والمعان الموجبۃ للغسل انزال المنی علی وجہ الدفق والشہوۃ من الرجل والمرأۃ، والتقاء الخطانین من غیر انزال، والحیض والنفاس۔
بھئی غسل، وضو کے فرائض بھی گزر گئے، سنتیں، مستحباط بھی گزر گئے۔ غسل کے فرائض بھی گزر گئے۔ سمجھ میں آیا وضو کے کتنے فرائض پڑھے آپ نے؟ چار۔ اور غسل کے کتنے فرائض ہیں؟ تین فرائض ہیں۔ یعنی کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور سارے بدن پر پانی بہانا۔
ایک مرتبہ سارے بدن پر پانی بہانا، یہ فرض ہے اور تین مرتبہ یہ سنت ہے۔ اور یاد رکھیے پورے بدن کو پانی پہنچانا ہے لہذا بدن پر اگر کوئی ایسی چیز لگی ہے جس کی تہہ بن گئی ہے جلد پر، اور کھال تک پانی نہیں پہنچا، تو پھر اس پر پانی اوپر اوپر ڈال بھی دیں جب کھال تک نیچے نہیں پہنچا، تو پھر غسل یا وضو بھی کامل نہیں ہوا۔
اسی سے نیل پالش کا حکم بھی آپ کو معلوم ہو گیا بھئی۔ عورتیں جو ناخن پر لگاتی ہیں بھئی تو وہ ایک تہہ جم جاتی ہے باقاعدہ موٹی سی اوپر۔ لہذا جب وہ لگائی تو اس کے بعد اب وضو کریں گی یا غسل کریں گی، تو پانی نیچے تک نہیں پہنچے گا، لہذا وضو بھی نہیں ہوگا اور غسل بھی نہیں ہوگا۔
والمعان الموجبۃ آج بتلائیں گے غسل کو واجب کرنے والی چیزیں، وہ کون سی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے غسل فرض ہو جاتا ہے؟ تو کہتے ہیں والما چار چیزیں بتلائیں گے آپ کو مانا چار چیزیں۔
والمعان الموجبۃ للغسل اور وہ علتیں جو واجب کرنے والی ہیں غسل کو، وہ علتیں، وہ اسباب جو واجب کرنے والے ہیں میں نے بتلایا تھا مانا، معنی کے لفظ کا کیا ترجمہ کرنا ہے؟ سبب اور علت کے باعث فقہ کی کتابوں میں بھئی۔
تو کہتے ہیں والمعان الموجبۃ للغسل وہ اسباب جو واجب کرنے والے ہیں غسل کو، جی پہلا سبب آیا ہمارا نا انزال المنی علی وجہ الدفق والشہوۃ۔
منی کا خروج ہے علی وجہ الدفق بھئی۔ دف کہتے ہیں مولانا اچھل کر کود کر، والشہوۃ، کود کر ہو اور شہوت کے ساتھ ہو من الرجل والمرأۃ، آدمی سے اور عورت سے۔ تو خروج منی پہلا سبب ہے بھئی، خروج منی جب بھی پایا جائے گا شہوت کے ساتھ مولانا، یہ شرط ضروری ہے ساتھ اس کے، سمجھ میں آیا؟ شہوت کے ساتھ ہو بھئی۔
تو اس صورت میں غسل واجب ہو جائے گا۔ چاہے یہ بیداری کی حالت میں ہو، کوئی شخص بیوی کے ساتھ اپنی صحبت کرتا ہے اس سے، یا مولانا چاہے نیند کی صورت میں ہو۔ سمجھ میں آیا؟ نیند سویا ہے احتلام ہوا، تو اس صورت میں بھی کیا ہو جائے گا غسل واجب ہو جائے گا بھئی۔
لکن اگر شہوت کے بغیر منی نکل آئے بھئی یاد رکھو، بعض اوقات کوئی آدمی کمزور ہے، زیادہ سامان اٹھایا بھئی تو خروج منی ہو گیا، یا اونچی جگہ سے گر پڑا اور خروج منی ہوا، اس صورت میں غسل واجب نہیں۔ کیونکہ خروج منی تو ہے لیکن شہوت کے ساتھ نہیں، اور شہوت کی قید ضروری ہے میں نے بتلایا اپ کو۔
ہاں، یہ دفع، کود کر یا اچھل کر یہ عموماً ہوگا ہی اسی طرح، یہ قید واقعی ہے مولانا، واقع میں ہوگا اسی طرح جب شہوت کے ساتھ ہو تو کود کر یا اچھل کر۔
جی یہاں ایک قیمتی مسئلہ بھی آپ کو بتلا دوں بھئی۔ ایک شخص ہے مثلاً اسے احتلام ہوا بھئی۔
اور احتلام کے بعد اس نے غسل کر لیا بھئی۔
غسل کرنے کے بعد پھر منی کے کچھ قطرے نکل آئے بھئی، تو یاد رکھیے پہلا غسل ختم ہوا، اسے پھر نئے سرے سے کیا کرنا پڑے گا؟ غسل کرنا پڑے گا۔
بشرطیکہ اس نے اس کے بعد پیشاب نہ کیا ہو۔ سمجھ میں آیا؟ اگر پیشاب نہیں کیا تھا اور ویسے ہی نہا لیا تھا اور پھر کچھ قطرے نکل آئے تو اسے کیا کرنا پڑے گا؟ پھر نئے سرے سے غسل کرنا پڑے گا۔
صورت سمجھ میں آگئی۔
ہاں، اگر اس نہانے کے بعد وہ کوئی نماز وغیرہ پڑھ چکا تھا، وہ ٹھیک ہو گئی بھئی۔ اس کے بعد پھر اب یہ خروج منی پائے گی، لہذا اب پھر کیا کرنا پڑے گا؟ غسل۔ لیکن اگر وہ پیشاب کر چکا تھا،
اب اس کے بعد پھر کچھ قطرے نکلتے ہیں مولانا، تو اب یہ خروج منی ہے بلا شہوت کے، لہذا اس سے صرف وضو ٹوٹے گا، غسل واجب نہیں ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا سب کو بھئی؟
والتقاء الختانین اور دونوں شرمگاہوں کا مل جانا بھئی، من غیر انزال، اگرچہ بغیر، ای ولو من غیر، اگرچہ بغیر انزال کے ہی کیوں نہ ہو۔ مرد اور عورت کی شرمگاہ کا مل جانا بھئی اس صورت میں بھی غسل کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔
لکن یاد رکھیے صرف مل جانے سے غسل واجب نہیں ہوتا، بلکہ کچھ نہ کچھ دخول بھی پایا جائے، پھر اس کے بعد غسل واجب ہوگا بھئی۔
والحیض والنفاس اور حیض اور نفاس بھی مولانا یہ بھی اسباب ہیں، غسل ان کی وجہ سے جب پاک ہو، تو غسل واجب ہوا مولانا۔
تو حیض، ہر مہینے عورت کو چند ایام خون اتا ہے، اور نفاس وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد اتا ہے، تو ان سے جب پاک ہو تو غسل کرنا پڑے گا بھئی۔
جی، چار اسباب سمجھ میں آئے بھئی؟ کون سا پہلا کیا ہے؟ انزال المنی، ثانی کیا ہے؟ التقاء الختانین بھئی، اگرچہ بغیر انزال ہی کے کیوں نہ ہو، بس تھوڑا کچھ دخول پایا گیا، بس غسل واجب ہو گیا۔ اسی طرح حیض ہے مولانا، حیض کے بعد کیا کرنا پڑے گا؟ غسل کرنا اور نفاس کے بعد بھی کیا کرنا پڑے گا؟ غسل کرنا۔
وسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الغسل للجمعۃ والعیدین والاحرام وعرضہ
اور سنت جاری فرمائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کی للجمعۃ کس کے لیے بھئی؟ جمعے کے لیے بھئی، جمعے کی نماز کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جمعے کے دن نماز فجر سے لے کر جمعے کی نماز تک وہ لوگ جن پر جمعہ واجب ہے، ان کے لیے غسل کرنا, نہانا مسنون ہے بھئی۔
سب سے کب تک بھئی؟ فجر سے لے کر جمعے کی نماز تک اس دوران، اس بیچ میں کس شخص کے لیے؟ جس پر جس پر جمعہ واجب ہے، اس کے لیے غسل کرنا مسنون ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے بھئی۔
والعیدین، اور دونوں عیدوں کے لیے، عید الاضحی کے لیے بھی اور عید الفطر کے لیے بھی بھئی، اس کے لیے بھی غسل کرنا مسنون ہے، مسن، سوری مسنون ہے۔
والاحرام، اور احرام کے لیے بھی کیا ہے؟ کوئی شخص حج کے لیے جا رہا ہے یا عمرے کے لیے جا رہا ہے، تو سنت کیا ہے؟ غسل احرام باندھنے سے پہلے غسل کر لے۔
وعرفہ، اور اسی طرح یوم عرفہ ہے بھئی، یوم عرفہ جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ حج کا دن، حج کا دن بھئی۔
جب سب تمام حاجی عرفات میں اکٹھے ہوتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ نویں ذی الحجہ کو، نو ذی الحجہ کو بھئی، دس کو تو عید ہوتی ہے، قربانی ہوتی ہے، نو ذی الحجہ کو عرفہ میں تمام حاجی جاتے ہیں بھئی، اور یہ فرض ہے حج کے اندر بھئی۔
جو عرفات نہیں گیا اس کا حج ہی نہیں ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عرفات میں جانا یہ فرض ہے حج کے اندر، تو اس روز عرفات کے روز بھئی، زوال کے بعد بھئی، کس کے بعد؟ زوال یعنی سورج جب سر سے ڈھل جائے بھئی، بالکل ایک سورج طلوع ہونے کے بعد بلند ہوتا ہے، عین سر پر آ جاتا ہے مولانا، پھر اس کے بعد وہ پھر اس کی نزول شروع ہوتا ہے مغرب کی طرف بھئی، تو یہ زوال ہو گیا مولانا، اس کو زوال کہتے ہیں۔
تو زوال کے بعد عرفہ کے روز غسل کرنا مسنون ہے۔
تو سنت ہے مولانا غسل، کتنے مواقع پر بھئی؟ چار مواقع، جمعہ، عیدین، احرام اور عرفہ۔
ولیس فی المسجد والودی غسل وفیہما الوضوء
کہہ رہے ہیں بھئی، مجزی اور ودی کے اندر غسل نہیں ہے، وفیہما الوضوء، ان دونوں میں کیا ہے؟ وضو، وضو واجب ہے۔
بھئی، ایک لفظ منی گزرا، ایک مجزی ہے، ایک ودی ہے بھئی۔
منی تو معروف ہے، جانتے ہیں، ایک مجزی ہے مولانا جو شہوت کے وقت خارج ہوتا ہے، کچھ گاڑھے قطرے، اور یہ منی کی بنسبت پتلے ہوتے ہیں، شہوت کے وقت خارج ہوتے ہیں، اور اس سے غسل فرض نہیں ہوتا بھئی، بلکہ اس کی وجہ سے صرف کیا ہو گا؟ وضو کرنا پڑے گا بھئی۔
समझ में आया भाई؟
اور فرق یہ ہے مولانا، مجزی اور منی کے، منی سے انسان کی شہوت ختم، ٹوٹ جائے گی، ختم ہو جائے گی، مجزی میں ایسا نہیں بھئی۔
والودی، اور ودی جو ہے، یہ پیشاب کے بعد کچھ گاڑھے قطرے کبھی نکلتے ہیں، اس کو ودی کہتے ہیں بھئی۔
تو ان دونوں سے بھی وہ، ان دونوں سے غسل واجب نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں ولیس فی المسجد والودی غسل، مجزی اور ودی کے اندر غسل نہیں ہے، وفیہما الوضوء اور ان کے اندر وضو، وضو واجب ہے۔
والطھارۃ من الاحداث جائزۃ بماء السماء والاوودیۃ والعيون والابار وماء البحار
اب آپ کو بتلا رہے ہیں کون کون سے پانی ہیں، کس قسم کے پانی سے وضو کرنا، غسل کرنا جائز ہے، اور کس قسم کے پانی سے غسل اور وضو کرنا جائز نہیں۔
تو کہتے ہیں والطھارۃ من الاحداث، طہارت، ناپاکیوں سے ہاں۔
احداث جمع ہے حدث کی، مولانا، اور حدث، یاد رکھو، دو قسم پر ہے بھئی۔
یہ نجاست حکمیہ کا نام ہے، حدث نجاست حکمیہ کا نام ہے۔
یعنی بے وضو ہونا، اور یا بے غسل ہونا، بھئی۔
تو یہ دو قسم پر ہے، ایک حدث اصغر ہے، ایک حدث اکبر ہے۔
حدث اصغر کہتے ہیں بے وضو ہونا۔
کیا ہونا؟ بے وضو ہونا۔
مثلاً کوئی ایسا سبب پایا جائے جس کی وجہ سے انسان کا وضو ٹوٹ جائے، کیا ٹوٹ جائے؟ وضو۔ تو کیا کہتے ہیں؟ اسے حدث لاحق ہو گیا۔ کیا لاحق ہو گیا؟ یعنی یہ بے وضو ہو گیا، اور کون سا حدث ہے مولانا؟ حدث اصغر۔
اور اگر کوئی ایسا سبب پایا جائے جس کی وجہ سے انسان پر غسل واجب ہوتا ہو، تو کیا کہتے ہیں اس کو؟ حدث لاحق ہوا۔ کون سا حدث؟ حدث اکبر، بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں والطھارۃ من الاحداث جائزۃ، اور طہارت حاصل کرنا من الاحداث ناپاکیوں سے جائزۃ یہ جائز ہے، بماء السماء، آسمان کے پانی سے، آسمان سے برسے ہوئے پانی سے، مولانا، یعنی بارش کے پانی سے وضو کرنا یا غسل کرنا جائز ہے۔
والاوودیۃ، اودیہ جمع ہے وادی کی، مولانا۔ دو پہاڑوں کے درمیان کا علاقہ کیا کہلاتا ہے؟ وادی کہلاتا ہے۔
تو بھئی، یاد رکھو پہاڑوں میں جب بارش ہوتی ہے، تو پانی اکٹھا ہو کر اطراف میں نکلتا ہے بھئی، بڑا زیادہ پانی، زیادہ بارش ہو تو بہت زیادہ پانی نکلتا ہے، سارا اکٹھا ہو کر جس طرف کو راستہ ملے نکلتا ہے، اور اگر زیادہ بارش ہو جائے بڑی تباہی مچا دیتا ہے اس علاقے کے اندر بھئی۔
اور پھر یہ پانی جگہ جگہ رک جاتا ہے، مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جہاں ذرا گہری زمین ہے وہاں رک گیا، تو یہ جو وادیوں کا پانی ہے، یہ جنگلوں میں جو کھڑا پانی ہے، اس کے ذریعے بھی وضو کرنا جائز ہے۔
والعيون، عیون جمع ہے عین کی، مولانا۔ چشمے کو کہتے ہیں۔ چشموں کے پانی سے بھی وضو کرنا جائز ہے، والآبار، آبار جمع ہے بیر کی، مولانا۔ بیر کی، کنوئیں کو کہتے ہیں، کنوئیں کو۔ کنویں کے پانی سے بھی وضو کرنا
وضو اور غسل کرنا جائز ہے، وماء البحار، اور سمندروں کے پانی سے وضو کرنا بھی جائز ہے۔
ولا تجوز الطھارۃ بماء عتصر من الشجر والثمر
اور جائز نہیں ہے پاکی کا، پاکی بماء ایسے پانی کے ساتھ۔
ایسے پانی کے ساتھ عتصر من الشجر والثمر، جسے نچوڑا گیا ہو درخت سے اور پھل سے۔
کہ بھئی کسی درخت میں کو نچوڑا پانی نکال لیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور یا کسی پھل وغیرہ کو نچوڑا اور اس سے پانی نکال لیا، اس پانی کے ساتھ وضو کرنا یا غسل کرنا جائز نہیں ہے بھئی، اس سے نہیں ہوگا وہ۔
اسی طرح ولا بماء نہ ایسے پانی کے ساتھ غلبہ علیہ غیرہ غالب آ گیا ہو اس پر غیرہ اس کے علاوہ، بھئی پانی ہے، پانی کے اندر کوئی اور چیز ملی پانی کے علاوہ، اور اس پانی پر کیا آ گئی؟ غالب آ گئی بھئی۔
تو اس پر غالب آ گئی، فآخرجہ عن طبع الماء، پس اس نے نکال دیا اس کو پانی کی طبیعت سے۔
بھئی پانی کے اندر کوئی چیز مل گئی، اور اس نے اس پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دیا بھئی۔
یعنی اس کو بدل دیا بھئی۔
समझ में आया पानी की, یعنی اس میں اس کا جو پتلا پن تھا، پانی پتلا ہوتا ہے یا گاڑھا ہوتا ہے بھئی؟ پتلا، اس کا پتلا پن
ہاں، جو بھی مشروب ہو، جو بھی پینے والی چیز ہو، اس کو کیا کہتے ہیں وہ؟ شراب.
समझ میں آیا؟ تو اسی لیے آپ عارض میں جائیں گے، وہاں بھئی جوس وغیرہ کے ڈبے لکھے ہوں گے؛ تو اوپر لکھا ہوگا بھئی شراب الفواکہ یا فلاں چیز کا شربت وغیرہ، یہ لکھے ہوں گے۔ تو شراب ہر پینے والی۔۔۔ لیکن اصطلاح فقہاء کے اندر بھئی شراب نشہ آور مشروب کو کہتے ہیں.
فقہاء کی اصطلاح میں شراب کس کو کہتے ہیں مولانا؟ نشہ آور مشروب کو کہتے ہیں بھئی.
کیونکہ فقہاء نے احکام سے بحث کرنی ہے، وہ آگے چل کر قدوری کے اندر آپ کو بتلائیں گے بھئی فلاں شراب حلال ہے، فلاں کیا ہے، جائز ہے، فلاں جائز نہیں ہے؛ وہ نشہ آور چیزوں کی بحث کریں گے وہاں پر کہ جس میں نشہ ہے، وہ جائز نہیں ہے بھئی.
تو کہتے ہیں کل اشربۃ جیسے نشہ آور مشروب ہیں۔ والخل اور سرکہ ہے۔ والمرقی اور شوربہ ہے۔ وما الباقلا اور لوبیا کا پانی ہے بھئی.
باقلا لوبیا کو کہتے ہیں.
وما الورد اور گلاب کا پانی، یعنی عرق گلاب مراد ہے.
عرق گلاب وما الزردج.
زردج یہ بھی مولانا زعفران کی طرح ایک پودا ہے، جس کو کپڑے رنگنے کے لیے استعمال کرتے ہیں بھئی.
عصفر بوٹی ہے، اس کے لیے کپڑوں کو رنگا جاتا ہے؛ تو اس کے بھگوئے ہوئے پانی کو کیا کہتے ہیں جس پانی میں اس کو بھگو کر رکھا، رنگ وغیرہ نکل آیا وہ پانی کیا کہلاتا ہے؟ ماء الزردج بھئی.
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو دیکھو بھئی، ان سب چیزوں کے اندر اشربہ اس میں دیکھو، اور چیز پانی کے اندر ملائی بھئی! اور چیز پانی کے اندر ملائی، پانی کیا ہوگیا؟ نشہ آور ہوگیا، گاڑھا ہوگیا، تو طبیعت بدل گئی یا نہیں بھئی؟ نام بھی بدل گیا یا نہیں؟ نام ہیں ان کے مختلف مولانا، کئی نام آگے آئیں گے بھئی.
سرکہ ہے مولانا، جس کو کوئی پانی کہتا ہے؟ کوئی پانی نہیں۔ طبیعت پانی جیسی ہے یا الگ ہے اس کی؟ الگ ہے. اسی طرح شوربہ ہے، تو اور چیزیں دیکھو مل گئیں اور لوبیا کا پانی تو نام بدل گیا مولانا.
अच्छा भाई۔
اور ماء الزردج بھئی! ماء الزردج بھئی! اس کا حکم انہوں نے اس ان پانیوں میں ذکر کیا، جن سے طہارت جائز نہیں ہے بھئی.
سمجھ میں آیا؟ لیکن اس کا حکم اور زعفران کا ایک ہی حکم ہے، زعفران کا حکم آگے آنے والا ہے.
زعفران بھئی کسی پانی کے اندر، زعفران جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ ایک رنگدار بھئی زرد رنگ کا خوشبودار گھاس ہے مولانا، جس کو دواؤں وغیرہ میں اور کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے.
معروف ہے بھئی معروف.
تو وہ زعفران اگر کسی پانی کے اندر تھوڑا سا مل جائے، تو اس سے وہ پانی اپنی حقیقت سے نہیں نکلا بھئی، معمولی سا رنگ آگیا، کوئی اور اس میں تبدیلی نہیں آئی.
سمجھ میں؟ اسی طرح زردج، ماء الزردج بھی اسی طرح ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے مولانا، اس کے لیے بھی کیا ہے وضو وغیرہ کرنا جائز. لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ وہ تھوڑی مقدار میں ملے، ہلکا سا رنگ آیا، اگر پھونک زیادہ ملا دیا، جس کی وجہ سے کیا ہوگیا؟
پانی کے رنگ، بو، ذائقے وغیرہ میں دو اوصاف بدل گئے، تو پھر نہیں، آگے تفصیل آ رہی ہے بھئی۔ بہرحال، یہ یاد رکھنا ماء الزردج کو صاحب قدوری نے کس کے ساتھ ذکر کیا ہے؟
یہ جن کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن صاحب ہدایہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس کا وہی حکم ہے جو ماء زعفران؛ تو یہ ماء زعفران، ہاں ایک
جو ہے، تاویل کے لیے یہ یہاں بھی صحیح ہے. کون سی صورت؟ جب کہ زرد خوب کیا ہو جائے؟ رنگ اس میں آ جائے، بالکل رنگ ہی بدل گیا مولانا یا گاڑھا ہوگیا، تو پھر اس صورت میں بات صحیح ہے بھئی.
وتجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه
اور جائز ہے پاکی بماء ایسے پانی کے ساتھ خالطه شيء طاهر جس کے ساتھ مل گئی ہو کوئی پاک چیز فغير أحد أوصافه تو بدل ڈالا اس نے اس کے پانی کے اوصاف میں سے ایک کو کماء المد جیسے کہ سیلاب کا پانی ہے بھئی کماء المد سیلاب کا پانی بھئی.
بھئی تین اوصاف ہیں پانی کے، رنگ، بو، ذائقہ. کتنے اوصاف؟ تین. رنگ، بو، ذائقہ.
صورت سمجھ میں آگئی؟
اب اگر کوئی پاک چیز پانی کے اندر مل جائے اور پانی کے تین اوصاف میں سے صرف ایک وصف بدلا ہے، تو کوئی حرج نہیں مولانا، اس پانی سے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ وضو بھی کر سکتے ہیں اور غسل بھی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی، تھوڑا سا زعفران مل گیا، ہلکا سا پانی میں رنگ آگیا.
سمجھ میں آیا؟
تو ایک وصف تو بدل گیا، رنگ تھوڑا سا معمولی سا بدل گیا، لیکن بو اور ذائقہ تو وہی ہے.
یا اسی طرح آگے آئے گا مولانا، صابن مل گیا بھئی پانی کے ساتھ، لیکن معمولی سا ملا ہے، ایک وصف کیا ہوا ہے صرف بدلا ہے.
سمجھ میں آیا؟ تو اس ان کے ساتھ جائز ہے وضو وغیرہ. ہاں اگر زیادہ مل جائے بھئی، تو پھر اس صورت میں دو اوصاف بدل جائیں گے بھئی، رنگ بھی بدل جائے گا اور ذائقہ بدل جائے گا، بلکہ ہو سکتا ہے بو بھی بدل جائے، تو پھر اس صورت میں اگرچہ پاک چیز ملی ہے، لیکن اب اس کے ساتھ وضو وغیرہ کرنا جائز نہیں.
تو یہی بات کر رہے ہیں کہتے ہیں وتجوز الطهارة بماء خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه اور جائز ہے طہارت ایسے پانی کے ساتھ کہ مل گئی ہو اس کے ساتھ کوئی پاک چیز تو اس نے بدل ڈالا اس کے اوصاف میں سے ایک کو کماء المد جیسے سیلاب کا پانی ہے بھئی سیلاب کا پانی آتا ہے، مٹی ملی ہوتی ہے یا نہیں ملی ہوتی ساتھ بھئی؟
ملی ہوئی ہوتی ہے. جی؟ ملی ہوئی ہوتی ہے؛ تو دیکھو رنگ بدل گیا.
وال والماء الذي يختلط به الأشنان، اس کو اشنان بھی پڑھ سکتے ہیں، اشنان بھی پڑھ سکتے ہیں. حمزہ کے اوپر ضمہ بھی صحیح اور کسرہ بھی صحیح ہے.
والماء الذي اور وہ پانی يختلط به الأشنان جس کے ساتھ اشنان بوٹی مل گئی ہو، یہ اشنان بھی کوئی بوٹی ہے مولانا، جسے کیا کرتے ہیں؟ کوئی صفائی وغیرہ کے لیے پانی میں ملاتے ہیں، اس سے
سمجھ میں آیا؟
وصابون بھئی! اور اسی طرح وہ پانی جس کے ساتھ کیا مل جائے؟ صابون و زعفران اور جس کے ساتھ کیا مل جائے؟ زعفران بھئی! زعفران.
اور میں نے کیا بتلایا، تھوڑا سا ملا ہو بھئی جس سے کیا ہو تین اوصاف میں سے صرف ایک بدلا ہو ایک.
دو بدل گئے، پھر کیا حکم آپ لگا دیں گے بھئی؟
جائز نہیں ہے.
وكل ماء دائم إذا وقعت فيه نجاسة لم يجز الوضوء به قليلا كان أو كثيرا اور ہر کھڑا پانی، ماء دائم کہتے ہیں جو کھڑا ہوا پانی ہے، ایک تو ماء جاری ہے بھئی دریا کے اندر پانی بہ رہا ہے، نہر میں وہ ماء جاری کہلاتا ہے، اور ایک جگہ کھڑا ہوا پانی وہ کیا کہلاتا ہے؟ ماء دائم بھئی.
اور کھڑا ہوا اور ہر کھڑا ہوا پانی إذا وقعت فيه نجاسة جب اس کے اندر کوئی نجاست گر جائے، لم يجز الوضوء به تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے. صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تھوڑی سی نجاست بھی گر گئی، بس مولانا پانی نجس ہوگیا.
قليلا كان أو كثيرا، تھوڑا ہو یا زیادہ بھئی، تھوڑا ہو یا زیادہ.
لان النبي صلى الله عليه وسلم أمر بحفظ الماء من النجاسة اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے بحفظ الماء پانی کی حفاظت کا من النجاسة کس سے؟ نجاست سے.
نجاست سے حفاظت کا حکم فرمایا ہے فقال پس فرمایا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے کہ نجاست سے پانی کی حفاظت کرو، بھئی معلوم ہوا آگے آنے والی احادیث میں دیکھنا بھئی پانی میں نجاست، پانی کی کیا کو نجاست سے بچانے کا حکم دیا، معلوم ہوا نجاست کے گرنے سے پانی کیا ہو جاتا ہے؟ ناپاک ہو جاتا ہے. فقال তো حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لا يبولن أحدكم في الماء الدائم لا يبولن ہرگز کوئی پیشاب نہ کرے بھئی لا يبولن أحدكم تم میں سے کوئی ہرگز پیشاب نہ کرے في الماء الدائم کھڑے ہوئے پانی میں.
ولا يغتسلن فيه من الجنابة اور ہرگز اس کے اندر غسل نہ کرے جنابت سے.
سمجھ میں آیا بھئی پانی کھڑا ہوا ہے، بھیا ایک شخص جا کر اس میں غسل جنابت کر لیتا ہے، نہیں بھئی بات سچی درست نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ منع فرمایا، سارا پانی ورنہ نجس ہو جائے گا بھئی.
وقال عليه السلام دوسری حدیث ہے مولانا، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں إذا استيقظ أحدكم من منامه جب بیدار ہو تم میں سے کوئی ایک من منامه اپنی نیند سے فلا يغمسن يده في الإنا في الإناء تو وہ ہرگز نہ ڈالے ہرگز نہ ڈالے، ہرگز نہ ڈوبوے يده اپنے ہاتھ کو في الإناء برتن کے اندر حتى يغسلها ثلاثا یہاں تک کہ اسے کتنی دفعہ دھو لے؟ تین دفعہ تین دفعہ دھو لے فإنه لا يدري اس لیے کہ وہ شخص نہیں جانتا أين باتت يده کہ کہاں رات گزاری ہے اس کے ہاتھ نے با تا کا معنی رات گزارنا، سمجھیں اسے پتہ نہیں ہے اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری، ہو سکتا ہے کوئی نجاست وغیرہ اس کے ہاتھ پر لگ گئی ہو، تو وہ پانی میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ سارا پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس، لہذا پہلے کیا کر لینا چاہیے؟ دھو لینا چاہیے.
चलिए बस مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام.