ ہوں تو اس کو کیا کہیں گے؟ "رجالٌ"۔ اور یہ جمع ہے، تین اور تین سے زیادہ پر بولا جاتا ہے، اور یہ اسم کی علامت ہے۔ تو رجال کیا ہے؟اسم، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ یہ کیا ہے؟ جمع ہے۔
اسی طرح قلم کی جمع کیا آئے گی؟ اقلام، اور کتاب کی جمع کیا آئے گی؟ کتب۔
اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ آپ نے ہمیں بتلایا کہ یہ تثنیہ اور جمع اسم کی علامت ہے، تثنیہ اور جمع تو ہم نے فعل میں بھی پڑھا ہے؛ "ضرب"، "ضربا"، "ضربوا"، دیکھو تثنیہ اور جمع ہے۔ فعلِ مضارع میں بھی ہے "یضرب"، "یضربان"، "یضربون"۔ "یضربان" کیا ہے؟ تثنیہ، اور "یضربون" کیا ہے؟ جمع۔ تو وہاں بھی تثنیہ اور جمع آتا ہے، تو جواب میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی فعل کبھی بھی تثنیہ اور جمع نہیں آتا، یہ فعل کے آخر میں ضمیریں بدل رہی ہیں، تثنیہ اور جمع کی ضمیریں آ رہی ہیں، ورنہ خود فعل مفرد ہی رہتا ہے۔ "ضرب"، "ضربا"، یہ "ضربا" جو دیکھو اس کے آخر میں یہ جو الف ہے یہ تثنیہ کی ضمیر ہے، اس کو जरा ہٹا دو۔ الف کو ہٹاؤ، کیا رہ گیا؟ "ضرب"، فعل اسی طرح مفرد ہے۔ "ضربوا"، اس کے آخر میں کیا ہے؟ یہ واؤ جمع کی ضمیر، اس واؤ کو जरा ہٹاؤ، کیا رہ گیا؟ "ضرب" رہ گیا بھئی! تو فعل ہمیشہ مفرد ہوتا ہے، اس کے ساتھ فاعل کی ضمیر کبھی مفرد والی آئے گی، کبھی تثنیہ والی اور کبھی جمع والی، تو وہ فاعل کی ضمیر ہوگی وہ فعل نہیں ہے بھئی۔
اس کے بعد آپ نے، انہوں نے بتلایا تھا کہ اسم کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ موصوف ہو۔ موصوف بھئی، وہ چیز جس کی کوئی صفت یعنی کوئی اچھائی یا برائی بیان کی جائے۔ جیسے میں نے کہا: بہادر آدمی، دیکھو میں نے آدمی کی اچھائی بیان کی۔ یا میں نے کہا: سچا آدمی، دیکھو میں نے اس کی اچھائی بیان کی۔ یا میں نے کہا: کنجوس آدمی، دیکھو میں نے اس کی برائی بیان کی۔ تو یہ جو صفات ہیں، اردو کے اندر پہلے آتی ہیں اور عربی میں بعد میں۔ جیسے اچھا آدمی، دیکھو اچھا کا لفظ پہلے آیا اور آدمی جو موصوف ہے وہ بعد میں۔ دیکھو سچا آدمی، سچا کا لفظ پہلے آیا، صفت پہلے آئی اور آدمی جو موصوف ہے وہ بعد میں آیا۔ اور اسی طرح بہادر آدمی، دیکھو بہادر جو صفت ہے وہ پہلے آئی اور آدمی جو موصوف ہے وہ بعد میں آیا۔ لیکن عربی میں اس کا برعکس ہے، عربی میں موصوف پہلے آتا ہے اور اس کے بعد صفات آتی ہیں۔ جیسے "رجلٌ شجاعٌ"، "رجلٌ شجاعٌ"۔ "رجلٌ" ہے موصوف اور "شجاعٌ" اس کی صفت۔ "شجاعٌ" کا کیا معنی؟ بہادر۔ تو اردو میں دیکھو بہادر آدمی، بہادر پہلے تھا اور آدمی بعد میں، لیکن عربی کے اندر آدمی یعنی "رجل" پہلے ہے اور "شجاعٌ" اس کی صفت بعد میں ہے۔
تو موصوف ہونا یہ اسم کی علامت ہے۔ جس لفظ کی کوئی صفت آ جائے، آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ اسم ہے۔ "رجلٌ شجاعٌ"، آپ کو کیا پتہ چلا کون سا لفظ اسم ہے؟ "رجل"، کیونکہ اس کے آگے اس کی صفت "شجاعٌ" آ رہی ہے۔ اور "شجاعٌ" کیا ہے؟ وہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف ہے؟ اسم، کیسے پتہ چلا؟ اس کے آخر میں تنوین ہے، شاباش!
اور آخری علامت انہوں نے بتلائی تھی کہ اس کے ساتھ تائے متحرک جڑ جائے۔ تائے متحرک اس کے ساتھ جڑی ہو، جیسے "ضاربٌ" سے "ضاربةٌ"، "فاتحٌ" سے "فاتحةٌ"، "مانعٌ" سے "مانعةٌ"۔ تو اس سے مراد وہ گول تا ہے، یہ گول تا پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی حرکت ہوتی ہے۔ ایک لمبی تا ہے؛ "ضرب"، "ضربا"، "ضربوا"، "ضربت"۔ "ضربت"، یہ دیکھو یہاں لمبی تا لکھتے ہیں اور یہ ساکن ہوتی ہے۔ اور یہ جو گول تا ہوتی ہے "ضاربةٌ"، اس پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی حرکت ہوتی ہے۔ تو یہ جو گول تا ہے، یہ اسم کی علامت ہے، یہ صرف اسم کے ساتھ جڑے گی۔ جس لفظ کے ساتھ یہ علامت جڑ جائے، یہ گول تا، آپ سمجھ جائیں یہ اسم ہے۔ تو اب مجھے بتائیے، "ضاربةٌ" یہ کیا ہے؟ اسم، کیسے پتہ چلا؟ آخر میں گول تا جڑی ہوئی ہے۔
اب آئیے بھئی، آگے فعل کی علامتیں ہم پڑھتے ہیں۔
کہتے ہیں: "و علامتِ فعل آنست" اور فعل کی علامت وہ ہے "کہ قد در اولش باشد" کہ قد جو ہے اس کے شروع میں ہو۔ "اولش"، یہ شین کس لیے آتا ہے؟ اس کے لیے۔ اول یعنی پہلے، "اولش" اس سے پہلے یا اس کے شروع میں۔ "کہ قد در اولش باشد" کہ قد اس کے شروع میں ہو، "چون: قد ضرب"۔ جی، فعل کی پہلی علامت کیا ہے؟ قد۔ قد، جس لفظ کے شروع میں قد آ جائے، آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ فعل ہے۔ جیسے "قد ضرب"۔ جی، "قد ضرب" میں "ضرب" کیا ہے؟ فعل۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اس کے شروع میں قد ہے۔
"یا سين باشد" یا سین اس کے شروع میں ہو، "چون: سيضرب"۔ "سيضرب"۔ یاد رکھو عربی زبان میں سین اور سوف، سوف کا بھی آگے بیان آ رہا ہے۔ سین اور سوف فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ سین اور سوف، جیسے سین داخل ہوا تو "یضرب" پر سین داخل کیا، "سیضرب"۔ اور کبھی سوف داخل کرتے ہیں، "سوف یضرب"۔ یہ جو فعلِ مضارع ہوتا ہے، آپ پڑھ چکے ہیں علمِ صرف کے اندر، کہ اس میں حال اور استقبال دونوں معانی ہوتے ہیں۔ "یضرب" کا کیا معنی؟ وہ پٹائی کرتا ہے یا پٹائی کرے گا۔ ایک آدمی اس وقت پٹائی کر رہا ہے تو بھی میں کہوں گا "یضرب زیدٌ"، زید پٹائی کر رہا ہے۔ اور ایک زید ہے اس نے کہا: میں کل پٹائی کروں گا، تو بھی میں کہوں گا "یضرب زیدٌ"، زید پٹائی کرے گا۔ دیکھا، دونوں کے لیے وہی "یضرب" استعمال ہوتا ہے۔
لیکن اتنا یاد رکھنا، مضارع میں احتمال تو دونوں ہوتے ہیں، حال کا بھی اور استقبال کا بھی، لیکن ایک وقت میں ایک ہی زمانہ آئے گا۔ یا حال آئے گا، اگر حال آ گیا تو استقبال نہیں، اور اگر استقبال آ گیا تو حال نہیں۔ ایک ہی وقت میں دونوں زمانوں کا ترجمہ آپ نہیں کر سکتے۔ پھر آپ نے موقع محل دیکھنا ہے، کہیں حال والا ترجمہ ٹھیک ہے تو پھر حال ہی کا ترجمہ کریں گے استقبال والا نہیں، اور کہیں استقبال والا ترجمہ ٹھیک ہے تو استقبال والا ہی کریں گے حال کا ترجمہ نہیں کریں گے۔
تو اب مضارع میں دونوں احتمال ہوتے ہیں، حال کا بھی اور استقبال کا بھی۔ دونوں احتمال ہوتے ہیں، لیکن جب مضارع پر سین یا سوف داخل ہو جائے، اب یہ مستقبل کے ساتھ خاص ہو گیا، اب حال والا ترجمہ نہیں کرنا۔ تو "یضرب" کا معنی: وہ پٹائی کرتا ہے یا پٹائی کرے گا۔ یا یوں کہو: وہ پٹائی کر رہا ہے یا وہ پٹائی کرے گا۔ لیکن اگر آپ یہ کہہ دیں "سیضرب"، سین داخل کر دیا، آپ کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ پٹائی کرے گا، یعنی مستقبل کی بات ہوگی، اب حال کی بات نہیں۔ اسی طرح "سوف یضرب"، اس کا بھی یہی معنی کہ وہ پٹائی کرے گا، حال کی بات نہیں۔
اور یاد رکھنا، تو یہ سین اور سوف مستقبل کے لیے آتے ہیں، مستقبلِ قریب کے لیے۔ تو ترجمہ یوں کریں گے: "سیضرب زیدٌ"، عنقریب زید پٹائی کرے گا۔ کیسے ترجمہ کریں گے؟ عنقریب زید پٹائی کرے گا۔ اور "سوف یضرب"، اس کا بھی وہی ترجمہ ہوگا، عنقریب زید پٹائی کرے گا۔ "سیضرب" کا کیا ترجمہ؟ عنقریب زید پٹائی کرے گا۔ اور "سوف یضرب زیدٌ"؟ عنقریب زید پٹائی کرے گا۔ دونوں مستقبل کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور مستقبلِ قریب کے ساتھ کر دیتے ہیں خاص۔
لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ سین جو ہے وہ زیادہ قریب کے لیے ہے۔ زیادہ قریب کے لیے۔ مثلاً آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ زید کل پٹائی کرے گا اور عمرو پرسوں پٹائی کرے گا۔ اب کل یا پرسوں کے علاوہ ویسے اس کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، زید کب کرے گا مثلاً؟ ایک دن بعد، اور عمرو کب کرے گا؟ دو دن بعد۔ تو پھر کیسے کہیں گے؟ "سیضرب زیدٌ"، دیکھو ایک دن بعد زید کر رہا ہے۔ اور عمرو دو دن بعد کر رہا ہے تو کیا کہیں گے؟ "سوف یضرب عمروٌ"۔ دیکھا، سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا، معلوم کہ ایک کے لیے سین لائے، ایک کے لیے سوف لائے۔ معلوم ہوا سین جو ہے وہ قریب ہے اور سوف اس کے مقابلے میں بعید ہے، دور ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ فرق ہے سین اور سوف میں، اور یہ دونوں فعل کی علامتیں ہیں۔ جہاں سین نظر آ جائے شروع لفظ میں، آپ سمجھ جائیں یہ فعل ہے، یا سوف شروع میں آ جائے تو آپ سمجھ جائیں یہ فعل ہے۔
تو کہتے ہیں: "یا سين باشد" یا سین ہو یعنی اس کے شروع میں "چون: سيضرب" عنقریب وہ پٹائی کرے گا۔ "یا سوف باشد" یا سوف ہو اس کے شروع میں "چون: سوف يضرب" عنقریب وہ پٹائی کرے گا۔ ترجمہ ایک جیسا ہی ہوگا، عنقریب وہ پٹائی کرے گا۔ تو سین آتا ہے قریب کے لیے اور سوف اس کے مقابلے میں بعید کے لیے۔ ویسے دونوں قریب کے لیے ہیں لیکن تقابل کریں تو سین زیادہ قریب کے لیے اور سوف کم قریب کے لیے۔
"یا حرفِ جزم بود" یا کسی لفظ کے شروع میں حرفِ جزم ہو جو جزم دیتا ہو۔ کیا دیتا ہو؟ جزم۔ "چون: لم يضرب" جیسے "لم یضرب"۔ آپ نے گردان پڑھی ہے فعلِ نفی جہد بلم۔ "یضرب"، دیکھو با پر آخر میں "یضرب"، اس لفظ کے آخر میں با پر ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ ضمہ، "یضرب"، با پر پیش ہے۔ لیکن حرفِ جزم لم لے آؤ، اب کیسے پڑھیں گے؟ "لم یضرب"۔ دیکھا، با پر جزم آ گیا، سکون آ گیا۔ تو یہ حروف، یہ کچھ حروف ہیں جو جزم دیتے ہیں۔ اسی طرح ان ہے، ان حرفِ شرط وہ بھی کیا کرتا ہے؟ جزم۔ تو یہ علامت ہے فعل کی۔ جس لفظ کے شروع میں حرفِ جزم آ جائے، آپ سمجھ جائیں یہ فعل ہے۔
اسم کے اندر اس کے شروع میں حرفِ جر آتا تھا۔ اسم کی علامت کیا تھی، کون سا حرف آئے؟ حرفِ جر۔فعل کی علامت ہے کہ اس پر حرفِ جزم آتا ہے۔
تو اسم میں جر آئے گا حرفِ جر کی وجہ سے، اور فعل کے اندر جزم آئے گا کس کی وجہ سے؟ حرفِ جزم کی وجہ سے۔ تو حرفِ جزم کس کی علامت؟ فعل کی۔
تو کہتے ہیں: یا حرفِ جزم بود، یا حرفِ جزم ہو، چون: لم یضرب، جیسے لم یضرب۔ یا ضمیرِ مرفوعِ متصل بدو پیوندد، یا ضمیرِ مرفوعِ متصل اس کے ساتھ مل جائے، چون: ضربتَ، ضربتُ، ضربتِ۔ دیکھو یہ تین صیغے ذکر کر دیے انہوں نے، تین صیغے۔
بھئی ضمیرِ مرفوع، ضمیرِ مرفوع متصل بدو پیوندد۔
بھئی آپ نے گردانیں پڑھی ہیں؛ ضرب، ضربا، ضربوا، ضربت، ضربتا، ضربنا، ضربتَ، ضربتما، ضربتم، ضربتِ، ضربتما، ضربتن، ضربتُ، ضربنا۔ تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ دیکھو ضرب، یہ فعل ہے۔ اس کے آخر میں کوئی ضمیر جڑی ہوئی نہیں، ہاں اس کے اندر ضمیر "ہو" چھپی ہوئی ہے۔ وہ ضمیر کیا ہے؟ چھپی ہوئی ہے۔ تو وہ ضمیر چھپی ہوئی ہے، اس کو کہیں گے مستتر۔ کیا کہیں گے؟ مستتر کا معنی ہے چھپی ہوئی، چھپی ہوئی۔ تو ضرب کے اندر ہو ضمیر چھپی ہوئی، اور اگر ضمیر ظاہر ہو یعنی تلفظ کرتے ہیں باقاعدہ آپ اس کو پڑھتے ہیں، تو اس کو ضمیرِ بارز کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ بارز۔ بارز کا معنی ہے ظاہر، ظاہر۔
تو دیکھو ضرب، اس کے ساتھ کوئی ضمیرِ بارز ہے؟ نہیں، ضاد، را، با، یہ تو فعل کے حروف ہیں تینوں، تو آخر میں کوئی زائد حرف نہیں۔ تو اس کے اندر ضمیر تو ہے، لیکن وہ اس کے اندر چھپی ہوئی ہے، مستتر ہے۔ کیا ہے؟ زبان سے دہرائیں بھئی، کیا ہے؟ مستتر۔ اور اگر وہ پڑھنے میں بھی آ جائے، ظاہر ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمیرِ بارز کہتے ہیں۔
تو ضرب کے ساتھ کون سی ضمیر ہے؟ ضمیرِ مستتر ہے۔ ضربا، جی الف آ گیا۔ یہ الف کیا ہے؟ یہ ضمیر ہے اور ضمیرِ بارز ہے، ظاہر ہے۔ دیکھو میں پڑھ رہا ہوں یا نہیں اس کو؟ با کو میں اس کی وجہ سے، با کو لمبا کر رہا ہوں، ضربا، دیکھو آپ کو پتہ چل گیا میں نے الف پڑھا ہے۔ اور ضربوا، جی، یہ اس کے آخر میں واؤ کیا ہے؟ ضمیر ہے اور کون سی ہے؟ بارز ہے، ضمیرِ بارز۔
سارے صیغوں میں जरा دیکھ لیں، پھر سنیں۔ ضرب، کون سی ضمیر؟ کون سی ضمیر؟ "ہو"، اور وہ کیا ہے؟ مستتر ہے۔ پہلے ضمیر بتایا کرو، پھر بتایا کرو کہ کون سی ہے۔ ضرب، کون سی ضمیر؟ "ہو"، اور وہ کیا ہے؟ مستتر ہے، اس کے اندر چھپی ہوئی ہے، ہمیں نظر نہیں آ رہی۔ ضربا، الف، یہ تثنیہ کا صیغہ ہے، تو جو صیغہ ہو وہی ضمیر ہوگی۔ تو یہ کون سی ضمیر؟ تثنیہ مذکر کی ضمیر، اور یہ بارز ہے یا مستتر ہے؟ بارز ہے، ہم اس کو باقاعدہ پڑھ رہے ہیں، تلفظ کر رہے ہیں۔ ضربوا، یہ کون سی ضمیر؟ واؤ ضمیر ہے، اور یہ کون سی ہے؟ بارز ہے، ضمیرِ بارز، اور کون سی ضمیر ہے یہ، کس چیز کی ہے؟ جمع مذکر کی، جمع مذکر۔ ضربت، جی؟ ہاں ہاں، یہ تا تانیث والی ہے۔ یہ لمبی تا کیا ہے؟ تانیث کی علامت ہے۔ اس کی، یہ صرف اتنا بتلا رہی ہے کہ یہ فعل کرنے والی ذات کوئی مؤنث ہے، کوئی مذکر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو ضربت، یہ جو لمبی تائے ساکن ہے فعلِ ماضی میں، یہ ضمیر نہیں ہے بلکہ یہ صرف تانیث کی علامت ہے۔ جیسے اسم کے اندر وہ گول تا تانیث کی علامت تھی، ضاربٌ کا معنی پٹائی کرنے والا مرد، اور ضاربةٌ اس کے ساتھ گول تا جوڑ دی تو معنی کیا ہوا؟ پٹائی کرنے والی عورت۔ تو وہاں اسم میں گول تا تانیث کی علامت ہے، اور فعل کے اندر یہ لمبی تا جو ساکن ہے، اس پر کوئی حرکت نہیں، یہ تانیث کی علامت ہے۔
جی، تو ضربت، اس کے اندر؟ اس کے اندر ہاں، "ہی" ضمیر ہے، اور یہ تا کیا ہے؟ صرف تانیث کی علامت۔ اور "ہی" ضمیر کون سی ہے؟ بارز ہے، مستتر ہے؟ مستتر ہے، چھپی ہوئی ہے، ہمیں نظر نہیں آ رہی، ہم اس پر تلفظ نہیں کر رہے۔ اگلا صیغہ: ضربتا، الف ہے، تا وہی ہے، ضربت والی تا ہے۔ ضربتا، دیکھو تثنیہ مؤنث کا صیغہ ہے، تو یہ الف کیا ہے؟ ضمیر، اور بارز ہے، مستتر؟ بارز۔ اور کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مؤنث غائب۔ پہلے ایک الف آیا تھا وہ کیا تھا؟ تثنیہ مذکر غائب، ضربا، اور یہ ضربتا، یہ کیا ہے؟ تثنیہ مؤنث غائب۔ کیونکہ ساتھ تا تانیث والی بھی جڑی ہوئی ہے۔ ضربت، ضربتا، ضربنَ، اس میں ضمیر کیا ہے؟ نون ہے، اور یہ بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ ہاں، جو صیغہ ہو وہ بول دیا کرو، جمع مؤنث کی ضمیر ہے، وہ سب عورتیں۔
اگلا صیغہ: ضربتَ، جی، یہ تا کیا ہے؟ بارز ہے، مستتر ہے؟ نہیں، ضمیر کیا ہے اس میں؟ ضربتَ، ضربتَ، جی، یہ تا ضمیر ہے، "انت" کیوں کہہ رہے ہو؟ تا ضمیر ہے، تا ضمیر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تا خود ضمیر ہے۔ ہاں "انت" تو آپ تب نکالتے نا، وہ تضربُ مضارع میں ہے، تضربُ، کچھ آخر میں جڑا ہے؟ نہیں، تو مخاطب کی ضمیر ہے وہ "انت" نکالنی پڑے گی۔ یہاں تو خود تا ضمیر جڑی ہوئی ہے، نظر آ رہی ہے، آپ اس پہ تلفظ کر رہے ہیں۔ تو ضربتَ، کون سی ضمیر ہے؟ تا ضمیر ہے، یہ تا، الف، با، تا، تو یہ تا ضمیر ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے یہ؟ واحد مذکر حاضر۔ ضربتما، جی، کیا ضمیر ہے؟ "تما"۔ اور کون سی، اور بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر حاضر۔ دیکھو جو صیغہ ہو وہ بول دیا کرو، وہی ضمیر ہوتی ہے۔ ضربتم، اس میں کون سی ضمیر ہے؟ "تم" ضمیر ہے۔ بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے، کس چیز کی ہے؟ جمع مذکر حاضر۔
ضربتِ، جی، کون سی ضمیر ہے؟ ہاں، تِ نہیں کہنا، عموماً طلبہ تِ کہتے ہیں، تا کہو، وہی الف، با، تا۔ یہ حرف کیا ہے؟ تا۔ الف، با، تا، تو یہ تا ضمیر ہے۔ یہ بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے، ہم اس پر تلفظ کر رہے ہیں باقاعدہ۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے؟ واحد مؤنث حاضر۔ ضربتما، کون سی ضمیر؟ "تما"۔ بارز، مستتر؟ بارز۔ کس چیز کی ضمیر ہے؟ تثنیہ مؤنث حاضر۔ ضربتنّ، کیا ضمیر ہے؟ "تنّ"۔ اور بارز ہے، مستتر؟ بارز ہے، ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے؟ جمع مؤنث حاضر۔
اگلا صیغہ: ضربتُ، جی، کون سی ضمیر؟ تا، تُ نہیں کہنا، تُ نہیں کہنا، طلبہ عموماً تُ کہتے ہیں۔ تا ضمیر ہے، الف، با، تا، یہ حرف بولتے ہیں جو آخر میں ایک ہو تو حرف بولتے ہیں۔ جیسے چلو یہ بات بھی آ گئی، یاد رکھو، وہ کلمہ جو ایک حرف پر مشتمل ہو، جب اس کو ذکر کرنا ہو، اس کا نام لینا ہو، تو حروفِ تہجی میں جو اس کا نام ہے وہ لیتے ہیں۔ جیسے دیکھو: ضربا، ضربا، جی، اس کے آخر میں کون سی ضمیر؟ الف۔ الف کیوں کہہ رہے ہو، آ کیوں نہیں کہتے؟ ابھی آپ تِ کہہ رہے تھے، ابھی آپ تُ کہہ رہے تھے، تو یہاں بھی آ کہو، نا کہو یہ آ ضمیر ہے۔ کوئی کہتا ہے آ؟ نہیں، کیونکہ یہ ایک حرف ہے، جب ایک حرف ہو تو اس کا وہ نام لیتے ہیں جو الف، با، تا کے اندر ہے۔ اور الف، با، تا میں اس ایک حرف کو کیا نام ہے جو ضربا کے آخر میں ہے؟ الف ہے، تو یہ الف ضمیر ہے۔
اور ضربتَ، یہ کیا ہے؟ تا ہے۔ اور ضربتُ، یہ بھی کیا ہے؟ تا ہے۔ اور ضربتِ، یہ بھی کیا ہے؟ تا ہے۔ ہاں، اگر ایک سے زیادہ حرف ہو، پھر وہی نام لو، جیسے ضربتما، دیکھو "تما"، آپ نے تا، میم، الف، تین حرف تھے تو وہی نام لے لیا جو یہاں بن رہا ہے، "تما"۔ ضربتم، کتنے حروف؟ "تم"، "تم" میں دو حروف، تا اور میم، تو "تم" ہی ذکر کر دیا۔ لیکن جب ایک حرف ہو تو وہ نام لو جو حروفِ تہجی کے اندر اس کا تھا۔
پھر دیکھو: ضربَ میں کیا ضمیر؟ "ہو"۔ ضربا میں؟ الف، دیکھا ایک حرف ہے۔ ضربوا میں؟ واؤ، دیکھا ایک حرف ہے، تو وہ واؤ والا نام لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب آئیے، ضربتُ، ضربنا، آخری دو صیغے رہ گئے تھے ماضی کے۔ ضربتُ میں کون سی ضمیر؟ تا ضمیر ہے۔ اور بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے؟ واحد متکلم۔ اور ضربنا؟ نا، دیکھا نون اور الف دو حرف ہیں نا، تو اب یہی نام لو، نا ضمیر ہے۔ اور بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔ اور کس چیز کی ضمیر ہے؟ جمع متکلم، یوں کہو متکلم مع الغير کی ضمیر ہے۔
اب پھر जरा جلدی سے دہرائو۔ ضربَ میں کون سی ضمیر؟ "ہو"، اور بارز، مستتر؟ مستتر۔ ضربا؟ الف۔ ضربوا؟ واؤ۔ ضربت؟ "ہی"، اور یہ تا کیا ہے؟ مؤنث کی علامت ہے صرف۔ یہ لمبی تا، یہ فعل کی علامت ہے، یہ لمبی تا تانیث کے لیے صرف فعل میں آتی ہے، اسم میں گول تا آتی ہے۔ اچھا، ضربتا؟ الف، تا تو تانيس کی علامت ہے ضمیر صرف وہی۔ ضربت، جو ضربت میں تا ہے، وہی ضربتا میں بھی ہے۔
لیکن یہاں چونکہ آخر میں الف آ گیا اور الف اپنے سے ماقبل ہمیشہ زبر چاہتا ہے، لہذا اس تا پر ہم نے زبر پڑھ دی، ورنہ یہ تا اصل میں ساکن ہے۔ تو ضربتا میں کیا ہے؟ الف۔ ضربنَ، نون، دیکھا نَ نہیں کہا آپ نے، نَ۔ کیونکہ ایک حرف ہے، تو نون ضمیر۔ ضربتَ، تا ضمیر۔ ضربتما، تما ضمیر۔ ضربتم، تم ضمیر۔ ضربتِ، تا ضمیر۔ ضربتما، تما ضمیر۔ ضربتنّ، تنّ ضمیر۔ ضربتُ، تا ضمیر۔ اور ضربنا، نا ضمیر۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
اسی طرح مضارع میں بھی آ جاؤ، ذرا یہ بھی دیکھ لو۔ یضربُ کے اندر ہو، کیونکہ یضربُ، یا تو علامتِ مضارع ہے، ضاد را با، یہ تو فعل کے اپنے حروف ہیں، آگے کوئی لفظ کوئی حرف نہیں جڑا ہوا، تو ہم کہیں گے اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ہو، جو صیغہ ہے اس کے مطابق ضمیر نکال لیں گے، اور صیغہ کون سا ہے؟ واحد مذکر غائب، تو واحد مذکر غائب کی ضمیر ہو نکال لی۔
اور یضربانِ، یاد رکھو یہ فعلِ مضارع کے آخر میں جو نون آتا ہے، سوائے جمع مؤنث کے صیغوں کے۔ سوائے کس کے؟ باقی جتنے نون ہیں، یہ نونِ اعرابی ہیں، یہ ضمائر نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ لم اور لم کی وجہ سے گرتے ہیں یا نہیں گرتے؟ یہ گر جاتے ہیں، تو لہذا یہ ضمائر نہیں ہیں۔
یضربُ، کون سی ضمیر؟ ہو، بارز، مستتر؟ مستتر، چھپی ہوئی ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے؟ واحد مذکر غائب۔ یضربانِ، الف ہے، نون تو اعرابی ہے۔ یضربون، واؤ ہے۔ تضربُ، اس کے آخر میں کچھ نہیں، تو اس کے اندر ہیا ضمیر۔ تضربانِ، الف ہے، نون اعرابی ہے۔ یضربنَ، یہ جمع مؤنث کے صیغوں میں نون ضمیر ہے۔ یضربنَ، نون ہے۔
تضربُ، انت، کیونکہ ضاد را با، آخر میں کچھ جڑا ہوا ہے؟ نہیں، تو آپ ضمیر اس صیغے کے مطابق نکال لو، واحد مذکر حاضر والی، اور وہ انت ہے۔ اور وہ مستتر ہے، بارز ہے؟ مستتر۔ تضربانِ، الف۔ تضربون، واؤ۔ تضربین، یا۔ تضربانِ، الف۔ تضربنَ، نون ہے۔
اضربُ، انا، ضاد را با تو فعل کے ہیں، آگے تو کچھ ہے ہی نہیں، تو اسی کے اندر ضمیر، اضربُ میں کیا ہے؟ انا، مستتر ہے، بارز ہے؟ مستتر ہے۔ اور نضربُ میں؟ نحن ضمیر چھپی ہوئی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور یاد رکھو، یہ ساری فاعل کی ضمائر ہیں۔ فاعل کی، اور فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے۔ تو ان ضمائر کو کہیں گے کہ یہ ضمائر مرفوع ہیں اور متصل ہیں، متصل کا معنی جڑی ہوئی ہیں۔ دیکھو ضربتَ، ضربتما، ضربتم، دیکھو ضربَ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ساری، تو ان کو متصل کہیں گے جڑی ہوئی۔ تو کون سی ضمائر ہیں یہ ساری جتنی ہم نے ابھی نکالیں؟ مرفوع ہیں، کیونکہ فاعل ہیں، اور متصل ہیں۔
تو ضمیرِ مرفوع متصل، یہ صرف فعل کے ساتھ جڑتی ہے، اسم کے ساتھ کبھی نہیں جڑتی۔ توجہ ہے؟ کون سی ضمیر؟ مرفوع متصل۔ مرفوع کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ فاعل ہے، اور فاعل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ ضربَ زیدٌ، ضربَ زیدٌ، یہ زید پر میں پیش پڑھ رہا ہوں۔ معلوم ہوا زید معرب ہے یا مبنی ہے؟ معرب ہے، زیدٌ، زیداً، زیدٍ، آخر بدلتا ہے یا نہیں؟ تو یہ معلوم ہوا معرب ہے۔ اور اس پر کبھی پیش پڑھنا ہے، کبھی زبر، کبھی زیر، لیکن اپنی مرضی سے نہیں، عامل کو دیکھنا ہے۔ اگر پیش دینے والا عامل ہوا تو پیش پڑھیں گے، زبر دینے والا عامل ہوا تو زبر پڑھیں گے، زیر دینے والا عامل ہوا تو زیر۔
تو ضربَ زیدٌ، ضربَ کے لیے زیدٌ فاعل ہے، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، اس پر رفع یعنی پیش آتی ہے، اسی لیے میں پیش پڑھ رہا ہوں، ضربَ زیدٌ۔ تو یہ جت، فاعل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ اسی طرح یہ، تو یہ، یہ فاعل کی ضمائر فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ جو ابھی ہم نے نکالیں، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو ان ضمائر کو کیا کہیں گے؟ مرفوع متصل۔ ضمیرِ مرفوع متصل۔ ضمیرِ مرفوع متصل، مرفوع سے کیا پتہ چلا؟ فاعل ہے، اور متصل سے کیا پتہ چلا؟ ساتھ جڑی ہوئی ہے، الگ نہیں ہے۔
تو ضمیرِ مرفوع متصل صرف کس کے ساتھ جڑتی ہے؟ فعل کے ساتھ جڑتی ہے، اسم کے ساتھ نہیں جڑتی۔ اسم کے ساتھ اور ضمائر تو جڑ سکتی ہیں، لیکن مرفوع متصل نہیں جڑ سکتی۔ اسی لیے انہوں نے کہا: یا ضمیرِ مرفوع متصل بدو پیوندد، یا ضمیرِ مرفوع متصل اس کے ساتھ جڑی ہو، اس کے ساتھ جڑ جائے، چون: ضربتُ، ضربتَ، ضربتِ، تینوں صیغوں کے اندر اسی طرح ہے، ضمیرِ مرفوع ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اور کون سی ضمیر ہے؟ مرفوع متصل، کیا ضمیر ہے؟ ضمیر کو ذرا ذکر کرو۔ تا ضمیر ہے، کیا ہے؟ تا ضمیر ہے۔ اور بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے۔
یا تائے ساکن، یا اس تائے ساکن اس کے ساتھ جڑی ہو، ساکن تا، چون: ضربت۔ ابھی میں نے آپ کو بتایا، ضربَ، ضربا، ضربوا، ضربت، یہ تا کس چیز کی ہے؟ تانیث کی ہے، یہ ضمیر نہیں ہے، اور یہ لمبی تا، یہ صرف تانیث کے لیے آتی ہے، اور صرف کس میں آتی ہے؟ فعل میں، اسم میں گول تا آتی ہے تانیث کے لیے۔ تو یہ لمبی تا تانیث والی، یہ صرف کس کے ساتھ جڑے گی؟ فعل، تو یہ فعل کی علامت ہے۔ اسی لیے کہا: یا تائے ساکن چون: ضربت، یا تائے ساکن اس کے ساتھ جڑی ہو جیسے: ضربت۔
یا امر باشد، یا وہ امر ہو۔ اضرب، اضرب کیا ہے؟ امر کا صیغہ، اور امر اسم میں نہیں آتا بلکہ کس میں آتا ہے؟ فعل میں۔ تو امر، جب کوئی صیغہ امر کا ہو، آپ سمجھ جائیں یہ فعل ہے۔ اسی طرح نہی کا بھی آپ کو بتائیں گے، لا تضرب۔ لا تضرب کو دیکھتے ہی آپ سمجھ جائیں، یہ کیا ہے؟ فعل، کیونکہ یہ نہی کا صیغہ ہے۔ امر، امر جس میں کسی کام کا حکم دیا جاتا ہے، کہ اضرب، پٹائی کرو، دیکھو پٹائی، یا اسمع، میری بات سنو۔ تو امر میں کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے، اور نہی میں کام سے روکنے کا حکم ہوتا ہے۔ اضرب کا معنی؟ پٹائی کرو۔ اور لا تضرب، یہ نہی ہے، تو یہ، اس میں روکا جا رہا ہے کہ پٹائی نہ کرو۔ تو امر یعنی اضرب، یہ بھی کس کی علامت؟ فعل کی، اور نہی یعنی لا تضرب، یہ بھی کس کی علامت؟ فعل کی، اسم میں نہ امر آتا ہے اور نہ نہی بھئی۔
تو کہتے ہیں: یا امر باشد، یا وہ امر ہو چون: اضرب، یا نہی باشد، یا نہی ہو، ہوگا چون: لا تضرب، جیسے: لا تضرب۔
جی، یہ فعل کی علامتیں ختم ہوئیں، ذرا ان کو گنو بھئی۔ پہلی علامت کون سی؟ قد۔ دوسری علامت؟ سین۔ تیسری علامت؟ سوفَ، شروع میں آ جائے۔ تین ہو گئیں۔ چوتھی علامت؟ حرفِ جزم اس پر آ جائے، چون: لم یضرب۔ یا اس کے ساتھ کیا جڑ جائے؟ ضمیرِ مرفوع متصل جڑ جائے، کتنی ہو گئیں؟ پانچ ہو گئیں، پانچ۔ یا آخر میں کیا جڑ جائے؟ تائے ساکن، کتنی ہو گئیں؟ چھ۔ ساتویں علامت؟ کہ وہ امر ہو، اور آٹھویں علامت کہ وہ نہی ہو۔ تو آٹھ علامتیں فعل کی ذکر کیں، گیارہ علامتیں تھیں اسم کی اور آٹھ علامتیں فعل کی۔
آگے دیکھیے: و علامتِ حرف آنست، ہاں! آپ کو آگے بتلائیں گے کہ حرف کی علامت یہ ہے کہ وہ اسم یا فعل کی کوئی علامت قبول نہیں کرتا۔ یعنی جتنی اسم کی علامتیں بیان ہوئیں، ان میں سے کوئی علامت حرف میں نہیں آئے گی۔ اسی طرح جتنی علامتیں فعل کی بیان ہوئیں، ان میں سے کوئی علامت حرف میں نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: و علامتِ حرف آنست، اور حرف کی علامت وہ ہے کہ ہیچ علامتے از علاماتِ اسم و فعل درو نہ بود، کہ کوئی علامت از علاماتِ اسم و فعل، اسم اور فعل کی علامتوں میں سے کوئی علامت درو نہ بود، اس کے اندر نہ ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ و علامتِ حرف آنست، اور حرف کی علامت وہ ہے کہ ہیچ علامتے از علاماتِ اسم و فعل، ترجمہ آخر سے ہوگا، کہ اسم و فعل کی علامتوں میں سے کوئی علامت درو نہ بود، اس میں نہ ہو۔ تو یہ حرف ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
جی، تو آج ہم نے فعل کی علامتیں پڑھیں، انہوں نے بتلایا آپ کو کہ فعل وہ ہے کہ جس کے شروع میں قد آ جائے، یا اس کے شروع میں سین آ جائے، یا اس کے شروع میں سوفَ آ جائے۔ میں نے بتایا تھا سین اور سوفَ مضارع کو کس کے ساتھ خاص کرتے ہیں؟ مستقبل کے ساتھ، لیکن سین جو ہے وہ سوفَ کے مقابلے میں زیادہ قریب کے لیے ہے۔ اور اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ فعل کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کے شروع میں حرفِ جزم آ جائے، اور اس کی وجہ سے فعل پر پھر جزم پڑھیں گے۔ اور یا اس کے ساتھ کون سی ضمیر مل جائے؟ مرفوع متصل۔ مرفوع کیا معنی؟ کون سی ضمیر ہو؟ فاعل کی، اور متصل کا کیا معنی؟ ساتھ جڑی ہوئی ہو۔ یا اس کے ساتھ تائے ساکن جڑ جائے، تانیث والی لمبی تا، یا وہ امر کا صیغہ ہو یا نہی کا صیغہ ہو، یہ فعل کی علامتیں ہیں۔ اور حرف نہ اسم کی کسی علامت کو قبول کرتا ہے اور نہ فعل کی، لہذا اس میں اسم یا فعل کی کوئی علامت نہیں آئے گی۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟