LECTURE-18
1
کل مولانا افعالِ مقاربہ کی بحث ہم نے پڑھی تھی۔ افعالِ مقاربہ وہ افعال ہیں جن کو اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ دلالت کریں خبر کے فاعل کے قریب ہونے پر۔ تو اس میں یا تو خبر فاعل کو حاصل ہونے کے قریب ہے۔ اب یہ حاصل ہونے خبر جو فاعل کو حاصل ہوگی یا تو اس کی صرف امید ہوگی حاصل ہونے کی یا اس کا یقین ہوگا۔ اگر امید ہے تو اس کے لیے عسىٰ آتا ہے مولانا، اور بتایا تھا یہ فعلِ جامد ہے، اس سے صرف ماضی استعمال ہوتا ہے مولانا۔ کیا؟ صرف ماضی کے صیغے۔
اور عمل کے اندر یہ كادَ کی طرح ہے بھئی۔ تو یہ افعال ایک اسم چاہتے ہیں اور ایک خبر چاہتے ہیں۔ ان کا ایک اسم آئے گا اور خبر ان کی ہمیشہ فعلِ مضارع ہوگی۔ کبھی ان آئے گا اور کبھی ان نہیں آئے گا۔ تو عسىٰ کے اندر ان آتا ہے ہمیشہ۔ مثلاً: عسىٰ زيدٌ أن يقومَ۔ ہاں کبھی کبھی عسىٰ كادَ کی طرح ہوتا ہے اور كادَ کے اندر خبر پر ان نہیں آتا، تو اس میں بھی کبھی کبھار ان نہیں آتا۔
اور كادَ جو ہے اس کے اندر وہ یقین، خبر یقین پر دلالت کرتا ہے یعنی خبر کا حاصل ہونا قریب ہے اور یہ امید نہیں ہے بلکہ کیا ہے اس میں؟ یقین ہے کہ قریب ہے حاصل ہو جائے بھئی اس کو۔ اور اس کی خبر بھی جو ہے فعلِ مضارع آئے گی لیکن بغیر ان کے آئے گی اور کبھی کبھی اس میں بھی عسىٰ کی طرح کیا آ جایا کرتا ہے؟ ان آ جاتا ہے۔
اور تیسری قسم وہ ہیں جو کسی فعل کے شروع فعل میں شروع ہونے کے لیے آتی ہیں، کے لیے آتے ہیں وہ افعال اور وہ طفقَ، جعلَ، كربَ، أخذَ ہیں مولانا۔ اور ان کا استعمال بھی كادَ کی طرح ہے یعنی ان کی خبر پر بھی ان داخل نہیں ہوگا، ہاں کبھی آ بھی جائے گا جیسے طفقَ زيدٌ يكتبُ۔
اور اسی طرح أوشكَ ہے مولانا۔ وہ بھی اسی قرب پر دلالت کے لیے آتا ہے بھئی۔ اصل لغوی معنیٰ تو ہیں أسرعَ، جلدی کے، لیکن یہ کیا ہے؟ یہاں پر یہ افعالِ مقاربہ صرف قرب پہ دلالت کے لیے یہ آتا ہے شروع ہونے کے لیے۔ اور اس کا استعمال عسىٰ اور كادَ کی طرح ہے۔ کیا معنیٰ عسىٰ اور كادَ کی طرح ہے؟ یعنی جیسے عسىٰ میں کبھی عسىٰ میں ان آتا ہے تو اس کی خبر پر بھی کیا آئے گا؟ ان آئے گا، اور جیسے كادَ کے اندر ان نہیں آتا تو کبھی اس کی خبر میں بھی ان نہیں آئے گا۔ تو دونوں طرح یہ استعمال ہوتا ہے۔
اس کے بعد مولانا دو فعل تعجب کے پڑھے تھے جن کو وضع کیا گیا ہے انشاءِ تعجب کے لیے، تعجب کے انشاء کے لیے، اور دو صیغے ہیں: ایک ما أفعله اور ایک أفعِل به، جیسے ما أحسنَ زيداً! اور أحسِن بـزيدٍ! جی، تو میں نے بتلایا تھا یہ ما جو ہے یہ أيُّ شيءٍ کے معنیٰ میں ہے۔ نکرہ استفہامیہ ہے بھئی، ما استفہامیہ ہے اور یہ نکرہ ہوتا ہے۔ اور أحسنَ فعل ہے اور اس کے اندر ھو ضمیر اس کا فاعل ہے جو کس کو راجع ہے؟ کیونکہ أحسنَ زيداً فعل اپنے فاعل اور مفعول، اور زيداً مفعول ہے، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، اور جملہ ہو کر یہ خبر بنے گا کس کے لیے؟ ما کے لیے۔ اور جب بھی جملے کو کسی سے جوڑنا ہو، چاہے کسی کے لیے خبر بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے صفت بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے صلہ بنائیں، چاہے جملے کو کسی کے لیے حال بنائیں، ان تمام صورتوں میں آپ نے پڑھا ہے جملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں لیکن جب آپ اس کو جوڑ رہے ہیں تو اب کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، عائد چاہیے، اور وہ ربط آئے گا مولانا، اور یہ عموماً کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمیر کے ساتھ بھئی، ضمیر کے ساتھ ربط آئے گا۔ اور بھی صورتیں ہیں ربط دینے کی، اس میں فاعل آ جاتا، کبھی الف لام آ جاتا ہے، اور کبھی مولانا بعینہٖ اسی اسم کا تکرار ہو جاتا ہے وغیرہ، وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے، فی الحال یہ یاد رکھیں بس کہ ایک طریقہ یہ ہے اور یہ اکثر ہے کہ ربط کس کے ذریعے دیا جائے گا؟ ضمیر کے ذریعے، تو یہاں بھی أحسنَ کے اندر ھو ضمیر ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ مبتدا ما کو، اور اس نے ربط دے دیا، اور پھر یہ خبر ہوئی اس کے لیے اور جملہ استفہامیہ انشائیہ ہوا بھئی۔
جی، اور اس کا معنیٰ کیا بتلایا تھا؟ أيُّ شيءٍ أحسنَ زيداً؟ کس چیز نے زید کو حسین بنا دیا؟ اور یہ لغت کے اعتبار سے، ترکیب کے اعتبار سے ہم ترجمہ کر رہے ہیں لیکن استعمال یہ اس معنیٰ میں نہیں ہے۔ استعمال اب اس لیے یہ کس لیے ہو رہا ہے؟ انشاءِ تعجب کے لیے۔ معنیٰ اب یہ نہیں ہے کہ کس چیز نے زید کو حسین بنایا، اب معنیٰ ہے: زید کتنا حسین ہے! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تعجب کر رہے ہیں بھئی آپ۔
اور اسی طرح ہے أحسِن بـزيدٍ، أحسِن میں نے بتلایا تھا اس کی ترکیب بھی بتلائی تھی کہ بظاہر امر ہے لیکن کس معنیٰ میں ہے؟ ماضی کے معنیٰ میں ہے، تو أحسِن بمعنیٰ أحسنَ کے ہے، اور أحسنَ اور بـزيدٍ کے اندر با زائدہ جارّہ ہے، اور یہ زيدٍ کیا ہے؟ مجرور لفظاً ہے اور مرفوع محلاً ہے، یہ فاعل ہے أحسنَ کے لیے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو أحسِن بـزيدٍ کس معنیٰ میں ہے؟ أحسنَ زيدٌ کے معنیٰ میں ہے یعنی زید حسین ہو گیا۔ یہ تو لغوی، یہ ترکیب کے اعتبار سے ترجمہ ہے، اب یہ اس معنیٰ میں نہیں ہے، اب ان کا معنیٰ کیا ہے؟ یہاں پر جب ہم کہتے ہیں أحسِن بـزيدٍ، کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ زید کتنا حسین ہے!
جی، اور یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ صرف انہی ابواب سے آئیں گے جن سے اسمِ تفصیل کے صیغے آتے ہیں، اس لیے کہ اس میں تفصیل میں بھی أفعَلَ وزن تھا، یہاں پر بھی أفعَلَ یا أفعِل وزن ہے مولانا۔ تو یہاں ایک فا ہے، ایک عین ہے، ایک لام ہے۔ تو لہذا صیغے یہی دو ہیں، تو جس سے بھی بناؤ گے یہی دو صیغے لاؤ گے۔ تو اگر زائد کے باب سے بناؤ گے تو پھر کیا ہوگا؟ آپ کو زوائد کو حذف کرنا پڑے گا۔ زوائد کو حذف کریں گے تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ ثلاثی مجرد کے باب سے آ رہا ہے یا ثلاثی مزید وغیرہ یا رباعی کے باب سے آ رہا ہے بھئی۔
تو باقیوں میں طریقہ بتلایا تھا کہ بھئی ما أحسنَ زيداً ایک، اور اگر آپ کس سے بنانا چاہتے ہیں؟ استخراج سے، تو کیا کہیں گے؟ ما أشدّ استخراجاً یا ما أشدّ استخراجَه، اور دوسرے طریقے أحسِن بـزيدٍ، اس کے اندر کیا طریقہ تھا؟ أحسِن بـزيدٍ، زید کو ہٹا کر استخراج مصدر لگا دیں گے اور اس کے ساتھ زید کی ضمیر لگا دیں گے یا زید کا نام جو بھی آ جائے گا، عبارت میں موقع محل کے مطابق بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کیا ہوگا؟ أشدِد باستخراجِ زيدٍ!
زید کا استخراج کتنا شدید ہے، کتنا زبردست ہے مولانا! استخراج معنیٰ مسئلہ نکالنا، تو زید کتنا تعجب ہو رہا ہے مولانا زید کے استخراج پر تعجب ہو رہا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ استخراج جانتے ہو کہ نہیں جانتے بھئی؟ مسئلہ نکالنا، مسئلہ۔ جیسے مولانا فقہاء کیا کرتے تھے؟ قرآن اور حدیث سے کیا کرتے ہیں؟ مسائل نکالتے ہیں۔ تو یہاں بھی یہی استخراج اس معنیٰ میں ہے کہ زید کتنے شدید استخراج والا ہے، کتنے زبردست استخراج والا ہے! سمجھ میں آیا معنیٰ بھئی؟ جی۔
اور اس کے اندر تصرف نہیں کر سکتے مولانا، جو ترکیب ہے وہی برقرار رکھنی ہے۔ ما أحسنَ زيداً ہے تو یہی رہے گا، ما آئے گا، پھر أحسنَ، أفعَلَ وزن آئے گا اور اس کے بعد مفعول آئے گا۔ آپ آگے پیچھے نہیں کر سکتے، کوئی اور لفظ درمیان میں نہیں لا، أفعِل به، دوسرا کیا ہے؟ أفعِل به، تو به بعد میں ہی آ رہا ہے، اس کو مقدم نہیں کر سکتے، کوئی اور درمیان میں نہیں لا سکتے، یہی ترتیب رہے گی۔ تقديم و تاخير اور فصل نہیں لا سکتے۔ ہاں، امام مازنی کیا فرماتے ہیں کہ ظرف کے ذریعے فصل لانا جائز ہے۔
اس کے بعد افعالِ مدح اور ذم پڑھے تھے مولانا۔ مدح کے بھی دو افعال ہیں، ذم کے بھی دو افعال ہیں۔ مدح کے کون سے ہیں؟ نِعمَ اور حبّذا، اور ذم کے بئسَ اور ساءَ بھئی، یہ ساروں کا استعمال تقریباً ایک جیسا ہے۔
نِعمَ کے بارے میں بتلایا تھا کہ نِعمَ جو ہے اس کا فاعل ہمیشہ معرّف باللام آئے گا: نِعمَ الرّجلُ، اور آگے کیا آئے گا؟ زيدٌ، یہ زید کیا کہلائے گا؟ مخصوص بالمدح، تو نِعمَ الرّجلُ میں الرّجلُ فاعل اور زيدٌ اس کا مخصوص بالمدح کہلائے گا۔ اور ترکیب میں نے بتلائی تھی، کیا ترکیب ہوگی؟ نِعمَ فعل از افعالِ مدح، الرّجلُ اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبرِ مقدم، اور زيدٌ اس کا مبتدا مؤخر۔ یا مولانا دو ترکیبیں، دو جملے بنا لیں ان کو، یہ تو ہم نے ایک جملہ بنایا، نِعمَ الرّجلُ الگ جملہ ہو جائے گا، اور زید کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں، کیا بن جائے گا؟ ھو زيدٌ، تو ھو زيدٌ الگ جملہ ہوا مبتدا خبر، اور یہ الگ جملہ ہوا بھئی۔
تو مولانا نِعمَ کا فاعل ہمیشہ معرّف باللام ہوگا یا وہ مضاف ہوگا کس کی طرف؟ معرّف باللام کی طرف، جیسے نِعمَ غلامُ الرّجلِ زيدٌ۔ اور کبھی کبھار بتلایا تھا اس کا فاعل ضمیر ہوتی ہے، ضمیرِ مبہم اس کے اندر، اور چونکہ وہ مبہم ہوتی ہے لہذا اس کی تمیز نکرہ منصوبھ کے ساتھ لانا ضروری ہے۔ تمیز اس کی نکرہ منصوبھ آئے گی یا ما کے ساتھ کبھی کبھی تمیز لاتے ہیں، جیسے نِعمَ، اس کے اندر ھو ضمیر مبہم ممیز، تو آگے نِعمَ رجلاً، وہ رجلاً اس کی کیا بن جائے گی؟ تمیز بن جائے گی، تو نِعمَ فعل از افعالِ مدح، اور ھو ضمیر اس کے اندر مبہم ممیز، اور رجلاً اس کی منصوب تمیز منصوب لفظاً تمیز، مبہم ممیز اپنی تمیز کے ساتھ مل کر نِعمَ کے لیے فاعل، اور باقی ترکیب پھر اسی طرح بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
اور کبھی کبھار یہ نکرہ کے بجائے ما تمیز آتی ہے: نِعِمّا هِيَ، تو نِعمَ اور ھو ضمیر اس کے اندر مبہم ممیز، اور ما بمعنیٰ شیئاً کے ہے، نکرہ ہے، اور یہ کیا ہے اس سے؟ تمیز ہے۔ تو مبہم ممیز اپنی تمیز سے مل کر نِعمَ کا فاعل، باقی ترکیب اسی طرح، هِيَ آگے مخصوص بالمدح ہے مولانا، هِيَ کیا ہے؟ مخصوص بالمدح ہے۔
اس کے بعد حبّذا دوسرا تھا، حبّذا میں بتلایا تھا کہ حبَّ فعلِ مدح ہے اور ذا اس کے ساتھ فاعل ہے، اور یہ ذا ہمیشہ ہمیشہ اس کے ساتھ آئے گا اور ہمیشہ جی، سمجھ میں آیا؟ ہمیشہ آئے گا، ہمیشہ آئے گا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور یہ بھی بتلایا تھا کہ مخصوص بالمدح سے پہلے یا مخصوص بالمدح کے بعد تمیز یا مولانا حال کا آنا بھی لانا بھی جائز، جیسے حبّذا رجلاً زيدٌ، تو تمیز لائے مولانا مخصوص بالمدح سے پہلے، یا بعد میں لے آؤ: حبّذا زيدٌ رجلاً، یا مولانا حال لے آؤ پہلے: حبّذا راكباً زيدٌ، یا حال لے آؤ بعد میں: حبّذا زيدٌ راكباً، سمجھ میں آ رہی ہے ترکیب بھئی؟
جبکہ بئسَ اور ساءَ بھی اسی طرح ہیں، ان کا فاعل یا معرّف باللام ہوگا یا مضاف ہوگا کس کی طرف؟ معرّف باللام کی طرف، یا ان کے اندر ضمیرِ مبہم ہوگی جس کے آگے تمیز آئے گی نکرہ منصوبھ۔
اس کے بعد مولانا حروف کی بحث ہم نے شروع کی تھی، سب سے پہلے حروفِ جارّہ پڑھے۔ حروفِ جارّہ میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ حروف ہیں جن کو وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ پہنچائیں فعل کو اور معنیٰ فعل کو، فعل کو یا شبہِ فعل کو یا معنیٰ فعل کو کس تک؟ اس اسم تک جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ جیسے مثالیں دی تھیں: مررتُ بـزيدٍ، تو مرور کا مررتُ کا مولانا، مررتُ فعل کے معنیٰ کو زید تک کس نے پہنچایا؟ با جارّہ نے، و أنا مارٌّ بـزيدٍ، مارٌّ کا مولانا زید تک کس نے پہنچایا؟ با نے، و هذا في الدّارِ أبوكَ، تو یہاں هذا یہاں معنیٰ فعل پایا جا رہا ہے کیونکہ اسمِ اشارہ ہے تو یہ کس معنیٰ میں ہوا؟ أشيرُ کے معنیٰ، تو یہاں ما فعل تو نہیں ہے لیکن معنیٰ فعل پایا جا رہا ہے، تو اس کو اس أشيرُ کو مولانا الدّار تک کس نے پہنچایا؟ في نے پہنچایا، أشيرُ في الدّارِ۔
اور بتلایا تھا یہ 19 حروف ہیں، سب سے پہلے مِنْ تھا، مِنْ کئی معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، کبھی یہ ابتداء کے لیے آتا ہے، بھئی کیسے ہمیں پتہ چلے گا یہ مِنْ ابتداء کے لیے ہے؟ کہ بتلایا تھا کہ جس کے لیے انتہاء کا آنا صحیح ہو معلوم ہو وہ مِنْ کون سا ہے؟ میں کہتا ہوں سیرتُ من البصرةِ، میں بصرہ سے چلا، کہاں تک چلا؟ کوفہ تک، یا مکہ تک، یا مدینہ تک، تو دیکھو انتہاء کا لانا صحیح ہے یا نہیں آخر میں؟ تو جہاں انتہاء کا لانا صحیح ہو یہ علامت ہے کہ یہ مِنْ ابتداء کے لیے ہے۔ اور کبھی کبھی یہ مِنْ مولانا بیان کے لیے آتا ہے کسی مبہم چیز کے بیان کے لیے، اس کا کیا طریقہ ہے؟ اس کا کیسے ہمیں پتہ چلے گا؟ کہتے ہیں بھئی جس مِنْ کی جگہ الَّذِي کا رکھنا جائز ہو وہ کیا ہوگا؟ وہ بیان کے معنیٰ میں ہوگا، جیسے قرآن میں مثال تھی، قرآن کی مثال تھی: فاجتنبوا الرّجسَ من الأوثانِ، پس بچو تم گندگی سے، بھئی وہ گندگی کیا چیز ہے؟ مِنْ نے بیان کیا یعنی کہ بت۔ من الأوثانِ یعنی کہ بت، تو اس مِنْ کو اٹھا کر اگر الَّذِي یہاں رکھا جائے مولانا اور اور جن چیزوں کی ضرورت ہے الَّذِي کا صلہ جملہ ہونا چاہیے وغیرہ، تو ان چیزوں کو پورا کرتے ہوئے تو اس کے جن چیزوں کا وہ تقاضا کرتا ہے ان مقتضیات کو بھی لے آئیں تو الَّذِي کا یہاں لانا کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا، تو یوں ہو جائے گا: فاجتنبوا الرّجسَ الَّذِي هو الأوثانُ، تو الَّذِي بھی لے آئے اور کیا لے آئے مولانا؟ هو بھی لے آئے، تو جن جن چیزوں کا وہ تقاضا کرتا ہے اسمِ موصول وہ بھی کیا کرنی پڑیں گی ساتھ؟ لانی پڑیں گی، تو بس تو یہ معنیٰ نہیں کہ لے کر آئیں گے باقاعدہ، یعنی رکھنا صحیح ہے، یہ آپ کو صرف علامت بتلا رہے ہیں پہچان بتلا رہے ہیں کہ وہاں اسمِ موصول کا رکھنا صحیح ہو۔
اور کبھی کبھی یہ مِنْ تبعیض کے لیے آتا ہے مولانا، بعض کو بیان کرنے کے لیے، بھئی اس کی کیا علامت ہے؟ کہتے ہیں اس کے مِنْ کو اٹھا کر اگر لفظِ بعض اس کی جگہ رکھا جائے تو صحیح ہو، جیسے آپ کہتے ہیں أخذتُ من الدراهمِ، کیا معنیٰ؟ أي أخذتُ بعضَ الدراهمِ، کیونکہ مفعول بنے گا نا فاعل تو تُو ضمیر ہے، أخذتُ بعضَ الدراهمِ، تو مِنْ کو اٹھا کر کیا رکھ دیا میں نے؟ بعض، اور معنیٰ صحیح، معلوم ہوا یہ مِنْ کون سا ہے؟ تبعیض کے لیے ہے۔
و زائدةٌ، اور کبھی مِنْ کیا آتا ہے مولانا؟ زائدہ بھی آتا ہے، اور اس کی کیا علامت ہے؟ ہمیں کیسے پتہ چلے گا زائدہ ہے؟ کہتے ہیں اس مِنْ کو آپ عبارت سے نکال لیں، دیکھیں معنیٰ میں کوئی خرابی آئی؟ کہ نہیں آئی، اگر کوئی خرابی نہیں آئی معلوم ہوا یہ مِنْ کیا ہے؟ زائدہ ہے، اور اگر نکالنے سے خرابی آ جائے معنیٰ صحیح نہیں بن رہا مِنْ کے بغیر تو پھر معلوم ہوا یہ زائدہ نہیں ہے، پھر وہ پہلی والی قسموں میں سے یا یہ ابتداء کے لیے ہوگا یا تبعیض کے لیے ہوگا یا تبیین وغیرہ کے لیے۔
تو جی، تو جیسے ما جاءني من أحدٍ، یہ مِنْ زائدہ ہے۔ اور یاد رکھو مولانا آگے زوائد کی بحث بھی آئے گی، یہاں بھی آپ کو بتلا دوں، یہ جو حروفِ زائدہ ہوتے ہیں یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے، حروفِ زائدہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے، حروفِ زائدہ کے بڑی قیمتی بات ہے مولانا ترکیب کے اعتبار سے، جہاں زائدہ آ جائے وہ کسی سے متعلق نہیں ہوگا۔
تو دیکھا، ما جاءني من أحدٍ، یہ مِنْ کون سا ہے مولانا؟ زائدہ ہے، تو اصل میں کیا بنا ہے؟ عبارت اصل میں کیا ہے؟ ما جاءني أحدٌ، معلوم ہوا یہ أحد من أحدٍ میں مِنْ جارّہ زائدہ، اور أحدٍ مجرور لفظاً لیکن معنیٰ کے اعتبار سے ابھی ہم نے کیا بنایا مِنْ کو نکال کر؟ ما جاءني أحدٌ، کیا بنایا تھا؟ مرفوع فاعل بنایا تھا، تو یہ مولانا مجرور ہے لفظاً اور مرفوع ہے محلاً، کیا بن رہا ہے؟ فاعل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اب ترکیب کیسے کریں گے؟ ما حرفِ نفی، جاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر اعراب بتاؤ مولانا؟ منصوب محلاً مفعول بہ، مِنْ جارّہ زائدہ، أحدٍ مجرور لفظاً مرفوع محلاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ کوئی مشکل ہے ترکیب میں مولانا؟ بڑی آسان ہے بھئی، تھوڑی سی محنت کریں انشاء اللہ۔ و لا تزادُ مِنْ في الكلامِ الموجَبِ، یاد رکھو یہاں ایک بہت بڑا اختلاف ہے مولانا نحوی، کوفہ کے نحویوں میں اور بصرہ کے نحویوں میں۔ بصرہ کے نحوی کہتے ہیں یہ جو مِنْ زائدہ آتا ہے یہ ہمیشہ کلامِ غیر موجب میں آتا ہے، کلامِ موجب کے اندر مِنْ زائدہ نہیں آتا۔ کلامِ موجب کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نہی، نفی اور استفہام نہ ہو، اور کلامِ موجب غیر موجب کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نہی ہو یا نفی ہو یا استفہام ہو۔ تو وہ کہتے ہیں جس کلام میں نفی ہو، نہی ہو یا استفہام ہو اس کے اندر مِنْ زائدہ آ سکتا ہے بصرہ والے کہتے ہیں، دوسرے کے اندر موجب کے اندر نہیں آ سکتا، جبکہ کوفہ والے کہتے ہیں نہیں، آتا ہے۔ کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ آتا ہے بھئی۔ دلیل، دلیل دیتے ہیں، دیکھو بھئی کہتے ہیں، کہتے ہیں قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی؟
2
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی۔
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا"۔ یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخشنے والے، بخش دیتے ہیں۔ یقیناً اللہ جس کے لیے چاہیں اس کے تمام گناہوں کو کیا کر دیتے ہیں؟ بخش دیتے ہیں۔
تو یہاں سے کیا معلوم ہوا؟ بعض گناہوں کو بخشتے ہیں یا تمام گناہوں کو بخشتے ہیں؟ جس کے لیے چاہیں اللہ کیا کر دیتے ہیں؟ تمام گناہوں کو بخش دیتے ہیں، اللہ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں دیکھو، ایک یہ آیت ہے جس میں آ رہا ہے ذکر کہ اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتے ہیں، اور دوسری جگہ آتا ہے قرآن کے اندر: "یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ"۔ کیا آیا؟ "یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ"، بخش دیں گے تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو۔ یہ "مِنْ" آ رہا ہے، اور "مِنْ" یہاں تبعیض کے لیے ہو سکتا ہے مولانا۔ کیا معنی؟ تمہارے بعض گناہوں کو بخش دیں گے۔
تو آیتوں میں ٹکراؤ آ گیا، ایک آیت سے پتہ چل رہا ہے کہ سارے گناہ بخش دیں گے، دوسری سے پتہ چل رہا ہے بعض کو بخش دیں گے۔ تو یہ تو مولانا ایک میں سارے کا ذکر ہے ایک میں بعض کا ذکر ہے، یہ تو دونوں مخالف، آپس میں کیا آیا مولانا؟ اختلاف آ گیا بھئی۔ ایک آیت کے معنی سے ایک آیت سے کیا ثابت ہوا؟ تمام گناہوں کو بخش دیں گے، دوسری سے کیا ثابت ہوا؟ بعض کو۔
لہٰذا، اب یہاں پر لازمی بات ہے، اس اختلاف سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ یہ "مِنْ" کو زائدہ ماننا پڑے گا۔
اور چیزیں لے لیں چلو جزاكم الله خيرا۔
تو لازمی بات ہے مولانا، اب اختلاف کو دور کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ دونوں آیتوں کا معنی ایک جیسا کرنا پڑے گا، اور ایک جیسا کرنے کے لیے کیا ضروری ہے کہ اب اس "مِنْ" کو تبعیضیہ نہ بنائیں زائدہ بنا دیں۔ کیا بنا دیں؟ جب زائدہ بنا دیا تو مولانا اب کیا معنی؟ "یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ"، اللہ تمہارے لیے گناہوں کو بخش دیں گے یعنی سارے گناہوں کو۔ اب مولانا اس کا معنی بھی تھا سارے گناہوں کو بخش دیں گے، اس کا معنی بھی کیا بن گیا؟ سارے گناہوں کو بخش دیں گے۔ اب معنی ٹھیک ہو گیا۔
بات سمجھ میں آئی؟ اب آپ مجھے بتائیے، یہ "یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ" اس کے اندر استفہام ہے؟ نہیں۔ نفی ہے؟ نہیں۔ اور نہی ہے یہ؟ نہیں۔ تو دیکھو یہ کلامِ موجب ہوا یا غیرِ موجب ہوا؟ تو کلامِ موجب ہوا، اور کلامِ موجب میں "مِنْ" زائدہ آ گیا۔ کلامِ موجب میں کیا آیا "مِنْ"؟ یہ کوفہ والوں کی دلیل ہے۔ کوفہ والے کہتے ہیں دیکھا، یہ "یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ" یہ کلامِ موجب ہے اور اس کے اندر "مِنْ" زائدہ آیا، معلوم ہوا کلامِ غیرِ موجب نہیں، موجب کے اندر بھی کیا آ سکتا ہے؟ ہاں، تو صرف غیرِ موجب میں ہی نہیں "مِنْ" زائدہ آتا بلکہ موجب میں بھی آتا ہے۔
نیز عرب کا ایک اور قول بھی ہے۔ کیا؟ عرب کہتے ہیں: "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"۔ بارش کے بارے میں پوچھا کسی سے، پوچھیں، تو وہ کیا کہتا ہے؟ بارش بھئی آپ کے علاقے میں بارش ہوئی یا نہیں؟ وہ کیا کہتا ہے؟ بارش ہوئی تھی، وہ جواب میں کہے گا "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"، بارش ہوئی تھی۔
اب بتائیے، یہ اس میں نفی ہے "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ" میں؟ نہی ہے؟ استفہام ہے؟ اور "مِنْ" زائدہ ہے۔ یعنی "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ" کیا معنی؟ یعنی "قَدْ کَانَ مَطَرٌ"، یعنی "ثَبَتَ مَطَرٌ"۔ یہ "کَانَ" کون سا ہے؟ تامّہ، اور "کَانَ" تامّہ صرف کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو چاہتا ہے۔ تو "قَدْ کَانَ مَطَرٌ"، تو یہ "مِنْ" زائدہ ہے اور "مَطَرٍ" مجرور لفظاً ہے لیکن مرفوع محلاً "کَانَ" کے لیے کیا ہے؟ فاعل ہے بھئی، فاعل۔
بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب دیکھو اس میں بھی "مِنْ" زائدہ آ گیا۔ کیا آ گیا؟ "مِنْ" زائدہ آ گیا اور یہ کلامِ موجب ہے۔ کوفہ والے کہتے ہیں دیکھا، قرآن سے بھی دلیل دی انہوں نے مولانا، عرب کے کلام سے بھی دلیل دے دی مولانا کہ "مِنْ" کلامِ موجب کے اندر کیا ہوتا ہے زائدہ آتا ہے، کلامِ موجب میں بھی زائدہ آتا ہے۔
بصرہ والے نحوی اس کا جواب یہ دیتے ہیں مولانا، کہتے ہیں جو آپ نے آیت ذکر کی کہ ایک آیت میں تمام گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے اور ایک میں بعض کی مغفرت کا ذکر ماننا پڑتا ہے اگر "مِنْ" کو زائدہ نہ مانیں، وہ کہتے ہیں بھئی نہیں، ایک آیت میں تمام کا ہی ذکر ہے اور ایک میں بعض کا ہی ذکر ہے۔ ایک میں تمام گناہوں کی مغفرت کا ذکر ہے اور دوسری میں بعض۔ پھر اس پہ بھئی یہ تو ٹکراؤ آیا، کہتے ہیں نہیں نہیں، ٹکراؤ پھر بھی نہیں آیا۔ ایک آیت ہے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی جو امت ہے ان کے بارے میں ہے، اور دوسرا دوسرا حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے بارے میں ہے۔
تو حضور کی امت سے اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ چاہیں تو تمام گناہوں کو تمہارے بخش دیں، اور حضرت نوح علیہ السلام کی امت سے فرمایا کیا کہ چاہیں تو بعض گناہوں کو تمہارے کیا کر دیں؟ بخش دیں۔ تو اب تو کوئی ٹکراؤ نہیں بھئی، وہ یہ آیت اس کا محل ہی الگ ہے، یہ امتِ محمدیہ کے بارے میں ہے، اور اس کا محل ہی الگ ہے، وہ کس کے بارے میں ہے؟ امتِ نوح علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ تو اب کوئی ٹکراؤ رہا؟ نہیں۔ ٹکراؤ تو اس وقت تھا کہ اگر دونوں کو امتِ محمدیہ کے بارے میں بنایا جائے یا دونوں کو حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے بارے میں بنایا جائے پھر کیا ہو سکتا تھا؟ ٹکراؤ ہو سکتا تھا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا وہ کہتے ہیں یہ "مِنْ" تبعیضیہ ہی ہے، اور یہ "مِنْ" زائدہ نہیں ہے۔ معلوم ہوا آپ کے دعویٰ صحیح معلوم ہوا کلامِ موجب کے اندر "مِنْ" زائدہ نہیں آتا، یہ "مِنْ" زائدہ نہیں ہے بلکہ یہ "مِنْ" کون سا ہے؟ تبعیضیہ ہے۔ اور یہ خطاب کس کے، کس کے بارے میں یہ بات چل رہی ہے؟ حضرت نوح علیہ السلام کے۔
اور یہ جو کلامِ عرب آپ نے ذکر کیا "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"، یہ آپ کہہ رہے ہیں کلامِ موجب میں "مِنْ" زائدہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی، یہ "مِنْ" بھی زائدہ نہیں، یہ "مِنْ" تبعیضیہ ہے۔ "مِنْ" کیا ہے؟ کیا معنی؟ کچھ بارش ہوئی تھی۔ یہ معنی نہیں بارش ہوئی، کیا معنی؟ کچھ بارش، "قَدْ کَانَ بَعْضُ مَطَرٍ"، کیا ہوئی تھی؟ کچھ بارش ہوئی تھی۔
یا یہ "مِنْ" بیان کے لیے ہے۔ بیان کر رہا ہے، کچھ ہوئی تھی۔ کیا معنی؟ "قَدْ کَانَ شَیْءٌ"، کیا ہوئی تھی؟ "مِنْ مَّطَرٍ"، یعنی کہ بارش۔ یعنی کہ بارش، تو یہ "مِنْ" بیان کے لیے ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اس پر آپ کو اشکال ہوگا کہ "مِنْ" تو "کَانَ" کا فاعل کیا ہو جائے گا؟ "شَیْئًا"، "شَیْءٌ" بھئی۔ کیا فاعل بنے گا؟ "شَیْءٌ" مولانا، محذوف نکال لیں گے۔
تو اس پہ اشکال ہوگا کہ "مِنْ" تبعیضیہ کے بارے میں آپ نے بتایا تھا، "مِنْ" تبعیضیہ وہ ہوتا ہے جس کو اٹھا کر "اَلَّذِیْ" کا رکھنا صحیح ہو۔ اور یہاں پر تو "اَلَّذِیْ" کا رکھنا صحیح نہیں، کیونکہ جو "شَیْءٌ" آپ نے نکالا ہے وہ نکرہ ہے، اور "اَلَّذِیْ" اسمِ موصول جو ہے وہ معرفہ ہے، تو نکرہ کا بیان معرفہ کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اس کے لیے صفت وغیرہ نہیں بن سکتا۔
تو جواب یہ مولانا کہ اس میں نے بتلایا تھا کہ اس میں موصول صرف "اَلَّذِیْ" کو اٹھا کر رکھنا کافی نہیں، "اَلَّذِیْ" جن چیزوں کا تقاضا کرتا ہے وہ بھی ساری ساتھ لے آؤ، تو پھر رکھنا صحیح ہو جائے۔ سمجھ میں آیا؟
تو اب اگر یہاں ہم کر دیں "اَلشَّیْءُ"، اب "مِنْ" کی جگہ "اَلَّذِیْ" رکھنا صحیح ہو جائے گا۔ "قَدْ کَانَ الشَّیْءُ الَّذِیْ هُوَ مَطَرٌ"، کوئی چیز ہوئی تھی، ایک چیز ہوئی تھی، وہ چیز ہوئی تھی، کیا مولانا؟ "مَطَرٌ"، یعنی کہ "اَلَّذِیْ هُوَ مَطَرٌ"، جو بارش تھی۔
تو یہ تبیین والا بیان، تو بس ایک دو تیسرا جواب بھی ایک سن لیں۔ کہتے ہیں یہ مبنی بر حکایت ہے۔ یہ "مِنْ" کیا ہے؟ مبنی بر حکایت ہے۔ کیسے؟ سوال کیا کسی نے۔ سوال کیا مولانا۔ سوال کیا کیا بھئی؟ کہ "ہَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"؟ کسی نے دوسرے سے کیا سوال کیا؟ "ہَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"؟ کیا بارش ہوئی؟ اور یہ "ہَلْ" کیا ہے؟ استفہام، اور استفہام کے اندر یہ جو "مِنْ" آ رہا ہے یہ "مِنْ" زائدہ ہے، اور "مِنْ" زائدہ کس میں آ رہا ہے؟ کلامِ غیرِ موجب کے اندر آ رہا ہے، کیونکہ کیا ہے؟ "ہَلْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ" کیا ہے؟ استفہام، اور استفہام کیا ہے؟ کلامِ غیرِ تو کلامِ غیرِ موجب کے اندر "مِنْ" زائدہ آ رہا ہے، اور کلامِ غیرِ موجب میں آتا بھی ہے، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ تو چونکہ اس کے جواب میں کہا گیا "قَدْ کَانَ"، جواب دینا تھا، تو جواب کو سوال کے مطابق کر دیا گیا۔ سوال میں "مِنْ" زائدہ تھا، تو جواب میں بھی کیا کر دیا گیا "مِنْ" زائدہ کر دیا گیا، اگرچہ ویسے کیا نہیں جاتا۔
تو کتنے جواب ہوئے مولانا؟ تین جواب دیے۔ اول کیا؟ یہ "مِنْ" کس کے لیے ہے؟ تبعیض کے لیے ہے۔ ثانی کیا؟ تبیین کے لیے ہے، بیان کے لیے ہے۔ ثالث کیا؟ یہ مبنی بر حکایت ہے۔ سوال کا یہ جواب واقع ہوا اور اس سوال میں "مِنْ" زائدہ تھا، تو جواب میں بھی کیا لے آئے "مِنْ" زائدہ لے آئے۔
اسی لیے کہتے ہیں مولانا: "وَلَا تُزَادُ مِنْ فِی الْکَلَامِ الْمُوْجَبِ خِلَافًا لِّلْکُوْفِیِّیْنَ وَاَمَّا قَوْلُهُمْ قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ وَّشِبْهُہٗ فَمُتَاَوَّلٌ"، باقی عربوں کا یہ قول "قَدْ کَانَ مِنْ مَّطَرٍ"، یہ قول "وَّشِبْهُہٗ" اور اس کے جو مشابہ اور اقوال ہیں "فَمُتَاَوَّلٌ" ان میں تاویل کی گئی ہے بھئی، ان میں کیا کی گئی ہے؟ جیسے ابھی میں نے بتلایا مولانا۔ وہ آیت میں کیا تاویل کی گئی کہ ایک آیت امتِ محمدیہ کے بارے میں ہے اور ایک امتِ نوح علیہ السلام کے۔ اور دوسرا مولانا اس کے اندر تین تاویلات میں نے بتائیں، یہ "مِنْ" تبعیض کے لیے ہے یا "مِنْ" بیان کے لیے ہے یا یہ مبنی بر حکایت ہے۔
"وَاِلٰی"، اس کے بعد "مِنْ" کے بعد "اِلٰی" آیا مولانا، "وَهِیَ لِـ"، حروفِ جارہ میں سے، "وَهِیَ لِاِنْتِهَاءِ الْغَایَةِ"، یہ انتہائے مسافت کے لیے آتا ہے "کَمَا مَرَّ" جیسا کہ گزرا بھئی۔ "وَبِمَعْنٰی مَعَ قَلِیْلًا"، اور کبھی یہ "مَعَ" کے معنی میں بھی آتا ہے "اِلٰی" لیکن بڑا قلیل ہے۔ "کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی"، جیسے اللہ فرماتے ہیں: "فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ"، یعنی "مَعَ الْمَرَافِقِ"۔ "اِلٰی" کس معنی میں ہے یہاں پر؟ تو ترجمہ: پس دھو لو تم اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو "مَعَ الْمَرَافِقِ" کہنیوں سمیت۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ "اِلٰی" بمعنی "مَعَ" کے ہے۔
"وَحَتّٰی وَهِیَ مِثْلُ اِلٰی"، اور "حَتّٰی" بھی ہے حروفِ جارہ میں سے اور یہ بھی "اِلٰی" کی طرح ہے۔ یہ یعنی انتہائے مسافت کے لیے آتا ہے، جیسے "نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّی الصَّبَاحِ"۔ "بارحة" کہتے ہیں گزشتہ رات۔ "بارحة" کس کو کہتے ہیں؟ "نِمْتُ"، "نامَ یَنَامُ" کا کیا معنی؟ سونا۔ "نِمْتُ الْبَارِحَةَ"، میں گزشتہ رات سویا "حَتَّی الصَّبَاحِ"، صبح تک بھئی۔ تو "حَتّٰی" کس معنی میں ہے بھئی؟ انتہائے مسافت کے لیے آیا بھئی۔
"وَبِمَعْنٰی مَعَ کَثِیْرًا"، اور یہ بھی "مَعَ" کے معنی میں آتا ہے اور بڑا کثیر ہے بھئی۔ "مَعَ" کے معنی میں آنا، "اِلٰی" بھی آتا ہے انتہائے مسافت کے لیے، "حَتّٰی" بھی آتا ہے کس لیے؟ انتہائے اور "اِلٰی" بھی بمعنی "مَعَ" کے آتا ہے، اور "حَتّٰی" بھی بمعنی "مَعَ" کے آتا ہے، لیکن "اِلٰی" آتا ہے "مَعَ" کے معنی میں قلیل، اور "حَتّٰی" "مَعَ" کے معنی میں کثیراً آتا ہے۔ "نَحْوُ قَدِمَ الْحَاجُّ حَتَّی الْمُشَاةِ"، حاجی آ گئے یہاں تک کہ پیدل بھی، پیادہ بھی آ گئے۔ حاجی دو قسم پر تھے، کچھ سوار تھے اور کچھ پیدل تھے، تو کہتے ہیں سوار تو آ گئے یہاں تک کہ پیدل جو ہیں وہ بھی آ گئے بھئی۔
اوہو، یہاں تو "مَعَ" کے معنی میں ترجمہ کریں مولانا۔ "قَدِمَ الْحَاجُّ مَعَ الْمُشَاةِ"، حاجی آ گئے پیادوں سمیت۔ پیادوں، یعنی جو پیدل حاجی تھے، سوار تھے وہ پیدل سمیت آ گئے، یعنی سارے آ گئے مراد یہ۔
"وَلَا تَدْخُلُ اِلَّا عَلَی الظَّاهِرِ"، اور یہ "حَتّٰی" داخل نہیں ہوتا مگر صرف اسمِ ظاہر پر۔ بھئی "اِلٰی" اور "حَتّٰی" ایک جیسے ہیں۔ "اِلٰی" بھی انتہائے مسافت کے لیے، "حَتّٰی" بھی "اِلٰی" انتہائے مسافت کے لیے۔ "اِلٰی" بھی بمعنی "مَعَ" کے، "حَتّٰی" بھی بمعنی "مَعَ" کے۔ لیکن فرق ایک اور یہ ہے کہ ایک فرق تو یہ بتلایا کہ "اِلٰی" "مَعَ" کے معنی میں قلیلاً آتا ہے اور "حَتّٰی" "مَعَ" کے معنی میں کثیراً آتا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو "حَتّٰی" ہوتا ہے، یہ اسمِ ظاہر پہ داخل نہیں ہوتا۔
اوہو، صرف اسمِ ظاہر پر داخل ہوتا ہے، اور ضمیر پر داخل نہیں ہوتا، لہٰذا "حَتَّاہُ" نہیں کہہ سکتے آپ۔ جبکہ "اِلٰی" اسمِ ظاہر پر بھی داخل ہوتا ہے اور ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے، "اِلٰی زَیْدٍ"، "اِلَی السُّوْقِ"، اور "اِلَیْهِ"، دونوں پر داخل ہو رہا ہے، ضمیر پر بھی اور اسمِ ظاہر پر بھی ہو رہا ہے۔
"وَلَا تَدْخُلُ اِلَّا عَلَی الظَّاهِرِ"، اور داخل نہیں ہوتا مگر اسمِ ظاہر پر ہی "فَلَا یُقَالُ حَتَّاهُ"، لہٰذا "حَتَّاہُ" نہیں کہا جائے گا "خِلَافًا لِّلْمُبَرِّدِ"، برخلاف کس کے؟ امام مبرد کے۔ امام مبرد فرماتے ہیں کہ "حَتّٰی" بھی ضمیر پر داخل ہو جاتا ہے۔ کیا دلیل ہے آپ کی؟ آگے آنے والا شعر دلیل ہے۔ اس شعر کے اندر "حَتّٰی" کس پر داخل ہوا ہے؟ کاف ضمیر پر داخل ہوا ہے بھئی۔ "فَلَا وَاللهِ لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ فَتًی حَتَّاکَ"، "حَتّٰی" کس پہ داخل ہوا؟ ضمیر پر، "حَتَّاکَ"۔ تو یہ ضمیر پہ داخل ہو رہا ہے مولانا، وہ کہتے ہیں دیکھا؟ آپ نے کہا ضمیر پہ داخل نہیں ہوتا ہے، ہم نے عرب کا شعر پیش کر دیا مولانا جس میں انہوں نے ضمیر پہ داخل کیا۔
مصنف اس کا جواب دیں گے کہ یہ شاذ ہے۔ یہ کیا ہے؟ بہت نادر آیا مولانا، ایک آدھ دو دفعہ ایک چیز آنے سے کوئی ضابطہ نہیں بن جایا کرتی، ہمیں عام چاہیے، عام استعمال میں ایسا نہیں۔
"خِلَافًا لِّلْمُبَرِّدِ"، برخلاف امام مبرد کے۔ "وَقَوْلُ الشَّاعِرِ"، اور باقی شاعر کا یہ قول جو ہے: "فَلَا وَاللهِ لَا یَبْقٰی اُنَاسٌ فَتًی حَتَّاکَ یَا ابْنَ اَبِی زِیَادِ شَاذٌّ"، یہ قول کیا ہے؟ شاذ ہے۔ "فَلَا وَاللهِ"، یہ "لَا" زائدہ ہے مولانا۔ قسم کے اندر جو "لَا" ہے، قسم سے پہلے یہ اس کو کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے کبھی بڑھایا جاتا ہے۔ کس لیے؟ بھئی کبھی کبھی قسم سے پہلے کیا بڑھا دیتے ہیں؟ "لَا"۔ کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے، کلام میں اس سے بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے۔
اور بلاغت کا نکتہ اس کے اندر یہ ہے مولانا، اس میں اشارہ ہوتا ہے اس بات کی طرف کہ جس بات پر آگے یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بات اتنی واضح ہے، اتنی ظاہر ہے کہ اس پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں۔ قسم کھا تو رہے ہیں ہم لیکن اس پر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، دیکھیے۔
"فَلَا وَاللهِ"، واؤ قسمیہ جارہ ہے مولانا، لفظِ اللہ مجرور ہے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہو جائیں گے "اُقْسِمُ" فعل کے ساتھ۔ کس سے متعلق ہوں گے؟ "اُقْسِمُ" فعل، "اُقْسِمُ" فعل "اَنَا" ضمیر اس کے اندر فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر قسم۔ جملہ فعلیہ ہو کر قسم۔ "لَا یَبْقٰی"۔
"اُنَاسٌ"، "اُنَاسٌ" لغت ہے "نَاس" کے اندر۔ آپ "اَلنَّاس" نہیں پڑھتے عربی میں؟ اسی میں ایک لغت ہے مولانا۔ تو "اَلنَّاس" پر تو الف لام کیا ہے؟ تعریف کا داخل ہے، باقی کیا رہ گیا؟ "نَاس"، اور اس "نَاس" کے اندر ایک لغت کیا آتی ہے؟ "اُنَاس" بھی ہے۔ باقی نہیں رہیں گے "اُنَاسٌ"، لوگ۔ "فَتًی"، یہ "اُنَاسٌ" سے بدل ہے مولانا۔ وہ مبدل منہ اور "فَتًی" کیا ہے؟ بدل، اور بدل کا بھی وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ مبدل منہ کا ہوتا ہے۔ تو "فَتًی" بھی کیا ہے مولانا؟
"اُنَاسٌ" کیا ہے؟ اعراب؟ مرفوع لفظاً، تو "فَتًی" بھی کیا ہوگا؟ مرفوع۔ کون سا مرفوع ہوگا یہ؟ یہ کیا ہے؟ مبنی ہے، معرب ہے؟ معرب ہے۔ اور معرب ہے تو پھر وہ نو قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ جی؟ ہاں شاباش، یہ اسمِ مقصور ہے مولانا
3
نا کیا ہے؟ اس میں مقصور۔ بھئی اس میں مقصور کس کو کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف آئے۔ یہ الف کبھی لفظوں میں ہوگا، کبھی تقدیرن ہوگا۔ یہاں تقدیرن الف موجود۔
البتہ یہاں پر تقدیرن اصل میں تھا فتئ۔ کیا تھا؟ فتئ۔ پھر یہاں پر یہ امتحرک ماقبل فتحہ تھا، اس کو کس سے بدل دیا؟ الف سے بدل دیا۔ کیا۔
کیا بنا؟ فتان بن گیا، فتان۔ پھر اسمائے ساکن ہے نا یا تنوین کے اندر اور الف کے اندر تو کس کو گرا دیا؟ کیا رہ گیا؟ فتان۔ تو الف گرا ہے التقاء ساکنین سے، تو تقدیرن یہاں موجود ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تقدیرن یہاں موجود ہے۔ تو یہ مرفوع ہے تقدیرن مولانا، مرفوع تقدیرن ہے۔
حتیٰ کا، حتیٰ جارہ۔ کاف ضمیر مجرور محلاً۔ یابن ابی زیاد، یا حرفِ نداء۔ اور منادی آگے آ رہا ہے اور منادی آپ نے پڑھا ہوگا مضاف یا مشابہ مضاف ہو تو کیا ہوا کرتا ہے؟
منسوب ہوا کرتا ہے، تو یہ بھی ابن بھی کیا ہے مولانا؟ منسوب اسی لیے ہے کیونکہ اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ یا یابن ابی زیاد، اے ابی زیاد کے بیٹے!
لایبقاء اناس، قسم ہے خدا کی لایبقاء اناس لوگ باقی نہیں رہیں گے۔ فتن نوجوان نوجوان بھی باقی نہیں رہیں گے۔ حتیٰ کا یہاں تک کہ تو بھی باقی نہیں رہے گا، اے ابن ابی زیاد بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دنیا فانی ہے، ہر چیز ختم ہو جانے والی ہے، ابن ابی زیاد کے بیٹے! تمام لوگ ختم ہو جائیں گے۔ یہاں نوجوان ختم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ تو بھی کیا ہے؟ ختم ہو جائے گا۔ کسی چیز کو یہاں بقا نہیں۔
تو بہرحال محلے سے شاذ حتیٰ کا تھا۔ یہاں پر حتیٰ کا ضمیر پر داخل ہوا اور بتلایا شاذ یعنی شاذ ہے۔
و فی اور مولانا چوتھا حروفِ جارہ میں سے فی ہے، وہی الظرفیۃ ہے۔ فی یہ کس کے لیے آتا ہے مولانا؟ ظرفیت کے لیے۔ یہ بتلاتا ہے کہ ما بعد ظرف ہے کس کے لیے؟ ما قبل کے لیے۔ زید فی الدار۔ زید کس کے اندر ہے؟ گھر کے اندر۔ معلوم ہوا یہ دار ظرف ہے، جس کے اندر کون ہے؟ زید موجود ہے۔
جیسے زید زید فی الدار، والماء فی الکوز، اور پانی کوزے کے اندر ہے۔ کوزہ جانتے ہو بھئی؟ کوزہ، کوزہ۔
کوزہ مولانا یہ صراحی نما برتن ہوتا ہے، جس کی ٹونٹی بنی ہوتی ہے، جیسے لوٹے کی ہے۔ لوٹے کی تو لمبی ٹونٹی ہوتی ہے، اس کی چھوٹی سی ہوتی ہے۔ دیکھا ہے کبھی یا نہیں دیکھا؟
ہاں، آپ کے علاقوں میں استعمال، وہ دیہاتوں میں استعمال ہوتا ہے مولانا۔ دیہاتوں میں ابھی بھی استعمال ہوتا ہے، وضو وغیرہ کے لیے بھی، پانی پینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کوزہ کہتے ہیں اس کو۔ جی۔
والماء فی الکوز، پانی کس کے اندر ہے؟ کوزے کے اندر ہے، کوزے کے اندر ہے۔ تو دیکھو! کوزہ کیا ہے؟ ظرف ہے کس کے لیے؟ تو فی ظرفیت کے لیے آیا۔ وبمعنیٰ علی قلیلا، اور کبھی فی کس معنیٰ میں آتا ہے؟ علی کے معنیٰ میں لیکن یہ بڑا قلیل ہے۔ نحو قولہ تعالیٰ، جیسے اللہ فرماتے ہیں: ولأصلبنكم في جذوع النخل کیا؟ بھئی! وہ فرعون نے کہا تھا جو جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے تو فرعون نے کہا تھا کہ میں تمہیں ضرور بالضرور سولی دوں گا کس پر؟ کھجور کے تنوں پر۔ جزوع تن ہے بھئی، تنے۔
نخل کھجور کے درخت کو کہتے ہیں بھئی۔ لأصلبنكم، میں تمہیں ضرور ولأصلبنكم، اور البتہ میں تمہیں ضرور بالضرور سولی دوں گا فی جزوع النخل، کھجور کے تنوں پر۔ تو فی بمعنیٰ علی کے ہے، ای علی جزوع النخل، اس کھجور کے تنوں پر دوں گا۔
والباء، چ پانچواں مولانا باء ہے حروفِ جارہ میں سے، وہی الالصاق۔ یہ کس لیے آتا ہے مولانا؟ الصاق کے لیے آتا ہے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا، جوڑنا۔
نحو مررت بزید، مررت بزید، میں زید پر گزرا۔ تو یہ باء الصاق کے لیے، کیا معنیٰ؟ ای التـصق مـروری، میرا گزرنا مل گیا بموضع، ایسی جگہ کے ساتھ یقرب منہ زید کہ زید جس کے قریب ہے، یعنی میں زید کے قریب سے گزرا۔ تو میرا گزرنا ایسی جگہ کے ساتھ مل گیا، کیا ہوا؟ مل گیا، جس کے قریب کون تھا؟ زید تھا۔
تو آپ کا گزرنا مل گیا یا نہیں مولانا؟ آپ کہاں سے گزرے؟ ایسی جگہ کے قریب سے گزرے، ایسی جگہ کے ساتھ سے گزرے، جس کے قریب کون تھا؟ زید تھا۔
بصاق کے لیے آتا ہے۔ ولیل استعانة، اور کبھی مولانا باء استعانَت کے لیے بھی آتا ہے، مدد کے لیے۔ کتبت بالقلم، میں نے قلم کی مدد سے لکھا۔ یہ مدد کا معنیٰ کس نے ادا کیا؟ باء نے، یہ مدد کے لیے آیا۔
وقد يكون للتعليل، اور کبھی کبھار کس لیے آتا ہے مولانا؟ تعلیل، یعنی تعلیل کسی چیز کی علت بیان کرنے کے لیے باء لائی جاتی ہے۔ كقوله تعالى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: إنكم ظلمتم أنفسكم باتخاذكم العجل بھئی، موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر تشریف لے گئے، پیچھے سامری نے وہ بچھڑا بنایا، گائے کا اور سونے کو پگھلا کر اور بنی اسرائیل والوں نے کیا کر دی؟ بنی اسرائیل والوں نے اس کی عبادت شروع کر دی تو موسیٰ علیہ السلام آئے اور پھر ناراض ہوئے اور سامری کو سزا ملی، پھر مولانا اللہ کی طرف سے تو کیا، انکم، اس وقت مولانا یہ قرآن میں آتا ہے: انکم ظلمتم، یقیناً تم نے ظلم کیا ہے انفسكم، اپنے نفسوں پر باتخاذ، با سببیہ تعلیل کے لیے، بس سبب پکڑنے تمہارے، کس کو پکڑنے؟ پچھڑے کو تو تم نے اپنے تم نے جو بچھڑے کو پکڑا اور اس کو اپنا معبود بنایا، اس سبب سے تم نے کیا کیا؟ اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اس وجہ سے تم نے، یقیناً تم نے ظلم کیا ہے اپنے جانوں پر بسـبب بچھڑے کو معبود بنانے کے۔ ولیل مصاحبة، اور مولانا باء کس لیے آتا ہے؟ مصاحبت، ساتھ، مولانا، ساتھ ہونا کسی چیز کا۔
كخرج زيد بعشيرته، زید عشـيرته اپنے قبیلے کے ساتھ نکلا۔ قبیلے کے ساتھ تو نکلنا کیا تھا مولانا؟ اکٹھا تھا یا نہیں دونوں کا؟ زید قبیلے کے ساتھ تھا، تو دیکھو، ملے ہوئے تھے دونوں، مصاحبت کے، اکٹھے تھے۔
وللمقابلة، اور کبھی کبھار یہ کس لیے آتا ہے مولانا؟ مقابلے کے لیے بھی آتا ہے باء کا، بيعتـها بذاك، بھئی آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے کتاب البیوع پڑھی ہوگی، اور بیوع کے اندر ایک ضابطہ پڑھا ہوگا کہ جس پر باء داخل ہو، وہ کیا ہوگی؟ ثمن۔
اشتريت الكتاب بالقلم، کتاب کو میں نے قلم کے مقابلے میں خریدا یعنی قلم دیا اور کیا لے لی؟ کتاب۔ اب مولانا دیکھو، ایک طرف قلم ہے، ایک طرف کتاب ہے، اب اس میں ثمن کون ہے؟ مبیع کون ہے؟ آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ ہاں، جس پر باء داخل ہو، وہ ثمن اور دوسرا کیا ہے؟ مبیع۔ تو یہاں پر کتاب مبیع اور قلم پر باء داخل ہوئی تو قلم کیا ہے؟ ثمن ہے۔ معلوم ہوا آپ قلم دے کر کیا خریدی ہے؟ کتاب خریدی ہے۔
تو دیکھو یہ، میں نے قلم کے مقابلے میں کیا خریدی؟ کہ بدلے میں بيعتـها بذاك، میں نے بیچا اس چیز کو اس چیز کے بدلے میں۔ وللتـعدية، اور کبھی مولانا تعدیہ کے لیے آتی ہے، متعدی بنانے کے لیے باء آتی ہے۔ ذہبت کا کیا معنیٰ؟ میں گیا۔ ذہبت بزید، میں زید کو لے گیا، تو یہ متعدی بنانے کے لیے بھی کبھی کیا لے آتے ہیں؟ باء لے آتے ہیں۔
كذھبت بزید، میں زید کو لے گیا، ولیل ظرفية، اور کبھی کس لیے آتی ہے بھئی؟ با ظرفیت کے یعنی فی کے معنیٰ میں بھی آتی ہے، كجلست بالمـسجد، ای فی المسجد، میں مسجد میں بیٹھا۔ وزائدة، اچھا اور کبھی کبھار یہ کیا آتی ہے مولانا؟ زائدہ آتی ہے، قياساً، بھئی زائدہ کہاں آئے گی؟ بھئی یاد رکھو، دو جگہیں ہیں اس کے آنے کی زائدہ۔ ایک وہ جگہ ہیں جو قیاسی ہیں، آپ ہی قیاس کرتے ہوئے، آپ ہی اس کے مطابق زائدہ لا سکتے ہیں ان جگہوں پر۔ اور کچھ سماعی ہیں کہ آپ ان پر قیاس کرتے ہوئے، آپ اس طرح زائدہ نہیں لا سکتے۔ تو پہلے قیاسی جگہیں بتا رہے ہیں۔
زائدہ آئے گی قياسا، قیاسی طور پر فی خبر نفی کس کی خبر میں ہے مولانا؟ نفی کی، نفی کی خبر مولانا جیسے ما زید بقائم، آپ پڑھتے ہیں مولانا ما زید بقائم، زید کھڑا نہیں۔ ليس زيد بقائم، زید کھڑا نہیں۔ تو کیا ترکیب کریں گے؟
یہ با کون سی ہے؟ یہ جو خبر میں آ رہی ہے، نفی کی خبر میں یہ با کون سی ہے؟ زائدہ۔ اور زائدہ کے بارے میں میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ یہ کس سے متعلق؟ نہیں، اب ترکیب کرو۔ ليس زيد بقائم، ليس حروف، حرف، فعل، ناقصہ، آگے، زید مرفوع لفظاً، اس کا، اس کا، با، جارہ، قائم مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً۔ منسوب محلاً، کیونکہ لیس کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منسوب محلاً لیس کی خبر، تو لیس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ پوری سمجھ میں آگئی؟
و سماعـا، اچھا، کدھر گیا؟ نحو ما زید بقائم تو یہ نفی کی خبر میں جو پائی، اب آپ بھی کوئی خبر دینا چاہتے ہیں نفی کے ساتھ، ما کے ساتھ، لیس کے ساتھ تو آپ بھی کیا کر سکتے ہیں مولانا؟ با زائدہ لا سکتے ہیں۔ وفی الاستفهام، اسی طرح استفہام کی خبر میں بھی لا سکتے ہیں مولانا، جیسے ہل زید بقائم، یہ با بھی کیا ہے؟ زائدہ، تو استفہام کی خبر میں اور نفی کی خبر میں با زائدہ لا سکتے ہیں آپ بھئی۔ وسماعا، اور سماعـاً کچھ جگہیں ہیں، سماع پر موقوف ہیں، زائدہ ان میں آئے گا فـالمرفوعة، اب یہ سماع پر وہ کون سی جگہیں ہیں؟ کہتے ہیں کبھی مرفوع کی جگہ پہ آئے گا با، کبھی منسوب پر آئے گا مولانا، منسوب کی، مرفوع میں جیسے وفی المرفوع نحو بحسبك زيد، یہ با جارہ زائدہ ہے۔ با جارہ زائدہ ہے۔ تو اصل میں ہے حسبك زيد، حسبك مضاف مضاف إليه مل کر مبتدا، اور زید اس کی خبر۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
با جارہ زید، حسب مجرور لفظاً مضاف، کاف مجرور محلاً مضاف إليه، مضاف مضاف إليه مل کر مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً مبتدا، زید اس کی خبر۔ تو دیکھو یہ مرفوع پر با داخل ہوئی، کیونکہ مرفوع ہے نا مبتدا، اور یہ اب آپ نہیں کر سکتے، آپ کسی مبتدا پر با نہیں لا سکتے۔ یہ قیاسـا استماع پر موقوف ہے، عربوں سے ہم نے اس طرح سنا ہے۔
وكفى بالله شهيدا، دیکھو، یہ لفظ اللہ مجرور لفظاً ہے، لیکن مرفوع محلاً ہے، فاعل ہے کفا کا۔ اللہ کافی ہے بہ اعتبار، بہ اعتبار گواہ کے۔ تو كفا بالله خود بتلا رہے ہیں، یہ با زائدہ ہے، اي كفـاللہ، اي كفـاللہ۔ وفي المنصوب، اور اسی طرح منسوب میں بھی با کبھی زائدہ آتی ہے، جو موقوف الا سماع ہے، آپ نہیں زائدہ لا سکتے، جیسے القى بیدہ، القا تو خود مولانا مفعول چاہتا ہے، با لانے کی ضرورت نہیں، با لائی گئی، معلوم ہوا یہ با کون سی ہے؟ زائدہ ہے۔ القا خود نصب دے دیتا ہے، القا يدہ۔ بھئی عربی میں کہتے ہیں لا، تو قرآن میں ہے لا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة، تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو لیکن ہاتھ نہیں مراد، نفس مراد ہے۔ تو جز بول کر کل مراد ہے، جز بول کر (یعنی تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو) بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بولا کیا گیا ید، اور مراد کیا ہے؟ پوری ذات، پوری ذات مراد ہے، پوری ذات مراد ہے، سمجھ میں آیا؟ تو تم اپنے ذاتوں کو، اپنے نفسوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ تو اب তো القا بيده، اي القا يده۔ تو اس نے اپنے نفس کو ڈالا ہلاکت میں، وغیرہ جو بھی آگے آ جائے گا۔ بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے، زیادہ تیز چل رہا ہوں؟
واللام، اور ایک لام ہے مولانا جو حروفِ جارہ میں سے، وہی للاختصاص، یہ کس لیے آتا ہے؟ ایک چیز کی تخصیص کرتا ہے کہ یہ اس چیز کے ساتھ خاص ہے۔ جیسے الجل للفرس، جل کس کو کہتے ہیں؟ جھول کو، کس کو کہتے ہیں؟ جھول۔ زین، ایک ہوتی ہے زین بھئی، گھوڑے پر آپ ڈالتے ہیں نا زین، وہ چمڑے وغیرہ کی چیزیں ہوتی ہیں، وہ نہیں۔ اس سے پہلے ایک موٹا کپڑا وغیرہ، دو تین کپڑے ہوتے ہیں، وہ ڈالے جاتے ہیں تاکہ زین اس کو زخمی نہ کرے۔ وہ جو کپڑے ڈالے جاتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جھول کہتے ہیں، اس کو جل کہتے ہیں۔ الجل للفرس، جھول خاص ہے کس کے ساتھ؟ گھوڑے کے ساتھ۔ یہ خاص ہونے کا معنیٰ کس نے ادا کیا؟ لام نے۔ والمال لزيد، اور مال خاص ہے کس کے ساتھ؟ یعنی مال زید کا ہے۔ مال زید کا ہے۔ وللتـعليل، اور کبھی لام کس لیے آتا ہے؟ علت بیان کرنے کے لیے، کضربتہ للتـأديب، میں نے اس کی پٹائی کی، کیوں کی؟ سکھانے کے لیے، تو پٹائی کی علت کیا ہے؟ ادب سکھانا، یہ لام نے معنیٰ ادا کیا۔
وزاـ بھئی جی! وہ زائدة، اور لام کبھی کیا آئے گا؟ زائدہ آئے گا، كقوله تعالى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: ردفا لكم، اي ردفـاكم، ભઈ ردفـا خود متعدی ہے بغیر لام کے، لیکن یہاں پر لام کو بیچ میں لایا گیا، معلوم ہوا یہ لام کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ ردفـا کا معنیٰ ہوتا ہے کسی کے پیچھے سوار ہونا۔ کسی کے پیچھے ભئی ان گھوڑے پر ایک آدمی سوار ہے، ایک اور بھی ساتھ پیچھے بیٹھ جاتا ہے، یہ جو پیچھے بیٹھا ہے، اس کو کہتے ہیں ردیف۔ کیا کہتے ہیں؟ ردیف کہتے ہیں، جو پچھلا سوار ہوتا ہے، اس کو ردیف کہتے ہیں۔ جی۔
وبمعنیٰ عن، إذا استعمل مع القول، اور یہ کبھی عن کے معنیٰ میں بھی آتا ہے، جب اس کو استعمال کیا جائے قول کے ساتھ۔ كقوله تعالى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: وقال الذين كفروا للذين آمنوا لـو كان خيراً ما سبقونا اليه، کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا، ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے تھے، لو کان خیراً، اگر یہ ایمان بہتر ہوتا، ما سبقونا إليه، تو وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے اس ایمان کی طرف۔ وفيـه نظر۔ دیکھو مولانا، قال کا صلہ ہمیشہ لام آتا ہے، جو مخاطب پر داخل ہوتا ہے۔ قلت لك، میں نے آپ سے کہا، تو آپ کون ہیں؟ مخاطب اور آپ پر کیا ہوا ضمیر پر؟ کاف لام داخل ہوا۔ میں نے زید سے کہا، کیا کہیں گے بھئی؟ قلت لزيد، تو یہ زید مخاطب تھا، تو اس پر کیا داخل کیا؟ لام۔ میں نے عمر سے کہا، کیا کہوں گا؟ قلت لامر، اچھا، میں نے طلباء سے کہا، کیا کہوں گا؟ قلت لطلاب۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ لام داخل ہوتا ہے مخاطب پر، لیکن کبھی کبھی یہ غیر مخاطب پر بھی داخل ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں، مثال کے طور جو، جیسے اس آیت کے اندر ہے مولانا۔ دیکھا، دیکھو بھئی! قال، قال الذين كفروا، کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، کہتے ہیں وہ جو کہ جنہوں نے کفر کیا للذين، کیا آ رہا ہے مولانا قال کا صلہ؟ لام۔ لام آ رہا ہے، اور لام کس پر داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، تو ترجمہ یوں بنے گا، کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، کن سے کہتے ہیں؟ ان لوگوں سے کہتے ہیں الذين آمنوا، جو کیا لائے تھے؟ ایمان لائے۔ یعنی کافر مومنوں سے کہتے ہیں، لو کان خیراً، اگر یہ ایمان ای لو کان الإيمان خیراً، اگر یہ ایمان کیا ہوتا؟ بہتر ہوتا، ما سبقونا، سبق کون سا صلہ ہے؟ سبقـو، مخاطب کا غائب کا ہے؟ سبقـا، سبقـا، ماضی مولانا غائب کا صیغہ ہے۔ اگر یہ ایمان بہتر ہوتا، ما سبقونا، وہ لوگ سبقت نہ کر جاتے، نا ہمارے اوپر۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ لوگ ہمارے اوپر سبقت نہ کر جاتے الیہ، اس ایمان کی طرف۔
4
گشتہ؟ دیکھو کافر کہتے تھے مومنین سے کہ اگر ایمان بہتر ہوتا تو وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کرتے۔
تو دیکھو اب یہاں جو ہے نا مولانا، یہ لام کن پر داخل ہوا ہے؟ الذین پر، اور یہ الذین مخاطب نہیں ہے، غائب ہیں۔ کیا ہیں؟ بھئی مخاطب غائب ہوتا ہے یا حاضر ہوتا ہے؟ حاضر ہوتا ہے، اور قال کا صلہ آ رہا ہے لام، اور لام کس پر داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، تو معلوم ہوا یہ الذین کون ہونے چاہئیں؟ حاضر ہونے چاہئیں۔ تو کفار کہتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، اور معلوم ہوا وہ ایمان لانے والے کیا ہیں ان کے سامنے؟ حاضر ہیں، کافر ان کو کہتے ہیں کہ اگر یہ ایمان اچھی چیز ہوتی، تو دیکھو ایمان لانے والے سارے غریب، غرباء، فقراء، صحابہ۔ کفار بڑے بڑے دولت مند، رئیس، متکبرین تھے، وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔
تو مومنوں کو کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ اگر اس ایمان کے اندر کوئی خیر ہوتی، تو یہ غریب غرباء ہم سے سبقت نہ کرتے، بلکہ ہم جیسے دانا اور ہوشیار لوگ ہم کیا کر لیتے؟ ہم جلدی قبول کرتے ایمان کو، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کافر یہ کہہ رہے ہیں۔
اور کس کو کہہ رہے ہیں؟ کیا آ رہا ہے قال کا صلہ؟ لام، اور الذین آمَنوا وہ لوگ جو کہ ایمان لائے، کس کو کہہ رہے ہیں؟ ایمان والوں کو کہہ رہے ہیں کہ اگر اس ایمان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کر جاتے۔ کیا کہہ رہے ہیں؟ ما سبقونا، غائب کا صیغہ ہے نا، غائب کا ترجمہ کرو، وہ لوگ ہم پر سبقت نہ کرتے، حالانکہ یہ تو نہیں کہنا چاہیے، کفار کو تو یوں کہنا چاہیے، مسلمانوں سے بات کر رہے ہیں کہ اگر یہ ایمان بہتر، تو مسلمانوں سے کافر کہہ رہے ہیں مسلمانوں سے، اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو تم لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے، تو کہنا چاہیے تھا ما سبقتُمونا، تم لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے، لیکن کیا کہہ رہے ہیں؟ ما سبقونا، وہ لوگ ہم سے سبقت نہ کرتے۔
معلوم ہوا جس پر یہ لام داخل ہو رہا ہے الذین آمَنوا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، معلوم ہوا وہ مخاطب نہیں ہیں اس وقت، معلوم ہوا وہ مخاطب نہیں، وہ غائب ہیں، اسی لیے تو آگے سبقونا ان کے لیے کون سا صیغہ لے کر آ رہے ہیں؟ غائب کا صیغہ لے کر آ رہے ہیں، اگر وہ حاضر ہوتے تو پھر غائب کا صیغہ لاتے؟ بھئی پھر کون سا لاتے؟ معلوم ہوا یہ لام بمعنی عن کے ہے۔ یہ لام بمعنی عن، تو قال الذین، کافر مومنوں سے نہیں کہہ رہے، یہ لام بمعنی عن کے ہے، یعنی کافر مومنوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ کافر کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ آپس میں ہی باتیں کر رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں ایک دوسرے کو؟ کہ، اور کس کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں؟ مومنوں کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، تو ایک کافر دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اگر یہ مومن، مومنوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو یہ مومن جو، یہ لوگ جو ہیں ہم سے سبقت نہ کرتے، اب بات صحیح ہوئی یا نہ ہوئی؟ جی؟ قال کا صلہ کیا آتا ہے؟ لام، اور یہ لام کس پر داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، لیکن یہاں اگر مخاطب کا معنی کریں تو پھر آگے سبقونا غائب کا صیغہ نہیں آنا چاہیے، بلکہ کون سا آنا چاہیے؟ سبقتُمونا آنا چاہیے، مخاطب والا صیغہ آنا چاہیے، اور آگے تو آ رہا ہے غائب کا صیغہ، معلوم ہوا یہ جس پر لام داخل ہو رہا ہے یہ مخاطب نہیں، یہ مخاطب نہیں، تو معلوم ہوا یہ لام اپنے معنی میں نہیں، کیونکہ لام تو کس پر داخل ہوتا ہے؟ تو معلوم ہوا یہ لام کس معنی میں ہے؟ عن کے بارے میں ہے، یعنی یہ مومنوں سے نہیں کہہ رہے بلکہ مومنوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں، باتیں خود کر رہے ہیں آپس میں اور مومنوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اگر یہ، ایک کافر دوسرے کو کہتا ہے بھئی اگر یہ ایمان بہتر ہوتا یہ تو غریب غرباء ہم سے سبقت نہ کرتے، ہم لوگ ہوشیار ہیں، دانا ہیں، دولت مند ہیں، ہم کیا کر لیتے؟ پہلے اس اسلام کو قبول کر لیتے، اب صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں یہ جو لام آیا ہے یہ کس معنی میں ہے؟ کس کے معنی میں؟ اور یہ کس نے بتلایا آپ کو؟ سبقونا کے غائب کے صیغے نے بتلایا، کس نے بتایا؟ غائب کے صیغے نے، کیونکہ اگر یہ مخاطب ہوتے پھر کیا آنا چاہیے تھا؟ سبقتُمونا، کہ تم ہم سے، اگر تم مسلمان سامنے ہوتے تو کہتے بھئی تم ہم سے سبقت نہ کر جاتے، تو یہ انہوں نے کہا نہیں، معلوم ہوا یہ غائب ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
وَ بِمَعْنَى عَنْ، اور کبھی کبھار معنیٰ، لام بمعنی عن کے بھی آتا ہے، إِذَا اسْتُعْمِلَ مَعَ الْقَوْلِ، جبکہ اس کو استعمال کیا جائے کس کے ساتھ؟ قول کے ساتھ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ فرماتے ہیں، وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا، کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا، لِلَّذِينَ، ان لوگوں کے بارے میں، آمَنُوا، جو ایمان لائے تھے، لَوْ كَانَ خَيْرًا، اگر یہ ایمان بہتر ہوتا، مَا سَبَقُونَا إِلَيْهِ، تو وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے اس ایمان کی طرف۔
وَفِيهِ نَظَرٌ، اور اس دلیل کے اندر نظر ہے مولانا، اشکال ہے، یہ وفِيهِ نَظَرٌ کا کلام لایا جاتا ہے مولانا کس کے لیے؟ اشکال کو ذکر کرنے کے لیے، اس کلام میں اشکال ہے بھئی، کیا اشکال ہے؟ کہتے ہیں بھئی نہیں، یہ لام اپنے ہی معنی میں ہے، یہ لام کیا ہے؟ اور مخاطب پر ہی داخل ہے، اور مخاطب کون ہیں؟ مومنین ہی ہیں، تو کفار مومنین کی ایک جماعت کو کہہ رہے ہیں دوسری جماعت کے بارے میں، کفار کس سے بات کر رہے ہیں؟ مومنین سے ہی کر رہے ہیں، اور کس کے بارے میں کر رہے ہیں؟ دوسری جماعت کے بارے میں، تو مومنین جو سامنے کھڑے ہیں ان کو کہہ رہے ہیں بھئی، کفار کہہ رہے ہیں ان مومنین کو کہہ رہے ہیں کہ اے مومنین! اگر یہ ایمان بہتر ہوتا تو وہ لوگ، یعنی وہ جو غریب غرباء ہیں، وہ غریب غرباء مومنین ہیں، وہ ہم پر سبقت نہ کر جاتے، اب صحیح ہو گیا یا نہیں معنی مولانا؟ کہ مخاطب ایک جماعت اور سبقونا سے مراد دوسری جماعت ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہ دلیل اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟
وَ بِمَعْنَى الْوَاوِ، اور کبھی کس معنی میں آتا ہے؟ لام واؤ کے معنی میں بھی آتا ہے، فِي الْقَسَمِ، کس کے اندر؟ قسم کے لیے آتا ہے مولانا، لام قسم کے لیے بھی آتا ہے اور قسم کے لیے آتا ہے واؤ، تو یہ واؤ کے معنی میں ہوتے ہیں، لیکن عام قسم میں نہیں آئے گا لام بھئی، بلکہ لِلتَّعَجُّبِ، کس کے لیے آئے گا؟ تعجب کے لیے آئے گا، جس وہ قسم جو تعجب ہو، جس سے تعجب کے لیے کھائی جائے اس میں کیا آئے گا؟ لام آئے گا، كَقَوْلِ الْهَذَلِيِّ، جیسے ہذلی شاعر کہتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
شعر:
لِلَّهِ يَبْقَى عَلَى الأَيَّامِ ذُو حَيَدٍ بِمُشْمَخِرٍّ بِهِ الظَّيَّانُ وَالأَسُ
لِلَّهِ يَبْقَى، یہ لام قسم کے لیے ہے۔ قسم ہے اللہ کی، يَبْقَى، اَی لاَ يَبْقَى، یہاں لا محذوف ہے۔ بھئی لا کو ذکر کرتے تو شعر کا وزن برابر نہیں رہتا تھا تو لا کو حذف کر دیا، اور کوئی مسئلہ پھر بھی نہیں بنتا مولانا، اس لیے کہ معنی پھر بھی ظاہر ہے، لا کے بغیر معنی ہی خراب ہو جاتا ہے، معلوم ہوا جو بھی شعر کو پڑھے گا اسے خود بخود پتہ چل جائے گا کہ یہاں پر کیا ہے؟ لا محذوف ہے۔ قسم ہے خدا کی، لا یبقى، باقی نہیں رہتا، علی الأیام، زمانے پر، یعنی زمانے میں، زمانے میں کوئی باقی نہیں رہتا، زمانے میں باقی نہیں رہتا ذو حید۔ حید کہتے ہیں گرہ دار سینگ۔
بھئی آپ نے بارہ سنگھا دیکھا ہے؟ اور اس کے سینگ میں دیکھا ہے گرہیں گرہیں سی پڑی ہوتی ہیں بھئی، ایک سینگ ہے اس سے دوسرا نکل رہا ہے، تیسرا نکل رہا ہے اور بیچ میں کیا ہیں؟ گرہیں پڑی ہوئی ہیں، یا مولانا اسی طرح بعض ہرن ہوتے ہیں ان کے سینگ وہ گھومتے ہوئے اوپر کو جاتے ہیں بھئی، تو وہ گرہیں سی درمیان میں پڑی ہوتی ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ مراد ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں ذو حید، تو حید کس کو کہتے ہیں؟ گرہ دار سینگ، ذو حید گرہ دار سینگوں والا، گرہ دار، ذو مال کس کو کہتے ہیں؟ مال والا، تو یہ، تو گرہ دار سینگوں والا باقی نہیں رہتا زمانے میں، بمشمخر، مشمخر بر وزن مطمئن مولانا، مشمخر مطمئن، اور یہ اونچے پہاڑ کو کہتے ہیں۔ ظیان چمیلی کو کہتے ہیں بھئی، ظیان چمیلی کو کہتے ہیں، چمیلی یاسمین۔ آس، آس نیازبو کو کہتے ہیں، نیازبو جانتے ہو بھئی؟ خوشبودار پتے ہوتے ہیں جس کے، ریحان، نیازبو۔
تو شاعر کہتا ہے، شاعر کہتا ہے اس زمانے میں کوئی باقی نہیں رہتا، تعجب کے طور پر قسم اٹھاتا ہے اللہ کی، کہ کتنے تعجب کی بات قسم خدا کی، کوئی پہاڑ کی بلند چوٹی ہو اور وہاں پر مولانا کوئی تکلیف بھی نہیں ہوگی، کوئی مصیبت بھی نہیں ہے، سبزہ بھی خوب وافر مقدار میں ہے اور وہاں ہر طرف چمیلی کے پودے ہوں، ہر طرف نیازبو کے پودے ہوں، ہر طرف مولانا سبزہ ہے، خوشبوئیں بکھری ہوئی ہیں، اس اس سبزے کے پر کوئی ہرن بارہ سنگھے وغیرہ رہتے ہیں، کوئی تکلیف دینے والا نہیں، لیکن پھر بھی ایک وقت آتا ہے وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ دیکھو کوئی تکلیف بھی نہیں، پھر بھی کیا ہے وہ؟ ختم ہو جاتے ہیں، تو شاعر تعجب کا اظہار کر رہا ہے کہ قسم خدا کی، زمانے میں کوئی گرہ دار سینگوں والا پہاڑ کی بلند چوٹی پر بھی باقی نہیں رہتا، ایسی پہاڑ کی بلند چوٹی جہاں پر کیا ہو مولانا؟ چمیلی اور نیازبو کے پودے ہوں۔ یعنی ہر چیز کیا ہے؟ فنا ہو جانے والی ہے۔
تو یہ مولانا لا یہاں محذوف ہے، ذو حید یہ فاعل ہے کس کے اندر، کس کا فاعل بھئی؟ یبقى کا، کیا ہے؟ یبقى کا فاعل، بمشمخر، مشمخر معرفہ ہے، نکرہ ہے مولانا؟ نکرہ ہے، کیا ہے؟ اور بہِ الظَّيَّانُ وَالأَسُ، الظَّيَّانُ وَالأَسُ، ظیان معطوف علیہ ہے، والآس، آس اس پر کیا ہے؟ عطف معطوف ہے، معطوف معطوف علیہ مل کر مبتدائے مؤخر ہے۔ معطوف معطوف علیہ مل کر اور بہِ جار مجرور خبرِ مقدم ہے۔
بہِ جار مجرور کیا ہے اس کے لیے؟ خبرِ مقدم ہے، تو جملہ مبتدائے مؤخر اپنے خبرِ مقدم سے مل کر کیا ہوا جملہ؟ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ صفت ہے مشمخر کی، یہ صفت ہے کس کی؟ اور یہ بہِ کی ھا ضمیر مشمخر کو راجع ہے۔
تو اور مشمخر ہے نکرہ اور آپ نے پڑھا ہے مولانا، جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ معرفہ ہوتا ہے یا نکرہ ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے، تو لہٰذا یہ نکرہ کے لیے جملہ کیا بن گیا؟ صفت بن گیا۔ ترکیب سمجھ میں آئی؟ مشمخر کیا ہے؟ نکرہ ہے موصوف، اور بہِ کیا ہے؟ خبرِ مقدم، اور الظیان والآس کیا ہے؟ مبتدائے مؤخر، مبتدائے مؤخر اپنے خبرِ مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صفت ہوا کس کے لیے؟ مشمخر کے لیے، موصوف صفت مل کر مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہو جائیں گے؟ یبقى سے، کس سے متعلق؟ یبقى سے۔
ترکیب کچھ سمجھ میں آ گئی؟ تو ایسے ترکیب، ترجمہ یوں ہوگا موصوف صفت کے ساتھ، ایسے پہاڑ کی بلند چوٹی جس میں چمیلی اور نیازبو ہوں۔ قسم خدا کی باقی نہیں رہتے زمانے کے اندر گرہ دار سینگوں والے ایسے پہاڑ کی بلند چوٹی میں جس، یا ایسے بلند پہاڑ میں جس کے اندر چمیلی اور نیازبو ہوں۔
وَ رُبَّ، اور حروفِ جارہ میں سے ایک مولانا ربّ ہے، وَهِيَ لِلتَّقْلِيلِ، اور یہ کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے آتا ہے، كَمَا أَنَّ كَمِ الْخَبَرِيَّةَ لِلتَّكْثِيرِ، جیسے کمِ خبریہ کس لیے آتا تھا؟ کمِ خبریہ پڑھا یا نہیں پڑھا آپ نے؟ تکثیر کے لیے آتا تھا، كَمْ رِجَالٍ لَقِيتُ، بہت سے آدمیوں سے میں ملا، تو وہ تکثیر کا معنی دیتا تھا، اور ربّ کس کا معنی دیتا ہے؟ تقلیل کا، لیکن یاد رکھو مولانا یہ ربّ کا یہ وضع کے اعتبار سے، ربّ وضع تو تھا تقلیل کے لیے لیکن اب استعمال تکثیر میں ہوتا ہے، جہاں بھی ربّ آ جائے اس کا کیا معنی کریں گے آپ بھئی؟ تکثیر کا، بہت سے، بہت سے، ہاں کبھی کبھی ابھی یہ تقلیل کا معنی ادا کرے گا، لیکن تقلیل کے معنی کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہوگا، وضع کس کے لیے تھا؟ تقلیل کے لیے، استعمال کس میں ہونے لگا؟ تکثیر میں، اور اب اگر تقلیل میں استعمال ہوگا تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے۔
وَتَسْتَحِقُّ صَدْرَ الْكَلاَمِ، اور یہ مولانا کیا چاہتا ہے؟ صدارتِ کلام کا استحقاق رکھتا ہے یعنی، مستحق ہوتا ہے، صدارتِ کلام چاہتا ہے، اس لیے کہ مولانا یہ انشاءِ تقلیل کے لیے آتا ہے، یا انشاءِ تکثیر کے لیے اب استعمال میں، تو جب یہ انشاءِ تقلیل کے لیے یا انشاءِ تکثیر کے لیے آتا ہے تو یہ صدارتِ کلام چاہتا ہے، تاکہ کلام کی ابتداء سے پتہ چل جائے تقلیل یا تکثیر کا۔
وَلاَ تَدْخُلُ إِلاَّ عَلَى نَكِرَةٍ مَوْصُوفَةٍ، اور یہ داخل نہیں ہوتا مگر کس پر؟ ایسے نکرہ پر، موصوفۃٍ، جو کیا ہو؟ تو ربّ ہمیشہ، ربّ جر دے گا اور نکرہ پر داخل ہوگا اور وہ نکرہ بھی ہمیشہ کیا ہوگا؟ یعنی اس کے آگے کیا آئے گی؟ آگے اس کی صفت آ جائے گی، جیسے رُبَّ رَجُلٍ كَرِيمٍ، تو رجلٍ پر ربّ داخل ہوا تو رجلٍ نکرہ ہے اور اس کے آگے کیا آ رہی ہے؟ صفت، رُبَّ رَجُلٍ كَرِيمٍ لَقِيتُهُ، بہت سے سخی آدمیوں سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ أَوْ مُضْمَرٍ مُبْهَمٍ مُفْرَدٍ مُذَكَّرٍ أَبَدًا، اور یا کبھی مولانا ربّ داخل ہوتا ہے ضمیر پر، ضمیر اور وہ ضمیر کیسی ہوتی ہے؟ مبہم ہوتی ہے، مفرد، اور ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ مفرد ہوتی ہے، اور ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ مذکر ہوتی ہے، ابداً ہمیشہ، تو کبھی یہ مبہم، مفرد، مذکر ضمیر پر داخل ہوتا ہے جو ہمیشہ، مبہم کسی ضمیر پر داخل ہوتا مبہم ضمیر پر داخل ہوتا ہے جو ہمیشہ مفرد مذکر رہتی ہے، ہوگی، مُمَيَّزٍ، تو چونکہ یہ مبہم ہے یہ آگے تمیز چاہتی ہے، مُمَيَّزٍ بِنَكِرَةٍ مَنْصُوبَةٍ، جس کی تمیز کس کے ساتھ لائی جائے گی؟ نکرہ منصوبُہ کے ساتھ، نَحْوُ رُبَّهُ، تو دیکھو ربّ کس پر داخل ہوا؟ ضمیر، اور یہ ضمیر کون سی ہے؟ مبہم، اور ہمیشہ کیا رہے گی؟ مفرد رہے گی، ربہما، ربہم نہیں کہیں گے، اور ہمیشہ کیا رہے گی؟ مذکر رہے گی، ربہا نہیں کہیں گے، اور اس کی پھر چونکہ مبہم ہے تو آگے کیا چاہے گی؟ تمیز، اور وہ نکرہ منصوبُہ آئے گی، رَجُلاً، یہ کیا ہے؟ نکرہ منصوبُہ ہے، رُبَّهُ رَجُلاً، تو دیکھو رجلًا تمیز ہے، اب چاہے دو ہوں تو رُبَّهُ رَجُلَيْنِ، چاہے جمع ہو رُبَّهُ رِجَالاً، تو یہ نہیں ہم دیکھیں گے کہ تمیز مفرد ہے، تمیز تثنیہ ہے، تمیز جمع ہے، ربّ کے ساتھ ضمیر نے ہمیشہ مفرد ہی رہنا ہے، اس نے تثنیہ جمع کے لیے بدلنا نہیں۔
مؤنث کے لیے بھی نہیں بدلے گا، رُبَّهُ امْرَأَةً، دیکھا؟ تو امراۃً اگرچہ تمیز آئی لیکن اس ربہا ضمیر بدلی نہیں، كَذٰلِكَ، اسی طرح، وَعِنْدَ الْكُوفِيِّينَ، یہ تو بصرہ والے کہتے تھے اس میں ضمیر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کوفہ والے کہتے ہیں نہیں بدلے گی، مذکر کے لیے مذکر، مؤنث کے لیے مؤنث، مفرد کے لیے مفرد، تثنیہ کے لیے تثنیہ، جمع کے لیے جمع، تو کیا کہیں گے؟ رُبَّهُ رَجُلاً، رُبَّهُمَا رَجُلَيْنِ، رُبَّهُمْ رِجَالاً، اور رُبَّهَا امْرَأَةً۔
وَعِنْدَ الْكُوفِيِّينَ يَجِبُ الْمُطَابَقَةُ، اور کوفہ والوں کے نزدیک مطابقت واجب ہے، نَحْوُ رُبَّهُمَا رَجُلَيْنِ، وَ رُبَّهُمْ رِجَالاً، وَ رُبَّهَا امْرَأَةً، وَقَدْ تَلْحَقُهَا مَا الْكَافَّةُ، اور کبھی کبھار اس کے ساتھ ما کافہ مل جاتا ہے، ما کافہ، کفّ یکفُّ کا معنی ہوتا ہے روکنا، یہ ما بھی چونکہ ربّ وغیرہ کو عمل سے روک دیتا ہے اس لیے یہ کیا کہلاتا ہے؟ ما کافہ کہلاتا ہے۔
تو چونکہ مولانا ربّ کے ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ یا یہ نکرہ موصوفہ پر داخل ہوگا، یا یہ ضمیر پر داخل ہوگا، لیکن کبھی کبھی ما کافہ پر داخل ہو جاتا ہے، وہ اس کو عمل سے روک دیتا ہے، جب عمل سے روک دیا اب مولانا یہ جملوں پر بھی داخل ہوگا، اور جملہ فعلیہ پر بھی داخل ہوگا اور جملہ اسمیہ پر، اب مولانا مفرد پر داخل ہونا ضروری نہیں۔
وَقَدْ تَلْحَقُهَا مَا الْكَافَّةُ، اور کبھی کبھار اس پر ما، اس کے ساتھ ما کافہ بھی مل جاتا ہے، فَتَدْخُلُ عَلَى الْجُمْلَتَيْنِ، تو یہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ دو جملوں پر داخل، دونوں جملوں پر یعنی فعلیہ پر بھی اور اسمیہ پر بھی، جیسے رُبَمَا قَامَ زَيْدٌ، تو دیکھو ربّ کے بعد ما کافہ آیا تو اب یہ قامَ پر داخل ہو گیا۔
5
داخل ہو گیا، ورنہ تو یہ فعل پر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
وَ رُبَّمَا زَيْدٌ قَائِمٌ۔
وَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ فِعْلٍ مَاضٍ اور اس ربہ کے لیے فعل ماضی کا ہونا ضروری ہے، کیوں بھئی فعل ماضی کا ہونا کیوں ضروری ہے ربہ کے لیے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ رُبَّ لِلتَّقْلِيلِ الْمُحَقَّقِ اس لیے کہ ربہ ایسی تقلیل کے لیے آتا ہے جو واقع ہو۔ جو کیا ہو؟ واقع ہو۔
وَهُوَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِهِ اور وہ حاصل نہیں ہوتی مگر ماضی ہی کے ساتھ۔
کس کے ساتھ؟
بھئی ربہ کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے، اور وہ تقلیل یقینی ہونی چاہیے یا صرف امید ہی اس کی کافی ہے؟ یقینی ہونی چاہیے اور یقینی بات ماضی میں ہوتی ہے یا مستقبل میں ہوتی ہے؟ ماضی کی بات یقینی ہوتی ہے، مستقبل میں تو خیر وہ یقینی نہیں ہوتی کہ پتہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں۔
وَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ فِعْلٍ مَاضٍ اور ضروری ہے اس کے لیے فعل ماضی کا ہونا لِأَنَّ رُبَّ لِلتَّقْلِيلِ الْمُحَقَّقِ اس لیے کہ ربہ ایسی تقلیل کے لیے آتا ہے جو واقع ہو، یقینی ہو۔ وَهُوَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِهِ اور وہ حاصل نہیں ہوتی، يتحقق کا کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ حاصل کر رہے ہیں، اور وہ حاصل نہیں ہوتی یعنی وہ تقلیل یقینی، تقلیل محقق کا کیا معنیٰ کیا مولانا؟ تقلیل یقینی، وہ تقلیل یقینی حاصل نہیں ہوتی إِلَّا بِهِ، یہ ھا ضمیر فعل ماضی کو راجع ہے، مگر کس کے ساتھ؟ فعل ماضی کے ساتھ۔
وَيُحْذَفُ ذٰلِكَ الْفِعْلُ غَالِبًا اور اکثر اس فعل کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف کر دیا جاتا ہے۔ كَقَوْلِكَ جیسے آپ کہتے ہیں: رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي فِي جَوَابِ مَنْ قَالَ هَلْ لَقِيتَ مَنْ أَكْرَمَكَ۔
جیسے آپ کہتے ہیں: رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَ، بھئی ربہ کس پر داخل ہوا؟
جی؟
اور نکرہ پر داخل ہو تو ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ اس کی صفت آنی چاہیے، یہاں تو نکرہ کی کوئی صفت نہیں نظر آرہی مجھے۔
جی؟
کیا کر دی گئی ہے؟
جی۔
بھئی جی؟
بھئی دیکھو فعل کی بات چھوڑو ابھی تو، وہ بات تو فعل کی چل رہی ہے وہ ابھی میں آگے بتاتا ہوں۔ مجھے پہلے تو یہ آپ نے پڑھی بات کہ ربہ کی تمیز کہ ربہ کس پر داخل ہوگا؟ نکرہ پر اور وہ نکرہ پھر ہمیشہ کیا ہوگا؟ موصوف ہوگا۔ تو بھئی دیکھ نہیں رہے رجلٍ معرفہ ہے یا نکرہ ہے؟ نکرہ ہے اور آگے أكرمني آرہا ہے اور أكرمني کیا ہے؟ جملہ ہے اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ اور نکرہ کس کے لیے صفت بنتا ہے؟ کس کے لیے؟ نکرہ کے لیے، جملہ نکرہ کے لیے صفت بن جاتا ہے۔ تو رجلٍ موصوف، أكرمني جملہ اس کی صفت، تو ضابطہ بچا ہوا ہے یا ٹوٹ گیا مولانا؟
تو رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي، ربہ مولانا جارّ، رجلٍ مجرور لفظاً موصوف، أكرَمَ فعل، ھو ضمیر اس کے اندر فاعل جو کس کو راجع؟ رجل موصوف کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جملہ فعلیہ ہو کر رجل کے لیے کیا بن جائے گی؟ صفت۔
فِي جَوَابِ مَنْ قَالَ تو جیسے آپ کہتے ہیں: رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي فِي جَوَابِ مَنْ، اس شخص کے جواب میں قَالَ جس نے کہا تھا: هَلْ لَقِيتَ مَنْ أَكْرَمَكَ کیا تیری ملاقات ہوئی ہے کسی ایسے آدمی سے جس نے تیرا اکرام کیا ہو؟ هَلْ لَقِيتَ مَنْ أَكْرَمَكَ کیا تیری ملاقات ہوئی ہے جس نے تیرا کیا کیا ہو؟ اکرام کیا ہو، آپ نے جواب میں کیا کہا؟ رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے میرا اکرام کیا، آگے لقيتہ کو حذف کر دیتے ہیں۔ کیا کر دیتے ہیں؟ تو اصل کلام یوں ہے: رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي لَقِيتُهُ، بہت سے ایسے آدمی ہیں جنہوں نے میرا اکرام کیا ہے، ان سے میری ملاقات ہوئی ہے ہوئی ہے۔
سمجھ میں آیا؟
تو اس لقيتہ کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ قرینہ موجود ہے، سوال اس نے پوچھا ہے، سوال میں کیا ہے؟ لقاء کا ذکر آچکا ہے، اس نے کہا تھا: هَلْ لَقِيتَ مَنْ أَكْرَمَكَ کیا کسی ایسے شخص سے تیری ملاقات ہوئی ہے جس نے تیرا اکرام کیا؟ أَيْ رُبَّ رَجُلٍ أَكْرَمَنِي لَقِيتُهُ، بہت سے ایسے آدمی جنہوں نے میرا اکرام کیا ان سے میری ملاقات ہوئی ہے، فَأَكْرَمَنِي صِفَةُ الرَّجُلِ تو أكرمني صفت ہے رجل کی، وَلَقِيتُهُ فِعْلُهَا اور لقيتہ ربہ کا فعل ہے مولانا، تو اس کو ہم نے کیا کر لیا تھا؟ حذف کر دیا تھا، وَهُوَ مَحْذُوفٌ اور وہ حذف ہے۔
وَوَاوُ رُبَّ اور ایک مولانا حروفِ جارہ میں سے واوِ ربہ ہے، وَهِيَ الْوَاوُ الَّتِي تُبْتَدَأُ بِهَا فِي أَوَّلِ الْكَلَامِ اور یہ وہ واو ہے جس کے ساتھ جس کے ساتھ ابتدا کی جاتی ہے اولِ کلام کے اندر بھئی، جس کے ساتھ ابتدا کی جاتی ہے کہاں پر؟ اولِ کلام میں مولانا۔
تو یہ واو بمعنیٰ ربہ کے، دو مذاہب ہیں مولانا اس میں۔ بعض علماء کہتے ہیں یہ واو ربہ کے معنیٰ میں ہے خود، تو یہ واو بھی جر دیتا ہے۔ کیا دیتا ہے؟ جر دیتا ہے۔ آگے مثال آرہی ہے: كَقَوْلِ الشَّاعِرِ جیسے شاعر کہتا ہے: وَبَلْدَةٍ کہ واو نے جر، بلدہ کو جر کس نے دیا؟ واو کس معنیٰ میں ہے؟ ربہ کے معنیٰ میں، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ واو خود ربہ کے معنیٰ میں ہے، بعض کہتے ہیں نہیں، یہ واو ربہ کے معنیٰ میں نہیں، اس واو کے بعد ربہ محذوف ہے۔ اس واو کے بعد کون ہے؟ تو جر وہ ربہ دے رہا ہے یہ واو نہیں دے رہا، اور پہلے مذہب والے کیا کہتے تھے؟ یہ واو خود ہی کیا کر رہا ہے؟ جر دے رہا ہے، یہ ربہ کے معنیٰ۔
كَقَوْلِ الشَّاعِرِ جیسے شاعر کہتا ہے: وَبَلْدَةٍ أَيْ رُبَّ بَلْدَةٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ، انیس کا معنیٰ انس کرنے والا، مانوس شخص، مانوس۔ إِلَّا الْيَعَافِيرُ إِلَّا الْيَعَافِيرُ بھئی، يعافير جمع ہے يعفور کی مولانا، يعفور کی، اور وہ ہرن کے بچے کو کہتے ہیں۔ ہرن کا بچہ یا ہرن کو بھی کہتے ہیں، ہرن کا بچہ۔ عِيسٌ مولانا، بر وزنِ بِيضٌ، ابیض کی مؤنث کیا آتی ہے مولانا؟ بیضاء، اور بیضاء کی جمع کیا آتی ہے؟ بِيضٌ آتی ہے احمر کی مؤنث کیا آتی ہے؟ حمراء، اور حمراء کی جمع حُمرٌآتی ہے، کیا آتی ہے؟ حُمرٌ۔ احمر کی مؤنث حمراء اور حمراء کی جمع حُمرٌ، اسی طرح ابیض کی جمع، ابیض کی مؤنث بیضاء اور بیضاء کی جمع بِيضٌ، وہ تھا حُمرٌ، فُعلٌ، یہ ہے فِعلٌ، بھئی یہ بھی دراصل فُعلٌ تھا، یا کی وجہ سے ہم نے کیا دے دیا؟ کسرہ دے دیا، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ بھی فُعلٌ ہے۔ یہ تو یہاں بھی مولانا عِيسٌ جو ہے، اعیس کی مؤنث آتی ہے عیساء، جیسے ابیض کی مؤنث بیضاء، اعیس کی مؤنث ہے عیساء اور عیساء کی جمع عِيسٌ، اور اعیس کہتے ہیں مولانا عمدہ و اعلیٰ اونٹ کو۔ عمدہ و اعلیٰ اونٹ۔
شاعر کہتا ہے: بہت سے ایسے شہروں پر ہمارا گزر ہوا جن میں کوئی مانوس چیز ہمیں نہ ملی، انس کرنے والی کوئی چیز نہ ملی سوائے ہرن کے بچوں کے اور عمدہ اونٹنیوں کے، عمدہ اور اعلیٰ اونٹنیوں اور ہرن کے بچوں کے علاوہ ان شہروں میں ہمیں اور کوئی انس کرنے والا نہیں ملا، وہ شہر اور بستیاں اجاڑ ہو گئی تھیں، ویران ہو گئی تھیں، تمام انسان وہاں سے کوچ کر گئے تھے، اب ٹوٹے پھوٹے کھنڈرات باقی ہیں اور جنگل کے اندر ان کھنڈرات کے اندر اب جنہوں نے بسیرا بسایا ہوا ہے، ہرنوں نے، اونٹنیوں وغیرہ نے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو شاعر کہتا ہے: بہت سے میں ایسے بستیوں پر گزرا کہ جن میں ہمیں کوئی مانوس چیز نہ ملی، کوئی انس کرنے والا انسان دکھائی نہ دیا سوائے ہرن کے بچوں کے اور عمدہ اونٹنیوں۔
وَبَلْدَةٍ أَيْ رُبَّ بَلْدَةٍ بہت سے شہر تھے، لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ کہ نہیں تھا ان میں کوئی انس کرنے والا، إِلَّا الْيَعَافِيرُ مگر کون بھئی؟ ہرن کے بچے، وَإِلَّا الْعِيسُ اور جی؟ عمدہ اونٹنیاں، تو مقامِ استشہاد ہے: وَبَلْدَةٍ بھئی واو ربہ کے معنیٰ میں آیا۔
وَوَاوُ الْقَسَمِ حروفِ جارہ میں سے واوِ قسم ہے، وَهِيَ تُخْتَصُّ بِالظَّاهِرِ یہ خاص ہے کس کے ساتھ مولانا؟
بھئی قسم کے لیے اصل اصل الحروف قسم کے لیے جو اصل ہے وہ ہے با، بِاللهِ، قسم کے لیے اصل لفظ کیا ہے؟ با۔ کبھی با کی جگہ استعمال ہوتا ہے واو، اور کبھی پھر واو کی جگہ استعمال ہوتی ہے تا۔ اصل کیا ہے قسم کے لیے؟ کبھی با کی جگہ کیا استعمال ہوتا ہے؟ واو، اور کبھی واو کی جگہ بھی تا، تو دیکھنا جو اصل ہے اس میں سب سے زیادہ وسعت ہوگی، واو کے اندر وسعت کم ہو جائے گی، تا کے اندر وسعت مزید کم ہو جائے گی۔ تا کے اندر وسعت مزید کم ہو جائے گی۔
یاد رکھو، یہ جو با ہے، یہ اس میں ظاہر پر بھی داخل ہو سکتی ہے، اس میں ضمیر پر بھی داخل ہو سکتی ہے، بِاللهِ قسم کھا رہا ہوں مولانا، اور لفظِ اللہ ظاہر ہے یا ضمیر ہے؟ یہ اس میں، تو یہ اس میں ظاہر پر داخل ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ ضمیر پر بھی داخل ہو سکتا ہے: بِكَ، یہ کس پر داخل ہوا؟ ضمیر پر، تو یہ با قسم کے لیے آتا ہے اور اس صورت میں یہ اس میں ظاہر پر بھی داخل ہوتا ہے اور اس میں ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے۔
نیز مولانا، یہ با استفہام کے لیے بھی آسکتی ہے، استفہام پر بھی داخل ہوگی: بِاللهِ أَخْبِرْنِي، بِاللهِ أَخْبِرْنِي یہ با قسمیہ ہے اور آگے کیا ہے مولانا؟ طلبِ اخبار ہے، طلبِ اخبار ہے، تو دیکھا اس کے لیے با آگئی بھئی، یا استفہام بنا لو مولانا، تو جو یہ بھی استفہام، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو با کس کیا ہے؟ اس میں ظاہر کے لیے بھی آئے گی اور اس میں، اور اور مولانا استفہام کے لیے بھی یہ با قسمیہ، نیز اس کے ساتھ اقسم فعل کو لفظوں میں لانا بھی جائز ہے، حذف کرنا بھی جائز ہے، أُقْسِمُ بِاللهِ آپ کہہ سکتے ہیں، اور صرف بِاللهِ اقسم کو حذف کر دیں یہ بھی جائز ہے۔ تو فعلِ قسم کو اس کے ساتھ لفظوں میں ذکر کرنا بھی جائز اور اس کو حذف کرنا بھی کیونکہ یہ اصل ہے۔
ہاں، واو کے اندر کبھی کبھی با کی جگہ کیا لے آتے ہیں مولانا؟ واو لے آتے ہیں، واو کے اندر وسعت گنجائش کم ہو جائے گی۔ با کے بارے میں کیا تھا؟ اس میں ظاہر پر بھی داخل ہوگا با اور اس میں، جبکہ واو صرف اس میں ظاہر پہ داخل ہوگا، اس میں ضمیر پر داخل نہیں ہوگا، وَكَ نہیں کہہ سکتے، وَاللهِ کہہ سکتے ہیں آپ۔ جی، نیز با میں کیا تھا؟ استفہام کے لیے بھی آتی ہے، غیرِ استفہام کے لیے بھی آتی ہے لیکن واو صرف غیرِ استفہام کے لیے آئے گا، استفہام کے لیے کبھی نہیں آئے گا۔ تیسری کہ با کے ساتھ اقسم فعل کو ذکر بھی کرنا بھی جائز تھا اور حذف کرنا بھی جائز تھا، جبکہ واو کے اندر صرف حذف ہی جائز ہے، اس کو ذکر کرنا أُقْسِمُ وَاللهِ کہنا جائز، وَاللهِ أَخْبِرْنِي کہنا جائز نہیں۔ پوری سمجھ میں آگئی؟
پھر کبھی واو کی جگہ تا آتی ہے، تا میں اور بھی گنجائش کم ہو گئی، واو تو اس میں ظاہر کے ساتھ آتا تھا، ہر اس میں ظاہر، وَاللهِ، وَالرَّحْمٰنِ، وَالرَّحِيمِ سمجھ میں آیا؟ ہر اس میں ظاہر کے ساتھ آرہا ہے واو، لیکن تا صرف لفظِ اللہ کے لیے آئے گی اور کسی اس میں ظاہر کے ساتھ بھی نہیں آئے گی۔ تو اس میں ظاہر میں بھی اور گنجائش کم ہو گئی، تا صرف تَاللّٰهِ آپ کہہ سکتے ہیں، تَالرَّحْمٰنِ کہنا صحیح نہیں۔ سمجھ میں آگئی بات سب کو؟ دیکھیے۔
وَوَاوُ الْقَسَمِ اور ایک واوِ قسم ہے حروفِ جارہ میں سے، وَهِيَ تُخْتَصُّ بِالظَّاهِرِ اور یہ خاص ہے اس میں ظاہر کے ساتھ، نَحْوُ وَاللهِ وَالرَّحْمٰنِ، وَاللهِ اور وَالرَّحْمٰنِ لَأَضْرِبَنَّ، تو دیکھا وَاللهِ لفظِ اللہ پر بھی اس میں ظاہر پر داخل ہوا رحمٰن پر بھی، فَلَا يُقَالُ وَكَ یوں نہیں کہا جائے گا وَكَ، واو اس میں ظاہر پر داخل ہوتا ہے ضمیر پر نہیں، وَتَاءُ الْقَسَمِ اور ایک تاے قسم ہے، وَهِيَ تُخْتَصُّ بِاللهِ وَحْدَهُ اور یہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ جی؟ بھئی تا صرف لفظِ اللہ پر خاص داخل ہوگی اور کسی پر داخل نہیں، واو تو تال، جو بھی اس میں ظاہر ہو اس پہ واو آسکتا تھا لیکن اس میں ظاہر میں سے تا صرف کس پر آئے گی؟ لفظِ اللہ، وَهِيَ تُخْتَصُّ بِاللهِ وَحْدَهُ، تُخْتَصُّ بھی پڑھ سکتے ہیں تَخْتَصُّ بھی، وَحْدَهُ لفظِ اللہ کے ساتھ، فَلَا يُقَالُ تَالرَّحْمٰنِ لہٰذا یہ یوں نہیں کہا جائے گا تَالرَّحْمٰنِ، تالرحمٰن کہنا جائز نہیں، بلکہ صرف کیا کہنا جائز؟ تَاللّٰهِ، وَقَوْلُهُمْ تَرَبِّ الْكَعْبَةِ شَاذٌّ، بھئی بعض عربوں کے قول میں آپ نے تو کہا یہ لفظِ اللہ کے علاوہ اور کہیں داخل نہیں ہوتی ہم نے بعض اشعار میں پڑھا وہاں کیا آیا: تَرَبِّ الْكَعْبَةِ، تا کس پہ داخل ہوئے؟ رب پر داخل ہوئی، تو جواب یہ دیا مصنف نے بتلایا: شَاذٌّ، یہ کیا ہے مولانا؟ شاذ ہے یعنی آیا ہے لیکن نادر ہے، کیا ہے؟ نادر ہے، وَالنَّادِرُ كَالْمَعْدُومِ، تو ایک جگہ آجائے یا دو جگہ آجائے اس سے ہم ضابطے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
وَبَاءُ الْقَسَمِ اور باے قسم ہے، وَهِيَ تَدْخُلُ عَلَى الظَّاهِرِ وَالْمُضْمَرِ اور یہ داخل ہوتی ہے کس پر مولانا؟ ظاہر پر بھی داخل ہوتی ہے وَالْمُضْمَرِ اور ضمیر پر بھی داخل ہوتی ہے، نَحْوُ بِاللهِ وَبِالرَّحْمٰنِ وَبِكَ، ضمیر پر بھی داخل ہوئی۔ اور میں نے دو زائد چیزیں بھی آپ کو بتلائیں اس کے ساتھ بھئی، کون سی دو زائد چیزیں؟ کہ یہ استفہام کے لیے بھی آسکتی ہے اور اس کے ساتھ فعل کو ذکر کرنا بھی جائز، وَلَا بُدَّ لِلْقَسَمِ مِنَ الْجَوَابِ اور قسم کے لیے جواب کا ہونا بھی ضروری ہے، وَهِيَ جُمْلَةٌ، بھئی یاد رکھو وَاللهِ یہ تو قسم ہوئی، اس کے لیے کیا چاہیے؟ جوابِ قسم، کس بات پہ قسم آپ اٹھا رہے ہیں؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم کہتے ہیں، وَلَا بُدَّ لِلْقَسَمِ مِنَ الْجَوَابِ اور ضروری ہے قسم کے لیے جواب کا ہونا، وَهِيَ جُمْلَةٌ اور یہ ایک جملہ ہوتا ہے، تُسَمَّى الْمُقْسَمَ عَلَيْهَا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقسم علیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مقسم علیہ کہتے ہیں، فَإِنْ كَانَتْ مُوجَبَةً اگر یہ کیا ہو؟ موجب ہو، کیا معنیٰ؟ مثبت ہو، جی، اگر یہ کیا ہو؟ مثبت کلام ہو، يَجِبُ دُخُولُ اللَّامِ فِي الْإِسْمِيَّةِ وَالْفِعْلِيَّةِ تو واجب ہے کس کو داخل کرنا؟ لام کو داخل کرنا فِي الْإِسْمِيَّةِ وَالْفِعْلِيَّةِ کس کے اندر؟ جملہ اسمیہ ہو جائے، جملہ فعلیہ ہو، لام کا داخل کرنا جوابِ قسم پر واجب ہے، دیکھیے مولانا: وَاللهِ لَزَيْدٌ قَائِمٌ، یہ لام کا لانا واجب کیونکہ جملہ مثبت ہے یا منفی ہے؟ مثبت، تو لَزَيْدٌ قَائِمٌ جملہ اسمیہ اس پر لام کا داخل کرنا واجب کیونکہ مثبت ہے، وَوَاللهِ لَأَفْعَلَنَّ كَذَا، واللہ میں ایسا ضرور کروں گا، تو یہ دیکھو جملہ فعلیہ ہے تو اس پر بھی اور مثبت ہے لہٰذا اس پر بھی لام کا داخل کرنا واجب ہے، وَإِنَّ فِي الْإِسْمِيَّةِ اسی طرح انّ کا لانا بھی جائز ہے کس کے اندر؟ جملہ اسمیہ میں انّ بھی لا سکتے ہو لام کے ساتھ ساتھ، جیسے: وَاللهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، تو انّ بھی لے آئے جملہ اسمیہ میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور لامِ تاکید بھی آگے خبر پر آرہا ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ مَنْفِيَّةً اور اگر جملہ کون سا ہو مولانا؟ منفی ہو، وَجَبَ دُخُولُ مَا وَلَا تو پھر مولانا جوابِ قسم پر ما یا لا کا داخل کرنا واجب ہے، جیسے: وَاللهِ مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ، واللہ زید کھڑا نہیں، تو یہ ما لے کر آئے مولانا، وَوَاللهِ لَا يَقُومُ زَيْدٌ، لا لے کر آئے بھئی، وَاعْلَمْ جان لے أَنَّهُ قَدْ يُحْذَفُ حَرْفُ النَّفْيِ کبھی کبھی حرفِ نفی کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے لِزَوَالِ اللَّبْسِ کیونکہ التباس کے دور ہو جانے کی وجہ سے، زائل ہونے، بھئی بعض جگہ التباس نہیں رہتا جب التباس نہیں
6
کا خطرہ ہی نہیں ہے تو حرف نفی کو حذف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کقوله تعالى جیسے مولانا ابھی پیچھے شعر میں نہیں گذرا تھا۔
کیا گذرا تھا؟
للہ یبقی اور میں نے کیا بتلایا تھا للہ لا یبقی کیونکہ لا کے بغیر بات صحیح بنتی تھی۔
بات صحیح نہیں بنتی تھی۔
آپ وہاں لا کے بغیر ترجمہ کر کے دیکھیں بات نہیں بنتی۔
تو کبھی حرف نفی کو حذف ہی کر دیا جاتا ہے لللفظ جب کہ التباس کا خطرہ نہ ہو کقوله تعالى جیسے اللہ فرماتے ہیں اللہ تفتا تذکر یوسف۔
اللہ ای تفتا ای لا تفتا۔
بھئی آپ نے افعال ناقصہ پڑھے یا نہیں پڑھے۔
ان میں ایک ما فتیحا پڑھا یا نہیں پڑھا مولانا یہ وہ ما فتیحا ہے بھئی۔
مضارع ہوا تو ما کو بدل دیا لا سے اور تفتا کون سا صیغہ ہے؟
مخاطب کا صیغہ۔
اللہ قسم ہے خدا کی لا تفتا تذکر یوسف۔
تو ہمیشہ یاد کرتا ہے یوسف علیہ السلام کو۔
تو ہمیشہ یاد کرتا ہے یوسف علیہ تو لا تفتا تھا لا تفتا کیا معنی بھئی؟
ما فتیحا ما بریحا کا کیا معنی تھا ہمیشہ۔
تو لا تفتا تو لا کو حذف کر دیا مولانا کیونکہ التباس کا خطرہ نہیں۔
تو افعال جی۔
جی ترکیب کیسے کریں گے تا قسمیہ جار را لفظ اللہ مجرور۔
لفظ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے اختم فعل سے اختم فعل انا ضمیر اس کے اندر فاعل فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر قسم تفتا تذکر یوسف تفتا ہاں لا تفتا لا محذوف لا تفتا فعل از افعال ناقصہ انتا ضمیر اس کے اندر اس کا اس کا اسم تذکر فعل انتا ضمیر اس کے اندر فاعل یوسف مفعول فعل اپنے فاعل اور یوسف اچھا بھئی اس میں تنوین کیوں نہیں آئی بھئی؟
جی علم ہے تو کیا ہوا معرفہ ہے تو کیا ہوا غیر منصرف ہے یوں کہو یہ کیا ہے غیر منصرف ہے کیا کیا اسباب ہیں غیر انصراب کے اس میں علم ایک علمیت ہے شاباش دوسرا عجمہ ہے شاباش یہ عجمی زبان ہے سمجھ میں آیا آپ کہیں گے بھئی یہ تو قران میں ذکر آ رہا ہے یہ تو عربی ہے بھئی حضرت یوسف علیہ السلام عربی زبان ابھی بنی بھی نہیں تھی اس سے بھی پہلے کے گزرے ہیں سمجھ میں آیا اس سے پہلے گزرے ہیں تو یہ اس وقت عربی تھی نہیں تو عربی کہاں سے ہوا یہ نام تو یہ عجمہ ہے اور اس میں علمیت ہے تو تذکر فعل انتا ضمیر فاعل فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر
خبر ہوئی کس کے لیے لا تفتا کے لیے لا تفتا اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جواب قسم
ويحذف جواب القسم إن تقدم ما يدل عليه۔
یاد رکھو مولانا کبھی جواب دیکھو میں کہنا چاہتا ہوں واللہ لا زید قائم واللہ زید کیا ہے کھڑا ہے تو لا زید قائم کو کیا بنائیں گے آپ ترکیب میں جواب قسم بھئی جواب قسم بھئی تو جواب قسم
کبھی کبھی یہ جواب قسم مقدم بھی ہو جاتا ہے بھئی کس طرح میں کہتا ہوں زید قائم واللہ کہتے ہیں یا نہیں کہتے لیکن یاد رکھو جب یہ قسم پر مقدم ہو جائے تو پھر یہ جواب قسم نہیں کہلائے گا اس لیے کہ جواب قسم کبھی قسم پر مقدم نہیں ہو سکتا جیسے مولانا
جزا شرط پر کبھی مقدم نہیں ہو سکتی تو کبھی جزا مقدم نظر آتی ہے لفظوں میں تو اس کو دال بالجزاء کہتے ہیں کیا کہتے ہیں دال بالجزاء یعنی جزا پر وہ دلالت کر رہا ہے جزاء نہیں تو یہاں بھی اگر مولانا میں کہتا ہوں زید قائم قائم واللہ تو یہ کیا ہے دال بالجواب دال بال جواب مولانا دال بالجواب قسم
تو سمجھ میں آیا بھئی تو چونکہ اور پھر اس صورت میں جواب قسم کو حذف کرنا واجب کیونکہ یوں کیا کہا میں نے زید قائم واللہ پھر دوبارہ کہوں لا زید قائم یہ تو تکرار ہوگا مولانا جب ایک چیز اس پر پہلے دلالت کر رہی ہے تو اس کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں ہے لہذا جب وہ پہلے ذکر ہو جائے تو پھر وہ دال بالجواب قسم کہلائے گا اور اب جواب قسم کو کیا کر دیں گے ہم حذف کر دیں گے
ويحذف جواب القسم اور حذف کیا جائے گا جواب قسم کو إن تقدم اگر گزر جائے پہلے مقدم ہو جائے ما وہ چیز يدل عليه جو اس پر کیا کر رہی ہے دلالت کر رہی ہے نحو زید قائم واللہ زید تو دیکھو مولانا یہ زید قائم دال بالجواب قسم ہے
دال بالجواب تو جواب قسم پر دلالت کر رہا ہے یہ جواب قسم نہیں کیونکہ اگر یہ جواب قسم ہوتا تو جواب قسم میں تو ہم نے کہا تھا جملہ مثبت ہو تو اس پر کیا داخل کرنا واجب ہے لام اور اس پر لام آیا نہیں تو اگر یہ جواب قسم ہوتا پھر تو لام کا لانا واجب تھا معلوم ہوا یہ جواب قسم نہیں بلکہ جواب قسم کیا ہے محذوف اور یہ اس پر کیا کر رہا ہے دلالت کر رہا ہے
تو اگر وہ مقدم ہو جائے پھر بھی قسم جو کہ جواب کو حذف کر دیں گے أو توسط القسم یا قسم کہاں پر آ جائے مولانا درمیان میں آ جائے پھر بھی مولانا حذف کریں گے نحو زید واللہ قائم تو دیکھو زید قائم کے درمیان میں واللہ آیا تو اب بھی یہ مولانا دال بالجزاء ہے مولانا جواب قسم کیا ہے دال بالجواب قسم ہے اور جواب قسم خود کیا ہے مولانا محذوف ہے بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی
وعن للمجاوزة اور عن کس لیے آتا ہے بھئی مجاوزت کے لیے یعنی ایک چیز دوسری سے دور ہو جائے ایک چیز دوسری سے دور ہو جائے دیکھیے مولانا رمیت جیسے کہہ رہے ہیں نحو رميت السهم عن القوس إلى الصيد میں نے سہم کہتے ہیں تیر کو میں نے تیر پھینکا عن القوس کہاں سے
جی تیر میں نے پھینکا
میں نے تیر پھینکا عن القوس کمان سے إلى الصيد کس کی طرف شکار کی طرف تو جب آپ نے پھینکا تو تیر کیا ہوا دور ہوا سمجھ میں آیا وعلى للاستعلاء اور علی کس لیے آتا ہے استعلاء ایک چیز دوسری چیز کے اوپر بلند ہے یہ بتلانے کے لیے زید على السطح کیا معنی زید چھت پر ہے تو بلند کون ہوا زید اور کس پر ہوا چھت پر تو یہ کس کا اس کا یہ معنی کس نے ادا کیا علی نے
وعلى للاستعلاء اور علی استعلاء کے لیے آتا ہے نحو زید على السطح زید چھت پر ہے وقد يكون عن وعلی اسمين إذا دخل عليهما من اور کبھی کبھار عن اور علا وقد يكون عن وعلي کبھی عن اور علا جو ہیں اسميني وہ کیا ہوتے ہیں دو اسم ہوتے ہیں اذا دخل عليهما من جب ان پر من داخل ہو جائے
جب ان پر کیا داخل ہو جائے من داخل ہو جائے كما تقول جیسے آپ کہتے ہیں جلست من عن يمينه میں اس کی دائیں جانب بیٹھ گیا
جلست من عن يمينه بھئی یہ من کس پر داخل ہو رہا ہے عن پر اور عن تو حرف جر ہے اور من داخل ہو رہا ہے عن پر اور حالانکہ حرف جر تو ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے اسم پر داخل ہوتا ہے معلوم ہوا یہ عن جو یہاں آیا یہ اس وقت حرف جر نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے اسم ہے اور یہ بمعنی جانب کے ہے
ای من جانب يمينه جلست من جانب تو کیسے آپ کو پتہ چلا یہ عن بمعنی جانب کے ہے اس پر کیا داخل ہو رہا ہے من اس نے بتلایا کہ یہ عن حرف جر نہیں ہے اس وقت یہ اسم ہے کس معنی میں جانب کے معنی میں جلست من عن يمينه نیچے لکھا بھی ہوا ہے ای جانبی میں اس کی دائیں جانب ونزلت من على الفرس تو دیکھو علا پر کیا داخل ہوا
من اور من تو کہ حرف جر اور حرف جر تو کس پر داخل ہوتا ہے اسم پر اور یہ تو یہاں کس پر داخل ہو رہا ہے علا پر معلوم ہوا یہ علا حرف جر یہاں پر نہیں بلکہ کیا ہے اسم ہے اور بمعنی فوق کے ہے
آئے نیچے لکھا ہوا ہے ای نزلت من فوق الفرس میں گھوڑے کے اوپر سے اترا میں گھوڑے پر سے اترا تو آپ کو کیسے پتہ چلا یہ علا اسم ہے مولانا بمعنی فوق کے اس پر من داخل تو سمجھ میں آیا تو یہ عجیب بات آج آپ نے پڑھی کہ کبھی کبھار عن کس معنی میں ہوتا ہے جانب کے معنی میں اسم ہوتا ہے اور کبھی علا کس معنی میں ہوتا ہے فوق کے معنی میں ہوتا ہے اور اسم ہوتا ہے
ہاں مضاف مضاف إليه
والكاف للتبي اور کاف کس لیے آئے گا مولانا تشبیہ کے لیے آئے گا نحو زید كعمري
زید کس کی طرح ہے زید عمر جیسا ہے تو یہ تشبیہ کا معنی کس نے ادا کیا کاف نے نحو زید كعمري و و زائد كعمري وزائدة اور کاف کیا آتا ہے کبھی کبھار مولانا زائدہ بھی آتا ہے كقوله تعالى جیسے اللہ کیا فرماتے ہیں
کقوله تعالى جیسے اللہ فرماتے ہیں ليس كمثله شيء اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں تو یہاں دیکھو ایک مثل آ رہا ہے اور کاف بھی کس لیے آتا ہے تشبیہ اور مثلیت بیان کرنے کے لیے آتا ہے تو معلوم ہوا یہ کاف کیا ہے زائدہ ہے
اس لیے کہ کاف ہی مثل کے معنی میں ہوتا ہے تو اگر اب اگر اس کاف کو ہم زائدہ نہ بنائیں تو معنی خراب ہوتا ہے کیا معنی ہوتا ہے
اللہ کے مثل کا مثل نہیں معلوم ہوا اللہ کا تو مثل ہے اور اللہ کے مثل کا مثل نہیں تو معنی خراب ہو گیا کیونکہ مقصد تو کیا بتلانا ہے کہ اللہ کا کوئی مثل ہی نہیں تو یہ کاف زائدہ ہے سمجھ میں آیا تو کاف کبھی زائدہ بھی آتا ہے اور زائدہ آپ نے پڑھا ہے کسی سے متعلق نہیں ہوتا
अच्छा یہ تو ایک اور دوسری ترکیب میں نے پہلے بھی شاید کی تھی جی کہ یہ کاف جو ہے زائدہ نہیں یہ کیا ہے مثل کے معنی میں ہے اور کلام بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ کلام کنایتہ ہے کیا ہے کنایتہ
اور ایک ہوتا ہے کنایہ اور ایک ہوتا ہے صراحتا کلام بھئی اور الكناية أبلغ من الصرا من التصريح کنایہ کیا ہوتا ہے تصریح سے زیادہ افضل ہوتا ہے کیا ہوتا ہے افضل اور اعلی ہوتا ہے اس لیے کہ تصریح کے اندر دعوی تو ہوتا ہے دلیل نہیں ہوتی اور کنائے کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ذکر ہوتی ہے
کنائے میں دعوے کے ساتھ ساتھ کیا ذکر ہوتی ہے دلیل بھی ذکر ہوتی ہے مثلا میں کہنا چاہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں ایک سیدھا سیدھا میں کہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے یہ صراحت ہے یہ تصریح ہے یہ کیا ہے میں نے صراحتا کہہ دیا اور یہ گویا ایک دعوی ہو گیا ساتھ دلیل ہے کوئی کوئی دلیل نہیں جبکہ کنایہ کہتا ہے کنایہ میں کہتا ہوں زید کی حمائل لمبی ہے حمائل کہتے ہیں وہ چمڑا جس سے تلوار لٹکائی جائے مولانا
تو میں نے کیا کہا زید کی حمائل لمبی ہے یہ کنایہ ہے اور کہنا مراد کیا ہے زید لمبا ہے لمبے قد والا ہے لیکن میں نے صراحتا کہا یا کنایتا کہا تو وہی معنی میں نے ادا کیا لیکن کنائے کے ساتھ میں نے کہا زید کی حمائل لمبی ہے کیا معنی زید لمبے قد والا ہے
تو اب یہ دعوی بھی آ گیا دلیل بھی ساتھ آ گئی دعوی کیا زید لمبے قد والا ہے دلیل کیا اس کی حمائل لمبی ہے یہ دلیل ہے تم لمبے قد والا ہوگا تو حمائل لمبی ہوگی لمبے قد والا نہیں تو حمائل بھی لمبی تو دیکھو ایک کنایہ ہوتا ہے ایک کیا ہوتا ہے تصریح ہوتی ہے اور کون کون زیادہ افضل ہے کنایہ افضل ہے بھئی الكناية أبلغ من التصريح بھئی کیونکہ کنائے میں کیا ہوتا ہے دعوی
مع دلیل کے ہوتا ہے سمجھ میں آئے تو یہاں بھی اسی طرح ہے بعض علماء کہتے ہیں یہ کنائے پر مبنی ہے ليس كمثله شيء اللہ کے مثل کا مثل کوئی نہیں دعوی ہے اللہ کا مثل کوئی نہیں
اور کنایتہ کیا کہا گیا اللہ کا اللہ کے مثل کا مثل کوئی نہیں
کیسے دعوی کیا ہے
اللہ کا مثل نہیں اور کنایہ کہا کیا گیا اللہ کے مثل کا مثل تو یہ کنایہ کیوں لایا گیا تاکہ دلیل بھی ساتھ آ جائے تاکہ کیا آ جائے بات وہی ہے لیکن ذرا اس کو حسین رنگ دیا گیا مولانا نہایت حسین بلیغ فصیح کلام استعمال کیا گیا کس طرح
دیکھو میں کہتا ہوں زید کا بھئی نہیں
زید کا یہ صراحتا ہے اور ایک میں کنایتہ کہتا ہوں زید کا زید کے بھئی کا بھئی نہیں
کیا کہتا ہوں
معنی اس کا بھی وہی ہے زید کا بھئی نہیں تو ایک تھا صراحتا زید کا بھئی نہیں اور ایک کیا ہے زید کے بھئی کا بھئی کس طرح بھئی دیکھو یہ زید ہے یہ کون ہے یہ اس کا بھئی ہے
تو اگر زید کا بھئی ہو یہ تو اس کا بھی بھئی ہوگا یا نہیں ہوگا کون ہوگا زید خود
تو جب میں کہہ رہا ہوں زید کے بھئی کا بھئی نہیں معلوم ہوا زید کا کوئی بھئی کیونکہ اگر زید کا بھئی ہوتا تو اس کے بھئی کا بھی کون ہوتا بھئی ہوتا بھئی تو یہاں بھی کیا کہا گا کیا کہا گیا اللہ کا مثل نہیں اور کچی انداز میں کہا گیا اللہ کے مثل کا مثل نہیں تو اللہ کے مثل کا مثل نہیں معلوم ہوا اللہ کی بھی کوئی مثل نہیں کیونکہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اس مثل کا بھی کیا ہوتا مثل ہوتا جو کہ ذات باری تعالی خود ہوتے بھئی
تو دعوی بھی آ گیا اور دلیل بھی آ گئی دعوی کیا اللہ کا مثل نہیں دلیل کیا
کہ اللہ کے مثل کا مثل نہیں اگر
کقوله تعالى جیسے اللہ فرماتے ہیں ليس كمثله شيء اللہ کے مثل کوئی نہیں چیز و قد تكون اسما كقول الشاعر اور کبھی کبھار یہ اسم بھی ہوتا ہے کاف کیا ہوتا ہے مولانا اسم ہوتا ہے كقول الشاعر جیسے شاعر کہتا ہے یضحکنا عن كالبرد المنهمي
يضحكنا
يضحكنا عن كالبرد المنهمي يضحکنا جمع مؤنث کا صیغہ ہے وہ اورتے ہنستیں ہیں عن عن سے داخل ہو رہا ہے کس پر مولانا کاف پر کیا کاف پر یہ دلیل ہے اور عن تو ہے حرف جار اور حرف جار کس پر داخل ہوتا ہے اسم پر معلوم ہو یہ کاف یہاں پر کیا ہے اسم ہے جیسے مولانا عن پر کیا داخل ہوا تھا من علا پر کیا داخل ہوا تھا من عن کس کے معنی میں تھا
جانب کے معنی میں اور علا کس کے معنی میں تھا فوق کے معنی میں تو یہاں پر بھی عن داخل ہو رہا ہے کس پر کاف پر یہ دلیل ہے اس بات کی کہ کاف حرف جر نہیں بلکہ کیا ہے اسم ہے اور کس معنی میں ہے مثل کے معنی میں کس معنی میں مثل کے معنی يضحکنا وہ ہنستی ہیں عن عن مثل البرد المنهمي ایسے دانتوں کے ساتھ کالبرد جو اولوں کی طرح ہیں المنہمي ایسے اولے جو پگھلنے والے ہوں یہ تشبیہ بھی ہے مولانا کس میں سفیدی اور چمک دمک کے اندر ان کے دانت کس کی طرح ہیں اولوں کی طرح ہیں
ومذ ومنذ للزمان اور مذ اور منذ کس لیے آتے ہیں زمانے کے لیے بھئی آپ نے ظروف کے اندر بھی مذ اور منذ پڑھے تھے اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ مذ اور منذ کبھی جار ا دیے آتے ہیں اور کبھی
ظرف اور اس وقت وہ کیا بنتے ہیں مبتدا بنتے ہیں کیا بنتے ہیں مبتدا اور ان کے مابعد کیا ہوتی ہے خبر تو لہذا ان کے مابعد مرفوع ہوا کرتا ہے اور یہ جب جار ائیں گے تو لازمی بات ہے جر دیں گے تو ان کا مابعد ہمیشہ کیا ہوگا مجرور ہوگا
ومذ ومنذ للزمان اور مذ اور منذ زمانے کے لیے آتے ہیں إما للابتداء یا تو یہ ابتدا کے لیے زمانے کی ابتدا بیان کریں گے فی الماضی کس روپ میں زمانہ ماضی کے اندر كما تقول فی شعبان جیسے کہ آپ شعبان کے مہینے میں کسی سے کہتے ہیں ما رأيته منذ رجب میں نے اس کو رجب سے دیکھا ہی تو دیکھو یہ کسی چیز کی زمانے کی ابتدا آپ کو اس کو بتلا رہے ہیں کہ میرے نہ دیکھنے کی ابتدا کب سے ہوئی ہے
رجب سے ہوئی ہے اور للظرفية یا یہ مذ اور منذ کس لیے آتے ہیں مولانا ظرفیت کے لیے آتے ہیں فی الحاضر زمانہ حاضر کے اندر نحو ما رأيته منذ شهرنا میں نے نہیں دیکھا اس کو اپنے مہینے سے یعنی اس مہینے سے جس میں میں ہوں
میں نے اس کو اس مہینے سے نہیں دیکھا و منذ يومنا یعنی ای فی شهرنا و فی يومنا اپنے دن میں اور اپنے مہینے میں کیا مراد ہے اپنے مہینے اور اپنے دن میں جس میں ہم موجود ہیں جس میں جو ابھی چل رہا ہے تو میں نے اس کو اپنے دن میں یعنی آج سے نہیں دیکھا
تو میں نے آج سے خود سے آج سارے دن سے نہیں دیکھا وخلا وعدا وحاشا للاستثناء خلا عدا اور حاشا کس لیے آتے ہیں مولانا استثناء کے لیے آتے ہیں
جیسے آپ کہتے ہیں جاء القوم خلا زید میرے پاس آئی ایسی قوم جو خالی تھی کس سے زید سے (یعنی زید کے علاوہ باقی سارے آئے) وحاشا عمرو ایسی قوم آئی جو عمر سے خالی تھی یعنی عمر نہیں تھا وعاد بکرین ایسی قوم آئی جس میں ابکر نہیں تھا یعنی ابکر کے علاوہ آئے سارے
سورت سمجھ میں آگئی یاد رکھو یہ خلا عدا حاشا کبھی فعل بھی آتے ہیں اور کبھی جار ا جار ائے تو دیکھو مابعد کو جر دیا اور اگر فعل آئیں گے تو مابعد کو نصب دیں گے کیا دیں گے
نصب تو خلا اور عدا اگر یہ جملے کے شروع میں آ جائیں کس کے شروع میں آ جائیں
یا ان کے شروع اس سے پہلے ما آ جائے ما خلا ما عدا تو پھر اس صورت میں یہ ہمیشہ نصب دیں گے
خلا اور عدا مولانا کیا آتے ہیں جار ا بھی آتے ہیں اور
جی فعل بھی آتے ہیں اور ان کا خصوصا اگر یہ جملے کے ابتدا میں آ جائیں اور ان سے پہلے کیا آ جائے ما آ جائے تو پھر یہ کیا ہوں گے
فعل ہوں گے اور مابعد کو کیا دیں گے نصب دیں گے
چلیے جی هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام