باب التصحيح يحتاج في تصحيح المسائل إلى سبعة أصول، ثلاثة بين السهام والرؤوس، وأربعة بين الرؤوس والرؤوس۔ آج ہم باب التصحيح شروع کریں گے۔ لیکن درمیان میں کچھ چھٹیاں آ گئیں اور پھر کچھ ہم حساب کا طریقہ کرتے رہے، تو ذرا کچھ پرانی باتیں تھوڑی سی جلدی جلدی دہرا لیں تاکہ آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائیں بھئی۔ جی سب سے پہلے تو یہ اصحاب الفروض کون کون سے ہیں؟ جن کے حصے باقاعدہ شریعت میں مقرر ہیں۔ جی آپ نے پڑھا کہ جو حصے مقرر ہیں، وہ چھ قسم کے حصے ہیں بھئی۔ نصف ہے، ربع ہے اور ثمن ہے۔ اور ثلثان ہے، ثلث ہے اور سدس ہے۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ یہ جو حصوں والے ہیں، یہ 12 افراد ہیں۔ ان 12 میں سے چار مرد ہیں اور آٹھ عورتیں ہیں۔ مرد جو ہیں، ان میں باپ ہے، دادا ہے، اخیافی بھئی ہے اور شوہر ہے۔ اور عورتوں کے اندر بھئی بیوی ہے، بیٹی ہے، پوتی ہے، پوتی نیچے تک، پوتی صرف پوتی نہیں بلکہ اس میں پڑپوتی وغیرہ سب داخل ہیں۔ اور اس کے علاوہ حقیقی بہن ہے، علاتی بہن ہے، اخیافی بہن ہے اور ماں اور جدہ صحيحہ ہے بھئی۔ جدہ صحيحہ، تو یہ 12 افراد ہیں۔ ان میں سے باپ کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ اس کے کتنے احوال ہیں؟ تین احوال ہیں۔ ایک فرض مطلق بھئی، اور وہ کس وقت، وہ سدس ہے، چھٹا حصہ۔ کب ملے گا؟ ہاں، جب بیٹا، پوتا وغیرہ کوئی ہو۔ اس اب عصبہ نہیں بن سکتا، کیونکہ عصبہ جیسے اوپر کی طرف عصبات، اسی طرح نیچے کی طرف بھی عصبات۔ اور سب سے قریبی درجہ بیٹے، پوتے وغیرہ کا جو ہے، جو نیچے کی طرف ہو، تو ان کے ہوتے ہوئے باپ عصبہ نہیں بنے گا۔ اس کو صرف اس کا مقررہ حصہ یعنی سدس ملے گا۔ اور اگر مذکر اولاد میں سے کوئی نہ ہو، تو پھر اس صورت میں یعنی بیٹی وغیرہ، بیٹی پوتی ہے، لیکن کوئی مذکر اولاد نہیں، تو پھر باپ کو سدس بھی ملے گا اور عصبہ بھی بنے گا، یعنی ما بقیہ بھی لے جائے گا۔ تو یہ فرض و تعصیب ہے بھئی۔ اور تیسری صورت یہ کہ جب اولاد سرے سے ہو ہی نہ مرنے والے کی، نہ مذکر اولاد ہے اور نہ مؤنث اولاد ہے، بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، پڑپوتا پڑپوتی، ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر اسے وہ پھر باپ عصبہ بنے گا بھئی۔ اور دادا کے بھی وہی احوال ہیں جو باپ کے ہیں۔ اس کے بعد اخیافی بھئی بہن بھئی۔ اخیافی بھئی بہنوں کے تین احوال تھے۔ اگر وہ ایک ہو تو پھر سدس ملے گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ثلث ملے گا۔ لیکن ان میں مذکر اور مؤنث کے اندر تقسیم برابری کے ساتھ ہو گی۔ باقی جگہ تو بھئی بہن وغیرہ آئے تو بھئی کو بہن سے دگنا ملتا ہے، للذكر مثل حظ الأنثيين، لیکن یہاں پر بھئی بہنوں کو برابر ملے گا بھئی۔ اور اگر میت کے اصول و فروع میں سے کوئی ہو تو پھر ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی یا پڑپوتا پڑپوتی، ان میں سے کوئی ہو یا پھر باپ اور دادا وغیرہ ہوں، تو پھر اس صورت میں ان کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ خاوند کی دو حالتیں پڑھیں آپ نے۔ اگر مرنے والے کی کوئی اولاد جو بیوی ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، تو پھر اس صورت میں خاوند کو کتنا ملے گا؟ نصف۔ اور اگر اولاد میں سے کوئی ہے، تو پھر خاوند کو ربع ملے گا۔ جی اچھی طرح یہ صورتیں ذہن نشین کر لیں۔ اب آگے آہستہ آہستہ بڑے مشکل مسائل آئیں گے۔ یہ ساری باتیں ذہن میں حاضر ہوں گی، تو پھر ہی آپ ان کو حل کر سکیں گے بھئی۔ اور تھوڑی سی مشق سے ہی یہ انشاء اللہ آسان ہے، کوئی مشکل نہیں ہے۔ آپ کر چکے ہیں سارا کچھ، بس تھوڑی سی جب مشق ہو جائے، پھر جتنا بھی پیچیدہ مسئلہ آپ کے سامنے آئے، انشاء اللہ بڑے آرام سے اس کو حل کر سکیں گے۔ یہاں تو ہم صرف وہ وہ صورتیں کرتے ہیں نا، آپ کو وارث بتا دیتے ہیں، یہ یہ وارث ہیں، یہ کیسے تقسیم کرنا ہے مال کو۔ جب لوگ مسائل پوچھنے آئیں گے، وہ تو سارے ذکر کریں گے۔ آپ نے نکالنا ہو گا کون محروم ہو رہا ہے، کس کا حصہ بننا ہے اور پھر کتنا بننا ہے۔ تو وہ ساری یہ چیزیں تفصیلات آپ کے ذہن میں ہوں۔ جی بیوی کی کتنی حالتیں ہیں؟ دو حالتیں ہیں۔ اگر ایک ہو یا ایک ہو یا زیادہ ہوں، خاوند کا انتقال ہوا، چاہے ایک بیوی ہے یا زیادہ، ان کو ربع ملے گا جبکہ اولاد نہ ہو۔ یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی وغیرہ نہ ہو۔ اور اگر اولاد ہو، تو پھر اس صورت میں ثمن، آٹھواں حصہ ملے گا۔ اس کے بعد بیٹیوں کے کتنے احوال تھے؟ تین احوال تھے۔ ایک ہو تو نصف ملے گا۔ یعنی صرف بیٹی ہے۔ اور اگر دو یا زیادہ ہیں تو ثلثان ملے گا جی۔ بیٹیوں کو مؤنث کو ثلثان، زیادہ سے زیادہ ثلثان دیا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ بعد میں رد کی صورت ہو جائے تو وہ الگ بات ہے، لیکن ایک وقت میں کیا ہو گا زیادہ سے زیادہ؟ مؤنث کے لیے ثلثان ہے بھئی۔ اور اگر بیٹا بھی ساتھ ہو، تو پھر اس صورت میں عصبہ بن جائے گی۔ اور پھر بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ دیا جائے گا جی۔ یعنی بیٹے کو اس سے دگنا ملے گا۔ اور پوتیاں، ان کے کتنے احوال ہیں؟ چھ احوال ہیں۔ ایک ہوں تو نصف بھئی۔ دو یا زیادہ ہوں تو ثلثان۔ اور اگر ایک بیٹی بھی ہے ساتھ، تو پھر ان کو سدس ملے گا تاکہ اس سے مل کر ثلثان پورا ہو جائے۔ اور اگر دو یا زیادہ بیٹیاں ہوئیں تو پھر ثلثان تو ان کو مل گیا، ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر بیٹا ہوا، تب بھی یہ محروم ہوں گی۔ اور اگر ان کے ساتھ کیا آ گیا؟ پوتا آ گیا، تو پھر وہ ان کو کیا بنا دے گا؟ عصبہ بنا دے گا بھئی، عصبہ بنا دے گا۔ یہ وہ صورت ہے جب بیٹا نہ ہو۔ لہٰذا یہ مسئلہ لوگ پوچھتے ہیں بھئی۔ کہ مثلاً ایک شخص کے تین بیٹے تھے۔ تینوں کی فرض کریں شادی بھی کر دی، ان کی بھی اولاد بھی ہو گئی۔ پھر ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ اور ان تینوں بیٹوں کا جو والد ہے، وہ ابھی زندہ ہے، اس کی زندگی میں ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ تو اب بعد میں جا کر اس کا انتقال ہوتا ہے، تو یاد رکھیے اس کے جو دو بیٹے ہیں، وہ تو وارث بنیں گے۔ جو تیسرے بیٹے کی اولاد ہے، بھئی تیسرا بیٹا تو پہلے ہی مر چکا ہے، لہٰذا وہ وارث نہیں، اور اس کی اولاد جو ہے نیچے، اس کو بھی کچھ نہیں ملے گا۔ کیوں نہیں ملے گا؟ کیونکہ جب قریب والے موجود ہیں، تو دور والوں کو کچھ نہیں ملتا۔ تو پھر لوگ کہتے ہیں بھئی کہ یہ بھئی وہ بیچارے، وہ کیا کریں گے بھئی؟ پوتے وغیرہ، پوتیاں ہیں، اس کے تو بھئی یہ فکر تو ان کے دادا کو کرنی چاہیے تھی۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ تو اس کو اپنی زندگی میں ہی کچھ ان کے نام کر دینا چاہیے۔ یہ ہے۔ کر دینا۔ اور اگر اس نے بھی نہیں کیا، تو پھر اس کے دو بھائیوں کو خیال کرنا چاہیے بھئی۔ کیا کرنا چاہیے؟ دونوں بھئی جو زندہ ہیں، ان کو خیال کرنا چاہیے اور ان کا حصہ ان کو کچھ معلوم ان کی ضرورت کے مطابق دے دینا چاہیے بھئی۔ آگے کس کے احوال بھئی؟ حقیقی بہن بھئی۔ جی، اور حقیقی بہن بھئی۔ ان کے کتنے احوال ہیں؟ پانچ احوال ہیں۔ ایک ہو تو اسے نصف، دو ہوں تو ثلثان، اور اگر ان کے ساتھ ان کا بھئی بھی ہو تو اس کے ساتھ عصبہ بن جائیں گی، اور اگر بھئی تو نہیں، لیکن میت کی کوئی بیٹی وغیرہ ہے، تو پھر اس کے ساتھ مل کر کیا بن جائیں گی؟ عصبہ بن جائیں گی۔ اور اگر میت کے اصول و فروع میں سے کوئی مذکر موجود ہوں، تو پھر یہ محروم ہوں گی بھئی۔ باپ یا دادا ہو، بیٹا، پوتا وغیرہ، کوئی بھی ان میں سے پایا گیا، تو پھر بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ اچھا، ماں کے کتنے احوال تھے؟ ماں کے تین احوال تھے بھئی۔ اگر اولاد یا بیٹے یا پوتے کی اولاد ہو، تو پھر ماں کو کتنا حصہ ملے گا؟ ثلث سدس ملے گا۔ اور اگر دو بھئی بہن کسی بھی جہت سے ہوں تو بھی سدس ملے گا۔ اور اگر یہ نہ ہوں پھر؟ ثلث کل ملے گا، بشرطیکہ احد الزوجین باپ کے ساتھ نہ ہوں، ورنہ پھر کیا ملے گا؟ ثلث ما بقیہ۔ اور ثلث ما بقیہ ایک صورت میں تو ربع بنتا ہے اور ایک صورت میں دراصل سدس بنتا ہے، چھٹا حصہ بنتا ہے، جسے ہم ثلث ما بقیہ کہتے ہیں۔ اور جدہ بھئی، جدہ کو کتنا حصہ دیتے ہیں؟ سدس دیتے ہیں بھئی، سدس۔ جی، باقی تفصیل گزر چکی۔ پھر اس کے بعد اللاتی بہنیں رہ گئیں؟ جی، اللاتی بہنیں، ان کے کتنے احوال ہیں؟ سات احوال ہیں۔ ایک ہو تو نصف، دو ہوں یا زیادہ تو ثلثان، اور اگر ایک حقیقی بہن ہو ساتھ تو سدس، اور اگر دو حقیقی بہنیں ہوں تو محجوب ہوں گی، ان کو مل جائے گا حصہ، اور اگر ان کے ساتھ کوئی بھئی ہوا تو عصبہ بنا لے گا، اور اگر میت کی بیٹیاں ہوئیں تو پھر عصبہ، اور اگر اسی طرح میت کے مذکر اصول و فروع جو ہیں، ان میں سے کوئی ہوا تو پھر اس صورت میں یہ محروم ہوں گی بھئی۔ اس کے بعد آپ نے یہ پڑھا تھا کہ حصے کیسے نکال، کہ مسئلہ کیسے بنایا جائے گا بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ حصے دو قسم پر ہیں بھئی۔ ایک ہے نصف، ربع اور ثمن۔ دوسری قسم کیا ہے؟ ثلثان، ثلث اور سدس۔ تو یہ دو انواع ہو گئیں۔ اور یہ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر ایک ہی قسم کا حصہ آئے تو پھر اسی کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنا دیں۔ مثلاً نصف، نصف کا البتہ ہم نام کوئی نہیں، تو اس میں مسئلہ دو سے بنائیں۔ اور باقی ربع کا ہم نام کیا ہے؟ اربعة، تو وہاں اربعة سے مسئلہ بنے گا۔ ثمن کا ہم نام کیا ہے؟ ثمانية، تو وہاں آٹھ سے مسئلہ بنے گا۔ اسی طرح ثلث، ثلثان میں تین سے، اور سدس کی صورت میں چھ سے۔ اور اگر دونوں ایک ہی نوع کے کئی حصے اکٹھے ہو جائیں، نصف اور ربع اکٹھے ہوئے، تو جو چھوٹا حصہ ہے اس کے ہم نام عدد سے مسئلہ بنے گا۔ تو نصف اور ربع میں سے چھوٹا کیا ہے؟ ربع، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ چار سے۔ ربع، نصف، ثمن، تینوں اکٹھے آ گئے، تو مسئلہ سب سے چھوٹا حصہ کون سا؟ ثمن ہے، آٹھواں حصہ، تو اس سے ثمانية سے مسئلہ بن جائے گا۔ اور اگر ثلث، ثلثان اور سدس اکٹھے ہوئے، ان میں سب سے چھوٹا کیا ہے؟ سدس، اور اس کا ہم نام عدد کیا ہے؟ چھ، تو اس سے عدد مسئلہ بن جائے گا۔ اور اگر نوع اول کا نصف ہوا، نوع ثانی کے کسی کے ساتھ بھی مل جائے، ثلث، ثلثان یا سدس، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ چھ سے بنے گا۔ اور اگر نوع اول کا ربع آیا، نوع ثانی میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ آ جائے، ثلث، ثلثان اور سدس میں سے، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ بارہ سے۔ اور اگر نوع اول کا ثمن آیا، وہ نوع ثانی کے کسی کے ساتھ بھی آ جائے، ثلث، ثلثان یا سدس کے ساتھ، تو مسئلہ کتنے سے بنے گا؟ چوبیس سے۔ اور اگر نوع اول کے سارے آ گئے نوع ثانی کے کسی کے ساتھ، پھر کس سے مسئلہ بنائیں گے؟ ہاں، نوع اول کے سب سے چھوٹے کا اعتبار کرنا ہے، گویا کہ ثمن آیا ہے، اور ثمن نوع ثانی کے جس کے ساتھ بھی آئے، مسئلہ کس سے بنتا تھا؟ چوبیس سے، تو مسئلہ یہاں بھی چوبیس سے بنے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو نوع اول، نصف، یعنی نصف کی صورت میں مسئلہ کس سے بنتا تھا؟ دو سے۔ تو نصف نوع ثانی کے جس کے ساتھ بھی آ جائے، یعنی نوع ثانی کیا کیا ہیں؟ ثلث، ثلثان اور سدس، تو مسئلہ کس سے بنے گا؟ چھ سے۔ یہ چھ وہی ذو اضعاف اقل ہے جو آپ ابھی پڑھ چکے ہیں بھئی۔ دو، نصف کی صورت میں مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ دو سے۔ دوسری طرف دو کے ساتھ ثلث آ جائے، تین۔ دو اور تین کا ذو اضعاف اقل نکالنا وہی چھ نکلے گا۔ ثلثان وہی ثلث سے مسئلہ بنتا ہے، ثلثان میں بھی۔ تو لہٰذا وہی دو اور تین کا ذو اضعاف اقل چھ۔ اگر سدس آ جاتا ہے دو کے ساتھ، تو دو اور چھ کا ذو اضعاف اقل نکالیں گے، وہ بھی چھ ہی نکلے گا بھئی۔ چار آئے، نوع اول میں سے ربع یعنی چار آ گیا۔ ربع کی صورت میں اربعة سے بنتا ہے نہ مسئلہ۔ تو چار گویا کس کے ساتھ آ گیا؟ نوع ثانی کے ثلث کے ساتھ آ گیا۔ چار اور تین کا ذو اضعاف اقل نکالیں، وہی بارہ آئے گا، بارہ سے مسئلہ بنے گا۔ سدس کے ساتھ آ جائے، تو چار اور چھ، ان کا ذو اضعاف اقل کتنا ہے؟ وہی بارہ نکلے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کے بعد اعداد کے درمیان نسبتوں کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا بھئی، اعداد کے درمیان نسبتیں۔ کہ چار نسبتوں میں سے ایک ضرور ہوگی: تماثل، تداخل، توافق اور تباین۔ تماثل تو یہ ہے کہ دونوں عدد بالکل ایک دوسرے جیسے ہوں؛ ایک بھی چار، ایک چار ہے تو دوسرا بھی چار، ایک آٹھ ہے تو دوسرا بھی آٹھ۔ ایک ہے تداخل، کہ ایک چھوٹا جز جو ہے وہ بڑے کو پورا پورا تقسیم کر دیتا ہے، تو یہ تداخل کی نسبت ہے۔ اور ایک ہے توافق کی نسبت، کہ چھوٹے عدد سے بڑا تقسیم تو نہیں ہوتا، لیکن کوئی تیسرا عدد ایسا ہے جو ان دونوں کو پورا پورا تقسیم کر دیتا ہے، تو یہ توافق ہے۔ اور اس کا انہوں نے بڑا آسان طریقہ بتایا تھا کہ بڑے عدد میں سے چھوٹے کو منفی کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ وہ بڑا عدد اس سے چھوٹا رہ جائے۔ پھر اب اس جو چھوٹا بن گیا، اس کو اب اس بڑے میں سے نکالنا شروع کریں، یہاں تک کہ دونوں طرف ایک جیسے عدد آ جائیں۔ تو جب ایک جیسے عدد جہاں آ جائیں گے، یہ ان کا وفق ہے بھئی، وفق ہے۔ یعنی وہ اس عدد کے لیے دونوں برابر تقسیم ہوتے ہیں۔ اور تباین یہ ہے کہ جہاں کوئی تیسرا عدد بھی دونوں کو تقسیم نہ کرے بھئی، تو پھر ان میں تباین ہے بھئی، تباین۔ چلیے، میرا خیال، کل پھر باقاعدہ شروع کر لیں گے بھئی۔ جی، چلیے، بس هذا ہو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔