كتاب الصلاة، باب المواقيت، أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني وهو المعترض في الأفق، وآخر وقتها ما لم تطلع الشمس. لحديث إمامة جبريل عليه السلام أنه أم رسول الله عليه السلام فيها في اليوم الأول حين طلع الفجر، وفي اليوم الثاني حين أسفر جداً وكادت الشمس تطالع.
كتاب الصلاة: طهارت سے متعلقہ مسائل ذکر ہو گئے۔ اب صاحبِ ہدایت، نماز کا بیان شروع فرما رہے ہیں۔ نماز پر۔
صلات بھئی، یاد رکھیے عربی زبان میں صلات کے معنی دعا کے آتے ہیں بھائی। صلات کا کیا معنی ہے عربی زبان میں؟ دعا بھائی। اور اصطلاحِ شریعت کے اندر، صلات وہ عبادت کا مخصوص طریقہ، جو مخصوص افعال کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے، مخصوص افعال اور مخصوص ارکان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے، یعنی وہ قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ جو ہیں، تو وہ مخصوص ارکان کے ساتھ جس عبادت کو ادا کیا جاتا ہے اس کو صلات کہا جاتا ہے بھائی। تو عربی زبان میں صلات کا کیا معنی ہے؟ دعا بھائی। اور اصطلاحِ شریعت میں عبادت کا وہ مخصوص طریقہ ہے بھئی، عبادت کا مخصوص طریقہ।
تو كتاب الصلاة، أي هذا كتاب الصلاة، یہ کتاب نماز کی، یعنی نماز کے بیان میں۔ باب المواقيت، مواقيت جمع ہے ميقات کی، ميقات. میقات اسمِ ظرف کا صیغہ ہے بھئی. میقات کا معنی ہے: کسی چیز کا مقررہ وقت بھئی. یہ اسی طرح، اس کا معنی ہے: کسی چیز کی مقررہ جگہ. کسی چیز کے مقررہ... تو یہاں میقات سے مقررہ وقت مراد ہے، نمازوں کے مقررہ اوقات کا ذکر ہونے لگا ہے کہ نمازوں کے اوقات کون کون سے ہیں۔ اسی طرح میقات جو ہے کسی چیز کے کا، کی مقررہ جگہ جو ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ میقات. چنانچہ آگے كتاب الحج آئے گی، وہاں میقات کا ذکر آئے گا، وہاں وقت نہیں مراد میقات سے، بلکہ وہ جگہ مراد ہے جہاں سے آگے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
باب المواقيت، یہ باب ہے مواقيت کے بیان میں، یعنی نمازوں کے مقررہ اوقات کے بیان میں। اوقات کے ذکر کو مقدم کیا بھئی صاحبِ ہدایت نے، اس لیے کیونکہ آپ پڑھ چکے اصولِ فقہ کے اندر کہ نمازوں کے وجوب کا سبب ان کا وقت ہے، کسی شخص پر ظہر کی نماز تب واجب ہوگی جب وہ ظہر کا وقت پا لے گا، اگر ظہر کا وقت ہی ابھی نہیں آیا تو اس پر ظہر کی نماز بھی فرض نہیں۔ ظہر کا وقت پا لے گا تو ظہر کی نماز فرض ہو جائے گی، عصر کا وقت پائے گا تو عصر کی نماز اس پر فرض ہو جائے گی۔ اسی طرح کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے، اگر وہ ظہر کے وقت میں مسلمان ہوا تو پھر اس پر اس نے ظہر کا وقت پا لیا تو ایمان کی حالت میں، تو اس پر ظہر کی نماز فرض ہے، اور اگر وہ عصر کو مسلمان ہوا ہے تو اس نے تو ظہر کا وقت ایمان کی حالت میں نہیں پایا، لہذا اس پر ظہر کی نماز کی قضا بھی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اوقات چونکہ نمازوں کے وجوب کا سبب ہیں اس لیے ان کے بیان کو مقدم کیا۔
تو کہتے ہیں: أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني، فجر کا اولِ وقت یعنی ابتدائی وقت جو ہے إذا طلع الفجر الثاني، جب فجرِ ثانی طلوع ہو جائے۔ بھئی یاد رکھیے، فجر دو قسم پر ہے: ایک فجرِ اول، ایک فجرِ ثانی، یا دوسرے لفظوں میں اول کو فجرِ کاذب کہتے ہیں اور دوسرے کو فجرِ صادق، فجرِ صادق۔ اگر آپ سحری کے بعد مشرق کی طرف آسمان کا جو کنارہ ہے یعنی افق جو ہے اس کا مشاہدہ کریں، تو صبحِ صادق سے چند منٹ پہلے اس طرف روشنی آپ کو دکھائی دے گی، لیکن وہ روشنی ستون کی صورت میں اوپر کی طرف نکلی ہوئی ہوگی، لمبائی میں طے ہوگی بھئی، افق میں چوڑائی کے اندر نہیں پھیلی ہوگی بلکہ کس طرح ہوگی؟ لمبائی میں ستون جس طرح ہوتا ہے اس طرح سیدھی اوپر کو جا رہی ہوگی، معمولی سی، بہت معمولی سی بھئی، وہ دکھائی دے گی، یہ ہے فجرِ کاذب بھئی۔
فجرِ کاذب یا یوں کہیں، فجرِ اول ہے، کیا ہے؟ فجرِ اول۔ پھر اس کے کچھ دیر بعد، پھر چوڑائی کے اندر روشنی پھیلنا شروع ہوتی ہے اور یہ ہے فجرِ صادق بھئی، فجرِ صادق، اور یہ روشنی جب پھیلتی ہے پھر بڑھتی ہی چلی جاتی ہے روشنی اور یہاں تک کہ پھر سورج نکل آتا ہے بھئی۔ تو صبح کا وقت فجرِ اول، یعنی فجرِ کاذب سے نہیں شروع ہوگا فجر کی نماز کا وقت، بلکہ کب شروع ہوگا؟ فجرِ صادق سے یعنی دوسری فجر جو ہے جس میں روشنی کس طرح نظر آئے گی؟ چوڑائی میں پھیلی ہوئی نظر آئے گی پورے افق پر، پہلی مرتبہ کیسے نظر آئی تھی؟ ستون کی صورت میں لمبائی کے اندر اوپر کی طرف گئی ہوئی تھی۔
تو کہتے ہیں: أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني، فجر کا اولِ وقت ہے جس وقت فجرِ ثانی طلوع ہو جائے، وهو المعترض في الأفق، اور وہ ہے، فجرِ ثانی وہ ہے المعترض في الأفق، جو چوڑائی میں پھیلی ہوئی ہو، معترض: پھیلی ہوئی۔ جو پھیلی ہوئی ہو في الأفق، افق کہتے ہیں آسمان کا کنارہ، وہ آخری کنارہ جو زمین کے ساتھ ملا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہ کنارہ بھئی، تو وہ افق پر جب چوڑائی کے اندر ہے وہ ہے فجرِ ثانی بھئی، وآخر وقتها ما لم تطلع الشمس، اور فجر کا آخری وقت وہ ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے، جیسے ہی سورج طلوع ہوگا، سورج کا معمولی سا بھی کنارہ نکل آیا، نظر آنے لگا تو فجر کا وقت ختم ہو چکا بھئی، اس سے پہلے پہلے تھا فجر کا وقت بھئی۔ تو فجر کی ابتدا کب ہوتی ہے فجر کے وقت کی؟ جب فجرِ صادق طلوع ہو جائے یعنی چوڑائی کے اندر وہ روشنی پھیلے، پھیلنا نظر آ جائے، اور آخری وقت کیا ہے؟ کب تک پڑھ سکتا ہے فجر کی نماز؟ جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے بھئی، تو اس وقت تک ادا ہی ادا ہے اور اس کے بعد اگر پڑھے گا تو قضا ہے۔
دلیل اس کی کیا ہے کہ یہ اولِ وقت یہ ہے اور آخرِ وقت یہ ہے؟ کہتے ہیں: لحديث إمامة جبريل عليه السلام، حضرتِ جبريل عليه السلام کی امامت والی حدیث کی وجہ سے کہ أنه أم رسول الله عليه السلام فيها، کہ انہوں نے امامت فرمائی حضور علیہ السلام کی بھئی، حضرت جبريل عليه السلام نے دو دن تک حضور علیہ السلام کی امامت فرمائی نمازوں میں، اللہ تعالی کے حکم سے وہ تشریف لاتے اور اس نماز کے وقت کے اندر امامت وہ فرماتے، حضور علیہ السلام ان کے مقتدی ہوتے، ان کے پیچھے نماز پڑھتے، ایک تو نمازوں کے اوقات بتلانا مقصود تھے کہ کون سا وقت ہے نماز کا، کون سی نماز کا کون سا وقت ہے، اور نیز نماز کا طریقہ سکھلانا تھا کہ اس اس طرح نماز پڑھی جائے اس وقت کی اتنی رکعات اس طرح ہوں گی، دوسرے وقت کی اس طرح ہوں گی، تیسرے وقت کی اس طرح بھئی۔
تو کہتے ہیں: أنه أم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها في اليوم الأول حين طلع الفجر، کہ انہوں نے امامت فرمائی حضور علیہ السلام کی فيها، أي في صلاة الفجر، فجر کی نماز میں، في اليوم الأول، پہلے دن، حين طلع الفجر، جس وقت فجر طلوع ہو گئی تھی یعنی فجرِ صادق، پہلے دن اس وقت امامت فرمائی، اس دن نماز پڑھائی، وفي اليوم الثاني حين أسفر جداً، أسفر کا معنی: روشن ہو جانا، اور دوسرے دن اس وقت امامت فرمائی جس وقت خوب روشنی ہو گئی تھی، وكادت الشمس تطلع، اور قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا، خوب روشنی ہو گئی تھی، سورج بالکل نکلنے والا تھا، اس وقت دوسرے دن امامت فرمائی۔ ثم قال في آخر الحديث، پھر فرمایا حضرت جبريل عليه السلام نے آخرِ حدیث میں، یعنی آخرِ حدیث میں آتا ہے انہوں نے پھر فرمایا: ما بين هذين الوقتين وقت لك ولأمتك، ان دو وقتوں کے بیچ وقت ہے آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے، یعنی اس وقت کے اندر یہ فجر کی نماز ادا کیجیے، کون سے دو وقت؟ ایک پہلے دن فجرِ صادق کے بعد سے اور دوسرے دن سورج طلوع ہونے کے قریب تھا، تو ان دو وقتوں کے درمیان جو ہے یہ وقت آپ کا اور آپ کی امت کے لیے ہے یعنی اس وقت میں فجر کی نماز ادا کیجیے۔
ولا معتبر بالفجر الكاذب، صاحبِ ہدایت فرما رہے ہیں: اور کوئی اعتبار نہیں ہے فجرِ کاذب کا، وهو البياض الذي يبدو طولاً، اور یہ وہ سفیدی ہے یعنی فجرِ کاذب وہ سفیدی ہے الذي يبدو طولاً، جو ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں، ثم يعقبه الظلام، ظلام کہتے ہیں اندھیرے کو، تاریکی کو، پھر اس کے پیچھے تاریکی آتی ہے، پھر اس کے بعد کیا آتی ہے؟ چوڑائی میں روشنی آتی ہے وہ ہے فجرِ صادق بھئی۔ لقوله عليه السلام، دلیل کیا ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں؟ کہتے ہیں: لقوله عليه السلام، بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: لا يغرنكم أذان بلال ولا الفجر المستطيل، تم کو دھوکے میں نہ ڈالے بلال کی اذان ولا الفجر المستطيل اور نہ لمبی فجر، اور نہ لمبی فجر، وإنما الفجر المستطير في الأفق، اور فجر تو مستطير ہوتی ہے افق کے اندر، حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ فجر تو مستطير ہوتی ہے افق کے اندر، کیا معنی؟ صاحبِ ہدایت اب حدیث کا معنی بیان کر رہے ہیں: أي المنتشر فيها، یعنی اس میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے، فجر، فجر کے مستطیر ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ فجر تو افق میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے، معلوم ہوا یہ ہے فجر اصل میں، جو پہلے فجر تھی لمبائی میں وہ فجر نہیں ہے، اسی لیے حضور نے فرمایا کہ تم کو دھوکے میں نہ ڈالے بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی اذان اور وہ لمبی فجر بھئی، لمبی فجر۔
بھئی، یاد رکھیے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اذان دیتے تھے تہجد کے لیے یا سحری کھانے کے لیے، اور پھر فجر کی اذان حضرت عبداللہ ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ، وہ فجر کی اذان دیا کرتے تھے، تو حضور علیہ السلام صحابہ سے کیا فرما رہے ہیں؟ تم کو بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈال دے، یعنی ان کی اذان تو سحری یا تہجد کے لیے ہوتی ہے، تو تم یہ دھوکے میں یہ نہ سمجھ جانا کہ فجر طلوع ہو گئی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے حدیث کا بھئی۔
وأول وقت الظهر إذا زالت الشمس، اور ظہر کا اولِ وقت وہ ہے جس وقت سورج ڈھل جائے، یعنی سورج ڈھل جائے، بھئی دیکھیے، سورج طلوع ہوتا ہے مشرق کی جانب سے اور پھر جب طلوع ہوتا ہے آہستہ آہستہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور دوپہر کے وقت ایک وقت آتا ہے جب سورج عین اپنی انتہائی بلندی کو پہنچ جاتا ہے، پھر اس کے بعد اب سورج پھر واپس ڈھلنا شروع ہوا مغرب کی جانب، تو جو سب سے بلندی پر آیا بھئی، یہ ہے نصف النہار، اسے کیا کہتے ہیں؟ نصف النہار کہتے ہیں، تو اس سے آگے جیسے ہی سورج دوسری طرف چلا گیا مغرب کی جانب، ڈھل گیا، کچھ اتر گیا، تو یہ، اس کو کہیں گے زوال ہو گیا ہے، اور یہ ظہر کا وقت شروع ہو گیا بھئی، سورج جیسے ہی ڈھل جائے گا کون سا وقت شروع ہو جائے گا؟ ظہر کا۔
وأول وقت الظهر إذا زالت الشمس، اور اولِ وقت ظہر کا إذا زالت الشمس، جب سورج ڈھل جائے، لإمامة جبريل عليه السلام في اليوم الأول حين زالت الشمس، اس لیے کیونکہ بوجہ حضرت جبريل عليه السلام کے امامت فرمانے کے، پہلے دن جس وقت کہ سورج ڈھل گیا تھا، پہلے دن کس وقت امامت فرمائی حضرت جبريل عليه السلام نے؟ جب سورج جیسے ہی ڈھلا تھا یعنی اولِ وقت کے اندر ہی انہوں نے ظہر کی نماز کی امامت فرمائی، وآخر وقتها عند أبي حنيفة رحمه الله إذا صار ظل كل شيء مثله سوى فيء الزوال، اور ظہر کا آخری وقت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک إذا صار، جب ہو جائے ظل كل شيء، ظل کہتے ہیں سائے کو، سایا، ظل كل شيء، جب ہو جائے ہر چیز کا سایا مثله، اس کے دو مثل، اصل میں کیا تھا؟ مثليه، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا تو یہ تثنیہ ہے، جب ہر چیز کا سایا اس کے دو مثل ہو جائے سوى فيء الزوال، علاوہ زوال کے سائے کے۔
بھئی، یہاں دو لفظ آئے: ظل اور فيء، ظل بھی سائے کو کہتے ہیں، فيء بھی سائے کو کہتے ہیں، لیکن فرق یہ کہ زوال سے پہلے کا جو سایا ہے اسے کہتے ہیں ظل، دوپہر سے پہلے پہلے بھئی، سورج جیسے مشرق سے طلوع ہوگا ہر چیز کا سایا آپ کو نظر آنا شروع ہو جائے گا، اور پھر یہ سایا سورج جوں جوں اونچا ہوتا جائے گا سایا بھی آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا چلا جائے گا، اور عین سر پر جب سورج آ جائے گا، اس کے بعد پھر سایا کس طرف کا رخ کرے گا؟ پہلے سایا کس طرف تھا؟ مغرب کی طرف تھا، اب سایا کس طرف آ جائے گا؟ مشرق کی طرف آ جائے گا، تو زوال سے پہلے کا جو سایا ہے اسے کہتے ہیں ظل، اور زوال اور اس کے بعد کا جو سایا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ فيء، فاء کے معنی ہیں لوٹنے کے، لوٹنے کے، تو فيء اس لیے اس کو کہتے ہیں کیونکہ یہ سایا مشرق کی طرف لوٹ آیا ہے، مغرب سے کس طرف؟ مشرق کی طرف لوٹ آیا ہے اس لیے اس کو فيء کہتے ہیں۔
لیکن یہ ظل ہی کا لفظ بعض اوقات عام ہر سائے پر بھی بول دیا جاتا ہے، زوال سے پہلے سائے کو ظل کہتے ہیں، لیکن بعض اوقات زوال کے بعد والے کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ ظل کہہ دیا جاتا ہے۔
تو امام صاحب کے نزدیک ظہر کا آخری وقت کب ہے؟ إذا صار ظل كل شيء مثله، جب ہر چیز کا سایا اس کے دو مثل ہو جائے سوى فيء الزوال، علاوہ فيء زوال، فيء زوال جو عین جب سورج سر پر ہو اس وقت جو کسی چیز کا وہ جو چھوٹا سا سایا ہے اس کو کہتے ہیں فيء زوال، کیا کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، اس کا طریقہ بھی آگے آپ فلکیات کی کتابوں میں پڑھیں گے کہ یہ کیسے معلوم کریں گے کہ عین اس وقت سورج سر پر آ گیا ہے
اور اب پھر اس وقت زوال ہو گیا ہے، وغیرہ بھئی۔ تو اس کا وہ طریقہ ذکر کرتے ہیں کہ زمین پر بالکل ہموار زمین ہو، اونچی نیچی نہ ہو۔ اور اس پر ایک دائرہ کھینچ لیں اور اس دائرے کے بالکل مرکز میں ایک سیدھی لکڑی گاڑ دیں، جو بالکل سیدھی ہو، کسی ایک طرف بھی معمولی سی جھکی ہوئی بھی نہ ہو۔ اب آپ جب سورج طلوع ہوگا، صبح کے وقت، آپ دیکھیں گے کہ سایا مغرب کی طرف ہے۔ پھر سورج جوں جوں اونچا ہوتا چلا جائے گا، سایا چھوٹا ہوتا چلا جائے گا اور مغرب سے آہستہ آہستہ مشرق کی طرف کا رخ کر رہا ہے، لیکن ہے ابھی مغرب ہی کی طرف بھئی۔ پھر عین جب سورج سر پر آ جاتا ہے، تو سایا بہت چھوٹا ہو گیا اور بالکل وہ لکڑی کے قریب ہی آ گیا۔ پھر جیسے سورج ڈھلنا شروع ہوتا ہے، اب سایا مشرق کی طرف کا رخ کر لیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ لمبا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں طریقہ ہے، تفصیل مختصر یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ دائرہ آپ نے لگا لیا، بیچ میں لکڑی گاڑ کر سیدھی کھڑی کر دی، اب سایا، سورج مشرق سے طلوع ہوا، آپ سائے پر نظر رکھیے گا۔ سایا چھوٹا ہوتے ہوتے ایک وقت آئے گا کہ بالکل دائرے کے اندر داخل ہونے لگا ہے اس کا سرا، سائے کا سرا۔ جہاں وہ داخل ہو، اس جگہ پر دائرے پر نشان لگا لیں۔ پھر وہ سایا چھوٹا ہوتے ہوتے پھر لمبا ہونا شروع ہوگا مشرق کی طرف، اور عین ایک نقطے پر وہ، وہ دائرے سے اب نکلنے لگا ہے۔ جس جگہ سے نکلنے لگے، وہاں پر بھی نشان لگا لیں۔
تو اب یہ دیکھیے دائرے پر دو نشان لگ گئے۔ ان دو نشانوں میں دیکھیے، دونوں طرف ایک ایک قوس آ گئی، ٹیڑھا خط آ گیا یعنی دائرے والا۔ ہاں، اس قوس کی تنصیف کر دیں، آدھا کر دیں، جو حساب کے طریقوں میں وہ پرکار وغیرہ کی مدد سے اس کو پھر تقسیم کیا جاتا ہے۔ جب عین جب اس کی تنصیف کر دیں گے، اس عین نصف پر آپ ایک سیدھی لکیر کھینچیں جو شمال سے جنوب کی طرف جا رہی ہوگی بھئی۔ جب عین اس لکیر کے اوپر سایا آ جائے، یہ ہے جب سورج عین سر پر ہے۔ اگلے دن پھر اب اس کو دیکھنا پڑے گا۔ اگلے، یہ لکیر آج آپ نے لگا لی۔ دو نشان لگائے تھے اور پھر ان قوس جو لگی تھیں، ان کی آپ نے ان کو نصف نصف کر دیا، ایک سیدھا خط کھینچا شمال سے جنوب کی طرف، اور پھر اس عین اگلے دن اس لکیر کے اوپر جب سایا آئے گا، تو یہ ہوگا، یہ وقت ہے نصف النہار کا، یعنی سورج عین سر پر ہے۔ اور یہ سب سے سائے کی چھوٹے سے چھوٹا سایا ہوگا اس وقت بھئی اس چیز کا۔ اور اس سے پہلے بھی تھوڑا لمبا تھا سایا، اب چھوٹا ہوا۔ پھر چند منٹ ہی گزریں گے، آپ دیکھیں گے سایا پھر اب مشرق کی طرف ہو کر لمبا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ تو جیسے ہی سایا اس لکیر سے دوسری طرف آ جائے گا، تو معلوم ہوا سورج ڈھل گیا ہے۔ سورج کیا ہے؟ ڈھل گیا ہے۔
طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تفصیل وہاں فلکیات کی کتابوں میں آپ کو مل جائے گی بھئی۔
تو یہ جو عین زوال کے، نصف النہار کے وقت کسی چیز کا جو سایا ہے، اس کو کہتے ہیں فئے زوال۔ کیا کہتے ہیں؟ فئے زوال کہتے ہیں بھئی، کیونکہ اب سورج ڈھلنے لگا ہے۔
تو اس فئے زوال کے علاوہ جب کسی چیز کا سایا دو مثل ہو جائے، تو ظہر کا وقت ختم ہو جائے گا اور عصر کا وقت شروع ہو جائے گا بھئی۔ یہ کس کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔ لہٰذا، آپ نے جو لکڑی درمیان میں گاڑی تھی، فرض کریں وہ تھی 10 فٹ کی۔ 10 فٹ کی۔ اور عین دوپہر کے وقت بھئی، سورج کا سایا، اس لکڑی کا سایا بڑا چھوٹا ہوگا۔ یوں سمجھیں، فرض کریں 1 فٹ تھا آپ نے اس وقت ماپا۔ کتنا تھا؟ سایا 1 فٹ۔ یہ ہے فئے زوال، عین نصف النہار کے وقت۔ یہ 10 فٹ کی لکڑی، اور لکڑی کا جو حصہ زمین کے اندر گاڑ دیا ہے، اس کو نہیں شمار کرنا۔ لکڑی کا جو حصہ زمین کے اوپر ہے، وہ کتنا ہے؟ 10 فٹ ہے۔ اور یہ جو سایا عین زوال کے وقت بنا، وہ کتنا ہے؟ وہ 1 فٹ ہے، یہ ہے فئے زوال۔ اس فئے زوال کے علاوہ اس لکڑی سے دگنا جب سایا ہو جائے گا، تو یہ ظہر کا وقت ختم ہو جائے گا اور کون سا شروع ہو جائے گا؟ عصر کا شروع ہو جائے گا۔
تو لکڑی کتنے فٹ، تو لکڑی کتنے فٹ کی؟ 10۔ تو دو مثل سایا کب ہوگا، جب کتنا ہو جائے؟ 20 فٹ، 20 فٹ سایا ہو جائے۔ اور نیز وہ فئے زوال کے علاوہ، اس کو بھی ساتھ ملائیں، وہ کتنا تھا؟ 1 فٹ۔ تو کتنا ہوگا اب؟ 21 فٹ۔ تو بس، جس وقت اس لکڑی کا سایا 21 فٹ کا ہو جائے گا، یہ وقت ہے کہ اس وقت اس لکڑی کا سایا فئے زوال کے علاوہ دو مثل ہے۔ اور یہ آخر ظہر کا وقت ختم ہوا اور کون سا شروع ہو گیا؟ عصر کا وقت شروع ہو گیا۔ کس کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جبکہ آگے بتلائیں گے آپ کو، صاحبین کے نزدیک ایک مثل ہو جائے فئے زوال کے علاوہ، تو عصر کا وقت شروع ہو گیا۔ لہٰذا صاحبین کے نزدیک سایا کتنا ہوگا جب عصر کا وقت شروع ہوگا؟ 11 فٹ۔ 10، ایک 10 فٹ ہوا تو یہ ایک مثل، اور فئے زوال کتنا؟ 1 فٹ۔ تو کتنا ہو گیا؟ 11 فٹ۔ تو صاحبین کے نزدیک یہ 10 فٹ کی لکڑی کا سایا 11 فٹ جیسے ہی ہوگا، کون سا وقت شروع ہو گیا؟ عصر کا وقت، اور ظہر کا ختم۔ اور امام صاحب کے نزدیک کب شروع ہوگا عصر کا وقت؟ جب 21 فٹ ہو جائے، اس وقت ظہر کا وقت ختم اور عصر کا شروع ہوگا بھئی۔
یہ معنی، "واٰخِرُ وَقْتِھَا عِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ اِذَا صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِّثْلَیْہِ سِوٰی فَیْئِ الزَّوَالِ" اور ظہر کی نماز کا آخری وقت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جب ہو جائے ہر چیز کا سایا اس کے دو مثل علاوہ فئے زوال کے۔ "وَقَالَا" اور صاحبین فرماتے ہیں، "اِذَا صَارَ الظِّلُّ مِثْلَہُ" جب ہر چیز کا سایا اسی کے مثل، یعنی ایک گنا ہو جائے۔ اور علاوہ فئے زوال کے، وہ پیچھے شرط ذکر، قید ذکر کر دی تھی، اس کو دوبارہ ذکر نہیں کیا۔ "وَھُوَ رِوَایَۃٌ عَنْ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ" اور یہی ایک روایت ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی۔ امام صاحب کی بھی ایک روایت کیا ہے کہ جب ایک مثل ہو جائے علاوہ فئے زوال کے، تو کون سا وقت شروع ہو جائے گا؟ عصر کا۔
"وَفَیْئُ الزَّوَالِ ھُوَ الْفَیْئُ الَّذِیْ یَکُوْنُ لِلْاَشْیَاءِ وَقْتَ الزَّوَالِ" اور فئے زوال وہ سایا ہے جو کسی چیزوں کا ہوتا ہے وقت زوال، کس وقت؟ زوال کے وقت۔ "لَھُمَا" صاحبین کی کیا دلیل ہے کہ ایک مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جائے گا؟ وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ صاحبین کی دلیل یہ ہے، "اِمَامَۃُ جِبْرِیْلَ فِی الْیَوْمِ الْاَوَّلِ لِلْعَصْرِ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ" ان کی دلیل جو ہے، وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی امامت کروانا ہے فی اليوم الاول، پہلے دن، للعصر، کس نماز کی؟ عصر کی نماز کی پہلے دن انہوں نے امامت کروائی فی ھذا الوقت، اس وقت میں، یعنی جب ہر چیز کا سایا ایک مثل ہو گیا تھا علاوہ فئے زوال کے۔ معلوم ہوا عصر کا وقت شروع ہو گیا۔ یہ تھی صاحبین کی دلیل۔
امام صاحب، "وَلِاَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ قَوْلُہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَبْرِدُوْا بِالظُّھْرِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ" حضور علیہ السلام کا قول ہے، وہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں، "اَبْرِدُوْا بِالظُّھْرِ" تم لوگ ٹھنڈا کرو ظہر کو، یعنی ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ "فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ" اس سے، کیونکہ جو گرمی کی شدت ہے، "مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ" وہ جہنم کے شدت کی وجہ سے ہے، جہنم کے کھولنے کی وجہ سے ہے، جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے بھئی۔ تو گرمی کی شدت کس وجہ سے ہے؟ جہنم کے اس کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے، تو تم ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو بھئی، ٹھنڈا کر کے پڑھو۔ یہ حدیث میں آیا ہے۔ "وَاَشَدُّ الْحَرِّ فِیْ دِیَارِھِمْ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ" امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ کیا فرماتے ہیں؟ دو مثل کے بعد فئے زوال کے علاوہ پھر عصر کا وقت شروع ہوگا۔ تو فرماتے ہیں امام صاحب کہ دیکھو، حدیث میں آیا کہ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو، "وَاَشَدُّ الْحَرِّ فِیْ دِیَارِھِمْ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ" اور سخت ترین گرمی صحابہ کے وطن میں فی ھذا الوقت، اس وقت میں ہوتی ہے۔ صحابہ کے علاقے میں، ان کے علاقے میں سخت ترین گرمی کس وقت ہوتی ہے؟ یہ جب ایک مثل جب سایا ہوتا ہے، اس وقت سخت ترین گرمی ہوتی ہے۔ اور حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔ معلوم ہوا اس کے بعد پڑھنی پڑے گی۔ معلوم ہوا ابھی بھی ظہر کا وقت باقی ہے، ظہر کا وقت باقی ہے۔
دیکھیے ابھی دلیل پوری نہیں ہوئی، حدیث میں یہ آیا اور سخت ترین گرمی صحابہ کے دیار میں، یعنی عرب کے علاقے میں فی ھذا الوقت، اس وقت میں ہوتی ہے۔ "وَاِذَا تَعَارَضَتِ الْاٰثَارُ" اور جب آثار، میں نے بتلایا تھا آثار جمع ہے اثر، اور اثر نام ہے کس چیز کا؟ حدیث کا۔ تو اور جب احادیث میں تعارض آ گیا، "لَا یَنقَضِی الْوَقْتُ بِالشَّکِّ" تو وقت نہیں گزرے گا شک کی وجہ سے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھیے، ٹھیک ہے، امامتِ جبرائیل علیہ السلام کے اندر انہوں نے امامت فرمائی کس وقت پہلے دن عصر کی؟ جب سایا ایک مثل تھا۔ لیکن دوسری طرف ایک حدیث آ رہی ہے کہ "اَبْرِدُوْا بِالظُّھْرِ"، ظہر کو کیا کرو؟ ٹھنڈا کر کے پڑھو۔ اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ اول وقت میں عصر کا وقت شروع ہو گیا، ایک مثل کے بعد ہی کیا ہوا؟ عصر کا وقت شروع۔ اور اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ ایک مثل کے بعد بھی ظہر کا وقت باقی ہے۔ معلوم ہوا ابھی عصر کا وقت شروع نہیں۔ تو احادیث میں تعارض آ گیا۔ جب تعارض آ گیا، تو اب شک آ گیا کہ پتہ نہیں ظہر کا وقت نکل گیا ہے یا نہیں۔ ایک مثل کے بعد کیا آ گیا؟ شک آ گیا کہ پتہ نہیں ایک حدیث سے چل رہا ہے پتہ کہ نکل گیا، دوسری سے پتہ چل رہا ہے کہ وقت نہیں نکلا، تو ظہر کا وقت نکلنے میں، گزر جانے میں شک آ گیا۔ اور ظہر کا وقت پہلے تو یقینی تھا۔ ایک مثل سے پہلے تو یقینی، اور ایک مثل کے بعد اس کا وقت گزرنے میں شک آ گیا۔ تو شک کی وجہ سے اب اس، یہ یقینی ضابطہ آپ نے پڑھا ہے، کیا ضابطہ؟ "اَلْیَقِیْنُ لَا یَزُوْلُ بِالشَّکِّ"، یقینی، یقین جو ہے شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا، باطل نہیں ہوتا۔ تو یہاں بھی ظہر کا وقت یقینی تھا پہلے، تو اب بھی شک کی وجہ سے باطل نہیں ہوگا۔ اب بھی کون سا وقت ہوگا؟ ظہر ہی کا ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ کہ حدیث میں کیا آیا؟ تعارض آ گیا۔ اور تعارض کی وجہ سے شک آ گیا کہ یہ پتہ نہیں اب ظہر کا وقت گزر گیا ہے یا نہیں گزرا۔ پہلے تو کیا تھا؟ ظہر کا وقت مثل سے پہلے تو ظہر کا وقت یقینی، اور مثل کے بعد وقت گزرنے میں شک آ گیا۔ تو شک کی وجہ سے اب وقت گزرنے کا نہیں کہا جائے گا بلکہ کیا کہا جائے گا؟ اب بھی وقت ہے، کیونکہ وہ، کیونکہ ظہر کا وقت ہونا تو پہلے یقینی تھا۔ اب کیا آ رہا ہے شک کہ گزر گیا، تو شک کی وجہ سے گزرنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، کیونکہ شک یقین کو باطل نہیں کرتا۔ پہلے ظہر کا وقت یقینی ہے تو وہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"وَاَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ اِذَا خَرَجَ وَقْتُ الظُّھْرِ عَلَی الْقَوْلَیْنِ" اور عصر کا پہلا وقت اذا خرج وقت الظہر، جب ظہر کا وقت نکل جائے، علی القولین، دونوں قولوں پر۔ جب ظہر کا وقت نکل جائے دونوں قولوں کے مطابق، تو عصر کا وقت شروع ہو جائے گا۔ کیا معنیٰ؟ دونوں قولوں کے مطابق، یعنی ہر ایک کے مطابق۔ کس طرح؟ امام صاحب کے نزدیک عصر کا وقت کب شروع ہو جائے گا؟ جب دو مثل کے بعد ظہر، جو دو مثل پر ظہر کا وقت پورا ہوتے ہی، پھر آگے کیا شروع ہو جائے گا؟ عصر کا وقت شروع ہو جائے گا۔ اور صاحبین کے نزدیک کب شروع ہو جائے گا عصر کا وقت؟ ایک مثل پر ظہر کا وقت پورا ہوتے ہی ساتھ ہی کیا شروع ہو جائے گا؟ عصر کا وقت شروع ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
"وَاٰخِرُ وَقْتِھَا مَا لَمْ تَغْرُبِ الشَّمْسُ" اور آخری وقت عصر کی نماز کا جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔ دلیل اس کی کیا؟ کہتے ہیں، "لِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَھَا" بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے، "مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَھَا" کہ جس نے ایک رکعت عصر کی نماز کی پا لی قبل ان تغرب الشمس، سورج غروب ہونے سے پہلے، یعنی نماز شروع کی اور ایک رکعت پڑھ چکا، اس کے بعد سورج غروب ہو گیا۔ تو ابھی تو عصر کی نماز پوری نہیں کی تھی، بیچ میں سورج کیا ہوا؟ غروب ہوا۔ پھر بھی حدیث میں آ رہا ہے، "فَقَدْ اَدْرَکَھَا"، تو اس نے عصر کی نماز کو پا لیا، یعنی یہ اس کی نماز قضا نہیں بلکہ ادا ہی ہے بھئی۔ معلوم ہوا سورج غروب ہونے تک وقت ہے، اس سے پہلے ایک رکعت بھی پا لی تو اس نے عصر کی نماز پا لی بھئی۔
"وَاَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ اِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ" اور مغرب کا ابتدائی وقت، اول وقت جو ہے، اذا غربت الشمس، جب سورج غروب ہو جائے۔ "وَاٰخِرُ وَقْتِھَا مَا لَمْ یَغِبِ الشَّفَقُ" اور آخری وقت مغرب کا جب تک شفق غائب نہ ہو جائے۔ جب شفق غائب ہو جائے گی، تو مغرب کا وقت بھی ختم ہو جائے گا، مغرب کا وقت بھی۔ اور شفق کسے کہتے ہیں؟ آگے ذکر کریں گے۔ امام صاحب کے نزدیک شفق سفیدی کا نام، صاحبین کے نزدیک شفق سرخی کا نام۔ سورج جب غروب ہوتا ہے، تو مغربی کنارے پر آپ کو افق سرخ رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ سرخی تقریباً 15 منٹ کے لگ بھگ یا اس، اس کے لگ بھگ کچھ کمی بیشی کے ساتھ یہ 15 منٹ سرخی تقریباً رہتی ہے۔ پھر اس کے بعد سفیدی چھا جاتی ہے اس طرف، اور پھر یہ سفیدی تقریباً گھنٹہ، سوا گھنٹے تک رہتی ہے بھئی، گھنٹے سوا گھنٹے۔ اس سفیدی کے بعد پھر تاریکی چھا جاتی ہے مغربی افق پر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اب شفق کسے کہتے ہیں؟ تو یہ یاد رکھیے صحابہ کے زمانے سے ہی اختلاف چلا آ رہا ہے۔ بعض کیا فرماتے ہیں؟ کہ شفق اس سرخی کا نام ہے، اور بعض کیا فرماتے ہیں؟ شفق اس سفیدی کا نام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ آگے اختلاف اب صاحبِ ہدایہ بھی تفصیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں، "وَاٰخِرُ وَقْتِھَا مَا لَمْ یَغِبِ الشَّفَقُ" اور آخری وقت مغرب کی نماز کا جب تک شفق غائب نہ ہو جائے۔ "وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِقْدَارُ مَا یُصَلّٰی فِیْھِ ثَلَاثُ رَکَعَاتٍ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مغرب کے آخری وقت، وہ مغرب کے وقت کی مقدار کتنی ہے؟ اتنا وقت کہ
أَنَّ الصَّلَاةَ فِيْهِ کہ پڑھی جائیں اس میں ثلاثُ رکعاتٍ۔ کتنی رکعتیں؟ تین رکعتیں اس کے اندر پڑھی جائیں بھئی، تین رکعتیں۔
اور یہ ایک قول امامِ شافعی رحمہ اللہ کا، جو صاحبِ ہدایت نے ذکر کیا۔ اور ایک جدید قول کہتے ہیں ان کا یہ کہ جس میں انسان مغرب کی نماز کا اتنا وقت ہے جس میں انسان وضو کر کے، اذان کہہ سکے، اور پھر اقامت کہہ اذان دے سکے، اور اقامت کہہ سکے، اور تین فرض پڑھ لے، اور پھر دو سنتیں پڑھ لے۔ بس اتنا وقت ہے مغرب کا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک قول کیا ذکر کیا؟ جس میں کتنی صرف پڑھ لے؟ تین رکعتیں پڑھ لے۔
تو پھر بعضوں نے تطبیق بھی دی۔ کہتے ہیں: نہیں، یہ کوئی دو الگ قول نہیں ہیں امامِ شافعی رحمہ اللہ کے، ایک ہی قول ہے۔ لیکن یہ تین کو اس لیے انہوں نے ذکر کیا ہے کیونکہ مغرب کے فرض کتنے ہیں؟ تین رکعات۔ باقی ان فرضوں کے جو تابع چیزیں ہیں، وہ بھی اسی کے اندر داخل ہیں۔ اور فرضوں کے تابع کیا ہے؟ وضو کرنا پڑے گا یا نہیں بھئی؟ وضو بھی، اذان بھی دینا پڑے گی، اقامت بھی کہنا پڑے گی، جماعت بھی ہوگی، اور پھر اس کے بعد دو سنتیں بھی پڑھی جائیں گی۔ تو وہ بھی اس کے تابع ہیں، اس لیے ان کو ذکر نہیں فرمایا، ورنہ یہ وہی قول ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو ان کی دلیل امامِ شافعی رحمہ اللہ کی کہتے ہیں: لِأَنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَّ فِي يَوْمَيْنِ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ، کیونکہ حضرت جبریل علیہ السلام نے امامت فرمائی تھی ان دونوں دن ایک ہی وقت میں۔ بھئی، باقی نمازوں کے اندر تو اولِ وقت اور آخرِ وقت میں نمازیں، پہلے دن اولِ وقت نمازیں پڑھائیں اور دوسرے دن آخرِ وقت میں۔ لیکن مغرب کے بارے میں دونوں دن ایک ہی وقت، اسی وقت میں، جیسے ہی سورج غروب ہوا تھا، اس کے بعد مغرب کی نماز کی امامت فرمائی تھی انہوں نے۔
تو اس سے معلوم ہوا اس کا اتنا ہی وقت ہے، ورنہ اس میں بھی وہ اول اور آخر کا اس کی صورت ہوتی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا قول ہے: أَوَّلُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ کہ پہلا وقت مغرب کا جس وقت سورج غروب ہو جاتا ہے، وَآخِرُ وَقْتِهَا حِيْنَ يَغِيْبُ الشَّفَقُ اور آخری وقت مغرب کا جب شفق غائب ہو جائے۔
اولِ وقت کیا؟ جب سورج غروب ہو جائے۔ اور آخرِ وقت کیا؟ جب شفق غائب ہو جائے۔ معلوم ہوا شفق کے غائب ہونے تک وقت ہے مغرب کا۔ ہاں، پھر آگے شفق میں اختلاف ہے۔ صاحبین کے نزدیک شفق سرخی کا نام، اور سرخی تو زیادہ سے زیادہ 15-20 منٹ تک رہتی ہے، تو وہی ہے۔ امام صاحب کے نزدیک شفق جو ہے وہ سفیدی کا نام ہے۔ اور سرخی 15-20 منٹ، پھر اس کے بعد سفیدی تو گھنٹہ سوا گھنٹے تک رہتی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ سارا مغرب کا وقت ہے۔
ہاں! البتہ اولِ وقت میں امامت اس لیے کروائی تھی حضرت جبریل علیہ السلام نے، کراہت سے بچنے کے لیے۔ کراہت سے؟ ہاں، مستحب یہ ہے، بہتر یہ ہے کہ اسی وقت نماز مغرب کی جلدی ادا کی جائے۔ اس کے بعد اگر ادا کی، وہ بھی ادا ہی ہوگی، قضا نہیں ہوگی، البتہ مکروہ ہے بھئی۔ تاخیر کرنا مکروہ ہے، تو کراہت سے بچنے کے لیے ایک ہی وقت میں حضرت جبریل علیہ السلام نے امامت فرمائی۔
وَمَا رَوَاهُ كَانَ لِلتَّحَرُّزِ عَنِ الْكَرَاهَةِ، اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امامِ شافعی رحمہ اللہ نے، كَانَ لِلتَّحَرُّزِ عَنِ الْكَرَاهَةِ، وہ کس وجہ سے ہے؟ وہ بچنے کے لیے ہے کراہت سے۔ یعنی ایک ہی وقت میں حضرت جبریل علیہ السلام نے امامت کیوں فرمائی تھی؟ کراہت سے بچنے کے لیے۔ ثُمَّ الشَّفَقُ هُوَ الْبَيَاضُ الَّذِيْ فِي الْأُفُقِ بَعْدَ الْحُمْرَةِ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ، پھر شفق جو ہے وہ سفیدی ہے جو افق میں، یعنی آسمان کے کنارے پر ہوتی ہے، بَعْدَ الْحُمْرَةِ، کس کے بعد؟ سرخی کے بعد، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
اور یاد رکھیے، یہی اسی طرح نقل کیا گیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی، حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی اسی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ کس چیز کا نام ہے؟ سفیدی کا نام ہے۔ وَعِنْدَهُمَا هُوَ الْحُمْرَةُ، اور صاحبین کے نزدیک شفق وہ سرخی ہے۔ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِيْ حَنِيْفَةَ، اور یہی ایک روایت کس سے ہے؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی۔ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، اور یہی قول ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا بھی، وہ بھی فرماتے ہیں شفق کس چیز کا نام ہے؟ سرخی کا نام ہے۔
لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، دلیل ذکر کر رہے ہیں شفق سرخی کیسے ہے؟ کہتے ہیں: بموجب حضور علیہ السلام کے قول کے: اَ الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ، شفق جو ہے وہ سرخی ہی ہے۔ وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: وَآخِرُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ إِذَا اسْوَدَّ الْأُفُقُ، اور مغرب کا آخری وقت اس وقت تک ہے جب آسمان سیاہ ہو جائے۔ إِذَا اسْوَدَّ الْأُفُقُ، آسمان سیاہ ہو جائے۔
اور سیاہ کب ہوتا ہے؟ سرخی کے بعد یا سفیدی کے بعد؟ سفیدی کے بعد۔ معلوم ہوا شفق اس سارے کا نام شفق ہی ہے، اور اس کے بعد جب آسمان سیاہ ہوگا، اس وقت مغرب کا وقت ختم ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟
وَمَا رَوَاهُ مَوْقُوْفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، ذَكَرَهُ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْمُوَطَّإِ، اور وہ حدیث جس کو روایت کیا ہے بھئی، یہ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے، یہ بھئی حدیث ذکر کی: اَ الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ، حدیث میں کیا آیا؟ شفق کس چیز کا نام ہے؟ سرخی کا نام ہے۔ اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایت، کہ وہ حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا، وہ موقوف ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر۔ یعنی یہ حدیثِ موقوف ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے، حضور علیہ السلام کا قول نہیں ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو حدیث جس کو انہوں نے روایت کیا، یہ موقوف ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر۔ ذَكَرَهُ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ، اور اس کو، اس حدیث کو ذکر کیا ہے امام مالک رحمہ اللہ نے فِي الْمُوَطَّإِ، اپنی حدیث کی کتاب موطا کے اندر اس کو ذکر کیا ہے انہوں نے۔ اور کس کے طور پر ذکر کیا ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کا قول ہے یا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے؟ یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے۔ وَفِيْهِ اخْتِلَافُ الصَّحَابَةِ، اور اس کے اندر صحابہ کا اختلاف، یعنی شفق کے اندر صحابہ کا بھی اختلاف ہے، بعض اس سرخی کو قرار دیتے ہیں اور بعض کس کو قرار دیتے ہیں؟ سفیدی کو قرار دیتے ہیں۔ تو اگر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کو سرخی کو قرار دیا ہے اپنے قول میں، تو باقی صحابہ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کس کو قرار دیا ہے؟ سفیدی کو قرار دیا ہے۔
وَأَوَّلُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، اور عشاء کا اولِ وقت جب شفق غائب ہو جائے۔ یعنی جب مغرب کا وقت نکلے گا، فوراً کس کا وقت شروع ہو جائے گا؟ عشاء کا۔ وَآخِرُ وَقْتِهَا مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ، اور عشاء کی نماز کا آخری وقت جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے، یعنی فجر تک ہے، فجر تک عشاء کا وقت۔
لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بموجب حضور علیہ السلام کے قول کے: وَآخِرُ وَقْتِ الْعِشَاءِ حِيْنَ لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ، اور عشاء کا آخری وقت جو ہے، جب تک کہ فجر طلوع نہ ہو جائے، اس وقت تک ہے۔ وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيْ تَقْدِيْرِهٖ بِذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ، اور یہ حدیث دلیل ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، ان کا جو انہوں نے اندازہ لگایا ہے ثلثِ لیل کے جانے کے ساتھ۔
امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شفق جب ختم ہو، تو عشاء کا وقت شروع ہو گیا، اور ثلثِ لیل تک رہے گا، تہائی رات تک، رات کے تیسرے حصے تک۔ یعنی فرض کرو اگر رات ہے 9 گھنٹے کی، سورج غروب ہونے سے لے کر فجرِ صادق تک کتنا ہے وقت؟ 9 گھنٹے۔ تو اس میں سے اول تو شفق جب تک ہے، یہ ہے مغرب کا وقت، اور اس کے بعد جو وقت ہوگا وہ عشاء کا، اور کب تک رہے گا؟ ثلثِ لیل۔ رات کتنی تھی کل؟ 9 گھنٹے، تو 3 گھنٹے پہلے، 3 گھنٹے، اس کے اندر اندر پڑھے گا، یہ ہے عشاء کی نماز کا وقت بھئی۔ یہ وقت گزر جائے گا، تو عشاء کا وقت بھی گزر جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ 3 گھنٹے جو ثلثِ لیل ہے، اسی کے اندر وہ مغرب کا وقت بھی آگیا بھئی، اس کا بھی تھوڑا سا وقت نکال دو، تو 3 گھنٹے سارا نہ ہوا عشاء کا وقت، بلکہ اس سے کم ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيْ تَقْدِيْرِهٖ بِذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ، اور یہ حدیث دلیل ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے خلاف، جو انہوں نے ثلثِ لیل کے گزرنے کے ساتھ اندازہ لگایا ہے عشاء کے وقت کا۔ وَأَوَّلُ وَقْتِ الْوِتْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، اب وتروں کا بیان کر رہے ہیں کہ وتروں کا اولِ وقت جو ہے، بَعْدَ الْعِشَاءِ، کس کے بعد ہے؟ عشاء کے بعد ہے۔ وَآخِرُهُ مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ، اور وتروں کا آخری وقت جو ہے، جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، دلیل ذکر کر رہے ہیں بموجب حضور علیہ السلام کے قول کے فِي الْوِتْرِ، وتر کے بارے میں، آپ نے فرمایا: فَصَلُّوْهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلٰى طُلُوْعِ الْفَجْرِ، کہ تم لوگ پڑھو وتروں کو، وتر کی نماز کو، عشاء سے لے کر طلوعِ فجر کے بیچ میں۔ عشاء سے لے کر کے بیچ میں، معلوم ہوا کب شروع ہوگا وتر کا وقت؟ عشاء کے بعد، عشاء کے بعد اور طلوعِ فجر تک رہے گا۔
قَالَ هٰذَا عِنْدَهُمَا، قال سے مراد ہیں صاحبِ ہدایت خود بھئی۔ صاحبِ ہدایت فرماتے ہیں: هٰذَا عِنْدَهُمَا، یہ صاحبین کے نزدیک ہے، یعنی جو متن میں ذکر ہوا، یہ کس کا قول ہے؟ صاحبین کا قول ہے۔ وَعِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَقْتُهُ وَقْتُ الْعِشَاءِ، کہ وتروں کا وہی وقت ہے جو عشاء کا وقت ہے۔
صاحبین تو کیا فرماتے تھے؟ وتروں کا وقت کب شروع ہوگا؟ عشاء کی نماز کے بعد شروع ہوگا۔ جب آپ عشاء کی نماز پڑھ لیں گے، تو اب کس کا وقت شروع ہو گیا؟ وتروں کا، اس سے پہلے وتروں کا وقت تھا ہی نہیں۔ عشاء کی نماز کا وقت تو تھا، لیکن وتروں کا نہیں تھا۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، جیسے ہی عشاء کا وقت شروع ہوا، یہ عشاء کا بھی ہے، یہ وتروں کا بھی ہے، دونوں کا ایک ہی وقت ہے۔ ہاں، البتہ وتر کو وہ بھی فرماتے ہیں کہ عشاء پر مقدم نہیں کریں گے بھئی۔ اگر کر دیے کسی نے مقدم، تو پھر دوبارہ لوٹانا پڑیں گے، کیونکہ ان میں ترتیب ضروری ہے، پہلے عشاء ہے، اس کے بعد کیا ہیں؟ وتر۔
صاحبین کے نزدیک تو اگر پہلے وتر پڑھ لیے، پھر تو وتر ہوئے ہی نہیں کیونکہ ابھی ان کا وقت ہی نہیں شروع ہوا۔ نماز پڑھ لے گا عشاء کی، تو پھر کس کا وقت شروع ہوگا؟ وتر۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، عشاء کا وقت شروع ہوا تو یہی وتروں کا بھی وقت ہے، وتروں کا وقت شروع ہو گیا لیکن پہلے پڑھ نہیں سکتا۔ ہاں، اگر کسی نے بھولے سے پڑھ لیے، وہ سمجھا تھا میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی اور وتر پڑھ لیے، پھر خیال بعد میں کچھ دیر بعد یاد آیا: ہو! عشاء کی تو آج ابھی میں نے نماز نہیں پڑھی تھی! تو اب یہ وتر اس نے نماز پر مقدم کیے بھول کر یا جان بوجھ کر؟ بھول کر، تو اب امام صاحب فرماتے ہیں اعادے کی ضرورت نہیں بھئی، بھول کر ایسا ہوا ہے۔ لہٰذا اب عشاء کی نماز پڑھ لے اور وتر ہو گئے، کیونکہ وتر کا وقت شروع ہو چکا تھا عشاء کے وقت کے ساتھ ہی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَعِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَقْتُهُ وَقْتُ الْعِشَاءِ، کہ وتر کا وقت جو ہے وہ عشاء کا وقت ہے۔ إِلَّا أَنَّهُ لَا يُقَدَّمُ عَلَيْهِ، مگر یہ کہ وتر جو ہیں ان کو مقدم نہیں کیا جائے گا عشاء پر عِنْدَ التَّذْكِيْرِ، یاد ہوتے وقت، جب انسان کو کیا ہو؟ یاد ہو، تو پھر جان بوجھ کر وتروں کو مقدم نہیں کر سکتا۔ لِلتَّرْتِيْبِ، کس وجہ سے؟ ترتیب کی وجہ سے کہ ان میں ترتیب ضروری ہے، پہلے عشاء ہو اور اس کے بعد کیا ہوں؟ وتر۔ ہاں، اگر بھولے سے پڑھ لیے ہیں، تو پھر امام صاحب کے نزدیک وتر کا اعادہ نہیں۔ صاحبین پھر بھی فرماتے ہیں: وتر کا اعادہ کرے، کیونکہ جب تک عشاء پڑھی نہیں، وتر کا وقت شروع بھی نہیں ہوا بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی؟ یہاں ایک بات یاد رکھیے گا بھئی! عصر کی نماز کا وقت بھئی، امام صاحب کے نزدیک بھئی، فتویٰ امام صاحب ہی کے قول پر ہے، اور ظہر میں اور ظہر میں اور عصر میں۔ صاحبین تو کیا فرماتے تھے؟ ایک مثل کے بعد ہی عصر کا وقت شروع ہو گیا۔ لیکن فتویٰ کس کے قول پر؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر۔ تو لہٰذا ظہر کا وقت دو مثل کے جب تک سایا نہ ہو جائے اس وقت تک رہے گا، جیسے ہی دو مثل ہوگا، ظہر کا وقت ختم، اور کون سا شروع؟ عصر کا وقت شروع ہو جائے گا۔
لیکن علماء لکھتے ہیں کہ اگر کہیں مجبوری ہو، انسان سفر میں ہے، اب وہاں پر مثلِ اول کے اندر گاڑی رک گئی، اس وقت وقت ہے آپ عصر کی نماز اطمینان سے پڑھ سکتے ہیں، اور آپ کو پتہ ہے آگے پھر مشکل پیش آجائے گی، گاڑی پتہ نہیں رکتی ہے یا نہیں رکتی، تو اس صورت میں، اس صورت میں انسان مثلِ اول کے میں بھی، یعنی صاحبین کے قول کے مطابق کو بھی اختیار کر سکتا ہے، اور اس وقت کیا کون سی نماز پڑھ لے؟ عصر کی نماز پڑھ لے۔ لہٰذا اس مسئلے کو خصوصاً یاد رکھیں، اور بعض لوگ اس میں شدت کرتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں: نہیں، مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر پڑھنی ہے، پہلے نہیں۔ نہیں بھئی، جب ضرورت ہے اور اس صاحبین کا قول بھی موجود ہے، تو سفر وغیرہ میں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ مثلِ اول کے بعد بھی عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
جی، مغرب بھئی، مغرب میں نے بتایا، مغرب کا وقت جو ہے، وہ مستحب وقت جو پہلا ہے، یعنی جس وہ سرخی جب تک ہے آسمان کے کنارے پر، اور آخرِ وقت یاد رکھیے فتویٰ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر ہے مغرب کے اندر بھی۔ مغرب کا وقت صرف یہ 15-20 منٹ نہیں ہے، بلکہ ڈیڑھ گھنٹے کے لگ بھگ وقت ہے بھئی مغرب کا۔ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم نماز کو آپ اطمینان سے مؤخر کریں، نہیں بھئی۔ اس نماز کو اولِ وقت ہی میں پڑھیں، بعد میں پڑھیں گے تو مکروہ ہو جائے گی، ہوگی تو ادا ہی، قضا نہیں، بس اتنا فرق آگیا کہ قضا نہیں ہوگی بلکہ کیا ہوگی؟ ادا، لیکن ہوگی مکروہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ہو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔