جی، دیکھیے بھئی آگے سبق:
فصلٌ
بدان کہ مرکبِ غیرِ مفید آن است کہ چون قائل بر آن سکوت کند سامع را خبرے یا طلبے حاصل نشود، و آن بر سہ قسم است:
اول: مرکبِ اضافی، چون غلامُ زیدٍ، جزءِ اول را مضاف گویند و جزءِ دوم را مضاف الیہ، و مضاف الیہ ہمیشہ مجرور باشد۔
اچھا بھئی! پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے بھئی۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ انشائیہ اسے کہتے ہیں کہ جس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف نہ کیا جا سکے۔ یعنی آسان لفظوں میں یوں کہو کہ جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے، اور پھر اس کی دس قسمیں انہوں نے آپ کو بتلائی تھیں۔
پہلی قسم امر تھی۔ امر کا کیا معنیٰ؟ کسی کو کسی چیز کا حکم دینا، جیسے اِضْرِبْ، اِضْرِبْ (تو پٹائی کر) یا اِسْمَعْ (تو سن لے) یا اِقْرَأْ (تم پڑھو)، تو دیکھو یہ سب کیا ہیں؟ امر ہیں، حکم دیا جا رہا ہے۔
دوسری قسم تھی نہی۔ نہی وہ جملہ جس میں کسی کو کسی کام سے روکا جائے، منع کیا جائے۔ تو اس میں کسی چیز سے روکنے کا حکم دیا جاتا ہے، جیسے لَا تَضْرِبْ۔
تیسری قسم تھی استفہام بھئی۔ استفہام کا معنیٰ ہے کسی سے کوئی سوال پوچھنا، کوئی بات پوچھنا، جیسے مثال دی تھی انہوں نے هَلْ ضَرَبَ زَيْدٌ؟ (کیا زید نے پٹائی کی ہے؟)، تو دیکھو سوال پوچھا جا رہا ہے۔
چوتھی قسم تھی تمنا بھئی۔ تمنا، اردو میں جس کو آپ تمنا کہتے ہیں، تمنا کرنا کسی چیز کی آرزو کرنا، خواہش کرنا، جیسے لَيْتَ زَيْدًا حَاضِرٌ۔
اور پانچویں قسم تھی ترجی بھئی۔ ترجی وہ جملہ جس میں امید کو ذکر کیا جائے بھئی، کسی کام کی امید کو، جیسے لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ (شاید کہ عمر غائب ہوگا یا شاید کہ عمر غائب ہو یا امید کے ساتھ ترجمہ کر لو، امید ہے کہ عمر غائب ہوگا)۔ تو موقع محل کے مطابق جہاں شاید سے جملہ بہتر بنے وہاں شاید کے ساتھ ترجمہ کر لیں اور جہاں امید ہے اس کے ساتھ جملہ بہتر بنے تو وہاں اس کے ساتھ ترجمہ کر لیں۔
اور چھٹی قسم تھی عقود۔ میں نے بتلایا تھا عقود جمع ہے عقد کی اور عقد جو ہے وہ معاملے کو کہتے ہیں۔ دو انسانوں کے درمیان جو معاملہ طے پا جائے اس کو عقد کہتے ہیں، جیسے خرید و فروخت کا معاملہ ہے، جیسے نکاح کا معاملہ ہے، جیسے کرائے پر کوئی چیز لینے کا معاملہ ہے، جیسے کسی کو کوئی تحفہ دینے کا معاملہ ہے۔ تحفہ دینا، عربی میں اس کو ہبہ کہتے ہیں، ہبہ۔ ہبہ کے اندر آپ کسی کو کوئی چیز دیتے ہیں اور وہ اس کو قبول کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟
تو یہ سب عقود ہیں بھئی، اور تو یہ عقود بھی کیا ہیں؟ یہ انشاء کی قسم ہیں۔ جیسے مثال ذکر کی بِعْتُ اور اِشْتَرَيْتُ۔ بِعْتُ کا معنیٰ 'میں نے بیچا' اور اِشْتَرَيْتُ کا معنیٰ 'میں نے خریدا'۔ تو بِعْتُ اور اِشْتَرَيْتُ کے ذریعے دو انسان عقد کریں تو پھر یہ تو پھر یہ جملہ انشائیہ ہے۔ اور اگر ویسے کسی کو بات بتلائی جائے پھر جملہ انشائیہ نہیں ہے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی کو بتلاتے ہیں بِعْتُ السَّيَّارَةَ (میں نے گاڑی بیچ دی)، اب یہ آپ اس کو ویسے ایک بات بتلا رہے ہیں، پھر یہ جملہ انشائیہ نہیں ہے۔ ہاں، جب عقد کر رہے ہیں، گاہک اور بیچنے والے کے درمیان جو بات ہو رہی ہے، معاملہ کا طے کر رہے ہیں، ایک کہتا ہے 'میں نے یہ گاڑی آپ کو بیچ دی' اور دوسرا کہتا ہے 'میں نے خرید لی'، دیکھو یہ آپس میں جو عقد کر رہے ہیں خرید و فروخت کا، اس وقت یہ جملہ انشائیہ ہے، ویسے جملہ انشائیہ نہیں۔
اس سے اگلی قسم تھی ندا۔ ندا میں نے بتلایا تھا وہ جملہ جس کے ذریعے کسی کو آواز دی جائے، آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کروایا جائے، جیسے يَا زَيْدُ (اے زید!)، اور پھر آگے جو بات کی جائے اس کو جوابِ ندا کہتے ہیں۔ ایک ہے ندا اور ایک ہے جوابِ ندا۔ جو آواز دی جائے یا وغیرہ کے ساتھ اس کو ندا کہتے ہیں اور آگے جو بات کی جائے اس کو جوابِ ندا کہتے ہیں۔ جیسے میں کہتا ہوں يَا زَيْدُ (اے زید!) اِسْمَعْ كَلَامِي (اے زید! میری بات سنو)۔ تو 'اے زید!' یہ ہے ندا، اور 'میری بات سنو' یہ ہے جوابِ ندا۔ یہ الگ جملہ ہے، اس کا انشائیہ ہونا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے یہ جملہ انشائیہ ہو، ہو سکتا ہے جملہ خبریہ ہو، وہ اس میں آپ نے خود غور کرنا ہے۔
اور اِسْمَعْ كَلَامِي، یہ ہے نہ جوابِ ندا، یہ کون سا جملہ ہے؟ اِسْمَعْ كَلَامِي (میری بات سنو)، حکم دیا جا رہا ہے، اِسْمَعْ امر کا صیغہ ہے۔ آپ صرف پڑھ چکے ہیں، اِسْمَعْ (سن لے تو)، اور امر بھی ابھی آپ نے پڑھا کس کی قسم ہے؟ انشاء کی۔ معلوم ہوا يَا زَيْدُ اِسْمَعْ كَلَامِي، يَا زَيْدُ یہ بھی ہے جملہ انشائیہ (یہ ہے ندا) اور اِسْمَعْ كَلَامِي (جوابِ ندا) یہ بھی کیا ہے جملہ انشائیہ ہے۔ لیکن جوابِ ندا کا ہمیشہ جملہ انشائیہ ہونا ضروری نہیں۔
طلباء جب عموماً ترکیب کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں یہ سارا جملہ انشائیہ ہے، يَا زَيْدُ اِسْمَعْ كَلَامِي، ندا اور جوابِ ندا کو ملا کر کہتے ہیں جملہ انشائیہ ہوا۔ بھئی! جملہ انشائیہ کیسے؟ یہ تو دو جملے ہیں، یہ تو ایک جملہ ہے ہی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو آپ نے کس کو جملہ انشائیہ بنانا ہے ہمیشہ؟ ندا کو، اور جوابِ ندا میں آپ نے پھر غور کرنا ہے کہ وہ جملہ خبریہ ہے یا جملہ انشائیہ ہے۔
دیکھو يَا زَيْدُ اِسْمَعْ كَلَامِي (اے زید! میری بات سن لے)، ندا بھی جملہ انشائیہ اور اِسْمَعْ كَلَامِي یہ امر ہے، یہ بھی جملہ انشائیہ۔ لیکن جوابِ ندا کا جملہ انشائیہ ہونا ضروری نہیں، مثلاً دوسری مثال لے لو: يَا زَيْدُ عَمْرٌو عَالِمٌ (اے زید! عمر عالم ہے)، دیکھا؟ اب عَمْرٌو عَالِمٌ یہ ہے جوابِ ندا اور یہ جملہ خبریہ ہے۔ اس میں بتلایا جا رہا ہے زید کو کہ عمر عالم ہے، اور اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔ تو ندا اور چیز ہے، جوابِ ندا اور چیز ہے۔
اسی طرح اگلی قسم ہے، ایک قسم آرہی ہے قسم بھئی، قسم۔ اس قسم کے اندر بھی میں نے بتلایا تھا، ایک ہے قسم، ایک ہے جوابِ قسم۔ وَاللّٰهِ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا، وَاللّٰهِ یہ کیا ہے؟ یہ ہے قسم، یہ ہے جملہ انشائیہ، اور آگے جو جوابِ قسم ہے لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا اس میں آپ نے خود الگ سے غور کرنا ہے۔ وہ بھی عموماً جملہ خبریہ ہی ہوگی، وہ عموماً جملہ خبریہ ہوگی لیکن وہ ہے الگ جملہ، اس میں آپ نے الگ غور کرنا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو وَاللّٰهِ یہ کیا ہے؟ قسم، اور لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا یہ کیا ہے؟ جوابِ قسم۔ اور عموماً طلباء ان دونوں کو ملاتے ہیں اور کہتے ہیں قسم اپنے جوابِ قسم سے مل کر جملہ انشائیہ ہوا۔ یہ غلط ہے بھئی، یہ تو ایک جملہ ہے ہی نہیں، یہ تو دو جملے ہیں بھئی۔ پہلا جملہ انشائیہ ہے، دوسرے کا حکم الگ دیکھنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو اور اس کے بعد پھر ایک قسم انہوں نے جملہ انشائیہ کی عرض بتلائی تھی۔ عرض میں نے بتلایا تھا کسی سے کسی چیز کی درخواست کرنا، کسی کو نرمی سے کسی سے کوئی کام طلب کرنا۔ نرمی سے اور میٹھے اور اچھے الفاظ سے کسی سے کوئی کام طلب کرنا۔ جیسے مثال انہوں نے دی: أَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِيْبَ خَيْرًا (کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے کہ آپ کو بھلائی پہنچے، خیر پہنچے، آپ کو فائدہ پہنچے)۔ تو دیکھو اس کے آنے کو طلب کر رہا ہے لیکن اچھے اور میٹھے الفاظ کے ساتھ، اس کو کہتے ہیں درخواست بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ درخواست کرنا۔ امر بھی تھا، امر میں حکم دیا جا رہا تھا اور اس میں درخواست کی جا رہی ہے اچھے میٹھے الفاظ سے۔
تو یہ عرض ہے، اور ایک قسم آپ نے تعجب پڑھی تھی۔ تعجب آپ نے پڑھا وہ جملہ انشائیہ ہے جس میں انسان اپنی حیرت کا اظہار کرتا ہے، اپنی حیرانگی کا اظہار کرتا ہے، اپنے تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ آپ کوئی چیز دیکھتے ہیں اور بڑے حیران ہو جاتے ہیں، تو اپنی حیرت کا اظہار ان لفظوں سے، اس کے دو فعل ہیں بھئی۔ فعلِ تعجب جو ہیں وہ دو ہیں: ایک مَا أَفْعَلَهُ اور أَفْعِلْ بِهِ، جیسے مَا أَحْسَنَهُ اور أَحْسِنْ بِهِ۔
تو یہ کیا ہیں؟ تعجب کا اظہار کرنے کے لیے ہیں۔ کسی نے زید کو دیکھا اور زید اس کو بڑا اچھا لگا کہ اتنا اچھا انسان ہے یا اتنا حسین انسان ہے، تو وہ کہتا ہے: مَا أَحْسَنَ زَيْدًا (زید کتنا اچھا ہے!) یا کہتا ہے، یا یوں ترجمہ کر لیں: مَا أَحْسَنَ زَيْدًا (زید کتنا حسین ہے!)۔ یا اسی طرح دوسرا لفظ کیا ہے اس کا؟ أَحْسِنْ بِزَيْدٍ۔ زید اس کو، تو وہ زید کے بارے میں کہتا ہے: أَحْسِنْ بِزَيْدٍ۔ کیا معنیٰ؟ ترجمہ وہی ہوگا: 'زید کتنا اچھا ہے!' یا دوسرا ترجمہ کر لیں 'زید کتنا حسین ہے!'۔ تو دیکھو، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، کیونکہ وہ آپ کو کوئی بات نہیں بتلا رہا، وہ صرف اپنی حیرت کا اظہار کر رہا ہے کہ مجھے ایک بات پر کیا ہوئی ہے؟ حیرانگی ہوئی ہے، تو اس کا اظہار کر رہا ہے۔
ہاں، اس کے بجائے اگر وہ ویسے تعجب کی بات کرتا ہے وہاں پھر اس کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ ایک آدمی کہتا ہے 'میں زید کو دیکھ کر حیران رہ گیا'، اب یہ اپنی بات بتلا رہا ہے کہ 'میں زید کو دیکھ کر'، یہ حیرت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ کیا کر رہا ہے؟ آپ کو ایک بات بتلا رہا ہے۔ ہاں، اس میں اس کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، دوسرا کہہ سکتا ہے 'یہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ اس پر حیران نہیں ہوا'۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
اور ہاں، تمنا اور ترجی میں نے بتلایا تھا یہ بظاہر قریب قریب معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں لفظوں میں بھی فرق اور معنیٰ میں بھی فرق ہے۔ تمنا جو ہے اس کے لیے لَيْتَ کا لفظ آئے گا ہمیشہ۔ لَيْتَ کا لفظ آئے تو آپ سمجھ جائیں یہ تمنا ہے۔ اور ترجی کے لیے لَعَلَّ کا لفظ آئے گا، لَعَلَّ کا لفظ آئے تو آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ ترجی۔ تو لفظوں میں بھی فرق، ایک کا لفظ ہے لَيْتَ اور دوسرے کا لفظ ہے لَعَلَّ، اور معنیٰ میں بھی فرق ہے۔ تمنا جو ہے وہ ممکن اور ناممکن دونوں چیزوں کی ہوتی ہے۔
کبھی آپ کا دل کرتا ہے 'کاش آج بارش ہو جائے'، اور ممکن ہے یا نہیں کہ اسی دن بارش ہو جائے؟ تو دیکھا، ممکن کام کی بھی آپ تمنا کر لیتے ہیں۔ اور کبھی آپ ناممکن کام کی تمنا کرتے ہیں 'کاش وہ گزرا ہوا زمانہ واپس آ جائے'، اور حالانکہ وہ تو واپس نہیں آ سکتا۔ اور جبکہ ترجی صرف ممکن کام کی ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں 'امید ہے کہ کل بارش ہوگی'، 'امید ہے کہ کل بارش ہوگی'، امید تو آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے، ممکن ہے۔ ناممکن کام کے بارے میں امید نہیں کر سکتے، آپ کہیں 'امید ہے کہ گزرا ہوا زمانہ واپس آ جائے گا'، نہیں بھئی، گزرا ہوا زمانہ تو واپس نہیں آ سکتا۔ معلوم ہوا ترجی صرف کس میں ہوگی؟ ممکن کام میں ہوگی، ناممکن میں نہیں۔
اور نیز ایک اور فرق بھی ہے معنیٰ کے اعتبار سے کہ تمنا جو ہے وہ محبوب چیز کی ہوتی ہے جو پسند ہو، اس کی انسان تمنا کرتا ہے۔ آپ کہتے ہیں 'کاش گزرا ہوا زمانہ واپس آ جائے'، معلوم ہوا آپ کو وہ زمانہ محبوب ہے۔ اور جبکہ ترجی، وہ محبوب ہو یا غیرِ محبوب، دونوں کی ترجی کی جاتی ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ کسان جو ہے وہ بادل دیکھ کر کہتا ہے 'شاید بارش ہو جائے'۔ اور کبھی اس کو یہ بارش مرغوب ہوگی، پسند ہوگی کہ ہونی چاہیے، اور ہو سکتا ہے اس کو یہ بارش پسند نہ ہو کہ کہیں فصل کو نقصان نہ ہو جائے۔ لیکن کہے گا دونوں صورتوں میں وہ اسی طرح: لَعَلَّ الْمَطَرَ يَنْزِلُ (شاید کہ بارش ہو جائے)۔
بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟
اب آگے دیکھیے بھئی۔
فصلٌ
بدان کہ مرکبِ غیرِ مفید آن است کہ چون قائل بر آن سکوت کند سامع را خبرے یا طلبے حاصل نشود، و آن بر سہ قسم است: اول مرکبِ اضافی۔
بھئی! ابھی تک جو بات چل رہی تھی وہ مرکبِ مفید کی تھی۔ صاحبِ نہو میر نے آپ کو بتلایا تھا کہ مرکب دو قسم پر ہے: ایک مرکبِ مفید اور ایک مرکبِ غیرِ مفید۔ مرکبِ مفید کے بارے میں بتلایا تھا کہ جب کہنے والا اس پر خاموشی اختیار کر لے، یعنی وہ بات کر کے خاموش ہو جائے، تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو۔ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ اس نے کہا اور خاموش ہو گیا، آپ کو ایک بات کا پتہ چل گیا کہ زید نے پٹائی کی ہے (جملہ خبریہ)۔ اور یا اس نے کہا اِضْرِبْ عَمْرًوا کہ عمر کی پٹائی کرو، یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا، تو سننے والے کو پتہ چل گیا کہ یہ پٹائی کو طلب کر رہا ہے۔وہ مرکب مفید ہے۔ کیا ہے؟ مرکب مفید۔ مرکب مفید میں کبھی خبر دی جاتی ہے کسی چیز کی اور کبھی اس میں طلب ہوتی ہے، کسی چیز کو طلب کیا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں میں نے بتلایا تھا کہ جس میں بات پوری ہو وہ ہے مرکب مفید۔
مرکب مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو۔ سننے والا سمجھ جائے یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ مثلاً آپ نے کہا: "زید نے پٹائی کی ہے۔" دیکھا، آپ کو ایک بات کا پتہ چل گیا۔ یہ جملہ پورا ہے۔ اور اگر جملہ پورا نہ ہو تو وہ مرکب غیر مفید ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی: "زید کے دوست کا بھئی۔" زید کے دوست کا جو بھئی ہے، جی بات پوری ہو گئی؟ ہاں، بات پوری نہیں ہوئی۔ آپ کہیں گے: "کیا ہوا اس کو؟ آپ بات تو پوری کریں۔" تو لفظوں کو آپ نے نہیں دیکھنا، لفظ تھوڑے ہوں یا زیادہ۔ آپ نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ بات پوری ہے یا پوری نہیں۔ اگر بات پوری ہے تو وہ مرکب مفید، اور اگر بات پوری نہیں تو وہ مرکب غیر مفید۔ جی دیکھیے بھئی!
فَصْلٌ: بِدَانْ کِہ جان لے تو کہ مرکب غیر مفید آنست، مرکب غیر مفید وہ ہے کہ چون قائل بر آن سکوت کند، کہ جب کہنے والا اس پر سکوت کرتا ہے—سکوت کند؟ سکوت کرتا ہے یعنی خاموشی کرتا ہے، یعنی وہ کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے—سامع را خبرے یا طلبے حاصل نہ شود، تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب حاصل نہ ہو—تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب حاصل نہ ہو۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ سامع: سننے والا، سننے والا۔
پھر سن لیں ترجمہ: کہ مرکب غیر مفید آنست، وہ ہے کہ چون قائل بر آن سکوت کند، کہ جب کہنے والا اس پر خاموشی اختیار کرے، سامع را خبرے یا طلبے حاصل نہ شود، سننے والے کو کوئی خبر یا کوئی طلب حاصل نہ ہو، یعنی بات اس میں پوری نہ ہو۔ وآن بر سہ قسم است، اور وہ تین قسم پر ہے۔ سہ کا کیا معنی؟ تین۔ آن کا کیا معنی؟ آن: وہ، وہ۔ بر: بر کا کیا معنی؟ پر۔ وآن بر سہ قسم است، اور وہ تین قسم پر ہے۔ اول: مرکب اضافی۔ پہلا کیا ہے؟ مرکب اضافی۔ اب مرکب غیر مفید کی قسمیں آپ کو بتلائیں گے۔ یہ تین قسمیں بتلائیں گے۔ کتنی؟ تین قسمیں۔ اور بھی قسمیں علماء نے ذکر کی ہیں لیکن آپ کے لیے فی الحال یہی کافی ہیں جو یہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: اول: مرکب اضافی۔ پہلا کون سا مرکب، پہلا کون سا ہے؟ پہلا مرکب مفید جو ہے وہ مرکب اضافی ہے۔
اضافی، اضاف کا معنی ہے اضافیٌ۔ لاہوریٌ کا کیا معنی؟ لاہور والا۔ پاکستانیٌ کا کیا معنی؟ پاکستان والا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: اضافیٌ کا معنی، اضافت والا۔ پھر دہرائیں، اضافیٌ کا کیا معنی؟ اضافت والا، جس میں اضافت ہو وہ مرکب مرکب اضافی ہے۔ چون: غلام زیدٍ، جیسے غلام زیدٍ۔ بھئی یاد رکھو، اردو میں آپ 'کا'، 'کے'، 'کی' کے ساتھ ایک چیز کی نسبت کرتے ہیں دوسرے کی طرف۔ کس کے ذریعے؟ 'کا'، 'کے'، 'کی' کے ذریعے۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: "زید کا قلم۔" دیکھو، میں نے قلم کی نسبت زید کی طرف کر دی کہ یہ قلم کسی اور کا نہیں ہے بلکہ کس کا ہے؟ زید کا ہے۔ یا میں کہتا ہوں: "عمرو کی کتاب۔" دیکھو، میں نے کتاب کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ عمرو کی طرف کر دی کہ یہ کتاب کسی اور کی نہیں ہے بلکہ کس کی ہے؟ عمرو کی ہے۔ یا "مسلمانوں کے بچے۔" مسلمانوں کے بچے، دیکھو، میں نے بچوں کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ مسلمانوں کی طرف کر دی۔ تو دیکھو، "زید کا قلم"، دیکھو 'کا' آ گیا بیچ میں۔ اور "عمرو کی کتاب"، درمیان میں کیا آیا؟ 'کی' آ گیا۔ یا "مسلمانوں کے بچے"، درمیان میں کیا آیا؟ 'کے'۔ تو دیکھو، یہ ایک چیز کی نسبت کبھی دوسری چیز کی طرف کی جاتی ہے، اس کو اضافت کہتے ہیں۔ ایک چیز کی نسبت کرنا دوسری چیز کی طرف، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اضافت کہتے ہیں۔
اور اردو میں تو، اردو میں تو جس چیز کی نسبت کی جا رہی ہے وہ بعد میں آتی ہے۔ "زید کی کتاب۔" جی، میں نے کس چیز کی نسبت زید کی طرف کی؟ کتاب کی۔ اور "زید کی کتاب"، کتاب پہلے ہے یا زید پہلے ہے؟ زید پہلے ہے، کتاب بعد میں ہے۔ تو اردو میں جس چیز کی نسبت کی جاتی ہے وہ بعد میں ذکر کی جاتی ہے، لیکن عربی میں برعکس ہے۔ جس چیز کی نسبت کی جاتی ہے وہ پہلے آتی ہے اور جس کی طرف نسبت کی جاتی ہے وہ بعد میں آتی ہے۔ اور اردو میں تو درمیان میں 'کا'، 'کے'، 'کی' یہ لفظ آتا ہے، لیکن عربی میں درمیان میں کچھ بھی نہیں آتا۔ ہاں، آگے جو دوسرا لفظ ہوتا ہے اس کے نیچے زیر آ جاتی ہے۔ کیا آ جاتی ہے؟ عموماً زیر آ جاتی ہے۔ جیسے میں کہنا چاہتا ہوں: "زید کی کتاب۔" تو اردو میں دیکھو کتاب بعد میں ہے اور زید پہلے، لیکن عربی میں میں کہوں گا: "کتاب زیدٍ۔" تو کتاب کو میں نے پہلے ذکر کیا جس چیز کی نسبت کی جا رہی ہے، اور جس کی طرف نسبت کی جا رہی ہے اس کو میں نے بعد میں ذکر کیا، اور اس پر دیکھو زیر بھی آ گئی، عموماً اس پر کیا آ جاتی ہے؟ زیر، جر آ جاتا ہے—کتاب زیدٍ۔ کتاب زیدٍ۔ جی، اب میں کہنا چاہتا ہوں: "عمرو کا قلم۔" عمرو کا قلم، کیا کہوں گا؟ قلم عمروٍ۔ دیکھا، دوسرے لفظ پر کیا آ گئی؟ زیر آ گئی۔ تو یہ جو درمیا، ایک چیز کی نسبت دوسری چیز کی طرف کی جائے، اس کو اضافت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اضافت کہتے ہیں۔
آپ کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو گا کہ نسبت کا لفظ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے۔ زیدٌ عالمٌ، مثال گزری تھی ایک دو سبق قبل۔ اور میں نے کیا کہا تھا کہ زيدٌ ایک الگ لفظ ہے، عالمٌ ایک الگ لفظ۔ پھر آپ نے اس عالمٌ کے لفظ کی زید کی طرف، اس عالمٌ کے لفظ کو زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ آپ نے عالمٌ کے لفظ کی زید کی طرف نسبت کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، وہاں بھی نسبت تھی اور یہاں مرکب اضافی میں بھی کیا ہے؟ نسبت۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ وہ، وہ نسبتِ تامّہ تھی۔ وہ کیا تھی؟ نسبتِ تامّہ۔ وہاں جو دو ہم لفظوں کو جوڑتے تھے جملے کے اندر، تو پورا جملہ بن جاتا تھا۔ وہ، وہ جو نسبت ہوتی تھی وہ مسند کی نسبت ہوتی تھی کس کی طرف؟ مسند الیہ کی طرف، اور مسند اور مسند الیہ جب مل جائیں تو کیا بن جاتا ہے؟ پورا جملہ بن جاتا ہے۔ تو وہ، وہ نسبتِ تامّہ تھی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسبتِ تامّہ۔ تام، تام کا معنی ہے پوری ہو، پوری، یعنی پوری نسبت ہے، اس سے پورا جملہ بن جائے گا۔
کیا بن جائے گا؟ زیدٌ عالمٌ۔ میں نے کیا کیا؟ عالمٌ کی زید کی طرف نسبت کی، تو وہ نسبتِ تامّہ تھی یعنی کا، پوری کامل نسبت تھی جس سے پورا جملہ بن جاتا ہے۔ وہ مسند کی نسبت تھی کس کی طرف؟ مسند الیہ کی طرف۔ جبکہ یہاں پر، یہاں پر یہ جو غلام، یہاں پر جو کہا "کتاب زیدٍ۔" کتاب زیدٍ، یہاں پر جو نسبت ہے وہ نسبتِ تامّہ نہیں ہے۔ ایک چیز کی نسبت دوسری چیز کی طرف تو کی گئی ہے لیکن اس سے جملہ پورا نہیں ہوا۔ "کتاب زیدٍ"، کیا ترجمہ؟ زید کی کتاب۔ کوئی بات پوری ہے؟ آپ کسی کو سارا دن کہتے رہیں "زید کی کتاب، زید کی کتاب"، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، اس کو کیا ہوا؟ گم ہو گئی ہے، یا خراب ہو گئی ہے، یا کوئی لے گیا ہے، کچھ تو بتائیں ہمیں۔ تو یہ بات پوری نہیں۔ تو وہ ج، جس میں بات پوری ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہ بھی نسبت، لیکن اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسبتِ تامّہ۔ اور یہ بھی نسبت ہے ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت کی جا رہی ہے، لیکن اس کو کہتے ہیں نسبتِ غیر تامّہ۔ تو مرکب اضافی کے اندر بھی نسبت ہوتی ہے، لیکن وہ کون سی نسبت ہوتی ہے؟ غیر تامّہ۔ کیا ہوتی ہے؟ یعنی اس میں بات پوری نہیں، بات پوری نہیں۔
تو کہتے ہیں: اول: مرکب اضافی، پہلا جو ہے وہ مرکب اضافی ہے، چون: غلام زیدٍ، جیسے غلام زیدٍ۔ کیا ترجمہ ہو گا غلام زیدٍ؟ زید کا غلام۔ دیکھو، یہ غلام آپ بكر کا بھی ہو سکتا تھا، عمرو کا بھی، خالد کا بھی، لیکن آپ نے اس غلام کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف، اور بتلا دیا کہ یہ زید کا غلام ہے، عمرو کا غلام نہیں ہے بھئی۔
جزء اول را مضاف گویند و جزء دوم را مضاف الیہ۔ اس کے پہلے جزء کو، دیکھو غلام زیدٍ، دو جزء ہیں۔ پہلا جزء کیا؟ غلام۔ دوسرا جزء کیا؟ زید۔ توجہ ہے؟ اس لفظ پہ نظر رکھیں: غلام زیدٍ۔ پہلا جزء کیا؟ غلام۔ دوسرا لفظ؟ زید۔ یہ جو پہلا جزء ہوتا ہے، اس کو مضاف کہتے ہیں۔ مضاف یعنی جس کی نسبت کی گئی ہے۔ اور دوسرے کو کہتے ہیں مضافٌ الیہ، دیکھو الیہ! مضافٌ نسبت کی گئی ہے الیہ: اس کی طرف۔ نسبت کی گئی ہے اس کی—تو پہلے کو کیا کہتے ہیں؟ مضاف، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ مضاف الیہ۔ اور مضاف الیہ پر ہمیشہ کیا آئے گا؟ جر آئے گا، یعنی اکثر وہ زیر آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: جزء اول را مضاف گویند، اس کے پہلے جزء کو مضاف کہتے ہیں، و جزء دوم را مضاف الیہ، اس کو دوم نہ پڑھنا، اکثر طلباء دوم پڑھتے ہیں، دوم نہیں۔ دوُوم، دال پر بھی پیش اور واؤ پر بھی شدّہ بھی اور پیش بھی، دوُوم۔ اول: پہلا۔ دوُوم: دوسرا۔ سیُوم: سین کے نیچے زیر ہے اور واؤ مشدد ہے، سیُوم: تیسرا۔ چہارم: چوتھا۔ پنجم: پانچواں۔ ششم: چھٹا۔ ہفتم: ساتواں۔ ہشتم: آٹھواں۔ نہم: نواں۔ اور دہم: دسواں۔ دہ، دہ دس کو کہتے ہیں نا، تو دہم کیا بن جائے گا؟ دسواں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: جزء اول را مضاف گویند، اس کے پہلے جزء کو مضاف کہتے ہیں، و جزء دوم را مضاف الیہ، اور دوسرے جزء کو مضاف الیہ۔ و مضاف الیہ ہمیشہ مجرور باشد، اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہو گا۔ مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہو گا؟ مجرور ہو گا۔
یہ پہلی قسم تھی، کس کی؟ مرکب غیر مفید کی۔ کیا نام ہے اس کا؟ مرکب اضافی۔ اس کے مرکب اضافی کیوں کہتے ہیں؟ اس میں اضافت ہوتی ہے ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف، یعنی یوں کہیں نسبت ہوتی ہے ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف۔ اور یہ کون سی نسبت ہے؟ تامّہ ہے یا غیر تامّہ؟ غیر تامّہ۔ تامّہ میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں بات پوری ہوتی ہے، اور غیر تامّہ میں بات پوری نہیں ہوتی۔ اور اردو میں اس کا، اس مرکب اضافی کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ 'کا'، 'کے' اور 'کی' درمیان میں لے آتے ہیں۔ اور اردو کے اندر مضاف کو بعد میں کر دیتے ہیں اور مضاف الیہ کو پہلے کر دیتے ہیں، الٹ دیتے ہیں۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ غلام زیدٍ، کیا ترجمہ کریں گے؟ زید کا غلام۔ قلم عمروٍ، کیا ترجمہ کریں گے؟ عمرو کا قلم بھئی۔ اور اسی طرح، طالب المدرستہ، مدرسے کا طالب علم۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دوم: دوسرا جو ہے، مرکب بنائی۔ دوسرا جو ہے وہ مرکب بنائی ہے۔ و او آنست—آپ کی کتابوں میں واؤ الف واؤ ہو گا، اس کو 'واؤ' نہ پڑھنا، واؤ علیحدہ ہے اور 'او' عل—'او' کا معنی وہ، وہ، وہ—و او آنست، اور وہ وہ ہے کہ دو اسم را یکے کردہ باشند، کہ دو اسموں کو یکے، یکے یعنی ایک، ایک، دو اسم را یکے کردہ باشند، دو اسموں کو ایک کر دیا گیا ہو۔ و اسم دوم متضمنِ حرف، متضمنِ حرفے باشد، اور دوسرا اسم وہ کسی حرف کو متضمن ہو۔ بھئی، پہلے سمجھ لو اس کو۔ مرکب بنائی کسے کہتے ہیں؟ مرکب بنائی اسے کہتے ہیں کہ اصل میں دو اسم تھے اور درمیان میں کوئی حرف بھی تھا، جیسے احد و عشرٌ۔ احدٌ ایک اسم اور عشرٌ دوسرا اسم، اور درمیان میں واؤ بھی ہے۔ احد و عشرٌ، کتنے اسم تھے؟ ایک احد اور ایک عشر، اور درمیان میں واؤ ایک حرف بھی ہے۔ تو دو اسم تھے علیحدہ علیحدہ، درمیان میں واؤ تھا۔ پھر ان دونوں کو جوڑ کر اکٹھا کر دیا گیا، اور یہ جو واؤ ہے اس کو حذف کر دیا گیا، اور پڑھیں گے اس کو احد عشر۔
کیسے پڑھیں گے؟ احد عشر۔ تو دیکھو، یہ دو اسم تھے، ان کو جوڑ کر ایک بنا لیا، اور دو لفظوں کو جب جوڑا جائے تو اس کو مرکب کہتے ہیں۔ مفرد میں ایک لفظ ہوتا تھا اور مرکب دو یا دو سے زیادہ۔ تو یہاں بھی دیکھو، دو لفظوں کو جوڑ کر ایک ہی لفظ بنا دیا۔ تو عربی میں 11 کو کہتے ہیں احد عشر۔ کیا کہتے ہیں؟ احد عشر۔ اور اس میں دونوں جزء جو ہیں یہ مبنی ہوتے ہیں اور ان پر فتحہ پڑھتے ہیں۔ توجہ ہے؟ دونوں جزء کیا ہوتے ہیں؟ مبنی، اور دونوں پر فتحہ پڑھتے ہیں۔ تو دونوں جزء مبنی علی الفتح۔ احدَ، دیکھو یہاں بھی دال پر زبر۔فتحہ ہے۔ اور عَشَرَ، یہاں پر بھی را پر فتحہ۔ تو دونوں مبنی علی الفتح ہوتے ہیں، دونوں جز۔ یعنی دونوں پر زبر پڑھنی ہے، دونوں اجزا پر۔
تو یہ گیارہ کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ أَحَدَ عَشَرَ۔ اور یہ اصل میں کیا تھا؟ أَحَدٌ وَعَشَرٌ۔ أَحَدٌ، دال پر بھی پیش تھی، اور واؤ تھا درمیان میں، اور عَشَرٌ، اس میں بھی آخر میں کیا تھی؟ پیش تھی۔ پھر ان دونوں کو جب ملا دیا، واؤ کو حذف کیا، کیا بن گیا؟ أَحَدَ عَشَرَ۔ اب أَحَدَ عَشَرَ، یاد رکھو یہ جو عربی ہے نا عربی، عربی میں جب کوئی آپ لفظ بولتے ہیں تو اس کا آخر عموماً بدلتا ہے۔
جیسے کبھی آپ پڑھتے ہیں زَیْدٌ، کبھی زَیْداً، کبھی زَیْدٍ۔ دیکھو، ایک ہی لفظ ہے۔ کبھی آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ زَیْدٌ۔ کبھی کیا پڑھ رہے ہیں؟ زَیْداً۔ اور کبھی کیا پڑھ رہے ہیں؟ زَیْدٍ۔ یہ جو آخر اس کا بدل رہا ہے، اس کو اعراب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ موقع محل کے مطابق ہوتا ہے۔ کبھی کبھار جب عرب عربی بول رہا ہوگا، وہ کہے گا زَیْدٌ، یا کتاب میں آئے گا تو آپ کو پڑھنا پڑے گا زَیْدٌ۔ اور بعض جگہیں ایسی آئیں گی، وہاں آپ کو پڑھنا پڑے گا زَیْداً۔ اور کچھ جگہیں آئیں گی، وہاں آپ کو پڑھنا پڑے گا زَیْدٍ۔ اب کہاں زَیْدٌ پڑھنا ہے، کہاں زَیْدٍ پڑھنا ہے، کہاں زَیْداً پڑھنا ہے، یہ علمِ نحو جو ہم پڑھ رہے ہیں، اس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ کہاں پر زَیْدٌ یعنی پیش پڑھنا ہے، کہاں زَیْداً یعنی زبر پڑھنا ہے، اور کہاں زَیْدٍ یعنی زیر پڑھنی ہے۔
پیش، زبر، اور زیر۔ اسی کو عربی میں کہیں گے ضَمَّۃٌ، فَتْحَۃٌ، اور کَسْرَۃٌ۔ کیا کہیں گے؟ پیش کو کہیں گے ضَمَّۃٌ۔ ضمہ تنوین آخر میں میں پڑھ رہا ہوں، ویسے سکون کریں گے، ضمہ، ضَمَّۃٌ۔ اور زبر جو ہے اس کو کہتے ہیں فَتْحَۃٌ۔ اور جو زیر ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں کَسْرَۃٌ۔ تو آخر میں وقف کریں گے، ضمہ، فتحہ، کسرہ۔ ضمہ، فتحہ، اور کسرہ۔ ضمہ کسے کہتے ہیں؟ پیش کو۔ اور فتحہ کسے کہتے ہیں؟ زبر کو۔ اور کسرہ کسے کہتے ہیں؟ زیر کو۔ تو عربی کے اکثر الفاظ جو ہیں، ان کا آخر بدلتا ہے۔ کبھی پیش پڑھنا پڑتا ہے، کبھی زبر پڑھنا پڑتا ہے، کبھی زیر۔ یا یوں کہو، یوں کہو، کبھی ضمہ پڑھنا پڑتا ہے، کبھی فتحہ پڑھنا پڑتا ہے، اور کبھی کسرہ۔ اور یہ آپ کو کیسے پتہ چلے گا، کس کے ذریعے؟ علمِ نحو میں۔ اور یہ علمِ نحو ہی ہم پڑھ رہے ہیں۔ یہ چونکہ ابتدائی کتاب ہے، یہاں بس چند موٹی موٹی باتیں آئیں گی۔ آپ کو نحو کا تعارف کروا رہے ہیں کہ نحو ایسا علم ہے، اس میں یہ یہ چیزیں ہوتی ہیں، یہ یہ ان کا ذکر آگے آئے گا۔ تو بس مختصر کتاب ہے دیکھو، بہت چھوٹی سی، چند صفحوں پر مشتمل ہے۔ تو وہ صرف چیزوں کا تعارف کروا رہے ہیں، اور تفصیل آگے ہدایت النحو پڑھیں گے، وہاں کچھ تفصیل آ جائے گی۔ پھر اس کے بعد آپ قافیہ کتاب اگر اس سے اگلے سال پڑھیں گے، اس میں اور زیادہ تفصیل آ جائے گی۔ اس کے بعد شرح جامی پڑھیں گے، اس میں پوری تفصیل آ جائے گی بھئی۔ تو یہاں ابھی نحو میر میں صرف کیا کروایا جا رہا ہے؟ نحو کا تعارف کروایا جا رہا ہے کہ نحو کیسا علم ہے، اس میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ تو بس موٹی موٹی باتیں کچھ آپ کو بتلا رہے ہیں۔
تو آپ کو میں نے بتایا کہ عربی کے الفاظ کا عموماً آخر بدلتا ہے۔ کبھی اس پر کیا پڑھتے ہیں؟ ضمہ۔ کبھی کیا پڑھتے ہیں؟ فتحہ۔ اور کبھی کسرہ۔ یاد رکھو، یہ جو حرکتیں بدل رہی ہیں آخر میں، اس کو کہتے ہیں اعراب۔ اور وہ لفظ جس کا آخر بدلتا ہو، اس کو کہتے ہیں معرب۔ کیا کہتے ہیں؟ معرب، جس کا آخر بدلتا ہو۔ اور جس کا آخر نہیں بدلتا، اس کو مبنی کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ وہ لفظ جس کا آخر بدلتا ہو، زَیْدٌ، زَیْداً، زَیْدٍ، کبھی ضمہ، کبھی فتحہ، کبھی کسرہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرب۔ م، ع، ر، ب، مُعْرَبٌ۔ اور جس کا آخر نہیں بدلتا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبنی۔ مَبْنِیٌّ اصل میں ہے مَبْنِیٌّ، یا مشدد ہے، لیکن وقف کرکے پڑھتے ہیں مبنی۔ تو معرب کسے کہتے ہیں؟ وہ لفظ جس کا آخر بدلتا ہو، کبھی ضمہ پڑھنا پڑے گا، کبھی فتحہ پڑھنا پڑے گا، اور کبھی کسرہ۔ اور مبنی کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر نہ بدلتا ہو۔ اسی مبنی سے ہے مرکبِ بنائی۔ اسی مبنی سے کیا ہے؟ مرکبِ بنائی۔ یہ بنا یہ اسی مبنی، اسی سے بنا ہے۔ مبنی کس کو کہتے ہیں؟ جس کا آخر نہ بدلے۔ یہ جو مرکبِ بنائی ہے، اس کا بھی آخر نہیں بدلتا، ایک جیسا رہتا ہے۔
جیسے أَحَدَ عَشَرَ، دیکھو دو لفظ تھے۔ پہلے کیا تھا؟ أَحَدَ عَشَرَ اصل میں کیا تھا؟ أَحَدٌ وَعَشَرٌ۔ أَحَدٌ، اس پر کیا پڑھ رہے تھے؟ ضمہ۔ اور درمیان میں واؤ تھا، اور عَشَرٌ پر بھی کیا پڑھ رہے تھے؟ ضمہ۔ تو ان پر ضمہ بھی آ سکتا تھا، فتحہ بھی، اور کسرہ بھی۔ لیکن جب یہ دونوں، جب ان کو ملا کر ایک کر دیا، واؤ کو حذف کیا اور دونوں کو جوڑ کر ایک بنا دیا، تو اب ان دونوں پر صرف زبر پڑھیں گے۔ یہ مبنی بن گیا، اب نہیں بدلے گا۔ أَحَدَ عَشَرَ، أَحَدَ کی دال پر بھی زبر، اور عَشَرَ کی را پر بھی زبر۔ ہر جگہ آپ اسی طرح ان کو پڑھیں گے۔ اس دال اور را کی حرکت کبھی بھی نہیں بدلے گی۔ تو یوں کہیں گے کہ اس کے دونوں جز مبنی علی الفتح ہیں۔ کیسے کہیں گے؟ دو جز تھے نا، ایک أَحَدٌ اور دوسرا عَشَرٌ۔ لیکن جب دونوں کو جوڑ کر ملا دیا، اب اس کے دونوں جز کیا ہوں گے؟ مبنی۔ کیا ہوں گے؟ اور دونوں پر کیا پڑھنا ہے؟ فتحہ یعنی زبر پڑھنا ہے، تو یوں کہیں گے کہ اس کے دونوں جز مبنی علی الفتح ہیں۔ أَحَدَ عَشَرَ، اس کے دونوں جز کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح۔ تو یہ دونوں جز کیا ہیں؟ مبنی۔ کیا معنی مبنی ہیں؟ اب ان کا آخر کہیں بھی نہیں بدلے گا، جہاں بھی آپ عربی میں ان کو پڑھیں گے، أَحَدَ عَشَرَ ہی پڑھنا پڑے گا۔ اور مبنی ہیں کس پر؟ فتحہ پر، یعنی زبر ہی پڑھیں گے، زیر یا پیش نہیں پڑھیں گے۔
اور پھر یاد رکھو، أَحَدَ عَشَرَ کیا معنی؟ گیارہ۔ اِثْنَا عَشَرَ کیا معنی؟ بارہ۔ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ کیا معنی؟ تیرہ۔ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ، چودہ۔ خَمْسَۃَ عَشَرَ، پندرہ۔ سِتَّۃَ عَشَرَ، سولہ۔ سَبْعَۃَ عَشَرَ، سترہ۔ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ، اٹھارہ۔ تِسْعَۃَ عَشَرَ، انیس۔ تو یہ أَحَدَ عَشَرَ سے لے کر تِسْعَۃَ عَشَرَ تک یعنی انیس تک اسی طرح ہے۔ دونوں جز کیا ہوں گے؟ مبنی علی الفتح۔ سوائے اِثْنَا عَشَرَ کے، جو بارہ ہے بارہ۔ اِثْنَا عَشَرَ، اس کا دوسرا جز یعنی عَشَرَ کی را تو مبنی علی الفتح ہے، اس پر تو زبر ہی پڑھنا ہے۔ لیکن اِثْنَا عَشَرَ کبھی پڑھیں گے، اور کبھی اِثْنَیْ عَشَرَ پڑھیں گے۔ کبھی کیا پڑھیں گے؟ اِثْنَا عَشَرَ، اور کبھی اِثْنَیْ عَشَرَ، یا کے ساتھ۔ کبھی الف کے ساتھ، کبھی یا کے ساتھ۔ کبھی کیا پڑھیں گے؟ اِثْنَا عَشَرَ، اور کبھی کیا پڑھیں گے؟ اِثْنَیْ عَشَرَ۔ دیکھا؟ لیکن عَشَرَ کی را نہیں بدلے گی۔ معلوم ہوا، دوسرا جز تو مبنی علی الفتح ہی ہے، وہ نہیں بدل رہا۔ ہاں، پہلا جز وہ معرب ہے، وہ بدل رہا ہے۔ جس لفظ کا آخر بدلے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرب۔ تو اِثْنَا عَشَرَ کیا ہے؟ اس کا پہلا جز وہ معرب، اور دوسرا جز مبنی۔ باقی أَحَدَ عَشَرَ سے لے کر تِسْعَۃَ عَشَرَ تک سارے جز جو ہیں، پہلا اور دوسرا، ہر جگہ وہ مبنی علی الفتح ہیں۔ فرق سمجھ میں آیا؟ مرکبِ بنائی کو مرکبِ بنائی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے دونوں جز کیا ہوتے ہیں؟ مبنی ہوتے ہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرکبِ بنائی۔ ہاں، اس میں البتہ اِثْنَا عَشَرَ جو ہے، اس کا دوسرا جز تو مبنی ہے، البتہ پہلا جز معرب ہے، وہ بدلتا ہے۔ کبھی اِثْنَا عَشَرَ آپ کو پڑھنا پڑے گا عبارت میں، اور کبھی اِثْنَیْ عَشَرَ۔ اور کہاں اِثْنَا عَشَرَ پڑھنا ہے اور کہاں اِثْنَیْ عَشَرَ پڑھنا ہے، وہ انشاءاللہ آپ جب کچھ نحو سیکھ لیں گے، آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: دوم مرکبِ بنائی۔ دوسرا جو ہے وہ مرکبِ بنائی ہے۔ وَهُوَ آنَسْتُ، اور وہ وہ ہے کہ دو اسم را یکے کردہ باشند، کہ دو اسموں کو ایک کر دیا ہو۔ کہ دو اسموں کو، کیا معنی ایک کر دیا؟ جوڑ کر ملا کر ایک لفظ بنا دیا، أَحَدَ عَشَرَ دیکھو اکٹھا کر دیا۔ کہ دو اسم را یکے کردہ باشند، دو اسموں کو ایک کر دیا گیا ہو۔ وَاسْمِ دُوُم مُتَضَمِّنِ حَرْفِ بَاشَدْ۔ اچھا، میں نے کیا بتایا؟ أَحَدَ عَشَرَ اصل میں کیا تھا؟ أَحَدٌ وَعَشَرٌ۔ تو یہ جو واؤ ہے، درمیان سے اس کو حذف کر دیا گیا، یعنی ختم کر دیا گیا۔ اور بعض یوں تقریر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں یہ جو واؤ ہے، یہ دوسرے حرف کے اندر چھپ گیا۔ یہ دوسرے جز کے اندر چھپ گیا۔ أَحَدٌ وَعَشَرٌ، یہ واؤ کس میں چھپ گیا؟ دوسرے جز یعنی عَشَرٌ میں چھپ گیا۔ بعض تو کیا کہتے ہیں اس واؤ کو حذف کر دیا، اور بعض کیسے کہتے ہیں یہ اس کے اندر چھپ گیا۔ تو متضمن کا معنی ہوتا ہے ایک چیز دوسری کے اندر ہو۔ تو یہاں پر بھی جب واؤ عَشَرٌ کے اندر چھپ گیا، تو ہم کیا کہیں گے؟ کہ واؤ عَشَرٌ کے اندر ہے۔ واؤ عَشَرٌ کے ضمن میں ہے۔ لفظ سمجھ میں آ رہا ہے؟ جب دوسرا، جب حرف واؤ کس میں چھپ گیا؟ عَشَرٌ میں، تو کیا کہیں گے؟ واؤ عَشَرٌ کے ضمن میں ہے یا اس کے اندر چھپا ہوا ہے، یوں کہہ لو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں: وَاسْمِ دُوُم مُتَضَمِّنِ حَرْفِ بَاشَدْ، اور دوسرا جز جو ہے، دوسرا اسم، دو اسم تھے نا، تو دوسرا اسم متضمنِ حرفِ باشد، وہ حرف کو متضمن ہے۔ کیا معنی حرف کو متضمن ہے؟ أَحَدَ عَشَرَ، پہلا اسم کیا؟ أَحَدَ۔ توجہ سے بھئی۔ أَحَدَ عَشَرَ، کتنے اسم تھے؟ دو۔ دونوں کو ملا کر کیا بنا دیا؟ ایک بنا دیا۔ تو پہلا اسم کیا ہے؟ أَحَدَ۔ دوسرا کیا ہے؟ عَشَرَ۔ تو اور واؤ کس کے اندر چھپ گیا؟ عَشَرَ دوسرے میں، تو کیا کہیں گے؟ کہ دوسرا اسم متضمنِ حرف ہے۔ دوسرا اسم، کیا معنی متضمنِ حرف ہے؟ کہ اس کے اندر وہ حرف چھپا ہوا ہے، اس کے ضمن میں ہے، اس کے اندر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَاسْمِ دُوُم مُتَضَمِّنِ حَرْفِ بَاشَدْ، اور دوسرا اسم جو ہے وہ متضمنِ حرفے ہے، وہ اس کے ضمن میں حرف ہے، اس کے ضمن میں حرف ہے یعنی اس کے اندر حرف چھپا ہوا ہے۔ چُوں أَحَدَ عَشَرَ، جیسے أَحَدَ عَشَرَ۔ تَا تِسْعَۃَ عَشَرَ، تا کا معنی ہے تک، تک۔ اردو میں، الیٰ عربی میں کہتے ہیں نا الیٰ، الیٰ۔ اردو میں کہتے ہیں تک۔ أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃَ عَشَرَ تک۔ أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَۃَ عَشَرَ تک۔ یہ تک کے لیے فارسی میں کیا لفظ بولتے ہیں؟ تا، تا جو آ رہا ہے درمیان میں۔ چُوں أَحَدَ عَشَرَ جیسے أَحَدَ عَشَرَ، تَا تِسْعَۃَ عَشَرَ، تِسْعَۃَ عَشَرَ تک۔ کِہ دَرْ اَصْل، کہ اصل میں، دراصل کہ اصل میں أَحَدٌ وَعَشَرٌ وَتِسْعَۃٌ وَعَشَرٌ بُودَہ اَسْت، کہ اصل میں یہ أَحَدٌ وَعَشَرٌ اور تِسْعَۃٌ وَعَشَرٌ تھے۔ واؤ را حذف کردہ، واؤ کو حذف کر دیا یعنی اس کو گرا دیا۔ ہر دو اسم را یکے کردند، دونوں اسموں کو ایک کر دیا۔ ہر دو اسم را، دونوں اسموں کو یکے کردند، ایک کر دیا۔ وَهَرْ دو جُزْ مَبْنِی بَاشَدْ بَر فَتَحَ، اور اس کے دونوں جز مبنی ہوں گے بر فتح، کس پر؟ أَحَدَ عَشَرَ کے دونوں جز کیا ہوں گے؟ مبنی علی الفتح۔ کیا معنی مبنی کیا معنی؟ ان کا آخر نہیں بدلے گا۔ اور مبنی علی الفتح ہوں گے، کیا معنی؟ ان پر فتحہ، دونوں جزوں پر فتحہ پڑھنا ہے، أَحَدَ عَشَرَ۔ اور اسی طرح تِسْعَۃَ عَشَرَ۔ یہ معنی ہے: وَهَرْ دو جُزْ مَبْنِی بَاشَدْ بَر فَتَحَ، اور دونوں جز جو ہیں وہ مبنی بر فتح ہوں گے۔ اِلَّا اِثْنَا عَشَرَ، سوائے کس کے؟ اس الا کا معنی ہے سوائے، سوائے۔ الا سوائے اِثْنَا عَشَرَ، سوائے اِثْنَا عَشَرَ کے۔ کِہ جُزْءِ اَوَّل مُعْرَبْ اَسْت، کہ اس کا پہلا جز معرب ہے۔ اِثْنَا عَشَرَ کا پہلا جز کیا؟ وہ کیا ہے؟ اِثْنَا۔ اور دوسرا جز کیا ہے؟ عَشَرَ۔ عَشَرَ تو مبنی علی الفتح ہی پڑھیں گے آپ، ہر جگہ اس پر زبر ہی پڑھیں گے۔ لیکن اِثْنَا کو اس کا آخر بدلے گا۔ کبھی کیا پڑھیں گے؟ اِثْنَا، اور کبھی کیا پڑھیں گے؟ اِثْنَیْ۔ تو یوں پڑھیں گے: اِثْنَا، کبھی اِثْنَا عَشَرَ یوں، کبھی اِثْنَا پڑھیں گے اس طرح: اِثْنَا عَشَرَ۔ اور کبھی اِثْنَیْ پڑھیں گے: اِثْنَیْ عَشَرَ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ سیوم مرکب منع صرف۔ سیوم، "سین" کے نیچے زیر پڑھنا بھئی۔ "سہ" کا کیا معنی؟ تین۔ سیوم؟ تیسرا۔ سیوم؟ تیسرا۔ سیوم مرکب منع صرف، تیسرا جو ہے مرکب منع صرف ہے۔
پہلا کیا تھا مرکب غیر مفید کی کل کتنی قسمیں ہیں؟ تین۔ پہلی قسم؟ مرکب اضافی۔ مرکب اضافی کو مرکب اضافی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں اضافت ہوتی ہے یعنی ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت ہوتی ہے۔ دوسرا کیا ہے؟ مرکب بنائی۔ مرکب بنائی کو مرکب بنائی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے دونوں جز، یوں کہو اس کے دونوں جز مبنی ہوتے ہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں مرکب بنائی۔ اور تیسرا کیا ہے؟ مرکب منع صرف بھئی۔
و ہو آنست، اس کو پہلے سمجھ لیں۔ بھئی مرکب اضافی میں ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت کرتے تھے، کیا کرتے تھے؟ نسبت۔ اور مرکب بنائی میں نسبت نہیں کرتے تھے، دو اسموں کو ویسے آپس میں جوڑتے تھے اور درمیان میں کیا ہوتا تھا؟ حرف چھپ جاتا تھا، توجہ ہے؟ پھر سنو، مرکب اضافی میں کیا کرتے تھے؟ ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت کرتے تھے۔ اور مرکب بنائی میں نسبت نہیں کرتے، ویسے دو اسموں کو جوڑتے ہیں اور درمیان میں دوسرے میں کیا چھپ جاتا ہے؟ حرف چھپ جاتا ہے۔
جبکہ تیسرا مرکب منع صرف، اس میں بھی نسبت نہیں ہوگی۔ دوسرے میں بھی نسبت نہیں تھی، تیسرے میں بھی نسبت نہیں ہوگی اور اس میں بھی دو اسموں کو جوڑ کر ایک بنائیں گے لیکن دوسرے سے فرق، مرکب بنائی سے اس کا فرق یہ ہے کہ مرکب بنائی میں دوسرے میں ایک حرف چھپ جاتا تھا، یہاں کوئی حرف نہیں چھپے گا۔ یہاں کوئی حرف نہیں چھپے گا، بات سمجھ میں آگئی؟
مرکب اضافی کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت ہو اور مرکب بنائی میں نسبت ہوگی؟ نہیں، مرکب منع صرف میں نسبت ہوگی؟ نہیں، ہاں لیکن مرکب بنائی میں جب دو اسموں کو ملا کر ایک کریں گے تو دوسرے میں کیا چھپ جائے گا؟ حرف چھپ جائے گا، جبکہ مرکب منع صرف میں دوسرے کے اندر حرف نہیں چھپے گا، یہ فرق ہے، بات سمجھ میں آگئی؟
تو اب یاد رکھو، ادھر دیکھیے، مرکب منع صرف اسے کہتے ہیں دو اسم تھے، علیحدہ علیحدہ تھے، ان دونوں کو جوڑ کر ایک اسم بنا لیا اور درمیان میں کوئی حرف بھی نہیں چھپا ہوا، صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں مرکب منع صرف و ہو آنست اور وہ وہ ہے کہ دو اسم را یکے کردہ باشند کہ دو اسموں کو ایک کر دیا گیا ہو و اسم دوم متضمن حرفے نہ باشد اور دوسرا اسم کسی حرف کو چھپائے اپنے ضمن میں لیے ہوئے نہ ہو، کوئی حرف اس کے اندر چھپا ہوا نہ ہو۔
چوں بعلبک و حضرموت، بعلبک اور حضرموت۔ بھئی بعلبک یاد رکھو، یہ ایک شہر کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ اور یہ شہر کا نام بعلبک کیوں رکھا؟ کیونکہ اس کے بادشاہ کا نام بک کون تھا، جو وہاں کا بادشاہ تھا اس کا نام کیا تھا؟ بک کون، اور جو اس کے اندر ایک بت تھا، اس بت کا نام تھا بعل۔ تو بعل کس کا نام تھا؟ بت کا، اسی شہر کے اندر، اور بک کون کس کا نام تھا؟ بادشاہ کا، تو بادشاہ نے جب یہ نیا شہر بنایا جس کے اندر یہ بت تھا تو اس نے اس کا نام بعلبک رکھ دیا، اپنے نام کے ساتھ بت کا نام ملا کر اس شہر کا نام رکھ دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھو بعل الگ اسم تھا، بک کون الگ تھا، دونوں کو ملایا اور کیسے پڑھیں گے؟ بعلبک، بعلبک، بعلبک۔ اس میں یاد رکھیں، توجہ سے سنو ذرا، معرب کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہو، کبھی فتحہ کبھی ضمہ کبھی فتحہ اور کبھی کسرہ، اور مبنی کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بالکل نہیں بدلتا، بس جیسا ہے ویسا ہی ہر جگہ پڑھنا پڑے گا۔
اور یہ جو مرکب منع صرف ہے اس میں یاد رکھنا، جب دو اسموں کو ملا کر ایک کر دیا تو پہلے اسم، پہلا جز جو ہوگا، پہلا اسم جو ہوگا وہ مبنی علی الفتح ہوگا۔ بعل، دیکھو اس لام پر زبر پڑھنا ہے ہمیشہ، تو یہ مبنی ہے اور مبنی علی الفتح ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ مبنی ہے، کیا معنی؟ یہ بدلے گا نہیں اور پڑھنا کیا ہے اس پر؟ فتح، تو اس کو کیا کہیں گے مبنی علی الفتح۔
اور جو دوسرا جز ہے بک بک کون، اس پر اس پر پیش بھی پڑھ سکتے ہیں اور زبر بھی پڑھ سکتے ہیں، زیر نہیں پڑھ سکتے۔ اس پر پیش بھی پڑھ سکتے ہیں اور زبر بھی، لیکن زیر نہیں، یعنی وہ غیر منصرف ہوگا۔ کیا ہوگا؟ غیر منصرف، یاد رکھنا، ابھی قریب میں قسمیں تقسیم تفصیل آنے والی ہے، بس ابھی صرف اتنا سمجھ لیں کہ ایک اسم کی ایک قسم غیر منصرف ہے۔
معرب، معرب کی ایک قسم کیا ہے؟ غیر منصرف، پھر دہرائیں، مبنی کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر نہیں بدلتا، اور معرب کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہے۔ اسی معرب کی ایک قسم کا نام غیر منصرف ہے، کیا نام ہے؟ غیر منصرف۔ بھئی دیکھو، اب آپ پڑھ رہے تھے زید، زیدا، زید، تینوں طرح اس کو پڑھا جاتا ہے، لیکن کچھ لفظ عربی کے ایسے ہیں کہ جن کا آخر بدلتا تو ہے لیکن ان پر زیر نہیں آتی، اور نہیں ان پر تنوین بھی نہیں آتی۔
زید، دیکھو یہ تو تنوین آپ پڑھ رہے ہیں آخر میں، دو پیش، تنوین کسے کہتے ہیں؟ دو زبر، دو پیش یا دو زیر، اس کو تنوین کہتے ہیں، تو زید پر تنوین بھی آرہی ہے زید، زیدا، زید، اور زبر زیر پیش تینوں آرہے ہیں تنوین کے ساتھ، لیکن جو غیر منصرف ہوتا ہے وہ ایسا معرب ہے جس کا آخر بدلتا تو ہے لیکن اس پر زیر بھی نہیں آتی اور اس پر تنوین بھی نہیں آتی۔ اس پر تنوین بھی نہیں آئے گی اور زیر بھی نہیں، یعنی زبر بھی آئے گا تو اکیلا زبر آئے گا، تنوین کے ساتھ نہیں آئے گا، پیش بھی آئے گی تو اکیلی پیش آئے گی، تنوین کے ساتھ نہیں آئے گی۔
تو مرکب منع صرف، مرکب منع صرف اس کا پہلا جز وہ مبنی علی الفتح ہوگا اور دوسرا جز جو بک کون ہے، وہ وہ معرب غیر منصرف ہوگا۔ کیا ہوگا؟ کیا معنی معرب غیر منصرف؟ یعنی وہ بدلے گا، معرب ہے تو وہ آخر اس کا بدلے گا، لیکن کسرہ بھی نہیں آئے گی اور تنوین بھی نہیں، یعنی پیش بھی آسکتا ہے اور زبر بھی آسکتا ہے۔
بعلبک، توجہ ہے؟ بعلبک، دیکھو کاف پر میں پیش پڑھ رہا ہوں، تنوین نہیں پڑھ رہا بعلبکن، یہ تنوین اگر میں پڑھوں یہ غلط ہے، تو بعلبک، بعل، یہ دیکھو یہ مبنی علی الفتح، اور بک، یہ کیا ہے؟ غیر منصرف۔ اور نیز اس کو بعض جگہ آپ کو پڑھنا پڑے گا بعلبک، کاف پر زبر، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کیسے پڑھیں گے؟ بعلبک اور بعلبک، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں، پیش بھی اور زبر بھی پڑھ سکتے ہیں، جس موقع کے مطابق پڑھنا ہے ویسے نہیں کہ اپنی مرضی سے جو بھی پڑھ دیں، کہیں پر پیش ہی پڑھنا پڑے گا اور کہیں پر زبر، تو آخر اس کا بدل تو رہا ہے لیکن کس طریقے پر بدل رہا ہے؟ غیر منصرف کے طریقے پر بدل رہا ہے۔
غیر منصرف پر کیا ہوتا ہے؟ زیر بھی نہیں آتی اور تنوین بھی نہیں، تو اسی طرح بعلبک کے آخر میں بھی پیش کے آخر میں بھی کسرہ بھی نہیں آئے گا اور تنوین بھی نہیں، پیش بھی آسکتا ہے اکیلا اور اکیلی زبر بھی آسکتی ہے بغیر تنوین کے، بات سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح حضرموت، حضرموت، دیکھو یہ بھی ایک نام ہے، یہ الگ الگ دو اسم تھے، ایک اسم کیا ہے پہلا؟ حضر، اور دوسرا کیا ہے؟ موت، ان دونوں اسموں کو ملا دیا، ملا دیا۔ دیکھو بعلبک میں نے بتایا یہ شہر کا نام ہے، اسی طرح حضرموت یہ بھی کسی شہر یا قبیلے کا نام ہے، شہر یا قبیلے کا۔ تو حضر ایک اسم اور موت دوسرا اسم، اور اس کے کیا پڑھا آپ نے؟ پہلا جز کیا ہے؟ مبنی علی الفتح، حضر، را پر ہمیشہ زبر پڑھنا ہے، اور دوسرا جز کیا ہے؟ موت، اس کو کیسے وہ اس کو کیسے پڑھنا ہے؟ معرب غیر منصرف پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے؟ کیا معنی معرب غیر منصرف؟ تنوین اور کسرہ نہیں آئیں گے، اور زبر بھی آسکتا ہے بغیر تنوین کے اور پیش بھی آسکتی ہے بغیر، یعنی ضمہ اور فتحہ تو آسکتا ہے کسرہ اور تنوین نہیں، تو حضرموت، حضرموت، یوں پڑھ سکتے ہیں، پھر سنو، کیا؟ حضرموت اور حضرموت، اور حضرموتی پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، یا حضرموتن تنوین پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، یا حضرموتن تنوین پڑھ سکتے ہیں؟ یا حضرموتن تنوین نہیں، صرف پیش یا زبر پڑھ سکتے ہو بغیر تنوین کے، زیر اور تنوین نہیں پڑھ سکتے۔
تو کہتے ہیں چوں بعلبک و حضرموت جیسے بعلبک اور حضرموت کہ جزئے اول مبنی باشد بر فتح کہ اس کا پہلا جز جو ہے وہ مبنی ہوگا بر فتح، کس پر؟ فتحہ پر، بر مذہب اکثر علماء، اکثر علماء کے نزدیک، معلوم ہوا اس میں علماء کا کچھ اختلاف ہے، کچھ علماء فرماتے ایک بات کرتے ہیں، دوسرے علماء دوسری بات کرتے ہیں، لیکن جن کا قول قوی تھا، جو زیادہ علماء کی بات تھی اس کو ذکر کر دیا، دوسری کو ذکر نہیں کیا۔ عکس بر مذہب اکثر علماء، اکثر علماء کا یہ مذہب ہے یعنی اکثر علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس کا پہلا جز کیا ہوگا؟ مبنی علی الفتح، و جزئے دوم معرب اور اس کا دوسرا جز و جزئے دوم معرب اور اس کا دوسرا جز معرب ہوگا۔
دوسرا جز کیا ہوگا؟ معرب، اور کون سا معرب؟ غیر منصرف، اسی لیے تو اس کو مرکب منع صرف کہتے ہیں۔ منع صرف کا معنی غیر منصرف، منع صرف کا کیا معنی؟ تو یہ مرکب منع صرف ہے یعنی مرکب غیر منصرف، یعنی جس کا دوسرا جز کیا ہے؟ معرب غیر منصرف ہے، بات سمجھ میں آگئی؟
اچھا چلیے بس کریں بھئی، خلاصہ ذرا دوبارہ سن لیں۔ آج آپ نے پڑھا کہ مرکب غیر مفید وہ ہے کہ جس پر کہنے والا بات کرنے والا جب خاموش ہو جائے، سکوت اختیار کرے تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو یعنی آسان لفظوں میں جس میں بات پوری نہ ہو، اس کو مرکب غیر مفید کہتے ہیں، اور اس کی انہوں نے تین قسمیں بیان کیں: ایک مرکب اضافی، ایک مرکب بنائی، اور ایک مرکب منع صرف، اور میں نے بتلایا اور علماء اور بھی قسمیں بیان کرتے ہیں، لیکن یہ چونکہ ابتدائی کتاب ہے تو جو آسان تھیں اور آسانی سے طلباء یاد کر سکتے تھے وہ ذکر فرما دیں، باقی تفصیلات اور کتابوں میں آجائیں گی۔
تو پہلی قسم کیا تھی اس کی؟ مرکب مرکب اضافی، دوسری قسم مرکب بنائی، اور تیسری مرکب منع صرف۔ مرکب اضافی کو مرکب اضافی کیوں کہتے ہیں؟ اس میں ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت ہوتی ہے یعنی اضافت ہوتی ہے، اور پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مضاف، اور دوسرے جز کو مضاف الیہ، اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور ہوتا ہے، اور اردو میں اس کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ کا، کے، کی کے ساتھ کرتے ہیں، اور نیز اس کو الٹ دیتے ہیں، اردو میں مضاف الیہ کو پہلے لے آتے ہیں اور مضاف کو کا، کے، کی کے بعد لے جاتے ہیں۔
اور دوسری قسم جو تھی مرکب غیر مفید کی وہ مرکب بنائی ہے، مرکب بنائی کسے کہتے ہیں؟ ہاں آسان سی بات ہے، دو اسموں کو ملا کر ایک کر دیا گیا اور دوسرے میں کیا چھپ گیا؟ حرف چھپ گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں مرکب بنائی، اور مرکب بنائی کیوں کہتے ہیں اس کو؟ کیونکہ اس کے دونوں جز کیا ہوتے ہیں؟ مبنی علی الفتح جیسے احد عشر سے لے کر تسعۃ عشر تک، البتہ اس میں اثنا عشر کہ اس کا پہلا جز کیا ہے؟ معرب ہے، وہ کہیں اثنا عشر آپ پڑھیں گے اور کہیں اثنی عشر آپ پڑھیں گے۔
اور تیسری قسم کیا ہے مرکب منع صرف، مرکب منع صرف کسے کہتے ہیں؟ کہ دو اسموں کو جوڑ کر ایک کر دیا اور دوسرے میں کوئی حرف بھی چھپا ہوا نہ ہو، اور اس کو کس طرح پڑھتے ہیں؟ پہلا جز کیا ہوتا ہے؟ مبنی علی الفتح، اور دوسرا جز معرب ہوتا ہے غیر منصرف، معرب ہوتا ہے غیر منصرف، کیا معنی؟ اس پر کسرہ بھی نہیں پڑھیں گے اور تنوین بھی نہیں، اور اسی چونکہ دوسرا جز غیر منصرف پڑھا جاتا ہے اسی لیے اس کا نام بھی کیا ہے مرکب منع صرف ہے، بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الکلام۔