باب ذوی الارحام ذو الرحم و کل قریب لیس بذی سہم و لا عصبہ و کانت عامہ الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم یرون توریس ذوی الارحام و بہ قال اصحابنا رحمہ اللہ تعالی باب ذوی الارحام ذوی الارحام کا باب۔ ذو الرحم بھئی کل تفصیل میں نے بیان کر دی تھی کہ عربی زبان میں ذو الرحم مطلقا رشتہ دار کو کہتے ہیں، لیکن اصطلاح شریعت میں وہ رشتہ دار جو ذوی الفروض اور عصبات نہ ہوں، ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ جو رشتہ دار ہیں وہ ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ جی یہی بتلا رہے ہیں مصنف بھئی ذو الرحم و کل قریب ذو الرحم جو ہے ہر وہ ایسا قریبی ہے لیس بذی سہم و لا عصبہ جو نہ تو حصے والا ہو اور نہ عصبہ ہو۔ و کانت عامہ الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم یرون توریس ذوی الارحام توریس کہتے ہیں ورث یورث توریس کے معنی ہیں وارث بنانا۔ و کانت عامہ الصحابۃ اور عام صحابہ جو ہیں (یعنی اکثر صحابہ) رضی اللہ تعالی عنہم یرون وہ رائے رکھتے تھے توریس ذوی الارحام ذوی الارحام کو وارث بنانے کی۔ یعنی اکثر صحابہ کی رائے تھی کہ ذوی الارحام وارث کو وارث بنایا جائے گا۔ و بہ قال اصحابنا رحمہ اللہ تعالی اور کسی کے قائل ہیں ہمارے فقہاء رحمہ اللہ تعالی بھی۔ و قال زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ لا میراث لذوی الارحام حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ذوی الارحام کے لیے کوئی میراث نہیں ہے۔ و یوضع المال فی بیت المال اور مال جو ہے وہ بیت المال میں رکھا جائے گا (یعنی بیت المال میں جمع کروایا جائے گا)۔ اگر ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی نہ ہوا تو پھر مال کہاں پر جمع کر دیا جائے گا؟ بیت المال میں۔ ذوی الارحام کو نہیں دیا جائے گا۔ و بہ قال مالک و شافعی رحمہ اللہ تعالی اور اسی کے قائل ہیں امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ۔ وہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ و ذو الارحام اصناف اربعہ اور ذوی الارحام جو ہیں وہ چار قسم پر ہیں۔ الصنف الاول ینتمی الی المیت انتمی ینتمی کے معنی ہیں نسبت ہونا۔ چار قسم پر ہیں بھئی۔ الصنف الاول ینتمی الی المیت پہلی قسم جو ہے اس کی نسبت ہوتی ہے میت کی طرف بھئی۔ پہلی قسم کس کی طرف منسوب ہے؟ میت کی طرف۔ و ہم اولاد البنات اور وہ بیٹیوں کی اولاد ہے۔ بیٹی خود تو ذوی الفروض میں سے، لیکن اس کی آگے اولاد جو ہے وہ ذوی الارحام میں سے یعنی نواسا نواسی بھئی۔ و اولاد بنات الابن اور بنات الابن کیا ہوئیں؟ پوتیاں اور پوتیوں کی اولاد پوتیوں کی اولاد بھئی۔ نیچے تک اسی طرح سلسلہ بھئی۔ کیونکہ اس میں سب آ گئیں، پوتی بھی اسی میں ہے، پڑپوتی بھی اسی کے اندر بھئی۔ تو ان کی جو اولاد ہے پوتیوں کی اولاد، بھئی یہ دیکھیے اولاد بنات یہ تو ہوئے میت کے نواسا نواسی۔ اور بنات الابن کی اولاد یہ بیٹے کی نواسیاں ہوئیں، کیا ہوئیں؟ پوتی کی اولاد، جو میت کا بیٹا ہے، اس کی کیا ہیں یہ؟ بیٹی کی اولاد ہیں نا، تو اس کی نواسا نواسیاں بھئی۔ و الصنف الثانی ینتمی الیہ الیہم المیت اور دوسری قسم جو ہے اس کی نسبت ہوتی ہے اس کی طرف میت کی، بھئی۔ پہلی قسم وہ ہے جو میت کی طرف منسوب ہے، یعنی میت کی اولاد نیچے کی جانب بھئی جو ذوی الفروض اور عصبات نہیں۔ و الصنف الثانی ینتمی الیہم المیت اور دوسری قسم وہ ہے کہ میت ان کی طرف میت کی نسبت ہوتی ہے، میت ان کی طرف منسوب ہے یعنی میت کے اصول، بھئی۔ میت کے بھئی وہی ترتیب ہے جو عصبات میں تھی۔ عصبات پہلے درجے میں کون تھے؟ جو فروع تھے میت کے۔ دوسرے نمبر پر؟ اصول۔ تیسرے نمبر پر؟ جو میت کے برابر میں ہیں وہی اس کے باپ کی اولاد بھئی۔ اور چوتھے نمبر پر؟ دادا کی اولاد، اس سے پھر اوپر پردادا کی اولاد، اس سے اوپر پھر لکڑ دادا کی اولاد، اوپر تک سلسلہ چلتا ہے۔ یہاں بھی عین وہی ترتیب ہے، پہلے میں کہا اولاد البنات و اولاد بنات الابن دیکھیے یہ میت کے فروع ہیں بھئی۔ و الصنف الثانی ینتمی الیہ المیت اور دوسری قسم کہ میت کی ان کی طرف نسبت ہوتی ہے۔ یعنی میت کی ان کی طرف منسوب ہے، یعنی اصول، بھئی۔ و ہم الاجداد الساقطون والجدات الساقطات اور وہ دادے ہیں جو ساقط ہیں بھئی۔ وہ دادے جو ساقط ہیں اور وہ دادیاں نانیاں جو ساقط ہیں، اجداد دادا، جَدٌ عربی میں دادا نانا دونوں پر بولا جاتا ہے۔ تو وہ دادا اور نانا جو ساقط ہیں اور وہ دادیاں اور نانیاں جو ساقط ہیں۔ کون سے دادا نانا ساقط ہیں بھئی؟ جَد فاسد بھئی، وہ چونکہ عصبات میں نہیں آتے تھے، ساقط ہو جاتے تھے، اس لیے ان کو ساقط کہا۔ اسی طرح دادیاں نانیاں کون سے ساقط ہیں؟ جی۔ جَد فاسدہ کس کو کہتے تھے؟ جَد فاسد کس کو کہتے تھے پہلے یہ بتائیے؟ درمیان میں جس عورت کا واسطہ آئے میت تک، بھئی۔ اور جَد فاسدہ درمیان میں جَد فاسد کا واسطہ آئے، بھئی، جَد فاسد کا۔ تو لہٰذا اجداد ساقط بھئی جو دادا، ان میں کون کون آگئے؟ نانا آ گیا نانا کیا تھا؟ جَد فاسد کیونکہ اس کا رشتہ میت سے کس کے واسطے سے ہے؟ ماں (یعنی عورت کے واسطے) سے ہے۔ اسی طرح دادی کا باپ آ گیا دادی کا باپ کیونکہ وہاں بھی واسطہ کس کا آگیا؟ دادی کا (یعنی عورت کا) آ گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جدات ساقطات جن میں کیا آ جائے، کس کا واسطہ آئے درمیان میں؟ جَد فاسد کا واسطہ آئے، یعنی نانا کی ماں ہو گئی، نانا کی ماں کسی طرح اوپر تک تفصیل پہلے بیان ہو چکی جدات، جدات اور جَد اجداد کی بھئی۔ و الصنف الثالث ینتمی الی ابوی المیت اور تیسری قسم وہ ہے جس کی نسبت ہوتی ہے میت کے والدین کی طرف بھئی۔ میت کے والدین کی طرف۔ و ہم اولاد الاخوات اور وہ کون ہیں بھئی؟ بہنوں کی اولاد، میت کی جو بہن ہے۔ بھئی میت کی جو بہن ہے وہ خود تو کس میں سے ہے؟ ذوی الفروض میں سے، بھئی بہن آپ پڑھ چکے ہیں یہ حقیقی بہن ہوگی یا علاتی بہن ہوگی یا اخیافی بہن ہوگی، سارے کس میں سے ہیں؟ ذوی الفروض میں سے ہیں۔ اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا، آنا ان کو چاہیے تھا بھئی تیسری قسم میں، لیکن پھر آگے یہ تو ہیں کس کے اندر؟ ذوی الفروض میں، تو آگے پھر ان کی اولاد بھئی، جیسے کل تفصیل آئی تھی کہ ہوتی میں پھر آگے اولاد کی طرف سلسلہ چلتا ہے۔ بہنوں کی اولاد، مثلاً کون ہے؟ بہن کی اولاد بھانجا، بھانجی وغیرہ بھئی۔ اور بہنیں چاہے حقیقی ہوں، چاہے علاتی ہوں، چاہے اخیافی ہوں بھئی، عام ہے بھئی، تو ان کی اولاد جو ہے وہ ذوی الارحام میں ہے۔ و بنات الاخوۃ اور بھائیوں کی بیٹیاں۔ بھئی چاہے حقیقی ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی، ان کی بیٹیاں، بھئی خود تو کیا بنیں گے؟ وہ تو عصبہ بنیں گے۔ اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا، کون آئیں گے پھر ذوی الارحام میں کون آئیں گے؟ ان کی بیٹیاں، بیٹے کیوں نہیں آئیں گے؟ کیونکہ کل ذکر ہو چکا وہ کس میں داخل ہیں؟ عصبات میں داخل ہیں بھئی۔ تو یعنی بھتیجی اس کے اندر آ گئی بھئی۔ اسی طرح نیچے تک ان کی اولاد بھئی۔ و بنو الاخوۃ لأم اور یہ کون ہیں اخوے ام بھئی؟ اخیافی بھائیوں کے بیٹے، اخیافی بھائیوں کے بیٹے؟ بھئی بیٹیاں چاہے حقیقی بھائیوں کی ہوں، چاہے علاتی بھائیوں کی ہوں، چاہے اخیافی بھائیوں کی، وہ تو سب آ رہے ہیں۔ جب کہ حقیقی اور علاتی بھئی کے بیٹے وہ تو کس میں ہیں؟ البتہ اخیافی بھئی کے بیٹے عصبات میں نہیں تھے، ان کو بھی ذکر کر دیا، و بنو الاخوۃ لأم، اخیافی بھائیوں کے بیٹے، کیونکہ اخیافی بھئی سے رشتہ کس کے ذریعے ہے؟ ماں کے ذریعے ہے، تو درمیان میں عورت کا واسطہ آ گیا، لہٰذا عصبات میں یہ داخل نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و الصنف الرابع ینتمی الی جدی المیت او جدتیہ اور چوتھی قسم وہ ہے جس کی نسبت ہوتی ہے میت کے دونوں دادوں یا (میت کے دونوں جَد) میت کے دونوں جدوں کی طرف (یعنی دادا اور نانا کی طرف)۔ دادا اور نانا کی طرف۔ او جدتیہ یا اس کی دونوں جدد، جدد کی طرف (یعنی دادی اور نانی کی طرف)۔ چوتھی قسم جس کی نسبت ہوتی ہے میت کے دادا یا نانا کی طرف یا دادی یا نانی کی طرف، وہ کون ہیں آگے بتلا رہے ہیں بھئی، و ہم العمات اور وہ پھوپھیاں ہیں۔ بھئی چاچا تو کس میں تھا؟ عصبات میں۔ اور پھوپی اگر، اب چاچا کے ساتھ جمع ہو جائے، کیا بتلایا تھا کل میں نے؟ عصبہ نہیں بنے گی، کیوں نہیں بنے گی؟ کیونکہ وہ ذوی الفروض میں سے نہیں ہے، عصبہ اپنے بھئی کے ساتھ صرف وہ عورتیں بنتی ہیں جو ذوی الفروض میں سے بھی ہوں (یعنی حقیقی بہن، علاتی بہن، بیٹی اور پوتی)۔ تو پھوپھیاں ہیں، و الأعماّم لأم ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ ہاں، لأمن ہونا چاہیے جس جن کتابوں میں نہیں ہے وہ درست کر لیں۔ و الأعماّم لأم اور اخیافی چچا جو ہیں، اخیافی چچا۔ بھئی حقیقی اور علاتی چچا کو ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ کس میں داخل تھے؟ عصبات میں کل بیان ہو چکا بھئی۔ و الأخوال اخوال جمع ہے خال کی، اور خال کہتے ہیں ماموں کو بھئی۔ و الخالات اور خالائیں بھئی۔ فہؤلاء پس یہ جو ہیں، و کل من یدلی بہم اور وہ ہر وہ سب کے سب یدلی بہم، ادلی یدلی کے معنی ہوتے ہیں منسوب ہونا، اور ہر وہ شخص جو منسوب ہوتا ہے ان کے ذریعے سے۔ پس یہ جو چار قسم بیان ہوئی، توجہ رکھنا عبادت پر بھئی۔ یہ چار قسمیں جو بیان ہوئیں اور اسی طرح ہر وہ رشتہ دار، وہ شخص جو منسوب ہوتا ہے، ان کے ذریعے، ان چار قسموں کے ذریعے میت کی طرف من ذوی الارحام یہ خبر ہے بھئی۔ یہ کن میں سے ہیں؟ ہاں! یہ تو کہتے ہیں ہم نے کچھ بیان کر دیے، بس ضابطہ آپ یاد رکھیں، یہ ساری قسمیں اور جو ان کے ذریعے سے میت کی طرف منسوب ہوگا وہ سب کس میں سے ہیں؟ ذوی الارحام میں سے ہیں۔ روا ابو سلیمان عن محمد بن الحسن عن ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہ اقرب الاسناف الصنف الثانی کہ سب سے قریب جو ہے وہ کون سی قسم ہے؟ دوسری۔ بھئی! انہوں نے تو ترتیب بتائی، قسم اول، قسم ثانی، قسم ثالث اور قسم رابع۔ تو کہتے ہیں ان چاروں میں سے سب سے قریبی قسم جو ہے الثانی، وہ کون سی ہے؟ یعنی پہلے نمبر پر یہ دوسرے درجے قسم والے ہیں۔ سب سے پہلے ان کو ان میں دیکھیں گے۔ و ان علوا، اگرچہ یہ اوپر تک ہوں بھئی۔ پہلی دوسری قسم کون سی ہے؟ اصول اوپر کی طرف جو ہیں، اصول بھئی۔ وہ اجداد اور جداد جو ساقط تھے، وہ پہلے نمبر پر ہیں و ان علوا، اگرچہ اوپر تک ہوں۔ ثم الاولو، پھر دوسرے نمبر پر کون ہے؟ پہلی قسم ہے و ان سفلو، اگرچہ نیچے تک ہوں۔ ثم الثالث، پھر تیسری قسم ہے و ان نزلوا، اگرچہ نیچے تک وہ چلے جائیں۔ ثم الرابع، پھر چوتھی قسم ہے و ان بعدوا، اگرچہ وہ دور تک وہ دور چلے جائیں بھئی، دور ہو جائیں۔ بھئی، اس قول کے مطابق بھئی، پہلے نمبر پر کون؟ دوسری قسم۔ پہلے ان میں سے دیکھیں گے اگر کوئی ہے تو اس کو مال دیں گے۔ اگر وہ نہیں، پھر کس کو دیکھیں گے؟ دیں گے۔ پہلی قسم۔ اگر وہ بھی نہیں، پھر کس کو دیں گے؟ تیسری قسم اور وہ بھی نہیں تو چوتھی قسم۔ یہ ایک قول ہے بھئی، امام صاحب کا، جس کو روایت کیا ابو سلیمان نے۔ و روا ابو یوسف والحسن بن زیاد، اور روایت کیا ہے امام ابو یوسف نے اور حسن بن زیاد نے عن ابی حنیفہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اور اسی طرح ابن سماعہ عن محمد بن الحسن عن ابی حنیفہ رحمہ اللہ، اور ابن سماعہ نے امام محمد بن الحسن کے واسطے سے روایت کیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کہ ان اقرب الاسناف الصنف الاول، کہ ان اسناف میں سے سب سے قریب جو ہے وہ قسم اول ہے، ثم الثانی، پھر دوسری قسم ہے، ثم الثالث، پھر تیسری قسم ہے، ثم الرابع، پھر چوتھی قسم ہے یعنی جس ترتیب سے بیان کیا دوسرا قول یہ کہ اسی ترتیب سے ہیں، پہلے نمبر والے پہلے درجے پر، دوسرے نمبر والے دوسرے درجے پر، تیسرے والے تیسرے پر اور چوتھے والے چوتھے درجے پر۔ یہ اس ترتیب پر ہیں کترتیب العصبا، جیسے کس کی ترتیب ہے؟ عصبا جیسی ترتیب عصبا کی تھی بعینہ وہی ترتیب ان میں بھی ہے، وہو المحفوظ بہ، اور اسی قول کو لیا گیا ہے۔ اسی قول کو لیا گیا ہے، اسی کو اختیار کیا گیا ہے، اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ و عندہما، اور صاحبین کے نزدیک الصنف الثالث مقدم علی الجد، آگے کیا عبارت ہے آپ کی کتابوں میں؟ علی الجد ابی الام۔ یہ اسی سے بدل ہو جائے گا۔ اور صاحبین کے نزدیک الصنف الثالث مقدم علی الجد۔ تیسری، بھئی! دوسری میں تو اوپر والے دادے اور دادیاں بیان ہوئی تھیں۔ اور تیسری میں بھئی اور بہنوں کی اولاد۔ تیسری میں کون تھے؟ توجہ ہے سبق مشکل تو نہیں بھئی؟ بس صرف توجہ رکھنا۔ تیسری میں بیان ہوئے تھے بہن بھائیوں کی اولاد، جو عصبہ اور ذوی الفروض نہ ہوں، یہ قید تو آپ نے خود ہی یاد رکھنی ہے۔ جو عصبہ اور ذوی الفروض نہیں ہیں، بہن اور بھائیوں کی جو اولاد وہ تیسری قسم میں ہے۔ اور دادیاں نانیاں کس میں بیان ہوئی تھیں؟ دوسری قسم میں۔ کون سی دادیاں اور نانیاں؟ دادے اور نانیاں جو ذوی الفروض اور عصبات میں سے نہ ہوں؟ تو وہ صاحبین فرماتے ہیں یہ تیسری قسم، یعنی بہن بھائیوں کی اولاد یہ مقدم ہے علی الجد، کس پر؟ جد پر، یعنی ابی الام میں۔ جد میں سب سے پہلا درجہ کس کا تھا؟ نانا کا تھا نا؟ سب سے قریب کون تھا؟ نانا تھا۔ تو اسی لیے کہا اس جد یعنی ابی الام، یعنی نانا پر جو ہیں یہ مقدم ہیں۔ یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں بس کہ تیسری قسم دوسری قسم پر مقدم ہے صاحبین کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک وہی ترتیب، قسم اول جو ہے وہ پہلے، قسم ثانی دوسرے نمبر پر، قسم ثالث تیسرے نمبر پر۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ پہلے درجے والے تو پہلے پر ہیں لیکن دوسرے والے ہیں تیسرے نمبر پر اور تیسرے والے ہیں دوسرے نمبر پر۔ لان عندہما کل واحد منہم اولی من فرعہ۔ اچھا! بھئی! یہ عبارت لان عندہما یہ اکثر نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں بھئی۔ کہتے ہیں کیونکہ اس کا معنی درست نہیں بھئی، جو وہ کہنا چاہ رہے ہیں اس کی دلیل نہیں بنتا بھئی۔ لیکن بعض علماء نے اس کی بڑی اچھی توجیہ کی بھئی۔ دیکھیے، وہ کیا توجیہ کرتے ہیں، کہتے ہیں لان عندہما کیونکہ صاحبین کے نزدیک کل واحد منہم ان میں سے ہر ایک جو ہے، کن میں سے؟ صنف ثالث میں سے۔ اولی من فرعہ، وہ اولیٰ ہے اپنی فرع سے۔ تیسری قسم میں ہر ایک کیا ہے؟ اپنے اولیٰ ہے اپنی فرع سے۔ کیسے اولیٰ ہے؟ بھئی! تیسری قسم میں کون آئے تھے؟ بھانجا اور بھانجی آئے تھے۔ اس طرح بھتیجی بھی آ گئی تھی۔ تو بھانجا اور بھانجی خود موجود ہوں اور ان کی اولاد بھی موجود ہو تو کون اولیٰ ہے؟ بھانجا بھانجی۔ بھانجا بھانجی یہی بات کر رہے ہیں کہ یہ تیسری قسم والے اپنی فرع سے اولیٰ ہیں بھئی، کیونکہ یہ قریب ہو گئے، اولاد ان کی کیا ہو گئی؟ دور۔ اگر یہ خود نہ ہوئے پھر ہم ان کی اولاد کی طرف جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ اولیٰ ہیں اپنی فرع سے بھئی۔ و فرعہ و ان سفلو اولی من اصلہ و فرعہ کی ضمیر کو لوٹایا صنف ثانی کو۔ بھئی! اولی من فرعہ، اس کو لوٹایا تھا پہلی جو فرع ہی آیا، یہ ضمیر لوٹ رہی ہے صنف ثالث کو۔ نظر ہے عبارت پر بھئی؟ ہر ایک جو ہے صنف ثالث میں سے وہ اولیٰ ہے اپنی فرع سے، اپنی ہی فرع سے کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔ مثال میں نے بیان کر دی، بھانجا بھانجی، وہ کیا ہیں؟ اپنی اولاد سے اولیٰ ہیں۔ تو یہ ہا ضمیر فرعہ کی اسی صنف ثالث کو راجع۔ آگے پھر آیا و فرعہ، یہ مبتدا آیا، و ان سفلو اولی من اصلہ، یہ فرعہ کی ہا ضمیر لوٹائی انہوں نے صنف ثانی کو، کس کو؟ اور آگے اصلہ کی ہا ضمیر لوٹائی فرعہ کو۔ یعنی یہ دوبارہ دیکھو، فرعہ، کس کی فرع؟ صنف ثانی، یعنی وہ جو دادے اور دادیاں ہیں، ان کی فرع و ان سفلو اگرچہ وہ نیچے تک ہوں، اولی من اصلہ، وہ کیا ہے؟ اپنی اصل سے اپنی اصل سے ہا ضمیر کس کو لوٹائی میں نے؟ فرع کو، فرع کو لوٹائی۔ یہی جو فرع گزرا، صنف ثانی کی فرع، صنف ثانی کی فرع کی اصل کیا بنے گی من اصلہ؟ صنف ثانی خود بن جائے گی نا؟ صنف ثانی کی فرع، تو ان کی اصل کون ہوئی؟ صنف ثانی ہوئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ صنف ثانی کی جو فرع ہے، فرع ہے نیچے کی طرف، اس نیچے والی کی اصل کون ہے؟ یہی اوپر والی صنف ثانی، تو وہاں پر چونکہ عکث ہے معاملہ، ہونا تو یہ چاہیے اصل کو مقدم ہونا چاہیے فرع پر، ضابطہ یاد رکھیں، ضابطہ یہ ہے کہ اصل کو اولیٰ ہونا چاہیے کس پر؟ فرع پر اولیٰ ہونا چاہیے، اور صنف ثالث میں اسی طرح ہے، فرع کیا ہے؟ اصل کیا ہے؟ فرع پر اولیٰ، لیکن صنف ثانی میں ایسا نہیں ہے، صنف ثانی کے اندر فرع اولیٰ ہے اصل سے، صنف ثانی میں کیا ہے؟ فرع اولیٰ ہے اصل سے۔ فرع اولیٰ ہے اصل، جیسے دیکھیے بھئی! بھئی! دیکھیے یہ لکھیے ذرا اپنی کتاب پر، بھئی! ایک لفظ لکھ دیجیے۔ میت کی پرنانی، میت کی پرنانی۔ لکھ لیا بھئی؟ بس، اب پرنانی کیا ہے؟ کیا معنی؟ میت کی جو ماں ہے، اس کی ماں کی ماں۔ یہ کیا ہے میت کی؟ پرنانی۔ اس کا جو، اس کی جو اصل ہے، یعنی اس کا باپ، پرنانی خود بھی ہو اور پرنانی کا باپ بھی ہو، تو پرنانی اولیٰ ہے۔ حالانکہ پرنانی فرع ہے اور اس کا باپ اس کی اصل ہے، لیکن کون اولیٰ کس کو ہونا چاہیے تھا؟ باپ کو ہونا چاہیے تھا، لیکن کس کو اولیٰ بنایا؟ پرنانی کو، کیوں؟ جی؟ بھئی! یہ جو ماں کی ماں کی ماں ہے، یہ کس میں سے ہے؟ ذوی، یہ کس میں سے؟ ذوی الفروض میں سے ہے بھئی۔ درمیان میں جد فاسد کا کوئی آیا؟ واسطہ نہیں آیا، تو یہ کیا ہوئی؟ جدہ صحیحہ ہوئی۔ یہ کس میں سے ہو گئی؟ ذوی الفروض۔ یہ ذوی الفروض میں سے ہو گئی جو فرع ہے۔ یہ میت کی پرنانی، یہ ذوی الفروض میں سے اور اس کا باپ، وہ جد فاسد ہے، وہ کس میں سے ہے؟ ذوی الارحام میں سے ہے، اور ذوی الفروض اولیٰ ہوتے ہیں یا ذوی الارحام اولیٰ ہوتے ہیں؟ ذوی الفروض اولیٰ ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا دیکھو یہاں فرع اولیٰ ہو گئی کس سے؟ اصل سے۔ ضابطہ تو یہ تھا کہ اصل کو اولیٰ ہونا چاہیے فرع سے اور صنف ثالث میں تو یہ ضابطہ اپنی جگہ پر ہے، اصل اولیٰ ہے کس سے؟ فرع سے، لیکن صنف ثانی میں یہ ضابطہ درست نہیں رہتا، وہاں فرع اولیٰ ہو جاتی ہے کس سے؟ اپنے اصل سے۔ تو چونکہ وہاں یہ ضابطہ درست نہیں رہتا، لہٰذا اس کا درجہ نیچے ہو گیا اور کس کا جو اپنی اصل پر ہے اس کا درجہ اعلیٰ، تو صنف ثانی، ثالث جو ہے وہ مقدم ہوئی کس پر صنف ثانی؟ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ لان عندہما کیونکہ صاحبین کے نزدیک کل واحد منہم اولی من فرعہ، ہر ایک ان میں سے یعنی صنف ثالث میں سے وہ اولیٰ ہے اپنی فرع سے، و فرعہ، اور صنف ثانی کی جو فرع ہے و ان سفلو، اگرچہ وہ نیچے تک تھی کیوں نہ ہو، اولی من اصلہ، وہ اپنی اصل سے یعنی صنف ثانی سے اولیٰ ہے اس وجہ سے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ صنف ثالث مقدم ہے صنف ثانی پر بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔