تصحیح کے مسائل کی مشق: مثال نمبر 53: میّت: بنت 1، جدات 6، بنات الابن 4، عم 1۔ مسئلہ 6 سے بنا۔ بنت کو نصف 3، جدات کو سدس 1، بنات الابن کو سدس 1، اور عم کو عصبہ ہونے کی وجہ سے 1 ملا۔ کسر دو جگہ ہے: جدات 6 ہیں اور حصہ 1 ہے؛ بنات الابن 4 ہیں اور حصہ 1 ہے۔ عدد رؤوس 6 اور 4 کے درمیان توافق کی نسبت ہے۔ 6 کو پورا رکھا اور 4 کو 2 سے تقسیم کیا تو 2 آیا۔ 6 کو 2 سے ضرب دی تو مضروب 12 حاصل ہوا۔ اصل مسئلہ 6 کو مضروب 12 سے ضرب دی تو تصفیہ 72 سے ہوا۔ حصص کی تصحیح: بنت: 3 × 12 = 36؛ جدات: 1 × 12 = 12 (ہر جدہ کو 2)؛ بنات الابن: 1 × 12 = 12 (ہر پوتی کو 3)؛ عم: 1 × 12 = 12۔ مثال نمبر 54: میّت: زوجہ 1، اخت لام 16، اعمام 25۔ مسئلہ 12 سے بنا۔ زوجہ کو ربع 3، اخیافی بہنوں کو ثلث 4، اور اعمام کو عصبہ 5 ملے۔ کسر دو جگہ ہے: اخیافی بہنیں 16 ہیں اور حصہ 4 ہے (تداخل توافق کی طرح: 16 ÷ 4 = 4)؛ اعمام 25 ہیں اور حصہ 5 ہے (25 ÷ 5 = 5)۔ عدد رؤوس 4 اور 5 میں تباین ہے۔ 4 × 5 = 20 (مضروب)۔ اصل مسئلہ 12 کو مضروب 20 سے ضرب دی تو تصفیہ 240 سے ہوا۔ حصص کی تصحیح: زوجہ: 3 × 20 = 60؛ اخیافی بہنیں: 4 × 20 = 80 (ہر بہن کو 5)؛ اعمام: 5 × 20 = 100 (ہر چچا کو 4)۔ مثال نمبر 55: میّت: زوجات 4، جدات 3، اعمام 12۔ مسئلہ 12 سے بنا۔ زوجات کو ربع 3، جدات کو سدس 2، اور اعمام کو عصبہ 7 ملے۔ تینوں جگہ کسر ہے: زوجات 4 (حصہ 3)، جدات 3 (حصہ 2)، اعمام 12 (حصہ 7)۔ تمام میں تباین کی نسبت ہے، لہٰذا عدد رؤوس 4، 3، اور 12 حاصل ہوئے۔ 4 اور 3 میں تباین ہے (4 × 3 = 12)۔ 12 اور 12 میں تماثل ہے، لہٰذا مضروب 12 ہوا۔ اصل مسئلہ 12 کو مضروب 12 سے ضرب دی تو تصفیہ 144 سے ہوا۔ حصص کی تصحیح: زوجات: 3 × 12 = 36 (ہر زوجہ کو 9)؛ جدات: 2 × 12 = 24 (ہر جدہ کو 8)؛ اعمام: 7 × 12 = 84 (ہر چچا کو 7)۔ مثال نمبر 56: میّت: زوجات 2، جدات 10۔ پہلے اخت لام، یعنی اخیافی بہنیں، اخیافی بہنیں۔ یہ ہیں 40 بھئی۔ ہاں، یہ پھر کوئی بڑی فیملی آئی ہے بھئی۔ 40 بھئی۔ آگے لکھیے اعمام بھئی، چچا۔ چچا ہیں 20 بھئی۔ 20۔ اچھا، زوجات بھئی، اولاد نہ ہو تو حصہ کتنا ہوتا ہے؟ ربع، یہ نوع اول میں سے۔ جدات جو ہیں ان کا، ان کو کتنا ملتا ہے؟ سدس، یہ نوع ثانی میں سے۔ اخیافی بہنیں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث، یہ بھی نوع ثانی میں سے۔ اور آگے چچا، وہ عصبہ ہیں۔ تو نوع اول میں سے صرف ربع آیا، یہ جمع ہوا نوع ثانی کے ساتھ، تو مسئلہ کس سے بنائیں گے؟ 12 ہی سے، شاباش! مسئلہ بنائیے بھئی، 12 اوپر لکھیے بھئی۔ 12 کا ربع کتنا ہوگا؟ چوتھا حصہ؟ تین، تو زوجہ کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ 12 کا چھٹا حصہ کتنا ہوگا؟ دو، تو جدات کے نیچے دو لکھ لیجیے۔ 12 کا ثلث کتنا ہوگا، تیسرا حصہ؟ چار، تو اخیافی بہنوں کے نیچے چار لکھ لیجیے۔ زوجہ کو ملے تین، جدات کو دو، اور اخیافی بہنوں کو چار۔ تین اور دو پانچ، اور پانچ اور چار نو۔ 12 میں سے نو نکل گئے، باقی کتنے بچے؟ تین، تو تین یہ چچاؤں کا حصہ، ان کے نیچے تین لکھ لیجیے بھئی۔ دیکھیے اب زوجات ہیں دو، حصے ملے تین، یہاں بھی کسر آ رہی ہے۔ جدات 10 ہیں، حصے ملے دو، یہاں بھی کسر آ رہی ہے۔ اخیافی بہنیں ہیں 40، حصے ملے چار، یہاں بھی کسر۔ چچا ہیں 20، حصے ملے تین، یہاں بھی کسر ہے بھئی۔ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ جہاں جہاں کسر آئے صرف ان عدد رؤوس کو آپ نے پھر الگ لکھنا ہے، جہاں کسر نہ آئے ان کو نہیں لکھنا بھئی۔ تو یہاں چاروں پر کسر آ رہی ہے، تو عدد رؤوس اب ہم الگ لکھتے ہیں۔ بھئی زوجات دو ہیں، حصے ملے تین، دو اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین، تو دو کو اسی طرح لکھ لیں گے۔ جدات ہیں 10، حصے ملے دو، 10 اور دو میں کون سی نسبت؟ تداخل ہے لیکن تداخل بھی یہاں کس کی طرح؟ توافق کی طرح، تو دو سے یہ دونوں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ تو 10 کو دو سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ پانچ، یہ دوسرا عدد رؤوس آ گیا۔ اخیافی بہنیں ہیں 40، حصے ملے چار، 40 اور چار میں کون سی نسبت؟ تداخل، لیکن تداخل بھی یہاں کس کی طرح؟ توافق کی طرح، تو 40 کو 40 اور چار دونوں کس سے تقسیم ہو جاتے ہیں؟ چار سے، تو 40 کو چار سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ 10، یہ تیسرا عدد رؤوس آ گیا۔ چچا ہیں 20، حصے ملے تین، 20 اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین کی، تو 20 کو بھی اسی طرح لکھ لیں گے، یہ چوتھا عدد رؤوس ہے۔ تو ہمارے پاس چار عدد رؤوس آ گئے: دو، پانچ، 10 اور 20۔ اب نسبتیں دیکھتے جائیں بھئی۔ کوئی سے دو عدد پکڑیں بھئی، دو اور پانچ۔ دو اور پانچ میں کون سی نسبت؟ تباین، تو پورے کو پورے سے ضرب دیں گے، دو پنجے 10۔ اب اگلے عدد رؤوس کون سا ہے؟ 10۔ 10 اور 10 دو عدد، تو ان میں یہ تماثل ہے، کوئی ایک لے لیں گے، ایک 10 لے لیا۔ اگلے کے ساتھ نسبت دیکھیے، اگلا کیا ہے عدد رؤوس؟ 20۔ 10 اور 20 میں کون سی نسبت؟ تداخل کی، تو اس میں کیا کرتے ہیں؟ بڑے کو لے لیتے ہیں، چھوٹا اسی کے اندر داخل ہے بھئی، تو 20 یہ مضروب آ گیا۔ 20 کیا آیا؟ مضروب آیا بھئی، مضروب بھئی۔ تو 20، تو 20 ہمارے پاس مضروب آ گیا بھئی، مضروب۔ اس 20 کو اصل مسئلہ یعنی 12 میں ضرب دیں گے۔ 12 کو 20 سے، 240 آیا بھئی۔ تا آگے تصحیح کی لکھیے اور 240 لکھیے بھئی اوپر۔ اچھا مضروب ہے 20، اسی سے اب حصوں کو بھی ضرب دیں گے۔ زوجات ہیں تین، ان کو، زوجات کے حصے ہیں تین، اس کو بھی 20 سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 60، تین کے نیچے 60 لکھیے۔ جدات کے دو حصے ہیں، اس کو بھی 20 سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 40، دو کے نیچے 40 لکھیے۔ اخیافی بہنوں کے چار حصے ہیں، اس کو بھی 20 سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 80، چار کے نیچے 80 لکھ لیجیے۔ چچاؤں کے تین حصے ہیں، اس کو بھی 20 سے ضرب دی 60 آیا، تین کے نیچے 60 لکھ لیجیے۔ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب دیکھیے بھئی زوجات ہیں دو، حصے ملے 60۔ ایک ایک زوجہ کا حصہ کیسے نکالیں گے؟ عدد رؤوس سے کل حصوں کو تقسیم کر دیں گے۔ دو سے 60 کو تقسیم کیا تو کیا جواب آیا؟ 30، یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ۔ جدات ہیں 10، حصے ملے 40، تو 40 کو ہر ایک کو چار، ہاں، 40 کو 10 سے تقسیم کیا تو ہر ایک کے چار چار حصے، یہ ایک ایک جدہ کا حصہ چار نکل آیا۔ اخیافی بہنیں ہیں 40، حصے ملے 80، 80 کو 40 سے تقسیم کیا، دو آیا، تو ایک ایک بہن کا حصہ دو ہوا coastal. چچا ہیں 20، حصے ملے 60، 60 کو 20 سے تقسیم کیا، تین، تو ایک ایک چچا کا حصہ تین نکل آیا بھئی۔ مسائل سمجھ بھی آ رہے ہیں کہ نہیں بھئی؟ اگلی مثال لکھیے، مثال نمبر 57۔ مثال نمبر 57۔ جی میت بنائیے اسی طرح، نیچے لکھیے زوجات چار، زوجات چار، اخوات عینی پانچ، اخوات عینی یعنی حقیقی بہنیں پانچ۔ اچھا، آگے لکھیے اخوات لام وہ ہیں تین، یعنی اخیافی بہنیں کتنی ہیں؟ تین۔ اور آگے لکھیے جدات وہ بھی تین ہیں بھئی، جدات بھی تین۔ اچھا بھئی، زوجات ہوں اولاد نہ ہو تو کتنا ملتا ہے؟ ربع، یہ نوع اول میں سے ہے۔ حقیقی بہنیں بھئی دو یا زیادہ ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان ملتا ہے ان کو، یہ نوع ثانی میں سے آیا۔ اخیافی بہنیں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو ثلث ملتا ہے، یہ بھی نوع ثانی میں سے۔ جدات کو کتنا ملتا ہے؟ سدس، یہ بھی نوع ثانی میں سے۔ تو نوع اول میں سے صرف ربع آیا، تو ربع جب نوع ثانی کے کسی کے ساتھ جمع ہو جائے تو مسئلہ کس سے بناتے ہیں؟ 12 سے۔ 12 سے مسئلہ بنائیے بھئی۔ 12 کا چوتھا حصہ زوجات کو دیں گے، کتنا آیا؟ تین، تین زوجات کے نیچے لکھیے۔ حقیقی بہنوں کو دو ثلث دیتے ہیں، 12 کا ثلث کتنا ہے، تیسرا حصہ؟ چار، دو ثلث دینے ہیں، یعنی آٹھ حقیقی بہنوں کے نیچے آٹھ لکھیے۔ اخیافی بہنوں کو صرف ثلث دینا ہے، کتنا ہوگا؟ 12 کا ثلث چار ہے، تو اخیافی بہنوں کے نیچے چار لکھیے بھئی۔ جدات، جدات کیا ہیں؟ ان کو سدس دیں گے، 12 کا سدس کتنا؟ دو، جدات کے نیچے دو لکھیے۔ اب دیکھیے زوجات کو ملا تین، حقیقی بہنوں کو ملا آٹھ، آٹھ اور تین 11۔ اچھا اور اخیافی بہنوں کو ملا چار، 11 اور چار 15۔ اور جدات کو ملا دو، 15 اور دو 17۔ تو مسئلہ بنایا 12 سے اور حصے کتنے ہو گئے؟ 17۔ اب کیا کریں گے؟ عول کریں گے، شاباش! تو 12 کے آگے عین، عین لکھیے اور اس پر 17 لکھ لیجیے بھئی، جی۔ جی؟ کیوں؟ کیوں؟ اخوات عینی کے ساتھ ہیں تو سدس کیوں ملے گا؟ اس وجہ سے کہ ان کا حصہ جو ہے ایسا ہوتا ہے تا کہ یہ دونوں مل کے ثلثان ہو جائیں۔ نہ، ثلثان نہیں۔ وہ تھا اولاد وغیرہ مونث کو جو ہم دیتے تھے ثلثان دیتے تھے زیادہ سے زیادہ۔ تو اگر اس ضابطے پہ دیکھا جائے تو حقیقی بہنوں ہی کو ثلثان مل چکا ہے، ان کو کیا ہونا چاہیے؟ محروم ہونا چاہیے، لیکن ان کے احوال آپ دیکھیں پھر بھئی، وہاں پر یہ صورت نہیں ہے بھئی ان کے احوال میں کہ یہ حقیقی بہنوں کی وجہ سے محروم ہو جائیں، ایسا نہیں ہے بھئی۔ دیکھیے اخیافی بہنوں، اخیافی جو بہن بھئی ہیں ان کے تین احوال ہیں۔ ایک ہو تو ملتا ہے سدس، اور دو یا زیادہ ہوں تو ان کو ملتا ہے ثلث، اور یہ بھی پڑھا آپ نے کہ ان کے مذکر مونث تقسیم میں برابر ہیں، یہاں للذکر مثل حظ الانثیین پر بھی عمل نہیں ہوگا۔ اور وہ "ویسقطون بالولد وولد الابن وان سفل"، اور یہ اولاد یا اولاد کی، بیٹے کی اولاد نیچے تک ان کی وجہ سے بھی ساقط ہوتے ہیں اور باپ اور دادا کی وجہ سے ساقط ہوتے ہیں، تو یہ تین ہی احوال ہیں، ان میں وہ نہیں ہے کہ ان کو سدس ملے گا بھئی۔ وہ پوتیوں وغیرہ کے احوال میں تھا بہنوں کے ساتھ جب جمع ہوں۔ اچھا جی، عول کہاں تک ہوا؟ 17 تک۔ اب ہم عدد رؤوس لکھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہاں کسر آ رہی ہے۔ زوجات ہیں چار، حصے ملے تین، یہاں بھی کسر۔ حقیقی بہنیں ہیں پانچ، حصے ملے آٹھ، یہاں بھی کیا ہے؟ کسر۔ اخیافی بہنیں تین ہیں، حصے ملے چار، یہاں بھی کسر۔ جدات تین ہیں، حصے ملے دو، یہاں بھی کسر۔ چاروں جگہ کسر آ رہی ہے، سب کے عدد رؤوس اب ہم لکھیں گے الگ بھئی۔ زوجات چار، حصے ملے تین، چار اور تین میں کون سی نسبت؟ تباین، تو چار کو الگ لکھ لیں گے۔ حقیقی بہنیں ہیں پانچ، حصے ملے آٹھ، پانچ اور آٹھ میں کون سی نسبت؟ تباین، تو یہ پانچ پورا اسی طرح لکھ لیں گے بھئی، یہ دوسرا عدد رؤوس آیا۔ اخیافی بہنیں ہیں تین، حصے ملے چار، تین اور چار میں کون سی نسبت؟ تباین، تو یہاں بھی پورا وہی تین لکھ لیں گے، یہ تیسرا عدد رؤوس آ گیا۔ جدات ہیں تین، حصے ملے دو، ان میں بھی کون سی نسبت؟ تباین کی، تو لہٰذا اسی طرح تین لکھ لیں گے، یہ چوتھا عدد رؤوس آ گیا۔ تو چار عدد رؤوس آ گئے ہمارے پاس: چار، پانچ، تین اور تین۔ اچھا بھئی، اب ان میں نسبتیں دیکھتے جائیے۔ کوئی سے دو دیکھ لیجیے۔ چار اور پانچ، چار اور پانچ میں کون سی نسبت؟ تباین کی، تو ان کو آپس میں پورے کو پورے سے ضرب دیں گے، پانچ چوکے 20۔ 20 اور اگلے عدد رؤوس ہے تین، 20 اور تین میں کون سی نسبت؟ یہاں بھی تباین کی، تو 20 کو اسی طرح پورے تین کے ساتھ ضرب دے دیں گے، کیا آیا؟ 60۔ 60 اور اگلا عدد رؤوس کیا ہے؟ تین، 60 اور تین میں کون سی نسبت؟ تداخل ہے، تین سے 60 پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے، تو اس صورت میں کیا کرتے تھے؟ بڑے عدد کو لے لیتے تھے، تو 60 ہمارے پاس مضروب آ گیا۔ اب اس 60 سے اصل مسئلہ یعنی ہاں، عول ہوا ہے یہاں پر تو 17، اس عول کو 60 سے ضرب دیں گے، 17 کو ذرا 60 سے ضرب دیجیے بھئی۔ اچھا، ضرب دی کیا آیا؟ 1020۔ تو آگے تصحیح کی تا لکھیے اور اس پر 1020 لکھ لیجیے بھئی۔ مضروب کتنا ہے ہمارے پاس؟ 60 ہے بھئی۔ اچھا، اب 60 جو مضروب ہے اسی سے نیچے حصوں کو بھی ضرب دیں گے بھئی۔ 60 کو زوجات کے حصے تین سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 180، تو تین کے نیچے 180 لکھ لیجیے۔ حقیقی بہنیں ہیں، ان کا حصہ ہے آٹھ، اس کو بھی 60 سے ضرب دیجیے کیا جواب آیا؟ 480، تو آٹھ کے نیچے 480 لکھ لیجیے بھئی۔ اخیافی بہنوں کا حصہ ہے چار، اس کو بھی 60 سے ضرب دیں بھئی، 240، تو چار کے نیچے 240 لکھ دیجیے۔ جدات کا حصہ ہے دو، اس کو بھی 60 سے ضرب دیجیے بھئی، 120، تو دو کے نیچے 120 لکھ لیجیے بھئی۔ تو زوجات کا حصہ ہوا، چار ہیں زوجات اور حصہ ہے 180، تو ایک ایک زوجہ کا کتنا حصہ بنے گا؟ 180 کو چار سے تقسیم کیا 45 جواب آیا، یہ ایک ایک زوجہ کا حصہ۔ حقیقی بہنیں ہیں پانچ اور حصے ملے 480، تو 480 کو پانچ سے تقسیم کیجیے، 96، تو یہ 96 ایک ایک بہن کا حصہ ہو گیا حقیقی بہن کا۔ اخیافی بہنیں تین ہیں اور حصے ملے 240، اس کو بھی تین سے، 240 کو تین سے تقسیم کیا کیا آیا؟ 80، تو ایک ایک اخیافی بہن کا حصہ 80 ہوا۔ جدات تین ہیں اور حصے ملے 120، تو 120 کو عدد رؤوس یعنی تین سے تقسیم کیا 40 جواب آیا، تو یہ ایک ایک جدہ کا حصہ 40 ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔