अच्छा भाई, مناسخہ کی بحث سامنے شروع کی تھی، اور مناسخہ کا پانچواں قانون ہم پڑھ رہے تھے بھئی، پانچواں قانون۔ پانچواں قانون میں نے آپ کو لکھوایا، مناسخہ کا طریقہ بھئی کس طرح ہوگا؟ کہ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ مورث اعلیٰ کی میت بنائیں گے اور اس کے بائیں کنارے پر مورث اعلیٰ کا نام لکھ لیں گے کہ وہ زید ہے، عمر ہے یا بکر ہے، جو بھی نام ہے، وہ لکھ لیں گے۔ پھر میت کے نیچے اسی طرح وارث بنائیں گے اور پھر وارثوں کے نیچے ہر ایک کا نام لکھ دیں گے بھئی۔ اس کے بعد جیسے پہلے ہم مسئلہ بناتے تھے، اسی طرح مسئلہ بنا لیں گے۔ اور مسئلہ کی تصحیح کر لیں گے۔ اس کے بعد پھر جس کا انتقال ہوا تھا، اس نیچے اس کی میت بنائیں گے۔ میت کے درمیان میں اس مرنے والے کا نام لکھیں گے۔ اور اس کے نیچے اس کے وارث لکھ لیں گے۔ ان وارثوں کے نیچے ہر ایک کا نام لکھ لیں گے بھئی۔ اور اس مرنے والے کو جو اوپر کے مسئلے میں جتنا حصہ ملا، وہ اس کے میت کے بائیں کنارے پر اوپر ما فی الید لکھ کر اس کے ساتھ لکھ دیں گے۔ ما فی الید لکھ وہ اس کے ساتھ لکھ دیں گے۔ پھر اس جیسے پہلے ہم مسئلہ بناتے تھے، اسی طرح اس کا بھی مسئلہ بنائیں گے۔ جب مسئلہ بنا لیا، تصحیح وغیرہ کر لی۔ تو اب اس میت ثانی کے تصحیح مسئلہ اور ما فی الید کے درمیان نسبت دیکھیں گے۔ اگر تو نسبت ہوئی تماثل کی، مثلاً مسئلہ بھی بنا بارہ سے اور ما فی الید بھی کتنا ہے؟ بارہ ہے۔ تو پھر تو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسئلے کی تصحیح ہو چکی ہے بھئی، اسی طرح مسئلہ رہے گا۔ لیکن اگر ما فی الید کوئی اور عدد ہے اور مسئلہ کی تصحیح کسی اور عدد سے ہوئی ہے، کس کی بات کر رہا ہوں؟ میت ثانی کی۔ تصحیح کا عدد کوئی اور ہے اور ما فی الید کچھ اور ہے، تو پھر دیکھو ان میں کون سی نسبت ہے۔ کہ اگر تو ہو تباین۔ تو پھر کیا کریں گے؟ یہ جو میت ثانی کا تصحیح مسئلہ کا جو عدد ہے، اس عدد کو اوپر والے جو مسئلہ ہے، اس کے مسئلہ سے بھی ضرب دے دیں گے۔ اس کی تصحیح سے بھی ضرب دے دیں گے۔ اور نیچے اس کے جو وارث تھے، ان میں بھی سب میں ضرب دیں گے۔ ہاں اوپر وہ یہ جس کی میت ثانی اوپر آپ اس میں ڈبہ بنا چکے ہوں گے، اس کو ضربے نہیں دینی اس کے سہام کو۔ باقی وارثوں کے سہام کو اس تصحیح ثانی سے کیا کریں گے؟ سب کو ضرب دے دیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یہ تو اوپر کی طرف ضربیں دیں۔ اوپر کی طرف ضربیں کس سے دینی ہیں؟ تصحیح نیچے والے کی تصحیح مسئلہ سے۔ اور یہ جو میت ثانی کے ما فی الید تھا، اس کو ضربیں دیں گے، کس کے ساتھ؟ میت ثانی کے جو ورثاء کے سہام ہیں، ان میں ضربیں دیں گے۔ میت ثانی سمجھ میں آرہی ہے بات؟ میت ثانی کے تصحیح مسئلہ کو اوپر والے مسئلہ میں بھی ضرب دیں گے اور اوپر والوں کے سہام میں بھی۔ جبکہ اس کے ما فی الید کو صرف اسی کے وارثوں کے سہام میں کیا کریں گے؟ ضرب دے دیں گے۔ یہ کون سی صورت تھی؟ تباین والی بھئی۔ پورے پورے عدد کو ہی ضرب دے دیں گے۔ اور اگر میت ثانی کی تصحیح اور ما فی الید کے درمیان توافق کی نسبت ہو، تو پھر بھی ضربیں اسی طرح دیں گے لیکن اب پورے عدد سے ضرب نہیں دیں گے بلکہ وقت کے ساتھ ضرب دیں گے بھئی۔ یعنی میت ثانی کی تصحیح کا جو وقت ہے، اس کو اوپر والے مسئلہ سے بھی ضرب دیں گے اور اوپر والوں کے سہام سے بھی۔ اور ما فی الید کے وقت کو اس میت ثانی کے وارثوں کے سہام میں ضرب دے دیں گے۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہ تو تین نسبتیں بیان ہوگئیں تماثل، تباین اور توافق۔ توافق۔ اور اگر تداخل ہو، پھر کیا کریں گے؟ یاد رکھیے، یہاں تداخل بھی توافق کی طرح ہے۔ اگر یوں لکھیں، اگر میت ثانی کی تصحیح مسئلہ، اگر میت ثانی کی تصحیح مسئلہ اور ما فی الید کے درمیان، اور ما فی الید کے درمیان تداخل کی نسبت ہو، کے درمیان تداخل کی نسبت ہو، تو یہاں تداخل بھی توافق کی طرح ہے۔ تو یہاں تداخل بھی توافق کی طرح ہے۔ اس صورت میں، میت ثانی کی تصحیح مسئلہ، میت ثانی کی تصحیح مسئلہ، اور ما فی الید میں سے، اور ما فی الید میں سے جو بڑا عدد ہو، جو بڑا عدد ہو، صرف اس کے وقت کو ضربیں دیں گے، دوسرے چھوٹے عدد کو چھوڑ دیں گے۔ صرف اس کے وقت کو ضربیں دیں گے اور چھوٹے عدد کو کی ضربیں چھوڑ دیں گے۔ مثال کے طور پر، میت ثانی کی تصحیح مسئلہ ہے، میت ثانی کی تصحیح مسئلہ ہے، یرحمك الله۔ میت ثانی کی تصحیح مسئلہ ہے چار سے، چار، چار کا عدد، چار اور ما فی الید ہے بارہ۔ اور ما فی الید ہے بارہ۔ اب دیکھیے چار اور بارہ میں کون سی نسبت ہے؟ تداخل کی۔ تداخل کی۔ تو کیا بتلایا ضابطہ؟ جو بڑا عدد ہے، اس کا وقت نکال لیں گے اور اس کی ضربیں دیں گے۔ جس طرف کو دیتے تھے، اسی طرف۔ ما فی الید کو کس میں ضربیں دیتے تھے؟ نیچے، اسی میت ثانی کے سہام میں۔ تو بس اس کے وفق بارہ اور چار۔ بارہ کو چار سے تقسیم کیا کیا آیا؟ تین۔ یعنی تین کو نیچے والے سہام میں ضربیں دیں گے۔ بس۔ اوپر والوں کو ضربیں نہیں دیں گے پھر بھئی تصحیح مسئلہ سے۔ جی کیا لکھا؟ آخر میں؟ مثال کے طور پر، میت ثانی کی تصحیح مسئلہ ہے چار اور ما فی الید ہے بارہ۔ ہاں، تو ما فی الید بارہ کے وقت، تو ما فی الید یعنی بارہ بارہ کے وقت، یعنی تین کو، یعنی تین کو نیچے والوں کے سہام میں ضربیں دیں گے۔ جبکہ چھوٹے عدد، یعنی تصحیح مسئلہ، کو اوپر والوں سے ضربیں نہیں دیں گے۔ کو اوپر والوں سے ضربیں نہیں دیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ الگ سطر لکھیے۔ اور اگر اس کا عکس ہو، اور اگر اس کا عکس ہو، یعنی تصحیح مسئلہ بڑا عدد ہے اور ما فی الید چھوٹا عدد ہے، یعنی تصحیح مسئلہ بڑا عدد ہے اور ما فی الید چھوٹا عدد ہے، تو پھر بڑا عدد، بڑے عدد کا وقت جو ہے، بڑے عدد کا وقت، یعنی تصحیح مسئلہ، کا وقت، یعنی تصحیح مسئلہ کا جو وقت ہے، بھئی تصحیح مسئلہ کو کدھر کو ضربیں دیتے تھے؟ اوپر۔ ہاں، بس یہاں بھی یہی عمل ہوگا۔ تصحیح مسئلہ کا جو وقت ہے، اس سے اوپر والے مسئلہ، اس سے اوپر والے مسئلہ اور ان کے سہام کو ضرب دیں گے۔ اور ان کے سہام کو ضرب دیں گے۔ جبکہ چھوٹے عدد، کی ضربوں کو چھوڑ دیں گے۔ جبکہ چھوٹے عدد کی ضربوں کو چھوڑ دیں گے۔ یعنی ما فی الید کے سے نیچے والے اہ سہام کو ضرب نہیں دیں گے۔ یعنی ما فی الید کے سہام کے، ما فی الید سے کے ذریعے چھوٹے نیچے والے سہام کو، ما فی الید کے ذریعے نیچے والے سہام کو ضربیں نہیں دیں گے۔ समझ में आ गई बात अच्छी तरह भाई؟ تو یہاں تداخل بھی توافق کی طرح ہے۔ اسی لیے صاحب کتاب، کتاب میں اس کو ذکر ہی نہیں کریں گے۔ وہ ذکر ہی نہیں کریں گے، وہ صرف اتنا کہیں گے تین طرح کی نسبت ہو سکتی ہے، یا تماثل، یا تباین، یا توافق۔ تداخل کو کیوں نہیں ذکر کیا کیونکہ تداخل کس کی طرح ہے؟ توافق ہی کی طرح ہے بھئی، اسی میں آ جائے گا بھئی وہ۔ समझ में आ गई बात अच्छी तरह भाई؟ اسی طرح کا عمل آگے بقیہ میتوں میں بھی کرتے چلے جائیں۔ یہی عمل اسی طرح کا یا یوں لکھ لیں، اسی طرح کا عمل باقی بھی جتنی میتیں ہیں، ان میں اسی طرح کرتے چلے جائیں۔ اس کے بعد، باقی جتنی میتیں ہیں، ان میں بھی یہی عمل اسی طرح کرتے چلے جائیں۔ یعنی کیسا کیا کرنا تھا؟ تصحیح مسئلہ کو، میت پہلی میت کے مسئلہ میں بھی ضرب دیں گے اور اوپر والوں کے سہام میں بھی ضرب دیں گے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ توجہ سے سنو بھئی، دوبارہ سن لو۔ بھئی، میت اول کے بعد میت ثانی بنائی تھی، تصحیح مسئلہ کر لی، طریقہ یہاں تک آگیا۔ جی۔ اس کے بعد بھی جتنی میتیں آئیں گی، یہی طریقہ چلتا رہے گا۔ یہی طریقہ چلے گا، لیکن کس طرح؟ اگلی جو بھی میت بنائیں گے، اس کی تصحیح مسئلہ کر لیں گے۔ ما فی الید اس میں لکھ لیں گے۔ ما فی الید کیسے لکھیں گے؟ بھئی، ما فی الید سے کیا مراد ہے؟ جو اوپر اس کو ملا۔ اوپر اب، ابھی تو ایک میت اول تھی۔ اب باقی بھی میتیں آئیں گی، ہو سکتا ہے اس کو کہیں اور بھی حصہ ملے، تو وہ سارے جمع کرکے پھر ما فی الید میں لکھیں گے۔ جوں جوں نیچے جائیں گے، اوپر جہاں جہاں اس کو حصہ ملا ہے، ان ساروں کو کیا کریں گے؟ جمع کر لیں گے، اور وہ پھر اس کے کہاں پر لکھ دیں گے؟ ما فی الید میں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ صرف میت اول کے اندر اس کا حصہ ما فی الید نہیں ہے، جہاں جہاں سے اس کو ملا، جتنی میتیں اوپر اب بڑھتی چلی جائیں گی، کبھی آٹھ میتیں ہوں گی، کبھی دس ہوں گی، کبھی تو ان ساروں سے جہاں جہاں سے اس کو جو حصہ ملا ہے، ان سب کو کیا کر لیں گے؟ جمع کر لیں گے، اور پھر اس کا ما فی الید لکھ لیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اس ما فی الید کو یا اس وقت کو کس سے ضرب دیا کرتے ہیں؟ اسی میت کے سہام کو، اس کے جو وارثوں کے سہام ہیں، اسی سے کیا کرتے ہیں؟ ضرب دیتے ہیں، اور تصحیح مسئلہ کو کس سے؟ توجہ سے سننا بھئی، تصحیح مسئلہ کو کس سے ضرب دیتے تھے؟ میت اول جو تھی، اس کے مسئلہ سے بھی ضرب دینی ہے، اور اس کے سہام کو اور اس کے جو وارث زندہ ہیں، جن کے گیب ابھی ڈبہ نہیں بنا، جوں جوں میتیں بناتے جائیں گے، ڈبے بڑھتے چلے جائیں گے بھئی۔ جو جو زندہ ہیں، میت اؤ، یعنی میت اول کے مسئلہ سے بھی ضرب دیں گے، اور اس کے جو وارث زندہ ہیں، ان کے، صرف ان کے سہام سے نہیں، اس میت چاہے چوتھی ہے یا پانچویں ہے، اس سے اوپر جتنو کا انتقال ہوا ہے سب کے سہام کے ساتھ ضربیں دے دیں گے۔ تصحیح مسئلہ کس کی ہو رہی ہے؟ مثلا پانچویں میت کی ہے۔ پانچویں میت کی تصحیح مسئلہ ہو گئی۔ اس تصحیح مسئلہ کو کس کس سے ضرب دیں گے؟ اوپر جو چار میتیں ہیں ان میں ان کے جو جو وارث ہیں زندہ ان سب وارثوں کے سہام سے کیا کریں گے؟ لیکن مسئلہ سے نہیں ضرب دیں گے، صرف میت اول کے مسئلے سے ضرب دیں گے۔ وہاں سے ہم تصحیح سب کی کرتے چلے آ رہے ہیں بھئی یہ ضربیں ہم کیوں دے رہے ہیں؟ تاکہ تصحیح ہو جائے، ایک ہی صورت سب کی نکل آئے گی اکٹھی۔ تو مسئلہ وہی میت اول سے بن رہا ہے، اس کے صرف مسئلے سے ضرب دینی ہے، باقی کسی کے مسئلوں سے ضرب نہیں دینی، ان مسئلوں کو اسی طرح رہنے دینا ہے، ہاں سب کے جو جو زندہ ہیں ان کے سہام سے کیا کرتے چلے جائیں گے؟ ضربیں دیتے چلے جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ جبکہ ما فی لیات کو صرف کس سے ضرب دینی ہے؟ اسی میت کے وارثوں کے سہام سے بھئی۔ اب صورت اچھی طرح واضح ہو گئی بھئی۔ آگے مثالیں آئیں گی، بات اور واضح ہو جائے گی بھئی، بہرحال یہ ابھی سے اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ اصول نمبر چھ بھئی۔ اصول نمبر چھ۔ اگر میتِ ثانی کے اگر میتِ ثانی کے بھی وہی ورثا ہوں جو میتِ اول کے تھے اور درجہِ استحقاق بھی برابر ہو تو دوبارہ میتِ ثانی بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ اسی مورثِ اعلیٰ کی میت کے نیچے بلکہ اسی مورثِ اعلیٰ کی میت کے نیچے جو ورثا لکھے اور پھر جس دوسرے وارث کا انتقال ہوا اس کے نیچے لکھ دیں گے کا ان لم یکن کا ان لم یکن کا ان لم یکن اور اس کے گرد ڈبہ بنا دیں گے اسی طرح۔ کا ان لم یکن کے گرد اسی طرح ڈبہ بنا دیں گے۔ کا ان لم یکن کیا معنی؟ جیسے کہ گویا کہ یہ ہے ہی نہیں بھئی، جیسے کہ یہ ہے ہی نہیں، اس کو شمار ہی نہیں کریں گے۔ اور باقی مسئلہ، باقی وارثوں کے ساتھ مسئلہ بنا لیں گے۔ اور باقی وارثوں کے ساتھ مسئلہ بنا لیں گے۔ لیکن اگر میتِ ثانی کے ورثا الگ ہوں یا ان کا درجہِ استحقاق مختلف ہو یا ان کا درجہِ استحقاق مختلف ہو تو پھر اس صورت میں میتِ ثانی الگ بنانا پڑے گی۔ تو پھر اس صورت میں میتِ ثانی الگ بنانا پڑے گی۔ آگے بھئی مثال لکھیے۔ کون سی مثال ہے یہ؟ جی؟ مثال نمبر 109 بھئی۔ 109 مثال نمبر 109 اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ میت بنائیے۔ میت کے نیچے دو مرتبہ ابن لکھیے اور دو مرتبہ بنت لکھیے۔ یعنی دو بیٹے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں، الگ الگ لکھیں بھئی۔ ابن، ابن، بنت، بنت۔ میت کے اوپر بھئی نام لکھ لیں گے مورثِ اعلیٰ کا، مثلاً عامر۔ عامر لکھ لیں گے بھئی، بائیں کنارے پر اوپر۔ عامر چاہیں تو اس کے ساتھ مورثِ اعلیٰ بھی لکھ لیں۔ عامر بھئی۔ نیچے بھئی وارث لکھ لیے، ابن، ابن، بنت، بنت۔ نیچے اب نام بھی لکھنے ضروری ہیں۔ مثلاً ایک بیٹا ہے، پہلا ہے خالد۔ خالد، دوسرا ہے زید۔ ایک بیٹی ہے، مثلاً زینب۔ ایک بیٹی ہے، ہند بھئی۔ ہند۔ اب دیکھیے، مثلاً عامر کا انتقال ہوا ہے اور یہ چار اس کے وارث ہیں ابھی مال تقسیم نہیں کیا تھا کہ ایک بیٹے کا بھی انتقال ہو گیا۔ کس کا؟ ایک بیٹے کا۔ اب دیکھیے میت کے دو بیٹے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں تو مال کس طرح تقسیم کرتے تھے بھئی؟ للذکر مثل حظ الأنثيين یعنی ہر بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملتا تھا۔ ابھی مال تقسیم نہیں کیا تھا کہ ایک بیٹا، مثلاً جو خالد ہے اس کا بھی انتقال ہوا، اس کا بھی آگے اور کوئی وارث نہیں ہے، یہی تین اس کے بھی وارث ہیں، ایک بھئی اور دو بہنیں۔ اس کے تو بھئی بہن ہو گئے نا، میت کے تو بیٹے تھے۔ تو اس کے بھئی بہن، اور اور کوئی وارث نہ ہو، بھئی بہن ہوں ان میں بھی کس طرح مال تقسیم کرتے ہیں؟ للذکر مثل حظ الأنثيين اور کوئی بھی نہیں ہے تو انہی میں مال نے تقسیم ہونا ہے، تو دوبارہ میت بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، یہیں پر مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کس طرح؟ مثلاً خالد کا انتقال ہوا ہے، خالد کے نیچے لکھ لیجیے: کا ان لم یکن کا ان لم یکن کا ان لم یکن اور اس کا ان لم یکن کے گرد ڈبہ بنا لیں بھئی، اوپر کی طرف سے کھلا ہو بس تینوں طرف لکیر لگا دیں اس کے، کا ان لم یکن صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اب دیکھیے جو اس کی بھی وہی وارث ہیں جو باقی کے ہیں اور سب کا درجہِ استحقاق بھی وہی ہے، اسی طرح مال نے تقسیم ہونا ہے تو اس کو یرحمکم اللہ۔ اس کو معدوم شمار کرتے ہوئے مسئلہ بنا لیں گے بھئی، کیونکہ اس کا مال بھی اسی طرح تقسیم ہونا تھا۔ اب کس سے مسئلہ بنائیں گے بھئی؟ چار سے بنے گا، شاباش بھئی۔ چار اوپر لکھیے۔ چار میں سے دو زید کے نیچے لکھیے، ایک زینب کے نیچے اور ایک ہند کے نیچے بھئی۔ ایک ہند کے نیچے صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی جب ضابطہ کیا ہوا کہ جب میتِ ثانی کے بھی وہی ورثا ہوں جو میتِ اول کے تھے اور درجہِ استحقاق میں بھی سارے برابر ہوں، تو پھر میتِ ثانی کو معدوم شمار کرتے ہوئے مسئلہ باقیوں کے اندر اسی طرح بنا لیں گے جیسے کہ بنتا تھا بھئی۔ تو ہم نے اس کو خالد کو شمار ہی نہیں کیا، اس کے بغیر ہی مسئلہ بنا لیا۔ صورت اچھی طرح سب پر واضح ہو گئی؟ لیکن اس صورت میں دیکھیے درجہِ استحقاق سب کا وہی تھا میتِ ثانی میں بھی، اگر وہ استحقاق کی وہ درجہِ استحقاق برابر نہ ہوتا پھر ہمیں الگ مسئلہ بنانا پڑتا اس کا بھئی۔ اصول نمبر سات بھئی۔ اصول نمبر سات جب تمام میتوں کے مسئلہ کی تصحیح کر لیں جب تمام میتوں کے مسئلہ کی تصحیح کر لیں تو آخر میں سب سے نیچے تو آخر میں سب سے نیچے الأحیائ لکھیں گے۔ الأحیائ بھئی۔ حی کی جمع ہے بھئی الأحیائ، آخر میں حمزہ ہے۔ اور اس کو لکھنا کس طرح یہ بھی یاد رکھیں بھئی۔ جیسے یہ میت کو ہم لمبا کر کے لکھتے تھے، اس کی تا کو خوب لمبا کر دیتے تھے، اسی طرح الأحیائ کی یہ جو یا ہے، اس کو خوب لمبا سطر کے شروع سے الأحیائ لکھنا شروع کریں گے، سطر کے آخر میں جا کر الف اور حمزہ آئے گا بھئی۔ الأحیائ، لمبا سا لکھ لیں گے، پھر اس کے بعد اس الأحیائ کے نیچے اوپر جو جو زندہ ہیں ان سب کے نام لکھ لیں گے۔ ہاں، سب کے نام لکھ لیں گے۔ اور ہر نام کے نیچے اس کو جو حصہ اوپر ملا، جہاں جہاں سے ملا، جمع کر کے اس کے نیچے لکھ دیں گے۔ اور ہر نام کے نیچے اس کو جو حصہ جہاں جہاں سے ملا وہ سارا جمع کر کے لکھ دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو الأحیائ کے نیچے ہم نے سارے جو اب تک زندہ ہیں، ان کے نام لکھنے ہیں اور ہر ایک کے نیچے اس کو جو جو اوپر اب تک ملا ہے، جہاں جہاں سے ملا ہے وہ سارے جمع کر لو۔ اب دیکھو بھئی نام لکھنے کا فائدہ اب معلوم ہوگا آپ کو۔ اوپر آپ نے ہر جگہ نام لکھے ہوئے تھے بھئی، جب نام لکھے تھے اب جلدی جلدی نام تلاش کرتے گئے بھئی، اس زید کو یہاں بھی اتنا ملا، یہاں اتنا ملا، یہاں اتنا ملا، یہاں اتنا ملا، سب کو جمع کیا اور نیچے جو زید الأحیائ کے نیچے زید جو لکھا، اس کے نیچے اب وہ لکھ دیں گے۔ اسی طرح فلاں کو اتنا فلاں، سب کو لکھ دیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ سارے کس کے نیچے لکھنے ہیں؟ الأحیائ کے نیچے ترتیب سے نام لکھنے ہیں۔ اگر ایک سطر میں نام پورے نہ آئیں، زیادہ نام ہیں، تو پھر نام بیشک وہ نیچے دوسری سطر میں بھی کچھ نام لکھ دیں اور ان کے نیچے حصے لکھ دیں بھئی۔ تو پھر یہ جو زندہ ہیں ان کو جو جو حصے ملے لکھیں بھئی۔ جب سب کے نیچے ان کے حصے لکھ دیے جب سب ناموں کے نیچے ان کے حصے لکھ دیے جب سب ناموں کے نیچے ان کے حصے لکھ دیے تو ان سب حصوں کو پھر جمع کریں۔ تو ان سب حصوں کو پھر جمع کریں۔ اور الأحیائ کے اوپر اور الأحیائ کے لفظ کے اوپر المبلغ لکھ کر یہ مجموعہ لکھ دیں۔ المبلغ لکھ کر یہ مجموعہ لکھ دیں یہ جو سب کے حصے آپ نے جمع کیے، یہ کہاں پر لکھنا ہے؟ الأحیائ کے اوپر کیا لکھنا ہے؟ المبلغ اور پھر اس کے ساتھ یہ مجموعہ لکھ دیں۔ پھر دیکھیں کہ میتِ اول کے مسئلہ کی آخری تصحیح جو ہوئی کہ میتِ اول کے مسئلہ کی آخری تصحیح جو ہوئی اور یہ المبلغ دونوں ایک ہیں یا ایک نہیں۔ اور یہ المبلغ جو ہیں یہ دونوں ایک ہی ہیں یا ایک نہیں ہیں؟ اگر دونوں جگہ ایک ہی عدد ہے تو آپ کا مسئلہ صحیح ہے بھئی تو آپ کا مسئلہ صحیح ہے اور اگر عدد مختلف ہیں تو معلوم ہوا کہیں غلطی کی ہے، نئے سرے سے پھر مسئلہ بنائیے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہیں ضربوں وغیرہ میں غلطی کی ہے، پھر نئے سرے سے مسئلہ بنائیے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ سب سے آخر میں کیا کرنا ہے؟ الأحیائ لکھنا ہے، الأحیائ کے نیچے جو جو زندہ ہیں ان کو کیا کریں گے؟ ان کے نام اتار لیں گے، اوپر ان کو جہاں جہاں سے جتنا حصہ ملا ہے وہ جمع کر کر کے ہر ایک کے نیچے لکھتے چلے جائیں گے اور پھر ان ساروں کو مجموعہ کر بنائیں، جمع کریں ان کو اور المبلغ لکھ کر الأحیائ کے اوپر لکھ دیں۔ یہ المبلغ اور وہ جو میتِ اول کا آخری تصحیحِ مسئلہ ہے، وہ اور یہ المبلغ یہ بالکل ایک چیز ہونی چاہیے بھئی۔ وہاں اگر فرض کریں مثلاً 128 ہے تو یہاں بھی 128 ہونا چاہیے بھئی۔ تو پھر مسئلہ صحیح ہوگا اگر ایک عدد نہیں ہے دونوں جگہ تو معلوم ہوا کہیں غلطی ہوئی ہے آپ سے، دوبارہ دیکھیے مسئلے کو یا دوبارہ نئے سرے سے مسئلہ بنائیے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس! ہذا هو المرام، واللہ أعلم بحقیقۃ الحال۔