فصل۔ بدانکہ جملہ خبریہ آنست کہ قائلش را بصدق و کذب صفت توان کرد۔ و آن بر دو نوع است۔ اول آنکہ جزء اولش اسم باشد و آنرا جملہ اسمیہ گویند، چون زید عالم، یعنی زید دانا است۔ جزء اولش مسند الیہ است و آنرا مبتدا گویند، و جزء دوم مسند است و آنرا خبر گویند۔
تو آج ہم گزشتہ سبق کو دوبارہ کر لیں گے، اس کا خلاصہ بھی آ جائے گا، اس کی ساری تفصیل بھی آ جائے گی، اور اس میں انشاءاللہ بہت سی نئی چیزیں بھی آ جائیں گی۔ مزید کئی نئی باتیں بھی اس میں آ جائیں گی۔
تو گزشتہ سبق میں ہم نے پہلی فصل شروع کی تھی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ ہمارے بزرگوں کا، ہمارے اساتذہ کا طریقہ ہے کہ وہ کتاب کے اندر مختلف مسائل کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان کو ایک ایک باب یا ایک ایک فصل کے اندر جمع کر دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جیسے مسائل ایک جگہ اکٹھے طالب علم کو مل جاتے ہیں۔ اور نیز عبارت کے حصے بن جاتے ہیں تو طالب علم کو یاد کرنے میں بھی سہولت ہو جاتی ہے، آسانی ہو جاتی ہے۔
تو گزشتہ سبق میں پہلی فصل ہم نے شروع کی تھی نحو میر کی۔ اور اس میں انہوں نے لفظ مستعمل کے بارے میں مصنف نے آپ کو بتلایا تھا، لفظ مستعمل۔ اور آپ کو بتلایا تھا کہ عربی زبان میں لفظ مستعمل جو ہے وہ دو قسم پر ہے، مفرد اور مرکب۔
تو پہلی فصل کس کے بارے میں ہے؟ لفظ مستعمل کے بارے میں۔ اس کی مزید تفصیل یاد رکھیں، لفظ مستعمل جو ہے وہ لفظ جو عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر زبان کے اپنے اپنے الفاظ ہیں جو اس زبان والے بولتے ہیں، تو وہ اس زبان کے مستعمل الفاظ ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ہم کس کے بارے میں پڑھیں گے؟ عربی زبان کے بارے میں۔ مصنف، یہ کتاب ہے تو فارسی میں لیکن کس زبان کے اصول بیان کریں گے؟ عربی زبان۔ کہ عربی زبان کے کو پڑھنا کیسے ہے، اس کے مختلف اصول اور ضابطے ذکر کریں گے، کیونکہ یہ علم نحو میں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔
تو یاد رکھیے لفظ مستعمل کا دوسرا نام لفظ موضوع بھی ہے بھئی۔ لفظ مستعمل کا دوسرا نام کیا ہے؟ لفظ موضوع۔ میم، واؤ، ضاد، واؤ اور عین، موضوع۔ موضوع اسم مفعول ہے وضع یضع سے۔ وضع یضع وضعاً۔ اور وضع یضع وضعاً کا معنی ہے مقرر کرنا، متعین کرنا۔ تو ہر زبان والوں نے مختلف چیزوں کے لیے، مختلف معانی کے لیے خاص الفاظ مقرر کیے ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ ہر زبان والوں نے مختلف چیزوں کے لیے مختلف نام مقرر کیے ہوتے ہیں، یعنی مختلف الفاظ وضع کیے ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ آسان لفظوں میں کیا کہیں؟ مختلف معانی اور مختلف چیزوں کے لیے انہوں نے مختلف الفاظ مقرر کیے ہوتے ہیں۔ اور علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ مختلف الفاظ وضع کیے ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا، مقرر کرنا۔
مثلاً دیکھو، میں نے کہا گلاس، فوراً پانی پینے والے ایک برتن کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ کیونکہ ہم نے اس برتن کے لیے گلاس کا لفظ مقرر کیا ہے۔ جیسے گلاس بولیں، ذہن میں فوراً کیا آتا ہے؟ وہ پانی پینے والا برتن۔ یا جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کے ماں باپ نے اس کا نام زید رکھا، وہ آپ کا ساتھی ہے، آپ اسے اچھی طرح جانتے ہیں، جیسے ہی میں نے کہا زید، فوراً اس ساتھی کی صورت جو ہے وہ آپ کے ذہن میں آ جاتی ہے، کیونکہ یہ نام اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ میں نے جیسے ہی کہا دیوار، دیکھو فوراً ایک چیز آپ کے ذہن میں آ گئی جس کے لیے ہم نے یہ لفظ مقرر کیا ہے۔ میں نے جیسے ہی کہا چھت، فوراً ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی جس کے لیے ہم نے یہ لفظ مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا بہادری، دیکھو فوراً آپ کے ذہن میں ایک معنی آ گیا جس کے لیے ہم نے یہ لفظ مقرر کیا ہے۔ کتاب، قلم، پہاڑ، درخت، مدرسہ، مسجد، بازار، دیکھو جو جو میں لفظ بولتا جا رہا ہوں، اس کا معنی فوراً آپ کے ذہن میں آتا جا رہا ہے۔ سمجھ رہے ہیں یا نہیں ایک ایک لفظ؟ میں نے جتنے لفظ بولے، آپ کو ان کا معنی سمجھ میں آیا یا نہیں آیا؟ ہر لفظ کا معنی سمجھ میں آیا۔
کیوں؟ کیونکہ ہم نے ان معانی یا ان چیزوں کے لیے یہ الفاظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی یہ لفظ بولیں، فوراً وہ چیز اس کی صورت ہمارے ذہن میں آ جاتی ہے۔ تو ہر زبان کے اندر اسی طرح ہے۔ دیکھو یہ جو لفظ میں نے ابھی آپ کے سامنے بولے، اگر یہی الفاظ میں کسی عرب کے سامنے بولوں گا اس کو سمجھ نہیں آئے گی۔ کیونکہ انہوں نے انہی چیزوں کے لیے اور نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔ وہ گلاس نہیں کہیں گے، وہ کاس کہیں گے، کاس۔ اسی طرح وہ دیوار نہیں کہیں گے، وہ جدار کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو انہوں نے ہر چیز کے اپنے اپنے نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انگریز کے سامنے یہ الفاظ بولیں تو اس کو ان کے معانی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ کوئی ہو سکتا ہے ایک آدھ لفظ مشترک ہو، لیکن اکثر الفاظ کے معانی اس کو سمجھ میں ہی نہیں آئیں گے، کیونکہ انہوں نے انہی چیزوں کے لیے الگ الگ اپنے نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو کسی زبان والوں نے جو الفاظ مختلف معانی یا مختلف چیزوں کے لیے مقرر کیے ہوتے ہیں، اس کو کہتے ہیں لفظ موضوع۔ کیا کہتے ہیں؟ لفظ موضوع۔ تو لفظ مستعمل کا دوسرا نام کیا ہے؟ لفظ موضوع۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، لفظ موضوع وہ لفظ ہے جس کا کچھ نہ کچھ معنی ہو۔ اس زبان کے اندر اس کا، عربی زبان کا آپ جو بھی لفظ بولیں گے، جب وہ عربی زبان کا ہے، معلوم ہوا انہوں نے کسی چیز کے لیے اس کو مقرر کیا ہوا ہے، وضع کیا ہوا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ لفظ موضوع۔ تو آسان لفظوں میں یوں کہو، لفظ موضوع جو ہے وہ بامعنی لفظ کو کہتے ہیں، جس کا کوئی معنی ہو۔ اور اگر لفظ کا کوئی معنی نہ ہو تو اس کو مہمل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مہمل، جس لفظ کا کوئی معنی نہ ہو۔
آپ بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح بھئی۔ آپ کا ساتھی آیا دور سے، آپ نے اس سے کہا بھئی روٹی شوٹی کھائیں گے؟ اب روٹی تو ایک چیز کا نام ہے، لیکن ساتھ ہی یہ جو شوٹی کا لفظ آپ نے ملایا، دیکھو اس کا کوئی معنی نہیں۔ تو روٹی کون سا لفظ ہوا؟ موضوع، جس کا کوئی معنی ہے۔ اور شوٹی کیسا لفظ ہوا؟ مہمل، جس کا کوئی معنی نہیں۔ یا آپ کا ساتھی آیا گرمی ہے، آپ نے اس سے کہا آپ پانی وانی پیئیں گے؟ تو دیکھو پانی، یہ کیا ہے؟ لفظ موضوع۔ اور وانی، یہ کیا ہے؟ لفظ مہمل جو آپ نے اس کے ساتھ ویسے ہی ملا دیا جس کا کوئی معنی نہیں۔
تو لفظ موضوع اور لفظ مستعمل کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی معنی ہو۔ آسان لفظوں میں با معنی لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ لفظ موضوع۔ دوسرا نام کیا ہے؟ لفظ مستعمل۔ اور وہ لفظ جس کا کوئی معنی نہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہمل کہتے ہیں۔ تو اس پہلی فصل میں وہ لفظ موضوع کی قسمیں بیان کر رہے ہیں۔ اور پھر میں نے بتایا یہ ہر زبان میں اسی طرح ہے۔ ہر زبان والوں نے اسی طرح چیزوں کے نام مقرر کیے ہوتے ہیں، وہ ساری زبان انہی چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
دیکھو اب جب میں آپ کے سامنے تقریر کر رہا ہوں، یہ کس زبان میں کر رہا ہوں؟ اردو زبان میں۔ میں جو جو لفظ بولتا جا رہا ہوں، آپ سمجھتے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ لفظ کس معنی کے لیے ہے، یہ لفظ کس معنی، ہر ہر لفظ کا معنی آپ کو پتہ ہے۔ انگریز کے سامنے اگر یہی تقریر کی جائے، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، کیونکہ انہوں نے انہی چیزوں کے لیے اپنے اپنے نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔ عرب کے سامنے یہی تقریر کروں، اس کو بھی سمجھ میں نہیں آئے گی، کیونکہ انہوں نے انہی چیزوں کے لیے اپنے نام مقرر کیے ہوئے ہیں۔
تو یہ جو لفظ موضوع ہے، یہاں ہم کس زبان کے لفظ موضوع کے بارے میں بحث کریں گے؟ عربی زبان، کیونکہ علم نحو کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اور علم نحو کس زبان سے متعلق ہے؟ عربی زبان سے۔ تو یہ معنی دیکھیے بھئی۔ فصل۔ بدانکہ لفظ مستعمل در سخن عرب بر دو قسم است، جان لے تو کہ وہ لفظ جو استعمال ہوتا ہے عربی زبان میں وہ دو قسم پر ہے، مفرد و مرکب۔ ایک مفرد ہے اور ایک مرکب۔ آگے دیکھیے، مفرد لفظے باشد تنہا کہ دلالت کند بر یک معنی۔
ایک اور بات یاد رکھنا، لفظ جو ہے نا لفظ، لفظ، یہ اسم جنس ہے۔ یعنی ایک لفظ ہو، اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، سو لفظ ہوں تو اس کو بھی لفظ کہتے ہیں۔ ایک لفظ ہو تو اس کو بھی لفظ، زیادہ ہوں تو ان کو بھی لفظ۔ جیسے انسان، ایک ہو تو بھی کہتے ہیں یہ انسان ہے، ہزار انسان کھڑے ہوں تو بھی کہتے ہیں یہ انسان ہیں۔ دیکھو وہی لفظ، انسان، ایک پر بھی آپ بول رہے ہیں اور ہزار پر بھی بول رہے ہیں۔ بعض اوقات تو آپ جمع لاتے ہیں نا، جیسے کتاب، اس کی جمع کیا ہے؟ کتابیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ عربی انداز میں، عربی میں کتب، کتب۔ قلم کی جمع، اقلام۔ وہ مفرد کے لیے الگ لفظ ہے، جمع کے لیے الگ۔ لیکن بعض لفظ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی لفظ مفرد پر بھی وہی بولا جاتا ہے اور جمع کے لیے بھی وہی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم جنس۔ تو لفظ کیا ہے؟ اسم جنس ہے۔ یہ ایک لفظ ہو، اس کو بھی لفظ کہتے ہیں، اور سو لفظ ہوں، ان کو بھی لفظ کہتے ہیں۔ جمع بھی استعمال ہوتی ہے، الفاظ۔ اور یہی لفظ مفرد بھی سب پر بولا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
لفظ کی جمع کیا ہے؟ الفاظ۔ تو الفاظ بھی استعمال کر لیتے ہیں جمع کے لیے، اور صرف لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں جمع کے لیے۔
تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مفرد لفظے باشد تنہا کہ دلالت کند بر یک معنی۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا پہلی فصل میں لفظ مستعمل کی تقسیم کی تھی، اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عربی زبان میں لفظ مستعمل جو ہے وہ دو قسم پر ہے، مفرد اور مرکب۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مفرد وہ اکیلا لفظ ہے۔ مفرد وہ اکیلا، تنہا کا کیا معنی تھا؟ اکیلا۔ مفرد لفظے باشد تنہا، مفرد وہ اکیلا لفظ ہے کہ جو دلالت کرتا ہے ایک معنی پر۔ توجہ ہے؟ مفرد کس کی قسم؟ لفظ مستعمل اور لفظ موضوع کی۔ معلوم ہوا چاہے مفرد ہو، چاہے مرکب، ان کے کچھ نہ کچھ معنی ہوگا۔ لیکن مفرد ایک لفظ ہوگا اور ایک ہی معنی پر دلالت کرے گا۔ اور مرکب، وہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ ہوں گے اور دو یا دو سے زیادہ معانی پر وہ دلالت کریں گے۔
اور پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ جو مفرد ہے اس کو کلمہ بھی کہتے ہیں، کاف، لام، میم اور گول ہاء، کَلِمَةٌ، کَلِمَةٌ، لام کے نیچے زیر پڑھنی ہے، میں نے بتلایا تھا۔ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ ہو جس کا ایک ہی معنی ہو۔ توجہ ہے؟ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ یوں کہو، آسان لفظوں میں با معنی لفظ کو کلمہ کہتے ہیں۔ کس کو؟ با معنی لفظ کو کلمہ کہتے ہیں، جس کا کوئی معنی ہو، اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ تو مفرد اور کلمہ ایک ہی چیز ہے۔
اس کے بعد کلمہ کے بارے میں تفصیل بیان کی تھی کہ کلمہ جو ہے اس کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف۔
اسم کے بارے میں بتلایا تھا کہ اسم وہ کلمہ ہے—کلمہ کسے کہتے ہیں؟ آسان، ہاں، با معنی لفظ، یہ یاد رکھو۔ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ، جس کا کوئی معنی ہو—تو کلمہ کے بارے میں بتلایا تھا اس کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے۔ جیسے ہی وہ لفظ بولیں اس کا معنی آپ کو سمجھ میں آ جائے۔ خود بخود دلالت کرنے کا کیا معنی؟ معنی یہ کہ کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں۔ بعض اوقات ایسے لفظ آئیں گے کہ وہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتے جب تک ساتھ دوسرا لفظ نہ ملائیں، جیسے کہ حرف ہے۔
جیسے کیا ہے؟ حرف۔ حرف کا بھی معنی ہوتا ہے، کیونکہ حرف کس کی قسم ہے؟ کلمہ کی۔ اور کلمہ کس کو کہتے ہیں؟ با معنی لفظ کو۔ معلوم ہوا حرف بھی کیا ہوتا ہے؟ با معنی ہوتا ہے۔ لیکن وہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا۔ وہ معنی سمجھ میں نہیں آتے جب تک اس کے ساتھ اور کلمے کو نہ جوڑیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اسم کی بات چل رہی تھی۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرے۔ خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرنے کا کیا معنی؟ ہاں، دوسرے کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف وہ اکیلا کلمہ بولیں، فوراً دوسرے کو اس کا معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ جیسے ابھی میں نے مثالیں ذکر کیں: گلاس، کتاب، قلم، دیوار، پہاڑ، آبشار، بادل، بارش، درخت، پھل۔ دیکھو، جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ہوں، آپ معنی سمجھتے جا رہے ہیں۔ کسی اور کلمے کو ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ تو یہ ہے اسم۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ—کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ—اچھا، تو اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے۔ دیکھو، اسم ہے تو کلمہ، معنی تو اس کا کچھ نہ کچھ ہوگا، کیونکہ یہ کلمہ ہے اور کلمہ کہتے ہی کس کو ہیں، با معنی لفظ کو۔ لیکن یہ اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے، کسی دوسرے کلمے کو اس کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ یہ خود بخود اس پر دلالت کرے گا۔
اور نیز تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا، یعنی ماضی، حال اور مستقبل۔
جبکہ فعل، فعل وہ کلمہ ہے جو خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، یعنی کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں۔ البتہ تین زمانوں میں سے ایک زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوگا۔ توجہ ہے؟ تین زمانوں میں سے ایک زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوگا۔ تو فعل کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا ہوتا ہے، جیسے ضَرَبَ۔ ضَرَبَ، ضَرَبَ کا کیا معنی؟ مارا اس ایک مرد نے زمانۂ ماضی میں۔ دیکھو، ایک زمانہ ساتھ ملا ہوا ہے۔
یَضْرِبُ، اس کا کیا معنی ہوگا؟ مارتا ہے یا مارے گا وہ ایک مرد زمانۂ حال یا استقبال میں۔ دیکھو، زمانہ ساتھ ملا ہوا ہے۔ یاد رکھنا، فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے اور زمانہ الگ ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جیسے ضَرَبَ، یہ ضَرْبٌ مصدر سے ہے اور ضَرْبٌ کا کیا معنی؟ پٹائی کرنا، مارنا۔ دیکھو، یہ اس کا معنی الگ ہے اور اب جب میں نے اس کی ایک خاص صورت بنائی، ضَرَبَ، وہ اس ضَرْبٌ سے کیا بنایا میں نے؟ ضَرَبَ۔ دیکھو، اب خاص صورت بن گئی تو ایک خاص زمانہ ساتھ آ گیا اور وہ کیا، ماضی کا۔ وہی ضرب ہے، لیکن اب کس زمانے میں ہے؟ زمانۂ ماضی میں۔
اور یَضْرِبُ، یہ بھی اسی ضرب سے بنا ہے۔ اس میں بھی وہ ضرب والا معنی ہے، پٹائی کرنا۔ لیکن یہاں کس زمانے میں ہے؟ حال یا استقبال۔ اِضْرِبْ، دیکھو امر کا صیغہ آ گیا۔ یہ بھی اسی ضرب سے بنا ہے، لیکن اس کے ساتھ کون سا زمانہ آ گیا؟ مستقبل ہے کہ آپ اس سے ضرب طلب کر رہے ہیں کسی سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں نے کہا نا، ایک طالب علم کھڑا تھا، میں نے اس سے کیا کہا: اِضْرِبْ زَیْدًا۔ کیا کرو؟ زید کی پٹائی کرو۔ ابھی وہ پٹائی کر رہا ہے؟ نہیں، لیکن میں اس سے کیا طلب کر رہا ہوں؟ زید کی پٹائی کرو۔ معلوم ہوا اب وہ پٹائی کس زمانے میں کرے گا؟ مستقبل میں کرے گا جو ابھی نہیں ہے۔ جیسے ہی میں نے کہا اس کے فوراً بعد بھی چاہے پٹائی کرے، یہ کون سا زمانہ آ گیا؟ مستقبل۔ جب میں نے کہا تھا اس وقت پٹائی نہیں تھی، اس کے بعد میں اور اس نے شروع کی، تو یہ مستقبل میں آ گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے اور زمانہ اس کے ساتھ الگ جڑا ہوتا ہے۔
چنانچہ اگر آپ پر کوئی اعتراض کرے کہ آپ نے کیا کہا، اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ جڑا ہوا نہ ہو۔ ماضی، یہ ایک اسم ہے۔ ماضی کیا ہے؟ اسم، ماضی خود اسم، فعل تو نہیں ہے نا، ماضی؟ زمانے کا نام ہے، تو ماضی ایک اسم ہے۔ تو اعتراض کرنے والا کہے گا، دیکھو، ماضی اسم ہے اور آپ نے کیا کہا تھا، اسم کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ جڑا ہوا؟ اس ماضی کے ساتھ کون سا زمانہ جڑا ہوا ہے؟ گزشتہ زمانہ، کیونکہ ماضی کا کیا ترجمہ ہے؟ ماضی کا کیا ترجمہ ہے؟ گزشتہ زمانہ، گزرا ہوا زمانہ۔ دیکھو، ایک اسم ہے اور اس میں کون سا زمانہ آ گیا؟ گزرا ہوا زمانہ۔
یا وہ کہتا ہے، مستقبل، مستقبل اسم ہے۔ مستقبل کیا ہے؟ اور اس میں کون سا زمانہ ہے؟ آنے والا، آنے والا۔ اور حال، حال کیا ہے؟ اسم ہے اور اس میں کون سا زمانہ ہے؟ موجودہ۔ تو آپ نے تو کہا تھا اسم وہ ہوتا ہے جس میں تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ساتھ جڑا ہوا نہیں ہوتا۔ ہم نے دکھا دیا کہ اس میں ماضی بھی کبھی آ جاتا ہے، کبھی حال بھی اور کبھی مستقبل بھی۔ تو آپ فوراً جواب میں کہیں، بھئی، ہم نے کہا تھا، ہم نے بتلایا تھا، فعل کے ساتھ زمانہ ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ لیکن زمانہ الگ جڑا ہوتا ہے اور فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کا اعتراض تب صحیح ہوتا اگر آپ ہمیں کوئی ایسا اسم دکھائیں جس کا اپنا معنی الگ ہو اور زمانہ اس کے ساتھ الگ جڑا ہو۔ حالانکہ یہ جو ماضی آپ نے ذکر کیا، یہ تو عین اس گزشتہ زمانے کا نام ہے۔ اس کا اپنا الگ کوئی معنی نہیں۔ تو ماضی کا اپنا معنی الگ ہوتا اور اس کے ساتھ زمانۂ گزشتہ جڑا ہوتا، پھر آپ کا اعتراض بنتا تھا۔ لیکن یہ تو کیا ہے؟ عین اس پچھلے زمانے کا نام ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
حال کس کا نام ہے؟ موجودہ زمانے کا۔ آپ کا اعتراض تب صحیح ہوتا، حال کا اپنا معنی کچھ اور ہوتا اور ساتھ اس کے حال والا زمانہ جڑا ہوتا۔ مستقبل، مستقبل کا کیا معنی ہے؟ آئندہ زمانہ۔ آپ کا اعتراض تب صحیح ہوتا اگر مستقبل کا اپنا معنی کچھ اور ہوتا اور ساتھ اس کے آئندہ والا زمانہ جڑا ہوا ہوتا۔ تو پھر آپ کہتے کہ دیکھو، اسم کے ساتھ زمانہ جڑا ہوا ہے۔ نہیں، یہ تو خود زمانوں کے نام ہیں۔ یہ خود کیا ہیں؟ یہ تو خود، ماضی تو خود زمانے کا ایک نام ہے۔ حال تو خود ایک زمانے کا نام ہے یا ایک نسبت کا نام ہے، اور مستقبل کیا ہے؟ وہ خود ایک زمانے کا نام ہے۔ جبکہ فعل میں زمانہ جب جڑا ہوتا ہے، فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے اور زمانہ الگ۔ جیسے ضَرَبَ کا اپنا معنی کیا ہے؟ پٹائی کرنا، ضرب سے بنا ہے۔ لیکن ضاد، را، با، تینوں پر زبر پڑھی تو اس کا معنی کیا ہوا؟ کہ یہ پٹائی کس زمانے میں ہے؟ دیکھا، گزشتہ زمانہ الگ آ گیا۔ وہ اس کی، اس کی حرکات، دیکھو، ضاد، را، با، تینوں پر زبر ہے تو ماضی والا زمانہ آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے۔ اسی کے ذرا حرکتیں بدل دو، یَضْرِبُ، دیکھو، صرف صورت بدلی ہے آپ نے۔ ضاد، را، با تو اسی طرح اس کے اندر موجود ہے، لیکن اب زمانہ بدل گیا، حال یا استقبال والا۔ اِضْرِبْ، دیکھو، وہی ضرب ہے، لیکن صرف صورت بدل گئی تو آپ نے کہا اب اس میں کون سا زمانہ ہے؟ مستقبل والا ہے۔ تو فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے اور زمانے والا معنی اس کے ساتھ الگ جڑا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟
اور مثال لے لو۔ جیسے شَرِبَ، شُرْب کا معنی ہے پینا، پینا۔ شَرِبَ، کون سا زمانہ ہے؟ ماضی۔ معلوم ہوا یہ پینے کا عمل اس آدمی نے کس زمانے میں کیا؟ دیکھا، یہ اس کی حرکات، شین پر زبر، را پہ زیر اور با پر پھر زبر، ان حرکات سے آپ کو زمانہ الگ سمجھ میں آ گیا۔ اسی طرح یَشْرَبُ، کون سا زمانہ ہے؟ حال اور استقبال والا، کیونکہ فعل مضارع ہے۔ تو دیکھو، شُرْب کا اپنا معنی پینے والا معنی الگ اور اس کے ساتھ کون سا زمانہ مل گیا، حال یا استقبال۔ جبکہ آپ نے جو ہمیں مثال دی ماضی، حال اور مستقبل، وہاں ان کا اپنا الگ معنی ہو اور زمانہ ساتھ جڑا ہوا ہو، ایسا نہیں ہے۔ وہ تو خود ہی کس کا نام ہے؟ زمانے کے نام ہیں۔
بات سمجھ میں آئی کہ مشکل ہو گئی؟ جی، اچھی طرح؟ اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ دیکھا، اور وہ تو ماضی، وہ تو خود زمانے کا نام ہے۔ اس کے ساتھ کوئی اور الگ زمانہ ملا ہوا نہیں ہے۔ اور فعل کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی ایک زمانہ ملا ہوا ہوتا ہے۔ دیکھا، زمانہ الگ ملا ہوا ہوگا، وہ خود زمانے کا نام نہیں ہوگا بھئی۔
اور تیسرا ہے حرف بھئی۔ حرف وہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ یہ محتاج ہوتا ہے، اس کے ساتھ اور کلمے جوڑو گے اور لفظ جوڑو گے، تو پھر اس کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی مِنْ۔ مِنْ، میم اور نون، مِنْ۔ مِنْ کا معنی ہے عربی زبان میں ابتداء، شروع کرنا۔ کسی کام کے ابتداء یا شروع پر یہ دلالت کرتا ہے۔ لیکن کسی عرب کے سامنے مِنْ، مِنْ سارا دن بھی آپ کرتے رہیں، اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ کیا، یہ کیا بات کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ معنی سمجھ میں آتا ہی نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ کچھ اور کلمے نہ جوڑیں۔ اس کے مقابلے میں ایک لفظ ہے ابتداء ابتدا۔
جیسے ہی میں نے کہا: ابتدا۔ آپ کو شروع کرنے کا معنی ذہن میں آ گیا یا نہیں؟ جی۔ لیکن "من"، اس کا بھی وہی ترجمہ ہے۔ میں نے کہا: "من"، آپ کے ذہن میں ابتدا آیا؟ نہیں۔
ابتدا، یہ اسم ہے، دیکھو۔ ابتدا کیا ہے؟ اسم۔ اسم اپنے معنی پر خود بخود دلالت کر رہا ہے۔ میں نے جیسے ہی کہا بھئی: ابتدا، کا کیا معنی؟ شروع۔ آپ فوراً سمجھ گئے کہ اس کا معنی ہے: شروع کرنا۔ اور میں نے کہا: "من" کا کیا معنی ہے؟ آپ نے کتاب میں تو پڑھا ہے، لیکن یہ، یہ ابتدا کا معنی ادا کرے، یہ آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا جب تک اس کے ساتھ دوسرے کلمے نہ جوڑیں۔
تو "من" جو ہے، وہ بھی ابتدا کا معنی ادا کرتا ہے، لیکن وہ معنی ہمیں خود بخود سمجھ میں نہیں آتا۔ میں کسی آدمی کے سامنے کہوں: ابتدا، وہ اس کا معنی سمجھ جائے گا۔ اور میں کہوں: "من"، یہ "من" بھی کس کے لیے ہے؟ ابتدا کے لیے، لیکن اسے معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ دیکھا، فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک لفظ کیا ہے؟ ابتدا۔ وہ کیا ہے؟ اسم۔ ابتدا کیا ہے؟ اسم۔ ابتدا کرنا، آغاز کرنا، شروع کرنا۔
میں آپ کے سامنے کہوں: شروع کرنا، آپ معنی سمجھ گئے یا نہیں؟ جی۔ تو کسی کے سامنے میں کہوں: شروع کرنا، وہ معنی سمجھ جائے گا۔ لیکن میں کہوں: "من"، اس کو معنی نہیں سمجھ میں آئے گا، کیونکہ اس کے ساتھ جب تک اور کلمے نہیں جوڑو گے، اس کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح میں کسی کے سامنے کہوں: آغاز کرنا، یا صرف آغاز کہوں، شروع، وہ آغاز کا معنی سمجھ جائے گا۔ لیکن "من" کہوں، وہ اس کا معنی اسے سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح کسی کے سامنے میں ابتدا کہوں، ابتدا، تو وہ معنی سمجھ جائے گا۔ لیکن "من" کہوں، اسے معنی سمجھ میں نہیں آئے گا، حالانکہ "من" کا بھی وہی معنی ہے: شروع کرنا، آغاز کرنا، ابتدا کرنا، کسی چیز کی۔ لیکن یہ اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسرا کلمہ نہ جوڑیں۔
مثلاً میں کہتا ہوں: سرتُ، سرتُ تو نہیں، بلکہ ذہبتُ۔ ذہبتُ کہیں۔ سارَ یسِیرُ سَیراً کا معنی ہے: چلنا۔ سرتُ: میں چلا۔ بلکہ یوں کہیں: ذہبتُ۔ ذہَبَ کا معنی بھی: جانا۔ ذہبتُ: میں گیا مِنَ البَیتِ یا مِنَ الدَّارِ: گھر سے، اِلَی المَسجِدِ: کہاں تک؟ مسجد تک۔ ذہَبتُ مِنَ الدَّارِ اِلَی المَسجِدِ۔ جی، میں کہاں سے چلا؟ گھر سے۔ میرے چلنے کا آغاز کہاں سے ہوا؟ گھر سے۔ یہ کس نے بتایا بھئی؟ میں نے تو کہیں آغاز کا لفظ نہیں بولا۔ "من" نے بتایا۔ "من" نے بتایا، دیکھا؟ یہ چلنے کا، کا آغاز اور چلنے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے، یہ "من" نے بتایا۔ اور اس چلنے کی انتہا کہاں پر ہو رہی ہے؟ مسجد۔ مسجد، یہ کس نے بتایا؟ "الیٰ" نے۔ "الیٰ" بھی حرف ہے، جب تک اس کے ساتھ یہ آگے پیچھے الفاظ نہیں جڑیں گے، اس کا معنی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
تو "من" کا معنی بھی: ابتدا، اور لفظِ ابتدا کا معنی بھی: ابتدا۔ لیکن لفظِ ابتدا اسم ہے، وہ بولتے ہی معنی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور "من" کا معنی بھی ابتدا ہے، لیکن یہ بولتے ہی سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ یہ حرف ہے۔ اور حرف اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ دوسرے الفاظ نہ جوڑیں۔ تو ذہَبتُ مِنَ الدَّارِ، یہ ذہَبتُ کو میں نے "من" کے ساتھ جوڑا، اور الدَّار کو میں نے "من" کے ساتھ جوڑا، اب آپ کو بات سمجھ میں آئی کہ کس چیز کی ابتدا ہو رہی ہے؟ جانے کی۔ اور کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے۔ تو ذہَبتُ اور الدَّار، یہ "من" کے ساتھ جڑے تو پھر معنی واضح ہوا۔
پھر پتہ چلا کہ یہ آغاز کس کا ہو رہا ہے؟ چلنے کا، جانے کا۔ اور کہاں سے ہو رہا ہے؟ گھر سے۔ یہ کس نے بتایا؟ "من" نے۔ اکیلے "من" نے، یا یہ ساتھ والے آگے پیچھے دونوں لفظوں کی وجہ سے پتہ چلا؟ دونوں لفظوں کی وجہ سے پتہ چلا۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
تو کلمہ کتنی قسم پر؟ تین۔ نمبر ایک: اسم۔ نمبر دو: فعل۔ نمبر تین: حرف۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ۔ با معنی لفظ، جس کا کوئی معنی ہو۔ اگر معنی نہیں تو وہ کیا کہلائے گا؟ محمل کہلائے گا۔ وہ کیا کہلائے گا؟ محمل۔ اچھا۔
تو اسم وہ کلمہ ہے جو خود، خود بخود اپنے معنی پر دلالت کرے۔ کیا معنی خود بخود دلالت کرے؟ یعنی کسی دوسرے کلمے کے ساتھ جوڑنے کا محتاج نہیں، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا نہ ہو۔
اور فعل کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا ہو۔
اور حرف کسے کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت نہ کرے، یعنی کوئی اور کلمہ، کوئی اور کلمہ ایک یا زیادہ اس کے ساتھ جوڑیں گے تو پھر اس کا معنی سمجھ میں آئے گا، ویسے اس کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی۔
اچھا! اس کے بعد پھر انہوں نے مرکب کے بارے میں آپ کو بتلایا تھا۔ اور کیا کہا تھا؟ "امّا مرکب لفظے باشد"۔ "امّا مرکب لفظے باشد"۔ "امّا" کا ترجمہ کر لیں: باقی۔ باقی، دیکھو دو چیزیں ذکر کی تھیں نا: مفرد اور مرکب۔ مفرد گزر گیا، اب مرکب کا بیان کرنے لگے تو کہتے ہیں: باقی مرکب جو ہے، مرکب ہی رہ گیا تھا نا باقی؟ جی۔ تو یا "امّا" کا ترجمہ کر لیں: تو۔ تو مرکب جو ہے، "امّا مرکب لفظے باشد"، تو مرکب وہ لفظ ہے، وہ لفظ ہوگا۔ یا یوں ترجمہ کر لیں: "امّا مرکب لفظے باشد"، تو مرکب وہ لفظ ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ "کہ از دو کلمہ یا بیشتر حاصل شدہ باشد"، جو کہ دو یا دو سے زیادہ کلموں سے حاصل ہوا ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
انہوں نے کیا کہا؟ "امّا مرکب لفظے باشد"۔ مرکب کتنے کلموں سے حاصل ہوگا؟ دو یا دو سے زیادہ۔ اور کیا کہہ رہے ہیں؟ "لفظے باشد"۔ توجہ ہے؟ توجہ ہے؟ جی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا نا، لفظ ایک پر بھی بولتے ہیں اور زیادہ پر بھی۔ دیکھو، اب مرکب دو یا دو سے زیادہ لفظ ہیں، لیکن الفاظ نہیں کہہ رہے، بلکہ کیا کہہ رہے ہیں؟ "لفظے باشد"۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کیونکہ دو یا دو سے زیادہ ہوں، 10 ہوں، 20 ہوں، وہ بھی لفظ ہی کہلاتے ہیں۔ ایک ہو، وہ بھی لفظ، اور زیادہ ہوں، وہ بھی لفظ۔ اسی لیے انہوں نے "امّا مرکب لفظے باشد"۔ تو مرکب وہ لفظ ہے کہ دو کلموں یا زیادہ سے حاصل ہوا ہو۔ "و مرکب بر دو گونہ است"، اور مرکب دو قسم پر ہے۔ گونہ کا کیا معنی؟ قسم۔ مفید و غیر مفید۔ ایک مفید ہے اور ایک غیر مفید۔
مرکبِ مفید میں نے آپ کو بتلایا تھا، وہ ہے کہ کہنے والا جب اس پر سکوت اختیار کرے، سکوت کا کیا معنی؟ دیکھو عبارت پہ نظر رکھو، عبارت پہ۔ "مفید آن است"، مفید وہ ہے، "کہ چون قائل بر آن سکوت کند"، کہ جب کہنے والا اس پر سکوت کرے۔ کیا معنی سکوت کرے؟ خاموشی اختیار کرے، یعنی خاموش ہو جائے۔ یعنی بات پوری کر لی، اب وہ چپ ہو گیا، خاموش ہو گیا۔ اگر آپ کو بات پوری سمجھ میں آ گئی ہے تو وہ مرکبِ مفید ہے۔
مرکبِ مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو۔ جس میں بات پوری ہو۔ اگر بات پوری نہیں تو وہ مرکبِ غیر مفید ہے۔
مرکبِ مفید، جس میں بات کیا ہو؟ پوری ہو۔ اور اس کی پھر دو صورتیں ہیں: یا تو اس میں کوئی خبر ہوگی یا اس میں کوئی طلب ہوگی۔ توجہ ہے؟ جی۔
بھئی، انہوں نے بتلایا تھا، پھر سنو۔ ادھر توجہ کرو کہ مرکب دو قسم پر ہے: ایک مرکبِ مفید اور ایک مرکبِ غیر مفید۔ مفید، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے: فائدہ دینے والا۔ مرکبِ مفید کا کیا معنی؟ وہ مرکب جو فائدہ دینے والا ہے۔ یعنی وہ مرکب ہے جس سے آپ کو بات کا علم ہو جاتا ہے، ایک چیز کا پتہ چل جاتا ہے، ایک بات کا پتہ چل جاتا ہے۔ جب اس میں بات پوری ہے، معلوم ہوا اس نے آپ کو فائدہ دیا۔ اور اگر بات ہی پوری نہیں ہے تو آپ کو فائدہ بھی نہیں۔
مثلاً میں نے آپ سے کہا: زید عالم ہے۔ کتنے لفظ؟ زید عالم ہے۔ تین لفظ ہیں۔ اور بات پوری ہے یا پوری نہیں ہے؟ بات پوری ہے۔ اس سے آپ کو کیا پتہ چلا کہ زید عالم ہے، جاننے والا ہے۔ تو دیکھو، یہ ہے مرکبِ مفید، جس سے آپ کو بات کا پورا پتہ چل گیا۔
اور اس کے بجائے میں تین چار لفظ بول دوں اور بات پوری نہ ہو، تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید کے بھئی کا بیٹا۔ کتنے لفظ ہیں؟ زید کے بھئی کا بیٹا۔ کتنے لفظ ہیں؟ پانچ لفظ ہیں۔ زید کے بھئی کا بیٹا۔ کوئی بات سمجھ میں آئی؟ نہیں۔ وہ زید کے بھئی کا بیٹا تو ذہن میں آ گیا، لیکن بات کوئی پوری ہوئی؟ میں تین دفعہ، چار دفعہ کہتا ہوں: زید کے بھئی کا بیٹا، زید کے بھئی کا بیٹا، زید کے بھئی کا بیٹا۔ آپ خود ہی تنگ آ کر کہیں گے: بھئی بات تو پوری کرو! اس کو کیا ہوا؟ مر گیا ہے؟ زندہ ہے؟ کہیں سفر پہ گیا ہے؟ کہیں سے واپس آیا ہے؟ بات تو پوری کریں! ہمیں تو نہیں پتہ چل رہا، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ مرکبِ مفید نہیں ہے۔ لفظ بے شک پانچ ہیں، لیکن یہ کوئی فائدہ نہیں دے رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو مرکبِ مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو، یعنی جو فائدہ دے۔ اور مرکبِ غیر مفید، جس میں بات پوری نہ ہو۔ اور مرکبِ مفید انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کہ اس کو جملہ بھی کہتے ہیں اور کلام بھی کہتے ہیں۔ اور انہوں نے تفصیل بیان کی تھی، دیکھیے کتاب پر کہ "مفید آن است"، مفید وہ ہے، "کہ چون قائل بر آن سکوت کند"، کہ جب کہنے والا اس پر سکوت کرے، خاموشی کرے، "سامع را خبرے یا طلبے معلوم شود"، تو سننے والے کو خبر یا طلب معلوم ہوتی ہے۔
خبر یا، میں نے آپ سے کہا: زید عالم ہے۔ دیکھو، آپ کو ایک خبر، یعنی ایک بات کا پتہ چلا۔ اور میں نے آپ سے، اسی طرح طلب کے لیے بھی آتا ہے یہ طلب کے لیے۔ میں نے آپ سے پوچھا: کیا زید عالم ہے؟ دیکھو، بات پوری آپ کو سمجھ میں آ گئی کہ یہ شخص سوال کر رہا ہے۔ ایک چیز طلب کر رہا ہے میرے سے۔
تو مرکبِ مفید میں کبھی تو آپ کو ایک بات کا بات کا پتہ چلے گا، اور کبھی آپ سے کوئی چیز طلب کی جائے گی آپ سے۔ مرکبِ مفید میں یا تو کوئی خبر ہوگی یا کوئی طلب۔ دیکھو، میں نے آپ سے کہا: کیا زید عالم ہے؟ میں نے سوال کیا۔ میں آپ سے کوئی چیز، کوئی بات طلب کر رہا ہوں کہ مجھے بتلاؤ کہ زید عالم ہے یا عالم نہیں ہے۔
تو مرکبِ مفید کسے کہتے ہیں؟ جب کہنے والا اس پر سکوت اختیار کرے، تو سننے والے کو خبر یا طلب معلوم ہو۔ اور آسان لفظوں میں، مرکبِ مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو۔ بس! اور اگر بات پوری نہیں تو وہ مرکبِ غیر مفید۔ اور مرکبِ مفید کا دوسرا نام کیا ہے؟ جملہ۔ اور اسی طرح اس کا نام کیا ہے؟ کلام بھی ہے، کلام۔
پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو جملہ ہے، یہ جو کلام ہے، یہ دو قسم پر ہے۔ یا یہ جملہ خبریہ ہوگا یا جملہ انشائیہ ہوگا، انشائیہ۔
چلیے، بس باقی پھر اگلے سبق میں کر لیں گے۔ بس بھئی! ہٰذَا ہُوَ المَرَام وَاللهُ اَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الکَلَام۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح؟