Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-078

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 14 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 189
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
الْجَمْعُ: هُوَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَعَدِّدٍ فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ، كَقَوْلِهِ: ”إِنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ مَفْسَدَةٌ لِلْمَرْءِ أَيُّ مَفْسَدَةٍ“. علمِ بدیع میں مختلف قسم کے محسناتِ معنویہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ آج ہم جمع، تفریق، اور تقسیم، اور اسی طرح لف و نشر یعنی طی و نشر کے بارے میں انشاء اللہ پڑھیں گے بھئی۔ سب سے پہلے جمع کے بارے میں بتلا رہے ہیں۔ بھئی، جمع آسان ہے۔ جمع یہ ہے کہ اپ دو یا تین چیزوں کو شمار کرتے دو یا تین چیزوں کو اور ان پر ایک ہی حکم لگا دیتے ہیں۔ دو یا تین چیزوں پر کیا کرتے ہیں؟ ایک ہی حکم لگا دیتے ہیں۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: زید اور عمر اور بکر تینوں محنتی ہیں۔ دیکھو، میں نے تینوں پر کیا کیا؟ ایک ہی حکم لگا دیا کہ وہ سب کیا ہیں؟ محنتی۔ یہ ہے جمع بھئی، سب کو ایک حکم میں جمع کر دیا۔ تو جمع کے اندر بھی اسی طرح ہوتا ہے مختلف چیزوں کو جمع کر دیا جاتا ہے ایک حکم میں، یعنی ایک ہی حکم سب پر لگا دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ آسان ہے۔ الْجَمْعُ جمع جو ہے، هُوَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَعَدِّدٍ فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ وہ یہ ہے کہ جمع کیا جائے متعدد چیزوں کو ایک ہی حکم کے اندر، كَقَوْلِهِ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: إِنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ۔ إِنَّ الشَّبَابَ شباب کہتے ہیں جوانی کو، وَالْفَرَاغَ فراغ، فرصت بھئی، فرصت۔ کہ انسان کی کوئی مشغولیت وغیرہ نہ ہو، وَالْجِدَةَ بھئی جدۃٌ تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ نہیں، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ تو یہ جدۃٌ لفظ نہیں ہے بھئی، یہ جِدَةٌ ہے جِدَةٌ، جیم کے نیچے کسرہ اور دال پر فتحہ ہے، شد نہیں ہے بھئی، جِدَةٌ۔ اور تا ہے تا۔ لیکن تا پر نقطے نہ لگائیں کیونکہ یہاں وقف کرنا ہے، وقف کرنا ہے۔ جِدَةٌ نہیں پڑھنا والجدۃٌ، بلکہ والجِدَهْ بھئی، وقف کرنا ہے۔ اور جِدَةٌ یاد رکھیے یہ دولت کو کہتے ہیں، دولت کو کہتے ہیں اور مادہ اس کا جِدَةٌ کا وجد ہے وجد۔ جِدَةٌ بر وزنِ عِدَةٌ بھئی، جیسے وعد سے مصدر کیا آتا ہے؟ عِدَةٌ، اسی طرح وجد سے ایک مصدر کیا آتا ہے؟ جِدَةٌ بھی، جی۔ إِنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ بے شک جوانی اور فرصت اور مالداری جو ہے مَفْسَدَةٌ، بھئی یہ مفسدۃٌ لکھا ہوا ہے آپ کی کتابوں میں؟ مفسدہ نہیں بھئی، مَفْسَدَةٌ، مَفْسَدَةٌ۔ مَفْسَدَةٌ یاد رکھیے یہ مصدر ہے مصدر۔ اور اسی طرح یہ سببِ فساد کو بھی کہتے ہیں۔ مفسدہ کسے کہتے ہیں؟ سببِ فساد، وہ چیز جو فساد کی طرف لے جانے والی ہو، یعنی باعثِ فساد۔ تو شاعر کہتا ہے: مَفْسَدَةٌ کہ یہ تین چیزیں جو ہیں باعثِ فساد ہیں، یہ فساد کا سبب ہیں، لِلْمَرْءِ آدمی کے لیے۔ یہ مرد کے لیے کیا ہیں؟ فساد کا سبب ہیں، أَيُّ مَفْسَدَةٍ، أَيُّ مَفْسَدَةٍ بھئی، یہاں پھر وہی مفسدہ لفظ آیا بھئی، یہ مفسدہ نہیں ہے بھئی۔ اور نیز اس کے آخر میں بھی وہی تا ہے، گول تا ہے، لیکن وقف کیا جائے گا تو وہ ہا بن جائے گی، أَيُّ مَفْسَدَهْ۔ اور یہ أَيُّ مَفْسَدَهْ یاد رکھیے یہ صفت ہے مَفْسَدَةٌ کی، مَفْسَدَةٌ أَيُّ مَفْسَدَةٍ أَيُّ مَفْسَدَهْ۔ بھئی، عربی زبان میں اس طرح صفت لائی جاتی ہے کامل ہونے کو بیان کرنے کے لیے، کوئی چیز پوری ہو، کامل ہو اس کو بیان کرنے کے لیے أَيُّ کے ساتھ اس کی صفت لاتے ہیں۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں: میرے پاس ایک بڑا ہی کامل مرد آیا، تو میں کہوں گا: جَاءَنِي رَجُلٌ أَيُّ رَجُلٍ، جَاءَنِي رَجُلٌ أَيُّ رَجُلٍ۔ تو دیکھو، أَيُّ رَجُلٍ کے ساتھ میں نے رجل کی صفت میں لے کر آیا أَيُّ کے ساتھ، کیا بتلانے کے لیے؟ کمال کو بتلانے کے لیے، کامل ہونے کو بتلانے کے لیے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی ہے کہ مَفْسَدَةٌ لِلْمَرْءِ أَيُّ مَفْسَدَهْ کہ یہ سبب ہیں فساد کا آدمی کے لیے أَيُّ مَفْسَدَهْ بڑے ہی کامل سبب، کامل فساد کا سبب ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ بھئی، جوانی بھی ہو، فرصت ہو انسان کی کوئی مشغولیت بھی نہیں ہے اور مالداری دولت بھی ہے، تو یہ ایک شاعر کہتا ہے یہ تین چیزیں بڑے ہی فساد کی بڑی ہی کامل فساد کے بڑے ہی کامل اسباب میں سے ہیں یہ تین چیزیں بھئی۔ تو دیکھیے، شاعر نے تین چیزوں کو جمع کر دیا: جوانی، فرصت، اور مالداری، اور ان تینوں پر کیا حکم لگا دیا کہ یہ تینوں کیا ہیں؟ فساد کا کامل سبب ہیں بھئی۔ إِنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ مَفْسَدَةٌ لِلْمَرْءِ أَيُّ مَفْسَدَةٍ بے شک جوانی اور فرصت اور مالداری آدمی کے لیے بڑے ہی کامل فساد کا سبب ہیں، کامل فساد کا باعث ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ تین چیزوں پر کیا کیا گیا؟ ایک ہی حکم لگا دیا گیا کہ یہ فساد کا سبب ہیں۔ التَّفْرِيقُ: هُوَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ شَيْئَيْنِ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ۔ بھئی، تفریق جمع کا عکس ہے۔ جمع میں کیا کرتے تھے؟ تین دو یا دو سے زیادہ مختلف قسم کی چیزوں کو ایک ہی حکم میں جمع کر دیا جاتا تھا۔ تفریق میں یہ ہوگا کہ ایک جیسی چیزوں کو الگ الگ کر دیا جائے گا، ان میں فرق بیان کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ چیزیں ایک جیسی ہیں لیکن ان میں کیا کر دیا جائے گا؟ فرق بیان کر دیا جائے گا۔ التَّفْرِيقُ: هُوَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ شَيْئَيْنِ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ تفریق وہ یہ وہ جدا کرنا ہے، جدائی کرنا ہے دو چیزوں کے درمیان مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ وہ دو چیزیں جو ایک ہی نوع سے ہوں، ایک ہی قسم کی ہوں۔ کم از کم دو ہوں گی بھئی، دو ہونا ضروری نہیں، دو ہوں یا تین ہوں جتنی بھی چیزیں ہیں، لیکن ایک ہی قسم کی ہوں گی اور ان میں کیا کر دی جائے گی؟ جدائی بیان کر دی جائے گی اور فرق کر دیا جائے گا، كَقَوْلِهِ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ ... كَنَوَالِ الأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ فَنَوَالُ الأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ ... وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءِ مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ نوال، نوال کہتے ہیں عطا کو بھئی، عطا، عطا اور انعام بھئی۔ غمام کہتے ہیں بادل کو، بادل کو۔ وقتِ ربیع، ربیع کہتے ہیں بہار کو، بہار کو۔ مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ كَنَوَالِ الأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ نہیں ہے بادل کی عطایا وقتِ ربیع بہار کے وقت، بہار کے وقت جو بادل کی عطایا ہیں وہ نہیں ہیں كَنَوَالِ الأَمِيرِ امیر کی عطایا کی طرح، يَوْمَ سَخَاءِ سخاوت والے دن۔ مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ كَنَوَالِ الأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ بہار کے وقت میں بادل کی جو عطایا ہیں، وہ عطایا امیر کی سخاوت والے دن جو اس کی عطایا ہوتی ہیں، ان کی طرح نہیں ہیں۔ فَنَوَالُ الأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ فَنَوَالُ، یہ فا تعلیلیہ ہے، فا کیا ہے؟ تعلیلیہ۔ آپ نے پڑھا ہے اصولِ الشاشی اور نور الانوار کے اندر کہ فا تعلیل کے لیے آتی ہے اور اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ بعض اوقات علت بیان کی جاتی ہے۔ اور اس کا ترجمہ پھر "کیونکہ" کے ساتھ کریں گے، کیونکہ یا "اس وجہ سے"۔ فَنَوَالُ الأَمِيرِ پس اس وجہ سے کہ امیر کی جو عطا ہے بَدْرَةُ عَيْنٍ، بدرۃُ عین یاد رکھیے، یہ دس ہزار درہم کو کہتے ہیں۔ بدرۃُ عین کسے کہتے ہیں؟ دس ہزار درہم کی جو تھیلی ہو، اس کو بدرۃُ عین کہتے ہیں۔ اور بعضوں نے لکھا کہ بھیڑ کے بچے کی کھال جو ہے، بھیڑ کے بچے کی کھال کو دراہم سے بھر دیا جائے تو یہ ہے بدرۃُ عین۔ اور بات وہی ہے بھئی، اس یہ اس کی مقدار کتنی ہے، تقریبًا اس کا اندازہ کتنا لگایا گیا ہے؟ 10 ہزار دراہم اس میں آ جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَنَوَالُ الأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ کیونکہ امیر کی جو عطا ہے، وہ دس ہزار درہم کی تھیلی ہے، وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءِ اور بادل کی عطا جو ہے قطرہُ ماءٍ پانی کا ایک قطرہ ہے۔ بادل تو صرف بارش برسائے گا، لیکن امیر کیا کرتا ہے سخاوت والے دن؟ وہ 10 ہزار درہم کی تھیلی دے دیتا ہے۔ تو دیکھیے، تفریق یہاں پر سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک ہے بادل کی عطا، ایک ہے امیر کی عطا، ہیں دونوں عطا ایک ہی چیز ہیں۔ ہیں دونوں ایک ہی چیز ہیں، لیکن شاعر نے دونوں میں تفریق کر دی اور بتلا دیا: ایک اعلیٰ ہے، ایک ادنیٰ ہے۔ حالانکہ دونوں کیا تھیں؟ ایک ہی نوع کی چیزیں تھیں، تو دونوں میں تفریق کر دی دونوں کے مختلف ہیں، ایک اعلیٰ ہے اور ایک ادنیٰ ہے۔ مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ كَنَوَالِ الأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ فَنَوَالُ الأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءِ پس نہیں ہے بادل کی عطا بہار کے وقت میں جیسے کہ امیر کی عطا ہوتی ہے سخاوت والے دن۔ فَنَوَالُ الأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ اس وجہ سے کہ امیر کی جو عطا ہے وہ 10 ہزار درہم کی ایک تھیلی ہوتی ہے اور بادل کی عطا جو ہے وہ ایک قطرہ پانی ہی تو ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ تین چیزوں پر کیا کیا گیا؟ ایک ہی حکم لگا دیا گیا کہ یہ فساد کا سبب ہیں۔ التَّقْسِيمُ: هُوَ إِمَّا اسْتِيفَاءُ أَقْسَامِ الشَّيْءِ۔ اب تیسری صنعت آ گئی تقسیم بھئی، تقسیم۔ تقسیم، متعدد صورتیں ہیں اس کی بھئی، تقسیم کی متعدد صورتیں ہیں۔ تین صورتیں یہ یہاں ذکر کریں گے تقسیم کی۔ ایک صورت یہ کہ ایک چیز کی جتنی ممکنہ صورتیں ہوں، ممکنہ قسمیں ہوں، سب کو شمار کر لینا، یہ ہے تقسیم بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک چیز کی جتنی بھی قسمیں ہیں، ان سب کو کیا کر لینا؟ شمار کر لینا، یہ ہے تقسیم بھئی، ساری قسموں کو شمار کر لیا جائے۔ دیکھیے، پہلے یہی بیان کر رہے ہیں، پہلے یہ ترتیب سے پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ باقی قسمیں آگے آ رہی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: التَّقْسِيمُ: هُوَ إِمَّا اسْتِيفَاءُ أَقْسَامِ الشَّيْءِ استیفاء کا معنی ہے پورا کرنا بھئی، استیفاء کا کیا معنی ہے؟ پورا کرنا۔ هُوَ إِمَّا اسْتِيفَاءُ أَقْسَامِ الشَّيْءِ وہ کسی چیز کی اقسام کو پورا کرنا ہے، یعنی اس کی ساری قسموں کو شمار کر لینا، کسی چیز کی قسموں کو پورا کرنا یعنی اس کی سارے قسموں کو شمار، یعنی کوئی قسم رہے نہ بس ساری قسموں کو آپ شمار کر دیں ایک چیز کی، تو یہ اس تقسیم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: التَّقْسِيمُ: هُوَ إِمَّا اسْتِيفَاءُ أَقْسَامِ الشَّيْءِ تقسیم وہ یا تو کسی چیز کی تمام اقسام کو پورا کر لینا ہے، نَحْوُ قَوْلِهِ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: وَأَعْلَمُ عِلْمَ الْيَوْمِ وَالأَمْسِ قَبْلَهُ ... وَلَكِنَّنِي عَنْ عِلْمِ مَا فِي غَدٍ عَمِي شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ آج جو ہو رہا ہے میں وہ بھی جانتا ہوں، جو ماضی میں گزشتہ کل میں ہوا تھا وہ بھی میں جانتا ہوں، لیکن آگے آئندہ آنے والے کل میں کیا ہوگا میں اس سے جاہل ہوں، مجھے اس کا علم نہیں ہے بھئی۔ اب دیکھیے بھئی، علم زمانے کے اعتبار سے علم کی تین ہی صورتیں ہو سکتی تھیں، شاعر نے سب کو شمار کر دیا۔ زمانے کے اعتبار سے علم کی کتنی صورتیں تھیں؟ تین ہی صورتیں، کیونکہ زمانہ تین قسم کا ہے: یا حال ہے، یا ماضی ہے، یا مستقبل ہے، مستقبل ہے۔ تو شاعر نے ماضی کا علم بھی ذکر کر دیا، حال کا علم بھی ذکر کر دیا اور مستقبل کا علم بھی، تو ساری قسمیں شمار کر دیں۔ وَأَعْلَمُ عِلْمَ الْيَوْمِ اور میں جانتا ہوں آج کا علم بھی، وَالأَمْسِ اور وہ کل، امس کہتے ہیں گزشتہ کل جو گزرا ہوا کل ہوتا ہے، وَالأَمْسِ اور گزشتہ کل کا علم بھی، قَبْلَهُ جو اس آج سے پہلے۔ میں آج کا علم بھی جانتا ہوں وَالأَمْسِ قَبْلَهُ اور اس گزشتہ کل کا بھی قَبْلَهُ جو اس آج سے پہلے گزرا ہے۔ وَلَكِنَّنِي عَنْ عِلْمِ مَا فِي غَدٍ، غد، غد کہتے ہیں آنے والا کل، لیکن میں آنے والے کل کے علم سے عَمِيٌ، اندھا ہوں، اس سے اندھا ہوں، جاہل ہوں۔ یہ بھی اعمیٰ جیسے اعمیٰ آتا ہے اندھے کے لیے، اسی طرح عَمِیٌ یہ لفظ بھی استعمال ہوتا ہے جو بصیرت سے خالی ہو، یعنی جاہل ہو بھئی، جاہل، اندھا اور جاہل ہو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تین قسمیں تھیں علم کی زمانے کے اعتبار سے: آج کا علم، ماضی کا علم، اور آنے والے دن کا آنے والے دن کا علم، وہ ساری اس نے شمار کر دیں یعنی مستقبل کا علم۔ وَأَعْلَمُ عِلْمَ الْيَوْمِ وَالأَمْسِ قَبْلَهُ ... وَلَكِنَّنِي عَنْ عِلْمِ مَا فِي غَدٍ عَمِي اور میں جانتا ہوں آج کا علم بھی اور اس گزشتہ کل کا علم بھی جو آج سے پہلے ہے، لیکن میں انے والے دن کے علم سے عَمِيٌ جاہل ہوں بھئی، جاہل ہوں۔ بھئی، یہ پہلی صورت تھی، تقسیم کی پہلی صورت کیا تھی؟ کہ ایک چیز کی جتنی بھی قسمیں ہیں، ان سب کو شمار کر لینا، یہ پہلی قسم تھی۔ دوسری قسم: وَإِمَّا ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ وَإِرْجَاعُ مَا لِكُلٍّ إِلَيْهِ عَلَى التَّعْيِينِ۔ بھئی، دوسری قسم یہ ہے، ادھر دیکھیے بھئی، تقسیم کی دوسری صورت کہ آپ دو یا تین یا زیادہ چیزوں کو اپنے کلام میں ذکر کرتے ہیں اور پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ کوئی بات یا کوئی حکم ذکر کرتے چلے جاتے ہیں اور تعین بھی کر رہے ہیں کہ یہ جو اگلی بات ہے، اس کا تعلق پہلی سے ہے، اس دوسری کا دوسری سے ہے، تیسری کا تیسری سے ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً، کہ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: میرے پاس زید، عمر، بکر آئے۔ تو زید جو ہے میں نے اس کا اکرام کیا، عمر کی میں نے پٹائی کی اور بکر سے میں نے کچھ نہیں کہا۔ دیکھو، پہلے تین کا ذکر آیا، کون کون آئے تھے میرے پاس؟ زید، عمر، بکر، تین کا ذکر آ گیا۔ اب آگے ہر ایک سے متعلقہ بات تعین کے ساتھ میں بتلا رہا ہوں کہ زید کے ساتھ کیا کیا میں نے اس کا اکرام کیا۔ بکر کے عمر کے میں نے کیا کی؟ پٹائی کی اور بکر کو میں نے کچھ، تو دیکھو تعین کے ساتھ ہر ایک سے متعلقہ کوئی بات ذکر ہوتی چلی جا رہی ہے اور تعین ضروری ہے بھئی یاد رکھنا۔ اگر تعین نہ ہو اور سننے والے کے حوالے آپ کر دیں کہ وہ خود ہی سمجھ جائے گا، پہلی بات کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے ہے، تیسری کا کس سے، اس کو لف و نشر کہتے ہیں، یہ بھی آگے قسم آ رہی ہے۔ کیا تقسیم کی دوسری صورت کیا ہے؟ کہ چند چیزیں ذکر کی جائیں اور پھر ہر ایک سے متعلقہ آگے کوئی حکم یا کوئی بات ذکر کی جائے اور ان میں بھی تعین ہو، پتہ چل رہا ہو کہ پہلی بات کا تعلق پیچھے جو تین چار ذکر ہوئے تھے ان میں سے کس کے ساتھ ہے، دوسری بات کا تعلق پیچھے جو تین چار ذکر ہوئے تھے ان میں سے کس کے ساتھ ہے اور چوتھی بات اس کا تعلق کس کے ساتھ، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو اگر کہنے متکلم متکلم یہ تعین کر دیتا ہے، تو اس کو کہتے ہیں تقسیم کہ اس نے تعین کر دی، پہلی بات کا تعلق مثلاً پہلی چیز سے، دوسری بات کا تعلق دوسری چیز، تیسری چیز کا تعلق تیسری بات کا تعلق تیسری چیز سے، یہ اگر متکلم تعین کر دے تو اس کو کہتے ہیں تقسیم۔ اور اگر متکلم تعین نہیں کرتا بلکہ سننے والے کے حوالے کر دیتا ہے کہ یہ خود ہی سمجھ جائے گا، پہلی بات کا تعلق پہلی سے ہے، دوسری کا دوسری سے ہے، تیسری کا تیسری، تو اس کو لف و نشر کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لف و نشر، یہ آگے قسم۔ تو اگر تعین ہو تو وہ کیا ہے؟ تقسیم، اگر تعین نہ ہو تو وہ لف و نشر ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَإِمَّا ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ اور تقسیم وہ یا تو متعدد چیزوں کو ذکر کرنا ہے، وَإِرْجَاعُ مَا لِكُلٍّ إِلَيْهِ عَلَى التَّعْيِينِ اور لوٹانا وہ جو ان میں سے ہر ایک کے لیے ہے عَلَى التَّعْيِينِ کس طریقے پر؟ تعین۔ لوٹانا ہر ایک کو جو اس کے لیے ہے یعنی جو حکم ہے، جو بات ہے اس کے لیے اس کو اس کی طرف لوٹانا عَلَى التَّعْيِينِ کس طریقے پر؟ تعین کے طریقے پر، كَقَوْلِهِ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: وَلاَ يُقِيمُ عَلَى ضَيْمٍ يُرَادُ بِهِ ... إِلاَّ الأَذَلَّانِ عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ ... وَذَا يُشَجُّ فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ شاعر کہتا ہے: وَلاَ يُقِيمُ، اقام یقیم کا معنی ہے ٹھہرے رہنا۔ عَلَى ضَيْمٍ، ضیم ضاد کے ساتھ، ضیم کہتے ہیں ظلم کو، ظلم بھئی۔ وَلاَ يُقِيمُ عَلَى ضَيْمٍ اور ٹھہرے نہیں رہتے ایسے ظلم پر يُرَادُ بِهِ جن کے ساتھ اس کا ارادہ کیا گیا۔ وَلاَ يُقِيمُ اور کوئی نہیں ٹھہرتا عَلَى ضَيْمٍ ایسے ظلم پر يُرَادُ بِهِ جس کے ساتھ اس کا ارادہ کیا جائے، جس کے ساتھ کیا کیا جائے؟ ظلم کیا جاتا ہے اور باقاعدہ ارادہ کر کے اسی پر کیا کیا جاتا ہے؟ ظلم، تو کوئی بھی ایسے ظلم پر ٹھہرتا نہیں، وہاں سے چلا جاتا ہے، إِلاَّ الأَذَلَّانِ مگر دو اذلان کے، یعنی دو انتہا سب سے زیادہ حقیر اور بے وقعت چیزوں کے۔ الاذل، جو سب سے زیادہ حقیر ہو، سب سے زیادہ بے وقعت ہو یعنی جس کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ إِلاَّ الأَذَلَّانِ مگر دو سب سے زیادہ بے حق سب سے زیادہ حقیر اور بے وقعت چیزیں، وہ کیا ہیں؟ عَيْرُ الْحَيِّ، عیر کہتے ہیں گدھے کو بھئی، عیر گدھا۔ حی محلہ، محلہ۔ عَيْرُ الْحَيِّ محلے کا جو گدھا ہے، محلے کا جو مراد پالتو گدھا ہے، کیونکہ گدھا آپ جانتے ہیں دو قسم کا ہے: ایک یہ پالتو اور ایک وحشی اور جنگلی بھئی، جنگلی گدھا۔ تو یہاں عَيْرُ الْحَيِّ محلے کے گدھے سے کیا مراد ہے؟ پالتو گدھا۔ وَالْوَتَدُ اور دوسری چیز جو ہے، وتد ہے، وتد کہتے ہیں میخ کو بھئی، میخ، کیل، جو آپ دیوار میں کوئی چیز وغیرہ لٹکانی ہو، میخ لگاتے ہیں، یہ وتد ہے وتد بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: وَلاَ يُقِيمُ عَلَى ضَيْمٍ يُرَادُ بِهِ إِلاَّ الأَذَلَّانِ عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ اور نہیں ٹھہرا رہتا کوئی ایک بھی ایسے ظلم پر جس کے ساتھ اس کا ارادہ کیا جائے مگر دو سب سے زیادہ حقیر چیزیں: عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ، ایک پالتو گدھا ہے اور ایک کیل ہے یعنی میخ ہے۔ هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ وَذَا يُشَجُّ فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ هَذَا عَلَى الْخَسْفِ، خسف یہ کہتے ہیں ذلت کو بھئی، خسفٌ کا کیا معنی؟ ذلت۔ مربوطٌ بندھا ہوا، بِرُمَّتِهِ، رمۃٌ کہتے ہیں پرانی بوسیدہ رسی کا ٹکڑا۔ رسی کا بوسیدہ اور پرانا ٹکڑا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رمۃٌ۔ کہتا شاعر کہتا ہے: هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ یہ جو گدھا جو ہے عَلَى الْخَسْفِ ذلت پر مربوطٌ بندھا ہوا ہوتا ہے بِرُمَّتِهِ اپنی اپنی پرانی رسی کے ٹکڑے کے ساتھ، یہ اپنی پرانی رسی کے ساتھ ٹک کے رسی کے ٹکڑے کے ساتھ باندھا گیا ہوتا ہے عَلَى الْخَسْفِ کس پر؟ ذلت پر بھئی، یعنی ذلت کے ساتھ اس کو رکھا جاتا ہے۔ وَذَا، اور وہ جو کیل ہے يُشَجُّ، شج یشج کے معنی ہوتے ہیں سر پر زخم لگانا، سر زخمی کرنا۔ وَذَا يُشَجُّ اور اس کے سر کو زخمی کیا جاتا ہے فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ، رثا یرثی کے معنی ہیں افسوس والا کلام کہنا، تعزیتی کلام کہنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس کا صلہ لام آ جائے رثا یرثی کا، جیسے یہاں آیا: يَرْثِي لَهُ، کیا لہُ میں کیا آ رہا ہے؟ لام، تو رثا یرثی کے ساتھ جب لام آ جائے، اس کے ساتھ جب لام آ جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے ترس کھانے کے اور رحم کھانے کے۔ وَذَا يُشَجُّ اور وہ جو کیل ہے اس کے سر کو زخمی کیا جاتا ہے، بھئی سر کو زخمی کیا جاتا ہے، جب آپ کسی بھی چیز میں کیل لگاتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ کیل کے سر پر ہتھوڑے برساتے ہیں، ضربیں لگاتے ہیں۔ وَذَا يُشَجُّ اور اس کیل کے سر کو کوٹا جاتا ہے، فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ تو کسی ایک کو بھی اس پر ترس نہیں آتا بھئی، کسی ایک کو بھی اس پر ترس نہیں آتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ تو شاعر کہتا ہے: وَلاَ يُقِيمُ عَلَى ضَيْمٍ يُرَادُ بِهِ ... إِلاَّ الأَذَلَّانِ عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ ... وَذَا يُشَجُّ فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ اور کوئی ایک بھی باقی نہیں رہتا ایسے ظلم پر جس کے ساتھ اس کا ارادہ کیا جائے مگر دو سب سے زیادہ حقیر چیزیں: عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ، ایک محلے کا گدھا یعنی پالتو گدھا ہے وَالْوَتَدُ اور ایک کیل ہے یعنی میخ ہے، هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ یہ ذلت پر بندھا ہوا ہوتا ہے اپنی پرانی بوسیدہ رسی کے ساتھ، وَذَا يُشَجُّ اور وہ جو کیل جو ہے اس کو اس کے سر کو کوٹا جاتا ہے، فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ تو کسی کو اس پر ترس نہیں آتا۔ اب دیکھیے بھئی، دو چیزیں ذکر ہوئیں۔ تقسیم کی دوسری صورت ہم پڑھ رہے ہیں کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اور ہر ایک سے متعلقہ آگے حکم ذکر کیا جائے یا کوئی بات ذکر کی جائے اور اس میں بھی کہنے والا تعین کر دے کہ پہلی بات کا تعلق پہلی چیز سے ہے، دوسری کا تعلق دوسری چیز سے ہے۔ یہاں پر دو چیزیں شاعر نے ذکر کیں: ایک پالتو گدھا اور ایک کیل بھئی، کیل، میخ، اس کو ذکر کیا اور آگے دو حکم بیان کیے کہ یہ اپنی پرانی بوسیدہ رسی کے ساتھ ذلت پر بندھا ہوا ذلت کے ساتھ باندھا گیا ہوتا ہے اور دوسری کے سر کو کوٹا جاتا ہے اور تعین بھی کر دی کہ پہلی بات کا تعلق گدھے سے ہے۔ جو رسی پرانی رسی کے ساتھ باندھا گیا ہوتا ہے اس کا اس کا تعلق کس سے ہے؟ گدھے سے، اور اس سر کو کوٹا جاتا ہے اس کا تعلق کس سے ہے؟ کیل کے ساتھ ہے، یہ کہنے والے نے تعین کر دی۔ اگر یہ تعین نہ ہوتی تو اس کو ہم کیا کہتے؟ لف و نشر، لیکن کہنے والے نے چونکہ تعین کر دی، اس لیے اب اس کو لف و نشر نہیں کہیں گے، تقسیم کہیں گے۔ تو بس، تقسیم اور لف و نشر میں تعین اور عدمِ تعین کا فرق ہے، تعین ہو کہنے والے کی طرف سے تو یہ ہے تقسیم، اگر تعین نہ ہو کہنے والے کی طرف سے بلکہ سننے والوں کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ خود ہی سمجھ جائیں گے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لف و نشر۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے، یہاں تعین کیسے ہے بھئی؟ شاعر نے کہاں کہا کہ یہ پہلی بات کا تعلق گدھے سے ہے اور دوسری بات کا تعلق میخ سے ہے، کہاں کہا؟ کہتے ہیں: بھئی، آپ دیکھ نہیں رہے، پہلے کے لیے شاعر نے کہا "هَذَا" اور دوسری کے لیے صرف کہا "ذَا"۔ یہ هَذَا اور ذَا کے ذریعے دراصل شاعر نے بتلا دیا کہ کس کا تعلق کس سے ہے۔ کس طرح، دیکھیے بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ "ذَا" ہے اسمِ اشارہ قریب کے لیے، آپ بھی کہتے ہیں: هَذَا، هَذَا كِتَابٌ، یہ کیا ہے؟ کتاب ہے۔ یہ هَذَا كِتَابٌ کے اندر یاد رکھیے، یہ ذَا اسمِ اشارہ ہے اور یہ ہا تنبیہ کی ہے، کسی کو متوجہ کرنے کے لیے ہا کہا جاتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ ہا تنبیہ کی ہے اور ذَا اسمِ اشارہ ہے۔ اب دیکھیے، یہاں دو چیزیں ذکر تھیں کون کون سی؟ عَيْرُ الْحَيِّ اور وَتَدُ، اور آگے هَذَا سے شروع ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں حکم بیان کر رہے ہیں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ آگے حکم بیان ہو رہا ہے، حکم۔ اس سے پہلے دو چیزیں ذکر ہیں: وَتَدُ اور عَيْرُ الْحَيِّ، دونوں قریب ہیں، لیکن ایک زیادہ قریب ہے، ایک کم قریب ہے۔ آگے هَذَا کے، هَذَا کے، کون کم قریب ہے؟ کم قریب کون ہے؟ عَيْرُ الْحَيِّ، اور زیادہ قریب کون ہے؟ وَتَدُ، وَتَدُ بالکل اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھیے، یوں کہیے: ایک ہے اقرب، ایک ہے قریب۔ وَتَدُ ہے اقرب زیادہ قریب، اور عَيْرُ الْحَيِّ کیا ہے؟ قریب ہے، قریب تو ہے لیکن زیادہ قریب نہیں۔ اب دونوں کے لیے شاعر نے "ذَا" اسمِ اشارہ استعمال کیا، لیکن پہلے کے ساتھ تنبیہ کی ہا کو بھی بڑھا دیا، اشارہ کرنے کے لیے کہ یہ جو بات ہے، یہ اقرب والے کے لیے نہیں ہے بلکہ قریب والے کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ کیسے؟ بھئی دیکھیے نا، "ذَا" کیا ہے؟ اسمِ اشارہ، تو دیکھیے، پیچھے دو چیزیں ذکر ہیں: ایک ہے قریب، ایک ہے زیادہ قریب۔ توجہ ہے؟ ایک ہے قریب، ایک ہے زیادہ قریب۔ اگر "ذَا" کہہ دیا جائے، تو "ذَا" سے پتہ چل گیا کہ چیز قریب ہے، چیز کیا ہے؟ قریب، لیکن شاعر نے اس کے ساتھ تنبیہ والی ہا بھی ملا دی، معلوم ہو قریب تو ہے لیکن زیادہ قریب نہیں، اسی لیے تنبیہ کی ہا کی بھی یہاں ضرورت پڑی، تنبیہ کی ہا ورنہ تو "ذَا" کافی تھا، لیکن شاعر نے کیا بڑھا دیا؟ ہا کو بھی ساتھ بڑھایا، معلوم ہوا زیادہ قریب نہیں ہے یہ چیز، زیادہ قریب نہیں ہے، اسی لیے اس کے ساتھ ہا کی بھی ضرورت پڑھ گئی اور جب زیادہ قریب نہیں، تو وہ زیادہ قریب نہیں، وہ کیا چیز ہے؟ عَيْرُ الْحَيِّ، وہ کیا ہے؟ اور دوسری میں ہا تنبیہ کی استعمال نہیں کی، یعنی یعنی یہ چیز زیادہ قریب ہے، اس میں تنبیہ کی ہا کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آئی؟ یہ ہے بلاغت بھئی، یہ ہے بلاغت۔ شاعر نے کتنی گہری بات کتنے کتنی شاعر نے یہ هَذَا اور ذَا لا کر کیسے گہری بات کی طرف اشارہ کر دیا بھئی۔ بات سمجھ میں بات سب کو سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی؟ ایک چیز زیادہ قریب تھی، ایک کم قریب، تو قریب کے لیے تو "ذَا" آتا ہے، شاعر نے تنبیہ کی ہا کو بھی بڑھا کر اشارہ کر دیا کہ یہ جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں، یہ کیا ہے؟ یہ زیادہ قریب نہیں ہے، اسی لیے مجھے کس کے لانے کی ضرورت پڑی؟ تنبیہ والی ہا بھی لانا پڑی، کیونکہ یہ چیز تھوڑی سی دور تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ وَذَا يُشَجُّ فَلاَ يَرْثِي لَهُ أَحَدُ، "هَذَا" یہ جو ہے، کس کی طرف اشارہ ہوا؟ گدھے کی طرف، یہ ذلت پر بندھا ہوا ہوتا ہے بِرُمَّتِهِ اپنی پرانی رسی کے ٹکڑے کے ساتھ، "وَذَا يُشَجُّ" اور وہ جو ہے "ذَا"، اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ؟ کیل کی طرف بھئی، یہ کس نے بتایا ہمیں کہ اس کے ساتھ تنبیہ والی ہا نہیں ہے؟ معلوم ہوا یہ اقرب کے لیے ہے اور هَذَا کس کے لیے ہے؟ قریب کے لیے، یعنی جو چیز تھوڑی سی دور ہے۔ دو صورتیں ہو گئیں تقسیم کی، پہلی کیا؟ پہلی تقسیم کی صورت یہ تھی کہ ایک چیز کی جتنی قسمیں ہیں ممکن ہیں، ان سب کو شمار کر لینا، یہ بھی تقسیم۔ دوسری قسم تقسیم کی کیا؟ کہ متعدد چیزوں کو ذکر کرنا اور ان میں سے تعین کرتے ہوئے ہر ایک سے متعلقہ بات بھی آگے ذکر کرتے چلے جانا۔ اب تیسری صورت آ گئی تقسیم کی: وَإِمَّا ذِكْرُ أَحْوَالِ الشَّيْءِ مُضَافًا إِلَى كُلٍّ مِنْهَا مَا يَلِيقُ بِهِ۔ تیسری صورت تقسیم کی بھئی، یہ ادھر دیکھیے، ایک چیز ہے، آپ اس کے آگے مختلف احوال ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: زید بیمار بھی ہوتا ہے، تندرست بھی ہوتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے اور کبھی غمگین بھی ہوتا ہے۔ دیکھو، زید کی کتنی حالتیں میں نے ذکر کر دیں۔ ایک ہی چیز کی متعدد حالتیں ذکر کرنا اور پھر ہر حالت سے کے ساتھ جو مناسب جو مناسب کوئی حکم ہو یا کوئی بات ہو، وہ بھی ذکر کرتے چلے جانا۔ ہر مثلاً میں نے کیا کہا؟ زید کی مثلاً فرض کرو میں دو حالتیں بیان کرتا ہوں، زید کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی غمگین ہوتا ہے، دو حالتیں بیان کر دیں اور ہر حالت کے ساتھ متعلقہ کوئی بات بھی میں کر دوں، مثلاً میں یوں کہوں: زید خوش ہوتا ہے جس دن چھٹی ہوتی ہے، زید غمگین ہوتا ہے جس دن سبق ہوتا ہے، دیکھا؟ دیکھو، ہر ایک کے ساتھ متعلق، خوش کب ہوتا ہے؟ جب چھٹی ہوتی ہے، دیکھو یہ چھٹی ہونے کا ذکر اس کے مناسب آ گیا، اور غمگین کب ہوتا ہے؟ جس دن سبق ہوتا ہے، تو دیکھو یہ اس کے ساتھ اس کے مناسب۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تیسری صورت ہے کہ ایک چیز کے متعدد احوال ذکر کرنا اور ہر حال کے مناسب اس کے ساتھ کوئی بات یا کوئی حکم وغیرہ ذکر کر دینا۔ کہتے ہیں: وَإِمَّا ذِكْرُ أَحْوَالِ الشَّيْءِ اور تقسیم یا تو وہ ذکر کرنا ہے ایک ہی چیز کے بہت سے احوال کو، مُضَافًا إِلَى كُلٍّ مِنْهَا اس حال میں کہ نسبت کی جائے ان میں سے ہر حال کی طرف، مَا يَلِيقُ بِهِ اس چیز کی جو اس کے مناسب ہو۔ كَقَوْلِهِ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا وَمَشَايِخٍ ... كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ ثِقَالٍ إِذَا لاَقَوْا خِفَافٍ إِذَا دُعُوا ... كَثِيرٍ إِذَا شَدُّوا قَلِيلٍ إِذَا عُدُّوا شاعر کہتا ہے: سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا عنقریب میں طلب کروں گا حَقِّي اپنے حق کو بِالْقَنَا، قناۃ جمع ہے قناۃ کی، گول تا کے ساتھ، قناۃ، قناۃ کہتے ہیں نیزے کو، نیزے کو۔ سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا عنقریب میں طلب کروں گا، میں مطالبہ کروں گا اپنے حق کا بِالْقَنَا نیزوں کے ساتھ، وَمَشَايِخٍ، مشائخ یہ غیر منصر ف ہے، لیکن وزنِ شعری کی بناء پر یہاں اس پر کسرہ اور تنوین آئے گی بھئی۔ تو مشائخ جمع ہے شیخ کی اور شیخ کہتے ہیں بوڑھے اور عمر رسیدہ انسان کو، بوڑھے اور عمر رسیدہ۔ اور شاعر کہتا ہے: سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا وَمَشَايِخٍ عنقریب میں طلب کروں گا اپنے حق کو نیزوں کے ساتھ وَمَشَايِخٍ اور تجربہ کار لوگوں کے ساتھ، مشائخ سے مراد بوڑھے نہیں ہیں بوڑھے، بلکہ مراد تجربہ کار ہیں بھئی، کیونکہ اور لیکن ذکر کیا اس کو مشائخ کے لفظ کے ساتھ، کیونکہ بوڑھوں کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے۔ تو میں عنقریب طلب کروں گا اپنے حق کو نیزوں کے ساتھ وَمَشَايِخٍ اور تجربہ کار لوگوں کے ساتھ، كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ گویا کہ وہ جو لوگ ہیں، وہ جو مشائخ ہیں مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا، التثم کے معنی ہوتے ہیں نقاب اوڑھنے کے، لثام نقاب کو کہتے ہیں۔ عرب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جنگ کرتے ہوئے عموماً وہ چہرے پر نقاب اوڑھتے تھے، یعنی وہی جو پگڑی باندھی ہوئی ہے، اسی کا ایک بل چہرے پر بھی باندھ لیتے تھے تاکہ ایک تو گرد و غبار اور مٹی سے حفاظت ہو اور نیز تاکہ پہچانے نہ جائیں بھئی، تو وہ یہ ان کا طریقہ تھا۔ تو شاعر بھی یہ کہتا ہے کہ وہ جو مشائخ ہیں، وہ جو تجربہ کار لوگ ہیں، انہوں نے بڑے لمبے عرصے سے اپنے چہروں پر نقاب باندھ رکھے ہیں، یعنی ہر وقت کہنا یہ چاہتا ہے وہ اتنے تجربہ کار لوگ ہیں ہر وقت جنگوں ہی میں مصروف رہتے ہیں۔ بھئی، نقاب تو کب باندھتے ہیں عرب؟ جنگ کے اندر، اور انہوں نے بڑے لمبے عرصے سے نقاب باندھ رکھے ہیں، معلوم ہوا بڑے لمبے عرصے سے یہ مسلسل کس میں مصروف ہیں؟ جنگوں میں مصروف ہیں، یعنی بڑے ہی تجربہ کار لوگ ہیں۔ جي، كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ، مُرْدٌ مُرد جمع ہے امرد کی، امرد۔ امرد وہ لڑکا جس کے ابھی داڑھی نہ آئی ہو، داڑھی آنے کے قریب ہو لیکن آئی نہ ہو، اس کو امرد کہا جاتا ہے اور اس کی جمع مُرْدٌ آتی ہے مُرْدٌ۔ تو كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ شاعر کہتا یہ ہے کہ انہوں نے بڑے لمبے عرصے سے نقاب اوڑھ رکھے ہیں، نقاب پہن رکھے ہیں، تو وہ یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے امرد ہیں، یعنی جن کی ہے تو وہ بڑے، داڑھیاں بھی ہیں، لیکن نقاب کے اندر انہوں نے اپنے چہروں کو چھپایا ہوا ہے، داڑھیاں بھی اسی میں چھپی ہوئی ہیں، تو یوں معلوم ہوتے ہیں وہ سارے گویا امرد ہیں، کیا ہیں؟ امرد ہیں جس کی ابھی داڑھی نہیں آئی بھئی۔ سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا وَمَشَايِخٍ كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ میں عنقریب طلب کروں گا اپنے حق کو نیزوں کے ساتھ اور ایسے تجربہ کار لوگوں کے ساتھ كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا گویا کہ وہ لمبے عرصے تک نقاب اوڑھنے کی وجہ سے مُرْدُ امرد ہیں، ثِقَالٌ إِذَا لاَقَوْا، ثِقَالٌ بوجھل ہیں، وزنی ہیں وہ لوگ، وہ مشائخ کیا ہیں؟ تو چاہے اس کو ثِقَالٌ پڑھیں، اس صورت میں یہ خبر بنے گی هم هُم ضمیر محذوف ہوگی، مبتدا۔ وہ لوگ وہ کیا ہیں؟ ثِقَالٌ بڑے وزنی ہیں۔ یا آپ چاہیں تو اس کو مشائخ کی صفت بنا دیں: ثِقَالٍ، وہ مشائخ مجرور تھا، تو یہ بھی کیا ہوں گے؟ مجرور، اور اسی طرح آگے خِفَافٌ، كَثِيرٌ اور قَلِيلٌ میں بھی یہی دونوں اعراب جاری کر سکتے ہیں: رفع بھی اور جر بھی۔ ثِقَالٌ وہ بڑے وزنی ہیں إِذَا لاَقَوْا جب وہ ملاقات کرتے ہیں۔ وہ مشائخ کیا ہیں؟ بڑے وزنی ہیں جب وہ ملاقات کرتے ہیں، یعنی جب دشمن سے ان کا سامنا ہوتا ہے تو بڑے بھاری پڑتے ہیں ان پر اور ان کو اپنے قدموں تلے کچل کر ہلاک کر دیتے ہیں، ختم کر دیتے ہیں۔ لاَقَوْا بھئی، لاقوا نہیں، لاَقَوْا، قاف پر فتحہ ڈالیں بھئی، لاقا، لاقیا، لاقوا۔ ثِقَالٌ وہ بڑے وزنی ہیں إِذَا لاَقَوْا جب وہ ملاقات کرتے ہیں، خِفَافٌ جمع ہے خفیف کی، ہلکے کو کہتے ہیں۔ خِفَافٌ وہ بڑے ہلکے ہیں إِذَا دُعُوا جب ان کو پکارا جاتا ہے۔ بھئی، جس کا وزن زیادہ ہوگا، بدن وزنی ہوگا، وہ ہر کام تیزی سے نہیں کر سکتا، لیکن جس شخص کا بدن ہلکا پھلکا ہو، وہ ہر کام دوڑ دوڑ کر کرتا ہے، تیزی سے کرتا ہے، تو شاعر یہی کہہ رہا ہے: خفاف، کہ وہ جب دشمن سے ملاقات کرتے ہیں تب تو بڑے وزنی ہیں، لیکن جب ان کو بلایا جائے کوئی جنگ ہو رہی ہے، کوئی مصیبت آ گئی ہے، تو بڑے ہلکے پھلکے ہیں، فوراً بھاگتے ہوئے دوڑتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ خِفَافٌ بڑے ہلکے ہیں ہلکے ہیں إِذَا دُعُوا جب ان کو پکارا جاتا ہے، كَثِيرٌ إِذَا شَدُّوا، بہت زیادہ ہیں وہ إِذَا شَدُّوا، شد یشد کے معنی ہیں حملہ کرنا، جب وہ حملہ کرتے ہیں۔ حملہ کرتے ہیں تو بہت زیادہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک ایک پوری جماعت کے برابر ہے جرأت اور بہادری کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے وہ جنگ کا غزوہ کا ذکر، جنگ کا ذکر آتا ہے کہ حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالی عنہ دشمن کی طرف سے کوئی عظیم جنگ ہو رہی تھی، نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں، بڑی مشہور لڑائی ہے بھئی، یہ اب نام نہیں میرے ذہن میں، تو اس لڑائی کے اندر دشمن کی طرف سے پہلے دن 60 ہزار دشمن مقابلے کے لیے آیا، صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ 60 ہزار، اندازہ لگائیے کتنی بڑی فوج ہوگی، اسلحے کے ساتھ لیس ہیں سارے، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں 60 ہزار دشمن مقابلے پر آئے تھے، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے لشکر میں چکر لگایا اور 30 آدمی مقابلے پر لے کر آ گئے سامنے، یعنی ہر دو ہزار کے مقابلے میں ایک آدمی وہ لے کر آئے، 30 آدمی دیکھیے، آپ کی جماعت میں لگ بھگ 30 کے قریب ہیں، یہ 30 آدمی کتنے ہوتے ہیں؟ اور دوسری طرف 60 ہزار لشکر ہو، ذرا سوچیے تو سہی انسان کانپ اٹھتا ہے کہ اور حیران حیران رہ جاتا ہے کتنی جرات تھی صحابہ کو اللہ نے کیسی ایمانی قوت نصیب فرمائی تھی بھئی! 60 30 آدمی لے آئے، پھر تو ساروں کے کہنے لگے کہ حضرت، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں 30 آدمی اور ادھر 60 ہزار ہیں، کیا ہم بڑا ساتھیوں نے زور لگایا لیکن وہ کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھے، البتہ پھر بالاخر بڑی مشکل سے اس بات پر تیار ہوئے کہ چلو 30 نہیں 60 کر لیتے ہیں، 60 ہزار کے مقابلے میں پھر 60 آدمی لے کر آئے مقابلے پر اور پھر کہتے ہیں وہ اور یہ 60 آدمی بھی عام آدمی نہیں تھے، یہ اتنے بڑے بڑے بہادر تھے کہ ان میں سے ایک ایک کے بارے میں جب عرب میں کوئی بہت بہادر ہوتا تھا تو اس کے بارے میں مشہور ہوتا تھا اور کہتے تھے یہ اکیلا ایک آدمی ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے، اکیلا ایک آدمی۔ تو حضرت وہ جو 60 لے کر آئے، ان میں سے ہر ایک اتنا مشہور تھا بہادری اور شجاعت میں کہ عرب والے کہتے تھے کہ یہ ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔ تو 60 آدمیوں کو لے کر آیا اور ان کا کہ یہ 60 ہزار کے مقابلے میں، میں 60 ہزار ہی لے کر آیا ہوں اور پھر ان کے ساتھ جنگ شروع کر دی، کہتے ہیں صبح سے شام تک جنگ ہوتی رہی بھئی، آپ اندازہ لگائیے آپ کے ہاتھ میں تلوار ہو اور تلوار کا بھی اتنا وزن ہوتا ہے، ایک دفعہ دو دفعہ گھمائیں تو آپ کے بازو میں درد شروع ہو جائے اور اس تلوار کے ساتھ آپ سارا دن ادھر مار رہے ہیں، اس ایک طرف مار رہے ہیں تلوار، دوسری طرف مار رہے ہیں، کتنی انہوں نے تیاری کی ہوگی، کتنی مشق کرتے ہوں گے جہاد کی صحابہ اور وغیرہ کتنی تیاری کرتے ہوں گے بھئی! تو وہ شام تک جنگ رہی بھئی، وہ 60 جو صحابہ اور مجاہدین جو تھے دشمن پر ایک طرف کبھی حملہ آور ہوتے صفوں کی صفیں الٹا دیتے، پھر کبھی دوسری طرف حملہ آور ہو جاتے، وہ 60 ہزار لگے ہوئے ہیں کسی طرح ان 60 آدمیوں کو قابو کر لیں، لیکن شام ہو گئی وہ کسی طرح ان کے قابو میں نہیں آئے اور شام کو جب جنگ ختم ہوئی، رکی، واپس آئے تو پتہ چلا مسلمانوں میں سے غالباً صرف ایک شہید ہوا ہے یا دو شہید ہوئے ہیں اور دشمن کے سینکڑوں آدمیوں کو انہوں نے قتل کر دیا تھا بھئی۔ یہ صحابہ تھے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور ان کی صحبت کے انوارات سمیٹنے والے لوگ تھے بھئی۔ تو تو یہ بھی شاعر کہہ رہا ہے اب دیکھیے سبق پر: كَثِيرٌ إِذَا شَدُّوا بہت زیادہ ہوتے ہیں وہ إِذَا شَدُّوا جب وہ حملہ کرتے ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کیا ہے؟ ایک پوری جماعت کے برابر ہے۔ قَلِيلٌ إِذَا عُدُّوا بڑے ہی تھوڑے ہیں إِذَا عُدُّوا جب ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ تو دیکھیے، شاعر نے مشائخ کے کئی احوال ذکر کر دیے: ثِقَالٌ وزنی ہیں، خِفَافٌ ہلکے ہیں، كَثِيرٌ بہت زیادہ ہیں، قَلِيلٌ بہت تھوڑے ہیں۔ چار احوال اور ہر حالت کے ساتھ جو اس کے مناسب ہے، اس کو بھی ذکر کر دیا۔ ثِقَالٌ وزنی ہیں، کب وزنی ہوتے ہیں؟ إِذَا لاَقَوْا جب دشمن سے ملاقات کرتے ہیں اور اس کا سامنا کرتے ہیں۔ خِفَافٌ ہلکے ہوتے ہیں، کب ہلکے ہوتے ہیں؟ إِذَا دُعُوا جب ان کو پکارا جاتا ہے، فوراً دوڑتے ہوئے چلے آتے ہیں۔ كَثِيرٌ بہت زیادہ ہیں، کب زیادہ ہیں؟ إِذَا شَدُّوا جب وہ حملہ کرتے ہیں۔ قَلِيلٌ بہت تھوڑے ہیں، کب؟ إِذَا عُدُّوا جب ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اب دیکھیے، ایک دفعہ ترجمہ دوبارہ دیکھ لیں شعر کا وہی: سَأَطْلُبُ حَقِّي بِالْقَنَا وَمَشَايِخٍ ... كَأَنَّهُمُ مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا مُرْدُ ثِقَالٍ إِذَا لاَقَوْا خِفَافٍ إِذَا دُعُوا ... كَثِيرٍ إِذَا شَدُّوا قَلِيلٍ إِذَا عُدُّوا عنقریب میں طلب کروں گا اپنے حق کو نیزوں کے ساتھ اور ایسے تجربہ کار مشائخ کے ساتھ كَأَنَّهُمُ گویا کہ وہ جو ہیں مِنْ طُولِ مَا الْتَثَمُوا لمبے عرصے تک نقاب اوڑھنے کی وجہ سے مُرْدُ امرد ہیں، ثِقَالٌ إِذَا لاَقَوْا بڑے وزنی ہیں جب وہ ملاقات کرتے ہیں یعنی دشمن سے، خِفَافٌ إِذَا دُعُوا ہلکے ہیں إِذَا دُعُوا جب ان کو پکارا جاتا ہے، كَثِيرٌ إِذَا شَدُّوا بہت زیادہ ہیں إِذَا شَدُّوا جب وہ حملہ کرتے ہیں، قَلِيلٌ إِذَا عُدُّوا تھوڑے سے ہیں إِذَا عُدُّوا جب ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مشائخ کو ذکر کیا، تجربہ کار لوگ مراد ہیں بھئی، بوڑھے لوگ مراد نہیں ہیں بھئی، بوڑھے لوگ۔ تو چونکہ بوڑھوں کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے مشائخ کے لفظ کے ساتھ ان کو ذکر کیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے بھئی، کہتے ہیں: ایک مرتبہ ایک گاؤں کے اندر ایک آدمی تھا، اس کو درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا، لیکن کسی طرح وہ کسی وجہ سے درخت پر چڑھا اور چڑھتے چڑھتے بہت اوپر چڑھ گیا۔ اب چڑھنا تو آتا نہیں تھا لیکن کسی طرح چڑھ گیا، اب جب اترنے کا وقت آیا تو اب پریشان ہے اتروں کیسے، سمجھ میں نہیں آ رہا۔ خیر، بڑی کوشش کی، جب کچھ حل نہ ہوا، چیخ و پکار کرنے لگا، سارے گاؤں والے اکٹھے ہو گئے کہ اوہو، اب اس کو اتاریں کیسے، کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا کیسے اتاریں اس کو؟ آخر بڑی دیر تک سوچتے رہے، پھر کہنے لگے: بھئی، ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا، وہ ہمارا جو سب سے بوڑھا آدمی ہے اس کو لے کر آتے ہیں، وہ ضرور کوئی مشورہ بہترین مشورہ دے گا، بڑا تجربہ کار آدمی ہے۔ چنانچہ وہ بوڑھا اتنا بوڑھا تھا کوئی 90، 100 سال کا بوڑھا، چل پھر بھی نہیں سکتا تھا، چارپائی پر لیٹا ہوا تھا، تو اس کو چارپائی پر ہی لے آئے بھئی۔ اب وہ آیا، آ کر کہنے اس کی چارپائی لا کر رکھی، اس کو دکھایا: وہ اوپر آدمی چڑھا ہوا ہے، اس کو نیچے اتارنا ہے، ہمیں کوئی ترکیب سمجھ میں نہیں آ رہی کیا کریں؟ تو اس نے اس آدمی کی طرف دیکھا اور پہلے وہ بوڑھا شخص ہنسنے لگا اور پھر رونے لگ پڑا۔ انہوں نے کہا: یہ کیا بات ہے؟ پہلے آپ ہنسے ہیں اور پھر روئے ہیں؟ کہتے ہیں: ہنسا اس لیے ہوں کہ تمہیں اتنا آسان سا کام ہے، یہ بھی تم لوگوں سے نہیں ہوتا، اس کو درخت سے اتارنے کا کام بھی نہیں کر سکتے تم، مجھے ہنسی آ گئی تم لوگوں پر، اور رویا اس لیے ہوں کیونکہ مجھے یہ فکر ہوئی کہ عنقریب میرا تو انتقال ہو جائے گا، پھر جب تم کسی مصیبت میں پڑو گے تو تمہیں کوئی مشورہ کیا کون دے گا، تو کون تمہیں اس مصیبت سے نکالے گا؟ تو کہنے لگے: اچھا، اب کوئی حل بتائیے اس مسئلے کا؟ کہنے لگے: یہ تو بڑا آسان کام ہے، رسا لے کر آؤ بڑا سا رسا بھئی۔ چنانچہ وہ رسا لے آئے، کہنے لگا: اس رسے کو پھینکو وہ اس آدمی کے تک پہنچ جائے، انہوں نے رسے کو پھینکا، وہ آدمی تک پہنچ گیا۔ تو بوڑھا کہنے لگا: اب اس سے کہو اس کو مضبوطی سے اپنے کمر کے ساتھ باندھ لے۔ اس نے مضبوطی سے اپنے کمر کے ساتھ رسا باندھ لیا۔ تو اب بوڑھے نے نیچے والوں کو کہا: اب زور سے کھینچو اس کو! اب انہوں نے زور سے کھینچا، وہ سیدھا اوپر سے نیچے آ کے گرا، وہیں مر گیا۔ اب وہ آئے بوڑھے کے پاس کہ جی آپ نے کہا تھا کھینچو، ہم نے تو کھینچا، وہ تو آدمی ہی مر گیا ہے۔ بوڑھا کہنے لگا: بھئی، یہ تو اس کی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتا ہے اس کا تو موت کا وقت ہی آیا ہوا تھا ورنہ اس طرح میں نے کتنے ہی آدمیوں کو میں نے کنویں سے میں نے نکالا ہے، صحیح سلامت نکل آتے ہیں، اس کی موت آئی ہوئی تھی، اس لیے یہ مر گیا ورنہ یہ مرنے والی کوئی بات نہیں تھی یہاں پر۔ تو آج ہم نے کیا کیا پڑھا؟ جمع، تفریق، اور تقسیم۔ جمع کس کو کہتے تھے؟ متعدد چیزوں کو ایک ہی حکم کے اندر جمع کر دینا۔ تفریق کسے کہتے تھے؟ ایک ہی قسم کی چیز کو چیزوں کو ان میں تفریق کر دینا، ان کو الگ الگ کر دینا، ان میں فرق بیان کر دینا۔ اور تقسیم، تقسیم کی تین صورتیں ذکر ہوئیں: ایک تو یہ کہ ایک چیز کی کئی قسمیں ہیں، ان سب کو شمار کر دینا، کوئی قسم باقی بچے نہ، سارے قسموں کو شمار کر دینا، ایک صورت یہ ہے تقسیم کی؛ دوسری صورت یہ ہے تقسیم کی کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جاتا ہے اور پھر ہر ایک کے مناسب کوئی بات آگے ذکر کی جاتی ہے اور تعین بھی کر دی جاتی ہے کہ پہلی بات کا تعلق پہلی سے ہے، دوسری کا دوسری سے، تیسری کا تیسری سے ہے؛ اور تیسری صورت یہ ہے تقسیم کی کہ ایک ہی چیز کے کئی احوال ذکر کیے جاتے ہیں اور ہر حال کے مناسب جو بات ہوتی ہے، اس کی بھی اس کی طرف نسبت کر دی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہر حال کے مناسب جو چیز ہے، اس کی نسبت اس حال کی طرف کر دی جاتی ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
88 approved lectures · 78 of 88