اچھا بھئی! آج ہم نحومیر شروع کریں گے۔
اور ہمارے اساتذہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہر کتاب کے آغاز میں دعا پڑھتے ہیں، استاد پڑھتا ہے اور طلبہ ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں، تو آئیے ہم سب بھی یہ دعا پڑھ لیتے ہیں۔ میرے ساتھ ساتھ پڑھیے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا العلم ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسر وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ آمین آمین ثم آمین۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله واصحابه وبارک وسلم۔
اچھا بھئی! آج ہم نحومیر شروع کر رہے ہیں اور یہ سینکڑوں سال قدیم، نہایت پیاری اور بڑی مفید کتاب ہے۔ اور اس میں جس طرح میں نے اپنے اساتذہ سے پڑھا، جس طرح ہمارے اساتذہ پڑھاتے تھے، لمبی بحث نہیں فرماتے تھے کیونکہ یہ ابتدائی درجے کے طلبہ کے لیے کتاب ہے۔ اگر تقریر کی جائے تو اس کے اندر بڑی لمبی لمبی تقریر کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ بیس تیس صفحوں کے اندر مصنف نے پورے علمِ نحو کو بند کر دیا ہے، یوں سمجھو دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اور اس میں صرف علمِ نحو کا تعارف انہوں نے کروایا کہ بالکل جو ابتدائی طالب علم ہو، اس کو نحو کا کچھ تعارف ہو جائے، نحو کی کچھ اصطلاحات کا پتہ چل جائے، کچھ چیزوں کا پتہ چل جائے، بس تعارف ہو جائے۔ پھر صحیح طریقے سے نحو جو ہے وہ آگے ہدایت النحو میں آتی ہے بھئی۔
لیکن یہ کتاب جب طالب علم پڑھتا ہے، چند ماہ گزر جاتے ہیں اس میں، تو اس کو نحو کے ساتھ کچھ نہ کچھ واقفیت ہو جاتی ہے۔ اس کو پتہ چل جاتا ہے اسم کسے کہتے ہیں، فعل کسے کہتے ہیں، حرف کسے کہتے ہیں، مرفوع کیا ہوتا ہے، منصوب کیا ہوتا ہے، مجرور کیا ہوتا ہے اور علمِ نحو میں کیا کیا پڑھایا جاتا ہے، کچھ مختصر تھوڑا سا تعارف ہو جاتا ہے۔ تو اس کے اندر انہوں نے ساری چیزیں ذکر کیں لیکن ابتدائی درجے کے اعتبار سے بالکل صرف مختصر چیز ذکر کی، صرف تعارف کروایا میں نے بتلایا۔ اب باقی استاد کی مرضی ہے، اس میں تقریر کرنا چاہے تو خوب لمبی تقریر کر دے بھئی، نحو کی بڑی بڑی کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے دو چار جملوں میں جو بات کی ہوئی ہے، استاد چاہے تو اس پہ مہینہ لگا دے، اتنی تفصیلات بیان کرے۔ لیکن ہمارے اساتذہ ابتدائی طلبہ کو جیسے یہ کتاب لکھی مختصر گئی ہے، وہ سبق بھی اسی طرح مختصر ہی پڑھاتے تھے کہ بس طالب علم آسانی سے سمجھ جائے، اس کو تعارف ہو جائے، وہ اس کو آرام سے یاد کر لے۔ اس پہ ذرا بھی بوجھ نہ پڑے بھئی، ذرا بھی بوجھ۔
تو ہم بھی اسی طرح چلیں گے، بس مختصر باتیں ہوں گی، آسان آسان باتیں ہوں گی، آپ کو نحو کی بنیاد کا پتہ چل جائے، نحو کی کچھ اصطلاحات سے تعارف ہو جائے، نحو کے ساتھ آپ کی تھوڑی بہت مناسبت ہو جائے، پھر آگے ہدایت النحو کے اندر خوب تفصیلات آ جائیں گی، پھر اس کے بعد قافیہ پڑھیں گے اگر اس سے اگلے سال تو اس میں اور زیادہ تفصیلات آ جائیں گی، پھر اس سے اگلے سال انشاء اللہ شرح جامی پڑھیں گے تو وہاں پوری تفصیل و بیان کریں گے۔ تو یہاں صرف ہم مختصراً پڑھیں گے جیسے پرانے اساتذہ کا طریقہ تھا بھئی۔
اور یہ بہت پیاری کتاب ہے بھئی، بہت پرلطف کتاب ہے اور فارسی زبان میں ہے۔ اب تو فارسی کا ذوق ختم ہو گیا، اکثر جگہ اردو میں کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں، نحومیر کے اردو ترجمے آ گئے ہیں وہ پڑھائے جا رہے ہیں۔ لیکن جو لطف فارسی میں ہے، فارسی میں اسی طرح عربی میں لمبی بات کو مختصر لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن اردو میں جب اسی بات کو بیان کیا جائے تو لمبی بات کرنا پڑتی ہے۔ اور وہ لطف نہیں رہتا جو اصل کتاب کا لطف ہے، تو ہم فارسی ہی کی کتاب جو ہے اسی میں سے پڑھیں گے۔ انشاء اللہ آپ کی فارسی کے ساتھ بھی مناسبت ہو جائے گی، آپ دیکھیں گے فارسی تو بڑی آسان ہے، اردو جیسے ہی الفاظ اکثر استعمال ہوتے ہیں اس کے اندر بھئی۔ ہاں اگر آپ پریشان ہوں گے کہ یہ فارسی ہے پھر آپ کو مشکل لگے گی، لیکن اگر آپ یہ سوچیں اس کے تو اکثر لفظ اردو جیسے ہیں، یہ تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں، یہ والا ایک نیا لفظ ہے، یہ والا ایک نیا لفظ ہے، تو جب اس طرح آپ پڑھیں گے آپ کو بالکل آسان معلوم ہوگی۔ اور جو جو نیا لفظ آتا جائے فارسی کا وہ آپ یاد کرتے جائیں تھوڑی سی ایک دو چار دفعہ اس کو دہرائیں گے تو انشاء اللہ زبان پر بھی رواں ہو جائے گا اور فارسی سے آپ کی مناسبت بھی بڑھتی چلی جائے گی بھئی۔
ایک تو یہ بات یاد رکھیں کہ اس میں انشاء اللہ مختصر چلیں گے ہم، تفصیلات زیادہ ذکر نہیں کریں گے۔ ہاں جہاں ضرورت ہوئی تھوڑی بہت وہاں میں بیان کروں گا بھئی۔ اور دوسرا مصنف کے حالات ذکر کیے جاتے ہیں بھئی، تو مصنف کے احوال میں صرف اتنا یاد رکھیں کہ نحومیر کے مصنف جو ہیں وہ میر سید السند ہیں۔ میر م-ی-ر میر، سید السند السند، میر سید السند، یاد رہے گا یہ نام؟ میر سید السند۔ یا انہی کو میر سید شریف بھی کہتے ہیں۔ میر سید؟ میر سید شریف۔ کبھی میر کا لفظ ساتھ نہیں بھی ملاتے، اس کے بغیر بھی کہہ دیتے ہیں سید السند یا سید الشریف یا سید شریف، جس انداز میں بھی آپ بول لیں بھئی۔
یہ جو ہیں اس نام سے یہ مشہور ہیں اور ان کا اصل نام جو تھا وہ علی تھا۔ علی ابن محمد ابن علی، یعنی ان کا نام تھا علی، والد کا نام محمد اور دادا کا نام پھر علی تھا، تو علی ابن محمد ابن علی۔ تو یہ البتہ مشہور میر سید السند اور میر سید شریف سے ہیں بھئی۔ اور یہ آٹھویں صدی کے عالم ہیں، آٹھویں نویں صدی۔ 740 ہجری میں ان کی پیدائش ہوئی ہے۔ کتنے ہجری میں؟ 740 ہجری میں ان کی پیدائش ہوئی ہے تو یہ آٹھویں صدی کے عالم ہیں۔ آپ کہیں گے بھئی 740 میں پیدائش ہوئی ہے تو یہ تو ساتویں صدی کے عالم ہوئے؟ نہیں بھئی، 700 کا کیا مطلب ہے؟ 700 کا مطلب ہے 700 سال پورے ہو گئے۔ اب 701 یہ آٹھویں صدی شروع ہو گئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو 600 سے لے کر 700 تک یہ تھی ساتویں صدی اور 700 سے لے کر 800 تک یہ کون سی صدی ہے؟ یہ آٹھویں صدی ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو یہ 740 میں یعنی آٹھویں صدی میں ان کی پیدائش ہوئی ہے اور 816 ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے 76 سال کی عمر میں۔ تو یہ بہت بڑے عالم تھے اور بہت قیمتی کتابیں انہوں نے لکھیں، بہت پیاری کتابیں لکھیں، یہ نحومیر اتنی پیاری اور اتنی یعنی پرلطف کتاب ہے کہ آپ انشاء اللہ جب ایک دفعہ پڑھیں گے اس کی لذت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے بھئی، اتنی پرلطف کتاب ہے۔ اور بالکل آسان آسان باتیں کرتے ہیں جیسے بچوں کے لیے باتیں ہوتی ہیں، کیونکہ یہ کتاب انہوں نے لکھی بچوں کے لیے ہے، ابتدائی طلبہ کے لیے لکھی ہے بھئی۔
تو مصنف کا نام کیا ہے؟ میر سید السند، اور کس نام سے مشہور ہیں؟ میر سید شریف، اور اصل نام کیا ہے؟ علی ابن محمد ابن علی، اور یہ کس صدی کے عالم ہیں؟ آٹھویں صدی کے، اور نویں صدی کے آغاز میں ان کا انتقال ہوا، پیدائش کیا؟ 740 ہجری، اور وفات کیا؟ 816، 816 ہجری یاد رکھنا ہے، بس یہ دو تین باتیں مصنف کی آپ نے یاد رکھنی ہیں، بھولنی نہیں ہیں، ٹھیک ہے؟ ہاں زیادہ احوال میں نہیں بیان کرتا بس مختصراً۔
اب یہ علمِ نحو کے اندر ہے کتاب، تو یہاں اساتذہ پھر علمِ نحو کی تعریف بھی کرواتے ہیں، اس کا موضوع بھی، اس کی غرض و غایت بھی، بھئی اتنی تفصیل میں نہیں بیان کروں گا، یہاں ضرورت نہیں ہے ان چیزوں کی، بس اتنا یاد رکھو کہ علمِ نحو کے ذریعے عربی ٹھیک طرح بولنا اور لکھنا انسان سیکھ لیتا ہے، کس کے ذریعے؟ علمِ نحو کے ذریعے، یوں کہیں علمِ نحو کے ذریعے عربی بولنے اور لکھنے میں غلطی سے انسان بچ جاتا ہے۔ علمِ نحو کے ذریعے؟ بولنے میں بھی اور لکھنے میں بھی غلطی سے، اگر آپ نحو کے ماہر ہوں گے تو آپ عربی بولنے میں بھی غلطی نہیں کریں گے اور عربی لکھنے میں بھی، بس یہ یاد رہے گا بھئی؟ علمِ نحو کا کیا فائدہ؟ کہ یہ انسان کو عربی بولنے اور لکھنے میں غلطی سے بچاتا ہے، بس اتنا یاد رکھیں، آسان سی بات ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
جی، اب آئیے دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں بھئی: بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، والصلاة والسلام على خير خلقه محمد وآله اجمعين، اما بعد، بدان ارشدك الله تعالى كه اين مختصريست مضبوط در علم نحو كه مبتدي را بعد از حفظ مفردات لغت و معرفت اشتقاق و ضبط مهمات تصريف به آساني به كيفيت تركيب عربي راه نمايد و بزودي در معرفت اعراب و بنا و سواد خواندن توانائي دهد بتوفيق الله تعالى وعونه۔
اچھا جی! کہتے ہیں: الحمد لله رب العالمين، یہ بھی ہمارے بزرگوں کا طریقہ کہ کتاب کے آغاز میں بسم اللہ لاتے ہیں اور پھر اس کے بعد الحمد للہ کا ذکر کرتے ہیں، جیسے کہ قرآن میں بھی آغاز میں بسم اللہ ہے اور پھر الحمد للہ ہے، تو یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے بھئی۔ الحمد لله رب العالمين، الحمد تمام تعریفیں، لله اللہ ہی کے لیے ہیں، رب العالمين، رب کہتے ہیں پالنے والا، پرورش کرنے والا، اور عالمین جہان بھئی، الحمد لله رب العالمين، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں رب العالمین جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ والعاقبة للمتقين، عاقبت کہتے ہیں انجام کو، کسی چیز کا انجام، کسی چیز کا آخر، کسی چیز کا جو نتیجہ ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عاقبت، تو انجام بھئی، والعاقبة للمتقين، وہ انجام جو ہے یعنی اچھا انجام جو ہے للمتقين متقیوں کے لیے ہے۔
کس کے لیے ہے؟ متقی۔ متقی کہتے ہیں اس شخص کو جو گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہو۔ جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتا ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ متقی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں والعاقبة للمتقين، اور انجام، توجہ رکھنا بھئی ترجمے پہ، والعاقبة للمتقين، اور انجام جو ہے وہ متقیوں کے لیے ہے، گناہوں سے بچنے والوں کے لیے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجام تو سب کا ہوگا، چاہے مومن ہو چاہے کافر ہو، چاہے گناہوں سے بچنے والا ہو چاہے گناہوں سے نہ بچنے والا ہو۔ سب کو کوئی نہ کوئی اس کے نتیجہ ملے گا جو اس نے دنیا میں اعمال کیے ہوں گے۔ اگر گناہ کیے ہیں تو سزا ملے گی اور اہل ایمان میں سے ہے اور نیک عمل کیے ہیں تو جنّت میں جائے گا۔ تو انجام تو ہر ایک کا کچھ نہ کچھ ہوگا، پھر کیا معنی والعاقبة للمتقين کہ انجام جو ہے پرہیزگاروں کے لیے ہے؟
تو جواب یہ کہ یہاں مضاف محذوف ہے، ایک جواب یہ کہ و خير العاقبة، اچھا انجام جو ہے للمتقين کس کے لیے ہوگا؟ متقیوں کے لیے، اب بات بن گئی بھئی کہ اچھا انجام کس کا ہوگا؟ متقیوں کا ہوگا، گناہوں سے جو بچنے والے ہیں ان کا اچھا انجام ہوگا، ان کو آخرت میں اللہ جنّت میں داخل فرمائیں گے۔ یا دوسرا جواب یہ کہ یہ جو العاقبة میں الف لام ہے، العاقبة، اس سے مراد اچھا انجام ہے، کیا مراد ہے؟ ہاں، تو والعاقبة وہ والا انجام یعنی اچھا انجام کس کا ہوگا؟ متقیوں کا ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ چاہیں یہاں خیر کا لفظ مضاف محذوف نکال لیں اور پھر عبارت یوں بن جائے گی: و خير العاقبة للمتقين، اچھا انجام کس کے لیے ہے؟ متقیوں کے لیے۔ یا یوں کہیں کہ یہ جو الف لام ہے، یہ آگے آپ انشاء اللہ پڑھیں گے الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی العاقبة میں الف لام کے ذریعے ہر انجام کی طرف اشارہ نہیں، خاص اچھے انجام کی طرف اشارہ ہے، وہ مراد ہے اس سے، تو العاقبة کا معنی کر لیں گے اچھا انجام، کون سا انجام؟ اگر کوئی کہے کہ بھئی اچھا انجام کہاں سے ترجمہ آپ کر رہے ہیں؟ آپ کہیں گے بھئی جو یہ الف لام ہے اس کے ذریعے اچھے انجام کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، وہ مراد ہے۔
تو کہتے ہیں: والعاقبة للمتقين، اور اچھا انجام جو ہے متقیوں کے لیے ہے، پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ والصلاة والسلام، صلاۃ کا معنی ہے رحمت، والصلاة والسلام، اور رحمت اور سلامتی ہو على خير خلقه اس پر جو اللہ کی مخلوق میں سب سے افضل ہیں، سب سے بہتر ہیں۔ خير خلق...کرنے والے ہیں، سب کے سب پر، ان پر بھی کیا ہو؟ رحمت اور سلامتی ہو۔ بات سمجھ میں آگئی، ترجمہ سمجھ میں آگیا۔
اچھا، یہ تو کتاب کے شروع میں وہ حمد بھی لے آئے اور صلوٰۃ و سلام بھی لے آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ اب آگے دیکھیے بھئی۔
اما بعد، حمد و صلاۃ کے بعد، بداں، جان لے تو۔ بداں، یہ با الگ ہے اور یہ داں، دان یا داں، یہ امر ہے، امر۔ دانستن کا معنی ہوتا ہے جاننا، فارسی زبان میں۔ دانستن کا کیا معنی؟ جاننا۔ اور اسی سے ہے دانا، اردو میں بھی بولتے ہیں، دانا، وہ بڑا دانا انسان ہے، یعنی بڑا عقل مند ہے، جاننے والا ہے۔ اور اسی سے امر کیا ہے؟ دان، تو جان لے۔ تو جان لے۔ اور یہ با ساتھ ملاتے ہیں اس کے، تو بداں، تو جان لے۔
اب دیکھو، یہ کتاب انہوں نے طلباء کے لیے لکھی۔ یہ بھی ہمارے بزرگوں کا طریقہ تھا کہ جب طلباء کو سبق پڑھانے لگتے تھے تو ساتھ شروع میں ان کو دعا بھی دیتے تھے۔ دعا بھی دیتے تھے۔ اب دیکھو، کتاب شروع کرنے لگے ہیں تو ساتھ ہی دعا دیں گے، دیکھو: ارشدک الله تعالی۔ ارشد یرشد ارشاد کا معنی ہوتا ہے رہنمائی کرنا، کسی کو سیدھا راستہ دکھلانا۔ ارشدک الله تعالی، اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے۔ جان لے اے طالب علم۔
آ، کیا جان لے؟ وہ بات ابھی آگے آنے والی ہے کہ یہ بات جان لے، کہ این مختصرے است، کہ یہ ایک مختصر کتاب ہے، مختصر رسالہ ہے۔ لیکن درمیان میں دعا دے دی: ارشدک الله تعالی، اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟
اما بعد حمد، اما بعد، یعنی حمد و صلاۃ کے بعد۔ بداں، تو جان لے۔ ارشدک الله تعالی، اللہ تجھ، اللہ تیری رہنمائی فرمائے۔ کہ این مختصرے است، یہ ایک مختصر کتاب ہے۔
فارسی میں یاد رکھو، "ایک" کا معنی ادا کرنے کے لیے عموماً کسی اسم کے آخر میں بڑی یا بڑھا دیتے ہیں۔ کتاب، اگر میں کہنا چاہوں "ایک کتاب"، تو کہوں گا "کتابے۔" قلم، اگر میں کہنا چاہوں "ایک قلم"، تو کہوں گا "قلمے۔" قلمے، مان، بات سمجھ میں آرہی ہے؟
تو یہاں بھی مختصر، یعنی چھوٹی سی۔ مختص، یہ اصل میں کیا تھا؟ مختصرے۔ این مختصرے، یہ کیا ہے؟ ایک مختصر کتاب ہے۔ اور است، است کا معنی ہوتا ہے فارسی میں "ہے"، "ہے"۔ تو اس مختصرے کو اب است کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور است کا ہمزہ، شروع میں جو الف تھا ہمزہ، گرا دیا۔ کیا بن گیا؟ مختصرے است۔ این مختصرے است، یہ ایک مختصر کتاب ہے، یہ ایک مختصر رسالہ ہے۔
مضبوط، مضبوط کا معنی ہے اردو والا مضبوط نہیں، اردو میں تو مضبوط کہتے ہیں جو، جو سخت ہے۔ لیکن فارسی میں مضبوط کہتے ہیں ضبط کی ہوئی، یوں کہو لکھی ہوئی، جس کو لکھا گیا ہو، ضبط کیا گیا ہو، یا یوں کہو مرتب کیا گیا ہو، ترتیب دیا گیا ہو۔ تو یہاں مضبوط کا معنی کر لیں "لکھا ہوا"۔
کہ این مختصرے است، یہ ایک مختصر کتاب ہے۔ مضبوط در علم نحو، یہ لکھی گئی ہے کس علم میں؟ علم نحو۔ در کا معنی ہے "میں"، "میں"۔ مضبوط در علم نحو، یہ جو لکھی گئی ہے کس میں؟ علم نحو میں۔ یہ "میں" کا معنی، یہ کس کا کر رہا ہوں ترجمہ؟ در۔ ہاں، مضبوط کہ این مختصرے است، یہ ایک مختصر کتاب ہے۔ مضبوط در علم نحو، جو کہ علم نحو میں لکھی گئی ہے۔
کہ مبتدی را، مبتدی یعنی ابتدائی طالب علم، ابتدا کرنے والا۔ کہ مبتدی را، دیکھا بتلا دیا، یہ میری کتاب ابتدائی طالب علم کے لیے ہے۔ جب طالب علم ابتدائی ہے، معلوم ہو استاد کو بھی زیادہ لمبی تقریر نہیں کرنی چاہیے، بس مختصر مختصر اس کو پڑھا دے کہ اس پر بوجھ بھی نہ بنے اور نحو سے اس کا بہترین تعارف ہو جائے بھئی۔
کہتے ہیں: کہ مبتدی را، را کا معنی ہے، اردو میں ترجمہ کریں گے "کو"، "کو"۔ اچھا، یا کو یا کا، موقع کے مطابق۔ کہ مبتدی را، کہ ابتدائی طالب علم کو بعد از حفظ مفردات لغت، از، از کا معنی ہے "سے"، "سے"۔ در کا معنی "میں"۔ اور را کا معنی "کو"۔ اور از کا معنی "سے"۔ اچھا، حفظ مفردات لغت، حفظ کا معنی یاد کرنا، آپ جانتے ہیں اردو میں بھی بولتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کر لیا ہے، یعنی یاد کر لیا ہے۔ مفردات، مفرد کہتے ہیں اکیلا، ایک۔ جیسے میں کہتا ہوں زید، دیکھو ایک لفظ ہے۔ بكر، ایک لفظ ہے۔ کتاب، ایک لفظ ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے۔
اچھا، لغت، لغت کہتے ہیں زبان کو۔ لغت کسے کہتے ہیں؟ اردو کیا ہے؟ ایک لغت ہے۔ زبان ہے۔ عربی کیا ہے؟ لغت ہے، کیا ہے؟ ایک زبان ہے۔ فارسی کیا ہے؟ لغت ہے، یعنی ایک زبان ہے۔ تو لغت کا معنی زبان۔
بعد از حفظ مفردات لغت، لغت زبان، اور مراد کون سی زبان ہے؟ ہاں ہاں، فارسی میں تو کتاب ہے۔ نحو، یہ نحو میں عربی زبان کے قوانین ذکر ہوتے ہیں کہ عربی کیسے پڑھنی ہے۔ ابھی میں نے تعریف بتلائی تھی، علم نحو کے ذریعے عربی بولنے اور لکھنے میں غلطی سے انسان بچتا ہے۔ تو یہ عربی زبان کے قوانین ذکر ہوں گے۔ لیکن مصنف کی زبان فارسی تھی اور جس کو پڑھا رہے تھے ابتدائی طالب علم تھا، تو اس کو فارسی زبان میں ہی اس کے لیے یہ رسالہ لکھا۔ تو یہ کتاب فارسی میں ہے، لیکن قوانین عربی کے ہوں گے۔ نحو جو ہے، وہ عربی زبان کے قوانین ہوتے ہیں اس میں۔
تو لغت سے یہاں کون سی زبان مراد؟ عربی۔ بعد از حفظ مفردات لغت، عربی زبان کے مفردات کو یاد کرنے کے بعد۔ بعد از حفظ مفردات لغت، آخر سے ترجمہ کر رہا ہوں، عربی زبان کے مفردات یعنی اکیلے اکیلے لفظ جو ہیں، ان کو یاد کرنے کے بعد۔
از کا کیا ترجمہ تھا؟ "سے"، لیکن یہاں، یہاں با محاورہ میں "سے" نہیں کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ہاں، فارسی میں یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے، ہر زبان کا اپنا طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ تو از کا معنی "سے" ہے، لیکن ہر جگہ پر آپ اس کا ترجمہ "سے" کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں گے تو اردو میں پھر بات برابر نہیں بنے گی۔ لیکن وہ اس موقع پر از کا لفظ استعمال کرتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔
بعد از حفظ مفردات لغت، عربی زبان کے الفاظ، بھئی یوں کہو، مفردات سے مراد ہے عربی زبان کے الفاظ۔ عربی زبان کے الفاظ کو یاد کرنے کے بعد۔
اچھا، کیا معنی عربی زبان کے الفاظ یاد کرنے کے بعد؟ یاد رکھو، اس سے اشارہ ہے علم صرف کی گردانوں کی طرف۔ کس کی طرف؟ علم صرف میں آپ پڑھتے ہیں یا نہیں کہ "ضرب" کا کیا معنی ہے؟ مارا اس ایک مرد نے زمانہ ماضی میں۔ "یضرب" کا کیا معنی ہے؟ مارتا ہے یا مارے گا وہ ایک شخص حال یا استقبال میں۔ "ضارب" کا کیا معنی ہے؟ مارنے والا وہ ایک شخص بھئی۔ "مضروب" کا کیا معنی ہے؟ تو دیکھو، ایک ایک لفظ کا، آپ نے صرف پڑھی ہوگی تو آپ کو ایک ایک لفظ کا ترجمہ پتہ چلتا جائے گا، تو یہ مراد ہے۔
اور اس میں انہوں نے اشارہ کر دیا، یہ آگے بھی بیان کر رہے ہیں کہ طالب علم کو پہلے صرف اچھی طرح آنی چاہیے، اس کے بعد اس کو نحو پڑھائی جائے۔ اس کے بعد اس کو نحو پڑھائی جائے۔
یہ آگے ابھی بات کر رہے ہیں، دیکھنا ابھی آگے اور بھی بات کریں گے، اسی بارے میں بات کریں گے کہ جو بھی طالب علم یہ نحو جس کو آپ پڑھانے لگے ہیں، اس کو صرف کی بنیاد اس کی بہترین بنی ہوئی ہو بھئی۔ اور ہمارے ہاں عموماً طلباء جو کمزور ہو جاتے، کمزور رہ جاتے ہیں، وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کی صرف مضبوط نہیں ہوتی۔
تو پہلے صرف ہے اور اس کے بعد کیا ہے؟ نحو۔ ہمارے ہاں عموماً جب طلباء عبارت صحیح نہیں پڑھتے، اساتذہ کہتے ہیں کہ اس کی نحو کمزور ہے۔ ٹھیک ہے، نحو سے عبارت پڑھنے کا طریقہ انسان کو آتا ہے۔ ابھی میں نے بتایا، انسان غلطی، عبارت پڑھنے میں غلطی سے بچتا ہے، عربی صحیح بولتا ہے، صحیح پڑھتا ہے۔ لیکن اس نحو کے سارا دار و مدار صرف پر ہے۔ اگر آپ نے صرف اچھی کر لی، آپ کی نحو پھر آرام سے بہترین ہو جائے گی، تھوڑی سی محنت سے۔ لیکن اگر آپ کی صرف اچھی نہ ہوئی، نحو میں پھر جتنی مرضی محنت کر لیں، آپ عبارت اچھی طرح نہیں پڑھ سکیں گے۔اور ہمارے سارے مصنفین تقریباً کتاب کے شروع میں ہی بتا دیتے ہیں، جیسے دیکھو ابھی نحو بالکل شروع کرنے لگے ہیں، بتلا دیا کہ یہ کس کے بعد ہے؟ صرف کو یاد کرنے کے صرف یاد کرو گے تو یہ کتاب آپ کے لیے آس صرف آپ نے یاد کی ہوگی، تو آپ کے لیے یہ کتاب آسان ہوگی۔ تو آپ بھی اگر علم صرف میں کمزوری ہے، اس کمزوری کو دور کریں۔ اور یہاں تو ماشاءاللہ آپ کو بہترین موقع ملا ہے، والد صاحب کا "ابواب الصرف" کا طریقہ ہے، دنیا کی آسان ترین صرف انشاءاللہ۔ آپ اس کو یاد کر لیں، صرف وہ بھی یاد ہو تو بخاری شریف تک آپ زبردست چلیں گے، کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اور بہت آسان، بہت ہی آسان۔
تو اس میں خوب محنت کرو، وہ صرف 80 کے لگ بھگ باب ہیں، اس میں بھی کوئی مشکل بات نہیں۔ یوں سمجھو وہ صرف کا نورانی قاعدہ ہے۔ نورانی قاعدہ کتنا آسان ہوتا ہے بچے کے لیے، اس کو ا ب ت ث پڑھا، تو یہ بھی صرف کی ا ب ت ث ہے اس کے اندر، لیکن اتنی زبردست ہے، اور اس میں والد صاحب کے خصوصاً اتنی برکات ہیں، اتنی برکات اور انوارات ہیں کہ آپ اس کی لذت بھی محسوس کریں گے، اور آپ زبردست صرفی بن جائیں گے۔ جو صیغہ آپ کے سامنے آئے گا، ایک سیکنڈ میں آپ فوراً بتائیں گے، ایک سیکنڈ کے اندر، ذرہ بھی نہیں سوچنا پڑے گا۔
تو اور وہ زیادہ سے زیادہ تین، چار، چار مہینے، پانچ مہینے میں طالب علم اگر بالکل اطمینان سے بھی چلے تو پانچ ماہ میں زبردست اس کو یاد کر سکتا ہے۔ تو اپنی صرف بہترین کرو، زبردست کرو، وہ وہ یاد کر لو، اور اس کے بعد پھر آپ دیکھیں آپ نحو میں ترقی کرتے ہی چلے جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے ہاں عموماً طلباء کمزور ہوتے ہیں، وہ نحو میں کمزوری کی وجہ نہیں ہوتی، وہ ان بیچاروں کی صرف کمزور ہوتی ہے، صرف کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔ اور صرف کے بڑے بڑے مشکل طریقے ہیں، تو طالب علم شروع میں ہی ڈر جاتا ہے کہ یہ تو میں یاد کر ہی نہیں سکتا، اتنی مشکل صرف ہے۔ لیکن پرانے بزرگوں کا جو طریقہ تھا، بہت آسان تھا، بغیر مشقت کے طالب علم زبردست صرفی بنتا تھا۔ اور "ابواب الصرف" میں وہی طریقہ ہے پرانے بزرگوں والا بھئی، بہت مبارک طریقہ ہے۔
تو دیکھیے بھئی! تو "حفظ مفرداتِ لغت" سے کیا مراد ہے؟ عربی زبان کے الفاظ کو یاد کرنے کے بعد، یعنی اس کی گردانیں یاد کرنے کے بعد۔ "و معرفتِ اشتقاق" معرفت کا معنی ہے پہچاننا۔ اشتقاق، اشتقاق کہتے ہیں ایک لفظ سے دوسرا لفظ بنانا۔ اشتقاق کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ سے دوسرا لفظ بنانا۔ دیکھو صرف میں آپ نے پڑھا ہے کہ اصل ہے مصدر "ضربٌ"، مصدر۔ پھر اس "ضربٌ" سے "ضربَ" ماضی کا صیغہ بنا لیا، دیکھو ایک نیا لفظ بنا لیا اس سے۔ پھر "ضربَ" سے کیا بنا لیا؟ "یضربُ" مضارع بنا لیا، نیا لفظ بنا لیا جس کا معنیٰ ہی بالکل الگ ہے۔
اسی طرح اسمِ فاعل بنا لیا "ضاربٌ"، دیکھو اس کا معنیٰ ہی بالکل الگ ہے۔ اسمِ مفعول بنا لیا "مضروبٌ"، اس کا معنیٰ ہی بالکل الگ ہے۔ اسمِ آلہ بنا لیا "مضربٌ"، اسمِ تفضیل بنا لیا "اضربُ"۔ تو دیکھو ایک ہی صیغے سے آگے دوسرا صیغہ، پھر تیسرا صیغہ بنتا چلا جاتا ہے۔ یہ جو ایک صیغے سے دوسرا صیغہ بنایا جاتا ہے، اس کو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اشتقاق بھئی، اشتقاق۔
تو کہتے ہیں "و معرفتِ اشتقاق" اور اشتقاق کو جاننے کے بعد، اشتقاق کو جاننے کے بعد کہ کیسے ایک لفظ سے دوسرا لفظ بنایا جاتا ہے، اور یہ بھی علمِ صرف میں ہے۔ علمِ صرف میں آپ کو بتاتے ہیں کہ ماضی کا پہلا صیغہ یوں ہوتا ہے، مصدر سے یوں بنا۔ تینوں حروف پر کیا ہے؟ زبر آ گئے "ضربَ"، ایک باب ایسے ہے۔ بعضوں میں کیسے بناتے ہیں؟ "سمعَ" درمیان والے کو زیر اس پر پڑھتے ہیں۔ بعضوں میں کیسے پڑھتے ہیں؟ "کرمَ" بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ وہ سارے کس طرح ایک صیغے سے یعنی مصدر سے دوسرا صیغہ، اور پھر اس سے مضارع کیسے بناتے ہیں؟ شروع میں علامتِ مضارع لے آتے ہیں "یضربُ"۔ اور آخر سے ماقبل کو کبھی کسرہ دیتے ہیں، کبھی اس پر فتحہ ہی رکھتے ہیں، کبھی ضمہ دیتے ہیں "یضربُ"، "یکرمُ"، "کرم یکرمُ"، "منع یمنعُ"۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جب آپ صرف یاد کر لیں گے، آپ کو ایک تو گردانیں آ گئیں، آپ کو دیکھو "مفرداتِ لغت" آپ نے یاد کر لیے، کیا کر لیے؟ یعنی گردانیں یاد کر لیں۔ "مفرداتِ لغت" سے کیا مراد ہے؟ گردانیں یاد کر لیں۔ اور آپ کو اشتقاق کی بھی معرفت ہو گئی، آپ کو پتہ چل گیا کہ اس میں تفضیل کا صیغہ کیسے بناتے ہیں، اس میں آلہ کیسے بناتے ہیں "مضربٌ"، اس میں ظرف کیسے بناتے ہیں "مضربٌ"، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اس میں فاعل کیسے بناتے ہیں، ماضی کیسے بناتے ہیں، مضارع کیسے بناتے ہیں، تو یہ ہے اشتقاق، ایک صیغے سے دوسرا صیغہ بنانا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں "و معرفتِ اشتقاق" اور اشتقاق کو جاننے کے بعد "و ضبطِ اہماتِ تصریف"، ضبط کا معنیٰ ہے یاد کرنا، یاد کرنا۔ اور اہمات، اہمات جمع ہے اہمۃ کی، اور اہمۃ کہتے ہیں اہم اور ضروری چیز کو۔ اہمۃ کا کیا معنیٰ؟ ضروری چیز۔ تو یہ اہمات اس اہمۃ کی جمع ہے۔ تصریف ص کے ساتھ ہے تصریف، تصریف یہ علمِ صرف کا نام ہے۔ علمِ صرف کا ایک نام علمِ صرف، اور دوسرا نام علمِ تصریف ہے۔ اور صرف کی اہم باتیں یاد کرنے کے بعد "و ضبطِ اہماتِ تصریف"، علمِ صرف کی اہم اور ضروری باتیں یاد کرنے کے بعد، اس سے مراد علمِ صرف کے قوانین ہیں بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے "قالَ" اصل میں کیا تھا؟ "قولَ" تھا، واؤ یا یا متحرک ہوں، ماقبل فتحہ ہو، تو ان کو الف سے بدلتے ہیں، تو "قولَ" سے "قالَ" ہو گیا۔ تو یہ علمِ صرف کی اہم باتیں ہیں جو قوانین ہیں اس کے۔
آگے دیکھو بھئی! "بآسانی" آسانی کے ساتھ، جب آپ کو یہ صرف کی چیزیں یاد ہوں گی، تو یہ کتاب آپ کو آسانی سے نحو کی باتیں سکھلا دے گی، آپ سیکھ لیں گے، عربی زبان پڑھنا سیکھ لیں گے۔ "بآسانی، بکیفیت" کیفیت کہتے ہیں طریقے کو، کیفیت کسے کہتے ہیں؟ طریقہ اور حالت بھئی۔ "ترکیب" ترکیب، رکّب یرکّب ترکیب کا معنیٰ ہے جوڑنا، جوڑنا۔ علمِ نحو آپ پڑھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ کیسے جوڑنا ہے۔ ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ کیسے جوڑنا ہے، درمیان میں ربط کیسے دینا ہے، وہ علمِ نحو آپ کو بتلائے گا بھئی۔
کہتے ہیں "بآسانی بکیفیتِ ترکیبِ عربی" یہ ترجمہ آخر سے ہو گا، عربی زبان کی ترکیب کے طریقہ جو ہے، اس میں آسانی سے "راہ نماید" راہ کہتے ہیں راستے کو، نماید کا معنیٰ دکھانا۔ "راہ نماید" راستہ دکھاتی ہے۔ "راہ نماید" راستہ دکھاتی ہے۔ اب پورے جملے کو ذرا سنو! "اما بعد" حمد و صلوٰۃ کے بعد "بداں" تو جان لے "ارشدک اللہ تعالی" کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرمائے "کہیں مختصرے است" کہ یہ ایک مختصر کتاب ہے "مضبوط در علمِ نحو" جو علمِ نحو میں لکھی گئی ہے "کہ مبتدی را بعد از حفظِ مفرداتِ لغت" کہ ابتدائی طالب علم کو عربی زبان کے مفردات کو یاد کرنے کے بعد "و معرفتِ اشتقاق" اور اشتقاق کو پہچاننے کے بعد "و ضبطِ اہماتِ تصریف" اور صرف کی اہم باتیں یاد کرنے کے بعد، یہ تینوں کام جب اس نے کیے ہوں گے، تو پھر یہ جو مختصر کتاب ہے "بآسانی بکیفیتِ ترکیبِ عربی راہ نماید"، یہ آسانی کے ساتھ عربی زبان کی ترکیب کا طریقہ جو ہے، اس میں رہنمائی کرتی ہے، اس میں راستہ دکھاتی ہے۔ یہ ایک مختصر کتاب کیا کرتی ہے؟ ابتدائی طالب علم کو اگر کیا ہو گردانیں یاد ہوں، مفرداتِ لغت اس کو یاد ہوں یعنی اس کو گردانیں یاد ہوں، اور اس کو اشتقاق کی پہچان ہو کہ کیسے ایک صیغے سے دوسرا صیغہ بناتے ہیں، اور تیسرا اس کو صرف کے اہم قوانین یاد ہوں، یہ چیزیں جب یاد ہوں تو ان چیزوں کے بعد
یہ والی کتاب جب پڑھے گا تو یہ کتاب اس کو آسانی سے عربی زبان کے ترکیب کا طریقہ، ترکیب کا معنی؟ ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ جوڑنے کا طریقہ، یہ اس میں رہنمائی کرے گی، راستہ دکھائے گی۔ وبزودی، زود کا معنی ہے جلدی۔ زود کا کیا معنی؟ جلدی۔ وبزودی اور جلدی در معرفتِ اعراب و بنا، معرفت کا کیا معنی؟ پہچان، جاننا، پہچاننا۔ اعراب و بنا، اعراب و بنا معرب اور مبنی ہونا۔
معرب اور... یہ آگے انشاء اللہ آ جائے گا۔ کچھ الفاظ جو ہیں عربی کے، کچھ عربی کے الفاظ کیا ہیں؟ معرب اور کچھ کیا ہیں؟ مبنی۔ معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔
مثلاً دیکھو زید، بعض جگہ عربی عبارت آپ پڑھیں گے وہاں آئے گا زیدٌ، بعض جگہ آئے گا زیداً، بعض جگہ آئے گا زیدٍ، تو یہ دیکھو لفظ کا آخر بدل رہا ہے۔ کہیں زیدٌ، کہیں زیداً اور کہیں پر زیدٍ، تو یہ جو لفظ کا آخر بدل رہا ہے معلوم ہوا یہ لفظ معرب ہے۔ معرب جو ہوتا ہے اس کا آخر بدلتا ہے، اور ایک ہوتا ہے مبنی۔ مبنی وہ ہے جس کا آخر نہیں بدلتا جیسے ہُوَ، ہُوَ ضمیر ہے۔ یہ جہاں پر بھی آئے گی ہُوَ ہی پڑھنا پڑے گا، یہاں پر واؤ پر حرکت بدلے گی نہیں، ہمیشہ ہُوَ ہی پڑھنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے هٰذَا اسمِ اشارہ ہے، یہ بھی مبنی ہے، اس کا بھی آخر نہیں بدلے گا۔ تو بعض الفاظ عربی کے کیا ہیں؟ معرب ہیں۔ معرب کیا معنی؟ ان کا آخر بدل... ان کا آخر بدلتا ہے، اور بعض الفاظ کیا ہیں؟ مبنی ہیں، ان کا آخر نہیں بدلتا۔ وہ جہاں بھی آ جائیں آپ نے ان کو اسی طرح پڑھنا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی۔
تو یہ جو کتاب ہے، یہ اس کے ذریعے ایک تو عربی زبان کی ترکیب کا طریقہ سیکھ لیں گے اور نیز اس کے ذریعے آپ کو معرب اور مبنی کی جلدی پہچان ہو جائے گی۔
وبزودی در معرفتِ اعراب و بنا اور جلدی معرب اور مبنی کے پہچاننے میں، وسوادِ خوندن، سواد کا معنی ہے ملکہ، مہارت مہارت، ملکہ، لام پر زبر پڑھنا ہے، ملکہ، ملکۃٌ، ملکہ کس کو کہتے ہیں؟ مہارت۔
دیکھو کاریگر ہوتا ہے بھئی، گاڑیوں کا کاریگر ہے۔ آپ کسی ساتھی کو لے جاتے ہیں کہ بھئی اس کو بھی یہ کام سکھا دیں، آپ کے اس ساتھی کو وہ کام نہیں آتا۔
لیکن وہ اس کام سیکھنے لگ جاتا ہے، دو چار چھ مہینے، سال، ڈیڑھ، دو گزرتے ہیں، وہ زبردست کاریگر بن جاتا ہے۔ اب دیکھو اس کو گاڑیوں کے کام میں مہارت حاصل ہو گئی، اس کو ملکہ کہتے ہیں۔ یہ جو مہارت ہے کیا اس کا کیا نام ہے؟ ملکہ، ملکہ کا کیا معنی؟ مہارت، مہارت۔
خوندن، خوندن کا معنی ہے پڑھنا۔
خوندن کا کیا معنی؟ پڑھنا۔ تو خوندن کا معنی پڑھنا، سوادِ خوندن، سوادِ خوندن پڑھنے کا ملکہ، پڑھنے کی مہارت۔
یہ کتاب آپ پڑھیں گے تو علمِ صرف یاد ہو اور اس کے بعد یہ کتاب پڑھیں گے تو آپ کو عربی زبان کے عربی زبان کے پڑھنے کی مہارت جلدی حاصل ہو جائے گی۔ عربی زبان کے پڑھنے کی مہارت جلدی حاصل ہو جائے گی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اچھا، توانائی دہد، توانائی کا معنی ہے طاقت اور قوت۔ توانائی دہد، طاقت دے گی۔
یہ کتاب آپ کو عربی زبان کے پڑھنے کے مہارت میں طاقت دے گی، آپ جلدی مہارت حاصل کر لیں گے، اور یہ سب کیسے ہوگا؟ بتوفیقِ اللہ تعالی، اللہ کی توفیق کے ساتھ، وعونہِ، ای عونِ اللہ، وعونہِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ لفظِ اللہ کو، اور عون کہتے ہیں مدد کو۔
بتوفیقِ اللہ تعالی، اللہ کی توفیق سے وعونہِ اور اللہ کی مدد کے ساتھ۔
معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟
تو دیکھو مصنف نے سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، الحمد للہ رب العالمین کہا، اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام بھیجا، اور اس کے بعد مختصراً اس کتاب کا تعارف کروایا کہ این مختصر ایست مضبوط در علمِ نحو، کہ یہ مختصر رسالہ، یہ مختصر کتاب میں نے کس فن اور کس علم میں لکھی ہے؟ علمِ نحو کے اندر، نون حاء واؤ بھئی، نحوٌ، تو یہ علمِ نحو میں میں نے لکھی ہے۔
اور اس کتاب کے پڑھنے سے طالب علم کو فائدے کا... طالب علم کو فائدہ ہوگا، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے کون سا علم پڑھا ہو؟ علم الصرف پڑھا ہو، اس کو صیغوں کا پتہ ہو، اس کو اشتقاق کا پتہ ہو کیسے ایک صیغے سے دوسرا صیغہ بنایا جاتا ہے، اس کو علمِ صرف کے قوانین کا پتہ ہو، تو پھر اس کے بعد یہ کتاب جب پڑھے گا تو یہ کتاب اس کو آسانی سے عربی زبان کی ترکیب کا طریقہ بھی بتلائے گی اور نیز اس کے ذریعے اس کو جلدی سے معرب اور مبنی کی پہچان اور اسی طرح عربی زبان کے پڑھنے کا جو ملکہ ہے، جو عربی زبان کے پڑھنے کی جو مہارت ہے اس میں یہ کتاب اس کو قوت دے گی، توانائی دے گی، طاقت دے گی، بتوفیقِ اللہ تعالی وعونہِ، اور یہ اللہ کی توفیق اور اللہ کی مدد سے ہوگا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی یہ کوئی میرا کمال یا میری کتاب کا کمال نہیں بلکہ یہ سارا کس کی توفیق سے ہوگا؟ اللہ کی توفیق اور مدد سے ہوگا انشاء اللہ۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
تو یہ کتاب کس علم میں؟ علمِ نحو میں، اور اس کے پڑھنے سے پہلے کیا ضروری؟
کہ طالب علم کو عربی زبان کے مفردات کا پتہ ہو، عربی زبان کے مفردات سے کیا مراد ہیں؟ صیغے اور گردانیں، اور نیز اس کو اشتقاق کا پتہ ہو، اشتقاق کسے کہتے ہیں؟ ایک صیغے سے دوسرا صیغہ یا ایک لفظ سے دوسرا لفظ کیسے بنایا جاتا ہے، اور ضبطِ اہماتِ تصریف کہ اسے صرف کی اہم باتیں یاد ہوں، کیا مراد ہیں؟ قوانین، یہ تینوں چیزیں یعنی اس کو علمِ صرف میں اچھی مہارت ہوگی تو پھر اس کے بعد آسانی کے ساتھ یہ عربی زبان کی ترکیب میں اس کی رہنمائی کرے گی کہ کیسے ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ جوڑ کر جملہ بنانا ہے۔
کیسے جملہ بنانا ہے، کیسے عربی زبان میں بات کرنی ہے، کس طرح اس کو لکھنا ہے، اس میں یہ مدد کرے گی، اور نیز اس کی وجہ... اس کی یہ سب چیزیں جب اس کو یاد ہوں گی تو پھر یہ کتاب اس کو معرب اور مبنی کی پہچان کروائے گی، اس کو پتہ لگ جائے گا کون سا لفظ معرب ہے، اس میں تبدیلی آئے گی، اس کے آخر میں اعراب بدلے گا، اور کون سا لفظ مبنی ہے جس کا آخر نہیں بدلے گا، اور نیز اس کے ذریعے یہ عربی زبان کے پڑھنے کی جو مہارت ہے اس میں یہ کتاب اس کو طاقت دے گی، توانائی دے گی اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، بس اب جلدی جلدی ایک دفعہ پھر ترجمہ سمجھ لیں بھئی، میں نے اتنی تفصیل بیان کی بھئی اتنی، تو آپ نے بھی خوب شوق سے پڑھنا ہے، محنت سے اس کو یاد کرنا ہے، ایک ایک لفظ سمجھتے جائیں، جو بات سمجھ میں نہ آئے وہ دوبارہ پوچھیں بھئی، لیکن گزرنے نہ دیں کسی چیز کو ویسے ہی۔
کہتے ہیں: الحمد للہ رب العالمین، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔
والعاقبۃ للمتقین، اور اچھا انجام ہے پرہیزگاروں کے لیے، یعنی ان کا اچھا انجام ہوگا آخرت میں، ان کو اللہ جنت میں داخل فرمائیں گے۔
والصلاۃ والسلام، اور رحمت اور سلامتی ہو عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ، اس پر جو کہ اللہ کی مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔
محمدٍ، یعنی کہ محمد، و آلہِ، اور اسی طرح رحمت اور سلامتی ہو ان کی پیروی کرنے والوں پر اجمعین، سارے کے سارے، ان کی جو پیروی کرنے والے ہیں وہ ان سـ... وہ سب کے سب پر رحمت اور سلامتی ہو۔
اما بعد، حمد و صلاۃ کے بعد، بدان، تو جان لے، ارشدک اللہ تعالی، اللہ تعالی آپ کی رہنمائی فرمائے، کہ این مختصر ایست مضبوط در علم نحو، کہ یہ ایک مختصر کتاب ہے جس کو علمِ نحو میں لکھا گیا ہے۔
کہ مبتدی را بعد از حفظ مفردات لغت، کہ ابتدائی طالبِ علم کو عربی زبان کے مفردات کو یاد کرنے کے بعد، و معرفت اشتقاق، اور عربی زبان کے اشتقاق کو جاننے کے بعد، و ضبط اہمات تصریف، اور علمِ صرف کی اہم باتوں کو یاد کرنے کے بعد، با آسانی بہ کیفیت ترکیب عربی رہ نماید، آسانی کے ساتھ عربی زبان کی ترکیب کے طریقے میں راستہ دکھلاتی ہے، اس کی رہنمائی کرتی ہے۔
و بزودی در معرفت اعراب و بنا، اور جلدی ہی معرب اور مبنی کے پہچاننے میں، و سواد خوندن، اور پڑھنے کے مہارت میں، پڑھنے کے ملکے میں، توانائی دہد، یہ ایک کتاب توانائی دیتی ہے۔
توانائی دہد، توانائی دیتی ہے، بتوفیق اللہ تعالی۔
وعونہِ، اللہ تعالی کی توفیق اور اللہ کی مدد سے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟ حل ہو گیا؟