Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحو مير · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فصل۔ بدان کہ جملہ خبریہ آن است کہ قائلش را بصدق و کذب صفت توان کرد۔ و آن بر دو نوع است۔ اول آن کہ جزو اولش اسم باشد و آن را جملہ اسمیہ گویند، چون زید عالم یعنی زید دانا است۔ جزو اولش مسند الیہ است و آن را مبتدا گویند۔ و جزو دوم مسند است و آن را خبر گویند۔ بھئی گزشتہ سبق میں لفظ مستعمل کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ لفظ مستعمل کا دوسرا نام لفظ موضوع ہے۔ لفظ مستعمل وہ لفظ جو استعمال کیا جاتا ہے کسی زبان میں۔ اور یہاں چونکہ عربی کے قوانین ہم پڑھیں گے تو عربی زبان میں جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے لفظ مستعمل۔ اور اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ لفظ موضوع۔ اور وضع یضع وضعا فہو واضع ووضع یوضع وضعا فذاک موضوع۔ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا اور موضوع کا معنی ہے جس کو مقرر کیا گیا ہو۔ تو ہر زبان میں لفظ کو کسی معنی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے یا کسی چیز کے لیے مقرر کیا جاتا ہے اس کو لفظ مستعمل اور لفظ موضوع کہتے ہیں۔ اور پھر یہ دو قسم پر ہے یا یہ مفرد ہوگا یا مرکب۔ مفرد وہ ہے کہ ایک لفظ ہو ایک معنی پر دلالت کرے اور اس کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔ اور اس کی تین قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف۔ اسم وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ اور فعل وہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اور حرف وہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہ کرے بھئی اس کے ساتھ کسی دوسرے کلمے کو جوڑیں گے تو پھر اس کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مرکب جو ہے، مرکب وہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ کلموں سے مل کر بنے۔ دو یا دو سے زیادہ کلموں سے مل کر بنے۔ اور پھر وہ دو قسم پر ہے: ایک مرکب مفید، ایک مرکب غیر مفید۔ مفید انہوں نے بتلایا وہ ہے کہ جب کہنے والا اس پر خاموش ہو تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو۔ کہ یہ کوئی خبر دے رہا ہے، کوئی بات بتلا رہا ہے یا کوئی طلب معلوم ہو کہ کوئی بات پوچھ رہا ہے، کوئی چیز طلب کر رہا ہے۔ کوئی چیز طلب کر رہا ہے۔ تو مرکب مفید وہ ہے، پھر سنیں، کہ کہنے والا اس پر خاموش ہو تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو جائے۔ اور میں نے بتلایا تھا آسان لفظوں میں یوں یاد رکھو کہ مرکب مفید وہ ہے کہ جس میں بات پوری ہو۔ سننے والا سمجھ جائے یا یہ مجھے کچھ بتلا رہا ہے یا مجھ سے کچھ طلب کر رہا ہے، یعنی اس میں بات پوری ہو، اس کو مرکب مفید کہتے ہیں۔ اور اسی مرکب مفید کا دوسرا نام جملہ بھی ہے اور نیز اسی کو کلام بھی کہتے ہیں۔ اور اسی سے آپ کو مرکب غیر مفید کا خود بخود پتہ چل گیا کہ وہ مرکب جس میں بات پوری نہ ہو، جس پر کہنے والا خاموش ہو تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔ اس کے بعد انہوں نے آخر میں آپ کو بتلایا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: خبریہ اور انشائیہ۔ اب اگلی فصل میں جملہ خبریہ اور انشائیہ کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ پہلے بات کو سمجھ لیں۔ کہ بھئی جملہ دو قسم پر ہے یا وہ جملہ خبریہ ہوگا یا انشائیہ ہوگا۔ جملہ خبریہ وہ ہے، یاد رکھو، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ جملہ خبریہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ مثلاً ایک شخص آپ سے آ کر کہتا ہے "زید عالم ہے"۔ دیکھو اس نے ایک بات آپ کو بتلائی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ، کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہے یا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ جملہ خبریہ ہے کیونکہ جملہ خبریہ کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ اگر کوئی جملہ ہے اور اس کے کہنے والے کو آپ سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے تو سمجھ جائیں وہ جملہ انشائیہ ہے۔ جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ ہاں شاباش، جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے کہ یہ سچ بول رہا ہے یا یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ مثلاً کوئی اور بات، شخص آتا ہے اور آپ سے کہتا ہے کہ "میرا گھر لاہور میں ہے"۔ میرا گھر کہاں پر ہے؟ لاہور میں۔ دیکھو اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ سننے والا کوئی کہہ سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہے یا وہ کہہ سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ کون سا جملہ ہے؟ جملہ خبریہ۔ جملہ خبریہ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی بات بتلائی جائے اور اس کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ بات بتلائے گا تو تبھی سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ اگر اس نے کوئی بات ہی نہیں بتلائی تو سچا یا جھوٹا کیسے کہہ سکتے ہو؟ مثلاً ایک ساتھی دوسرے سے کہتا ہے "کیا زید عالم ہے؟" کیا کہا اس نے؟ "کیا زید عالم ہے؟" آپ کا ایک ساتھی کہتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ کہے گا بھئی میں نے تو کوئی بات کی ہی نہیں، میں نے تو آپ سے سوال پوچھا ہے بھئی۔ اور سوال پوچھنے والے کو تو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ معلوم ہوا یہ سوال کیا ہے؟ جملہ انشائیہ ہے، اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ تو جملہ خبریہ وہ ہے کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ دیکھیے بھئی۔ فصل۔ یہ دوسری فصل آ گئی بھئی نحو میر کے اندر۔ بدان کہ، تو جان لے کہ جملہ خبریہ آن است، جملہ خبریہ وہ ہے، آن کا معنی ہے وہ، وہ۔ جملہ خبریہ آن است، جملہ خبریہ وہ ہے کہ قائلش را، قائل اسم فاعل کا صیغہ ہے، قال یقول قولا فہو قائل، کہنے والا، بولنے والا۔ اور فارسی میں جو ش آتا ہے، ش آتا ہے اس کے لیے، اس۔ قائلش، اس کا کہنے والا۔ قائلش، اس بات کا کہنے والا۔ کہ بدان کہ تو جان لے کہ جملہ خبریہ آن است کہ جملہ خبریہ وہ ہے کہ قائلش را کہ اس کے کہنے والے کو، را کا کیا معنی تھا؟ کو۔ کہ اس کے کہنے والے کو بصدق و کذب یا بصدق و کذب صفت توان کرد، اس کو صدق و کذب کے ساتھ صفت توان کرد، موصوف کیا جا سکے۔ صفت توان کرد، کیا جا سکے۔ یعنی موصوف، صفت توان کرد، موصوف کیا جا سکے، اس کا ترجمہ یوں کریں۔ یا یوں ترجمہ کر لیں، صفت توان کرد، اس کو متصف کیا جا سکے، اس کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ۔ پھر سنیں ترجمہ۔ بدان کہ جملہ خبریہ آن است، تو جان لے کہ جملہ خبریہ وہ ہے کہ قائلش را بصدق و کذب صفت توان کرد کہ اس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف کیا جا سکے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف کیا جا سکے۔ و آن بر دو نوع است، اور وہ دو قسم پر ہے۔ اول آن کہ جزو اولش اسم باشد، جزو اولش، اول آن کہ، پہلا وہ جو کہ جزو اولش، کیا ترجمہ کریں؟ ش ابھی میں نے بتایا، کس کے لیے آتا ہے؟ اس۔ جزو اولش، اس کا پہلا جزو اسم باشد، اسم ہو و آن را جملہ اسمیہ گویند، اور اس کو جملہ اسمیہ کہتے ہیں۔ اچھا بھئی، ابھی انہوں نے آپ کو بتلایا، جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ یعنی لفظی ترجمہ کیا تھا؟ کہ اس کے کہنے والے کو سچ یا جھوٹ کے ساتھ موصوف کیا جا سکے کہ یہ سچ بول رہا ہے یا یہ جھوٹ بول رہا ہے، یعنی یہ سچا ہے یا یہ جھوٹا ہے۔ پھر یاد رکھو کہ جملہ خبریہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ اور ایک جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ وہ ہے جس کا پہلا جزو اسم ہو اور جملہ فعلیہ وہ ہے جس کا پہلا جزو فعل ہو۔ توجہ ہے؟ جملہ اسمیہ، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، وہ جملہ جس کا پہلا جزو کیا ہو؟ اسم۔ اور جملہ فعلیہ جس کا پہلا جزو فعل ہو۔ اچھا، یاد رکھو جملہ اسمیہ جو ہے، جملہ اسمیہ، اس میں دو جزو ہوتے ہیں۔ پہلے جزو کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرے جزو کو خبر کہتے ہیں۔ جملہ اسمیہ کے کتنے جزو؟ دو جزو۔ پہلا جزو مبتدا، دوسرا جزو خبر۔ پہلے جزو کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو جو مبتدا ہوتا ہے وہ مسند الیہ ہوتا ہے۔ مسند الیہ، مسند الیہ، مسند الیہ ہوتا ہے اور جو خبر ہوتی ہے وہ مسند ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ جملہ اسمیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا پہلا جزو اسم ہو۔ اور جملہ فعلیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کا پہلا جزو فعل ہو۔ جملہ اسمیہ کے کتنے جزو ہوتے ہیں؟ دو جزو۔ پہلے جزو کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا۔ اور دوسرے جزو کو؟ خبر کہتے ہیں۔ اور مبتدا وہ کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ہے۔ اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مسند ہوتی ہے، مسند ہوتی ہے۔ مسند الیہ، مسند، اسناد، اس کو ذرا سمجھ لیں۔ میں نے آپ سے کہا عربی زبان میں مثلاً "زید عالم"، زيد عالم۔ "زید عالم ہے"۔ زید عالم، کیا ترجمہ؟ زید عالم ہے۔ تو پہلا جزو کیا؟ زید۔ اور زید اسم ہے یا فعل ہے؟ اسم ہے۔ تو یہ کون سا جملہ؟ جملہ اسمیہ۔ اور جملہ اسمیہ کے کتنے جزو؟ دو جزو ہوتے ہیں۔ پہلا جزو مبتدا اور دوسرا جزو خبر۔ تو "زید عالم"، زید یہ ہے مبتدا اور عالم یہ ہے خبر۔ اور مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ "زید عالم"، زید کیا ہے؟ مبتدا اور عالم کیا ہے؟ خبر۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، آسان لفظوں میں، مبتدا وہ ہے جس کے بارے میں کوئی بات کی جائے۔ میں نے کہا "زید عالم ہے"، کس کے بارے میں بات کی؟ زید، معلوم ہوا زید مبتدا ہے۔ اور جو بات کی جائے اس کو خبر کہتے ہیں۔ مبتدا کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہوتا ہے مبتدا، اور جو بات کی جائے وہ ہوتی ہے خبر۔ "زید عالم"، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، تو زید ہوا مبتدا۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ عالم ہے، تو عالم کیا ہے؟ خبر ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ طلباء کو عموماً مبتدا اور خبر کا پتہ نہیں چلتا بھئی۔ آپ کو میں نے آسان لفظوں میں بتلا دیا، مبتدا کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور خبر کسے کہتے ہیں؟ جو بات کی جائے۔ جو بات کی جائے وہ ہے خبر، اور جس کے بارے میں بات کی وہ ہے مبتدا۔ میں نے بکر طالب علم ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ بکر کے بارے میں۔ تو بکر ہوا مبتدا۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ طالب علم ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ خبر ہوئی۔ بَکْرٌ طَالِبٌ، بَکْرٌ طَالِبٌ۔ بکر کیا؟ مبتدا۔ طالبٌ کیا؟ خبر۔ خبر ہے۔ یہ جو مبتدا خبر ہوتے ہیں، دیکھو مبتدا کے بارے میں بات کی ہے اور جو بات کی ہے وہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ زَیْدٌ عَالِمٌ۔ کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں۔ اور کیا بات کی کہ وہ عالم ہے؟ عالم ہے۔ تو یاد رکھو، یہ جو خبر ہے نا خبر، یہ دیکھو نظر رکھو، یہ ہے زید مبتدا اور یہ اس کے ساتھ کیا ہے؟ خبر۔ یہ جو خبر ہے نا خبر، دیکھو مبتدا بھی ایک لفظ ہوتا ہے اور خبر بھی ایک لفظ ہوتا ہے۔ زیدٌ کیا ہے؟ لفظ ہے۔ لفظ ہے۔ مبتدا ہے لیکن کیا ہے؟ ایک لفظ ہے۔ اور عالمٌ کیا ہے؟ لفظ ہے۔ زیدٌ کیا ہے؟ لفظ ہے اور یہ کیا بن رہا ہے؟ مبتدا۔ اور عالمٌ کیا ہے؟ خبر ہے، یہ بھی ایک لفظ ہے۔ عالم، زیدٌ بھی ایک لفظ اور عالمٌ بھی ایک لفظ۔ اچھا، میں آپ کے سامنے سارا دن کہتا رہوں زید، زید، زید، کچھ پتہ چلا آپ کو بات کا؟ نہیں۔ میں سارا دن آپ کے سامنے کہتا رہوں عالم، عالم، عالم، کچھ بات کا پتہ چلا؟ نہیں، کیونکہ ایک لفظ ہے، ایک لفظ میں تو بات پوری نہیں ہوتی۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں جب جملہ بناتے ہیں، ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ یہ جو درمیان میں جوڑ آیا، یہ جو درمیان میں نسبت آ گئی، اس جوڑ اور نسبت کا نام ہے اسناد۔ توجہ ہے؟ دو لفظ تھے، ایک کیا تھا؟ زید۔ اکیلا زید بولوں کوئی بات سمجھ میں آئی؟ نہیں۔ اکیلا عالم بولوں کوئی بات سمجھ میں آئی؟ نہیں۔ لیکن جب میں نے کہا زَیْدٌ عَالِمٌ، دونوں کو جوڑ دیا، دونوں میں ربط دے دیا اور کہا زَیْدٌ عَالِمٌ، اب بات سمجھ میں آ گئی کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں کہ زید عالم ہے۔ تو دیکھو یہ جو مبتدا ہوتا ہے یہ بھی ایک لفظ ہوتا ہے، خبر بھی ایک لفظ ہوتی ہے، لیکن پھر ہم ان کو آپس میں جوڑتے ہیں، ان میں ربط دیتے ہیں۔ اس جوڑ اور اس ربط کا نام ہے اسناد۔ کیا نام ہے؟ دیکھو زید ایک لفظ تھا، میں عالمٌ دوسرے لفظ کو لے کر آیا اور اس عالم کی نسبت میں نے کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف کر دی کہ یہ عالم کون ہے؟ زید ہے۔ تو یہ جو ایک لفظ کی نسبت کی ہے دوسرے لفظ کی طرف، اس کو کہتے ہیں اسناد۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ جو ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ جوڑا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسناد۔ تو زَیْدٌ عَالِمٌ۔ یاد رکھو یہ جو دوسرا لفظ ہوتا ہے نا جو خبر ہوتی ہے خبر، اس کا اسناد ہوتا ہے کس کی طرف؟ مبتدا کی طرف۔ جو خبر ہوتی ہے اس کا اسناد ہوتا ہے مبتدا کی طرف۔ زَیْدٌ عَالِمٌ، میں نے کس کا اسناد کیا؟ دوسرا لفظ، دوسرا لفظ کیا ہے؟ عالم۔ میں نے عالم کا اسناد کیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ معلوم ہوا یہ عالم کون ہے؟ زید ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں، بکر یا خالد کی بات میں نہیں کر رہا بلکہ یہ عالم کون ہے؟ زید ہے، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔ تو عالم ایک لفظ تھا، اس لفظ کو لا کر میں نے زید کے لفظ کے ساتھ جوڑ دیا، اس کی طرف اس کی نسبت کر دی، اس کی طرف اس کا اسناد کر دیا۔ تو عام زبان میں کہیں گے میں نے عالم کے لفظ کو کس سے جوڑ دیا؟ زید سے۔ اور علمی انداز میں کیسے کہو گے کہ میں نے عالم کے لفظ کا زید کی طرف اسناد کر دیا۔ پھر دہرائو، عام زبان میں کیا کہیں گے؟ میں نے عالم کے لفظ کو زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ یا یوں کہو میں نے لفظ عالم کو لفظ زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ لیکن علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ میں نے عالم کے لفظ کا زید کی طرف اسناد کر دیا۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو، میں نے عالم کا حکم لگا دیا زید پر۔ میں نے عالم ہونے کا حکم لگا دیا زید پر۔ یہ علمی انداز ہے۔ آپ نے اس سے پریشان نہیں ہونا، کتابوں میں اسی طرح آئے گا کہ دیکھو لفظ عالم کا اسناد ہو رہا ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا آئے گا بھئی زید پر عالم ہونے کا حکم لگایا جا رہا ہے۔ تو آپ پریشان نہ ہوں، یہ اسناد کیا ہوتا ہے؟ یہ حکم کیا ہوتا ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اس لفظ کو اس لفظ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، اس لفظ کو اس لفظ کی طرف جوڑا جا رہا ہے اور نسبت کی جا رہی ہے۔ تو یہ اسناد اس نسبت کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ پھر دہرائو۔ زید بھی کیا ہے؟ ایک لفظ۔ عالمٌ بھی کیا ہے؟ ایک لفظ۔ جب دونوں الگ الگ ہیں تو بات پوری نہیں۔ اب میں آپ کو ایک بات پوری بتانا چاہتا ہوں تو میں دو لفظوں کو آپس میں جوڑوں گا۔ جو پہلا لفظ ہے، پہلا لفظ ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مبتدا۔ اور دوسرے کو کیا کہیں گے؟ خبر۔ اور مبتدا کا کیا نام ہے دوسرا؟ مسند الیہ۔ اور خبر کا کیا نام ہے؟ مسند۔ آسان لفظوں میں کیا کہیں کہ یہ جو دوسرا لفظ تھا یعنی عالمٌ، اس کو ہم نے کس کے ساتھ جوڑ دیا؟ مبتدا کے ساتھ، مبتدا یعنی پہلے لفظ کے ساتھ۔ نہیں، مشکل ہو گئی بات۔ مشکل ہو گئی۔ آسان ہے تو پھر میرے ساتھ جواب دیا کرو، مجھے پتہ چلے کہ آپ کو بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ دیکھو زید ایک علیحدہ لفظ تھا، عالمٌ ایک علیحدہ لفظ۔ آپ نے کیا کیا؟ عالم کے لفظ کو کس کے ساتھ جوڑ دیا؟ زید کے ساتھ۔ یا یوں کہیں آپ نے عالم کے لفظ کی نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا یوں کہو آپ نے عالم کے لفظ کا اسناد کر دیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا یوں کہیں گے آپ نے عالم کا حکم لگا دیا کس پر؟ زید پر۔ ان سب باتوں کا ایک ہی معنی ہے۔ ادھر دیکھیے اب۔ یہ ہے لفظ زید، یہ ہے لفظ عالم۔ اس عالم کے لفظ کی آپ نے نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ علمی انداز میں کہو، عالم کی آپ نے کیا کر دی؟ اسناد کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ تو جس کی اسناد کی وہ ہے مسند۔ اَسْنَدَ یُسْنِدُ اِسْنَاداً فَھُوَ مُسْنِدٌ وَاُسْنِدَ یُسْنَدُ اِسْنَاداً فَذَاکَ مُسْنَدٌ۔ اس میں مفعول ہے، اس کا اسناد کیا گیا ہے۔ اس میں مفعول آئیں گے نا، یہ دوسرے لفظ کا اسناد کیا گیا تو یہ ہے مسند۔ کیا ہے؟ مسند۔ اور کس کی طرف اسناد کیا؟ پہلے لفظ کی طرف۔ تو وہ ہے مسندٌ الیہِ۔ الیہِ کا کیا معنی؟ اس کی طرف۔ مسندٌ اسناد کیا گیا ہے الیہِ اس کی طرف۔ تو مسند الیہ کون ہوا؟ پہلا لفظ۔ اور مسند کون ہوا؟ دوسرا لفظ۔ پھر دہرائیں۔ زید اور عالم کیا ہیں؟ دو لفظ۔ ہم نے کیا کیا؟ دوسرے لفظ عالم کو زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ پہلے عام الفاظ میں بولو، جوڑ دیا۔ یا دوسرے لفظوں میں عالم کے لفظ کی زید کی طرف نسبت کر دی۔ علمی انداز میں کہو کہ آپ نے عالم کے لفظ کا اسناد کر دیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ جب اسناد کیا تو عالم خود کیا ہوا؟ مسند۔ اور زید کیا ہوا؟ مسندٌ الیہِ کہ اس کی طرف اسناد کیا گیا ہے۔ اور تیسرا کیا کہیں گے؟ کہ آپ نے عالم کا عالم ہونے کا زید پر حکم لگا دیا ہے۔ تو یہ جو اسناد ہے، یہ دو لفظوں کے درمیان جو جوڑ ہوتا ہے، جو ربط ہوتا ہے، جو نسبت ہوتی ہے، اس کو اسناد کہتے ہیں۔ دیکھو زید ایک الگ لفظ تھا، وہ اکیلا لفظ میں آپ کے سامنے دن میں دس دفعہ بھی کہوں زید، زید، زید، آپ کو بات نہیں سمجھ میں آئی۔ عالم ایک علیحدہ لفظ ہے، اس عالم کو میں بکر کے ساتھ بھی جوڑ سکتا ہوں، خالد کے ساتھ بھی، لیکن میں نے اس عالم کو کس کے ساتھ جوڑا؟ زید کے ساتھ۔ تو ہم کہیں گے عالم کے لفظ کو زید سے جوڑ دیا ہے۔ یا یوں کہیں گے عالم کے لفظ کی نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا یوں کہیں گے کہ عالم کا اسناد کر دیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یا یوں کہیں گے کہ عالم کا حکم لگا دیا کس پر؟ زید پر۔ تو زید کیا ہوا؟ مبتدا۔ اور عالم کیا ہوا؟ خبر۔ اور مبتدا کا دوسرا نام کیا؟ مسند الیہ۔ مسند الیہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کی طرف اسناد کیا گیا۔ اور دوسرے لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ مسند۔ اس کو مسند کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کا اسناد کیا گیا ہے، اس کی نسبت کی گئی ہے، اس کو جوڑا گیا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ پھر چلیں شروع سے ترجمہ دیکھ لیں۔ فصل: بِدَانْ کِہ جُمْلَۂ خَبَرِیَّہ آنَسْتْ، جان لے تو کہ جملہ خبریہ وہ ہے کِہ قَائِلَشْ رَا بَہ صِدْقْ و کِذْبْ صِفَتْ تَوَانْ کَرْدْ کہ اس کے کہنے والے کو سچ اور جھوٹ کے ساتھ موصوف کیا جا سکے۔ وَ آنْ بَر دُو نَوْعَسْتْ اور یہ جملہ خبریہ دو قسم پر ہے۔ اَوَّلْ آنْ کِہ جُزْءِ اَوَّلَشْ اِسْمْ بَاشَدْ، پہلی قسم وہ کہ اس کا پہلا جزو اسم ہو۔ وَ آنْ رَا جُمْلَۂ اِسْمِیَّہ گویند اور اس کو جملہ اسمیہ کہتے ہیں۔ چُوں زَیْدٌ عَالِمٌ، یَعْنِی زَیْدْ دَانَاسْتْ۔ کیا معنی داناست؟ زید جاننے والا ہے۔ دَانِسْتَنْ کا معنی ہوتا ہے فارسی میں جاننا، کسی چیز کو جاننا۔ تو اسی سے دانا، جاننے والا۔ یعنی زید داناست، زید جاننے والا ہے۔ جُزْءِ اَوَّلَشْ مُسْنَدٌ اِلَیْہِ اَسْتْ، اس کا پہلا جزو کیا ہے؟ مسند الیہ ہے۔ وَ آنْ رَا مُبْتَدَا گویند اور اس کو مبتدا کہتے ہیں۔ وَ جُزْءِ دُومْ مُسْنَدَسْتْ اور دوسرا جزو جو ہے وہ مسند ہے۔ وَ آنْ رَا خَبَرْ گویند اور اس کو خبر کہتے ہیں۔ دُووَمْ۔ دُووَمْ، اس کو دُووَمْ پڑھنا۔ دوم نہیں، دوم نہیں، دُووَمْ، واؤ مشدد ہے۔ دال پہ بھی پیش ہے اور واؤ مشدد پر بھی پیش۔ دُووَمْ معنی دوسرا، دوسرا۔ دُووَمْ آنْ کِہ جُزْءِ اَوَّلَشْ فِعْلْ بَاشَدْ، دوسرا وہ کہ جس کا پہلا جزو فعل۔ جملہ فعلیہ کی بات کرنے لگے ہیں نا؟ جملہ خبریہ کتنی قسم پر؟ دو۔ ایک کیا ہے؟ جملہ اسمیہ۔ اور ایک جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ کسے کہتے ہیں؟ پہلا جزو اسم ہو۔ اور جملہ فعلیہ پہلا جس کا پہلا جزو فعل ہو، وہی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں دُووَمْ آنْ کِہ جُزْءِ اَوَّلَشْ فِعْلْ بَاشَدْ، دوسرا وہ کہ جس کا پہلا جزو فعل ہو۔ وَ آنْ رَا جُمْلَۂ فِعْلِیَّہ گویند اور اس کو جملہ فعلیہ کہتے ہیں۔ چُوں ضَرَبَ زَیْدٌ۔ بِزَدْ زَیْدْ، زید نے مارا۔ یعنی زمانۂ گزشتہ میں۔ بِزَدْ زَیْدْ، زید نے مارا۔ جُزْءِ اَوَّلَشْ مُسْنَدَسْتْ۔ اس کا پہلا جزو جو ہے وہ کیا ہے؟ مسند ہے۔ بھئی دیکھو، جملہ اسمیہ میں دوسرا جزو مسند ہوتا ہے اور پہلا کیا ہوتا ہے؟ زَیْدٌ عَالِمٌ۔ کس کا اسناد کیا؟ عالم کا۔ اور کس کی طرف کیا؟ زید کی طرف۔ تو دوسرا جزو ہوا مسند اور پہلا ہوا مسند الیہ۔ لیکن فعل میں اس کے برعکس ہے۔ فعل میں جو پہلا جزو ہے یعنی ضَرَبَ، اس کا اسناد کیا، ضَرَبَ زَیْدٌ۔ اس ضَرَبَ کا اسناد کیا کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ تو ضَرَبَ ہوا مسند۔ اور دوسرا جزو وہ فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے تو وہ فاعل ہے اور اس کو مسند الیہ کہتے ہیں۔ جملہ فعلیہ میں پہلے جزو کو (یعنی اس فعل کو) کیا کہیں گے؟ مسند۔ اور جو آگے فاعل یا نائب فاعل آئے گا وہ مسند الیہ ہے۔ پھر دہرائو، جملہ فعلیہ میں پہلا جزو یعنی فعل جو ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مسند۔ اور دوسرے جزو کو وہ فاعل ہے وہ مسند الیہ ہے بھئی۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں جُزْءِ اَوَّلَشْ مُسْنَدَسْتْ، پہلا جزو اس کا مسند ہے۔ وَ آنْ رَا فِعْل گویند اور اس کو فعل کہتے ہیں۔ وَ جُزْءِ دُومْ مُسْنَدٌ اِلَیْہِ اَسْتْ اور دوسرا جزو مسند الیہ ہے۔ وَ آنْ رَا فَاعِل گویند اور اس کو فاعل کہتے ہیں۔ ضَرَبَ زَیْدٌ۔ ادھر دیکھیے۔ ضَرَبَ زَیْدٌ۔ زید نے مارا۔ میں نے ضرب کی، مارنے کی نسبت کی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ زید کی طرف۔ تو ضَرَبَ، یہ فعل کیا ہوا؟ مسند۔ اور ضَرَبَ کی نسبت کی اور کس کی طرف کی؟ زید کی طرف۔ تو زید کیا ہوا؟ مسند الیہ بھئی۔ وَ آنْ رَا فَاعِل گویند اور اس مسند الیہ کا کیا نام ہے جملہ فعلیہ میں؟ فاعل کہتے ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، ایک تھا جملہ اسمیہ، ایک ہے جملہ فعلی۔ جملہ اسمیہ کے اندر مسند الیہ کا نام کیا؟ مسندٌ الیہِ۔ اس کا نام کیا؟ جملہ جملہ اسمیہ میں مبتدا، مبتدا۔ اور جملہ فعلیہ میں جو مسند الیہ ہے اس کا نام کیا؟ فاعل، فاعل ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور جملہ اسمیہ میں مسند کا نام کیا؟ خبر۔ مسند کا نام کیا؟ خبر۔ مسند الیہ کا کیا نام؟ مبتدا۔ مبتدا، اور مسند کا کیا نام؟ خبر۔ اور جملہ فعلیہ میں مسند کا نام کیا؟ فعل، اور مسند الیہ کا نام؟ فاعل ہے۔ اور فاعل کے ساتھ کبھی اس کی جگہ نائب الفاعل بھی آ جاتا ہے۔ وہ آگے انشاءاللہ اس کی تفصیل آ جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی! و بدان کہ مسند حکم است و مسند الیہ آنچہ بر و حکم کنند۔ بھئی مسند جو ہے وہ حکم ہے اور مسند الیہ وہ ہے جس پر حکم کیا جائے، جس پر حکم لگایا جائے۔ ادھر دیکھیے! میں نے کہا: زیـد عالم۔ آسان لفظوں میں کیا کہیں گے؟ میں نے عالم کو زید کے ساتھ جوڑ دیا۔ یا یوں کہیں گے: میں نے عالم کی زید کی طرف نسبت کر دی۔ علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ میں نے عالم کی زید کی طرف اسناد کر دی یا میں نے عالم کا زید پر حکم لگا دیا۔ تو یعنی زید پر عالم کا حکم میں نے لگایا۔ زید پر عالم کا حکم لگایا۔ تو عالم کیا ہے؟ میں نے کہا: زید عالم۔ زید پر میں نے عالم کا حکم لگایا۔ کیا حکم لگایا؟ عالم، عالم ہونے کا۔ تو عالم ہوا حکم جو میں نے کس پر لگا دیا؟ زید پر لگا دیا۔ تو یہ جو دوسرا جز ہے خبر، یہ ہے وہ حکم جو زید یعنی پہلے جز یعنی زید پر لگایا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہی بیان کر رہے ہیں: و بدان کہ مسند حکم است۔ اور جان لے تو کہ مسند کیا ہے؟ حکم ہے۔ دوسرا جز جو ہے وہ کیا ہے؟ زید عالم۔ مسند کون؟ زید، عالم۔ جی، مسند کون؟ عالم۔ معلوم ہوا عالم یہ اس کا اسناد کیا گیا ہے کس کی طرف؟ زید۔ معلوم ہوا یہ ہے وہ حکم جو کس پر لگایا گیا؟ زید۔ تو اسی مسند کا نام کیا ہو گیا؟ حکم ہے۔ مسند کا ایک نام کیا؟ جو کس پر لگایا گیا؟ زید یعنی مسند الیہ پر۔ تو کہتے ہیں: و بدان کہ مسند حکم است۔ مسند جو ہے وہ و بدان کہ اور جان لے تو کہ مسند حکم است، مسند حکم ہے۔ و مسند الیہ آنچہ بر و حکم کنند، اور مسند الیہ وہ کہ اس پر حکم لگائیں۔ و اسم مسند و مسند الیہ تواند بود۔ بود پڑھنا اس کو، بود نہ پڑھنا۔ بود کا معنی ہے تھا، تھا۔ اور بود کا معنی ہے ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: و اسم مسند و مسند الیہ توا، یہاں سے ایک اور قیمتی بات آپ کو بتلا رہے ہیں۔ آپ کو ابھی بتلایا تھا کہ کلمہ کتنی قسم پر؟ تین: اسم، فعل اور حرف۔ یہی اسم، فعل اور حرف آپس میں جڑتے ہیں اور ان سے پورا کلام بنتا ہے۔ اور کلام کے لیے ایک مسند چاہیے اور ایک مسند الیہ۔ مسند چاہیے بھئی، کیا حکم لگانا چاہتے ہیں؟ اور مسند الیہ چاہیے، کس پر لگانا چاہتے ہیں؟ زید عالم، میں کیا حکم لگانا چاہتا ہوں؟ عالم ہونے کا۔ اور کس پہ لگانا چاہتا ہوں؟ زید پر۔ تو کلام جب بھی ہوگا اس میں ایک مسند ہوگا یعنی وہ حکم جو آپ دوسرے پر لگانا چاہتے ہیں۔ اور ایک ہوگا مسند الیہ جس پر آپ وہ حکم لگائیں گے۔ تو کلام کے لیے ہمیشہ کتنے اجزاء؟ دو۔ ایک کیا؟ ایک مسند اور دوسرا مسند الیہ چاہیے ہمیشہ، ہمیشہ بھئی۔ یا آسان لفظوں میں یوں کہو: کلام وہ ہے جس میں کسی کے بارے میں بات کی جائے۔ جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کون ہے؟ مسند الیہ۔ اور جو بات کی جائے وہ کیا ہے؟ پھر دہراؤ! کلام وہ ہے جس کے اندر کوئی ج، یوں کہو جملہ خبریہ وہ ہے جس میں کسی کے بارے میں کوئی بات کی جائے۔ جو بات کی جائے وہ کیا ہے؟ مسند۔ اور جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کیا ہے؟ مسند الیہ۔ تو جب بھی آپ کوئی بات کریں، ایک تو وہ ذات چاہیے جس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور ایک بات چاہیے۔ اسی بات کو حکم بھی کہتے ہیں۔ زید کے بارے میں میں نے کیا کہا؟ وہ عالم ہے۔ تو زید کون ہے؟ وہ ذات ہے جس کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ اور عالم، وہ عالم ہے، یہ میں بات کر رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آسان لفظوں میں مسند الیہ وہ ذات ہے جس کے، جس پر حکم، جس کے بارے میں بات کی جائے یا جس پر حکم لگایا جائے۔ اور مسند وہ جو بات کی جائے یا وہ جو حکم لگایا جائے بھئی۔ اچھا! یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ آپ نے پڑھا تھا کہ کلمہ تین قسم پر ہے: اسم، فعل اور حرف۔ توجہ ہے؟ اسم، فعل اور حرف۔ اور ابھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کلام کے لیے ہمیشہ کتنی چیزیں چاہئیں؟ دو: ایک مسند الیہ اور ایک مسند۔ مسند الیہ اور مسند یہ دونوں ہوں گے تو بات پوری ہوگی۔ یہ دونوں نہیں تو بات بھی پوری نہیں۔ تو یہ جو تین ہیں، کلمہ کی تین قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف، ان میں سے کون مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے اور کون نہیں بن سکتا، وہ تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ تو یاد رکھو! اسم کا درجہ سب سے اعلیٰ۔ اسم کا درجہ سب سے، یہ مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بھی بن سکتا ہے۔ یہ دہراؤ زبان سے! یہ مسند الیہ بھی بن سکتا ہے اور مسند بھی۔ اور فعل مسند تو بن سکتا ہے، مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ اور حرف وہ نہ مسند الیہ بن سکتا ہے اور نہ مسند۔ تو سب سے کم درجہ حرف کا ہے، وہ نہ مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ۔ اور سب سے اونچا درجہ کس کا؟ اسم کا۔ اسم کا ہے، وہ مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ اور فعل کا متوسط درجہ ہے، وہ مسند تو بن سکتا ہے اور مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ تفصیل پتہ چل گئی؟ اور کلام کے لیے تو ہمیشہ ہمیں کیا چاہیے؟ دو چیزیں۔ کون کون سی؟ مسند الیہ اور مسند۔ جی! اب مجھے بتاؤ: دو اسم ہوں تو ان سے پورا کلام حاصل ہو سکتا ہے؟ دو اسم ہوں۔ دو اسم ہوں، اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ دہراؤ زبان سے! اسم مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی بن سکتا ہے۔ اور کلام کے لیے کتنی چیزیں چاہئیں؟ دو چیزیں۔ یہی دو چیزیں تو چاہئیں۔ تو دو اسم لے آؤ، ایک کو مسند الیہ بنا دو، ایک کو کیا بنا دو؟ مسند بنا دو، کلام پورا ہو گیا۔ زید عالم، زید کیا ہے؟ اسم ہے، مسند الیہ ہے۔ عالم کیا ہے؟ اسم ہے اور مسند ہے۔ دیکھو! دو اسموں سے کلام پورا ہو رہا ہے: زید عالم، زید عالم ہے۔ اور فعل، وہ صرف مسند بنتا ہے، مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ مسند الیہ صرف اسم بنتا ہے۔ لہٰذا فعل کے ساتھ ایک اسم لے آؤ پھر تو کلام بنے گا۔ دو فعل مل جائیں تو پھر کلام پورا نہیں۔ کیونکہ کلام کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ لہٰذا فعل کے ساتھ ایک اسم لے آؤ: ضرب زید۔ ضرب کیا ہے؟ فعل، تو یہ کیا بن جائے گا؟ مسند۔ اور زید کیا ہے؟ اسم، یہ کیا بنے گا؟ مسند الیہ۔ تو کلام پورا ہو جائے گا۔ تو دو اسم ہوں تو مسند، مسند الیہ دونوں مل گئے، لہٰذا کلام پورا ہو سکتا ہے۔ ایک فعل اور ایک اسم ہو تو بھی ایک مسند بن ج، فعل مسند بن جائے گا اور اسم مسند الیہ، تو بھی کلام پورا ہو سکتا ہے۔ باقی صورتوں میں کلام پورا نہیں۔ اگر دو فعل ہوں، پھر بھی کلام پورا نہیں کیونکہ دونوں مسند تو بن سکتے ہیں، مسند الیہ نہیں۔ دو حرف ہوں، تو بھی کلام پورا نہیں کیونکہ یہ تو نہ تو مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو اسم کیا ہے؟ مسند بھی بن سکتا ہے اور مسند الیہ بھی۔ اور فعل صرف مسند۔ اور حرف نہ مسند اور نہ مسند الیہ بھئی۔ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: و اسم مسند و مسند الیہ تواند بود۔ اور اسم جو ہے مسند اور مسند الیہ ہو سکتا ہے۔ و فعل مسند باشد و مسند الیہ نہ تواند بود۔ اور فعل مسند تو ہو سکتا ہے اور مسند الیہ نہیں ہو سکتا۔ و حرف نہ مسند باشد و نہ مسند الیہ۔ اور حرف نہ مسند ہو سکتا ہے اور نہ مسند الیہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی، بس کریں۔ خلاصہ پھر سن لو! آج آپ نے جملہ خبریہ کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جملہ خبریہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور پھر یہ جملہ خبریہ دو قسم پر ہے: یا یہ جملہ اسمیہ ہوگا یا جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ وہ ہے جس کا پہلا جز اسم ہو۔ اور جملہ فعلیہ وہ ہے جس کا پہلا جز فعل ہو۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جملہ اسمیہ کے اندر پہلے جز کو مبتدا کہتے ہیں اور وہ مسند الیہ ہے۔ اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں اور وہ مسند ہوتی ہے۔ اور جملہ فعلیہ کے اندر پہلے جز کو مسند کہتے ہیں اور وہ فعل ہے۔ اور دوسرے جز کو مسند الیہ کہتے ہیں اور وہ فاعل ہے، فاعل یا نائب الفاعل۔ اور میں نے آپ کو تفصیل بیان کر دی۔ جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ۔ اور جو بات کی جائے وہ کیا ہوتی ہے؟ مسند۔ یا یوں کہو جملہ اسمیہ میں، جملہ اسمیہ میں جس کے بارے میں بات کی جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ مبتدا۔ اور جو بات کی جائے وہ کیا ہوتی ہے؟ خبر۔ میں نے کہا: بکر طالب علم ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ بکر، معلوم ہوا بکر مبتدا ہے۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ طالب علم ہے۔ تو یہ معلوم ہوا یہ طالب علم کیا ہے؟ بكر طالب، تو یہ طالب خبر ہے بھئی۔ اور جملہ فعلیہ کے اندر، جملہ فعلیہ کے اندر فعل مسند ہوگا اور آگے جو فاعل ہے وہ کیا ہوگا؟ مسند الیہ۔ میں نے بتلایا تھا اسناد کسے کہتے ہیں؟ اسناد کسے کہتے ہیں کہ آپ دو لفظوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ زید اکیلا لفظ تھا، میں سارا دن زید کہتا رہوں، آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں۔ اور میں عالم اکیلا لفظ ہے، میں سارا دن صرف عالم عالم کہتا رہوں، آپ کہیں گے بھئی بات ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہی، بات پوری کریں۔ پھر میں دونوں کو جوڑتا ہوں: زید عالم۔ تو یہ جو دو لفظوں کو میں نے جوڑا، اس جوڑ کو، اس ربط کو، اس تعلق کو، اس نسبت کو اسناد کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اسناد۔ یہ جو دوسرے لفظ کی اسناد نسبت کر دی آپ نے پہلے لفظ کی طرف: زید عالم۔ عالم کی نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ اور اس، اسی کا نام کیا ہے؟ اسناد۔ اور اسی کو کیا کہیں گے؟ حکم بھی کہیں گے کہ زید پر عالم ہونے کا حکم، تو یہ حکم لگایا ہے۔ تو پہلے جز کو کہیں گے مسند الیہ اور دوسرا جس کا حکم لگایا وہ کیا ہے؟ مسند ہے بھئی۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسم مسند اور مسند الیہ دونوں واقع ہو سکتا ہے۔ فعل مسند تو بن سکتا ہے لیکن مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ اور حرف نہ مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ بن سکتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو پریشان آپ نے نہیں ہونا۔ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو، کل پھر انشاءاللہ اس سبق کو دوبارہ اچھی طرح کر لیں گے۔ اور خوب اچھی طرح آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ چلیے بس بھئی! ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
56 approved lectures · 4 of 56