LECTURE-1
1
سب پڑھئیے مولانا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين الحمد لله رب العالمين
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
ربنا ربنا
يسر لنا هذا الكتاب يسر لنا هذا الكتاب
ولا تعسره ولا تعسره
وتممه بالخير وتممه بالخير
وبك نستعين وبك نستعين
یا فتاح يا عليم یا فتاح يا عليم
ربنا ربنا
يسر لنا هذا الكتاب يسر لنا هذا الكتاب
ولا تعسره ولا تعسره
وتممه بالخير وتممه بالخير
وبك نستعين وبك نستعين
یا فتاح يا عليم یا فتاح يا عليم
ربنا ربنا
يسر لنا هذا الكتاب يسر لنا هذا الكتاب
ولا تعسره ولا تعسره
وتممه بالخير وتممه بالخير
وبك نستعين وبك نستعين
یا فتاح يا عليم یا فتاح يا عليم
آمین ثم آمین آمین ثم آمین
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
اللهم صل على اللهم صل على
سيدنا سيدنا
ومولانا ومولانا
محمد وعلى آله محمد وعلى آله
وأصحابه وأصحابه
وبارك وسلم وبارك وسلم
اچھا جی۔
بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، والصلاة على رسوله محمد وآله وأصحابه أجمعين۔ أما بعد، فهذا مختصر مضبوط في النحو، جمعت فيه مهمات النحو على ترتيب الكافية، مبوبا ومفصلا، بعبارة واضحة مع إيراد الأمثلة في جميع مسائلها، من غير تعرض للأدلة والعلل لئلا يشوش ذهن المبتدئ عن فهم المسائل، وسميته بهداية النحو، رجاء أن يهدي الله تعالى به الطالبين، ورتبته على مقدمة وثلاثة أقسام وخاتمة، بتوفيق الملك العزيز العلام۔
بسم اللہ سے متعلق بس ایک نقطہ آپ حضرات کے سامنے ذکر کروں گا۔ بسم اللہ کے اندر ایک لفظِ اللہ ذکر ہوا جو اللہ کی ذات کے لیے علم ہے جس طرح انسان کسی کا نام زید رکھا جائے انسانوں میں، کسی کا نام عمرو رکھا جائے، اسی طرح لفظِ اللہ ذاتِ باری تعالی کے لیے کیا ہے؟ علم ہے۔ اور لفظِ اللہ کے بعد الرحمن ایک صفت لائی گئی، الرحیم ایک صفت لائی گئی۔
لفظِ اللہ کے اندر جس طرح کوئی نقطہ نہیں ہے، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ جس ذات کا نام ہے، وہ ذات بھی اسی طرح تمام عیوب سے پاک ہے جس طرح کہ اس کا نام ہر نقطے سے پاک ہے۔ نیز الرحمن لفظ یاد رکھو مولانا، یہ لفظ صرف خالق پر بولا جاتا ہے۔ الرحیم جو ہے، تو الرحمن کے اندر ایک نقطہ لا کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا گیا کہ یہ لفظ بھی صرف خالق کے ساتھ خاص ہے، مخلوق پر یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔ الرحیم کے اندر دو نقطے آئے مولانا، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ لفظ خالق پر بھی بولا جا سکتا ہے اور مخلوق پر بھی بولا جا سکتا ہے۔ تو اسی لیے قرآن میں آپ نے پڑھا ہے "وبالمؤمنين رؤوف رحيم"، تو رحیم کس کی صفت ذکر کی گئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ تو جیسے یہ خالق کی صفت آ سکتی ہے، اسی طرح یہ مخلوق کی بھی صفت آ سکتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو کہ پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ والعاقبة للمتقين، اور انجام ہے متقیوں کے لیے۔ بھئی انجام تو ہر ایک کا ہونا ہے چاہے متقی ہو چاہے غیرِ متقی ہو، مومن ہو یا کافر ہو، پھر کیا معنی والعاقبة للمتقين، انجام ہے متقیوں کے لیے؟ بھئی دراصل یہاں مضاف محذوف ہے، کلام اصل میں یہ ہے: خير العاقبة للمتقين، اچھا انجام ہے کس کے لیے؟ متقیوں کے لیے۔ والصلاة على رسوله، اور رحمت نازل ہو اللہ کے رسول پر، محمد، جن کا نام محمد ہے، وآله، اور ان کی پیروی کرنے والوں پر۔ آل سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروی کرنے والے یعنی ہر متقی مومن مراد ہے اس سے مولانا۔ وأصحابه أجمعين، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ پر بھی حضور کے ساتھ ان پر بھی رحمت نازل ہو، ان پر بھی۔
تو دیکھیے مولانا، أصحابه أجمعين، أجمعين کا لفظ کہ تمام صحابہ پر، اس کے ذریعے رد کر دیا گیا شیعوں وغیرہ کا جن کی جو صرف ایک دو صحابہ چار کو مانتے ہیں باقی کسی کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ حالانکہ صحابہ تو دین کا ستون ہیں۔ صحابہ کا واسطہ بیچ میں سے نکال دیا جائے تو ہم تک دین پہنچ ہی نہیں سکتا۔ اور صحابہ پر اعتراض دراصل اعتراض براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی ہے، اس لیے کہ صحابہ شاگرد ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ شاگرد ماہر ہوں، اچھے ہوں، نیک ہوں، متقی ہوں، یہ استاد کے اچھے، نیک اور ماہر اور متقی ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ اور اگر شاگرد ہی جو ہیں وہ کیا ہوں، برے ہوں تو معلوم ہوا ان کا استاد بھی انہی کی طرح ہے۔ تو جب صحابہ پر الزام آ جائے گا تو پھر دراصل وہ گویا کس پر الزام ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ اللہ نے ہمیں صحابہ سے محبت کرنے والا بنایا۔
أما بعد، بعد حمد و صلاۃ کے، فهذا مختصر مضبوط في النحو۔ اچھا، أما بعد کا لفظ مولانا یہ ہمارے علماء کا طریقہ ہے، سنت ہے مولانا۔ یہ کتابوں کے اندر، خطوط وغیرہ کے اندر، خطبات کے اندر اس لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کو سب سے پہلے کہنے والے کون ہیں؟ مختلف علماء کے اقوال ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلے یہ قول کس کا ہے؟ یہ أما بعد کا لفظ یہ فرمانے والے حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام، ان کے بھئی حضرت یوسف علیہ السلام کو لے گئے اور لے جا کر کیا کیا بھئی؟ کنویں کے اندر ڈال دیا بھئی۔ وہاں کنویں سے ایک قافلہ وہاں سے لے کر انہیں مصر پہنچا اور وہاں ہوتے ہوتے ایک وقت ایسا آیا کہ وہ کیا بن گئے؟ مصر کے حکمران بن گئے۔
تو حضرت یعقوب علیہ السلام ادھر ان کی سالہا سال گزر گئے، انہیں حضرت یوسف علیہ السلام سے بے انتہا محبت تھی۔ تو ان کی جدائی کے اندر روتے روتے ان کی وہ نابینا ہو گئے، آنکھوں کی بینائی ہی جاتی رہی۔ تو چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام جب بادشاہ بن گئے تو انہوں نے لوگ آ رہے ہیں غلہ لینے کے لیے دور دراز سے، ملک میں قحط ہو گیا۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں اور والدین تک یہ خبر پہنچی تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا کہ ابا جان! ہمیں اجازت دیں، ہم جاتے ہیں اور جا کر کیا کریں گے؟ غلہ لے آئیں گے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک اور دوسرے انہی، یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اور بھی بیویاں تھیں لیکن یہ انہی کے سگے بھئی تھے ایک بن یامین نام تھا بھئی۔ وہ حضرت اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سے جیسے شدید محبت تھی، اسی طرح اس کے بعد بن یامین کے ذریعے وہ کیا کرتے تھے؟ اپنے دل کو تسلی اور قرار دیتے تھے مولانا۔
تو بھئی جب، حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے بن یامین کو نہیں لے جانے دیا کہ ان کو نہ لے کر جاؤ، تم چلے جاؤ غلہ لینے۔ جب وہاں گئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو پہچان لیا لیکن بتلایا نہیں کہ میں یوسف ہوں بھئی، کیونکہ وہ تو چھوٹے سے تھے اس وقت جب پھینکا تھا، تو اب تو پہچانتے ہی نہیں تھے، بڑے ہو گئے، داڑھی آ گئی، لباس زبردست پہنا ہوا ہے اور تصور میں بھی نہیں تھا کہ ہمارا وہ بھئی زندہ بھی ہوگا اور پھر بادشاہ بن جائے بھئی۔ تو چنانچہ وہ کیا کیا انہوں نے کہ غلہ دیا ان کے بڑا اکرام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک بھئی بھی ہے اس کے حصے کا بھی دے دیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے غالباً اس مرتبہ دیا اور کہا کہ اگلی مرتبہ جب غلہ لینے آؤ تو بھئی کو ساتھ لے کر آؤ ورنہ اس کا غلہ نہیں ملے گا۔
چنانچہ اگلی مرتبہ جب وہ آنے لگے تو پھر والد سے بڑی منت سماجت کر کے بالآخر اس بھئی کو بھی لے آئے۔ جب اس بھئی کو بھی لے آئے، ادھر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے جو ہے یہاں پر اب اپنے بھئی کو روکنا چاہا کہ میں اس بھئی کو اپنے پاس روکتا ہوں۔ چنانچہ اس کا طریقہ یہ کیا کہ اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کے سامان کے اندر جو ہے وہ شاہی ایک پیالہ سونے کا چھپا دو بھئی۔ چنانچہ وہ شاہی پیالہ ان کے سامان میں چھپا دیا گیا، شور برپا ہوا کہ وہ پیالہ نہیں مل رہا سونے کا بھئی۔ تلاش کر رہے ہیں، تو چنانچہ ان کی بھی تلاشی لینے لگے۔ انہوں نے کہا: ہم کیسے چوری کر سکتے ہیں؟ ہم تو پیغمبر کی اولاد ہیں، ہمارا خاندان تو بڑا مبارک ہے۔ تو کہا: نہیں بھئی تلاشی تو دینا پڑے گی۔
چنانچہ اور اس زمانے میں ان کی شریعت میں سزا یہ تھی کہ جو چوری کرتا دوسرے کی وہ اسی کے حوالے کر دیا جاتا، اس کا غلام بن جاتا جو چوری کرتا تھا دوسرے کا۔ تو چنانچہ ان سے کہا بھئی کیا سزا ہوگی اگر کسی کے سامان سے؟ کہنے لگے کہ وہ اسی کے ہو جائے گا جس کے سامان میں سے نکلا۔ چنانچہ جب سامان کی تلاشی لی تو وہ بن یامین کے سامان میں سے نکل آیا۔ اب تو بڑے پریشان ہوئے، یہ کیا ہو گیا! ہمیں تو والد صاحب لانے ہی نہیں دے رہے تھے پہلے اسی وجہ سے، اب یہ بھی یہی رہ جائے گا۔ اب ہم خالی ہاتھ گئے ایک دفعہ پہلے یوسف کو ہم نے کھو دیا تھا تو اس کی وجہ سے ہمارے والد صاحب کا کیا حال ہوا، اب پتہ نہیں کیا حال ہوگا۔
تو خیر ایک بھئی تو رک ہی گیا، اس نے کہا: میں تو واپس ہی نہیں جاؤں گا، مجھے شرم آتی ہے، میں جا ہی نہیں سکتا، کس منہ سے سامنا کروں گا والد کا! باقی بھئی کسی طرح پہنچے۔ وہاں حضرت یعقوب علیہ السلام کو اطلاع دی بھئی کہ اس طرح مسئلہ ہوا تھا اور وہ اس میں سے نکل آیا۔ تو چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام جلال میں آ گئے مولانا اور ایک خط لکھا عزیزِ مصر کے نام بھئی، بادشاہ کے نام، حضرت یوسف علیہ السلام کے نام۔ یہ تو پتہ نہیں تھا وہ میرا بیٹا ہی ہے۔ اور خط کے اندر لکھا کہ اے تو نے میرے بیٹے کو چوری کے الزام میں پکڑ لیا ہے، یاد رکھ ہم انبیاء کا خاندان ہیں، ہمارے خاندان میں پشت ہا پشت سے نبوت چلی آ رہی ہے۔ اور اگر تو نے اب میرے بیٹے پر، اور ہمارے خاندان میں نیک اور متقی لوگ پیدا ہوتے ہیں، ہم نے کبھی، ہم میں چور نہیں پیدا ہوا بھئی۔
اگر تو نے میرے بیٹے کو نہ چھوڑا، تو ہاں اس خط کے اندر انہوں نے أما بعد کا ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے اس کو نقل کیا۔ اس خط میں چنانچہ اگر تو نے میرے بیٹے کو نہ چھوڑا اے عزیزِ مصر! تو یاد رکھ میں تیرے لیے ایسی بددعا کروں گا کہ تیری سات پشتیں بھی اس کے اثر کو محسوس کریں گی اور یاد رکھیں گی اسے۔ تو چنانچہ پھر اس کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کو وہی بلایا، حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص بھیجی اور جب وہ خط پہنچا کہتے ہیں تو پھر حضرت یوسف علیہ السلام ضبط نہ کر سکے اور فرمایا کہ میں یوسف ہوں، تم نے مجھے پہچانا نہیں؟ چنانچہ اپنی قمیص دے کر بھیجا، حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں پر ڈالی گئی، ان کی بینائی لوٹ آئی اور ان کو پھر لے کر پہنچے بھئی۔
تو یہ بات چل رہی تھی اما بعد کا لفظ انہوں نے ذکر کیا اس خط کے اندر۔ تو پہلے قائل وہ ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ سحبان جو ہے یہ خطیبِ عرب تھا، بہت بڑا عرب کا خطیب۔ اس کے یہ پہلے استعمال کرتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد بھی زندہ تھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک مرتبہ آیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ، یرحمک اللہ، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے کہا، بہت بڑے خطیب تھے، پورے عرب میں ان کی فصاحت و بلاغت کے چرچے تھے، کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ یہاں تک اتنے مشہور تھے کہ عربی میں ضرب المثل بن گئے تھے، کوئی بڑا فصیح ہوتا ہے تو آج بھی کہتے ہیں: أفصح من سحبان، یہ سحبان سے بھی زیادہ فصیح ہے۔ تو ضرب المثل بن گیا ہے ان کا نام۔
تو چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے سحبان! آج ہمارے سامنے بھی کچھ تقریر کرو، تم تو بڑے خطیب ہو، ہم نے آپ کی تعریف بڑی سنی ہے۔ کہتے ہیں جب حضرت سحبان آئے تو بڑے بڑے خطیب اور بھی جمع تھے خلیفہ کے پاس، حضرت سحبان کو دیکھتے ہی سارے خاموشی سے نکل گئے وہاں سے۔ چنانچہ خلیفہ کی خواہش پر حضرت سحبان رحمہ اللہ نے لاٹھی منگوائی اور کھڑے ہوئے اور کہتے ہیں تقریر کرنا شروع کر دی۔ کہتے ہیں ظہر کے بعد تقریر شروع کی، کرتے جا رہے ہیں، کرتے جا رہے ہیں، مسلسل تقریر جاری ہے یہاں تک کہ قریب تھا عصر کی نماز بھی فوت ہو جاتی۔ تو اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پکارے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔
تو حضرت سحبان نے فرمایا کہ بھئی مجھے تو وعظ و نصیحت نے نماز سے غافل ہی کر دیا تھا، میں تو وعظ و نصیحت میں مشغول تھا اس لیے نماز کا مجھے خیال نہیں رہا۔ اور کہتے ہیں اتنے گھنٹے وہ مسلسل بولتے رہے، اس دوران ایک مرتبہ بھی وہ درمیان میں نہیں رکے مولانا۔ اور ادھر خطیب حضرات کیا کرتے ہیں، جہاں ذرا رکنے لگتے ہیں اٹکنے لگتے ہیں وہ کھانسنا شروع کر دیتے ہیں یا گلا صاف کرتے ہیں، دو چار لمحات مل جاتے ہیں تو پھر بات آگے چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس ساری تقریر کے دوران نہ وہ کہیں رکے، نہ کہیں کھانسے، نہ کہیں کھنکھارے۔ جو بات ایک دفعہ شروع کرتے تھے، آخر تک پہنچاتے ہی تھے جب تک اسے چھوڑتے نہیں تھے، اور جو نئی بات شروع کرتے تھے اس کو بھی پورا کرتے تھے اور کوئی بات وہ رہنے نہیں دیتے تھے تب تک اسے چھوڑتے بھی نہیں تھے مولانا۔ تو عجیب! ان کے بارے میں آتا ہے کہ یہ سب سے پہلے اما بعد کا لفظ کہنے والے ہیں۔
مگر کہتے ہیں یہ قول صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور اس کے بعد کے ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خطبات اور خلفائے راشدین جو دیگر حضرت ابوبکر، حضرت عمر ان کے خطوط کے اندر بھی ہمیں کیا ملتا ہے؟ اما بعد کا لفظ ملتا ہے۔ تو یہ کہنا سنت ہے مولانا خطبوں کے اندر، اسی لیے علماء لے کر آتے ہیں۔
فهذا مختصر مضبوط في النحو، یہ مختصر ایک مختصر کتاب ہے، مضبوط في النحو، مرتب کی گئی ہے علمِ نحو کے اندر بھئی۔ مضبوط کا معنی کرو: مرتب کی گئی ہے۔ علمِ نحو کے اندر، جمعت فيه مهمات النحو، میں نے اس کے اندر جمع کی، مصنف فرما رہے ہیں: میں نے اس کے اندر جمع کیے ہیں مهمات، اہم، مهمة کی جمع ہے، اہم اور ضروری بات کو، اہم اور ضروری چیز کو۔ میں نے اس میں نحو کی اہم اور ضروری چیزیں جمع کی ہیں، على ترتيب الكافية، کس ترتیب پر؟ قافیہ کی ترتیب پر مولانا۔ قافیہ دنیا کی، علمِ نحو کی عظیم الشان کتاب ہے۔ بڑی بڑی علمِ نحو کے اندر کتابیں لکھی گئیں یہاں تک کہ علامہ ابنِ حاجب کا زمانہ آیا، چھٹی ساتویں صدی ہجری کے اندر بھئی۔ اور علامہ ابنِ حاجب نے نحو کی، یہ قافیہ کی، نحو میں قافیہ کتاب لکھ کر دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا۔ اتنی عظیم الشان کتاب لکھی کہ چھ سات سو، آٹھ سو سال گزر چکے ہیں، آج بھی وہی کتاب علماء اس کے محتاج ہیں اور اس کو درسوں میں پڑھا رہے ہیں۔
چھوٹا سا رسالہ ہے مولانا، چھوٹا سا، یہ تو موٹے موٹا لکھتے ہیں تو پھر جا کر سوا سو صفحے بنتے ہیں۔ اگر اس کو باریک لکھا جائے تو شاید سات آٹھ صفحے بھی نہ بنیں، 10 صفحے۔ اور اس آٹھ 10 صفحے کے اندر انہوں نے پورے علمِ نحو کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ تو لیکن وہ کتاب ہے بڑی مشکل، بڑی پیچیدہ۔ صاحبِ قافیہ کے پاس لفظ فالتو نہیں ہوتے، وہ لفظ ایک بھی ضائع نہیں جانے دیتے۔ کوئی ضرور
2
صورت کے لیے تو لے کر آئیں گے مولانا، زیادہ تفصیل نہیں کریں گے۔ اشارات سے بھی کام چلائیں گے، بس اشارہ جہاں ہو رہا ہے کافی ہے۔ باقی مسئلہ خود استاد سے سمجھو، میں نے اشارہ کر دیا یہ بھی مسئلہ ہے، یوں بھی مسئلہ ہے۔ تو کوئی لفظ زائد اور فالتو نہیں لے کر آتے مولانا۔
تو بڑی مختصر اور بڑی جامع کتاب لکھی انہوں نے، ایک ایک لفظ بڑا ہی سوچ سمجھ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ اتنے لمبے مسئلے، دیکھیے ہدایت النحو بھی اب اس کے طریقے پر لکھی گئی ہے لیکن ہدایت النحو میں جو مسئلہ ہم تین، چار صفحات میں پڑھیں گے صاحبِ قافیہ اس کو تین، چار لائنوں میں بیان کر دیتے ہیں۔
تو انہوں نے لیکن اس کے اندر وہ مثالیں نہیں ذکر کرتے بھئی، میں نے بتایا نہ بالکل بات وہ کریں گے ہی نہیں، لفظ انہوں نے کم سے کم استعمال کرنے ہیں اور بات لمبی سے لمبی کرنی ہے۔ تو مثالیں وغیرہ نہیں ذکر کرتے بس مسائل ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔
تو ضرورت تھی جس کی وجہ سے کہ اس جیسی ایک اور کتاب لکھی جائے جو طلباء قافیہ سے پہلے پڑھیں اور اس کے اندر کچھ کچھ مثالیں بھی ذکر ہوں تاکہ کچھ مسائل سے واقفیت ہو جائے۔
پھر اس کے بعد قافیہ کو پڑھنے میں سہولت رہے گی۔ چنانچہ مصنف نے اس وجہ سے کتاب لکھی تاکہ اس کو قافیہ سے پہلے پڑھایا جائے، طلباء اس کو سمجھیں اور ان کے اندر قافیہ کو سمجھنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔ اسی لیے فرماتے ہیں کہ میں نے نحو کی اہم باتیں لکھیں "على ترتيب الكافية"، کس طریقے کی ترتیب پر؟ قافیہ کی ترتیب پر لکھیں، بالکل قافیہ کی ترتیب نہیں ہے، بعض جگہ آگے پیچھے ہیں مسائل، لیکن اکثر ترتیب کیا ہے؟ قافیہ جیسی ہے مولانا۔ "مبوبا ومفصلا"، اس کو "مبوبا" بھی پڑھ سکتے ہیں پھر کون سا صیغہ بنے گا؟ "مبوب"، اسمِ فاعل اور "مفصل" اسمِ فاعل۔ "مبوبا ومفصلا"، تو مبوب کا معنی باب باب بنانے والا، مفصل کا معنی فصل فصل بنانے والا۔ یہ حال واقع ہو رہا ہے اور حال منصوب ہوتا ہے۔ میں نے اس میں جمع کیے اس حال میں کہ میں اس کے اندر باب باب بنانے والا تھا اور فصل فصل بنانے والا تھا مولانا۔
اور اگر چاہیں تو اس صورت میں یہ فاعل سے حال ہے، کس سے حال ہے؟ کیونکہ اسمِ فاعل کے صیغے ہیں تو حال بھی کس سے بنے گا؟ فاعل سے بنے گا کہ میں جمع، میں بنانے والا تھا اس حال میں کہ فصل فصل اس میں اور باب باب۔ اور اگر چاہیں تو اس کو "فيه" کی ضمیر سے حال بنائیں، اس میں نے جمع کیے اس مختصر میں اس حال میں کہ "مبوبا ومفصلا" یہ باب باب بنائی گئی تھی اور یہ فصل فصل بنائی گئی تھی۔ سمجھ میں آیا؟
تو فاعل سے بھی حال بنا سکتے ہیں مفعول سے بھی۔ فاعل سے بنائیں گے تو مبوب باب بنانے والا وہ فاعل ہے، اور اس میں وہ مفعول سے بنائیں گے تو مبوب بھئی۔
یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے، علماء کا طریقہ ہے مولانا، وہ کیا کرتے ہیں کتابوں کے اندر ابواب اور فصلیں ذکر کرتے ہیں۔ ایک نوع کے مسائل کو کیا کرتے ہیں؟ اکٹھا کر دیتے ہیں، اس کی فصل بناتے ہیں۔ سب سے فصل، ابواب، کتاب، تین طرح کے عنوانات دیتے ہیں مولانا۔ سب سے بڑا عنوان ہوتا ہے کتاب کا، اس کتاب کے تحت ایک قسم کے سارے مسائل آئیں گے۔ پھر اس کے یہ جنس ہے مولانا، جیسے حیوان بھئی، کیا ہے؟ حیوان، اب حیوان کا لفظ بولا تو دیکھو اس کے اندر کیا آ گیا؟ انسان بھی آ گیا، گدھا بھی آ گیا، گھوڑا بھی آ گیا، گائے بھی آ گئی۔ تو یہ بھی کتاب ہوتا ہے اس کے اندر مختلف ایک ہی جنس کے مسائل ہوتے ہیں، اور لیکن دیکھو حیوان میں انسان، گدھا وغیرہ سب آئے لیکن یہ سب ایک ہی قسم، ایک ہی جنس ہے ان کی یا الگ الگ ہے بھئی؟ ایک ہی جنس ہے، سارے کیا ہیں مولانا؟ حیوان ہیں یا نہیں ہیں؟ تو سارے حیوان، یہ ایک جنس کے مسائل، تو یہاں کتابوں میں کتاب کا عنوان دیا جاتا ہے، اس کے تحت ایک قسم کے مسائل ہوتے ہیں۔ پھر اس کے تحت جیسے مولانا حیوان کے تحت کیا ہوتا ہے؟ انسان، گدھا، گھوڑا وغیرہ، ہر ایک کا الگ، تو یہاں پر بھی اسی طرح پھر ہوتا ہے کتاب کے تحت پھر عنوان ہوتا ہے باب فلاں، باب فلاں، باب فلاں، پھر اس میں جو اور قریب مسائل ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ان سب کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ الگ، ایک ہی کتاب کے اندر کئی ابواب آتے ہیں مولانا، اور پھر ہر باب کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ کئی فصلیں ذکر کی جاتی ہیں، تو اس طرح مسائل تقسیم ہو جاتے ہیں مولانا، اور اس طرح یاد کرنے میں آسانی ہوتی ہے، ہر فصل پڑھنے کے بعد، یاد کرنے کے بعد، ہر باب یاد کرنے کے بعد طالبِ علم خوشی محسوس کرتا ہے کہ میں نے اتنا حصہ پڑھ لیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا مسلسل روانی ہوتی تو پھر تو بڑا مشکل تھا قیاس کرنا، اس طرح حصے بن جاتے ہیں اور چیز کو یاد کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
تو میں نے اس میں جمع کیے ہیں نحو کی ضروری باتیں قافیہ کی ترتیب پر اس حال میں کہ میں باب باب بنانے والا ہوں اور فصل فصل اس میں بنانے والا ہوں، تو اس میں مختلف ابواب آئیں گے اور فصلیں آئیں گی۔ "بعبارة واضحة" مولانا، واضح عبارت کے ساتھ۔ واضح عبارت، قافیہ کی عبارت بڑی پیچیدہ ہے مولانا۔ تو یہ وہم نہ پڑے آپ کو کہ میں قافیہ کی ترتیب پر لایا ہوں تو قافیہ کی طرح پیچیدہ عبارت لاؤں گا، نہیں کہتے ہیں میں واضح عبارت لاؤں گا۔ "مع إيراد الأمثلة في جميع مسائلها"، اورد، یوراد، ایراد کا معنی ہوتا ہے لانا، ذکر کرنا، ساتھ ذکر کرنے مثالوں کے تمام مسائل کے اندر۔ میں ان تمام مسائل کے اندر کیا کروں گا؟ مثالیں صاحبِ قافیہ نے تو مثالیں چند ایک جگہ ذکر کی ہیں، میں تمام مسائل کے اندر مثالیں ذکر کروں گا جس سے بات سمجھنا آسان ہو جائے گی۔ "من غير تعرض للأدلة والعلل"، اور بغیر درپے ہوئے، تعرض کا معنی پیچھے پڑنا یعنی میں دلیلوں کے پیچھے نہیں پڑوں گا، دلیلیں ذکر نہیں کروں گا، علتیں ذکر نہیں کروں گا کہ اس کی وجہ کیا ہے، اس مسئلے کی یہاں نصب کیوں آیا، یہاں پر یہ کیوں آیا، یہاں پر یہ جر کیوں آیا، اور یہ مبنی کیوں ہے، یہ معرب کیوں ہے، زیادہ گہرائی کے اندر کہتے ہیں میں نہیں جاؤں گا، زیادہ دلیلیں اور ہر ہر چیز کی دلیلیں اور علتیں میں ذکر نہیں کروں گا، کیونکہ آپ مبتدی طالبِ علم ہیں، اگر میں یہ چیزیں ذکر کرنا شروع کر دوں، تو پہلے تو طریقہ یہی ہے کہ نحو کے موٹے مسائل یاد کیے جائیں، اس کے بعد دلیلوں کے، دلیلیں یاد کی جائیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو پہلے نفسِ مسائل یاد کرو، اس کے بعد دلیلیں یاد کرو۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ حالانکہ آج کل ہدایت النحو کا طرز یہ بنا دیا گیا، قافیہ کا طرز یہ بنا دیا گیا مولانا، آپ کو جو قافیہ پڑھائے گا آپ دیکھیں گے ساری شرح، دیکھو سب سے پہلے ہدایت النحو آتی ہے، اس کے بعد قافیہ ہے، قافیہ کے بعد شرح جامی پڑھائی جاتی ہے اور شرح جامی اس شرح ہے، وہ کیا ہے؟ قافیہ کی شرح ہے، تو قافیہ تو چھوٹا سا رسالہ ہے سوا سو صفحوں کا اور شرح جامی کوئی چھ سات سو صفحوں کی کتاب ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اب بھئی جو چیز ہم نے شرح جامی میں پڑھنی ہے ضرورت یہ ہے کہ وہ قافیہ میں نہ پڑھائی جائے، قافیہ میں موٹے مسائل اچھی طرح یاد کروا دو، رٹوا دو، اس کے بعد شرح جامی کے اندر شرح جامی والا خود ذکر کرے گا اس کی یہ وجہ ہے، اس کی یہ وجہ ہے، اس کی یہ وجہ ہے، تو جو چیز اگلے سال پڑھنی ہے اس کو استاد ذکر نہ کیا جائے لیکن قافیہ میں طریقہ یہ بن گیا، علماء کا، پاکستان بھر میں آپ جہاں بھی پڑھنے چلے جائیں، اکثر جگہ، کل تو نہیں لیکن اکثر جگہ یہی ہوتا ہے کہ قافیہ نہیں پڑھائی جاتی بلکہ جامی سے بھی زیادہ گہری باتیں کی جاتی ہیں، جو باتیں جامی والا بھی نہیں ذکر کرتا ان کو بھی کیا کرتے ہیں؟ تو چنانچہ قافیہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی اور پوری بھی نہیں ہوتی کبھی۔
جب اس طرح پڑھائیں گے تو سال تو چھوٹا سا ہے مختصر سا ہے، وہ پوری بھی نہیں ہوتی اور طالبِ علم کو مسئلے مسائل کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ یہ جو ہم ہدایت النحو پڑھیں گے اس کے اندر صرف نفسِ مسائل پڑھیں گے جہاں کوئی موٹی آسان وجہ آئی میں آپ کو بتاؤں گا، آپ کا کام ہے نفسِ مسائل کو یاد کرنا۔ آپ نے یہ نہیں کہنا کہ اس کی علت کیا ہے، اس کی علت کیا ہے، جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں ہاں پھر میں بتاؤں گا کہ یہ آپ کے لیے پوچھنا مناسب ہے، آپ کے لیے یہ پوچھنا مناسب نہیں ہے۔
سمجھ میں آیا؟ لیکن اس کے جو متن کے اندر مسائل ہیں وہ آپ، وہ سارے یاد ہونے چاہئیں، ایک ایک مسئلہ نہایت قیمتی ہے، انہوں نے ساری نحو کا نچوڑ نکال کر آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔
تو کہتے ہیں اسی لیے کہا کہ میں دلیلوں اور علتوں کے پیچھے نہیں پڑوں گا یعنی ان کو ذکر نہیں کروں گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو یہ ہماری تائید ہو گئی، معلوم ہوا دلیلوں اور علتوں کو اس کتاب میں ذکر نہیں کرنا چاہیے اور قافیہ کے اندر تھوڑی تھوڑی ذکر کرنی چاہیے، تھوڑی تھوڑی مناسب جو اس کے مناسب ہو مولانا۔
اچھا کہتے ہیں "من غير تعرض للأدلة والعلل"، بغیر درپے ہوئے، بغیر پیچھے پڑے دلیلوں اور علتوں کے، علت کہتے ہیں وجہ کو، سبب کو مولانا۔ دلیلوں اور سببوں اور وجہوں کے پیچھے میں نہیں پڑوں گا "لئلا يشوش"، تاکہ یہ پیچھے پڑنا، دلیلوں کے پیچھے پڑنا تشویش میں نہ ڈال دے "ذهن المبتدئ"، مبتدی طالبِ علم کے ذہن کو، بھئی اس بیچارے کو تو ابھی مسائل کا ہی نہیں پتہ، آپ اس کو دلیلیں پڑھا رہے ہیں بھئی، دلیل تو اس کو پڑھائی جاتی ہے جس کو پہلے مسئلے کا پتہ ہو۔ تو تاکہ کہیں مبتدی طالبِ علم کے ذہن میں کو تشویش میں واقع نہ کر دے یہ چیز، تاکہ تشویش میں واقع نہ کر دے مبتدی طالبِ علم کے ذہن کو "عن فهم المسائل"، کس سے؟ مسائل کے سمجھنے سے، تو مسائل کے اس کو سمجھ ہی نہیں آئے گی اور تشویش میں پڑ جائے گا۔
تو "وسميته بهداية النحو"، اور اس کا نام میں نے کیا رکھا بھئی؟ "هداية النحو" رکھا، کیوں نام رکھا میں نے "هداية النحو"؟ کہتے ہیں "رجاء أن يهدي الله تعالى به الطالبين"، یہ امید کرتے ہوئے کہ اللہ ہدایت دے دیں گے اس کے ذریعے طلباء کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو "هداية النحو"، یہ ہدایت کا لفظ نام میں کیوں ذکر کیا؟ تاکہ اس کے ذریعے اللہ کیا کریں طالبِ علموں کو ہدایت اور رہنمائی دیں علمِ نحو کو، علمِ نحو کے اندر مولانا، معلوم ہوا بھئی کہ نام اچھا رکھنا چاہیے، کسی بھی چیز کا نام اچھا رکھنا چاہیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھے نام کا اثر پڑتا ہے۔ اچھے نام کا باقاعدہ انسان کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے، بھئی اثر کرنے والے تو اللہ تعالیٰ لیکن نام کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة، وہ لکھتے ہیں، فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی تو آپ کے چار چچا زندہ تھے۔ نبوت کے بعد آپ نے چار چچا پائے، ان چار میں سے دو چچا اسلام لے آئے ان کے نام بھی اسلامی تھے، حمزہ، عباس بھئی۔ حمزہ بھی اسلامی نام ہے اور عباس بھی کیا ہے؟ تو ان کے نام پہلے سے اسلامی تھے وہ اسلام لے آئے اور دو چچا اسلام نہیں لے کر آئے مولانا، ابو طالب اور ابو لہب۔ سمجھ میں آیا؟ ابو طالب کا نام عبد مناف تھا بھئی اور مناف بت کا نام ہے، بت کا بندہ، تو دیکھو نام، اور اب دوسرے چچا ابو لہب بھئی، ابو لہب کا کیا نام تھا؟ عبد العزی، عزی بھی کس کا نام تھا؟ بت، تو بت کا بندہ، تو دونوں کے نام غیر اسلامی تھے مولانا وہ اسلام نہیں لائے، دو کے نام اسلامی تھے وہ کیا ہیں؟ اسلام لے کر آئے بھئی، تو دیکھو کرنے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے لیکن نام کا بہرحال اثر ضرور پڑتا ہے، اچھا نام رکھنا چاہیے۔
"ورتبته على مقدمة وثلاثة أقسام وخاتمة"، اور میں نے اس کتاب کو مرتب کیا ہے ایک مقدمے پر، ایک مقدمہ ذکر کریں گے "وثلاثة أقسام"، اور تین اقسام ذکر کریں گے، قسمِ اول، قسمِ ثانی، قسمِ ثالث، قسمِ اول میں اسم کو ذکر کریں گے، قسمِ ثانی کے اندر فعل کو اور قسمِ ثالث کے اندر حروف کو ذکر کریں گے "وخاتمة"، اور ایک خاتمہ، ایک مقدمہ ہے، تین اقسام ہیں اور ایک خاتمہ ہے بھئی۔
بھاِئی یہ جو خاتمہ کا لفظ آیا، کتاب میں خاتمہ کوئی نہیں، ہم نے تلاش کیا کتاب میں خاتمہ کا عنوان نہیں لکھا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا یہ کسی لکھنے والے کی غلطی ہے بھئی، کسی پرانے زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھا، لکھی جاتی تھیں تو کسی لکھنے والے نے نقل کرتے کرتے کہیں خاتمہ کا لفظ بڑھا دیا یا غلطی سے لکھا گیا اور وہی نسخہ ہم تک پہنچا اور وہی کیا ہوا؟ پھیل گیا، تو یہ خاتمہ کتاب میں نہیں ہے۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال ہو گا کہ اس کو نکالتے کیوں نہیں اگر خاتمہ نہیں ہے؟ بھئی نکالتے نہیں ہیں، یہ ہمیں امانت کتاب ملی ہے پچھلی نسل سے اور ہم نے اگلی نسل تک اس کو اسی طرح پہنچانا ہے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اس کو نکال دیں، کل کوئی اور آئے گا وہ کہے گا فلاں لفظ بھی زائد ہے اس کو بھی نکالو، پرسوں کوئی اور آئے گا وہ کہے گا یہ لفظ بھی زائد ہے اس کو بھی کیا کرو؟ نکالو، اس کے بغیر بات اچھی لگتی ہے اس کے ساتھ اچھی نہیں لگ رہی اس کو بھی نکالو، تو مولانا چند کچھ ہی عرصے کے اندر پوری کتاب کا حلیہ بگڑ جائے گا، تو کتاب جیسی پہنچی ہے اسی طرح ہم نے آگے پہنچانی ہے۔ اسی لیے آپ مشکوۃ پڑھیں گے مولانا، مشکوۃ کے اندر جگہ جگہ خالی جگہ آتی ہیں، خالی جگہ آتی ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ دراصل وہ کتاب والے نے حدیثیں جمع کیں، ان کے آخر میں حدیث کے آخر میں وہ حوالہ دیتے ہیں یہ بخاری شریف کی حدیث ہے، یہ ترمذی شریف کی ہے، یہ ابو داؤد شریف کی ہے، حوالہ دیتے ہیں، تو کچھ وہ حدیثیں وہ نقل کرتے گئے، کچھ کے حوالے ان کو نہیں ملے، کچھ کے مل گئے۔ جن کے حوالے ملے وہ درج کر دیے، کچھ کے حوالے نہیں ملے وہ خالی جگہ چھوڑ دیں، ارادہ تھا کہ میں کیا کروں گا؟ تلاش کر کر کے لکھتا جاؤں گا لیکن مہلت نہ مل سکی مولانا، موت اس سے پہلے ہی آ گئی تو وہ کچھ حصے، جگہ خالی رہ گئیں۔ بعد میں آنے والے علماء نے ساری حدیثیں نکال لیں، یہ اس میں ہے، یہ اس میں ہے، یہ اس میں ہے، سب، لیکن اب وہ کیا کرتے ہیں؟ اس خالی جگہ کو نہیں چھیڑتے مولانا بلکہ وہاں لکھ دیتے ہیں حاشیہ نمبر ایک پڑھیں۔ ادھر حاشیہ نمبر ایک میں لکھا ہوتا ہے یہ فلاں جگہ ہے حدیث، کتاب کو نہیں چھیڑتے، کتاب کو اسی طرح رکھنا ہے جیسے لکھی تھی، جیسے مصنف نے ہمیں دی ہے، تاکہ کیونکہ امانت ہے، امانت میں خیانت نہیں کی جاتی، اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔
"وخاتمة بتوفيق الملك العزيز العلام"، تو کس کی توفیق سے میں نے اس، ایسا کیا مولانا؟ "الملك" جو بادشاہ ہے، اللہ کی ذات مراد ہے، "العزيز" جو غالب ہے، "العلام" جو خوب جاننے والا ہے، اللہ کی یعنی اللہ کی توفیق سے میں نے ایسا کیا۔
"أما المقدمة"، مقدمہ مولانا، مقدمہ شروع ہوا، "أما المقدمة ففي المبادئ التي يجب تقديمها لتوقف المسائل عليها"، با باقی مقدمہ جو ہے مولانا پس وہ ان مبادی، مبادی کہتے ہیں ابتدائی باتیں، بنیادی باتیں، ان ابتدائی باتوں کے اندر ہو گا "التي يجب تقديمها"، کہ جن کا واجب مقدم جن کا مقدم کرنا واجب ہے "لتوقف المسائل عليها"، اس لیے کہ مسائل کا مسائل ان پر موقوف ہیں۔ آگے جو مسائل آئیں گے وہ کس پر موقوف ہیں؟ بھئی دیکھو مقدمے کے اندر کچھ ایسی باتیں ذکر کریں گے، کہتے ہیں وہ باتیں آپ کو سمجھ میں آئیں گی تو آگے آنے والے مسائل سمجھ میں آئیں گے، اگر یہ باتیں نہیں سمجھ میں آئیں تو وہ باتیں بھی سمجھ میں نہیں آئیں گی، تو چونکہ یہ ہے موقوف علیہ اور وہ آگے آنے والے مسائل ہیں موقوف، تو موقوف علیہ کو ہمیشہ پہلے لے کر آتے ہیں تو کہتے ہیں اس لیے میں بھی ان کو پہلے لے کر آیا ہوں۔
تو کہتے ہیں اس میں، تو پس مقدمہ ان مبادی کے اندر ہے کہ واجب ہے ان کو مقدم کرنا کیونکہ مسائل موقوف، وجہ مسائل کے موقوف ہونے ان پر "وفيها فصول ثلاثة"، اور اس مقدمے کے اندر مولانا تین فصلیں ہیں، "فصل"، پہلی فصل بھئی، تو اس فصل کے اندر علمِ نحو کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت ذکر کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہتے ہیں "النحو علم بأصول يعرف بها أحوال أواخر الكلم الثلاث من حيث الإعراب والبناء وكيفية تركيب بعضها مع بعض"، یہاں تک نحو کی تعریف ہوئی بھئی۔
کہتے ہیں علمِ نحو وہ جاننا ہے ان قوانین کا، اصول کس کو کہتے ہیں؟ قوانین، علمِ نحو، علم کا کیا معنی ہے؟ جاننا، علمِ نحو ان قوانین کو جاننے کا نام ہے "يعرف بها"، کہ جن کے ذریعے جانا جاتا ہے، پہچانا جاتا ہے، کس چیز کو پہچانا جاتا ہے؟ "أحوال أواخر الكلم الثلاث"، تین کلموں کے اواخر کو جانا جاتا ہے "من حيث الإعراب والبناء"، معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے کہ معرب ہے یا مبنی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ "وكيفية تركيب بعضها مع بعض"، اور بعض کو بعض کے ساتھ، یا یوں کہیں، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔ ترکیب کا کیا معنی؟ جوڑنا، کیفیت، تو کیفیت اردو میں ہی استعمال ہوتا ہے۔
تو بھئی اس کے ذریعے وہ اس میں قوانین ذکر ہوں گے، ان قوانین کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا اسم، فعل، حرف کے کیا آخر، آخری کلمے پر کیا پڑھنا ہے؟ معرب ہے یا مبنی ہے، اور معرب ہے تو پھر کون سی حرکت پڑھنی ہے، یہ کس سے پتہ چلے گا ہمیں؟ علمِ نحو سے پتہ چلے گا۔ کس حیثیت سے؟ "من حيث الإعراب والبناء"، معرب اور مبنی ہونے کی حیثیت سے، اور نیز اسم، فعل، حرف ان میں سے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح جوڑیں گے؟ مبتدا کے بعد کیا آئے گی؟ خبر آئے گی، مبتدا مرفوع ہے تو خبر بھی کیا ہو گی؟ مرفوع ہو گی، اور اسی طرح مولانا مختلف جو جوڑنے کے طریقے کہ ان کس پہ داخل ہو گا، اس کے ساتھ کس کو لے کر آئیں گے، ان کس پہ داخل ہو گا، فی کس پہ داخل ہو گا وغیرہ، فعل ہے تو اس کے سب اس کے بعد فاعل کبھی ضمیر آئے گا، کبھی اسمِ ظاہر آئے گا وغیرہ اس قسم کی ساری چیزیں ذکر کریں گے۔ "وكيفية تركيب بعضها مع بعض"، اور بعض کو بعض کے ساتھ جوڑنے کی کیفیت
3
کفایت کا پتہ چلتا ہے، یعرف بھا احوال و یعرف بھا کیفیتو۔ کیفیت کو بھی جانا جاتا ہے اور احوال کو بھی جانا جاتا ہے۔ بعضہا مع بعض، ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ اور آسان ترجمہ میں نے کیا ایک دوسرے کے ساتھ۔
والغرض منہ صیانت الذہن عن الخطا اللفظی فی کلام العرب اور غرض کیا ہے اس علم میں نحو کی کہتے ہیں غرض اس علم سے صیانت الذہن، ذہن کو بچانا ہے عن الخطا اللفظی کس سے خطا لفظی غلطی سے بچانا ہے فی کلام العرب، کس کے اندر کلام عرب کے اندر۔
مبتدا لائے ہیں تو وہ مرفوع ہے تو خبر بھی کیا ہوگی؟ مرفوع تو اس پر آپ نے نصب نہیں پڑھنا۔ فعل مضارع پر ان داخل ہو رہا ہے تو اس پر آپ نے نصب پڑھنا ہے، اس کو مرفوع تو یہ غلطیوں سے یہ جو لفظی غلطیوں سے بچاؤ ہوگا یہ کس کے ذریعے ہوگا؟ علم نحو کے ذریعے ہوگا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ سوال پیدا ہوتا ہے مولانا بھئی کہ علم نحو پڑھنے والے تو بڑے سارے طلباء علم نحو پڑھ کر آتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں، کیا وجہ ہے؟ آپ نے تو کہا یہ ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جن کو پڑھا جائے تو غلطی سے یہ بچا لیں گے، ہم نے تو جس کو بھی دیکھا ہے وہ کیا کرتا ہے؟ وہ تو غلطی کرتا ہے بھئی۔
تو جواب ہے مولانا کہ وہ قوانین ذہن میں حاضر بھی ہوں، پھر کیا کریں گے یہ آپ کو غلطی سے بچائیں گے، اگر حاضر ہی نہیں ایک دفعہ پڑھ کر آپ گزر گئے، بھول گئے پھر تو یہ آپ کو بچائیں گے۔
وہ موضوعہ الکلمۃ والکلام اور اس کا موضوع کیا ہے مولانا؟ کلمہ اور کلام ہیں بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کسی ایک چیز کا علم کا موضوع ایک چیز ہوا کرتی ہے، یہاں تو دو موضوع آپ نے بتا دیے کہ کلمہ بھی ہے اور کلام بھی ہے، اور جتنے موضوع بڑھتے جائیں گے علموں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی، تو آپ نے دو موضوع ذکر کیے، معلوم ہوا یہ دو علوم ہیں، ایک علم نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ کسی ایک علم کا موضوع ایک چیز ہوتی ہے، دو چیزیں نہیں ہوتیں۔ تو جواب یہ ہے مولانا کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی چیز ہیں۔ کلمہ اکیلا ہو تو کلمہ ہے، اور کیا ہو؟ اگر دوسرے کلموں کے ساتھ مل کر ایک کیا بن جائے؟ ایک کلام مفید فائدہ دینے والے مرکب بن جائے، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ کلام کہلاتا ہے۔
تو کلام بھی دراصل کس سے بنتا ہے؟ کلمے ہی سے بنتا ہے، تو یہ بظاہر دو نظر آرہے ہیں، لیکن درحقیقت کیا ہیں؟ ایک ہیں ایک ہیں۔
تو یہ فصل ختم ہوئی بھئی، تاریخ موضوع غرض وغایت کا پتہ چل گیا بھئی۔ فصل، اب مولانا الکلمۃ لفظ وضع لمعان مفرد، کلمہ ایسا لفظ ہے، دیکھو مولانا! آپ ضابطہ یاد رکھیں، نکرہ کے بعد فعل آجائے تو کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت کی ترکیب کریں گے۔ نکرہ کے بعد کیا آجائے؟ نکرہ کے بعد فعل آجائے تو موصوف صفت بنیں گے۔
سمجھ میں آیا؟ تو موصوف صفت کا ترجمہ ایسا کے ساتھ کرتے ہیں، ایسا، موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں؟ ایسا کا لفظ۔ ایسا۔
الکلمۃ لفظ وضع تو دیکھو لفظ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد کیا آیا؟ وضع فعل آیا، اور ابھی میں نے ضابطہ بتلایا کہ نکرہ کے بعد فعل آجائے تو یہ کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ موصوف سے پہلے کیا لے آئیں گے؟ ایسا، تو یوں کریں گے: کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو لمان مفرد کس کے لیے؟ مفرد معنی کے لیے، یا لفظ وضع لمان مفرد، ایسا لفظ یہ مفرد اس کو صفت بنا لیں لفظ کی، اور لفظ مرفوع ہے تو مفرد بھی کیا ہوگا؟
مرفوع ہوگا، تو لفظ کے بعد وضع لمان صفت اول، اور مفرد صفت ثانی ہے، تو کلمہ ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو معنی کے لیے، اور ایسا لفظ ہے مفرد جو کیا ہو؟ مفرد ہو، سمجھ میں آیا؟ یعنی مرکب نہ ہو۔
وہی منحصرۃ فی ثلاثۃ اقسام اور یہ بند ہے کتنی قسموں میں؟ تین قسموں، تین قسموں، تین قسموں کے اندر بھئی۔ تین قسمیں ہیں بھئی کلمے کی۔
کیا بات سمجھ آئی؟ ہم نے تلاش کی مولانا۔ ملی ہی نہیں کوئی چوتھی قسم، ورنہ ہم چار بنا دیتے، پانچ بنا دیتے، تو ہم نے استقرا، استقرا کہتے ہیں تلاش اور جستجو کرنا، استقرا کے بعد ہمیں ملی ہی تین قسمیں، تو اسی لیے بند بھی یہ کتنی قسموں میں ہیں؟ ملی ہی تین ہیں۔
یہ بند ہے تین قسموں میں: اسم اور فعل اور حرف۔ لأنھا اما ان لاتدل علی معان فی نفسھا وھو الحرف۔ دیکھیے مولانا! کہتے ہیں کیونکہ یا تو یہ دلالت نہیں کرے گا ایسے معنی پر فی نفسھا جو اس کی ذات۔
بھئی! آپ نے اسم فعل حرف کی تعریفات پہلے پڑھی ہیں یا نہیں پڑھی؟ اسم اس کو کہتے ہیں جو اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے، غیر کا محتاج نہیں ہوتا۔
اور فعل جو ہوتا ہے وہ بھی اپنی ذات میں موجود معنی پر خود بخود دلالت کرتا ہے، غیر کا محتاج نہیں ہوتا، لیکن اس کے اندر ایک بات زائد ہے کہ اس کے فعل کے معنی کے ساتھ زمانہ بھی ملا ہو گا، یا مستقبل، یا حال، یا ماضی، تین زمانوں میں سے کسی ایک کو، کوئی ایک معنی بھی ملا ہوگا، جیسے دیکھو مولانا! ضربا۔ ضربا کا معنی ہے پٹائی کرنا، لیکن ساتھ زمانہ بھی ملا ہوا ہے، یہ پٹائی کس زمانے میں ہوئی ہے؟ ماضی میں، تو دیکھا اپنا معنی بھی ہوگا، اور معنی کے ساتھ زمانہ بھی لگا ہوگا۔
سمجھ میں آیا؟ جیسے میں کہتا ہوں یضرب، پٹائی کرے گا، تو دیکھو پٹائی کرنا بھی آگیا، یہ اس کا معنی ہے، اور ساتھ کیا آگیا؟ کون سا زمانہ ہے؟ حال اور استقبال دونوں آگئے، تو کہتے ہیں اور حرف جو ہوتا ہے وہ مولانا اپنی ذات میں موجود معنی پر خود بخود دلالت نہیں کرتا، جب تک اس کے ساتھ دوسرا کلمہ نہیں ملائیں گے۔
مین کا معنی ہے سے، کسی کام کے شروع کرنے کے لیے آتا ہے، تو ابتدا کے لیے یہ آتا ہے، اس کا معنی ابتدا، لیکن یہ ابتدا پر دلالت نہیں کرے گا، جب تک آپ اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ نہیں ملائیں گے۔
آپ کہیں گے ذہبت من المسجد الی الی البیت، میں مسجد سے کدھر گیا؟ گھر کی طرف، تو دیکھو جب تک ذہبت اور مسجد ساتھ نہیں ملے گا، پتہ نہیں چلے گا کہ اس من کا کیا معنی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ سارا دن آپ من من کرتے رہیں، کوئی پتہ نہیں چلے گا کہ کیا من بھئی، کیا من، کچھ پتہ ہی نہیں۔
لیکن آپ بتلانا چاہتے ہیں ابتدا ہو رہی ہے، بھئی کس کی ابتدا ہو رہی ہے اور کہاں سے ہو رہی ہے، اب وہ دو چیزیں ہمیں چاہئیں، تو ابتدا کس کی ہو رہی ہے؟ چلنے کی، اور کہاں سے ہو رہی ہے؟ مسجد سے۔ تو یہ دو ساتھ ذہبت اور مسجد ملانا پڑے گا۔
و حرف تو لانھا بما اما ان لاتدل علی معان فی نفسھا اس لیے کہ وہ جو ہے وہ یا تو دلالت نہیں کرے گا ایسے معنی پر فی نفسھا جو اس کی ذات ہی میں ہو۔
یعنی اپنی ذات میں موجود معنی پر دلالت نہیں کرے گا، وھو الحرف اور وہ کیا ہے؟ حرف ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ بعض علماء تو کہتے ہیں حرف کا کوئی معنی ہی نہیں ہے اکیلا۔
سمجھ میں آیا؟ ہاں جب یہ غیر کے ساتھ جڑتا ہے، تو پھر ایک معنی پر دلالت کرتا ہے، لیکن خود فی نفسھا، فی ذاتہ اس کا کوئی معنی ہے ہی نہیں، وہ ادلال علی معان فی نفسھا یا دلالت کرے گا وہ کلمہ ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہوگا، ویقترن معناہ باحد الازمِنَۃ الثلاثۃ اور ملا ہوا ہوگا وہ معنی کس کے ساتھ؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے، وہ سب معنی الگ ہوگا، زمانہ الگ ساتھ ملا ہوگا، تو وہ معنی ملا ہوا ہوگا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، وھو الفعل اور وہ کیا ہے؟ فعل ہے۔
او تدل علی معان فی نفسھا یا دلالت کرے گا ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہوگا، و لم یُقترِن معناہ بھ اور اس کا معنی بھی بھا۔
ہا ضمیر راجع ہے مولانا، بی کے اندر جو ہذ، یہ راجع ہے تین زم، احد الازمِنہ کو، کس کو؟ احد الازمِنہ کو۔ ہاں۔
اور ہا ضمیر کس کو؟ کلمہ کو راجع، کس کو؟ کلمہ کو کہ نہیں ملا ہوگا اس کلمے کے معنی کے، معنی کس کے ساتھ نہیں ملا ہوگا؟ بہ، ای بحد الازمِنہ، تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ نہیں۔ وھو الاسم، اور وہ کیا ہے؟ اسم ہے۔
فا یہ تو وجہ حصر بیان کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وجہ حصر انہوں نے کیسے ذکر کی؟ تین میں بند ہے، عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔
یا تو اپنی ذات میں موجود معنی پر دلالت کرے گا یا دلالت نہیں کرے گی۔ اگر نہیں کرتا تو حرف، اگر دلالت کرتا ہے، پھر تو وہ حصر سے خالی نہیں۔ اس کے ساتھ کوئی زمانہ ملا ہوگا یا زمانہ نہیں ملا ہوگا۔ اگر ملا ہوا ہے، نہیں ملا ہوا تو اسم، کوئی اور صورت رہ گئی؟ بند کر دیا آپ نے اس کو حصر کہتے ہیں، وجہ حصر بند کرنا۔
اچھا، ٹھیک ہے ، اب تعریف باقاعدہ کریں گے، فحد الاسم فاسم کی تعریف، حد تعریف کو کہتے ہیں جامع مانع تعریف۔ کلمۃ تدل علی معان فی نفسھا وہ ایسا اسم ایسا کلمہ ہے جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر فی نفسھا جو اس کی ذات میں ہوتا ہے غیر مقترنن باحد الازمِنَۃ الثلاثۃ اور وہ معنی ملا ہوا نہیں ہوتا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، بھئی تین زمانے کون سے؟ عن الازمِنَۃ والحال والاستقبال (یعنی کہ ماضی، حال اور استقبال)۔
سمجھ میں آیا؟ انی متکلم کا صیغہ ہے، میری مراد، میری مراد ہے ماضی، حال اور استقبال۔
کرجل و علم، دیکھو رجل دیکھو یہ ایک معنی پر خود دلالت کر رہا ہے اور زمانہ ساتھ ہے؟ علم بھی ایک معنی پر دلالت کر رہا ہے، زمانہ ہے؟ نہیں۔ تو دو مثالیں ذکر کیں: ایک ایسی ذات ہے جس کا وجود ہے، ایک ایسی ذات ہے جس کا الگ کوئی وجود نہیں۔
علم کا الگ کوئی وجود ہے؟ آپ نے کوئی دیکھا ہے کبھی علم کو؟ نہیں، یہ تو ایک وصف ہے جو انسان کے ساتھ قائم ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے بہادری ہے، بہادری کو کسی نے الگ دیکھا ہے؟ نہیں۔ ہاں یہ انسان کے ساتھ قائم ہونے والا ایک وصف ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے سفیدی، مولانا! یہ سفیدی مجھے آپ الگ کرکے دکھا دیں۔
سفیدی کبھی الگ نہیں رہ سکتی، بھی قائم ہوگی کسی چیز کے ساتھ قائم ہوگی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جب بھی قائم ہو۔
ٹھیک ہے، اکیلی سفیدی آپ مجھے نہیں دکھا سکتے، یہ نہ کریں بس وہ ڈبہ رنگ والا خرید کے لے آئیں، یہ سفیدی ہے۔ بھئی یہ بھی پانی اور کیمیکل کے ساتھ ہی ملی ہوئی ہے، اسے ذرا الگ کرو، سفیدی کو الگ کرو، کیمیکل ہٹاؤ اس میں سے نکالو ذرا، پانی کو نکالو اس میں سے۔ ہو سکتی ہے سفیدی؟ سمجھ میں آیا؟ نہیں بھئی، سفیدی کا، آپ کہیں گے وہ پاؤڈر بنا کر میں لے آتا ہوں، لو جی یہ سفیدی ہے نہ کچھ۔
سفیدی ہے صرف۔ سمجھ، بھئی یہ سفیدی نہیں ہے، یہ ایک ایک ذرے کے ساتھ سفیدی ہے، مولانا! سفیدی نہیں ہے یہ۔ سمجھ میں آیا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ سفیدی اس ذرے پر لگی ہوئی ہے، اس سے مجھے الگ کرکے دکھاؤ، بالکل الگ مولانا! جیسے چھوڑو یہ چلو سفیدی والی بہادری مجھے الگ کرکے دکھاؤ، ممکن ہے؟ چلو بہادری، تو سفیدی بھی اسی طرح الگ کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔
تو یہ ایک مثال ہے، ض ایک ہے کس کی؟ ایک ہے ذات کی مثال، اور ایک ہے وصف کی مثال، ذات جو خود بخود قائم ہو، وصف جو غیر کے ساتھ قائم ہو، خود قائم نہیں رہ سکتا الگ۔
وعلامتہ صحت الاخبار عنہ اچھا تعریف کردی یا نہیں کردی مولانا؟ یاد رکھو تعریف سے ذہن میں ایک چیز ممتاز ہوتی ہے۔ فعل کی جب میں نے تعریف کی، اسم کی تعریف پڑھ لی، وہ کلمہ جو دلالت کرتا ہے ایسے معنی پر جو اس کی ذات میں ہوتا ہے اور یہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ ملا ہوا نہیں۔ اب مولانا مجھے اسم ذہن میں فرق آگیا، فعل سے بھی جدا ہوا اور حرف سے بھی کیا ہوا؟ جدا ہوا۔ جدا ہوا۔ تو دیکھو تعریف سے ایک چیز ذہن کے اندر ممتاز ہوجاتی ہے، آدمی اس کو سمجھ لیتا ہے۔
لیکن اب خارج میں بھی تو اس کو پہچاننا ہے یا نہیں پہچاننا مولانا! کہ کون سا اسم ہے کون سا فعل، تو اس کے لیے پھر علامت چاہیے ہوتی ہے۔ تو تعریف سے چیز ذہن میں ممتاز ہوتی ہے اور علامت سے چیز خارج میں ممتاز ہوتی ہے۔ اب اس کی علامتیں بتلانے لگے ہیں کہ ذہن میں تو آپ کے اسم ممتاز ہو گیا ہوگا، خارج میں اس کو ممتاز کرتے ہیں۔
وعلامتہ صحت الاخبار عنہ اور علامت اس کی کیا ہے اس کے صحیح ہو اس سے خبر دینا۔
اخبار عنہ کا کیا معنی، اس سے خبر دینا صحیح ہو۔
بات سمجھ آئی؟ یعنی اس کا مسند الیہ واقع ہونا صحیح ہو۔
کلام کے دو جز ہوتے ہیں ہمیشہ یاد رکھو، ایک مسند ہوتا ہے، ایک مسند الیہ۔ مسند الیہ صرف اسم واقع ہو سکتا ہے۔
دیکھو، تین چیزیں ہیں ہمارے پاس: اسم، فعل، حرف۔
اور کلام کے کتنے اجزاء ہیں؟ دو۔ ایک مسند الیہ، ایک مسند۔ مسند الیہ صرف اسم بنتا ہے۔
سمجھ آیا؟ نہ فعل بنے گا، نہ حرف بنے گا۔
مسند جو ہے نا مسند، یہ اسم بھی بن سکتا ہے اور فعل بھی بن سکتا ہے۔
اور حرف نہ مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ بن سکتا ہے۔ تو اسم مسند بھی بن سکتا ہے، مسند الیہ بھی۔ فعل صرف مسند بن سکتا ہے، اور حرف نہ مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ بن سکتا ہے۔ تو اخبار عنہ کا یہ معنی کہ وہ مسند الیہ بن سکے، یعنی اس کے بارے میں آپ خبر دے سکیں، یعنی وہ مسند الیہ کلام میں واقع ہو سکے۔ میں کہتا ہوں زید قائم۔
دیکھو، یہ میں نے قیام کس کے لیے ثابت کیا؟ زید کے لیے ثابت کیا۔ تو زید کے لیے خبر آئی، تو زید ہیں مبتدا، اور یہ مبتدا اسم ہے۔ زید اسم ہے یا فعل ہے؟ اسم۔
سمجھ آیا؟ زید ضربا۔ تو دیکھو زید مسند الیہ اور ضربا فعل اس کے اندر ھو ضمیر فاعل، تو ضربا مسند ہے اور اس کے اندر ھو ضمیر وہ کیا ہے مسند الیہ ہے، اور ضمیر بھی کیا ہوتی ہے اسم ہوتی ہے یا فعل ہوتی ہے؟ اسم ہوتی ہے۔
یا ضرب زید دیکھو ضرب فعل، زید فاعل، تو ضرب مسند اور زم فاعل کیا ہے مسند یہ ظرف کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید، زید ہے تو ضرب ہے، زید نہیں تو ضرب بھی نہیں۔ زید قائم، زید ہے تو قیام ہے، زید نہیں تو قیام بھی نہیں۔
تو صحت الاخبار کا یہ معنی کہ وہ مسند الیہ ہو سکے۔
نحو زید قائم اور لیزا، یہ مثال ذکر کی۔ لیزا فت اور دوسری علامت کیا ہے؟ اضافت ہے، مضاف ہونا مولانا، مضاف ہونا کس کا خاصہ ہے؟ اسم کا۔
جیسے مولانا غلام زید، زید کا غلام، تو یہ غلام جو ہے، یہ مضاف ہے، یہ اسم ہوگا ہمیشہ۔
ودخول لام التعریف، لام تعریف کا داخل ہونا، ک الرجل، جیسے الرجل ہے۔ ایک ہے مولانا رجل نکرہ ہے۔ ایک ہے الرجل، الف لام داخل کیا۔ یہ یہ لام تعریف کہلاتا ہے۔ یہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ لام تعریف؟ اسم پر، فعل پر نہیں۔
والجر، یا جیسے مولانا جر کا داخل ہونا۔ بھئی جر جو آتا ہے حرف جر کی وجہ سے آتا ہے، اور حرف جر صرف اسم پر داخل ہوتا ہے، تو جر بھی ہمیشہ کس پہ آئے گا؟ اسم پر ہی آئے گا۔ والتنوین، تنوین کا آنا مولانا یہ بھی اسم میں آئے گا، فعل میں نہیں۔ نحو بزیرید، جیسے بزیرید۔ دیکھا، یہ مثال ہے جر کی بھی اور تنوین کی۔ جر بھی آرہا ہے زید پر اور تنوین بھی ہے۔
والتثنیۃ، تثنیہ آنا مولانا، یہ بھی کس کی علامت ہے؟ اسم۔
یا مولانا قائم، قائمان، قائمون، یہ کیا ہے مولانا؟ یہ اسم ہے۔ تثنیہ اور جمع آیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
یہ تثنیہ آنا یاد رکھیں مولانا، یہ کس کا خاصہ ہے؟ اسم۔ آپ کہیں گے فعل بھی تثنیہ آتا ہے۔
ضرب ضربا۔ یضرب یضربانی، بھئی یہ فعل کبھی نہیں، یاد رکھو، یہ فعل کے ساتھ فاعل کی ضمیر ہے، فاعل تثنیہ ہو رہا ہے، ضرب، اس کے اندر کیا ہے؟ ہوا ضمیر۔ ضربا۔ ضربہ وہی اکیلا ہے۔ یہ الف آیا یہ فاعل ہے، ضمیر ہے مولانا، اس کے ساتھ، فاعل کی ضمیر ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
ٹھیک ہے؟ تو یہ فاعل، تو یہ فاعل اس کے تثنیہ ہو گیا، فعل وہی ہے۔ ضربوا۔
بھئی، ضربہ وہی اکیلا ہے، صرف فاعل یہ و آ گیا، جمع بن گیا، تو فعل
4
کیونکہ تثنیہ اور جمع ہونا کس کا خاصہ ہے؟ اسم کا۔ تو فعل ہمیشہ مفرد، صرف اس کے اندر فاعل ضمیر بدر یہ، اور ضمیر کیا ہوتی ہے؟ اسم ہے یا فعل ہے؟ اسم اور اسم کے اندر ہی تثنیہ، جمع جا رہی ہوتی ہے، دعوے کی تائید ہو گئی مولانا۔
والجمع اور جمع ہونا یہ بھی علامت ہے اسم کی، وال نعت نعت کا معنی صفت مولانا، موصوف مولانا، نعت سے کیا مراد ہے؟ موصوف بننا، موصوف بننا کس کا خاصہ ہے؟ اسم کا خاصہ، اسم موصوف بنا کرتا ہے، فعل کبھی موصوف نہیں بنتا۔ ہاں، فعل صفت بنتا ہے جیسے ابھی آیا تھا مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ لفظ وضع، وضع کیا بن رہا تھا؟ صفت بن رہا تھا یا نہیں؟ تو موصوف بننا خاصہ ہے اسم کا۔
والتصغير بعض تو کہتے ہیں صفت بننا بھی اسم ہی کا خاصہ ہے، چلیے وہ آگے بحثیں آپ پڑھتے رہیں گے۔ والتصغير، تصغیر کیا کہتے ہیں مولانا؟ مصغر لے کر آنا، رجل، آدمی، رجيل، چھوٹا آدمی، چھوٹا سا آدمی۔ اور مولانا؟ اسی طرح تو یہ تصغیر ہے مولانا، یہ بھی کس کا خاصہ ہے؟ اسم، اسم کی تصغیر آیا کرتی ہے، فعل کی کبھی تصغیر نہیں آتی۔
والنداء، نداء مولانا، یہ بھی کس کا خاصہ ہے؟ اسم کو نداء دی جائے گی، فعل کو نداء یعنی منادیٰ مراد ہے، منادیٰ بنے گا، فعل نہیں۔ يا زيد! یا ضرب کو کوئی کہتا ہے؟ نہیں۔
فإنكل هذه خواص الاسم، اس لیے کہ یہ سارے کے سارے اسم کے خاصے ہیں۔ ومعنى الإخبار عنه، اوپر آیا تھا الإخبار عنه کا لفظ بھئی، اس کا بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایت النحو کہ الإخبار عنه کا معنی یہ ہے: أن يكون محكوما عليه، کہ وہ محکوم علیہ ہو۔ کیا ہو؟ یعنی اس پر حکم لگایا جائے۔ زيد قائم، قیام کا حکم کس پر لگایا؟ زید پر۔ ضرب زيد، کس پر قیام کا حکم ضاربیت کا حکم کس پر لگایا؟ زید پر۔
تو الإخبار عنه کا معنی یہ ہے کہ وہ محکوم علیہ ہو یعنی مسند علیہ ہو، لكونه فاعلا أو مفعولا أو مبتدأً، یہ محکوم علیہ ہوتا ہے بوجہ فاعل ہونے کے یا مفعول ہونے کے یا مبتدا ہونے کے۔ فاعل ہوگا، مفعول سے مراد مولانا، مفعول ما لم يسم فاعله ہے، یعنی نائب فاعل مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ نائب، بھئی ضرب زيد کا کیا معنی؟ ضرب زيد عمرا، زید نے عمر کی پٹائی کی، فعلِ معروف کا اسناد فاعل کی طرف ہوتا ہے۔ اور ایک ہے ضرب عمر، عمر کی پٹائی کی گئی، تو یہ عمر کیا ہے؟ مفعول ما لم يسم فاعله ہے، نائب فاعل ہے۔ کیا ہے؟ نائب فاعل نہیں ہے، ضرب زيد، ضرب عمر، عمر پٹائی کرنے والا ہے یا اس کی پٹائی کی گئی ہے؟ پٹائی کی گئی ہے، تو معلوم ہوا فاعل نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہے؟ نائب الفاعل ہے، کیا ہے؟ اور دوسرا نام اس کا کیا ہے؟ مفعول ما لم يسم فاعله، ہاں، تو یہ مفعول، تو یہ مراد ہے، نیچے لکھا بھی ہوا ہے، أي مفعول ما لم يسم فاعله، أو مبتدأ، یہ تین مسند علیہ ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ ان تین کے علاوہ اور کوئی مسند علیہ نہیں بھئی، فاعل یا نائب الفاعل یا مبتدا۔
ويسمى اسما لسموه على قسيميه، آگے چلیں یا بس کریں؟ مرضی بتاؤ، اپنی مرضی جلدی کرو۔ اچھا جی، ويسمى اسما لسموه على قسيميه لا لكونه وسما على المعنى، بھئی اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ دو اقوال ہیں۔
ایک قول ہے علمائے بصرہ کا، بھئی یہ دو پارٹیاں تھیں نحویوں کی، ایک بصرہ میں رہتی تھی، ایک کوفہ میں، ان کے آپس میں اختلافات ہوتے تھے بعض مسائل کے اندر۔ دونوں طرف بڑے بڑے علماء تھے مولانا، بڑے بڑے ائمہ تھے، جبال العلوم تھے بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں ويسمى اسما لسموه على قسيميه، اسم کو، تو کوفہ والے کہتے ہیں اسم کو اسم اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ہے وسم سے، اصل میں کیا تھا؟ وسم، اور وسم کہتے ہیں علامت کو، اور جیسے اسم مسمیٰ پر علامت ہوتا ہے، میں نے کہا زید، آپ کون سمجھے؟ ذاتِ زید سمجھ میں آئی یا نہیں آئی؟ یا آپ کو عمر سمجھ میں آیا؟ آپ کے ذہن میں فوراً کون آیا؟ زید، تو دیکھو اسم جو تھا، ذات پر کیا کر رہا تھا؟ علامت ہے، اس پر دلالت کر رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ میں کہتا ہوں بھئی کیا نام ہے آپ کا؟ اسامہ، میں نے کہا اسامہ، آپ کے ذہن میں فوراً کون آیا؟ یہ آیا، یہ کیوں نہیں آیا بھئی؟ اس لیے کہ یہ نام اس ذات پر علامت ہے، اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت۔ تو وہ کہتے ہیں اسم اصل میں ہے وسم سے، اور وسم کہتے ہیں کس کو؟ علامت کو، تو چونکہ اسم بھی اپنے مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے، میں نے کہا رجل، آپ کے ذہن میں کون آیا؟ رجل آیا یا امراۃ آئی بھئی؟ رجل آیا، تو اسم جیسے اسم چونکہ اپنے مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم، تو اصل میں تھا وسم، پھر واؤ کو کس سے بدل دیا؟ ہمزہ سے بدل دیا، اسم ہوا۔ تو یہ کس کا قول ہے؟ کوفہ والے نحوی کہتے ہیں۔
بصرہ والے نحوی کہتے ہیں اسم یہ اصل میں سمو سے بنا ہے۔ سمو کا معنی ہے بلند ہونا، چونکہ اسم بھی فعل اور حرف پر بلند ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی کلام کے دو اجزاء ہیں، ایک کیا؟ مسند علیہ ہونا، ایک کیا؟ مسند ہونا۔ اسم مسند علیہ بھی بن سکتا ہے، مسند بھی بن سکتا ہے، جبکہ فعل صرف مسند بنتا ہے، اور حرف تو کچھ بھی نہیں بنتا، تو سب سے اعلیٰ کون ہوا؟ اسم ہوا، تو چونکہ یہ فعل اور حرف دونوں سے اعلیٰ ہے، یعنی صرف دو اسم مل جائیں تو کلام پورا ہو جاتا ہے، لیکن اکیلا دو فعل مل جائیں تو کلام پورا نہیں ہوتا، تو فعل سے اکیلے سے کلام پورا نہیں ہوتا، اسم سے کلام پورا ہو جاتا ہے، حرف سے بھی کلام اکیلے سے پورا نہیں ہوتا، تو یہ دونوں سے اعلیٰ ہوا، اور اسی وجہ سے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم کہتے ہیں، تو یہ کس سے ہے؟ بنا ہے سمو سے، اور سمو کا کیا معنی؟ بلند ہونا، تو یہ بھی اپنی دونوں قسمیں، قسیمینِ مقابلین پر کیا ہے؟ بلند ہے، اعلیٰ ہے ان سے، تو اس لیے اس کا نام اسم رکھا، تو یہ اصل میں کیا تھا؟ سمو، پھر کیا کیا؟ آخر سے واؤ کو حذف کر دیا اور اس کے عوض شروع میں کیا لے آئے؟ ہمزہِ مکسور لے آئے، تو کیا بنا؟ اسم۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟
ایک ہوتی ہے اقسام، ایک ہوتی ہے قسیم، قسم وہ ہوتی ہے جو کسی چیز کے تحت واقع ہو، بھئی کلمے کے تین اقسام ہیں، اسم، فعل اور حرف، تو کلمے سے نیچے تقسیم ہو رہی ہے، تو اسم بھی ایک قسم، فعل بھی ایک قسم، حرف بھی ایک قسم، تو یہ کلمے کے تحت واقع ہوں گے، کیا واقع ہوں گے؟ تحت میں، اور ایک ہوتی ہے قسیم جو برابر میں ہوتی ہے، تو یہ دونوں تینوں آپس میں قسیمین ہیں، کیونکہ یہ کس کے تحت آرہے ہیں؟ کلمے کے، تو یہ اس کے قسمیں ہوئیں، اور قسمیں آپس میں کیا ہوتی ہیں؟ قسیمین ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے مقابل ہوتی ہیں، کیا ہوتی ہیں؟ مقابل ہوتی ہیں، تو فعل قسیم ہے اسم کی بھی اور حرف کی بھی، حرف قسیم ہے اسم کی بھی اور فعل کی بھی، اور فعل قسیم ہے اسم کی بھی اور حرف کی بھی، تو یہ آپس میں کیا کہلاتے ہیں؟ قسیم، تو کلمے کی طرف نسبت کرتے ہوئے ان کو کہیں گے قسمیں، اور ایک دوسرے کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا کہیں گے؟ قسیمین، تو اسم بلند ہے کس پر؟ اپنی قسموں پر یا اپنی قسیمین پر؟ قسیمین پر بلند ہے، اسی لیے کہا: ويسمى اسما لسموه على قسيميه، اور اس کو اسم کہتے ہیں بوجہ اس کے بلند ہونے کے اپنے قسیمین پر، اصل میں تھا قسيمينِهِ، تثنیہ ہے مولانا، دو تو قسیم ہیں نا اسم کے، تو اصل میں اور تثنیہ کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ حالتِ نصبی میں، رفعی میں الف کے ساتھ، نصبی، جری میں یا کے ساتھ، تو یہ بھی اسی طرح، حالتِ نصبی، جری میں ہے نا، علیٰ داخل ہوا تو قسيمينِهِ، قسيمَيْنِهِ، تو نون گر گیا، کیا بن گیا؟ قسيميه، بوجہ بلند ہونے اپنے دونوں قسیمین پر، لا لكونه وسما على المعنى، نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ علامت ہے معنی پر۔
سمجھ میں آیا؟ کوفہ والے کیا کہتے ہیں؟ اس کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، بصرہ والے کیا کہتے ہیں کہ اس کو اسم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنے قسیمین پر بلند ہے، تو ایک کو، ایک کی تائید کر رہے ہیں مصنف، ایک کو رد کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس کو اسم اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے قسیمین پر بلند ہے، یعنی بصرہ والوں کا قول ٹھیک ہے، اس لیے اس کو اسم نہیں کہتے کہ یہ کیا ہے؟ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے، اس وجہ سے اس کو اسم نہیں کہتے، تو بصرہ والے کے قول کو لے لیا اور کوفہ والوں کے قول کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا۔ مشکل تو نہیں ہے بات؟
وحد الفعل، اور اب فعل کی تعریف، اب بھئی اسم کی بات ختم ہوئی، دیکھو اسم کی تعریف بھی ذکر کی، اسم کی علامات بھی ذکر کیں، اور اس کی وجہ تسمیہ بھی ذکر کی کہ اس کو اسم کہتے کیوں ہیں، اب فعل کی بات کریں گے، اس کی تعریف کریں گے، اس کی علامات بتلائیں گے، اور اس کی وجہ تسمیہ بتلائیں گے کہ فعل کو فعل کیوں کہتے ہیں؟ وحد الفعل كلمة تدل على معنى في نفسها دلالة مقترنة بزمان ذلك المعنى، فعل ایسا کلمہ ہے، دیکھو کلمہ کیا ہے؟ نکرہ، نکرہ کے بعد کیا آرہا ہے؟ فعل، تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ ایسا کلمہ ہے جو دلالت کرتا ہے علیٰ معنیٰ، ایسے معنیٰ پر فی نفسہا، جو اس کی ذات میں ہوتا ہے، تو کلمہ جو دلالت کرتا ہے ایسے معنیٰ پر جو اس کی ذات میں ہوتا ہے اور ایسی دلالت کرتا ہے جو ملی ہوئی ہوتی ہے بزمان ذلك المعنى، اس معنیٰ کے زمانے کے ساتھ، دیکھو میں نے کیا بتایا تھا؟ ضرب کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ پٹائی کرنے پر، کس پر کر رہا ہے؟ اور ایسی دلالت کر رہا ہے پٹائی کرنے پر کہ اس کے ساتھ اس کا زمانہ بھی ملا ہوا ہے، کیا زمانہ ہے اس کا؟ ماضی، یضرب کس پٹائی، کس پر دلالت کر رہا ہے؟ پٹائی کرنے پر، لیکن اس پٹائی، اس معنیٰ جو ہے، یہ جو پٹائی کرنا ہے، اس کے ساتھ اس کا زمانہ بھی ملا ہوا ہے اور وہ کیا؟ حال، یہی بات کر رہے ہیں، ایسی دلالت کہ ملی ہوئی ہو اس معنیٰ کے زمانے کے ساتھ، بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ مقترنة بزمان ذلك المعنى، ایسی دلالت جو ملی ہوئی ہو اس معنیٰ کے زمانے کے ساتھ، كضرب يضرب اضرب، ماضی، مضارع اور امر تینوں کی ایک ایک مثال ذکر کر دی، وعلامته، اب علامتیں ذکر کریں گے کیونکہ تعریف سے چیز ذہن میں محذ ہوئی اور علامتوں سے خارج میں ممتاز ہو گی، وعلامته أن يصح الإخبار به لا عنه، کہ الإخبار به تو صحیح ہو اس سے، الإخبار عنه صحیح نہ ہو، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیوں؟ الإخبار به کا معنی ہے اس کے ذریعے خبر دی جا سکے یعنی یہ مسند بن سکتا ہے یعنی یہ محکوم بہ بن سکتا ہے، الإخبار به مسند مسند اور محکوم بہ تینوں کا ایک معنی ہے، کون کون سے لفظ؟ محکوم بہ، الإخبار به اور مسند، تینوں کا، دوسری طرف کیا تھا؟ مسند علیہ، الإخبار عنه، محکوم علیہ، ان تینوں کا ایک معنی ہے، کہ تو فعل سے الإخبار به تو ہو سکتا ہے، الإخبار عنه نہیں، یعنی یہ مسند تو بن سکتا ہے، مسند علیہ نہیں بن سکتا، تو الإخبار عنه نہیں ہو سکتا، الإخبار به ہو سکتا ہے، ودخول قد والسين، اور اس کی علامات، ایک تو یہ علامت تھی، دوسری علامت کیا ہے؟ دخول قد، قد کا داخل ہونا، قد کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، والسين، سین کا داخل ہونا سيضرب، وسوف، اور سوف کا داخل ہونا سوف يضرب، والجزم، اور کس کا داخل ہونا؟ جزم کا داخل ہونا جیسے لم يضرب، یہ جزم صرف فعل پر آیا کرتا ہے، اسم پر نہیں، اسم میں جر تھا تو یہاں پر جزم ہے، والتصريف إلى الماضي والمضارع، اور اس کی گردان ہوتی ہے مولانا، کس کی طرف؟ ماضی اور مضارع کی طرف، وكونه أمرا أو نهيا، اور اس کا امر یا نہی ہونا، امر ہوگا یا نہی، تو ماضی اور مضارع کی طرف گردان اور اس کا امر یا نہی ہونا یہ صرف فعل کے اندر ہوگا مولانا، اسم کے اندر نہیں ہوگا، واتصال الضمائر البارزة المرفوعة، اور ملنا ساتھ ضمائرِ بارزہ مرفوعہ کا، یہ بھی فعل کی علامت ہے، یاد رکھو ضمیر جو ہوتی ہے، اسم کے ساتھ بھی ملتی ہے، فعل کے ساتھ بھی ملتی ہے، سمجھ میں آیا؟ غلامه، اسم کے ساتھ ملی، لیکن یہ، یہ ضمیرِ مجرور ہے کیونکہ غلام مضاف ہے اور ہاء ضمیر مضاف علیہ، اور مضاف علیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو کہہ رہے ہیں اور یہ بارز بھی ہے، نظر بھی آرہی ہے آنکھوں سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ضمیرِ بارز تو ہے لیکن مرفوع نہیں، اچھا، دوسری إنه، دیکھو إن کے ساتھ بھی ضمیر ملی، إن حروفِ مشبہ بالفعل، ہاء ضمیر منصوب ہے کیونکہ إن اپنے اسم کو کیا دیتا ہے؟ نصب، تو یہ ضمیرِ منصوب ہے اور بارز ہے، آنکھوں سے نظر آرہی ہے، تو ضمیرِ منصوب بارز اسم حرف کے ساتھ بھی مل گئی، لیکن یاد رکھو جو ضمیرِ بارز مرفوع ہوتی ہے نا متصل، وہ صرف فعل کے ساتھ ملتی ہے اور کسی کے ساتھ نہیں ملتی، ضرب، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ لیکن یہ مستتر ہے، اچھا دوسری ضربت، دیکھا؟ ضربت، یہ کون سی ضمیر ہے اس کے ساتھ؟ کیا معنی ہے ضربت کا؟ میں نے پٹائی کی، یعنی میں ہوں پٹائی کرنے والا، تو یہ ت یعنی تُوٌ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ متکلم پہ، اور متکلم کون ہے؟ فاعل، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، تو یہ ضمیر بھی کیا ہے؟ مرفوع، اور بارز ہے، آنکھوں سے بھی دکھائی دے رہی ہے، تو ضمیرِ بارز مرفوع ہمیشہ کس سے ملتی ہے؟ فعل کے ساتھ، اسم یا حرف کے ساتھ نہیں ملتی، یا میں کہتا ہوں ضربتِ، یہ کون سی ضمیر ہے؟ بارز ہے، متصل ہے، تو کیا ہے مولانا؟ مجرور ہے، مرفوع ہے یا منصوب ہے؟ جی؟ کیا معنی ضربتِ؟ تو ایک عورت نے پٹائی کی، تو پٹائی کرنے والی کون؟ یعنی وہ فاعل ہے، جب وہ فاعل ہے تو فاعل مرفوع ہوتا ہے، مجرور ہوتا ہے، منصوب ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ ضمیر مرفوع ہے، یہ حرکت کو نہ دیکھو اس پہ کسرہ آرہا ہے، یہ تو کیا ہے؟ مبنی ہے، کوئی اعراب والا کسرہ ہے؟ سمجھ میں آیا؟ ضمائر کیا ہیں؟ مبنیات، تو یہ ہے محلاً مرفوع ہے، تو ضربتِ، ضربتَ، ضربتُ، ضربتما، ضربتم، ضربتن، یہ ساری مرفوع ضمائر ہیں اور یہ صرف فعل کے ساتھ ملا کرتی ہیں، اسم یا حرف کے ساتھ نہیں ملتی۔
واتصال الضمائر البارزة المرفوعة، اور ملنا مولانا، ضمائرِ بارزہ مرفوعہ کا، یہ علامت ہے فعل کی، نحو ضربت، جیسے کہ ضربت، وتاء التأنيث الساكنة، اور تائے تانیثِ ساکنہ کا ملنا، ایسی تا جو کیا ہو؟ ساکن، بھئی دیکھو قائم اسم ہے، قائمة اس کے ساتھ کیا مل گئی تائے تانیث، لیکن یہ تائے تانیث ساکنہ ہے یا متحرک ہے؟ متحرک ہے، تو متحرک تائے تانیث اسم کے ساتھ بھی مل جاتی ہے، البتہ جو ساکن ہے، وہ صرف کس کے ساتھ ملتی ہے؟ فعل، ضربت، یہ چوتھے صیغے میں مل رہی ہے، بس مولانا! ضربت، یہ والی تا مراد ہے، اور یہ کیا ہے؟ ساکن ہے، یہ فاعل نہیں ہے، یہ صرف کیا ہے؟ علامتِ تثنیہ ہے، کیا ہے؟ تثنیہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ صرف فعل کے ساتھ ملتی ہے، اسم کے ساتھ نہیں۔
نحو ضربت، ونونا التأكيد، یہ اصل میں تھا نونان التأكيد، تثنیہ ہے مولانا، نون اضافت سے گر گیا، تاکید کے دو نون، بھئی ایک نونِ خفیفہ ہے اور دوسرا نونِ ثقیلہ، یہ دو نون بھی فعل کے خاصے ہیں، فعل میں آئیں گے، اسم میں نہیں آتے، فإن كل هذه خواص الفعل، اس لیے کہ یہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ فعل کے خاصے ہیں، تو فعل ہی میں آئیں گے، تو فعل ہی کی علامت ہیں، ومعنى الإخبار به، بھئی الإخبار به کا معنی یہ ہے: أن يكون محكوما به، کہ وہ کیا واقع ہو سکے؟ محکوم بہ واقع ہو سکے، یعنی مسند بہ واقع ہو سکتا ہے، مسند علیہ واقع نہیں ہو سکتا، الإخبار به کا معنی یہ ہے کہ وہ محکوم بہ ہو، ويسمى فعلا باسم أصله وهو المصدر، فعل کو فعل اس کے اصل کے سے کہتے ہیں، بھئی اس کی اصل کیا ہے؟ کہتے ہیں: وهو المصدر۔
5
کیا ہے؟ مصدر ہے۔ کیوں؟ لان المصدر هو فعل الفاعل حقيقة، اس لیے کہ مصدر ہی تو فاعل کا فعل ہے درحقیقت۔ فاعل کا فعل درحقیقت کیا ہے؟ مصدر ہی تو ہے۔
یہ مشکل جگہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنا، یہ میری تقریر یاد رکھنا، اپ کو یہ بات انشاءاللہ کبھی آئندہ اس میں مشکل درپیش نہیں آئے گی۔
یاد رکھو لغت کے اندر، بھئی فعل کو اردو میں کہتے ہیں کام۔ میں نے یہ فعل کیا، یہ کام کیا۔ تو فعل کیا ہے؟ کام۔ تو فعل کو فعل کیوں کہتے ہیں؟
سب سے پہلے یاد رکھو، ایک فعل کے اندر تین چیزیں ہوتی ہیں ہمیشہ۔ ایک اس کے اندر مصدر ہوتا ہے، فعل کا مفہوم تین چیزیں ہیں۔ مصدر ہوتا ہے، زمانہ ہوتا ہے، اور نسبت الی الفاعل ہوتی ہے۔ فعل کا مفہوم کتنی چیزوں سے مرکب ہے مولانا؟ کتنی چیزوں سے؟ اول مصدر، معنی مصدری اس میں ہے۔ دوسرا زمانہ، ضرب ضرب نے کس چیز پر دلالت کی؟ ضربن پر بھی دلالت کی اور زمانہ ماضی پر بھی دلالت کی، اور تیسری چیز ہے نسبت الی الفاعل، فاعل کی طرف نسبت بھی اس میں ہوتی ہے۔ یہ فاعل کو چاہتا ہے یا نہیں چاہتا؟ فاعل کو بھی چاہتا ہے۔ تو بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو فعل جو ہے اس کا مفہوم وہ مرکب ہوتا ہے تین چیزوں سے۔ ایک مصدر سے، ایک زمانہ، اور نسبت الی الفاعل۔ تو فعل کو فعل کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کے اندر مصدر پایا جا رہا ہے۔ پایا جا رہا ہے یا نہیں مصدر؟ کیونکہ تین جز ہیں اس کے اور ان میں سے ایک مصدر ہے۔ تو اس کا ایک جز مصدر ہے۔ تو اس مصدر کی وجہ سے ہم نے اس پورے کا نام کیا رکھ دیا؟ اور اس مصدر کو لغت میں فعل کہتے ہیں۔ اس مصدر کو لغت میں کیا کہتے ہیں؟ تو ہم نے اس پورے مجموعے کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ فعل رکھ دیا۔ سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ نہیں آرہی؟ کتنی چیزوں سے مرکب فعل؟ اول، ثانی، ثالث۔ اچھا، تو ایک جز اس کا کیا ہوا؟ مصدر، اور مصدر کو لغت میں کیا کہتے ہیں؟ فعل، تو پورے ہی پورے کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ فعل رکھ دیا۔ یہ بات سمجھ میں آگئی؟
اب بات یہ ہے کہ مصدر کو لغت میں فعل کیسے کہتے ہیں؟ میں نے کیا کہا، مصدر کو لغت میں کیا کہتے ہیں؟ مصدر کو لغت میں فعل کہتے ہیں۔ مثلاً لغت میں، دیکھنا اب، میں نے آپ سے کہا بھئی آپ کیا کرتے رہتے ہیں، نظر نہیں آتے بھئی؟ آپ نے کہا آج کل مجھے بہت سے کام کرنا پڑتے ہیں، یا یوں کہو آج کل مجھے بہت سے افعال سرانجام دینا پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے میں نظر نہیں آتا۔ سمجھ میں آیا؟ اس وجہ سے میں آپ کو سبق میں کم دکھائی دیتا ہوں کہ مجھے بہت سے کام کرنا، بہت سے افعال سرانجام دینا پڑتے ہیں۔ میں نے کہا کیا کونسا افعال آپ کو سرانجام دینا پڑتے ہیں؟ آپ نے کیا کہا افعال مجھے گنوا رہے ہیں، سونا، کھانا، پینا، گھومنا، کھیلنا، سمجھ میں آیا؟ اور سیر کرنا، اور اخبار پڑھنا، رسالہ پڑھنا، دیکھا، آپ نے آٹھ دس کام مجھے گنوا دیے۔ گنوائے یا نہیں گنوائے؟
بھئی، آپ کو میں نے کہا تھا کیا نظر نہیں آتے، کیوں آپ نے کہا میں کئی افعال سرانجام دیتا ہوں۔ میں نے پوچھے آپ سے فعل، آپ مجھے گنوا مصدر رہے ہیں۔ میں نے آپ سے کیا پوچھے؟ آپ گنوا کیا رہے ہیں؟ کھانا، مصدر ہے یا نہیں؟ اردو میں مصدر جانتے ہو نا اس کے آخر میں کیا آتا ہے، "نا" آتا ہے۔ کھانا، پینا، یہ بھی مصدر ہے، سونا، جاگنا، کھیلنا، کودنا، پڑھنا، مصادر آئے یا نہیں آئے؟ معلوم ہوا کہ لغت میں مصدر کو کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں، جبھی تو آپ افعال کے اندر مجھے مصادر گنوا رہے تھے۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ یہ مثال یاد رکھنا، یہ بڑے مشکل بات ہے، ذہن میں سمجھ نہیں آتی کہ مصدر کو فعل کیسے کہتے ہیں لغت کے اندر۔
یرحمک اللہ۔ و یسمى فعلا باسم اصله، فعل کو فعل کہتے ہیں، کیوں؟ باسم اصله، اس کے اصل کی وجہ سے۔ بھئی اس کی اصل کیا ہے؟ و هو المصدر، وہ کیا ہے؟ مصدر ہے، یعنی اصل یوں ہے کہ فعل اس سے بنا ہے مولانا، فعل اس سے، ہاں یوں کہو، انہوں نے اور بنایا، فعل سے، فعل بنا کس سے ہے؟ مصدر سے۔ تو وہ اس کی، مصدر اس کی اصل ہے، تو جس سے بنا ہے وہ مصدر ہے اور مصدر کو لغت میں فعل کہتے ہیں، تو جو مشتق ہوا اس کو بھی ہم نے کیا نام رکھ دیا؟ فعل۔ لان المصدر هو فعل الفاعل حقيقة، اس لیے کہ مصدر وہی فاعل کا فعل ہوتا ہے درحقیقت۔ فاعل کا فعل درحقیقت کیا ہوتا ہے؟ مصدر ہوتا ہے۔ بھئی میں نے کہا ضرب زید، زید نے کیا کی؟ پٹائی کی۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں زید نے کیا فعل سرانجام دیا؟ آپ نے کہا الضرب۔ تو فاعل کا فعل درحقیقت کیا ہے؟ الضرب۔ اکل، آپ نے کھانا کھایا، اکلت، میں آپ سے پوچھتا ہوں آپ کا فعل کیا ہے؟ آپ نے کیا فعل سرانجام دیا؟ آپ نے کہا الاکل۔ سمجھ میں آیا؟ آپ نے کتاب پڑھی، تو میں نے آپ سے پوچھا، آپ نے کیا فعل سرانجام دیا؟ آپ کیا کہتے ہیں، القراءة۔ تو دیکھو فاعل کا فعل ہے، آپ مصدر بتا رہے ہیں بھئی۔ تو فاعل کا فعل درحقیقت کیا ہوتا ہے؟ مصدر ہی ہوتا ہے، وہ اس کا فعل ہوتا ہے۔ لان المصدر هو فعل الفاعل حقيقة، اس لیے کہ مصدر وہی فاعل کا فعل ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل کی تعریف بھی ہوئی، فعل کی علامات بھی گزریں، اور فعل کی وجہ تسمیہ بھی آگئی۔ اب رہ گیا حرف، کہتے ہیں وحد الحرف، حرف کی تعریف یہ ہے کلمة، وہ ایسا کلمہ ہے لا تدل على معنى، جو دلالت نہیں کرتا ایسے معنی پر فی نفسها، فی بمعنیٰ "با" کے ہے، معنی پر بنفسها خود دلالت نہیں کرتا معنی پر بل تدل على معنى، بلکہ دلالت کرتا ہے معنی پر فی غیرها ای بغیرها، یہ "فی" بھی کس کے معنیٰ میں ہے؟ با کے معنیٰ، غیر کے ساتھ ملے گا تو یہ اس معنیٰ پر دلالت کرے گا ورنہ یہ اس معنیٰ پر دلالت نہیں کرتا۔ نحو من، جیسے "من" ہے، فان معناها الابتدآء، اس لیے کہ اس کا معنیٰ کیا ہے؟ ابتداء ہے، وهي لا تدل عليه، لیکن یہ اس پر دلالت نہیں کرتا إلا بعد ذکر ما منه الابتدآء، مگر بعد اس کے کہ، بعد ذکر کرنے ما اس چیز کے منه الابتدآء جس سے کیا ہو رہی ہے؟ ابتداء، بعد ذکر کرنے اس چیز کے جس سے ابتداء ہو رہی ہے، کال بصرة و الکوفة، جیسے بصرہ اور کوفہ ہیں مثلاً مثال کے طور پر، آپ کہتے ہیں سرت من البصرة إلى الكوفة، میں چلا بصرہ سے کہاں کس طرف کو بھئی؟ کوفہ کی طرف۔
یہ تو فعل کی تعریف تھی، مثال بھی آگئی۔ وعلامته، اب علامات بتلا رہے ہیں، أن لا یصح الإخبار عنه ولا به، اس کے نہ تو اس سے اخبار عنہ صحیح ہو نہ اخبار بہ صحیح ہو، یعنی یہ نہ مسند الیہ بن سکتا ہے اور نہ مسند بہ بن سکتا ہے، و أن لا یقبل علامات الاسم، اور نیز یہ مولانا اسماء کی علامتیں بھی قبول نہیں کرتا، ولا علامات الأفعال، اور افعال کی علامتیں بھی قبول نہیں کرتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اب ایک اشکال پیدا ہوا، بھئی فعل اپنے معنیٰ پہ خود دلالت بھی نہیں کرتا، سمجھ میں آیا؟ جب تک اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ نہیں ملائیں گے یہ اپنے معنیٰ پر دلالت نہیں کرے گا۔ معلوم ہوا یہ بالکل بیکار چیز ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بیکار نہیں ہے، بڑی قیمتی چیز ہے۔ اس کی، یہ کیا کرے گا؟ کبھی دو اسموں کو آپس میں جوڑ دے گا، کبھی ایک اسم کو ایک فعل کے ساتھ جوڑ دے گا، ربط دینے کا کام کرتا ہے، سمجھ میں آیا؟ یا دو فعلوں کو آپس میں جوڑے گا، یا دو اسموں کو، ایک اسم اور فعل کو۔
اور بھی بہت سے فائدے ہیں کہتے ہیں جو قسم ثالث میں آئیں گے۔ وللحرف فی کلام العرب فوائد، اور حرف کے کلام عرب کے اندر کیا ہیں؟ فائدے ہیں، كالربط بين الاسمين، جیسے کہ ربط دینا دو اسموں کے درمیان، جیسے زید فی الدار۔ بھئی اب سارے دن کہتے رہیں زید الدار، زید الدار، زید، کسی کو کوئی بات سمجھ میں آئے گی؟ جب تک "فی" نہیں لائیں گے، زید فی الداری، اب بات سمجھ میں آئی زید کہاں ہے؟ گھر میں ہے۔ أو الفعلین، یا دو فعلوں میں ربط دے گا، أريد أن تضرب، میں چاہتا ہوں کہ آپ پٹائی کریں۔ بھئی ذرا "أن" اس حرف کو نکال دو، اريد تضرب، میں چاہتا ہوں تو پٹائی کرتا ہے، میں چاہتا ہوں تو پٹائی کرتا ہے، سارا دن لگے رہیں کسی کو کوئی بات نہیں پتہ چلے گی یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ لیکن جب آپ نے کیا کہا "أن" بیچ میں، أريد أن تضرب، میں چاہتا ہوں کہ تو کیا کرے؟ پٹائی کرے، اب بات واضح ہوگئی۔ أو اسم و فعل، یا ایک اسم اور فعل کو ملائے گا، كضربت بالخشبة، جیسے میں نے پٹائی کی کس سے؟ لکڑی سے، اب ذرا "با" کو ہٹا دو، ضربت الخشبة، میں نے لکڑی کی پٹائی کی، ضربت الخشبة، کوئی بات بن رہی ہے بھئی؟ نہیں بھئی، تو ضربت بالخشبة، "با" آئی تو پتہ چلا کہ پٹائی لکڑی سے کی، لکڑی کی پٹائی نہیں کی اور بالجملتین، یا ربط دے گا مولانا دو جملوں کے بیچ، جیسے إن جاءني زيد أكرمته، اگر میرے پاس آیا زید تو میں اس کا کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا، ذرا "إن" کو ہٹا دو مولانا، جاءنی زید اکرمتہ، میرے پاس زید آیا میں نے اس کا اکرام کیا۔ میرے پاس زید آیا اور میں نے اس کا اکرام کیا، وہ تو کہتا ہے میں آیا ہی نہیں تیرے پاس تو نے کہاں اکرام کیا ہے، تو یہاں "إن" لے کر آؤ اب بات بن جائے گی، اگر زید میرے پاس آیا تو میں اس کا کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا۔
وغير ذلك من الفوائد، اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں، التي تعرفها في القسم الثالث إن شاء الله تعالى، جن کو آپ جان لیں گے کس کے اندر؟ قسم ثالث کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ، اگر اللہ نے چاہا۔ ويسمى حرفاً لوقوعه في الكلام، بھئی وجہ تسمیہ رہ گئی، حرف کو حرف کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں ويسمى حرفاً، اور حرف کو حرف کہتے ہیں، لوقوعه في الكلام حرفاً، اس لیے کہ کلام میں حرف واقع ہوتا ہے، حرف أي طرفاً، یعنی طرف میں واقع ہوتا ہے، حرف کا کیا معنیٰ؟ طرف۔ تو یہ بھی ایک طرف، ایک کنارے میں واقع ہوتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرف۔ بھئی یہ تو ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ حرف بیچ میں آرہا ہے، زید فی الدار، حرف کہاں آیا؟ بیچ میں، آپ نے تو کہا تھا حرف کنارے پہ ہوتا ہے، یہ تو بیچ میں آرہا ہے، تو یہ تو کنارے پہ ہے ہی نہیں، تو وجہ تسمیہ صحیح نہ ہوئی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی کنارے پہ ہونے کا ہمارا یہ مطلب نہیں تھا کہ لفظوں میں کنارے میں ہو، کنارے پہ ہوتا ہے۔ معنیٰ یہ کہ کلام کے دو کنارے ہیں، ایک مسند، ایک مسند الیہ، یہ ان دونوں کناروں سے پرے ہوتا ہے، نہ مسند بنتا ہے، نہ مسند الیہ بنتا ہے، یہ معنیٰ ہے، یہ معنیٰ نہیں کہ لفظوں میں بیچ میں نہیں آسکتا، جہاں مرضی آئے لیکن نہ مسند بن سکتا ہے اور نہ مسند الیہ۔
ويسمى حرفاً لوقوعه في الكلام حرفاً أي طرفاً، اور اس کو حرف اس لیے کہتے ہیں، وجہ واقع ہونے اس کے کلام کے اندر حرفاً أي طرفاً یعنی ایک طرف میں واقع ہونے کی وجہ سے، إذ ليس مقصوداً بالذات، اس لیے کہ یہ مقصود بالذات نہیں ہوتا، جیسے مثل المسند والمسند إليه، جیسے کہ مسند اور مسند الیہ ہوتے ہیں، یعنی جیسے وہ مقصود ہوتے ہیں کلام کے اندر، ان کے بغیر کلام پورا ہی نہیں ہوتا، اس طرح حرف مقصود نہیں ہوتا، تو نہ وہ مسند بنتا ہے اور نہ مسند الیہ بنتا ہے۔
چلیے جی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔