Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو قديم · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 27 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 79
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LECTURE-13 1 کل مولانا ہم نے کم کی ترکیب پڑھی تھی کم کے بارے میں بتلایا تھا کہ کم منسوب واقع ہوگا اگر کم کے ما بعد کوئی فی ایسا فعل ہو جو کہ اس کی ضمیر کے اندر مشغول نہ ہو تو اور پھر کم کے ما بعد تمیز کو دیکھیں گے اس کے اعتبار سے یہ مفعول بھی بنے گا اگر رجلن وغیرہ آجائے مثال کے طور پر اور اگر کم کے بعد کم کے بعد تمیز مصدر ہو تو یہ مفعول مطلق واقع ہوگا اور کم کے بعد اگر تمیز جو ہے وہ ظرف ہو تو پھر یہ کیا واقع ہوگا مفعول فی واقع ہوگا اور اگر کم پر حرف جار داخل ہو جائے یا مضاف داخل ہو جائے تو پھر کم کیا ہوگا مجرور ہوگا اور اگر اس کے یہ نہ منسوب ہو نہ مجرور ہو تو پھر یہ مرفوع ہوگا اور مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی بنا پر یا خبر ہونے کی بنا پر مبتدا اور خبر کے لیے یہ دیکھ لیں کہ کم کے ما بعد تمیز ظرف ہے یا ظرف نہیں اگر کم کے ما بعد تمیز ظرف ہے تو پھر یہ خبر مقدم ہوگا اور اگر ظرف نہیں تو پھر یہ مبتدا مقدم مبتدا پھر یہ مبتدا ہوگا اس کے بعد ظروف کی بحث پڑھی تھی ظروف میں سے کچھ وہ ہیں جو مبنی ہیں مولانا ان میں سے قبلو بعدو فوقو تحتو وغیرہ تھے اور بتلایا تھا کہ یہ ظروف جو ہیں ان کے استعمال کی تین حالتیں ہیں یا تو یہ اضافت کے ساتھ ان کا مضاف الیہ لفظوں میں مذکور ہوگا یا مولانا لفظوں میں تو مذکور نہیں لیکن نیت میں موجود ہے ارادے میں ہے یا ارادہ اس کا ہے اور یا یہ کہ اس کا مضاف الیہ نسی منسیہ ہو نہ عبارت میں ہے اور نہ ذہن میں ہے تو پہلی حالت کہ لفظوں میں مذکور ہو تب بھی یہ معرب تیسری حالت کہ نسی منسیہ ہو تب بھی یہ معرب لیکن دوسری حالت کہ لفظوں میں تو نہیں لیکن نیت میں موجود تو اپ نیت میں موجود تھا اپنے لفظوں سے حذف کر دیا تو اس صورت میں یہ کیا ہوگا مولانا مبنی ہوگا کیونکہ اس نقصان ہوا مولانا اس کا اس کے مضاف الیہ عبارت میں نہیں آیا اگرچہ نیت میں موجود ہے آپ کا ارادہ ہے تو اس نقصان کا جبیرہ ہم نے کس چیز کے ساتھ کیا ضمہ دیا مولانا سب سے قوی حرکت دے دی تو یہ مبنی علی الضم ہوگا اور ان صورتوں میں ان کو غایات کہتے ہیں کیونکہ غایا کا معنی ہے انتہا تو جب مضاف الیہ موجود تھا تو کلام کی انتہا ہو رہی تھی مضاف الیہ پر اور جب مضاف الیہ کو حذف کر دیا تو اب کلام کی انتہا ان ظروف پر ہو رہی ہے تو ان کو غایات کہتے ہیں اور انہی میں سے ایک پڑھا تھا حیث حیث کے بارے میں بتلایا تھا کہ یہ بھی غایات کے ساتھ مشابہت کی بنا پر مبنی ہوتا ہے اس لیے کہ اس کی اضافت یہ ہمیشہ جملے کی طرح مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے اور جملے کی طرح اضافت بھی گویا کہ لا اضافت ہے تو یہ مضاف الیہ چاہتا ہے اور آیا نہیں گویا کہ آیا تو ہے لیکن جملے کی صورت میں ہے اور مضاف الیہ تو کیا ہونا چاہیے تھا مفرد تو یہ بھی گویا یوں ہی ہے کہ مضاف الیہ یہ چاہ رہا ہے اور آپ عبارت میں لائے نہیں تو لہذا یہ بھی مبنی ہوا اور کبھی کبھار مولانا یہ مفرد کی طرف بھی مضاف ہو جاتا ہے اور یہ مکان کے معنی میں ہوتا ہے اور ان میں سے ایک ظروف میں سے ایک اذ تھا اور اسی طرح ایک از تھا لیکن اذ آتا ہے مستقبل کے لیے ماضی پر بھی داخل ہو تو اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیتا ہے جبکہ از جو ہے وہ مستقبل کو بھی کس معنی میں کر دیتا ہے ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے اور یہ دونوں قسم کے جملوں پر داخل ہوتے ہیں جملہ فعلیہ پر بھی اور جملہ اسمیہ پر بھی داخل ہوتے ہیں اور تو یہ ظرف ہیں اور کبھی کبھی یہ متضمن ہوتے ہیں معنی شرط کو بھی مولانا یعنی ظرفیت کے ساتھ ساتھ ان میں شرط والا معنی بھی پایا جاتا ہے تو پھر یہ جزا کو بھی چاہتے ہیں مولانا جزا کو بھی چاہتے ہیں اور اذ کے بعد بتلایا تھا کہ زیادہ پسندیدہ کہ جملہ اسمیہ تو آ تو سکتا ہے لیکن زیادہ پسندیدہ کیا ہے کون سا جملہ لایا جائے جملہ فعلیہ لایا جائے اس ظروف میں سے ایک اینا اور انّا پڑے ہم نے بتلایا تھا کہ یہ مکان کے لیے آتے ہیں مولانا استفہام کے لیے جیسے اینا تمشید کہاں چل رہے ہو تم تو یہ مولانا استفہام ہے اور مکان کے بارے میں ہے زمانے کے بارے میں استفہام نہیں اسی طرح انّا ہے مولانا وہ بھی اسی طرح جبکہ ان کے مقابلے میں مٹا جو ہے وہ زمانے کے لیے آتا ہے مولانا اور تو اینا اور انّا جیسے مکان کے لیے استفہام کے لیے آتے ہیں ایسے ہی شرط کے لیے بھی آتے ہیں جبکہ مٹا زمان کے لیے آتا ہے اور وہ بطور استفہام کے بھی آتا ہے اور بطور شرط کے بھی آتا ہے جبکہ کیف حال کے استفہام کے لیے آتا ہے حال پوچھنے کے لیے مولانا جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں کیف انت فی ای حال انت کہ آپ کس حال میں ہیں اور اسی انہی ظروف میں سے ایک ایانہ ہے یہ بھی زمانے کے لیے آتا ہے اور استفہام کے لیے آتا ہے لیکن میں نے بتلایا تھا کہ مٹا ہے ایک استفہام زمانے کے لیے اور ایک ایانہ لیکن مٹا عام ہے عموم بڑے امر چھوٹے امر ہر ایک کا سوال ہو سکتا ہے ماضی میں ہو مستقبل میں ہو ہر چیز کا سوال ہو سکتا ہے لیکن ایانہ کے ذریعے ایسی چیز کا سوال ہوگا جو مستقبل میں ہوگی اور عظیم چیز ہوگی معمولی چیز کا سوال نہیں ہوگا اس کے بعد مُذْ اور مُنْذُ آئے تھے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ مُذْ اور مُنْذُ حروفِ جار کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مولانا حروف تو ان کے ما بعد کو دیکھ لو اگر ان کا ما بعد مجرور ہے تو یہ حروف جارہ میں سے ہیں ورنہ تو وہ ان کا ما بعد مجرور بھی آ سکتا ہے مرفوع بھی آ سکتا ہے اگر ان کا ما بعد مرفوع ہو تو پھر وہ خبر ہوگا اور یہ خود کیا بنیں گے مبتدا بنیں گے تو یہ اول مدت کے لیے بھی آتے ہیں اور جمیع مدت کے لیے بھی آتے ہیں کسی چیز کی ابتدائے مدت بتلاتے ہیں کہ یہ کام کب سے شروع ہے کب سے ہو رہا ہے اور کبھی کبھی یہ پوری مدت بتلاتے ہیں کہ اس کام کو ہوتے ہوئے کل کتنی مدت ہو گئی ہے تو دونوں کے لیے آتے ہیں بھئی اور تو یہ مبتدا تو اس اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ دراصل یہ ظروف ہیں ہی نہیں کیونکہ ظرف تو وہ ہے جو جملے کے اندر مفعول فی واقع ہو یعنی فعل کے لیے کیا ہو ظرف مفعول فی ہو جیسے ضربت زید الیوم آج میں نے زید کی پٹائی کی تو الیوم جو ہے مولانا یہ دیکھو ضربت کے لیے کیا واقع ہو رہا ہے مفعول فی واقع ہو رہا ہے تو ظرف ہمیشہ کسی متعلق کسی کے ساتھ متعلق ہونا چاہتا ہے یا یہ فعل کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مصدر کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا اسم فاعل کے ساتھ یا اسم مفعول کے ساتھ وہ جو آٹھ چیزیں میں نے ذکر کی تھیں مولانا صفت مشبہ وغیرہ تو چاہے جار مجرور ہو چاہے دوسرا ظرف ہو آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے ضرور متعلق ہوتا ہے لیکن یہ تو کلام میں مبتدا واقع ہو رہے ہیں معلوم ہوا یہ ظروف ہیں نہیں۔ یہ ظروف ہیں نہیں تو پھر ان کو ظروف میں کیوں ذکر کیا میں نے بتلایا تھا کہ یہ بھی چونکہ زمانے پر دلالت کر رہے ہیں کیونکہ کیا بیان کر رہے ہیں اول مدت کو اور کیونکہ کیا بیان کر رہے ہیں جمیع مدت کو اور اول مدت اور جمیع مدت کیا ہے مولانا زمانہ ہے اور ظروف بھی کس لیے آتے ہیں زمانے کے لیے آتے ہیں تو ظروف کے ساتھ ان کی کچھ مناسبت تھی کہ دونوں زمانے پر دلالت کرتے تھے اس لیے ان کو اس بحث میں ذکر کر دیا اور تو یہ مناسبت تھی اور نیز یہ مبنی بھی تھے اس لیے مولانا اس کے بعد ظروف میں سے لدا اور لدن آئے تھے بتلایا تھا کہ لدا اور لدن عند کے معنی میں ہے تو کسی چیز کے پاس ہونے کے لیے آتا ہے المال عندی مال میرے پاس ہے لیکن فرق یہ ہے کہ عند میں چیز آپ کے پاس تو ہے چاہے آپ کے پاس حاضر ہو یا حاضر نہ ہو پھر بھی کہیں گے عند لیکن لدا اور لدن کے اندر اس چیز کا حاضر ہونا آپ کے پاس ضروری ہے اس کے بعد ایک قطو آیا تھا ایک عو قطو آتا ہے مولانا ماضی منفی کے لیے اور عو آتا ہے مستقبل منفی کے لیے ما رایتہ قطو میں نے اس کو کبھی بھی نہیں دیکھا اور لا اضربہ عو میں اس کی کبھی بھی پٹائی نہیں کروں گا اس کے بعد ایک اور بڑا قیمتی ضابطہ آیا تھا بڑا ہی قیمتی یاد رکھیں کہ جب بھی کسی ظرف کی اضافت جملے کی طرف ہو جائے یا اس کی اضافت کس کی طرف ہو جائے اذ کی طرف ہو جائے مولانا تو اس کو مبنی علی الفتح پڑھنا بھی جائز ہے علی حسب العوامل بھی آپ اعراب لا سکتے ہیں اور مبنی علی الفتح بھی جائز ہے بھئی سمجھ میں آیا تو جیسے یوم جیسے مینی یوم مثلا ہے عبارت میں مینی یوم اذ یہ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں اور آپ چاہیں تو من یوما اذین بھی اب آپ سے کوئی کہے یوم پر فتحہ کیوں پڑھا آپ کیا جواب دیں گے کہ یہ مبنی علی الفتح پڑھنا اسی طرح مثل اور غیر ہیں جب ان کی اضافت ما عن یا انا کی طرف ہو جائے تو ان کو بھی مبنی علی الفتح پڑھنا جائز ہے اور انہی میں سے ایک امسی تھا مولانا امسی مولانا یہ مبنی علی الکصرہ ہے مبنی علی الکصرہ والخاتمۃ فی سائر احکام الاسم ولا واحقہ غیر الاعراب والبناء وفیہا فصول خاتمہ ہے مولانا اسم اور اس کے جو ملحقات ہیں اس کے ساتھ جو چیزیں اور ملتی ہیں اعراب اور معرب اور مبنی ہونے کے علاوہ اسم کے جو احکام ہیں اور اسم کے احکام سے متعلقہ چیزیں ہیں اسم کے احکام سے متعلقہ چیزیں ہیں معرب اور مبنی کے علاوہ ان کو ذکر کریں گے بھئی ابھی تک تو دو باتیں ذکر ہوئیں بھئی کتنی طویل بحث میں معرب اور مبنی اور ان سے متعلقہ باتیں اب معرب اور مبنی ہونے کے علاوہ اسم کے جو باقی احکام ہیں یا ملحقات ہیں مولانا ان کو کیا کریں گے اس فصلوں میں ذکر کریں گے فصل اعلم ان الاسم علی قسمین بھئی یہ فصل بھئی یہ جو عنوان ہے عنوانات کتابوں میں آتے ہیں ان کی کیا ترکیب ہوگی بھئی اچھا بھئی ہاں فصل ھذا فصل ھذا مبتدا فصل اس کی خبر یا مولانا نہیں نہیں فصل ھذا ہو ہی نہیں سکتا مولانا کیونکہ پھر بھی اس نے خبر ہی بننا ہے کیونکہ نکرہ ہے اور ھذا کیا ہے معارفہ ہے تو ٹھیک ہے فصل ھذا بھی آپ کہہ دیں گے بات تو وہی بن جائے گی مولانا خبر مقدم ہی یہ بنے گا ہاں جہاں معرفہ ہے معرفہ آئے کتاب الصلاۃ وہاں آپ یہ کر سکتے ہیں مبتدا کو بھی محذوف نکال سکتے ہیں اور خبر کو بھی کیونکہ ھذا نکالیں گے ھذا بھی معرفہ اور کتاب الصلاۃ بھی معرفہ تو جس کو چاہیں چاہیں تو ھذا کتاب الصلاۃ کر دیں یا کتاب الصلاۃ ھذا کر دیں یا مولانا وہ تو منسوب بھی پڑھ سکتے ہیں اقرا کتاب الصلاۃ تو اقرا فعل انت ضمیر فاعل کتاب الصلاۃ اس کے لیے کیا بنے گا مفعول بہ بن جائے گا اعلم ان الاسم علی قسمین یا مولانا ایک کوئی ترکیب نہیں بس عنوان ہے فصل کوئی ترکیب نہیں سمجھ میں آیا اعلم ان الاسم علی قسمین معرفۃ ونکرۃ جان لے کہ اسم دو قسم پر ہیں معرفہ اور نکرہ المعرفۃ اسم وُضِعَ لشئی معین وہیہ ستۃ اقسام معرفہ اسم ہے ایسی چیز کا جس کو وضع کیا جائے کسی معین چیز کے لیے اور یہ چھ قسم پر ہے معرفہ اسم ہے ایسی چیز کا جس کو وضع کیا جائے کسی معین چیز کے لیے اور یہ چھ قسم پر ہے مولانا المضمرات ضمیریں ہیں والاعلام علم ہیں نام مولانا والمبہامات اور مبہمات ہیں بھئی بھئی مبہمات کیا چیز کہتے ہیں اعنی اسماء الاشارات والموصولات اسمائے اشارہ اور اسمائے ان کو مبہمات کہتے ہیں اس لیے مولانا کہ یہ جب تک اسم اشارہ کا مشارن الیہ نہیں آئے گا جب تک موصول کا صلہ نہیں آئے گا ان کا معنی پوری طرح ظاہر یہ مبہم رہیں گے اس کے بغیر والمعرف باللام اور ایک معرف باللام ہے والمضاف الی احدہا اور ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو بھئی ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف سمجھ میں آئی بات بھئی والْمُضَافُ إِلَى أَحَدِهَا اضافتہ معنویتا اور ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو اضافت معنوی کس طرح مضاف ہو؟ کس طرح مضاف ہو؟ کس طرح مضاف ہو؟ مولانا اضافت معنوی یہ قید کیوں لگائی بھئی ہاں اس لیے کہ اضافت لفظی میں تو آپ نے پڑھا تھا نہ تعریف اتی ہے اور نہ تخصیص تو تعریف تو وہاں ہے ہی نہیں اور ہم تو قسمیں کس کی پڑھ رہے ہیں معرفہ کی تو جہاں اضافت لفظی ہوگی وہاں تو تعریف ایسے ہوگی ہی نہیں والمعرف بالنداء اسی طرح معرف بالنِدا ہے یا رجل یہ رجل کیا ہے مولانا معرفہ ہے والعلاب مولانا علم کی تعریف کر رہے ہیں بھئی باقیوں کی گزر چکی والعلم ما وضع لشئی معین علم وہ ہے مولانا جس کو کیا کیا جائے وضع کیا گیا ہو لشئی معین کسی معین چیز کے لیے لایتناول غیرہ بوضع واحد غیر کو ایک وضع کے ساتھ شامل نہ ہو ایک وضع کے ساتھ غیر کو شامل نہ ہو دیکھو مولانا زید زید کیا ہے مولانا عالم ہے کیونکہ اس کو ہم نے کس کے لیے وضع کیا ایک معین ذات کے لیے وضع کیا ہے اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے ایک اور آدمی کا نام بھی زید ہوتا ہے تو پھر تو یہ مولانا شرکت آ گئی ہے نہیں آ گئی زید کے اندر کہتے ہیں بھئی وہ وضع اور ہے یہ ہم نے نام جب رکھا تھا اس کا زید تو اس اکیلے کا رکھا تھا یا اس کے ساتھ ملا کے رکھا تھا اس کے اکیلے کا ہم نے الگ رکھا اس کے اکیلے کا الگ رکھا تو ایک وضع کے اندر اس میں کوئی شرکت نہیں ہونی چاہیے اسی لیے کہا کہ لایتناول غیرہ بوضع واحد غیر کو وضع واحد کے ساتھ شامل نہ ہو وآعرف المعارف اور سب سے زیادہ تعریف مولانا وآعرف المعارف سب سے زیادہ معارفہ المضمر وہ کیا ہے ہاں مارف میں معرفہ میں سے سب سے زیادہ معرفہ جو ہے سب سے زیادہ تعریف جو ہے وہ ضمیر کے اندر ہے کون سی ضمیر مولانا متکلم کی ہے نحو انا ونحن ثم المخاطب اس کے بعد کون ہے بھئی مخاطب ہے سب سے تعریف مولانا متکلم میں کیونکہ انسان سب سے زیادہ معرفت اس کو کس کی حاصل ہوتی ہے اپنی ذات کی حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد مخاطب کی کیونکہ مخاطب کیا ہوتا ہے اس کے سامنے موجود ہوتا ہے اور تیسرے درجے میں کون ہوتا ہے غائب کیونکہ سامنے موجود نہیں تو سب سے پہلے متکلم کی ضمیر ہے مولانا پھر مخاطب کی ہے نحو انت ثم الغائب پھر غائب کی ہے جیسے ہوا ثم العلم پھر درجہ کس کا ہے مولانا علم کا ہے تو سب سے پہلا درجہ ضمیر کا ہے دوسرا درجہ علم کا ہے اور ضمیروں کے اندر پھر سب سے بڑا درجہ کس کا ہے متکلم پھر مخاطب پھر غائب تو دوسرا درجہ ہے مولانا علم کا ثم المبہمات پھر تیسرا درجہ اسم اشارہ اور اسم ہاں دیکھا ان میں تعریف سب میں برابر نہیں بھئی ایک کی تعریف ادنی ایک کی اعلی ثم المعرف باللام پھر چوتھا درجہ کس کا ہے معرف باللام کا ہے ثم المعرف بالندا پھر پانچواں درجہ ہے معرف بال ندا کا اور جو مضاف اس کا کیا حکم ہے کہتے ہیں مضاف اسی درجے میں ہوگا جس درجے کا مضاف الیہ ہے اگر مضاف الیہ اس کا کیا تھا علم تھا غلام زید تو یہ غلام کس درجے کا ہوا مولانا علم والے درجے کا ہوا غلام ہذا اگر اسم اشارہ کی طرف مضاف ہو تو یہ کس درجے کا ہوا اس میں مبہمات اسم اشارہ والے درجے کا اگر معرف باللام کی طرف غلام الرجل ہوا تو یہ کس درجے کا ہے معرف باللام تو مضاف بقوۃ المضاف الیہ وہ مضاف الیہ کی قوت میں ہوگا سمجھ میں آیا بھئی ہاں تو یہ ترتیب یاد رکھو مولانا سب سے زیادہ تعریف کس میں دوسرے درجے پر تیسرے تو یہ تعریف والنکرۃ ما وضع لشئی غیر معین رجل و فرس اور نکرہ وہ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو کس کے لیے غیر معین چیز کے لیے جیسے رجل اور فرس کوئی بھی رجل ہو اس کو رجل کہہ سکتے ہیں کوئی بھی فرس ہے وہ فرس ہے فصل اسماء العدد ما وضع ليدل علی کمیۃ احاد الاشیاء اسماء عدد مولانا وہ ہے وضع جس کو وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ دلالت کرے علی کمیۃ کمیۃ کا معنی مولانا مقدار مقدار آحاد بمانی افراد کے ہے آحاد بمانی افراد کے ہے اسماء عدد وہ ہے جس کو وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ دلالت کرے مولانا چیزوں کے افراد کی مقدار پر علی کمیۃ احاد الاشیاء چیزوں کے افراد کی مقدار مولانا کتنے افراد ہیں دو ہیں چار ہیں چھ ہیں تو چیزوں کے افراد کی مقدار عدد سے پتہ چلے گی وہ اصول العدد اثنا عشرۃ کلمۃ اور بنیادی عدد جو ہیں اصول کیا بنیادی بنیادی عدد 2 یہ بارہ کلمے ہیں، مولانا۔ باقی سارے اعداد انہی بارہ سے بنیں گے۔ کون کون سے ہیں بارہ؟ واحد سے لے کر عشرۃ تک، یہ کتنے ہوئے؟ 10۔ اور اس کے بعد کیا ہے؟ مائۃ، اور اس کے بعد الف۔ یہ بارہ ہیں بنیادی کلمات۔ باقی جتنے عدد اپ بنائیں گے، وہ سارے انہی سے بنیں گے۔ 10 ہزار، 20 ہزار، 40 ہزار، 50 ہزار، یہ کس سے بن رہا ہے؟ یہ تو ہزار سے ہی بن رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ 500، 600، 700، یہ کس سے بن رہا ہے؟ وہ 100۔ 100 مل رہا ہے اور ساتھ ثلاثۃ، اربعۃ، خمسۃ مل رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ثلاث مائۃ، اربع مائۃ، خمس مائۃ۔ تو یہ دیکھو۔ تو یہی عدد بار بار دہراتے جائیں ہو جائیں گے۔ جی؟ دہائیاں نہیں علیحدہ ہوں گی، مولانا۔ وہ بھی دیکھو ثلاثون کیا ہے؟ یہ ثلاثۃ سے بنا ہے۔ اور اربعون کس سے؟ اربعۃ سے بنا ہے۔ عشرون کیا ہے؟ عشرۃ سے۔ واصول العدد اثنتا عشرۃ کلمۃ۔ اور بنیادی عدد بارہ کلمے ہیں: واحدۃ الی عشرۃ، ایک سے لے کر 10 تک، ومائۃ والف اور 100 اور ہزار۔ واستعمالہ من واحد الی اثنین علی قیاس، اور ان کا استعمال ایک سے لے کر دو تک علی القیاس، کس طریقے پر ہے؟ قیاس کے طریقے پر۔ دیکھو مولانا، مذکر چیز گن رہے ہوں تو کیا کہیں گے؟ واحد۔ دو ہوں تو؟ اثنین۔ مونث ہو؟ واحدۃ۔ دو ہوں تو؟ اثنتان یا اثنتین کہیں گے۔ تو دیکھو، واحد مذکر کے لیے مذکر عدد، مونث کے لیے مونث عدد۔ واستعمالہ من واحد الی اثنین علی قیاس، واحد سے لے کر اثنین تک قیاس، جن کا استعمال قیاسی طریقے پر ہے، اعنی للمذکر بدون التاء، یعنی مذکر کے لیے بغیر تاء کے ہے، وللمؤنث بالتاء، اور مونث کے لیے تاء کے ساتھ ہے۔ تقول فی رجل، ایک ادمی کے بارے میں اپ کہتے ہیں: واحد، وفي رجلین، دو ادمیوں کے بارے میں کہتے ہیں: اثنان، وفي امرأۃ واحدۃ، ایک عورت میں ایک وفي امرأۃ اور ایک امرأۃ میں کہتے ہیں: واحدۃ، وفي امرأتین، اور دو عورتوں میں کہتے ہیں: اثنتان وسنتان۔ اثنتان بھی کہنا صحیح اور سنتان کہنا بھی صحیح۔ ومن ثلاثۃ الی عشرۃ علی خلاف القیاس، تین سے لے کر 10 تک مولانا، یاد رکھو، خلاف القیاس آئے گا۔ یعنی مذکر کے لیے عدد بالتاء آئے گا۔ اور مونث کے لیے بغیر تاء کے۔ مذکر کے لیے کیا، کس کے ساتھ آئے گا؟ بالتاء، تاء کے ساتھ آئے گا عدد۔ اور مونث کے لیے بغیر تاء کے۔ تو سمجھ میں آیا؟ میں کتابیں گن رہا ہوں، تو کتاب کیا ہے؟ مذکر۔ کیا کہوں گا تین کتابیں؟ ثلاثۃ، چار؟ اربعۃ، اربعۃ۔ خمسۃ، ستۃ، سمجھ میں آیا؟ خمسۃ، ستۃ، سبعۃ، ہاء کہ تاء کے ساتھ اپ کہتے جائیں گے۔ اور مذکر کے اندر تاء یا ہاء کو ساتھ نہیں ملائیں گے۔ مثلاً کراسۃ، میں کاپیاں گننا چاہتا ہوں، تین کاپیاں: ثلاث، ثلاث، اربع، خمس، ست، سبع، سمجھ میں آیا؟ ومن ثلاثۃ الی عشرۃ علی خلاف القیاس، تین سے لے کر 10 تک خلافِ قیاس ہو گا۔ اعنی للمذکر بالتاء، یعنی مذکر کے لیے تاء کے ساتھ۔ تقول ثلاثۃ رجال الی عشرۃ رجال، یعنی مردوں کے لیے رجل میں کہیں گے: ثلاثۃ رجال الی عشرۃ رجال، کہاں تک؟ عشر عشرۃ تک۔ وللمؤنث بدونہا، اور مونث بغیر تاء کے کہیں گے۔ تقول ثلاث نسوۃ الی عشر نسوۃ۔ دیکھو، نسوۃ مونث، تو ثلاث میں تاء نہیں آئی۔ اور عشر نسوۃ، نسوۃ مونث، تو عشر میں کیا آئی ہے تاء؟ نہیں آئی۔ وبعد العشرۃ وبعد العشرۃ، اور عشرۃ کے بعد تقول یوں کہیں گے، مولانا۔ عشرۃ کے بعد یاد رکھو مولانا، 11 اور 12، 11 اور 12، احد عشر اور اثنا عشر، اس میں اگر معدود مذکر ہے تو دونوں جز مذکر آئیں گے۔ اگر معدود مونث ہے تو دونوں جز مونث آئیں گے۔ 11 ادمی ہیں تو اپ کیا کہیں گے؟ احد عشر۔ احد بھی مذکر، عشر بھی مذکر۔ اور 12 ہیں تو اثنا عشر۔ اثنا بھی مذکر اور عشر بھی مذکر۔ جبکہ مونث میں دونوں جز مونث کہیں گے۔ امرأۃ کہنا چاہتے ہیں اپ، احدى عشرۃ۔ تو احد کو کیا بنایا میں نے؟ احدى۔ اور عشرۃ کو کیا بنایا؟ عشرۃ۔ تو احدى، ثم مبنی علی الفتح، احدى عشرۃ۔ 12 میں کیا کہیں گے؟ اثنتا عشرۃ۔ وبعد العشرۃ تقول احد عشر رجلا، تو دیکھا دونوں جز کیا ہیں؟ مطابق ہیں۔ واثنا عشر، چلیے تمیز بھی اپ کو ابھی سے بتا دیتا ہوں، آگے ذکر بھی آ جائے گا۔ یاد رکھو، یہ جو تین سے لے، ایک اور دو کی تو تمیز نہیں آتی۔ ایک اور دو کی تمیز نہیں، اس لیے کہ ایک اور دو وہ اس جنس سے ہی پتہ چل جاتا ہے جس کو اپ ذکر کر رہے ہیں۔ رجل کہا، اس نے کیا بتایا؟ رجل سے کتنے مرد مراد ہیں؟ ایک۔ تو رجل واحد یا یہ نہیں کہتے، واحد رجل نہیں کہیں گے۔ یا اسی طرح مولانا، دو ادمی ہیں، اپ کیا کہیں گے؟ رجلان، تو اثنتان ساتھ ملانے کی ضرورت ہے؟ نہیں، کیونکہ رجلان کا لفظ خود بتلا رہا ہے، یہ الف اور نون آخر میں، کہ دو ادمی مراد ہیں۔ ہاں، دو سے اوپر ثلاثۃ، اب مولانا، عدد بھی ساتھ ذکر کرنا پڑے گا۔ کیسے کہیں گے اپ؟ ثلاثۃ رجال۔ تو عدد آئے گا مذکر کے لیے بالتاء، اور مونث کے لیے بغیر تاء، اور جو تمیز آگے ہوگی وہ عشرۃ تک جمع مجرور آئے گی۔ کیا آئے گی مولانا؟ جمع مجرور آئے گی۔ کیسے کہیں گے؟ ثلاثۃ رجل کی جمع کیا ہے؟ اور اس کو کیا دے دو؟ جر دے دو۔ ثلاثۃ رجال، اربعۃ رجال۔ پانچ کتابیں، اپ کیسے کہیں گے؟ کتاب مذکر ہے، مونث ہے؟ مذکر ہے، مونث ہے؟ مذکر ہے، تو بالتاء عدد لائیں گے یا بغیر تاء کے؟ تاء کے ساتھ لائیں گے، خمسۃ۔ اور کتاب کی جمع، پھر تین سے لے کر 10 تک ہے، تو جمع کتاب کی جمع کیا ہے؟ کتب، اور اس کو کیا دیں گے؟ جر دیں گے، تو کیا کہیں گے؟ خمسۃ کتب۔ اچھا، پانچ، نو دروازے، کیا کہیں گے؟ دروازے کو کیا کہتے ہیں؟ جمع کیا ہے؟ اور اس کو کیا دیں گے؟ اور عدد کیا ہوگا؟ بالتاء یا بغیر تاء؟ تو اپ مذکر ہے، مونث ہے؟ مذکر، تو بالتاء کہیں گے، کیا کہیں گے؟ تسعۃ ابواب، سمجھ میں آیا؟ جبکہ 11 سے لے کر 99 تک پھر ساری تمیز جتنی ہے مولانا، منصوب، مفرد منصوب آئے گی۔ 11 سے لے کر 99 تک تمیز ہمیشہ کیا آئے گی مولانا؟ مفرد منصوب آئے گی بھئی، مفرد منصوب۔ مفرد منصوب آئے گی۔ کیسے کہیں گے بھئی اپ؟ احد عشر رجلا، دیکھا مفرد ہے اور اس پر کیا آ رہا ہے؟ نصب۔ 12 ادمی؟ اثنا عشر رجلا، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا، یہ 99 تک، عشرون رجلا، ثلاثون رجلا۔ تو احدى عشر، احد عشر رجلا، اثنا عشر رجلا۔ امرأۃ کہیں ذرا، کیا کہیں گے؟ احدى عشرۃ امرأۃ، اثنتا عشرۃ امرأۃ۔ تو دونوں جز مذکر کے لیے مذکر اور دونوں جز مونث کے لیے مونث۔ ہاں، ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک ذرا بات مشکل ہے۔ عشرۃ کہہ رہا ہوں، ثلاثۃ عشرۃ سے لے کر تسعۃ عشرۃ تک بات کیا ہے ذرا؟ مشکل ہے۔ کس طرح؟ کہ ان میں بھئی ثلاثۃ سے لے کر عشرۃ تک کیا ترتیب تھی؟ وہ یاد رکھو۔ ثلاثۃ سے عشرۃ تک کیا ترتیب تھی؟ جی؟ مذکر کے لیے تاء کے ساتھ اور مونث کے لیے بغیر تاء کے۔ بس یہ ثلاثۃ سے لے کر تسعۃ تک جو ہوں گے عدد، یہاں اب آگے بھی سارے اسی طرح چلتے رہیں گے ہمیشہ۔ مذکر کے لیے بالتاء آئیں گے اور مونث کے لیے بغیر تاء کے آئیں گے۔ البتہ دوسرا جز جو عشرۃ ہے وہ مطابق ہوگا۔ مذکر ہے تو اس کے ساتھ بھی تاء نہیں، مونث ہے تو اس کے ساتھ بھی تاء۔ مثلاً دیکھو بھئی، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ میں کہنا چاہتا ہوں 13 ادمی، کیا کہوں گا؟ پہلا جز کیا ہونا چاہیے؟ ثلاثۃ میں کیا کرتے تھے ہم؟ تاء ملاتے تھے مذکر کے لیے یا نہیں ملاتے تھے؟ تو یہاں بھی ملا لو، ثلاثۃ۔ اور عشر، اگلے جز کو میں نے بتایا مطابق کر دو۔ ثلاثۃ عشر، بغیر تاء کے مولانا، ثلاثۃ عشر۔ تو پہلا جز ہوگا مخالف، دوسرا جز ہوگا مطابق۔ پہلا جز مخالف کیسے ہے؟ ادھر رجل ہے، تو ادھر کیا چاہیے؟ تاء۔ اور دوسرا جز مطابق، رجلا مذکر ہے تو عشرۃ میں بھی تاء نہیں آنی چاہیے۔ اسی طرح مونث میں ہے مولانا، مثلاً میں امرأۃ کہنا چاہتا ہوں، تو امرأۃ کے لیے کیا کہوں گا؟ ثلاث، ثلاث، پہلا جز کیا آنا چاہیے؟ ثلاث۔ دوسرا جز کیا آنا چاہیے؟ عشرۃ۔ ثلاثۃ سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھی طرح؟ نیچے ایک اور بات بھی یاد رکھو۔ جب تاء ساتھ ملا دیں، کیا کہتے ہیں اپ؟ ثلاثۃ عشرۃ، کیا کہتے ہیں؟ بھئی اب چار مفتوح آ گئے، چار حرکتیں آ گئیں اور پے در پے مسلسل چار حرکتیں کیا ہیں؟ ثقیل ہیں۔ تو شین کو ساکن پڑھنا ہے۔ عشرۃ۔ کیا پڑھنا ہے؟ ساکن پڑھنا ہے، کیسے پڑھیں گے اس کو؟ عشرۃ، ثلاثۃ ثلاثۃ عشرۃ، خمسۃ عشرۃ، ستۃ عشرۃ، عشرۃ نہیں پڑھنا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ہاں، اکیلا ہے، تاء نہیں ہے تو پھر عشرۃ پڑھنا ہے، کیسے؟ رجل میں کہیں، 13 ادمی ذرا: ثلاثۃ عشر، شین پہ فتحہ ہے۔ لیکن اب یہی بات مونث کے لیے کہیں تو شین ساکن ہو جائے گا۔ ثلاثۃ عشرۃ، کیونکہ عشرۃ، عین پہ بھی فتحہ، شین پہ بھی فتحہ، راء پہ بھی فتحہ، تاء پہ بھی فتحہ، چار مسلسل حرکتیں یہ ثقیل ہیں تو پھر شین کو کیا کرنا ہے؟ ساکن کرنا ہے۔ اور جب تاء نہیں ہے تو پھر تو چار حرکتیں ایک کلمے میں، سمجھ میں آیا؟ نہیں آئیں، تو وہاں پھر اپ اسی طرح پڑھیں گے۔ اچھا، اب بتائیے مولانا، 17 دروازے، کیا کہیں گے اپ؟ 17، پہلے سب سے پہلے طے کرو دروازہ مذکر ہے، مونث ہے؟ مذکر ہے، مذکر کے لیے پہلا جز مخالف، دوسرا جز مطابق، کیا کہیں گے؟ سبعۃ عشر 11 سے 99 تک تمیز کیا ہوتی ہے؟ مفرد منصوب، تو ثلاثۃ عشر بابا۔ اچھا، 19 قلم، پہلے بتاؤ مذکر، یہ مذکر ہے، مونث ہے؟ مذکر، اب ضابطہ لگا دو، پہلا مخالف، دوسرا مطابق۔ تسعۃ عشر قلما۔ اور مفرد منصوب لے آؤ 11 سے 99 تک بھئی، ثلاث، تسعۃ عشر قلما۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یہ مشق کرو بھئی، اس کی مشق کرنی پڑے گی۔ ہمارے پاس تو اتنا وقت ہے نہیں، اب دن تھوڑے ہیں، تو اور بھئی، مونث لے کر آؤ بھئی، کراسۃ، کاپی، جی۔ 15 کاپیاں بھئی، پہلے بتاؤ پہلے جو، پہلے بتاؤ، یہ کراسۃ مذکر ہے، مونث؟ مونث، تو اب کیا کریں گے؟ پہلا جز جو ہے وہ پہلا مخالف، دوسرا مطابق، کیا ہوا؟ خمسۃ عشرۃ خمسۃ عشرۃ آگے کراسۃ، مفرد منصوب، خمسۃ عشرۃ کراسۃ، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تو ہوا۔ اور 11، 12 میں بتایا، دونوں جز مطابق ہوں گے۔ احد عشر رجلا، احدى عشرۃ امرأۃ۔ 21، 22، باقی سب اسی طرح ہوں گے مولانا۔ ہاں، دہائیاں نہیں بدلتیں: عشرون، ثلاثون، اربعون، خمسون، یہ مذکر کے لیے بھی اسی طرح، مونث کے لیے بھی۔ اب ان کے ساتھ بواسطہ عطف کے لاتے ہیں، 21 کو کیا کہتے ہیں؟ احد وعشرون۔ کیا کہتے ہیں؟ احد وعشرون، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اور واحد، ٹھیک ہے؟ تو احد وعشرون، تو مذکر کے لیے کیا کہیں گے مولانا؟ 21 ادمی، بھئی یہ وہی 11، 12 کی قبیل سے ہے، 11، 12 میں کیا ہوتا تھا؟ مطابقت ہوتی تھی، یہاں بھی مطابقت لاؤ۔ 21 ادمی کہو بھئی، ادمی کیا ہے؟ رجل کیا ہے؟ مذکر، تو جز بھی کیا آنا چاہیے؟ مذکر، تو کیا کہیں گے؟ احد وعشرون، عطف واؤ درمیان میں آ جاتا ہے، احد وعشرون رجلا، تمیز وہی مفرد منصوب۔ اچھا، 22 ادمی؟ نون کیوں گرایا اپ نے، اضافت کوئی ہوئی؟ اثنان و عشرون رجلا۔ اچھا، یا 11، 21 عورتیں؟ عشرون نے تو نہیں بدلنا، احد، احد نے اب بدل جانا ہے، احدى و عشرون امرأۃ۔ 22 عورتیں؟ نون کیوں گراتے ہو؟ اثنتان وعشرون، سمجھ میں اچھا، اسی طرح 31، 32 میں ہے، اسی طرح 41، 42 میں ہے، اسی طرح 51، 52 میں ہے، تو سارے یہ پہلے دو ہیں مولانا، ان میں مطابقت ہی چلتی ہے، 11، 12 میں بھی جیسے مطابقت تھی۔ اچھا، 41 ادمی کہو، 41 دروازے بھئی، 41 دروازے، کیا کہیں گے اپ؟ شاباش، احد واربعون ابوابا، 42 دروازے؟ اثنان واربعون بابا، اثنان واربعون بابا۔ اچھا، 51 کاپیاں؟ احدى وخمسون کراسۃ، مفرد منصوب تمیز چلے گی۔ 52 کے کاپیاں؟ اثنتان وخمسون تو دیکھا اثنتان نون نہیں گرانا، کیونکہ عطف ہو رہا ہے، اضافت نہیں ہو رہی۔ اچھا، یہ بھی بات سمجھ میں آ گئی بھئی، اب مونث کے لیے بھی ہو، مذکر کے لیے، ہاں، اب رہ گئے باقی ثلاثۃ وعشر 3 عشرون سے لے کر تسعة وعشرون۔ یعنی 23 سے 29 تک۔ اسی طرح حکم ہے 33 سے 39 تک، 43 سے 49 تک، 53 سے 59 تک، 63 سے 69 تک، 73 سے... تو یہ ان ساروں کا آخر 100 تک یہی حکم ہے کہ پہلا جز مخالف آئے گا بھئی۔ دوسرے نے تو بدلنا نہیں۔ جیسے رجل میں کیا ثلاثة کہتے تھے یا ثلاثۃ کہتے تھے بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہوگا۔ مذکر کے لیے بالتاء اور مؤنث کے لیے بغیر تاء کے۔ یہ سارے آخر تک ایک جیسے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ ثلاثة سے لے کر تسعة تک بھئی، یعنی عشرة تک، مذکر کے لیے بالتاء تھا، مؤنث کے لیے؟ اچھا، ثلاثة عشر، اربعة عشر، خمسة عشر، یہاں پر بھی ثلاثة سے لے کر جو تسعة تک ہیں، یہ مذکر کے لیے بالتاء ہوں گے، مؤنث کے لیے؟ آگے بھی سارے ہمیشہ اسی طرح چلیں گے۔ تو بھئی اب آپ بتائیے، 23 آدمی، کیا کہیں گے؟ ثلاثة وعشرون رجلاً، شاباش۔ اچھا، 35 آدمی؟ مفرد منصوب لے کر آ تمیز کو بھئی۔ خمسة وعشرون... و خمسة وثلاثون رجلاً۔ اچھا بھئی، 88 کاپیاں؟ ضابطہ کیا ہے؟ ثمانية آئے گا یا ثمانٍ آئے گا؟ جی؟ اچھا۔ ثمانية بھی کہہ سکتے ہیں۔ ثمانٍ... تو ثمانٍ و... جی؟ ثمانٍ وثمانون كراسةً، تو ثمانٍ آئے گا۔ تو دیکھو بغیر تاء کے۔ آگے بھئی 100 تک یہی۔ اچھا، اس کے بعد یاد رکھو، مائة جو ہے مائة، اس کی تمیز اور ألف، اس کی تمیز مفرد، دونوں کی مفرد مجرور آتی ہے۔ ان دونوں کی تمیز کیا آتی ہے؟ مفرد مجرور آتی ہے۔ 100 آدمی، کیا کہیں گے؟ مائة رجلٍ۔ 100 عورتیں، کیا کہیں گے؟ اسی طرح مائة... مائة امرأةٍ۔ اچھا، ہزار آدمی؟ ألف رجلٍ، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں۔ اچھا، ہزار عورتیں؟ ألف امرأةٍ، یہ مفرد مجرور۔ اچھا، 200 آدمی؟ اضافت کی وجہ سے نون گر جائے گا۔ مائتا رجلٍ۔ 200 عورتیں؟ مائتا امرأةٍ۔ اچھا، 2000 آدمی؟ ألفا رجلٍ۔ 2000 عورتیں؟ ألفا امرأةٍ۔ अच्छा۔ 3000 آدمی بھئی؟ کیا پڑھیں گے بھئی؟ صرف 3000 کہیں، ثلاثة آلافٍ۔ ألف کیا ہوا؟ مذکر ہوا؟ ہاں، یہ تحقیق کرنی پڑے گی، ألف کا لفظ مذکر مستعمل ہے مولانا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اچھا۔ تو ألف مذکر ہوا۔ بھئی کہو 5000، کیا کہیں گے؟ ألف مذکر ہے، تو عدد کیا آئے گا؟ بالتاء۔ اور ثلاثة سے عشرة تک تمیز کیا ہوتی ہے؟ جمع مجرور۔ تو ألف کو کس سے بدل دیں گے؟ آلاف سے۔ اور اس پر کیا پڑھیں گے؟ جر پڑھیں گے۔ تو کیا کہیں گے؟ خمسة آلافٍ۔ کیا کہیں گے؟ خمسة آلافٍ۔ 4000؟ اربعة آلافٍ۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں، تو یہ ثلاثة سے لے کر عشرة تک جو بھی تمیز آئے گی، کیا آئے گی ہمیشہ؟ جمع، جمع مجرور۔ لیکن مائة کا لفظ ہمیشہ مفرد ہی رہے گا۔ 300؟ کیا کہوں گا؟ ثلاث مائةٍ۔ 400؟ تاء نہیں آئے گی کیونکہ مائة کے ساتھ تاء آرہی ہے، تو ثلاث میں تاء پھر نہیں آئے گی، خلاف مخالف ہوگا۔ جی، 400؟ اربع مائةٍ۔ 500؟ خمس مائةٍ۔ 600؟ ست مائةٍ۔ نیز یہ کہ رسم الخط بھی یاد رکھنا، رسم الخط بھی بڑی قیمتی چیز ہے مولانا، جس کی آج کل لوگ پرواہ نہیں کرتے۔ یہ جو ثلاث مائة ہے نا، ثلاث کی ثاء کو مائة کے میم سے ملا کر لکھیں گے، الگ نہیں لکھیں گے بھئی۔ الگ لکھا یہ غلطی ہے۔ اربع مائة کے عین کو کس سے ملائیں گے؟ مائة کے میم سے ملائیں گے۔ خمس مائة کے سین کو کس سے ملائیں گے؟ تو جو مل سکتا ہوا اس کو ملائیں گے۔ ست مائة کو تاء کو کس سے ملائیں گے ستة کی؟ میم سے ملا کر لکھیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بڑا قیمتی قانون بتایا آپ کو، بڑے بڑے علماء کو بھی یہ معلوم نہیں ہے مولانا۔ پتہ ہی نہیں وجہ۔ اچھا جی۔ دیکھیے مولانا، تقول احد وبعد العشرة اور عشرة کے بعد آپ کہتے ہیں تقول احد عشر رجلاً و اثنا عشر رجلاً و ثلاثة عشر رجلاً۔ تو دیکھو احد عشر اور اثنا عشر میں دونوں جز رجلاً کے مطابق ہیں۔ اور ثلاثة عشر رجلاً میں دیکھ رہے ہیں آپ، پہلا جز کیا ہے؟ مخالف، دوسرا مطابق۔ الى تسعة عشر رجلاً و إحدى عشرة امرأةً و اثنتا عشرة امرأةً و ثلاثة عشرة امرأةً الى تسعة عشرة امرأةً۔ وبعد ذلك تقول اور اس کے بعد آپ یوں کہیں گے عشرون رجلاً و عشرون امرأةً بلا فرق بين المذكر والمؤنث، مذکر مؤنث میں بغیر کوئی فرق کیے الى تسعين رجلاً وامرأةً، تسعين رجلاً اور تسعين امرأةً، یہ اسی طرح چلیں گے، کوئی فرق نہیں آئے گا مولانا، دہائیوں میں کوئی فرق نہیں آتا۔ و أحد وعشرون رجلاً و إحدى وعشرون امرأةً و اثنان وعشرون رجلاً و اثنتان وعشرون امرأةً و ثلاثة وعشرون رجلاً۔ تو دیکھا ثلاثة کیا ہوا رجلاً کے لیے؟ مذکر آیا، اوہ بالتاء آیا۔ وثلاث وعشرون امرأةً، امرأة کے لیے ثلاث کیا آیا؟ بغیر تاء کے۔ یہ الى تسعة وتسعين رجلاً وثسع... و تسع وتسعين امرأةً تک۔ ثم تقول پھر آپ کہیں گے مولانا مائة رجلٍ۔ مائة کی تمیز مفرد مجرور۔ ومائة امرأةٍ و ألف رجلٍ و ألف امرأةٍ و مائتا رجلٍ و مائتا امرأةٍ و ألفا رجلٍ و ألفا امرأةٍ بلا فرق بين المذكر والمؤنث۔ مائة میں کوئی فرق نہیں آئے گا مذکر اور مؤنث میں۔ فاذا زاد على المائة والألف، جب بڑھ جائے عدد مولانا مائة پر والالف اور ہزار پر يستعمل على قياس ما عرفت، تو یہ استعمال ہوگا اسی طریقے پر جو آپ نے پہچانا ہے بھئی۔ ألف سے اوپر مولانا ألف سب سے بڑا عدد ہے عربی کے اندر قدیم۔ ہاں، جدید تو اب کیا کرتے ہیں؟ ملین بھی استعمال کرتے ہیں، بلین بھی انگریزی سے انہوں نے لے کر استعمال کیے۔ تو عربی میں سب سے بڑا عدد پہلے ہزار تھا بھئی، ہزار۔ اردو میں تو ہزار، پھر لاکھ ہے، پھر کروڑ ہے، پھر ارب ہے، پھر کھرب ہے وغیرہ۔ تو عربی میں صرف ألف ہے بڑا۔ تو لہٰذا باقی پھر اسی طریقے پر۔ مثلاً مولانا آپ کہنا چاہتے ہیں 4371 کتابیں، 4371 کتابیں۔ سب سے پہلے ہزار لے آؤ، پھر 100 لے آؤ، پھر اس کے بعد مولانا اکائیاں دہائیاں جو ہیں وہ لے آؤ۔ تو سب سے پہلے کتنے ہزار؟ کتنے ہزار میں نے کہے؟ 4000۔ کیا کہیں گے؟ اربعة یا اربع؟ اربعة آلافٍ و... حرف عطف درمیان میں لے آؤ۔ اربعة آلافٍ و... آگے کتنے 100 تھے؟ 300۔ جی کہیں، ثلاث مائةٍ۔ تو ارب... آگے مولانا 71 کتابیں۔ کتاب مذکر ہے مؤنث ہے؟ تو 71 کے پہلے جز کو کیا کریں گے؟ مذکر، کیا آئے گا؟ احد و سبعون کتاباً، شاباش۔ دیکھا کوئی مشکل ہے؟ اربعة آلافٍ وثلاث مائةٍ واحد وسبعون کتاباً۔ سمجھ میں آئی بات؟ اسی طرح۔ 3 لاکھ آپ کہنا چاہتے ہیں مولانا عربی میں، کیا کہیں گے؟ کیا کہیں گے بھئی؟ انہی کو استعمال کرنا ہے۔ ایک لاکھ میں کتنے ہزار ہوتے ہیں؟ 100۔ 3 لاکھ میں کتنے ہوئے؟ 300۔ تو بس کہہ دو۔ ثلاث... اس کی تمیز کیا آئی؟ مائة۔ اور مائة کی تمیز کیا آئی؟ اچھا مائة کی تمیز کیا آتی ہے؟ ہاں، ثلاث مائة ألفٍ۔ اور کتابیں ہیں، ثلاث مائة ألف کتابٍ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ فاذا زاد على المائة، جب بڑھ جائے مائة پر والالف اور ألف پر يستعمل على قياس ما عرفت، تو استعمال کیا جائے گا اسی طریق پر جو آپ پہچان چکے ہیں۔ ويقدم الألف على المائة، اور ألف کو کس پر مقدم کریں گے؟ مائة پر۔ والمائة على الأحادت، اور مائة کو کس پر مقدم کریں گے؟ آحاد، اکائیوں پر۔ والأحاد على العشرات، اور آحاد کو کس پر مقدم کریں گے؟ عشرات یعنی دہائیوں پر۔ سب سے پہلے ادھر دیکھو، سب سے پہلے آئیں گے آلاف، اس کے بعد مائة، اس کے بعد ألف، پھر مائة، اس کے بعد پھر اکائیاں، کیونکہ آپ 21 کہتے ہیں تو پہلے کیا کہتے ہیں؟ احد۔ تو پہلے اکائی آتی ہے۔ وعشرون، پھر کیا آتی ہے؟ دہائی آتی ہے۔ تو وہی ترتیب ہے مولانا۔ تو پہلے ألف آئے گا، پھر مائة آئے گا، پھر اس کے بعد اکائی آئے گی اور اس کے بعد دہائی آئے گی۔ تقول عندي، آپ کہیں گے کہ میرے پاس ألف ومائة... عندي ألف ومائة وأحد وعشرون رجلاً، کہ میرے پاس مولانا 1121 آدمی ہیں۔ تو کیا کہیں گے؟ ألف ومائة... ایک ہزار، ألف، اور 100، ومائة، اور 21، وأحد وعشرون رجلاً۔ سب سے پہلے ألف، کتنے ألف ہیں؟ ایک ہے، تو ألف آیا۔ 100 کتنے بنتے ہیں؟ 100۔ میں کہتا ہوں میرے پاس 1700 کتابیں ہیں، کیا کہیں گے؟ کتنے ألف بنے؟ ایک۔ کتنے مائة بنے؟ 7۔ درمیان میں عطف کرتے جاؤ۔ ألف و... سبع مائةٍ... آگے... ہاں، ألف وسبع مائة کتابٍ۔ وألفان ومائتان... ہاں، یہ کہیں گے کیا؟ 2222 آدمی۔ تو سب سے پہلے کتنے ہزار؟ 2000، ألفان۔ پھر کتنے 100 بنے؟ 200، ومائتان۔ اور پھر کتنے بنے؟ 22، واثنان وعشرون رجلاً۔ اور اسی طرح وأربعة آلاف وتسع مائة وخمس وأربعون امرأةً۔ وعليك بالقياس، اور آپ پر قیاس لازم ہے، یعنی قیاس کو لازم پکڑو۔ قیاس کو... یعنی اسی طریقے پر آپ قیاس کرتے جاؤ، سارا اسی طرح ہے۔ واِعلم أن الواحد، جان لے کہ واحد... بھئی میں نے آپ کو بتایا تھا، واحد اور اثنين کے ساتھ ان کی تمیز کی ضرورت نہیں، کیونکہ رجل کا لفظ اس میں وہ جنس خود بتلا دے گی کہ اس سے کیا مراد ہے، مفرد۔ رجلان خود بتلا دے گا کہ اس سے کیا مراد ہیں؟ دو۔ تو اس کے ساتھ عدد کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ واعلم أن الواحد والاثنين لا مميز لهما، واحد اور اثنين ان کی کوئی تمیز نہیں آتی، لأن لفظ المميز يغني عن ذكر العدد، اس لیے کہ مميز کا اپنا لفظ... بھئی، ثلاثة رجالٍ، مميز کون؟ تمیز کون؟ ثلاثة مميز اور رجال کیا ہے؟ تمیز۔ اور اسی تمیز... یہ کیا ہوا؟ مميز بھی ہوا، اسی کا نام کیا ہے؟ مميز۔ تو پہلا مميز، ثانی مميز۔ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جو ایک... واحد واثنين کے اندر مولانا تمیز کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ تمیز خود بے پرواہ کر دیتی ہے، عدد کی ضرورت رہتی ہی نہیں۔ تو ثلاثة رجال میں تمیز کون ہے؟ رجال۔ تو واحد اور تثنیہ میں یہی تمیز والا لفظ جو رجال ہے، یہی بتلا دے گا رجل کہ ایک مراد ہے یا رجلان کہ کتنے مراد ہیں؟ دو۔ تو اس کے ساتھ عدد کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ تو وہی تمیز کا عدد ہی بتلا دے گا کہ اس سے ایک مراد ہے یا دو مراد ہیں۔ وہاں پر عدد واحد واثنين ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ واِعلم أن... اچھا۔ واِعلم أن الواحد والاثنين لا مميز لهما، واحد اور اثنين جو ہیں ان کی کوئی تمیز نہیں آتی، لأن لفظ المميز يغني عن ذكر العدد فيهما، اس لیے کہ مميز کا لفظ وہ جو ہے کفایت... بے پرواہ کر دیتا ہے، وہ کفایت کر دیتا ہے عن ذكر العدد فيهما، ان دونوں کے اندر عدد کے ذکر سے۔ اس کے احتیاج ہی نہیں رہتی مولانا۔ رجل کہہ دیا تو عدد کی ضرورت نہ رہی، رجلان کہہ دیا تو عدد کی ضرورت نہ رہی۔ تقول عندي رجلٌ، دیکھا رجل کہا بس۔ ورجلان، وعندي رجلان، تو رجلان نے کیا بتلایا؟ کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ وأما سائر الأعداد فلا بد لها من مميز، اور باقی جتنے عدد ہیں تو ضروری ہیں ان کے اندر تمیز کا آنا۔ فتقول، تو آپ کہیں گے مميز الثلاثة إلى العشرة مخفوض مجموع۔ بھئی ثلاثة سے عشرة تک تمیز کیا آتی ہے؟ کیا آئے گی؟ جمع مجرور۔ یہی بات کر رہے ہیں۔ فتقول، پس آپ کہیں گے مميز الثلاثة إلى العشرة کہ تمیز ثلاثة سے لے کر عشرة تک کی مخفوض مجرور ہوتی ہے مجموع اور... ہاں، تو یہ جمع مجرور، جمع مجرور ہوتی ہے۔ تقول، آپ کہتے ہیں ثلاثة رجالٍ، تین آدمی۔ دیکھو ثلاثة کی تمیز کیا آئی؟ جمع مجرور۔ وثلاث نسوةٍ، اور اس کی بھی تمیز کیا آئی؟ جمع مجرور آئی۔ اور مؤنث کے لیے بغیر تاء، اور مذکر کے لیے بالتاء 4 الا اذا کان الممیز لفظ المئۃ مگر یہ کہ ثلاثۃ سے عشرۃ تک کی تمیز کیا آجائے؟ مئۃ کا لفظ آجائے، تو مئۃ میں نے بتلایا تھا وہ مفرد ہی رہے گا۔ ثلاث مئۃ، مئات یا مئین نہیں کہیں گے۔ مگر یہ کہ تمیز جب مئۃ کا لفظ ہو فحینئذ يكون مخفوظا مفردان، تو مجرور تو پھر بھی ہوگا، لیکن ہوگا کیا؟ مفرد۔ تو اس وقت مولانا محفوظ مفرد مجرور ہوگا، تقول آپ کہتے ہیں ثلاث مئۃ، یہ مولانا رسم الخط صحیح نہیں ہے بھئی۔ ثلاثو کو مئۃ کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے۔ تسع مئۃ، یہ عین کو کس کے ساتھ ملایا جاتا ہے؟ مئۃ کے ساتھ، یہ ضابطہ یاد رکھنا بھئی، یہ بڑا قیمتی ضابطہ ہے۔ اور والقیاس ثلاث مئات أو مئین، حالانکہ ضابطہ قیاس تو کیا چاہتا تھا؟ کیا ہونا چاہیے تھا؟ ثلاث مئات یا ثلاث مئین ہونا چاہیے، کیونکہ مئۃ کی جمع مئات بھی آتی ہے، مئین اور مئین بھی آتی ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان میں سے کوئی آنا چاہیے تھا۔ وممیز احد عشر إلی تسع وتسعین منصوب مفرد، اور گیارہ سے لے کر نائنٹی نائن تک تمیز جو ہوتی ہے، ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے۔ تقول آپ کہتے ہیں أحد عشر رجلاً، یہ مفرد منصوب۔ وإحدی عشرۃ إامرأۃ۔ تو دیکھو دونوں جزو مطابق ہیں اور امرأۃ مفرد منصوب ہے۔ وتسعو وتسعون رجلاً، دیکھیے پہلا جزو کیا ہے؟ مخالف آیا بھئی، بضتا آیا، اور رجلاً نائنٹی نائن ہے تو مفرد منصوب۔ وتسع وتسعون امرأۃ وممیز مئۃ وألف وتسنيتهما وجمع الألف محفوظ مفرد، بھئی مئۃ کی تمیز کیا آئے گی؟ ادھر دیکھو بھئی۔ مفرد مجرور۔ اچھا، مئۃ کے تثنیہ کی کیا آئے گی؟ وہی مفرد، مئۃ رجل، مئاتا رجل۔ ألف رجل، ألفا رجل، آلاف رجل۔ تو مولانا مئۃ جو ہے، مئۃ چاہے مفرد ہو، مئۃ چاہے تثنیہ ہو، ألف چاہے مفرد ہو، ألف چاہے تثنیہ ہو، ألف چاہے جمع ہو، ان ساروں کی تمیز کیا آئے گی؟ بھئی دیکھو، میں نے ألف کے لیے تین درجے ذکر کیے، مفرد، تثنیہ اور جمع، جبکہ مئۃ کے لیے صرف دو درجے ذکر کیے، مفرد اور تثنیہ۔ جمع نہیں ذکر کیا۔ جمع نہیں ذکر کیا اس لیے کہ جمع عموماً یہ استعمال نہیں ہوتا وہاں۔ تو کہتے ہیں وممیز مئۃ، مئۃ کی تمیز، و ألف اور ألف کی تمیز و تثنيتهما اور ان دونوں کے تثنیہ کی تمیز، و جمع الألف اور ألف کی جمع کی تمیز، محفوظ مفرد، یہ ہمیشہ کیا ہوتی ہے؟ مفرد مجرور۔ تقول آپ کہتے ہیں مئۃ رجل، دیکھو مفرد۔ مئۃ امرأۃ، مفرد۔ ألف رجل، مفرد۔ ألف امرأۃ، مفرد مجرور۔ مئتا رجل، مفرد مجرور۔ مئۃ امرأۃ، مفرد مجرور۔ تثنیہ ہے، ألفا رجل و ألف امرأۃ و ثلاثۃ آلاف رجل و ثلاث آلاف امرأۃ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ و قس علی ھذا اور اسی پر قیاس کر لیجیے۔ الاسم إما مذکر و إما مؤنث، والمؤنث ما فیہ علامۃ التأنث لفظاً أو تقدیراً۔ اسم یا تو مذکر ہوگا مولانا یا مؤنث ہوگا۔ مؤنث ما فیہ علامۃ التأنث، مؤ وہ ہے جس کے اندر کس چیز کی علامت ہو؟ تانیث کی علامت ہو۔ لفظاً أو تقدیراً، یا تو لفظاً ہو یا تقدیراً۔ اس میں یا تو مذکر ہوگا مولانا یا مؤنث ہوگا۔ مؤنث ما فیہ علامۃ التأنث، مؤ وہ ہے جس کے اندر کس چیز کی علامت ہو؟ تانیث کی علامت ہو۔ لفظاً أو تقدیراً۔ بھئی علامت تانیث، آگے آ بھی رہا ہے، تین چیزیں ہیں: تا، الف مقصورہ اور الف ممدودہ۔ تو علامت تانیث جس میں لفظاً پائی جائے وہ بھی مؤنث، جس میں تقدیراً پائی جائے وہ بھی مؤنث، اور ان کے علاوہ باقی کیا ہیں؟ مذکر۔ دیکھیے، والمذکر ما بخلافہ، اور مذکر وہ ہے جو اس کے خلاف ہو (یعنی جس میں نہ لفظاً علامت تانیث ہو اور نہ مولانا تقدیراً ہو)۔ وعلامۃ التأنث ثلاثۃ، اور علامت تانیث تین چیزیں ہیں: التاء، ایک تا ہے، كطلحۃ جیسے کہ طلحہ۔ طلحہ کا لفظ لفظوں کے اعتبار سے مؤنث ہے مولانا، کیونکہ آخر میں کیا آرہی ہے؟ تا۔ ہاں، اس کا مسمّیٰ مذکر ہو سکتا ہے۔ مذکر ہوتا ہے۔ والالف والمقصورۃ، دوسری علامت تانیث الف مقصورہ ہے، كحبلی۔ والالف الممدودۃ، تیسری علامت الف ممدودہ ہے، جیسے حمراء۔ الف ممدودہ وہ ہے جہاں الف کے بعد ہمزہ آئے مولانا۔ وہ کیا ہے الف ہے؟ ہاں یہ مد اس کو لمبا پڑھتے ہیں بھئی، جو قاری حضرات ہیں وہ جانتے ہوں گے۔ اور یہ جو الف ممدودہ ہے یاد رکھو مولانا، دراصل دو الف ہیں۔ دراصل کیا ہیں؟ ایک الف کو بڑھایا مد خوف کے لیے، آواز کو لمبا کرنے کے لیے پہلے الف کو۔ اور دوسرا الف ہے تانیث کا۔ کتنے الف ہیں؟ پہلا الف کس چیز کا ہے؟ آواز کو لمبا کرنے کے لیے، کیونکہ الف سے آواز لمبی ہوگی یا نہیں ہوگی؟ اور دوسرا الف کس چیز کا ہے؟ تانیث کا ہے مولانا۔ تو دو الف آئے اور ضابطہ ہے کہ الف زائدہ کے بعد حرف علت آئے تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ ہمزہ سے بدلتے ہیں۔ تو دوسرے کو ہمزہ سے بدل دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جیسے حمراء۔ یہ ہمزہ کون سا ہے مولانا؟ یہ اصل میں کیا تھا؟ الف۔ والمقدرة إنما هو التاء فقط، لیکن کہتے ہیں یہ تین لفظوں میں بھی آئیں گے، جبکہ تقدیراً ان میں سے صرف تا آئے گی۔ تا کبھی کیا ہوتی ہے مولانا؟ مقدر ہوتی ہے، لفظوں میں ذکر نہیں ہوتی بھئی۔ و المقدرة إنما هو التاء فقط، اور مقدرہ جو ہے وہ صرف تا ہوگی۔ كأرض و دارٍ، جیسے مولانا أرض یہ مؤنث سماعی ہے۔ دار یہ بھی کیا ہے مؤنث سماعی ہے، تو یہ مؤنث ہے۔ اور یہاں تا مقدرہ موجود ہے۔ مؤنث کیوں ہے؟ کیونکہ یہاں پر کیا موجود ہے؟ تائے مقدرہ موجود ہے۔ بھئی دلیل کیا ہے؟ کیا دلیل ہے آپ کے پاس کہ تائے مقدرہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی کہ اس کی تصغیر نکالو، اور ضابطہ ہے التصغیر و التكسير يردان الأشياء إلى أصولها۔ ضابطہ یاد رکھو مولانا، لکھ لیں آپ بھئی۔ التصغیر، التصغیر والتكسير، بھئی تکسیر، جمع تکسیر بھئی، جمع تکسیر مراد ہے۔ ك، س، ر کے ساتھ، تا دو نقطوں والی، کاف۔ کاف مولانا کووے والا۔ سين، یا، را۔ التصغير والتكسير يردان الأشياء إلى أصولها۔ يردان الأشياء إلى أصولها۔ إلى أصولها۔ إلى أصولها۔ کیا معنی ہوا؟ کہ یہ جو تصغیر ہوتی ہے اور یہ جو جمع تکسیر ہوتی ہے، یہ چیزوں کو، یہ دونوں چیزوں کو ان کے اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ چیزوں کو ان کی اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ چیزوں کو ان کے اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ بھئی آپ نے کسی کلمے کی اصل معلوم کرنی ہے، کہ یہ اصل میں کیا تھا، اس کی تصغیر نکال لو، اس کی تصغیر بناؤ مولانا۔ اسے جمع تکسیر بنا لو مولانا، آپ کو پتہ چل جائے گی اس کی اصل کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بات سمجھ میں آئی۔ تو جس چیز کی اصل پتہ کرنی ہو، اس کی جمع تکسیر یا تصغیر نکالیں، اصل آپ کو پتہ چل جائے گی، کہ اس کا مادہ کیا ہے؟ اس کے اندر اگر حرف علت ہے کس سے بدل کر آیا ہے؟ کیا تھا؟ کیا نہیں تھا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً دار۔ ارض ہے، تو أرض، أرض، اس کی اصل تصغیر بنی دیکھیں، تو تصغیر اس کی عربی میں آتی ہے أریضۃ۔ معلوم ہوا اس میں تا ہے، یہ مؤنث ہے، تو أرض میں، ادھر گئی بھئی؟ بھئی مقدر ہے، وہ کیا ہے؟ مقدر ہے۔ تصغیر نے بتا دیا اس کی اصل میں تا موجود ہے، أریضۃ تو دیکھو التصغیر يرد الاشياء إلى، یہ دو ضابطے میں نے ملا دیے ہیں مولانا۔ التصغیر يرد الأشياء إلى أصولها، التكسير يرد الأشياء إلى أصولها، آپ الگ الگ کر لیں، چاہیں دونوں کو اکٹھا یاد رکھیں۔ اسی طرح مولانا دار کی اصل معلوم کرنی ہے، دار کی تصغیر نکالی تو نکلی تو عربی میں آتی ہے دویرۃ۔ معلوم، دو بات معلوم ہوئیں مولانا، ایک تو یہ کہ یہ مؤنث ہے، اس کی تا آ رہی ہے۔ تو دار کے اندر تائے مقدرہ ہے۔ دوسری بات پتہ چل گئی مولانا کہ دار کا الف واو سے بدل کر آیا ہے، کیونکہ تصغیر کیا ہے؟ دویرۃ۔ معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ واو سے بدل کر آیا ہے۔ تو دیکھا تصغیر يرد الأشياء إلى أصولها، تصغیر چیزوں کو اس کی اصل کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ و المقدرة إنما هو التاء فقط، اور مقدرہ صرف تا ہوگی، كأرض ودار بدلیل أریضۃ و دويرۃ، کس دلیل کے ساتھ بھئی؟ أریضہ اور دویرہ کی دلیل کے ساتھ۔ یہ دیکھا، ان میں صرف تا مقدر ہے، معلوم ہوا تا ہی مقدر ہوا کرتی ہے، جہاں بھی آپ دیکھیں۔ ثم المؤنث علی قسمین، پھر مؤنث دو قسم پر ہے۔ ہاں، مولانا مؤنث حقیقی وہ ہے جس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان ہو۔ جیسے امرأۃ کے مقابلے میں رجل، ناقہ کے مقابلے میں جمل، جبکہ جس کی باقی اس کے علاوہ جو ہیں وہ کیا ہیں مؤنث غیر حقیقی۔ و ثم المؤنث علی قسمین، مؤنث دو قسم پر ہے، حقیقیون ایک حقیقی ہے، وما هو و هو ما بإزائه ذكر من الحيوان، وہ ہے جس کے مقابلے میں مذکر حیوان ہو۔ كامرأۃ و ناقۃ، جیسے امرأۃ اور ناقہ، ان کے مقابلے میں مذکر حیوان موجود ہے، تو یہ مؤنث حقیقی ہے۔ قسم دوم، دوسرا مؤنث لفظی ہے، صرف۔ و هو ما بخلافہ، جو اس کے خلاف ہو (یعنی جس کے مقابلے میں مذکر حیوان موجود نہ ہو)۔ كظلمۃ، ظلمت کہتے ہیں تاریکی کو، اس کے مقابلے میں کوئی مذکر حیوان ہے؟ نہیں، تو یہ مؤنث تو ہے، لیکن کون سا مؤنث ہے؟ مؤنث لفظی ہے۔ وعین اور اسی طرح کیا ہے؟ عین کا لفظ ہے، اس کی بھی تصغیر نکالی، یہ مؤنث ہے تو کیا نکلی؟ عيينۃ۔ و قد عرفت أحكام الفعل إذا أسند إلى المؤنث فلا نعيدها، اور کہتے ہیں بھئی وہ احکام ہم بیان کر چکے ہیں کہ جب فعل کا اسناد مؤنث کی طرف کیا جائے، تو کب فعل کو مؤنث لائیں گے، کب فعل کو مذکر لانا بھی جائز ہوگا۔ آپ نے پڑھا تھا اگر فعل کا فاعل کیا ہو؟ مؤنث حقیقی ہو اور درمیان میں فاصل نہ ہو، تو فعل کو ہمیشہ کیا لائیں گے؟ مؤنث لائیں گے۔ اور اگر درمیان میں فاصل آجائے تو پھر آپ کو اختیار ہے۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ مؤنث غیر حقیقی میں ویسے اختیار ہے، چاہے فاصل ہو، چاہے فاصل نہ ہو، طلعا الشمس کہنا بھی جائز، اور طلعت الشمس کہنا بھی جائز۔ تو کہتے ہیں و قد عرفت أحکام الفعل اور آپ تحقیق جان چکے ہیں فعل کے احکام۔ إذا اسند إلى المؤنث جب اس کا اسناد کس کی طرف کیا جائے؟ مؤنث کی طرف۔ فلا نعيدها، تو ہم اس کا اعادہ نہیں کریں گے، دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ فصل، المثنى، اچھا، تثنیہ اور جمع کی بات اب کریں گے مولانا، پہلے تثنیہ کی بات۔ کیا کہتے ہیں؟ دیکھو، غور سے سنو۔ المثنى، تثنیہ جو ہے، اسم ایسا اسم ہے الحق باخرہ ألف، جس کے ساتھ ساتھ کیا ملایا جائے آخر میں؟ ألف أو ياء، یا یا، ایسی یا مفتوح ما قبلها کہ جس کا ما قبل کیا ہو؟ مفتوح ہو۔ و نون مكسورۃ، اور کس کو ملایا جائے؟ نون مکسورۃ کو۔ تو ألف اور نون مقصورہ، رجلانی۔ ألف اور نون مقصورہ۔ یا مولانا رجلينی، یا ما قبل مفتوح اور نون مقصورہ۔ کیوں؟ یہ کیوں ساتھ ملاتے ہیں؟ کہتے ہیں لیّدل، تاکہ یہ دلالت کرے علی أن معہ آخر مثلہ، کہ اس کے ساتھ ایک جیسا ایک اور بھی ہے۔ لو بھئی، دو قلم دو ابھی آپ کو سمجھاؤں کیا کہنا چاہتے ہیں۔ لو، چلو ٹھہرو بھئی، یہ لو۔ بھئی دیکھو، یہ قلم ہے۔ میں اب کہنا چاہتا ہوں دو قلم، کیا کہوں گا؟ قل‌مانی، تو میں نے اس کے آخر میں کیا ملایا؟ ألف اور نون ملایا۔ کس لیے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ اس کے ساتھ اس جیسا ایک اور بھی ہے۔ قلمانی نے کیا بتلایا آپ کو؟ کہ اس کے ساتھ اس جیسا ایک اور بھی ہے۔ سمجھ میں آیا مولانا؟ آگے جمع آئے گی، جمع کا بھی ابھی سے سن لو مولانا۔ جمع کے اندر مولانا کیا کیا جاتا ہے؟ اس کے جمع کے اندر وہ اس بات پہ دلالت کرتا ہے، چلیے یا چلو، جب موقع آئے گا وہیں بہتر رہے گا۔ چلیے، یہ بات سمجھ میں آگئی تثنیہ کی بھئی؟ تاکہ یہ دلالت کرے یہ ألف نون اور یا یا ما قبل جس کا مفتوح ہے اور نون دلالت کرے علی أن معہ آخر مثلہ، کہ اس کے ساتھ آخر اس جیسا ایک اور بھی ہے۔ نحو رجلانی و رجلينی۔ هذا فی الصحيح، یہ کس کے اندر ہے مولانا؟ صحیح کے اندر ہے۔ صحیح جانتے ہو نحوی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ شابک، کیونکہ نحوی نے بحث کرنی ہے اعراب سے، تو جس کے آخر میں حرف علت نہیں وہ کیا ہے؟ صحیح۔ ہاں بشرطیکہ کہ اس کا ما قبل ساکن نہ ہو، کیونکہ اگر ما قبل اس کا ساکن ہوا اور آخر میں واو یا یا ہوا، تو یہ کیا ہے؟ مدعم صحیح ہو جائے گا۔ یہ تو تھا مولانا صحیح کے اندر، صحیح کے اندر آسان طریقہ ہے آخر میں ألف نون ملا دو یا یا اور نون ملاؤ، اور یا کے ما قبل کو کیا دے دو؟ فتحہ دے دو۔ بھئی اس میں مقصورہ وغیرہ ہیں، باقی اس میں منقوط ہے، ان میں کیسے بنائیں گے؟ جی؟ اس میں مقصورہ وغیرہ میں۔ ہاں، فا ہے، ہاں تا کی تثنیہ کیسے بنائیں گے؟ یہ بات ذرا مشکل تھی، اس لیے مصنف اس کو تفصیل بتانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں دیکھو، آپ کے پاس ہے ایک اس میں مقصورہ۔ آخر میں کیا آرہا ہے مولانا؟ الف مقصورہ آ رہا ہے۔ اس کے آپ نے بنانی ہے تثنیہ، تو آپ دیکھ لیں دو شرطیں، ایک ایک شرط، پہلی شرط یہ کہ یہ ثلاثی ہو۔ کیا ہو؟ ثلاثی۔ ثلاثی ہونے کا معنی یہ کہ تین ہی حروف ہوں اس کے اندر بس۔ کیا ہوں؟ تین ہی حروف ہوں۔ اور دوسری شرط یہ کہ اس کا الف واو سے بدل کر آیا ہو۔ اس کا الف کس سے بدل کر آیا ہو؟ واو سے بدل کر آیا ہو۔ تو ثلاثی ہو اور اس کا الف واو سے بدل کر آیا ہو، تو اس کی تثنیہ بناتے وقت وہ واو دوبارہ واپس آ جائے گا۔ الف کس سے پھر بدل جائے گا؟ واو سے بدل جائے گا۔ کس سے بدل جائے گا؟ واو سے۔ اس کے علاوہ باقی تمام صورتوں کے اندر مولانا، 5 رباعی ہے۔ رباعی ہونے کا کیا معنی؟ چار حرف ہیں بھئی، چار حرف ہیں۔ اصل اصل زائد ہونے کی بات نہیں کر رہا، حرف چار ہونے چاہئیں يا چار سے زیادہ ہوں۔ تو حرف چار ہوں، نہیں پہلے تو یہ، چاہے یا معاہ ہر چار ہوں، پھر یا ثلاثی ہو لیکن اس کا جو الف ہے، وہ واؤ سے بدل کر نہیں آیا بلکہ کس سے بدل کر آیا ہے؟ یا سے، یا کسی سے بھی بدل کر نہیں آیا۔ ساری صورتیں، بس وہ جس میں دو شرطیں نہیں ہیں، اس کے علاوہ ساری صورتیں دوسری طرف چلی جائیں گی کہ وہاں اس الف کو کس سے بدلیں گے؟ یا سے بدل دیں گے۔ تو صرف وہ صورت جس میں کہ ثلاثی ہو اور الف کس سے بدل کر آیا ہو؟ واؤ سے، ہم اس کو کس سے دوبارہ بدل دیں گے؟ واؤ سے۔ اگر اس کے علاوہ ہے، یعنی ہے تو ثلاثی لیکن الف کسی سے بدل کے نہیں آیا، یا بدل کے تو آیا ہے لیکن یا سے بدل کر آیا ہے، یا ثلاثی نہیں ہے، رباعی ہے، رباعی کے اندر چاہے واؤ سے بدل کر آیا ہو، چاہے یا سے بدل کر آیا ہو، چاہے کسی سے بھی بدل کر نہ آیا ہو، چاہے حرفِ اصلی ہو، چاہے حرفِ زائد ہو، تمام صورتیں آ گئیں، ان سب کے اندر کیا ہو جائے گا؟ یا سے بدل دیں گے۔ وَأَمَّا الْمَقْصُورُ، اس میں مقصور جو ہے، فَإِنْ كَانَتْ أَلِفُهُ مُنْقَلِبَةً عَنْ وَاوٍ، اگر اس کا الف بدلا ہے مولانا، کس سے؟ واؤ سے، وَكَانَ ثُلَاثِيًّا، اس حال میں کہ وہ کیا تھا؟ ثلاثی تھا، رُدَّ إِلَى أَصْلِهِ، تو ہم اس کو پھر اس کی اصل کی طرف لوٹا دیں گے، اور واؤ آ جائے گا، كَعَصَوانِ، عَصَا کی تثنیہ ہے بھئی، عَصَا کے اندر یہ الف کس سے آیا تھا؟ واؤ سے، تو دوبارہ واؤ لے آئے اور الف نون ملایا، عَصَوانِ ہوا۔ كَعَصَوانِ فِي عَصًا، عَصَوانِ کہیں گے عَصَا میں، وَإِنْ كَانَتْ عَنْ يَاءٍ، اور اگر وہ یا سے بدل کر آیا تھا الف، أَوْ وَاوٍ، یا واؤ سے، وَهُوَ الْأَكْثَرُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ، اس حال میں کہ وہ ثلاثی سے زیادہ ہے، یعنی چار، أَوْ لَيْسَتْ مُنْقَلِبَةً عَنْ شَيْءٍ، یہ کسی بھی چیز سے بدلا نہیں ہے مولانا، تُقْلَبُ يَاءً، بھئی، کیا ہو جائے گا؟ تُقْلَبُ يَاءً، وہ الٹ جائے گا وہاں، یا مولانا، تُقْلَبُ پڑھیں۔ یا تُقْلِبُ، آپ اس کو الٹائیں گے۔ یا، یا چلیں، تُقْلِبُ پڑھ لیں بھئی، یا تُقْلَبُ پڑھ لیں۔ تو تُقْلَبُ يَاءً، آپ اس کو کس میں الٹا دیں گے؟ یا، یا اس کو یا سے بدل دیا جائے گا، كَرَحَيَانِ فِي رَحَى، رَحَى ہے مولانا، اس کے اندر الفِ مقصورہ آ رہا ہے لیکن یہ الفِ مقصورہ کس سے بدل کر آیا ہے؟ جی؟ ہاں، تو یہ رسم الخط بھی یاد رکھو مولانا، وہ الف جو واؤ سے بدل کر آئے، وہ جو کس سے بدل کر آئے؟ واؤ سے، اس کو لکھتے بھی الف کی صورت میں ہیں۔ اور وہ الف جو یا سے بدل کر آیا ہو، اس کو لکھتے بھی یا کی صورت میں ہیں۔ دیکھو عَصَا کو ہم کس سے لکھتے ہیں؟ کیونکہ یہ الف کہاں سے آیا؟ واؤ سے۔ ہاں، رَحَى کو کس کے ساتھ لکھتے ہیں؟ یا، کیونکہ یہ یا، ہے تو الف ابھی بھی، یہ بھی الف ہے، عَصَا میں بھی الف تھا، لیکن یہ الف بدلا تھا واؤ سے اور یہ رَحَى والا بدلا ہے کس سے؟ یا سے، تو الف، یہ رسم الخط ہے مولانا۔ كَرَحَيَانِ فِي رَحَى وَمُلْهَيَانِ فِي مُلْهًى، تو دیکھا یہ چار حرف، وَحُبَارَيَانِ فِي حُبَارَى، مولانا، مُلْهَيَانِ، مُلْهًى کا معنی ہے چکی میں گندم ڈالنا بھئی۔ چکی دیکھی ہے گھومتی ہے بھئی، اس کے درمیان میں کیا کرتے ہیں؟ گندم ڈالتے رہتے ہیں، وہ پیستی چلی جاتی ہے، تو یہ، تو یہ اس کی مُلْهًى کی تثنیہ آئی۔ حُبَارَيَانِ، یہ تثنیہ ہے حُبَارَى کی، سرخاب کو کہتے ہیں مولانا، سرخاب۔ وَحُبْلَيَانِ فِي حُبْلَى، اور اسی طرح حُبْلَى میں کیا کہیں گے؟ حُبْلَيَانِ۔ وَأَمَّا الْمَمْدُودُ، یہ تو الفِ مقصورہ میں تثنیہ کا طریقہ بتایا، اب الفِ ممدودہ میں، کہتے ہیں اس میں بھی دیکھو، فَإِنْ كَانَتْ هَمْزَتُهُ أَصْلِيَّةً، اگر اس میں وہ ہمزہ کیا تھی؟ اصلی، الفِ ممدودہ آیا مولانا، وہ ہمزہ اصلی بھی ہو سکتی ہے، وہ تانیث کی بھی ہو سکتی ہے، وہ کسی سے بدل کے واؤ یا یا سے بھی بدل کر آ سکتی ہے، کہتے ہیں فَإِنْ كَانَتْ هَمْزَتُهُ أَصْلِيَّةً، اگر وہ ہمزہ اصلی تھی، تَثْبُتُ، وہ کیا رہے گی؟ ثابت رہے گی، جیسے كَقُرَّاءَانِ فِي قُرَّاءٍ یا قَرَّاءَانِ فِي قَرَّاءٍ، مولانا دونوں طرف، تو قَرَّاء کہتے ہیں یا قُرَّاء، عمدہ قاری کو بھئی، کیا کہتے ہیں؟ عمدہ قاری کو قَرَّاء کہتے ہیں۔ تو اس کی، اس میں جو ہمزہ کیا ہے؟ اصلی ہے، مادہ اس کا کیا ہے؟ قَرَأَ، تو یہ برقرار رہے گی، تو قَرَّاءَانِ یا قُرَّاءَانِ۔ وَإِنْ كَانَتْ لِلتَّأْنِيثِ، اور اگر اس کی ہمزہ کس لیے ہوئی مولانا؟ تانیث کے لیے، تُقْلَبُ وَاوًا، تو یہ کس سے بدل جائے گی؟ واؤ سے۔ کس سے؟ واؤ سے۔ كَحَمْرَاوَانِ فِي حَمْرَاءَ، حَمْرَاء بھئی، کس کی مؤنث ہے؟ أَحْمَر کی، سرخ، حَمْرَاء، تو اس میں جو ہمزہ آ رہا ہے، یہ تانیث کی ہے اس میں، اس کو اب کس سے بدلیں گے؟ واؤ سے، تو حَمْرَاوَانِ ہوا۔ تو كَحَمْرَاوَانِ فِي حَمْرَاءَ، وَإِنْ كَانَتْ بَدَلًا مِنْ أَصْلٍ، اور اگر وہ کسی سے بدل کر آئی ہے، حَمْرَاء، یعنی واؤ یا یا سے بدل کر آئی ہے، وَإِنْ كَانَتْ بَدَلًا مِنْ أَصْلٍ، اور اگر وہ بدل کر آئی ہے کسی اصل سے، چاہے وہ اصل واؤ ہو یا یا ہو، جَازَ فِيهِ الْوَجْهَانِ، اس میں کتنی وجہیں پڑھنا جائز؟ دو وجہیں پڑھنا جائز ہیں مولانا، ایک تو یہ کہ آپ اس کو برقرار رکھیں، ایک یہ کہ اس کو واؤ سے بدل دیں۔ کس سے بدل دیں؟ دیکھو انہوں نے ضابطہ بتایا، الفِ ممدودہ کے اندر اگر ہمزہ اصلی ہے تو برقرار رہے گی اور اگر کیا ہے ہمزہ تانیث کے لیے ہے تو کس سے بدلے گی؟ واؤ سے بدلے گی اور اگر واؤ یا، بس یوں کہیں، اس کے علاوہ باقی صورتوں میں آپ کو اختیار ہے، واؤ سے بھی بدل سکتے ہیں اور اس کو ثابت بھی رکھ سکتے ہیں، كَكِسَاوَانِ وَكِسَاءَانِ، تو كِسَاوَانِ بھی كِسَاء کے اندر كِسَاوَانِ بھی کہہ سکتے ہیں، كِسَاءَانِ بھی کہہ سکتے ہیں۔ وَيَجِبُ حَذْفُ نُونِهِ عِنْدَ الْإِضَافَةِ، اور تثنیہ، واجب ہے تثنیہ کے نون کو حذف کرنا کس وقت؟ اضافت کے وقت، تَقُولُ، آپ کہتے ہیں: جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ، یہ اصل میں کیا تھا؟ غُلَامَانِ، وَمُسْلِمَا مِصْرَ، وَكَذَالِكَ تُحْذَفُ تَاءُ التَّأْنِيثِ فِي تَثْنِيَةِ الْخُصْيَةِ وَالْأَلْيَةِ یا وَالْإِلْيَةِ، دونوں طرح سے ہے، اِلْيَة اور اَلْيَة، خَاصَّةً مولانا، خُصْيَة لفظ اور اَلْيَة لفظ مولانا، ان کے آخر میں بھی تاء تانیث آ رہی ہے، ان کی جب تثنیہ بنائیں تو اس تاء کو حذف کرنا بھی جائز اور برقرار رکھنا بھی جائز، تو خُصْيَتَانِ اور خُصْيَانِ، اَلْيَتَانِ اور اَلْيَانِ، دونوں کہنا جائز۔ وَكَذَالِكَ تُحْذَفُ تَاءُ التَّأْنِيثِ فِي تَثْنِيَةِ الْخُصْيَةِ وَالْأَلْيَةِ خَاصَّةً، خاص طور پر ان دو لفظوں میں، باقیوں میں حذف نہیں کر سکتے، تَقُولُ: خُصْيَانِ وَأَلْيَانِ، لِأَنَّهُمَا مُتَلَازِمَانِ، اس لیے کہ یہ دونوں لازم ہیں ایک دوسرے کے ساتھ، فَكَأَنَّهُمَا شَيْءٌ وَاحِدٌ، تو گویا ایک ہی چیز ہے، تو یہ مولانا، یہ کیا ہے؟ تاء کو حذف کر دیتے ہیں شدتِ اختصار کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اَلْيَة کہتے ہیں مولانا، وہ دنبے کی چکی آپ نے دیکھی ہو گی، اس کو اَلْيَة کہتے ہیں، اَلْيَة۔ وَاعْلَمْ أَنَّهُ إِذَا أُرِيدَ إِضَافَةُ مُثَنًّى إِلَى الْمُثَنَّى يُعَبَّرُ عَنِ الْأَوَّلِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا، وَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا، وَذَالِكَ لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ تَثْنِيَتَيْنِ فِيمَا تَأَكَّدَ الِاتِّصَالُ بَيْنَهُمَا لَفْظًا وَمَعْنًى۔ بھئی، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا کہ عرب تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف پسند، تو پھر پہلے تثنیہ کو کس سے بدل دیتے ہیں؟ جبکہ اس کی اضافت کس کی طرف ہو؟ ضمیر کی طرف ہو۔ اس لیے مولانا کہ ان کے درمیان لفظاً بھی اتصال ہے اور معناً بھی اتصال ہے۔ لفظاً اتصال اس لیے کہ ایک مضاف ہے، ایک مضاف الیہ ہے اور مضاف مضاف الیہ میں اتصال کیا ہوتا ہے؟ بڑا شدید ہوتا ہے۔ معناً بھی اتصال ہے اس لیے کہ اس کی اضافت ہو رہی ہے ضمیر کی طرف، تو یہ عین، یہ دونوں ایک ہی چیز ہوں گے یا اول ثانی کا جزو ہو گا۔ یہ دونوں کیا ہوں گے؟ ایک ہی چیز ہوں گے یا اول ثانی کا جزو ہو گا، نَفْسُ أَنْفُسُهُمَا، أَيْدِيَهُمَا۔ بھئی چور چوری کرے تو اس، یا عورت چوری کرے، مرد چوری کرے تو ان کے کیا کرتے ہیں؟ ہاتھ کاٹتے ہیں، تو قرآن میں کیا آیا؟ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا، حالانکہ کیا ہونا چاہیے؟ فَاقْطَعُوا يَدَيْهِمَا، تو لیکن یہاں تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف تھی، تو اس پہلے کو کس سے بدل دیا گیا؟ جمع سے، تو کیا ہوا؟ أَيْدِيَهُمَا، اب بتلائیے، هُمَا ضمیر کس کو راجع؟ چوری کرنے والا مرد اور عورت کی طرف، اور اس کی اضافت مضاف کیا ہے؟ أَيْدِيَه، اور بتاؤ يَدٌ ان کا جزو ہے یا نہیں مولانا؟ جی؟ بھئی ہاتھ چور کا جزو ہے یا خارج چیز ہے کوئی؟ جزو ہے، تو یہاں مولانا، دونوں ان میں اتصال لفظاً بھی ہے بڑا قوی اور معناً بھی بڑا قوی ہے، لفظاً دونوں مضاف مضاف الیہ ہیں اور معناً اس لیے کہ مضاف جزو ہے کس کا؟ مضاف الیہ کا۔ اور یا کہیں مولانا، جَاءَنِي زَيْدٌ، جَاءَنِي الزَّيْدَانِ أَنْفُسُهُمَا، یہ أَنْفُس کی اضافت کس کی طرف ہے؟ هُمَا کی طرف، اور یہ اس تثنیہ آنا تو چاہیے تھا نَفْسَاهُمَا، لیکن نَفْسانی کو کس سے بدل دیا گیا؟ جمع سے، کیوں؟ کیونکہ نَفْس سے کون سا کیا مراد ہے؟ زید کا نفس، کون سا، اور هُمَا ضمیر بھی کس کو راجع؟ انہی کو، اور نفس بھی انہی کا مراد، اب آپ بتائیے، ان کا نفس اور ان کی ذات کوئی الگ چیزیں ہیں یا ایک ہی چیز ہے؟ ایک ہی چیز ہے، تو ان دونوں میں یا تو مضاف عین مضاف الیہ ہو گا یا مضاف کیا ہو گا؟ جزوِ مضاف الیہ ہو گا، تو معناً بھی اتصال آیا اور لفظاً بھی اتصال ہے کہ مضاف مضاف الیہ ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَاعْلَمْ أَنَّهُ إِذَا أُرِيدَ إِضَافَةُ مُثَنًّى إِلَى الْمُثَنَّى، جب ارادہ کیا جائے تثنیہ کی اضافت تثنیہ کی طرف کا، يُعَبَّرُ عَنِ الْأَوَّلِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ، تو تعبیر کیا جاتا ہے اول کو جمع کے لفظ کے ساتھ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ فرماتے ہیں: فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا، پس تحقیق ٹیڑھے ہو گئے قُلُوبُكُمَا، تم دونوں کے دل بھئی، تو دیکھو كُمَا، دو کے دو دل ہوں گے یا جمع ہوں گے؟ جی؟ دو ہوں گے، تو ہونا کیا چاہیے؟ قَلْبَاكُمَا ہونا چاہیے، لیکن کیا کرتے ہیں عربی میں؟ تثنیہ کو کس سے پہلے بدل لیتے ہیں؟ تو دیکھو، یہاں دل ہیں اور ان کی اضافت مخاطب کی ضمیر کی طرف ہے اور دل ان کے جزو ہیں یا جزو نہیں مولانا؟ جزو ہیں، تو دیکھو معناً اتصال ہے۔ وَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا، وَذَالِكَ لِكَرَاهَةِ اجْتِمَاعِ تَثْنِيَتَيْنِ، اور یہ کس لیے مولانا؟ اس لیے کہ عرب ناپسند کرتے ہیں دو تثنیہ کا اجتماع، فِيمَا تَأَكَّدَ الِاتِّصَالُ بَيْنَهُمَا، ان دو چیزوں کے اندر کہ پختہ ہے ان کے درمیان اتصال، ان کے درمیان جوڑ کیا ہے؟ پختہ ہے، لَفْظًا، لفظاً بھی، وَمَعْنًى، اور معناً بھی۔ لفظاً اور معناً کی بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لفظاً کہتے ہیں کہ دونوں کیا ہیں؟ مضاف، اور معناً کیسے ہے کہ مضاف، مضاف الیہ کا عین ہو گا یا اس کا جزو ہو گا۔ فَصْلٌ، اَلْمَجْمُوعُ اسْمٌ دَلَّ عَلَى آحَادٍ مَقْصُودَةٍ بِحُرُوفِ مُفْرَدِهِ بِتَغَيُّرٍ مَا، جمع کس کو کہتے ہیں بھئی؟ بھئی رَجُل کا کیا معنی؟ ایک، اس کی जरा جمع بناؤ، رِجَال، آپ نے کیا کیا؟ رَجُل کے لفظوں میں، وزن میں تھوڑی سی تبدیلی کر دی۔ رَجُل میں رَاء پر فتحہ تھا، آپ نے کیا دے دیا؟ کسرہ۔ رَجُل میں جِيم پہ ضمہ تھا، آپ نے کیا دے دیا؟ فتحہ۔ جِيم اور لَام کے درمیان کچھ نہیں تھا، آپ درمیان میں کیا لے آئے؟ الف لے آئے، تو کیا بن گیا؟ رِجَال، تو یہ جو آپ نے تبدیلی کی مولانا، یہ رَجُل کے اندر، تبدیلی کیوں کی؟ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ اس کے ساتھ کہ کس لیے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ اس کے ساتھ اس جیسے اس سے زیادہ اور بھی ہیں، اس کے ساتھ اس جیسے اس سے زیادہ اور بھی ہیں۔ یہ ہے مولانا، تو آپ نے یہ رَجُل تھا، اس رَجُل کے اندر آپ تبدیلی کی، کیوں تبدیلی کی؟ یہ بتلانے کے لیے، رَجُل کا کیا معنی تھا؟ ایک آدمی، اور رِجَال کا مصداق تین یا تین سے زیادہ، تو آپ نے اس رَجُل میں تبدیلی کی یہ بتلانے کے لیے کہ اس کے ساتھ اس جیسے اس سے زیادہ اور بھی ہیں، اب بتائیے کم از کم کتنے ہوں گے مزید اور؟ دو یا، ایک تو تھا ہی اور کتنے ہوں گے کم از کم؟ دو یا تین یا چار ہوں گے، تو مولانا دیکھو، اس کے ساتھ، ادھر دیکھو، اس کے ساتھ اس جیسا، جیسے اور بھی ہیں اور اسی کے برابر ہیں یا اس سے زیادہ ہیں؟ یہ خود تو ایک ہے، ساتھ ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ ہیں؟ زیادہ ہیں، تو یہ تبدیلی کی کس لیے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ اس کے ساتھ اس جیسے اور بھی ہیں اس سے زیادہ۔ اچھا، یہ تو آگے آئے گا، چلیے، تعریف پہلے دیکھیے، اَلْمَجْمُوعُ اسْمٌ، جمع ایسا اسم ہے، دَلَّ عَلَى آحَادٍ، جو کس پر دلالت کرتا ہے؟ آحاد، افراد، جو دلالت کرتا ہے افراد پر، بھئی جمع کا ایک فرد ہوتا ہے، دو ہوتے ہیں یا تین اور تین سے زیادہ ہوتے ہیں؟ تو دیکھو وہ افراد ہوئے، تو جمع ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے افراد پر، ایسے افراد، مَقْصُودَةٍ بِحُرُوفِ مُفْرَدِهِ، جن کا ارادہ کس کے ساتھ کیا گیا ہے؟ اسی کے مفرد کے لفظ، بھئی رِجَال میں مولانا، رِجَال میں آپ نے ایک رَجُل کا ارادہ کیا یا کئی افراد کا؟ کئی افراد کا، اور کئی افراد کے ارادے کے لیے کوئی بالکل نیا کلمہ لے کر آئے ہیں یا وہی کلمہ ہے جو مفرد کے لیے تھا؟ وہی کلمہ ہے جو مفرد کے لیے تھا لیکن تھوڑی سی تبدیلی کر دی آپ نے، کیا کر دی؟ تو جمع ایسا اسم ہے جو دلالت کرے عَلَى آحَادٍ ایسے افراد پر، مَقْصُودَةٍ جن کا ارادہ کیا جائے بِحُرُوفِ مُفْرَدِهِ، اسی کے، مفردِہِ ہونا چاہیے مفردَةٍ تانیث ہونی چاہیے، هَاء ضمیر ہے یہ مولانا، جن کا ارادہ کیا جائے بِحُرُوفِ مُفْرَدِهِ اس کے مفرد کے حروف کے ساتھ، یعنی وہی مفرد والے حروف ہیں، بِتَغَيُّرٍ مَا، کچھ تبدیلی کے ساتھ۔ افراد کا ارادہ کیا جائے کچھ تبدیلی کے ساتھ۔ إِمَّا لَفْظِيٌّ، یہ جمع کیا ہے مولانا؟ یا تو لفظی ہو گی، كَرِجَالٍ فِي رَجُلٍ، جیسے کیا ہے مولانا؟ رِجَال ہے کس کے اندر؟ یہ تو لفظی تبدیلی ہے، کی ہے یا نہیں لفظوں میں آپ نے؟ أَوْ تَقْدِيرِيٌّ، کبھی تقدیری تبدیلی آئے گی مولانا، كَفُلْكٍ عَلَى وَزْنِ أُسْدٍ، دیکھو فُلْك مفرد کو بھی کہتے ہیں اور فُلْك کشتی اور جمع کو بھی کہتے ہیں، ایک کشتی ہو تب بھی کہتے ہیں فُلْك، تین یا تین سے زیادہ ہوں تب بھی کیا کہتے ہیں؟ فُلْك، یہاں آپ نے تو کہا تھا بھئی یہ تو مفرد اور جمع کے لیے ایک ہی کلمہ ہے، آپ نے تو کہا تھا کہ کیا کیا جائے گا؟ کچھ نہ کچھ تبدیلی کی جائے گی، کہتے ہیں بھئی تبدیلی تقدیرًا یہاں آ چکی ہے، تبدیلی کیا آ چکی ہے؟ تبدیلی یہ آئی مولانا کہ فُلْكٌ 6 یہ فلک کے اندر جو پہلا تھا فا کا ذمہ۔ یہ مفرد والا تھا۔ کون سا تھا؟ جب ہم نے جمع بنائی مولانا، تو یہ مفرد والا ذمہ ہٹا دیا ہم نے اور پھر نیا ذمہ لے کر آئے اور وہ نیا ذمہ جمع والا ہے۔ نیا ذمہ کیا ہے؟ تقدیراً یہاں تبدیلی دراصل آ چکی ہے، یعنی پہلے مفرد کیا تھا؟ فلک بر وزن قفل تھا۔ قفل بھی کیا ہے؟ فعل ہے اور فلک بھی کیا ہے؟ فعل، لیکن قفل جیسے مفرد اسی طرح فلک بھی کیا ہے؟ اور اسی طرح اسد کی جمع اسد آتی ہے۔ اسد شیر ہے اس کی جمع کیا آتی ہے؟ اور اور اس کا وزن بھی فعل ہے، تو فعل دو ہیں مولانا۔ ایک فعل مفرد ہے، ایک فعل کیا ہے؟ جمع ہے۔ تو پہلے جب یہ فلک مفرد تھا، تو یہ کون سے فعل پہ تھا؟ قفل والے اور اب مولانا یہ اب بھی فعل وزن ہے، لیکن یہ کون سا وزن ہے؟ اسد والا ہے، تو تقدیراً تبدیلی آ چکی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ او تقدیری یعنی یا یعنی مولانا تبدیلی تقدیری ہو گی، کالفلک علی وزن اسد جیسے فلک مولانا اسد کے وزن پر وان مفردہ ایضا فلک، اس لیے کہ اس کا مفرد بھی فلک ہے، لکنہ علی وزن قفل، لیکن اس کا مفرد کس وزن پر ہے؟ قفل پر۔ فقوم ورھط ونحوہ قوم اور رہط کا ایک معنی ہے مولانا۔ قوم کہتے ہیں مردوں کی جماعت کو۔ اسی طرح رہط بھی تین سے لے کر دس تک جو مردوں کی جماعت ہو، عورتیں نہ ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رہط کہتے ہیں۔ فقوم ورھط، پس قوم اور رہط کا لفظ ونحوہ اور اس جیسے الفاظ وان دل علی احاد اگرچہ یہ بھی کس پر دلالت کرتے ہیں مولانا؟ افراد، قوم کتنے کو کہیں گے کم از کم؟ تین۔ رہط کم از کم کتنے کو کہیں گے؟ تین۔ تو یہ بھی اگرچہ احاد پر دلالت کرتے ہیں لکنہ لیس بجمع، لیکن یہ جمع اذلا مفرد لہ، اس لیے کہ ان کا مفرد ہی، ہم نے تو کیا کہا تھا؟ جمع اس کو کہیں گے جو افراد پہ دلالت کرے لیکن افراد پہ کس کے ساتھ دلالت کرے؟ مفرد والے ہی حروف کے ساتھ، انہی میں تھوڑی سی تبدیلی کی جائے اور ان کا تو مفرد ہے ہی نہیں، یہ خود قوم کا لفظ ہی مفرد ہے۔ تو اب اگرچہ یہ افراد پہ دلالت کر رہا ہے۔ لیکن کیا مفرد کے الفاظ میں تبدیلی کی گئی ہے؟ جی؟ اس کا تو مفرد کوئی اور آتا ہی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا جی ہماری تعریف کے مطابق یہ جمع میں داخل نہیں۔ تو یہ مولانا اسم جمع ہے۔ یہ کیا ہے؟ اسم جمع، جو جمع تو نہیں ہوتا لیکن معنی کس کا ادا کرتا ہے؟ جمع کا ادا کرتا ہے۔ تو بات سمجھ میں آئی؟ یہ بھی کس کا معنی ادا کر رہا ہے؟ جمع کا، لیکن جمع نہیں، جمع کیوں نہیں؟ کیا وجہ ہے؟ کیونکہ افراد پر دلالت مفرد کے حروف کے ساتھ نہیں کر رہا۔ وان دل علی احاد، اگرچہ دلالت کرتا ہے افراد پر لکنہ لیس بجمع لیکن یہ جمع نہیں ہے، اذلا مفرد لہ، اس لیے اس کے کوئی مفرد نہیں، ثم الجمع علی قسمین، پھر جمع کتنے قسم پر ہے مولانا؟ دو قسم پر ہے۔ مصحح، ایک کیا ہے جمع؟ جمع صحیح ہے وہو ما لم یتغیر بناء واحدہ ومکسر وما، بعئی جمع مصحح ہے ایک جمع مکسر۔ جمع مصحح وہ ہے جس کے اندر مفرد کا وزن نہ ٹوٹے۔ مسلم، اس کی جمع کیا آتی ہے؟ مسلمون، تو دیکھو میم پر کیا تھا؟ ذمہ۔ جمع میں بھی میم پر؟ ذمہ۔ مسلم میں سین پر کیا تھا؟ سکون۔ وہاں پر بھی کیا ہے؟ سکون۔ لام پہ کیا تھا؟ کسرہ۔ وہاں بھی کیا ہے؟ کسرہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ دیکھو جو وزن مفرد کا تھا، وہ وزن ابھی بھی برقرار ہے۔ اس کو کہتے ہیں جمع صحیح، کیونکہ مفرد کا وزن ابھی بھی اس میں کیا ہے؟ صحیح اور سلامت ہے۔ اور اگر مفرد کا وزن ٹوٹ جائے، جیسے رجل کی جمع کیا بنائی؟ رجال۔ حرکتیں بدل گئیں، درمیان میں الف آ گیا مولانا، تو یہ کیا ہے؟ جمع مکسر۔ والجمع علی قسمین، جمع دو قسم پر ہے۔ مصحح، ایک جمع مصحح ہے وہو ما لم یتغیر بناء واحدہ، وہ ہے کہ جس میں نہ بدلے واحد کی بنا۔ واحد کی بنا میں کوئی تبدیلی، واحد کے بنا، واحد کے وزن میں یعنی کوئی تبدیلی نہ آئے مولانا۔ ومکسر، ایک جمع مکسر ہے وہو ما یتغیر فیہ بناء واحدہ، جس کے اندر واحد کی بنا میں کیا آ جائے؟ تبدیلی آ جائے اس کے وزن کے اندر والمصحح علی قسمین اور مصحح دو قسم پر ہے مولانا پھر۔ مذکر، ایک جمع مذکر سالم ہے اور ایک جمع مؤنث سالم۔ مذکر سالم میں واؤ نون، یا نون ملتے ہیں اور مؤنث سالم میں الف اور تا ملتے ہیں۔ قسم دو قسم پر ہے، مذکر، ایک مذکر ہے وہو ما ألحق بآخرہ واو مضموم، جس کے ساتھ آخر میں ملایا جائے آخر میں واؤ مضموم ملایا جائے، واؤ ایسا واؤ ملایا جائے، مضموم ما قبلہا، جس کا ما قبل کیا ہو؟ مسلمون کے آخر میں کیا ملایا؟ واؤ اور واؤ کا ما قبل کیا ہے؟ مضموم ونون، اور کیا ملایا جائے؟ نون، مسلمون مفتوحہ، اور وہ نون کیا ہو گا؟ مفتوحہ، کالمسلمون او یا، یہ تو حالت رفعی میں تھا۔ یہ حالت نصبی جری میں کیا ہے؟ یا او یاء، اور ایسی یا ملائی جائے مقصور ما قبلہا، جس کا ما قبل کیا ہے؟ مقصور ہے ونون، اور اسی کذالک، یعنی نون اسی طرح کا نون یعنی نون مفتوحہ ملایا جائے۔ کیوں؟ لیدل، تاکہ یہ دلالت کرے علی ان معہ، کہ اس کے ساتھ اکثر ان معہ اکثر منہ اس سے زیادہ اس جیسے ہیں۔ تاکہ دلالت کرے علی ان اس بات پر کہ معہ اس ایک کے ساتھ مولانا اکثر اس منہ اس سے زیادہ ہیں۔ اس جیسے اس سے زیادہ ہیں۔ نحو مسلمین، جیسے مسلمین۔ وہذا فی الصحيح، اور یہ کس کے اندر ہے مولانا؟ یہ تو صحیح میں تھا، آسان طریقہ تھا واؤ نون ملایا، یا نون ملایا۔ اما المنقوص، ناقص میں کیا کریں گے بھئی؟ ناقص جس کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ حرف علت۔ کہتے ہیں فترحذف یاؤہ، اس کی یا کو کیا کر لیا جائے گا؟ جمع مؤنث مذکر سالم بنانے کے لیے یا کو حذف کر دیں گے، مثل قاضون و داعون، قاضی کی جمع ہے قاضون، داعی کی جمع ہے داعون، کیسے بنا؟ قاضی، پھر کیا کیا مولانا؟ واؤ نون ملایا اور کیا بنا؟ اور یا کو ذمہ دیا، قاضیون، پھر یا پر ذمہ ثقیل تھا، اس کو گرا دیا، کیا ہوا؟ قاضیون، یا اور واؤ اجتماع ساکنین لا غیر حدہ آیا، یا کو پہلا مدہ یا تھا، اس کو گرا دیا، کیا ہوا؟ قاضیون، پھر مولانا واؤ اس میں سے ما قبل کیا چاہتا ہے؟ ذمہ، کیا کیا؟ قاضون کیا۔ اسی طرح داعون ہے۔ تو یہ مولانا اس میں منقوص کا یہ طریقہ ہے کہ آپ اس میں کیا کر لیں؟ یا کو حذف کر کے۔ والمقصور یحذف الفہ وی بقی ماقبلہا مفتوحا، بھئی الف مقصورہ ہے، اس سے ہم جمع بنانا چاہتے ہیں، تو جیسے مصطفیٰ ہے، کیا ہے؟ اب اس کی ہم جمع بنانا چاہتے ہیں، اس کا کیا طریقہ ہے؟ کہتے ہیں بس الف گراؤ، واؤ لگاؤ۔ واؤ نون لگا دو، مصطفیٰ مصطفون۔ کیا بن جائے گا؟ مصطفون، الف گرا کر واؤ اور ہاں، یہ واؤ سے قبل ذمہ نہیں لانا، فتحہ برقرار رکھنا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم نے یہاں سے الف حذف کیا ہے، یہ فتحہ دلالت کرتا رہے گا کہ یہاں سے کیا حذف ہوا ہے؟ الف ورنہ تو پتہ نہیں چلے گا۔ والمقصور، اور اسم مقصور جو ہے یحذف الفہ، اس کے الف کو حذف کر لیا جائے گا وی بقی ماقبلہا مفتوحا، اور اس کے ماقبل کو مفتوح ہی چھوڑ دیا جائے گا لیدل علی الف محذوفہ، تاکہ وہ کس پہ دلالت کرے؟ الف محذوفہ پہ دلالت کرے، مثل مصطفون، جیسے مصطفون ہے ویختص بولی العلم۔ اور یہ خاص ہے مولانا یاد رکھو! یہ خاص کیا ہے؟ بھئی جمع مذکر سالم یہ سب سے اعلیٰ جمع ہے۔ کیا ہے؟ تو لہٰذا یہ صرف ذوی العلم کے لیے، علم والوں کے لیے آئے گی، ذوی الع غیر علم والوں کے لیے، جانوروں وغیرہ کے لیے نہیں آئے گی۔ تو یہ خاص ہے اولی ذوی العقول کے ساتھ مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ انسان، جنات، فرشتوں کے لیے یہ آئے گی، ذوی العلوم سے کیا مراد ہے؟ ذوی العقول۔ ذوی العقول کتنے ہیں مولانا؟ تین: انسان، جنات اور فرشتے۔ تو ان تین کے لیے آئے گی، ان کے علاوہ اور چیزوں کے لیے نہیں آئے گی۔ اچھا بھئی ضابطہ آگے انہوں نے فوراً، اما قولہم سنون وارضون وسبون وقلون فشاذ۔ بھئی آپ نے کیا کہا؟ یہ جمع مذکر سالم ہمیشہ کس سے آئے گی؟ ذوی العقول سے آئے گی۔ ایک تو مذکر ہو، دوسرا ذوی العقول، معلوم ہوا مؤنث کی بھی نہیں آئے گی اور جو غیر ذوی العقول ہے، اس میں سے بھی ہم آپ کو دکھاتے ہیں بھئی کتنی جمعیں آئی ہیں۔ ارض، ارض کی جمع آتی ہے ارضون۔ حالانکہ ارض ذوی العقول میں سے ہے یا غیر ذوی العقول میں سے؟ سنۃ، سال، اس کی جمع بھی کیا آتی ہے؟ سنون، یہ بھی دیکھو مؤنث بھی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تا بھی ساتھ ملی ہوئی ہے، پھر بھی، اسی طرح سبۃ سبۃ جماعت کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ سبۃ، اس کی جمع سبون آتی ہے۔ سبۃ گول تا کے ساتھ ہے مولانا، جماعت کو کہتے ہیں۔ ث، با، گول تا، سبۃ۔ قلون، جمع ہے قلۃ کی، قاف، لام، گول تا، گلی ڈنڈے کو کہتے ہیں بھئی۔ قلون، سمجھ میں آیا؟ کھیلا یا نہیں کھیلا کبھی گلی؟ کبھی کھیلے ہی نہیں؟ تو قلون، تو دیکھو! سنون، سنۃ کی جمع ہے، ارضون، ارض کی جمع ہے، سبون، سبۃ کی ہے، قلون، قلۃ کی ہے، سارے مؤنث ہیں، غیر ذوی العقول میں سے ہیں، ان ساروں کی جمع واؤ نون سے آئی۔ تو کہتے ہیں مولانا یہ اما قولہم، یہ جو قول ہیں سنون، ارضون، سبون، قلون، فشاذ، یہ کیا ہیں؟ شاذ ہیں، یعنی نادر ہیں مولانا، بہت کم آئے ہیں، دو چار چھ آنے سے کوئی ضابطہ ہمارے پہ کوئی اثر نہیں پڑتا بس، یہ دو چار چھ ضابطے کے خلاف ہیں، باقی پورے عربی کو آپ کھنگال ڈالیے، سارے ہمارے ضابطے کے مطابق ہیں، تو یہ نادر ہیں۔ والنادر کالمعدوم، نادر کیا ہوتا ہے؟ معدوم کی طرح ہوتا ہے، وہ قابل شمار نہیں ہوتا۔ تو پورے عربی میں صرف چار پانچ چھ لفظ آ جائیں، اس سے کوئی فرق پڑے گا بھئی؟ پورے عربی میں نہیں آیا اور۔ ویجب ان لا یکون قال مأنثہ فعلاء۔ بھئی یہ ایک ضابطہ یاد رکھو، بڑا قیمتی ضابطہ ہے۔ کسی بھی اسم کی واؤ نون سے آپ جمع، جمع مذکر سالم بنانا چاہتے ہیں، اس کا ضابطہ باقاعدہ بتلا رہے ہیں یہ، جو کچھ گزر بھی چکا ہے مولانا۔ ضابطہ بتلائیں گے۔ کہ جس اسم کی آپ جس مفرد کی آپ جمع مذکر، جس مفرد کی آپ جمع مذکر سالم بنانا چاہتے ہیں وہ اسم ہو گا یا صفت، وہ اسم ہو گا یا صفت، وہ اسم ہو گا یا؟ اگر اسم ہے تو اس کے لیے تین شرائط ہیں۔ اگر اسم ہے تو اس کے لیے تین شرائط ہیں۔ نمبر ایک: عالم ہونا چاہیے۔ نمبر ایک: عالم ہونا چاہیے۔ نمبر دو: ذوی العقول کے لیے علم ہو۔ ذوی العقول کے لیے ہو، ذوی العقول کے لیے ہو، نمبر تین: مذکر ہو، یعنی تا وغیرہ ساتھ نہ ملی ہو۔ یعنی تا وغیرہ، مذکر ہو، یعنی تا وغیرہ ساتھ نہ ملی ہو۔ کیا شرائط ہیں مولانا؟ جس مفرد کی آپ جمع مذکر سالم بنانا چاہتے ہیں، وہ یا تو اسم ہو گا یا کیا ہو گا؟ صفت۔ اگر اسم ہے تو کتنی شرائط ہیں؟ تین شرائط۔ شرط اول کیا ہے؟ علم ہو، معلوم ہوا غیر علم نکل گیا۔ اگلی دوسری شرط کیا ہے؟ ذوی العقول، معلوم ہوا غیر ذوی العقول سارے نکل گئے۔ نمبر تین کیا ہو؟ مذکر ہو، معلوم ہوا علم ہو چاہے ذوی العقول کے لیے ہو لیکن تا وغیرہ ساتھ ملی ہوئی ہو تو وہ بھی کیا ہوا؟ خارج، معلوم ہوا طلحۃ کی جمع مذکر سالم ہم نہیں، کیونکہ اس کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہے؟ تا ملی ہوئی ہے۔ ہاں، زید کی بنا سکتے ہیں کیونکہ علم بھی ہے، ذوی العقول کے لیے بھی ہے اور تا بھی ساتھ نہیں ملی ہوئی، تو الزیدون ہم کہتے ہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور اگر وہ مفرد صفت ہو، تو پھر اس میں تو پھر اس میں چھ شرائط ہیں مولانا۔ پھر اس میں چھ شرائط ہیں۔ پہلی شرط، ایک شرط ایک شرط عد وجودی ہے اور پانچ عدمی ہیں۔ ایک شرط وجودی ہے اور پانچ عدمی ہیں۔ وجودی، پہلی وجودی شرط یہ کہ مذکر ذوی العقول کے لیے ہو، کہ وہ صفت مذکر ذوی العقول کے لیے ہو، کہ وہ صفت مذکر ذوی العقول کے لیے ہو، اور باقی شرائط کتاب میں مذکور ہیں مولانا۔ باقی شرائط کیا ہیں؟ کتاب کے اندر مذکور ہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو دیکھو! پہلے کیا ضابطہ تھا کہ اگر اسم ہو تو اسم کی جمع مذکر سالم بنانا چاہتے ہوں تو واؤ نون کے ساتھ، تو کیا ضابطہ تھا؟ کتنی شرائط تھیں؟ تین، نمبر ایک علمیت، ثانی نمبر دو تذک ذوی العقول، نمبر تین تذکیر، تو اس پہ اشکال ہوتا تھا مولانا سنون، ارضون، سبون، قلون کا مولانا، سبون اور قلون کا، تو مصنف نے ان کا جواب دے دیا مولانا کہ یہ سارے کیا ہیں؟ شاذ ہیں، اور مولانا اگر صفت ہو تو اس کے اندر کتنی شرائط ہیں؟ چھ ہیں، جن میں سے ایک کیا ہے؟ وجودی ہے اور پانچ کیا ہیں؟ عدمی ہیں۔ وجودی شرط کیا؟ پس وہ مذکر اور وہ کس میں سے ہو؟ ذوی العقول، پہلی شرط، پانچ کیا ہیں؟ عدمی، ان میں سے پہلی عدمی شرط کیا؟ جی؟ کہ ہاں، تا نہ ہو، یہ لکھی آپ نے؟ اچھا ہاں، یہ ایک لکھی ہیں۔ ایک لکھی ہیں، باقی چار کتاب میں ہیں۔ پہلی شرط عدمی وجودی کیا ہے؟ مذکر ذوی العقول کے لیے، دوسری شرط کیا ہے عدمی کیا ہے؟ تا نہ ہو، آگے دیکھیے کتاب میں ہے۔ ویجب ان لا یکون افعل، اور واجب ہے کہ ایسا افعل وزن نہ ہو مأنثہ فعلاء، جس کی مؤنث کیا آتی ہے؟ بھئی دیکھو! ایک افعل اسم تفضیل ہے، ایک افعل صفت مشبہ ہے۔ افعل اسم تفضیل ہے، اس کی مؤنث کیا آتی ہے؟ اضرب کی مؤنث کیا آئے گی؟ ذرباء، سمجھ میں آیا؟ اور یہ ہے اسم تفضیل اور ایک افعل صفت ہے، صفت مشبہ، جیسے احمر، ابیض، اسود، یہ کیا ہے؟ صفت مشبہ ہے، اس کی جمع، اس کی مؤنث کیا آئے گی؟ حمراء، حمراء۔ تو معلوم ہوا ایسا افعل نہ ہو جس کی مؤنث کیا آتی ہو؟ فعلاء، کیا معنی؟ افعل صفت نہ ہو، یعنی اسم تفضیل۔ کاحمر وحمراء، جیسے احمر اور حمراء ہیں، یعنی یہ نہ ہو۔ ولا فعلان، اور نہ ایسا فعلان ہو مأنثہ فعلی، جس کی مؤنث کیا آتی ہو؟ فعلی، جیسے سکران کی مؤنث کیا آتی ہے؟ سکری۔ ولا فعیلا بمعنی مفعول، اور 7 ایسا فعیل نہ ہو جو کس معنی میں ہو؟ مفعول، جیسے جریح بمعنی مجروح کے آتا ہے۔ تو یہ فعیل معنی نہ فعیل کبھی بمعنی فاعل کے آتا ہے، فعیل کبھی بمعنی مفعول کے آتا ہے۔ ایسا فعیل نہ ہو جو بمعنی مفعول کے ہو۔ جیسے جریح بمعنی مجروح، قتیل بمعنی مقتول۔ ولا فعول، ولا فعولا بمعنی فاعل، اور ایسا فعول بھی نہ ہو جو بمعنی فاعل کے ہو۔ فعول بھی کبھی فاعل کے معنی میں آتا ہے اور کبھی مفعول کے معنی میں۔ تو کبھی ایسا فعول نہ ہو جو یعنی فعول کے فاعل کے معنی میں ہو، یعنی صبور جیسے صبور بمعنی صابر۔ وجہ یہ ہے مولانا کہ وہ فعیل ادھر دیکھو، وہ فعیل جو بمعنی مفعول کے ہو اور وہ وہ فعول جو بمعنی فاعل کے ہو، یہ مذکر مؤنث میں مشترک ہے۔ یہ کیا ہے؟ مذکر مؤنث۔ عورت کو بھی کہتے ہیں مولانا: امرأة جريح، رجل جريح۔ سمجھ میں آیا؟ امرأة صبور، رجل صبور۔ تو یہ فعیل جو بمعنی مفعول کے ہو اور یہ فعول جو بمعنی فاعل کے ہو، یہ مذکر اور مؤنث دونوں کے درمیان کیا ہیں؟ مشترک ہیں اور یہ جمع مذکر سالم تو خاص ہے کس کے ساتھ مولانا؟ صرف مذکر کے ساتھ، تو یہ بھی نہ ہو۔ یہ چار شرائط ہوئیں۔ کیا شرائط ہیں مولانا؟ پہلی وجودی شرط کیا تھی؟ مذکر ذوی العقول کی صفت ہو۔ دوسری شرط کیا باقی پانچ عدمی تھیں، ان عدمی میں سے پہلی کیا تھی؟ تاء نہ ملی ہوئی ہو اور دوسرا؟ ایسا افعل صفت نہ ہو، ایسا افعل نہ ہو جس کی مؤنث کیا آتی ہو؟ فعلاء۔ ایسا فعلان بھی نہ ہو جس کی مؤنث کیا آتی ہو؟ فعلی۔ ایسا فعول ایسا فعیل بھی نہ ہو جو کس معنی میں ہو؟ مفعول کے معنی میں۔ ایسا فعول بھی نہ ہو جو کس معنی میں ہو؟ فاعل کے معنی میں ہو۔ تو پھر یہ پانچ شرائط جب چھ شرائط پوری ہو جائیں تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں اس کی؟ جمع مذکر سالم اس صفت کی بنا سکتے ہیں۔ اب آپ بتائیے علامة، یہ صفت ہے۔ دلالت کر رہا ہے کہ کوئی شخص کیا ہے؟ متصف ہے بانتہاء علم کے ساتھ، جاننے والا ہے۔ اب آپ بتائیے مولانا، یہ صفت ہے، اس کی جمع مذکر سالم واؤ نون کے ساتھ ہم بنا سکتے ہیں یا نہیں بنا سکتے ہیں؟ کیوں نہیں بنا سکتے؟ تاء ملی ہوئی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ اگرچہ علامہ مذکر کے لیے آتا ہے، ذوی العقول کے لیے آتا ہے لیکن اس کے ساتھ کیا ہے؟ تاء ملی ہوئی ہے۔ ويجب حذف نونه بالإضافة، اور واجب ہے مولانا اس جمع کے نون کو حذف کرنا بالإضافة، کس کے ساتھ؟ اضافت کے ساتھ جیسے مسلمو مصر، اصل میں کیا تھا؟ مسلمون مصر۔ مصر بمعنی شہر کے ہے مولانا، وہ ملک نہیں مراد۔ اگر وہ ملک مراد ہوتا تو یہ غیر منصرف بن جاتا۔ ومؤنث، اور ایک دوسری اس کا عطف کس پر ہے؟ بھئی وہ صفحے کے اوپر گزرا تھا والمصحح على قسمين مذكر و... جمع سالم دو قسم پر ہے، ایک مذکر ہے اور ایک... ہاں، تو یہ اس پر عطف ہے مولانا۔ یہ درمیان میں ساری جمع مذکر کی باتیں چل رہیں۔ وهو ما، جمع مؤنث سالم وہ ہے مولانا: ما ألحق بآخره ألف وتاء، ألف وتائ، جس کے آخر کے ساتھ کس کو ملایا جائے؟ الف اور تاء کو جیسے مسلمات۔ وشرطه إن كان صفت، اس میں بھی مولانا دیکھو، اگر آپ کسی کی جمع مؤنث سالم بنانا چاہتے ہیں تو دیکھو وہ وہ کیا ہے؟ صفت ہے یا اسم ہے؟ صفت ہے یا اسم؟ اگر اسم ہے تو کوئی شرط نہیں، بس آپ کیا کریں؟ اس کی جمع مؤنث سالم الف تاء کے ساتھ بنا سکتے ہیں۔ اگر صفت ہے تو پھر دیکھو اس صفت کے لیے مذکر ہے یا مذکر نہیں؟ اگر مذکر ہے تو اس مذکر کی جمع واؤ نون سے آنی چاہیے۔ اس مذکر کی جمع کیا آنی چاہیے؟ بھئی دیکھو یہ مؤنث ہے، اس کے مقابلے میں یہ مذکر ہے۔ اس جمع کو آپ الف تاء والی جمع دینا چاہتے ہیں اور یہ تو بڑی اعلیٰ جمع ہے، تو شرط یہ ہے اس کا مذکر بھی اس سے کم نہ ہو، اس کے پاس بھی سب سے اعلیٰ جمع ہو، کون سی؟ واؤ نون والی، تو پھر اس کو دے دو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر تو مؤنث کا درجہ کیا ہو جائے گا مذکر پر؟ بڑھ جائے گا، لہٰذا اس کو الف تاء والی ورنہ جمع دینا جائز... تو دیکھو اگر اسم ہے پھر تو کوئی شرط نہیں، اگر صفت ہے تو پھر دیکھو کہ اس کے مقابلے میں کوئی مذکر ہے یا مذکر نہیں؟ اگر مذکر ہے تو اس کی جمع کس سے آنی چاہیے؟ واؤ نون سے۔ اگر اس کے مقابلے میں کوئی مذکر ہی نہیں ہے تو پھر کہتے ہیں کم از کم اس صفت کے ساتھ تاء ملی ہونی چاہیے۔ کیا ہونی چاہیے؟ تاء ملی ہونی چاہیے، پھر آپ اس کی الف تاء سے بنا سکتے ہیں جمع ورنہ جائز نہیں۔ وشرطه إن كان صفة، اور شرط اس جمع کی یہ ہے مولانا کہ اگر صفت کا صیغہ ہو وله مذكر اور اس کے لیے کوئی مذکر بھی ہو تو أن يكون مذكره قد جمع بالواو والنون، تو اس کے مذکر کو جمع کیا جاتا ہو کس کے ساتھ مولانا؟ واؤ نون کے ساتھ، نحو مسلمون جیسے مسلمون۔ وإن لم يكن له مذكر، اور اگر کوئی مذکر اس کے لیے نہیں ہے فشرطه أن لا يكون مؤنثا مجردا عن التاء، تو شرط یہ ہے مولانا کہ ایسی مؤنث نہ ہو جو خالی ہو کس سے؟ تاء سے۔ کم از کم اس کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہو؟ تاء، سب سے اعلیٰ جمع دینے لگے ہیں تو کم از کم اس کے ساتھ تانيث کی علامت تو پہلے سے ملی ہونی چاہیے۔ كالحائض والحامل، جیسے کیا ہے؟ حائض اور حامل ہے۔ یہ دیکھو حائض، حیض والی عورت، تاء کو ساتھ نہیں ملایا۔ تاء کو ساتھ نہیں ملاتے، کیوں؟ کیونکہ یہ صفت خاص ہے، اس میں کوئی اشتباہ نہیں، یہ کس میں پائی جائے گی؟ عورت ہی میں۔ حامل، حاملہ ہونا، تو حامل یہ صفت تاء ملانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ وصف خاص ہے کس کے ساتھ؟ عورت کے ساتھ ہی۔ تو لہٰذا اس حائض اور اس حامل کی حاملات اور حائضات نہیں بنائیں گے۔ ان کی جمع مؤنث سالم ان کی... اس لیے مولانا کہ حائض جیسے لفظ ہے، اسی طرح حائضة بھی آتا ہے لفظ۔ جیسے حامل ہے، اسی طرح لفظ کیا آتا ہے؟ حاملة بھی آتا ہے۔ تو اگر اور اس حاملہ اور اس حائضہ کی جمع الف تاء سے آتی ہے، حاملة کی جمع کیا آتی ہے؟ حاملات، حائضة کی جمع کیا آتی ہے؟ حائضات۔ تو اگر اس کی جمع بھی الف تاء سے ہے اور یہ جو بغیر تاء والا ہے اس کی بھی الف تاء کے ساتھ ہو تو ہمیں فرق ہی نہیں پتہ چلے گا کہ جمع آ جائے تو ہمیں یہ پتہ نہیں چلے گا کہ یہ حامل کی جمع ہے یا حاملة کی، سمجھ میں آیا؟ حائضات آ جائے تو ہمیں پتہ نہیں چلے گا یہ حائضة کی جمع ہے یا حائض کی، تو جب ایک کو وہ جمع دے دی تو دوسری کو نہیں۔ وإن كان اسما غير صفة، اور اگر وہ ایسا اسم مفرد ایسا اسم تھا جو صفت نہیں تھا جمع بالألف والتاء، تو اس کی جمع کس کے ساتھ لائی جائے گی؟ الف اور تاء کے ساتھ بلا شرط، بغیر کسی شرط کے كہندات، جیسے ہند کی جمع ہندات۔ والمكسر، جمع مکسر جو ہے مولانا، یہ تو جمع سالم کی بات چل رہی تھی، مذکر بھی گزرا، مؤنث بھی گزرا۔ اب جمع مکسر کی بات آئی، کہتے ہیں: صيغته في الثلاثي كثيرة، ثلاثی کے اندر اس کے ثلاثی مجرد میں اس کے صیغے کیا ہیں مولانا؟ کثیر ہیں، تعرف بالسماع، جن کو کس سے پہچانا جائے گا؟ سماع سے۔ كررجال، یہ بھی جمع مکسر ہے، أفراد، یہ بھی جمع ہے، وفلوس، یہ بھی جمع ہے، ساروں میں دیکھو افراد جمع ہے فرس کی، فلوس جمع ہے فلس کی، ساروں میں وزن ٹوٹ رہے ہیں مفرد کے۔ وفي غير الثلاثي، اور غیر ثلاثی مجرد کے علاوہ میں یعنی ثلاثی مجرد کے علاوہ میں مولانا على وزن فعالل وفعاليل، کس وزن پر آئے گی جمع مکسر؟ فعالل اور فعاليل پر آئے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ درہم، ثلاثی ہے یا رباعی؟ تین حرف ہیں یا...؟ رباعی، تو اس کی جمع دراهم آئی، فعالل آئی۔ دینار، ثلاثی ہے یا زائد ہے؟ زائد ہے، اس کی جمع فعالل یا فعاليل آتی ہے، کیا آئے گی؟ دنانير، کیا آئے گی؟ دنانير۔ ایک اور ضابطے کی بھی تصدیق ہو گئی مولانا، ابھی میں نے آپ کو بتایا تھا، کیا ضابطہ؟ والتصغير والتكسير يردان الأشياء إلى أصولها، دیکھا؟ تو یہ میں نے کون سی جمع تکسیر بنائی ہے یا جمع سالم بنائی ہے؟ اور جمع تکسیر کیا کرتی ہے؟ چیز کی اصل بتلا دیتی ہے۔ دینار، دینار مولانا معلوم ہوا یہ جو دینار کے اندر یاء آ رہی ہے، یہ دراصل نون تھی۔ یہ کیا تھی؟ اصل میں تھا دنّار، کیا تھا؟ دنّار۔ پھر مولانا عربی میں یوں کرتے ہیں کہ کبھی دو حرف ایک جنس کے آ جائیں تو ثقیل بن جاتا ہے ذرا ثقیل ہوتی ہے، تو اس اول ان میں سے ایک کو حرف علت یاء سے بدل دیتے ہیں، کس سے بدل دیتے ہیں؟ حرف علت سے، تو دنّار تھا تو اول کو کس سے بدل دیا؟ یاء سے بدل دیا، دینار۔ بھئی کیا دلیل ہے یہ اصل میں دنّار تھا؟ دو نون تھے۔ دنانير مولانا اس کی جمع تکسیر دلیل ہے، دو نون آ رہے ہیں یا نہیں آ رہے مولانا؟ وہ یاء کہاں گئی بھئی؟ دنانير بھئی، دال اور نون کے درمیان کوئی یاء آئی ہے؟ نہیں، اور مفرد میں تو تھی، معلوم ہوا وہ یاء کس سے بدل کر آئی تھی؟ نون سے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح مولانا قيراط ہے، قيراط، یہ اصل میں ہے قرّاط۔ کیسے پتہ چلا؟ جمع سے، جمع کیا ہے؟ قراريط، دیکھا دو راء آ گئیں اس میں کیونکہ والتكسير يرد الأشياء إلى أصولها، سمجھ میں آیا۔ تو مولانا ثلاثی کے اندر تو ضابطہ نہیں سماع پر موقوف ہیں، بہت سے اوزان آتے ہیں اور غیر ثلاثی کے اندر على وزن فعالل وفعاليل، کن اوزان پر آتے ہیں؟ فعالل اور فعاليل اوزان پر قياسا، قیاس کے طریقے پر كما عرفت في التصريف، جیسا کہ آپ جان چکے ہیں علم صرف کے اندر۔ معلوم ہوا نحو کا درجہ بعد میں ہے، سب سے پہلے کس کا درجہ ہے؟ پہلے کیا سیکھنی چاہیے؟ صرف، صرف میں مہارت ہو جائے کچھ اس کے بعد نحو کا رخ کیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ثم الجمع أيضا على قسمين، پھر جمع دو قسم پھر د... جمع پھر دو قسم پر ہے مولانا۔ بھئی ایک اب تو جمع تکسیر، جمع سلامت کی بات گزری، اب جمع قلت، کثرت کا بتائیں گے۔ جمع قلت وہ ہوتی ہے جس کا اطلاق مولانا تین سے لے کر دس تک ہو اور جمع کثرت وہ ہے جس کا اطلاق دس سے زائد پر ہو، سمجھ میں آیا؟ ثم الجمع أيضا على قسمين: جمع قلة، پھر جمع دو قسم پر ہے: جمع قلت، وهو ما يطلق على العشرة فما دونها، جس کا اطلاق 10 پر ہوتا ہے فما دونها اور 10 سے کم پر۔ جی جمع قلت کی بات ہو رہی ہے، اس سے کم پر وأبنيته: أفعل، وأفعال، وأفعلة، وفعلة، وجمعا الصحيح۔ بھئی جمع قلت کے چھ اوزان ہیں عربی میں بس، کتنے اوزان ہیں؟ یہ اوزان ہیں: أفعل: أفلس جمع فلس۔ أفعال: جیسے اقسام، امثال۔ أفعلة: جیسے امثلة، ارغفة۔ فعلة: جیسے مولانا غلمة جمع غلام۔ یہ کتنے ہو گئے؟ چار۔ وجمعات الصحيح یعنی تھا جمعان الصحيح، دو صحیح جمعیں یعنی جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم، تو یہ افعلہ ہے وجمعا الصحيح اور دو صحیح جمعیں بدون اللام، جبکہ وہ کیا ہوں مولانا؟ بغیر... یعنی مسلمات ہو المسلمات نہ ہو، مسلمون ہو المسلمون نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ یاد رکھو مولانا، ایک ہے جمع مکسر، ایک ہے جمع سالم۔ جمع مکسر پر جب الف لام آ جائے تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے، کیا ہو جاتی ہے؟ اور پھر وہ اس میں جنس کے معنی میں ہو جاتا ہے اور اس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ جمع مکسر پر جب الف لام داخل ہو جائے، جمع مکسر پر جب الف لام داخل ہو جائے تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے اور وہ اسم جنس کے معنی میں ہو جاتا ہے، اور وہ اسم جنس کے معنی میں ہو جاتا ہے، پھر اس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے، پھر اس کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور جمع مذکر سالم پر جب الف لام آ جائے، اور جمع مذکر سالم پر جب الف لام آ جائے، اور جمع مذکر... جمع سلامت لکھو مذکر مؤنث دونوں پہ، اور جمع سالم پر جب الف لام آ جائے تو یہ عموماً استغراق کا فائدہ دیتا ہے، تو یہ عموماً استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ویسے تو عام دیکھیں ویسے عام بات کی مولانا، ورنہ ان پر الف لام استغراقی بھی آ سکتا ہے تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا، الف لام کس میں ہوتی ہیں؟ الف لام جنسی آ جائے گا تو پھر یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ جنس کا فائدہ دے گا اور سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح اور کیا ہے الف لام بھئی؟ الف لام عہدی ہو گا تو کسی عہد عہد خاص معین جماعت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو الف لام استغراقی آپ نے پڑھی ہیں یا نہیں پڑھیں الف لام کی قسمیں؟ چلیے یہ کسی ماقبل اگر یاد آیا یہ بھی کروا دوں گا نہیں تو اگلے سال پڑھ لیں گے۔ تو الف لام کبھی استغراق کا فائدہ دیتا ہے کبھی جنس کا کبھی اور... چلیے جی زائد بات آپ کو بتائی، یاد رہ جائے تو اچھی بات ہے۔ كالزيدون ومسلمات ومسلمات، وجمع كثرة، اور ایک جمع کثرت ہے مولانا: وهو ما يطلق على ما فوق العشرة، جس کا اطلاق مولانا 10 سے اوپر پر ہوتا ہے وأبنيته ما عدا هذه الأبنية، اور اس کے اوزان ان اوزان کے علاوہ ہیں، یہ چھ اوزان کے علاوہ باقی اوزان سارے کس کے ہیں مولانا؟ جمع کثرت کے ہیں۔ فصل: المصدر اسم يدل على الحدث فقط، مصدر ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے حدث پر، کس پر؟ حدث، بس۔ بھئی حدث کہتے ہیں وہ معنی جو قائم بالغیر ہو، جس کا اپنا کوئی وجود نہ ہو مولانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدث کہتے ہیں۔ حدث کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جتن... جس کا اپنا کوئی وجود نہیں بلکہ وہ کیا ہو؟ غیر کے ساتھ قائم ہو، بھاگنا بھئی، بھاگنا خود ہو سکتا ہے؟ جی؟ جب تک کوئی بھاگنے والا نہیں، بھاگنے کا فعل نہیں؛ کھانا خود ہو سکتا ہے؟ نہیں، جب تک کوئی کھانے والا نہیں، کھانے کا فعل نہیں؛ دوڑنا، بیٹھنا، اٹھنا، چلنا، سب کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی کرنے والا چاہیے، یہ ان کی اپنا اپنی کوئی ذات نہیں، یہ کیا ہوں گے؟ غیر کے ساتھ قائم ہوں گے، غیر ان کے ساتھ موصوف ہو گا۔ غیر کیا ہو گا؟ موصوف ہو گا، تو ان کے اپنا اپنی کوئی ذات نہیں ہوتی، یہ غیر کے ساتھ قائم ہوتے ہیں، ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا مولانا، اور نظر دکھائی نہیں دیتے مولانا۔ خارج میں ہمیں کبھی مصدر نظر نہیں آئے گا بھئی، کھانا، ہنسنا، خارج میں ہمیں کبھی ہنسنا نظر نہیں آ سکتا کیونکہ ہنسنا ہے فعل اور فعل کا کوئی وجود خارج میں الگ نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں خارج میں ہمیں کیا نظر آئے گا؟ حاصل بالـ 8 نظر آئے گا اس لیے کہ مصدر کا کوئی وجود خارج میں نہیں ہاں خارج میں ہمیں اس مصدر سے جو ہیئت حاصل ہوئی وہ نظر آئے گی یعنی دوڑ نظر آئے گی کیا نظر آئے گی تو خارج میں ہمیں ہنسنا نہیں بلکہ ہنستی نظر آتی ہے خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں بلکہ دوڑ نظر آتی ہے سمجھ میں آیا تو مصدر ایک حادث ہے جو اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا یہ کس کے ساتھ ہوتا ہے غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے جب تک اور غیر نہیں تو اس کا اپنا وجود بھی نہیں ہے المصدر اسم یہ تولہ علی الحدث فقط مصدر ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے حدوث پر سراب اور اشتقاق من ہو الافعال جیسے ضرب والنسر جیسے ضرب والنسر مثلا اور اس سے اشتقاق ہوتا ہے افعال کا اس سے کیا بنائے جاتے ہیں مصدر سے افعال بنائے جاتے ہیں ظرف سے کیا بنتا ہے ضرب ضرب سے کیا بنتا ہے یضرب یضرب سے کیا بنتا ہے ضارب وغیرہ اور یہ تو اشتقاق ہوتے ہیں اس سے افعال کا جیسے ضرب والنسر جیسے ضرب اور نصر مصدر ہیں بات سمجھ میں آئی بھئی مثال اور اب من الثلاۃ المجرد غیر مضبوط اور اس کے اوزان جو ہیں ثلاثی مجرد سے غیر مضبوط ای وہ غیر مر غیر مضبوط ہیں مولانا یعنی ان کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے ثلاثی مجرد میں ان کا کوئی ضابطہ نہیں مولانا آپ نے نہیں پڑھا بھئی کتنے اوزان پڑھے علم الصیغہ میں آپ نے بھئی وہ نظم کے اندر مصدر کے چار چالیس چالیس اوزان پڑھ لیے کوئی ضابطہ ہے نہیں کبھی کس وزن پہ کبھی کس وزن پہ کبھی کس وزن پہ کبھی کس وزن پہ مصدر آتا ہے کوئی ضابطہ نہیں کبھی ضرب وزن پہ آرہا ہے کبھی فاعل ہے کبھی فعال ہے کبھی فعل ہے کبھی فعول فعول مختلف اوزان ہیں تو کوئی ضابطہ کوئی نہیں بس موقوف تو ربق بالسماع کس سے پہچانے جائیں گے سماع سے تو کہتے ہیں اور اس کے جو اوزان ہے ثلاثی مجرد میں وہ مضبوط غیر مضبوط ہیں یعنی ان کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہیں تو ربق بالسماع یہ یعنی ان کو پہچانا جائے گا سماع سے ومن غیرہ قیاسی اور ثلاثی مجرد کے علاوہ باقی سے اوزان کیا ہیں قیاسی ہیں مثلاً مولانا افعال سے مصدر ہمیشہ کیا آئے گا افعال استفعال سے کیا آئے گا استفعال اور اسی طرح مولانا قاتل سے کیا آئے گا مقاتلہ اور قتال آئے گا تو باقی اوزان کیا ہیں قیاسی ہیں جبکہ ثلاثی مجرد کے قیاسی نہیں ومن غیرہ قیاسی اور غیر باقی قیاسی ہیں کلفعال والانفعال والاستفعال والفعل وال تفعل لمثل مثال کے طور پر فالمصدر ان لم يكن مفعولا تو اس سے آگے پھر میں آپ کو بتاتا ہوں اور باتیں بڑی قیمتی باتیں ہیں مولانا دیکھیے بھئی فالمصدر ان لم يكن یاد رکھو مولانا مصدر عمل کرتا ہے جب عبارت میں آئے تو یہ مفعول مطلق کے طور پر آئے گا یا مفعول مطلق کے طور پر نہیں آئے گا دونوں صورتوں میں آ سکتا ہے کبھی مفعول مطلق آئے گا اور کبھی غیر مفعول مطلق کے طور یاد رکھو جب یہ مفعول مطلق آئے تو یہ عمل نہیں کرے گا پھر یہ عمل کیونکہ مفعول مطلق کس کو کہتے ہیں وہ مصدر جو ما قبل فعل کے تو جب ما قبل فعل موجود ہے کبھی عامل موجود ہے تو ضعیف سے کام لینے کی ضرورت ہے نہیں تو لہذا اب عمل کون کرے گا فعل کرے گا تو مفعول مطلق جب آئے گا یہ تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا بلکہ عامل کون ہوگا اس صورت میں فعل ہوگا ہاں باقی صورتوں میں پھر یہ عمل کر سکے گا کرے گا فالمصدر ان لم يكن مفعولا مطلق اسی لیے کہا مصدر اگر وہ مفعول مطلق نہ ہو کیونکہ مفعول مطلق ہو پھر تو یہ عمل نہیں کرتا تو کہتے ہیں اگر یہ مفعول مطلق نہ ہو عمل عمل فعل یہ عمل کرے گا اپنے فعل والا ان يرفع الفاعل ہے یعنی کیا کرے گا فاعل کو رفع دے گا ان کان لازما اگر فعل کیا مصدر کیا تھا لازمی تھا نحو اعجبی مجھے پسند آیا کیا پسند آیا قیام کھڑا ہونا بھئی قیام مصدر لازمی ہے کس کا کھڑا ہونا زید کس کا زید بھئی یہ زید کو رفع کس نے دیا قیام نے دیا کہ اس کے لیے کیا ہے فاعل اور قیام خود کیا ہے فاعل ہے کس کے لیے اعجبی کے لیے سمجھ میں آیا بھئی تو مجھے تعجب میں ڈالا کس نے قیام نے کس کے قیام نے زید کے قیام نے مجھے تعجب میں ڈالا یعنی مجھے خوش کیا اور یہ نصب مفعول ان کان متعدیا اور مولانا یہ نصب مفعول نصب بھی دے گا مصدر مولانا ان کان متعدیا اگر یہ کیا تھا متعدی تھا نحو اعجبی ضرب زید عمرا مجھے تعجب میں ڈالا کس چیز نے تعجب میں ڈالا ضرب کس نے بھئی کس کی ضرب تھی کس نے ضرب لگانے والا کون زید یہ فاعل ہے تو ضرب نے اس کو رفع دیا اور کس کو لگائی زید نے ضرب عمر تو یہ مفعول ہے تو ضرب نے اس کو کیا دے دیا نصب تو یہ فعل متعدی ہے فعل یہ مصدر متعدی ہے یہ فاعل کو بھی رفع بھی دے گا اور مفعول کو نصب بھی دے گا بات سمجھ میں آگئی بھئی ولا يجوز تقديم معمول المصر علیہ اور جائز نہیں ہے مولانا کہ مصدر کے معمول کو مقدم کیا جائے علیہ اس مصدر پر فلا یقال لہذا یوں کہنا جائز نہیں اعجبی زید ضرب عمرا یوں کہنا نہیں دیکھو زید کو رفع کس نے دیا ضرب نے اور اس زید کو آپ نے کیا کر دیا ضرب پر مقدم کر دیا کہتے ہیں یہ جائز نہیں میں نے بتایا کس وقت جائز ہے جب ظرف ہو اس کو مقدم کر سکتے ہیں بھئی بھئی کیا وجہ ہے چلیے یہ آگے پھر میں آپ کو بتاتا ہوں اور باتیں بڑی قیمتی باتیں ہیں مولانا دیکھیے بھئی فالمصدرا ان لم يكن یاد رکھو مولانا مصدر عمل کرتا ہے جب عبارت میں آئے تو یہ مفعول مطلق کے طور پر آئے گا یا مفعول مطلق کے طور پر نہیں آئے گا دونوں صورتوں میں آ سکتا ہے کبھی مفعول مطلق آئے گا اور کبھی غیر مفعول مطلق کے طور یاد رکھو جب یہ مفعول مطلق آئے تو یہ عمل نہیں کرے گا پھر یہ عمل کیونکہ مفعول مطلق کس کو کہتے ہیں وہ مصدر جو ما قبل فعل کے تو جب ما قبل فعل موجود ہے کبھی عامل موجود ہے تو ضعیف سے کام لینے کی ضرورت ہے نہیں تو لہذا اب عمل کون کرے گا فعل کرے گا تو مفعول مطلق جب آئے گا یہ تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا بلکہ عامل کون ہوگا اس صورت میں فعل ہوگا ہاں باقی صورتوں میں پھر یہ عمل کر سکے گا کرے گا فالمصدر ان لم يكن مفعولا مطلقا اسی لیے کہا مصدر اگر وہ مفعول مطلق نہ ہو کیونکہ مفعول مطلق ہو پھر تو یہ عمل نہیں کرتا تو کہتے ہیں اگر یہ مفعول مطلق نہ ہو یہ عمل عمل فعل یہ عمل کرے گا اپنے فعل والا یعنی کیا کرے گا فاعل کو رفع دے گا اگر فعل کیا مصدر کیا تھا لازمی تھا نحو اعجبی مجھے پسند آیا کیا پسند آیا قیام کھڑا ہونا بھئی قیام مصدر لازمی ہے کس کا کھڑا ہونا زید کس کا زید بھئی یہ زید کو رفع کس نے دیا قیام نے دیا کہ اس کے لیے کیا ہے فاعل اور قیام خود کیا ہے فاعل ہے کس کے لیے اعجبی کے لیے سمجھ میں آیا بھئی تو مجھے تعجب میں ڈالا کس نے قیام نے کس کے قیام نے زید کے قیام نے مجھے تعجب میں ڈالا اور ایک اور بات یاد رکھنا مولانا فعل کے اندر فاعل کو تو کبھی مقدم نہیں کرتے فاعل کو کیا کرتے ہیں لیکن باقی معمولات کو مقدم کر لیتے ہیں ظرف بھی فعل پر مقدم ہو جاتا ہے مفعول بہی بھی مقدم ہو جاتا ہے مفعول فیہ وغیرہ بھی فعل پر کیا ہو جاتے ہیں مقدم ہو جاتے ہیں تو دیکھو فعل ہے عامل قوی اور عامل قوی کے اندر اس کے معمول کیا ہو جاتے ہیں اس پر مقدم بھی ہو جائیں فعل پھر بھی ان میں عمل کرے گا اور ان کو کیا دے دے گا نصب لیکن مصدر کے اندر یاد رکھو مصدر کا عامل اگر ظرف ہو پھر تو مقدم ہو سکتا ہے اگر ظرف کے علاوہ کوئی اور ہو تو مصدر پر عامل مقدم معمول مقدم نہیں ہو سکتا اس لیے کہ مصدر مولانا عامل ضعیف ہے عامل ضعیف اپنے بعد میں تو عمل کر سکتا ہے لیکن اپنے سے ماقبل کے اندر وہ عمل نہیں کر سکتا کیونکہ مصدر کیا ہے مولانا عامل ضعیف ہے اور عامل ضعیف اپنے بعد میں تو عمل کر سکتا ہے لیکن ماقبل میں عمل نہیں لیکن ظرف کے اندر آپ نے پڑھا ہے ظرف ظرف جو ہوتے ہیں محارم کی طرح ہیں ان میں معاملہ کیا ہوتا ہے اس میں گنجائش ہوتی ہے وسعت ہوتی ہے تو مصدر کے اندر اس کا معمول ظرف ہو تو مقدم ہو سکتا ہے اور ظرف نہ ہو تو مقدم نہیں بھئی کیا وجہ ہے چلیے یہ آگے پھر میں آپ کو بتاتا ہوں اور باتیں بڑی قیمتی باتیں ہیں مولانا دیکھیے بھئی فالمصدر ان لم يكن مفعولا مطلقا اسی لیے کہا مصدر اگر وہ مفعول مطلق نہ ہو کیونکہ مفعول مطلق ہو تو پھر یہ عمل نہیں کرتا تو کہتے ہیں اگر یہ مفعول مطلق نہ ہو یہ عمل عمل فعل یہ عمل کرے گا اپنے فعل والا یعنی کیا کرے گا فاعل کو رفع دے گا اگر فعل کیا مصدر کیا تھا لازمی تھا نحو اعجبی مجھے پسند آیا کیا پسند آیا قیام کھڑا ہونا بھئی قیام مصدر لازمی ہے کس کا کھڑا ہونا زید کس کا زید بھئی یہ زید کو رفع کس نے دیا قیام نے دیا کہ اس کے لیے کیا ہے فاعل اور قیام خود کیا ہے فاعل ہے کس کے لیے اعجبی کے لیے سمجھ میں آیا بھئی تو مجھے تعجب میں ڈالا کس نے قیام نے کس کے قیام نے زید کے قیام نے مجھے تعجب میں ڈالا یہ مجھے خوش کیا و ينصب مفعولا ایضا ان کان متعدیا اور مولانا و یصب مفعولا ایضا اور یہ نصب مفعول نصب بھی دے گا مصدر مولانا ان کان متعدیا اگر یہ کیا تھا متعدی تھا نحو اعجبی ضرب زید عمرا مجھے تعجب میں ڈالا کس چیز نے تعجب میں ڈالا ضرب کس نے کس چیز نے تعجب میں ڈالا ضرب کس نے بھئی کس کی ضرب تھی کس نے ضرب لگانے والا کون زید یہ فاعل ہے تو ضرب نے اس کو رفع دیا اور کس کو لگائی زید نے ضرب عمر تو یہ مفعول ہے تو ضرب نے اس کو کیا دے دیا نصب تو یہ فعل متعدی ہے فعل یہ مصدر متعدی ہے یہ فاعل کو بھی رفع بھی دے گا اور مفعول کو نصب بھی دے گا بات سمجھ میں آگئی بھئی ولا يجوز تقديم معمول المصر علیہ اور جائز نہیں ہے مولانا کہ مصدر کے معمول کو مقدم کیا جائے علیہ اس مصدر پر فلا یقال لہذا یوں کہنا جائز نہیں اعجبی زید ضرب عمرا یوں کہنا देखو زید کو رفع کس نے دیا ضرب نے اور اس زید کو آپ نے کیا کر دیا ضرب پر مقدم کر دیا کہتے ہیں یہ جائز نہیں میں نے بتایا کس وقت جائز ہے جب ظرف ہو اس کو مقدم کر سکتے ہیں بھئی بھئی کیا وجہ ہے یہ مقدم کیوں نہیں کر سکتے مصدر کے معمول کو مصدر پر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ مصدر جو عامل ہوتا ہے کون وہ مصدر جو عامل ہوتا ہے اس کی تاویل ان مع الفعل کے ساتھ کی جاتی ہے اس کی تاویل کس کے ساتھ کی جاتی ہے مولانا ان مع الفعل کے ساتھ اس کی تاویل کی جاتی ہے یہ کیا لکھا ہوا ہے ان مع کے ساتھ کی جاتی ہے عامل یعنی عمل کر رہا ہے دیکھو نا مولانا اعجبی ضرب زید عمرا یہ زید کو رفع کس نے دیا ضرب نے عمرا کو نصب کس نے دیا ضرب نے معلوم ہوا یہ مصدر کیا ہے عامل ہے اور جو مصدر عامل ہو اس کی تاویل کس کے ساتھ کی جاتی ہے ان مع الفعل کے ساتھ یعنی یہ ضرب دراصل ہے ان ضرب ضرب دراصل کیا ہے ان ضرب تو ضرب فعل عمل کر رہا ہے ہاں یہ ان اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے ان مصدریہ ہے یہ اپنے ماقبل فعل کو کس معنی میں کر دیتا ہے تو بات وہی ہے مولانا ضرب کا بھی وہی معنی ہے ان ضرب کا بھی وہی معنی ہے صورت سمجھ میں آگئی اب آپ مجھے بتائیے یہ ان نے ضرب کو کس معنی میں کیا مصدر کے تو یہ ضرب ان پر مقدم ہو سکتا ہے یہ ضرب ان پر مقدم نہیں ہو سکتا اس لیے کہ یہ ان جیسے اسم میں موصول ہوتا ہے اس ان یہ ان مصدریہ یہ حرف موصول ہے یہ کیا ہے اور یہ آگے آنے والا فعل اس کا صلہ ہے تو جیسے اسم موصول پر اس کا صلہ مقدم نہیں ہو سکتا حرف موصول پر بھی اس کا صلہ مقدم نہیں ہو سکتا تو جب اس ان پر ضرب خود مقدم نہیں ہو سکتا تو جس میں ضرب عمل کر رہا ہے زید جس کو رفع دے رہا ہے عمر جس کو نصب دے رہا ہے وہ بطریق اولی اس پر مقدم نہیں بات سمجھ میں آئی بھئی اس ان پر کون نہیں مقدم ہو سکتا ضرب خود نہیں مقدم ہو سکتا کیوں نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اس کا صلہ ہے اور موصول تو اور ان ہے حرف موصول تو جیسے اسم موصول پر اس کا صلہ مقدم نہیں حرف موصول پر بھی اس کا صلہ مقدم نہیں تو جب ان پر ضرب عامل نہیں مقدم ہو سکتا تو معمول تو بطریق اولی مقدم نہیں ہو سکتا فلا لا يجوز تقديم معمول المصر علیہ اور جائز نہیں ہے مصدر کے معمول کو مقدم کرنا مصدر پر فلا یقال یوں کہنا جائز نہیں اعجبی زید ضرب عمرا یہ کہنا جائز نہیں کہ ضرب پر آپ نے زید کو مقدم کر دیا اس لیے کہ ضرب کی تاویل میں ہے ان ضرب ولا عمرا ضرب زید زید اور یہ کہنا بھی فاعل کو بھی مقدم نہیں کرسکتے مصدر پر اور مفعول کو بھی مقدم تو عمرا ضرب زید زید یہ بھی کہنا جائز نہیں ویجوز اضافتہ الی الفاعل ہاں مولانا مصدر کی فاعل کی طرف اضافت بھی جائز ہے نحو کرہ تو پہلے کیا تھا مولانا کرہ تو جے کرہ تو ضرب زید عمرا پہلے کیا تھا میں نے ناپسند کیا کس چیز کو ناپسند کیا ضربن پٹائی کرنے کو بھئی کس کی پٹائی کرنے کو کہتے ہیں زید زید کی زید کا پٹائی کرنا کس کی پٹائی کرنا عمرا کس کے تو ضرب یہ تھا مفعول ہے کس کے لیے کرہ تو کے لیے اور تو ان ضمیر کرہ تو کے لیے فاعل ضرب اس کے لیے مفعول اور زید ضرب کے لیے فاعل اور عمرا اس کے لیے اور کبھی کبھار کیا کر دیتے ہیں مصدر کی اضافت اپنے فاعل کی طرف کر دیتے ہیں اس تو کیا بنا کرہ تو ضرب زید عمرا اسی طرح کبھی مصدر کی اضافت مفعول کی طرف بھی کر دیتے ہیں یوں کہیں گے کرہ تو ضرب عمر زید بات سمجھ میں آگئی بھئی آپ کہیں گے اب پتہ کیسے چلے گا کہ کون فاعل ہے کون مفعول ہے بھئی معنی سے پتہ چل جائے گا اعراب سے پتہ چل جائے گا دیکھو ضرب زید عمرا یہ عمرا کیا بتلا رہا ہے یہ کیا ہے مفعول ہے اس کا نصب بتلا رہا ہے معلوم ہوا زید کون ہے اس کا فاعل اور اگر آپ کہتے ضرب عمرا زید کہہ دیں مولانا تو زید کا رفع کیا بتلا رہا ہے وہ کون ہے فاعل معلوم ہوا عمر کون ہے مضاف الہ مفعول ویجوز اضافتہ الی الفاعل جائز ہے اس کی اضافت کرنا فاعل کی طرف جیسے کرہ تو ضرب زید امرہ وللمفعول اور مفعول کی طرف بھی جیسے کرہ تو ضرب امر زید بات سمجھ میں آئی بھئی و اما ان کان مفعولا مطلقا اور اگر مولانا مصدر کیا تھا مفعول مطلق انہوں نے کہا تھا پھر عمل نہیں کرے گا تو پھر کون عمل کرے گا تو کہتے ہیں فامل للفعل الذی قبلہ عمل کس کے لیے ہوگا اس فعل کے لیے ہوگا جو اس سے پہلے آیا ہو نحو ضرب ضرب عمرا ضرب ضرب عمرا تو اب دیکھیے مولانا اب عمرا منسوب ہے اب آپ یہ نہ کہیں اس کو نصب کس نے دیا ضرب نے بلکہ اس کو نصب کس نے دیا ضرب تو نے فامر منسوب بذرب تو فامر منسوب ہے کس کے ساتھ ضرب تو کے ساتھ بھئی اشکال آیا اشکال بہت بڑا آپ نے پڑھا تھا حروف جارہ صرف کس پر داخل ہوتے ہیں اسم پر بضرب تو یہ با جارہ کس پر داخل ہو رہی ہے فعل پر کیا جواب دیں گے آپ بھئی بھئی یہاں کلمہ ضرب تو مراد ہے یہاں فعل کے طور پر یہ استعمال نہیں ہو رہا یہ یوں ہے فامر منسوب بهذا اللفظ امر منسوب ہے کس کے ساتھ اس لفظ کے ساتھ (یعنی ضرب تو کے ساتھ، اس کلمے کے ساتھ تو یہاں فعل اپنے معنی میں استعمال نہیں ہو رہا مولانا صرف بتلایا یہ کلمہ مراد ہے یہ کیا ہے؟ کلمہ مراد ہے تو یہ اسم ہوا تو وہ جو ضرب تو پیچھے گزرا تھا نا جس نے امر کو نصب دیا تھا اس ضرب تو کا نام ہی ہم نے ضرب تو رکھ دیا کیا رکھا؟ تو اب بتایا کہ وہ جو امر منسوب تھا وہ ضرب تو کی وجہ سے تھا، تو ضرب تو کون؟ وہ بھئی وہ جو ہے سامنے، وہ ضرب تو تو یہ ہم نے علم رکھ دیا اس کا، اور علم کیا ہے مولانا فعل ہوتا ہے اسم ہوتا ہے؟ اسم ہوتا ہے مولانا، تو لہذا اب اس پر بات آتی ہے جیسے آپ کہتے ہیں نہیں با حرف با کیا ہے؟ الباء حرف بھئی با حرف ہے بھئی با تو حرف ہے اس پر یہ الف لام کیسے داخل کر رہے ہو بھئی؟ یہ علم بھئی وہ جو با آتی ہے نا عبارتوں میں اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ با تو اب وہ نام علم بن گیا اور اس پر کیا داخل ہوا؟ الف لام اس کا نام اسم الفاعل اسم مشتق من فعل اسم فاعل ایسا اسم ہے جو مشتق ہوتا ہے فعل سے یہ دلالت کرے ایسی ذات پر جس کے ساتھ فعل قائم ہو بمعنی الحدوث کس معنی میں ہو مولانا؟ حدوث کے معنی میں ہو مولانا بھئی دیکھو اس میں فاعل کیا کس معنی پر دلالت کرتا ہے کس ذات سے؟ ضرب کا کیا معنی ہے؟ مارنے والا ہاں جس کے ساتھ ضرب کا فعل قائم ہے اس پر واقع نہیں، مزروف کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ کہ اس پر فعل واقع ہے تو ضرب بھی دلالت کرتا ہے با ایں حیثیت کہ اس کے ساتھ فعل کیا ہے؟ قائم ہے، اور مزروف با ایں حیثیت کہ اس پر فعل کیا ہے؟ واقع ہے اور بمعنی حدوث کہا یہ صفت مشبہ کو نکال دیا، وہ ثبوت کے معنی میں ہوتی ہے ایک ہوتا ہے حدوث، ایک ہوتا ہے ثبوت، حدوث کا معنی ہے ہونا ایک چیز پہلے نہیں تھی، پھر ہو گئی۔ ضربا پٹائی کرنا ہے مولانا ضرب کیا پٹائی، اب ضرب کس کو کہتے ہیں؟ مسلسل پٹائی ہوتی ہے یا پٹائی ہوتی ہے، پھر ختم ہو جاتی ہے، پھر مولانا دوسرے دن پھر پٹائی ہوگی، پھر ختم ہو گئی یا مسلسل پٹائی ہوتی رہتی ہے اس کو ضارب کہیں گے یہ بس مولانا عدم وہ کبھی ہے، کبھی نہیں، کبھی ہے، کبھی تو عدم اور وجود آتا ہے اس کے اندر، جبکہ ایک ہوتا ہے ثبوت، ثبوت کا معنی یہ ایک چیز دوسری کے لیے ثابت ہے وہاں عدم کی بات نہیں چلے گی وہاں جیسے مولانا کیا کہیں؟ عالِم کہیں، کیا کہیں؟ عالم کہیں، بھئی عالم کے پاس جب ایک دفعہ علم آگیا تو کیا وہ کبھی ختم ہو جائے گا، پھر آجائے گا، پھر ختم ہو جائے گا، پھر آئے گا یا اس کے ساتھ ہی رہے گا اب؟ ساتھ ہی رہے گا تو صفات دو قسم پر ہے ایک وہ جو کبھی ہیں، کبھی نہیں، کبھی ہیں، کبھی نہیں، ایک وہ جو ساتھ لگ گئی تو اس کے ساتھ اکثر و عموماً ساتھ ہی رہے گی پھر، عموماً ساتھ رہے گی، سمجھ میں آیا بھئی تو جو یہ جو تو اس کو کہتے ہیں حدوث، تو صفت اس میں فاعل حدوث پر دلالت کرتا ہے کبھی ہے اور کبھی نہیں اور جبکہ صفت مشبہ کس پر دلالت کرتی ہے؟ ثبوت پر کہ یعنی اس کے اندر کیا ہے؟ ایک مرتبہ ہے تو پھر عموماً ساتھ ہی رہتی ہے ہمیشہ کی بات نہیں ہے 9 اسم الفاعل اسم مشتق من فعل— جس کو فعل— وہ اسم ہے جس کو مشتق کیا جاتا ہے فعل سے۔ بھئی مصدر سے پہلے بنتا ہے فعل، پھر فعل ماضی، پھر ماضی سے بنتا ہے مضارع، مضارع سے کیا بنتا ہے اسم فاعل، تو دراصل تو سارے بن مصدر ہی سے رہے ہیں لیکن کوئی بلاواسطہ ہے کوئی بالواسطہ واسطے کے ساتھ بن رہے ہیں درمیان میں واسطہ آ جاتا ہے۔ اسم مشتق من فعل ایسا مشتق جو مشتق ہوتا ہے فعل سے، ليدل على من قام به الفعل تاکہ دلالت کرے ایسی ذات پر جس کے ساتھ فعل قائم ہو، بمعنی الحدوث کس معنی میں مولانا؟ حدوث کے معنی میں ہو، وصيغته من الثلاثي المجرد على وزن فاعل ثلاثی مجرد سے یہ کس وزن پر آتا ہے مولانا؟ ہاں! ثلاث— اس کا صیغہ ثلاثی مجرد سے فاعل کے وزن پر ہوگا كضارب وناصر وفاتح وقاتل وغیرہ، ومن غيره اور غیر سے مولانا على صيغة المضارع من ذلك— بھئی باقیوں سے کس طریقے سے آئے گا؟ مضارع کے صیغے میں کیا کریں؟ حرف مضارع کو ہٹا دیں اور اس کی جگہ کیا لے آئیں میم مضموم اور آخر سے ماقبل کو کیا دے دیں؟ کسرہ، تو کیا بن جائے گا اسم فاعل۔ ومن غيره على صيغة المضارع من ذلك الفعل اور اس ثلاثی مجرد کے علاوہ سے جو ہے مولانا مضارع کے صیغے پر آئے گا من ذلك الفعل اسی فعل سے بميم مضمومة کس کے ساتھ؟ میم مضموم کے ساتھ، مكان حرف المضارعة کس جگہ آئے گا میم مضموم؟ حرف مضارع کی جگہ پر آئے گا، وكسر ما قبل الآخر اور آخر سے ماقبل کسرے کے ساتھ كمذخل ومستخرج، وهو يعمل عمل فعله المعروف إن كان بمعنی الحال— جی! مولانا یاد رکھو جیسے فعل کیا کرتا ہے؟ فاعل کو رفع دیتا ہے مفعول کو نصب، مصدر بھی کیا کرتا ہے؟ فاعل کو رفع اپنے مفعول کو نصب، اسم فاعل بھی اسی طرح ہے اگر وہ فعل لازم سے بنا ہے تو صرف اپنے فاعل کو رفع دے گا چاہے فاعل کو ضرور چاہے گا اور اگر یہ کس سے فعل متعدی سے بنا ہے تو اپنے فاعل کو رفع دے گا اور اپنے مفعول کو نصب دے گا لیکن اس کے عمل کے لیے کچھ شرائط ہیں، پہلی شرط یہ مولانا کیا کہ ان کہ بمعنی حال اور استقبال، دیکھو تین ضارب کا معنی ہو سکتا ہے آج بھی پٹائی کرنے والا، ضارب وہ بھی ہے جس نے پرسوں پٹائی کی تھی، ضارب وہ بھی ہے جو کل کرے گا، تو اس میں تین معنی آ گئے، ماضی بھی ہو سکتا ہے مستقبل بھی اور حال بھی، سمجھ میں آیا؟ تو پہلی شرط یہ ہے اس میں فاعل کے عمل کرنے کے لیے کہ بمعنی حال یا استقبال کے ہو، ماضی کے معنی میں نہ ہو، اگر ماضی کے معنی میں ہو تو پھر عمل نہیں کرے گا۔ دوسری شرط کسی چیز پہ اعتماد بھی ہو مولانا، کیا ہو؟ پیچھے اعتماد اور ٹیک لگائی ہو مولانا، ٹیک لگی ہوگی تو یہ عمل کچھ کر سکتا ہے، ٹیک نہیں لگی ہوگی تو یہ عمل بھی نہیں کر سکتا۔ اب اعتماد کتنی چیزیں ہیں؟ چھ چیزیں ذکر کریں گے مولانا۔ دیکھئیے بھئی! دیکھئیے مولانا! یا تو اعتماد ہو فاعل کس پہ؟ مبتدا— دیکھئیے آ رہے ہیں۔ وهو يعمل عمل فعله المعروف یہ اپنے فعل معروف والا عمل کرے گا، إن كان دیکھا فعل معروف؟ کہاں مولانا فعل— نہیں! کہ اس میں مفعول جو ہوتا ہے وہ کس معنی میں کرتا ہے فعل مجہول کے معنی میں یعنی نائب فاعل کو وہ رفع دیتا ہے، تو یہ فاعل کو رفع دیتا ہے۔ وهو يعمل عمل فعله المعروف یہ عمل کرتا ہے اپنے فعل معروف والا، إن كان بمعنی الحال اگر یہ کس معنی میں ہو؟ حال یا استقبال کے معنی میں ہو، ومعتمدا على المبتدأ اور اس حال میں کہ یہ اس کا اعتماد ہو یا کس پر مولانا؟ مبتدا پر، نحو زید قائم أبوه، بھئی أبوه کو رفع کس نے دیا؟ قائم نے اور اس کا اعتماد کس پر ہے؟ زید پر اور زید کیا ہے؟ مبتدا اور یہ اس کی خبر ہے۔ أو ذي الحال یا اس کا اعتماد کس پر ہو؟ ذو الحال پر یعنی یہ خود کیا بن رہا ہو؟ حال، نحو جاءني زید ضاربا أبوه عمرا، بھئی أبوه کو رفع کس نے دیا؟ ضاربا نے اور عمرا کو نصب کس نے دیا؟ ضاربا نے، تو یہ اس کا اعتماد کس پر ہے بھئی؟ ذو الحال پر، کس پر؟ اور وہ کون ہے؟ زید، ترکیب کریں مولانا! جاء فعل، نون ضمیر وقایہ، یا ضمیر متکلم منصوب محلاً مفعول، زید مرفوع لفظاً ذو الحال، ابھی آگے چلیں گے، ذو الحال، ضاربا صیغہ منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل، أبو مرفوع لفظاً مضاف، ہا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، کس کو راجع؟ جی؟ کس کو راجع؟ زید کو مولانا اس لیے کہ ربط چاہیے، درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، تو مولانا مولانا جملہ ہو یا شبہ جملہ ہو دونوں میں ربط چاہیے، دونوں میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، تو یہ شبہ جملہ ہے ربط اس کے لیے بھی چاہیے مولانا، جملے میں جب ربط چاہیے تو شبہ جملہ جو جملے کے مشابہ ہے اس میں بھی کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، تو جاء تو مولانا ضاربا صیغہ اسم فاعل، أبوه مضاف مضاف الیہ مل کر ضاربا کے لیے فاعل، عمرا منصوب لفظاً ضاربا کے لیے— ضاربا صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذو الحال اپنے حال سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ۔ أو موصول یا اس کا اعتماد کس پر ہو مولانا؟ اسم موصول پر، مررت بالضارب أبوه عمرا، بھئی أبوه کو رفع کس نے دیا؟ ضارب نے، عمرا کو نصب کس نے دیا؟ ضارب نے، بھئی اس کے عمل کے لیے تو شرائط تھیں ایک تو حال استقبال کے معنی میں، دوسری شرط تھی اعتماد ہو، یہ کس پر اعتماد ہے اس کا؟ اسم موصول کدھر عبارت میں تو مجھے نظر نہیں آ رہا بھئی! شاباش! یہ جو الف لام اسم فاعل پر آتا ہے وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ الذی، تو یہ اس پر اعتماد ہے۔ أو موصوف یا اس کا اعتماد کس پر ہو مولانا؟ موصوف پر، جیسے عندي رجل ضارب أبوه عمرا، میرے پاس ایسا آدمی ہے کہ پٹائی کرنے والا ہے اس کا باپ عمر کی، بھئی أبوه کو رفع کس نے دیا؟ ضارب، عمرا کو نصب کس نے دیا؟ ضارب، اس کا اعتماد کس پر ہے؟ رجل، رجل اس کے لیے کیا ہے؟ موصوف، ہاں جی! ترکیب کریں مولانا! عندی— اعراب بتاؤ اعراب، اصل چیز اعراب ہوتی ہے۔ عند ظرف ہے ظروف میں سے پڑھا ہے یا نہیں آپ نے لدى اور لدن کے ساتھ ان کی مشابہت عند سے بتلائی تھی انہوں نے، یہ بھی ظرف ہے، جی! منصوب کیا آئے گا؟ محلاً آئے گا، کیوں؟ محلاً کیوں آئے گا؟ جی؟ مبنیات میں انہوں نے نہیں صرف لدى اور لدن کہا تھا عند جیسے ہیں، یہ تو نہیں کہا تھا کہ عند بھی مبنی ہے۔ ہاں! منصوب ہے لفظاً، لفظاً پھر کون سا ہے؟ تقدیراً ہے مولانا! لفظاً نہیں منصوب ہے، یا آ گئی نا اور یا اپنے سے ماقبل کس کو چاہتی ہے؟ کسرہ، اس لیے کسرہ آیا، تو منصوب ہے ظرف مفعول فیہ بننا ہے نا اس نے اور مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب تقدیراً مضاف، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ نہیں بھئی! نہیں! نہیں! نہیں! جی؟ پھر تو جملہ ہی نہیں بنے گا، کیا؟ جملہ پھر نہیں بنے گا مولانا! پھر اگر آپ نے ضارب سے جوڑ دیا تو ضارب کیا ہے؟ مفرد ہے، تو پھر جملہ بنے گا؟ اس کو خبر مقدم بناؤ اور رجل ضارب أبوه عمرا کو کیا بناؤ مبتدا مؤخر بناؤ، جی! یاد رکھو یہ ظرف جہاں بھی آ جائیں خبر بنتے ہیں کبھی مبتدا نہیں بنتے، یہ متعلق ہو جائیں گے کسی سے یا کچھ لیکن خبر ہی بنیں گے، تو یہاں اب اس کو خبر بناؤ، کیسے بنے گی خبر بھئی؟ جی؟ شاباش! خبر بنے گی کسی سے متعلق ہو کے خود نہیں بنے گا، متعلق ہوا کس سے؟ ثبت فعل سے، ثبت فعل ہو ضمیر اس کے اندر فاعل جو کس کو راجع؟ رجل، بھئی وہ تو مولانا یہ تو اسما قبل الذکر آ گیا ضمیر پہلے ہی آ گئی مرجع بعد میں آ رہا ہے، مرتبہ میں یہ رجل کیا ہے؟ مقدم، کیوں مقدم ہے یہ؟ کیونکہ مبتدا ہے، رتبے میں مقدم ہے۔ تو ضمیر ثبت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مفعول فیہ سے مل کر شبہ جملہ— جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم، رجل مرفوع لفظاً موصوف، ضارب صیغہ اسم فاعل، أبوه فاعل، عمرا مفعول، مختصر کریں، فعل اپنے— اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مبتدا مؤخر، مبتدا خبر سے مل کر اپنی خبر سے مل کر— أو همزة الاستفهام یا اس کا اعتماد کس پر ہوگا اسم فاعل کا؟ ہمزہ استفہام پر، أ قائم زيد، بھئی وہ مبتدا کی قسم ثانی نہیں گزری تھی مولانا؟ یاد آئی یا نہیں؟ صیغہ صفت کا ہو اور الف یا حرف ہمزہ استفہام یا حرف نفی کے بعد واقع ہو اور اپنے ماقبل کیا ہو؟ اسم ظاہر کو رفع دے رہا ہو، مبتدا کہتے تھے ہمیشہ آپ نے پڑھا ہے مسند الیہ ہوتا ہے لیکن ایک قسم ثانی بھی ہے جو کیا ہوتا ہے؟ مسند ہوتا ہے اور اس کی تین شرائط تھیں، ایک کیا مولانا؟ صیغہ کون سا ہو؟ صفت کا، کس کے بعد ہو؟ حرف نفی یا حرف استفہام کے بعد، تیسری شرط کیا تھی؟ اپنے ماقبل اسم ظاہر کو رفع دے رہا ہو، تو یہ بھی کیا ہے مبتدا اور ماقبل جو ہوگی وہ اس کا فاعل ہوگا اور قائم مقام کس کے ہوگا؟ خبر کے، سمجھ میں آیا؟ یہ وہ قسم ہے، تو یہاں ہمزہ استفہام کے بعد واقع ہو جو أ قائم زيد، أو حرف النفي یا کس کے بعد واقع ہو مولانا؟ یہ بھی وہی قسم ہے جیسے ما قائم زيد۔ تو کتنی چیزوں پر اعتماد ہوگا مولانا؟ کتنی شرائط ہیں؟ دو شرائط ہیں، اول حال یا استقبال کے معنی میں ہو، دوسری شرط کیا ہے؟ چھ چیزوں میں سے کسی ایک پر اعتماد ہو، مثلاً مولانا مبتدا، نمبر دو ذو الحال، نمبر تین موصول، نمبر چار موصوف، نمبر پانچ صفت— ہمزہ استفہام، نمبر چھ حرف— فإن كان بمعنی الماضي وجبت الإضافة معنى اگر اسم فاعل مولانا ماضی کے معنی میں ہوا وجبت الإضافة واجب ہو گئی مولانا الإضافة، کیا واجب ہوئے؟ اضافت معناً بھئی اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ معنوی ہو، بھئی اسم فاعل جب ماضی کے معنی میں ہے تو یہ عمل کرے گا؟ نہیں، جب عمل نہیں کرے گا تو لازمی بات ہے اب اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ اضافت کرنا پڑے گی، کیا کرنا پڑے گی؟ اضافت کرنا پڑے گی اور اضافت بھی کون سی ہوگی؟ معنوی ہوگی، اضافت لفظی نہیں ہوگی، اس لیے کہ اضافت لفظی اس کو کہتے تھے کہ صیغہ صفت کا ہو اور مضاف ہو اپنے معمول کی طرف اور یہ تو صیغہ صفت کا ہے لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف نہیں، اس لیے کہ یہ عامل ہی نہیں ہے، عامل تو تب ہوتا جب یہ کس معنی میں ہوتا؟ حال یا— جب یہ عامل ہی نہیں تو اضافت تو ہے لیکن اضافت اپنے معمول کی طرف نہ ہوئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ نحو زيد ضارب عمرو أمس زید عمر کی پٹائی کرنے والا ہے گزشتہ کل، یہ أمس نے بتلا دیا کہ ضارب کس معنی میں ہے؟ ماضی کے معنی میں ہے، تو معلوم ہوا یہ عمر کے اندر عامل بھی نہیں کیونکہ یہ ماضی کے معنی میں ہو تو عمل— تو اب اگر اضافت توڑ دیں تو یہ نصب نہیں دے سکے گا، نصب— جب نصب نہیں دے سکے گا تو عمر کا ہم کیا کریں گے پھر؟ لہٰذا اس صورت میں اضافت کرنا واجب ہے اور اضافت بھی کون سی ہوئی؟ لفظی نہیں ہوگی بلکہ کیونکہ صیغہ تو صفت کا ہے ٹھیک ہے لیکن اپنے معمول کی طرف مضاف— کیونکہ معمول کی طرف تب مضاف ہوتا جب یہ خود کیا ہوتا؟ عامل اور یہ خود عامل ہے؟ کیونکہ یہ ماضی کے معنی میں ہے عامل ہی نہیں، جب عامل نہیں تو اگلا حرف کلمہ اس کا معمول نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا اب ضارب عمرو یہ تعریف اخذ کر لے گا کیونکہ اضافت معنوی ہے اور اضافت معنوی میں آپ نے پڑھا تھا کہ اضافت معرفہ کی طرف ہو تو مضاف ہی کیا بن جائے گا معرفہ، اور اضافت نکرہ کی طرف ہو تو مضاف کیا اخذ کر لے گا تخصیص آ جائے گی اس میں، هذا إذا كان منكرا یہ اس وقت ہے مولانا جب کہ اسم فاعل نکرہ ہو، أما إذا كان معرفا باللام ہاں! اگر اسم فاعل معرف باللام ہو یعنی اس پر الف لام آ جائے يستوي فيه جميع الأزمنة تو برابر ہیں اس کے اندر سارے زمانے بھئی! سارے زمانے کیا ہیں اس کے اندر؟ برابر ہیں، پھر مولانا کسی پہ— اعتماد کرنے کی تو اور اعتماد والے الف لام خود ہی آ جائے گا اعتماد والا، اور ہاں حال اور استقبال کی شرط نہیں پھر، پھر چاہے ماضی کے زمانے میں ہی کیوں نہ ہو جب الف لام آ گیا تو پھر یہ کیا کرے گا؟ عمل کرے گا، نحو زيد الضارب أبوه عمرا الآن زید پٹائی کرنے والا ہے اس کا باپ عمر کی کب؟ الآن ابھی، یہ کس معنی میں ہوا؟ حال، الآن کو ہٹائیں ذرا غداً لگائیں، زيد الضارب أبوه عمرا عمرا غداً بھئی یہ کس معنی میں ہے؟ مستقبل، یا زيد الضارب أبوه عمرا أمس یہ کس معنی میں ہوا؟ اور تینوں صورتوں میں یہ أبوه کو رفع دے رہا ہے اور عمرا کو کیا کر رہا ہے؟ نصب دے رہا ہے۔ اسم المفعول اسم مفعول ایسا اسم ہے، مشتق من فعل جس کا اشتقاق کس سے ہوگا مولانا؟ فعل سے، کیسا فعل؟ متعد، فعل کیسا ہو؟ بھئی ہم نے فاعل کو حذف کر کے مفعول کو اس کا قائم مقام بنانا ہے تو مفعول وہی قائم مقام بنے گا جہاں کیا ہوگا وہ موجود ہوگا اور وہ موجود کس میں ہوگا؟ فعل متعدی میں ہوگا، ليدل على من وقع عليه الفعل تاکہ یہ دلالت کرے اس ذات پر جس پر فعل واقع ہوا ہے، وصيغته من مجرد الثلاثي اور اس کا صیغہ مولانا ثلاثی مجرد سے على وزن مفعول کس وزن سے آتا ہے؟ مفعول کے وزن پر مولانا مضروب، مفتوح، مقتول وغیرہ، ومن غيره كاسم الفاعل اور غیر سے کس طرح آئے گا؟ اسم فاعل کی طرح آئے گا، بفتح ما قبل الآخر آخر سے ماقبل— بھئی اسم فاعل باقی مستخرج آتا تھا تو یہ کیا آئے گا؟ مستخرج، بس اسی طرح ہوگا بس آخر سے ماقبل اسم فاعل میں کسرہ تھا یہاں فتحہ آ جائے گا، كمدخل ومستخرج، ويعمل عمل فعله المجهول اور یہ عمل اپنے فعل مجہول والا، بشروط المذكورة في اسم الفاعل وہی شرائط جو مذکور ہوئیں کس کے اندر؟ اسم— نحو زيد المضروب— المضروب ہونا چاہیے مولانا! الف لام ہے؟ لگائیں بھئی لگائیں بھئی! زيد المضروب غلامه الآن أو غدا أو أمس، بھئی بتائیے مولانا غلامه کو رفع کون دے رہا ہے؟ مضروب کے لیے نائب فاعل ہے اور المضروب ہے اسم مفعول اور اسم مفعول کے عمل کرنے کے لیے کیا شرط تھی مولانا؟ کہ زمانہ حال یا— استقبال میں ہو اور آگے آ رہا ہے أمس، ماضی میں بھی مثال آ گئی اور ماضی میں جب ہو پھر تو یہ غلامہ کو رفع نہیں دے سکتا لیکن انہوں نے تو رفع دیا اور أمس کی مثال بھی ساتھ، معلوم ہوا یہ الف لام والی مثال ہے کاتب کی غلطی سے الف لام رہ گیا بھئی، کیونکہ الف لام جب اس پر داخل ہو جائے تو پھر یہ ماضی میں بھی کیا کرتا ہے؟ عمل کرتا ہے۔ الصفة المشبهة اسم مشتق من فعل لازم صفت مشبہ ایسا اسم ہے مشتق من فعل لازم جس کا اشتقاق کس سے ہوگا؟ بھئی صفت مشبہ ہمیشہ فعل لازم سے آتی ہے، سمجھ میں آیا؟ فعل متعدی سے نہیں، من فعل لازم یہ فعل لازم سے آئے گی ليدل على من قام به الفعل تاکہ دلالت کرے ایسی ذات پر جس کے ساتھ فعل کیا ہے؟ قائم ہے، بمعنی الثبوت کس معنی میں؟ ثبوت کے معنی میں، اور کس کو نکال دیا؟ یہ اسم فاعل کو نکالا کیونکہ وہاں کس معنی میں تھا؟ حدوث کے معنی میں تھا، وصيغتها على خلاف صيغة اسم الفاعل والمفعول اور اس کے صیغے اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں کے خلاف ہیں یعنی اس کے اپنے اوزان ہیں، وإنما تعرف بالسماع اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ سماع سے کوئی ضابطہ نہیں اس نے کون سے پڑھے مولانا؟ جی؟ حسن، صفر، صلب، فعل، فعل، فعل، فعل اور فعل وغیرہ بہت سے اوزان ہیں، تو یہ سماع کوئی ضابطہ نہیں ہے تو إنما تعرف بالسماع ان کو جانا جائے گا سماع کے ساتھ، كحسن دیکھو فعل وزن، وصعب فعل وزن، وظريف فعیل وزن مختلف اوزان ہیں، وهي تعمل عمل فعلها مطلقا اور یہ بھی اپنے فعل والا عمل کرتا ہے مطلقا مولانا! مطلقا کیا معنی؟ 10 چاہے حال ہو چاہے استقبال ہو چاہے؟ یعنی مراد مولانا یہ صفت تو ثبوت پر دلالت کرتی ہے، یہاں زمانہ آتا ہی نہیں ہے مولانا۔ نہ حال، نہ استقبال، نہ سمجھ میں آیا؟ یہاں حما۔ زید شریف، زید کیا ہے؟ شریف ہے، بس زید کے لیے شرافت کا ثبوت آیا۔ اور یہ کس میں ہے؟ ماضی میں بھی ہے، حال میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی ہے مولانا۔ تو یہ مطلق ہوتی ہے، زمانے کی قید ہی نہیں۔ اس لیے وہ والی قید ہی نہیں، یہ مطلقاً عمل کرے گا۔ بشرط الاعتماد المذکور، کس بعین شرط کے اس کا اعتماد کیا ہو؟ بشرطیکہ مذکورہ اعتماد ہو، یعنی چھ چیزوں میں سے کسی ایک پر اس کا اعتماد ہو۔ ان چھ میں سے بھی ایک اس میں موصول کو نکال دیں مولانا، کیونکہ الف اس میں فاعل اس میں مفعول پر جو الف لام آتا ہے وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ الذی کے معنی میں۔ صفت مشبہ کا ذکر ہم نے نہیں کیا کہ اس پر جو الف لام آئے وہ بھی کس معنی میں ہوتا ہے؟ الذی کے معنی میں ہوتا ہے۔ فلہذا پانچ چیزوں کو ان میں سے۔ و مسائلہا ثثمانیۃ عشر، اور اس کے مسائل کتنے ہیں مولانا؟ اٹھارہ ہیں۔ کتنے ہیں؟ جی، یہاں سے اس کے مسائل کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ اس کے لیے آپ ایک نقشہ بنا لیجیے بھئی۔ جی، نقشہ بنا لیں، اس سے آپ آسانی سے پورا مسئلہ آپ کو سمجھ میں آ جائے گا۔ تو نقشہ بھئی چوڑائی کی طرف بناؤ بھئی چوڑائی، صفحے کی چوڑائی کی طرف ہو کیونکہ چھ خانے بننے ہیں بھئی، لمبائی دونوں طرف۔ کل چھ خانے بننے ہیں تو چوڑائی میں بناؤ تو نقشہ صحیح بنے گا، صفحے کی لمبائی کے رخ بناؤ تو چھ خانے بنانا مشکل ہوں گے بھئی۔ اور جو مثالیں ہیں وہ کھلی کھلی لکھنی چاہئیں بھئی، پھر ہر ایک کا حکم ساتھ آپ لکھ سکتے ہیں۔ جی، صفحے کے اوپر درمیان میں بھئی وسط میں لکھیے الصفت المشبہ۔ یا یوں کر لیں اردو میں لکھ لیں صفت مشبہ کے مسائل بھئی، صفت مشبہ کے مسائل صفحے کے اوپر لکھیں اور وسط میں لکھیں بس، صفت مشبہ کے مسائل۔ اب اس کے وسط سے نیچے کو لکیر کھینچیں تاکہ صفحے کے دو حصے بن جائیں بھئی۔ اس کے وسط سے لکیر کھینچیں تاکہ صفحہ دو نصف، آدھا ایک طرف رہ جائے گا آدھا دوسری طرف بھئی، دو حصے بن جائیں۔ لگا لی لکیر بھئی؟ اب ایک طرف لکھیے صفت باللام۔ یہ اوپر عنوان سا ہو، وسط میں لکھو صفت باللام۔ مثل الحسن، مثل الحسن۔ دوسری طرف لکھیے صفت مجردۃ۔ صفت مجردۃ۔ مثل حسن، مثل حسن، لکھ لیا بھئی؟ مثل حسن۔ ایک طرف آپ نے کیا لکھا؟ صفت باللام، اس کے پورے کے نیچے لکیر لگا دیں، صفت باللام مثل مثل الحسن۔ لگا دی لکیر بھئی؟ دوسری طرف بھی بھئی، صفت مجردۃ کے نیچے بھی لائن لگا دیں بھئی۔ اب دونوں طرف تین تین عنوان دینے ہیں بھئی، ان کے نیچے پھر لکھیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی تین تین خانے دونوں طرف بن جائیں گے، تین ایک طرف، تین دوسری طرف۔ تو ایک طرف لکھیے بھئی صفت باللام جو لکھا ہے اس کی جانب میں لکھیے، پہلا ہے معمول مضاف۔ معمول مضاف۔ اس کے ساتھ تھوڑا فاصلہ دے کے لکھیں معمول باللام۔ تین خانے چاہئیں بھئی، ایک جانب میں بھی تین خانے بنیں گے دوسری جانب میں بھی تین خانے بنیں گے بھئی، اسی ترتیب سے لکھنا بھئی۔ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ یا دو دو لکیریں لگا لو دونوں طرف تاکہ تین تین خانے بن جائیں دونوں طرف۔ تو ایک کیا لکھا بھئی؟ معمول مضاف، دوسرا لکھیں معمول باللام۔ اسی میں، اسی جانب میں۔ بھئی صفحے کے دو حصے بنائے یا نہیں آپ نے؟ تو ایک ہی جانب بھئی، جیسے یہ دو حصے بنے، آگے دونوں طرف اب تین تین خانے اور چاہئیں بھئی۔ ایک بنا لو کیا لکھو؟ معمول مضاف، دوسرا لکھیں معمول باللام۔ ان کے نیچے مثالیں آتی جائیں گی، ہر ایک کے نیچے تین تین مثالیں پھر آئیں گی چار، تین تین بھئی۔ معمول باللام۔ تیسرا لکھیں معمول مجرد عنہما۔ آ رہے ہیں پورے کہ نہیں آ رہے بھئی؟ جی؟ ہمم۔ یہ تین خانے ہیں، پہلا کیا ہے؟ معمول مضاف، دوسرا کیا ہے؟ معمول باللام، تیسرا ہے معمول مجرد عنہما۔ ان تینوں کے نیچے معمول مضاف پورے کے نیچے لکیر لگائیں اور نیچے لکھیں وجہہ۔ وجہہ، اسی کے نیچے لکھیں بالکل ساتھ ملا کر۔ معمول مضاف کے نیچے پورے کے نیچے لکیر لگا کر ساتھ ہی نیچے لکھ دیں وجہہ۔ آگے کیا لکھا تھا بھئی؟ معمول باللام، اس کے نیچے بھی پورے کے نیچے لکیر لگائیں اور نیچے ساتھ لکھ دیں الوجہ۔ اور تیسرا کیا ہے؟ معمول مجرد عنہما، اس پورے کے نیچے لکیر لگائیں اور نیچے لکھیں وجہ۔ وجہ۔ لکھ لیا بھئی؟ بھئی دوسری جانب میں بھی اب اسی طرح یہ تینوں عنوان دیں اسی انداز میں، پہلا کیا لکھیں؟ معمول مضاف۔ دوسرا معمول باللام۔ تیسرا معمول مجرد عنہما۔ معمول مجرد عنہما۔ اور معمول مضاف کے نیچے کیا لکھنا ہے بھئی؟ پہلے میں کیا لکھا تھا؟ وجہہ، وہی یہاں پر بھی لکھیں بھئی، وجہہ۔ دوسرے کے اندر معمول باللام کے نیچے لکھیں الوجہ، اسی طرح، الوجہ۔ تیسرا جو ہے معمول مجرد عنہما، اس کے نیچے اسی طرح وجہ لکھیں صرف۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ دیکھیے بھئی، بحث ہے صفت مشبہ کی، مصنف آپ کو بتلائیں گے کہ صفت مشبہ کے مسائل اٹھارہ قسم پر ہیں، اب وہ اٹھارہ قسمیں ہم بنائیں گے۔ سب سے پہلے صفت مشبہ کی تقسیم کی کہ صفت مشبہ یا تو معرف باللام ہو گی یا مجرد ہو گی یعنی معرف باللام نہیں، جیسے الحسن، دیکھو یہ صفت مشبہ ہے اور معرف باللام ہے، اس پر کیا داخل ہو رہا ہے؟ الف لام، جبکہ دوسری طرف لکھا حسن، اس پر یہ مجرد ہے مولانا، اس پر کوئی الف لام داخل ہے؟ نہیں۔ تو دو کہ صفت مشبہ یا معرف باللام ہو گی یا بغیر الف لام کے ہو گی۔ پھر ان کا معمول جو ہے یا تو مضاف ہو گا، جیسے وجہہ، وجہ کا لفظ مضاف ہے ہا ضمیر کی طرف بھئی، کیونکہ میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے تو آپس میں کیا ترکیب کریں گے ان کی؟ مضاف مضاف الیہ بنائیں گے ان کو، تو وجہہ دیکھو اس میں صفت نے عمل کرنا ہے تو یہ معمول ہوا اور معمول بھی کس قسم کا ہے وجہہ؟ یہ وجہ مضاف ہو رہا ہے کس کی جانب؟ ہا ضمیر کی جانب بھئی۔ تو یا پھر معمول کیا ہو گا اس کا؟ باللام ہو گا جس میں یہ عمل کر رہی ہے، باللام یعنی اس پر الف لام داخل ہو گا جیسے الوجہ، جیسے کیا ہے؟ الوجہ، اور یا پھر معمول مجرد عنہما ان دونوں سے خالی ہو گا یعنی نہ مضاف ہو گا یعنی اس میں اضافت بھی نہیں ہو گی اور اس میں الف لام بھی نہیں ہو گا جیسے وجہ بھئی، جیسے؟ تو وجہ کے اندر دیکھو اس کی اضافت بھی نہیں ہو رہی اور اس پر الف لام بھی داخل نہیں۔ اسی طرح دوسری جانب میں بھی ایک تو ایک جو صفت الف لام سے خالی آئے گی بھئی وہ بھی عمل کرے گی تو اس کا معمول یا تو کیا ہو گا؟ مضاف ہو گا اور وہ کیا ہے؟ وجہہ، اور یا کیا ہو گا؟ معمول اس کا لام کے ساتھ آئے گا لام تعارف تو وہ جیسے الوجہ، یا اضافت بھی نہیں ہو گی اس میں اور لام تعریف بھی نہیں ہو گا جیسے وجہ، یہاں تک تقسیم سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ اب وہ اوپر والا جو ہے الحسن بھئی ایک ایک جانب دیکھیے، معرف باللام کیا تھا اوپر؟ الحسن، نیچے کیا ہے؟ معمول کیا ہے اس کا؟ بھئی پہلی قسم کیا ہے صفت کس کے ساتھ ہو گی؟ معرف باللام ہو گی الحسن، اور آگے اس کا معمول ہے بھئی، اب یہ معمول یا مرفوع ہو گا یا منصوب ہو گا یا مجرور ہو گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ صفت کون سی؟ معرف باللام ہو، صفت کس کے ساتھ آئے گی؟ یعنی الحسن کی جانب میں دیکھیے تو الحسن معرف باللام ہے اور اس کا معمول جب مضاف ہو کیا ہو؟ یہ وجہہ، یہ وجہہ یا مرفوع ہو گا یا منصوب ہو گا یا مجرور ہو گا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو الحسن کو ملا دیں وجہہ کے ساتھ، اس کے نیچے ہی لکھیں بھئی تھوڑا فاصلہ دے کر، یہ وجہہ کے نیچے ہی لکھیں بھئی، پہلی صورت کیا بنے گی؟ الحسن وجہہ۔ الحسن وجہہ۔ تو دیکھا وہ ہر ایک کو اسی طرح ہر ایک کے ساتھ الحسن کو ملاتے جائیں گے، الحسن کو ہم نے کس کے ساتھ ملا دیا؟ وجہہ کے ساتھ، اور یہ وجہہ میں پھر میں نے بتایا یہ مرفوع بھی آ سکتا ہے، منصوب بھی آ سکتا ہے اور مجرور بھی، تو کیا لکھا آپ نے؟ الحسن وجہہ، ہا پر ضمہ بھی ڈالیں پتا چلے یہ رفع دے رہا ہے وجہہ کی ہا پر بھئی، اسی کے نیچے نصب والی حالت بھی لکھیں، الحسن وجہہ۔ الحسن وجہہ۔ لکھ لیا بھئی؟ اسی کے نیچے اب جر والی حالت بھی اسی کی لکھ لیں، الحسن وجہہ۔ الحسن وجہہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ صفت کون سی ہے؟ معرف باللام، اور معمول کیا ہے؟ مضاف ہے، اور پھر یہ معمول مضاف جو ہے اس میں رفع بھی آ سکتا ہے، نصب بھی آ سکتا ہے اور جر بھی آ سکتا ہے، آپ نے تینوں مثالیں لکھ لیں، الحسن وجہہ، دیکھو رفع آ رہا ہے معمول پہ، الحسن وجہہ، دیکھو معمول پہ کیا آ رہا ہے؟ صفت نصب دے رہی ہے، یا الحسن وجہہ، یہاں پر کیا ہے؟ معمول پر جر آ رہا ہے، اب اگلے معمول باللام جو ہے الوجہ، اس کے نیچے بھی اسی طرح تین صورتیں بن جائیں گی، صفت کو ساتھ ملا دیں، الحسن الوجہ۔ الحسن الوجہ۔ اسی کے نیچے دوسری نصب والی حالت، الحسن الوجہ۔ الحسن الوجہ۔ اور اسی کے نیچے تیسری حالت، الحسن الوجہ۔ الحسن الوجہ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ صفت کس قسم کی ہے؟ معرف باللام، اور معمول بھی کیا ہے؟ وہ بھی معرف باللام ہے، تو اس کو ساتھ ملایا الحسن الوجہ، اور پھر یہ معمول مرفوع بھی آ سکتا ہے، منصوب بھی آ سکتا ہے اور مجرور بھی آ سکتا ہے، تو مرفوع آئے گا تو الحسن الوجہ، منصوب آئے گا تو کیسے پڑھیں گے؟ الحسن الوجہ، اور اگر مجرور آئے گا تو کیا پڑھیں گے؟ الحسن الوجہ۔ اب وہ تیسرا جو معمول مجرد عنہما، اگر معمول اضافت اور لام دونوں سے خالی ہوا تو اس میں بھی اسی طرح تین وجہیں پڑھیں گے بھئی، الحسن وجہ۔ اس کے نیچے لکھیں، الحسن وجہ۔ الحسن وجہا۔ یہ الف کے ساتھ آئے گا وجہا۔ الحسن وجہا۔ اور الحسن وجہ۔ الحسن وجہ۔ لکھ لیا بھئی؟ بات سمجھ، مشکل تو نہیں ہے بات بھئی؟ جی؟ آسان مسئلہ ہے بھئی، تو دیکھو صفت جب معرف باللام ہو تو اس کا معمول یا تو مضاف ہو گا یا معمول بھی کیا ہو گا؟ معرف باللام ہو گا یا معمول اضافت اور لام دونوں سے کیا ہو گا؟ خالی۔ تو معمول مضاف کی کیا مثال ہے؟ وجہہ، اور معمول معرف باللام کی کیا مثال ہے؟ الوجہ، اور معمول مجرد عنہما اس کی کیا مثال ہے؟ وجہ، تو بس الحسن ہو گا اور اس کے ساتھ یہ معمول ملا دیں، پہلا کیا ہے جو مضاف ہے الحسن وجہہ، تو اب یہ وجہہ معمول ہے صفت کا اور پھر صفت اس میں کبھی رفع دے گی، کبھی نصب دے گی اور کبھی جر، تو تین صورتیں ہوئیں، الحسن وجہہ، الحسن وجہہ، الحسن وجہہ۔ اسی طرح اگر معمول باللام ہو تو وہاں بھی تین حالتیں آ گئیں، الحسن الوجہ، الحسن الوجہ، الحسن الوجہ۔ اور اگر معمول میں نہ اضافت ہو نہ اس پر لام داخل ہو تو وہاں بھی تین حالتیں آ گئیں، الحسن وجہ، الحسن وجہا، الحسن وجہ۔ دوسری جانب میں بھی اسی طرح تین تین مثالیں بنیں گی لیکن وہاں کیا ہے؟ صفت الف لام سے خالی آئے گی، تو جب معمول کیا ہے؟ مضاف ہے وجہہ، اس کے نیچے بھی تین حالتیں لکھیں، کیا لکھیں گے؟ حسن وجہہ۔ حسن وجہہ، رفع دے رہی ہے۔ حسن وجہہ، دوسری مثال ہے حسن وجہہ۔ تیسرا، حسن وجہہ، اضافت کی وجہ سے تنوین گر گئی۔ حسن وجہہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بالکل وہ پہلی خانہ جو بنایا اس کی طرح ہے صرف حسن پر الف لام نہیں آئے گا، تو کیا ہوئیں تین قسمیں؟ حسن وجہہ، حسن وجہہ، حسن وجہہ، تنوین گر گئی اضافت کی وجہ سے۔ جی، اگلا معمول کیا تھا؟ جی، حسن کا اگلے اگلا معمول ہے معرف باللام ہے الوجہ، اس میں بھی یہ تین حالتیں آئیں گی۔ 11 حسن الوجه حسن الوجه اس کے نیچے کیا لکھیں گے؟ حسن الوجھا حسن الوجھا اور تیسری مثال کیا بن جائے گی؟ حسن الوجہ تنوین گر جائے گی حسن الوجہ تو دیکھا معارف جب معمول معرف باللام ہو تو اس میں بھی کتنی صورتیں بن گئیں؟ تین صورتیں بن گئیں بھئی تین صورتیں، معمول یا مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور حسن الوجہ، حسن الوجھا اور حسن الوجہ تین آ گئے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تیسری قسم بھئی جہاں معمول دونوں سے خالی تھا یعنی نہ اس میں اضافت تھی نہ لام تھا، اور وہ کیا تھا؟ وجہون، اب اس کے ساتھ بھی اس حسن کو ملا دیں، حسن وجہون حسن وجہون نیچے آئے گا حسن وجہان حسن وجہان اور حسن وجھن حسن وجھن تنوین گر گئی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی تو یہاں پر بھی کل کتنی صورتیں بن گئیں؟ جی تین، تو اس وہ صفت جو الف لام سے خالی ہو حسن، نو صورتیں اس میں بنیں اور نو ہی صورتیں کس میں بنیں؟ وہ صفت جو معرف باللام ہو الحسن، تو کل کتنی ہو گئیں؟ اٹھارہ بھئی سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صفت جب مجرد ہو یعنی خالی ہو الف لام سے جیسے حسن ہے، تو پھر اس کا معمول بھی یا تو مضاف ہوگا یا کیا ہوگا؟ معرف باللام ہوگا یا ان دونوں سے کیا ہوگا؟ خالی، مضاف کی مثال ہے جو معمول ہو وجوہہ، اور جو معرف باللام ہو اس کی کیا مثال ہے؟ الوجہ، اور جو ان دونوں سے خالی ہو اس کی کیا مثال ہے؟ وجہون، پھر ان تینوں معمولوں کے اندر تین تین حالتیں ہیں، رفع ہوگا، نصب یا جر، تو کیسے پڑھیں گے؟ حسن وجوہہ، حسن وجھہ، حسن وجھہ اور اگر معرف باللام ہو تو کیسے پڑھیں گے؟ حسن الوجہ، حسن الوجھا اور حسن الوجہ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اگر خالی ہو دونوں سے بھئی معمول، تو کیسے پڑھیں گے؟ حسن وجہون، حسن وجہان اور حسن وجھن اب یاد رکھیے، اب آپ کے پاس یہ اٹھارہ صورتیں آ گئیں، ان میں یہ پانچ قسم پر ہیں ان کے احکام بھئی، ان کے احکام کتنی قسم پر ہیں؟ پانچ، بعض ان میں سے ممتنع ہیں، جائز ہی نہیں بعض صورتیں بھئی، بعض صورتیں کیا ہیں؟ جائز ہی نہیں ہیں، بعض صورتیں وہ ہیں جن میں اختلاف ہے بھئی تو کتنی ہو گئیں؟ دو قسم، بعض صورتیں ممتنع ہیں، جائز ہی نہیں ہیں، بعض صورتوں میں اختلاف ہے، اور بعض صورتیں احسن ہیں، بعض صورتیں حسن ہیں، اور بعض صورتیں قبیح ہیں بھئی، کتنی قسمیں ہو گئیں؟ پانچ، پہلی کیا؟ بعض قسمیں کیا ہیں؟ ممتنع ہیں، جائز ہی نہیں، بعض صورتیں کیا ہیں ان میں؟ اختلاف ہے، دو ہو گئے، تیسرا، بعض صورتیں کیا ہیں؟ احسن ہیں، تین ہو گئے، بعض صورتیں حسن ہیں چار اور بعض صورتیں قبیح ہیں پانچ بھئی، تو یا تو یہ کوئی ممتنع ہوں گی یا ان میں اختلاف ہوگا یا احسن ہوں گی یا حسن ہوں گی یا قبیح ہوں گی پانچ صورتیں ممتنع بھئی یاد رکھو ان میں سے الحسن وجہن بھئی الحسن وجہن یہ جائز نہیں مولانا، کیوں نہیں جائز؟ جی، اس لیے کہ الحسن دیکھو ہے مضاف، اور وجہن پہ کسرہ آ رہا ہے معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور ضابطہ کیا ہے؟ مضاف کو معرفہ ہونا چاہیے، کہ مضاف الیہ کو معرفہ ہونا چاہیے؟ مضاف الیہ کو تو یہاں معاملہ برعکس ہے، مضاف معرفہ ہے اور مضاف الیہ نکرہ، لہذا یہ جائز نہیں صورت سمجھ میں آئی؟ اور نیز مولانا الحسن وجہہ یہ بھی جائز نہیں ہے یہ کیوں نہیں جائز؟ دیکھو مولانا، یہ ہے اضافت لفظی، کیونکہ صفت مشبہ ہے ناں، اور کس طرف اضافت ہو رہی ہے اس کی؟ اپنے معمول کی طرف اور صیغہ صفت کا ہو، اور مضاف ہو اپنے معمول کی طرف، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اضافت لفظی، اور اضافت لفظی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اور لفظوں میں تخفیف کے کیا طریقہ ہے؟ کہ مضاف سے تنوین یا قائم مقام تنوین کو گرا دے، مضاف سے کیا گرا دے؟ تنوین یا قائم مقام تنوین کو، اور قائم مقام تنوین کیا ہے؟ نون تثنیہ اور نون جمع، تو مضاف سے یا تنوین کو گرا دے گی یا نون تثنیہ کو یا نون جمع کو، اور یا مولانا مضاف الیہ سے ضمیر کو گرا دیتی ہے، مضاف الیہ سے کیا کرتی ہے؟ ضمیر کو گرا دیتی ہے، اور اس ضمیر کو گرا کر اس کے عوض میں ہم اس پر الف لام لگا دیتے ہیں اس ضمیر کو گرا کر اس کے عوض میں کیا لگا دیتے ہیں؟ الف لام لگا دیتے ہیں صورت سمجھ میں آئی؟ اضافت لفظی سے کیا ہوتی ہے لفظوں میں؟ تخفیف آ جاتی ہے، اور تخفیف کیسے آئے گی مولانا؟ تنوین کو گرا دیتی ہے مضاف سے یا قائم مقام تنوین کو گرا دیتی ہے، اور ساتھ مضاف الیہ سے کس کو گرا دیتی ہے؟ ضمیر کو، اور اس ضمیر کے عوض میں مضاف الیہ پر کیا آ جاتا ہے؟ الف لام آ جاتا ہے الف لام آ جاتا ہے اب بتائیے، یہ کون سی اضافت ہے؟ لفظی اضافت لفظی، اور یہاں پر کس چیز کا فائدہ دے رہی ہے؟ کیا الحسن سے تنوین گری؟ واو پہ تو پہلے ہی تنوین نہیں تھی کیونکہ الف لام کی وجہ سے تنوین تو پہلے ہی نہیں تھی، اچھا نہ تو تنوین گری، اچھا وجہہ سے بھئی اس نے ضمیر گرائی؟ نہیں، تو یہ اضافت لفظی ہے، اور اضافت لفظی فائدہ دیتی ہے لفظوں میں تخفیف کا اور یہاں کسی بھی اعتبار سے تخفیف نہیں، لہذا یہ جائز بھی نہیں وجہ سمجھ میں آگئی؟ یہ یہ دونوں تو جائز نہیں دوسرا، بعض قسمیں وہ ہیں جن میں اختلاف ہے بھئی، وہ کون سی صورت ہے؟ جی، بھئی، وہ ہے حسن وجہہ، حسن وجہہ اس میں اختلاف ہے بھئی حسن وجہہ والی صورت مل گئی بھئی سب کو؟ بعض علماء کہتے ہیں یہ جائز ہے، بعض کہتے ہیں یہ جائز نہیں جائز والے کیا کہتے ہیں؟ جو کہتے ہیں جائز نہیں ہیں وہ کہتے ہیں دیکھو، یہ ہے اضافت لفظی، حسن وجہہ، اور اضافت لفظی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے لفظوں میں تخفیف کا، اور تخفیف کا اعلی ایک اعلی درجہ ہے ایک ادنی درجہ، اعلی درجہ یہ ہے مولانا کہ مضاف سے تنوین گرائے تو مضاف الیہ سے ضمیر کو گرائے، دونوں میں تخفیف ائی یا نہیں ائی مولانا؟ جی، اور ایک ہے ادنی درجہ کہ صرف مضاف سے تنوین گرائی، مضاف الیہ سے ضمیر نہیں گرائی، یہ ادنی درجہ تو کہتے ہیں یہاں پر اعلی درجہ ممکن تھا، مضاف سے تنوین گریا تو مضاف الیہ سے کیا گر سکتی تھی؟ ضمیر گر سکتی تھی، لیکن اس نے گرائی نہیں، لہذا جائز نہیں تخفیف کا اعلی درجہ ممکن ہونے کے باوجود اس نے کیا کیا مولانا؟ گرائی نہیں وہ ضمیر نہیں گرائی، لہذا جائز نہیں، اور بعض کہتے ہیں جائز ہے بھئی، یہ اضافت لفظی، چلو ٹھیک ہے اعلی کہتے ہیں اعلی درجہ نہ سہی، ادنی درجہ سہی، کچھ نہ کچھ تخفیف آ گئی یا نہیں آ گئی؟ حسن سے تنوین گر گئی یا نہیں گر گئی؟ لہذا کہتے ہیں جائز، تو اس میں اختلاف، بعض کہتے ہیں جائز، بعض کہتے ہیں جائز نہیں تو اس صورت میں اختلاف ہے، باقی صورتوں میں بھئی، بعض صورتیں احسن ہیں، بعض حسن ہیں اور بعض قبیح ہیں، احسن وہ ہیں جہاں پر ان میں ایک ضمیر آئے، کیا آئے؟ ایک ضمیر آئے، اس لیے کہ یہ صفت مشبہ ہے، اور صفت مشبہ نے صفت بننا ہے اپنے موصوف کے لیے، کیا بننا ہے؟ صفت بننا ہے موصوف کے لیے، اور تو اس کو موصوف کے ساتھ جوڑنے کے لیے، ربط دینے کے لیے ایک عائد چاہیے، کیا چاہیے؟ آپ نے پڑھا ہے نا جملے کو جب کسی چیز سے جوڑا جائے تو کس چیز کے ذریعے ربط دیا جاتا ہے عموماً ضمیر کے ذریعے، اسے کیا کہتے ہیں؟ عائد، اسی طرح یہ صفت جو ہے ان کو بھی شبہ جملہ کہتے ہیں، یہ بھی کیا ہے؟ جملے کے مشابہ ہیں، تو ان کو بھی کسی چیز کے ساتھ جوڑنے کے لیے کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، جی عائد چاہیے، ضمیر چاہیے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب جن تو ضمیر ہمیں ایک ہی چاہیے یا دو چاہیے بھئی؟ ایک ہی چاہیے عائد، تو وہ صورتیں جن میں ایک ہی ضمیر آئے، وہ صورتیں احسن ہیں کہ ہمیں ضرورت بھی کتنی ضمیروں کی ہے؟ ایک کی اور آ بھی کتنی رہی ہیں؟ ایک ہی ضمیر آ رہی ہے، تو ضرورت کے مطابق ہے پوری پوری، لہذا یہ احسن صورت ہے دوسری صورت ہے کہ دو ضمیریں آ رہی ہوں مولانا، یہ حسن ہے، اس لیے کہ ضرورت کتنی ضمیروں کی ہے؟ ایک کی اور ایک کیا آ گئی؟ زائد ضمیر آ گئی، لہذا یہ صورت کیا ہوئی؟ زائد چیز ہونے کی وجہ سے اس میں یہ کم درجے کی ہوئی بھئی، اور تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی ضمیر نہ ہو مولانا، کوئی ضمیر اس کے اندر تو اس صورت میں یہ قبیح ہے، کیا ہے؟ تو باقی صفت مشبہ مولانا اس کے مسائل کتنی قسم پر میں نے بتلایا؟ پانچ قسم پر ہیں بھئی، کچھ صورتیں ممتنع ہیں اور کچھ صورتیں کیا ہیں؟ ان میں اختلاف ہے، اور باقی صورتیں یا احسن ہوں گی یا حسن ہوں گی یا قبیح ہوں گی، احسن وہ صورتیں ہیں جن کے اندر ایک ضمیر آئے، حسن وہ صورتیں جن کے اندر دو ضمیریں آئیں اور قبیح وہ صورت ہے جن کے اندر کوئی ضمیر بھی عائد تو چاہیے اور عائد ہے نہیں، تو یہ صورت کیا ہے؟ قبیح ہے، کیا ہے؟ قبیح ہے اب آپ نے مجھے بتلانا ہے بھئی کہ کون سی صورت احسن ہے، کون سی صورت حسن ہے اور کون سی صورت قبیح ہے؟ کون سی صورت قبیح ہے؟ دیکھیے سب سے پہلی صورت بھئی، پہلے کیا ہے؟ الحسن وجوہہ، الحسن وجہہ بتلائیے مولانا اس میں کتنی ضمیریں ہیں؟ ایک ضمیر ہے، کیا ہے؟ ایک ضمیر ہے، بھئی سب سے پہلے دیکھو الحسن کے اندر ضمیر ہے یا ضمیر نہیں، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے صف جیسے فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے، فعل مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے، اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل چاہیے یا نائب فاعل چاہیے، تو یہ ہے صفت مشبہ، صفت مشبہ کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے، تو اب آپ نے دیکھنا ہے کہ الحسن کے لیے فاعل اس کے اندر ضمیر ہے یا اس کے اندر ضمیر نہیں تو الحسن صیغہ صفت کا ہے، یہ کس کا تقاضا کرتا ہے بھئی؟ فاعل کا، اس لفظ الحسن وجوہہ پہ ذرا نظر رکھیں، الحسن صفت کا صیغہ ہے یہ کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ فاعل کا، یہ صرف فاعل کو رفع دے گا اور آگے آ رہا ہے وجہہ کا لفظ، اور اس کو یہ صفت رفع دے رہی ہے، کیا کر رہی ہے؟ معلوم ہوا اس کا فاعل یہ وجہہ ہے، الحسن کا فاعل کون ہے؟ وجوہہ، اور جب اس کا فاعل آگے آ رہا ہے تو اب اس کے اندر ضمیر ہوگی؟ اب اس کے اندر ضمیر نہیں، بھئی ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہے، لیکن جب آپ کہتے ہیں ضرب زید، تو کیا ضرب کے اندر اب ہوا ضمیر ہوتی ہے؟ اب نہیں ہوتی کیونکہ آگے زید خود اس کا فاعل وہ ضمیر تو ہم اس لیے نکالتے تھے کہ ضرب کے لیے فاعل کی ضرورت ہے، اور جب زید خود آگے فاعل آ رہا ہے، تو اب ضرب میں ہوا ضمیر نہیں، اسی طرح الحسن کے لیے فاعل چاہیے، اور فاعل اس کے اندر ضمیر نکالتے ہیں، جب فاعل آگے خود آ رہا ہے، تو اب اس صورت میں اس کے اندر ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں تو ضابطہ یہ نکلا کہ اگر صفت کے آگے اس کا معمول مرفوع ہو تو اس کے اندر ضمیر نہیں ہوگی، اگر آگے مرفوع نہ ہو تو پھر اس کے اندر ضمیر ہوئی، (یعنی صفت اگر آگے اس میں ظاہر کو رفع دے رہی ہو تو اس کے اندر ضمیر فاعل کی نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟) صفت کے آگے معمول یا تو مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور اگر اس کا آگے آنے والا معمول مرفوع ہو تو پھر صفت کے صیغے میں کوئی ضمیر نہیں، کیونکہ اس کے لیے کیا چاہیے تھا؟ فاعل، اور وہ فاعل آگے خود آ چکا، تو اب اس صیغے کے اندر کوئی ضمیر نہیں، لیکن اگر اس کا معمول منصوب ہو یا مجرور ہو تو پھر اس کے اندر کس کی ضمیر نکالیں گے؟ فاعل کی، کس کی ضمیر نکالیں گے؟ فاعل کی، بھئی آگے آنے والا معمول تو منصوب ہے یا مجرور ہے، معلوم ہوا وہ فاعل نہیں، اور صفت کے لیے فاعل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ فاعل چاہیے، تو پھر فاعل کی ضمیر نکالنا پڑے گی، ضابطہ سمجھ میں آیا؟ اگر آگے آنے والا اسم مرفوع ہو تو صفت کے صیغے میں کیا ضمیر ہوگی؟ نہیں، اور اگر آگے آنے والا معمول منصوب یا مجرور ہو تو صفت کے صیغے میں کیا ہوگی؟ ضمیر ہوگی اب آپ بتلاتے جائیے، الحسن وجوہہ، الحسن میں ضمیر ہے؟ نہیں ہے، کیونکہ آگے وجہہ کیا آ رہا ہے؟ مرفوع، اور وجہہ کے ساتھ البتہ ایک ضمیر ملی ہوئی ہے، تو الحسن، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ الحسن میں کوئی ضمیر ہے؟ نہیں، اور وجہہ میں ایک ہے، کیا ہے؟ ایک، تو الحسن وجوہہ اس سارے مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن، احسن، ایک ہی چاہیے آگے آگے دیکھیں بھئی، الحسن وجہاہ، جی، الحسن کے اندر ضمیر ہے؟ جی، ضمیر ہے، کیونکہ آگے یہ کسی کو رفع نہیں دے رہی، اور وجہاہ میں بھی ضمیر ہے؟ جی، تو کتنی ضمیریں آ گئیں الحسن وجہاہ میں؟ دو، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ یہ حسن ہوئی، دو ضمیریں، الحسن وجھی، اس کے بارے میں تو میں آپ کو بتلا چکا ہوں یہ صورت کیا ہے؟ ممتنع ہے، اگلے ستر میں، آگے بھئی دیکھیے، الحسن الوجہ، الحسن کے اندر ضمیر ہے؟ جی الحسن میں کوئی ضمیر نہیں، الوجہ میں کوئی ضمیر ہے؟ اس کے ساتھ بھی کوئی ضمیر ملی ہوئی ہے؟ نہیں، لہذا یہ کون سی صورت ہوئی؟ مجموعے میں کوئی ضمیر نہیں، لہذا یہ صورت قبیح ہوئی، کیا ہوئی؟ قبیح ہوئی، بھئی تو عائد چاہیے تھا اور عائد ہے نہیں، تو یہ صورت کیا ہے؟ قبیح ہے، کیا ہے؟ قبیح ہے، اب آپ نے مجھے بتلانا ہے بھئی، کہ کون سی صورت احسن ہے، کون سی صورت حسن ہے اور کون سی صورت قبیح ہے؟ کون سی صورت قبیح ہے؟ دیکھیے سب سے پہلی صورت بھئی، پہلے کیا ہے؟ الحسن وجوہہ، الحسن وجوہہ، بتلائیے مولانا اس میں کتنی ضمیریں ہیں؟ ایک، ایک ضمیر ہے، بھئی سب سے پہلے دیکھو الحسن کے اندر ضمیر ہے یا ضمیر نہیں، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے جیسے فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے، فعل مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے، اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل چاہیے یا نائب فاعل چاہیے، تو یہ ہے صفت مشبہ، صفت مشبہ کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے، تو اب آپ نے دیکھنا ہے کہ الحسن کے لیے فاعل اس کے اندر ضمیر ہے یا اس کے اندر ضمیر نہیں، تو الحسن صیغه صفت کا ہے، یہ کس کا تقاضا کرتا ہے بھئی؟ فاعل کا، تو اس لفظ الحسن وجہہ پہ ذرا نظر رکھیں، الحسن صفت کا صیغہ ہے، یہ کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ فاعل کا، یہ صرف فاعل کو رفع دے گا اور آگے آ رہا ہے وجہہ کا لفظ، اور اس کو یہ صفت رفع دے رہی ہے، کیا کر رہی ہے؟ معلوم ہوا اس کا فاعل یہ وجہہ ہے، الحسن کا فاعل کون ہے؟ وجوہہ، اور جب اس کا فاعل آگے آ رہا ہے تو اب اس کے اندر ضمیر ہوگی؟ اب اس کے اندر ضمیر نہیں، بھئی ضرب کے اندر ہوا ضمیر ہے، لیکن جب آپ کہتے ہیں ضرب زید، تو کیا ضرب کے اندر اب ہوا ضمیر ہوتی ہے؟ اب نہیں ہوتی کیونکہ آگے زید خود اس کا فاعل ہے، وہ ضمیر تو ہم اس لیے نکالتے تھے کہ ضرب کے لیے فاعل کی ضرورت ہے، اور جب زید خود آگے فاعل آ رہا ہے، تو اب ضرب میں ہوا ضمیر نہیں، اسی طرح الحسن کے لیے فاعل چاہیے، اور فاعل اس کے اندر ضمیر نکالتے ہیں، جب فاعل آگے خود آ رہا ہے، تو اب اس صورت میں اس کے اندر ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں، تو ضابطہ یہ نکلا کہ اگر صفت کے آگے اس کا معمول مرفوع ہو تو اس کے اندر ضمیر نہیں ہوگی، اگر آگے مرفوع نہ ہو، تو پھر اس کے اندر ضمیر ہوئی 12 آگے کوئی مرفوع تو آ نہ ہی رہا، معلوم ہوا اس کا فاعل اسی کے اندر ضمیر ہے بھئی۔ اور اگر آگے مرفوع آ رہا ہو، معلوم ہوا وہ اس کا فاعل ہے، اب اس کے اندر کوئی ضمیر موجود نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو الحَسَنُ الْوَجْهِ۔ اب آپ بتلائیے یہ کون سی صورت ہے بھئی؟ یہ احسن ہے۔ کیسے پتہ چلا آپ کو؟ الحسن کے اندر کیا ہے؟ ضمیر ہے۔ کیسے پتہ چلا؟ آگے آنے والا معمول مرفوع نہیں، اور جب وہ مرفوع نہ ہو تو الحسن میں کیا ہوتی ہے؟ ضمیر۔ اور الوَجْهِ کے ساتھ کوئی ضمیر ہے؟ نہیں۔ تو الحَسَنُ الْوَجْهِ مجموعے کے اندر ایک ضمیر ہوئی، اور ہمیں چاہیے بھی ایک تھی، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن۔ آگے دیکھیے مولانا، اگلی تین صورتیں: الحَسَنُ وَجْهٌ۔ بتلائیے، الحسن میں ضمیر ہے؟ جی ضمیر نہیں، کیونکہ آگے معمول کیا آ رہا ہے؟ مرفوع، تو اس میں ضمیر نہیں۔ اور وَجْهٌ کے ساتھ کوئی ضمیر ہے؟ نہیں۔ تو الحَسَنُ وَجْهٌ کے مجموعے میں کوئی ضمیر آئی؟ تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ قبیح۔ آگے نچلی صورت دیکھیے: الحَسَنُ وَجْهًا۔ الحسن میں ضمیر ہے؟ ضمیر ہے، کیونکہ آگے اس کا مرفوع کوئی نہیں آ رہا۔ اور وَجْهًا کے ساتھ کوئی ضمیر جڑی ہوئی ہے؟ اس کے ساتھ کوئی ضمیر نہیں جڑی ہوئی۔ تو الحَسَنُ وَجْهًا کے مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن۔ اگلی صورت دیکھیے: الحَسَنُ وَجْهٍ۔ الحَسَنُ وَجْهٍ، یہ صورت تو بتلایا تھا ممتنع ہے، اس لیے کہ معرفہ کی اضافت کس کی طرف ہو گئی؟ نکرہ کی طرف۔ جی اب وہ دوسری طرف آئیے جی، صفت جو الف لام سے خالی ہے: حَسَنٌ وَجْهُهُ۔ جی، حسنٌ میں کوئی ضمیر ہے؟ نہیں۔ اور وَجْهُهُ کے ساتھ کوئی ضمیر ملی ہوئی ہے؟ اس کے ساتھ ایک ضمیر ملی ہوئی ہے۔ تو حَسَنٌ وَجْهُهُ پورے مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک آئی، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن۔ اور اسی طرح، حَسَنٌ وَجْهَهُ۔ جی، حسنٌ میں کوئی ضمیر ہے؟ ہے، کیونکہ آگے مرفوع نہیں آ رہا۔ اور وَجْهَهُ کے ساتھ بھی کیا ہے؟ ایک ضمیر ہے۔ تو حَسَنٌ وَجْهَهُ پورے مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ دو، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ حسن ہوئی۔ اور تیسری صورت: حَسَنُ وَجْهِهِ۔ تو حَسَنُ وَجْهِهِ، حسنُ میں کوئی، اس میں تو اختلاف ہے، آپ کو بتلایا تھا۔ کیا بتلایا تھا؟ اختلاف، کہ اضافت کی وجہ سے ضمیر کو گرنا چاہیے تھا، اعلیٰ درجے کی تخفیف آنی چاہیے تھی۔ لیکن وہ نہیں گری، تو یہ اختلاف ہے۔ اگلی صورتوں میں آئیے: حَسَنٌ اَلْوَجْهُ بھئی، حَسَنٌ اَلْوَجْهُ۔ تو حَسَنٌ اَلْوَجْهُ، اس میں حسنٌ میں ضمیر ہے؟ جی، کوئی ضمیر نہیں۔ اَلْوَجْهُ کے اندر؟ جی، اس میں بھی کوئی ضمیر نہیں۔ تو حَسَنٌ اَلْوَجْهُ، پورے مجموعے میں کوئی ضمیر آئی؟ تو لہٰذا یہ کون سی صورت ہوئی؟ قبیح ہوئی۔ نچلی صورت دیکھیے: حَسَنٌ اَلْوَجْهَ۔ حسنٌ میں کوئی ضمیر ہے؟ ایک ضمیر اس میں ہے۔ اَلْوَجْهَ کے ساتھ کوئی ضمیر ملی ہوئی ہے؟ نہیں۔ تو حَسَنٌ اَلْوَجْهَ کے مجموعے میں کتنی ضمیریں کل آئیں؟ ایک ضمیر آئی۔ تو لہٰذا یہ صورت کون سی ہوئی؟ احسن ہوئی۔ اسی طرح، حَسَنٌ اَلْوَجْهِ۔ حَسَنٌ اَلْوَجْهِ، حسنٌ کے اندر کوئی ضمیر ہے؟ ضمیر ہے۔ اور اَلْوَجْهِ میں؟ اس میں کوئی ضمیر نہیں۔ تو حَسَنٌ اَلْوَجْهِ مجموعے کے اندر کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک ضمیر آئی، تو یہ کون سی صورت ہے؟ احسن ہے۔ اگلی دیکھیے صورتیں: حَسَنٌ وَجْهٌ۔ حسنٌ میں کوئی ضمیر ہے؟ نہیں۔ وَجْهٌ کے ساتھ کوئی ضمیر ملی ہوئی ہے؟ نہیں ملی ہوئی۔ تو یہ حَسَنٌ وَجْهٌ کے مجموعے میں کوئی ضمیر نہیں آئی، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ قبیح۔ آگے دیکھیے: حَسَنٌ وَجْهًا۔ حسنٌ میں کوئی ضمیر ہے؟ ضمیر ہے۔ اور وَجْهًا میں؟ وَجْهًا میں ضمیر نہیں۔ تو حَسَنٌ وَجْهًا مجموعے کے اندر کتنی ضمیریں آ گئیں؟ ایک آئی، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن ہوئی۔ اگلی صورت دیکھیے: حَسَنُ وَجْهٍ۔ حسنٌ میں ضمیر ہے؟ ضمیر ہے۔ اور وَجْهٍ میں ضمیر ہے؟ اس کے ساتھ کوئی ضمیر نہیں ملی ہوئی۔ تو حَسَنُ وَجْهٍ کے مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن ہوئی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر دیکھیے، الحَسَنُ وَجْهُهُ۔ الحَسَنُ وَجْهُهُ میں اب کتنی، الحسن میں ضمیر ہے؟ ضمیر نہیں۔ اور وَجْهُهُ کے ساتھ کوئی ضمیر ملی ہوئی ہے؟ اس کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی ہے۔ تو الحَسَنُ وَجْهُهُ مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ ایک، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ احسن ہوئی۔ نچلی صورت دیکھیے: الحَسَنُ وَجْهَهُ۔ الحسن میں ضمیر ہے؟ الحسن میں ضمیر ہے۔ اور وَجْهَهُ کے ساتھ کوئی ضمیر ہے؟ اس کے ساتھ بھی ضمیر ہے۔ تو الحَسَنُ وَجْهَهُ مجموعے میں کتنی ضمیریں آئیں؟ دو، تو یہ کون سی صورت ہوئی؟ حسن ہوئی۔ چلیے جی۔ اب آئیے کتاب پر بھئی۔ وَمَسَائِلُهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ اور اس کے مسئلے 18 ہیں، لِأَنَّ الصِّفَةَ إِمَّا بِاللَّامِ أَوْ مُجَرَّدَةٌ عَنْهَا اس لیے کہ صفت، یعنی معرف یعنی صفتِ مشبہ باللام کس کے ساتھ ہوگی؟ معرف باللام ہوگی، لام کے ساتھ ہوگی، أَوْ مُجَرَّدَةٌ عَنْهَا یا لام سے کیا ہوگی؟ خالی ہوگی۔ وَمَعْمُولُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِمَّا مُضَافٌ أَوْ بِاللَّامِ أَوْ مُجَرَّدٌ عَنْهُمَا اور ان میں سے ہر ایک کا معمول جو ہے مولانا، وہ یا کیا ہوگا؟ مضاف ہوگا، أَوْ بِاللَّامِ یا کیا ہوگا؟ لام کے ساتھ ہوگا، أَوْ مُجَرَّدٌ عَنْهُمَا یا دونوں سے خالی ہوگا۔ فَهَذِهِ سِتَّةٌ یہ کتنے ہوئے؟ چھ۔ وَمَعْمُولُ كُلِّ مِنْهَا اور ان میں سے ہر ایک کا معمول، إِمَّا مَرْفُوعٌ أَوْ مَنْصُوبٌ أَوْ مَجْرُورٌ یا مرفوع ہوگا، یا منصوب ہوگا، یا مجرور ہوگا۔ فَذَلِكَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ یہ کتنے ہوئے؟ 18۔ وَتَفْصِيلُهَا اور تفصیل ان کی، نَحْوُ قَوْلِكَ: جَاءَنِي زَيْدٌ الحَسَنُ وَجْهُهُ، وَجْهَهُ، وَجْهِهِ۔ یہ کتنے ہو گئے؟ تین۔ ثَلَاثَةٌ تین، ثَلَاثَةُ أَزْوَاجٍ تین۔ وَكَذَلِكَ: الحَسَنُ الوَجْهِ، وَجْهُ، وَجْهَ، یہ بھی کتنے ہوئے؟ تین۔ وَالحَسَنُ وَجْهًا، وَجْهٌ، وَجْهٍ تین۔ تو یہ سارے اسی طرح ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ عَلَى خَمْسَةِ أَقْسَامٍ یہ کتنے ہوئے؟ یہ پانچ اقسام پر ہیں۔ مِنْهَا مُمْتَنِعٌ بعض قسمیں ان میں سے کیا ہیں؟ ممتنع ہیں، جائز نہیں۔ وہ کون سی ہیں؟ الحَسَنُ وَجْهٍ۔ ایک کیا ہے؟ الحَسَنُ وَجْهٍ ہے۔ کیوں؟ یہ کیوں نہیں جائز؟ اس لیے کہ مضاف معرفہ ہے اور مضاف الیہ کیا ہے؟ نکرہ۔ معاملہ برعکس ہے تو جائز نہیں۔ وَالحَسَنُ وَجْهِهِ یہ بھی جائز نہیں۔ کیوں نہیں جائز؟ اس لیے کہ یہ اضافتِ لفظی ہے۔ اور اضافتِ لفظی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ لفظوں میں تخفیف۔ اور تخفیف آتی ہے کہ مضاف سے تنوین گرے اور مضاف الیہ سے ضمیر گرے۔ اور یہاں نہ مضاف سے تنوین گری ہے اور نہ مضاف الیہ سے ضمیر گری ہے۔ تو یہ بھی جائز نہیں۔ وَمُخْتَلَفٌ فِيهِ اور ایک قسم کیا ہے مولانا؟ مختلف فیہ ہے، اس میں اختلاف ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ حَسَنُ وَجْهِهِ۔ بعض کے نزدیک جائز، بعض کہتے ہیں جائز نہیں۔ جو کہتے ہیں جائز نہیں، ان کی کیا دلیل ہے؟ وہ کہتے ہیں ایک تخفیف کا اعلیٰ درجہ تھا کہ حسن سے تنوین گری ہے، تو وَجْهِهِ سے کیا گرنی چاہیے تھی؟ ضمیر گرنی چاہیے تھی۔ لہٰذا اعلیٰ کے ہوتے، ممکن ہونے کے باوجود اس درجے کو، اس کی تخفیف نہیں کی گئی، لہٰذا یہ جائز نہیں۔ دوسرے کیا کہتے ہیں؟ چلو کچھ نہ کچھ تخفیف تو کیا ہوئی؟ آ گئی، لہٰذا یہ جائز ہے۔ وَالبَوَاقِي أَحْسَنُ اور باقی صورتیں احسن ہیں، إِنْ كَانَ فِيهِ ضَمِيرٌ وَاحِدٌ اگر ان میں کیا ہو؟ ایک ضمیر ہو۔ وَحَسَنٌ اور حسن ہیں، إِنْ كَانَ فِيهِ ضَمِيرَانِ اگر اس میں دو ضمیریں ہوں۔ وَقَبِيحٌ اور قبیح ہیں، إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ ضَمِيرٌ اگر اس کے اندر ضمیر نہ ہو۔ بھئی ہمیں کیسے پتہ چلے گا ضمیر اس میں ہے الحسن میں یا نہیں؟ کہتے ہیں: وَالضَّابِطَةُ ضابطہ یہ ہے، أَنَّكَ مَتَى رَفَعْتَ بِهَا مَعْمُولَهَا کہ جب آپ رفع دے دیں اس صفت کے ذریعے اس کے معمول کو، فَلَا ضَمِيرَ فِي الصِّفَةِ تو ضمیر، صفت کے اندر کوئی ضمیر نہیں۔ وَمَتَى نَصَبْتَ أَوْ جَرَرْتَ اور جب آپ اس کے لیے نصب یا جر دے دیں، فَفِيهَا ضَمِيرُ المَوْصُوفِ تو اس کے اندر کیا ہوگی موصوف کی، یعنی وہ فاعل کی ضمیر ہوگی۔ نَحْوُ: زَيْدٌ حَسَنُ وَجْهِهِ۔ ہاں، یہ وہ مختلف فیہ والی صورت انہوں نے دے دی ہے مولانا۔ چلیے جی، هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔
22 approved lectures · 13 of 22