Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آگے دیکھیے بھئی کتاب پر متن میں، ”اَلْقِسْمُ الْاَوَّلُ فِی الْمَنْطِقِ، مُقَدِّمَةٌ، اَلْعِلْمُ اِنْ کَانَ اِذْعَانًا لِّلنِّسْبَةِ فَتَصْدِیْقٌ وَاِلَّا فَتَصَوُّرٌ۔ وَیَقْتَسِمَانِ بِالضَّرُوْرَةِ الضَّرُوْرَةَ وَالْاِکْتِسَابَ بِالنَّظَرِ، وَھُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُوْلِ لِتَحْصِیْلِ الْمَجْھُوْلِ، وَقَدْ یَقَعُ فِیْهِ الْخَطَاُ فَاحْتِیْجَ اِلٰی قَانُوْنٍ یَّعْصِمُ عَنْهُ فِی الْفِکْرِ وَھُوَ الْمَنْطِقُ“۔ آج ہم ”اَلْقِسْمُ الْاَوَّلُ فِی الْمَنْطِقِ“ جو ہے اس کو شروع کریں گے لیکن اس سے پہلے آئیے ذرا گزشتہ سبق کا خلاصہ کر لیں، گزشتہ سبق ذرا مشکل تھا۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے ایک تو تضمین کے بارے میں پڑھا بھئی، تضمین۔ متن میں انہوں نے بتلایا تھا کہ ”لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّتَذَکَّرَ مِنْ ذَوِی الْاَفْھَامِ“ کہ یہ جو ”مِنْ ذَوِی الْاَفْھَامِ“ جار مجرور ہے یہ متعلق ہے ”اَنْ یَّتَذَکَّرَ“ سے۔ ایک ترکیب یہ ذکر کی تھی کہ یہ جار مجرور ”مِنْ ذَوِی الْاَفْھَامِ“ یہ کس سے متعلق ”اَنْ یَّتَذَکَّرَ“ سے۔ اس پر سوال پیدا ہوا، اعتراض ہوا کہ بھئی یتذکر تو فعل لازم ہے۔ یعنی یوں کہیں کہ یتذکر کا صلہ تو من نہیں آتا۔ تو پھر من کو اس کے ساتھ آپ کیسے جوڑیں گے؟ تو شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں تضمین ہے۔ میں نے بتلایا تھا تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر آپ دوسرے فعل کے معنی کا بھی لحاظ رکھیں۔ اس کا معنی دوسرے فعل کا معنی بھی وہاں ملحوظ ہو اور آگے آنے والا صلہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ یہ جو حرف جر جس فعل سے یا جس چیز سے جڑیں یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں۔ ”ضَرَبْتُ بِالْعَصَا“ یہ بالعصا کس سے متعلق ضربت سے۔ تو کیا کہیں گے یہ با صلہ ہے کس کا ضربت کا۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں ”لَقِیْتُهُ فِی الْمَدْرَسَةِ“ میری اس سے ملاقات ہوئی کہاں پر مدرسہ میں۔ تو یہ ”فِی الْمَدْرَسَةِ“ یہ متعلق ہے لقیت فعل کے ساتھ۔ تو کیا کہیں گے کہ یہ فی صلہ ہے کس کا لقیت فعل کا۔ تو یہ حرف جر جس کے ساتھ جڑتے ہیں یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں۔ تو سوال پیدا یہ ہوا تھا کہ یتذکر کا صلہ تو من نہیں آتا بھئی۔ تو بتلایا کہ یہاں تضمین ہے۔ تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھی جائے، وہ ملحوظ ہو، اور اس پر آگے آنے والا یہ صلہ یعنی یہ حرف جر اس پر دلالت کرتا ہے۔ تو یہاں پر کہتے ہیں پھر یہاں کون سا فعل ملحوظ ہے؟ کون سے فعل کی رعایت رکھی؟ جس کا صلہ من آتا ہو۔ تو شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہاں اخذ یا تعلم کے معنی کی رعایت رکھی اور اخذ اور تعلم کا صلہ تو من آتا ہے۔ تو یہ صلہ بتلا رہا ہے کہ یتذکر کے اندر کون سے فعل کا لحاظ کیا گیا، اخذ کا یا تعلم کا۔ دیکھیے آپ خود بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً آپ کہتے ہیں ”اَخَذْتُ الشَّیْءَ مِنْ زَیْدٍ“ میں نے وہ چیز لے لی ”مِنْ زَیْدٍ“ کس سے زید سے۔ دیکھا ”مِنْ زَیْدٍ“ یہ اخذت سے جڑ رہا ہے یا نہیں، میں نے لے لی کس سے زید سے۔ اسی طرح تعلم کا صلہ بھی من آتا ہے۔ ”تَعَلَّمْتُ الدَّرْسَ مِنَ الْاُسْتَاذِ“ میں نے وہ سبق سیکھ لیا ”مِنَ الْاُسْتَاذِ“ کس سے استاذ سے۔ تو یہ ”مِنَ الْاُسْتَاذِ“ کس سے متعلق تعلمت سے۔ تو دیکھا اخذ کا صلہ بھی من آتا ہے، دوسرے سے چیز لینا، اور تعلم، دوسرے سے چیز سیکھنا، اس کا صلہ بھی من آتا ہے۔ تو یہاں پر اخذ یا تعلم کا معنی ملحوظ ہے۔ کہ جس شخص کا یہ ارادہ ہو کہ وہ یاد کرے ”اَخْذًا مِّنْ ذَوِی الْاَفْھَامِ“ سمجھداروں سے لیتے ہوئے، یا جس کا ارادہ یہ ہو ”اَنْ یَّتَذَکَّرَ“ کہ وہ یاد کرے ”تَعَلُّمًا مِّنْ ذَوِی الْاَفْھَامِ“ سمجھداروں سے سیکھتے ہوئے۔ تو تضمین سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں یہ معنی نہیں تضمین کا کہ یتذکر کا اپنا معنی ختم اور اخذ یا تعلم والا معنی مراد لیں گے، نہیں۔ پھر تو یہ مجاز بن جائے گا۔ بلکہ تضمین میں اس فعل کا اپنا معنی بھی ہوتا ہے اور دوسرے فعل کا معنی بھی ملحوظ ہوتا ہے جس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کرتا ہے بھئی۔ اس کے بعد لا سیما کی تراکیب ذکر کی تھیں شارح نے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ سیما دراصل ”لَا سِیَّمَا“ ہے اور لا محذوف ہے۔ اور یہ بھی بتلایا تھا کہ ”لَا سِیَّمَا“ یا کو مشدد پڑھنا بھی جائز اور ”لَا سِیَمَا“ یا کو تخفیف اور فتحہ کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے۔ اور اب آپ نے پڑھا تھا کہ یہ لا سیما کا ما بعد جو ہوتا ہے اس میں تینوں طرح کے اعراب پڑھنا جائز ہیں۔ رفع پڑھنا بھی جائز، نصب پڑھنا بھی جائز اور جر پڑھنا بھی جائز ہے۔ اور یہ لا سیما یہ تخصیص کے لیے آتا ہے۔ یعنی ما بعد کو فضیلت دیتا ہے کس پر ما قبل پر۔ یعنی شارح یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو مبصر بھی بنایا، میں نے اس کتاب کو مذکر بھی بنایا ہر ایک کے لیے لیکن خاص طور پر کس کے لیے اپنے بیٹے کے لیے۔ تو دیکھا اپنے بیٹے کو ما قبل پر کیا دی فضیلت دے دی۔ تو یہ لا سیما آتا ہے کہ یہ ما بعد کو ما قبل پر فضیلت دیتا ہے۔ تو یہ خصوصاً کے معنی میں ہوتا ہے۔ کہ میں نے اس کتاب کو مبصراً بھی بنایا اور مذکراً بھی بنایا ہر ایک کے لیے لیکن خاص طور پر اپنے بیٹے کے لیے۔ اچھا یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھیں جو پہلے میں متن جب حل کیا تھا میں نے ذکر کی تھی کہ الولد، ولد کا میں نے بتلایا تھا اطلاق مفرد، تثنیہ، جمع سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بیٹا بھی اس میں شامل ہوا، بیٹی بھی شامل ہو گئی۔ لیکن یہاں پر بیٹا مراد ہے بھئی، بیٹا مراد ہے۔ اور اس لیے اس کا ترجمہ یہاں بیٹے کے کر لیں۔ ورنہ اردو میں الولد کا بہترین ترجمہ جو ہے وہ اولاد کے بنتا ہے۔ کیا معنی کریں اولاد، لیکن یہاں بیٹا مراد ہے تو بیٹا ہی کر لیں۔ اور الولد کہا وہ بیٹا، اور یہ کون ہے مصنف کا اپنا بیٹا ہے۔ تو الف لام کے ذریعے اشارہ ہوا کس کی طرف اپنے اس بیٹے کی طرف۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ الف لام عوض ہوتا ہے مضاف الیہ کا۔ تو اصل میں تھا ”وَلَدِیْ“ میرا بیٹا۔ پھر یا کو مضاف الیہ کو حذف کیا اور اس کے عوض کیا لے آئے الف لام۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور یہی معنی ہم نے کیا تھا۔ کہ الاعتصام میں بھی اور التوکل میں بھی، اور الاعتصام، اللہ ہی پر ”اَلتَّوَکُّلُ“ بھروسہ کرنا ہے۔ کس کا بھروسہ؟ ہمارا۔ ”عَلَی اللّٰهِ تَوَکُّلُنَا“ ہمارا بھروسہ کس پر ہے اللہ پر۔ یا ”تَوَکُّلِیْ“ میرا بھروسہ کس پر ہے اللہ پر ہے۔ اور ”وَبِهِ الِاعْتِصَامُ“ یعنی ”بِهِ اعْتِصَامِیْ“ اللہ ہی کا دامن تھامنا ہے میرے لیے۔ یعنی میں اللہ ہی کا دامن تھامتا ہوں۔ تو یہاں بھی کیا تھا اعتصامی یا اعتصامنا، پھر نا کو کیا کیا حذف کیا اور اس کے عوض کیا لے آئے الف لام لے آئے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ الف لام عوض ہوتا ہے کس کا مضاف الیہ کا۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں الف لام مضاف الیہ کا عوض نہیں ہوتا، الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی الولد کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف، ولدی میرے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ ہے۔ اور التوکل کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف، توکلی میرا توکل یا توکلنا ہمارا توکل۔ اور اعتصام کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف، اعتصامی کی طرف یا اعتصامنا کی طرف اشارہ ہے۔ الف لام بہرحال مضاف الیہ کا عوض نہیں، لیکن بہرحال بات ایک ہی ہے چاہے الف لام کو مضاف الیہ کا عوض بنائیں یا نہ بنائیں۔ ولد سے کیا مراد ہے ولدی مراد ہے۔ پہلے علماء بھی یہی کہتے ہیں الولد سے مراد ولدی ہے، دوسرے بھی کیا کہتے ہیں الولد سے کیا مراد ہے ولدی مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ لا سیما ہے، اس کے ما بعد میں تینوں اعراب پڑھنا جائز ہیں۔ رفع بھی، نصب بھی، اور جر بھی۔ اور یہ خود کس معنی میں آتا ہے؟ خصوصاً کے معنی میں۔ پھر اس کی ترکیب ذکر ہوئی تھی کہ یہ رفع، نصب، جر پڑھیں گے، کیا کیا وجہیں ہیں بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ لا سیما میں جو لا ہے، یہ لا ہے لائے نفی جنس۔ اور لائے نفی جنس اس کے لیے ایک اسم چاہیے اور ایک خبر۔ تو ”لَا سِیَّمَا الْوَلَدُ“ یہ سارا یہ اس کے لیے اسم بنے گا، اور اس کی خبر محذوف نکالنا پڑے گی ”مَوْجُوْدٌ“۔ ”لَا سِیَّمَا الْوَلَدُ مَوْجُوْدٌ“ آخر میں خبر نکال لیں گے۔ اچھا یہ تو لا سیما کی بات ہو گئی۔ اب یہ معلوم ہوا ”لَا سِیَّمَا الْوَلَدُ مَوْجُوْدٌ“ لا کی خبر کیا ہے موجود۔ یہ ”سِیَّمَا الْوَلَدُ“ اس کی کیا ترکیب ہو گی؟ تو اس کی ترکیب بھی میں نے بتلائی تھی۔ کہ اس میں جو سی ہے یہ مثل کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے ہر حال میں ایک مضاف الیہ چاہیے۔ کیا چاہیے؟ مضاف الیہ ضرور چاہیے۔ ایک ترکیب کے علاوہ باقی سب ترکیبوں میں اس کے لیے مضاف الیہ یہاں آئے گا بھئی۔ ایک جب ہم نے اس کو کیا بنایا تھا حرف استثناء، اس وقت اس کے لیے مضاف الیہ نہیں چاہیے بس اس کو پورا لا سیما کو کیا بنا دیا حرف استثناء اور الولد کیا بنایا مستثنیٰ۔ تو وہاں دیکھا اس کے لیے مضاف الیہ نہیں چاہیے اور ما جو تھا وہ زائد تھا اس ترکیب میں۔ جب ہم نے کیا بنایا تھا حرف استثناء، اس وقت یہ ما زائد تھا، تو صرف اس ایک ترکیب میں اس کے لیے مضاف الیہ نہیں آیا۔ باقی تمام ترکیبوں میں اس کے لیے کیا چاہیے مضاف الیہ۔ بھئی مثل کا معنی ہوتا ہے نا جیسا، تو کس جیسا؟ مضاف الیہ چاہیے یا نہیں؟ تو آپ کہیں گے ”مِثْلُ عَمْرٍو“ عمرو جیسا یا ”مِثْلُ بَکْرٍ“ بکر جیسا، تو اس کے لیے مضاف الیہ ضرور چاہیے۔ تو مضاف الیہ کیا ہو گا؟ تو آپ نے پڑھا انہوں نے بتلایا کہ یہ ما جو ہے، یا یہ اسمیہ ہے یا حرفیہ۔ جب یہ اسمیہ ہو، تو یہ خود ہی مضاف الیہ بنے گا۔ جب کیا ہو؟ اسمیہ ہو تو یہ خود ہی کیا بن جائے گا مضاف الیہ خود بن جائے گا۔ اور جب ما حرفیہ ہو، یعنی حرف ہو، تو پھر ما زائدہ ہو گا اور یہ سیہ مضاف اور آگے لفظ الولد جو ہے وہ مضاف الیہ بنے گا بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات کیا کرتے ہیں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان ایک حرف کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ جیسے ”اَیُّمَا الْاَجَلَیْنِ“ قرآن کے اندر بھی آیا ہے۔ ای مضاف ما زائد اور الاجلین۔ اور قرآن میں جو زائد حرف آئے اس کے لیے صلہ کا لفظ بولتے ہیں بطور ادب کے۔ کیا بولتے ہیں؟ صلہ بولتے ہیں۔ ”اَیُّمَا الْاَجَلَیْنِ“ اگر آپ کو کوئی یہ کہہ دے یہ ما صلہ ہے، تو آپ یہ نہ کہیں یہ ما تو زائدہ ہے۔ صلہ کہاں ہے؟ نہیں نہیں وہ صلہ اور تھا، حرف جر کو جس چیز سے جڑتا ہے کیا کہتے ہیں اس کا صلہ۔ تو جس سے جڑے اس کے لیے بھی صلہ کا لفظ بولتے ہیں اور یہ جو زائد ہے، قرآن کے اندر اس زائد کے لیے کیا لفظ بولتے ہیں؟ صلہ۔ ادب کے طور پر، زائد نہیں کہتے۔ کیونکہ زائد سے تو شبہ پڑتا ہے شاید بالکل ہی بیکار لفظ ہے۔ کیا ہے بالکل بیکار لفظ ہے، حالانکہ قرآن تو فصاحت و بلاغت میں اعلیٰ ترین درجے پر ہے اور کوئی اس کا مقابلہ کوئی کلام نہیں کر سکتا، تو اللہ کے کلام کے بارے میں کسی لفظ کے بارے میں یوں کہا جائے کہ یہ لفظ زائد ہے تو ذہن میں آتا ہے شاید یہ لفظ بالکل بیکار ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تو یہاں ادب کے طور پر پھر کیا کہتے ہیں کہ یہ لفظ کیا ہے صلہ ہے، اور معنی کیا ہوتا ہے یہ زائد ہے۔ وجہ یہ کہ جو زائد لفظ ہوتا ہے یہ بالکل زائد نہیں ہوتا کہ بالکل ہی بیکار ہو۔ بلکہ زائد ہونے کا معنی یہ ہے کہ یہ اپنا معنی، اس کا اپنا معنی یہاں مراد نہیں۔ اپنا معنی یہاں مراد نہیں، یعنی اس کا معنی وہاں نہیں کیا جاتا۔ مثلاً زائد کی کوئی مثال لے لیں، مثلاً آپ کہتے ہیں ”ھُوَ لَیْسَ بِاِنْسَانٍ“ وہ انسان نہیں، تو دیکھو ”لَیْسَ بِاِنْسَانٍ“ یہ بانسان کیا ہے لیس کی خبر ہے۔ اور خبر پر لیس کی خبر منصوب ہوتی ہے، ”لَیْسَ اِنْسَانًا“۔ لیکن یہاں اس پر با جارہ داخل کر دیا تو کیا بن گیا ”لَیْسَ بِاِنْسَانٍ“۔ اور یاد رکھیے یہ با جارہ زائدہ ہے۔ کیا ہے؟ زائدہ ہے۔ تو یہاں اب با کا اپنا معنی نہیں کریں گے۔ با کا معنی ہوتا ہے نا ساتھ یا سبب کے لیے آتا ہے یا ساتھ کا معنی دیتا ہے یا عوض کے لیے آتا ہے، مختلف معانی کے لیے با آتی ہے۔ لیکن یہ زائد ہے، زائد کا معنی یہ با اپنا معنی یہاں ادا نہیں کر رہا۔ اور زائد کا یہ معنی نہیں کہ یہ بالکل ہی بیکار ہے، نہیں، یہ جو حرف زائد ہوتا ہے یہ کلام میں حسن پیدا کرتا ہے۔ یہ عرب مخصوص جگہوں پر لاتے ہیں، ہر جگہ پر نہیں، اور یہ کیا کرتا ہے کلام میں حسن، کلام بڑا خوبصورت ہو جاتا ہے اور نیز کلام میں زور پیدا کر دیتا ہے، اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے۔ ایک ہے ”ھُوَ لَیْسَ اِنْسَانًا“ اور ایک ہے ”ھُوَ لَیْسَ بِاِنْسَانٍ“ تو با جو جارہ زائدہ ہے اس سے کلام میں حسن بھی آیا اور نیز کلام میں تاکید آ گئی، زور آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً ایک شخص آپ کہتے ہیں مت کرو، اور ایک آپ زور لگا کے کہتے ہیں مت کرو۔ یا دو دفعہ کہتے ہیں مت کرو، مت کرو۔ تو کس میں تاکید زیادہ؟ جب دو دفعہ کہیں یا زور لگا کر آپ کہیں کہ مت کرو غصے سے، تو دیکھا ایک عام بات ہے ایک جس بات میں زور زیادہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو حرف زائد ہوتا ہے اس سے کیا ہوتا ہے کلام میں حسن پیدا، کلام کا حسن بڑھ جاتا ہے اور نیز کلام میں تاکید پیدا ہو جاتی ہے۔ تو لہذا تو ”اَیُّمَا الْاَجَلَیْنِ“ یہ ما کیا ہے؟ صلہ ہے۔ اور اس سے کلام میں کیا آیا؟ مزید حسن پیدا ہوا اور کلام میں زور آ جاتا ہے۔ تو بات چل رہی تھی ”لَا سِیَّمَا الْوَلَدُ“ کی کہ یہ سیہ ہمیشہ کیا چاہیے اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے۔ اگر ما کو بناؤ اسمیہ، تو یہ ما مضاف الیہ بن جائے گا، سیہ مضاف اور ما مضاف الیہ۔ اور اگر ما کو بناؤ حرف، تو پھر اس صورت میں یہ ما زائدہ ہے اور سیہ ہوا مضاف تو الولدی کیا ہوا مضاف الیہ ہوا۔ تو حرف ہونے کی اور ایک جب اس کو حرف استثناء بنایا تب بھی ما کیا تھا زائد تھا۔ جبکہ اگر ما کو اسمیہ بناؤ تو پھر یہ ما موصولہ بھی ہو سکتا ہے، ما موصوفہ بھی ہو سکتا ہے اور ما تامہ بھی ہو سکتا ہے، تامہ بھی یعنی نکرہ غیر موصوفہ۔ ما موصولہ معرفہ ہوتا ہے، اس کے لیے آگے پورا ایک جملہ چاہیے جو اس کا صلہ بنے۔ اور ما موصوفہ نکرہ ہوتا ہے، اس کے لیے آگے پورا جملہ چاہیے جو اس کی صفت بنے۔ اور ما تامہ وہ تام ہوتا ہے بمعنی شیء کے اور اس کے لیے آگے کوئی صفت وغیرہ نہیں چاہیے۔ تو اگر اس ما کو اسمیہ بناؤ، ما موصولہ بناؤ تو بھی مضاف الیہ اور آگے اس کا صلہ۔ اگر اس ما کو موصوفہ بناؤ تو بھی مضاف الیہ اور آگے اس کی صفت۔ اور اگر اس ما کو کیا بناؤ؟ تامہ بناؤ بمعنی شیء کے تو اس صورت میں یہ بھی مضاف الیہ ہے اور آگے اسی کا معنی بیان کیا گیا۔ کس طرح دیکھو بھئی۔ سی کا کیا معنی؟ مثل۔ اور ما کیا ہے؟ شیء کے معنی میں ہے نا، تامہ ہے نا۔ تو دیکھو یہ ما اگر اسمیہ بناؤ تو موصولہ بھی ہو سکتا ہے، موصوفہ بھی اور تامہ بھی۔ اچھا اعراب پہلے دیکھ لیں بھئی۔ الولد اس پر جر پڑھ سکتے ہیں۔ جر پڑھنے کی دو وجہیں پڑھیں آپ نے۔ ایک وجہ کیا؟ کہ یہ پہلی وجہ یہ کہ یہ مضاف الیہ ہو۔ سیہ مضاف الولدی مضاف الیہ۔ اور درمیان میں ما کیا ہے؟ زائد ہے۔ یہ حرف ہے۔ دوسری ترکیب کیا تھی کہ ما نکرہ تامہ ہو تو پھر وہ مضاف الیہ ہے۔ اور الولد اس سے بدل ہے۔ ”لَا سِیَّ شَیْءٍ“ اس چیز جیسا اس چیز جیسی کوئی چیز نہیں بھئی، وہ کیا چیز ہے؟ الولدی یہ کیا ہے اس سے بدل ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں ”جَاءَنِیْ اَخُوْکَ زَیْدٌ“ میرے پاس آپ کا بھئی یعنی کہ زید آیا۔ تو دوسری جر کی وجہ کیا پڑھی آپ نے کہ الولد مجرور ہے، یہ ما سے بدل ہے۔ اور مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ اور ما نکرہ غیر موصوفہ ہے یعنی تامہ ہے۔ اور یہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ شیء کے۔ ”لَا مِثْلَ شَیْءٍ اَلْوَلَدِ“ شیء یہ کیا ہوا مبدل منہ۔ الولدی کیا ہے بدل۔ شیء سے کیا مراد ہے؟ بدل آکر بتلا رہا ہے کہ شے سے کیا مراد ہے، الولد وہ بیٹا مراد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جر کی دو وجہیں، ایک کیا؟ مضاف الیہ۔ دوسری وجہ کیا؟ بدل ہے۔ اور رفع کی بھی دو وجہیں آپ نے پڑھیں۔ کیا وجہ؟ یا تو اس کو بناؤ مبتدا اور اس الولد کے لیے خبر ”مَوْجُوْدٌ“ الگ نکال لو۔ ”اَلْوَلَدُ مَوْجُوْدٌ“۔ اور یاد رکھو ولد کو جو بھی بنانا ہے، ساتھ صفتیں بھی جوڑنی ہیں۔ موصوف صفت مل کر مبتدا اور آگے خبر ”مَوْجُوْدٌ“۔ اور مبتدا خبر مل کر یہ صلہ کس کے لیے؟ ما موصولہ کے لیے۔ یا یہ صفت کس کے لیے؟ ما موصوفہ کے لیے۔ یا تو ابھی کیا بنایا الولد کو مبتدا اور خبر محذوف نکالی۔ ایک لا کی خبر الگ محذوف نکالی تھی اور ایک اس الولد کی خبر الگ نکالیں گے۔ دوسری ترکیب یہ کہ اس الولد کو خبر بنا دو اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال دو ”لَا سِیَّمَا ھُوَ الْوَلَدُ“ تو ھو مبتدا اور الولد کیا ہوا؟ خبر اور اس کے ساتھ اس کی ساری صفتیں بھی جڑ جائیں گی۔ اور مبتدا خبر مل کر پھر وہی ترکیب، اگر ما کو موصولہ بنایا ہے تو یہ اس کے لیے صلہ، اور اگر ما کو موصوفہ بنایا ہے تو یہ اس کے لیے صفت۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پورا جملہ یا تو صلہ بنے گا یا صفت۔ اور فرق یہ ہے کہ اگر ما کو بنایا موصولہ تو وہ کیا ہوتا ہے؟ معرفہ، اور اس کا جو صلہ ہوتا ہے نا اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہوتا۔ صلے کے لیے کوئی محل اعراب نہیں، تو اگر آپ سے کوئی پوچھ لے کہ ”ھُوَ الْوَلَدُ“ یا ”اَلْوَلَدُ مَوْجُوْدٌ“ جو آپ نے آگے جملہ نکالا، اس کا محل اعراب کیا ہے؟ تو آپ کہہ دیجیے اگر ما موصولہ ہے تو اس کا کوئی محل اعراب نہیں ہے۔ ہاں اور اگر ما کو آپ نے موصوفہ بنایا، اور ما موصوفہ کیا ہوتا ہے؟ نکرہ، تو یہ آگے آنے والا جملہ اس کی کیا بنے گا؟ صفت۔ اور موصوف کا جو اعراب ہوتا ہے وہی اعراب کس کا ہوتا ہے؟ صفت۔ تو اب اس صورت میں اس کا اعراب ہو گا۔ ما کا کیا اعراب؟ لا سیما ما کا کیا اعراب ہو گا؟ مجرور، کیونکہ سیہ مضاف ما مضاف الیہ۔ اور آگے پورا جملہ کیا ہے اس کی؟ صفت ہے۔ اور صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ موصوف کا۔ تو لہذا یہ جو پورا جملہ ہے یہ بھی مجرور محلا ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو صلہ بناؤ تو اس کا کوئی محل اعراب نہیں اور اگر اس کو صفت بناؤ تو اس کا وہی اعراب ہے جو کس کا ہے؟ موصوف کا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ ما کو کیا بناؤ؟ نکرہ تامہ بناؤ۔ ما تامہ کونسا ہوتا ہے؟ نکرہ غیر موصوفہ، نکرہ ہوتا ہے اور اس کی صفت نہیں آتی۔ اور یہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ شیء۔ تو ”لَا سِیَّ شَیْءٍ“ اس چیز جیسا کوئی بھی نہیں، ابہام ہے یا نہیں؟ کیا کس چیز جیسا؟ تو آگے اعنی کے ذریعے مراد بیان کر دی کہ اس چیز سے کیا مراد ہے ”اَعْنِی الْوَلَدَ“ یعنی کہ میرا وہ بیٹا۔ دیکھا، تو مراد بیان کر دی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس صورت میں بھی یہ الولدا منسوب ہو گا۔ اس صورت میں یہ الولد کیا ہو گا؟ منسوب، کس کے لیے؟ اعنی فعل کے لیے۔ تو یہ منسوب ہے۔ اور نصب کی ایک اور وجہ کیا پڑھی؟ کہ تمیز ہونے کی بنا پر منسوب ہو سکتا ہے، لیکن یہاں یہ ترکیب جاری نہیں ہو گی، کیونکہ تمیز کے لیے ضروری ہے کہ وہ نکرہ ہو، کیونکہ تمیز ہمیشہ نکرہ ہوتی ہے، معرفہ کبھی بھی تمیز نہیں آ سکتی۔ اور الولد، اس پر تو الف لام ہے یہ تو معرفہ ہے، تو یہاں یہ ترکیب جاری نہیں ہو گی۔ اور نصب کی تیسری صورت یہ ہے کہ اس کو مستثنیٰ بنائیں۔ لا سیما اس سارے کو کیا بنا لو؟ حرف استثناء۔ اور اس صورت میں یہ ما زائدہ ہے، حرف ہے، اور اس میں اس کے لیے مضاف الیہ نہیں چاہیے، کیونکہ اس کو ہم نے پورا کیا قرار دے دیا؟ حرف استثناء۔ تو الولدا منسوب ہو گا مستثنیٰ ہونے کی بنا پر، کیونکہ مستثنیٰ منسوب ہوتا ہے۔ اور یہ تو آپ کو میں ذکر کر ہی چکا کہ جو اعراب آپ نے الولد پر پڑھنا ہے وہی اعراب آگے چار صفتیں آ رہی ہیں، ”اَلْاَعَزُّ“، ”اَلْحَفِیُّ“، ”اَلْحَرِیُّ بِالْکِلْرَامِ“ اور ”سَمِیُّ حَبِیْبِ اللّٰهِ“ یہ چار صفتیں ہیں ان پر بھی وہی اعراب آئے گا۔ تو اعراب تینوں طرح پڑھنا جائز۔ رفع بھی، نصب بھی، اور جر بھی۔ رفع کی کتنی وجہیں؟ دو وجہیں، کون کون سی؟ یا مبتدا ہو گا یا خبر۔ خبر بناؤ یا مبتدا، دونوں صورتوں میں یا یہ صلہ بنے گا یا صفت بنے گا۔ اور اگر جر پڑھیں تو اس کی کتنی وجہیں؟ دو وجہیں، یا اس کو کیا پڑھو؟ مضاف الیہ ہو گا یا بدل ہو گا ما تامہ سے۔ اور تیسری کیا صورت کہ نصب پڑھو۔ نصب میں کتنی ترکیبیں ہوتی ہیں؟ تین ہوتی ہیں، لیکن یہاں دو ہوں گی۔ تو نصب کی تین صورتیں ہوتی ہیں، نمبر ایک تمیز ہونے کی بنا پر، یا اعنی فعل کے لیے مفعول ہو گا، یا مستثنیٰ ہو گا۔ اب ترکیب اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ ترکیبیں اچھی طرح آ گئیں؟ کوئی ابہام تو نہیں؟ استثناء والی تو آسان ہے۔ مستثنیٰ، جیسے دیکھو نا ”مَا جَاءَنِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْدًا“ میرے پاس وہ لوگ نہیں آئے ”اِلَّا زَیْدًا“ سوائے کس کے؟ زید کے۔ تو یہ زیدا منسوب ہے مستثنیٰ ہونے کی بنا پر۔ تو مستثنیٰ کیا ہوتا ہے؟ منسوب ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی لا سیما اس سارے کو کیا بنا لیا حرف استثناء، یہ ما قبل سے ما بعد کو نکال رہا ہے۔ مثلاً کیا تھا؟ ”مَا جَاءَنِی الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ لوگ نہیں آئے، ان لوگوں سے مراد ہے فرض کرو درجہ ثالثہ والے۔ کون مراد ہے؟ درجہ ثالثہ میں زید بھی پڑھتا ہے۔ تو میں نے جب کہا ”مَا جَاءَنِی الْقَوْمُ“ وہ لوگ وہ طلبہ میرے پاس نہیں آئے، تو زید بھی شامل ہوا کہ وہ بھی نہیں آیا۔ لیکن پھر الا کے ذریعے اس کو نکال دیا ”اِلَّا زَیْدًا“ سوائے کس کے؟ زید کے۔ معلوم ہوا زید آیا ہے اور باقی کوئی نہیں۔ تو اگر الا زید کو ہٹا دیں تو ”مَا جَاءَنِی الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ درجہ ثالثہ والے نہیں آئے، تو زید بیچ میں ہے یا نہیں؟ کہ زید بیچ میں شامل ہے۔ لیکن پھر الا کے حرف استثناء کے ذریعے ایک چیز جو ما قبل میں شامل ہوتی ہے اس کو حرف استثناء کے ذریعے کیا کر لیا جاتا ہے؟ نکال دیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ میں نے اس کتاب کو ہر اس آدمی کے لیے جو سمجھنا چاہے اس کے لیے میں نے مبصر بنایا ہے۔ ہر وہ آدمی جو نصیحت قبول کرنا چاہے اس کے لیے میں نے اس کتاب کو مذکر بنایا ہے۔ تو اسی میں بیٹا بھی آ گیا یا نہیں؟ جو بھی نصیحت قبول کرنا چاہے اس میں بیٹا بھی آ گیا، جو بھی سمجھنا چاہے اس میں بیٹا بھی آ گیا۔ لیکن پھر آگے حرف استثناء لایا، ”لَا سِیَّمَا“ اور پھر آگے کس کو ذکر کر دیا؟ اس بیٹے کو ذکر کر دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں پھر یہ مستثنیٰ ہونے کی بنا پر منسوب ہو گا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً ایک ترکیب ہم کر لیتے ہیں۔ ما موصولہ بنا لو۔ لائے نفی جنس، سیہ منسوب لفظاً مضاف، ما مجرور محلاً اسم موصول بنا لو الذی کے معنی میں، بس ما کو ہٹا دو الذی کو لے آؤ ”لَا سِیَّ الَّذِیْ“ تو لا لائے نفی جنس، سیہ منسوب لفظاً مضاف، الذی مجرور محلاً مضاف الیہ، اور ”ھُوَ الْوَلَدُ“ ھو مرفوع محلاً مبتدا، الولد مرفوع لفظاً اس کی خبر۔ خبر کے ساتھ صفتیں بھی جوڑ لو، الاعز کیا ہے صفت اول، الحفی صفت ثانی، الحری بالاکرام، جار مجرور بالاکرام اسی حری سے جڑ جائے گا۔ کیونکہ آپ نے پڑھا ہے جار مجرور آٹھ چیزوں سے جڑتا ہے، ان میں ایک صفت مشبہ بھی ہے۔ کیا ہے؟ ”اَلْحَرِیُّ“ یہ صفت مشبہ ہے۔ فعیل، حری، پھر یا کا یا میں کیا کیا ادغام، تو یہ جار مجرور متعلق ہوئے کس سے؟ حری سے۔ اور ”سَمِیُّ حَبِیْبِ اللّٰهِ“ یہ چوتھی صفت آ گئی۔ تو الولد اپنی ساری صفتوں سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ ھو مبتدا کے لیے۔ مبتدا خبر مل کر یہ صلہ کس کے لیے؟ ما موصولہ کے لیے۔ اور اگر ما موصوفہ ہوتا تو کہہ دیتے یہ صفت ہوئی کس کی؟ ما موصوفہ کی۔ اور موصول صلہ مل کر یہ مضاف الیہ سیہ کے لیے۔ سیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ لا کا اسم۔ اور موجود آگے کیا نکال لیں گے؟ اس کی خبر نکال لیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ باقی ترکیب اسی طرح کرنی ہے کہ ہر جملے یا شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے کیا چاہیے؟ ربط چاہیے۔ تو ”ھُوَ الْوَلَدُ“ میں ھو ضمیر کس کو لوٹاؤ گے؟ الذی کو، یا ما موصولہ یا ما موصوفہ کو لوٹائیں گے۔ اور الاعز، الحفی، الحری، سب کے اندر کیا نکالیں گے؟ ضمیریں نکالیں گے کیونکہ یہ صفت کے صیغے ہیں۔ اور جس طرح فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے، صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ تو یہ الاعز کونسا صیغہ ہے؟ اسم تفضیل۔ الحفی کونسا صیغہ ہے؟ یہ صفت مشبہ ہے۔ اور صفت مشبہ میں بھی ضمیر ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ تو اس میں بھی ضمیر، سب میں ضمیریں نکالیں گے اور ربط دیں گے جس کے ساتھ آپ جوڑ رہے ہیں موصوف کے ساتھ۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ اور اگر ما کو کیا بناؤ؟ تامہ۔ ”لَا سِیَّمَا“ تو پھر اعنی فعل نکال لیں گے۔ اعنی فعل انا ضمیر فاعل، اور الولدا اور ساری صفتیں بھی منسوب، الولدا موصوف صفت مل کر یہ اعنی کے لیے مفعول بہ بن جائے گا۔ اور اعنی فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، اس کو جوڑنے کی ضرورت نہیں یہ بیان کر رہا ہے کس کا؟ ما کا۔ ما سے کیا مراد ہے؟ اس کو آگے اعنی جملے کے ذریعے بیان کر دیا تو اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں۔ اور پھر سیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر لا کا اسم اور اسی طرح موجود آخر میں خبر نکال لیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو ساری ترکیبیں اسی طرح ہیں، باقی وہ انشاءاللہ بنیاد آپ کی بن چکی ہے اس کے اندر نحوی ترکیب میں، تو اسی کے قوانین سارے لاگو کرتے جائیں پوری ترکیب ہو جائے گی بھئی۔ طریقہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ تو بہرحال یہ تو اس کی ترکیبیں تھیں جو لائے نفی جنس ہے اور اس طرح، لیکن یہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ خاص طور پر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اب آئیے بھئی آج کے سبق پر۔ ”اَلْقِسْمُ الْاَوَّلُ فِی الْمَنْطِقِ“ یہ پہلی قسم ہے فی المنطق۔ ”اَیْ فِیْ بَیَانِ الْمَنْطِقِ“، منطق سے پہلے بیان کا لفظ مضاف محذوف نکالیں گے۔ یہ پہلی قسم علم منطق کے بیان میں ہے۔ تو القسم الاول ھو مبتدا اور فی المنطق ہوئی اس کی خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ ہوا۔ تو القسم الاول فی المنطق، ”اَیْ فِیْ بَیَانِ الْمَنْطِقِ“ یہ قسم اول علم منطق کے بیان میں ہے۔ بھئی آپ کو انہوں نے شروع میں بتلایا تھا کہ یہ انتہاء درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو معلوم ہوا دو چیزیں یہاں ذکر ہوں گی۔ ایک علم منطق اور ایک علم کلام۔ تو یہ جو ہے صرف علم منطق، پہلا حصہ علم منطق کے بارے میں ہے، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں القسم الاول فی المنطق پہلی قسم علم منطق کے بیان میں ہے۔ ”مُقَدِّمَةٌ، اَیْ ھٰذِهِ مُقَدِّمَةٌ“۔ ھذہ مبتدا محذوف ہے، اور یہ مقدمة اس کی خبر ہے۔ تو مقدمة مرفوع ہے کیوں؟ کیونکہ یہ کیا بن رہی ہے؟ خبر، اور اس کے لیے کیا محذوف نکالیں گے؟ مبتدا ھذہ۔ مقدمہ مؤنث ہے نا، گول تا جڑی ہوئی ہے، تو ”ھٰذِهِ مُقَدِّمَةٌ“ یہ مقدمہ ہے۔ تو مقدمۃ کو مرفوع پڑھیں گے، کیونکہ یہ خبر ہے۔ یا اس کو منسوب پڑھو اور مفعول بناؤ اقراء فعل امر کے لیے۔ ”اِقْرَاْ مُقَدِّمَةً“ آپ مقدمہ پڑھیے۔ اقراء پڑھو مقدمۃ کیا پڑھو؟ مقدمہ۔ تو یہ مفعول بن جائے گا اقراء فعل کے لیے۔ اقراء فعل انت ضمیر اس کے اندر فاعل مرفوع محلاً اور مقدمۃ منسوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، کیونکہ امر ہے۔ تو دو ترکیبیں ہو گئیں۔ تیسری ترکیب یہ کہ کوئی اعراب نہیں، یہ عنوان ہے۔ بس مقدمہ، عنوان ہے، کوئی ترکیب نہیں بھئی۔ تو تین ترکیبیں میں نے ذکر کر دیں۔ ”ھٰذِهِ مُقَدِّمَةٌ“، ”اِقْرَاْ مُقَدِّمَةً“ یا مقدمہ، کوئی اعراب نہیں، کوئی ترکیب نہیں، عنوان ہے بھئی۔ اب یہ مقدمہ ذکر کر رہے ہیں۔ قسم اول کے آغاز میں مقدمہ ذکر کر رہے ہیں، اور مقدمے کے اندر یاد رکھیے وہ علم منطق کی تعریف ذکر کریں گے، موضوع اور اس کی غرض و غایت یعنی اس کا مقصد ذکر کریں گے۔ کہ علم منطق کا مقصد کیا ہے؟ اس کا موضوع کیا ہے؟ اس علم کی تعریف کیا ہے؟ یہ تین چیزیں ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ تو تعریف علم منطق کی آپ پڑھ چکے، وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے بھئی نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ تو نظر و فکر آپ کو بتائیں گے کہ نظر و فکر اسے کہتے ہیں کہ معلوم چیزوں کو جوڑ کر کس کو حاصل کرنا؟ نامعلوم چیزوں کو حاصل کرنا۔ تو نظر و فکر کی تعریف بتانی پڑے گی۔ پھر نظر و فکر بھئی کیونکہ کچھ چیزیں ہمیں معلوم ہیں، کچھ غور و فکر کر کے ہمیں حاصل کرنا پڑتی ہیں، کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری۔ تو بدیہی اور نظری بھی ان کو بتانا پڑے گا۔ پھر یہ بدیہی اور نظری یا تصور ہوتے ہیں یا تصدیق، وہ بھی اپ کو بتانا پڑے گا۔ پھر تصور اور تصدیق کیا چیز ہیں؟ وہ علم کی قسمیں ہیں وہ بھی بتانا پڑیں گی۔ تو لہذا یہ شروع جن جن چیزوں کی ضرورت پڑے گی سب کو پہلے ذکر کرتے جائیں گے، آخر میں جا کر علم منطق کی تعریف ذکر کریں گے۔ سب سے پہلے آپ کو بتائیں گے علم کسے کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اپ کو بتائیں گے علم دو قسم پر ہے، یا تصور یا تصدیق۔ پھر بتائیں گے یہ جو تصور اور تصدیق ہیں یا یہ بدیہی ہوں گے یا نظری۔ بھئی بدیہی اور نظری ہے تو نظر کسے کہتے ہیں؟ وہ نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیں گے۔ اور اس نظر و فکر میں کبھی غلطی بھی ہوتی ہے، تو اس سے بچاؤ کے لیے کس کی ضرورت پڑی؟ ایک علم کی ضرورت پڑی اور وہ کونسا علم ہے؟ علم منطق ہے۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ کتنی چیزیں چھ چیزیں ذکر ہو گئیں۔ چھٹے نمبر پر جا کر علم منطق آیا۔ پہلے کیا ذکر کریں گے؟ علم کی تعریف، پھر اس کے بعد علم کتنی قسم پر؟ تصور اور تصدیق۔ پھر یہ تصور اور تصدیق کتنی قسم پر ہوتے ہیں؟ یا بدیہی ہوں گے یا نظری۔ پھر بدیہی اور نظری ہے تو نظر کسے کہتے ہیں؟ نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیں گے۔ اور اس نظر و فکر میں غلطی ہوتی ہے تو اس سے بچاؤ کے لیے کس کی ضرورت پڑی؟ ایک علم کی، اور وہ علم کیا ہے؟ علم منطق ہے۔ تو لہذا علم منطق کے چھٹے نمبر پر جا کر ذکر کریں گے، کیونکہ علم منطق کے اندر کس کا ذکر آئے گا؟ نظر اور فکر۔ یہ علم کیا کرتا ہے؟ نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ تو اس سے پہلے اب نظر و فکر کو پہلے سے پتا ہونا چاہیے یا نہیں؟ تبھی طالب علم کو سمجھ میں آئے گی کہ یہ علم کیا کرتا ہے، نظر و فکر کسے کہتے ہیں، کس طرح بچاتا ہے۔ تو پہلے لہذا اس منطق کی تعریف سے پہلے کس کو ذکر کر دیں گے؟ نظر اور فکر کو۔ پھر نظر اور فکر یہ پتا یہ کہاں سے ذکر آ گیا؟ کیونکہ تصور اور تصدیق کیا ہیں؟ بدیہی ہوتے ہیں اور نظری ہوتے ہیں۔ تو بدیہی اور نظری سے پہلے پھر وہ کس کو ذکر کریں گے؟ تصور اور تصدیق۔ اور پھر تصور اور تصدیق کیا ہیں؟ وہ علم کی قسمیں ہیں، تو سب سے پہلے علم کو ذکر کریں گے۔ تو وہ پانچویں چھٹے نمبر پر جا کر تعریف کریں گے۔ کیسے؟ پہلے کس کے بارے میں ذکر کر دیں گے؟ علم۔ پھر بتا دیں گے علم کتنی قسم پر ہے؟ یا تصور ہے یا تصدیق۔ پھر یہ تصور اور تصدیق یا نظری ہوں گے یا بدیہی ہوں گے۔ پھر نظری، نظر کسے کہتے ہیں؟ تو بتائیں گے نظر و فکر کسے کہتے ہیں۔ پھر اس نظر و فکر میں کبھی غلطی بھی ہوتی ہے، تو اس غلطی سے بچاؤ کے لیے کس کی ضرورت پڑی؟ ایک علم کی، اور وہ علم کیا ہے؟ علم منطق ہے۔ تب جا کر پھر آپ کو تعریف سمجھ میں آئے گی، جب اپ کو پہلے علم کا بھی پتا ہو، تصور اور تصدیق کا بھی پتا ہو، بدیہی اور نظری کا بھی پتا ہو، نظر اور فکر کا بھی پتا ہو، اور پھر یہ بھی پتا ہو کہ نظر و فکر میں کبھی غلطی ہوتی ہے، اس غلطی سے بچاؤ کے لیے کس کی ضرورت پڑی؟ ایک علم کی، تو وہ علم کیا ہے؟ علم منطق ہے۔ تو لہذا علم منطق کی چھٹے نمبر پر جا کر پھر تعریف کریں گے۔ تو پہلے یہ ساری چیزیں ذکر کریں گے۔ اسی لیے بات کہاں سے شروع کی؟ ”اَلْعِلْمُ اِنْ کَانَ اِذْعَانًا لِّلنِّسْبَةِ فَتَصْدِیْقٌ وَاِلَّا فَتَصَوُّرٌ“۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھیے یہ جو بدن ہے نا، انسانی جسم، یہ آلہ ہے اور اصل روح ہے۔ اصل کیا ہے؟ روح اصل ہے اور یہ بدن اس کا آلہ ہے۔ جس کے ذریعے، اس بدن کے ذریعے یہ روح دنیا میں مختلف قسم کے کام سرانجام دیتی ہے۔ روح جیسا چاہتی ہے بدن اسی کے مطابق چلتا ہے۔ بدن کی مثال یوں سمجھ لو جیسے گاڑی ہے بھئی۔ گاڑی کے اندر ڈرائیور بیٹھا ہو، وہ گاڑی کو جس طرف چاہے گا موڑ کر لے جائے گا، اور جس طرح چلانا چاہے اس کو چلائے گا۔ اسی طرح روح اصل ہے، اور یہ بدن کیا ہے؟ اس کے لیے آلہ ہے۔ اور یہ دنیا میں جتنے کام روح سرانجام دیتی ہے، وہ اس آلے کے ذریعے سرانجام دیتی ہے جسے جسم کہتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ موت کے وقت جب روح بدن سے نکل جاتی ہے، اب دیکھو وہی ہاتھ ہیں لیکن کسی چیز کو پکڑ نہیں سکتے۔ وہی پاؤں ہیں لیکن کسی چیز کی طرف چل نہیں سکتے۔ وہی آنکھیں ہیں لیکن کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتیں۔ وہی کان ہیں لیکن کسی چیز کو سن نہیں سکتے۔ وہی ناک ہے لیکن کسی چیز کو سونگھ نہیں سکتی۔ وہی منہ ہے لیکن کسی چیز کو کھا نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ بدن یہ تو ایک آلے کی طرح تھا، اس کے اندر سے اس کی روح نکل گئی، جیسے گاڑی میں سے ڈرائیور نکل جائے تو اب وہ گاڑی کھڑی رہے گی، بیکار ہے۔ وہ حرکت کر ہی نہیں سکتی۔ تو بدن بھی اسی طرح ہے۔ روح جو ہے وہ اس بدن کو چلانے والی ہے، وہ ہے اصل، اور یہ بدن کیا ہے؟ اس کا آلہ ہے۔ تو موت کے وقت یہ روح بدن سے نکل جاتی ہے، اور پھر قیامت جب قائم ہو گی تو تمام یہ جسم نئے سرے سے نئے جسم بنائے جائیں گے، اور پھر روحیں ان کے اندر ڈالی جائیں گی بھئی، روحیں ان میں داخل کی جائیں گی۔ تو اصل روح ہے اور یہ جسم اس کا آلہ ہے۔ اس روح کو اللہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کے لیے عقل نصیب فرمائی ہے۔ عقل ایک آلہ ہے، ایک قوت ہے جو اللہ نے روح کو نصیب فرمائی ہے۔ اللہ نے روح کو علم حاصل کرنے کے لیے کون سی قوت نصیب فرمائی؟ عقل نصیب فرمائی۔ تو تحصیل علم کے لیے اللہ نے روح کو عقل جیسی قوت نصیب فرمائی ہے۔ اور عقل، عقل جو ہے اس کو اللہ نے پھر آگے مزید آلات دیے جن کے ذریعے یہ علم حاصل کرتی ہے۔ عقل کو کچھ چیزوں کا علم دیکھنے سے ہوتا ہے، اور دیکھنا، یہ دیکھنے کی قوت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ تو کچھ چیزوں کا پتا دیکھنے سے چلتا ہے کہ یہ سبز رنگ کی ہے، یا یہ سرخ رنگ کی ہے، یا یہ نیلے رنگ کی ہے، یا فلاں مختلف چیزیں جو جو کچھ ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ ساری چیزیں اس کے اندر آ گئیں۔ یہ چیز چھوٹی ہے، بڑی ہے، وغیرہ ہے، جو بھی چیزیں آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو یہ سارا علم کس کے ذریعے کہاں تک پہنچتا ہے؟ عقل۔ یہ عقل علم حاصل کر رہی ہے کس کے ذریعے سے؟ آنکھوں کے ذریعے، اور اصل تو روح حاصل کر رہی ہے اور اس کے لیے یہ عقل کیا ہے؟ ایک آلہ۔ پھر اس عقل کے لیے آگے کیا ہیں؟ مختلف آلات ہیں۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں دیکھنے سے ہوتا ہے، وہ آنکھیں، یہ قوت اللہ نے آنکھوں میں رکھی۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں سننے سے ہوتا ہے، مختلف قسم کی آوازیں، آپ آواز سنتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ زید کی آواز ہے، یا بکر کی آواز ہے، یا یہ گائے کی آواز ہے، یا بکری کی آواز ہے، یا یہ گاڑی کی آواز ہے، یا یہ موٹر سائیکل کی آواز ہے، یا یہ آندھی اور طوفان کی آواز ہے، یا بارش کی آواز ہے۔ تو دیکھا کچھ چیزوں کا علم ہمیں کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ سننے سے۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں سونگھنے سے ہوتا ہے، کہ دیکھو یہ فلاں قسم، مثلاً یہ گلاب کی خوشبو ہے، یہ موتیے کی خوشبو ہے، یہ فلاں قسم کی خوشبو ہے، اور فلاں یا یہ بدبو ہے، اس کا پتا کس سے چلتا ہے؟ سونگھنے سے۔ اور یہ طاقت اللہ نے ناک میں رکھی ہے۔ اور سننے کی طاقت اللہ نے کانوں میں رکھی، دیکھنے کی طاقت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ اسی طرح کچھ چیزوں کا پتا ہمیں اس کے چکھنے سے چلتا ہے۔ ہم مختلف چیزوں کو چکھتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ چیز میٹھی ہے، یا کڑوی ہے، یا پھیکی ہے، یا کھٹی ہے۔ مختلف قسم کے ذائقے ہیں، ان کا پتا ہمیں کس سے چلتا ہے؟ زبان سے۔ اللہ نے یہ ذائقے کی قوت کہاں رکھی ہے؟ زبان کے اندر۔ اور کچھ چیزوں کا علم ہمیں چھونے سے ہوتا ہے۔ مثلاً ہم کسی چیز کو ہاتھ لگائیں، آنکھیں بند بھی ہوں، تو بھی ہمیں پتا چل جاتا ہے کہ یہ چیز سخت ہے، یا نرم ہے، خشک ہے، یا گیلی ہے، وغیرہ، کھردری ہے، یا ہموار ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ مختلف یہ حواس خمسہ ہیں، پانچ حواس جو اللہ نے عقل کو نصیب فرمائے ہیں۔ دیکھنے کی طاقت، سننے کی طاقت، چکھنے کی طاقت، اور ذائقے کی طاقت اور چھونے کی طاقت۔ اور یہ جو چھونے کی طاقت ہے یہ پورے بدن میں پھیلی ہوئی ہے۔ دیکھنے کی قوت تو کہاں پر؟ آنکھوں میں۔ سننے کی قوت کہاں پر؟ کانوں میں۔ چکھنے کی قوت زبان میں، ذائقے کی قوت زبان میں، اور سونگھنے کی قوت ناک میں۔ لیکن یہ جو چھونے کی قوت ہے یہ پورے بدن میں پھیلی ہوئی ہے، بدن کا کوئی حصہ بھی کسی چیز پر لگے پتا چل جاتا ہے، محسوس ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو روح کو اللہ نے تحصیل علم کے لیے عقل نصیب فرمائی، اور پھر عقل کو آگے مزید پانچ آلات نصیب فرما دیے جن کے ذریعے عقل مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے۔ تو صورت سے مراد ہے اس چیز کی پہچان، کیا ہے؟ پہچان۔ تصویر نہ لیں، تصویر تو پھر صرف ظاہری چیزوں کی ہو گی جو اپ کو دکھائی دیتی ہیں۔ بلکہ صورت سے کیا مراد ہے اس کی؟ پہچان۔ جیسے دیکھو ذائقہ ہے، اب ذائقے کی تو کوئی صورت نہیں ہوتی، تو مراد کیا ہے اس کی؟ پہچان۔ تو عقل جو ہے، یہ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے۔ اس کو مختلف پھلوں کے ذائقے ہیں، مختلف چیزوں کے ذائقے ہیں، ان سب کی صورتیں بھی اس کے اندر محفوظ ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں گلاب کی خوشبو، فورا ایک خوشبو کا تصور آپ کے ذہن میں آ گیا، معلوم ہوا آپ کو اس خوشبو کا علم ہے۔ یا موتیے کی خوشبو، فورا ایک اور خوشبو کا تصور آپ کے ذہن میں آ گیا۔ یا میں نے کہا میٹھا ذائقہ، فورا ایک ذائقہ آپ کے تصور میں آ گیا، معلوم ہوا آپ کو میٹھے ذائقے کا علم ہے، تو وہ آپ کو معلوم ہے۔ تو عقل جو ہے مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے، مختلف چیزوں کی صورتیں اس کے اندر بنتی ہیں۔ لیکن صرف دکھائی دینے والی چیزوں کی صورت ہی نہیں بنتی، ہر چیز کی صورت اور پہچان اس کے اندر اتی چلی جاتی ہے۔ چاہے وہ اواز ہو، مختلف قسم کی اوازوں کی بھی پہچان اور صورت اپ کے ذہن میں محفوظ، مختلف ذائقوں کی بھی صورتیں اور اس کی پہچان اپ کے ذہن میں محفوظ، مختلف خوشبوؤں کی پہچان اور صورتیں بھی اپ کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ تو کسی چیز کی بھی جو صورت اور پہچان ہمارے ذہن میں اتی ہے، ہماری عقل میں اتی ہے، اس کو اس چیز کا علم کہتے ہیں۔ اور اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ ادراک۔ اور یہ علم یا ادراک یا تصور ہو گا یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں۔ تو تصور بھی علم کا نام، تصدیق بھی علم کا نام۔ اب تصور کسے کہتے ہیں اور تصدیق کسے کہتے ہیں؟ تو پہلے تصدیق کو سمجھ لیں۔ تصدیق جب سمجھ میں ا جائے گی تو تصور خود بخود سمجھ میں ا جائے گا۔ تصدیق اسے کہتے ہیں کہ اپ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کریں یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کریں۔ مثلاً زید عالم ہے۔ دیکھو میں نے زید کے لیے عالم ہونا ثابت کیا۔ اور یا میں کہتا ہوں زید عالم نہیں ہے، تو میں نے زید سے عالم ہونے کی نفی کر دی۔ تو دیکھا تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ضرور ہوں گی، ایک وہ چیز جس کے لیے دوسری چیز کو ثابت کر رہے ہیں، اور ایک وہ دوسری چیز جو اس پہلی کے لیے ثابت۔ تو ایک مثلاً زید اور ایک عالم ہونا۔ تو یا تو عالم ہونا میں زید کے لیے ثابت کروں گا اور کہوں گا زید عالم ہے۔ زید اور چیز عالم ہونا زید کا اور معنی یہ ایک ذات کا نام ہے اور عالم کا ایک اور معنی ہے، لیکن دیکھو میں نے زید کے لیے عالم ہونا ثابت کر دیا تو میں نے کیا کہا زید عالم ہے۔ اور یا میں اس کی نفی کروں گا زید عالم نہیں ہے۔ تو تصدیق میں ہمیشہ کیا ہوتا ہے ایک دو چیزیں کم از کم ہوتی ہیں۔ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہوتا ہے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہوتی ہے، اس کو کہتے ہیں تصدیق بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ تصدیق۔ اور اس کے علاوہ جتنی باقی صورتیں ہیں وہ تصور کے اندر داخل ہیں، کس کے اندر داخل ہیں؟ تصور کے اندر داخل ہیں اور پھر تصور اس اعتبار سے کئی قسم پر ہو گیا۔ ایک صورت تصور کی یہ ہے کہ ایک ہی چیز کی صورت ذہن میں ہو، کس کی ایک ہی چیز ہے۔ تصدیق میں تو کم از کم کتنی چیزیں تھیں دو، ایک جس کے لیے ثابت کیا اور ایک جس چیز کو ثابت کیا، لیکن تو اگر ایک ہی چیز ہو تو یہ تصدیق نہیں، جب تصدیق نہیں تو یہ کس میں داخل ہے؟ تصور میں۔ یا ایک سے زیادہ چیزیں ہوں جیسے زید اور عمر اور بکر وغیرہ بھئی۔ تو اگر ایک ہی چیز کا تو تصور کی کئی صورتیں ہو گئیں۔ اگر ایک ہی چیز کا ادراک ہو ایک ہی چیز کا علم ہے، مثلاً زید اکیلے زید کا تصور، یا اکیلے بکر کا تصور، یا اکیلے کسی بھی ایک چیز کا تصور۔ کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے، ویسے میں نے زید بکر کی مثال دے رہا ہوں، ایک درخت کا تصور، پہاڑ کا تصور، بادل کا تصور، تو یا تو ادراک ہو گا ایک ہی چیز کا یا ایک سے زیادہ چیزوں کا۔ اگر ایک چیز کا ہے تو پھر بھی یہ تصور ہے، کیونکہ تصدیق میں کم از کم کتنی چیزیں چاہیے تھیں دو، اور دو بھی چیزیں ایسی کہ ان میں سے ایک کا ثبوت ہو دوسرے کے لیے یا ایک کی نفی ہو دوسرے سے بھئی۔ تو اگر صرف ایک ہی چیز کا ادراک ہو تو یہ بھی تصور ہے۔ اگر دو یا زیادہ چیزیں ہیں اور درمیان میں کوئی نسبت نہیں، کوئی تعلق نہیں، تو بھی یہ تصور ہے۔ مثلاً زید کا بھی تصور میں نے کیا اور عمر کا بھی کر لیا اور بکر کا بھی کر لیا۔ یا یوں کہو میں نے درخت کا بھی تصور کر لیا، پہاڑ کا بھی تصور کر لیا، بادل کا بھی تصور کر لیا۔ تو جتنی بھی چیزوں کا تصور کر لیں درمیان میں کوئی نسبت نہیں، تو کئی چیزوں کا ادراک ہو لیکن درمیان میں نسبت نہ ہو یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ ایک چیز کا ادراک ہو وہ بھی تصور، کئی چیزوں کا ادراک ہے لیکن درمیان میں نسبت نہیں یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ تیسری صورت دو یا زیادہ چیزیں ہیں اور ان میں نسبت بھی ہے لیکن نسبت تامہ نہیں، یعنی بات پوری نہیں۔ مثلاً میں نے کہا زید کا غلام۔ زید کا غلام دیکھو ایک زید ہے ایک غلام ہے اور بیچ میں میں نے جوڑ بھی آ گیا یا نہیں آ گیا کہ غلام کس کا ہے زید کا ہے، زید کی طرف منسوب ہے۔ تو دیکھو نسبت آ گئی لیکن یہ نسبت تام نہیں، بات پوری نہیں۔ یا میں کہتا ہوں ”رَجُلٌ عَالِمٌ“۔ ”رَجُلٌ“ موصوف ”عَالِمٌ“ صفت۔ تو ”غُلَامُ زَیْدٍ“ یہ مضاف مضاف الیہ ہیں، ”رَجُلٌ عَالِمٌ“ یہ کیا ہیں موصوف صفت، ان میں نسبت تو ہے، ایک میں اضافت والی نسبت ہے، ایک میں موصوف صفت والی نسبت ہے، لیکن بات پوری نہیں۔ تو جب نسبت تامہ نہیں تو بھی یہ تصور ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ تصور کی کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین۔ پہلی صورت کیا کہ ادراک کس کا ہو ایک ہی چیز کا۔ دوسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا لیکن درمیان میں کوئی نسبت وغیرہ نہ ہو۔ تیسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا اور ان میں نسبت بھی ہو لیکن نسبت تامہ نہ ہو، جیسے مضاف مضاف الیہ یا موصوف صفت، تو بھی یہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ چوتھی صورت تصور کی یہ ہے کہ نسبت تامہ ہے، یعنی بات پوری ہے، لیکن انشا ہے، کیا ہے؟ انشا۔ مثلاً میں اپ سے پوچھتا ہوں ”مَا اسْمُکَ“ آپ کا کیا نام ہے؟ اب بات پوری ہے، اپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے کہ میں اپ سے ایک سوال پوچھ رہا ہوں۔ تو بات تو پوری ہے، لیکن انشا ہے، کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ سوال کس کی قبیل سے ہے؟ انشا کی قبیل سے۔ اسی طرح میں اپ سے کہتا ہوں ”اِضْرِبْ عَمْرًا“ امر کی پٹائی کرو۔ یہ بھی کیا ہے؟ بات تو پوری ہے، لیکن انشا ہے، کیونکہ امر ہے، امر کس کی قسم ہے؟ انشا کی۔ یا میں اپ سے کہتا ہوں ”لَا تَضْرِبْ عَمْرًا“ امر کی پٹائی نہ کرو۔ تو یہ نہی ہے، اور نہی بھی کس کی قسم ہے؟ انشا کی۔ تو ان سب میں بات تو پوری ہے، نسبت تامہ تو ہے، لیکن خبری نہیں، نسبت انشائی ہے۔ تو یاد رکھیے یہ بھی تصور کی قبیل سے ہے، کس قبیل سے؟ تصور کی۔ تو تصور کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار۔ نمبر ایک ادراک اس کا ہو ایک ہی چیز کا۔ دوسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا لیکن ان میں کوئی نسبت نہ ہو۔ تیسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا اور ان میں نسبت بھی ہو لیکن نسبت تامہ نہ ہو۔ چوتھی صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا اور ان میں نسبت بھی ہے لیکن نسبت کون سی ہے؟ انشائی ہے، نسبت تامہ ہے لیکن انشائی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ اسی طرح یاد رکھیے، اگر نسبت تامہ خبری ہو، نسبت تامہ پانچویں قسم تصور کی، نسبت تامہ ہے، خبری ہے، لیکن اپ کو یقین نہیں۔ یاد رکھیے تصدیق میں ضروری ہے کہ اپ ایک چیز کو مان لیں، اس کا یقین کر لیں، پھر وہ تصدیق ہے ورنہ تصدیق نہیں۔ مثلاً اپ سے ا کر کسی ساتھی، کوئی ساتھی ایا، اپ نے پوچھا زید کدھر ہے؟ اس نے کہا زید ا گیا ہے۔ زید ا گیا ہے، اپ نے مان لیا، بس تو یہ تصدیق ہے۔ اپ نے کیا کیا؟ اس کو مان لیا اس کی بات پر یقین کر لیا۔ تو تصدیق میں یہ ضروری ہے کہ اپ ایک بات کو مان لیں، تسلیم کر لیں، اس کا یقین کر لیں۔ چنانچہ میں اب اپ سے پوچھتا ہوں بھئی زید ایا یا نہیں؟ اپ کہیں گے بھئی وہ کہہ رہا تھا کہ زید ا گیا ہے۔ زید ا گیا ہے، معلوم ہوا اپ نے اس کی بات کا یقین کر لیا ہے، اور وہی خبر اب مجھے دے رہے ہیں۔ لیکن اگر اس نے کہا زید ا گیا ہے، لیکن اپ کو شک ہوا کہ پتا نہیں یہ سچ بتا رہا ہے یا نہیں۔ شک ہے، تو اب میں دیکھو اپ سے پوچھتا ہوں بھئی زید ایا یا نہیں؟ اپ کہیں گے بھئی وہ کہہ رہا تھا کہ زید ا گیا ہے۔ اب نسبت اس کی طرف کر دی۔ معلوم ہوا اپ کو بات کی، اس کی بات کا یقین نہیں، کہ اس نے مجھے یوں بتایا ہے، باقی مجھے پتا نہیں ہے۔ تو دیکھو جب بھی اپ کو کوئی بات بتلائی جاتی ہے، کوئی علم، اس میں بعض اوقات یقین ہوتا ہے، یعنی اپ اس کو مان لیتے ہیں، اور بعض اوقات اس میں کیا ہوتا ہے؟ شک ہوتا ہے۔ تصدیق میں یہ ضروری ہے کہ اپ کو اس کا یقین ہو۔ اگر شک ہو، اگر ایک نسبت تامہ خبری ہے مثلاً کسی نے کہا زید عالم ہے۔ اب اپ کو اس بارے میں شک ہے کہ پتا نہیں زید عالم ہے یا زید عالم نہیں ہے۔ تو اگر دونوں جانبین برابر ہوں، یعنی جتنا خیال اپ کے ذہن میں ہے عالم ہونے کا اتنا ہی خیال یہ بھی اتا ہے کہ زید عالم نہیں، یعنی پچاس فیصد خیال ہے زید کے عالم ہونے کا، تو پچاس فیصد خیال ہے زید کے عالم نہ ہونے کا۔ تو یاد رکھیے اس کو منطق کی اصطلاح میں شک کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ہیں۔ اور یاد رکھیے، شک ایک تو ہم عام اردو میں شک بولتے ہیں نا اس میں تو جانبین کا برابر ہونا ضروری نہیں، لیکن جو منطق میں شک اسے کہتے ہیں جس میں دونوں جانبیں برابر ہوں۔ یعنی ایک چیز کے لیے ایک چیز ثابت کی ہے، تو اپ کے ذہن میں اتا ہے پتا نہیں یہ ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے، ایک جتنا اس کے ہونے کا خیال اتنا ہی اس کے نہ ہونے کا بھی خیال ہے، پچاس پچاس فیصد بالکل برابر ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک۔ اور اگر ایک جانب کا خیال زیادہ ہے، اور ایک جانب کا خیال کم ہے۔ اس نے کہا زید اگیا ہے، اب اپ کا 80، 90 فیصد خیال ہے کہ زید ا گیا ہو گا، لیکن 10 فیصد وہم ا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے نہ ایا ہو۔ تو جو زائد گمان ہے، جو زائد خیال ہے اس کو کہتے ہیں ظن، طوا ظا۔ ظا اور نون، نون مشدد ہے، ”ظَنٌّ“۔ اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اور یاد رکھیے یہ جو ظن ہے نا ظن جو زیادہ خیال ہے، یہ بھی تصدیق ہے، کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ کیونکہ اس کا زیادہ خیال ہے، اپ کو یقین تو نہیں لیکن یقین کے قریب ہے یا نہیں؟ اور قریب الی الشیء فی حکم الشیء، جو جس چیز کے قریب ہو اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ تو ظن یقین کے قریب ہوا تو وہی یقین والا حکم ہم نے دے دیا اور کیا کہا یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ جبکہ وہم، یعنی وہ جو تھوڑا خیال ہے وہ، اور شک، یہ تصور کی قسمیں ہیں۔ شک اور وہم کس کی قسمیں ہیں؟ تصور کی۔ تو دیکھو شک اور وہم میں نسبت تامہ ہے، خبری ہے، لیکن اپ کو اس کا یقین نہیں ہے، تو یہ تصدیق نہیں۔ تو تصدیق وہ ہے جس میں اپ کو یقین ہو یا یقین کے قریب ہو یعنی ظن ہو۔ تو شک کسے کہتے ہیں؟ جس میں دونوں جانبیں کیا ہوں؟ برابر ہوں، جتنا خیال ہونے کا ہو اتنا ہی خیال نہ ہونے کا ہو۔ اور ظن اور وہم کسے کہتے ہیں؟ اگر ایک بات کا، ایک جانب کا زیادہ خیال ہے اور دوسری جانب کا کم خیال، تو جو زیادہ خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم۔ اور تخیل کسے کہتے ہیں؟ ایک بات ذہن میں ائی اور ا کر ہو کر ایک دم گزر گئی، وہاں یقین ہے یا یقین نہیں یہاں تک نوبت ہی نہیں پہنچی۔ اس سے پہلے ہی ذہن سے وہ نکل بھی گئی، ویسے ہی خیال سا ذہن میں ایا اور نکل گیا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخیل۔ یاد رکھیے یہ تخیل بھی تصور کی قسم ہے۔ تو تصور کی پانچ قسمیں ہو گئیں۔ نمبر ایک ادراک اس کا ہو ایک ہی چیز کا۔ دوسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا لیکن درمیان میں کوئی نسبت وغیرہ نہ ہو۔ تیسری صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا اور ان میں نسبت بھی ہو لیکن نسبت تامہ نہ ہو، جیسے مضاف مضاف الیہ یا موصوف صفت۔ چوتھی صورت ادراک ہو کئی چیزوں کا اور ان میں نسبت بھی ہے لیکن نسبت کونسی ہے؟ انشائی ہے، نسبت تامہ ہے لیکن انشائی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ اسی طرح یاد رکھیے، اگر نسبت تامہ خبری ہو لیکن اس کا اپ کو یقین نہیں، اپ اس کو تسلیم نہیں کر رہے یعنی شک ہے یا وہم ہے یا تخیل ہے، یہ بھی کس کی قسم ہیں؟ تصور کی قسمیں ہیں۔ تو تصدیق میں کتنی چیزیں؟ دو چیزیں۔ ایک وہ جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں، اور ایک جو چیز جس کو ثابت کر رہے ہیں، یا جس کی نفی کر رہے ہیں۔ مثلاً ”زَیْدٌ عَالِمٌ“ ہے یا ”زَیْدٌ لَیْسَ بِعَالِمٍ“ ہے، اور اپ اس کو تسلیم بھی کر لیں، یقین بھی کر لیں، تو یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ اسی طرح ظن بھی کس کے اندر داخل ہے؟ تصدیق کے اندر داخل ہے۔ اب دیکھیے کتاب پر ”اَلْعِلْمُ اِنْ کَانَ اِذْعَانًا لِّلنِّسْبَةِ فَتَصْدِیْقٌ وَاِلَّا فَتَصَوُّرٌ“ علم اگر وہ اس میں مان لینا ہو، اذعان کا معنی کیا ہے؟ مان لینا، اعتقاد کر لینا۔ ”اِذْعَانًا لِّلنِّسْبَةِ“ اگر وہ مان لینا ہو نسبت کا، یعنی نسبت تامہ خبری کا اگر مان لینا ہو، اس کا اعتقاد کر لینا ہو ”فَتَصْدِیْقٌ“ تو وہ تصدیق ہے۔ ”وَاِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو، ”فَتَصَوُّرٌ“ تو وہ تصور ہے۔ یاد رکھیے الا یہ دراصل ”اِنْ لَّا“ ہے، ان حرف شرط اور لا نفی والا۔ ”وَاِنْ لَّا یَکُنْ اِذْعَانًا“ اور اگر وہ علم مان لینا نہ ہو، یعنی اس میں یقین نہ ہو، تو وہ کیا ہے؟ ”فَتَصَوُّرٌ“ تو وہ تصور ہے۔ یہاں پر میں نے ابھی اپ کو بتایا تصدیق میں دو چیزیں ہوتی ہیں، کتنی چیزیں ہوتی ہیں؟ دو۔ ایک جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں اور ایک جو چیز ثابت کر رہے ہیں۔ مثلاً ”زَیْدٌ عَالِمٌ“ یا ”زَیْدٌ لَیْسَ بِعَالِمٍ“۔ تو تصدیق میں کتنی چیزیں؟ دو۔ ایک وہ جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں اور ایک جو چیز جس کو ثابت کر رہے ہیں یا جس کی نفی کر رہے ہیں۔ مثلاً ”زَیْدٌ عَالِمٌ“ یا ”زَیْدٌ لَیْسَ بِعَالِمٍ“۔ اور اپ اس کو تسلیم بھی کر لیں، یقین بھی کر لیں، تو یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ اسی طرح ظن بھی کس کے اندر داخل ہے؟ تصدیق کے اندر داخل ہے۔ چلیے بس بھئی۔ ”ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ“۔
33 approved lectures · 28 of 33