اچھا بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے مناسخہ کا باب شروع کیا تھا۔ مناسخہ کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک شخص کی میراث ابھی اس کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھی، کہ اس کے وارثوں میں سے پھر آگے کسی کا انتقال ہو گیا بھئی، تو اس وارث کے حصے اب اس کے وارث اگلے وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں بھئی، منتقل۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مناسخہ کے سات اصول ہیں۔ چار اصول آپ پڑھ چکے۔ ان میں سے ایک اصول کیا تھا؟ کہ جس سے سلسلہ وراثت شروع ہو رہا ہے، جس کا سب سے پہلے انتقال ہوا، اسے کیا کہتے ہیں؟ اسے مورثِ اعلیٰ کہتے ہیں۔ اور مورثِ اعلیٰ کی جب میت بنائیں گے، تو اس کے اوپر درمیان میں یا اس کے بائیں کنارے پر اس مورثِ اعلیٰ کا نام لکھ دیں گے اور چاہیں تو اس کے ساتھ مورثِ اعلیٰ بھی لکھ لیں۔ اور ایک قانون یہ بیان ہوا تھا کہ جس جونسی میت بھی بنائیں گے، اس کے اوپر اس کا نام لکھیں گے بھئی۔ میت کے اوپر، اس میت کے اوپر درمیان میں اس میت کا نام لکھ دیں گے بھئی۔ مثلاً کہ یہ زید ہے یا عمر ہے یا بکر، جو نام ہوگا وہ نام اس پر درمیان میں لکھ دیں گے۔ اور ایک اصول یہ بیان ہوا، کہ جب جس میت کے نیچے بھی اس کے وارث لکھیں، تو ہر وارث کے نیچے اس کا نام بھی لکھ دیں گے۔ پہلے تو آپ وارث لکھیں گے نا، مثلاً بیٹا ہے، بیٹی ہے اور بیوی ہے وغیرہ۔ پھر ان کے ان رشتوں کے نیچے ان کے نام بھی لکھ دیں گے، ہر ایک کا نام لکھ دیں گے تاکہ آگے کہیں اشتباہ واقع نہ ہو بھئی۔ اور ایک اصول یہ بھی بیان ہوا کہ جس کی بھی آگے میت بنانے لگیں، مورثِ اعلیٰ کے نیچے آپ نے وارث لکھ دیے، اب آگے نیچے جب کسی کا انتقال ہوا، اس کی میت بنانے لگیں، تو اوپر جہاں اس کا نام آیا ہو، اب چونکہ اس کی میت بنا رہے ہیں، معلوم ہوا اس کا انتقال ہو گیا ہے، تو اوپر جہاں جہاں اس کا نام آیا ہے اور اس کے حصے ہیں، ان کے گرد ڈبہ سا بنا دیں گے، جس کا اوپر والا حصہ کھلا ہو۔ تین رخ میں اس کے لکیر لگا دیں گے۔ یعنی یوں اس کے گرد گویا ہم نے قبر بنا دی بھئی۔ بھئی یہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ضربوں کا عمل کرنا ہوگا بار بار بھئی۔ تو تاکہ کہیں یہ شخص جس انتقال ہو چکا ہے، کہیں اس کے حصے بھی ضربوں کے اندر نہ آ جائیں بھئی۔ یہ چار اصول آپ پڑھ چکے بھئی۔ پانچواں اصول بھئی۔ مناسخہ کا پانچواں اصول۔ پانچواں اصول۔ مناسخہ کا طریقہ یہ ہے، مناسخہ کا طریقہ یہ ہے، کہ سب سے پہلے مورثِ اعلیٰ کی میت بنائیں، کہ سب سے پہلے مورثِ اعلیٰ کی میت بنائیں، اور میت کے اوپر بائیں کنارے پر مورثِ اعلیٰ کا نام لکھ لیں، مورثِ اعلیٰ کا نام لکھ لیں، میت کے نیچے وارث لکھیں، میت کے نیچے وارث لکھیں، اور ہر وارث کے نیچے اس کا نام لکھ لیں، اور ہر وارث کے نیچے اس کا نام لکھ لیں، اس کے بعد مسئلہ کی تصحیح کر لیجیے، اس کے بعد مسئلہ کی تصحیح کر لیجیے، انہیں قوانین کے مطابق جو اب تک آپ پڑھ چکے ہیں۔ انہیں قوانین کے مطابق جو اب تک آپ پڑھ چکے ہیں۔ جب مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، جب مسئلہ کی تصحیح ہو گئی، تو اس کے بعد جس کا انتقال ہوا، تو اس کے بعد جس کا انتقال ہوا، اس کی میت نیچے بنائیے، اس کی میت نیچے بنائیے، میت کے درمیان میں، اس مرنے والے کا نام لکھیے، میت کے درمیان میں اس کے اوپر، میت کے درمیان میں اس کے اوپر مرنے والے کا نام لکھیے، اور اوپر، اور اوپر اس مرنے والے کو جتنا حصہ ملا تھا، اور اوپر اس مرنے والے کو جتنا حصہ ملا تھا، اسے اس میت کے، اس میت کے بائیں کنارے پر اوپر، میت کے بائیں کنارے کے اوپر، ما فی الید، ما فی اور الید، ما فی الید لکھ کر، ما فی الید، لکھنا آتا ہے بھئی ما فی الید؟ ہاں، ما فی الید لکھ کر، اس کا وہ حصہ اس کے ساتھ لکھ دیں گے۔ اس کا وہ حصہ اس اس کے ساتھ لکھ دیں گے بھئی۔ پھر اوپر، اس میت ثانی کا جو نام تھا، اوپر اوپر والے مسئلے میں اس میت ثانی کا جو نام اور تھا اور جو اس کو حصے ملے، اور اس کو جو حصے ملے، ان کے گرد وہی قبر والی علامت بنا دیں گے، وہ ڈبہ بنا دیں گے، وہ ڈبہ بنا دیں گے۔ بھئی بات سمجھ بھی آ رہی ہے؟ بھئی میت اول کا تو مسئلہ آپ نے بنا لیا، ہر وارث کو اتنا اتنا حصہ ملے گا، آپ نے تصحیح کر دی، انہی قوانین کے مطابق جو اب تک آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر جس کا انتقال ہوا، اس کی میت نیچے بنائیں گے اور درمیان میں اس مرنے والے کا نام لکھ دیں گے اوپر بھئی۔ समझ में आया भाई؟ और آ جی۔ اور پھر اس کے بعد اوپر اس مرنے والے کو جتنا اوپر ملا تھا اوپر والے مسئلے میں، وہ ہے ما فی الید اس کا، وہ اس کے بائیں کنارے پر اوپر لکھ لیں گے، ما فی الید لکھ کر آگے جتنا حصہ ملا ہے وہ لکھ دیں گے۔ تو چاہے ما فی الید لکھیں پورا، اور بہتر یہی ہے کہ پورا لکھیں، یا صرف ما فی الید کی علامت ڈال کر لکھ لیں بھئی۔ ما فی الید کی علامت ہے مف بھئی، میم ف۔ ما فی الید۔ ما فی الید کی علامت، یا صرف ما فی الید پورا لکھیں یا صرف اس کی علامت لکھ لیں، ما فی الید کی علامت کیا ہے؟ مف میم ف بھئی، ف پر نقطہ نہیں ڈالنا بھئی اور فا کا، فا پر نقطہ بھی نہیں، اور اس کا آخری کنارہ بھی اوپر نہیں اٹھانا، سیدھا آگے لے جائیں گے بھئی۔ یہ ہے ما فی الید بھئی، یہ لکھ لیں گے۔ اور نیچے اس میت کے نیچے اسی طرح لکھیے بھئی آگے، میت کے نیچے اسی طرح اس کے وارث لکھ لیں گے۔ اس میتِ ثانی کے نیچے، اس میتِ ثانی کے نیچے اسی طرح، اس کے وارث لکھ لیں گے، اور ہر وارث کے نیچے اس کا نام لکھ لیں گے۔ اور ہر وارث کے نیچے اس کا نام لکھ لیں گے۔ پھر اس کے بعد، پھر اس کے بعد، اب تک ذکر کیے ہوئے قوانین کے مطابق اس میت کا بھی مسئلہ بنا لیں گے۔ اب تک ذکر کیے ہوئے قوانین کے مطابق، اس میت کا مسئلہ بھی بنائیں گے، بنا لیں گے اور اس کی تصحیح کر لیں گے۔ اور اس کی تصحیح کر لیں گے۔ صورت یہانتک سمجھ میں آگئی بھئی؟ پہلے میتِ پہلی میت بنائی اس کے مسئلہ کی تصحیح کرکے اسے چھوڑ دیا بھئی۔ اب کیا کیا؟ دوسری میت بنا لی درمیان میں اس کا نام لکھا اور مافِ الید جو ہے اس کے جو اوپر ملا تھا وہ بھی لکھ دیا، نیچے اس کے وارث لکھ دیے اور وارثوں کے نیچے نام لکھ دیے۔ اس کے بعد اب مناسخہ کا وہ عمل شروع ہوگا۔ اس میتِ ثانی کا جو مسئلہ بنایا اور اس کی مافِ الید کے درمیان نسبت دیکھیں گے۔ میتِ ثانی کے مسئلے کی جس سے تصحیح ہوئی ہے اس کو میتِ ثانی اب میتِ ثانی کی تصحیح اور اس کے مافِ الید کے درمیان نسبت دیکھیں گے۔ اب میتِ ثانی کی تصحیح اور مافِ الید کے درمیان نسبت دیکھیں گے۔ اگر نسبت تماثل کی ہے کس کے درمیان بھئی؟ میتِ ثانی کا بھئی۔ بھئی میتِ ثانی پر بائیں کنارے پر تو آپ نے کیا لکھا ہے؟ مافِ الید اور دائیں کنارے پر تصحیحِ مسئلہ ہے اسی میت پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس تصحیحِ مسئلہ اور مافِ الید کے درمیان کیا دیکھنی ہے؟ نسبت دیکھنی ہے۔ اگر نسبت تماثل کی ہو، اگر نسبت تماثل کی ہو، یعنی تصحیحِ مسئلہ اور مافِ الید ایک ہی عدد ہیں، تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ تصحیح شدہ ہے۔ مسئلہ تصحیح شدہ ہے۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی آگے اور اگر تصحیحِ مسئلہ اور مافِ الید میں تباین ہو اور اگر تصحیحِ مسئلہ اور مافِ الید میں تباین ہو، تو اس صورت میں اس میتِ ثانی کی تصحیحِ مسئلہ کو یعنی اس کے عدد کو یعنی اس کے عدد کو اوپر والے مسئلے کی تصحیح میں ضرب دے دیں گے۔ اوپر والے مسئلے کی تصحیح میں ضرب دے دیں گے۔ اور اوپر والوں کے سب کے سہام میں بھی ضرب دے دیں گے۔ اور اوپر والی میت کے سب وارثوں کے سہام میں بھی ضرب دے دیں گے۔ اور دوسری طرف اور دوسری طرف اس میت کے مافِ الید کو اس میت کے مافِ الید کو اسی میت یعنی میتِ ثانی کو اسی میت یعنی میتِ ثانی کے وارثوں کے کے وارثوں کے سہام میں بھی ضرب دے دیں گے۔ کے سہام میں ضرب دے دیں گے۔ تو اس سے مسئلہ کی تصحیح ہو جائے گی۔ تو اس سے مسئلہ کی تصحیح ہو جائے گی۔ لکھ لیا بھئی؟ بھئی دیکھیے صورت سمجھتے بھی جائیں ساتھ ساتھ بھئی۔ بھئی سب سے پہلے ہم نے میتِ اول کا مسئلہ پورا خود بنا لیا تھا اس کے بعد میتِ ثانی کا پورا ہم نے مسئلہ بنا لیا الگ سے اور اس کو اس کو اوپر سے جو حصہ ملا تھا وہ بھی ہم نے اس کے بائیں کنارے پر لکھ دیا مافِ الید اور اوپر ہم نے اس کا جو حصہ ملا تھا اور نام تھا اس کے گرد ہم نے ڈبہ بنا دیا بھئی کہ اس کے اس ڈبے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا کیا ہو چکا؟ انتقال ہو چکا۔ اب دیکھیے یہ جو میتِ ثانی کا جس سے عدد سے مسئلہ بنا اور جو مافِ الید ہے اسی کا ان دونوں کے درمیان نسبت دیکھیں گے۔ اگر تماثل ہو تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر تباین ہو تو پھر کیا کریں گے؟ اس میتِ ثانی کی جو تصحیح ہے اس کو اوپر والے مسئلے کے تصحیح میں بھی ضرب دیں گے اور نیچے سب وارثوں کے سہام میں بھی ضرب دیں گے۔ لیکن وہ جو میت کا جب جس میں ہم نے ڈبہ بنایا ہے اس حصے کو ضرب نہیں دیں گے۔ یہ ڈبہ ہم نے بنایا ہی اس لیے ہے تاکہ آگے ضربوں کا عمل اس میں نہ کرنا پڑے بھئی۔ تو سب اوپر والے سب وارثوں کے سہام میں ضرب دیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو اوپر والوں میں ہم نے عمل کیا۔ یہ اسی میت میں کیا عمل کرنا ہے؟ اس کا جو مافِ الید تھا اس کے پورے مافِ الید کو کیا کریں گے؟ سہام کے ساتھ ضرب دیں گے۔ یاد رکھنا اوپر جو ہم عمل کریں گے پہلی میت میں وہاں ضربیں سہام میں بھی آئیں گی ان کے ہر ہر وارث کے سہام میں بھی ضربیں جاری ہوں گی اور تصحیحِ مسئلہ میں بھی ضربیں جاری ہوں گی پہلے مسئلے کے اندر۔ کس میں؟ میتِ اول جو ہے اس کے مسئلے کے اندر بھی ضرب دینی ہے اور نیچے جو اس کے جتنے نیچے وارث ہیں ان سب کے سہام میں بھی ضربیں دینی ہیں۔ جبکہ یہ جو بعد والی میتیں ہیں چاہے ایک ہو، دو ہوں، تین ہوں جتنی بھی میتیں ہیں ان میں جہاں جہاں بھی ضرب دینی ہے صرف سہام کے اندر ضربیں دینی ہیں، مسئلہ جو ایک دفعہ بنا چکے ہیں اس مسئلے کے اندر ضرب نہیں دینی بھئی۔ یہ یاد رکھنا بھئی۔ اوپر سب سے پہلی میت میں کس کس میں ضربیں دیں گے؟ مسئلے میں بھی ضربیں دیں گے اور سہام میں بھی۔ جبکہ نیچے جتنی میتیں جہاں جہاں ضربوں کا عمل جہاں جہاں ضربوں کا عمل کرنا ہے وہاں صرف کس کو ضربیں دیں گے؟ صرف سہام کو ضربیں دیں گے، تصحیحِ مسئلہ کو جوں کا توں چھوڑ دیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو تھی تباین کی صورت۔ تباین کی صورت میں کیا کرتے ہیں؟ تصحیحِ مسئلہ کو اوپر والے مسئلے سے بھی اور اوپر والے سہام سے بھی ضرب دے دیتے ہیں اور مافِ الید کو نیچے والے میت جو ہے اس کے صرف سہام میں ضرب دیں گے بھئی۔ یہ تو تھی تباین کی صورت کہ پورے کے عدد جب تباین ہے تو پورے تصحیحِ مسئلہ کو اوپر ضرب دے دیں اور پورے مافِ الید کو نیچے والے مسئلے کے حصوں میں ضرب دے دیں۔ آگے لکھیے الگ سطر میں اور اگر توافق کی نسبت ہو اور اگر توافق کی نسبت ہو کس کے درمیان؟ میتِ ثانی کی تصحیحِ مسئلہ اور مافِ الید۔ اگر اس میں توافق کی نسبت ہو تو تصحیحِ مسئلہ کے وفق کو تصحیحِ مسئلہ کے وفق کو اوپر والے مسئلہ کو اوپر والے مسئلہ اور ان کے سہام میں ضرب دیں گے۔ اور ان کے سہام میں ضرب دیں گے۔ اور نیچے مافِ الید کے وفق کو مافِ الید کے وفق کو نیچے والی میت کے سہام میں ضرب دیں گے۔ نیچے والی میت کے سہام میں ضرب دیں گے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تباین میں پورے پورے عدد کو ضرب دے دیتے تھے اور توافق کی صورت میں وفق کو ضرب دیں گے بس صرف اتنا فرق ہے باقی وہی صورت ہے۔ چلیے بس ہذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔