LECTURE-21
1
فَصْلٌ، حُرُوفُ الْمَصْدَرِ ثَلَاثَةٌ: مَا، وَأَنْ، وَأَنَّ. فَالْأُولَيَانِ لِلْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ.
حروف مصدر بھئی، کہتے ہیں حروف مصدر تین ہیں مولانا: "مَا"، ما مصدریہ؛ "أَنْ"، ان مصدریہ؛ اور "أَنَّ"، انّ۔ یہ وہی حرف مشبہ بالفعل ہے مولانا، وہ جو آپ نے إنَّ، أنَّ نہیں پڑھے بھئی؟ یہ وہ أنَّ ہے۔ یہ بھی کیا کرتا ہے مولانا؟ جملے کو مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے، یعنی مصدر کے حکم میں کر دیتا ہے۔ آپ نے نہیں کیا تھا بھئی؟ خبر کے مصدر کو نکال کر ہم کس کی طرف مضاف کرتے تھے؟ اس کے اسم کی طرف کرتے تھے، تو یہ اسم مصدر کے حکم میں کر دیتا ہے۔
تو مَا، أَنْ، أَنَّ تینوں حروف مصدر ہیں۔ اب ان میں فرق یہ ہے کہ مَا اور أَنْ فعل پر داخل ہوتے ہیں، یعنی ہمیشہ جملہ فعلیہ پر داخل ہوں گے، اور أَنَّ وہ تو کس پر داخل ہوتا ہے؟ مبتدا اور خبر، تو وہ جملہ اسمیہ کے ساتھ خاص ہے۔ تو مَا اور أَنْ جملہ فعلیہ پر داخل ہوتے ہیں، اور أَنَّ جملہ اسمیہ پر بھئی۔
فَالْأُولَيَانِ، پہلے دو جو ہیں، لِلْجُمْلَةِ الْفِعْلِيَّةِ، یہ کس کس کے لیے ہیں مولانا؟ جملہ فعلیہ کے لیے ہیں، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ۔ یہ ما مصدریہ ہے مولانا، بِمَا رَحُبَتْ، جس نے رَحُبَتْ کو کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں کر دیا۔ اور تو مَا رَحُبَتْ مصدر کے معنی میں ہوا، رُحْبٌ ہے مولانا، مصدر کیا ہے اس کا؟ رُحْبٌ۔ اور رَحُبَتْ کے اندر ضمیر تھی فاعل کی، اس کو مضاف بنا دو مولانا۔ کیا بنا دو؟ مؤنث کی ضمیر، اسی لیے کہا بِمَا رَحُبَتْ أَيْ بِرُحْبِهَا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بِرُحْبِهَا، مَا رَحُبَتْ کو ہٹایا، رُحْبٌ مصدر لگایا ساتھ، اور جو اس کے اندر فاعل تھا اس کو کیا بنا دیا؟ مضاف بنا دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو تنگ ہو گئی ان پر زمین بِرُحْبِهَا اپنی وسعت کے ساتھ، اپنی وسعت کے ساتھ۔ وسیع زمین بڑی وسیع ہے، لیکن پھر بھی ان پر کیا ہو گئی؟ تنگ ہو گئی۔ تو دیکھا یہ مَا رَحُبَتْ فعل، جملہ فعلیہ پر داخل ہوا۔
وَقَوْلِ الشَّاعِرِ، اسی طرح شاعر کا قول ہے:
يَسُرُّ الْمَرْءَ مَا ذَهَبَ اللَّيَالِي ... وَكَانَ ذَهَابُهُنَّ لَهُ ذَهَابَا
يَسُرُّ الْمَرْءَ، مَرْءَ ہے، مَرْءُ ہے آپ کے نسخے میں بھئی؟ جی؟ مَرْءُ ہے؟ ہاں، تو مَرْءَ ہونا چاہیے، جن کے نسخوں میں رفع اوپر ہے وہ اس کو نصب سے بدلیں۔ یہ مفعول ہے مقدم۔ اور مَا ذَهَبَ اللَّيَالِي، یہ ما مصدریہ ہے مولانا، یہ مقامِ استشہاد یہ ہے۔ ما کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ذَهَبَ اللَّيَالِي جملہ فعلیہ پر داخل ہو رہا ہے۔ تو ما مصدریہ ذَهَبَ اللَّيَالِي، جی، اب اس کو ذرا بنائیں مصدر! چلو، پہلے ترجمہ کر لیں۔ يَسُرُّ الْمَرْءَ خوش کرتا ہے آدمی کو مَا ذَهَبَ اللَّيَالِي، مَا ذَهَبَ بمعنیٰ ذہاب کے ہوا، مصدر کے معنی میں۔ تو خوش کرتا ہے آدمی کو ذَهَابُ اللَّيَالِي، راتوں کا گزرنا۔ راتوں کا گزرنا آدمی کو کیا کرتا ہے؟ خوش کرتا ہے۔ وَكَانَ ذَهَابُهُنَّ لَهُ ذَهَابَا۔
یہ واو حالیہ ہے مولانا، واو کیا ہے؟ اور آگے جملہ حال ہے۔ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں؟ حال کبھی مفرد ہوتا ہے اور کبھی کیا آتا ہے؟ جملہ آتا ہے۔ تو یہ جملہ حال ہے، جملہ ہے۔ اور کانَ ماضی ہے، اور ماضی جب بھی حال واقع ہو گی مولانا، "قَدْ" لفظوں میں ہونا چاہیے یا تقدیراً ہونا چاہیے، پھر حال بنے گی ورنہ حال نہیں بنے گی، جمہور کے نزدیک بھئی۔ تو یہاں "قَدْ" مقدر ہے، یہاں "قَدْ" کیا ہے؟ مقدر ہے۔
جیسے مولانا آپ ترکیب کرتے ہیں، بھئی میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ جی؟ ترکیب بھئی، میں نے بتلایا تھا نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو کیا بنتے ہیں؟ ماقبل کے لیے صفت بنتے ہیں۔ اور نکرہ کے بعد، اور معرفہ کے بعد جار مجرور آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنیں گے؟ حال بنیں گے، صفت بھی بناتے ہیں بعض، حال بنیں گے بھئی حال۔ اسی طرح بتلایا تھا مولانا، نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے تو وہ بھی اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ اور معرفہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ اس کے لیے حال بنے گا۔ کیا بنے گا؟ تو نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے کیا بنیں گے اس کے لیے؟ صفت بنے گی، کیونکہ جار مجرور نے جملہ بننا ہے یا شبہ جملہ بننا ہے۔ کیا بننا ہے؟ شبہ جملہ بننا ہے۔ تو وہ وہ بھی فعل، جیسے فعل نے جملہ بننا ہے، فعل جملہ ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ فعل سے جملہ بن جائے گا۔
تو مولانا، آپ پڑھتے ہیں: قَالَ اللهُ تَعَالَى، قَالَ اللهُ یہ لفظِ اللہ ایا، لفظِ اللہ کے بعد تَعَالَى فعل آیا مولانا، تَفَاعَلَ، تَعَالَيَ اصل میں تھا مولانا، ي متحرک ماقبل فتحہ تھا اس کو کس سے بدل دیا؟ الف سے، تَعَالَى ہوا۔ یہ بھی حال ہے ماقبل سے، یعنی لفظِ اللہ سے۔ اور یہ ماضی ہے، اور ماضی جب بھی حال ہو گی اس سے پہلے کیا مقدر ہو گا؟ قَدْ یا لفظوں میں ہو گا یا قَدْ تقدیراً، تو یہاں بھی کیا مقدر ہو گا؟ قَدْ مقدر ہو گا مولانا، اور یہ حال بنے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا، کَانَ ماضی، یہ حال بنے گی، پورا جملہ۔ اور ماضی جب حال بنے اس سے پہلے کیا نکالیں گے؟ قَدْ نکالیں گے، تو یہاں قَدْ مقدر ہے۔
وَكَانَ ذَهَابُهُنَّ، هُنَّ ضمیر راجع ہے لَیَالِي کی طرف۔ اور ان کا گزرنا لَهُ ذَهَابَا، یہ لَهُ متعلق ہے ذَهَابَا کے ساتھ۔ ان راتوں کا گزرنا ذَهَابًا گزرنا ہے لَهُ اس آدمی کے لیے۔ اس آدمی کے لیے بھی، بھئی آدمی خوش ہوتا ہے کہ میرا وقت بڑا اچھا گزر گیا، سیر و تفریح میں، ہنگامے میں گزر گیا، لذتوں میں گزر گیا، لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ دن رات جو گزر رہے ہیں، وہ خود بھی آہستہ آہستہ گزرتا جا رہا ہے، اس کی عمر کم ہوتی جا رہی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو عمر برف کی مثال ہے، آہستہ آہستہ پگھلتے جا رہی ہے، جیسے برف پگھلتی جائے، کم ہوتی چلی جاتی ہے، تو اسی طرح عمر بھی مقرر ہے، جو شخص بھی دنیا میں آتا ہے مولانا، ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے کہ اس کے گلے میں تختی لکھ کر فرشتے ایک لٹکا دیتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تختی لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دی جاتی ہے، اس کا رزق وغیرہ لکھ دیا جاتا ہے، موت کا وقت وغیرہ لکھ دیا جاتا ہے، تو موت کا وقت آدمی کا متعین ہوتا ہے، تو اس کا وقت گزرتا ہے وہ خوش ہوتا ہے، میرا وقت بڑا اچھا گزر رہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اس وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کی، وہ خود بھی کیا ہے؟ ختم ہوتا جا رہا ہے آہستہ آہستہ، موت اس کے قریب آ رہی ہے۔
یہ معنی ہے: يَسُرُّ الْمَرْءَ آدمی کو خوش کرتا ہے ذَهَابُ اللَّيَالِي راتوں کا گزرنا وَكَانَ ذَهَابُهُنَّ لَهُ ذَهَابَا اور ان راتوں کا گزرنا اس آدمی کا گزرنا ہے۔ ان راتوں کا گزرنا اس آدمی کا گزرنا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو يَسُرُّ الْمَرْءَ، مَا ذَهَبَ کس معنی میں ہوا؟ ذَهَاب کے معنی میں، کس کے معنی میں؟ مصدر بنا لو۔ تو يَسُرُّ الْمَرْءَ آدمی کو خوش کرتا ہے ذَهَابُ اللَّيَالِي راتوں کا گزرنا۔
وَأَنْ، اور أَنْ جو ہے، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى جیسے اللہ کا یہ قول ہے: فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ، نہیں تھا ان کی قوم کا اور کوئی جواب، إِلَّا أَنْ قَالُوا۔ مولانا، کَانَ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو رفع دیتا ہے، اپنے خبر کو؟ یہ جَوَابَ قَوْمِهِ خبرِ مقدم ہے۔ جَوَابَ قَوْمِهِ کَانَ کے لیے کیا ہے؟ خبرِ مقدم۔ اور إِلَّا کے بعد جو آ رہا ہے نا أَنْ قَالُوا، یہ أَنْ دیکھو، مقامِ استشہاد یہ ہے۔ أَنْ کس پر داخل ہو رہا ہے؟ جملہ فعلیہ پر، قَالُوا پر بھئی۔ تو یہ أَنْ نے قَالُوا کو مصدر بنا دیا، أَيْ قَوْلُهُمْ، أَيْ؟ تو یہ أَنْ قَالُوا، یہ مولانا کَانَ کا اسم ہے، اسمِ مؤخر۔ اور اسم کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، لہٰذا کیا پڑھیں گے؟ قَوْلُهُمْ پڑھیں گے۔ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا قَوْلُهُمْ، تو ان کی قوم کا اور کوئی، انبیاء دعوت دیتے تھے مولانا، تو ان کی قوم اور کے ایک ہی جواب دیا کرتی تھی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ اس کی قوم، ان کی قوم اور کوئی جواب، بس یہ بات کہا کرتی تھی، کیا؟ وہ آیت میں قرآن میں ذکر، بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ غالباً حضرت نوح علیہ السلام یا حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں ذکر آتا ہے بھئی، یہ آیت وہاں۔
وَأَنَّ لِلْجُمْلَةِ الْإِسْمِيَّةِ، اور أَنَّ بھی حروفِ مصدریہ میں سے ہے، یہ کس کے لیے آتا ہے مولانا؟ جملہ اسمیہ پر آتا ہے، نَحْوُ عَلِمْتُ أَنَّكَ قَائِمٌ۔ جی! کیسے بنائیں گے أَنَّكَ قَائِمٌ؟ مفرد کے حکم میں کیسے کریں گے اس کو؟ کیا، بناؤ بناؤ بھئی! قیام اور، ک ضمیر کی طرف مضاف کر دو، کیا بن گیا؟ ہاں، أَيْ عَلِمْتُ قِيَامَكَ، میں نے تیرے قیام کو جان لیا، خود بتلا رہے ہیں: أَيْ قِيَامَكَ، دیکھا؟
فَصْلٌ، حُرُوفُ التَّحْضِيضِ أَرْبَعَةٌ، حروفِ تحضیض چار ہیں۔ تحضیض کا معنی ابھارنا، ابھارنا مولانا، ابھارنا۔ تو یہ حروف ابھارنے کے لیے استعمال، چار ہیں مولانا: هَلَّا، أَلَّا، لَوْلَا، لَوْمَا۔ لَهَا صَدْرُ الْكَلَامِ، ان سب کے لیے صدارتِ کلام ہے۔ یہ کہاں پر آئیں گے ہمیشہ مولانا؟ کلام کے شروع میں آئیں گے۔ وَمَعْنَاهَا حَثٌّ عَلَى الْفِعْلِ إِنْ دَخَلَتْ عَلَى الْمُضَارِعِ، تو یہ مضارع پر بھی داخل ہوتے ہیں، ماضی پر بھی داخل ہوتے ہیں۔ تو مضارع پر جب یہ داخل ہوں گے کسی کام پر ابھاریں گے بھئی، ابھارنے کے لیے ہوں گے۔ وَمَعْنَاهَا، اور ان کا معنی جو ہے، حَثٌّ عَلَى الْفِعْلِ کسی کام، فعل پر ابھارنا ہے، إِنْ دَخَلَتْ عَلَى الْمُضَارِعِ جب یہ کس پر داخل ہو جائیں؟ مضارع پر، دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی، جیسے نَحْوُ: هَلَّا تَأْكُلُ، تو کھاتا کیوں نہیں؟ کیا معنی؟ یعنی اور کھاؤ بھئی، سمجھ میں آیا؟
وَلَوْمٌ إِنْ دَخَلَتْ عَلَى الْمَاضِي، اور ملامت ہے مولانا ان کا معنی اگر یہ ماضی پر داخل ہو جائیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے هَلَّا ضَرَبْتَ، تو دیکھو پچھلے جملے میں تھا هَلَّا تَأْكُلُ مضارع پر داخل ہوا، تو اس میں ابھارا جا رہا ہے اس فعل پر کہ کھاؤ بھئی، تو کھاتا کیوں نہیں، کھاؤ۔ اور اگر ماضی پر ہو تو ملامت کیا جاتا ہے گزشتہ کام پر، جیسے هَلَّا ضَرَبْتَ زَيْدًا، تو نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ تجھے کیا کرنی چاہیے تھی زید کی؟ پٹائی۔ تو گزشتہ جو چیز فوت ہو چکی تھی، گویا اس پر ابھارا جا رہا ہے، ملامت کیا جا رہا ہے۔
وَحِينَئِذٍ لَا تَكُونُ تَحْضِيضًا إِلَّا بِاعْتِبَارِ مَا فَاتَ، اور اس صورت میں یہ تحضیض ابھارنا نہیں ہو گا، إِلَّا بِاعْتِبَارِ مَا فَاتَ مگر اس چیز کے اعتبار سے جو کیا ہے؟ فوت ہو چکی ہے۔
وَلَا تَدْخُلُ إِلَّا عَلَى الْفِعْلِ، اور یہ داخل نہیں ہوتے مولانا مگر کس پر؟ فعل پر، كَمَا مَرَّ جیسے گزرا۔ وَإِنْ وَقَعَ بَعْدَهَا اسْمٌ، اگر ان کے بعد اسم بھی واقع ہو جائے، فَبِإِضْمَارِ فِعْلٍ، تو وہ کس کے ساتھ ہو گا؟ تقدیرِ فعل، فعل وہاں مقدر ہو گا۔ كَمَا تَقُولُ جیسے آپ کہتے ہیں، لِمَنْ ضَرَبَ قَوْمًا اس شخص سے، ضَرَبَ قَوْمًا جس نے کیا کی؟ کسی قوم کی، کچھ لوگوں کی کسی نے پٹائی کی، اس کو آپ کہتے ہیں: هَلَّا زَيْدًا؟ بھئی هَلَّا کس پر داخل ہوا؟ اسم پر، اور حالانکہ داخل کس پہ ہونا چاہیے؟ فعل، معلوم ہوا فعل محذوف ہے، أَيْ هَلَّا ضَرَبْتَ زَيْدًا؟ زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟
وَجَمِيعُهَا مُرَكَّبَةٌ، یہ سارے کے سارے مرکب ہیں مولانا، دیکھ نہیں رہے آپ؟ هَلْ لَا، أَنْ لَا، لَوْ لَا، لَوْ مَا۔ تو پہلے میں کیا ہے؟ هَلْ اور لَا، دوسرے میں أَنْ اور لَا، تیسرے میں لَوْ اور لَا، چوتھے میں لَوْ اور مَا۔ تو دیکھو وَجَمِيعُهَا مُرَكَّبَةٌ، یہ سارے مرکب ہیں۔ جُزْؤُهَا الثَّانِي حَرْفُ النَّفْيِ، ان سب کا جزءِ ثانی کیا ہے؟ حرفِ نفی، پہلے تین میں تو لَا ہے، اور چوتھے میں مَا ہے۔ وَالْأَوَّلُ اور پہلا حَرْفُ الشَّرْطِ وہ حرفِ شرط ہے، کس میں حرفِ شرط ہے؟ لَوْلَا اور لَوْمَا میں، یہ لَوْ کیا ہے؟ حرفِ شرط ہے۔ أَوِ الِاسْتِفْهَامُ، یا حرفِ استفہام ہے، وہ کونسا ہے؟ هَلَّا، یہ هَلْ کیا ہے مولانا؟ استفہام ہے۔ أَوْ حَرْفُ الْمَصْدَرِ، یا مولانا شروع میں حرفِ مصدر ہے، وہ کونسا ہے؟ أَلَّا، یہ اصل میں کیا تھا؟ أَنْ لَا، یہ أَنْ کیا ہے؟ مصدریہ۔ تو بعضوں میں هَلْ آیا وہ استفہامیہ ہے پہلا حرف، دوسرے میں أَنْ آیا مصدریہ، اور دو میں لَوْ آیا وہ کیا ہے؟ شرطیہ۔ تو یہ سارے مرکب ہیں حرفِ نفی سے اور حرفِ شرط یا حرفِ استفہام یا حرفِ مصدر سے۔
وَلِلَوْلَا مَعْنًى آخَرُ، یہ لَوْلَا تحضیضیہ کہلاتا ہے، کیا آیا مولانا؟ ایک لَوْلَا آیا یا نہیں مولانا؟ یہ لَوْلَا تحضیضیہ کہلاتا ہے، یعنی کس لیے آیا؟ ابھارنے کے لیے آیا۔ اب لا رہے ہیں ایک اور لَوْلَا بھی ہے جو لَوْلَا امتناعیہ کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ وَلِلَوْلَا مَعْنًى آخَرُ، اور لَوْلَا کا ایک اور معنی بھی ہے، وَهُوَ امْتِنَاعُ الْجُمْلَةِ الثَّانِيَةِ لِوُجُودِ الْجُمْلَةِ الْأُولَى، وہ جملہ ثانیہ کا ممتنع ہونا ہے جملہ اولیٰ کے ہونے کی وجہ سے۔
نَحْوُ، مثال دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی: لَوْلَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ بھئی! دیکھا بھئی صحابہ، پیغمبر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک صحابی کتنی عظیم شان رکھتا ہے بھئی! حق کو دیکھو، کتنے قبول، جلدی قبول کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ تھے۔ تو ایک عورت کو لایا گیا اس نے زنا کیا تھا، حاملہ تھی زنا سے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو رجم کر دیا جائے بھئی! حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں موجود تھے، فرمانے لگے کہ یا امیر المؤمنین! یہ عورت کا تو قصور ہے، اس کو تو رجم کیا جائے، یہ بچہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے، وہ بھی مر جائے گا اس سے رجم کریں گے۔ لہٰذا اتنا وقت دیا جائے کہ وضعِ حمل ہو پھر اس کو کیا کیا جائے؟ رجم کیا جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لَوْلَا عَلِيٌّ لَهَلَكَ عُمَرُ، اگر علی آج نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گیا تھا، میری وجہ سے ایک جان چلی جاتی۔ اور دیکھو! عجیب مولانا! تو کتنا خیال تھا مولانا، ایک جان میری وجہ سے چلی جائے گی مولانا، خلیفۂ وقت ہے۔ اور دیگر بادشاہوں کو دیکھو، گردنوں پہ گردنیں اڑاتے ہیں بھئی بلا وجہ ہی، اور کوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ اور جبکہ یہ تو حمل تھا، پتہ نہیں پیدا بھی ہوتا ہے یا پیدا نہیں ہوتا، ہے بھی... سمجھ میں آیا؟ تو اس وقت فرمایا تھا: لَوْلَا عَلِيٌّ، أَيْ لَوْلَا عَلِيٌّ ثَابِتٌ یا لَوْلَا عَلِيٌّ مَوْجُودٌ، اگر علی موجود نہ ہوتے، لَهَلَكَ عُمَرُ تو عمر تو کیا تھے؟ ہلاک ہو گئے تھے۔ اب دیکھو! لیکن ہلاکتِ عمر ممتنع ہے، ہلاکتِ عمر منتفی ہے۔ حضرت عمر ہلاک ہوئے؟ نہیں، منتفی ہے ہلاکتِ عمر، کیوں منتفی ہے؟ وجودِ علی کی وجہ سے، وجودِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تو ہلاکت، تو دیکھو پہلا جملہ ہے: لَوْلَا عَلِيٌّ، یہ لَوْلَا کس پر داخل ہوا؟ اسم پر۔
2
یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر ہمیشہ حذف کریں گے، واجب ہے۔ لولا علي موجود، یا لولا علي ثابت۔
تو اگر علی، تو دیکھو اور اگلا جملہ ہے یہ جواب لولا ہے۔ لہلك عمر، یہ کیا ہے؟ جواب لولا۔ تو یہ جواب جو ہے یعنی یہ جملہ ثانیہ منتفی ہے، کیوں منتفی ہے؟ بعلتِ وجودِ اول کے۔ تو ہلاکتِ عمر منتفی ہے بعلتِ وجودِ علی کے۔
تو دیکھا ثانی جملہ ممتنع ہے کس کی وجہ سے؟ اول کے وجود کی وجہ سے۔ سمجھ میں آ گئی سب کو بات بھئی؟ یہی بات کر رہے ہیں دوبارہ دیکھو بھئی! وللولا معنى آخر، لولا کا ایک اور معنی بھی ہے۔ وہو امتناع الجملة الثانیة لوجود الجملة الأولى، جملہ ثانیہ کا ممتنع ہونا ہے بعلتِ جملہ اولیٰ کے وجود کے۔
نحو لولا علي لہلك عمر وحینئذ تحتاج إلى جملتین، اور یہ اس صورت میں جب یہ لولا امتناعیہ ہو، یہ محتاج ہو گا إلى جملتین، کتنے جملوں کا؟ دو جملوں کا بھئی۔ دو پر داخل ہوا ہے یا نہیں؟ أولاہما اسمیة أبدا، پہلا ہمیشہ کیا ہو گا؟ اسمیہ ہو گا۔ پہلا جملہ ہمیشہ اسمیہ ہو گا۔
تو لولا تحضیضیہ ہے ایک، اور ایک لولا امتناعیہ۔ لولا تحضیضیہ ایک جملہ چاہتا ہے، فعل پر داخل ہوتا ہے۔ بس، هلّا ضربت زیداً، لولا ضربت زیداً۔ جبکہ ثانی لولا امتناعیہ ہے، وہ دو جملے چاہتا ہے جن میں سے پہلا کیا ہو گا ہمیشہ؟ اسم ہو گا، اوہ اسمیہ ہو گا، اور اس میں سے بھی خبر کا حذف کرنا واجب ہو گا۔
فصل: وہ حرف التوقع، توقع کا حرف بھئی، یہ ایک ہی حرف ہے، قد۔ وہ کیا ہے؟ حرف التوقع قد، توقع کا حرف قد ہے۔ وہي في الماضي، بھئی اس کو حرف توقع کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کہ اس کے ذریعے عموماً ایسے شخص کو خبر دی جاتی ہے جس کو خبر کی توقع تھی۔ جو خبر کی کیا؟ اس کو توقع تھی، امید تھی۔ آپ نے کسی کو کہا قد قام زید، تحقیق زید کھڑا ہو گیا۔ معلوم ہوا اس کو انتظار تھا، اس کو توقع تھی مولانا، امید تھی خبر کی۔ تو آپ نے اب قد کے ساتھ خبر دی۔
وهي في الماضي لتقریب الماضي إلى الحال، اور یہ ماضی میں آتا ہے قد اور کس لیے؟ تاکہ ماضی کو قریب کر دے، کس کے؟ حال کے قریب کر دیتا ہے۔ اور یہ ماضی میں آتا ہے لتقریب الماضي إلى الحال تاکہ قریب کر دے ماضی کو حال کے، نحو قد رکب الأمیر، امیر سوار ہو گیا۔ ایک ہے مولانا رکب الأمیر، امیر سوار ہوا، کب سوار ہوا؟ کوئی پتہ نہیں مولانا۔ آج صبح سوار ہوا، پھر بھی آپ کہتے ہیں رکب الأمیر، دس سال پہلے سوار ہوا تھا، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں رکب الأمیر، امیر سوار ہوا بھئی، ماضی کے اندر بس۔ لیکن جب قد آ گیا، قد نے بتلایا کہ یہ سوار ہونا کس زمانے میں ہے؟ قریب کے زمانے میں ہے۔ اب ماضی کیا بن گئی؟ ماضی قریب بن گئی۔
تو نحو قد رکب الأمیر، امیر سوار ہو گیا ہے، أي قبيل هذا، قبیل تصغیر ہے قبل کی، تھوڑا پہلے۔ قبل کا معنی پہلے اور قبیل کا معنی تھوڑا پہلے، أي قبيل هذا، تھوڑا پہلے اس سے۔ ولأجل ذلك سميت حرف التقريب أيضاً، اور اسی وجہ سے اس کو حرف تقریب بھی کہتے ہیں۔ حرف؟ کیونکہ کیا کرتا ہے؟ ماضی کو کس کے معنی میں کر دیتا ہے؟ ماضی قریب کے معنی میں۔
ولهذا تلزم الماضية لها، اسی لیے یہ ماضی کے ساتھ لازم ہوتا ہے ليصلح أن يقع حالًا، تاکہ وہ صلاحیت رکھے کہ حال واقع ہونے کی، تاکہ وہ ماضی حال واقع ہونے کی، دیکھو مولانا! جاءني زيد، آیا میرے پاس زید، ورکب ورکب جاءني زيد ورکب، یہ رکب کیا ہے مولانا؟ حال، کس سے؟ زید سے۔
اور جب ماضی حال واقع ہو، ابھی میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا، اس سے پہلے کیا ہو گا؟ قد مقدر ہو گا یا وہ لفظوں کے اندر ذکر ہو گا، تو جاءني زيد وقد رکب، کیوں؟ وجہ یہ ہے مولانا، آیا، بتائیے مولانا! آنے کا اور سوار، آیا میرے پاس زید اس حال میں کہ وہ سوار تھا، تو آنے کا اور سوار ہونے کا زمانہ ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ ایک ہے، جس وقت آیا اسی وقت سوار بھی ہے۔
اور حالانکہ حال آپ لے کر آ رہے ہیں ماضی، حال کیا لے کر آ رہے ہیں؟ ماضی، تو بظاہر اگر قد نہیں لے کر آئیں گے تو پھر تو آنے کا زمانہ آج ہے، تو سوار ہونے کا اس سے بھی ماضی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھی کیا ہے؟ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں گے، معلوم ہوا آیا آج ہے اور سوار کب تھا؟ پہلے۔ آیا آج ہے اور سوار کب تھا؟ پہلے تھا، حالانکہ آنے کا اور سوار ہونے کا زمانہ تو ایک ہے، تو اب آپ مولانا عاملِ حال اور حال کا زمانہ ہمیشہ محیط ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں میرے پاس زید آیا اس حال میں کہ وہ سوار تھا، تو عاملِ حال کون ہوا؟ جاءني زيد راکباً، یہ راکباً کے اندر عامل کون؟ جاء، کون عامل ہے؟ جاء، حال میں آپ نے پڑھا تھا، عامل فعل ہوتا ہے یا معنیِ فعل ہوتا ہے۔ تو اس کے اندر راکباً میں حال، اور تو یہ عاملِ حال ہوا، جاء کیا ہوا؟ اب یاد رکھو حال اور عاملِ حال، ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔
حال اور عاملِ ذوالحال کا زمانہ؟ حال کیا ہے؟ رکوب، اور عاملِ ذوالحال، عامل کون ہے بھئی؟ جاء، تو مجیئت اور سواری کا زمانہ ایک ہو گا۔ یہ معنی نہیں کہ آیا آج ہے اور سوار اس سے پہلے تھا، نہیں، دونوں کا زمانہ کیا ہو گا؟ لیکن جب آپ نے کہا جاءني زيد ورکب، اس حال کس کو لے آئے؟ ماضی، تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ جب مجیئت تھی، حال جو بیان کر رہے ہیں آپ رکب، وہ ماضی ہے۔ تو اس آنے کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھی وہ ماضی ہے، مجیئت کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھی مولانا، رکوب کیا ہے؟ ماضی میں ہے۔ معلوم ہوا آیا آج ہے تو رکوب کب تھا؟ گزشتہ کل میں تھا، کس میں تھا؟ حالانکہ تو حال کا زمانہ، عامل کا زمانہ ہوا آج کا اور عاملِ ذوالح... عامل کا زمانہ، مجیئت کا زمانہ ہوا آج کا اور حال کا زمانہ کون سا ہو گیا؟ گزشتہ کل کا، حالانکہ دونوں کا زمانہ کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہونا چاہیے۔ تو پھر جب ماضی حال آئے تو پھر اس پر قد داخل کرتے ہیں، یہ قد اس ماضی کو حال کے قریب کر دیتا ہے۔
حال کے کیا کر دیتا ہے؟ قریب کر دیتا ہے، تو پہلے عام ماضی تھی، اب ماضی قریب بن گئی اور ماضی قریب حال کے کیا ہوئی؟ ماضی قریب کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ تو حال کے کیا ہے؟ قریب ہے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا کہ قریب إلى الشيء في حکم الشيء ہوتی ہے۔ فلہٰذا، اب مولانا یہ گویا کہ حال ہی ہے۔ یہ گویا کہ حال، جب حال کے قریب ہو گئی تو گویا کہ کیا بن گئی؟ حال بن گئی، اب مولانا ماضی حال بن سکتی ہے۔ اب ماضی کیا بن سکتی ہے؟ تو پہلے یہ گزشتہ زمانے پر دلالت کر رہی تھی، قد کے آنے کی وجہ سے یہ حال کے قریب، حال تو نہ بنی لیکن حال کے کیا ہو گئی؟ قریب بن گئی ہو گئی، اور قریب إلى الشيء في حکم الشيء ہوتا ہے، تو یہ گویا حال ہی بن گئی اور حال بن گئی تو اب یہ حال واقع ہو سکتی ہے۔ حال بن گئی تو اب یہ کیا واقع ہو سکتی ہے؟ حال واقع ہو سکتی ہے، بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ اچھی طرح آئی ہے یا ویسے ہی سر ہلا رہا ہے؟ سب کو سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھا، ہاں اگر قد نہ لائیں پھر تو وہ گزشتہ زمانے پہ دلالت کر رہا ہے، اس کا مطلب ہے مجیئت اگر کل آیا، مجیئت کل تھی، تو رکوب اس سے بھی پہلے تھا، اس کے مقابلے میں بھی وہ ماضی میں تھا، اس سے بھی پہلے تھا، اور حالانکہ یہ بتانا تو مقصد نہیں ہے، بتلانا کیا مقصد ہے؟ کہ جب آیا اسی وقت کیا تھا؟ اسی حال میں سوار تھا۔ اسی، فلہٰذا ماضی، تو وہ گزشتہ پر دلالت کرتی ہے تو ہم قد لے آئے، تو قد کی وجہ سے وہ کیا ہوئی؟ زمانہ حال کے قریب ہو گئی، تو حال تو نہ بنی لیکن حال کے قریب ہو گئی اور قریب إلى الشيء في حکم الشيء ہوتا ہے، تو حال کے قریب بھی گویا کہ کیا ہے؟ حال ہی ہے، اور جب حال ہے تو اب یہ حال واقع ہو سکتی ہے۔
ولهذا تلزم الماضية، اسی وجہ سے یہ قد لازم ہے ماضی کے ساتھ ليصلح أن يقع حالًا، تاکہ وہ صلاحیت وہ رکھے حال واقع ہونے کی، تاکہ اس میں حال واقع ہونے کی کیا پیدا ہو جائے؟ ورنہ قد کے بغیر اس میں حال واقع ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔
وقد تجيئ للتأکيد، اور کبھی کبھی یہ قد کس لیے آتا ہے مولانا؟ تاکید بھی مولانا، إذا كان جوابًا لمن يسأل، جبکہ یہ جواب ہو اس شخص کو، لمن، اس شخص کو يسأل جو پوچھ رہا ہو۔ مثال کے طور پر، هل قام زيد؟ کسی نے آپ سے پوچھا، کیا زید کھڑا ہے؟ کیا زید؟ اس کا پوچھنا، اس کا سوال کرنا، معلوم ہوا اس کو تردد ہے۔ اس کو زید کے کھڑا ہونے کا پتہ ہے؟ جس نے سوال پوچھا اس کو پتہ ہے زید کے کھڑا ہونے کا؟ اگر اس کو پتہ ہوتا تو وہ سوال ہی نہ کرتا، معلوم ہوا اس کو تردد ہے، پتہ نہیں زید کھڑا ہے یا نہیں؟ تو اس نے سوال پوچھا، اور جب تردد ہے تو اب ضروری ہے کہ بات میں تھوڑی سی تاکید لے کر آؤ، بات میں کیا لے کر آؤ؟ یاد رکھو، ایک شخص ہے بغیر... عام آدمی ہے اس سے جب میں بات کر رہا ہوں، اس کو میں زید کے قیام کی خبر دینا چاہتا ہوں تو میں کہوں گا زيد قائم، کیونکہ اس کو شک ہے؟ جب شک ہی نہیں ہے تو بات میں تاکید لانے کی ضرورت ہے؟ نہیں، لیکن ایک آدمی جس کے ذہن میں شک ہے تو اس کے لیے بات ذرا زور دار لانی پڑے گی، تو وہاں کیا لے کر آتے ہیں؟ قد لے کر آتے ہیں۔ اگر اور شک زیادہ ہو مولانا، اور تاکید بڑھا دو۔
کیا کہو؟ مثلاً، جملہ اسمیہ کی مثال دیتا ہوں بھئی۔
زيد قائم کہا، اس کو تھوڑا... تو جملہ اسمیہ لایا وہاں میں... جملہ اسمیہ لے آیا، تاکید تھوڑی سی آ گئی۔ پھر میں اس کو اور شک تھا، میں اور ش... لے آیا مولانا، إن زيدًا قائم۔ اگر وہ انکار کرنے والا تھا، اس نے کہا زید کھڑا نہیں ہے۔ پہلے تو صرف شک تھا، اب تو وہ باقاعدہ کیا کر رہا ہے؟ اب مولانا اور بات کو زور دار لانا پڑے گا، اب میں کہوں گا إن زيدًا لقائم، بیشک... لامِ إن بھی، جملہ اسمیہ لایا، وہ بھی تاکید پہ دلالت کر رہا ہے، إن لایا، وہ بھی تاکید پہ دلالت کر رہا ہے، لام لایا، وہ بھی کس سے دلالت کر رہا ہے؟ کیونکہ اس کا انکار تھا۔ اگر بڑا سخت انکار تھا، میں اور تاکید لے کر آؤں گا، میں کہوں گا واللہ إن زيدًا لقائم، واللہ! زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کلام میں تاکید لائی جاتی ہے موقع محل کے مطابق، تو اب جس نے سوال کیا اس کو بھی تردد ہے، شک ہے، اور جب شک ہے تو کلام میں کیا لانا چاہیے؟ تاکید، اور وہ کس سے آئے گی ماضی میں؟ قد سے ماضی میں آتی ہے۔
وقد تجيئ للتأکيد، اور کبھی کبھار قد تاکید کے لیے بھی آتا ہے، إذا كان جوابًا لمن يسأل، جبکہ یہ جواب ہو اس شخص کا جو پوچھ رہا ہو، هل قام زيد؟ کیا زید کھڑا ہوا ہے؟ تقول، آپ جواب میں کہتے ہیں قد قام زيد، تحقیق زید کھڑا ہو گیا۔ وفي المضارع للتقليل، اور مضارع میں یہ کبھی کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے آتا ہے، نحو إن الكذوب قد يصدق، کذوب فعول مبالغے کا صیغہ ہے۔ بیشک بہت بڑا جھوٹا بھی کبھی کبھی سچ بول دیتا ہے۔
بڑا جھوٹا بھی کیا کرتا ہے کبھی؟ سچ غلطی سے زبان پہ جاری ہو ہی جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وإن الجواد قد يبخل، کبھی بڑا سخی بھی بخل کر لیتا ہے۔ تو یہ تقلیل کا معنی کس نے پیدا کیے؟ قد نے، کہ کبھی بخل کر لیتا ہے، کبھی سچ بول دیتا ہے۔
وقد تجيئ للتحقيق، اور کبھی کبھی مولانا یہ قد مضارع میں تحقیق کے لیے بھی آ جاتا ہے، تقلیل کے لیے نہیں بلکہ؟ تحقیق کے لیے، جیسے اللہ فرماتے ہیں قد يعلم الله المعوقين، تحقیق اللہ جانتے ہیں بعض رو... بعض رکھنے والوں کو، روکنے والوں کو، معوقین کہتے ہیں روکنے والے۔ جو اللہ کے راستے سے روکنے والے ہیں، دین سے روکنے والے ہیں، اللہ ان کو خوب جاننے والے ہیں۔
ويجوز الفصل بينها وبين الفعل بالقسم، اور جائز ہے مولانا کہ اس کے قد اور اس کے... قد کس پہ داخل ہو گا؟ فعل، فعلِ ماضی پر یا فعلِ... لیکن درمیان میں قسم کے ساتھ فصل لانا بھی جائز ہے، جیسے قد والله أحسنت، تو یہ قد دراصل کس پہ داخل ہو رہا ہے؟ أحسنت پہ، درمیان میں قسم فاصل آ گئی۔
وقد يحذف الفعل بعد قد عند القرينة، اور کبھی کبھار قد کے بعد فعل کو حذف بھی کر لیا جاتا ہے جب کوئی قرینہ موجود ہو، كقول الشاعر، جیسے شاعر کہتا ہے: أفد الترحل، أفد أي قرب، قریب ہوا، الترحل، کوچ کرنا، نکلنا سفر پہ۔
کوچ، سفر پہ نکلنا قریب ہو گیا۔ غير أن ركابنا، علاوہ اس کے کہ ہماری سواریاں جو ہیں،
ہاں! رکاب، ہماری سواریاں جو ہیں لم تزل، زال یزول کا معنی زائل ہونا، اپنی جگہ کو چھوڑنا، ابھی تک انہوں نے چھوڑا نہیں ہے اپنی جگہوں کو برحالنا، ہمارے کجاووں کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ کجاووں کے ساتھ، کجاوے جانتے ہو یا نہیں ہوئے؟
وہ اونٹ پر رکھتے ہیں مولانا، اونٹ پر کجاوا رکھتے ہیں بیٹھنے وغیرہ کے لیے۔
وکأن قد، وکأن قد،
قد، یہ اصل میں ہے وکأن، أي وکأن قد زالت، وکأن قد کیا ہے؟ أي وکأن قد زالت۔ تو مولانا زالت کو حذف کر دیا اور قد، اس کو تنوین دے دی، کیا دے دی؟ تنوین، یہ تنوینِ ترنم کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ تنوینِ ترنم، شعر کے اندر مولانا کبھی کبھی ترنم کے لیے وزن وغیرہ کو... کے لیے تنوین ایک بڑھا دیتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تنوینِ... اور یہ مولانا باقی تنوینیں تو خاص ہیں، وہ صرف اسم پر آیا کرتی ہیں، لیکن یہ تنوینِ ترنم اسم پر بھی آ سکتی ہے، فعل پر بھی آ سکتی ہے، حرف پر بھی، جیسے یہاں یہ حرف پر آئی ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
قریب ہو گیا ہمارا کوچ کرنا، یعنی ہمارے کوچ کا وقت کیا ہوا؟ قریب آ گیا، غير أن ركابنا، علاوہ اس کے کہ ہماری سواریاں جو ہیں لم تزل، وہ ابھی چلی نہیں برحالنا، ہمارے کجاووں کے ساتھ، وکأن قد، اور گویا کہ وہ چل چکی ہیں، انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے، یعنی وہ چل پڑی ہیں، کیونکہ ہمارا سفر کا ارادہ بڑا پکا ہے، تو گویا یوں سمجھو چل ہی پڑی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟
تو شاعر کہتا ہے ہمارے ز... ہم نے ابھی سفر پر چلے تو نہیں، لیکن یوں سمجھو ہم چل ہی پڑے ہیں کہ ہمارا بڑا پکا ارادہ ہے، تو گویا چل ہی پڑے ہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مقامِ استشہاد مولانا وکأن قد ہے، قد سے ہم نے کیا کر دیا؟ سمجھ میں آیا؟
فصل: حرفا الاستفهام، استفہام کے دو حرف بھئی، الهمزة وهل، ایک حمزہ ہے اور ایک ہل ہے۔ لهما صدر الكلام، یہ کہاں آتے ہیں بھئی؟ یہ صدارتِ کلام کے چاہتے ہیں، اس کے استحقاق رکھ... کے مستحق ہیں۔ وتدخلان على الجملتين، اور یہ جملے پر دونوں داخل ہوتے ہیں، اسمية كانت أو فعلية، چاہے وہ جملہ اسمیہ ہو یا فعلیہ ہو، اسمیہ کی مثال جیسے أزيد قائم، کیا زید کھڑا ہے؟
اور فعلیہ کی مثال، هل قام زيد، کیا زید کھڑا ہے؟ کیا زید کھڑا ہوا؟ ودخولهما على الفعلية أكثر، تو جملہ اسمیہ پہ بھی داخل ہوتے ہیں، فعلیہ پر بھی، لیکن زیادہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ فعلیہ پر۔ ودخولهما على الفعلية أكثر، اور ان کا دخول فعلیہ پر زیادہ ہوتا ہے، إذ الاستفهام بالفعل أولى، اس لیے کہ مولانا استفہام فعل کے زیادہ لائق ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ فعل کے بارے میں عموماً استفہام ہوتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل کے بارے میں عموماً استفہام ہوتا ہے۔
3
وقد تدخل الهمزة في مواضع لا يجوز دخول هل فيها، باستفهام کے کتنے حروف ہیں؟ دو، حمزہ اور هل۔ لیکن بعض جگہیں ہیں جہاں حمزہ آتا ہے اور هل استفہام کے لیے وہاں ہم استعمال نہیں کر سکتے، کون سی جگہ ہیں دیکھیے بھئی مثالیں مثالیں دیں گے صرف مثال سے بات کریں گے۔
وقد تدخل، اور تحقیق داخل ہوتا ہے حمزہ في مواضع ایسی جگہوں میں لا يجوز دخول هل فيها کہ وہاں هل کا داخل ہونا جائز نہیں۔ نحو مثال کے طور پر أزيداً ضربت؟ أزيداً ضربت؟ یہ حمزہ کے ساتھ تو آپ پوچھ سکتے ہیں، هل زيداً ضربت؟ یہ کہنا جائز نہیں۔
یاد رکھو یہ جو هل ہے، یہ اصل میں ہے قد کے معنی میں۔ جو معنی قد ادا کرتا تھا تحقیق تو وہی معنی کون ہے؟ اس کے لیے کیا ہے؟ هل۔ اصل وضع میں قد۔
اور قد ہمیشہ کس پہ داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، تو یہ هل بھی چاہتا ہے میں بھی کس پہ داخل ہوں؟ فعل پر داخل ہوں۔ تو اگر جملے میں فعل موجود ہو تو پھر هل فعل پر داخل ہوگا، اگر جملے میں فعل موجود ہی نہیں پھر تو چلو خیر ہے هل زيد قائم، سمجھ میں آیا؟ فعل ہے ہی نہیں، لیکن اگر فعل موجود ہو تو اس فعل کو هل کے فوراً بعد فعل ہی کو لانا پڑے گا، درمیان میں اسم کو نہیں لا سکتے، کیونکہ هل اصل میں کیا ہے؟ قد اور قد ہمیشہ کس پہ داخل ہوتا ہے؟ فعل پر۔
تو یہ هل بھی قد فعل پر داخل ہونا چاہتا ہے اور اگر فعل ہوتا نہ پھر تو چلو کچھ نہیں تھا، لیکن جب فعل موجود ہے اور پھر بھی آپ اس کو فعل پر داخل نہیں کر رہے، یہ جائز نہیں۔
اب میں سوال کرتا ہوں مثلاً أزيد قائم؟ بھئی جملے میں فعل موجود ہے؟ نہیں۔ تو حمزہ سے سوال کر سکتا ہوں، هل سے بھی کر سکتا ہوں هل زيد قائم؟
اب میں سوال کرتا ہوں فعل بھی جملے میں ہے، أزيداً ضربت؟ کیا زید کی تو نے پٹ زيد ہی کی تو نے پٹائی کی ہے؟ اب میں هل سے کرنا چاہتا ہوں، هل زيداً ضربت؟ یہ نہیں جائز، کیوں؟ کیونکہ فعل موجود ہے اور جب فعل موجود ہو تو هل کس پر داخل ہونا چاہتا ہے؟ فعل پر، لہذا هل ضربت زيداً؟ هل کے فوراً بعد کس کو لاؤ؟ فعل لاؤ، پھر تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ تو آسان لفظوں میں یوں سمجھو، یہ هل عاشق ہے فعل کا اور فعل ہے اس کا معشوق، اور جب اس کا معشوق اس کے سامنے موجود ہو جملے میں تو یہ اس سے جدا نہیں رہ سکتا۔ ہاں اگر جملے میں موجود ہی نہیں پھر تو یہ چلو گزارا کر لے گا، ویسے ہی اکیلا رہ رہا ہے، جملے میں فعل ہے ہی نہیں۔ لیکن اگر جملے میں فعل موجود بھی ہے اور اس سے دور بھی رہے، یہ جدائی یہ برداشت نہیں کر سکتا، لہذا اس صورت میں جائز نہیں۔
جیسے أزيداً ضربت؟ تو دیکھو ضربت فعل موجود ہے اور پھر درمیان میں کیا لائے آپ؟ زيداً، تو هل زيداً ضربت کہنا جائز نہیں۔
وأتضرب زيداً وهو أخوك؟ کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ تیرا بھئی ہے؟ اس حال میں کہ وہ تیرا یہ واؤ حالیہ ہے، وهو أخوك پورا جملہ حال ہے۔ کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے اس حال میں کہ وہ تیرا بھئی ہے؟ یہ استفہامِ انکاری ہے، یہ کیا ہے استفہامِ انکاری، منع کرنا مقصد ہے، یعنی تجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ صو صورت سوال کی ہے دراصل روکنا مقصد ہے۔ کیا تو زید کی پٹائی کر رہا ہے اور اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ یعنی تجھے اس کی پٹائی نہیں کرنی چاہیے، تو ایسے موقع پر بھی مولانا حمزہ تو لا سکتے ہیں لیکن هل کو لانا جائز نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو فعل میں هل کا لانا واجب تو میں نے نہیں کہا، سمجھ میں آیا؟ وہ اور بات تھی، بھئی وہ جملے میں آپ هل سے سوال کرنا چاہتے ہیں، تو هل سے سوال کریں، لیکن اگر فعل ہے جملے میں تو هل کے فوراً بعد فعل کو لاؤ، فعل کے بغیر آپ فـ فعل کو دور رکھ کر هل سے سوال کرنا چاہیں گے، یہ جائز نہیں۔ یہ نہیں کہ جب بھی فعل آئے گا تو هل سے ہی سوال کریں گے، یہ بات تو میں نے نہیں کی۔
أتضرب؟ تو یہ استفہام استفہام ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا، تو یہ کیا مولانا؟ یہ مولانا کس کے اندر ہے؟ استفہامِ انکاری، استفہامِ انکاری۔ تو استفہامِ انکاری کے اندر حمزہ کا لانا تو جائز، فعل هل کا لانا جائز نہیں، اس لیے کہ دخل صورتاً تو سوال یہ ہے أتضرب زيداً وهو؟ کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے؟ اور حال یہ ہے کہ وہ تیرا بھئی ہے۔
لیکن دراصل جو چیز وہ پوچھنا چاہتا ہے وہ محذوف ہے، وہ پوچھنا کیا چاہتا ہے؟ وہ پوچھنا یہ چاہتا ہے مولانا، أترضى بضربك زيداً؟ کیا تو اپنی زید کی پٹائی کرنے پر راضی ہے؟ اور حال یہ ہے وهو أخوك کہ وہ کیا ہے تیرا؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ نہیں وہ پوچھنا چاہتا کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے، وہ تو سامنے کر رہا ہے پٹائی، تو اس کو معلوم ہے مولانا، اس سے یہ نہیں پوچھنا چاہ رہا، بلکہ کیا کہنا چاہتا ہے اس سے؟ کیا تو اپنے یہ جو زید کی جو تو پٹائی کرتا ہے، کیا تو اس پٹائی پر راضی ہے؟ خوش ہے؟ اور حال یہ ہے کہ وہ تیرا بھئی ہے۔
یعنی وہ تیرا بھئی ہے، یہ تو راضی نہیں ہو سکتا اس کی پٹائی پر تو خود راضی اور خوش نہیں ہو سکتا، تو دیکھو مولانا استفہام کس کے بارے میں ہے؟ رضا اور خوشی کے بارے میں ہے، کس کے بارے میں؟ رضا اور خوشی کے بارے میں ہے، اور وہ ترضى فعل جو ہے وہ عبارت میں ذکر ہے؟ وہ تو محذوف ہے، کیا ہے؟ محذوف ہے، تو معلوم ہوا جس فعل کے بارے میں آپ سوال کر رہے ہیں وہ محذوف ہے، اور حمزہ استفہام کے اندر اصل ہے، هل تو میں نے بتایا اصل نہیں، وہ تو دراصل میں کس معنی میں ہے؟ قد کے معنی میں، تو لہذا حمزہ جو اصل ہے اس میں وسعت ہے، اس میں فعل کو حذف کرنا بھی جائز اور ذکر کرنا بھی جائز، جبکہ استفہام هل کے اندر ذکر تو جائز ہے حذف کرنا جائز نہیں، تو یہاں جو فعل جس کے بارے میں سوال ہو رہا ہے وہ محذوف ہے، اور محذوف ہے تو حمزہ میں تو گنجائش ہے کہ اس کے لیے آپ فعل کو حذف بھی کر دیں، لیکن هل ان کے اندر اتنی گنجائش نہیں، تو اس موقع پر حمزہ سے استفہام ہوگا هل کے ساتھ استفہام نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو أتضرب زيداً وهو أخوك دراصل میں کیا ہے؟ أترضى بضربك زيداً وهو أخوك؟
وأزيد عندك أم عمرو؟ یہ تیسرا مقام ہے مولانا جہاں حمزہ تو آپ لا سکتے ہیں هل کو، یہ کون سی جگہ ہے؟ یہ أم متصلہ ہے بھئی، أم متصلہ، اور أم متصلہ میں آپ نے کیا پڑھا تھا؟ کہ پہلی شرط ہی کیا ہے؟ اس کے ساتھ کیا آئے گا؟ حمزہ آئے گا اور هل نہیں آ سکتا بھئی۔
وأومن كان؟ یہ چوتھی جگہ ہے مولانا، حمزہ استفہام ہے اور حرفِ عطف پہ داخل ہو رہا ہے، واؤ کس لیے آتا ہے؟ عطف کے لیے، أومن كان؟ تو یہ دیکھو حمزہ کس پہ داخل ہوا؟ من كان پہ داخل ہوا یا ومن كان پہ داخل ہوا؟ تو حرفِ عطف پہ داخل ہوا، اور یاد رکھو حمزہ اصل ہے، وہ حرفِ عطف پر تو داخل ہو سکتا ہے، لیکن هل حرفِ عطف پر داخل نہیں ہو سکتا، تو دیکھو تین مثالیں دے رہے ہیں: أومن كان؟ واؤ پر داخل ہوا، أفمن كان؟ کس پر؟ فا عاطفہ عطف کے لیے آتی ہے، اس پر داخل ہوا، وأثم إذا ما وقع؟ کس پر داخل ہوا؟ ثم پر، تو حمزہ استفہام ثم، فا، واؤ حروفِ عاطفہ پر تو داخل ہو سکتا ہے، لیکن حمزہ هل استفہامیہ ان پر داخل؟
تو چار جگہ ہیں مولانا جہاں پر مولانا هل ااا حمزہ کا استعمال جائز هل کا استعمال جائز نہیں، پہلی جگہ کون سی؟ جہاں جملے کے اندر فعل موجود ہو اور پھر آپ مولانا، حرفِ استفہام کو کس پہ داخل کرنا چاہتے ہیں؟ اسم پر، تو حمزہ آ سکتا ہے هل نہیں۔
دوسری جگہ مولانا جہاں استفہامِ انکاری ہو مولانا، یا تو وہاں پر بھی جہاں فعل محذوف ہو، فعل کیا ہو؟ اصل فعل جس کے بارے میں استفہام ہے وہ محذوف ہو، تو حمزہ تو جائز هل جائز نہیں، تیسرا أم متصلہ کے ساتھ، وہاں حـ حمزہ جائز ہے هل جائز نہیں، چوتھی جگہ؟ حرفِ، حرفِ عطف، تو حمزہ حرفِ عطف پر تو داخل ہو سکتا ہے هل نہیں ہو سکتا۔
ولا تستعمل هل في هذه المواضع، اور هل استعمال نہیں ہوتا ان جگہوں کے اندر، وها هنا بحث، اور یہاں پر بحث ہے، اگلی کتابوں میں پڑھیں گے مولانا۔
سمجھ میں آیا بھئی کہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں هل استعمال ہوتا ہے حمزہ نہیں ہو سکتا۔
فصل: حروف الشرط إن ولو وأما، حروفِ شرط تین ہیں مولانا، إن ہے، لو ہے، اور أما ہے، إن بھی شرط کے لیے، لو بھی شرط کے لیے، اور أما بھی شرط کے لیے، ويدخل كل واحد منها، یاد رکھو مولانا حروفِ شرط کس پر داخل ہوتے ہیں؟ فعل پر داخل ہوتے ہیں، ہمیشہ، اسم پر نہیں داخل ہو سکتے۔
ويدخل كل واحد منها، ان میں سے ہر ایک داخل ہوتا ہے، على الجملتين، دونوں قسم کے جملوں پر، اسميتين كانتا أو فعليتين، چاہے دونوں اسمیہ ہوں چاہے دونوں فعلیہ ہوں۔
یہ بات درست نہیں مصنف کی مولانا، ابھی میں نے بتایا بھئی کہ حرفِ شرط صرف کس پہ داخل ہوتا ہے؟ فعل، یعنی جملہ فعلیہ پر ہی داخل ہو سکتا ہے، جملہ اسمیہ پر داخل؟ اگر بظاہر جملہ اسمیہ بھی ہو تو اس کو بھی ہم تا کیا کریں گے؟ فعل کو وہاں پر محذوف نکالیں گے، اسی لیے بتایا تھا لو کے بعد أنَّ پڑھیں گے إنَّ نہیں پڑھیں گے، اس لیے کہ وہ جو أنَّ جملہ اسمیہ ہے اس نے فعلِ محذوف کے لیے کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے، کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو لو کے بعد ہمیشہ إن کے بعد فعل آئے گا۔
ہاں! ایک صورت ہے مصنف کے کلام کے صحیح ہونے کی، ایک صورت ہے، کیا؟ کہ ان کی مراد ظاہر سے ہے، کس سے ہے؟ ہاں، ظاہر میں وہ جملہ اسمیہ پر بھی داخل ہو سکتا ہے اور جملہ، لیکن جملہ اسمیہ پہ چاہے ظاہر میں داخل ہو رہا ہو، لیکن پھر ہمیں وہاں کیا نکالنا پڑے گا؟ فعل، تو درحقیقت میں وہ پھر بھی کس پر داخل ہے؟ لیکن ظاہر میں کس پہ داخل ہو رہا ہے؟ ہاں، تو بظاہر جملہ اسمیہ پر بھی داخل ہو سکتے ہیں، أو فعليتين يا فعلیہ، دونوں فعلیہ ہوں، أو مختلفة يا دونوں کیا ہوں؟ ایک پہلا فعلیہ ہو ثانی کیا ہو؟ اسمیہ ہو۔
فإن للاستقبال، یاد رکھو مولانا إن جس پر بھی داخل ہو اس کو استقبال کے معنی میں کر دے گا، چاہے ماضی ہی کیوں نہ ہو۔ إن ضربت ضربت، اگر تو پٹائی کرے گا میں بھی تیری، تو دیکھو ضربت ہے تو ماضی، لیکن آپ ترجمہ کس کا کر رہے ہیں؟ مستقبل، یہ کس نے ترجمہ تبدیل کیا؟ إن نے۔
جبکہ لو اس کا عکس ہے، لو مستقبل کو بھی کس معنی میں کر دیتا ہے؟ ہاں، مضارع پر بھی داخل ہو جائے تو ماضی کا ترجمہ کریں گے۔
فإن للاستقبال، إن استقبال کے لیے آئے گا، وإن دخلت على الماضي، اگرچہ وہ ماضی پر داخل ہو جائے، نحو إن زرتني أكرمتك، اگر تو میری زیارت کرے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا، تو دیکھو صیغے ماضی کے ہیں اور ترجمہ ہم کون سا کر رہے ہیں؟ مستقبل والا۔
ولو للماضي، اور لو کس لیے آتا ہے؟ لو تین فائدے دیتا ہے مولانا، کتنے فائدے؟ ایک شرط کا، شرط ہونے کا، ثانی زمانہ ماضی کی طرف بدل دیتا ہے زمانے کو، نمبر تین ثانی کے امتناع پر، امتناع کا فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا؟ اول؟ پہلا فائدہ کس چیز کا دیتا ہے؟ شرط ہونے کا، ثانی؟ ماضی کا، ثالث؟ امتناع کا، کس کا؟ امتناع کا۔
دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ ولو للماضي، اور لو ماضی کے لیے، وإن دخلت على المضارع، اگرچہ وہ مضارع پر داخل ہو جائے، نحو لو تزورني أكرمتك، اگر تو میری زیارت کرے گا، میں بھی تیرا کیا کروں گا؟ نہیں نہیں، لو تزورني أكرمتك، اگر تو نے میری زیارت کی ہوتی تو میں نے بھی تیرا اکرام کیا ہوتا۔
تو دیکھو ماضی کا ترجمہ میں کر رہا ہوں، اگر تو نے ایسا کیا ہوتا تو میں نے بھی ایسا، تو دیکھو تین فائدے دیے لو نے، ایک شرط ہونے کا کہ ما اول جملہ کیا ہے؟ شرط ہے، ثانی فائدہ؟ زمانہ کون سا ہو گیا؟ تزورني کا تو مطلب ہے تو میری زیارت کرے گا، لیکن میں نے کیا ترجمہ کیا؟ اگر کی ہوتی، ماضی کے اندر، تیسرا کیا تھا؟ امتناع، ثانی ممتنع ہے، اور ثانی کیا ہے یہاں؟ میرا تیرا ااا میرا اکرام کرنا، میرا اکرام کرنا ممتنع ہے، کیوں ممتنع ہے؟ اول کے منتفی ہو جانے کی وجہ سے، تو ثانی منتفی ہے بوجہِ انتفائے اول کے۔
باقاعدہ میں نے تیرا اکرام کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ تو نے میری زیارت، اگر تو نے میری زیارت کی ہوتی تو میں بھی تیرا کیا کرتا؟ میں نے تیرا اکرام نہیں کیا کیونکہ تو نے میری زیارت، تو لو نے فائدہ دیا کہ ثانی منتفی ہے، ثانی کیا ہے؟ یعنی میں نے اکرام نہیں کیا، کیوں منتفی ہے ثانی؟ کیونکہ اول منتفی ہے، کیونکہ تو نے میری زیارت نہیں کی، تو لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہِ انتفائے اول کے۔
ويلزمهما الفعل لفظاً كما مر أو تقديراً، اور لازم ہے ان دونوں کے ساتھ فعل، لفظاً ہوگا كما مر جیسے گزرا، أو تقديراً یا فعل کیا ہوگا مولانا؟ بھئی میں نے بتایا نہیں کہ یہ لو اور إن ہمیشہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ حروفِ شرط ہمیشہ؟ فعل پر، تو فعل کہہ رہے ہیں لفظوں میں ہوگا، اگر لفظوں میں نہیں ہے تو پھر کیا ہوگا؟ تقدیراً ہوگا، جیسے إن أنت زائري فأنا أكرمك، إن أنت زائري فأنا أكرمك، تو یہاں کیا تقدیرِ کلام نکالیں گے؟ جی؟ تو یہاں فعل محذوف كان مولانا، فعل کون سا محذوف؟ كان، تو اصل کلام یوں تھا: إن كنت زائري، إن كنت زائري، پھر ہم نے كان کو حذف کیا فعل کو، اور اس کے اندر جو ضمیرِ مرفوع تھی اس کا اسم، اس کو الگ منفصل کی صورت میں ذکر کر دیا أنت۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فعل لفظوں میں ہوگا یا تقدیراً ہوگا۔ إن أنت زائري، اگر تو میری زیارت کرے گا فأنا أكرمك، میں بھی کیا کروں گا؟ تیرا، واعلم أن، آگے، آگے یہ بتلا رہے ہیں مولانا، ایک شرط کے لیے إن إن ہے، اور ظروف میں ایک آپ نے إذا پڑھا تھا، کیا پڑھا تھا؟ إذا، اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا یہ إذا کبھی شرط کے لیے بھی آتا ہے، تو إن بھی شرط کے لیے، إن تو ہے ہی شرط کے لیے، اور إذا کبھی کبھار کس کے لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے بھی آتا ہے، بڑی بلکہ کثرت سے آتا ہے، تو فرق کیا ہے دونوں میں إن اور إذا میں؟ کہتے ہیں بھئی إن جو ہے نا امورِ مشکوکہ میں آئے گا، جس کا واقع ہونا یقینی نہ ہو، اور إذا ان اب چیزوں میں آئے گا جن کا واقع ہونا یقینی ہو۔
مثلاً میں کہتا ہوں، میں آپ کے پاس اس وقت آؤں گا جب سورج طلوع ہوگا، تو میں کہوں گا: آتيك إن طلعت الشمس، میں تیرے پاس آؤں گا اگر سورج طلوع ہوا، یہ کہنا صحیح ہے؟ میں تیرے پاس آؤں گا اگر سورج طلوع ہوا، کیوں؟ سورج کا طلوع ہونا؟ یقینی ہے، تو یہاں إذا آئے گا مولانا، آتيك إذا طلعت الشمس، میں تیرے پاس آؤں گا جب سورج طلوع ہوا، یا إذا طلعت الشمس آتيك، جب سورج طلوع ہوگا میں تیرے پاس آؤں گا۔
تو یقینی امور میں إذا آتا ہے، اور مشکوک امور میں إن، أنا آتيك إن جاءني عمرو، اگر میرے پاس کون آیا؟ عمر آیا، تو میں تیرے پاس، اور عمر کا آنا تو یقینی نہیں ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے نہ ائے۔
واعلم أن إن، جان لے تو کہ إن
4
إن جو ہے لا تستعمل إلا في الأمور المشكوكة. اور استعمال نہیں ہوتا مگر امورِ مشکوکہ کے اندر۔ فلا يقال: إن نہ کہا جائے گا آتيك إن طلعت الشمس.
میں آؤں گا تیرے پاس اگر سورج طلوع ہوا، بل يقال: بلکہ یوں کہا جائے گا آتيك إذا طلعت الشمس. میں تیرے پاس آؤں گا جب سورج طلوع کرے گا، طلوع ہوگا۔
ولو تدل على نفي الجملة الثانية بسبب نفي الجملة الأولى. اور لو دلالت کرتا ہے جملہ ثانیہ کی نفی پر، بسبب نفی جملہ اولیٰ۔ کہ جملہ ثانیہ منتفی ہے کس وجہ سے؟ کیونکہ جملہ اولیٰ کیا ہے؟ ابھی گزری نہیں؟
کیا گزرا؟ لو تزورني أكرمتك. اگر تو نے میری زیارت کی ہوتی تو میں نے تیرا اکرام کیا ہوتا اور میں نے تیرا اکرام نہیں کیا، تو ثانیہ منتفی ہے۔ کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ اول منتفی ہے، تو نے بھی میری زیارت نہیں کی، میرے پاس نہیں آیا۔
كقوله تعالى: جیسے اللہ فرماتے ہیں لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا. اگر ہوتا اس زمین اور آسمان کے اندر، فيهما ضمیر راجع ہے أرض و سماء کو، اگر ان زمین اور آسمان میں ہوتا آلہة اور اگر کوئی آلہة ہوتے إلا الله اللہ کے سوا علاوہ، اللہ کے علاوہ اور آلہة ہوتے لفسدتا تو ان کا نظام کیا ہو جاتا؟ فاسد، اور ان کا نظام خراب ہو جاتا۔ اور نظام کا خراب ہونا تو منتفی ہے، نظام تو صحیح ہے، تو نظام کا خراب ہونا جی! کس وجہ سے؟ کہ اور آلہة بھی منتفی ہیں۔
وإذا وقع القسم في أول الكلام وتقدم على الشرط يجب أن يكون الفعل الذي تدخل عليه حرف الشرط ماضياً لفظاً.
بھئی آپ نے کیا پڑھا؟
قسم جب آئے گی واللہ، آگے پھر کیا آئے گا؟ جوابِ قسم آئے گا۔
اور آپ نے یہ بھی پڑھا إن جب آئے گا تو شرط پر داخل ہوگا اور آگے کیا آئے گی؟ جزا۔ جب بھی قسم آئے گی جوابِ قسم آئے گا، جب بھی شرط آئے گی ساتھ جزا آئے گی۔ اب ایک جگہ ہے وہاں دونوں اکٹھے ہو گئے۔
کیا ہوا ہے؟ دیکھو شرط جزا والا ایک جملہ آپ کو نظر آ رہا ہے اس سے پہلے قسم آ گئی، واللہِ۔ کیا آ گئی؟ جیسے واللہِ إن أتيتني لأكرمتك.
تو إن أتيتني لأكرمتك یہ شرط جزا ہے اور اس سے پہلے کیا آ گئی؟ قسم آ گئی، اب قسم بھی جواب چاہتی ہے اور شرط بھی جزا چاہتی ہے، اب کیا کریں؟
تو آگے جو جملہ ثانیہ آ رہا ہے، پہلا جملہ تو شرط بن گیا، ٹھیک ہے؟ اب آگے جملہ ثانیہ کو جوابِ قسم بنائیں یا جزا بنائیں؟ جوابِ قسم بناتے ہو تو جوابِ قسم میں کیا جملہ مثبت کے اندر لام کا لانا واجب تھا اور منفی کے اندر ما اور لا کا لانا واجب، اور اگر آپ کیا بناتے ہیں؟ جزا بناتے ہیں، تو جزا کیا ہوگی؟ شرط مجزوم ہوتی ہے تو جزا بھی کیا ہوتی ہے؟ مجزوم ہوتی ہے، جزم آتا ہے یا نہیں آتا اس پر مولانا؟
جی! اب کیا کریں؟ کہتے ہیں بھئی اگر قسم پہلے آ گئی، تو جو پہلے آئے وہ پہلے پائے بھئی، تو لہٰذا آگے اب جو جواب آئے گا، وہ جوابِ قسم ہوگا مولانا، اس کو جزا نہیں بنائیں گے۔ جب وہ جوابِ قسم ہوگا تو مولانا وہ مجزوم ہوگا؟ مجزوم بھی، معلوم ہوا اب إن اس کے اندر عمل نہیں کرے گا، کیا کرے گا؟ إن عمل، اور جوابِ قسم میں جن چیزوں کا لانا ضروری تھا وہ بھی لے کر آئیں گے، لامِ تا، مثبت ہے تو لامِ تاکید کا لانا ضروری ہے، اور اگر منفی ہے تو ما اور لا کا لانا ضروری ہے۔
اچھا، اب إن نے مولانا جزا میں عمل کیا؟ نہیں، اس کو تو ہم نے کیا بنا دیا؟ اس کو تو ہم نے جزا بنایا ہی نہیں، بلکہ کیا بنایا؟ جوابِ، تو إن نے جزا میں گویا کہ وہ جوابِ قسم بنا دیا تو إن نے جملہ ثانی میں عمل نہیں کیا۔ جب جملہ ثانی میں عمل نہیں کیا تو جملہ اولیٰ بھی ہم ایسا لے کر آئیں گے جس میں وہ اس کا عمل ظاہر نہ ہو۔
جملہ اولیٰ بھی ایسا لے کر آئیں گے جس کے اندر اس کا عمل ظاہر نہ ہو، وہ کیا صورت ہے؟ کہ جملہ اولیٰ کو بھی ماضی لاؤ۔ کیا لاؤ؟ بھئی اگر مضارع لے کر آؤ گے تو إن اس کو کیا دے دے گا؟ جزم، تو یہ تو بات صحیح نہیں ہے کہ شرط کو تو وہ جزم دے رہا ہے اور آگے جو جواب آ رہا ہے اس کو جزم نہیں دے رہا، لہٰذا جب جزا میں عمل نہیں کر رہا تو ادھر کیا کرو؟ شرط کو بھی کیا لے آؤ؟ ماضی لے آؤ، اور ماضی کیا ہوتی ہے؟ مبنی، تو إن اس کے اندر عمل بظاہر نہیں کرے گا۔
تو ماضی لے آؤ، یا لفظاً لے آؤ ماضی یا معناً لے آؤ۔ لفظاً ماضی کی مثال: ضربتُ، یہ کیا ہے؟ لفظاً ماضی ہے، اور معناً ماضی: مضارع پر لم داخل کر دو، لم أضرب، یہ کیا ہے؟ معناً ماضی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو مولانا اس صورت میں شرط کو کیا لے آؤ؟ ماضی لے آؤ، چاہے لفظاً ہی ماضی لے آؤ، چاہے معناً ماضی لے آؤ، بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟
تو یاد رکھو، یہ جو جملہ ثانیہ ہے یہ جوابِ قسم ہے۔
اور یہ دال بر جزا ہے، جزا پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے اور جزا محذوف، یا یوں کہو قائم مقام جزا کے ہے، قائم مقام کس کے ہے؟ جزا کے ہے، تو جزا یہ نہیں ہے یہ جوابِ قسم ہے، البتہ جزا کے قائم مقام ہے۔
وتقدم وإذا وقع القسم في أول الكلام، اور جب قسم آ جائے ابتدائے کلام کے اندر، وتقدم على الشرط، اور شرط پر کیا ہو جائے؟ مقدم ہو جائے، فيجب أن يكون الفعل الذي، تو واجب ہے کہ وہ فعل، الذي تدخل عليه حرف الشرط، جس پر کیا داخل ہو رہا ہے؟ حرفِ شرط داخل ہو رہا ہے، ماضياً، وہ کیا ہونا چاہیے؟ ماضی ہونا چاہیے، لفظاً، وہ ماضی یا تو لفظاً ہو، آگے آ رہا ہے أو معناً، یا کیا ہو؟ معناً ہو، لفظاً کی مثال: والله إن أتيتني لأكرمتك.
والله إن أتيتني لأكرمتك، جی بتائیے مولانا، یہ لأكرمتك کو کیا بنایا آپ نے؟ جوابِ قسم، تو اس پر لام لے آئے بھئی۔ کیا لے آئے؟ لام لے آئے، اور جب اس کو جوابِ قسم بنایا، تو إن نے اس میں عمل نہیں کیا، جب اس میں عمل نہیں کیا، تو أتيت بھی ماضی لے کر آئے بھئی، تاکہ اس کے اندر بھی وہ عمل اس کا ظاہر نہ ہو، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر مضارع لے آتے ہیں، أتيت کے بجائے تأتيني لاتے ہیں، تو یہ تو جزم دے دے گا اس کو، تو جزا میں عمل نہیں کر رہا اور شرط میں عمل کرے یہ مناسب نہیں۔
تو والله إن أتيتني لأكرمتك.
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو لأكرمتك مولانا کیا ہے؟ جوابِ قسم، قائم مقام جزا کے ہے، قائم مقام کیا ہے؟ جزا کے ہے۔
أو معناً، یا مولانا فعلِ شرط یا تو لفظاً ماضی ہو یا معناً ماضی ہو، جیسے والله إن لم تأتيني، دیکھا لم تأتِ لے کر آئے، یہ معناً ماضی ہے۔ لأهجرتك، واللہ اگر تو میرے پاس نہ آیا لأهجرتك، تو میں تجھے خوب، خوب برا بھلا سناؤں گا۔ إہجار کہتے ہیں برا سنانے، برے، برا بھلا سنانا کسی کو بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
وحينئذ تكون الجملة الثانية، اس صورت میں جملہ ثانیہ، في اللفظ، لفظوں میں، جواباً للقسم، جواب ہوگا کس کے لیے؟ لا جزاءً للشرط، شرط کے لیے جزا نہیں ہوگا۔
فلذلك وجب فيها، لہٰذا اس جملہ ثانیہ میں واجب ہوگا، ما وجب في جواب القسم، وہ چیز جو کس میں واجب تھی؟ جوابِ، من اللام، یہ من بیان ہے ما کا، یعنی کہ لام، یعنی لام واجب ہوگا۔ ونحوها، اور لام جیسی اور چیزیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، ما، منفی ہو تو ما اور لا کا لانا۔
كما رأيت في المثالين، جیسے کہ آپ نے ان دونوں مثالوں کے اندر دیکھ لیا، لأهجرتك پر بھی لام آیا، لأكرمتك پر بھی لام آیا۔
أما إن وقع القسم في وسط الكلام، اگر قسم کہاں آ جائے مولانا؟ یہ تو تھا شروع میں، اگر درمیان میں آ جائے۔ کہاں؟
إن أتيتني والله، شرط پہلے آ گئی اور جزا بعد میں، اور درمیان میں کیا آیا؟ واللہ، اب کیا کریں؟ کہتے ہیں اب آپ کو اختیار ہے، چاہے تو آگے آنے والے جملے کو جوابِ قسم بنا دو، جب جوابِ قسم بنائیں گے تو پھر لام کا لانا جملہ مثبت میں ضروری، اور اگر آپ چاہیں تو اس کو کیا بنا دیں؟ شرط کی جزا، اور جب جزا بنائیں گے تو جزا کیا ہوتی ہے؟ مجزوم، تو اس کو بھی کیا بنا دیں گے؟
أما إن وقع القسم في وسط الكلام، پس اگر قسم واقع ہو گئی درمیانِ کلام میں، جاز أن يُعتبر القسم، جائز ہے کہ اعتبار کیا جائے قسم کا، بأن يكون الجواب له، اس طور کے جواب یہ کہ وہ اس کے لیے کیا، بأن يكون الجواب له، جواب اس کے لیے ہو، کس کے لیے ہو؟ یعنی وہ جملہ کیا ہو؟ جملہ اس کے لیے جواب بھئی بنا دیں، سمجھ میں آ رہی ہے بات کہ مشکل ہے؟
نحو إن أتيتني والله لآتينك، دیکھا؟ إن أتيتني والله لآتينك، جی! قسم درمیان میں آئی تو لآتينك کو آپ نے جوابِ قسم بنا دیا، کیا بنا دیا؟ اور جوابِ قسم پر لامِ تاکید لاتے ہیں، یہاں بھی آپ کیا لے آئے؟ لامِ تاکید لے آئے، وجاز أن يُلغى، تو یہ مولانا کیا بنا؟ لآتينك جوابِ قسم، قائم مقام جزا کے، وجاز أن يُلغى، اور جائز ہے اس کو لغو کر دیا جائے مولانا، تو جیسے إن تأتيني والله آتك، إن تأتيني والله آتك، تو قسم کو کیا کر دیا؟ لغو کر دیا، اس کو روک دیا عمل سے، اور اور کیا کیا مولانا؟
تو آگے جملے کو کیا بنایا؟ جزا، اور جزا کیا ہوتی ہے؟ مجزوم، تو یہ بھی مجزوم لائے، آتك، أتى يأتي، آتي نأتي، آخر میں کیا آتی ہے؟ یا، اس یا کو اور حالتِ جزمی میں یا کیا ہے؟ گر جاتی ہے، تو آتك مجزوم لائے، دیکھا؟ شرط بھی مجزوم إن تأتيني، تأتيني ہونا چاہیے تھا مولانا، لیکن یا کیا ہوئی؟ گر گئی جزم کی وجہ سے، تو إن تأتيني والله آتك.
وأما لتفصيل ما ذُكر مجملاً، اور أمّا آتا ہے تفصیل اس چیز کی تفصیل کے لیے ذُكر لتفصيل ما، اس چیز کی تفصیل کے لیے، ذُكر مجملاً، جس کو کیسے ذکر کیا گیا ہو؟ مجمل، اجمالاً مولانا، اجمالاً، ایک چیز اجمالی ہوتی ہے، ایک تفصیلی ہوتی ہے، تو مولانا پہلے ایک چیز اجمالاً ذکر کی، مختصراً ذکر کی، آگے اس کی کیا ذکر کر رہے ہیں؟ تفصیل، تو أمّا اجمال کے بعد تفصیل، اجمال کے پہلے اجمال آیا تھا، اب آپ اس کی تفصیل کرنا چاہتے ہیں تو أمّا سے کر دیں، کس سے کرتے ہیں؟ دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، جیسے قرآن میں آیا ہے الناس سعيد وشقي، لوگ نیک بخت ہیں اور بدبخت ہیں، لوگ دو قسم پر ہیں، کچھ نیک بخت ہیں اور کچھ کیا ہیں؟ بدبخت ہیں، تو دیکھو یہ اجمال آ گیا۔
کیا آیا؟ لوگ نیک بخت ہیں، کوئی بدبخت ہیں، اب ہر ایک کا حکم آگے بتایا جائے گا تفصیل کے ساتھ مولانا، سمجھ میں آیا؟
تو دیکھو، اجمالاً ایک چیز بیان ہو گئی کہ لوگ کتنے کہتے ہیں؟ نیک بخت ہیں اور، اب ہر ایک کا آگے حکم تفصیل سے آ رہا ہے، تو اجمال کے بعد تفصیل آنے لگی ہے تو اس کے لیے کیا ذکر کیا جاتا ہے؟ أمّا، اب أمّا کا ہے، دیکھا؟ فأما الذين سعدوا، پس وہ جو نیک بخت ہیں، ففي الجنة، پس وہ کس کے اندر ہیں؟ واقعی وہ جو نیک بخت ہیں پس وہ جنت کے اندر ہوں گے، وأما الذين شقوا، اور وہ جو بدبخت ہیں، ففي النار، وہ کس کے اندر ہوں گے؟ تو یہ دیکھا تفصیل کے لیے أمّا آیا۔
ويجب في جوابها الفاء، یہ تو تھا مولانا کبھی،
سمجھ میں آیا؟ اور تو کہتے ہیں ويجب في جوابها الفاء، اس کے جواب میں فا کا لانا واجب ہے۔
فا کا لانا واجب ہے، وأن يكون الأول سبباً للثاني، نیز اول کو سبب ہونا چاہیے کس کے لیے؟ یہ دوسری شرط ہے، تیسری شرط وأن يُحذف فعلها مع، فعلها، اور کہ یہ کہ اس کے فعل کو کیا کیا جائے؟ حذف کرنا، یہ بھی واجب ہے، کتنی چیزیں واجب ہوئیں مولانا أمّا میں؟ تین، ایک فا کو جواب میں لانا واجب، ثانی کہ اول کو سبب ہونا چاہیے کس کے لیے؟ اور ثالث کیا کہ فعل کو حذف کرنا بھی واجب، مع أن الشرط لا بد له من فعل، با وجود اس کے کہ شرط کے لیے فعل کا ہونا، آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ شرط کے لیے کیا ہونا ضروری ہے؟ فعل کا ہونا، إن اور لو کس پر داخل ہوتے ہیں؟ فعل پر، تو شرط کے لیے فعل کا ہونا ضروری، لیکن اس میں حذف کریں گے۔
بھئی یہ کیوں حذف کرتے ہیں؟ یہ فعل کو کیوں حذف کرتے ہیں؟ کہتے ہیں وذلك، اور یہ اس لیے، ليكون تنبيهاً، تاکہ اس بات پر تنبیہ ہو جائے، على أن المقصود بها حكم الاسم الواقع بعدها، کہ اس أمّا کے ذریعے اراد، مقصود جو ہے وہ کیا مقصود ہے؟ حكم الاسم الواقع بعدها، اس، وہ اسم جو اس کے بعد واقع ہے اس کا حکم مقصود ہے، اس پر حکم لگانا مقصود ہے۔
دیکھیے مثال پھر پڑھیں گے، ابھی مثال سے پہلے دیکھیں بھئی، پوری تفصیل اس سے سمجھ میں آئے گی۔
نحو أما زيد فمنطلق، أما زيد، دیکھو مولانا تین شرطیں تھیں۔
تین کیا ہیں؟ پہلی شرط کیا تھی؟ جی؟
أمّا کے جواب میں فا آئے، فا آئی یا نہیں آئی؟
ثانی شرط کیا تھی؟
پہلا سبب ہو ثانی کے لیے، یہ بھی ابھی بتلاتا ہوں، اول سبب ہے ثانی کے لیے، ثالث:
فعل کیا ہو؟ حذف، فعل یہاں ذکر ہے یا حذف ہے؟ حذف۔
تقديره، تقدیرِ کلام یہ تھی، اصل کلام یہ تھا: مهما يكن من شيء فزيد منطلق.
تقدیرِ کلام یہ تھی۔ مهما يكن من شيء، يكن تامّہ ہے مولانا۔
يكن کیا ہے؟ تامّہ ہے۔
جو بھی چیز ثابت ہوئی، من شيء بیان ہے مهما کا۔
تو مهما يكن من شيء، کوئی بھی چیز ہوئی اگر، کوئی بھی چیز پائی گئی، فزيد منطلق، تو زید چلنے والا ہے۔
کیا کہا میں نے؟
دنیا میں کوئی بھی چیز پائی گئی تو زید کیا ہے؟ چلے گا، جائے گا۔
دنیا میں کوئی بھی چیز ہوئی تو زید جائے،
اور دنیا میں چیزیں ہیں یا نہیں؟
چیزیں ہی ہیں۔
معلوم ہوا زید کا چلنا بھی یقینی ہے، میں نے کہا تھا دنیا میں کوئی بھی، کوئی بھی چیز پائی گئی، تو زید کا چلنا یقینی، اور چیزیں ہیں یا نہیں ہیں؟ چیزیں ہیں، سب چیزیں ہیں، تو زید معلوم ہوا زید کا چلنا بھی یقینی، تو کوئی چیز پائی گئی تو زید کا چلنا یقینی، اور چیزیں تو ہیں معلوم ہوا زید کا چلنا بھی، تو اول سبب بن گیا کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، چیزوں کا ہونا یہ کیا ہے؟ سبب ہے کس کے لیے؟ تامّ۔
تو تقدیرِ کلام کیا تھی؟
مهما يكن من شيء فزيد،
توجه کرنا بھئی، ذرا مشکل بات ہے۔
اب ہم نے کیا کیا مولانا؟ يكن فعل کو حذف کر دیا، کیونکہ أمّا کے فعل کو حذف کرنا واجب، تو یہاں يكن فعل کو حذف کر دیا،
اور ساتھ من شيء جار مجرور کو بھی کیا کر دیا؟ کیا رہ گیا؟ مهما، تو مهما کو حذف کر کے أمّا کو اس کا نائب بنا دیا،
مهما کو حذف کر کے کس کو نائب بنایا؟ کیا بن گیا؟
أمّا فزيد،
5
منطلقون
جی، تو اب مولانا اما مهما کا نائب ہے، مهما کا، یہ شرط کے لیے آ رہا ہے اور آگے فا آرہی ہے، فا داخل ہوتی ہے جزا پر، تو حرف شرط اور جزا اور حرف جزا دونوں اکٹھے ہو گئے۔ اما حرف شرط اور فا حرف، تو حرف شرط اور جزا دونوں اکٹھے ہو گئے، درمیان میں کوئی فاصلہ ہے؟ نہیں اور یہ پسندیدہ نہیں کہ دونوں اکٹھے ہو جائیں۔ لہذا ہم نے یوں کیا کہ فا کے مابعد جو زید ایک اسم تھا کوئی اسم، اس کو اٹھایا اور اس کو کہاں لے آئے؟ اما اور فا کے درمیان، تو کیا بن گیا؟ اما زید فمنطلق۔ ترکیب سمجھ میں آئی؟ کیا تھی؟
مہما یکن من شیء فزید، کوئی بھی چیز ہو تو زید کیا ہے؟ زید جائے گا۔ جی، پھر کیا کیا؟ فعل کو ساتھ جار مجرور کے حذف کر دیا۔ اور مهما کا نائب کس کو بنا دیا؟ اما کو، کیا رہ گیا؟ اما فزید منطلق۔ پھر اما اور فا جمع ہو گئے، ایک حرف شرط ہے، ایک حرف جزا ہے اور حرف شرط اور حرف جزا تو کبھی اکٹھے نہیں ہونے چاہئیں، درمیان میں کیا آنا چاہیے؟ فاصلہ ہوتا ہے، درمیان میں شرط آتی ہے۔ تو یہ دونوں اکٹھے ہو گئے، لہذا ہم نے فاصلے کرنے کے لیے فا کے مابعد کا ایک اسم اٹھایا اور اس کو کہاں رکھ دیا؟ اما اور فا کے درمیان رکھ دیا اور فا کو کس پر منتقل کر دیا؟ منطلق، دوسرے پر منتقل کر دیا تو کیا بن گیا؟ اما زید فمنطلق۔
صورت سمجھ میں آئی؟
تو مولانا اما کے فعل کو حذف کر دیا اور اس کے بعد ہم لے آئے زید کو، اس فعل کو حذف اس لیے کیا کہ ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ہم اس زید کا آگے حکم بیان کرنے لگے ہیں۔
کیا کیا؟
اما کے فعل کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ اما کے بعد ہم کس کو لے آئے ہیں؟ زید کو، تو ہم اما کے ذریعے، اما بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جو اما کے بعد اسم آ رہا ہے وہ کون ہے؟ زید، آگے ہم اس کا کیا بیان کرنے والے ہیں؟ حکم بیان کرنے والے ہیں۔
جیسے اما الذين سعدوا، باقی وہ لوگ جو نیک بخت ہوئے، اما کے بعد آیا، وہ جو نیک بخت ہوئے، وہ جو، کیا مقصد ہے؟ کہ آگے ان کا حکم آنے والا ہے، وہ کیا ہے؟ ففي الجنة، وہ کس میں ہیں؟ آیا یا نہیں ان کا حکم بھئی؟ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو یہی بات کر رہے تھے، دوبارہ دیکھو بھئی۔
کہ تیسری بات، وان يحذف فعلها، اس کے فعل کو حذف کیا جائے گا۔ مع ان الشرط لا بد له من فعل، باوجود اس کے کہ شرط کے لیے فعل کا ہونا، کیوں؟ یہ حذف کیوں کیا جائے گا؟ وذلك ليكون تنبيها، تاکہ تنبیہ ہو جائے اس بات پر کہ ان المقصود بها حكم الاسم الواقع بعدها، کہ مقصود اس اما کے ذریعے کیا ہے؟ حکم ہے اس اسم کا جو اس کے مابعد آ رہا ہے۔ اب عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں؟ سب کو سمجھ میں آ گئی؟
نحو اما زيد فمنطلق تقديره، تقدیرِ کلام یوں ہے مولانا مهما يكن من شيء فزيد منطلق، فحذف الفعل والجار والمجرور، تو فعل اور جار اور مجرور کو حذف کر دیا گیا، وہ کیا ہے مولانا؟ يكن من شيء۔ واقيم اما مقام مهما، اور قائم کر دیا گیا اما کو کس کے مقام پر؟ اما کے مقام پر، حتى بقيا، یہاں تک کہ باقی رہ گیا اما فزيد منطلق، یہ باقی رہ گیا۔ ولما لم يناسب دخول حرف الشرط على فاء الجزاء، اور جب مناسب نہیں تھا کہ حرف شرط داخل ہو کس پر؟ فائے جزا پر، نقلوا الفاء الى الجزء الثاني، نقل کر دیا فا کو کس کی طرف؟ جزائے، ووضعوا الجزء الاول بين اما والفاء، اور رکھ دیا جزئے اول کو اما اور فا کے درمیان، عوضا عن الفعل المحذوف، تاکہ عوض ہو جائے کس سے؟ فعلِ محذوف سے عوض ہو جائے۔
جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو اما کے اور فا کے درمیان آیا، اب اس پر آپ غور کریں۔ اگر یہ مبتدا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کو مبتدا بنا دیں گے اور اگر یہ فا کے مابعد کے لیے، اگر یہ مبتدا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر اس صورت میں یہ کیا بن جائے گا؟
فا کا مابعد اس کے اندر عامل ہو گا۔ اس کو کیا بنائیں گے؟ اول تو اگر اس میں مبتدا بننے کی صلاحیت ہے اس کو کیا بنا دو؟ مبتدا، ورنہ فا کا مابعد اس کے اندر کیا ہو گا؟ عامل ہو جائے گا۔ یاد رکھو فا کا مابعد کبھی ماقبل میں عامل نہیں ہوتا، سوائے یہ اما میں بھئی۔ یہ اما کی خصوصیت ہے کہ فا کا مابعد کیا ہوتا ہے ماقبل میں عامل ہو جاتا ہے بھئی۔
ثم ذلك الجزء الاول، پھر وہ جزئے اول، ان كان صالحا للا بتداء، اگر وہ صلاحیت رکھتا تھا ابتداء کی، فهو مبتدأ، تو وہ کیا ہو گا؟ مبتدا ہو گا، كما مر، جیسے گزرا بھئی، والا فعامله ما يكون بعد الفاء، ورنہ اس کا عامل کس کے بعد آئے گا؟ فا کے بعد آئے گا۔ كاما يوم الجمعة فزيد منطلق، تو دیکھا يوم الجمعة، یہ تو منصوب ہے مولانا، یہ تو مبتدا نہیں بن سکتا، ظرف ہے مولانا، تو پھر اس کے اندر عامل کون ہو گا بھئی؟ فا کے مابعد، اور وہ کون ہو گا بھئی؟ بتاؤ بھئی، اما يوم الجمعة فزيد منطلق، کون عامل ہے يوم الجمعة کے اندر؟ اچھا، زید عامل ہے؟ يوم الجمعة کیا ہے؟ يوم الجمعة کیا ہے؟ مفعول فیہ، اور مفعول فیہ کس کے لیے ہوتا ہے ہمیشہ؟ ظرف کتنی چیزوں سے متعلق ہوتا ہے؟ آٹھ چیزوں سے متعلق ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو ان میں سے ایک کون آ رہا ہے یہاں پر؟ منطلق، صیغہ اسمِ فاعل ہے۔
اما يوم الجمعة فزيد منطلق فمنطلق عامل في يوم الجمعة، پس منطلق عامل ہے يوم الجمعة کے اندر، على الظرفية، بناء بر ظرفیت کی وجہ سے۔
فصل حرف الردع كلا، ردع کہتے ہیں ڈانٹ ڈپٹ کو بھئی، ڈانٹ ڈپٹ کا حرف کلا ہے۔ وضعت لزجر المتكلم، یہ اس کو وضع کیا گیا ہے متکلم کے ڈانٹنے کے لیے، وردعه عما يتكلم به، اور منع کرنے کے لیے اس چیز سے جو وہ کہہ رہا ہے، جس جو بات تکلم جس پہ وہ تکلم کر رہا ہے۔ کلا کا حرف کس لیے وضع ہے مولانا؟ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے، تو یہ متکلم کو ڈانٹنے کے لیے اور منع کرنے کے لیے اس چیز سے جو وہ کہہ رہا ہے، كقوله تعالى، جیسے اللہ فرماتے ہیں، واما اذا ما ابتلاه، اور جب اس کو مبتلا کیا یعنی اللہ جب مبتلا فرماتے ہیں انسان کو، فقدر عليه رزقه، کیا کر دیا اس پر؟ اس کے رزق کو تنگ کر دیتے ہیں، فيقول، پس وہ کہتا ہے، ربي اهانن، میرے رب نے میری اہانت کی۔
سمجھ میں آیا؟ جب اللہ تعالی خود بھئی انسان پر، انسان کے حال بتلا رہے ہیں کفار وغیرہ کا بھئی، کہ جب اللہ تعالی ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا ہے، ان کو خوشیاں دیتا ہے، رزق دیتا ہے تو وہ بڑا خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا، یہ مجھے ملنا ہی چاہیے تھا، اور اگر اللہ اس پر رزق کو تھوڑا تنگ فرما دیں، تکلیف آ جائے اس پر تھوڑی سی بھئی، تو پھر وہ کیا کرتا ہے؟ وہ کہتا ہے میرے پروردگار نے میری کیا کی ہے؟ میری اہانت کی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو اللہ فرماتے ہیں كلا، ہرگز نہیں، أي لا يتكلم بهذا، ایسا نہیں کہنا چاہیے بھئی، ایسا نہیں کہنا چاہیے، یہ تو آزمائش ہے، کسی پر سختی کے ساتھ ہے، کسی پر وسعت کے ساتھ بھئی، فانه ليس كذلك، اس لیے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے، ایسا نہیں کہنا چاہیے اس لیے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ هذا بعد الخبر، یہ اس وقت ہے، یہ کلا زجر کے لیے کب ہے؟ جب کس کے بعد آئے مولانا؟ خبر کے بعد آئے، خبر کے بعد۔ وقد تجي ء بعد الامر ايضا، اور کبھی کبھی یہ کس کے بعد آتا ہے؟ امر کے بعد بھی آتا ہے، كما اذا قيل لك اضرب زيدا، جیسے آپ سے کہا گیا اضرب زيدا، زید کی پٹائی کر، فقلت كلا، تو آپ نے کیا کہا؟ کلا، کیا معنی؟ ہرگز نہیں، أي لا افعل هذا قط، میں ایسا کبھی بھی نہیں کروں گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
وقد تجي ء بمعنى حقا، اور کبھی کبھی یہ کس معنی میں آتا ہے؟ حقاً، یعنی وہی معنی ادا کرے گا جو انّ ادا کرتا ہے۔ انّ جیسے تاکیدِ کلام کے لیے آتا ہے، اسی طرح یہ کلا بھی کبھی کس لیے آتا ہے؟ تاکیدِ کلام کے لیے، جیسے عما يتساءلون، عن النبإ العظيم الذي هم فيه مختلفون، كلا سيعلمون، بھئی۔ تو یہ کلا کس معنی میں ہے؟ حقاً، یقیناً کے معنی میں ہے، یقیناً عنقریب وہ جان لیں گے، ثم كلا سيعلمون، پھر یقیناً وہ عنقریب جان لیں گے۔ جی۔
یا مولانا، وہ معنی بھی کر سکتے ہیں، ہرگز نہیں بھی ہو سکتا۔
تو بعض کہتے ہیں یہ کلا بمعنی حقاً کے ہے بھئی، تو کلا حقاً کے معنی میں بھی آتا ہے۔ وقد تجي ء بمعنى حقا، کبھی حقاً کے معنی میں بھی آتا ہے، كقوله تعالى، جیسے اللہ فرماتے ہیں، كلا سوف تعلمون، یقیناً عنقریب وہ جان لیں گے، عنقریب تم جان لوگے۔
وحينئذ تكون اسما، اور اس صورت میں یہ اسم ہو گا۔ بھئی یہ جو کلا آیا حقاً کے معنی میں، یہ اسم ہے یا حرف ہے؟ بعض کہتے ہیں یہ اسم ہے۔ اسم ہے اور مبنی ہے مولانا، اس لیے کہ یہ مشابہ ہے کلا، وہ کلا جو ڈانٹ ڈپٹ کے لیے آتا تھا، وہ کیا تھا؟ حرف تھا نا، ہم کس چیز کی بحث پڑھ رہے ہیں؟ حروف کی بحث، وہ کلا حرف تھا اور یہ کلا اسم ہے لیکن اس کی مشابہت اس کلا کے ساتھ ہے لہذا یہ بھی کیا ہے؟ مبنی، وہ مبنی تھا، یہ بھی مبنی۔ وحينئذ تكون اسما، اور اس صورت میں یہ ایسا، یہ اسم ہو گا، تبنى لكونها مشابها لكلا حرفا، جو مبنی ہو گا اس لیے کہ یہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ اس کلا کے ساتھ جو کیا تھا؟ حرف تھا، وقيل تكون حرفا ايضا، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی یہ حرف ہی ہو گا، بمعنى ان، کس معنی میں ہو گا؟ انّ کے معنی میں ہو گا، لتحقيق الجملة، جملے کی تحقیق کے لیے، نحو كلا ان الانسان ليطغى، یہ کلا بھی کیا ہے مولانا؟ انّ کی طرح تاکید کے لیے آیا، جیسے انّ آ رہا ہے، یہ بھی تاکید، تو انّ سے بھی تاکید آئی اور اس سے تاکید در تاکید آ گئی۔
تو یقیناً یقیناً، كلا ان الانسان ليطغى، انسان کیا ہے؟ البتہ سرکشی کرنے، بمعنی سرکشی کرنے والا ہے، بمعنی ان، یہ انّ کے معنی میں ہے۔
فصل تاء التأنيث الساكنة تلحق الماضية، تائے تانیثِ ساکنہ مولانا، تلحق الماضية، کس کے ساتھ ملتی ہے؟ بھئی تائے تانیث آپ نے دو قسم پر پڑھی، یہ دوسری قسم ہے۔ ایک تائے تانیث وہ ہے جو اسم سے ملتی ہے۔ ضاربة، یہ تائے تانیث ہے لیکن وہ متحرک ہوتی ہے، اور یہ فعل کے ساتھ ملتی ہے، یہ ساکن ہوتی ہے۔ ضرب، ضربا، ضربوا، ضربت، یہ تائے ساکن، یہ تا مراد ہے مولانا۔ یہ تانیث کی تا ہے، یہ فاعل نہیں مولانا، ضمیر نہیں۔
بات گزر چکی ہے پہلے بھی، تاء التأنيث الساكنة تلحق الماضية، تائے تانیث کی تا جو ساکن ہوتی ہے، تلحق الماضية، کس کے ساتھ ملتی ہے؟ ماضی کے ساتھ ملتی ہے، لتدل على تأنيث ما اسند اليه، تاکہ دلالت کرے اس چیز کی تانیث پر اسند الیہ جس کی طرف اس کا، بھئی ضربت میں نے کہا، اس ضربت کی تا نے بتلا دیا کہ آگے جس کی طرف اس کا اسناد ہو رہا ہے، جو اس کا فاعل آ رہا ہے وہ کیا ہے؟ مونث ہے۔ تاکہ وہ دلالت کرے اس چیز کی تانیث پر جس کی طرف اس کا اسناد، جس کی طرف فعل کا اسناد ہو رہا ہے، نحو ضربت هند، یا ضربت هند۔ وقد عرفت مواضع وجوب الحاقها، اور تحقیق آپ اس کے، ملنے، جہاں اس کا ملنا واجب ہے بھئی، ان مواضع کو جان چکے ہیں بھئی، آپ نے پڑھا یا نہیں فاعل کی بحث میں کب فعل کو مذکر لائیں گے اور کب کیا لائیں گے؟ مونث لائیں گے، جہاں پر فاعل مونثِ حقیقی ہو بغیر فصل کے تو پھر کیا لے کر آئیں گے فعل کو؟ مونث، اور اگر درمیان میں فصل آ جائے تو پھر مذکر لانا بھی جائز اور مونث لانا بھی جائز، اور جبکہ غیرِ حقیقی کے اندر چاہے فصل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں مولانا تا کا لانا بھی جائز، فعل کو مونث لانا بھی جائز اور مذکر لانا بھی جائز ہو، تو تفصیل گزر چکی ہے۔
واذا لقيها ساكن بعدها، بھئی یہ تائے تانیث تو ساکن ہے، اگر اس کے بعد ایک اور ساکن آ جائے پھر کیا کریں؟ التقائے ساکنین لا غیر ہذی۔ جی؟ اجتماعِ ساکنین آ جائے مولانا، کیا آ جائے؟ اجتماعِ ساکنین آ جائے پھر کیا کریں گے؟ کہتے ہیں اس تا کو حرکت دیں گے، والساكن اذا حرك حرك بالكسر، تو کسرا دیں گے۔ واذا لقي لقيها ساكن بعدها، اور اگر اس کے بعد اس سے مل جائے ساکن بھئی، وجب تحريكها، واجب ہے اس کو حرکت دینا، بالكسر، کسرا کے ساتھ، لان الساكن اذا حرك حرك بالكسر، اس لیے کہ ساکن کو جب حرکت دی جاتی ہے تو کسرا کے ساتھ حرکت دی جاتی ہے، نحو قد قامت الصلاة، دیکھا قامت کی تا بھی ساکن تھی اور صاد بھی ساکن ہے، تو تا کو کسرا دیا، قد قامت الصلاة۔ وحركتها لا توجب رد ما حذف لاجل سكونها، بھئی آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ رما، رميا، رموا، رمت، تو اصل میں کیا تھا؟ رمت اصل میں کیا تھا بھئی؟ رميت، یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، پھر اجتماعِ ساکنین لا غیر ہذی ہے، الف کو کیا کیا؟ رمت رہ گیا، اب مولانا یہ رمت کے بعد مولانا کوئی فعل ملائیں بھئی۔ جی؟ رمت کے بعد کوئی اور ساکن آ گیا، کیا آ گیا؟ ساکن آیا، مثال جیسے رمت المرأة، رمت، تیر پھینکا کس نے بھئی؟ عورت نے، رمت المرأة السهم۔ تو آپ مولانا تا تو حرکت تا پر آ گئی۔ الف کو ہم نے کس لیے گرایا تھا؟ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، اور اب تا پر کیا آ رہی ہے؟ تو کیا اس کو حرکت کی وجہ سے اس محذوف کو واپس لائیں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کو واپس نہیں لائیں گے، اس لیے کیونکہ یہ جو تا پر حرکت آئی ہے یہ عارضی ہے، کوئی مستقل حرکت نہیں، یہ تو اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے ہے۔ یہ معنی ہے وحركتها، اور اس تا اس کی حرکت جو ہے، لا توجب، وہ ثابت نہیں کرتی، رد ما، اس چیز کو واپس لوٹانا، حذف لاجل سكونها، جس کو حذف کیا گیا تھا اس کے سکون۔ تو اس کے سکون کی وجہ سے جس کو حذف کر لیا گیا تھا یعنی وہ الف وغیرہ اس کو و، اس کے واپس لانے کو یہ واجب نہیں کرتی، وہ ثابت نہیں کرتی، توجب معنی تثبت کے ہے، فلا يقال، یوں نہیں کہا جائے گا رَمَاتِ المرأة، یوں نہیں کہا جائے گا۔ لان حرکتها عارضیة، اس لیے کہ اس تا کی حرکت کیا ہے؟ عارضی ہے، واقعة لرفع التقاء الساكنين، جو واقع ہوئی ہے کس لیے؟ التقائے ساکنین کو اٹھانے کے لیے، دور کرنے کے لیے۔ فقولهم، لہذا عربوں کا یہ، بعض عربوں کا یہ کہنا، المرأة ان رماتا ضعيف، المرأة ان رماتا ضعيف، دیکھو مولانا، رمت، رمتا، کیوں بھئی؟ الف کیوں نہیں واپس لائیں گے؟ رماتا کیوں نہیں کہیں گے مولانا؟