باب مقاسمۃ الجد قال ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ومن تابعہ من الصحابۃ بنو الاعیان وبنو العلات لا یرثون مع الجد وھذا قول ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ و بہ یفتٰی وقال زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ یرثون مع الجد وھو قولھما وقول مالک والشافعی رحمھم اللہ تعالی اچھا بھئی باب مقاسمۃ الجد یہ باب ہے دادا کے حصہ لینے کے بیان میں بھئی کہ دادا ہو تو کس طرح وراثت مال وراثت تقسیم ہوگا؟ کس طرح اسے حصہ دیا جائے گا؟ دادا کے سلسلے میں یاد رکھیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں کثیر اختلاف ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما، حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ صحابہ کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کو کہ دادا کے وہی حصے ہوں گے وہی احوال جو باپ کے ہیں بھئی جس طرح باپ کے احوال تھے اسی طرح دادا کے بھی احوال ہوں گے یعنی جیسے باپ کے ہوتے ہوئے حقیقی اور علاتی بھئی محروم ہوتے تھے باپ کے ہوتے ہوئے کون محروم ہوتے ہیں؟ حقیقی اور علاتی بھئی کیونکہ ضابطہ آپ پڑھ چکے ذوالواسطہ کہ وہ محروم ہوتا ہے جب واسطہ موجود ہو تو حقیقی بھائیوں اور علاتی بھائیوں کا میت کے ساتھ رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ باپ کے واسطے سے تو جب باپ موجود ہوتا ہے تو یہ کیا ہوتے ہیں؟ محروم ہوتے ہیں تو اسی طرح ان صحابہ کرام کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح باپ کے ہوتے ہوئے یہ حقیقی اور علاتی بھئی محروم ہوتے تھے اسی طرح دادا کے ہوتے ہوئے بھی یہ حقیقی اور علاتی بھئی بہن کیا ہوں گے؟ محروم ہوں گے بھئی محروم ہوں گے اور یہی مذہب ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور یہی مفتی بہ قول ہے بھئی جبکہ دیگر صحابہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ان کا مذہب یہ ہے کہ دادا کے ہوتے ہوئے بنو العلال حقیقی اور علاتی بھئی بہن وہ وارث بنیں گے بھئی دادا کے ہوتے ہوئے باپ کے ہوتے ہوئے تو محروم ہوں گے حقیقی اور علاتی بھئی بہن لیکن دادا کے ہوتے ہوئے حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن وہ وارث ہوں گے بھئی اختلاف سمجھ میں آیا بھئی؟ حقیقی اور علاتی بھئی بہن امام صاحب کے نزدیک دادا کے ہوتے ہوئے یہ وارث نہیں بنیں گے کیونکہ دادا کے بھی وہی احوال جو باپ کے ہیں اور باپ کے ہوتے ہوئے حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہن محروم ہوتے تھے تو دادا کے ہوتے ہوئے بھی یہ کیا ہوں گے؟ محروم ہوں گے بھئی اور جبکہ دیگر صحابہ کا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ دادا باپ کے ہوتے ہوئے تو حقیقی اور علاتی بھئی بہن محروم ہوں گے لیکن دادا کے ہوتے ہوئے محروم نہیں ہوں گے بھئی دیکھیے بھئی اب کتاب پر قال ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ومن تابعہ ومن تابعہ من الصحابۃ فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اور وہ جنہوں نے ان کا اتباع کیا صحابہ میں سے یعنی جو ان کے متبعین ہیں صحابہ وہ فرماتے ہیں بنو الاعیان وبنو العلات لا یرثون مع الجد کہ بنو الاعیان یعنی حقیقی بھئی بہن وبنو العلات اور علاتی بھئی بہن جو ہیں لا یرثون مع الجد وہ وارث نہیں ہوں گے دادا کے ساتھ وھذا قول ابی حنیفہ رحمہ اللہ و بہ یفتٰی اور یہی قول ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے وقال زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ یرثون مع الجد اور حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وارث ہوں گے دادا کے ساتھ کون بنو الاعیان اور بنو العلات وھو قولھما اور یہی قول ہے صاحبین رحمہما اللہ کا بھی وقول مالک والشافعی رحمہما اللہ تعالی اور یہی قول ہے امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ کا وعند زید ابن ثابت للجد مع بنو الاعیان وبنو العلات افضل الامرین من المقاسمۃ ومن ثلث جمیع المال حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب دادا کے ساتھ بنو الاعیان اور بنو العلات اکٹھا ہو جائیں کون جمع ہو جائیں؟ دادا کے ساتھ بنو الاعیان یعنی حقیقی بھئی بہن مرنے والے کے حقیقی بھئی بہن اور اس کے علاتی بھئی بہن جب یہ دادا کے ساتھ جمع ہو جائیں تو دادا کے لیے افضل الامرین دو چیزوں میں سے افضل ہوگی جو جس میں جو بہتر ہو وہ ہوگا دادا کے لیے کون سی دو چیزیں ہیں جن میں سے بہتر کہتے ہیں من المقاسمۃ ومن ثلث جمیع المال مقاسمۃ اور ثلث جمیع مال میں سے جو افضل ہوگا وہ دادا کے لیے ہوگا مقاسمۃ اور اختلاف سمجھ میں آگیا یا نہیں آیا بھئی؟ اول اختلاف کس چیز کے اندر ہے؟ کہ دادا کے دادا کے ہوتے ہوئے حقیقی اور علاتی بھئی بہن وارث بنیں گے یا وارث نہیں بنیں گے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق مسئلہ بڑا آسان ہے بھئی وہ وارث ہی نہیں بنیں گے بھئی اور دادا کے وہی احوال جو کس کے احوال تھے؟ والد کے احوال تھے اسی طرح آسانی سے مسئلہ حل ہو جائے گا جبکہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کا جو مذہب ہے اور یہی مذہب ہے صاحبین کا بھی ان کے مذہب میں تفصیل ہے اب وہ بیان کرنے لگے ہیں بھئی وہ تفصیل بیان کر رہے ہیں تو گویا یہ باب جو ہے اس میں صاحبین کے مذہب کی تفصیل ہے بھئی سمجھ میں آیا امام صاحب کے مذہب کے مطابق مسئلہ آسان ہے بھئی جی تو کیا حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ دادا جب کس کے ساتھ جمع ہو جائے؟ حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی بہنوں کے ساتھ جمع ہو جائے تو دو چیزوں میں سے جو افضل ہو جو بہتر ہو وہ وہ دادا کے لیے ہوگی یعنی کون سی دو چیزیں؟ مقاسمۃ اور ثلث جمیع المال بھئی پورے مال کا ثلث نکالو دیکھو دادا کا کتنا حصہ بنتا ہے یا پھر مقاسمۃ کر لو پھر دیکھو دادا کا کتنا حصہ بنتا ہے جس میں جو بہتر ہو دادا کے لیے یعنی جس میں زیادہ حصہ مل رہا ہے وہ دادا کے لیے ہوگا بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی کون سی دو چیزیں میں سے؟ مقاسمۃ اور ثلث جمیع المال بھئی بھئی مقاسمۃ کسے کہتے ہیں وہ آگے بیان کرنے لگے ہیں مقاسمۃ یہ کہ بھئی دادا کے ساتھ کون آئے؟ حقیقی بھئی بہن اور علاتی بھئی دادا کو بھی ان کے ساتھ ایک بھئی کی طرح فرض کر لو دادا کو بھی کیا فرض کر لو؟ ایک بھئی کی طرح پھر دیکھو کتنے بھئی بہن ہو گئے اور ان میں مال کے حصے بنا کر دیکھو بھئی اور بہنوں میں مال کس طرح تقسیم ہوتا ہے؟ للذکر مثل حظ الانثيين بھئی کو بہن سے دگنا ملتا ہے بھئی اس طرح تقسیم کر کے دیکھو دادا کا کتنا حصہ بنتا ہے یہ ہے مقاسمۃ بھئی کہ دادا کو بھی کیا کر لیں فر ض؟ بھئی فرض کر لیں بھئی دیکھیے کہتے ہیں وتفسیر المقاسمۃ اور مقاسمۃ کی تفسیر وہ یہ ہے کہ ان یجعل الجد فی القسمۃ كاحاد الاخوۃ اور کہ بنا دیا جائے دادا کو بھی تقسیم کے اندر كاحاد الاخوۃ کس کی طرح؟ بھائیوں میں سے ایک کی طرح अच्छा अब देखिए भाई بنو الاعیان بھی ہیں اور بنو العلات بھی حقیقی بھئی بہن بھی ہیں اور علاتی بھئی بہن بھی تفصیلی احوال آپ پڑھ چکے بھئی کہ بعض صورتوں میں علاتی بھئی بہن محروم ہوتے تھے جب ان کے ساتھ کون آتے تھے؟ حقیقی بہن وغیرہ حقیقی بھئی بہن بعض صورتوں میں علاتی محروم ہوتے تھے بعض صورتوں میں ان کو کچھ مل جاتا تھا بھئی تو یہاں بھی اسی طرح بھئی ہو گا لیکن چاہے وہ محروم ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں تقسیم کے وقت یہ داخل ہوں گے دادا کے حصے کو کم کرنے کے لیے نقصان پہنچانے کے لیے یعنی ان کا بھی حساب کیا جائے گا دادا آیا دادا کے ساتھ ساتھ کون ہے؟ بنو الاعیان بھی ہیں اور بنو العلات بنو العلات بھی اب بنو العلات تو بعض اوقات حصہ ملتا ہے اور بعض اوقات بنو الاعیان کی وجہ سے بنو العلات کیا ہو جاتے تھے؟ محروم چاہے محروم ہو یا حصہ ملے وہ بعد میں ہم دیکھیں گے جب دادا کا حصہ نکالنے لگے تو پہلے ان کو بھی شامل رکھنا ہے پھر دادا کا حصہ نکالیں گے تو دیکھو ان کے آنے سے دادا کا حصہ کم ہو جائے گا تھوڑے بھئی بہن ہو تو حصہ زیادہ ملے گا جب زیادہ ہے تو لازمی بات ہے دادا کو حصہ کم ملے گا تو یہ بھی وہ گویا دادا کو نقصان پہنچانے کے لیے پہلے تقسیم میں داخل ہوں گے اور پھر بعد میں جب دادا کو حصہ مل گیا اس کے حساب کتاب کیا آپ نے دادا کو حصہ مل گیا پھر اس کے بعد یہ محروم ہو کر خارج ہو جائیں گے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی دیکھیے آگے ہم مثالیں بھی آ جائیں گی اور بات واضح ہو جائے گی تو کہتے ہیں وبنو العلات يدخلون فی القسمۃ ضرارا للجد اور بنو العلات جو ہیں وہ داخل ہوں گے تقسیم میں بنو الاعیان کے ساتھ ضرارا للجد دادا کو نقصان پہنچانے کے لیے فاذا اخذ الجد نصيبہ پس پھر جب لے لے دادا اپنا حصہ فبنو العلات يخرجون من البین تو پھر بنو العلات جو ہیں وہ نکل جائیں گے بیچ میں سے خائبین بغیر شئی اس حال میں کہ وہ محروم ہوں گے بغیر کسی چیز کے یا اس حال میں کہ وہ خسارے میں نقصان میں ہوں گے گھاٹے میں ہوں گے بغیر کسی چیز کے یعنی حساب کے وقت تو داخل ہو جائیں گے پھر دادا کا حصہ کم ہو گیا جب دادا نے اپنا حصہ لے لیا اب یہ محروم ہو کر نکل جائیں گے والباقی لبنو الاعیان اور باقی مال پھر کس کا ہوگا؟ بنو الاعیان کا دادا اپنا حصہ لے لے گا اور باقی بنو الاعیان کا ہو جائے گا یعنی سے بھئی بہنوں کا، الا اذا کانت من بنی الاعیان اخت واحدۃ۔ بھئی انہوں نے بتایا۔ بنو العلات تقسیم میں پہلے داخل ہوں گے اور پھر جب دادا اپنا حصہ لے لے گا تو بنو العلات کیا ہو جائیں گے؟ نکل جائیں گے محروم ہو کر۔ ہاں ایک صورت میں ان کے لیے بھی کچھ مال بچ جائے گا۔ وہ کون سی صورت ہے وہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ بنو العلات محروم نہیں رہیں گے، کچھ نہ کچھ ان کو بھی مل جائے گا تھوڑا سا، وہ یہ صورت ہے الا اذا کانت من بنی الاعیان اخت واحدۃ مگر یہ کہ جب بنو الاعیان میں سے صرف کون ہو؟ صرف ایک بہن ہو۔ حقیقی بھئی بہنوں میں سے صرف ایک بہن ہے۔ فاذا اخذت فرضها پس بیشک یہ جس نے جب اس نے لے لیا اپنا حصہ اسے ایک بہن نے، کتنا لے گی؟ نصف الکلی۔ فرضاها، فاذا اخذت فرضاها جب اس نے لے لیا اپنا حصہ، بھئی وہ حصہ کتنا ہے؟ یہ بدل ہے فرضاها سے، نصف الکلی بعد نصیب الجد۔ کل کا نصف بعد کس کے؟ دادا کے حصے کے۔ دادا کے حصے کے بعد یہ کل میں اس کا نصف لے لے گی۔ ماں بقیہ کا نصف نہیں، بھئی کل کا نصف لے گی۔ فإن بقيا شيئاً پس اگر کوئی کچھ مال کوئی چیز باقی بچ گئی یعنی کچھ مال باقی بچ گیا فلبنی العلات تو پھر کس کے لیے ہوگا؟ بنو العلات کے لیے ہوگا۔ بھئی اس صورت میں بھی ضروری نہیں کچھ بچے لیکن اگر بچ گیا تو وہ کس کے لیے ہوگا؟ بنو العلات کے لیے ہوگا والا فلا شیء لہم وگرنہ ان کے لیے کوئی چیز نہیں ہوگی كجد وأخت لأب وأم وأختين لأب بھئی صورت بنائیے بھئی۔ مثال نمبر کون سی ہے؟ 96 مثال نمبر 96۔ مثال نمبر 96۔ اسی طرح میت بنائیے بھئی۔ رحمہ اللہ اس کے نیچے لکھیے بھئی جڈ جڈ اس سے آگے لکھیے اخت عینی ایک حقیقی بہن ہے بھئی جیسے اوپر کتاب میں آیا اخت لأب وأم کتاب میں کیا آیا اخت لأب وأم یہ وہی اخت عینی ہے بھئی اور آگے کیا تھا وأختين لأب دو علاتی بہنیں ہیں آگے لکھ لیجیے بھئی۔ اختانی لأب دو علاتی بہنیں۔ اچھا۔ اب کیا کریں گے؟ دیکھیے بھئی۔ دادا کو ان کے ساتھ پہلے مقاسمۃ کی صورت ہم اختیار کر لیتے ہیں۔ مقاسمۃ کی کیا صورت تھی؟ دادا کو بھی کس کی طرح سمجھا جائے؟ بھئی کی طرح۔ دادا بھئی کی طرح بھئی۔ اب دیکھیے دادا ایک بھئی اور کتنی بہنیں آ گئیں؟ تین بہنیں آ گئیں، ایک حقیقی بہن اور دو ہاں پہلے سارے اکٹھے ہوں گے بتلایا تھا، اس کے بعد وہ علاتی بہنیں بعد میں نکلیں گی اگر کچھ نہیں بچتا تو۔ تو گویا ایک بھئی ہوا اور تین بہنیں ہوئیں اور ایک بھئی کتنی بہنوں کے برابر؟ دو تو دو یہ اور وہ تین بہنیں کتنی ہو گئیں؟ پانچ تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ پانچ سے۔ بنائیے مسئلہ پانچ سے بھئی۔ یہاں سے دیکھو اسی سے مسئلہ بنے گا آپ پڑھ چکے بھئی پہلے یہ۔ پانچ سے مسئلہ بنایا، پانچ میں سے کتنا حصہ دادا کا؟ دو بھئی دو بہنوں کے برابر دو دادا کا حصہ۔ بس آگے ابھی نہیں لکھنا بھئی۔ کتنا حصہ ہوا؟ دو دادا کا حصہ ہو گیا۔ اچھا حقیقی بہن کو کتنا ملتا ہے؟ نصف مسئلہ کس سے بنایا ہے؟ پانچ نصف کتنا ہوگا پانچ کا؟ ڈھائی یعنی دو صحیح ایک بٹا دو یہ حصہ ہو گیا حقیقی بہن کا، اس کے نیچے لکھ لیجیے۔ دو صحیح ایک بٹا دو۔ اچھا دو پانچ میں سے دو دادا کو دیے اور ڈھائی حقیقی بہن کو، دو اور ڈھائی کتنے ہو گئے؟ ساڑھے چار، تو پانچ میں سے ساڑھے چار نکلے کتنے رہ گئے؟ آدھا رہ گیا یعنی آدھا کس طرح لکھتے ہیں؟ ایک بٹا دو تو ایک بٹا دو یہ اختانی لأبین کا حصہ، ان کے نیچے ایک بٹا دو لکھیے۔ اچھا بھئی اب یہ ایک طرف صحیح ہے نا اس کو صرف بٹا کی صورت میں لے کر جانا ہے تو نیچے اس کے اب لکھیے بھئی دو کو دو سے ضرب دیں گے اور اوپر والا ایک جمع کریں گے، دو دو چار اور ایک پانچ، پانچ بٹا دو یہ اس کے نیچے اب لکھ لیں۔ دادا کے نیچے کیا ہے؟ دو اخت عینی کے نیچے کیا آ گیا؟ پانچ بٹا دو اور اختانی لأبین کے نیچے کیا آیا؟ ایک بٹا دو اب ہم نے کسر ختم کرنی ہے۔ كسر ختم کرنی ہے، کسر کو ختم کرنے کا کیا طریقہ تھا؟ جو کسر ہے اسی عدد سے کیا کرتے ہیں؟ ضرب دیتے ہیں تو لہذا پانچ بٹا دو کو دو سے ضرب دی تو اوپر والا دو نیچے والے دو سے کٹ جائے گا، کیا رہ جائے گا؟ پانچ تو پانچ بٹا دو کے نیچے اب صرف پانچ لکھ لیجیے۔ اچھا اختانی لأبین کا حصہ ہے ایک بٹا دو، اس کو بھی دو سے ضرب دی کیا آئے گا؟ ایک دو دو سے کٹ گیا ایک رہ گیا تو اس کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ اچھا دادا کے حصے کو بھی ضرب دیں اب دو سے دو سے ضرب کو ضرب دینی ہے جب ایک جگہ دی ہے تو سب جگہ دینی ہے، دادا کا حصہ دو تھا دو سے ضرب دی چار ہوا، دو کے نیچے چار لکھیے۔ اصل مسئلہ کو بھی دو سے ضرب دے دیں گے بھئی۔ اصل مسئلہ تھا پانچ اس کو دو سے ضرب دی دس ہوا تو آگے تصحیح کی تا لکھیے اس پر دس لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا اب دیکھیے کہیں کسر تو نہیں آ رہی دادا کو چار ملے ایک فرد ہے کسر نہیں اخت عینی کو پانچ ملے ایک فرد ہے یہاں بھی کسر نہیں ہاں اب باقی بہنیں کتنی ہیں؟ علاتی؟ علاتی بہنیں ہیں دو اور حصہ مل رہا ہے ایک یہاں کسر آ رہی ہے تو عدد رؤوس اور سہام میں نسبت دیکھو بھئی دو اور ایک میں تبائن ہے تو دو سے کیا کریں گے عدد رؤوس سے اصل مسئلہ کو ضرب دے دیں گے اسی طرح تو اب مسئلہ کیا بن چکا؟ دس سے اسی دس کو دو سے ضرب دی بھئی تو بیس ہوا آگے ایک اور تا لکھیے تصحیح کی اس پر بیس لکھ لیجیے بھئی بیس یہ کس سے ضرب دی؟ دو سے، نیچے ہر ایک کے حصوں کو بھی دو سے ضرب دیں دادا کے حصے ہیں چار اس کو دو سے ضرب دی آٹھ آیا، چار کے نیچے آٹھ لکھیے بہن حقیقی بہن کا حصہ ہے پانچ اس کو بھی دو سے ضرب دی دس آیا، پانچ کے نیچے دس لکھیے اور علاتی بہن بہنیں جو ہیں ان کا حصہ ایک تھا اس کو بھی دو سے ضرب دی تو دو آیا، ایک کے نیچے دو لکھ لیجیے بھئی صورت سمجھ میں آگئی؟ اس صورت کے مطابق گویا ابتدا دادا کو کتنے ملے تھے؟ پانچ میں سے دو ملے تھے کتنے؟ دو یہ کون سی صورت ہے مقاسمۃ والی۔ اگر دوسری صورت ہم نے کیا کہا تھا دادا کو دو افضل صورتوں میں سے ایک صورت جو ہوگی اس کو اختیار کیا جائے گا ایک کون سی صورت ہے؟ مقاسمۃ والی اور ایک کیا ہے؟ ثلث جمیع المال یا ثلث الكل اور ثلث الكل کتنا ہوگا؟ بھئی پانچ میں سے تو دو مل رہے ہیں دادا کو اور اگر ہم ثلث دیتے تو پھر دو کتنے میں سے ملتے؟ دو کتنے کا ثلث ہے؟ چھ معلوم ہوا چھ کی صورت میں دو ملتے تو چھ میں سے دو ملنا یہ زیادہ ہوتا ہے یا پانچ میں سے دو ملنا یہ زیادہ ہے؟ پانچ میں سے دو ملنا زیادہ ہے پانچ میں سے دو ملنا زیادہ ہے لہذا یہاں پر مقاسمۃ والی صورت اختیار کی گئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اگر اس وقت دادا کو دو مل رہے ہیں پانچ میں سے ہی دو مل رہے ہیں اگر ثلث کل دیتے تو پھر چھ کی صورت میں دو ملتے اور وہ پھر کم ہو جاتا حصہ بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی كجد وأخت لأب وأم وأختين لأب جیسے کہ دادا اور ایک حقیقی بہن اور دو علاتی بہنیں فبقی للأختين لأب عشر المال تو دو جو حقیقی علاتی جو دو بہنیں ہیں ان کے لیے باقی بچے گا کیا باقی بچے گا؟ عشر المال کتنا مال کا دسواں حصہ، بھئی دیکھیے پانچ میں سے کتنا ملا تھا ان کو؟ آدھا اور پانچ آدھا کتنا ہے پانچ کا؟ دسواں یا کل مسئلہ بیس سے بنا بیس میں سے ان کو کتنا ملا؟ دو تو دو کیا ہے بیس کا دسواں حصہ ہے یہ معنی ہے تو باقی بچے گا علاتی بہنوں کے لیے دسواں حصہ وتصح من عشرين اور صحیح ہو جائے گا مسئلہ بیس سے بیس سے مسئلہ صحیح ہو جائے گا۔ ولاو كانت في هذه المسألة اخت لأب لم يبق لها شيئ اور اگر اسی صورت میں ایک علاتی بہن ہو تو اس کے لیے کچھ نہیں بچے گا ایک علاتی بہن بھئی اگر اسی صورت میں بنائیے بھئی مسئلہ مثال نمبر 97 مثال نمبر 97 میت بنائیے اس کے نیچے لکھیے جڈ جڈ اخت عینی اور اخت لأب اور اخت لأب (یعنی علاتی بہن) ایک ہی حقیقی بہن ہے ایک ہی علاتی بہن ہے بھئی۔ آپ دیکھیے بھئی مقاسمۃ کی صورت میں دادا کو بھئی فرض کرنا ہے تو ایک گویا بھئی ہوا اور دو بہنیں ایک بھئی ہو اور دو بہنیں ہو کس سے؟ تو بھئی کو دگنا ملتا ہے گویا کتنی بہنیں ہیں؟ تو گویا عدد رؤوس چار ہے تو اسی سے مسئلہ بنے گا چار لکھیے اوپر بھئی چار سے مسئلہ بنایا چار میں سے دادا کو کتنا دیں گے؟ دو دیں گے، دادا کے نیچے دو لکھیے۔ اچھا اخت عینی کو کل کا نصف دیں گے وہ کتنا ہے چار کا نصف؟ دو، تو اخت عینی کے نیچے دو لکھیے۔ دو دادا کو دے دیے دو اخت عینی کو دے دیے چار میں سے کچھ باقی بچا؟ نہیں تو اخت لأبین کے نیچے لکھ دیجیے میم لکھ دیں یا محروم لکھ دیجیے۔ میم لکھ دیں یا محروم پورا لفظ ہی لکھتے ہیں بھئی تو دیکھیے اسی صورت میں پچھلے صورت میں دو علاتی بہنیں تھیں اس صورت میں ایک علاتی بہن ہے تو وہ محروم ہو گئی بھئی صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ یہ مذہب کن کا بیان ہو رہا ہے؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ یعنی کہ صاحبین رضی اللہ تعالی عنہما کا اور فتوی کس کے قول پر ہے؟ امام صاحب کے قول پر اور وہاں تقسیم بڑی آسان ہے لیکن یہاں ذرا تفصیل ہے جو ہم نے شروع بتلایا تھا کہ جب دادا کے ساتھ بنو الاعیان اور بنو العلات دونوں جمع ہو جائیں تو پھر اس صورت میں کیا کریں گے؟ دادا کے لیے دو صورتوں میں سے جو بہتر ہو اس کو اختیار کیا جائے گا ایک کون سی صورت ہے؟ مقاسمۃ والی اور ایک کیا ہے؟ ثلث جمیع المال یا ثلث الكل بھئی اور مقاسمۃ کی کیا صورت تھی اس کی تفسیر کیا بیان کی کہ دادا کو بھی بھئی بہنوں کے ساتھ کیا فرض کر لیا جائے؟ بھئی فرض کر لیا جائے اور پھر دیکھا جائے اس کا کتنا حصہ بنتا ہے، پھر ثلث الكل کی صورت میں اس کا کتنا حصہ بنتا ہے، دونوں صورتوں میں سے جو دادا کے لیے بہتر ہوگی اس کو اختیار کر لیا جائے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی ھذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام