فصل في صنف الأول، أولاهم بالميراث أقربهم إلى الميت كبنت البنت فإنها أولى من بنت بنت الابن، وإن استووا في الدرجة فولد الوارث أولى من ولد ذوي الأرحام كبنت بنت الابن فإنها أولى من ابن بنت بنت البنت. ذوي الأرحام کی تفصیلات بیان ہو رہی ہیں بھئی۔ پہلے بیان ہو چکا کہ ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں، وہ ذوی الأرحام ہیں۔ اور ذوی الفروض اور عصبات جب تک ان میں سے کوئی بھی موجود ہو سوائے زوج اور زوجہ کے، تو اس وقت تک ذوی الأرحام کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ عصبہ موجود ہے تو پھر بھی کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ عصبہ تو سارا مال لے جاتا ہے۔ اور میاں بیوی کے علاوہ ذوی الفروض میں سے کوئی اور ہے تو وہ بھی آپ کو پتہ ہے اس کو حصہ مل جائے اور کوئی اور نہ ہو تو پھر اسی پر رد ہو جاتا ہے سارا بھئی۔ البتہ خاوند اور بیوی ان پر رد نہیں ہوتا، تو صرف اگر کسی کے خاوند یا بیوی ہے اور کوئی رشتہ دار نہیں پھر تو ذوی الأرحام کو بھی مال مل سکتا ہے لیکن اگر اور کوئی ذوی الفروض میں سے یا عصبات میں سے ہوا پھر ذوی الأرحام کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور ذوی الأرحام میں پھر آپ نے چار درجے پڑھے بھئی؛ پہلا درجہ جو فروع ہیں میت کی، فروع بھئی۔ اور دوسرا درجہ جو اصول ہیں بھئی میت کے۔ اور تیسرا درجہ جو میت کے اطراف میں یعنی بھئی بہنوں کی اولاد بھئی، بھئی بہنوں کی اولاد، بھئی بہن تو نہیں خود نہیں وہ تو ذوی الفروض یا عصبات میں ہیں بھئی۔ اور چوتھا درجہ اوپر جو ہیں، اوپر جو اصول ہیں ان کی فروع اپ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا۔ اب ان میں سے جو پہلی قسم ہے، یعنی میت کے جو فروع ہیں، ان کی تفصیل بیان ہونے لگی ہے۔ جی۔ تو پہلا ضابطہ بیان ہو رہا ہے، کہتے ہیں اولا جی فصل فی الصنف الاول یہ فصل ہے پہلی قسم میں۔ اولاہم بالميراث أقربهم إلى الميت ان پہلی قسم میں اولی جو ہے زیادہ لائق جو ہے میراث کے اقربهم إلى الميت جو میت کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ پہلا درجہ کس کا؟ جو زیادہ قریب، پہلے درجے والوں میں بھی پھر تفصیل اب وہ بیان ہو رہی ہے، جو قریب والا ہے وہ زیادہ مستحق ہے، بعید والے سارے اس کی وجہ سے کیا ہو جائیں گے؟ ساقط۔ کین بنت البنت جیسے بیٹی کی بیٹی، یعنی نواسی۔ فإنها أولى من بنت بنت الابن کیونکہ یہ جو ہے یہ اولی ہے کس سے؟ بیٹے کی بیٹی کی بیٹی یعنی پوتی کی بیٹی یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو بیٹے کی نواسی۔ ایک میت کی نواسی ہے، ایک میت کے بیٹے کی نواسی ہے، تو وہ بعید ہے اور یہ قریب ہے میت کی نواسی تو یہ اولی ہے، اس کے ہوتے ہوئے بیٹے کی نواسی کو کچھ نہیں ملے گا بھئی۔ یہ پہلا قانون بیان ہوا۔ وإن استووا في الدرجة اور اگر ذوی الأرحام جو ہیں وہ درجے میں برابر ہوں یعنی ایک ہی درجے کے تین چار آ جائیں، پھر کہتے ہیں فولد الوارث أولى من ولد ذوي الأرحام تو وارث کی اولاد وہ اولی ہے ذوی الأرحام کی اولاد سے۔ وارث کی اولاد بھئی، کیا معنی وارث کی اولاد؟ ذوی الفروض یا عصبہ کی جو اولاد ہے وہ اولی ہوگی کس کی کس کے مقابلے میں؟ ذوی الأرحام کے مقابلے میں بھئی۔ ذوی الأرحام کے مقابلے میں۔ دیکھیے آگے مثال ذکر کر رہے ہیں اور بات واضح ہو جائے گی۔ كبنت بنت الابن بیٹے کی بیٹی کی بیٹی۔ کیا معنی؟ یعنی بیٹے کی نواسی۔ یعنی یوں کہو پوتی کی بیٹی۔ کس کی بیٹی؟ پوتی کی۔ تو یہ پوتی کی بیٹی ہے اور پوتی کس میں سے ہے؟ ذوی الفروض میں سے۔ تو دیکھو یہ اولاد ہوئی وارث کی۔ فإنها أولى من ابن بنت البنت یہ اولی ہے کس سے؟ بیٹی کی بیٹی کے بیٹے سے۔ بیٹی کی بیٹی کون ہوئی؟ نواسی اور اس کا بیٹا۔ ایک طرف ہے نواسی کا بیٹا، دوسری طرف ہے پوتی کی بیٹی۔ اب درجے برابر ہیں بھئی۔ اس میں اور میت، دونوں میں میت کے اندر کتنے واسطے آ رہے ہیں درمیان میں؟ دو واسطے درمیان میں آ رہے ہیں۔ دو واسطے۔ لیکن بیٹی تو ذوی الفروض میں سے ہے۔ لیکن بیٹی کی بیٹی وہ نہ ذوی الفروض میں سے ہے اور نہ عصبہ۔ وہ معلوم ہوا ذوی الأرحام میں سے۔ اور اس نواسی کا بیٹا ہے آگے، تو یہ بیٹا وارث کا ہوا یا غیر وارث کا؟ غیر وارث کا یہ غیر وارث کا۔ اور دوسری طرف تھا پوتی کی بیٹی، وہ کس کی اولاد ہے؟ وارث کی۔ اب درجے دونوں کے برابر ہیں، لیکن کس کو دیں گے مال اس صورت میں؟ پوتی کی بیٹی کو مال دیں گے، نواسی کے بیٹے کو نہیں دیں گے۔ ضابطہ بھی سمجھ میں آیا یا مشکل ہے بھئی؟ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ خاموش ہیں، آپ جواب نہیں دے رہے، میں نے کہا شاید سمجھ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ جی۔ وإن استوت درجاتهم اور اگر ان کے درجات برابر ہوں اور لم يكن فيهم ولد الوارث اور ان میں کوئی وارث کی اولاد بھی نہ ہو أو كان كلهم يدلون بوارث يا یہ عدلاء يدلی کے معنے ہیں منسوب ہونا أو كان كلهم يدلون بوارث یا یہ سب ایک ہی وارث سے کہ کے ذریعے منسوب ہوتے ہیں میت کی طرف بھئی۔ پہلا ضابطہ کیا بیان ہوا؟ کہ ان میں میراث میں سے کے لیے سب سے اولی بالميراث کون ہیں؟ جو قریب والا ہو تو قریب والے کے ہوتے ہوئے بعید والا محروم۔ قریب والے کو ملے گا۔ اگر درجے میں برابر ہوں، پھر؟ وارث کی اولاد اولی ہے کس کے مقابلے میں؟ ذوی الأرحام کی اولاد سے۔ لیکن اس میں ایک بات یاد رکھنا، قیمتی بات بھئی۔ وارث کی اولاد براہ راست ہو۔ براہ راست وارث کی اولاد ہو۔ جیسے بھی مثال ذکر کی۔ نواسی کے نواسی کا بیٹا۔ اور دوسری طرف کیا تھا؟ پوتی کی بیٹی۔ تو پوتی خود کس میں سے ہے؟ ذوی الفروض میں سے، تو پوتی کی بیٹی براہ راست وارث کی بیٹی ہے۔ براہ راست اور دوسری طرف بیٹے کی نواسی کا بیٹا۔ اب نواسی کا بیٹا بھی تو وارث کا بیٹا ہے۔ اوپر بیٹی وارث ہے یا نہیں؟ بیٹی لیکن براہ راست ہے یا درمیان میں نواسی کا واسطہ ہے؟ نواسی کا واسطہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا انہوں نے جو کہا نا اگر درجے برابر ہوں تو وارث کی اولاد اولی ہے کس کے مقابلے میں؟ ذوی الأرحام کے مقابلے میں تو کیا مراد ہے؟ کہ ان انہی میں سے یہ جن کے درمیان مال ہم نے تقسیم کرنا ہے، ان میں سے ایک کی جو اوپر والی نسل ہے وہ وہ کیا بن رہی ہے؟ وارث۔ اور دوسرے کی جو اس سے اوپر والی نسل ہے وہ وارث نہیں بن رہی۔ اگر یہی سلسلہ نیچے چلا گیا پوتی کے بیٹے کی بیٹی پوتی کے بیٹے کی بیٹی۔ اب پوتی کا بیٹا وارث ہے؟ نہیں اور اس کی بیٹی تو وہ وارث کی اولاد ہوئی یا غیر وارث کی اولاد؟ وہ غیر وارث کی اولاد شمار ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہذا اس کے برابر میں اگر کوئی اور آ جائے ادھر نواسی کی جانب سے تو پھر دونوں حقدار ہوں گے کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی وارث کی اولاد نہیں ہے۔ اور اگر یہ سب درجے میں برابر ہوں اور ان میں کوئی وارث کی اولاد نہ ہو یعنی براہ راست وارث کی اولاد نہ ہو تو ان میں کوئی وارث کی اولاد نہ ہو یا یہ سب كلهم يدلون بوارث یہ سب منسوب ہیں میت کی طرف بھی وارث ایک ہی وارث کے ذریعے ایک ہی وارث کی اولاد ہے آگے بھئی نیچے جا کر پھیل گئی بھئی۔ فعند أبي يوسف رحمہ اللہ تعالى تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک و الحسن بن زياد اور حسن بن زياد رحمہ اللہ کے نزدیک يعتبر أبدان الفروع اعتبار کیا جائے گا فروع کے بدنوں کا۔ کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ فروع کے بدنوں کا بھئی۔ کیا صورت ذکر ہو رہی ہے؟ درجے میں اگر سارے برابر ہیں یا ایک ہی وارث کے ذریعے کیا ہیں؟ ان ان یہ نسبت ہے ان کی میت کی طرف بھئی۔ تو درجے ان کے برابر ہوئے۔ اس صورت میں امام ابو یوسف اور حسن بن زياد وہ فرماتے ہیں کہ فروع کے بدنوں کا اعتبار ہوگا۔ کس کا؟ فروع کے بدنوں کا فروع بھئی نیچے جو وارث جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں کون وارث بنے گا اور کون نہیں بنے گا بھئی کئی ذوی الأرحام زندہ ہیں مثلاً تیسری، چوتھی یا پانچویں پشت میں بھئی۔ تیسری، چوتھی یا پانچویں اب ہم نے دیکھنا ہے کون ان میں سے حقدار ہے یا کون حقدار نہیں۔ تو وہ سارے درجے میں برابر ہیں۔ ان میں سے کوئی وارث کی اولاد بھی نہیں۔ اور یہ یا یہ سب درجے میں برابر ہیں یا ایک ہی وارث کے ذریعے ان کا رشتہ ہے میت سے۔ بہرحال درجے میں سارے برابر ہیں۔ جب سارے درجے میں برابر ہیں، اب مال کو کس طرح تقسیم کریں گے، کس چیز کا لحاظ رکھیں گے؟ فروع کے بدنوں کا۔ کس کا؟ فروع کے بدنوں کا یعنی اگر ساری عورتیں ہیں تو ان میں مال برابر تقسیم کر دو۔ دو عورتیں ہیں تو دو حصے بنا دو، تین ہیں تو تین بنا دو، چار ہیں تو چار حصے بنا دو۔ اور اگر صرف بیٹے ہیں مذکر تو اس میں بھی اسی طرح ہوگا۔ دو بیٹے ہیں تو دو حصے مال کے کر کے آدھا آدھا دے دو۔ تین ہیں تو تین حصے کر کے دے دو، چار ہیں تو چار حصے کر کے ہر ایک کو ایک حصہ دے دو۔ اور اگر مختلف ہیں مختلف ہیں تو پھر پھر وہی للذكر مثل حظ الأنثيين کے طریقے پر عمل ہوگا، بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دگنا ملے گا۔ بھئی تو کس کا اعتبار کرتے ہیں بھئی نیچے جا کر وہ؟ فروع کے ابدان کا ان کے بدنوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ جتنے افراد ہوں گے، افراد کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔ یہ معنی ہے يعتبر أبدان الفروع اعتبار کیا جائے گا فروع کے بدنوں کا یعنی ان کے افراد یعنی و يقسم المال عليهم اور تقسیم کیا جائے گا مال ان پر سواء ان اتفق صفة الأصول في الذكورة والأنوثة أو اختلفت کہ برابر ہے کہ متفق ہو اصول کی صفت۔ برابر ہے کہ اصول کا وصف ایک ہی ہو مذکر ہونے میں اور مؤنث ہونے میں أو اختلفت یا مختلف ہو۔ بھئی دیکھیے آگے اب اختلاف بیان ہونے لگا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آسان ضابطہ ہے، وہ فرماتے ہیں بھئی جب نیچے ہیں، ایک ہی درجے میں ہیں سارے، اوپر نیچے درجے والے ہیں تو بات پیچھے گزر گئی۔ اوپر کے درجے والے مستحق ہوں گے، نیچے کے درجے والے محروم ہوں گے۔ اگر ایک ہی درجے والے ہیں، پھر آسان سی بات ہے ان کے بدنوں کو دیکھا جائے گا کہ کتنے افراد ہیں۔ ابھی جیسے میں نے بیان کر دیا۔ اوپر ان کے اوپر نہیں دیکھا جائے گا۔ کیونکہ اوپر جائیں تو ہو سکتا ہے میت سے اور اس وارث کے یہ جو ذو الرحم ہے اس کے درمیان، درمیان کے جو افراد ہیں، ان میں ہو سکتا ہے کوئی مثلا ایک نواسے کی اولاد ہے، دوسرا نواسی کی اولاد ہے۔ ایک کس کی اولاد ہے؟ نواسے کی۔ دوسرا کس کی اولاد ہے؟ نواسی کی۔ وہ کہتے ہیں یہ نہیں دیکھنا، اصول کی صفت کو نہیں دیکھنا کہ وہ مذکر ہے وہ مؤنث ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف ان کے اپنے اپ کو دیکھو۔ اگر یہ مذکر مؤنث ہیں پھر تو اس کا اثر پڑے گا، مذکر کو مؤنث سے دوگنا ملے گا، باقی ان کے اصول اگر مختلف ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہتے ہیں و يقسم المال عليهم اور تقسیم کیا جائے گا مال ان پر، سواء ان اتفاق اور صفت اصول فی الذکورة والأنوثة أو اختلفت برابر ہے کہ اصول کی صفت جو ہے وہ ایک ہی ہو، مذکر اور مؤنث ہونے میں، یا مختلف ہو۔ ایک ہی ہو مذکر اور مؤنث ہونے میں، یعنی سارے چاہے مذکر کی اولاد ہوں، یا سارے کس کی اولاد ہوں؟ مؤنث کی اولاد ہوں، او مختلف یا کیا ہو؟ مختلف۔ کوئی مذکر کی اولاد ہیں یا مثلاً نواسے کی اولاد ہیں، اور کوئی نواسی کی اولاد، کوئی فرق نہیں پڑता ہر صورت میں ابدان کو دیکھا جائے گا، بدنوں کو۔ و محمد رحمہ اللہ تعالى يعتبر ابدان الفروع إن اتفاق صفت اصول موافقا لهما ويعتبر اصول إن اختلفت صفاتهم۔ امام محمد رحمہ اللہ بھئی، ان کا قول آگے ذکر ہو رہا ہے، اور یاد رکھیے امام محمد رحمہ اللہ کے اقوال پر فتویٰ ہے ذوی الارحام میں، آگے خود یہ ذکر بھی کر دیں گے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نہیں! اگر یہ ایک درجے کے ہیں، تو اگر ان کے اصول جو ہیں، ان کی صفت ایک ہی ہے، کیا معنی صفت ایک ہی ہے؟ سارے مذکر کی اولاد ہیں یا سارے، یعنی سارے نواسے کی اولاد ہیں یا سارے نواسی کی اولاد، پھر تو ٹھیک ہے بدنوں کو ہی دیکھو بھئی۔ لیکن اگر اصول کی صفت مختلف ہوئی، یعنی کچھ نواسے کی اولاد اور کچھ نواسی کی اولاد، تو وہ فرماتے ہیں اوپر ہی سے مال کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔ بھئی، نواسے کو نواسے کے مقابلے میں کتنا ملتا ہے؟ دوگنا، تو لہذا اوپر سے ہی مال کے گویا دو حصے، تین حصے کر دیے، ایک حصہ نواسے کا، دو حصے کس کے؟ نواسے کے، اور پھر یہ نواسے کے دو حصے آگے اس کی اولاد میں تقسیم ہوں گے۔ اگر عورتیں ہیں تو برابر، اگر مذکر اور مؤنث ہیں تو للذكر مثل حظ الأنثيين، اور وہ جو نواسے کی میراث ہے وہ آگے اس کی اولاد میں تقسیم ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ يعتبر ابدان الفروع وہ فروع کے بدنوں کا اعتبار کرتے ہیں کب؟ إن اتفاق صفت اصول موافقاً لهما جبکہ اصول کی صفت ایک ہی ہو، متفق ہو، یعنی ایک ہی مذکر یا ایک ہی مؤنث، یعنی صرف مذکر کی اولاد ہوں یا صرف مؤنث کی اولاد ہوں، موافقاً لهما کس کے موافق؟ امام ابو یوسف اور حسن ابن زیاد رحمہما اللہ کے موافق فرماتے ہیں، کہ جب صفت اصول ایک ہے پھر بدنوں کو دیکھو، ويعتبر اصولاً اور وہ اعتبار کرتے ہیں اصول کا إن اختلفت صفاتهم اگر ان کی صفات مختلف ہوں، یعنی کچھ مذکر کی اولاد ہیں اور کچھ مؤنث کی اولاد ہیں، تو پھر اس اصول کے اختلاف کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ويعطى الفروع ميراث الاصول مخالفاً لهما ان امام ابو یوسف اور حسن ابن زیاد کے مخالف مخالفت کرتے ہوئے، كما اذا ترک، كما اذا ترک ابن بنت وبنت بنت۔ اچھا بھئی، بنائیے بھئی مثال آگے بھئی جلدی سے۔ مثال نمبر کون سی؟ مثال نمبر 113 بھئی، اوپر لکھ لیجیے ذوی الارحام بھئی۔ مثال نمبر 113، ذوی الارحام۔ میت بنائیے بھئی۔ میت بھئی۔ اچھا۔ میت کے نیچے بھئی دو بیٹیاں لکھیں الگ الگ بھئی۔ بس یہ دو بیٹیاں ہیں۔ اور ہر بیٹی، پہلی بیٹی کے نیچے لکھیں ابن اور دوسری کے نیچے لکھ دیں بنت۔ लिख लिया भाई؟ بھئی، بیٹیاں تو ذوی الفروض میں سے ہیں، آگے ان کی اولاد ذوی الارحام میں سے ہے، ہماری بحث ذوی الارحام میں ہے اس وقت۔ تو بیٹی کا بیٹا یعنی ایک کا بیٹا ہے، یعنی نواسا ہے میت کا، اور دوسرے بیٹی کی بیٹی ہے، یعنی میت کی نواسی ہے۔ اب ان میں مال کیسے تقسیم ہوگا؟ بھئی دیکھیے! ان کے اصول کو دیکھیں، بیٹے کی اصل کون؟ بیٹی اور بیٹی کی اصل کون؟ اس کی بھی اصل بیٹی ہے، تو اصول میں اختلاف ہوا یا اتفاق ہوا؟ اتفاق ہوا۔ اتفاق ہوا۔ تو اب امام محمد فرماتے ہیں، کس کو دیکھیں گے؟ ابدان کو دیکھیں گے بدنوں کو۔ اور کیا، کس طرح تقسیم ہوگا مال؟ ایک بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو، تو گویا کل تین بیٹیاں ہیں، تو گویا مال کے تین حصے کر دیں گے، اور تین میں سے دو کس کو ملیں گے؟ بیٹے کو، اور ایک حصہ کس کو؟ بیٹی کو، تو بیٹے کے نیچے دو لکھیں، بیٹی کے نیچے ایک، تین سے مسئلہ بن جائے گا بھئی۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی طرح ہوگا، وہ تو فرماتے ہی یہ ہیں کہ دیکھنا ہی کس کو ہے؟ صرف ابدان کو دیکھنا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کتاب میں کیا تھا؟ كما اذا ترک ابن بنت کس کو چھوڑا؟ نواسے کو۔ و بنت بنت اور نواسی کو، ہم نے بھی یہی صورت بنائی، عندهما يكون المال بينهما للذكر مثل حظ الأنثيين، امام ابو یوسف اور حسن ابن زیاد رحمہما اللہ کے نزدیک مال جو ہے ان کے درمیان، اس نواسے اور نواسی کے درمیان للذكر مثل حظ الأنثيين کس طریقے پر تقسیم ہوگا کہ مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصہ ہوگا، باعتبار الابدان کس کے اعتبار سے؟ ان کے بدنوں کے اعتبار سے، وعن محمد رحمہ اللہ تعالی كذلك اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی طرح ہوگا، لأن صفت الاصول متفقۃ اس لیے کیونکہ ان کے اصول کی صفت متفق ہیں۔ اگرچہ دونوں کی اصل الگ ہے، ایک ایک بیٹی کا ہے، دوسرا دوسری بیٹی سے، لیکن ان کی صفت ایک ہی ہے، دونوں بیٹیاں ہیں بھئی اصول جو۔ ولو ترک بنت ابن بنت و ابن بنت بنت۔ دوسری صورت بنائیے بھئی! مثال نمبر 114 بھئی، مثال نمبر 114۔ دو بیٹیاں بنائیے الگ الگ بھئی اسی طرح، بنت اور دوسری طرف بھی لکھیں بنت۔ اچھا۔ پہلی بنت کے نیچے لکھیں ابن، اور اس ابن کے نیچے پھر لکھیں بنت۔ بنت۔ دوسری بیٹی کے نیچے لکھیں بنت، اور پھر اس بنت کے نیچے لکھیں ابن۔ ابن۔ تو دیکھیے ایک، اچھا۔ اب دیکھیے بھئی! امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ آسان ہے، وہ کیا فرماتے ہیں؟ صرف کس کو دیکھنا ہے؟ ابدان کو دیکھنا ہے۔ درجہ سب کا برابر ہے، تو ایک بیٹی، ایک بیٹی کی بیٹی کا پوتا ہے، نہیں پوتی ہے، اور دوسرا بیٹی کا نواسا ہے۔ بیٹی کا نواسا۔ بیٹی کا نواسا، یہ یوں کہیں۔ ایک میت کی پرنواسی ہے، ایک میت کا پرنواسا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا۔ اب دیکھیے، بس تو آخر میں ایک پرنواسی، ایک پرنواسا ہے، بدنوں کو دیکھیں گے للذكر مثل حظ الأنثيين کے طریقے پر مال تقسیم ہوگا۔ بیٹے کو کتنا دیں گے؟ ابھی بنائے نا لکھیں نا، یہ میں صرف بتا رہا ہوں۔ بیٹے کو کتنا دیں گے؟ کل کتنے حصے کر لیں گے؟ تین حصے کریں گے، دو بیٹے کو اور ایک بیٹی کو، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لیکن فتویٰ کس کا قول ہے؟ کس کے قول پر؟ امام محمد رحمہ اللہ کے، ان کے مطابق تقسیم کریں گے۔ بھئی دیکھیے! امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اصول کی صفت پر نظر رکھنی ہے آپ نے۔ دیکھیے، سب سے پہلی پشت میں، ایک طرف بیٹی ہے، تو دوسری طرف بھی بیٹی۔ یہاں سے مال کی تقسیم نہیں ہو رہی ابھی۔ ایک ہی صفت ہے، سارا مال اکٹھا ہے۔ اگلی نسل میں گئے، درمیان والی نسل میں، ایک طرف بیٹا ہے اور دوسری طرف بیٹی ہے، یہی مال کی تقسیم کر دیں گے۔ بیٹے کو کتنا ملتا ہے بیٹی سے؟ دوگنا۔ تو بیٹے کو دو حصے ملے اور بیٹی کو ایک۔ اب وہ بیٹے کے دو حصے اس نیچے بیٹی کو مل گئے۔ اور بیٹی کا ایک حصہ اس کے نیچے بیٹے کو مل گئے۔ تو بیٹی کو کتنے مل گئے؟ دو، ثلث بھئی۔ اور بیٹے کو کتنا ملا؟ ایک، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مسئلہ اسی طرح تین سے ہوا، لیکن ان کے نزدیک پرنواسی کو دو حصے ملیں گے، اور پرنواسے کو ایک حصہ ملے گا۔ دیکھیے اب کتاب پر، ولو ترک بنت ابن بنت، اور اگر چھوڑا بیٹی کے بیٹے کی بیٹی کو، و ابنا بنت بنت اور بیٹی کی بیٹی کے بیٹے کو، عندهما امام ابو یوسف اور حسن ابن زیاد رحمہما اللہ کے نزدیک المال بین الفروع اثلاثاً کہ مال جو ہے فروع کے درمیان تین حصے ہوگا باعتبار الابدانی بدنوں کے اعتبار سے، ثلثاه للذكر وثلثه للنثی، دو ثلث کس کے لیے ہوں گے؟ مذکر یعنی بیٹے کے لیے اور ایک ثلث مؤنث کے لیے، یعنی وہ بیٹی جو ہے نیچے آخر میں، و عند محمد رحمہ اللہ تعالیٰ اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان کے نزدیک المال بین الاصول، کہ مال جو ہے اصول کے درمیان، یعنی کس میں؟ بطن ثانی کے اندر، یعنی دوسری پشت میں، ثلاثاً وہاں تین حصہ ہو جائے گا، ثلثاه لبنت ابن البنت، وہیں تین وہیں پر کتنے حصے ہو جائے گا؟ تین حصے، ثلثاه لبنت ابن البنت، دو ثلث کس کو ملیں گے آخر میں جا کر؟ پرنواسی کو۔ یہ کیا ہے، ملیں گے دو حصے، پرنواسی کو، نصیب ابیها، جو کس کا حصہ ہے؟ اس کے باپ کا حصہ ہے۔ یا نصیب ابیها پڑھ لیں بھئی بدل بالا نے ثلثہ سے بھئی۔ اچھا۔ نصیب ابیها، اس کے باپ کا حصہ، وثلثه لابن بنت البنت، اور ایک ثلث کس کو ملے گا؟ پرنواسے کو، نصیب امھا، اس کی ماں کا حصہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔