ثم بعد ذلك نقول: القياس على نوعين، أحدهما: أن يكون الحكم المعدى من نوع الحكم الثابت في الأصل، والثاني: أن يكون من جنسه. مثال الاتحاد في النوع ما قلنا: إن الصغر علة لولاية الإنكاح في حق الغلام، فيثبت ولاية الإنكاح في حق الجارية لوجود العلة فيها، وبه يثبت الحكم في الثيب الصغيرة. مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ قياس کا رکن جو علت ہے، اس کا پتہ کبھی کتاب اللہ سے چلے گا، کبھی سنت رسول صلى الله عليه وسلم سے چلے گا، کبھی اس کا پتہ اجماع سے چلے گا، اور کبھی اجتہاد سے۔ سب تین تین قسموں کی مثالیں تو گزر گئیں بھئی ان میں سے۔ وہ قياس جس کے علت کتاب اللہ سے پتہ چلی، اس کی مثالیں بھی گزریں، وہ قياس جس کے علت جو ہے سنت رسول صلى الله عليه وسلم سے پتہ چلی، اس کی مثالیں بھی گزر گئیں، اور وہ قياس جس کی علت کا پتہ کس سے چلا؟ اجماع سے، اس کی مثالیں بھی گزر گئیں۔ اب ذکر کرنا تھا اب کس چیز کا؟ وہ قياس جس کے علت کا پتہ اجتہاد سے چلے، لیکن اس سے پہلے درمیان میں مصنف ایک اور بحث کو ذکر کر رہے ہیں اہم ہونے کی وجہ سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چنانچہ فرماتے ہیں: ثم بعد ذلك، پھر اس کے بعد، نقول، پھر اس کے بعد ہم کہتے ہیں: القياس على نوعين، کہ قياس کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے بھئی۔ أحدهما، ان میں سے ایک یہ ہے کہ أن يكون الحكم المعدى من نوع الحكم الثابت في الأصل، کہ وہ حکم جو متعدی کیا گیا ہے من نوع الحكم، اسی حکم کی نوع میں سے ہو، الثابت في الأصل، جو کس میں ثابت ہے؟ اصل میں جو حکم ثابت ہے، فرع میں متعدی فرع کی طرف متعدی کیا جانے والا حکم بھی اسی کی نوع سے ہو بھئی، اسی کی نوع سے ہو۔ والثاني أن يكون من جنسه، اور دوسری قسم یہ کہ وہ حکم جو کس کی طرف متعدی کیا گیا ہے؟ فرع کی طرف، وہ اصل میں ثابت ہونے والے حکم کی جنس میں سے ہو۔ کیا ہو؟ اس کی جنس میں سے ہو۔ یاد رکھو مولانا، اصل اور فرع کے حکم میں اتحاد ضروری ہے۔ قياس کے اندر کیا ضروری ہے؟ اصل اور فرع کے حکم میں اتحاد ہو، لیکن یہ اتحاد کبھی حکم کی نوع کے اندر ہوگا، اور کبھی اتحاد حکم کی جنس کے اندر ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اصل اور فرع کے حکم میں کیا ہے؟ اتحاد ضروری ہے، اور یہ اتحاد کبھی کس میں ہوگا؟ حکم کی نوع میں ہوگا، اور کبھی یہ اتحاد کس میں ہوگا؟ حکم کی جنس میں ہوگا۔ حکم کی نوع میں اتحاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اصل اور فرع میں دونوں میں حکم بعینہِ ایک ہی ہو۔ اصل اور فرع میں حکم کیا ہو؟ بعینہِ ایک ہو، یعنی وہ حکم جو آپ نے متعدی کیا فرع کی طرف، وہ بعینہِ وہی حکم تھا جو کس کے اندر ثابت تھا؟ اصل کے اندر، کس کے اندر ثابت تھا؟ اصل کے اندر ثابت تھا، کوئی تبدیلی کی کسی لحاظ سے بھی فرق نہیں ہے مولانا۔ تو یہ ایک ہی نوع کا، وہی، اسی نوع کا حکم جو اصل میں ثابت تھا، اسی کو کس میں ثابت کر دیا؟ فرع میں ثابت کر دیا۔ ہاں، محل الگ الگ ہوں گے بھئی، محل کیا ہوں گے؟ الگ الگ ہوں گے، حکم بعینہِ وہی حکم ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو، مضاف اور مضاف الیہ، حکم کے اندر جو مضاف اور مضاف الیہ ہیں، دونوں ایک ہوں گے، دونوں کیا ہوں گے؟ ایک ہوں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ آگے مثالیں آ جائیں گی، بات خوب واضح ہو جائے گی۔ بس آپ اتنا یاد رکھو کہ اتحاد حکم کی نوع میں اتحاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم جو متعدی کیا ہے، بعینہِ وہی حکم ہے جو کس کے اندر تھا؟ اصل میں تھا، بعینہِ وہی حکم اسی کو متعدی کیا ہے۔ بس محل مختلف ہے، ایک میں محل کیا ہے؟ اصل، ایک میں محل کیا ہے؟ فرع ہے، محل الگ الگ ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ حکم کے اندر جو مضاف اور مضاف الیہ ہیں بھئی، وہ دونوں متحد ہیں، اصل کے اندر جو مضاف اور مضاف الیہ ہیں، وہی مضاف اور مضاف الیہ ہیں کس کے اندر؟ فرع میں بھی۔ جبکہ جنس کے اندر اتحاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم جس کو آپ نے فرع کی طرف متعدی کیا ہے، وہ بعینہِ وہی حکم نہیں ہے جو اصل کے اندر تھا۔ وہ حکم جس کو آپ نے کس کی طرف متعدی کیا؟ فرع کی طرف، بعینہِ وہی حکم نہیں ہے جو کس کے اندر تھا؟ اصل کے اندر تھا، اصل کے اندر تھا—ایک حکم ہے اصل میں، ایک حکم کس میں ثابت کیا آپ نے؟ فرع میں، یہ بعینہِ وہی حکم نہیں ہے، کچھ کیا آ گیا؟ فرق آ گیا، یعنی ایک وصف کے اعتبار سے اتحاد ہے، تو ایک وصف کے اعتبار سے اتحاد نہیں ہے۔ یا یوں کہو، مضاف کے اعتبار سے اتحاد ہوگا، مضاف الیہ کے اعتبار سے اتحاد نہیں ہوگا، بھئی اتحاد فی النوع کے اندر تو مضاف میں بھی اتحاد تھا، مضاف الیہ میں بھی، اور جبکہ جنس میں اتحاد ہونے کی صورت میں مضاف میں تو اتحاد ہوگا، مضاف الیہ میں اتحاد نہیں ہوگا، دیکھیے بھئی، مثالوں سے بات خوب واضح ہو جائے گی۔ مثال الاتحاد في النوع ما قلنا. اچھا، آگے ساری بحث سے پہلے ایک دو باتیں سمجھ لیجیے مولانا۔ ایک ہے ولایتِ مال، ایک ہے ولایتِ انکاح یا ولایتِ نفس بھئی، ولایتِ نفس بھئی۔ صغیر جو چھوٹا ہے، نا بالغ ہے، وہ نا سمجھ ہوتا ہے اگر اس کے پاس کوئی مال ہو مولانا، کسی نے اس کو ہبہ کر دیا یا کچھ کر دیا، وہ مال کا مالک ہے۔ اب وہ اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا، اس کو اجازت نہیں، کیوں نہیں اجازت؟ اس لیے کہ وہ نا سمجھ ہے، اپنے مال کو ضائع کرے گا، خراب کرے گا۔ تو چونکہ وہ چھوٹا ہے تو ولایت، یہ خرچ کرنے کی، اس کے نفع کے لیے، اس کی اجازت شریعت نے اس کے باپ کو دے دی۔ یہ کہلاتی ہے ولایتِ مال بھئی، کیا کہلاتی ہے؟ ولایتِ مال بھئی، صغیر ہے، چھوٹا ہے، نا سمجھ ہے، اسے سمجھ نہیں کہ کس طرح مال خرچ کرنا ہے، کس چیز میں اس کا نفع ہے، کس چیز میں اس کا نقصان، تو لہٰذا اب اس کی ولایت کس کے سپرد کر دی مال کی بھئی شریعت نے؟ باپ کے سپرد کر دی، یہ کیا کہلاتی ہے؟ ولایتِ مال کہلاتی ہے، لہٰذا باپ اس پر خرچ کرے گا، اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرے گا اس میں سے بھئی، اس کے کپڑوں کا بندوبست کرے گا، اس کی تعلیم کا انتظام اس میں سے کرے گا، اور اس کے نفع کے لیے اگر کوئی بیع و شراء کرنا چاہے تو وہ بھی کون کرے گا؟ باپ کرے گا بھئی، یہ کیا کہلاتا ہے؟ ولایتِ مال کہلاتا ہے۔ اسی طرح بھئی، ولایتِ نفس یا ولایتِ انکاح ہے، جیسے صغیر بھئی اپنے مال کے سلسلے میں نا سمجھ ہے، اسے کچھ سمجھ نہیں کس چیز میں اس کا نفع ہے، کس چیز میں اس کا—اسی طرح اپنے نفس کے سلسلے میں بھی وہ نا سمجھ ہے، تو لہٰذا جیسے مال کے اندر ولایت باپ کو حاصل تھی، اسی طرح اس کے نفس کے بارے میں بھی، اس کی ذات کے بارے میں بھی جو ولایت ہے وہ شریعت نے کس کو دے دی؟ باپ کو دے دی، لہٰذا اب باپ کہیں پر اس کا نفع دیکھے، بہتری دیکھے، تو وہاں پر اس کا نکاح کروا سکتا ہے۔ یہ کہلاتی ہے ولایتِ انکاح اور ولایتِ نفس بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جہاں باپ اگر کوئی مناسب جگہ ملتی ہے، صغیر کو تو سمجھ نہیں ہے، لہٰذا باپ کو شریعت نے ولایت دے دی، جیسے ولایتِ مال دی تھی، اسی طرح ولایتِ نفس یا ولایتِ انکاح بھی دے دی، اب باپ چاہے تو اس کا نکاح کروا سکتا ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ ولایتِ نفس اور ولایتِ انکاح بھئی، نکاح کروانے کا کی ولایت بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب دیکھیے سبق بھئی۔ مثال الاتحاد في النوع، نوع میں اتحاد کی مثال ما قلنا، ہمارا یہ قول ہے کہ إن الصغر علة لولاية الإنكاح في حق الغلام، جی، بھئی صغیر کے اندر صغر کی علت پائی گئی، اور اس علت کی بناء پر باپ کے لیے ولایتِ انکاح ثابت ہے، باپ کے لیے کیا ثابت ہے؟ ولایتِ انکاح ثابت ہے کہ جہاں چاہے اس کا نکاح کروا سکتا ہے، جہاں چاہے اس کا نکاح—کوئی اچھی جگہ، مناسب مل جاتی ہے اب یہ تو باپ کروا سکتا ہے بھئی۔ تو صغیر کے اندر مولانا، کون سی علت تھی؟ صغر والی، اس علت کی بناء پر ہم نے کیا حکم لگایا؟ ولایتِ انکاح کا، کس کے لیے؟ باپ کے لیے، کہ صغیر میں صغر کی علت پائی گئی اور اس صغر کی علت کی بناء پر باپ کے لیے کیا ثابت کر دی؟ ولایتِ انکاح، ولایتِ انکاح۔ یہی صغر والی علت ہمیں صغیرہ میں بھی ملی۔ صغیرہ بھئی، صغیرہ کے اندر بھی کیا علت پائی گئی؟ صغر والی، تو اس کے لیے بھی ہم نے کیا حکم ثابت کر دیا کہ باپ کے لیے کیا ثابت ہو گئی؟ ولایتِ انکاح، باپ جہاں چاہے اس کا نکاح کروا سکتا ہے۔ تو دیکھو، صغیر میں حکم کیا تھا؟ باپ کے لیے کیا ثابت کی تھی؟ ولایتِ انکاح، صغیرہ کے اندر بھی حکم کیا ثابت کیا؟ ولایتِ انکاح کا، جی، تو صغیرہ کیا ہوئی؟ مقیس، فرع، اس کو کس پہ قياس کیا؟ صغیر پر، صغیر میں کیا حکم تھا؟ ولایتِ انکاح تھی، کس کے لیے؟ باپ کے لیے، تو اور فرع کیا ہوئی؟ صغیرہ، اور اس کے اندر بھی کیا حکم ثابت کیا؟ ولایتِ انکاح کس کے لیے؟ باپ کے لیے، تو دیکھو، اب ان دونوں حکموں کی نوع ایک ہے، محل الگ الگ ہے۔ دونوں حکموں کی نوع کیا ہے؟ ایک ہے، صغیر میں بھی حکم کیا ہے؟ ولایتِ انکاح، صغیرہ میں بھی حکم کیا ہے؟ باپ کے لیے ولایتِ انکاح، تو ایک ہی نوع کے ہیں، ہاں محل الگ الگ ہے، ایک میں حکم کس میں ہے؟ صغیر میں، تو دوسرے میں صغیرہ میں ہے، اور دیکھیں مضاف مضاف الیہ دونوں متحد ہیں۔ ولایت الانکاح ہے کس کے لیے؟ باپ کے لیے، تو ولایت مضاف، الانکاح کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو مضاف اور مضاف الیہ دونوں میں متحد ہیں، صغیر میں بھی ولایت الانکاح، صغیرہ میں بھی ولایت الانکاح بھئی، مضاف دونوں میں کیا ہے؟ ولایت، مضاف الیہ دونوں میں کیا ہے؟ انکاح، تو مضاف میں بھی اتحاد آیا اور مضاف الیہ میں بھی۔ صورت سب کو سمجھ میں آئی بھئی؟ إن الصغر علة لولاية الإنكاح في حق الغلام، صغر جو ہے، چھوٹا ہونا، یہ علت ہے ولایتِ انکاح کی في حق الغلام، لڑکے کے حق میں جب کہ وہ بالغ نہ ہو۔ فيثبت ولاية الإنكاح في حق الجارية، تو ثابت ہوگی ولایتِ انکاح کس کے حق میں؟ لڑکی کے حق میں بھی، لوجود العلة فيها، اس میں علت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ وبه يثبت الحكم في الثيب الصغيرة، اور اسی کی اسی صغر کی وجہ سے حکم ثابت ہوگا ثیبہ صغیرہ میں بھی، کس میں؟ بھئی ثیبہ ایک صغیرہ ہے، وہ ثیبہ ہے مولانا، تو اس میں بھی صغر والا کی علت پائی گئی یا نہیں پائی گئی؟ صغر والی علت پائی گئی، لہٰذا اس میں بھی ولایتِ انکاح للاب کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی، باپ کے لیے ولایتِ انکاح ثابت، جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صغیرہ کے اندر ولایت کی علت جو ہے وہ صغر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ بکارت ہے، بلکہ کیا ہے؟ بکارت ہے، بکارت۔ لہٰذا صغیرہ میں بھی بکارت ہوئی تو پھر ولایت للاب ہوگی، اگر بکارت نہیں، ثیبہ ہے، تو پھر ولایت للاب بھی نہیں ہے۔ وكذلك قلنا الطواف علة سقوط نجاسة السؤر في سور الهرة، بھئی حدیث کے اندر بلی کے جھوٹے کے نجاست کو ساقط کر دیا گیا، حضور علیہ السلام نے بھئی کیا فرمایا کہ بلی کا جھوٹا نجس نہیں ہے، کس علت کی بناء پر؟ کثرتِ طواف کی بناء پر، کس بناء پر؟ تو کثرتِ طواف کی علت کی بناء پر بلی کے جھوٹے سے جھوٹے پر سے نجاست کے ساقط ہونے کا حکم لگایا گیا۔ یہی کثرتِ طواف والی علت ہمیں ملی گھروں میں رہنے والے دوسرے جانوروں میں، مثلاً سانپ ہے، چوہا وغیرہ ہے، ان میں بھی کثرتِ طواف والی علت ملی، تو ان کے جھوٹے کی نجاست بھی کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی اسی علت کی بناء پر، ان کا جھوٹا بھی نجس نہیں ہوگا مولانا کس وجہ سے؟ اسی کثرتِ طواف کی علت کی وجہ سے مولانا। تو دیکھو، اصل کیا تھا؟ بلی کا جھوٹا اصل، اور فرع کیا ہے؟ چوہے وغیرہ، اور دوسرے گھروں میں رہنے والی چیزوں کا جھوٹا بھئی، یہ فرع ہے، اور دونوں میں حکم ایک ہی ثابت کیا مولانا، وہاں پر بھی کیا ہے؟ بلی کے جھوٹے میں بھی کیا حکم لگایا؟ سقوطِ نجاست کا، کس چیز کا؟ سقوطِ نجاست کا، کہ نجاست ساقط ہوئی، اور بعینہِ یہی حکم سقوطِ نجاست والا کس کے اندر لگایا؟ دوسرے جانوروں میں بھی لگایا، تو دیکھا، بعینہِ وہی حکم ہے، ہاں البتہ محل الگ ہیں، ایک میں محل بلی ہے، تو دوسرے میں سوکنِ بیوت ہیں، گھروں میں رہنے والی اور چیزیں ہیں بھئی، اور جانور۔ اور دیکھیے، بلی کے اندر کیا حکم لگایا اس کے جھوٹے میں؟ سقوطِ نجاست، اور دوسرے جانوروں کے جھوٹے میں بھی کیا حکم لگایا؟ سقوطِ نجاست، تو دیکھو مضاف اور مضاف الیہ دونوں متحد ہیں، دونوں میں مضاف کیا ہے؟ سقوط، اور دونوں میں مضاف الیہ کیا ہے؟ نجاست، تو سقوطِ نجاست۔ وكذلك قلنا، اور اسی طرح ہم کہتے ہیں: الطواف علة سقوط نجاسة السؤر، کہ طواف جو ہے علت ہے سور کی نجاست کے ساقط ہونے کا، جھوٹے کی نجاست کے ساقط ہونے کا، في سور الهرة، بلی کے جھوٹے میں، فيتعدى الحكم إلى سور سواكن البيوت، پس متعدی ہوا حکم سواکنِ بیوت کے جھوٹے کی طرف بھی، لوجود العلة، علت کے پائے جانے کی وجہ سے، وبلوغ الغلام، اس کا عطف کس پر ہے بھئی؟ ما قبل میں ما قبل صفحے پر گزرا تھا إن الصغر، صغر پر اس کا عطف ہے، یہ منصوب ہے۔ اور اسی طرح مولانا، غلام کا بالغ ہونا عن عقل، عقل کے ساتھ۔ بلوغ الغلام عن عقل، غلام لڑکے کا کیا ہونا؟ عقل کے ساتھ بالغ ہونا "علة زوال ولاية النكاح"، یہ علت ہے ولایتِ نکاح کے زائل ہونے کی، جب بھی کوئی صغیر وہ بالغ ہوگا عقل کے ساتھ تو باپ کی اس سے ولایتِ نکاح کیا ہو جائے گی؟ زائل ہو جائے گی، اب اسے ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہے۔ تو جب بھی کوئی لڑکا کیا ہوگا؟ عقل کے ساتھ بالغ ہوگا، تو باپ سے ولایتِ نکاح کیا ہو جائے گی؟ زائل ہو جائے گی، اب باپ خود اپنی مرضی سے جبراً اس کا نکاح کہیں پر نہیں کروا سکتا۔ تو دیکھا، غلام کے لیے ہم نے زوالِ ولایتِ نکاح کا حکم ثابت کیا کس علت کی بناء پر؟ بلوغ عن عقل کی بناء پر۔ یعنی بلوغ مع العقل کی بناء پر ولایتِ نکاح زائل ہوئی اور یہی، اسی علت کی بناء پر لڑکی سے بھی ولایتِ نکاح زائل ہو جائے گی باپ کے لیے، باپ جب لڑکی بھی کیا ہوگی؟ بالغہ ہوگی عقل سے تو اس پر کیا حکم لگائیں گے کہ باپ اب اس کا نکاح اپنی مرضی سے نہیں کروا سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو صغیر میں کیا حکم لگایا گیا جو عقل کے ساتھ بالغ ہوا، تو اس پر کیا حکم لگایا؟ زوالِ ولایتِ نکاح، زوالِ ولایتِ نکاح۔ اور صغیرہ میں بھی کیا حکم لگایا گیا؟ زوالِ ولایتِ نکاح۔ تو دیکھو دونوں کے مضاف اور مضاف الیہ آپس میں کیا ہیں؟ متحد، دونوں میں حکم بعینہِ وہی ہے، البتہ محل مختلف ہے، ایک میں غلام ہے تو دوسرے میں جاریہ ہے۔ "وبلوغ الغلام عن عقل علة زوال ولاية النكاح فيزول الولاية عن الجارية بحكم هذه العلة"، تو ولایت زائل ہو جائے گی لڑکی سے بھی بحكم هذه العلة، اسی علت کے حکم سے۔ جی، یہ تو ساری تھیں جس میں مولانا آپ دیکھ رہے ہیں بعینہِ وہی حکم متعدی ہو رہا ہے فرع کی طرف تو یعنی نوع کے اندر ہی اتحاد ہے حکم کی۔ اب دوسرے کہ جس میں جنس میں اتحاد ہو۔ "ومثال الاتحاد في الجنس"، اور جنس میں اتحاد کی مثال، "ما يقال"، وہ جو کہا جاتا ہے، "كثرة الطواف علة سقوط حرج الاستئذان في حق"، جی۔ بھئی، غلاموں اور باندیوں سے اجازت طلب کرنے کے حرج کو ساقط کیا گیا بھئی کہ ان کے بار بار اجازت لینے سے کیا لازم آئے گا؟ حرج لازم آئے گا، ان سے حرج کو ساقط کیا گیا کس علت کی بناء پر؟ کثرتِ طواف کی بناء پر کہ انہیں کثرت سے آنا جانا پڑتا ہے تو اگر وہ بار بار اجازت مانگیں گے تو اس سے کیا لازم آئے گا؟ حرج لازم آئے گا۔ تو اس حرجِ استئذان کو ساقط کیا گیا کس کے اندر؟ غلاموں اور باندیوں میں۔ بھئی استئذان، اجازت طلب کرنا، حرجِ استئذان کو کیا کیا گیا؟ ساقط کیا گیا، کس سے؟ غلاموں اور باندیوں سے، کس علت کی بناء پر؟ کثرتِ طواف کی بناء پر۔ تو کثرتِ طواف کی علت جہاں بھی پائی جائے گی وہاں پر حرج کے ساقط کرنے کا حکم لگایا جائے گا۔ تو یہی علت ہمیں ملی کس کے اندر بھئی؟ جی، بلی کے اندر بھی یہی علت پائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی کیا حکم لگایا؟ جی؟ سقوطِ حرج کا حکم لگایا بھئی، کس چیز کا؟ یعنی اس کے جھوٹے کو نجس قرار دینے سے جو حرج لازم آتا تھا اس حرج کو کیا فرما دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ ساقط فرمایا، ساقط فرمایا۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں میں علت کیا ہے؟ غلاموں اور باندیوں میں بھی علت کیا تھی؟ کثرتِ طواف۔ اور بلی کے اندر بھی علت کیا ہے؟ کثرتِ طواف۔ تو لہذا جب اس میں علت پائی گئی تو وہی حکم متعدی ہوا اس کے اندر بھی لیکن دونوں حکموں کی نوع ایک نہیں ہے، دونوں کی نوع الگ الگ ہیں، جنس کے اعتبار سے اتحاد ہے لیکن نوع کے اعتبار سے دونوں کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں۔ اس لیے کہ غلاموں کے اندر حرجِ استئذان کو ساقط کیا گیا ہے، کس چیز کو؟ اجازت طلب کرنے کے حرج کو کیا کیا گیا ہے؟ ساقط کیا گیا ہے، اور جبکہ بلی کے اندر حرجِ نجاست کو ساقط کیا گیا ہے، کس چیز کو؟ تو اسی کثرتِ طواف کی بناء پر غلاموں اور باندیوں سے کس چیز کو ساقط کیا گیا ہے؟ حرجِ استئذان کو ساقط کر دیا، اور یہی کثرتِ طواف والی علت بلی کے اندر بھی پائی گئی تو وہاں پر حرجِ نجاست کو کیا کر دیا گیا؟ ساقط کر دیا گیا۔ تو یہاں دونوں حکم جنس کے اعتبار سے تو ایک ہیں لیکن نوع کے اعتبار سے کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں اس لیے کہ ایک میں حرجِ استئذان ساقط ہو رہا ہے اور دوسرے کے اندر حرجِ نجاست ساقط ہو رہا ہے، تو دیکھو مضاف متحد ہے اور مضاف الیہ متحد نہیں، ایک میں ہے حرجِ استئذان، مضاف ہے حرج، مضاف الیہ کیا ہے؟ استئذان۔ دوسرے میں ہے حرج النجاسة، حرج ہے مضاف، النجاسة کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو حرج مضاف کے اندر تو دونوں میں اتحاد ہے، مضاف الیہ ایک میں استئذان ہے اور دوسرے میں نجاست ہے تو مضاف الیہ میں مختلف ہوئے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "ومثال الاتحاد في الجنس ما يقال كثرة الطواف علة سقوط حرج الاستئذان في حق ما ملكت أيماننا"، کن کے حق میں؟ جن کے ہمارے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی غلام اور باندیاں، ہمارے غلام اور باندیوں کے حق میں۔ "فيسقط حرج نجاسة السؤر بهذه العلة"، پس ساقط ہوا بلی کے جھوٹے کی نجاست کا حرج اسی علت کی وجہ سے۔ "فإن هذا الحرج من جنس ذلك الحرج لا من نوعه"، اس لیے کہ یہ حرج جو ہے اس حرج کی جنس میں سے تو ہے، اس کی نوع میں سے نہیں ہے۔ "وكذلك الصغر علة ولاية التصرف للأب في المال فيثبت ولاية التصرف في النفس بحكم هذه العلة"، اسی طرح کہتے ہیں، "الصغر علة ولاية التصرف للأب في المال"، صغر علت ہے مال میں باپ کے لیے ولایتِ تصرف کی۔ صغر علت ہے کس چیز کی بھئی؟ مال میں باپ کے لیے ولایتِ تصرف، صغر صغیر چونکہ اپنے مال میں خود تصرف کرنے سے عاجز ہے تو شریعت نے اس کے لیے کیا ثابت کر دیا؟ اپنے مال میں جب خود تصرف نہیں کر سکتا تو اس کے مال میں باپ کے لیے تصرف کی ولایت ثابت کر دی کہ اس کا باپ کیا کر سکتا ہے اس کے مال میں تصرف کر سکتا ہے، اسے یہ ولایت حاصل ہے بھئی۔ تو صغر علت ہوئی کس چیز کی؟ ولایتِ تصرف فی المال کی باپ کے لیے، صغر علت ہوئی کس چیز کی؟ ولایتِ تصرف فی المال کی باپ کے لیے، یعنی باپ کے لیے ولایتِ تصرف فی المال ثابت ہو جائے گا کس علت کی بناء پر؟ صغر کی علت کی بناء پر۔ اور اسی علت کی بناء پر ہم نے باپ کے لیے ولایتِ تصرف فی النفس بھی ثابت کر دی۔ اسی علت کی بناء پر صغر ہی کی وجہ سے مولانا ہم نے باپ کے لیے ولایتِ تصرف فی النفس بھی ثابت کر دی کہ صغیر چونکہ اپنے نفس میں خود تصرف کرنے سے عاجز ہے اس لیے اب یہ نفس کے اندر تصرف کی ولایت کس کے لیے ثابت ہو گئی؟ باپ کے لیے ثابت ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اسی علت کی بناء پر مال میں بھی ولایتِ تصرف باپ کے لیے ہے اور اسی صغر کی بناء پر نفس میں بھی ولایتِ تصرف کس کے لیے ہے؟ باپ کے لیے ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دونوں حکموں میں دیکھیے ایک میں ہے ولایتِ تصرف فی المال اور دوسرے میں کیا ہے، دوسرا حکم کیا ہے؟ ولایتِ تصرف فی النفس بھئی، ولایتِ تصرف فی النفس۔ تو ان دونوں حکموں کے اندر مضاف تو متحد ہے، مضاف الیہ متحد نہیں، اس لیے کہ دونوں میں مضاف ہے ولایت، ایک طرف ہے ولایتِ تصرف فی المال، دوسری طرف کیا ہے؟ ولایتِ تصرف فی النفس۔ تو مضاف دونوں طرف ہوا ولایت، اور مضاف الیہ مختلف ہے کہ ایک میں مضاف الیہ ہے تصرف فی المال اور دوسرے میں مضاف الیہ کیا ہے؟ تصرف فی النفس بھئی، تو یہ حکم اس حکم کی جنس میں سے تو ہے اس کی نوع میں سے نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں "وكذلك الصغر علة ولاية التصرف للأب في المال"، صغر جو ہے وہ علت ہے باپ کے لیے مال میں ولایتِ تصرف کی کہ باپ کے لیے مال میں کیا ہوگا؟ ولایتِ تصرف ہوگی۔ "فيثبت ولاية التصرف في النفس بحكم هذه العلة"، تو پس ثابت ہوگی ولایتِ تصرف فی النفس بھئی، ولایتِ تصرف فی النفس بحكم هذه العلة، اسی علت کے حکم سے۔ "وإن بلوغ الجارية عن عقل علة زوال ولاية الأب في المال فيزول ولايته في حق النفس بهذه العلة"، بھئی باندی جو ہے، جب وہ بالغہ ہو جائے عقل کے ساتھ، تو بلوغ عن عقل باندی کے اندر یہ علت ہے کس چیز کی؟ زوالِ ولایتِ أب فی المال کی بھئی، کس چیز کی؟ زوالِ ولایتِ أب فی المال کی، یعنی ولایتِ مال زائل ہو جائے گی باپ سے، ولایتِ مال کیا ہو جائے گی باپ سے؟ زائل ہو جائے گی۔ اور اسی علت کی بناء پر ولایتِ نفس بھی زائل ہو جائے گی باپ سے، اس کو اس کے نفس پر بھی اب ولایت حاصل نہیں ہے۔ تو یہ اب ایک میں ہے، کیا ہے؟ زوالِ ولایتِ مال، اور دوسرے میں کیا ہے؟ زوالِ ولایتِ نفس، بس۔ تو علت کیا تھی؟ عقل کے ساتھ بالغ ہونا، عقل کے ساتھ بالغ ہونا، اور پہلا حکم کیا تھا؟ زوالِ ولایتِ مال، اور دوسرا حکم کیا ہے؟ زوالِ ولایتِ نفس، تو یہ زوالِ ولایتِ نفس جو ہے یہ زوالِ ولایتِ مال اس کی جنس میں سے تو ہے، اس کی نوع میں سے نہیں ہے، کیونکہ مضاف تو ایک ہیں مضاف الیہ الگ ہیں۔ جی، "وإن بلوغ الجارية"، اور اسی طرح باندی، لڑکی کا بالغ ہونا "عن عقل"، عقل کے ساتھ، "علة زوال ولاية الأب في المال"، یہ علت ہے باپ کی ولایت کے زائل ہونے کی "في المال"، مال میں، "فيزول ولايته في حق النفس بهذه العلة"، پس اس باپ کی ولایت زائل ہو جائے گی اس کے نفس کے حق میں بھی "بهذه العلة"، اسی علت کے سبب سے، یعنی اب وہ اس، جب وہ بالغ ہو گئی عقل کے ساتھ تو اب باپ اپنی مرضی سے جبراً کہیں اس کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ "ثم لا بد في هذا النوع من القياس من تجنيس العلة"، پھر ضروری ہے قیاس کے اس نوع کے لیے "من تجنيس العلة"، تجنیسِ علت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ جو نوع ہے جس کے اندر اتحاد جنس کے اندر ہوتا ہے، کس کے اندر ہوتا ہے اتحاد؟ جنسِ حکم میں تو اتحاد ہوتا ہے اور نوعِ حکم میں اختلاف ہوتا ہے، اس قیاس کے اندر تجنیسِ علت کا ہونا ضروری ہے، تجنیسِ علت کا ہونا ضروری۔ بائ، تجنیس کا لغوی معنی ہے ہم جنس بنانا، ہم شکل بنانا بھئی۔ تجنیس کا لغوی معنی کیا ہے؟ ہم جنس بنانا اور ہم شکل بنانا۔ اور اصطلاح میں یہ کہتے ہیں کہ علت ایسا عام معنی ہو جو اصل کے ساتھ ساتھ فرع میں بھی پایا جائے۔ یعنی علت ایسا عام معنی ہو، ایسا عام وصف ہو جو اصل کے ساتھ ساتھ کس میں پایا جائے؟ فرع میں بھی پایا جائے بھئی، فرع میں اگر وہ علت پائی جائے گی تو ہم حکم لگائیں گے اور اگر علت ہی نہیں پائی جا رہی فرع کے اندر تو ہم وہ حکم اس پر لگا سکتے ہیں؟ ہم اس پر حکم ہی نہیں لگا سکتے، تو لہذا قیاس کی یہ جو نوع ہے جس میں حکم میں اتحاد جنس میں ہوتا ہے نوع کے اندر نہیں، یہاں پر تجنیسِ علت ضروری ہے بھئی، اور تجنیسِ علت کا میں نے کیا معنیٰ کیا؟ کہ علت ایسی عام ہو کہ افراد کے ساتھ، اصل کے ساتھ ساتھ کس میں پائی جائے؟ فرع میں بھی پائی جائے، دونوں کو شامل ہو اس لیے کہ وہی حکم آپ نے کس میں لگانا ہے؟ فرع میں، ہاں تو اس میں اگر وہ علت ہوگی تو حکم لگائیں گے، اگر علت ہی نہیں ہے تو حکم بھی نہیں، لہذا تو یہاں تجنیسِ علت ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں "ثم لا بد في هذا النوع من القياس"، پھر قیاس کی اس نوع کے اندر ضروری ہے "من تجنيس العلة"، تجنیسِ علت کا ہونا، "بأن تقول"، بایں طور کہ آپ یہ کہیں "إنما يثبت ولاية الأب في مال الصغيرة"، کہ آپ یوں کہیں کہ ثابت ہے باپ کے لیے ولایت، "في مال الصغيرة"، کس کے میں؟ صغیرہ کے مال میں۔ تو صغیرہ کے مال میں باپ کے لیے ولایت حاصل، باپ کو ولایت حاصل ہے "لأنها عاجزة عن التصرف بنفسها"، اس لیے کہ وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے۔ اس لیے کہ وہ عاجز ہے تصرف سے بنفسہا، خود بھئی۔ اس لیے کہ وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے، جب وہ خود تصرف تو مال میں خود تصرف نہیں کر سکتی اور حالانکہ اس کی ضرورتیں ہیں بھئی، اس کو کھانے کے، کھانا بھی چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کپڑے بھی چاہیے، جوتے بھی چاہیے اور چیزیں بھی ضرورتیں ہیں، سب اس کی ہیں اور یہ خود اپنے مال کے اندر تصرف کرنے سے عاجز ہے، اگر یہ خود تصرف کرے پھر تو یہ اپنے مال کو ضائع کر دے گی لہذا اسے خود یہ اپنے مال میں تصرف کرنے سے عاجز ہے، تو جب یہ خود مال میں تصرف کرنے سے عاجز ہے تو شریعت نے ولایتِ مال کس کے لیے ثابت کر دی؟ باپ کے لیے ثابت کر دی تاکہ وہ اس کے لیے ان ضروری چیزوں کا کیا کر سکے؟ انتظام کر سکے۔ جی، انما یہ تو دوبارہ دیکھیے بھئی، انما تثبت ولایۃ الاب فی مال الصغیرۃ، ثابت ہوتی ہے باپ کی ولایت صغیرہ کے مال میں، لانھا عاجزۃ عن التصرف بنفسھا، اس لیے کہ وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے، فاثبت الشرع ولایۃ الاب کیلا تتعطل مصالحھا المتعلقۃ بذلک، تو پس ثابت کر دی شریعت نے باپ کے لیے باپ کی ولایت، کیلا تتعطل، تاکہ کہیں معطل نہ ہو جائیں، مصالحھا المتعلقۃ بذلک، اس لڑکی کی وہ مصلحتیں جو متعلق ہیں بذلک، ای بمالھا، اس کے مال کے ساتھ۔ اس کے مال کے ساتھ اس کی جو مصلحتیں وابستہ ہیں، کہیں وہ ضائع نہ ہو جائیں بھئی، اس کو کھانا بھی چاہیے، کپڑے وغیرہ اور ضرورتیں۔ جی، یہ اس کی مصلحتیں اس مال سے متعلق ہیں، تو کہیں وہ معطل ہی نہ ہو جائیں، اس لیے باپ کے لیے ولایت ثابت کر دی۔ وقد عجزت عن التصرف فی نفسھا، اور وہ عاجز ہے تصرف کرنے سے فی نفسھا، اپنے نفس میں بھی۔ بھئی جیسے صغیرہ کیا ہے، اپنے مال میں تصرف سے عاجز ہے، اسی طرح وہ اپنے نفس کے اندر بھی تصرف کرنے سے عاجز ہے۔ فوجب القول بولایۃ الاب علیھا، تو واجب ہوا یہ کہنا کہ باپ کے لیے ولایت ہے علیھا، ای علی نفسھا، اس صغیرہ کے نفس پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس صغیرہ کے نفس پر بھی باپ کی ولایت کا ثابت کرنا ضروری ہو گیا، کیا ہوا؟ ضروری ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی، جب مال کے اندر وہ خود تصرف کرنے سے عاجز تھی تو ہم نے کیا حکم لگایا؟ کہ ولایت کس کے لیے ثابت ہے؟ ولایتِ مال باپ کے لیے ثابت ہے۔ اسی طرح نفس میں بھی وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے، اپنے اپنی ذات میں بھی وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے، تو یہاں پر بھی عجز عن التصرف پایا گیا۔ بھئی، مال میں ہم نے باپ کے لیے ولایت کیوں ثابت کی؟ کیونکہ عجز عن التصرف کی علت پائی گئی، وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے۔ یہی علت نفس میں بھی پائی گئی، نفس میں بھی وہ خود تصرف کرنے سے عاجز ہے، تو جیسے وہاں پر باپ کے لیے ولایت ثابت کی تھی، یہاں پر بھی باپ کے لیے کیا ثابت کر دیں گے؟ ولایت ثابت کر دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ البتہ وہاں تھی ولایتِ مال اور یہاں پر کیا ہے؟ ولایتِ نفس ثابت کی ہے، ولایتِ نفس ثابت کی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو، یہاں پر تجنیسِ علت ہے مولانا، کیا ہے؟ تجنیسِ علت ہے۔ تجنیسِ علت کیسے ہے بھئی؟ جی؟ یعنی علت اصل کے ساتھ ساتھ کس میں پائی جائے؟ فرع میں بھی پائی جائے، تو جیسے عجز عن التصرف یہ مال کے سلسلے میں پایا جا رہا تھا، اسی طرح نفس کے سلسلے میں بھی پایا جا رہا ہے۔ وعلی ھذا نظائرہ، اور اسی پر اس کی نظیریں ہیں بھئی، اسی پر اس کی نظیریں ہیں اس قیاس کی۔ یعنی وہ قیاس جس میں اصل اور فرع کے حکم میں، جنس میں اتحاد ہوتا ہے، نوع کے اندر اتحاد نہیں ہے، اس کی نظیریں وہاں پر بھی تجنیسِ علت پائی جائے گی بھئی، کیا پائی جائے گی؟ تجنیسِ علت کا ہونا وہاں بھی ضروری ہے۔ وحکم القیاس الاول ان لا یبطل بالفرق، اور قیاسِ اول کا حکم یہ ہے کہ وہ باطل نہیں ہوگا فرق کے ساتھ۔ بھئی، ایک قیاس وہ ذکر کیا جس کے اندر کیا تھا، حکم کی نوع کے اندر اتحاد تھا اور دوسری قسم قیاس کی کیا ذکر کی، جس میں حکم کی جنس میں اتحاد ہے، نوع کے اندر اتحاد نہیں، تو قیاس کی وہ پہلی قسم کہ جہاں حکم کی نوع کے اندر اتحاد ہو، یہ قیاس بڑا قوی ہے مولانا، کوئی فرق بیان کر دے تو فرق بیان کرنے سے یہ قیاس باطل نہیں ہوگا بھئی۔ یہ قیاس باطل نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ اس میں بعینہٖ اسی حکم کو کیا کیا گیا ہے؟ متعدی کیا گیا ہے اسی علت کی بنا پر۔ اصل کے اندر جس علت کی بنا پر حکم لگایا گیا تھا، فرع میں بھی اسی علت کی بنا پر بعینہٖ وہی حکم لگایا گیا، کوئی اور حکم نہیں لگایا گیا۔ جیسے مولانا، صغیر کے اندر ہم نے کیا حکم لگایا تھا بھئی؟ کہ ولایتِ نکاح باپ کے لیے ثابت کی تھی، کس علت کی بنا پر؟ صغر کے علت کی بنا پر، اور یہی صغر کی علت صغیرہ کے اندر بھی پائی گئی تو وہاں پر بھی ہم نے باپ کے لیے کیا ثابت کر دی؟ ولایتِ نکاح ثابت کر دی، تو صغیر میں بھی صغر کی وجہ سے ولایتِ نکاح باپ کے لیے ثابت کی اور بعینہٖ یہی حکم، یعنی ولایتِ نکاح کا باپ کے لیے ہونا، بعینہٖ یہی حکم صغیرہ میں بھی لگایا اسی علت کی بنا پر، کیونکہ اس میں بھی وہی علت، صغر پائی جا رہی تھی۔ تو لہٰذا جب اسی علت کی بنا پر بعینہٖ وہی حکم لگایا گیا ہے، تو آپ یہ کوئی شخص فرق بیان کر دے ان میں، تو فرق بیان کرنے سے یہ قیاس باطل نہیں ہوگا، اس لیے کہ اصل اور فرع میں فرق تو ہوگا لازمی بات ہے، اصل محل اور ہے، فرع محل اور ہے، ایک مثلاً صغیر ہے، دوسری صغیرہ ہے مولانا، تو ایک مذکر ہے، ایک مؤنث ہے، فرق تو ہے مولانا، لیکن فرق بیان کرنے سے یہ قیاس باطل نہیں ہوگا، تو اصل اور فرع میں فرق تو ہوگا، لیکن حکم دونوں میں لگے گا، اس لیے کہ اصل میں جس علت کی بنا پر حکم لگا تھا، فرع میں بھی وہی علت پائی جا رہی ہے، تو لازمی بات ہے اس پر بھی وہی حکم لگے گا۔ وحکم القیاس الاول، اور قیاسِ اول کا حکم یہ ہے، ان لا یبطل بالفرق، کہ وہ باطل نہیں ہو سکتا فرق کے ساتھ، لان الاصل مع الفرع لما اتحد فی العلۃ، اس لیے کہ اصل فرع کے ساتھ جب متحد ہو گیا علت کے اندر، یعنی دونوں میں علت پائی گئی، وجب اتحادھما فی الحکم، تو حکم میں بھی دونوں کا اتحاد واجب ہو گیا، وان افترقت بغیر ھذہ العلۃ، اور اگرچہ جدا ہوں اس علت کے علاوہ میں، اگرچہ دونوں کیا ہوں اس علت کے علاوہ میں جدا ہوں، صغر صغیر میں بھی ہے اور یہی صغر صغیرہ میں بھی ہے، لیکن اس کے علاوہ اور چیزوں میں تو دونوں جدا ہیں، ایک مذکر ہے مثلاً، ایک کیا ہے؟ مؤنث ہے وغیرہ بھئی۔ وحکم القیاس الثاني فسادہ، اور قیاسِ ثانی کا حکم جو ہے فسادہ، اس کا فاسد ہو جانا ہے، بممانعۃ التجنیس والفرق الخاص، ممانعت کا معنی ہے انکار بھئی، انکارِ اہم۔ بممانعۃ التجنیس، تجنیس کا انکار کرنے سے۔ تو یا وہ قیاس جہاں حکم کی جنس میں اتحاد ہوتا ہے، نوع کے اندر اتحاد نہیں ہوتا، اس کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد ہو جاتا ہے تجنیس کے انکار کرنے سے، اگر کوئی شخص کیا کہہ دیتا ہے؟ یہاں تو تجنیس ہے ہی نہیں، علت ایسی عام نہیں ہے جو فرع کے اندر بھی پائی جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تجنیسِ علت کا انکار کر دے کہ علت تو عام ہی نہیں ہے، تو یا کوئی فرقِ خاص بیان کر دے کہ اصل اور فرع میں کیا ہے؟ فرق ہے، تو اس صورت میں یہ قیاس باطل ہو جائے گا، فاسد ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وحکم القیاس الثاني، اور قیاسِ ثانی کا حکم، فسادہ، اس کا فاسد ہو جانا ہے، بممانعۃ التجنیس، تجنیس کے انکار کرنے سے، والفرق الخاص، اور کسی خاص فرق کے بیان کر دینے سے، وھو بیان، اور وہ یہ بیان کرنا ہے، ان تاثیر الصغر فی ولایۃ التصرف فی المال فوق تاثیرہ فی ولایۃ التصرف فی النفس بھئی۔ بھئی یہ دیکھو، صغر کی وجہ سے، صغر کی وجہ سے صغیرہ میں ہم نے ولایتِ تصرف فی المال باپ کے لیے ثابت کی۔ صغر کی بنا پر صغیرہ میں ولایتِ تصرف فی المال ہم نے کس کے لیے ثابت کر دی؟ باپ کے لیے ثابت کر دی، اس لیے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کرنے سے عاجز تھی، عاجز تھی۔ تو اب صغر علت ہے اور ولایتِ تصرف فی المال کیا ہے اس کی وجہ سے حکم آیا، صغر کی وجہ سے ولایتِ تصرف فی المال کس کے لیے آیا؟ کس کے لیے ثابت ہوا؟ باپ کے لیے ثابت ہواے۔ اسی صغر کی بنا پر ولایتِ تصرف فی النفس بھی ہم نے باپ کے لیے ثابت کی ہے، اسی علت کی بنا پر ولایتِ تصرف فی النفس بھی ہم نے باپ کے لیے ثابت کی ہے کہ جیسے صغیرہ اپنے مال میں تصرف کرنے سے عاجز تھی، اسی طرح یہ اپنے نفس میں بھی تصرف کرنے سے عاجز ہے، تو لہٰذا جیسے ولایتِ مال ہم نے باپ کے لیے ثابت کی تھی، ولایتِ نفس بھی کس کے لیے ثابت کر دیں گے؟ باپ کے لیے، اسی علت کی بنا پر۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب، اب کوئی شخص آ کر کوئی خاص فرق ان میں بیان کر دے تو یہ قیاس باطل ہو جائے گا۔ مثلاً وہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ صغر کو آپ نے علت بنایا کس چیز کی؟ ولایتِ تصرف فی المال کی، کہتے ہیں یہ ٹھیک ہے اس لیے کہ ولایتِ تصرف فی المال میں صغر کا دخل بہت زیادہ ہے۔ ولایتِ تصرف فی المال میں صغر کا تعلق زیادہ ہے، اس کا دخل زیادہ ہے اس لیے کہ صغیرہ کو اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے مال میں تصرف کی ضرورت ہے۔ اپنی حاجتیں پوری کرنی ہیں یا نہیں اس نے؟ اس نے اپنی حاجتیں تو پوری کرنی ہیں اور خود تو ہے تصرف کرنے سے عاجز، تو مال کے اندر تصرف کی اس کو ضرورت ہے اور خود کر نہیں سکتی، تو اب کس کے لیے ثابت کر دی؟ باپ کے لیے ولایتِ مال ثابت کر دی، کس کے لیے؟ ولایتِ تصرف فی المال کہہ لیں یا ولایتِ مال کہہ لیں، تو ولایتِ مال ہم نے کس کے لیے ثابت کر دی؟ باپ کے لیے، کیونکہ صغر کا دخل ولایتِ صغر کا دخل تصرف فی المال میں زیادہ ہے، یا یوں کہو صغر کا دخل ولایتِ تصرف فی المال میں زیادہ ہے۔ لیکن صغر کا دخل ولایتِ تصرف فی النفس میں اتنا زیادہ نہیں، اس لیے کہ وہ صغیرہ ہے اور اسے وہ بالغ ہی نہیں ہوئی، تو اس میں شہوت ہی نہیں، جب شہوت ہی نہیں تو اسے نکاح کی کوئی حاجت نہیں، جب نکاح کی کوئی حاجت نہیں تو ولایتِ نفس باپ کے لیے ثابت کرنے کی کوئی حاجت بھی نہیں، جب اسے نکاح کی حاجت ہی نہیں ہے تو باپ کے لیے نفس کی ولایت ثابت کرنا کہ وہ جہاں چاہے اس کا کیا کر دے؟ نکاح کروا دے، اس کی کوئی حاجت بھی نہیں، تو دونوں میں فرق آ گیا دیکھا؟ صغر کی تاثیر ہے ولایتِ تصرف فی المال میں، اسی طرح صغر کی تاثیر ہے ولایتِ تصرف فی النفس میں بھی، لیکن اس کی تاثیر ولایتِ تصرف فی المال میں زیادہ ہے اور ولایتِ تصرف فی النفس میں کم ہے، تو دونوں میں فرق آ گیا۔ تو دونوں میں کیا آ گیا؟ فرق آ گیا، تو دیکھا کوئی اس صورت میں کوئی یہ فرقِ خاص بیان کر دیتا ہے تو اس صورت میں وہ قیاس جس میں حکم کی جنس میں اتحاد ہوتا ہے وہ قیاس کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وھو، وہ فرقِ خاص کی بیان کر رہے ہیں بھئی، وھو بیان، اور فرقِ خاص جو ہے وہ یہ بیان کرنا ہے، ان تاثیر الصغر، صغر کی تاثیر، فی ولایۃ التصرف فی المال، کس کے اندر؟ ولایتِ تصرف فی المال کے اندر، فوق تاثیرہ، تاثیرہ کی ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ صغر کو بھئی، وہ زیادہ ہے اس صغر کی تاثیر سے فی ولایۃ التصرف فی النفس بھئی، نفس میں ولایتِ تصرف سے۔ صغر کی تاثیر ہے مال میں ولایتِ تصرف کے اندر بھی، اور صغر کی تاثیر ہے نفس میں بھی ولایتِ تصرف میں، لیکن مال میں جو ولایتِ تصرف ہے اس میں صغر کی تاثیر زیادہ ہے اور نفس میں جو ولایتِ تصرف ہے اس میں صغر کی تاثیر کم ہے، تو کوئی فرقِ خاص بیان کر دے تو اس صورت میں یہ قیاس کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا، چلیے بس مولانا، ھذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔