جی، دیکھیے بھئی کتاب پر سبق!
بدان کہ جملہ انشائيہ آنست کہ قائلش را بصدق و کذب صفت نہ توان کرد، و آن بر چند قسم است: امر چوں اِضْرِبْ، و نہی چوں لَا تَضْرِبْ، و استفہام چوں ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟، و تمنا چوں لَیْتَ زَیْدًا حَاضِرٌ، و ترجی چوں لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ، و عقود چوں بِعْتُ و اشْتَرَیْتُ، و ندا چوں یَا اَللّٰہُ، و عرض چوں اَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْرًا، و قسم چوں وَاللّٰہِ لَاَضْرِبَنَّ زَیْدًا، و تعجب چوں مَا اَحْسَنَہٗ و اَحْسِنْ بِہٖ۔
اچھا بھئی! نحو میر میں گزشتہ سبق کے اندر اپ نے پڑھا تھا کہ جملہ جو ہے، وہ دو قسم پر ہے: یا وہ جملہ خبریہ ہوگا یا جملہ انشائیہ۔ جملہ خبریہ انہوں نے بتلایا تھا وہ ہے کہ جس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ متصف کیا جا سکے، سچ یا جھوٹ کے ساتھ اسے موصوف کیا جا سکے، یا یوں کہیں آسان لفظوں میں کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ تو وہ کیا ہے؟ جملہ خبریہ۔ اور اس کی پھر دو قسمیں اپ نے پڑھیں: ایک جملہ اسمیہ اور ایک جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ وہ جملہ خبریہ ہے جس کا پہلا جز اسم ہو۔ اور جملہ فعلیہ وہ جملہ خبریہ ہے جس کا پہلا جز فعل ہو۔
اور جملہ اسمیہ میں اپ نے پڑھا کہ اس کے دو جز ہوتے ہیں: ایک مبتدا اور ایک خبر۔ مبتدا جو ہوتا ہے وہ مسند الیہ ہوتا ہے، اور خبر جو ہوتی ہے وہ مسند ہوتی ہے۔ اور ان دونوں میں، اس مبتدا اور خبر میں اسناد ہوتا ہے۔ اسناد میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ مبتدا بھی ایک لفظ ہے اور خبر بھی ایک لفظ ہے۔ دونوں الگ الگ ہوں تو بات پوری نہیں، لیکن جب دونوں کو اپس میں اپ جوڑتے ہیں اور ربط دیتے ہیں تو دونوں میں جو ربط اور جوڑ ا جاتا ہے، اس کو اسناد کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اسناد۔
جیسے "زَیْدٌ عَالِمٌ"، زید ایک الگ لفظ تھا اور عالم الگ لفظ تھا۔ اس عالم کے لفظ کو اپ زید کے ساتھ بھی جوڑ سکتے تھے، بکر کے ساتھ بھی اور خالد کے ساتھ بھی جوڑ سکتے تھے، لیکن اپ نے اس عالم لفظ کو کس کے ساتھ جوڑا؟ زید کے ساتھ۔ تو یوں کہیں گے کہ اپ نے یہ عالم کے لفظ کا اسناد کر دیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا یوں کہیں گے کہ یہ اپ نے عالم کا حکم لگا دیا کس پر؟ زید پر۔ آسان لفظوں میں کہیں گے کہ اپ نے عالم کے لفظ کو زید کے لفظ کے ساتھ جوڑ دیا، اور علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ اپ نے عالم کے لفظ کا زید کی طرف اسناد کر دیا، یا اپ نے عالم کے لفظ کا زید پر حکم لگا دیا۔ تو اسناد اور حکم اسی جوڑ اور نسبت کا نام ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟
تو مبتدا مسند الیہ ہوا اور خبر کیا ہوئی؟ مسند۔ اور ان دونوں میں جو ربط اور جوڑ ہے، اس کو اسناد کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں مبتدا وہ ہے جس کے بارے میں بات کی جائے، اور خبر وہ جو بات کی جائے اس کو خبر کہتے ہیں۔
اور دوسرا جملہ فعلیہ ہے بھئی۔ اور جملہ فعلیہ کے اندر جو فعل، جملہ فعلیہ میں پہلے فعل اتا ہے، اور فعل مسند ہوتا ہے، یعنی اس کا اسناد کیا جاتا ہے، اس کا ربط دیا جاتا ہے، اس کو جوڑا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ اگے جو فاعل ا رہا ہے بھئی۔ وہ جو اگے مسند الیہ ہے، جملہ فعلیہ میں اس کو فاعل کہتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو، میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ کلام تبھی پورا ہوگا جب اس میں ایک مسند الیہ ہو اور ایک مسند۔ جب تک یہ دو چیزیں نہیں ہوں گی، بات پوری نہیں۔ چاہے اپ 10 لفظ جوڑ لیں یا 20 جوڑ لیں، جب تک اس میں مسند اور مسند الیہ یہ دونوں نہیں ہوں گے، بات پوری نہیں ہوگی۔
مثلاً، مثلاً دیکھو بھئی! "زَیْدٌ عَالِمٌ"، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید۔ دیکھا! جس کے بارے میں بات کی، ایک وہ چاہیے، اور ایک بات جو کی وہ چاہیے۔ تو زید کے بارے میں میں نے بات کی، اور کیا بات کی؟ کہ وہ عالم ہے۔ تو "زَیْدٌ عَالِمٌ"، یہ دو جز ملے تو بات پوری ہو گئی، جملہ پورا ہوا "زَیْدٌ عَالِمٌ" کہ زید کیا ہے؟ عالم۔ اس کے بجائے اگر یہ دو جز نہ ہوتے، مثلاً زید موصوف ہے، اس کے اگے ہم صفت لے اتے ہیں "العَالِمُ"۔ پہلے تو کیا تھا؟ عالمٌ، وہ خبر تھی۔ اب ہم نے کیا کیا؟ موصوف صفت لائے۔ زید معرفہ ہے، علم ہے نہ، نام ہے۔ تو اس کی صفت جو ہے "العَالِمُ" وہ بھی کیا ہوگی؟ "العَالِمُ" اس کی صفت لائے معرفہ بھئی، معرفہ۔
تو یہاں پر دیکھنا کہ یہ اب پورا جملہ نہیں "زَیْدُنِ العَالِمُ"۔ پہلے کیا تھا؟ "زَیْدٌ عَالِمٌ"، وہ ایک مبتدا اور ایک خبر تھا، ایک مسند الیہ تھا، ایک مسند تھا۔ مسند اور مسند الیہ مل جائیں تو بات پوری ہو جاتی ہے، جملہ پورا ہو گیا۔ لیکن اگر مسند اور مسند الیہ میں سے ایک ہے اور دوسرا نہیں تو بات ادھوری ہے، جیسے "زَیْدُنِ العَالِمُ"۔ زید موصوف اور العالم اس کی صفت۔ اب اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ زید جو کہ عالم ہے۔ چلیں یہ باتیں اگے ا جائیں گی، ابھی شاید اپ کے لیے مشکل ہو۔
تو جملہ فعلیہ کے اندر جو فعل ہوتا ہے وہ مسند ہوتا ہے، اور اگے جو فاعل اتا ہے وہ مسند الیہ ہوتا ہے۔ اور مسند اور مسند الیہ جب دونوں جملے میں پائے گئے تو کلام پورا ہو گیا، بات پوری ہو گئی۔ انہوں نے اپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جو مسند ہے، اس کو حکم بھی کہتے ہیں۔ مسند کو جیسے ابھی میں نے بتایا "زَیْدٌ عَالِمٌ"، میں نے عالم کا زید کی طرف اسناد کیا۔ میں نے عالم کا زید پر حکم لگایا، ایک ہی بات ہے۔ اپ چاہے کیا کہہ دیں؟ کہ عالم کے لفظ کا میں نے زید کی طرف اسناد کیا، یا اپ کیا کہیں؟ کہ میں نے عالم کے لفظ کا زید پر تو میں نے عالم کا زید پر حکم لگایا۔ بات ایک ہی ہے بھئی۔
اور پھر انہوں نے اپ کو اخر میں یہ بھی بتلایا تھا کہ اسم، فعل اور حرف، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ اسم کا ہے۔ اسم وہ مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ اور کلام کے کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو: ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ تو اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ لہٰذا اپ کے پاس دو اسم ہوں، ایک کو مسند بنا دو، ایک کو مسند الیہ، تو بات پوری ہو جائے گی۔ جیسے ابھی مثال گزری "زَیْدٌ عَالِمٌ"۔ زید بھی کیا ہے؟ اسم۔ عالم بھی کیا ہے؟ اسم۔ پہلے اسم کو کیا بنایا؟ مسند الیہ یعنی مبتدا۔ اور دوسرے اسم کو کیا بنایا؟ مسند یعنی خبر بنایا اور کلام پورا ہوا، بات پوری ہوئی۔
تو اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی، اور فعل صرف مسند بن سکتا ہے، مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ اور حرف وہ نہ مسند الیہ بن سکتا ہے اور نہ مسند بن سکتا ہے بھئی۔ تو سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ اسم کا۔ صرف دو اسم ہوں، ایک کو مسند الیہ بنا دو ایک کو مسند، کلام پورا ہو جائے گا۔ صرف فعل ہو تو کلام پورا نہیں ہو سکتا۔ اپ دو فعل جوڑ لیں، تو فعل تو صرف مسند بنتا ہے، اپ کے پاس دو مسند ہو جائیں گے لیکن مسند الیہ بھی تو چاہیے، تو کلام پورا نہیں ہوگا بھئی۔
اب اگے دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: بدان کہ جملہ انشائيہ آنست کہ قائلش را بصدق و کذب صفت نہ توان کرد۔
جملہ خبریہ کسے کہتے تھے؟ کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ بس اس کے مقابلے میں جملہ انشائیہ ہے، تو جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہہ سکیں۔ مثلاً ایک ادمی دوسرے سے کہتا ہے: "اِضْرِبْ زَیْدًا" کہ تم زید کی پٹائی کرو۔ کوئی کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اس نے تو بات ہی کوئی نہیں کی، اس نے تو اپ کو صرف کیا کہا؟ زید کی پٹائی کرو۔ اس نے اگر کوئی اپ کو بات بتلائی ہوتی، تو پھر اپ کہہ سکتے تھے یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ یہاں تو وہ صرف ایک حکم دے رہا ہے، اپ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ تم کیا کرو زید کی پٹائی کرو۔ اس میں تو کوئی بات ہے ہی نہیں جس کی وجہ سے اس کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ تو جو بھی جملہ ایسا ہو کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے، وہ جملہ انشائیہ کہلاتا ہے۔
دوسری مثال لے لو۔ مثلاً اپ سے کسی نے پوچھا: "ہَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ؟" کیا زید نے پٹائی کی ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ جی؟ جھوٹ کیسے بھئی؟ اس نے تو کوئی بات بتائی ہی نہیں اپ کو، کوئی بات کی ہی نہیں۔ اس نے تو اپ سے سوال پوچھا ہے، خود وہ پوچھ رہا ہے اپ سے، طلب کر رہا ہے کہ مجھے بتلاؤ کیا زید نے پٹائی کی ہے یا پٹائی نہیں؟ تو وہ سوال پوچھ رہا ہے، اور سوال پوچھنے والے کو تو کبھی کوئی جھوٹا یا سچا نہیں کہہ سکتا۔ صورت سمجھ میں ا رہی ہے؟
یا اسی طرح ایک ادمی کہتا ہے: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ تو اپ کہہ سکتے ہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ نہیں نہیں نہیں، اس نے اللہ کی قسم۔ ہاں! جس بات پہ قسم اٹھا رہا ہے وہ اگے ائے گی۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ زید عالم ہے۔ اللہ کی قسم کھاتا ہوں، چلیں یہ بات اگے ا رہی ہے، میں بیان کرتا ہوں بھئی۔
تو یاد رکھیے، جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ یا یوں کہیں، جس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف نہ کیا جا سکے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ اب دیکھیے عبارت، ترجمہ دیکھیے بھئی!
بدان کہ، تو جان لے کہ، جملہ انشائيہ آنست، جملہ انشائیہ وہ ہے، کہ قائلش را، قائلش، کیا معنیٰ؟ اس کا کہنے والا۔ یاد رکھو یہ جو میں نے پہلے بھی بتایا تھا، یہ جو شین ہے نہ شین فارسی میں، اس کے لیے اتا ہے، اس۔ کتاب، کتاب کو کہتے ہیں، اور کتابش؟ اس کی کتاب۔ اور میم اتا ہے میرے لیے، کتابم؟ میری کتاب۔ اور تا جو ہے، وہ تا اتی ہے تیرے لیے، کتابت؟ تیری کتاب۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ یہ بعض جگہ اس طرح وہ استعمال کرتے ہیں، تا مخاطب کے لیے تا لےاتے ہیں، متکلم کے لیے میم لاتے ہیں، اور غائب اس کے لیے، یعنی غائب کے لیے شین لاتے ہیں۔ تو قائلش؟ اس کا قائل یعنی اس کا کہنے والا۔ بدان کہ، تو جان لے کہ، جملہ انشائيہ آنست، کہ جملہ انشائیہ وہ ہے، کہ قائلش را بصدق و کذب صفت نہ توان کرد، کہ اس کے کہنے والے کو سچ اور جھوٹ کے ساتھ صفت نہ توان کرد، موصوف نہ کیا جا سکے۔ اس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف نہ کیا جا سکے۔یا آسان لفظوں میں کیا کہیں کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہہ سکیں۔ و آن بر چند قسم است، اور یہ جملہ انشائیہ چند قسم پر ہے، یعنی اس کی کچھ قسمیں ہیں۔ جملہ انشائیہ کی کچھ قسمیں ہیں۔
اب وہ قسمیں بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ گنتے جائیے کتنی قسمیں بتلاتے ہیں۔ پہلی قسم ہے امر، امر۔ چون اضرب۔ امر کا معنی ہے کسی کو کسی بات کا حکم دینا۔ جیسے اضرب، تو پٹائی کر۔ دیکھو، اب اس میں کوئی بات بتلا رہا ہے یا کسی بات کا حکم دیا جا رہا ہے؟ حکم دیا جا رہا ہے۔ اضرب، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں یا آپ کسی سے کہتے ہیں کہ اضرب زیداً، تو زید کی پٹائی کر، تو آپ اس سے کیا کر رہے ہیں؟ حکم دے رہے ہیں زید کی پٹائی کا۔
یا یوں کہیں، آپ اس سے طلب کر رہے ہیں کہ وہ زید کی پٹائی کرے۔ آپ اس سے مطالبہ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ کہ وہ زید کی پٹائی کرے۔ تو دیکھا، یہاں طلب ہے۔ امر میں کیا ہوتی ہے؟ طلب ہوتی ہے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مرکب مفید وہ ہے کہ جب اس پر کہنے والا سکوت کرے، خاموشی اختیار کرے، تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو۔ دیکھا، خبر تھی جملہ خبریہ میں اور طلب کس کے اندر ہے؟ جملہ انشاء۔ تو یہاں بھی آپ کو طلب معلوم ہو رہی ہے۔ کہنے والا آپ سے کیا طلب کر رہا ہے؟ کہ آپ زید کی پٹائی کریں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو پہلی قسم امر ہے۔ امر کا کیا معنی؟ حکم دینا۔ چون اضرب، جیسے کہ اضرب، تو یہ امر کے صیغے اس میں سارے آ گئے، ان میں حکم دیا جاتا ہے۔
و نہی، دوسری قسم ہے نہی بھئی۔ چون لا تضرب، جیسے لا تضرب، تو پٹائی نہ کر۔ امر میں کسی چیز کے کرنے کا حکم ہوتا ہے اور نہی کے اندر کسی چیز سے روکنے کا حکم ہوتا ہے کہ یہ کام نہ کرو۔ لا تضرب، کیا معنی؟ مت مارو، پٹائی مت کر، تو پٹائی مت کر۔ تو اس میں بھی طلب ہے۔ امر میں بھی طلب تھی، اس میں بھی، لیکن امر میں طلب تھی کام کے کرنے کی اور اس میں طلب ہے کام کے نہ کرنے کی، کام کے چھوڑ دینے کی، لا تضرب۔ تو کہتے ہیں دوسری قسم جو ہے اس کی نہی ہے، چون لا تضرب جیسے لا تضرب۔
و استفہام، تیسری قسم ہے انشاء کی استفہام بھئی۔ یہ سب جملہ انشائیہ ہیں۔ اضرب، یہ کون سا جملہ بنے گا؟ جملہ انشائیہ۔ لا تضرب، یہ بھی کون سا جملہ؟ جملہ انشائیہ۔ و استفہام، تیسری قسم ہے استفہام، جس میں سوال پوچھا جاتا ہے۔ استفہام کا معنی ہے کسی سے پوچھنا، پوچھنا۔ تو استفہام، چون هل ضرب زید؟ جیسے هل ضرب؟ هل کا معنی ہے کیا، کیا؟ هل ضرب زید؟ کیا زید نے پٹائی کی؟ کیا زید نے پٹائی کی ہے؟ تو آپ کسی سے سوال پوچھتے ہیں۔ تو دیکھو، یہاں پر بھی آپ طلب کر رہے ہیں۔ ایک بات کا آپ کو پتہ نہیں ہے، آپ اس بات کو طلب کر رہے ہیں کہ مجھے بتلاؤ، هل ضرب زید؟ کیا زید نے پٹائی کی ہے؟ تو دیکھو، یہ بھی جملہ انشائیہ ہے۔ اس کے کہنے والے کو بھی کوئی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس میں وہ بات نہیں بتلا رہا بلکہ بات پوچھ رہا ہے۔
و تمنا، چوتھی قسم آ گئی تمنا بھئی۔ اردو میں بھی ہم کہتے ہیں تمنا کرنا، آرزو کرنا، خواہش کرنا، خواہش کسی چیز کی۔ چون لیت زیداً حاضر، کہ کاش کہ زید حاضر ہوتا۔ لیت زیداً حاضر، کاش کہ زید حاضر ہوتا۔ جی، ایک شخص آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے، وہ کہتا ہے، کاش زید حاضر ہوتا، تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے؟ نہیں، اس نے کوئی بات کی ہی نہیں، اس نے تو صرف اپنے دلی خواہش کا اظہار کیا، کاش آج ہمارے پاس کون موجود ہوتا؟ زید موجود ہوتا۔ تو یہاں خواہش کا اظہار ہے، آرزو کا اظہار ہے، تمنا کی جا رہی ہے، اور تمنا جو ہے وہ انشاء کی قسم ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے؟ سب کو؟
چون لیت زیداً حاضر، کاش کہ زید حاضر ہوتا۔
و ترجی، یہ پانچویں قسم آ گئی بھئی انشاء کی ترجی۔ ترجی کا معنی ہے کسی چیز کی امید کرنا۔ تمنا کا معنی کسی چیز کی تمنا کرنا اور ترجی کا معنی کسی چیز کی امید کرنا۔ چون، چون کا معنی ہے جیسے، جیسے، دیکھو جیسے مثالیں ساتھ ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ چون لعل عمراً غائب، شاید کہ عمر غائب ہو گا۔ اس کا ترجمہ شاید سے کرتے ہیں یا امید ہے، امید ہے کہ عمر غائب ہو گا، جس طرح بھی آپ کو آسان لگے۔ شاید کہ عمر غائب ہو، امید ہے کہ عمر غائب ہو گا۔ تو یہ ہے ترجی۔
تو تمنا میں تمنا اور ترجی میں امید کی جاتی ہے، امید۔ تمنا اور ترجی، ان میں یہ قریب قریب ذرا معلوم ہوتے ہیں۔ ایک میں کیا تھا؟ کاش کہ زید حاضر ہو، لیت زیداً حاضر، کاش کہ زید حاضر ہوتا۔ دوسرا کیا ہے؟ لعل عمراً غائب، شاید کہ عمر غائب ہو، تو دونوں قریب قریب لگتے ہیں۔ لیکن دونوں میں لفظوں میں بھی فرق ہے اور معنی میں بھی فرق ہے۔
تمنا اور ترجی میں لفظوں میں بھی فرق اور معنی میں بھی فرق۔ لفظوں میں کیا فرق؟ لفظوں میں تمنا کے لیے لیت آتا ہے، لیت۔ دیکھ رہے ہیں آپ لفظوں میں لیت، اور ترجی کے لیے لعل آتا ہے۔ تو تمنا کے لیے ہمیشہ کیا آئے گا؟ لیت، اور ترجی امید کے لیے ہمیشہ کیا آئے گا؟ لعل۔ تو یہ تو لفظوں میں فرق ہے، یہ لیت اور لعل سے آپ فوراً پہچان لیں گے۔ لیت آئے تو سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ تمنا، اور لعل آئے تو آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ ترجی ہے، لفظوں سے ہی پتہ چل جائے گا۔
نیز دوسرا فرق یہ ہے ان میں کہ تمنا جو ہے وہ، وہ ممکن اور ناممکن دونوں چیزوں کی ہو سکتی ہے۔ خواہش، آرزو اور تمنا ممکن اور ناممکن دونوں چیزوں کی ہو سکتی ہے، لیکن امید صرف ممکن کام کی ہوتی ہے۔ ترجی صرف کس کی ہوتی ہے؟ صرف ممکن کام کی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ دیکھو، آرزو اور تمنا ناممکن کام کی بھی کوئی انسان کر سکتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں، کاش کہ گزرا ہوا وقت پھر آ جائے، کہتا ہے یا نہیں کوئی؟ کبھی کوئی کہتا ہے، کوئی پرانا وقت یاد آتا ہے، کہتا ہے، کاش وہ وقت دوبارہ آ جائے، حالانکہ اس وقت کا واپس آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یا کوئی آدمی بوڑھا ہو گیا، وہ کہتا ہے، کاش کہ جوانی واپس آ جائے، دیکھو تمنا کر رہا ہے اور جوانی کا واپس آنا تو ممکن نہیں ہے، تو دیکھو تمنا ممکن کام کی بھی ہو سکتی ہے اور جیسے ابھی تمنا، لیت زیداً حاضر، کاش کہ زید حاضر ہوتا، کسی کا ساتھی ہے، کسی جگہ پر موجود نہیں ہے اور وہ کیا کہہ رہا ہے؟ کاش کہ زید حاضر ہوتا، اور زید کا وہاں حاضر ہونا ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے؟ ممکن ہے بھئی، زید موجود ہے نا، اس کا ساتھی ہے وہاں نہیں ہے، ہو سکتا ہے ابھی ایک دم کہیں سے آ جائے، تو زید کا وہاں حاضر ہونا ممکن ہے، لیکن جوانی کا واپس آنا ممکن نہیں، لیکن دونوں میں تمنا ہو سکتی ہے، چاہے وہ کام ممکن ہو، چاہے ممکن نہ ہو، دونوں میں تمنا ہو سکتی ہے، لیکن ترجی صرف ممکن کام کی ہو گی۔
کس کی ہو گی؟ جو ممکن کام ہو وہاں تو ترجی۔ ترجی کا کیا معنی؟ امید، امید کس کی کرتا ہے انسان؟ کوئی بوڑھا ہو کیا وہ امید لگا کے بیٹھا ہوتا ہے کہ میں دوبارہ جوان ہو جاؤں گا؟ یا آپ کو کوئی پرانا وقت یاد آ جائے، کیا آپ کو امید ہوتی ہے، شاید وہی وقت پھر آ جائے؟ نہیں، وہاں امید نہیں، کیونکہ امید صرف کس چیز کی کی جاتی ہے؟ ممکن چیز کی کی جاتی ہے، ناممکن چیز کی امید نہیں۔ تو پہلا فرق تمنا اور ترجی میں کیا؟ لفظوں میں، کیا فرق ہے تمنا اور ترجی میں لفظوں میں؟ تمنا میں لیت آئے گا ہمیشہ اور ترجی میں لعل۔ اور نیز دوسرا فرق کیا معنی کے اعتبار سے؟ ہاں، ممکن ناممکن دونوں چیزوں کی انسان تمنا کر سکتا ہے، تمنا ہی کرنی ہے نا، آرزو ہی کرنی ہے، اپنے خواہش کا اور اپنے محبت کا اظہار کرنا ہے، کاش وہ زمانہ پھر واپس آ جائے، جبکہ امید صرف اس چیز کی ہوتی ہے جس کا ہونا ممکن ہو، ناممکن چیز میں ترجی نہیں ہوتی بھئی۔
اور نیز ایک اور فرق بھی ہے۔ تمنا محبوب چیز کی ہوتی ہے، انسان کس چیز کی تمنا کرتا ہے جو اس کو محبوب ہو، پسند ہو، جبکہ ترجی، وہ محبوب کی بھی ہو سکتی ہے اور غیر محبوب کی بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً اسی مثال کو دیکھ لیں، بوڑھا کہتا ہے، کاش کہ جوانی پھر لوٹ آئے، معلوم ہوا اس کو جوانی کیا ہے؟ محبوب ہے، پسند ہے، جبھی وہ چاہتا ہے کہ میں پھر جوان ہو جاؤں، جبھی وہ تمنا کر رہا ہے کہ وہ وقت پھر واپس آ جائے، تو تمنا ہمیشہ محبوب اور پسندیدہ چیز کی ہو گی، جبکہ ترجی محبوب چیز کی بھی ہو سکتی ہے اور غیر محبوب چیز کی بھی ہو سکتی ہے۔
مثلاً مثلاً جیسے یہاں لکھا ہے، چون لعل عمراً غائب، شاید کہ عمر غائب ہو، شاید کہ عمر غائب ہو۔ اب ہو سکتا ہے آپ کی بھی یہی خواہش ہو کہ عمر نہ ہو۔ کسی جگہ کوئی دیکھنے گیا عمر کو، آپ نے آپ اگر وہ عمر وہاں مل جاتا ہے، مل جاتا ہے، تو مثلاً ہو سکتا ہے یہ آدمی آپ کو کیا کرے؟ کوئی تکلیف پہنچائے، اور کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی عمر کو دیکھنے گیا اور اس کو اگر وہ عمر وہاں مل جاتا ہے، ہو سکتا ہے وہ آپ کو انعام دے، دونوں احتمال ہے نا؟ لیکن دونوں میں آپ یہی کہیں گے، لعل عمراً غائب، شاید عمر کیا ہو؟
یا دوسری مثال بنا لو، لعل المطر ينزل، لعل المطر، مطر کہتے ہیں بارش کو، اور نزل ینزل کا معنی اترنا، یعنی بارش کا ہونا، ہونا، لعل المطر ينزل، شاید بارش ہو، شاید، اب اگر کسان نے بیج ڈالا ہے اور زمین کو پانی کی ضرورت ہے۔ اب وہ کہتا ہے: لَعَلَّ الْمَطَرَ يَنْزِلُ، شاید کہ بارش ہو۔ اب مجھے بتائیں، اب بارش اس کو محبوب ہے یا غیر محبوب؟ محبوب ہے، وہ چاہتا ہے بارش ہو جائے تاکہ زمین کو پانی ملے اور فصل اچھی ہو جائے۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے فصل پک کر تیار کھڑی ہوتی ہے، کسان کو فکر ہوتی ہے کہیں بارش نہ ہو جائے کہ ساری تیار فصل خراب ہو جائے گی، لیکن اس عالم میں بھی بادل آ گئے، وہ کہتا ہے: لَعَلَّ الْمَطَرَ يَنْزِلُ، شاید کہ بارش ہو جائے۔ لیکن اب اس کو بارش محبوب ہے یا غیر محبوب ہے؟ غیر محبوب ہے، دیکھو۔ تو ترجی جو ہے وہ محبوب کی بھی ہو سکتی ہے اور غیر محبوب، لیکن تمنا صرف کس کی ہوگی؟ محبوب چیز کی ہوگی بھئی۔
تو پہلی قسم کیا ہوئی؟ امر۔ دوسری؟ نہی۔ تیسری؟ استفہام۔ نمبر چار؟ تمنا۔ نمبر پانچ؟ ترجی۔ آگے نمبر چھ ہے: عقود۔ عقود جمع ہے عقد کی۔ اور عقد جو ہے وہ معاملے کو کہتے ہیں۔ دو انسان آپس میں کوئی معاملہ کریں، اس کو عقد کہتے ہیں۔ مثلاً خرید و فروخت کا معاملہ۔
خرید و فروخت میں ایک شخص چیز بیچتا ہے اور دوسرا خریدتا ہے۔ تو ان دونوں کے درمیان یہ جو خرید و فروخت کا معاملہ ہوا، اس کو عقد کہتے ہیں۔ یا جیسے نکاح ہے، نکاح ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان نکاح ہوا، دونوں میاں بیوی بن گئے، تو یہ جو دونوں کے درمیان معاملہ ہوا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد کہتے ہیں۔ یا جیسے آپ کسی شخص سے کوئی مکان کرائے پر لیتے ہیں، تو اس کے اور آپ کے درمیان معاملہ طے پاتا ہے کہ ہر مہینے کے مثلاً آپ اس کو دس ہزار روپے دیں گے، تو یہ جو دونوں کے درمیان مکان کرائے پر لینے کے بارے میں معاملہ طے پایا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو عقد کسے کہتے ہیں؟ معاملے کو، جو دو انسانوں کے درمیان جو معاملہ طے پا جائے، اس کو عقد کہتے ہیں۔ اور اس میں مثلاً وہ الفاظ بولتے ہیں آپس میں، عقد کرتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص آپ سے کتاب خریدنا چاہتا ہے۔ تو آپ اس کو کہیں گے: یہ کتاب میں آپ کو بیچتا ہوں۔ اور وہ کہے گا: یہ کتاب میں آپ سے خریدتا ہوں۔ دیکھا، جیسے ہی دونوں طرف سے یہ بات ہو جائے گی، تو یہ خرید و فروخت کا معاملہ پورا ہو گیا۔
کتاب کس کی؟ آپ کی۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اسے؟ بیچنا چاہتے ہیں۔ اور تو آپ نے کیا کہا دوسرے آدمی سے؟ کہ یہ کتاب میں آپ کو بیچتا ہوں یا یہ کتاب میں آپ کو بیچ رہا ہوں۔ اور وہ کیا کہتا ہے؟ میں اسے خریدتا ہوں یا مجھے منظور ہے، مجھے قبول ہے۔ بس جب دونوں کی زبان سے یہ بات ادا ہو جائے گی، تو دونوں کے درمیان یہ خرید و فروخت کا معاملہ طے پا گیا۔ دونوں میں یہ خرید و فروخت کا عقد ہو گیا۔
اور عقد ہوتے ہی وہ کتاب کا مالک بن جائے گا، اب اس کے ذمے ہے کہ وہ آپ کو اس کے پیسے ادا کرے۔ تو یہ جو دو آدمیوں میں معاملہ ہوتا ہے، اس کو عقد کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور عربی میں اس کے لیے ماضی کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ کون سے الفاظ؟ ماضی کے۔ اردو میں تو میں نے حال کے لفظ بولا نا: میں یہ کتاب آپ سے خریدتا ہوں یا میں آپ سے خرید رہا ہوں۔ اور وہ کیا کہتا ہے؟ مجھے منظور ہے، مجھے قبول ہے، یا کہتا ہے میں آپ سے خریدتا ہوں یا میں آپ سے خرید رہا ہوں۔ دیکھو یہ حال والے الفاظ بول رہا ہے۔
عربی میں ماضی کے الفاظ بولتے ہیں۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ بیع و شراء کرنے کے لیے ماضی کے الفاظ ہوں۔ بِعْتُ، بَاعَ یَبِیْعُ کا معنی بیچنا۔ بِعْتُ، میں نے بیچ دیا۔ بِعْتُ الْکِتَابَ، میں نے یہ کتاب بیچ دی۔ میں نے یہ کتاب بیچ دی۔ دوسرا کہتا ہے: اِشْتَرَیْتُ، میں نے خرید لی۔ تو دونوں کے درمیان یہ بیع و شراء کا معاملہ طے پا گیا اور وہ کتاب کا خریدار مالک بن گیا۔
بات سمجھ میں آگئی؟ مالک بن گیا۔ اور یہ صرف ماضی کے صیغوں میں ہوگا۔ مضارع، عربی میں مضارع کے صیغے سے نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ مضارع میں حال کا بھی احتمال اور مستقبل کا بھی احتمال ہے۔ تو مضارع میں حال اور مستقبل دونوں، دونوں معنی ہوتے ہیں۔ تو اگر صرف حال والا معنی ہوتا، تو اس سے بھی عقد ہو جاتا۔ لیکن مضارع میں دونوں معنی ہیں، دونوں احتمال، لہٰذا اس سے یہ عقد منعقد نہیں ہوتے۔
بہرحال یہ تو خیر میں نے لمبی بات کر دی، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنا یاد رکھیں، عقد کسے کہتے ہیں؟ جو معاملہ کرتے ہیں دو افراد آپس میں، چاہے وہ خرید و فروخت کا معاملہ ہو، چاہے نکاح کا معاملہ ہو، چاہے کوئی چیز کرائے پر لینے کا معاملہ ہو وغیرہ بھئی۔ اور اس کو عقد کہا جاتا ہے اور اس کی جمع کیا ہے؟ عقود ہے۔ اور یہ بھی کس کی قسم ہے؟ انشاء۔ انشاء۔
جب آپ ساتھی کو کتاب فروخت کر رہے ہیں، تو آپ اس کو کوئی بات بتلا رہے ہیں یا ایک معاملے کو وجود دے رہے ہیں؟ آپ اس کو بات نہیں بتلا رہے کہ میں آپ کو کتاب بیچتا ہوں، بلکہ آپ ایک معاملے کو، ایک عقد کو وجود دے رہے ہیں۔ تو یہ خبر نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ انشاء۔ انشاء کا معنی بھی ہوتا ہے وجود دینا، کسی چیز کو وجود دینا۔ انشاء کا کیا معنی؟ أَنْشَأَ يُنْشِئُ إِنْشَاءً فَهُوَ مُنْشِئٌ، وجود دینا۔
تو دیکھو، اس میں بھی عقد کو وجود دیا جاتا ہے۔ پہلے آپ دونوں میں خرید و فروخت کا معاملہ نہیں تھا، پھر آپ نے کیا کر لیا؟ یہ معاملہ کر لیا، اس کو وجود دے دیا۔ جی، تو عقود جیسے بِعْتُ وَاشْتَرَیْتُ۔ وَالنِّدَاءُ، اور نداء بھئی۔ نداء کا معنی کسی کو آواز دینا، کسی کو پکارنا، جیسے يَا اَللهُ۔ عربی میں نداء کے لیے "یا" استعمال کرتے ہیں عموماً بھئی۔ کسی کو آواز دینی ہو، مثلاً زید کو آپ آواز دینا چاہتے ہیں، تو کہیں گے: يَا زَيْدُ، اے زید! یعنی اس کو آپ اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔
تو نداء کہتے ہیں کسی کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کرنا۔ يَا زَيْدُ، میں کیا کر رہا ہوں؟ توجہ ہے؟ دہرائیں زبان سے۔ میں آواز دے کر زید کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہوں۔ کوئی بات اس کو کہنا چاہتا ہوں، وہ بات آگے کروں گا۔ لیکن فی الحال میں نے کیا کہا؟ يَا زَيْدُ، اے زید! یہ آواز دے کر میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہوں اور پھر اس کے بعد جو بات کرنی ہے وہ کرتا ہوں کہ میرے لیے مثلاً ایک گلاس پانی لے آؤ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ جو نداء ہے، نداء، یاد رکھو یہ بھی انشاء کی قسم ہے۔ نداء میں آپ کیا کرتے ہیں؟ کسی کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کسی کو کوئی بات نہیں بتلائی کہ آپ اس کو جملہ خبریہ کہیں، بلکہ آواز دے کر صرف اپنی طرف متوجہ کیا۔ تو یہ جملہ انشائیہ ہے بھئی۔
وَالْعَرْضُ، تو آٹھویں قسم آگئی: عرض بھئی۔ عرض کا معنی ہے کسی سے کسی کام کی درخواست کرنا۔ کسی سے کسی کام کی درخواست کرنا۔ یعنی اچھے طریقے سے، نرمی سے کسی کو کسی کام کی ترغیب دینا، یہ ہے عرض۔ پھر دہرائیں، عرض کسے کہتے ہیں؟ درخواست کرنا، یعنی نرمی سے کسی کام کی ترغیب دینا کسی کو۔ پھر دہرائیں، عرض کا کیا معنی؟ درخواست۔ کیا معنی درخواست؟ نرمی سے، اچھے طریقے سے کسی کو کسی کام کی ترغیب دینا۔
جیسے، جیسے: أَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِيْبَ خَيْرًا؟ أَلَا تَنْزِلُ بِنَا؟ نَزَلَ يَنْزِلُ کے معنی اترنا، آنا، آنا۔ أَلَا تَنْزِلُ بِنَا، کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے؟ فَتُصِيْبَ خَيْرًا، تو آپ کو خیر پہنچتی۔ آپ ہمارے پاس تشریف لاتے، تو آپ کو خیر پہنچتی، آپ کو فائدہ پہنچتا، آپ کو بھلائی پہنچتی۔ تو دیکھا، دوسرے کو ترغیب دے رہا ہے کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیے، ہم آپ کا اکرام کریں گے، عزت کریں گے۔ تو یہ ہے درخواست۔ بات سمجھ میں آگئی؟
کیا ترجمہ؟ أَلَا تَنْزِلُ بِنَا، کیا آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لاتے؟ فَتُصِيْبَ خَيْرًا، تو آپ کو خیر پہنچتی، بھلائی پہنچتی، یا یوں کہو فائدہ پہنچتا۔ آپ ہمارے پاس تشریف لاتے، تو آپ کو فائدہ پہنچتا۔ دیکھو، ترغیب دے رہے ہیں، درخواست کر رہے ہیں کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیے۔ تو اس کو عرض کہتے ہیں اور یہ بھی کس کی قسم ہے؟ جملہ انشائیہ کی۔
وَالْقَسَمُ، اور قسم جو ہے، یہ بھی انشاء کی قسم ہے۔ جیسے: وَاللهِ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا۔ اردو میں تو ہم کہتے ہیں نا کہ "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"، عربی میں کہتے ہیں: وَاللهِ، یہ واؤ قسم کے لیے ہے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا، کہ میں ضرور زید کی پٹائی کروں گا۔ وَاللهِ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا، واللہ! میں ضرور زید کی پٹائی کروں گا۔ تو یہ قسم ہے اور قسم بھی کون سا جملہ؟ جملہ انشائیہ۔
پھر اس میں ایک اور بات یاد رکھنا، عموماً طلباء غلطی کرتے ہیں۔ میں نے ابھی جملہ ایک بولا: وَاللهِ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا۔ طلباء کہتے ہیں یہ سارا جملہ انشائیہ ہے۔ وَاللهِ، میں زید، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ کہ خدا کی قسم میں ضرور زید کی پٹائی کروں گا۔ اللہ کی قسم میں ضرور زید کی پٹائی کروں گا۔ تو طلباء سمجھتے ہیں یہ سارا جملہ قسمیہ ہے اور یہ انشاء ہے۔ نہیں بھئی، نہیں! یہ سارا انشاء نہیں ہے۔ اس میں سے صرف وَاللهِ، یہ حصہ جو ہے، یہ ہے انشاء۔
وَاللهِ، کیا ترجمہ؟ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ یہ ہے انشاء۔ اس پر کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ اگر وہ کہتا ہے: وَاللهِ، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، آپ کہیں گے بھئی آپ جھوٹ بول رہے ہیں؟ وہ کہے گا بھئی میں نے تو کوئی بات ہی نہیں کی، میں نے تو قسم کھائی ہے، میں نے تو قسم کو وجود دیا ہے۔ اور قسم تو انشاء کی قسم ہے، اس کے کہنے والے کو کوئی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ اور آگے جو آرہا ہے نا: لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا، اس کو کہتے ہیں جوابِ قسم۔ کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم۔ یاد رکھو جوابِ قسم وہ بات بات جس پر قسم اٹھائی جائے۔
وہ بات ایک آدمی کہتا ہے: "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"۔ یہاں بات کر کے وہ چپ ہو جائے گا یا آگے بھی بات کرے گا؟ کس بات پر قسم کھاتے، وہ کرے گا یا نہیں کرے گا آگے بات؟ "اللہ کی قسم، میں زید کی ضرور پٹائی کروں گا"۔ تو یہ جو "اللہ کی قسم" کھائی شروع میں، یہ ہے قسم۔ یہ ہے انشاء۔ اور آگے جو اس نے کہا "میں ضرور زید کی پٹائی کروں گا"، یہ جملہ خبریہ ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں: "جھوٹ بول رہا ہے، یہ کوئی زید کی پٹائی نہیں کرے گا، یہ اس سے ڈرتا ہے"۔ کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ تو دیکھا، تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا۔
پھر سنو، آپ نے پڑھا ہے کہ قسم کس کی قسم ہے؟ انشاء کی۔ اب کوئی قسم کھاتا ہے، کہتا ہے: "واللہ! اللہ کی قسم، یہ کتاب میں نے 20 روپے کی خریدی ہے"۔ آپ کہہ سکتے ہیں: "جھوٹ بول رہا ہے"۔ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ بلکہ لوگ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ قسم کھا کر کوئی بات کرتا ہے، پھر بھی لوگ کیا کہتے ہیں؟ "جھوٹ بول رہا ہے، قسم جھوٹی قسم اٹھا رہا ہے"۔
تو آپ پھر حیران ہوں گے کہ ہم نے تو کیا پڑھا تھا؟ کہ قسم کس کی قسم ہے؟ انشاء کی۔ اس میں تو اس کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، اور یہ قسم کھانے والے کو کیا کہہ رہے ہیں؟ جھوٹا۔ وجہ یہی جو میں نے ابھی بیان کی۔ جو آپ پڑھتے ہیں نا کہ قسم جملہ انشائیہ ہے، وہ صرف "واللہ!"، یہ حصہ جو ہے، یہ ہے انشاء۔
"واللہ!"، کیا ترجمہ؟ "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"۔ یہ ہے انشاء۔ اس پر کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ اگر وہ کہتا ہے "واللہ!"، "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"، آپ کہیں گے: "بھئی آپ جھوٹ بول رہے ہیں؟" وہ کہے گا: "بھئی میں نے تو کوئی بات ہی نہیں کی، میں نے تو قسم کھائی ہے، میں نے تو قسم کو وجود دیا ہے۔ اور قسم تو انشاء کی قسم ہے، اس کے کہنے والے کو کوئی سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا"۔
اور آگے جو آرہا ہے نا "لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا"، اس کو کہتے ہیں جوابِ قسم۔ کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم۔ یاد رکھو، جوابِ قسم وہ بات جس پر قسم اٹھائی جائے، اس کو جوابِ قسم کہتے ہیں۔ تو قسم کس کی قسم؟ انشاء۔ اور آگے جو جوابِ قسم ہے، وہ الگ جملہ ہے، اس میں پھر الگ غور کرنا پڑے گا۔ اگر وہ جملہ خبریہ ہو، تو اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ جیسے واللہ، پھر دہراؤ۔
کہ "اللہ کی قسم! میں نے یہ کتاب 20 روپے کی خریدی ہے"۔ دوسرا آدمی کیا کہتا ہے؟ "یہ جھوٹ بول رہا ہے"۔ تو آپ اگر کوئی آپ سے کہے کہ یہ تو جملہ قسمیہ ہے، پھر یہ اس کو جھوٹا کیسے کہہ رہا ہے؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ کہ یہ قسم میں جھوٹا نہیں کہہ رہا، جس بات پر قسم اٹھائی ہے، اس میں جھوٹا کہہ رہا ہے۔ یعنی "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں"، اس میں جھوٹا نہیں ہے، بلکہ "میں نے یہ کتاب 20 روپے کی خریدی ہے"، یہ جو جوابِ قسم ہے، اس میں جھوٹا ہے۔ جس بات پر قسم اٹھائی جائے، اس کو جوابِ قسم کہتے ہیں۔
اسی طرح نداء میں بھی اسی طرح ہے۔ میں نے زید سے کہا: "يَا زَيْدُ! زَرَبَ عَمْرٌو"۔ "يَا زَيْدُ"، اے زید! "زَرَبَ عَمْرٌو"، عمرو نے پٹائی کی ہے۔ توجہ ہے؟ ایک آدمی دوسرے سے کیا کہتا ہے؟ "يَا زَيْدُ! زَرَبَ عَمْرٌو"، اے زید! عمرو نے پٹائی کی ہے۔ تیسرا آدمی کہتا ہے: "بھئی، یہ جھوٹ بول رہا ہے، عمرو نے کوئی پٹائی نہیں کی"۔ کہہ سکتا ہے یا نہیں کہہ سکتا؟
تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا، یہ تو نداء ہے اور ابھی ہم نے پڑھا کہ نداء کس کی قسم ہے؟ انشاء کی۔ اس کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ تو جواب یاد رکھنا کہ نداء سے صرف پہلا حصہ مراد ہے: "يَا زَيْدُ"، یہ ہے نداء۔ اور آگے جو بات کی جائے، اس کو جوابِ نداء کہتے ہیں۔ تو نداء کو کے کہنے والے کو تو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، لیکن جوابِ نداء کی وجہ سے سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ "يَا زَيْدُ"، اے زید! اس میں سچا جھوٹا نہیں۔ لیکن "عمرو نے پٹائی کی ہے"، یہ کیا ہے؟ جوابِ نداء، اس میں سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔
فرق سمجھ میں آیا؟ تو طلباء عموماً یوں کرتے ہیں کہ یہ نداء اور جوابِ نداء کو ملاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں: "یہ جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا"۔ جملہ ندائیہ انشائیہ ہوا، حالانکہ یہ غلط ہے۔ صرف نداء ہے انشاء، جوابِ نداء تو انشاء نہیں، وہ ہو سکتا ہے انشاء ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو، اس میں الگ غور کریں۔ جوابِ نداء انشاء بھی ہو سکتا ہے۔
مثلاً میں آواز دیتا ہوں کسی کو: "يَا زَيْدُ! اِضْرِبْ عَمْرًا"، اے زید! عمرو کی پٹائی کر۔ تو "يَا زَيْدُ"، یہ کیا ہے؟ نداء۔ اور "اِضْرِبْ عَمْرًا"، یہ کیا ہے؟ جوابِ نداء۔ دیکھو، جوابِ نداء بھی انشاء ہے۔ امر ہے نا، امر ہے۔ تو نداء بھی انشاء یہاں پر اور جوابِ نداء بھی انشاء۔ تو جوابِ نداء میں آپ کو الگ غور کرنا پڑے گا۔ اسی طرح ایک ہے قسم، ایک ہے جوابِ قسم۔ قسم تو انشاء ہے، لیکن جوابِ قسم میں آپ کو الگ غور کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔
وَالتَّعَجُّبُ، اور آخری قسم بیان کر رہے ہیں بھئی انشاء کی، وہ تعجب ہے بھئی، تعجب۔ تعجب کا معنی ہے کسی بات پر حیران ہونا، اپنے حیرت کا اظہار کرنا، تعجب کا اظہار کرنا۔ جیسے مَا أَحْسَنَهُ۔ مَا أَحْسَنَهُ، ہا ضمیر کے بجائے نام لے آئیں۔ مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! زید کتنا اچھا ہے!
توجہ ہے؟ مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! زید کتنا اچھا ہے! یا دوسرا دیکھو: وَأَحْسِنْ بِهِ! اس میں بِهِ میں ہا ضمیر کی جگہ نام لے آؤ: أَحْسِنْ بِزَيْدٍ! ترجمہ وہی ہے: زید کتنا اچھا ہے! أَحْسِنْ بِزَيْدٍ، دو صیغے ہیں تعجب کے۔ ایک ہے مَا أَحْسَنَهُ، توجہ ہے؟ ایک کیا ہے؟ مَا أَحْسَنَهُ، اور دوسرا أَحْسِنْ بِهِ۔ تو دونوں میں سے ایک استعمال کیا جاتا ہے ایک وقت کے اندر، اور دونوں کا ترجمہ کیا ہے؟ مثلاً مَا أَحْسَنَ زَيْدًا، کیا ترجمہ؟ "زید کتنا اچھا ہے"۔ اور أَحْسِنْ بِزَيْدٍ، اس کا بھی کیا ترجمہ؟ "زید کتنا اچھا ہے"۔
اور دیکھو، یہاں اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہاں پر وہ کوئی بات نہیں آپ کو بتلا رہا۔ ایک ہے بات بتلانا، ایک ہے تعجب کا اظہار کرنا۔ مثلاً کوئی آپ کو بات بتلاتا ہے: "میں زید پر بڑا حیران ہوا"۔ کوئی کیا کہتا ہے آپ سے؟ دیکھو، یہ اب یہ تعجب کا اظہار نہیں کر رہا، آپ کو ایک بات بتلا رہا ہے، اس پہ آپ اس کو کہہ سکتے ہیں: "یہ سچ بول رہا ہے" یا "یہ جھوٹ بول رہا ہے"۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے "مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! زید کتنا اچھا ہے!" یا "أَحْسِنْ بِزَيْدٍ! زید کتنا اچھا ہے!"، تو اب اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ کوئی بات نہیں آپ کو بتلا رہا، اپنے خود اپنی حیرت کا اظہار کر رہا ہے، اپنے تعجب کا یعنی "مجھے بڑی حیرت ہو رہی ہے اس بات پر"، وہ یہ کہنا چاہتا ہے۔ تعجب ہو رہا ہے مجھے اس بات پر کہ زید کتنا اچھا ہے۔
تو تعجب کے کتنے صیغے؟ دو۔ کون کون سے؟ مَا أَحْسَنَهُ اور أَحْسِنْ بِهِ۔ دونوں میں دونوں استعمال ہوتے ہیں یا ایک موقع پر ایک ہی استعمال ہوتا ہے؟ ایک ایک ہی استعمال ہوتا ہے، چاہے مَا أَحْسَنَهُ کہہ دیں، چاہے أَحْسِنْ بِهِ کہہ دیں۔ اور دونوں کس لیے ہیں؟ تعجب کے لیے، تعجب کو ظاہر کرنے کے لیے۔ یعنی اس کے ذریعے لوگ اپنے تعجب کو اس کا اظہار کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔
اور ایک تعجب کی خبر دینا ہے، تعجب کی خبر دی جائے اس میں سچا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، ایک آدمی کیا کہتا ہے؟ "میں زید کو دیکھ کر بڑا حیران ہوا"۔ دیکھو، اب اس نے اپنی حیرت کی خبر دی ہے، تو کوئی کہہ سکتا ہے: "یہ جھوٹ بول رہا ہے"۔ تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔
تو جملہ انشائیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ اور اس کی 10 قسمیں انہوں نے بیان کیں۔ پہلی قسم کیا؟ امر، کیا معنی؟ کسی کو کسی چیز کا حکم دینا۔ اور دوسری قسم؟ نہی، نہی کا کیا معنی؟ کسی کو کسی کام سے روکنا۔ تیسرا ہے استفہام، استفہام کا کیا معنی؟ کسی سے کسی کوئی بات پوچھنا، سوال کرنا۔ چوتھی قسم کیا ہے؟ تمنی، تمنی کا کیا معنی؟ خواہش کرنا، تمنا کرنا، آرزو کرنا۔ اور جیسے لَيْتَ زَيْدًا حَاضِرٌ۔
اور اگلی قسم کیا ہے؟ پانچویں قسم ہے ترجی۔ ترجی کا کیا معنی؟ امید کرنا، جیسے لَعَلَّ عَمْرًا غَائِبٌ۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ امید ہے کہ عمرو غائب ہوگا، یا شاید کہ عمرو غائب ہو۔ اگلی قسم کیا ہے؟ عقود۔ عقود کس کی جمع؟ عقد کی۔ اور عقد کا کیا معنی؟ معاملہ، دو افراد کے درمیان جو معاملہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد۔ جیسے خرید و فروخت ہے، جیسے نکاح ہے، جیسے کرائے پر کوئی چیز لینا ہے، یہ سارے عقد ہیں۔ اور یہ بھی کس کی قسم ہے؟ انشاء۔ عقد کی خبر اور چیز ہے، عقد کرنا اور چیز ہے۔ یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ عقد کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جب عقد کیا جا رہا ہے، تو عقد کو وجود دیا جا رہا ہے۔
اگلی قسم کیا ہے؟ نداء۔ نداء بھی کس کی قسم؟ انشاء۔ اس سے اگلی قسم عرض۔ عرض کا کیا معنی؟ درخواست کرنا۔ یعنی نرمی سے کسی کام کی ترغیب دینا کسی کو۔ جیسے أَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِيْبَ خَيْرًا۔ فَتُصِيْبَ، با پر زبر پڑھیں بھئی۔
اگلی قسم کیا ہے؟ قسم۔ جیسے وَاللهِ لَأَضْرِبَنَّ زَيْدًا۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا، ایک ہے قسم، ایک ہے جوابِ قسم۔ انشاء کیا ہے؟ قسم ہے۔ اور جوابِ قسم اس میں وہ الگ جملہ ہے، اس میں الگ غور کرنا پڑے گا۔ اسی طرح ایک ہے نداء، ایک ہے جوابِ نداء۔ نداء کیا ہے؟ انشاء۔ اور جوابِ نداء وہ الگ جملہ ہے، اس میں الگ غور کرنا پڑے گا۔
اور آخری قسم جو انہوں نے بتلائی انشاء کی، وہ تعجب ہے۔ یعنی کسی بات پر حیرت کا اظہار کرنا۔ اور اس کے کتنے صیغے؟ دو صیغے۔ کون کون سے؟ مَا أَحْسَنَهُ اور أَحْسِنْ بِهِ۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی؟ چلیے، بس بھئی۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔