فصل فی الصّنف الرابع الحکم فیھم انہ اذا انفراد واحد منھم استحق المال کلہ لعدم المضاحم وان اجتمعوا وکان حیض قرابتھم متحدأ کالعّمات والاعمام لأم او الاخوال والخالات فالاقویٰ منھم اولیٰ بالاجماع. ذوی الارحام کی بحث چل رہی ہے آپ نے پڑھا کہ ذوی الارحام اصطلاح شریعت میں وہ رشتے دار ہیں جو ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ ہوں بھئی۔ اور آپ نے پڑھا تھا یہ چار قسم پر ہیں بھئی۔ پہلی قسم وہ ہیں جو میّت کی طرح منسوب ہیں یعنی جو میّت کی اولاد میں سے ہیں، ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ جو میّت کی اولاد میں سے ہیں وہ کیا کہلاتے ہیں؟ ذوی الارحام، تو پہلی قسم وہ اور دوسری قسم جو میّت کے اصول میں سے ہیں عصبات اور ذوی الفروض کے علاوہ اور تیسری قسم جو جن کی نسبت جو ہے میّت کے والد کی طرف ہوتی ہے والد اور والدہ کی طرف اور جو ذوی الفروض اور عصبات میں سے نہیں۔ اور آج ہم چوتھی قسم پڑھیں گے چوتھی قسم ذوی الارحام کی جو میّت کے دادا دادی اور نانا نانی کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ دادا دادی اور نانا نانی کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ اور اسی میں ان کی اولاد بھی آئے گی بھئی لیکن ان کی اولاد کو آگے الگ فصل میں ذکر کریں گے۔ تو یہاں پر وہ ذوی الارحام جو میّت کے دادا دادی اور نانا نانی کی طرف منسوب ہیں بھئی۔ یعنی میّت کے ماں باپ کے برابر میں جو ہیں میّت کے ماں باپ کے برابر میں جو ہیں بھئی ماں باپ ہی نانا نانی دادا دادی کی اولاد ہیں نا تو وہ جو ذوی الارحام جن کا ذکر ہو رہا ہے وہ بھی ماں باپ کے برابر میں ہیں اور یاد رکھیے پھر یہ جو باپ کی طرف کے ہیں مذکر ہے تو اس کو چچا کہتے ہیں مؤنث ہے تو اسے پھوپھی کہتے ہیں اور ماں کی طرف اس کے برابر میں اگر مذکر ہے تو اس کو ماموں کہتے ہیں اور اگر مؤنث ہے تو اسے خالہ کہتے ہیں۔ تو گویا باپ کی طرف جو ہیں وہ پھوپھی اور چچا ہوئے اور ماں کی طرف ماموں اور خالہ ہوئے۔ اور یہ دس افراد ہیں کل بھئی۔ ان کی اولاد بھی انہی میں شامل ہے لیکن اولاد کے لیے میں نے بتلایا وہ الگ فصل میں ذکر کریں گے لہذا ہم بھی اس کو یہاں ذکر نہیں کریں گے صرف یہ جو ان کے برابر میں ہیں جو ان کے دادا دادی اور نانا نانی کی طرف منسوب ہیں اور ماں باپ کے برابر میں ہیں تو وہ دس افراد ہیں بھئی۔ کون کون سے؟ حقیقی پھوپھی ہے حقیقی پھوپھی اور علاتی پھوپھی ہے اور اخیافی پھوپھی حقیقی پھوپھی، علاتی پھوپھی اور اخیافی پھوپھی اور اخیافی چچا اخیافی چچا حقیقی چچا اور علاتی چچا نہیں بھئی کیونکہ وہ تو کس میں سے ہیں؟ وہ تو عصبات میں سے ہیں ہاں اخیافی چچا بھئی۔ جبکہ ماں کی طرف جو ہیں وہ ماموں اور خالہ وہ حقیقی بھی ہو سکتے ہیں علاتی بھی اخیافی بھی یعنی حقیقی ماموں بھی، علاتی ماموں بھی، اخیافی ماموں بھی اسی طرح حقیقی خالہ بھی، علاتی خالہ بھی اور اخیافی خالہ بھی تو یہ ماں کی طرف کے چھ رشتہ دار ہوئے حقیقی ماموں، علاتی ماموں اور اخیافی ماموں اور تین عورتیں ہوئیں یعنی حقیقی خالہ، علاتی خالہ اور اخیافی خالہ۔ جبکہ والد کی طرف کے چار رشتے دار ہوئے بھئی حقیقی پھوپھی، علاتی پھوپھی اور اخیافی اور جب کہ چچا صرف اخیافی بھئی تو یہ چار افراد والد کی طرف ہوئے بھئی۔ اب ان کا بیان ہے کہ ان میں سے کون مستحق ہوگا بھئی دیکھیے بھئی۔ الحکم فیھم حکم ان کے اندر یہ ہے کہ انہ اذا انفراد واحد منھم استحق المال کلہ لعدم المضاحم کہ اگر ان میں سے کوئی ایک اکیلا ہوا استحق المال کلہ تو وہ مستحق ہوگا سارے کے سارے مال کا لعدم المضاحم بوجہ مقابل کے نہ ہونے کے کوئی اور مضاحم اور مقابل ہے ہی نہیں بھئی۔ بحث چل رہی ہے ذوی الارحام کی بھئی اور ذوی الارحام کو مال کب دیتے ہیں جب ذوی الفروض میں سے بھی کوئی نہ ہو اور عصبات میں سے بھی کوئی ذوی الفروض نسبیہ میں سے، ذوی الفروض سببی اگر ہوں یعنی میاں بیوی مرنے والے کا خاوند زندہ ہے مرنے والی کا خاوند یا مرنے والے کی بیوی زندہ ہے ان کو مال دینے کے بعد بھی کچھ نہ کچھ مال بچ جاتا ہے تو وہ مال بھی اگر عصبات اور دوسرے نسبی ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو تو کس کو دیا جاتا ہے؟ ذوی الارحام کو دیا جاتا ہے تو ان کے علاوہ کی بات ہو رہی ہے توجہ بھی ہے سبق کی طرف کہ نہیں بھئی؟ ذوی الارحام کو مال کب دیتے ہیں؟ جب ذوی الفروض نسبیہ اور عصبات میں سے کوئی نہ ہو اور اگر ذوی الفروض سببی یعنی میاں بیوی میں سے کوئی ہو تو ان کو جب مال دے دیں گے پھر بھی کچھ مال بچ جائے گا اور ان پر تو رد کیا نہیں جاتا تو پھر وہ باقی مال کس کو ملے گا؟ ذوی الارحام کو تو میاں بیوی کی موجودگی میں تو ذوی الارحام کو مال مل سکتا ہے کسی اور ذوی الفروض یا عصبات میں سے کوئی ہو تو پھر انہیں مال نہیں مل سکتا بھئی۔ تو یہاں پر بھی وہی صورتیں بیان ہو رہی ہیں کہ یہاں عورت نے پہلے کیا بیان کی کہ اگر یہ چوتھی قسم میں سے کوئی ایک فرد ہے چاہے مذکر ہے چاہے مؤنث یعنی پھوپھیوں یا چچا یا ماموں یا خالاؤں میں سے اگر ایک فرد ہے تو سارا مال اس کو دے دیں گے بھئی کیونکہ کوئی مقابل ہے ہی نہیں صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ یہ معنی ہے الحکم فیھم انہ اذا انفراد واحد منھم استحق المال کلہ لعدم المضاحم بوجہ مقابل کے نہ ہونے کے وانہ اجتمعوا اور اگر یہ جمع ہو جائیں یعنی کئی افراد ہوں ان میں سے وکان حیض قرابتھم متحدأ اور ان کی حیض کے معنی ہوتے ہیں جگہ اور مقام کے یہاں مراد ہے جہت بھئی جہت وکان حیض قرابتھم متحدأ اور ان کی جہت قرابت بھی متحد ہو۔ جہت قرابت بھی کیا ہو؟ متحد ہو بھئی دیکھیے قرابت بھی تو مختلف ہو سکتی ہے حقیقی بھی ہو سکتے ہیں علاتی بھی ہو سکتے ہیں اور اخیاف تو اگر کئی افراد ہوئے لیکن جہت قرابت متحد ہے یعنی سارے ہی حقیقی ہیں یا سارے ہی علاتی ہیں یا سارے کیا ہیں؟ اخیافی کالعّمات والاعمام لأم جیسے کہ کالعّمات والاعمام جیسے کئی پھوپھی ہیں بھئی کیا ہیں؟ کئی پھوپھی ہیں والاعمام لأم یا کیا ہیں؟ کئی اخیافی چچا ہیں او الاخوالی یا ماموں ہیں کئی والخالات اور کئی خالائیں ہیں فالاقویٰ منھم اولیٰ بالاجماع تو ان میں سے جو زیادہ قوی ہے وہ بالاجماع اولیٰ ہے بھئی جو زیادہ قوی ہے کیونکہ قرابت کی تین صورتیں تھیں یا حقیقی یا علاتی یا اخیاف سب سے قوی درجہ کون کن کا؟ جو حقیقی ہیں یعنی ماں باپ شریک ہیں اس کے بعد درجہ کن کا؟ جو علاتی ہیں یعنی صرف باپ شریک ہیں اس کے بعد درجہ کن کا؟ جو اخیافی ہیں یعنی ماں شریک ہیں بھئی تو ان میں سے جو اقویٰ ہوگا وہ اولیٰ ہوگا بالاجماع یعنی من کان لأب و أم یعنی وہ جو ماں باپ شریک ہے یعنی حقیقی جو ہے اولیٰ وہ اولیٰ ہے ممّن کان لأب وہ جو صرف باپ شریک ہے یعنی حقیقی پھوپھی یہ اولیٰ ہے اخیافی پھوپھی سے یا حقیقی ماموں یہ اولیٰ ہے کس سے؟ اخیافی ماموں سے یا حقیقی خالہ یہ اولیٰ ہے کس سے؟ علاتی اور اخیافی خالہ سے سمجھ میں آیا بھئی تین صورتیں ہیں اب جتنی بھی آپ اس میں سے، تین قسمیں ہیں جتنی بھی صورتیں بنتی ہیں سب اس میں آگئیں۔ جو ان میں سے بس زیادہ قوی ہوگا وہ اولی ہوگا۔ ومن کان تو دیکھیے، ومن کان لأب و أم اولی جو ماں باپ، باپ شریک ہیں وہ اولی ہوں گے ممن کان لأب اس کے مقابلے میں جو صرف باپ شریک ہیں یعنی حقیقی اولی ہوں گے علاتی کے مقابلے میں۔ ومن کان لأب اولی ممن کان لأم اور جو باپ شریک ہیں وہ اولی ہوں گے کس سے؟ ماں شریک سے یعنی علاتی اولی ہیں کس کے مقابلے میں؟ اخیافی کے مقابلے میں۔ ذكورا كانوا أو اناثا چاہے وہ مذکر ہوں یا مؤنث ہوں بھئی۔ وإن کانوا ذکورا و اناثا اور اگر وہ مذکر بھی ہوں اور مؤنث دونوں ہوں، واستوت قرابتهم اور ان کی قرابت بھی برابر درجے کی ہو۔ فللذکر مثل حظ الأنثيين تو پھر اس طرح ہوگا مذکر کے لیے دو مؤنث کے مثل حصہ ہوگا، كعم و عمة جیسے چچا اور پھوپھی۔ كلاهما لأم دونوں کیا ہوں؟ ماں شریک یعنی اخیافی ہوں۔ پھوپھی بھی ہے اخیافی، چچا بھی ہے اخیافی۔ تو دیکھیے جهت قرابت بھی متحد ہے اور دونوں میں سے کسی کی قرابت قوی ہے یا برابر درجے کی ہے؟ قرابت برابر درجے کی ہے، تو پھر ان میں مال کس طرح تقسیم ہوگا؟ للذکر مثل حظ الأنثيين کے طریقے پر۔ أو خال وخالة يا مامو اور خالہ یہ دونوں جمع ہوگئے، كلاهما لأب و أم اور یہ دونوں کس کے ہیں؟ ماں باپ شریک یعنی حقیقی مامُو اور حقیقی خالہ۔ تب بھی اسی طرح ہوگا یعنی للذکر مثل حظ الأنثيين۔ أو لأب یا دونوں کیا ہیں؟ باپ شریک یعنی علاتی مامُو ہے اور علاتی خالہ، تب بھی اسی طرح مال تقسیم ہوگا۔ أو لأم یا دونوں کیا ہیں؟ ماں شریک یعنی اخیافی ہیں، مامُو بھی اخیافی اور خالہ بھی اخیافی تو بھی مال اسی طرح تقسیم ہوگا بھئی۔ وإن کان حيز قرابتهم مختلفا اور اگر ان کی جهت قرابت مختلف ہو۔ یعنی کچھ باپ کی طرف سے ہیں اور کچھ ماں کی جانب سے، فلا اعتبار لقوة القرابت تو پھر قوت قرابت کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ بھئی دیکھیے پھر قوت قرابت کا اعتبار، یہ تو وہ صورت تھی جب وہ ایک ہی جہت سے تھے۔ سارے والد کی جہت کے یا سارے والدہ کی جہت کے۔ اور اگر جهتیں مختلف ہوں، کچھ ہیں والد کی جہت کے اور کچھ ہیں والدہ کی جہت کے، اب ان میں آپ نے حقیقی اور علاتی اور اخیافی کا فرق ان میں نہیں دیکھنا الگ الگ جو ماں کی طرف سے ہیں اور باپ کی طرف سے۔ بھئی صورت بنائیے۔ نہیں نہیں اسی طرح مجھے بتائیے بھئی لکھیں نا۔ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے رشتے داروں میں سے صرف ایک حقیقی حقیقی پھوپھی ہے، ایک اخیافی پھوپھی ہے۔ اور ایک حقیقی مامُو ہے اور ایک حقیقی خالہ ہے۔ حقیقی مامُو کتنے افراد ہوئے؟ چار کون کون؟ حقیقی پھوپھی اور اخیافی چچا۔ اخیافی چچا تھا؟ حقیقی پھوپھی اور اخیافی پھوپھی۔ ہاں حقیقی پھوپھی اور اخیافی پھوپھی۔ دوسری طرف حقیقی مامُو اور حقیقی خالہ۔ اب بتائیے ان میں سے کس کس کو مال ملے گا؟ پہلے تو یہ متعین کریں۔ حقیقی پھوپھی اور اخیافی پھوپھی میں سے؟ حقیقی پھوپھی کو ملے گا، اخیافی پھوپھی کو نہیں ملے گا۔ اور دوسری طرف حقیقی مامُو ہے اور حقیقی خالہ۔ ان کو بھی ملے گا یا نہیں ملے گا؟ ملے گا۔ अच्छा اچھا حقیقی مامُو نہ ہوتا، صرف اخیافی مامُو ہوتا۔ ایک طرف ہے حقیقی پھوپھی، دوسری طرف صرف کون؟ اخیافی مامُو۔ اب کس کو ملے گا؟ جی؟ اب دونوں کو ملے گا بھئی کیونکہ ایک ہی جہت کے ہوتے تو پھر ہم نے قوت قرابت کو دیکھنا تھا۔ لیکن جب جہتیں الگ الگ ہوگئیں تو ایک جہت والوں میں تو قوت قرابت دیکھیں گے، لیکن دوسری جہت والوں کے مقابلے میں وہاں قوت قرابت اس میں صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ جی اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں وإن کان حيز قرابتهم مختلفا اور اگر ان کی جهت قرابت مختلف ہو فلا اعتبار لقوة القرابت تو کوئی اعتبار نہیں ہے قوت قرابت کا، كعمة لأب و أم و خالة لأم اور اخیافی خالہ۔ پھوپھی کس کی طرف سے؟ والد کی طرف سے رشتہ دار ہے، خالہ کس اخیافی خالہ کس کی طرف سے؟ لیکن اب مال دونوں کو ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور کس طرح ملے گا وہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔ أو خالة لأب و أم و عمة لأم یا خالہ ہے حقیقی و عمة لأم اور پھوپھی ہے اخیافی تو دونوں کو ملے گا مال بھئی۔ فثلثان لقربت الأب تو دو ثلث یعنی دو تہائی جو ہے وہ باپ کی قرابت کے لیے ہے وهو نصيب الأب وہ باپ کا حصہ ہے والثلث لقربة الأم اور ایک تہائی جو ہے یعنی تیسرا حصہ لقربة الأم کس کی قرابت کے لیے ہے؟ ماں کی قرابت کے لیے ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے کسی شخص کا اگر انتقال ہو اور اس کے رشتے داروں میں سے صرف ماں باپ زندہ ہیں بھئی، مال کس طرح تقسیم کریں گے؟ ماں کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟ ثلث الكل ثلث الكل کیونکہ ماں کے احوال میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر اولاد ہو میت کی یا کوئی دو بھئی بہن کسی بھی جہت سے آجائیں تو ماں کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔ اور اگر ماں کے ساتھ باپ اور مرنے والے کا خاوند یا مرنے والے کی بیوی ان میں سے کوئی ہو یعنی باپ احد الزوجین کے ساتھ بھی آ جائے تو پھر ماں کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث ما بقی ملتا ہے اور باقی صورتوں میں کیا ملے گا؟ ثلث الكل تو یہاں بھی صرف ماں باپ ہیں ماں کو کتنا ملے گا؟ ثلث الكل۔ تیسرا حصہ ماں کو مل گیا اور باپ کیا بنے گا؟ وہ عصبہ تو اس کو دو حصے اس کو مل جائیں گے، دو ثلث باپ کو اور ایک حصہ کس کو؟ ماں کو۔ تو جس طرح ماں باپ صرف اکیلے چھوڑے ہوں اور ان میں باپ کو دو ثلث ملتا ہے اور ماں کو ایک ثلث، اسی طرح ان کے جو رشتے دار ہیں ان میں بھی پھر مال اسی طرح تقسیم ہوگا۔ یعنی جو باپ کی جانب کے رشتہ دار تھے ان کو کتنا دیں گے؟ دو ثلث ان کے درمیان آپس میں تقسیم ہوگا جتنے بھی افراد ہوئے اور ماں کی طرف کے جتنے افراد ہیں ان میں ایک ثلث ان کا حق ہوگا وہ ان کے درمیان پھر تقسیم ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں فثلثان لقربت الأب تو دو ثلث جو ہے باپ کی قرابت کے لیے ہے وهو نصيب الأب اور وہ باپ کا حصہ ہے والثلث لقربة الأم اور ایک ثلث جو ہے ماں کی قرابت کے لیے ہے وهو نصيب الأم اور وہ ماں کا حصہ ہے، ثم ما أصاب کل فریق پھر وہ جو پہنچے ہر فریق کو یعنی جو ملے ہر فریق کو يقسم بينهم كما لو اتحد حيز قرابتهم তো وہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا جیسے کہ اگر ان کی جہت قرابت متحد ہوتی۔ جہت قرابت متحد ہونے کی صورت میں کس طرح تقسیم کرتے تھے؟ للذکر مثل حظ الأنثيين اور تو اولاً یہ دیکھیں کہ یہ سارے باپ کی جہت کے ہیں یا ماں کی جہت کے یا دونوں جہت کے ہیں۔ اگر باپ کی جہت کے ہیں تو پھر ان میں جو زیادہ قوی ہے وہ حقدار ہوگا، اور اس میں اگر پھر کئی افراد آجائیں تو تقسیم کس طرح ہوگی؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ اسی طرح اگر ماں کی جہت طرف ماں کی جہت سے کئی رشتہ دار ہیں ان اس قسم میں سے تو ان کے درمیان مال کس طرح تقسیم ہوگا؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ اور اگر ماں باپ دونوں جہت سے ہیں، دونوں طرف سے رشتہ دار موجود ہیں ذوی الارحام، پھر کیا کریں گے؟ دو ثلث کس جہت والوں کا حق ہوگا؟ باپ کی جہت والوں کا اور ایک ثلث کس جہت والوں کا؟ ماں کی جہت والوں کا۔ اور پھر یہ جو باپ کی جہت والوں کو دو ثلث ملے، یہ پھر ان میں آپس میں کس طرح تقسیم ہوں گے باپ کی جہت والوں میں؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ اور ماں کی جہت والوں کو ایک ثلث ملا، وہ اس کو آپس میں پھر کس طرح تقسیم کریں گے؟ للذکر مثل حظ الأنثيين۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بس بہرحال واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔