LECTURE-19
1
کل کے سبق میں مولانا ہم نے پڑھا تھا کہ بصرہ والے نحوی کہتے ہیں کہ من کا من زائدہ کلام موجہ میں نہیں آتا بلکہ صرف کس میں آتا ہے کلام غیر موجہ میں آتا ہے، جبکہ کوفہ والے نحوی کہتے ہیں کہ کلام موجہ کے اندر بھی من زائدہ آتا ہے اور دلیل کے طور پر وہ کلام عرب اور قرآن کی بعض آیات ذکر کرتے ہیں।
جیسے ایک ایت کیا ذکر ہوئی تھی کل کہ قرآن میں آتا ہے ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا، اللہ تمام گناہوں کو بخش دیں گے، بھئی تمام گناہوں کو بخشنے والے ہیں اور دوسری جگہ آتا ہے یغفر لکم من ذنوبکم اور یہ من کیا ہے؟ زائدہ ماننا پڑے گا، اگر زائدہ نہ مانے تو پھر یہ من تبعیضہ بنے گا اور معنی یہ بنے گا کہ پاک گناہوں کو معاف کریں گے।
تو دونوں آیتوں میں تعارض لازم آئے گا، ایک آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام گناہوں کو بخش دیں گے اور دوسری سے کیا ہے؟ بعض کو بخش دیں گے جس کو چاہیں گے، تو دونوں میں تعارض آیا لہٰذا اس تعارض کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک من کو کیا مانا جائے زائد مانا جائے।
اور اسی طرح عرب کا قول ہے قد کان من مطر، تو یہاں دیکھو یہ من آیا اور یہ دونوں جگہ کلام موجہ ہے بھئی معلوم ہوا کلام موجہ میں بھی من زائدہ آتا ہے بھائی।
جواب دیا تھا مولانا بصرہ کے نحوی جواب میں کیا کہتے ہیں کہ دراصل آیتوں کا محل الگ الگ ہے مولانا ایک آیت ہے امت محمدیہ کے بارے میں।
جس میں تمام گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے اور دوسری آیت ذکر ہے امت نوح علیہ السلام کے لیے بھئی اور اس میں اس میں بعض گناہوں کے معاف کرنے کا ذکر ہے بھئی تو کوئی تعارض نہیں بھئی نوح علیہ السلام کی امت سے یہ وعدہ کیا کہ اگر اللہ چاہیں تو تمہارے بعض گناہوں کو بخش دیں اس سے اور امت محمدیہ کے بارے میں اللہ یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ان کے افراد کے اللہ چاہیں گے تو جس کے چاہیں گے سارے گناہوں کو معاف فرما دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟
جی اور سزا نہیں دیں گے بھئی۔
اور جبکہ قد کان من مطر کا جواب جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ من بھی جو ہے زائدہ نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ تبعیض کے لیے ہے ای قد کان بعض مطر یا یہ من کون سا ہے بیان کے لیے ہے مولانا ای قد کان شئ من مطر تو یہ من نے بیان کیا بھئی شئ ان کا।
اور یا مولانا یہ سوال حکایت پر مبنی ہے سوال کے اندر من زائدہ آیا تھا اور اس سے فارم تو کیا ہے کلام غیر موجہ سوال کیا تھا هل کان من مطر کیا بارش ہوئی تھی؟ تو وہاں استفہام ہے کلام غیر موجہ میں اس میں من زائدہ آیا اور کلام غیر موجہ میں من زائدہ اتا ہی رہتا ہے تو جب سوال میں آیا تھا تو جواب کو اس کے مطابق کرنے کے لیے اس میں بھی من کو کیا کر دیا گیا؟ زائد ذکر کر دیا گیا اس کا یہ معنی نہیں کہ کلام موجہ میں آتا رہتا ہے بلکہ یہ صرف یہاں پر آیا کس جواب کو کس کے مطابق کرنے کے لیے؟ سوال کے مطابق کرنے کے لیے بھائی।
تو ان میں تاویل کی جاتی ہے کیا کی جاتی ہے؟ تاویل بھائی।
جی।
اور اس کے بعد الہ بتلایا الہ اور حتی کے بارے میں بتلایا کہ الہ بھی غایت سے انتہاے غایت سے انتہا مسافت کے لیے آتا ہے اسی طرح حتی بھی کس لیے آتا ہے انتہائی مسافت کے لیے آتا ہے।
جی।
انتہائے غایت اور لیکن فرق یہ مولانا کہ الہ بمعنی مع کے آتا ہے اور قلیل آتا ہے جبکہ حتی کیا ہے مع کے آنے میں کثیر آتا ہے نیز الہ جو ہے اس میں ظاہر پر بھی داخل ہوتا ہے اس میں ضمیر پر بھی جبکہ حتی صرف اس میں ظاہر پر داخل ہوتا ہے اس میں ضمیر پر داخل نہیں ہوتا اور بعض علماء کہتے ہیں کہ داخل امام ابرص فرماتے ہیں کہ یہ اس میں ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے بھائی।
تو اس کا جواب دیا تھا کہ یہ جو بعض اشعار میں آیا ہے یہ شاذ ہے مولانا قلیل ہے بین انتہا قلیل ہے।
اور اس کے بعد فی کے بارے میں پڑھا تھا فی ظرفیت کے لیے آتی ہے کہ ما بعد ما قبل کے لیے ظرف ہوتا ہے جیسے زید فی الدار اور کبھی کبھی یہ بمعنی علی کے بھی آتی ہے جیسے لاصلبنکم فی جزوع نخلی تو یہاں پر کیا ہے بھئی؟
علی کے معنی میں ہے بھائی।
اور اس کے بعد باء آئی تھی باء سب سے زیادہ کثیر الاستعمال ہے بھئی عرب کے اندر اور یہ بہت سے معانی کے لیے آتی ہے جن میں سے چند معنی انہوں نے ذکر کیے بھئی بتلایا تھا کہ یہ باء الساق کے لیے آتی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانے کے لیے।
جیسے مررت بزید یعنی میرا گزرنا مل گیا کس کے ساتھ زید یعنی زید کے پاس سے گزرا میں اور کبھی استعانچ کے لیے آتی ہے باء کبھی علت بتلانے کے لیے آتی ہے بھئی سبب بتلاتی ہے ما قبل کا اور کبھی مصاحبت کے لیے آتی ہے اور کبھی کبھار مقابلے کے لیے آتی ہے یعنی ایک چیز دوسری چیز کے مقابلے میں ہے بدلے میں ہے جیسے بعت ھذا بذاک।
اور کبھی کسی فعل کو متعدی بنانے کے لیے بھی باء لے کر آتے ہیں اور کبھی ظرفیت کے لیے بھی باء آتی ہے باء بمعنی فی جیسے جراست بالمسجد ای فی المسجد।
جی اور یہ مولانا زائدہ استفہام کے لیے بھی آتی ہے زائدہ بھی آتی ہے استفہام میں।
جی زائدہ آتی ہے اور زائدہ با زائدہ آتی ہے اور میں نے بتلایا جو حروف زائدہ ہوتے ہیں جو کسی سے متعلق نہیں بھئی زائدہ کہاں آتی ہے بتایا تھا دو جگہیں ہیں بعض جگہ قیاساً زائدہ آتی ہے آپ بھی کیا کر سکتے ہیں قیاس کرتے ہوئے ایسے موقع پر زائدہ لا سکتے ہیں اور بعض جگہیں موقوف علی السماع ہیں عربوں سے ہم نے سنا ہے وہ زائد لے کر آئے ہیں ہم اس کی ان کی طرح نہ زائد نہیں لا سکتے بھئی قیاساً کون سی جگہ ہیں کہتے ہیں کہ بھئی نفی اور استفہام کی خبر نفی کی خبر لیس اور ما مشابہ لیس وغیرہ کی جو خبر ہے اس پر آپ با زائدہ لا سکتے ہیں زید لیس قائماً।
آپ کہہ سکتے ہیں
لیس زید بقائماً اور اسی طرح آپ کہتے ہیں ما زید قائماً اور آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں ما زید بقائماً।
اور استفہام کے اندر مولانا ہل زید قائم ہل زید بقائم تو استفہام اور نفی کی خبر پر با زائدہ آ سکتی ہے اور سماع بعض جگہوں میں سماع بعض جگہوں میں زائدہ ہے وہ موقوف علی السماع ہے مرفوع کے اندر بھی ائی ہے منصوب کے اندر بھی مرفوع جیسے بحسبک درہم।
بحسبک درہم یا بحسبک زید تو یہ اصل میں کیا ہے مولانا।
حسبک درہم تو حسب کیا ہے مولانا مجرور مرفوع مجرور لفظاً اور مرفوع محلا ہے بھائی।
اور فاعل کفا بالله شہیدا اس کے اندر با کیا ہے مولانا زائدہ ہے با زائدہ ہے اور لفظ اللہ مجرور لفظاً اور مرفوع محلا کیا بن رہا ہے کفا کے لیے فاعل بن رہا ہے کیا بن رہا ہے فاعل بن رہا ہے।
ای کف اللہ।
اور منسوب کے اندر بھی بعض یہ تو مرفوع کا مقام تھا مولانا فاعل بھی مرفوع ہوتا ہے اور مبتدا بھی کیا ہوتا ہے مرفوع।
تو ان پر با زائدہ داخل ہوئی اور کبھی کبھی منصوب محل میں بھی جگہ نصب کی ہوتی ہے وہاں با زائدہ لے آتے ہیں مولانا جیسے القا بیدہ।
تو القا تو خود متعدی ہے مفعول کو چاہتا ہے پھر با اس کے صلے میں لے کر آئے تو یہ با کیا ہے مولانا زائدہ ہے القا یدہ।
اور اس کے بعد لام آیا تھا مولانا بتایا تھا کہ لام اختصاص کے لیے آتا ہے جیسے الجل للفارس।
اور تعلیل علت بتلانے کے لیے آتا ہے کہ ضربت للتادیب زائدہ بھی آتا ہے جیسے ردیف لکم حالانکہ ردیف تو خود متعدی ہے لام کے لانے کی ضرورت نہیں تو ردیفکم کہتے ہیں تو یہ لام زائدہ ہے مولانا।
اور کبھی کبھار معنی عن کے آتا ہے جب یہ کس کے ساتھ آئے قول کے ساتھ جیسے اس آیت میں قال الذین کفروا للذین آمنوا لو کان خیراً ما سبقونا الیہ کہا ان لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے تھے ان کے بارے میں کیا کہا کافروں نے।
اگر ایمان اسلام میں کوئی خیر ہوتی تو ہم لوگ عقلمند دولت مند بڑے بڑے سردار ہم پہلے ایمان لے آتے یہ بعد میں اور چونکہ یہ تو سارے غریب غرباء فقراء ہیں یہ صحابہ سارے تو یہ ایمان لے کر آئے ہیں تو معلوم ہوا ایمان میں کوئی خیر نہیں اگر خیر ہوتی تو بڑے بڑے لوگ لے ایمان لے آتے بھائی।
تو یہ بات انہوں نے کن کے بارے میں کہی مومنین کے بارے میں کہی اور
یہاں پر جو لام آیا یہ عن کے معنی میں ہے مومنین سے نہیں کہا مومنین کے بارے میں کہا اور دلیل اس کی کیا آگے سب قونا آ رہا ہے غائب کا صیغہ اگر مومنین مخاطب ہوتے ان سے کیا بات ہو رہی ہوتی کہ اس کے کفار نے مومنین سے کہا تو ان کو یہ کہتے کہ سبق تمونا ما سبق تمونا تم ہم پر سبقت نہ کر جاتے لیکن یہاں غائب کا صیغہ آیا جس نے کیا بتلایا کہ خطاب جن سے ہو رہا ہے وہ کیا یہ بات جن کے یہ جس پر لام داخل ہو رہا ہے الذین وہ مخاطب نہیں ہے بلکہ ان کے بارے میں کیا ہو رہی ہے بات ہو رہی ہے اور جب وہ غائب ہے تو پھر مخاطب نہیں تو یہ لام بمعنی کس کے ہوا عن کے معنٰی میں ہوا।
سمجھ میں آیا؟ تو عن کے معنٰی میں ہوا اور لیکن وفیہ النظر کہہ کر کہا تھا اس میں اشکال ہے مولانا اس لیے کہ یہ جواب اس کا ہو سکتا ہے کہ کفار نے ایک مومنین کے ایک گروہ سے یہ کہا دوسروں کے بارے میں ایک گروہ سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کیا کہہ رہے ہیں کہ
اگر ایمان میں کوئی بھلائی ہوتی تو پھر یہ جو غریب غرباء دوسرے ایمان لے کر آئے ہیں یہ ہم پر سبقت نہ کرتے।
اور بمعنی الواو اور کبھی لام بمعنی واو کے بھی قسم کے لیے آتا ہے لیکن یہ تعجب کے مقام میں آئے گا ویسے نہیں آئے گا جیسے اس کی مثال شعر گزری تھی।
اور اس کے بعد رب آیا تھا مولانا رب کے بارے میں انہوں نے بتایا تھا رب تقلیل کے لیے آتا ہے انشا تقلیل کرتا ہے یہ کیا کرتا ہے انشا لیکن میں نے بتایا تھا یہ اصل وضع میں ہے اب اکثر استعمالات میں یہ کس لیے آتا ہے؟
تکثیر کے لیے یہ وضع کے اندر تو تقلیل کے لیے تھا لیکن اب تکثیر کے لیے ہے।
اور یہ صدارت کلام کو چاہتا ہے اور یہ کس پر داخل ہوگا؟ نکرہ موصوفہ پر کہ اس کی صفت آگے لائی جائے گی مولانا।
یہاں مولانا کبھی یہ داخل ہوتا ہے ایسی ضمیر مبہم پر جو ہمیشہ کیا ہوتی ہے مفرد مذکر ہوتی ہے اگرچہ اور اس کے آگے پھر تمیز آتی ہے مفرد منسوب تو اگرچہ وہ تمیز مفرد ہو تثنیہ ہو جمع ہو مذکر ہو مونث ہو یہ ضمیر ہمیشہ کیا رہتی ہے؟
مفرد مذکر رہتی ہے।
تو یہ ضمیر راجع ہوتی ہے شئ ان کو ذہن کے اندر کس چیز کو راجع ہے؟ شئ ان کو।
اور پھر آگے شئ ان کے اندر تو ابہام ہے کیا چیز ہے آگے تمیز آ کر اس ابہام کو کیا کر دیتی ہے؟ دور کر دیتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ان چند جگہوں میں سے ہے جہاں ازمار قبل الذکر جائز ہے।
یہ ان چند جگہوں میں سے ہے جہاں پر ازمار قبل ال ایک تنازع فعلین کے باب میں آپ نے پڑھا تھا।
اور ایک ضمیر شان اور ضمیر قسہ آپ نے پڑھی اس میں بھی ما قبل مرجع ضمیر کا ذکر نہیں ہوتا اور تیسرا مقام یہ پڑھا مولانا جہاں رب کس پر داخل ہو رہا ہے ایک ضمیر مبہم پر جس کا پہلے کوئی مرجع گزرا نہیں بلکہ ذہن میں شئ ان کی طرف یہ ضمیر راجع ہے اور آگے آنے والی تمیز اس شئ ان سے ابہام کو کیا کر دیتی ہے؟ دور کر دیتی ہے।
جب تو یہ مولانا بصریوں کے نزدیک یہ تمیز ہمیشہ مفرد مذکر رہے گی جبکہ
کوفہ والے کہتے ہیں کہ مطابقت ضروری ہے مفرد مذکر نہیں رہے گی تمیز اگر مفرد تو یہ ضمیر مذکر مفرد تمیز اگر تثنیہ تو یہ ضمیر تثنیہ اگر تمیز جمع تو یہ ضمیر بھی جمع اور اگر تمیز مونث تو یہ ضمیر بھی مونث وہ مطابقت کا قول کرتے ہیں اور کبھی کبھی رب کے ساتھ ما کافہ مل جاتا ہے کافہ کافہ کا روکا یہ ما کافہ بھی چونکہ اس کو عمل سے روک دیتا ہے اس لیے ما کافہ کہلاتا ہے।
اور پھر مولانا پہلے تو رب صرف نکرہ موصوفہ پر یا ضمیر پر داخل ہوا کرتا تھا لیکن ما نے جب اس کو عمل سے روک دیا اب یہ دونوں جملوں پر داخل ہوگا جملہ اسمیہ پر بھی اور جملہ فعلیہ پر اب مفرد پر داخل ہونا ضروری نہیں।
اور اس کے بعد بتایا تھا کہ رب کے لیے فعل ماضی کا ہونا ضروری ہے بھئی اس لیے کہ رب آتا ہے ایسی تقلیل کے لیے جو یقینی ہو اور یقینی بات ماضی میں ہوگی یا مستقبل میں ہوگی بھئی؟
ماضی میں ہوگی بھائی।
اس کے بعد حروف جارہ میں سے وربا ہم نے پڑھا بھئی وربا وہ ہے کہتے ہیں جو کس کو کلام کی ابتدا میں لایا جاتا ہے جیسے شاعر نے قول ذکر کیا تھا وبلدۃ لیس بھا تو یہ و کس معنی میں ہے؟
ربا کے معنی میں ہے।
اور پھر اختلاف ہے دو علماء کے گروہ ہیں بعض علماء فرماتے ہیں یہ و خود کس کے معنی میں ہے؟ ربا اور یہ و آگے بلدۃ آگے آنے والے اسم کو جر دیتا ہے جبکہ بعض کہتے ہیں نہیں یہ جر نہیں دیتا بلکہ اس و کے بعد ربا کیا ہوتا ہے؟ محذوف ہوتا ہے بھائی।
اس کے بعد واو قسم پڑھا اس کے حروف قسم پڑھے مولانا قسم کے لیے تین حروف بتلائے بھئی ایک با
واؤ اور تا اور اصل کیا ہے ان میں با اور لہذا با میں سب سے زیادہ وسعت اور گنجائش وہ اس میں ظاہر پر بھی داخل ہوگی اس میں ضمیر پر بھی داخل ہوگی اس کے ساتھ اقسم فعل کو ذکر بھی کر سکتے ہیں اور اقسم فعل کو ذکر حذف بھی حذف بھی کر سکتے ہیں اور نیز مولانا وہ استفہام پر بھی اکیلے بھی آ سکتی ہے اور غیر استفہام کے لیے بھی آ سکتی ہے।
اور پھر کبھی با کے بجائے واو استعمال کرتے ہیں اور واو چونکہ ہے فراغ تو لہذا اس کے اندر گنجائش کیا ہوئی کم ہو گئی اصل ہے با واو ہے
فراغ تو اس میں گنجائش کم ہوئی تو با اتا ہے اسم ظاہر اسم ضمیر دونوں کے لیے اور واو صرف کس کے لیے آتا ہے اسم ظاہر کے لیے آتا ہے اسم ضمیر کے لیے نہیں نین مولانا با داخل ہوا کرتی تھی با کے ساتھ اقسم فعل کو ذکر کرنا بھی جائز تھا اور حذف کرنا بھی جبکہ اس کے ساتھ ہمیشہ حذف ہی رہے گا اس کے ساتھ ذکر کرنا جائز نہیں تیسرا یہ تھا کہ با استفہام پر بھی داخل ہوا کرتی تھی جبکہ یہ استفہام پر داخل نہیں ہوگا।
تو واو یہ اور اس کے بعد کبھی واو کے بجائے تا استعمال کرتے ہیں تا کے اندر اور مولانا اس کے بعد کم ہوئی
اب واو ہر قسم کے اسم ظاہر پر داخل ہو سکتا تھا لیکن تا صرف لفظ اللہ کا।
اس کے بعد بتایا تھا کہ جواس قسم کے بعد انے والا جملہ آگے وہ جواب قسم کہلاتا ہے جس بات کی قسم کھائی جائے وہ کیا کہلاتا ہے جواب قسم کہلاتا ہے اور جس بات پر قسم کھائی جائے اور وہ جو جواب قسم مولانا اگر مثبت ہو چاہے جملہ فعلیہ ہو چاہے جملہ اسمیہ ہو اس کے پر لام کا داخل کرنا واجب ہے واللہ لزيد قائم واللہ لافعلن کذا تو لام کا لانا واجب اور ساتھ جملہ اسمیہ میں ان بھی لے آتے ہیں کبھی مولانا واللہ ان زیداً ل قائم।
اور اگر جملہ منفیہ ہو تو پھر مولانا ما اور لا کا داخل کرنا واجب واللہ ما زید قائم।
یا ما زید بقائم।
اس کے بعد مولانا کبھی کبھار جواب قسم کو حذف کر لیتے ہیں کب؟
جبکہ ما قبل ایسا جبکہ قسم ایسے جملے کے بعد واقع ہو جو کس پر
جو کس کو دلالت کر رہا ہے جواب قسم پر دلالت کر رہا ہے بھئی میں مثلاً واللہ لزيد قائم تو میں واللہ کو درمیان میں لے آتا ہوں زید واللہ قائم یا میں واللہ کو آخر میں لے آتا ہوں زید قائم واللہ تو یہ مولانا اب دال پر جزا دال پر جواب قسم ہے یہ جملہ کیا ہے؟ دال پر جواب قسم جواب قسم پر دلالت کر رہا ہے مولانا।
تو لہذا اب جواب قسم کو لانے کی ضرورت نہیں وہ محذوف ہوگا وہ محذوف ہوگا کیونکہ اگر اس کو بھی ہم ذکر کریں گے تو تکرار لازم آئے گا تکرار محض مولانا وہی دوبارہ ذکر کرنا پڑے گا।
اور یہ مولانا یہ دال پر جواب قسم ہے یہ خود جواب قسم نہیں اس لیے کہ جواب قسم کے اندر تو کیا تھی؟
مثبت جملے کے اندر کیا لانا واجب تھا؟ لام کا لانا اور اس میں ما قبل پر لام کا لانا واجب نہیں معلوم ہوا کہ یہ جواب قسم نہیں ہے بلکہ اس پر دلالت کر رہا ہے।
جی اس کے بعد بتایا تھا مولانا عن مجاوزت کے لیے آتا ہے ایک چیز تجاوز کر جائے ایک سے دوسری کی طرح
جیسے رمیت السہم عن القوس الی کس کے لیے آتا ہے؟
جی
استعلاء کے لیے آتا ہے ایک چیز دوسری چیز پر بلند ہے زید علی السطح کیا معنی؟ زید چھت پر اوپر ہے।
اور اس کے بعد بتلایا تھا کبھی اس پر عن پر من بھی داخل ہو جاتا ہے تو پھر یہ کس معنی میں ہوگا؟ جانب کے معنی میں
جلس تو من عن یمینه تو من جانب یمینه تو من بمعنی جانب کے عن بمعنی جانب کے ہوا اور اسی طرح مولانا کبھی علی پر بھی کیا داخل ہوتا ہے؟
جی
کیا؟
علا پر بھی
علا پر بھی من داخل ہوتا ہے تو پھر یہ بھی کس معنی میں ہوتا ہے یہ اسم ہوتا ہے اور کس معنی میں؟ فوق اس کے معنی میں
کیا معنی؟
نزلت من علی الفرس ای نزلت من فوق الفرس।
اسی طرح کاف بتلایا تھا مولانا کاف تشبیہ کے لیے آتا ہے اور کبھی کبھی یہ زائدہ بھی آ جاتا ہے جیسے اللہ کے اس قول میں ہے لیس کم
لیس کمثلہ شئ اس لیے کہ کاف کو اگر زائد نہ مانے تو معنی خراب ہوتا ہے معنی بن جائے گا اللہ کے مثل کا مثل نہیں
معلوم ہوا اللہ کا تو مثل موجود ہے اور اللہ کے مثل کا آگے مثل نہیں تو معنی خراب ہو جائے گا
2
تو لہذا کاف کو علماء کیا فرماتے ہیں؟ کاف کو زائدہ مانو، یہ بعض علماء، اور بعض علماء کہتے ہیں نہیں کاف کو زائدہ ماننے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ کلام کے انداز کا ہے، کنائے کا ہے، کنائے کے قبیل سے ہے، اور کنایہ اور اگر کاف کو زائدہ مانیں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ تصریح بن جائے گی، کیا بن جائے گی؟ تصریح، اور کنایہ افضل اور اعلیٰ اور ابلغ ہوتا ہے کس سے؟ صریح سے۔ تو لہذا یہ کنائے کے انداز میں کلام ہے، مقصد یہ ہے کہ اللہ کا مثل نہیں لیکن ادا کی اس کو کس انداز سے کیا گیا، کہا کیسے گیا کہ اللہ کے مثل کا مثل نہیں۔ اس لیے کہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اس مثل کا بھی آگے مثل کون ہوتے؟ خود ذات باری تعالیٰ ہوتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کنایہ ہے۔ یہ یہ دوسرا گروہ ہے علماء کا۔
اور کبھی کبھی یہ اسم بھی آتا ہے، کاف کس معنی میں آتا ہے؟ اسم بھی، جیسے:
وَیَضْحَکْنَ عَنْ کَالْبَرْدِ الْمُنْھَمِّ
وہ عورتیں ہنستی ہیں اپنے ایسے دانتوں کے ساتھ کالبردی جو کس کی طرح ہیں؟ اولوں کی طرح ہیں، برد اولے کہتے ہیں بھئی جو بارش میں گرتے ہیں، المنہمِ، منہم کہتے ہیں پگھلنے والے، پگھلتے ہوئے اولوں جیسے دانت جو وہ ہنستی ہیں ایسے دانتوں کے ساتھ جو کس کی طرح ہیں؟ جی، تو یہاں پر تو عورتوں کے ان دانتوں کو صفائی کے اندر اور سفیدی میں تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ اولوں کے ساتھ، اور جیسے پگھلتے ہوئے اولے اس لیے کہا کہ جیسے اولہ پگھل رہا ہو تو گیلا اور تر ہے، اسی طرح دانتوں پر بھی ان کا لعاب لگا ہوا ہے تو وہ بھی کیا ہیں، دانت بھی تر ہیں۔ تو یہاں پر مولانا مقام استشهاد ہے عَنْ کَالْبَرْدِ، کاف پر عن داخل ہو رہا ہے اور عن تو ہے حرفِ جار اور حرفِ جار داخل ہوتا ہے اسم پر، معلوم ہوا یہاں کاف کیا ہے؟ اسم ہے، مثلُ کے معنی میں ہے، یہ اب حرف ہے ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟
اس کے بعد مذ اور منذ آئے تھے مولانا، یہ زمانے کے ابتدائے زمانہ، کسی چیز کے ابتدائے زمانہ بتلانے کے لیے بھئی، ماضی کے اندر، اور یا مولانا ظرفیت کے لیے آتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور آخر میں خلا، عدا اور حاشا آئے تھے، یہ استثناء کے لیے آتے ہیں، کس لیے آتے ہیں؟ یاد رکھو، انہوں نے کتنے حروفِ جارہ ہمیں گنوائے؟ 19، کتنے؟ 19۔ یاد رکھو، ان 19 حروفِ جارہ میں سے یہ جو آخری تین ہیں: خلا، عدا، حاشا۔ یہ کبھی حرف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، حرفِ جار، تو مابعد ان کا مجرور ہوگا، اور کبھی یہ فعل بھی آتے ہیں تو پھر ان کا مابعد کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ پھر یہ جار نہیں دیتے، اور ان سے پہلے والے جو پانچ ہیں: مذ، منذ، کاف، عن اور علیٰ۔ یہ پانچ کبھی حروف ہوتے ہیں اور کبھی یہ اسم بھی آتے ہیں، کیا آتے ہیں؟ ان پر جب حرفِ جار داخل ہو جائے تو یہ کیا ہوتے ہیں؟ اسم، اور اسی طرح مذ اور منذ بھی کبھی کیا واقع ہوتے ہیں؟ مبتدا واقع ہوتے ہیں۔ تو 19 میں سے آخری تین جو، پہلے 11 جو ہیں، پہلے 11، یہ صرف حروف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اگلے پانچ جو ہیں مولانا وہ کبھی اسم استعمال ہوں گے کبھی حرف کے طور پر استعمال ہوں گے، اور آخری تین کبھی حرف کے طور پر اور کبھی فعل کے طور پر۔
فصلٌ: اَلْحُرُوْفُ الْمُشَبَّھَۃُ بِالْفِعْلِ سِتَّۃٌ
حروفِ مشبہ بالفعل چھ ہیں۔ بھئی یہ حروف ہیں اور یہ کیا کہلاتے ہیں؟ حروفِ مشبہ بالفعل کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی فعل کے ساتھ مشابہت ہے۔ اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لَیْتَ، لٰکِنَّ، لَعَلَّ۔ ان حروفِ مشبہ بالفعل کہتے ہیں کیونکہ یہ مشابہ ہیں کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ، فعل کے ساتھ ان کی مولانا لفظوں میں بھی مشابہت، معنیٰ میں بھی مشابہت۔ لفظوں میں اس طرح مشابہت کہ جیسے مولانا فعل، فعلِ ماضی کا آخر مبنی علی الفتح ہوتا ہے، ان سب کا آخر مبنی علی الفتح ہے۔ اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لَیْتَ، لٰکِنَّ، لَعَلَّ۔ سب کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ فتحہ، تو یہ بھی سارے کیا ہیں؟ مبنی علی الفتح جیسے ماضی کا آخر کیا ہوتا ہے؟ مبنی علی الفتح ہوتا ہے، ایک مشابہت لفظوں میں۔
دوسری مشابہت: جیسے فعلِ متعدی مولانا ایک فاعل چاہتا ہے تو فاعل کے ساتھ ساتھ اور کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مفعول کا بھی تقاضا، تو یہ حروف بھی کیا کرتے ہیں؟ ایک کو رفع دیتے ہیں اور ایک کو کیا دیتے ہیں؟ نصب دیتے ہیں، تو جیسے وہ ایک کو رفع دیتے ہیں اور ایک کو نصب، فاعل کو رفع اور مفعول کو نصب، تو یہ بھی ایک اسم کو رفع اور ایک کو نصب دیتے ہیں، اپنے اسم کو نصب اور اپنی خبر کو رفع دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تیسری مشابہت مولانا: جیسے فعل ثلاثی، رباعی، خماسی ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی ثلاثی، رباعی اور خماسی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ثلاثی، رباعی، خماسی، بھئی فعلِ خماسی پڑھا ہے آپ نے کہ نہیں پڑھا بھئی؟ جی؟ ہاں، فعل کا بھی خماسی نہیں آتا مولانا، فعل کیا ہوتا ہے ہمیشہ صرف ثلاثی اور رباعی آتا ہے، خماسی کے پڑھے ہیں کوئی باب آپ نے بھئی؟ جی؟ ہاں، تو پھر میں نے تو کہا خماسی بھی آتا ہے بھئی، میرا مطلب حروفِ اصلیہ سے مراد نہیں میری مراد نہیں ہے، حروفِ اصلیہ کے اعتبار سے تو ثلاثی اور رباعی آتا ہے، خماسی نہیں، زوائد کو ملا کر میں نے خماسی نام بنا دیا بھئی۔ کبھی ثلاثی تین حرف والا فعل ہوگا، کبھی رباعی چار چار والا ہوگا، چاہے اصلی ہوں چاہے زائد ہوں، اور کبھی پانچ حرف والا ہوگا مولانا، چاہے اصلی ہوں چاہے، ہاں ان میں چار اصلی ہو سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ، کبھی چھ حرف والا ہوگا مولانا فعل، سداسی بھی آ جائے گا لیکن اس میں زیادہ سے زیادہ چار اصلی ہوں گے اور باقی سارے کیا ہوں گے؟ زائد ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ثلاثی، رباعی، خماسی سے یہ مراد ہے کہ حروف اتنے ہوتے ہیں ان کے چاہے اصلی ہوں چاہے زائد ہوں، حروف مراد ہیں۔ تو ان میں بھی مولانا کوئی ثلاثی ہے، کوئی رباعی ہے، کوئی خماسی۔ اِنَّ تین حرف، اَنَّ تین حرف، آگے کَاَنَّ کتنے؟ چار حرف، لٰکِنَّ پانچ، یہ خماسی ہے، لَیْتَ تین، لَعَلَّ چار، تو کوئی ثلاثی ہے، کوئی رباعی ہے اور کوئی خماسی، یہ ہے لفظی مشابہت مولانا۔ سمجھ میں آیا؟
اور معنیٰ کے اندر بھی مشابہت ہے، معنیٰ میں یہ مشابہت کہ یہ فعل کا معنیٰ ادا کرتے ہیں، فعل کا کیا کرتے ہیں؟ معنیٰ ادا کرتے ہیں، بھئی کیا معنیٰ ادا کرتے ہیں بھئی؟ جی؟ اِنَّ اور اَنَّ کا معنیٰ ہوتا ہے حَقَّقْتُ، کیا معنیٰ آتا ہے؟ حَقَّقْتُ کے معنیٰ میں، لَیْتَ کس معنیٰ میں آتا ہے؟ تَمَنَّیْتُ، لَعَلَّ کس لیے آتا ہے؟ تَرَجَّیْتُ، لٰکِنَّ کس لیے آتا ہے؟ اِسْتَدْرَکْتُ، اور کیا رہ گیا؟ کَاَنَّ، شَبَّھْتُ۔ فعل کا معنیٰ ادا کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ اِنَّ، اَنَّ کس لیے آتے ہیں؟ تحقیق کے لیے، تو حَقَّقْتُ کا معنیٰ ادا کیا، اور لَیْتَ کس تمنا کے لیے آتا ہے تو تَمَنَّیْتُ کا معنیٰ ادا کیا، اور سارے کس کے معنیٰ میں استعمال ہوتے ہیں؟ فعل کا معنیٰ ادا کرتے ہیں، تو لفظوں میں بھی مشابہت جیسے فعل کا آخر مبنی علی الفتح، ان کا بھی مبنی علی الفتح، جیسے فعل ثلاثی، رباعی، خماسی، یہ بھی ثلاثی، رباعی، خماسی، جیسے فعل ایک فاعل کو رفع مفعول کو نصب دیتا ہے، یہ بھی ایک اسم کو رفع دیتے ہیں اور ایک کو نصب دیتے ہیں، اور معنیٰ کے اندر یہ معنیٰ کس کا ادا، یہ فعل کے معنیٰ میں ہوتے ہیں، فعل کا معنیٰ ادا کرتے ہیں، اِنَّ، اَنَّ بمعنیٰ حَقَّقْتُ، لٰکِنَّ بمعنیٰ اِسْتَدْرَکْتُ، لَعَلَّ بمعنیٰ تَرَجَّیْتُ، لَیْتَ بمعنیٰ تَمَنَّیْتُ، اور کَاَنَّ بمعنیٰ شَبَّھْتُ، میں نے تشبیہ دی۔
فصلٌ: اَلْحُرُوْفُ الْمُشَبَّھَۃُ بِالْفِعْلِ سِتَّۃٌ
حروفِ مشبہ بالفعل چھ ہیں۔
اِنَّ وَ اَنَّ وَ کَاَنَّ وَ لٰکِنَّ وَ لَیْتَ وَ لَعَلَّ
ھٰذِہِ الْحُرُوْفُ تَدْخُلُ عَلَی الْجُمْلَۃِ الْاِسْمِیَّۃِ
یہ کس پر داخل ہوتے ہیں مولانا؟ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں۔
تَنْصِبُ الْاِسْمَ وَ تَرْفَعُ الْخَبَرَ
اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں اور اپنی خبر کو رفع دیتے ہیں۔
کَمَا عَرَفْتَ
جیسے کہ آپ جان چکے ہیں۔
نَحْوُ: اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ
بھئی کیا ترکیب کریں گے؟ اِنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، زَیْدًا منصوب لفظاً اس کا اسم، قَائِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر فاعل جو کس کو راجع ہے؟ اِنَّ کے اسم کو، اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا؟
وَقَدْ یَلْحَقُھَا مَا الْکَافَّۃُ
اور کبھی کبھی ان کے ساتھ ماء کافہ بھی مل جاتا ہے ان حروف کے ساتھ۔
فَتَکُفُّھَا عَنِ الْعَمَلِ
تو وہ ان کو عمل سے کیا کر دیتا ہے؟ روک دیتا ہے۔
وَحِیْنَئِذٍ تَدْخُلُ عَلَی الْاَفْعَالِ
اور پھر یہ افعال پر بھی داخل ہوتے ہیں اس وقت مولانا۔ پہلے تو صرف اسم پر داخل ہوا کرتے تھے، اب کس پر داخل ہوتے ہیں؟ افعال پر بھی داخل ہوتے ہیں۔
تَقُوْلُ: اِنَّمَا قَامَ زَیْدٌ
یہ ماء کافہ حرف ہوتا ہے مولانا، کیا ہوتا ہے؟ اور اس صورت میں یہ حصر، کلام میں حصر و تاکید کا فائدہ دیتا ہے، کس کا؟ حصر اور تاکید کا۔ اِنَّمَا قَامَ زَیْدٌ، کیا معنیٰ؟ زید کھڑا ہی ہے۔
وَاعْلَمْ اَنَّ اِنَّ الْمَکْسُوْرَۃَ الْھَمْزَۃِ لَا تُغَیِّرُ مَعْنَی الْجُمْلَۃِ
آگے آپ کو یہ بڑی قیمتی باتیں بتلا رہے ہیں مولانا اس کتاب کی ایک ایک بات نہایت قیمتی ہے، خلاصۂ نحو انہوں نے جمع کر دیا ہے اور کمال کیا مولانا، نحو کافیہ کے انداز میں لکھی اور کافیہ کے مشکل مسائل کو بھی نہیں چھیڑا انہوں نے، زیادہ مشکل مسائل کو ان کو چھوڑ دیا بھئی دیکھا، اب طالب علم کے ایک سال کو اس میں پڑھتا ہے اس کی بڑی مناسبت ہو جاتی ہے نحو کے ساتھ جس کے بعد اگلے سال اس کے لیے کافیہ سمجھنا بڑا آسان ہو جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کمال کیا ان مصنف نے بھئی انہوں نے، کافیہ بڑی پیچیدہ عبارت لاتے ہیں، بڑے مشکل الفاظ لاتے ہیں بھئی، یہ آسان لفظوں میں بات کرتے ہیں، واضح بات کرتے ہیں۔
آگے یہ بتلانے لگے ہیں بھئی دیکھو، ایک ہے اِنَّ، ایک ہے اَنَّ، ان میں کیا فرق ہے؟ یاد رکھو یہ جو اِنَّ ہے یہ جملے پر داخل ہوتا ہے اور اَنَّ بھی جملے پر داخل ہوتا ہے لیکن اِنَّ جملے پر داخل ہونے کے بعد اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے اور بس، اور وہ جملہ جیسے پہلے جملہ تھا اب بھی کیا ہے؟ جملہ۔ میں نے کہا: زَیْدٌ قَائِمٌ، اب میں ذرا زور دار بات میں کہنا چاہتا ہوں: اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، یقیناً زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ تو اِنَّ نے صرف کیا پیدا کی؟ تاکید پیدا کی اور جملہ اب بھی جملہ ہے، اب بھی کلامِ مفید ہے فائدہ دے رہا ہے سنے گا بھئی بات پوری ہو جاتی ہے۔ جبکہ اَنَّ، اَنَّ کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے اور اس کو مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے، مفرد کے حکم میں کرنے کا یہ معنیٰ کہ اب اس پر سکوت کرنا صحیح نہیں۔ میں کہتا ہوں: اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، یہ اَنَّ نے زَیْدٌ قَائِمٌ کو مفرد کے حکم میں کر دیا مولانا، مفرد کے حکم میں کیسے کریں گے؟ مضمونِ جملہ نکالیں مولانا، مضمونِ جملہ۔ مضمونِ جملہ کیا تھا؟ خبر کا مصدر نکالیں اور اس کو اسم کی طرف یا مبتدا کی طرف کیا کر رہے ہیں؟ مضاف کر رہے ہیں، جی: اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، کیا معنیٰ؟ قِیَامُ زَیْدٍ، کیا بن گیا؟ تو یہ یوں ہوا آپ نے گویا یوں کہا: زید کا قیام، قِیَامُ زَیْدٍ، بات پوری ہوئی؟ کسی کو کہو: زید کا قیام، بس، اس کو بات سمجھ میں آ جائے گی کچھ؟ نہیں، جب تک اس کی خبر آگے ذکر نہیں کریں گے بات پوری نہیں، تو اَنَّ نے کیا کیا مولانا؟ جملے کو کس کے حکم میں کر دیا؟ مفرد کے، مفرد کے حکم میں کرنے کا کیا معنیٰ؟ کیا اس پر سکوت کرنا صحیح؟ اب وہ مرکبِ مفید نہیں بلکہ اب وہ ناقص بن گیا مرکبِ ناقص، اس کے ساتھ ایک ہمیں خبر چاہیے پھر جا کر جملہ پورا ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی اچھی طرح؟
تو لہذا اِنَّ جملے کو جملہ ہی رکھتا ہے اور اَنَّ جملے کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے، لہذا جو مقام مفرد کا ہو وہاں اَنَّ لائیں گے، جو مقام جملے کا ہو وہاں کیا لائیں گے؟ اِنَّ لائیں گے۔ کیا کریں گے مولانا؟ جو مقام جملے کا ہو وہاں کیا پڑھیں گے؟ اِنَّ، اور جو مقام مفرد کا ہو وہاں کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ۔ جملے کا مقام ہو مثلاً آپ کلام کی ابتداء کرنا چاہتے ہیں، کلام شروع سے کلام کر رہے ہیں تو کیا کہیں گے؟ اِنَّ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ قَالَال کے بعد کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے یا اِنَّ پڑھیں گے؟ اِنَّ پڑھیں گے کیونکہ قَالَال کے آگے مقولہ چاہتا ہے جو جملہ ہونا چاہیے، میں نے اس سے کہا: قُلْتُ، میں نے اس سے کہا، کیا کہا؟ جملہ ہوگا یا نہیں ہوگا کہ زید کھڑا ہے یا زید بیٹھا ہے یا عمر گیا ہوا ہے یا عمر سویا ہوا ہے، جملہ آئے گا یا نہیں؟ تو آگے جملہ، قَالَال آگے مقولہ چاہتا ہے اور وہ مقولہ جملہ ہوتا ہے، لہذا قَالَال کے بعد کیا پڑھیں گے؟ اِنَّ پڑھیں گے۔ اِعْلَمْ کے بعد مولانا اَنَّ پڑھیں گے کیونکہ اِعْلَمْ کیا چاہتا ہے؟ دو مفعول چاہتا ہے، کیا چاہتا ہے؟ تو مابعد کیا ہو جاتا ہے مولانا؟ جملہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہو جاتا ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
اسی طرح اسمِ موصول کے بعد اگر آئے، کیا پڑھیں گے اِنَّ یا اَنَّ بھئی؟ کیا؟ کیوں؟ شاباش! موصول کے بعد اِنَّ پڑھیں گے کیونکہ موصول کا صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے اور جملہ کس صورت میں باقی رہے گا اگر اِنَّ ہو، اگر اَنَّ ہو پھر تو وہ جملہ رہے گا ہی نہیں، پھر تو ایک جز بن جائے گا ہمیں دوسرا جز چاہیے۔ تو بس ضابطہ یہ: جہاں جملے کا مقام ہو وہاں اِنَّ آئے گا اور جو مفرد کا مقام ہو وہاں کیا آئے گا؟ اَنَّ۔ مثلاً مثلاً فاعل کا مقام ہے تو وہاں کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: بَلَغَنِیْ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، بَلَغَنِیْ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، بَلَغَنِیْ مجھے یہ بات پہنچی ہے، کیا پہنچی ہے؟ آگے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، پہنچی کس کو؟ مجھے، تو یہ مفعول بن گیا، اور کیا پہنچی بات؟ وہ آگے ہے اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، یہ فاعل ہے اور فاعل مفرد ہوتا ہے یا جملہ ہوتا ہے؟ مفرد، تو یہ مقام ہے مفرد کا لہذا یہاں اِنَّ نہیں پڑھیں گے بلکہ کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے، اور اَنَّ اس کو مفرد کے حکم میں کس طرح کرے گا؟ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ کس معنیٰ میں ہے؟ قِیَامُ زَیْدٍ کے معنیٰ میں ہے، کس کے معنیٰ میں ہے؟ اب یوں بن گیا: بَلَغَنِیْ قِیَامُ زَیْدٍ، مجھے قیامِ زید کی خبر پہنچی ہے۔ مجھے قیامِ زید کی خبر، تو پہنچی کس کو؟ مجھے، مفعول، اور پہنچی کیا خبر؟ قیامِ زید کی، وہ کیا بن گیا؟ فاعل۔ تو مولانا فاعل کے مقام میں آئے تو اَنَّ پڑھیں گے، مفعول کے مقام میں آئے تو کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ، کیونکہ مفعول جملہ نہیں ہوتا بلکہ کیا ہے؟ مفرد ہوتا ہے، تو وہاں بھی اَنَّ پڑھیں گے۔ مضاف الیہ واقع ہو رہا ہو تو وہاں کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے، کیونکہ مضاف الیہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہوتا ہے جملہ نہیں، صورت سمجھ میں آئی؟ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
وَاعْلَمْ
جان لے تو
اَنَّ
بے شک، دیکھا اِعْلَمْ کے بعد کیا پڑھا؟ اَنَّ پڑھا۔ آگے اِنَّ کا لفظ مراد ہے۔ جان لے تو کہ اِنَّ جو
الْمَکْسُوْرَۃَ الْھَمْزَۃِ
اِنَّ جو مکسور ہے جس کا ہمزہ
لَا تُغَیِّرُ مَعْنَی الْجُمْلَۃِ
اِنَّ جو مکسورُ الهمزہ ہے، لَا تُغَیِّرُ مَعْنَی الْجُمْلَۃِ، یہ جملے کے معنیٰ کو بدلتا نہیں
بَلْ تُؤَکِّدُھَا
بلکہ اس میں کیا پیدا کر دیتا ہے؟ تاکید پیدا کر دیتا ہے۔ مولانا! اِنَّ الْمَکْسُوْرَۃَ الْھَمْزَۃِ پڑھنا چاہیے بھئی، اَلْمَکْسُوْرَۃَ الْھَمْزَۃِ۔
3
کیا پڑھیں گے؟
المكسورة إِنَّ، بھئی، انَّ پر کیا داخل ہو رہا ہے؟ انَّ پر کیا داخل ہو رہا ہے؟ اور انَّ اپنے اسم کو کیا دیتا ہے؟ نصب دیتا ہے، تو یہ انَّ بھی کیا ہے، مولانا؟ محل کے اعتبار سے منصوب ہے، اور یہ معرفہ ہے کیونکہ عبارت میں، کیونکہ وہ جو عبارتوں میں "انَّ" کا لفظ آتا ہے، اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ انَّ رکھ دیا، تو یہ علم ہے۔ اور وہاں، تو یہ، مولانا، محلاً منصوب ہے، معرفہ ہے، اور المكسورة اس کی صفت ہے۔ المكسورة اس کی...
تو انَّ خود مکسورہ ہوتا ہے یا اس کی ہمزہ مکسور ہوتی ہے؟ جی؟ کون مکسور ہوتا ہے؟ انَّ مکسورہ ہوتا ہے یا اس کی ہمزہ، شروع میں ہمزہ کے نیچے کسرہ آتا ہے؟ ہمزہ کے نیچے کسرہ آتا ہے، اور انَّ کی ہمزہ پر کیا آتا ہے؟ فتحہ۔ تو مکسورةً، المكسورةَ اور الهمزهُ اس کا نائب فاعل ہے۔ الهمزهُ اس کا کیا ہے؟ نائب فاعل ہے، اور نائب فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، اسی لیے میں نے "المكسورةَ الهمزهُ" پڑھا۔
تو یوں، یہ صفت بحالِ متعلقہِ ہے، مولانا، المكسورةَ۔ المكسورةَ کیا ہے، مولانا؟ متعلقہِ ہے، اور صفت بحالِ متعلقہِ کس کو کہتے ہیں؟ جو لفظوں میں صفت ہو ماقبل کی اور معنی کے اعتبار سے صفت ہو ما بعد کی، یعنی ماقبل کے متعلق کی۔ سمجھ میں آ رہی ہے عبارت کہ نہیں آ رہی؟ وہ ایسا انَّ کہ مکسور ہو اس کا ہمزہ۔ ایسا انَّ کہ مکسور ہو اس کا ہمزہ۔
تو دیکھو، عبارت، ترکیب یوں ہوگی: انَّ حرفٌ من الحروف المشبهة بالفصل، انَّ، انَّ مولانا، مرفوع منصوب محلاً، منصوباً محلاً، کیا بنے گا؟ موصوف۔ المكسورةَ صیغہ اسم مفعول، صیغہ اسم منصوب لفظاً۔ الهمزهُ مرفوع لفظاً، المکسور اسم مفعول کے لیے نائب فاعل۔ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر صفت شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ انَّ کے لیے، انَّ کے لیے۔ انَّ اپنے موصوف اپنی صفت سے مل کر انَّ کے لیے کیا ہوا؟ اسم ہوا۔
ترکیب آئی سمجھ میں بھئی؟ جان لے تو کہ انَّ وہ جو مکسور الهمزة ہے لا تغير معنى الجملة، وہ جملے کے معنی کو بدلتا نہیں ہے، بل تؤكدها، بلکہ اس میں کیا پیدا کرتا ہے؟ بلکہ اس کو مؤکد کر دیتا ہے، اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے۔ وان المفتوحة الهمزة، اور انَّ جو ہے مفتوح الهمزة جو ہے مع ما بعدها مع ما بعدها من الاسم والخبر في حكم المفرد، وہ اپنے ما بعد کے ساتھ انَّ جو مفتوح الهمزة ہے اپنے ما بعد کے ساتھ، بھئی وہ ما بعد کیا ہوتا ہے؟ من بیانیہ ہے، یعنی کہ اسم اور خبر۔ تو ما بعد کیا ہے؟ یعنی کہ اسم اور خبر۔ تو انَّ اپنے ما بعد یعنی اسم اور خبر سے مل کر فی حکم المفرد، کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ مفرد کے حکم میں ہوتا ہے۔
ولذلك يجب الكسر، لہٰذا کسرہ واجب ہے ہمزہ میں إذا كان في ابتداء الكلام، جبکہ ہمزہ، جبکہ یہ کہاں آئے مولانا؟ کلام کے، انَّ کہاں آئے؟ کلام کے ابتداء میں آئے، نحو: إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ، یقیناً زید کھڑا ہے۔ وبعد القول، اور اسی طرح قول کے بعد بھی انَّ آئے گا، كقوله تعالى، جیسے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ، تو یقول کے بعد کیا آیا؟ انَّ۔
وبعد الموصول، اسم موصول کے بعد بھی انَّ پڑھیں گے، جیسے: مَا رَأَيْتُ الَّذِي إِنَّهُ فِي الْمَسَاجِدِ۔ الذی کے بعد کیا آیا؟ انَّ آیا۔
جی؟ وإذا كان في خبرها اللام، اور جب مولانا اس کی خبر میں لام آ جائے، آگے خبر پر کیا آ جائے؟ لام، پھر بھی کیا پڑھیں گے؟ انَّ پڑھیں گے، انَّ نہیں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ لام جو ہے، یہ جملے کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، یہ لام جو آ رہا ہے قائمٌ پر، یہ کون سا ہے مولانا؟ یہ لام جملے کی تاکید کے لیے آتا ہے، مفرد کی تاکید کے لیے، اور جملے کی تاکید کے لیے انَّ آتا ہے یا انَّ آتا ہے؟ انَّ آتا ہے، لہٰذا یہاں کیا پڑھیں گے؟ انَّ پڑھیں گے۔
وإذا كان في خبرها اللام، جبکہ اس کی خبر میں لام ہو، نحو: إنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ۔ ويجب الفتح حيث يقع فاعلاً، اور فتحہ واجب ہوگا، یعنی انَّ پڑھیں گے جہاں یہ کیا واقع ہو مولانا؟ فاعل واقع ہو، اسم اور خبر کے ساتھ مل کر، نحو: بَلَغَنِي أَنَّ زَيْدًا قَائِمٌ۔ جی تو أَنَّ زَيْدًا قَائِمٌ کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔
وحيث يقع مفعولاً، اور جہاں کیا واقع ہو؟ مفعول واقع ہو، نحو: كَرِهْتُ، میں نے ناپسند کیا، کیا ناپسند کیا؟ أَنَّكَ قَائِمٌ، بھئی أي قيامك، كَرِهْتُ قيامك، میں نے آپ کے قیام کو کیا کیا؟ ناپسند کیا۔ تو دیکھا، مضمونِ جملہ نکلا یا نہیں نکلا مولانا؟
وحيث يقع مضافاً إليه، اور جہاں پر کیا واقع ہو مولانا؟ مضاف الیہ واقع ہو، تو وہاں بھی انَّ پڑھیں گے، جیسے: عَجِبْتُ مِنْ طُولِ أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ۔ عَجِبْتُ مِنْ طُولِ أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ۔ تو دیکھو، طول کی اضافت ہو رہی ہے، مضاف ہے، اور أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ پورا جملہ کیا ہے؟ مضافٌ الیہ ہے، اور اس پر کیا، تو مضاف الیہ پر کیا آنا چاہیے، انَّ یا انَّ؟ انَّ، کیونکہ مفرد کا مقام ہے۔ تو انَّ کیسے کرے گا اس کو مفرد، مولانا؟ مضمونِ جملہ نکالیں۔
کیا نکلے گا؟ قيام بكرٍ، کیا نکلے گا؟ قيامُ... اب اس کو مضاف، اس سارے کو ہٹا کر یہ لگا دو ذرا: عَجِبْتُ مِنْ طُولِ قيامِ بكرٍ۔ میں بقر کے طویل قیام سے، مجھے میں حیران ہوا۔ بقر کے طویل قیام سے میں حیران ہوا۔
وحيث يقع مجروراً، اور جہاں پر کیا واقع ہو؟ مجرور ہو جملہ، جیسے: عَجِبْتُ مِنْ أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ، بھئی انَّ پر مِن داخل ہو رہا ہے بھئی۔ تو یہ صرف انَّ پہ داخل نہیں ہو رہا بلکہ پورے جملے پر داخل ہو رہا ہے، اور مِن تو داخل ہوتا ہے کس پر؟ اسم پر۔ تو دراصل اس انَّ نے پورے جملے کو کیا کر دیا؟ مفرد یعنی اسم کے حکم میں کر دیا، اور اسم پر کیا داخل ہوا کرتا ہے؟ مِن، تو اس پر کیا داخل ہو گیا؟ مِن۔
تو کیسے ہوگا؟ عَجِبْتُ مِنْ أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ۔ أَنَّ بَكْرًا قَائِمٌ سے ذرا بنائیں مولانا، مفرد کیا بنے گا؟ خبر کے مصدر کو مضاف کریں انَّ کے اسم کی طرف: قيامُ بكرٍ، قيامُ بكرٍ۔ تو کیا بنے گا؟ عَجِبْتُ مِنْ قيامِ بكرٍ۔ عَجِبْتُ مِنْ قيامِ بكرٍ۔ میں حیران ہوا بقر کے قیام سے۔
وبعد لو، اور لو کے بعد بھی کیا پڑھیں گے مولانا؟ انَّ پڑھیں گے، انَّ نہیں۔ اس لیے کہ لو حرفِ شرط ہے مولانا۔ لو کیا ہے؟ حرفِ... اور آگے حروفِ شرط کی بحث بھی آنے والی ہے۔ وہاں آپ کو یہ بتلائیں گے کہ لو حرفِ شرط ہے، اور حروفِ شرط کے لیے، حروفِ شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں، کبھی اسم پر داخل نہیں ہوتے۔ اگر ان کے بعد فعل نہ آئے تو فعل کو محذوف نکالیں گے۔ کیا کریں گے؟ اور لو کے بعد فوراً لو انَّ آ رہا ہے، فعل نہیں آیا۔ تو اب اس کو انَّ پڑھیں گے اور فعل محذوف نکالیں گے، کیونکہ لو حرفِ شرط ہے اور حرفِ شرط ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، اور فعل تو یہاں موجود نہیں، لیکن ہمیں چاہیے، تو اب ہم کیا کریں گے یہاں پر؟ فعل کو محذوف نکالیں گے۔
اور یہ آگے آنے والا جملہ اس کے لیے فاعل بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ اور جب فاعل مفرد کا مقام ہے اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مفرد، لہٰذا وہاں انَّ نہیں پڑھتے بلکہ کیا پڑھتے ہیں؟ انَّ پڑھتے ہیں۔
جیسے: لَوْ أَنَّكَ عِنْدَنَا لَأَكْرَمْتُكَ، اگر آپ ہمارے پاس ہوتے تو میں البتہ آپ کا اکرام کرتا۔ ترکیب کرو مولانا۔ لَوْ أَنَّكَ... جی، لو کے بعد انَّ آیا بھئی، اور لو تو حرفِ شرط ہے، لہٰذا یہاں کیا نکالیں گے؟ کیا نکال دیں گے؟ ثبتَ نکال لو۔ کیا نکالو؟ یاد رکھو، بس حرفِ شرط کے بعد آپ نے ہمیشہ فعل نکالنا ہے، اگر عبارت میں ہے بہت اچھا ہے، فبها، ورنہ محذوف نکالیں گے۔
کیسے؟ لَوْ أَنَّكَ عِنْدَنَا لَأَكْرَمْتُكَ، جی ترکیب کرو بھئی۔ لو حرفِ شرط، ثبتَ فعلِ محذوف، ثبتَ فعلِ محذوف، انَّ حرف من الحروف المشبهة بالفعل، انَّك منصوب محلاً اس کا... اس کا اسم، عندَ منصوب لفظاً مضاف، نا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر... جی؟ یہ عندَ کیا تھا؟ کیا تھا، ظرف ہے؟ اور ظرف براہ راست خبر کبھی بنتا ہے بھئی؟ ظرف تو چاہے جار مجرور ہو یا ظرف ہو مولانا، یہ ہمیشہ کسی سے... کتنی چیزوں سے متعلق ہوتا ہے؟ آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتا ہے۔ یا فعل سے، یا مصدر سے، یا اسم فاعل، یا اسم مفعول، یا صفت مشبہ، یا اسم تفضیل، یا... یا... یا... اسم فعل کے ساتھ، یا مبالغے کے صیغے کے ساتھ۔ اور یہاں ان میں سے کوئی ہے؟ نہیں۔ جی؟ نہیں، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ پھر کیا کریں گے؟ جی؟ کیا نکالیں گے؟ لَوْ أَنَّكَ ثَبَتَّ عِنْدَنَا، لَوْ أَنَّكَ ثَبَتَّ عِنْدَنَا۔
انَّک اسم کون ہے؟ غائب کی ضمیر ہے، مخاطب کی ہے یا متکلم کی ہے؟ مخاطب کی، تو خبر بھی اس کے مطابق نکالو: لَوْ أَنَّكَ ثَبَتَّ عِنْدَنَا۔ ثَبَتَّ عِنْدَنَا۔
تو ثَبَتَّ فعل، تا ضمیر اس کا فاعل، اور عِنْدَنَا اس کے لیے کیا بن گیا؟ مفعول فیہ، ظرف۔ ظرف ہے بھئی، جار مجرور تو نہیں ہے، کیا ہے؟ ظرف ہے، یہ کیا بنا؟ ظرف مفعول فیہ ہے۔ تو یہ مفعول فیہ بنا، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر انَّ کی خبر۔ انَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر بتأویلِ مفرد، یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ثبتَ کے لیے۔ ثبتَ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔
لَأَكْرَمْتُكَ، یہ کیا ہے اس کے لیے؟ جزا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جزا کی کیا ترکیب کریں گے؟ لام تاکید کے لیے، لام تاکید کے لیے۔ اکرمتُ فعل، اکرمَ فعل، تُ ضمیر فاعل، ک ضمیر مفعول۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر... جملہ شرطیہ جزائیہ انشاءیہ ہوگا، خبریہ ہوگا؟ میں نے کیا ضابطہ بتلایا تھا، بھول گئے ہو بھئی؟ کیا ضابطہ بتلایا تھا؟ کیسے پتہ چلے گا شرط خبریہ ہے یا انشاءیہ ہے؟ میں نے بتلایا تھا جزا کو دیکھنا ہے آپ نے۔ اگر جزا جملہ خبریہ ہے تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہوگا، اور اگر جزا انشاء ہے تو پھر یہ جملہ شرطیہ انشاءیہ۔ اب یہاں بتائیے... جملہ خبریہ، خبر دے رہا ہے مولانا، تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہوا۔
میں آپ کا اکرام کروں گا، یہ خبر ہے یا انشاء ہے؟ خبر ہے مولانا، یہ کیا کر رہا ہے؟ خبر دے رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
وبعد لو، لَوْ أَنَّكَ عِنْدَنَا لَأَكْرَمْتُكَ۔ وبعد لولا، لولا کے بعد بھی انَّ پڑھیں گے مولانا۔ لولا کے بعد بھی کیا پڑھیں گے؟ اس لیے کہ مولانا لولا دو قسم پر ہے۔ ایک لولا تحضیضیہ ہے، ایک لولا امتناعیہ ہے۔ آگے ان کی بحث آنے والی ہے مولانا۔ ایک لولا کیا کہلاتا ہے؟ تحضیضیہ، ضاد کے ساتھ ہے۔ ایک لولا امتناعیہ ہے مولانا۔ یہ لولا امتناعیہ کی بات کریں گے بھئی، کیونکہ لولا تحضیضیہ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ لولا امتناعیہ ہے، اور لولا امتناعیہ کے بعد اسم آیا کرتا ہے جس کی خبر واجب الحذف ہے۔ لولا امتناعیہ کے بعد کیا آتا ہے مولانا؟ وہ کیا بنتا ہے؟ مبتدا۔ تو لولا امتناعیہ کے بعد مبتدا آتا ہے جس کی خبر کو حذف کرنا واجب ہے۔
تو اگر لولا کے بعد، اور مبتدا مفرد ہوتا ہے یا مولانا جملہ ہوتا ہے؟ مفرد ہوتا ہے، تو لولا کے بعد بھی کیا پڑھیں گے؟ انَّ پڑھیں گے، تاکہ یہ اپنے ما بعد کے اس کو کس کے حکم میں کر دے؟ مفرد کے حکم میں کر کے اس کو کیا بنا دے؟ مبتدا بنا دے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے: لَوْلَا أَنَّهُ حَاضِرٌ لَغَابَ زَيْدٌ۔ أي لولا حضوره ثابتٌ لغاب زيدٌ۔ انَّ نے کس کو معنی میں کر دیا؟ أَنَّهُ حَاضِرٌ بھئی، أَنَّهُ حَاضِرٌ سے بناؤ۔
حضور مصدر بن گیا۔ جی؟ حضورهُ، حضورهُ، تو حضورهُ، لولا حضورهُ، یہ حضورهُ مبتدا، اور اس کی خبر کیا ہے؟ واجب الحذف ہے، محذوف ہوگی وجوباً بھئی۔ کیا ہے؟ أي لولا حضوره ثابتٌ لغاب زيدٌ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
ويجوز العطف على اسم إن المكسورة بالرفع والنصب باعتراف المحل واللفظ۔ یہ ذرا مشکل بات ہے۔ توجہ سے سنو بھئی۔
مولانا، ادھر دیکھو۔ یہ ہے انَّ، یہ انَّ کے بعد آ رہا ہے اس کا اسم، یہ انَّ کے بعد آ رہی ہے اس کی خبر۔ اس خبر کے بعد ایک حرفِ عطف آ رہا ہے، اس حرفِ عطف کے بعد پھر آ رہا ہے عمرٌو۔ کیا تھا اصل جملہ؟ إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ وَ عَمْرٌو۔ اب یہ عمرو کا عطف ہم کس پر کرنا چاہتے ہیں؟ کس پر؟ ہم اس کا عطف کرنا چاہتے ہیں زید پر۔
اور زید منصوب ہے، تو عمراً کو بھی کیا پڑھیں گے؟ منصوب، تو یوں پڑھیں گے: إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ وَ عَمْرًوا۔
تو عمراً پر کیا پڑھیں گے؟ نصب، کیونکہ منصوب پر نصب کا عطف کیا جائے تو معطوف کو بھی کیا پڑھتے ہیں؟ منصوب، مجرور پر عطف کریں تو معطوف کو بھی کیا پڑھتے ہیں؟ مجرور، اور اگر مرفوع پر عطف کیا جائے تو معطوف کو بھی کیا پڑھتے ہیں؟ تو یہاں ہم عطف کس پر کر رہے ہیں؟ منصوب پر۔
لیکن اس عمرٌو پر رفع پڑھنا بھی جائز، مولانا۔ إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ وَ عَمْرٌو۔ بھئی کیوں، رفع پڑھنا کیوں جائز؟ اس لیے مولانا، آپ مجھے بتائیے، انَّ کس پہ داخل ہوا؟ جملے پر، اور اس نے جملے کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کی سوائے تاکید کے؟ سوائے تاکید کے کوئی اس نے تبدیلی پیدا نہیں کی، کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔
تو گویا، اب انَّ کے داخل ہونے سے پہلے زید کیا تھا؟ مبتدا، اور انَّ کے داخل ہونے کے بعد اب یہ زید انَّ کا کیا کہلائے گا؟ اسم۔ تو پہلے یہ مبتدا تھا، اور انَّ کے آنے کے بعد جملے میں صرف تاکید پیدا ہوئی ہے، اور کوئی تبدیلی نہیں۔ گویا یہ ابھی بھی مبتدا ہے، گویا کہ ابھی بھی کیا ہے؟ مبتدا ہے، اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ تو محل کے اعتبار سے مولانا، زایداً مبتدا ہے۔ محل کے اعتبار سے زید کیا ہے؟ مبتدا ہے، اگرچہ فی الحال انَّ اس کو کیا دے رہا ہے؟ نصب، لیکن انَّ نے صرف مولانا تاکید دی، جملہ ابھی بھی اسی طرح ہے۔ یوں سمجھو گویا زید کا محل ابھی بھی کیا ہے؟ مرفوع، اور اس محل کے اعتبار سے جب محل پر زید کے عطف کریں گے تو عمرو کو بھی کیا پڑھیں گے؟ مرفوع پڑھیں گے۔ سمجھ میں آیا؟
لیکن ایک شرط ہے، مولانا، کہ اس انَّ کی... یہ اگر آپ عطف کرنا چاہتے ہیں رفع کے ساتھ، کس کے ساتھ عطف کرنا چاہتے ہیں؟ نصب کے ساتھ کر رہے ہیں، پھر تو کوئی اعتراض والی بات ہی نہیں۔ لیکن آپ آگے جو عمرو کا عطف زید پر کر رہے ہیں، آپ عمرو پر کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ رفع۔ اس کے لیے ایک شرط ہے بھئی۔ شرط یہ کہ اس انَّ کے اسم کی خبر پہلے گزر چکی ہو۔ عمرو سے پہلے کیا ہو اس کی خبر؟ یا لفظوں میں گزری ہو، یا تقدیراً گزر چکی ہو، مولانا۔
کیا ہو؟ یا لفظوں میں گزری ہو یا تقدیراً گزر چکی ہو۔
4
ان شرطیہ مولانا کہ ان کے اسم کی خبر معطوف سے پہلے گزر چکی ہو لفظاً یا تقدیراً۔
لفظاً گزر چکی ہو یا تقدیراً لفظاً گزر چکی ہو یا تقدیراً گزر چکی ہو، کیوں؟ یہ شرط ہم نے کیوں لگائی؟ یہ شرط اس لیے مولانا دیکھیے، اگر لو میں نے کیا کہا؟ إن زيداً قائمٌ وعمروٌ قائمٌ وعمروٌ قائمٌ۔
اچھا، تو دیکھو ان میں کہ اسم زید کی خبر قائم پہلے گزر چکی ہے۔ اگر یہ خبر پہلے نہ گزری ہوتی اور کلام یوں ہوتا: إن زيداً وعمروٌ قائمٌ۔ کیسے ہوتا کلام؟ إن زيداً وعمروٌ قائمٌ۔ یعنی خبر پہلے ان کی گزری نہیں، اب اپ بتائیے مولانا ان کا اسم کون؟ زید۔
تو زید کے اندر عامل کون؟ ان۔ اور ان کی خبر کون؟ اگے کون ا رہا ہے؟ قائم اخر میں جا کے ا رہا ہے وعمرو قائم تو یہ قائم خبر ہے کس کی؟ ان کی، تو اس قائم کو رفع دینے والا کون؟ ان، ٹھیک؟
اب بتائیے عمرو مولانا، عمرو کا عطف اپ نے کس پر کیا؟ ان کے اسم پر کیا یا اس کے محل پہ کیا؟ اس کے محل پہ عطف کیا نا، کیونکہ محل کے اعتبار سے زید کیا ہے؟ مبتدا ہے، کیا ہے؟ تو اس کے محل پہ عطف کیا اور تو تو یہ ہوا مبتدا اور اس کے اندر عامل کون ہوا؟ عامل کون؟ ابتدا عامل۔
تو یہ عمرو مبتدا ہوا، ابتدا اس کے اندر عامل اور قائم اس کی خبر ہوئی اور اس کے اندر کون عامل؟ مبتدا کی خبر میں کون عامل ہوتا ہے؟ اس میں بھی ابتدا عامل ہوتی ہے۔ تو مبتدا میں بھی عامل ابتدا اور خبر کے اندر بھی عامل ابتدا۔ قائم کے اندر کون عامل ہوا مولانا؟ ابتدا، تو دیکھو ایک ہی معمول ہے قائم۔ اس میں ان بھی عامل ہے، اس میں ابتدا بھی عامل ہے اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا مولانا ایک معمول ہو اور اس کے اندر کتنے عامل ہوں؟ دو عامل ہوں۔
دو عامل ہوں، یہ جائز نہیں، اسی لیے ضروری ہے مولانا کہ ان کے محل پر اگر اپ عطف کرنا چاہتے ہیں تو ان کی خبر کیا ہونی چاہیے پہلے؟ لفظاً یا تقدیراً گزر چکی ہو۔ صورت سمجھ میں اگئی سب کو؟
خلاصہ، تو مولانا ان کے اسم کے لفظوں پر بھی عطف جائز اور اس کے محل پر بھی عطف جائز، اس لیے مولانا، لیکن ان میں یہ جائز نہیں۔ ان میں لفظوں پر تو عطف ہو سکتا ہے، محل پر عطف، وجہ یہ ہے، مولانا کیوں ان میں ہم نے کیوں اجازت دی؟ ان میں کیوں نہیں اجازت دی؟ وجہ یہ ہے مولانا، کہ ان لفظوں کے اعتبار سے موجود ہے اور معنی کے اعتبار سے معدوم ہے۔
ان لفظوں کے اعتبار سے موجود ہے اور معنی کے اعتبار سے لفظوں کے اعتبار سے ان یوں موجود ہے کہ یہ ایک کو نصب دے رہا ہے، ایک کو رفع دے رہا ہے۔ لفظوں میں موجود ہے یا نہیں مولانا؟ باقاعدہ اس کا اثر بھی ا رہا ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے یہ معدوم ہے کیونکہ زید قائم جیسے ان کے انے سے پہلے جملہ تھا، اب بھی کیا ہے؟ جملہ ہے، ان نے صرف اس میں تاکید پیدا کی، اور کوئی تبدیلی کی؟ تو معنی کے اعتبار سے وہ موجود ہے یا معدوم ہے؟ معدوم ہے، کیا ہے؟ اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا، جملہ پہلے بھی جملہ تھا، اب بھی کیا ہے؟
تو ان لفظوں کے اعتبار سے موجود لیکن معنی کے اعتبار سے معدوم، جبکہ ان لفظوں کے اعتبار سے بھی موجود اور معنی کے اعتبار سے بھی موجود، لفظوں کے اعتبار سے یوں موجود کہ ان لفظوں میں باقاعدہ عمل کر رہا ہے، ایک کو نصب دے رہا ہے، ایک کو کیا دے رہا ہے؟ رفع، معنی کے اعتبار سے بھی موجود ہے کہ داخل تو جملے پہ ہوا تھا لیکن اس پورے معنی کو بدل کر اس نے کیا بنا دیا؟ مفرد بنا دیا، تو ان لفظاً بھی موجود، معناً بھی موجود، لہذا اس کے لفظوں اس کے لفظوں کے اعتبار سے وہاں عطف ہو سکتا ہے، محل کے اعتبار سے نہیں، جبکہ ان لفظوں کے اعتبار سے تو موجود ہے لیکن معنی کے اعتبار سے موجود نہیں، تو کبھی لفظوں کے اعتبار سے عطف کرتے ہیں تو ہم معطوف کو نصب دیتے ہیں اور کبھی ہم معنی کے اعتبار سے عطف کرتے ہیں اور اس کو کیا دیتے ہیں؟ کیونکہ معنی کے اعتبار سے تو وہ کیا ہے؟ معدوم ہے، اور جب وہ معدوم ہوا تو اس کا اسم کیا ہوا ہوتا؟ مرفوع ہوتا، سمجھ میں ایا بھئی؟
تو ان من وجہ معدوم، من وجہ موجود، من جو تو وجود کے اعتبار سے نصب بھی جائز اور معدوم ہونے کے اعتبار سے رفع بھی جائز، صورت سمجھ میں اگئی سب کو؟ کہ مشکل ہے؟
ہاں؟
میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟ ان کے اسم پر عطف کرنا چاہتا ہوں، إن زيداً قائمٌ وعمراً، تو عمراً پر کیا پڑھوں گا؟ نصب، لیکن اس پر میں کیا پڑھنا چاہتا ہوں؟ رفع، تو رفع بھی پڑھ سکتا ہوں مولانا، اس لیے کہ پیچھے ایا ان اور ان لفظوں کے اعتبار سے موجود تو نصب بھی عمراً پڑھنا بھی جائز اور لیکن معنی کے اعتبار سے یہ معدوم ہے، گویا ہے ہی نہیں، کیونکہ اس نے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، جب معدوم ہے تو پھر زید کیا تھا مولانا؟ مرفوع تھا، تو اس اعتبار سے یہ بھی عمرو کو بھی کیا پڑھ لیں گے؟ مرفوع پڑھ لیں گے۔
اور ان میں ایسا جائز نہیں اس لیے کہ ان لفظاً بھی موجود اور معناً بھی موجود ہے، ہر لحاظ سے وہ موجود، جبکہ یہ ایک لحاظ سے موجود ہے، ایک لحاظ سے معدوم ہے۔ اور میں نے بتایا تھا اس کے لیے شرط کیا ہے؟ تو خلاصہ یہ کہ ان کے اسم کے لفظوں پر بھی عطف جائز لفظوں کے اعتبار سے بھی اور محل کے اعتبار سے بھی اس پر عطف جائز ہے، لیکن شرط کیا ہے؟ کہ ان کی اسم کی خبر پہلے گزر چکی ہو لفظاً یا تقدیراً ورنہ تو ایک ہی خبر میں دو عاملوں کا ہونا لازم ائے گا، ابتدا کا بھی اور ان کا بھی، اور یہ جائز نہیں ہے۔
اچھی طرح مسئلہ سمجھ میں اگیا؟ اسی یہی جائز لیکن میں بھی یہ جائز ہے مولانا، کس میں؟ لیکن کے اسم پر لفظوں کے اعتبار سے بھی عطف جائز اور محل کے اعتبار سے بھی عطف جائز، لیکن باقیوں حروف مشبہ بالفعل کے اندر جائز نہیں بھئی، سمجھ میں ایا بھئی؟
ویجوز العطف علی اسم إن المکسورة بالرفع والنصب اور جائز ہے عطف کرنا مولانا ان مکسورہ کے مکسور الهمزة کے اسم پر، رفع کے ساتھ بھی عطف جائز ہے والنصب اور نصب کے اعتبار سے بھی بھئی، رفع کے اعتبار سے کیوں؟ کہتے ہیں باعتبار المحل محل کے اعتبار سے، کیونکہ ان کا اسم محل کے اعتبار سے کیا ہے؟ مرفوع ہے اور مبتدا ہے، جملہ ہے نا۔
اور لفظوں کے اعتبار سے کیا ہے؟ منصوب، تو محل کے اعتبار سے بھی عطف جائز اور لفظ کے اعتبار سے بھی جائز، مثل إن زيداً قائمٌ وعمروٌ وعمراً، تو وعمروٌ پڑھنا بھی جائز، وعمراً پڑھنا بھی۔
ان مکسورة پڑھی گئی ان المکسورة، بھئی یہ مکسورة الهمزة کہا جس کا ہمزہ کیا ہو۔
ٹھیک ہے؟ ایک ان ہے نا، ایک ان ہے، تو مکسور الهمزة جو ان ہے اس میں جائز ہے، مفتوح الهمزة جو ہے ان اس میں جائز نہیں
فاعلم، جان لے تو، واعلم أن إن المکسورة يجوز دخول اللام علی خبرها وقد تخفف فيلزمها اللام، مولانا، کہتے ہیں جو ان ہے، مکسورہ، ان مکسور مکسورة الهمزة جو ہے، یعنی جس کا ہمزہ کیا ہے؟ مکسور ہے، یعنی ان ہے، اس کی خبر پر لام کا داخل کرنا بھی جائز، لیکن ان کی خبر پر لام کا داخل کرنا جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ یہ لام کس کی تاکید کے لیے اتا ہے؟ جملے کی تاکید کے لیے ا رہا ہے اور جملے کے لیے ان ایا کرتا ہے، ان تو جملے کو کس حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد، تو یہ لام جملے کی تاکید کے لیے اتا ہے، اس لیے یہ ان کی خبر پر تو ائے گا، ان کی خبر پر نہیں ائے گا۔
تو کہتے ہیں واعلم أن إن المکسورة يجوز دخول اللام علی خبرها کہ ان جو مکسور الهمزة ہے جائز ہے لام کا داخل ہونا کرنا داخل ہونا علی خبرها اس کی خبر پر، وقد تخفف یاد رکھو، یہ بات پہلے بھی شاید گزر چکی ہے، کبھی کبھار ان اور ان یہ دو ان کے نون پر شد ا رہا ہے، تو یہ مشددہ ہیں، ان اور ان کیا ہیں؟ اور کبھی کبھی ایک نون ان سے دونوں سے حذف کر لیتے ہیں، پھر یہ کیا کہلاتے ہیں؟ مخففہ، تو ان پڑھتے ہیں، ان کو کیا پڑھتے ہیں؟ ان مخ، اس کو کہتے ہیں ان مخففة من المثقلة، اور ان کو کیا پڑھتے ہیں؟ ان، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ان مخففة من المثقلة
وقد، لیکن یاد رکھو، کہتے ہیں جب ان یہ مخففة من المثقلة ہو تو پھر اس صورت میں اس کے ساتھ لام لازم ہے۔ ان کیا ہو؟ ان مخففة من المثقلة ہو تو پھر اس کے خبر پر لام کا داخل کرنا اس لیے مولانا، اس لیے کہ پہلے تھا ان، ہمیں پتہ چل رہا تھا یہ حروف حرف ہے، حروف مشبہ بالفعل ہے، اب ہے ان اگیا اور ان تو کئی قسم کے ہیں، ان شرطیہ بھی ہے، ان نافیہ بھی ہے، ان جی؟ اور کون سا ہے؟ یہ دو ہیں؟
تو ان کیا ہے؟
ہاں، ان شرطیہ بھی ہے اور ان مخففة من المثقلة بھی ہوا اور ان مولانا نافیہ بھی ہوا، تو جب تک خبر پر لام نہیں ائے گا ہمیں پتہ نہیں چلے گا کہ یہ ان مخففہ من، تو خبر پر لام ائے گا وہ ہمیں بتلا دے گا کہ یہ جو ان ایا ہے، یہ کون سا ہے؟ مخففة من المثقلة
وقد تخفف اور کبھی اس کو مخففہ کیا جاتا ہے، فیلمزها اللام تو اس کے ساتھ لام لازم ہے، کقوله تعالی، جیسے اللہ فرماتے ہیں، وإن کلاً لما ليوفينهم
وإن کلاً لما ليوفينهم
دیکھو مولانا، یہ ان ہے مخففة من المثقلة، اصل میں کیا ہے؟ إنّ
إنّ
کلاً اس میں تنوین جو ا رہی ہے، عوض ہے مضاف الیہ سے، اپ نے پڑھا ہے یا نہیں کبھی مضاف الیہ کے عوض میں کیا لے اتے ہیں؟ تنوین لے اتے ہیں، اور کتنی جگہوں میں یہاتی ہے، میں نے بتلایا تھا
جی، کہ نہیں گزرا ابھی؟
تو کبھی مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں کیا لے اتے ہیں؟ تنوین، جیسے حینئذٍ، ایا تھا یا نہیں مولانا؟ یومئذٍ
تو یہاں بھی کلاً، اصل میں تھا کلہم، کیا تھا؟ کلہم، ہم ضمیر کو حذف کر کے اس کے عوض کیا لے ائے؟ تنوین لے ائے
تو إن کلاً، اور یہ منصوب ہے کیونکہ ان کا اسم ہے
لما ليوفينهم بھئی
اچھا، اب یاد رکھو مولانا
یہ لما میں جو لام ہے، یہ وہ لام ہے جو کس پہ داخل ہوتا ہے؟
ان کی خبر پر
یہ وہ لام ہے جو کس پہ داخل ہوتا ہے مولانا؟ ان کی خبر پر داخل ہوتا ہے
اصل میں عبارت ساری یوں ہے مولانا، وإن کلهم والله ليوفينهم
والله
تو قسم یہاں محذوف ہے مولانا، اور قسم کے جواب پر اپ نے ہمیشہ پڑھا ہے، چاہے جملہ مثبت میں اسمِ اسمیہ ہو یا اسمِ فعلیہ ہو، اس پر کیا اتا ہے؟ لام، تو یہ ليوفينهم پر جو لام ہے، یہ وہ جوابِ قسم والا ہے
سمجھ میں ایا؟ تو ایک لام پہلے تھا اور ایک اب ان مخففة من المثقلة کی خبر پر لام اتا ہے، ایک وہ لامِ تاکید بھی اگیا، دو لام جمع ہو گئے، اور دو لاموں کا جمع ہونا پسندیدہ نہیں، تو درمیان میں ما زائدہ بڑھایا گیا بھئی، کیا کیا گیا؟ ما کو زیادہ کیا گیا، تو یہ ما زائدہ ہے اور یہ ما سے پہلے لما، لام جو ہے، یہ کون سا ہے؟ جو ان کی خبر پر داخل ہوا، اب عبارت سمجھ میں ائی ساری سب کو بھئی؟
وحينئذٍ يجوز إلغاؤها، اور جس وقت اس کو مخففہ کر لیا جائے اس وقت اس کو الغاء بھی جائز ہے، اس کو لغو کر دینا، اس کے عمل کو باطل کر دینا بھی مولانا جائز ہے
اور جب مولانا مخفہ، تو دیکھو ابھی ان مخففہ ہوا، لیکن اس نے کلاً کو پھر بھی کیا دیا ہے؟ نصب، اور کبھی کبھی نصب نہیں دیتے بلکہ اس کے عمل کو کیا کر دیتے ہیں؟ باطل کر دیتے ہیں
کقوله تعالی، جیسے یہ قران کی ایت اللہ نے فرمایا، وإن کلٌ لما جميعٌ لدينا محضرون
بھئی، اپ کس طرح پڑھتے ہیں یہ دو ایتوں کو؟
لما پڑھتے ہیں مولانا، یہ دوسری روایات ہے بھئی، وہ اپ کی قرات الگ ہے، یہ ایک روایت میں لما ایا ہے، اس کے مطابق ترکیب کروا رہا ہوں اپ کو، کتاب میں جو درج ہے، اور اگے وإن کلٌ لما، یہ بھی اسی طرح ہے بھئی
جی؟
نہیں، نہیں۔
سمجھ میں ایا؟ یہ کلٌ لما والی قرات پہ نہیں یہ مقام بنتا مولانا، ورنہ دلیل ہی نہیں بنتی پھر تو، پھر تو یہ دلیل ہی نہیں بنتی، میں نے بتلایا بھئی، یہ ليوفينهم کا لام جو ہے، یہ کون سا ہے؟
ہاں، اور یہ ما، یہ لما پڑھیں اس کو، لما نہیں پڑھنا مولانا، یہ دوسری قرات ہے، ہماری قرات کے مطابق پھر یہ دلیل ہی نہیں بنتی اس مقام کی
اگے مولانا، وإن کلٌ لما، یہاں بھی لما ہے، جی؟ جی، تو یہ بھی ہماری قرات پر مبنی نہیں، ہماری قرات میں تو لما ہے، لیکن بعض بھئی اپ نے پڑھا ہے سات قراتیں ہیں بھئی، سمجھ میں ایا؟
جی
تو تا یہ ان میں سے ایک ہے، اس کے میں لما ایا ہے قرات میں
تو دیکھیے، اب مولانا یہ ان مخففة من المثقلة ہے اور یہ عمل نہیں کر رہا، کلٌ کو نصب نہیں دے رہا
سمجھ میں ایا بھئی؟
تو یہاں بھی کلٌ، تو وإن کلہم، یہ تنوین سے عوض ہے
لما جميعٌ لدينا، یہ لام، یہ لما، یہ لام کیا ہے مولانا؟ یہ وہ کیا ہے؟
خبر پر
جميعٌ لدينا محضرون، سارے کے سارے کیا ہیں ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے قیامت کے دن، ويجوز دخولها علی الأفعال علی المبتدإ والخبر
جی
بھئی مولانا ان ہمیشہ کس پہ داخل ہوتا ہے؟ اسم اور خبر پر، لیکن جب یہ مخففة من المثقلة ہوا، تو اپ مولانا، اپ اس کے عمل کو لغو کر دینا بھی اور جب عمل کو لغو کر دیا تو اپ مولانا یہ فعل پر بھی داخل ہو جائے گا، پہلے تو ہمیشہ کس پہ داخل ہوتا تھا؟ اسم، لیکن ابھی بھی مولانا بالکل ہر فعل پہ نہیں داخل ہوگا، ایسے فعل پہ داخل ہوگا جو خود اگے اسم اور فعل پر داخل ہوتا تھا
ان تو پہلے خود کس پر داخل ہوتا تھا؟ اسم اور اسم اور خبر پر، کس پر؟ اسم اور خبر پر داخل ہوتا تھا
اب مولانا جب یہ مخفف ہوا تو اس کے عمل کو لغو کر دینا بھی اور اس صورت میں پھر یہ کس پر داخل ہو سکتا ہے؟ فعل پر بھی لیکن ہر فعل پہ پھر بھی نہیں داخل ہوگا، ان فعلوں پر داخل ہوگا جو اگے خود اسم اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، جیسے کیا ہیں مولانا؟ افعالِ ناقصہ ہیں مولانا، وہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ اسم اور خبر پر
تو اب ان فعلِ ناقص پر بھی داخل ہو جائے گا
ویجوز دخولها علی الأفعال علی المبتدإ والخبر، اور جائز ہے ان کو داخل کرنا ایسے افعال پر جو داخل ہوں علی المبتدإ والخبر، کس پر؟ مبتدا اور خبر پر، یعنی افعالِ ناقصہ، دیکھو خود کقوله تعالی، جیسے اللہ کا یہ قول ہے، وإن کنت من قبله لمن الغافلين، اور یقیناً اپ اس سے پہلے البتہ غفلت والوں میں سے تھے
تو دیکھا إن کنت، یہ ان کیا ہے؟ شرطیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مخففة من المثقلة ہے، اور یہ کس پر داخل ہوا ہے؟ اس کے عمل کو لغو کر دیا تو اب یہ فعل پر داخل ہوا، لیکن فعل بھی ایسا ہے جو پھر اگے کس پہ داخل ہونے والا ہے؟ اسم اور خبر پر
وإن نظنک لمن الکاذبین، اور یقیناً ہم
5
کوئی اس گننے سے گمان کرتے تھے جھوٹوں میں سے۔
تو دیکھو یہ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور یہ کس پر داخل ہوا؟ ظن پر داخل ہوا اور ظن کس میں سے ہے؟ افعالِ قلوب میں سے ہے اور افعالِ قلوب کس پر داخل ہوتے ہیں؟ اسم اور خبر پر، مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں۔ تو اب یہ مخففہ من المثقلہ بھی ایسے افعال پر داخل ہوتے ہیں۔
وکذلک ان المفتوحۃ اسی طرح ان مفتوحہ بھی جو ہے قد تخفف اس کو بھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ مخففہ کیا جاتا ہے۔ فحینئذ یجب اعمالہا فی ضمیر شان مقدرۃ واجب ہے کہ اس کو عمل دیا جائے کس کے اندر؟ ضمیرِ شان کے اندر، ایسی ضمیرِ شان مقدرۃ جو کیا ہوگی؟
دیکھو مولانا! آپ نے کیا پڑھا؟ کہ ان کو کبھی کیا کرتے ہیں؟ مخففہ کرتے ہیں اور مخففہ کرنے کے بعد بھی یہ کیا کرتا ہے؟ کبھی عمل کرتا ہے اور کبھی عمل اسی طرح ان کو بھی مخففہ کرتے ہیں اور نحویوں نے غور کیا تو دیکھا ان کو جب ہم مخففہ کر دیتے ہیں تو یہ کبھی عمل ہی نہیں کرتا۔ کبھی عمل ہی کچھ ہر جگہ تلاش کر لیا مولانا، یہ کہیں عمل ہی نہیں کر رہا۔
یہ تو کہنے لگے عجیب بات ہے، ان کی بھی مشابہت فعل کے ساتھ ہے، ان کی بھی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ اور ان کی زیادہ ہے مشابہت ان کی بنسبت، کیسے؟ بھئی ان کا آخر کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ ان کا بھی آخر کیا ہے؟ مبنی علی الفتح۔ بھئی ان ایک اسم کو رفع دیتا ہے، ایک کو نصب دیتا ہے، ایک کو رفع۔ جیسے فعل بھی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور اپنے مفعول کو اسی طرح ان بھی اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور اپنی خبر کو رفع، یہ دونوں ایک جیسے ہیں اس میں بھی۔ جی، ان کیا کرتا ہے؟
ان ثلاثی جیسے فعل ہوتا ہے، ان بھی ثلاثی ہے جیسے کہ فعل ہوتا ہے۔ ان بمعنی حققت کے اور ان بھی بمعنی تو معنی میں بھی فعل کے ساتھ مشابہت۔ لیکن فعل کا پہلا حرف کیا ہوتا ہے؟ مفتوح ہوتا ہے۔ اور ان کا پہلا حرف تو مفتوح ہے لیکن ان کا پہلا حرف مفتوح تو کس کی مشابہت زیادہ ہوئی؟ ان کی زیادہ ہوئی۔
اور ان جب مخففہ ہے تو وہ عمل ہی نہیں کر رہا کہیں اور ان جب مخففہ ہے پھر بھی وہ کبھی کبھی کیا کرتا ہے؟ تو جس کی مشابہت زیادہ ہے اس کو عمل کرنا چاہیے یا جس کی مشابہت کم ہے اس کو عمل کرنا چاہیے؟ جس کی زیادہ ہے اس کو کرنا چاہیے اور کر کون رہا ہے؟ جس کی کم ہے، تو چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ بھی عمل کر رہا ہے لیکن ضمیرِ شان میں کر رہا ہے اور وہ مقدر ہے۔
یہ ہمیشہ عمل کر رہا ہے اور کس میں کر رہا ہے؟ اور وہ کیا ہوتی ہے؟ مقدر ہوتی ہے۔ اب، اب ان مخ ان مخففہ تو ہمیشہ عمل کرتا ہے اور ان کبھی آپ نے پڑھا کرتا ہے اور کبھی اب سمجھ میں آیا؟ ضابطہ بیٹھ گیا یا نہیں بیٹھا مولانا؟ دیکھیے۔
تو ہمیشہ جب بھی کہیں آ جائے ان مخففہ من المثقلہ، آنکھیں بند کر کے سمجھ جائیں یہاں اس کا ضمیرِ شان کیا ہے؟ محذوف ہے اور آگے جو کچھ جملہ آ رہا ہے وہ ساری اس کی خبر ہے۔ وہ ساری اس کی خبر ہے۔
وکذلک ان المفتوحۃ اسی طرح ان مفتوحہ ہے قد تخفف اس کو کبھی مخففہ کیا جاتا ہے فحینئذ یجب اعمالہا فی ضمیر شان مقدرۃ تو واجب ہے مولانا اس کو عمل دینا ایسی ضمیرِ شان کے اندر مقدرۃ جو مقدر ہوتی ہے فتدخل علی الجملۃ تو یہ داخل ہوتا ہے جملے پر مولانا، ان مخففہ، اسمیۃ کانت او فعلیۃ چاہے وہ اسمیہ ہو یا فعلیہ۔ اسمیہ جیسے بلغنی ان زید قائم، کیا ترکیب ہوگی مولانا؟
بلغ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول، ان مخففہ من المثقلہ، آگے ہا ضمیر ہا ضمیرِ شان مقدر اس کا منصوب محلاً اس کا اسم، سمجھ میں آیا یا نہیں؟ زید مرفوع لفظاً جی؟ مبتدا بھئی! آگے پورا جملہ آئے گا، ضمیرِ شان کی تفسیر نہیں آتی پورا جملہ بھئی؟ تو ضمیرِ شان آپ نے نکالی تو آگے جملہ بناؤ بھئی، تو زید مرفوع لفظاً مبتدا، قائم مرفوع لفظاً اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہو کر یہ پورا جملہ ان کی خبر، ان ان کی خبر، ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جی؟ جملہ اسمیہ ہو کر بتاویلِ مفرد، کیونکہ ان ہے۔ یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ بلغ، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
او فعلیۃ یا پھر یہ مولانا فعلیہ پر بھی داخل ہو سکتا ہے بلغنی ان قد قام زید۔ بلغنی ان قد وہی ترکیب، ان مخففہ من المثقلہ اور اور ہاں، وہ ضمیر اس کے ساتھ واحد مذکر کی جو ہے وہ اس کا اسم اور قد قام زید، قد حرفِ تحقیق، قام فعل، زید مرفوع لفظاً فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر ان کی خبر، ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر بتاویلِ مفرد فاعل، بلغ کے لیے۔ تو بلغ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
مشکل ہے ترکیب؟ آسان ہے بھئی! انشاء اللہ بڑی آسان ہے، تھوڑی توجہ بس کرو۔
ویجب دخول السين او سوف او قد او حرف النفي علی الفعل۔
اچھا، بھئی دیکھو انہوں نے کیا کہا؟ کبھی ان مخففہ من المث ان مخففہ من المثقلہ ہوتا ہے اور اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ ان، اور اس کا اسم ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ ضمیرِ شان، اور آگے آنے والا جو جملہ ہوگا وہ اس کی کیا بنے گی؟ خبر، اور وہ خبر جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ فعلیہ بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ جملہ فعلیہ آئے تو پھر اس فعل سے پہلے قد کا آنا ضروری، یا سین کا آنا ضروری، یا سوف کا آنا ضروری۔ یہ قد، سین، سوف وغیرہ یہ درمیان میں فاصل ہیں، یہ ان سے یہ جدائی پیدا کریں گے بھئی کس چیز میں؟ یہ ہمیں بتلائیں گے کہ یہ ان جو ہے، یہ مخففہ من المثقلہ ہے، یہ ان ناصبہ مصدریہ نہیں۔
یہ قد، سین اور سوف جو کس پر داخل ہو رہے ہیں؟ فعل پر، تو پھر یہ ہمیں کیا بتلائیں گے؟ ان کا لانا ضروری ہے اگر یہ آپ ان کے بعد فعل لے کر آ رہے ہیں جو کیا لے کر آ رہے ہیں ان کے بعد؟ بھئی ان کا اسم کون؟ ضمیرِ شان، اور وہ کیا ہے؟ محذوف، اور آگے آنے والا جملہ فعلیہ کیا بن رہا ہے؟ خبر، تو اس خبر پر اس فعل پر قد کا لانا، یا سین کا لانا، یا سوف کا لانا ضروری ہے۔
کیوں؟ یہ ہمیں بتلائیں گے، یہ سین، سوف، قد ہی سے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ان مصدریہ ناصبہ نہیں بلکہ یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔
سمجھ میں آیا سین، سوف ہے، حرفِ نفی ہے، یہ سب۔
ویجب دخول السين اور واجب ہے سین کا داخل ہونا، کرنا، داخل ہونا او سوف یا سوف کا او قد یا قد کا او حرف النفي یا حرفِ نفی کا داخل ہونا علی الفعل فعل پر۔ کقولہ تعالٰی جیسے اللہ فرماتے ہیں علم ان سیکون منکم مرضٰی۔
دیکھا ان کے بعد کیا آیا؟ سین۔ اس سین نے ہمیں کیا بتلایا؟ مخففہ من المثقلہ ہے، ان ناصبہ نہیں، اس لیے سیکون نصب بھی نہیں ہم پڑھ رہے بلکہ کیا پڑھ رہے ہیں؟ رفع پڑھ رہے ہیں، اگر ان ناصبہ ہوتا تو ہم کیا پڑھتے؟ سیکون۔
تم اللہ جانتے ہیں کہ عنقریب تم میں سے بیمار ہوں گے، مرضٰی جمع ہے مریض کی۔
والضمیر المستتر اور ضمیرِ مستتر جو ہے اسم ان وہ ان کا کیا ہے؟ وہ ضمیرِ شان بتلا رہے ہیں بھئی۔ والجملۃ خبرہا اور یہ جملہ کیا ہے؟ پورا جملہ سیکون منکم مرضٰی یہ جملہ کیا ہے بھئی؟ خبر ہے۔
وکأن للتشبیہ اور کأن کس لیے آتا ہے مولانا؟ حروفِ مشبہ بالفعل میں سے کأن تشبیہ کے لیے آتا ہے، ایک چیز کو تشبیہ دینی ہو، میں کہتا ہوں کأن زیداً اسد، گویا کہ زید کیا ہے؟ گویا کہ زید شیر ہے۔ تو اس نے شہر شیر کو تشبیہ زید کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ شیر۔
کأن زیداً الاسد، گویا کہ زید شیر ہے۔
واو مرکب اور وہ مرکب ہے، کأن کس سے مرکب ہے مولانا؟
بعض علماء کہتے ہیں یہ کأن اسی طرح تھا، کأن کیا تھا؟ پورا اسم ہے، بعض کہتے ہیں نہیں، یہ کافِ جارہ اور ان سے مرکب ہے۔
کاف آیا تھا یا نہیں مثل کے معنی میں؟ بھئی زید کالاسد، زید کس کی طرح ہے؟ تو وہ کاف اور اس کے ساتھ ان ملا، اصل میں تھا بھئی میں نے کیا کہا؟ کأن زیداً ال کأن یا یوں کہو کأن زیداً اسد، یہ اصل میں کیا تھا؟ اصل میں یوں تھا، ان زیداً کالاسد یا کاسد۔ ان زیداً کاسد۔
یقیناً زید کس کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے۔
تو پھر مولانا یہ ان بھی آ رہا تھا، کاف بھی، کاف کو اٹھا کر شروع میں ہم لے گئے، کیا بن گیا؟ کان، کیا آیا؟ کان، تو تھا تو ان لیکن آپ مولانا اس سے پہلے کاف آ گیا۔
کیا آ گیا؟ کاف اور تو یہ جو ان درمیان میں چلا گیا اور درمیانِ کلام میں ان پڑھتے ہیں یا ان پڑھتے ہیں؟ ان پڑھتے ہیں، تو اب اس ان کو کیا پڑھنے لگے؟ ان، تو کیا بن گیا؟ کأن، سمجھ میں آیا؟
یہ بعض کا ہے، بعض کہتے ہیں نہیں اس طرح نہیں ہوا، یہ باقاعدہ الگ حرف ہے، کاف اور ان سے نہیں بنا، یہ بنا اسی طرح ہے۔
واو مرکب یہ مرکب ہے کافِ تشبیہ سے وان المکسورۃ اور ان مکسورۃ الحمدہ سے وانما فتحت اور یہ اس کو فتحہ کیوں دیا گیا؟ بھئی کاف اور ان سے ہے تو کان ہونا چاہیے یا کأن کیوں ہوا؟ کہتے ہیں فتحہ اس لیے دیا گیا لتقدم الکاف علیہا کس لیے کہ اس ان پر کیا مقدم ہو گیا؟ کاف، تو ان کہاں چلا گیا؟ وسطِ کلام میں، اور وسطِ کلام میں ان نہیں پڑھتے، کیا پڑھتے ہیں؟ ان، تو تھا تو کان لیکن اب ہم نے کیا بنا دیا اس کو؟ کأن۔
تقدیرہ تقدیرِ کلام یوں تھی مولانا ان زیداً کالاسد، پھر کاف شروع میں آیا تو کان زیداً الاسد ہوا، پھر کأن زیداً الاسد ہوا، وقد تخفف فتلتغٰی اور یہ کأن بھی کبھی کیا بن جاتا ہے؟ مخفف بن جاتا ہے، کأن نوں کیا ہے؟ مشدد، تو کبھی کیا پڑھتے ہیں؟ کأن۔
پھر یہ لغو ہو جاتا ہے عمل نہیں کرتا، نحو کأن زید اسد، دیکھا زید کو نصب نہیں دے رہا۔
ولکن للاستدراک اور لیکن کس لیے آتا ہے مولانا؟ استدراک، استدراک کس کو کہتے ہیں؟ جانتے ہو بھئی؟ کسے کہتے ہیں؟ استدراک کہتے ہیں ماقبل کلام سے کوئی وہم پیدا ہو اس وہم کو دور کرنا استدراک کہلاتا ہے۔
ماقبل کلام سے کیا پیدا ہو بھئی؟ وہم پیدا ہو، اس وہم کو دور کرنا کیا کہلاتا ہے؟ استدراک، میں نے کیا کہا آپ سے؟ میں نے کہا جائنی زید، میرے پاس کون آیا تھا؟ زید۔
آپ کے ذہن میں فوراً وہم آیا کہ پھر عمرو بھی آیا ہوگا، کیونکہ زید اور عمرو کیا ہیں؟ دونوں بڑے گہرے دوست ہیں، جہاں جاتے ہیں اکٹھے جاتے ہیں اور جب میرے پاس آپ میں نے آپ کو بتا دیا کہ زید میرے پاس آیا ہے تو پھر وہم آپ کو کیا پڑا؟ کہ عمرو بھی اس کے ساتھ آیا ہوگا۔ میں نے کہا ولکن ہاں، ولکن ولکن عمراً لم یجی، لیکن عمرو میں نے کہا جائنی زید ولکن عمراً لم یجی، میرے پاس زید آیا تھا لیکن عمرو نہیں آیا، تو لیکن کے ذریعے کیا کیا میں نے مولانا؟ ماقبل کلام سے صرف ایک وہم پیدا ہو رہا تھا اس وہم کو لیکن کے ذریعے میں نے کیا کر دیا؟ ختم کر دیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استدراک۔
بات سمجھ میں سب کو آ گئی بھئی؟
ولکن للاستدراک اور لیکن استدراک کے لیے آتا ہے۔ ویتوسط بین تو ویتوسط بین کلامین متغایرین فی المعنٰی تو دیکھو مولانا، استدراک کس کو کہتے ہیں؟ لیکن کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے، اور استدراک کس کو کہتے ہیں؟ کہ ماقبل کلام سے ایک وہم پیدا ہوا، اس وہم کو کیا کیا جائے؟ تو لازمی بات ہے مولانا، اس سے ماقبل بھی ایک کلام ہوگا اور اس کے مابعد بھی ایک کلام ہوگا، لیکن دونوں کلام آپس میں متغائر ہوں گے مولانا، ایک مثبت ہے تو دوسرا منفی، پہلا مثبت ہے تو دوسرا منفی، دوسرا اور اگر پہلا منفی ہے تو دوسرا مثبت ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟
یا تو مولانا لفظاً مثبت ایک پہلا مثبت ہے تو دوسرا لفظاً کیا ہوگا؟ منفی، یا مولانا پہلا منفی ہے لفظاً تو دوسرا کیا ہوگا؟ مثبت، یا صرف معناً ایک مثبت ہے تو دوسرا کیا ہوگا؟ منفی ہوگا۔ کیا ہوگا؟ دیکھیے ابھی مثالوں سے بات۔
ویتوسط بین کلامین متغایرین اور وسط میں آئے گا دو متغائر کلاموں کے، دونوں کلام ایک دوسرے سے کیا ہوں گے؟ مخالف ہوں گے، ایک مثبت ہوگا تو دوسرا منفی فی المعنٰی معنی کے اعتبار سے۔
کس اعتبار سے؟ تو کبھی لفظوں کے اعتبار سے بھی ہوگا، لیکن یا اور کبھی اور معنی دونوں کے اعتبار سے اور کبھی صرف معنی کے، تو یعنی معنی کے اعتبار سے تو ضرور ہی متغائر ہوگا چاہے لفظوں کے اعتبار سے متغائر ہو یا دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ ما جائنی القوم، میرے پاس قوم والے نہیں آئے، وہم پڑا جب قوم والے نہیں آئے تو زید بھی نہیں آیا ہوگا کیونکہ وہ بھی انہی میں سے تھا، لیکن آپ نے کہا عمرو عمرو بھی نہیں آیا کیونکہ وہ بھی انہی میں سے تھا، میں نے کہا لیکن عمراً جاء، لیکن عمرو کیا ہے؟ آیا، اب دیکھیے مولانا دونوں کلام متغائر ہیں، لفظاً بھی، معناً بھی، لفظاً کیسے؟ ماقبل میں تھا ما جاء اور مابعد میں کیا ہے؟ جاء، تو پہلا منفی ہے دوسرا مثبت ہے، تو لفظاً بھی متغائر اور معناً بھی، کیونکہ پہلے کا معنی کیا ہے؟ نہیں آیا، دوسرے کا معنی کیا ہے؟ آیا، تو لفظاً بھی متغائر اور معناً بھی، لیکن کبھی صرف معناً متغائر ہوں گے لفظاً نہیں، جیسے غاب زید، زید غائب ہے، آپ نے کہا جب زید غائب ہے تو بکر بھی غائب ہوگا کیونکہ وہ بھی اس کا بڑا گہرا دوست ہے، میں نے کہا لیکن بکراً حاضر، لیکن بکر کیا ہے؟ اب دیکھو مولانا لفظوں میں اختلاف نہیں، غاب زید یہ کلامِ مثبت ہے یا منفی ہے؟ مثبت ہے، حرفِ نفی آ رہا ہے؟ نہیں، اور بکراً حاضر لیکن بکراً حاضر یہ بھی کیا ہے؟ مثبت ہے، تو دونوں مثبت ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے مخالف ہیں، ایک میں حاضر ہونا ہے تو دوسرے میں ہاں غا حاضر نہ ہونا ہے، دوسرے میں حاضر نہ ہونا یعنی غائب ہے۔
ویجوز معہا الواو اور جائز ہے اس کے ساتھ واو بھی، چاہے مولانا لیکن مخففہ ہو چاہے مشددہ ہو دونوں کے ساتھ واو کا لانا بھی جائز۔
تو میں کہہ سکتا ہوں غاب زید ولکن بکراً حاضر، واو کا لانا بھی جائز ہے۔
نحو قام زید ولکن عمراً قاعد، زید کھڑا ہوا لیکن عمرو بیٹھا ہے تو واو لے آئے بھئی، وقد تخفف کبھی کبھار اس لیکن کو بھی مخفف بناتے ہیں اور کیا پڑھتے ہیں؟ لیکن۔
فتلتغٰی تو پھر اس کو کیا کرتے ہیں؟ لغو کرتے ہیں، پھر یہ عمل نہیں، نصب نہیں دے گا، نحو مشا زید ولکن بکر عندنا، زید چلا لیکن بکر ہمارے پاس ہے تو بکر پر رفع پڑھا، لیکن کا عمل لغو ہوا۔
وللیت للتمنی اور لیت کس لیے آتا ہے؟ تمنی کے لیے۔
لیت ہنداً عندنا، کاش ہند ہمارے پاس ہوتی، تو ہند اس کو لیت نے نصب دیا۔
واجاز الفراء اور جائز قرار دیا ہے امام فراء نے لیت زیداً قائماً بمعنٰی اتمنٰی۔
لیت زیداً قائماً بمعنٰی اتمنٰی، دیکھو مولانا ابھی تک آپ نے یہ پڑھا ہے کہ لیت اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور اپنی خبر کو رفع دیتا ہے لیت زیداً قائم، کاش کہ زید کھڑا ہوتا، کاش کہ زید کھڑا ہوتا، لیکن امام فراء فرماتے ہیں دونوں کو
6
نصب دینا بھی جائز تو جو لیت زیداً قائماً زید کو بھی نصب دیا اور قائماً کو بھی تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ لیت بمانی اتمنى کے ہے کس کے معنی میں ہے؟ اتمنى اور اتمنى دو مفعول چاہتا ہے تو یہ لیت زیداً زیداً قائماً تو جیسے اتمنى دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے اسی طرح لیت بھی اپنے کیا کرتا ہے؟ اسم اور خبر دونوں کو کبھی کیا دے دیتا ہے؟ نصب دے دیتا ہے سمجھ میں آیا بھئی؟
جمہور کہتے ہیں نہیں لیت صرف اپنے اسم کو رفع خبر نصب دیتا ہے اپنی خبر کو کبھی بھی نصب نہیں دیتا لیکن یہ کلام عرب میں آیا تو ہے تو جمہور جواب دیتے ہیں مولانا کہ یہ جو قائماً ہے یہ لیت کی خبر نہیں۔ یہ قائماً جو ہے لیت کی خبر یہ حال ہے مولانا یہ کیا ہے؟ حال ہے اور لیت کی خبر محذوف ہے اور کلام یوں ہے لیت زیداً ثبتاً قائماً۔
ثبتاً خبر کیا ہے؟ محذوف اور اس ثبتاً کے اندر ہوا ضمیر ذوالحال ہے اور یہ قائماً اس سے کیا ہے؟ حال تو یہ قائماً کو نصب کون دے رہا ہے؟ ثبتاً فعل وہ جو خبر محذوف ہے وہ کیا کر رہی ہے؟ اس قائماً کو اس حال کو نصب دے رہی ہے تو جمہور کہتے ہیں کہ یہ قائماً خبر ہے ہی نہیں مولانا بلکہ یہ کیا ہے؟ یہ حال ہے خبر کے اندر جو ضمیر ہے ہوا کی اس سے حال ہے اور جمہور کہتے ہیں یہ ان مقامات میں سے ہے جہاں پر حال کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے۔
یہ ان مقامات میں سے ہے جہاں حال کے عامل کو حذف کرنا یہان ثبتاً آپ عبارت میں ذکر کر دیں یہ جائز نہیں بلکہ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ حذف ہی کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تفصیل اگلے سالوں میں آپ پڑھیں گے بھئی، فی الحال یہ یاد رکھیں۔
تو اجازت یہ امام فران لیت زیداً قائماً کی بمانی اتمنى کہ یہ لیت یہاں کس معنی میں ہے؟ اتمنى کے معنی میں اور اتمنى کیا کرتا ہے؟ دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے تو لیت بھی اپنے اسم اور خبر دونوں کو کیا دے دے گا؟ نصب دے دے گا اور جمہور نے کیا کہا یہ قائماً منسوب ہے حال ہونے کی بنا پر اور یہ ان مقامات سے ہے جہاں پر حال کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے۔
ولعل للترجی اور لعل کس لیے آتا ہے مولانا؟ ترجی کے لیے آتا ہے امید کے لیے آتا ہے ک جیسے شاعر کہتا ہے احب الصالحین ولاست منھم میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور حال یہ ہے مولانا کہ میں ان میں سے نہیں ہوں، خود نیک نہیں ہوں لیکن میری نیک لوگوں سے محبت تو ہے لعل اللہ یرزقنی صلاحا۔
شاید کہ اللہ مجھے بھی عطا فرما دے نیکی بھئی، اللہ مجھے بھی نیکی کی توفیق عطا فرما دیں سمجھ میں آیا بھئی کہتے ہیں مولانا یہ شعر ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعہ کا، کیا مقام تھا ان کا مولانا آج سینکڑوں سال ہزار ہزار سال بارہ تیرہ سو سال گزر گئے مولانا آج تک اکثر دنیا کے مسلمان مولانا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں کتنا کروڑوں اربوں کھربوں کوئی حساب نہیں کتنی نیکیاں ہیں بھئی آپ ایک نماز پڑھتے ہیں آپ کی ہر نماز کا ثواب جا رہا ہے آپ کے ہر ہر عمل کا ثواب جا رہا ہے انہوں نے آپ کی فقہ مرتب کی آپ کے لیے دین کو آسان کیا سمجھ میں آیا بھئی سارے مسائل نکال کر رکھ دیے بھئی تو آپ کے ہر ہر عمل کی نیکی کا ثواب ان کی طرف جا رہا ہے بھئی۔
تو بند کرو تو ہر ہر نیکی اور عمل کتنی عظیم مولانا کتنی کتنے عظیم ولی اللہ تھے مولانا کتنے بڑے ولی اللہ ہمارے ہم تصور ہم تصور بھی نہیں کر سکتے بھئی کہ ان کو اللہ نے مقتدا بنایا قیامت کے دن مولانا لوگ اللہ کے ہاں حاضر ہوں گے اے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما میں حنفی ہوں اے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما میں شافعی امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر ہوں اے اللہ تو لوگ مولانا ان کے نام لے کر ذکر کریں گے وہاں کتنا عظیم مقام ان کو دیا بھئی مقتدا سارے لوگ کیا ہیں؟ ان کے مذہب پر ہیں مولانا مقتدا بنایا گیا بہت بڑا مقام اور کتنا مقام کتنی ذہانت اور کتنی نیکیاں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے بھئی کہ یہ جس جگہ پر ان کا انتقال ہوا بھئی، جس جگہ پر انتقال ہوا اس جگہ پر انہوں نے سات ہزار مرتبہ قرآن کا ختم کیا تھا بھئی۔ سات ہزار آپ تصور تو ذرا کریں بھئی کتنا؟ پورا دن رات قرآن و حدیث سے مسائل بھی نکال رہے ہیں، دن رات تدریس بھی جاری ہے، علماء کے ساتھ علم کے لیے سفر بھی ہو رہے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ مولانا، ہر سال حج کے لیے بھی تشریف لے جا رہے ہیں، رات بھر نوافل میں گزر رہی ہے اور اتنی عبادات، اتنی عبادات اور ساتھ جو سات ہزار مرتبہ قرآن بھئی، عجیب اوقات میں اللہ جب آدمی اللہ والا ہو جاتا ہے مولانا اللہ اس کے اوقات میں بڑی برکت رکھ دیتے ہیں ورنہ آپ تصور نہیں کر سکتے آپ ساری زندگی لگے رہیں مولانا سات ہزار ختم آپ نہیں کر سکتے سارے کام چھوڑ دیں پھر بھی شاید آپ نہ کر سکیں بھئی سب کچھ چھوڑ کر بھی۔
اور سمجھ میں آیا اور اتنا اساتذہ کا ادب، اتنا احترام تھا کہ مولانا ایک مرتبہ درس دے رہے ہیں، درس دیتے دیتے درمیان میں کھڑے ہو جاتے، پھر درس دیتے دیتے پھر کھڑے ہو جاتے۔ بعضوں نے اور بزرگوں کے بارے میں لکھا ہے، بعضوں نے لکھا ہے یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تھے پھر کھڑے ہو جاتے، پھر کھڑے ہو جاتے تھوڑی دیر کے بعد درس جاری ہے۔ شاگردوں نے عرض کیا کہ حضرت کیا بات ہے؟ استاد محترم کیا بات ہے؟ آج آپ کو وہ کام ہم نے دیکھا، وہ کام کیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا، آپ درس میں بار بار کھڑے ہوتے تھے۔ فرمانے لگے کہ میرے استاد ہیں میرے استاد کے چھوٹے سے بیٹے ہیں وہ باہر مسجد کے باہر کھیل رہے ہیں بھئی کیا کر رہے ہیں؟ وہ کھیل رہے ہیں، وہ کھیلتے کھیلتے مسجد کے دروازے کے سامنے آتا ہے تو میں استاد کے احترام میں کھڑا ہو جاتا ہوں کہ یہ اس کا میرے استاد کا بیٹا ہے تو میں احترام کیا کرتا ہوں؟ احترام میں کھڑا ہو جاتا ہوں.
اور اتنا احترام تھا کبھی اپنے اساتذہ کے گھروں کی طرف پاؤں کر کے نہیں لیٹتے تھے بھئی۔ اگرچہ گھر ان کے دور دور تھے لیکن اس سمت کے اندر بھی پاؤں کر کے نہیں لیٹتے تھے. اسی اللہ نے عظیم مقام بھئی۔ یہ دین سارا ادب کا نام ہے جس نے ادب سیکھ لیا اس کو سب کچھ مل گیا بھئی. دعا کرو بھئی! اللہ ہمیں ادب نصیب فرمائے بھئی.
تو یہ مولانا اس دنیا کے عظیم ولی اللہ کا مقام اور عاجزی دیکھو مولانا، آج ہم بھی دندناتے ہوئے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نیک ہیں، ہم نیک ہیں اور یہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہتے ہیں احب الصالحین اے اللہ میں نیک لوگوں سے محبت تو کرتا ہوں، خود نیک نہیں ہوں شاید اللہ نیکوں سے محبت کی وجہ سے مجھے بھی کیا بنا دیں؟ نیک بنا دیں، نیکی کی توفیق عطا فرما دیں.
لعل اللہ یرزقنی صلاحا شاید کہ اللہ تعالی رزق عطا فرما، رزق کا معنی عطا فرما دیں صلاحاً نیکی، یعنی نیکی کی توفیق عطا فرما دیں. وشد الجر بہا اور مولانا لعل تو دیکھا لعل اللہ لعل نے کیا دیا لفظ اللہ کو نصب دیا اور ترجی ہے اس میں امید ہے. وشد الجر بہا اور جر بھی جر آیا ہے مولانا لعل کے ساتھ لیکن شاذ ہے. لعل کا کبھی جر بھی دیتا ہے لیکن یہ کیا ہے؟ شاذ ہے. نحو لعل زید قائم تو لعل نے زید کو کیا دیا؟ جر لیکن یہ کیا ہے؟ شاذ نہایت قلیل ہے. وفی لعل لغات اور لعل کے اندر اور بھی لغات ہیں، عل ایک یہ لغت ہے. عنا، ان، لعل، لعل یہ ساری لعل میں کیا ہیں؟ لغات ہیں. کبھی عین کو حمزہ سے بدلتے ہیں، کبھی جی اور لام کو نون سے بدلتے ہیں. وعند المبرد اصلہ عل امام مبرد فرماتے ہیں اس کی اصل کیا ہے؟ یہ مولانا لفظ ہے مبرد، مبرد مشہور کیا ہے؟ مبرد لیکن میں مبرد نہیں میں مبرد کہتا ہوں کیا کہتا ہوں؟ مبرد یہ بڑے حاضر جواب تھے مولانا امام مبرد دنیا کے امام بھئی امام نحو لغت گزرے ہیں بھئی امام مبرد.
تو ان کو مبرد کہتے ہیں یہ عدد میں پہلے مبرد تھا نام ان کا مبرد کیا معنی ٹھنڈا کرنے والا یہ ایسے حاضر جواب تھے ہر ایک کو جواب دے کر اس کو چپ کرا دیا کرتے تھے بھئی تو کہتے تھے یہ مبرد ٹھنڈا کر دیتا ہے دوسرے کو کیا کرتا ہے؟ ہاں تو بعد میں مخالفین نے مبرد کے بجائے کیا مشہور کر دیا؟ مبرد مشہور کر دیا. چلیے تو مشہور مبرد ہے لیکن میں مبرد پڑھتا ہوں بھئی مجھے یہ. وعند المبرد اور امام مبرد کے نزدیک اصلہ عل اس کی اصل کیا ہے؟ عل ہے. تو زیدہ فیہ اللام شروع میں ایک لام کا زیادتی شروع کے لام کی زیادتی کی گئی تو کیا بن گیا؟ لعل بن گیا واللواقی فرو اور باقی ساری اس کی فروع ہیں اصل ہے عل اور اس کے شروع میں کیا بڑھایا؟ لام اور باقی اسی کی فرعی ہیں، اسی عل سے بنتی ہیں یا لعل سے بنتی ہیں. چلیے مولانا ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام.