فصل فی الصنف الثالث الحکم فیہم کالحکم فی الصنف الاول یعنی اولاہم بالمراث اقربہم الی المیت وإن استوا فی القرب فولد العصبۃ أولا من ولد ذوی الارحام كبنت ابن الأخ وابن بنت الأخت كلاہما لأب وأم أو لأب أو أحدہما لأب وأم والاخر لأب المال كلہ لبنت ابن الأخ لأنھا ولد العصبۃ فصل فی الصنف الثالث یہ فصل ہے ذوی الارحام کی تیسری قسم کے بیان میں۔ الحکم فیہم کالحکم فی الصنف الاول حکم ان کے اندر اسی طرح ہے جس طرح حکم تھا پہلی قسم کے اندر بھئی۔ بھئی یہ تیسری قسم میں کون کون سے ذوی الارحام ائیں گے بھئی۔ بہن اور بھائیوں کی جو اولاد ہے وہ اس کے اندر آئیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں ان کے اندر الحکم فیہم کالحکم فی الصنف الاول ان کے اندر احکام صنف اول کے حکم کی طرح ہے۔ یعنی اولاہم بالمراث اقربہم الی المیت یعنی ان میں سے زیادہ لائق میراث کے وہ ہے جو زیادہ قریب ہے میت کے۔ ایک قریب والا ہے ایک بعید ہے بھئی ان میں سے بہن بھائیوں کی اولاد میں سے تو جو زیادہ قریب ہے وہ حقدار ہوگا اور دور والا محروم رہے گا۔ وإن استوا فی القرب اور اگر برابر ہوں قرب کے اندر یعنی ایک مثلاً تیسرے درجے پر ہے تو دوسرا بھی تیسرے درجے پر ہے فولد العصبۃ أولا من ولد ذوی الارحام تو عصبہ کی اولاد جو ہے وہ اولی ہے ذوی الارحام کی اولاد سے۔ اگر درجے میں برابر ہوں تو عصبہ کی اولاد اولی ہے کس سے؟ ذوی الارحام کی اولاد سے۔ بھئی اس سے پہلے کہا تھا انہوں نے کہ فولد الوارث أولا من ولد ذوی الارحام اور یہاں پر کہہ رہے ہیں فولد العصبۃ أولا من ولد ذوی الارحام۔ وجہ اس کی یہ بھئی۔ کہ ذوی الارحام کی اولاد کے برابر میں یہاں پر۔ ذوی الارحام کی اولاد کے برابر میں یہاں عصبہ کی اولاد تو ہو سکتی ہے ذوی الفروض کی اولاد یہاں ہو ہی نہیں سکتی بھئی۔ کس طرح دیکھیے بھئی۔ پہلے درجے میں تو یہاں کون ہیں؟ بہن بھئی ہیں لیکن بہن بھئی تو کس میں چلے گئے؟ عصبات میں چلے گئے بھئی۔ صرف بہن ہے وہ ذوی الفروض میں سے اور اگر بھائیوں کے ساتھ اجائے تو وہ بھی کیا بن جاتی ہے؟ عصبہ وہ تو ذوی الارحام نہیں۔ پھر کس میں جائیں گے؟ کس کی طرف جائیں گے؟ کس کو دیکھیں گے؟ ان کی اولاد کو۔ اچھا بہنوں کی اولاد۔ وہ کیا ہے؟ جی؟ ذوی الارحام۔ اور کس کی اولاد ہے؟ ذوی الفروض کی اولاد ہے اگر صرف بہن ہو۔ اور اگر بھائیوں کی اولاد ہے وہ بھائیوں کے اگر بھئی یہاں تین صورتیں بنیں گی۔ حقیقی بھئی ہے اسی طرح علاتی بھئی ہے اور اسی طرح اخیافی بھئی ہے۔ بہنیں بھی اسی طرح۔ حقیقی بہن ہوگی یا علاتی بہن ہوگی یا اخیافی بہن۔ تو ٹھیک ہے اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد وہ تو کس کی اولاد ہوئے؟ اخیافی بھئی بہن کس میں سے ہیں؟ وہ تو ذوی الفروض کی اولاد ہوئے۔ بہنیں اکیلی ہیں۔ پھر وہ بھی کیا بنتی ہیں؟ ذوی الفروض ان کی اولاد بھی اس قسم میں سے ذوی الفروض کی اولاد۔ بھئی جو ہیں حقیقی بھئی اور علاتی بھئی۔ ان کی اولاد اگر مذکر ہے وہ تو کیا ہے؟ وہ تو عصبہ ہے۔ وہ تو بحث سے خارج ہاں ان کی جو مؤنث اولاد ہے یعنی بیٹی ان دونوں کی وہ کس میں سے ہے؟ ذوی الارحام میں سے۔ یعنی بھتیجی کس میں سے ہے؟ اور بھتیجا کس میں سے ہے؟ وہ عصبات میں سے ہے اس کی بات تھی نہیں بھئی۔ تو یہاں جو بھی بات ہو رہی ہے وہ صرف ذوی الارحام کے اعتبار سے ہو رہی ہے تو اگر کہیں میں قید ذکر نہ بھی کروں آپ خود سمجھ جانا بھئی۔ تو ہاں بھائیوں کا اگر بیٹا ہے حقیقی بھئی اور علاتی بھئی کا وہ تو کس میں داخل؟ عصبہ۔ اس کی جو آگے اگر بیٹی ہے وہ بھی کس میں داخل ہے بھئی؟ وہ ذوی الارحام میں داخل ہے۔ تو یہاں پر یاد رکھیے انہوں نے کہا ذوی الارحام کی اولاد کے برابر میں اگر کون اجائے؟ عصبہ کی اولاد تو کون اولی ہے؟ عصبہ کی اولاد اولی ہے۔ تو یاد رکھیے یہاں دوسری پشت کے اندر اول نسل تو ہے بھئی اور بہنیں دوسری نسل میں جتنے ہیں وہ سارے یا تو عصبہ کی اولاد ہیں یا ذوی الفروض کی اولاد ہیں۔ تیسرے درجے میں جب جائیں گے تو وہاں کچھ ذوی الارحام کی ذوی الارحام کی اولاد بن جائیں گے۔ مثلاً کون؟ بھئی اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد وہ کیا تھی؟ ذوی الارحام۔ آگے ان کی اولاد ہوگی تو وہ کیا بن جائے گی؟ ذوی الارحام کی اولاد۔ اور یہ تیسرا درجہ ہے تیسری نسل ہے تو ان کے مقابلے میں عصبہ کی اولاد تو آ سکتی ہے ذوی الفروض کی اولاد یہاں آ ہی نہیں سکتی بھئی۔ توجہ ہے بھئی؟ عصبہ کی اولاد کیسے آ سکتی ہے؟ بھئی کیا حقیقی بھئی کے بیٹے کی اولاد بیٹی بھئی وہ ان کے برابر آ گئی۔ تو حقیقی بھئی کا بیٹا کیا تھا؟ عصبہ تو یہاں دوسرے درجے میں عصبہ ہونا تو ممکن ہے تو تیسرے درجے والے عصبہ کی اولاد تو بن سکتی ہے لیکن ذوی الفروض یہاں دوسرے درجے میں ممکن ہی نہیں ہے تو لہذا اس کو ذکر بھی نہیں کیا بات سمجھ میں آگئی بھئی۔ کہ نہیں آئی ابھی بھی سمجھ میں۔ یہاں بھئی پہلا درجہ تو حقیقی بھئی بہنیں ہیں وہ سارے تو یا ذوی الفروض میں سے ہیں یا کس میں سے؟ دوسری نسل جو ہوگی یا تو وہ عصبہ کی اولاد ہوگی یا پھر کس کی اولاد ہوگی؟ لیکن ان میں خود کوئی بھی ذوی الفروض نہیں ہے دوسری نسل میں یا یہ ذوی الفروض کی اولاد ہیں یا عصبہ کی۔ اچھا تیسرے میں گئے تو یہاں پر ذوی الارحام کی بھی اولاد ہو سکتی ہے اور عصبہ کی بھی اولاد ممکن ہے لیکن ذوی الفروض کی اولاد بھئی دوسرے درجے میں کوئی ذوی الفروض تھا ہی نہیں تو تیسرے درجے میں ذوی الفروض کی اولاد بھی نہیں ہو سکتی صرف کس کی اولاد ہو سکتی ہے؟ عصبہ کی اولاد ہو سکتی ہے یا ذوی الارحام کی اولاد ہو سکتی ہے اسی لیے کہا کہ اگر ایک طرف ذوی الارحام کی اولاد ہو دوسری طرف عصبہ کی اولاد ہو یعنی تیسرے درجے میں تو کس کو ترجیح ہوگی؟ عصبہ کی اولاد کو یہ اچھے چوتھے درجے میں ہو یا پانچویں میں کیونکہ عصبہ تو نیچے تک جا سکتے ہیں یہاں۔ حقیقی بھئی کے بیٹا وہ کیا ہے؟ عصبہ اس کا بیٹا وہ بھی کیا ہے؟ اس کا بیٹا بھی کیا ہے؟ تو عصبہ نیچے تک جا سکتے ہیں لیکن ذوی الفروض یہاں صرف پہلے درجے میں ممکن ہیں بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ یہ معنی ہے وإن استوا فی القرب اور اگر وہ برابر ہوں قرب کے اندر فولد العصبۃ أولا من ولد ذوی الارحامی তো عصبہ کی اولاد جو ہے وہ زیادہ لائق ہے ذوی الارحام کی اولاد سے۔ كبنت ابن الأخ جیسے کہ حقیقی۔۔ بھئی یہ آگے بتائیں گے۔ کہ یہ دونوں چاہے بھئی اور بہنیں ذکر ہو رہے ہیں كبنت ابن الأخ یہ جو اخ آیا بھئی وابن بنت الأخت اور یہ جو اخت ائی بہن ائی یہ بہن بھئی جو ہیں چاہے حقیقی ہوں چاہے علاتی ہوں یا ان میں سے ایک حقیقی ہو اور دوسرا علاتی ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا نیچے جو ہے بھئی کے نیچے کون ہے؟ بنت ابن الأخ بھئی کے بیٹے کی بیٹی یہ کس کی اولاد ہوئی؟ بھئی کے بھئی کا بیٹا کون ہے؟ عصبہ تو یہ کس کی اولاد ہوئی؟ عصبہ کی اولاد۔ وابن بنت الأخت اور بہن کی بیٹی یہ بہن کی بیٹی کیا ہے؟ یہ ذوی الارحام ہے اس کا بیٹا تو یہ ذوی الارحام کی اولاد ہوا۔ اب دیکھو یہ دونوں تیسرے درجے میں ہیں بنت، حقیقی بھئی کی، بھئی کا، بھئی کی یعنی پوتی اور بہن کی بہن کا نواسہ۔ بھئی کا پوتا بہن کے نواسے۔ ہاں بھئی کی پوتی اور بہن کا نواسہ۔ ایک ہے عصبہ کی اولاد اور ایک کس کی اولاد ہے؟ ذوی الارحام کی اولاد اگرچہ دونوں برابر درجے میں ہیں لیکن ترجیح کس کو ہوگی؟ عصبہ کی اولاد کو۔ لہذا وہ جو بھئی کی پوتی ہے اس کو مال ملے گا اور بہن کی کا جو نواسہ ہے اسے کچھ نہیں ملے گا۔ کلاہما لأب أو أم دونوں اب کیا ہوں؟ لأب و أم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوں ایک ہی ماں باپ کی کیا معنی؟ حقیقی کس سے تعلق ہے اس کا دونوں کون بھئی حقیقی ہوں؟ یہ جو أخ اور اخت اخیر سب سے اوپر تھے ان میں۔ یہ دونوں چاہے حقیقی بھئی بہن ہوں اور یا علاتی ہوں اور احدہما لأب وام یا ان میں سے ایک تو کیا ہو؟ وہ حقیقی بھئی ہے بھئی اس میت کا والاخر لأب اور ایک علاتی ہے তো کہتے ہیں المال کلہ لبنت ابن الأخ تو مال سارا کا سارا جو ہے وہ بھئی کی پوتی کا ہوگا لانھا ولد العصبۃ کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے۔ ولوشان لأم اور اگر یہ دونوں اخیافی ہوں بھئی۔ کون کون دونوں؟ یہ بھئی اور بہن جن کی اولاد جو ہے اس کا ذکر چل رہا ہے اگر یہ دونوں بہن بھئی اخیافی ہوں تو کہتے ہیں المال بینھما للذکر مثل حظی الأنثیین عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی تو مال جو ہے ان کے درمیان للذکر مثل حظی الأنثیین کے طریقے پر ہوگا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک باعتبار الابدان کس اعتبار سے؟ ابدان کے اعتبار سے۔ بھئی اگر یہی یہ اخیافی بھئی کی پوتی ہوئی اور اخیافی بہن کا نواسہ ہوا اسی صورت میں۔ اخیافی بھئی کی پوتی اور اخیافی بہن کا نواسہ تو یہ برابر درجے میں ہیں اور تو ان کے ابدان کے اعتبار سے مال تقسیم ہوگا ایک لڑکا ہے ایک لڑکی ہے تو للذکر مثل حظی الأنثیین کے طریقے پر مسئلہ بنے گا اور لڑکی کو ایک حصہ ملے گا تو لڑکے کو دو حصے تو کتنے سے مسئلہ بنے گا؟ تین سے۔ تو یہ ان کے بدنوں کے اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ وعندا محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک المال بینھما انصفا مال ان کے درمیان ادھا ادھا ہوگا باعتبار الاصول اصول کے اعتبار سے بہاذہ الصورۃ اس صورت کے کے مطابق بھئی۔ اس صورت میں۔ بھئی دیکھیے یہ کتاب میں نقشہ دیا ہوا ہے میت بنائی اور اس کے نیچے کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے اخیافی بھئی بہنوں والی تو ایک طرف لکھا انہوں نے الاخ لأم دوسری طرف لکھا الأخت لأم اور اخیافی بھئی کا کی پوتی تھی تو اخیافی بھئی کے نیچے بیٹا بنایا اور اس کے نیچے اس کی بیٹی بنا دی یہ اخیافی بھئی کی پوتی ہے۔ دوسری طرف اخیافی بہن کی کا نواسہ تھا تو اس کے بیٹی اور بیٹے کے نیچے پھر بیٹا لکھ لیا۔ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تقسیم کس اعتبار سے ہوئی بھئی؟ للذکر مثل حظی الأنثیین تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ تین سے تو ان کے نزدیک تین سے مسئلہ بنا دو بیٹے کا حصہ اور ایک بیٹی کا۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو سے مسئلہ بنے گا۔ کس سے؟ دو سے دو سے مسئلہ بنے گا آدھا مال بیٹی کا آدھا مال بیٹے کا بھئی کیوں دو سے کیوں بنے گا؟ وجہ یہ بھئی وہ اصول کے اعتبار سے اخیافی بھئی بہنوں میں مال کس طرح تقسیم ہوتا تھا اگر اکیلا ہو اس کو کتنا حصہ؟ سدس اور اگر دو یا زیادہ ہوں تو ثلث ملتا ہے اور وہ ثلث کس طریقے پر تقسیم ہوتا تھا؟ وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ اخیافی بھئی بہنوں کے درمیان مال برابر برابر تقسیم ہوتا ہے وہاں للذکر مثل حظی الأنثیین کے طریقے پر تقسیم نہیں ہوگا۔ لڑکی کو بھی اتنا حصہ جتنا لڑکے کا حصہ تو یہاں پر بھی اخیافی بھئی اور اخیافی بہن کا حصہ برابر برابر ہے تو یہ وہیں پر تقسیم ہوئی دو حصے بن گئے مال کے ایک حصہ کس کی طرف؟ اخیافی بھئی کی طرف اور ایک حصہ اخیافی بہن کی طرف اور وہی پھر ان کی نیچے اولاد کو بھی مل گیا بھئی تو دو سے مسئلہ بنے گا آدھا آدھا مال ہو گے دونوں کو مل جائے گا صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ وإن استوا فی القرب اور اگر وہ برابر ہوں قرب کے اندر ذوی الارحام و لیس فیہم ولد عصبۃ اور ان میں کوئی عصبہ عصبہ کی اولاد بھی نہ ہو أو کان کلھم اولاد اولاد العصبات یا وہ سارے کے سارے کیا ہوں؟ عصبات کی اولاد ہو أو کان بعضہم اولاد العصبات وبعضہم اولاد أصحاب الفرائض یا ان میں سے بعض تو عصبات کی اولاد ہیں اور بعض کس کے اولاد ہیں؟ اصحاب الفرائض یہ کس نسل میں ہوتا تھا بھئی؟ صرف دوسری نسل میں جہاں بعض عصبات کی اولاد اور بعض اصحاب الفرائض کی اولاد۔ فابو یوسف رحمہ اللہ تعالی تو بس امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں یعتبر الاقوی وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ اقوی جو زیادہ قوی ہے بھئی۔ یعنی ان کے نزدیک یاد رکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک حقیقی بھئی اولی ہے علاتی بھئی پر اور علاتی بھئی اولی ہے اخیافی بھئی پر تو سب سے قوی کون؟ حقیقی بھئی اس کے بعد علاتی بھئی اس کے بعد اخیافی بھئی اسی طرح بہنوں میں بھی یہی ترتیب تو ان کے نزدیک جب حقیقی بھئی بہن ہیں تو علاتی اور اخیافی محروم رہیں گے۔ تو جب وہ محروم رہے توں ان کی اولاد یعنی ذوی الارحام حقیقی بھئی بہنوں کی اولاد کے ہوتے ہوئے علاتی اور اخیافی بھئی بہنوں کی اولاد محروم کیونکہ قوی موجود ہے اور علاتی بھئی بہنوں کی اولاد کے ہوتے ہوئے اخیافی بھئی بہنوں کی اولاد محروم رہے گی۔ یہ معنی ہے فابو یوسف رحمہ اللہ تعالی یعتبر الاقوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ اعتبار کرتے ہیں زیادہ قوی کا و محمد رحمہ اللہ تعالی یقسیم المال علی الاخوۃ والاخوات اور امام محمد رحمہ اللہ تقسیم کرتے ہیں مال کو بہن اور بھائیوں اور بہنوں پر مع اعتبار عدد الفروع ساتھ کس کا اعتبار کرتے ہوئے عدد فروع کا جیسے پہلے بھئی عدد فروع کا اعتبار کرتے تھے۔ والجہات فی الاصول اور ساتھ کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟ اصول میں جہاتوں کا اعتبار کرتے ہوئے فما اصاب کل فریق پس وہ جو پہنچے ہر فریق کو یقسم بین فروعہم اسی کو تقسیم کیا جائے گا ان کی فروع کے اندر۔ كما فی السنن فی الاول جیسے کہ پہلی قسم میں تھا۔ کما اذا ترک ثلاث بنات اخوة متفرقین جیسے کسی شخص نے چھوڑا تین بھائیوں کی بیٹیوں کو۔ کس کو چھوڑا؟ تین بھائیوں کی تین بیٹیوں کو چھوڑا متفرقین اس حال میں کہ وہ بھئی کیا ہیں؟ متفرق ہیں، مختلف ہیں۔ یعنی ایک بھئی ہے حقیقی تو دوسرا ہے علاتی اور تیسرا کیا ہے؟ اخیافی اور سب کی ایک ایک بیٹی ہے۔ وسلاثة بنين ولاثة بنات أخوات. اور بہنوں کے تین بہنوں کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں متفرقاة اس حال میں کہ وہ بہنیں بھی کیا ہیں؟ متفرق ہیں کیا معنی؟ ایک حقیقی بہن ہے تو دوسری علاتی بہن ہے، تیسری اور ان کی کیا کیا اولاد ہے؟ ہر ایک کا ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے۔ بہذہ الصورة اس صورت کے مطابق بھئی بھئی دیکھیے یہ نیچے میت بنی ہوئی ہے۔ بھئی اگر الگ بنا لیں کاپی پہ میرا خیال بہتر ہے بھئی آپ کو سمجھ میں آ جائے گا، واضح ہو جائے گا۔ جلدی کیجیے بھئی۔ مثال نمبر کون سی ہے یہ؟ 118 جی؟ 118 مثال نمبر 118 بھئی۔ میت بنائیے اسی طرح بھئی۔ اچھا کتاب کے مطابق نہ لکھیں جس طرح میں لکھواتا ہوں اس طرح کر لیں۔ کتاب میں انہوں نے دیکھیے کیا کیا ہے؟ کتاب پہ ویسے دیکھ لیں ذرا اخ لأب و أم پہلے حقیقی بھئی کو ذکر کیا اس کی ایک بیٹی ہے۔ پھر علاتی بھئی کو ذکر کیا اس کی بھی ایک بیٹی۔ پھر اس کے بعد اخیافی بھئی کو ذکر کیا اور اس کی ایک بیٹی۔ پھر اس کے بعد اب بہنوں کا ذکر کیا حقیقی بہن اس کا ایک بیٹا ہے نیچے اور ایک بیٹی ہے۔ پھر اس کے ساتھ علاتی بہن کو ذکر کیا اور اس کا بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ پھر اس کے بعد ایک اخیافی بہن کو ذکر کیا اس کا بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ انہوں نے بھائیوں کو الگ ذکر کیا، بہنوں کو الگ ذکر کیا۔ آپ یوں کریں ہر بھئی کے ساتھ اس کی بہن آئے بھئی۔ سب سے پہلے کیا لکھنا ہے؟ اخ لأب و أم اخ لأب و أم الحمدللہ جزاک اللہ۔ اس کے نیچے بنت بھی لکھ لیں۔ بھئی بنت دوسرے نمبر پر کس کو لکھیں گے؟ اخت لأب و أم حقیقی بہن کو ساتھ لکھیں۔ اخت لأب و أم اور اس کی کتنی اولاد ہے؟ ایک بیٹا اور ایک بیٹی تو اس کے نیچے ابن اور بنت لکھ لیں۔ بھئی ابن اور بنت اس کے بعد بھئی علاتی بھئی کو لکھیں۔ اخ لأب اخ لأب اس کے نیچے ایک بیٹی لکھ لیجیے۔ اس کے ساتھ علاتی بہن کو بھی لکھیں بھئی آگے اخت لأب اخت لأب اور اس کی بھی کیا اولاد ہے؟ ایک بیٹا اور ایک بیٹی وہ بھی اس کے نیچے لکھیں۔ اب اس کے بعد لکھیں بھئی اخیافی بھئی اخ لأم اخ لأم اس کی کیا اولاد ہے بھئی؟ صرف ایک بیٹی ہے اور اس کے نیچے لکھیں بھئی اور اس کے ساتھ اب لکھیں اخت لأم اخیافی بہن اخت لأم اخیافی بہن اس کے نیچے اولاد بھی اس کی لکھیں بھئی ابن بنت نقشہ بنا لیا بھئی؟ اچھا بھئی دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ کس طرح ہوگا؟ ضابطہ بیان ہو چکا بھئی۔ کس طرح ہوگا؟ سب سے زیادہ قوی کون؟ حقیقی بھئی بہن تو ان کی اولاد جب ہے تو ان کو دیں گے باقیوں کی اولاد کو نہیں دیں گے تو ان کے نزدیک بھئی حقیقی بھئی بہنوں کی اولاد کتنی ہے اس وقت؟ جی؟ دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا تو کس طرح سے کس سے مسئلہ بنے گا؟ چار سے للذکر مثل حظ الأنثیین کے مطابق دو حصے بیٹے کے اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کا تو چار سے مسئلہ بنے گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک مسئلہ کس طرح بنے گا؟ وہ تو تقسیم کہاں شروع کرتے ہیں؟ اصول میں تقسیم شروع کرتے ہیں۔ تو یہاں بھی دیکھیے بھئی۔ کون کون ہیں اصول بھئی؟ حقیقی بھئی بہن بھی ہیں، علاتی بھئی بہن بھی ہیں اور اخیافی بھئی بہن بھی۔ بھئی حقیقی بھئی بہن جب ہوں تو علاتی بھئی بہن محروم ہوتے ہیں۔ تو ان کو اور ان کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ علاتی بہن بھائیوں اور ان کی اولاد کے حصے میں کچھ بھی نہیں آئے گا بھئی۔ باقی کون رہ گئے؟ حقیقی بھئی بہن اور اخیافی بھئی بہن۔ اخیافی بھئی بہنوں کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟ ایک ہو تو سدس، دو یا زیادہ ہو تو ثلث۔ اچھا، ثلث تو ہمارے پاس کتنے ہیں اس وقت؟ اخیافی بھئی بہن کتنی تعداد ہے ہمارے پاس؟ جی؟ امام محمد رحمہ اللہ کیا اعتبار کرتے ہیں؟ عدد کہاں سے لیتے ہیں؟ فروع سے لیتے ہیں تو گویا تین ہیں، بہنیں دو ہیں اور بھئی ایک۔ اچھا تو کتنا دینا ہے ان کو؟ ثلث تو مسئلہ تین سے بنے گا، تین سے مسئلہ بنائیے۔ اور ان دونوں کے نیچے لکیر کھینچیں اخیافی بھئی اور اخیافی بہن کے نیچے لکیر کھینچیں اور اس کے نیچے ایک لکھیں یہ ایک ثلث بھئی تیسرا حصہ ان کو مل گیا۔ باقی کتنا رہ گیا؟ دو وہ حقیقی بھئی بہنوں کے نیچے لکیر کھینچیں ان کے نیچے دو آ گیا بھئی۔ ان کو دو مل گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ اب دیکھیے بھئی۔ اب حقیقی بھئی بہنوں کے درمیان نیچے ان کی اولاد میں مال تقسیم کرنا ہے۔ ان کو کتنا ملا ہے؟ دو می اخیافی اخیافی اخیافی بھئی بہنوں کو کتنا حصہ ملا؟ ایک اور عدد رؤوس کتنا ہے؟ تین۔ اخیافی عدد کہاں سے لیں گے یہ؟ نیچے اپنے فروع سے تو اخیافی بھئی کی اولاد ایک تو وہ تو ایک، اخیافی بہن کی اولاد دو تو گویا کتنی اخیافی بہنیں ہیں؟ دو شمار کرنا ہے ان کو۔ اور مال ان میں تقسیم کس طرح ہوتا ہے؟ برابر برابر۔ یہاں للذکر مثل حظ الأنثیین کے طریقے پر تقسیم نہیں ہوگا۔ তো یہاں پر گویا حصہ ہے ایک اور عدد رؤوس کتنا؟ ایک بھئی اور دو بہنیں ہیں کیونکہ بہن کی اولاد دو ہیں تو وہ دو کی طرح ہوئی۔ تو تین عدد رؤوس ہے اور حصہ ایک ہے۔ تین ایک میں کون سی نسبت؟ تباین کی پھر کیا کریں گے؟ عدد رؤوس کو اصل مسئلہ میں ضرب دیتے ہیں تو تین کو ضرب دیجیے بھئی تین سے اوپر اصل مسئلہ سے تین تیا نو تین کے آگے تسحیح کی تا لکھیے اور اس پر نو لکھ لیجیے۔ اور بہن اخیافی بہن بھائیوں کا کتنا حصہ تھا؟ ایک اس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین ہو گیا ایک کے نیچے تین لکھیں بھئی۔ حقیقی بہن بھائیوں کا کتنا حصہ تھا؟ دو اس کو بھی تین سے ضرب دی دو تیا چھ تو دو کے نیچے چھ لکھ لیں ان کے نیچے بھئی۔ اب بھئی اخیافی بھئی بھئی بہنوں کا حصہ کتنا ہو گیا؟ تین ہو گیا تین اور نیچے ان کی اولاد کتنی؟ ایک چار بھئی کا ایک بھئی کی ایک بیٹی ہے اخیافی بھئی کی اور اخیافی بہن کی ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی اور یہاں سب کو مال برابر ملے گا لہذا سب کو ایک ایک مل جائے گا بھئی۔ سب کے نیچے ایک ایک لکھیں۔ اخیافی بھئی کے بیٹی کے نیچے بھی ایک لکھیں اور اخیافی بہن کے بیٹا اور بیٹی ان کے نیچے بھی ایک ایک لکھیں۔ لکھ لیا بھئی؟ دوسری طرف اب آئیے بھئی، حقیقی بھئی بہن کتنا حصہ ہے ان کا کل اس وقت؟ چھ ہے۔ چھ چھ کو پھر کس طرح تقسیم کرتے ہیں؟ ایک طرف ہے تقسیم یہیں سے شروع ہو جائے گی اصول کے اندر ہی۔ اخیافی بھئی حقیقی بھئی کی اولاد کتنی؟ ایک حقیقی بہن کی اولاد کتنی؟ دو تو گویا یہ عدد نیچے سے یہ لیں گے تو یہ کتنے ہوگئے؟ حقیقی بہنیں بھی دو ہیں اور حقیقی بھئی ایک۔ اور بھئی کتنی بہنوں کے برابر ہوتا ہے؟ دو تو گویا کل کتنی بہنیں ہیں یہاں؟ چار تو لہذا مال ان میں کیا کریں گے؟ کس طرح تقسیم ہوگا؟ بھئی گویا ایک طرف دو بہنیں ہیں تو بھئی بھی دو بہنوں کے برابر دوسری طرف بھی دو بہنیں ہیں تو گویا دونوں طرف دو دو بہنیں ہیں تو مال آدھا آدھا تقسیم ہوگا نا؟ آدھا آدھا تو تین کس کا حصہ بن جائے گا؟ حقیقی بھئی کا حصہ تین وہی اس کی بیٹی کو مل جائے گا تو تین اس کا حصہ ہوا حقیقی بھئی کی بیٹی کا۔ اور تین کس کا حصہ ہوا؟ حقیقی بہن کی اولاد کا اور حقیقی بہن کی کیا اولاد ہے؟ ایک بیٹا اور ایک بیٹی ان میں یہ تین کس طرح تقسیم کریں گے؟ للذکر مثل حظ الأنثیین تو دو بیٹے کا حصہ ہو جائے گا اور ایک اس کی بیٹی کا حصہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ طریقہ اس طرح مال تقسیم ہوگا بھئی۔ تو دیکھیے آگے اسی کو بیان کر رہے ہیں عند ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یقسم کل المال بین فروع بنی الاعیان تقسیم کیا جائے گا سارا مال کس کے درمیان کس کی فروع کے درمیان؟ بنی الاعیان یعنی حقیقی جو بھئی بہن ہیں حقیقی ان کے درمیان ان کی فروع کے درمیان تقسیم کیا جائے گا بھئی۔ ثم بین فروع بنی اللات پھر کس کے درمیان تقسیم ہوگا؟ پہلے بنو الاعیان کی فروع میں مال تقسیم ہوگا اگر وہ نہیں ہے پھر بین فروع بنی اللات پھر کس میں تقسیم ہوگا؟ بنو اللات کے فروع کے اندر تقسیم ہوگا ثم بین فروع بنی الاخیاف اور پھر کس کے اندر؟ بنو الاخیاف کی فروع کے اندر تقسیم ہوگا اور یہاں پر تو بنو الاعلان بنو الاعیان موجود ہیں تو سارا ان کو مل جائے گا بنو اللات اور بنو الاخیاف کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں بھئی۔ اور پھر کس طریقے پر تقسیم ہوگا؟ للذکر مثل حظ الأنثیین مذکر کے لیے دو مونث کے برابر حصہ اربعاں کتنے؟ چار حصے ہو پر تقسیم ہوگا مال باعتبار الابدان ان کے بدنوں کے اعتبار سے و عند محمد رحمہ اللہ تعالی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یقسم ثلث المال بین فروع بنی الاخیاف علی السویة کہ تقسیم کیا جائے گا ثلث مال کس کے درمیان؟ بنو الاخیاف یعنی اخیافی بہن بھائیوں کے میں علی السویة کس طریقے پر؟ برابری کے طریقے پر اسلاصن تین حصے لاستواء اصولہم فی القسمة ببوجہ ان کے اصول کا تقسیم میں برابر ہونے کی وجہ سے تو وہ اخیافی بہن بھائیوں کی جو اولاد ہیں ان میں برابری کے ساتھ مال تقسیم ہوگیا بھئی۔ والبااقی بین فروع بنی الاعیانی اور باقی کس کے درمیان تقسیم ہوگا؟ حقیقی بہن بھائیوں کی اولاد کے فروع میں انصافن آدھا آدھا لاعتبار عدد الفروع فی الاصول کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟ عدد فروع کا اعتبار کرتے ہوئے اصول میں آدھا آدھا تقسیم ہوا آدھا بیٹے کا آدھا حقیقی بھئی کا اور آدھا حقیقی بہن کا وہ جیسے چھ کو آپ نے تقسیم کیا تھا آدھا حقیقی بھئی کا حصہ تین اور آدھا حقیقی بہن کا حصہ جی تو انصافن آدھا آدھا لاعتبار عدد الفروع فی الاصول ببوجہ اعتبار کرنے فروع کے عدد کا اصول کے اندر نصفہ لبنت الاخی آدھا کس کے لیے ہو جائے گا؟ بھئی کی حقیقی بھئی کی بیٹی کے لیے نصیب ابیہا جو کہ اس کے والد کا حصہ ہے و النصف الاخر بین ولدی الاخت اور دوسرا آدھا جو ہوگا وہ بہن کی جو دو اولاد ہیں ان کے درمیان ہوگا للذکر مثل حظ الأنثیین کس طریقے پر؟ للذکر مثل حظ الأنثیین کے طریقے پر باعتبار الابدان ان کے بدنوں کے اعتبار سے و تصح من تسعة اور مسئلہ کی تصحیح ہوگی صحیح ہو جائے گا مسئلہ نو سے و لو ترک ثلاث بنات بنی اخوة متفرقین بہذہ بہذہ الصورة اور اگر کسی شخص نے چھوڑا تین بیٹیاں کس کی بیٹیاں؟ بنی اخوة بھائیوں کے بیٹوں کی بھائیوں کے بیٹوں کی تین بیٹیاں بھئی بھائیوں کے بیٹے متفرقین اس حال میں کہ وہ بھئی مختلف ہوں بھئی ایک حقیقی بھئی ہے، ایک علاتی بھئی ہے، ایک اخیافی بھئی ان سب کے نیچے بیٹا ہے بھئی بنی اخوة ان کے بیٹے ان بیٹوں کی کیا ہیں؟ بیٹیاں ایک ایک بیٹی بھئی۔ اس صورت کے مطابق بھئی دیکھیے پہلی میں ہے حقیقی بھئی اس کے نیچے بھی بیٹا اس کی بیٹی دوسرے میں ہے علاتی بھئی اس کا بھی نیچے بیٹا ہے اس کی بیٹی تیسرے میں اخیافی بھئی ہے اس کے نیچے بھی بیٹا اور پھر اس کی بیٹی کہتے ہیں المال کلہ لبنت ابن الاخ لأب و أم بالاتفاق اس صورت میں مال سارا کا سارا جو ہے وہ حقیقی بھئی کی پوتی کے لیے ہوگا بالاتفاق لانھا ولد العصبۃ کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے ولھا ایضا قوۃ القرابتہ اور نیز اس کے لیے قوت قرابت بھی ہے بھئی اس کا تعلق دو جہت سے ہے ماں کی طرف سے بھی تعلق ہے اور باپ کی طرف سے بھی جبکہ باقیوں میں ایک کا تعلق صرف باپ کی طرف سے اور ایک کا تعلق صرف ماں کی طرف سے بھئی دیکھیے کس طرح ہوا مال تقسیم کس کا حق ہے صرف؟ حقیقی بھئی کی پوتی صرف اس کو سارا مال مل جائے گا علاتی بھئی کی پوتی بھی محروم اخیافی بھئی کی پوتی بھی محروم بھئی علاتی بھئی کی پوتی کیوں محروم؟ حقیقی بھئی کے سامنے علاتی بھئی محروم ہوتا ہے اس وجہ سے وہ محروم۔ ٹھیک ہے اور یہ اخیافی بھئی کی پوتی کیوں محروم؟ کیونکہ ایک عصبہ کی اولاد ہے اور وہ اخیافی بھئی کی جو اولاد ہے وہ ذوی الارحام کی اولاد ہے اس وجہ سے وہ محروم اب صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے کہ المال کلہ لبنت ابن الاخ لأب و أم کہ مال سارا کا سارا وہ حقیقی بھئی کی پوتی کے لیے ہوگا بالاتفاق لانھا ولد العصبۃ کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے ولھا ایضا قوۃ القرابتہ اور اس کے لیے قوت قرابت بھی ہے چلیے بس یہی تھا مرام واللہ اعلم بحقیقة الحال