اچھا بھئی! کچھ اہم، ضروری باتیں ہیں، وہ لکھ لیجیے۔ بھئی!
یاد رکھیے بیع تملیک کا نام ہے۔
بیع تملیک کا نام ہے۔
جس میں ایک کو دوسرے کی چیز کا
مالک بنایا جاتا ہے۔
اور تملیکات چار ہیں۔
چار انواع ہیں بھئی۔
التَّمْلِيكَاتُ أَرْبَعَةُ أَنْوَاعٍ
التَّمْلِيكَاتُ أَرْبَعَةُ أَنْوَاعٍ
تَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ
تَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ
بَيْعٌ
بَيْعٌ
وَبِلَا عِوَضٍ هِبَةٌ
وَبِلَا عِوَضٍ هِبَةٌ
وَتَمْلِيكُ الْمَنْفَعَةِ
وَتَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ
بِعِوَضٍ
وَتَمْلِيكُ الْمَنْفَعَةِ بِعِوَضٍ
إِجَارَةٌ
إِجَارَةٌ
وَبِلَا عِوَضٍ عَارِيَةٌ
وَبِلَا عِوَضٍ
عَارِيَةٌ
کتاب التعريفات، صفحہ 127۔ حوالہ لکھ لیجیے بھئی اس عبارت کا۔
کتاب التعريفات، صفحہ 127۔
کتاب التعریفات بڑی اہم کتاب ہے بھئی! ہر طالب علم کے پاس ہونی چاہیے اور اس کو اپنے مطالعے میں رکھنا چاہیے، جس میں میر سید السند نے مختلف علوم و فنون میں آنے والی اصطلاحات جمع کر دی ہیں بھئی۔ بڑی قیمتی کتاب ہے بھئی، بڑی قیمتی کتاب۔
تو دیکھیے! عبارت آپ کو سمجھ میں آئی بھئی؟ وہ فرماتے ہیں کہ تملیکات چار قسم پر ہیں: تَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ، عین کہتے ہیں محسوس چیز کو بھئی، محسوس۔ جو آنکھوں سے نظر آئے بھئی۔ اسے عین کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عین اسے اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ تعیین سے متعین ہو جاتی ہے۔ عین اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ تعیین سے متعین ہو جاتی ہے۔
تو دیکھیے! ترجمے پہ غور کریں عبارت کے: تَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ، کسی چیز کا مالک بنانا کسی کو بِعِوَضٍ، عوض کے بدلے میں، یہ کیا کہلاتا ہے؟ بیع کہلاتا ہے کہ آپ اس سے عوض لیں۔ یہ بیع کہلاتا ہے۔ اور بغیر عوض کے کسی کو کسی چیز کا مالک بنائیں تو یہ ہبہ کہلاتا ہے بھئی، جسے اردو میں آپ تحفہ کہتے ہیں، تحفہ۔
اور اگر کسی کو کسی چیز کے نفع کا مالک بناتے ہیں، عین کا مالک نہیں بناتے، مثلاً گھر دیا بھئی کرائے پر، تو دیکھیے! آپ نے اس کا نفع، رہنے جو نفع تھا، غیر کو اس کا، نفعے کا مالک بنایا ہے، گھر کا مالک نہیں بنایا۔ اس کو اجارہ کہتے ہیں بھئی، اجارہ۔
اور اگر بغیر عوض کے نفعے کا مالک بنایا تو یہ عاریت ہے بھئی، عاریت۔ جیسے آپ کے ساتھی آپ سے کوئی کتاب مانگ کر لے جاتے ہیں پڑھنے کے لیے، تو دیکھو کتاب کا نفع کیا ہے؟ اس کا پڑھنا، اس سے فائدہ حاصل کرنا۔ اس کا مالک آپ نے اپنے ساتھی کو بنا دیا کچھ عرصے کے لیے، اور کوئی عوض لیا آپ نے؟ نہیں، یہ عاریت ہے بھئی۔ یہ جیسے گھروں میں ہوتا ہے بھئی، ایک دوسرے کو استعمال کے برتن دے دیتے ہیں، یہ سب عاریت ہے۔ اور اگر عوض لیتے ہیں اس استعمال کا تو پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ اجارہ کہلاتا ہے۔
علماء لکھتے ہیں کہ بیع اور شراء اضداد میں سے ہیں۔ کہ بیع اور شراء اضداد میں سے ہیں ضاد کے ساتھ بھئی، ضد کی جمع۔ اضداد میں سے ہیں، یعنی بیع کا معنی ہے خریدنا بھی اور بیچنا بھی۔ خریدنا بھی اور بیچنا بھی۔
اسی طرح شراء کے معنی اسی طرح شراء کے معنی خریدنے کے بھی ہیں اور بیچنے کے بھی۔ خریدنے کے بھی ہیں اور بیچنے کے بھی۔
لیکن بیع زیادہ تر بیچنے میں استعمال ہوتا ہے، بیع کا لفظ زیادہ تر بیچنے میں استعمال ہوتا ہے۔ اور شراء کا لفظ زیادہ تر اور شراء کا لفظ زیادہ تر خریدنے میں استعمال ہوتا ہے۔ خریدنے میں استعمال ہوتا ہے۔
لغت میں بیع کہتے ہیں لغت میں بیع کہتے ہیں مُبَادَلَةُ شَيْءٍ بِشَيْءٍ مُبَادَلَةُ شَيْءٍ بِشَيْءٍ خواہ مال ہو یا مال نہ ہو۔ خواہ مال ہو یا مال نہ ہو۔
البتہ عرف میں البتہ عرف میں بیع مبادلہ مال میں استعمال ہوتا ہے۔ بیع مبادلہ مال میں استعمال ہوتا ہے۔
جبکہ شریعت میں بیع کی تعریف جو ہے، وہ کتاب میں مذکور ہے۔ شریعت میں جو بیع کی تعریفات آتی ہے، وہ کتاب میں مذکور ہے بھئی: هُوَ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ بھئی۔
تو عرف میں بھئی! مطلقاً مبادلہ مال کیا کہلاتا ہے؟ بیع کہلاتا ہے، لیکن شریعت اس پر کئی شرائط وغیرہ کی زیادتی کرتی ہے۔ تراضی، آپس باہمی رضامندی ہو اور وہ مال بھی شرعاً حلال ہو اس سے نفع اٹھانا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خنزیر، شراب خارج ہوئیں بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ خنزیر اور شراب اس لیے کہ یہ اگرچہ عرف میں مال تو ہے بھئی، غیر مسلم اس کو کیا شمار کرتے ہیں؟ مال شمار کرتے ہیں، لیکن شریعت میں، ہماری شریعت میں بھئی اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں، حلال نہیں ہے۔
تو شریعت نے باہمی رضامندی کی قید بھی بڑھائی۔
تو سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ آپ نے پڑھا تھا گزشتہ سال بھئی اصول الشاشی کے اندر، افعال دو قسم پر ہیں: افعالِ حسیہ اور افعالِ شرعیہ۔ افعالِ حسیہ وہ ہیں کہ جن میں شریعت کے آنے کے بعد کوئی تبدیلی نہ آئی ہو ان کے معنی میں، جیسے شریعت کے پہلے ان کا معنی تھا، شریعت کے آنے کے بعد بھی وہی معنی تھا، جیسے زنا تھا بھئی، زنا کا جو معنی شریعت سے پہلے تھا، آن شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنی ہے؛ اور کچھ افعال وہ ہیں جن میں شریعت نے ان کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی، جیسے بیع ہے بھئی، تو یہ مطلقاً عرف میں کس میں استعمال ہوتا تھا؟ مبادلہ مال، لیکن شریعت نے اس میں کون سی قید بڑھا دی؟ تراضی کی قید، باہمی رضامندی بھی ہو بھئی۔ باہمی رضامندی اور شرائط وغیرہ بڑھا دیں، تو یہ افعالِ شرعیہ میں سے ہے بیع بھئی۔
بیع کے لیے کئی شرائط ہیں بھئی۔
فقہاء نے بیع کے لیے کئی شرائط ذکر کی ہیں:
نمبر ایک: دونوں طرف متعاقدین کا ہونا۔ ہر جانب سے متعاقد کا ہونا بھئی۔ تو بیع کی دونوں جانبین کا متولی ایک ہی شخص نہیں ہو سکتا بھئی۔ ایجاب کرنے والا بھی وہی ہو، قبول کرنے والا بھی وہی ہو، ایسا درست نہیں ہے۔
سوائے ولایت کے مسئلے میں البتہ ایسا جائز ہے، اور اسی طرح وصی کے لیے جائز ہے مولانا وصی کے مسئلے میں، ضرورت کی بناء پر۔ باقی اور کسی مقام پر کہ ایک ہی شخص ایجاب بھی کرنے والا ہو اور قبول کی بھی کرنے والا ہو، یہ درست نہیں۔
دوسری شرط بھئی: متعاقدین میں اہلیت بھی پائی جائے۔ اہلیت بھی پائی جائے۔ اہلیت کا معنی یہ ہے کہ وہ عاقل ہوں۔ اہلیت کا معنی یہ ہے کہ وہ عاقل ہوں۔ لہذا مجنون اور بہت چھوٹے بچے کی بیع درست نہیں۔ کیونکہ ان میں اہلیت ہی نہیں ہے۔ لہذا مجنون اور بہت چھوٹے بچے کی بیع درست نہیں ہے۔
سمجھ میں آیا؟ وہ بچہ بھئی جو بیع کو سمجھتا ہی نہیں ہے، اس کی بیع درست نہیں۔ ہاں، جو بچہ بیع کو سمجھتا ہے، اس کی بیع درست ہے بھئی۔ اگر ولی اجازت دیتا ہے تو اس کی بیع درست ہے بھئی۔
بچے کے بیع کے سمجھنے یا نہ سمجھنے کا پتہ اس سے چلے گا کہ وہ چیز لے اور پیسے دے بھئی۔ اور اگر وہ چیز لے لیتا ہے اور پیسے نہیں دیتا بھئی، اور پیسے لیے جائیں تو رونے لگتا ہے، معلوم ہوا اسے بیع کا پتہ ہی نہیں ہے۔
شرطیں... कितनी شرطیں ہوئیں؟ دو۔ شرطِ ثالث بھئی: حُرَّین ہوں، حُرَّین بھئی۔ دونوں متعاقدین حُرَّین ہوں بھئی، آزاد ہوں۔ آزاد ہوں۔ لہذا غلام کی بیع صحیح نہیں۔ لہذا غلام کی بیع صحیح نہیں۔ لہذا غلام کی بیع صحیح نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے۔ مگر یہ کہ مالک اجازت دے۔
شرطِ رابع: عوضین کا مال ہونا۔ عوضین کا مال ہونا۔ عوضین کا مال ہونا۔
سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح یاد رکھیے مولانا! بیع کے اندر تعیینِ مبیع، تعیینِ مبیع اور ذکرِ ثمن ضروری ہے۔ بیع میں تعیینِ مبیع اور ذکرِ ثمن ضروری ہے۔ مبیع متعین ہونا چاہیے، کیا چیز ہے۔ ثمن بھی ذکر ہو بھئی، کتنی ہے، کون سی ہے۔
علماء لکھتے ہیں کہ بیع بنیادی طور پر کہ بیع بنیادی طور پر چار قسم پر ہے:
نمبر ایک: بیعِ صحیح
نمبر دو: بیعِ باطل
نمبر تین: بیعِ فاسد بیعِ فاسد
اور نمبر چار: بیعِ موقوف
جتنی بھی بیوع ہوں، جتنی بھی اقسامِ بیوع ہیں، وہ ان چار میں سے کسی ایک میں ضرور داخل ہوں گی۔ وہ ان چار میں سے کسی ایک قسم میں ضرور داخل ہوں گی۔
بیعِ صحیح وہ ہے بیعِ صحیح وہ ہے بیعِ صحیح وہ ہے جو اصلاً بھی جائز ہو اور وصفاً بھی جائز ہو۔ جو اصلاً بھی جائز ہو اور وصفاً بھی جائز ہو۔
تو بیعِ صحیح وہ ہے جو اصلاً بھی جائز ہو اور وصفاً بھی جائز ہو۔ اصلاً جائز ہونے کا معنی یہ ہے کہ مبیع مال ہو شرعاً، کہ مبیع مال ہو شرعاً؛ اور بیعِ باطل وہ ہے اور بیعِ باطل وہ ہے جو اصلاً ہی مشروع نہ ہو، جو اصلاً ہی مشروع نہ ہو، یعنی مبیع مال ہی نہ ہو، جیسے آزاد آدمی کی بیع، یا شراب کی بیع، یا خنزیر کی بیع۔
سمجھ میں آیا؟ آزاد آدمی بھئی وہ مال نہیں ہے، اس کو کسی کوئی اٹھا کر بیچ دے بھئی، وہ مال ہی نہیں ہے۔ تو مبیع کا مال ہونا ضروری۔
اور بیعِ فاسد وہ ہے اور بیعِ فاسد وہ ہے جو اصلاً تو مشروع ہو، جو اصلاً تو مشروع ہو، لیکن وصفاً غیر مشروع ہو۔ لیکن وصفاً غیر مشروع ہو۔
مثلاً بیع میں کوئی شرط وغیرہ لگا دی بھئی، جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو، جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو۔ مثلاً سائیکل بیچی اس شرط پر مثلاً سائیکل بیچی اس شرط پر کہ ایک ہفتے تک میرے ہی پاس رہے گی، ایک ہفتے تک میرے پاس ہی رہے گی۔ تو دیکھا! یہ ایسی شرط لگائی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے۔ عقد تو تقاضا کرتا ہے بھئی بیع ہو گئی، فوراً مبیع حوالے کرو، وہ شرط لگا رہا ہے بھئی جس میں اس کا نفع ہے۔ تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے، لیکن وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں، یہ بیعِ فاسد ہے بھئی، اور شرعاً اس کو ختم کرنا ضروری ہے، اس کو ختم کرنا ضروری ہے بھئی۔
اور بیعِ موقوف وہ ہے، اور بیعِ موقوف وہ ہے جو شرعاً بھی صحیح ہے، وصفاً بھی صحیح ہے، لیکن مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔ لیکن مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔ جیسے بیعِ فضولی، جیسے بیعِ فضولی، فضل سے ہے ضاد ہے مولانا، فضولی۔ سمجھ میں آیا؟ بیعِ فضولی، کوئی ایک آدمی دوسرے کی چیز کو بغیر اجازت کے بیچ دیتا ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ بیعِ فضولی۔ آپ نے اپنے ساتھی کا قلم اٹھا کر بیچ دیا بھئی، بغیر اجازت کے، تو یہ بیعِ فضولی ہے۔ تو یہ بیع موقوف ہے مولانا مالک کی اجازت پر۔ ساتھی کو پتہ چلتا ہے، اگر وہ اجازت دے دیتا ہے تو منعقد ہو جائے گی بھئی صحیح، اور اگر اجازت نہیں دیتا تو ختم، بھئی رد ہو جائے گی۔
جی یہ ساری انواع بھئی، کچھ اور انواع بھی ہیں، یہ آپ کے حاشیے میں بھی موجود ہیں، یہ دیکھ لیجیے بھئی، ذرا جلدی ہو جائے گا کام۔ یہ حاشیہ نمبر ایک میں چوتھی پانچویں سطر کے اندر دیکھیے بھئی: ثُمَّ الْبَيْعُ أَنْوَاعٌ؛ لِأَنَّهُ يَنْعَقِدُ أَمْ لَا، بیع منعقد ہوگی یا منعقد نہیں ہوگی، اگر نہیں ہوتی فَالثَّانِي بَاطِلٌ، منعقد ہی نہیں ہوتی یہ کون سی بیع ہے؟ بیعِ باطل، میں نے بتایا جو اصلاً ہی صحیح نہ ہو؛ وَإِنِ انْعَقَدَ اور اگر منعقد تو ہو جائے وَلَمْ يَصِحَّ لیکن صحیح نہ ہو فَهُوَ فَاسِدٌ تو یہ بیعِ فاسد ہے؛ وَإِنْ صَحَّ اور اگر صحیح ہو جائے وَلَمْ يَنْفُذْ لیکن نافذ نہ ہو بَلْ يَتَوَقَّفُ أَمْرُهُ بلکہ اس کا امر موقوف رہے فَهُوَ مَوْقُوفٌ مالک کی اجازت پر تو یہ بیعِ موقوف ہے؛ كَالْخِيَارِ جیسے خیار ہے مولانا، ایک اپنے پاس اختیار رکھ لیتا ہے بائع یا مشتری؛ وَالْفُضُولِيِّ اور جیسے فضولی ہے بھئی اس کی بیع۔
وَإِنْ نَفَذَ فَإِنْ قَابَلَ الثَّمَنُ بِالثَّمَنِ فَهُوَ صَرْفٌ، پس اگر نافذ ہو، اگر ثمن کے مقابلے میں ثمن آئے تو یہ بیع کون سی ہے؟ صرف۔ یاد رکھو! ثمن تین چیزیں ہیں بھئی، ثمن تین چیزیں ہیں: سونا، چاندی اور یہ کرنسیاں وغیرہ بھئی، یہ نوٹ وغیرہ بھئی، سونا، چاندی اور یہ نوٹ اور سکے، یہ ثمن ہیں۔ تو ثمن کے مقابلے میں اگر ثمن ہو تو یہ بیعِ صرف ہے بھئی، یہ تفصیلات ساری آگے آ جائیں گی۔ ایک طرف بھی سونے، چاندی اور کرنسی میں سے ہو، دوسری طرف بھی سونے، چاندی اور کرنسی میں سے کوئی چیز ہو، تو یہ بیعِ صرف کہلاتی ہے، اس میں مجلس کے اندر عوضین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے۔
وَإِنْ قَابَلَ السِّلْعَةُ بِالسِّلْعَةِ، اور اگر سامان کے بدلے سامان ہو فَهُوَ مُقَايَضَةٌ، تو یہ بیعِ مقایضہ ہے۔ بھئی ایک طرف بھی سامان ہے، دوسری طرف بھی سامان ہے، مثلاً کتاب دی اور قلم لیا، تو کتاب بھی دیکھو سونے، چاندی اور کرنسی میں سے کوئی چیز نہیں، قلم بھی سونے، چاندی اور کرنسی میں سے تو دونوں طرف سامان آ رہا ہے، نوٹ کسی طرف نہیں، سونا کسی طرف نہیں، چاندی کسی طرف نہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیعِ مقایضہ کہتے ہیں، مقایضہ۔
وَإِنْ قَابَلَ السِّلْعَةُ بِالثَّمَنِ فَهُوَ بَيْعٌ مَحْضٌ، اور اگر سامان کے بدلے ثمن آئے بھئی تو یہ بیعِ محض ہے، یہ عام بیع ہے بھئی جو ہم عموماً کیا کرتے ہیں، ایک طرف کیا ہوتے ہیں؟ نوٹ وغیرہ اور دوسری طرف سامان ہوتا ہے، بازار سے آپ چیز وغیرہ خریدتے ہیں، یہ سب اسی طرح ہے۔ یہ عام بیع ہے، اس کا کوئی خاص نام نہیں، مطلق بیع ہے بھئی، بیعِ محض ہے۔
فَإِنْ عَجَّلَ الثَّمَنَ وَأَجَّلَ الْمُثَمَّنَ، اگر ثمن جلدی دیے اور مثمن یعنی مبیع کیا ہے؟ وہ اس کی مدت متعین کی، آپ نے ثمن دے دیا ابھی بھئی، اور مبیع آپ کو کچھ مدت، متعین مدت کے بعد ملے گا، یہ بیعِ سلم ہے بھئی، یہ بیعِ سلم ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس میں مدت ضروری ہوتی ہے۔
وَإِنْ لَمْ يَتَعَيَّنِ الْمُشْتَرِي بَلْ يُحَالُ الْعَقْدُ إِلَى مَنْ يَزِيدُ فِي الثَّمَنِ فَبَيْعُ الْمُزَايَدَةِ، اگر مشتری متعین نہیں ہے بھئی، بلکہ بولی لگاتے ہیں آپ بھئی، جو زیادہ ثمن دے گا، مبیع اس کا بھئی۔ نیلامی دیکھی ہے یا نہیں آپ نے بھئی؟ جی یہ نیلامی، اس کو بیعِ مزیدہ کہتے ہیں۔ کوئی مشتری متعین ہوتا ہے اس میں؟ جو زیادہ ثمن لگا دے گا، بولی لگا دے گا، مبیع اس کا بھئی، اس کو بیعِ مزیدہ کہتے ہیں۔
پھر تین اور قسمیں آگے بیان کر رہے ہیں: ایک بیعِ تولیہ، ایک بیعِ مرابحہ، ایک بیعِ وضعیہ۔ اگر مشتری چیز کو پھر آگے فروخت کرتا ہے بھئی، اور آگے فروخت کرتے ہوئے گزشتہ قیمت بھی بتلاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی میں نے 10 کی خریدی تھی، آپ کو بھی 10 کی دیتا ہوں، یہ بیعِ تولیہ ہے بھئی۔
اور اگر کہتا ہے: میں نے 10 کی خریدی تھی، آپ کو 12 کی دیتا ہوں، یہ بیعِ مرابحہ ہے، دیکھا نفع ہے بھئی، ربا ہے اس کے اندر، نفع کے ساتھ۔
اور اگر کہتا ہے: میں نے 10 کی خریدی تھی، آپ کو 8 کی دے رہا ہوں بھئی، 2 کا نقصان خود برداشت کر رہا ہے، قیمت کم کر لگا رہا ہے ثمن، تو یہ بیعِ وضعیہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بیعِ تولیہ اس میں کیا ہوتا ہے؟ بلا... جس قیمت پر لی ہے، اسی پر کیا کرتا ہے؟ بیچتا ہے، اس کو بتاتا بھی ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اس کو بتاتا ہے کہ میں نے اتنے کی لی ہے اور آپ کو اتنے کی، یا کہہ دیتا ہے بیعِ تولیہ کر رہا ہوں آپ کے ساتھ میں، وہ خود سمجھ جاتا ہے، معلوم ہوا جس قیمت پہ خریدی ہے، اسی قیمت پر مجھے بیچ رہا ہے۔ یا کہتا ہے بیعِ مرابحہ کر رہا ہوں، اتنے کی ہے اور اتنا نفع میرا اس میں اتنا ہے۔ اور اگر کم کرتا ہے تو بیعِ وضعیہ۔
وَإِنْ كَانَ الثَّمَنُ مَا قَامَ عَلَى الْبَائِعِ، اور اگر ثمن وہ تھے جو بائع کو پڑے تھے فَتَوْلِيَةٌ، تو یہ کیا ہے بیعِ تولیہ ہے؛ وَإِنْ عَيَّنَ الرِّبْحَ، اور اگر نفع کو متعین کر دیا مطلب کہا: مجھے 10 کی پڑی ہے اور میں 12 کی دے رہا ہوں، معلوم ہوا کتنا نفع ہے؟ دو روپے، تو دیکھا نفع اگر متعین کر دیا فَمُرَابَحَةٌ، تو یہ کیا ہے بیعِ مرابحہ ہے؛ وَإِنْ رَضِيَ الْبَائِعُ عَلَى خَسَارَةٍ مُعَيَّنَةٍ، اور اگر بائع راضی ہو متعین خسارے پر کہ میں نے 10 کی لی ہے اور تمہیں 8 کی دے رہا ہوں، یعنی دو روپے خسارے کے ساتھ فَوَضْعِيَّةٌ، یہ کیا ہے بیعِ وضعیہ ہے؛ وَإِنْ كَانَ مَعَ صِحَّتِهِ وَلُزُومِهِ، اور اگر بیع اپنے صحیح ہونے اور لزوم کے ساتھ ساتھ فِيهِ نَهْيٌ وَإِثْمٌ، اس میں اگر نہی آئی ہو اور گناہ ہو فَمَكْرُوهٌ، تو یہ بیع کون سی ہے؟ بیعِ مکروہ ہے، مثلاً بھئی! اذانِ جمعہ کے بعد بھئی بیع کرنا۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔ تو قرآن میں منع فرمایا گیا، پھر تو یہ نہی آ گئی بھئی، تو بیع آپ اس کے بعد کوئی کرتا ہے تو صحیح بھی ہو جائے گی، لازم بھی ہو جائے گی، لیکن گناہ ہوگا بھئی، بیع مکروہ ہے بھئی۔
اچھا پڑھیے بھئی اب کتاب میں سے۔
كِتَابُ الْبَيْعِ
هُوَ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ يَنْعَقِدُ بِإِيجَابٍ وَقَبُولٍ بِلَفْظَيِ الْمَاضِي
كِتَابُ الْبَيْعِ هُوَ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ يَنْعَقِدُ بِإِيجَابٍ وَقَبُولٍ بِلَفْظَيِ الْمَاضِي
أَيْ هَذَا كِتَابُ الْبَيْعِ
یہ کتاب بیع ہے بھئی۔
هُوَ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ، بیع کسے کہتے ہیں؟ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا بھئی۔
يَنْعَقِدُ بِإِيجَابٍ وَقَبُولٍ، اور بیع منعقد ہو جاتی ہے کس کے ساتھ؟ ایجاب... شریعت کا... هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔