گزرتا سبق میں ہم کتاب میں ذکر کی ہوئی مناسبت کی مثال حل کر رہے تھے۔ میت اول آپ نے بنا لی تھی اور اس کا نام تھا سلیمہ۔ اور اس کے وارث جو تھے ایک زوج ہے ایک بیٹی ہے اور ماں۔ زوج کا نام زید لکھا آپ نے، بیٹی کا نام سلیمہ اور ماں کا نام عظیمہ۔ اور پھر آپ نے مسئلہ بنایا تھا تو یہ چونکہ اس مسئلہ میں رد ہو رہا تھا تو رد والا قانون جاری کیا اور اس میں کیا کرتے تھے کہ اقل مخرج جو ہوتا تھا من لا یرد علیہ کا اس سے مسئلہ بناتے تھے۔ یعنی جس سے اس من لا یرد علیہ کا حصہ نکل سکے اور خاوند کو ربع ملتا ہے اولاد کی صورت میں تو اقل مخرج اس کا کیا تھا؟ چار تو چار سے مسئلہ بنایا تھا، ایک خاوند کو دے دیا، تین باقی بچ گئے۔ اور من یرد علیہ کا آپ نے الگ مسئلہ بنایا بھئی۔ تو چھ سے مسئلہ بنا اور پھر رد ہوا کس کی طرف؟ چار کی طرف۔ تو ان من یرد علیہ کا مسئلہ بنا چار سے اور مابقیہ تھا مابقیہ تھا تین بھئی۔ تو یہ تین تو ان پر پورا تقسیم نہیں ہو سکتا تھا تو پھر کیا کرتے تھے کہ جو مابقیہ تھا اس کو من یرد علیہ کے سہام سے ضرب دے دیتے تھے اور من یرد علیہ کا مسئلہ جو تھا اس کو ضرب دے دیتے تھے کس سے؟ من لا یرد علیہ کے مسئلہ سے بھی اور اس کے سہام سے بھی۔ تو چنانچہ ضربیں دیں تو تصحیح ہوئی مسئلہ کی سولہ سے اور زوج کو ملے ہیں سولہ میں سے چار، بیٹی کو ملے ہیں نو اور ماں کو چھ۔ اچھا ہاں ماں کو ملے ہیں تین بھئی، تین۔ اس کے بعد اب آگے بھئی میت ثانی بنائیے بھئی۔ میت ثانی اب انتقال ہوا ہے یاد رکھیے خاوند کا اب انتقال ہوا۔ خاوند کون تھا اوپر؟ زید۔ تو میت ثانی پر درمیان میں زید لکھ دیں بھئی۔ زید۔ اور خاوند کو اوپر کتنے حصے ملے تھے بھئی؟ چار۔ تو بائیں کنارے پر میت ثانی کے ماقبل ید چار لکھیں بھئی، ماقبل ید چار۔ جی اور یہ جو خاوند کو ملے تھے یہ آپ نے نیچے اتار لیے اور خاوند کا انتقال ہو گیا، لہذا خاوند کے سہام اور اس کے نام کے گرد ڈبہ بنا دیجیے بھئی۔ اوپر والی میت میں ڈبہ خاوند کے اس سہام کے گرد واضح سا ڈبہ ہو بھئی، دیکھتے ہی پتہ چل جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور خاوند کے اب وارث کون کون ہیں؟ وہ اس کے نیچے لکھ لیجیے بھئی میت ثانی کے جو وارث ہیں زوجہ ہے زوجہ کا انتقال ہو گیا، دو نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو یہ دوسری زوجہ ہے معلوم ہوا، ایک زوجہ کا تو انتقال ہو گیا پہلے بھئی۔ جی تو نیچے کیا لکھا؟ زوجہ۔ زوجہ لکھا اور اس کے ساتھ کون تھا بھئی اب اب ان بھئی یعنی باپ اور أم یعنی ماں۔ لکھ لیا بھئی یہ تین وارث ہیں۔ دیکھیے کتاب میں بھی انہوں نے دیا ہے فمات الزوج قبل القسمۃ تو خاوند کا انتقال ہوا تقسیم سے پہلے ہی عان امراةٍ و أبوین اور کس کو چھوڑ کر مرا؟ بیوی کو اور والدین کو۔ یہی آ گئے بھئی زوجہ اور والدین آ گئے بھئی، یہ ہیں وارث اس کے۔ اب دیکھیے بھئی اس صورت میں زوجہ کو اولاد نہ ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ربع ملتا ہے۔ جی اور اولاد تو کوئی بھی نہیں ہے تو اب کو کتنا ملے گا؟ وہ شاباش عصبہ بنے گا بھئی۔ ہاں یاد رکھیے کہ زوج اور زوجہ کو شروع میں لکھنا ضروری، باقی عصبہ کو اگر ذوی الفروض سے پہلے بھی لکھ لیں، کوئی حرج نہیں ہے، لیکن زوج اور زوجہ کو ضرور شروع میں لکھنا ہے۔ باقیوں کو آگے اس سے لکھ لیتے ہیں۔ تو اچھا بھئی نام بھی تو لکھنے ہیں ہم نے بھئی۔ مسئلہ تو بعد میں بنائیں گے، زوجہ کے نیچے نام لکھ لیجیے بھئی حلیمہ۔ حلیمہ۔ اب کے نیچے نام لکھ لیجیے عمر بھئی۔ عمر اور ماں کے نیچے نام لکھ لیجیے رحیمہ۔ رحیمہ۔ اچھا اب اولاد نہیں تو زوجہ کو ملتا ہے ربع اور باپ بنے گا عصبہ اور ماں کو کتنا ملے گا؟ کتنا ملے گا؟ ثلثِ ما بقیہ کس صورت میں ملتا ہے؟ ہاں احد الزوجین مع الاب ہو تو اس کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثِ ما بقیہ ملتا ہے۔ تو ثلثِ ما بقیہ آیا اور میں نے بتایا تھا مسئلہ بناتے وقت ثلثِ ما بقیہ کا اعتبار نہیں کرنا۔ تو گویا حصے ہمارے پاس صرف کون سے آئے؟ صرف ربع ہے ایک ہی ہے، تو اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنائیں گے بھئی، یعنی چار سے اوپر چار لکھیے۔ چار میں سے ایک یعنی ربع مل گیا زوجہ کو، اس کے نیچے ایک لکھ لیجیے، باقی کتنے بچے؟ تین یہ ہے مابقیہ، اس کا تیسرا حصہ دینا ہے ماں کو تو تین کا تیسرا حصہ کیا ہوا؟ ایک، تو ایک ماں کے نیچے لکھ لیجیے بھئی، اور جو باقی بچے وہ باپ عصبہ ہونے کی وجہ سے لے جائے گا، تین میں سے ایک ماں کو دیئے تو باقی کتنے بچے؟ دو، تو باپ کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ جی اب دیکھیے مسئلہ کی تصحیح ہو چکی، مسئلہ کس سے بنایا؟ چار سے اور ماقبل ید بھی کتنا ہے؟ چار ہے، معلوم ہوا کسی ضرب وغیرہ کی ضرورت نہیں، تماثل کی نسبت ہے یہاں بھئی، ماقبل ید میں اور تصحیح مسئلہ میں بھئی۔ لہذا اب ہم تیسری میت کی طرف منتقل ہوں گے۔ آگے بھئی تیسری میت بنائیے یہ انتقال ہوا ہے بھئی بیٹی کا، وہ جو میت اول کی بیٹی تھی بھئی۔ کون تھی کیا نام ہے؟ غریمہ۔ غریمہ، ہاں تو میت بنائیے، اس کے درمیان میں، اس کے اوپر لکھ لیں غریمہ اور اوپر بھئی جو بیٹی ہے اس کے حصے کتنے ملے ہیں؟ نو، تو یہ بیٹی اور اس کے حصوں کے گرد ڈبہ بنا لیجیے بھئی میت اول میں۔ میت ثانی میں تو غریمہ کا ذکر ہے کہ نہیں ہے بھئی؟ ہاں، ورنہ وہاں بھی ہم ڈبہ بناتے بھئی صرف ایک جگہ ہی اس کا ذکر ہے، سب سے اوپر وہاں اس کے گرد ڈبہ بنا دیا۔ اور کتنا حصہ ملا ہے بیٹی کو اوپر؟ نو ملا ہے تو وہ اب یہ غریمہ کی جو میت بنائی اس پر بائیں طرف اب لکھ لیں ماقبل ید نو۔ ماقبل ید نو بھئی، لکھ لیا بھئی؟ جی۔ اچھا اب دیکھیے، اس کے وارث کون کون ہیں بھئی؟ دیکھیے یہ کتاب کے اندر دیکھ لیں، یہ ہمیں بتائیں گے ثم ماتت البنت پھر بیٹی کا انتقال ہوا عن ابنین وبنت وجدۃ۔ دو بیٹے ہیں، الگ الگ لکھنا بھئی، بیٹی ہے اور دو بیٹے ہیں اور جدہ ہے۔ تو میت کے نیچے لکھ لیں بھئی بنت، ابن، ابن اور جدہ۔ چاہے بیٹے پہلے لکھیں، بعد میں لکھیں، کوئی حرج نہیں، لیکن الگ الگ بنت، ابن، ابن اور جدہ۔ اچھا اب ان کے نام بھی نیچے لکھ لیں بھئی، بیٹی کے نیچے لکھ لیجیے رقیہ۔ رقیہ ابن، ایک بیٹا ہے اس کے نیچے لکھ لیجیے خالد۔ دوسرا بیٹا ہے اس کے نیچے لکھ لیجیے عبداللہ۔ اور جدہ جی کون ہے جدہ اس کی غور کرو، خود بتاؤ بھئی؟ جی۔ سب سے اوپر میت اول ماں کا انتقال ہوا تھا، یہ بیٹی تھی، وہ ماں کی ماں (یعنی وہ عظیمہ جو ہے) وہ اس کی جدہ ہے۔ تو جدہ کے نیچے عظیمہ لکھ لیجیے۔ عظیمہ۔ اب دیکھیے بھئی! مسئلہ ہم بنائیں گے۔ اوپر بھئی، غریمہ کے نام کے گرد ڈبہ بنا دیا؟ جی۔ اچھا۔ بیٹی کو کتنا ملتا ہے؟ جی۔ ہاں، بھئی ساتھ ہیں اس کے تو وہ عصبہ بنے گی۔ اور جدہ کو کتنا ملتا ہے؟ سدس۔ تو صرف سدس ایک ہی حصہ آیا، اور سدس کا ہم نام جو عدد ہے (یعنی ستہ، یعنی چھ) اس سے مسئلہ بنائیں گے۔ چھ اوپر لکھیے۔ چھ میں سے ایک حصہ مل گیا جدہ کو۔ جدہ کے نیچے ایک لکھ لیجیے بھئی! باقی کتنے رہ گئے؟ پانچ۔ پانچ یہ تقسیم کرنے ہیں ان بھئی بہنوں میں۔ کس طرح؟ کہ دیکھو! ہر بیٹا کتنی کے برابر؟ دو بیٹیوں کے برابر۔ تو دو بیٹے، چار بیٹیوں کے برابر، اور ایک بیٹی خود ہے، تو کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ تو معلوم ہوا پورا تقسیم ہو جائے گا۔ بیٹی کو ایک، اور ہر بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر۔ تو بیٹی کے نیچے کیا لکھیں گے؟ ایک، اور ہر بیٹے کے نیچے کیا لکھیں گے؟ دو۔ تو خالد کے نیچے بھی دو لکھیں، عبداللہ کے نیچے بھی دو۔ دیکھیے، مسئلہ کی تقسیم ہو گئی۔ اب ہم تصحیح، اس میت ثالث کی تصحیح اور ماقبل ید میں اب نسبت دیکھیں گے, وہ مناسبت والا عمل کریں گے۔ تصحیح مسئلہ کیا ہے یہاں پر؟ چھ اور ماقبل ید کتنا ہے؟ نو۔ چھ اور نو میں کون سی نسبت؟ توافق کی۔ یہ دونوں کس کے ذریعے تقسیم ہو جاتے ہیں؟ تین کے ذریعے۔ تو جب توافق کی نسبت ہے، تو پھر ضربیں کس کے ذریعے دیں گے؟ وفق کے ذریعے۔ تو کس سے یہ دونوں عدد تقسیم ہوتے ہیں؟ تین سے۔ تین سے ذرا چھ کو تقسیم کریں، کیا نکلا؟ دو۔ یہ دو ہے چھ کا وفق بھئی، اور ماقبل ید نو تھا، اس کو بھی تین سے تقسیم کریں، کیا جواب آیا؟ تین۔ یہ ہے ماقبل ید کا وفق بھئی۔ اب ان وقفوں کو ضرب دیں گے۔ بھئی، تصحیح ہے مسئلہ کا وفق کیا آیا؟ دو، اس کو کس سے ضربیں دیں گے؟ میت اول کے تصحیح مسئلہ سے بھی ضرب دیں گے۔ میت اول کے جو زندہ وارث ہیں, ان سے بھی ضرب دیں گے اور نیچے میت ثانی کے صرف سہام کو ضرب دیں گے، تصحیح مسئلہ کو ضرب نہیں دیں گے۔ اچھا! تو دو سے سب سے پہلے بھئی، میت اول کی تصحیح مسئلہ کس سے تھی؟ سولہ، سولہ کو دو سے ضرب دی، کیا آیا؟ 16 دونی 32، تو آگے ایک، 16 کے آگے ایک اور تصحیح کی طاق لکھیں اور اس پر 32 لکھ لیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب میت اول والوں میں سے کون کون زندہ ہے؟ صرف عظیمہ یعنی ماں زندہ ہے، اس کو سِہام جو تین ہیں، اس کو بھی دو سے ضرب دے دیں گے۔ تین دونی چھ، تو تین کے نیچے چھ لکھ لیجیے۔ اچھا، اب میت ثانی میں بھی یہی ضربیں دیں گے، لیکن اس میں تصحیح مسئلہ کو ضرب نہیں دیں گے، بلکہ دیں گے صرف سِہام کو۔ تو زوجہ کو کتنا ملا ہے؟ ایک، ایک کو دو سے ضرب دی تو دو آیا، تو ایک کے نیچے دو لکھ لیں۔ اب کو ملے ہیں دو، دو کو بھی دو سے ضرب دی کتنا آیا؟ چار، دو کے نیچے چار لکھیں۔ ماں کو کتنا حصہ ملا ہے؟ ایک، ایک کو بھی اب اسی وَفْق سے ضرب دی تو کیا آیا؟ دو، تو ایک کے نیچے دو لکھ لیجیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اب یہ اوپر والی ضربیں پوری ہو گئیں، اب نیچے کی طرف بھئی، ضربیں دینی ہیں میت ثالث میں۔ کس کے لیے ضربیں دیں گے؟ ماقبل یَد کے وَفْق، اور ماقبل یَد کا وَفْق کتنا نکالا ہم نے؟ تین نکالا ہم نے، تو تین سے نیچے ان کے سِہام، بیٹی کا کتنا حصہ؟ ایک، ایک کو تین سے ضرب دی تین آیا، تو ایک کے نیچے تین لکھیں، بیٹے کے کتنے حصے؟ دو ہیں، دو کو بھی تین سے ضرب دی دو تِئے چھ، تو دو کے نیچے چھ لکھیں۔ اِسی طرح عبداللہ کے نیچے بھی، دو کے نیچے چھ لکھیں بھئی۔ اچھا، اور جَدَّہ کا کتنا حصہ ہے؟ ایک، اُس کو بھی تین سے ضرب دی تو تین آیا، تو جَدَّہ کے جو حصہ ایک ہے، اِس کے نیچے بھی تین لکھ لیں۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں یہاں تک تو مسئلہ صحیح ہوا بھئی۔ اب اِس کے بعد انتقال ہوا چوتھے شخص کا۔ چوتھا کون؟ آگے کتاب میں دیکھیے، ثُمَّ مَاتَتِ الْجَدَّتُ پھر جَدَّہ کا انتقال ہوا، کون ہے جَدَّہ بھئی؟ عظیمہ۔ اور کس کو چھوڑ کر مری کیا کیا باقی بچے؟ کہتے ہیں عن زَوْجٍ وَّ اَخَوَيْنِ اِس کا خاوند ہے اور اِس کے دو بھئی ہیں۔ اچھا، لہذا میت بنائیے نیچے بھئی، چوتھی میت اِس کے درمیان میں لکھیں عظیمہ۔ عظیمہ۔ بھئی، آگے ہم نے لکھنا ہے ماقبل یَد، میت اول میں عظیمہ کو کتنا ملا؟ چھ، میت ثانی میں کتنا ملا؟ میت ثانی میں، وہاں کچھ نہیں ملا، میت ثالث میں کتنا ملا؟ تین، تو پہلے میت میں اِس کو چھ ملا، میت ثالث میں اِس کو تین ملا، چھ اور تین نو، تو اِس کا ماقبل یَد ہے نو بھئی، ماقبل یَد نو لکھیں۔ اِس کے اَوَّل جہاں جہاں اِس کا نام آیا ہے، ہر جگہ ڈبَّہ بنا دیں اِس کے سِہام اور ناموں کے گرد، پہلی میت میں بھی، اور تیسری میت میں بھی۔ پہلی میت میں بھی اِس عظیمہ کے نام اور اِس کے سِہام کے گرد ڈبَّا بنائیں، اور تیسری میت میں بھی عظیمہ کا نام ہے وہاں بھی ڈبَّا بنا لیں بھئی۔ بنا لیا بھئی؟ اچھا، اب مسئلہ بنائیں گے بھئی، وارث کیا لکھیں؟ زَوْجٌ، زَوْج ہے اور دو بھئی ہیں، زَوْجٌ، اَخٌ اور اَخٌ۔ زَوْجٌ، اَخٌ اور اَخٌ۔ زَوْج کے نیچے نام پہلے لکھیں عبدالرحمن۔ اَخٌ (یعنی بھئی) کے پہلے کے نیچے نام لکھیں عبدالرحیم۔ دوسرا بھئی جو ہے اِس کے نیچے نام لکھیے عبدالکریم بھئی۔ اچھا، اولاد کوئی نہیں، تو زَوْج کو کتنا ملتا ہے؟ نصف ملتا ہے۔ اور بھائیوں کو کتنا ملتا ہے؟ وہ عصبہ بنیں گے۔ تو معلوم ہوا صرف ایک ہی حصہ آیا نِصْف، تو اُسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بناتے ہیں، اور نِصْف کا ہم نام تو کوئی نہیں، لیکن اِس کا پھر مُعِین عدد کون سا ہے؟ دو، دو سے مسئلہ بنائیے۔ دو لکھیں اوپر، دو میں سے کتنا ملے گا خاوند کو؟ آدھا (یعنی ایک)، تو خاوند کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ اور کتنا باقی بچ گیا؟ ایک، وہ ایک اِن دونوں بھائیوں کا حصہ ہے، تو اِن کو کتنا کتنا ملے گا؟ آدھا آدھا، اور آدھا کس طرح لکھتے ہیں؟ ایک بٹا دو۔ تو دونوں کے نیچے لکھیں بھئی ایک بٹا دو، ایک بٹا دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب کسر آ رہی ہے، کسر کو ہم ختم کریں گے بھئی، آدھا آدھا حصہ مل رہا ہے، کسر کو ختم کرنے کا کیا طریقہ تھا؟ ہاں جو بٹے کی صورت میں ہے اُس میں جو نیچے والا عدد ہے اِس سے ضرب دیں گے، تو لہذا اور ساروں کو پھر ضرب دیں گے، اوپر مسئلے کو بھی اِسی سے ضرب دے دیں گے اور اِن ساروں کے سِہام کو بھی، تو سب سے پہلے بھائیوں میں ضربیں دیں، عبدالرحیم کے نیچے کیا ہے ایک بٹا دو، اِس کو ضرب دی دو سے تو دو دو سے کٹ گیا کتنا رہ گیا؟ ایک، تو نیچے ایک بٹا دو کے نیچے ایک لکھیں۔ عبدالکریم کا حصہ بھی ایک بٹا دو اِس کو بھی دو سے ضرب دی کتنا ہو گیا؟ ایک رہ گیا تو ایک بٹا دو کے نیچے ایک لکھیں۔ خاوند کا حصہ ایک تھا، اِس کو بھی دو سے ضرب دی کیا آیا؟ دو، تو ایک کے نیچے دو لکھیں خاوند کے نیچے بھئی۔ اچھا، اوپر مسئلہ کس سے بنایا تھا؟ دو، اِس کو بھی دو سے ضرب دیں گے تو کیا آیا؟ چار، تو آگے تصحیح کی طاق لکھیں اور اُس پر چار لکھ لیں۔ اچھا، دیکھیے اب مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ چار میں سے دو خاوند کو ملے ہیں اور ایک ایک دونوں بھائیوں کو ملا۔ اب تصحیح مسئلہ ہے چار اور ماقبل یَد کتنا ہے؟ نو۔ کون سی نسبت ہے چار اور نو میں؟ تباین ہے۔ تو تباین کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ پورے پورے عددوں کو ضرب دیتے تھے، توافق کی صورت میں وَفْق کو ضربیں دیتے تھے اور تباین کی صورت میں اب کیا کریں گے؟ چار کو سارے اوپر والے سارے جو زندہ ہیں اُن کے سِہام سے بھی ضرب دیں گے ہر میت میں، اور پہلی میت کے تصحیح سے بھی ضرب دیں گے، تو پہلی میت کی تصحیح کتنی ہے آخری؟ 32۔ 32 کو چار سے ضرب دیں بھئی۔ 128، تو آگے تصحیح کی طاق لکھیں اور اُس پر 128 لکھیں۔ اچھا، میت اول میں سے کون زندہ ہے بھئی؟ کوئی بھی نہیں زندہ، چلیں پھر نیچے والوں میں آئے اِس میں، سارے زندہ ہیں، اچھا، زوجہ کو کتنے ملے ہیں؟ دو، دو کو چار سے ضرب دی کیا آیا؟ آٹھ، تو دو کے نیچے آٹھ لکھیں۔ باپ کو کتنے ملے ہیں؟ چار حصے ملے ہیں، تو اِس کو چار سے ہی ضرب دی کَتْنا آیا؟ 16، تو چار کے نیچے 16 لکھیں۔ ماں کے حصے میں کتنے ہیں؟ دو، دو کو بھی چار سے ضرب دی، تو کتنا آیا؟ آٹھ، تو دو کے نیچے آٹھ لکھیں بھئی۔ اُس سے نچلی میت میں آئے، بیٹی کو کتنے ملے ہیں؟ تین، تین کو بھی چار سے ضرب دی کتنا آیا؟ بارہ، تین کے نیچے بارہ لکھیں بھئی۔ بیٹے کو کتنے ملے ہیں؟ چھ، چھ کو چار سے ضرب دی کیا آیا؟ 24، تو چھ کے نیچے 24 لکھیں۔ دوسرے بیٹے کو بھی چھ ملے ہیں، اِس کو بھی چار سے ضرب دی 24 ہوا، تو چھ کے نیچے 24 لکھیں، آگے جَدَّہ کا تو انتقال ہو چکا بھئی اِس میں ضربیں نہیں دینی۔ اچھا، اوپر کی ضربیں ساری ہو گئیں۔ اب کیا کرنا ہے؟ ماقبل یَد کو نیچے والے سِہام سے ضرب دیں گے، ماقبل یَد ہے نو۔ تو کس سے؟ زوجہ کا کتنا حصہ؟ دو، اِس دو کو نو سے ضرب دی کتنا آیا؟ 18، تو دو کے نیچے 18 لکھیں۔ بھئی کا حصہ ہے ایک، اُس کو بھی نو سے ضرب دی تو نو آیا، ایک کے نیچے نو لکھیں، دوسرے بھئی کے نیچے بھی نو لکھیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ تو یہ سارا مسئلہ کی، اب اب کیا کریں گے؟ اب ختم ہوئے بھئی جن کا انتقال ہوا تھا وہ سب بیان ہو چکے، سب کی میتیں بنا لیں تصحیح مسئلہ آپ نے کر لیا، اِس کے نیچے لکھیں الْأَحْيَاء بھئی۔ سطر کے شروع میں ال اَحْ شروع کریں اور یا کو خوب لمبا کر کے سطر کے آخر تک لے جائیں۔ سطر کے آخر میں پھر الف اور ہمزہ ڈالیں، الْأَحْيَاء بھئی، طریقہ آ گیا؟ اچھا، اب اوپر سے جو جو زندہ ہیں ذرا اُن کے نام لکھیں بھئی، یاد رکھیے اگر الْأَحْيَاء کے نیچے نام سارے لکھنے ہیں، تھوڑا تھوڑا فاصلہ کر کے لکھیں گے، اگر پورے نہ آئیں تو کوئی حرج نہیں، وہ اِس سے نچلی سطر میں پھر آپ الگ کر کے لکھ لینا، اچھا، احیاء کے نیچے اب نام لکھیں اوپر دیکھتے جائیں کون زندہ بھئی؟ حلیمہ لکھیں، حلیمہ زندہ ہے۔ اِس کے بعد کون ہے؟ عامر ہے۔ عامر، اِس کے بعد رحیمہ، اس سے نچلی میت میں اور کون ہے؟ رقیہ، اِس سے آگے کون ہے؟ خالد، اِس سے آگے کون ہے؟ عبداللہ، اِس کے اباد نیچے آئیے اور کون ہے؟ عبدالرحمن، اِس کے بعد عبدالرحیم، اِس کے بعد عبدالکریم۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، حلیمہ کو کتنے ملے بھئی؟ ایک جگہ دوسری میت میں اُس کو آٹھ ملے ہیں اور کہیں ہے وہ؟ اور کہیں پر بھی نہیں ہے، بس اِس کے نیچے آٹھ لکھیں۔ عامر کو بھئی؟ عامر کو 16 اور کہیں پر نہیں ہے عامر؟ نہیں تو اگر کہیں اور ہوتا وہ بھی جمع کرنا تھا ہم نے، عامر کے نیچے 16 لکھیں۔ آگے رحیمہ ہے، رحیمہ کو کہیں اور ملے ہیں حصے؟ نہیں، تو رحیمہ کے نیچے آٹھ لکھیں، اگر کہیں اور ملے ہوں وہ سارے آپ نے پھر جمع کرنے ہیں یاد رکھنا بھئی۔ اچھا، اِس کے بعد رقیہ بھئی، اُس کو کہیں اور ملے ہیں حصے؟ نہیں، کتنے ملے؟ 12، رقیہ کے نیچے 12 لکھیں۔ خالد، 24 اِس کے نیچے لکھیں ایک ہی جگہ اِس کو بھی ملے، عبداللہ، 24 اور کہیں نہیں ملے بھئی، تو عبداللہ کے نیچے بھی 24 لکھیں۔ عبدالرحمن کے نیچے 18 لکھیں بھئی، عبدالرحیم کے نیچے نو اور عبدالکریم کے نیچے بھی نو لکھئے۔ اب اِس ساروں کو ذرا جمع کریں۔ کتنا؟ 128۔ تو الْأَحْيَاء پر اوپر درمیان میں لکھیں الْمَبْلَغْ۔ الْأَحْيَاء پر درمیان میں لکھیں، الْمَبْلَغْ اور یہ مجموعہ پھر آگے لکھتے ہیں 128۔ اب دیکھیے الْمَبْلَغْ ہے 128 اور وہ میت اول کی آخری تصحیح کتنی ہے؟ 128۔ معلوم ہوا مسئلہ ہمارا صحیح ہے، دونوں جگہ ایک ہی عدد ہونا چاہیے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو دیکھیے اِس مثال کے اندر کل مال جتنا بھی تھا اُس کے 128 حصے کر دیے جائیں گے اور پھر جو جو وارث زندہ ہیں جس جس کا جتنا حصہ ہے سب کو اُس کے مطابق دے دیا جائے گا، ایک ہی مسئلہ بن گیا سب کا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جِی۔ تو یہ مناسخہ کا طریقہ ہے بھئی۔ اور امید ہے یہ بھی بھئی مشکل تو نہیں ہوگا، آسانی سے حل کر لیں گے یا نہیں بھئی؟ ہاں، تو یہ آسان ہے لیکن اگر پھر بھی مناسخہ مشکل لگے تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے ہر ہر وارث کا الگ بنا دیں مسئلہ بھئی، کہ ابتداً فُضَیّ مثلاً زید کا انتقال ہوا تھا اِتنے حصے کر کے اتنے اتنے فلاں کے بن گئے۔ پھر اِس کے بعد اگلی میت کا الگ بنا دیا جائے بھئی، پھر وہ جو حصے اِس کے حق میں اِس کو ملے تھے، اب اُس کو پھر جو مال بنتا ہے پھر اُس کے اتنے حصے کر کے اِس طرح آگے تقسیم کرا دینا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے مناسخہ میں ذرا یہ، جس کو بتلایا جا رہا ہے اُن کے لیے سہولت بہت سہولت ہو جاتی ہے کہ ابتداً ہی مال کو اتنے حصے کر دو اور ہر ایک کو اتنے اتنے اِس میں سے دے دو بھئی۔ چلیں بس، ھَذَا ھُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْمَسْأَلَةِ۔