وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحَرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ وَيَكُونُ وَلَاؤُهُ لَهُ بِقَدْرِ الْمِلْكِ، كَثَلَاثِ بَنَاتٍ لِلْكُبْرَى ثَلَاثُونَ دِينَارًا وَلِلصُّغْرَى عِشْرُونَ دِينَارًا فَاشْتَرَتَا أَبَاهُمَا بِالْخَمْسِينَ۔ جی، کل آپ نے پڑھا بھئی، "وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحَرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ"، جو شخص مالک ہوا ایسے قریبی رشتہ دار کا جو اس کا محرم بھی ہے، "عَتَقَ عَلَيْهِ" تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ "وَيَكُونُ وَلَاؤُهُ لَهُ بِقَدْرِ الْمِلْكِ" اور اس کی ولاء اسی کے لیے ہوگی، ملکیت کے بقدر؛ جتنی ملک ہوگی، اسی کے بقدر ولاء اسے ملے گی۔ اب اس کی صورت بتلا رہے ہیں: "كَثَلَاثِ بَنَاتٍ" جیسے کہ تین بیٹیاں ہوں، "لِلْكُبْرَى ثَلَاثُونَ دِينَارًا وَلِلصُّغْرَى عِشْرُونَ دِينَارًا فَاشْتَرَتَا أَبَاهُمَا بِالْخَمْسِينَ"، بڑی کے پاس 30 دینار ہیں اور چھوٹی کے پاس 20 دینار ہیں، پس ان دونوں نے خریدا اپنے والد کو—وہ کسی وجہ سے غلام ہیں، مثلاً ان کو خریدا—50 کے اندر۔ پھر والد کا انتقال ہوا اور انہوں نے کچھ مال چھوڑا، یعنی کچھ مال وغیرہ چھوڑا۔ تو کہتے ہیں، صورتِ مسئلہ کس طرح بنے گی؟ تین بہنیں ہیں، ایک بہن جو بڑی ہے اس کے پاس 30 دینار تھے، اور جو سب سے چھوٹی ہے اس کے پاس 20 دینار ہیں، اور انہوں نے 50 دینار میں اپنے والد کو خرید لیا۔ والد کو جیسے ہی خریدا، وہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد؛ کیونکہ حدیث میں کیا آیا: "وَمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحَرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ"۔ تو یہ والد ان کا قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے بھئی، ہمیشہ کے لیے رشتۂ نکاح ان میں حرام ہے۔ تو وہ خود بخود آزاد ہو گیا۔ اب اس کی ولاء یہ جو دو خریدنے والی بیٹیاں ہیں، ان کو ولاء ملے گی، جو درمیانی بیٹی جس کا آزادی میں دخل نہیں، اسے ولاء بھی نہیں ملے گی۔ تو سب سے پہلے وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ کس کو دیتے ہیں؟ ذوی الفروض کو، تو یہ تین بیٹیاں ہیں، تو تین بیٹیاں ہوں ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان؛ دو ثلث تو ان میں تقسیم ہو جائیں گے تینوں کے اندر بھئی۔ مال کے تین حصے کریں گے اور تین میں سے دو حصے، ان دو حصوں کو یہ تینوں بہنیں آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گی۔ ایک حصہ، ایک ثلث رہ گیا، ایک تہائی۔ اب وہ ایک تہائی اور تو کوئی ذوی الفروض میں سے ہے نہیں، عصبہ نسبی میں سے کوئی بھی نہیں ہے، تو پھر تیسرے نمبر پر کس کو ملتا ہے؟ ولاء کس کو ملتی ہے؟ عصبہ سببی، اور عصبہ سببی کون ہیں یہاں پر؟ وہ بڑی بیٹی اور چھوٹی بیٹی۔ تو ان کو ولاء ملے گی اور ولاء ان کی ملکیت کے بقدر ملے گی، یعنی جتنے کی یہ مالک بنی تھیں جتنے حصے کی۔ تو انہوں نے والد کو کتنے میں خریدا؟ 50 میں؛ ایک کے 30 دینار، دوسری کے 20 دینار۔ لہٰذا گویا جو ایک ثلث بچ گیا، اس کے پانچ حصے کر لیں گے۔ کتنے حصے؟ پانچ۔ پانچ میں سے تین حصے 30 دینار والی کو، یعنی بڑی بیٹی کو دے دیں گے، اور دو حصے وہ 20 دینار والی، یعنی چھوٹی بیٹی کو دے دیں گے۔ اور درمیان والی کو اس ولاء میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب مسئلہ بنے گا 45 سے۔ کس طرح بنے گا؟ یہ آپ آگے جا کر پڑھ لیں گے ان شاء اللہ، قریب ہی ہم پہنچ چکے ہیں کہ کس طرح پھر پورا پورا حساب کس طرح ہوگا۔ تو 45 سے مسئلہ بنے گا، یعنی کل مال جو اس نے چھوڑا اور جس کو تقسیم کرنا ہے وارثوں میں، اس کے 45 حصے کر لیے۔ 45 میں سے اب دو ثلث کتنا بنے گا؟ 45 کے تین حصے کریں ذرا: ایک حصہ کتنا؟ 15۔ تو ایک حصہ 15 ہوا، تو دو ثلث کتنے ہو گئے؟ 30۔ 30 ان تین بہنوں کو ملیں گے اور وہ 10، 10 آپس میں برابر تقسیم کر لیں گی۔ تو بڑی بیٹی کو بھی 10، درمیانی کو بھی 10، اور چھوٹی کو بھی 10۔ باقی کتنے رہ گئے؟ 15۔ 15 اب بطورِ ولاء کے ملیں گے، وہ صرف بڑی اور سب سے چھوٹی کو۔ اس کے پانچ حصے کرنے ہیں بھئی، تو 15 کے پانچ حصے کریں تو ایک حصے میں کتنے آتے ہیں؟ تین آتے ہیں۔ تو چھوٹی کو دو دے دیں بھئی، یہ ایک حصہ خمس کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ خمس۔ تو دو خمس چھوٹی کو دے دیں گے، دو خمس کتنے ہوئے؟ چھ۔ اور تین خمس بڑی والی کو دے دیں گے، یہ کتنے ہو گئے؟ نو۔ معلوم ہوا بڑی کو کل کتنا مل گیا؟ 10 پہلے ملا تھا اور نو یہ مل گیا: 19۔ اور سب سے چھوٹی کو 10 پہلے ملے تھے اور چھ یہ، تو یہ 16 مل جائیں گے۔ اور جو درمیان والی ہے اسے 10 ہی ملیں گے، اس طرح تقسیم ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "فَالْثُّلُثَانِ بَيْنَهُنَّ أَثْلَاثًا بِالْفَرْضِ"، تو دو ثلث جو ہیں ان تینوں بہنوں کے بیچ میں تین حصے ہو کر تقسیم ہوں گے فرض کی وجہ سے۔ "وَالْبَاقِي بَيْنَ مُشْتَرِيَتَيِ الْأَبِ أَخْمَاسًا"، اور باقی کس کے درمیان؟ "مُشْتَرِيَتَيِ الْأَبِ"، اصل میں کیا تھا؟ "مُشْتَرِيَتَيْنِ"، جو دو خریدنے والی ہیں۔ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو باپ کو جو دو خریدنے والی ہیں ان کے درمیان باقی ہوگا، "أَخْمَاسًا" کتنے؟ پانچ حصے ہو کر، "بِالْوَلَاءِ" ولاء کی وجہ سے۔ "ثَلَاثَةُ أَخْمَاسِهِ لِلْكُبْرَى"، تین خمس جو ہیں وہ کس کو ملیں گے؟ جو سب سے بڑی ہے۔ "وَخُمُسَاهُ"—یہ نون اضافت سے گر گیا، "خُمُسَانِ" تھا—"وَخُمُسَاهُ لِلصُّغْرَى"، اور اس کے باقی کے میں سے دو خمس جو ہیں وہ کس کے لیے ہوں گے؟ سب سے چھوٹی جو ہے۔ "وَتَصِحُّ مِنْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ"، اور مسئلہ صحیح ہو جائے گا 45 سے بھئی، پورا پورا تقسیم ہو جائے گا مال۔ آگے دیکھیے بھئی، باب الحجب۔ حجب کا معنی ہے روکنا بھئی، روکنا اور منع کرنا۔ حَجْبٌ، ح پر فتحہ ہے اور ج ساکن ہے، حَجْبٌ۔ اور یہ باب نصر سے آتا ہے: حَجَبَ يَحْجُبُ حَجْبًا، کسی دوسرے کو روکنا، منع کرنا، باز رکھنا۔ تو لغوی معنی کیا ہوا؟ روکنا اور منع کرنا۔ اور اصطلاحی معنی، یعنی علمِ میراث میں حجب اسے کہتے ہیں کہ کوئی ایک شخص دوسرے شخص کے حصے میں کمی کر دے یا اسے اس کے حصے سے پورے طور پر محروم کر دے، تو اسے حجب کہتے ہیں بھئی، حَجْبٌ۔ کہ ایک شخص کیا کرے؟ دوسرے کے حصے میں کمی کر دے، یا اسے پورے طور پر اس کے حصے سے محروم کر دے، تو اسے حَجْبٌ کہتے ہیں بھئی، حجب۔ جیسے آپ نے پڑھا ہے کہ خاوند جو ہے اس کو نصف ملتا ہے، لیکن اگر میت کی اولاد ہوئی، یعنی بیوی کی اولاد ہوئی تو خاوند کو کتنا ملے گا؟ ربع ملے گا۔ دیکھو خاوند کے حصے میں کمی آ گئی، یہ ہے حجب۔ حجب بھئی، اور اسی طرح بعض اوقات ایک شخص دوسرے کو وراثت سے پورے طور پر محروم کر دیتا ہے، اسے بھی حجب کہتے ہیں۔ مثلاً آپ نے پڑھا ہے کہ بیٹا موجود ہو، بیٹا موجود ہو تو وہ پوتے کو بالکل محروم کر دے گا، پوتے کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو دیکھو یہاں پر بھی ایک شخص دوسرے شخص کو وراثت سے پورے طور پر محروم کر رہا ہے، اسے بھی کیا کہتے ہیں؟ حجب کہتے ہیں۔ تو گویا حجب جو ہے وہ دو قسم پر ہو گیا: ایک حجبِ نقصان اور ایک حجبِ حرمان۔ حجبِ نقصان، یعنی دوسرے کے حصے میں کمی کر دی؛ اور حجبِ حرمان کہ دوسرے کو اس کے حصے سے پورے طور پر محروم کر دیا، اسے کچھ بھی نہ ملا۔ تو حجب کتنی قسم کا ہوا؟ دو قسم کا: ایک حجبِ نقصان اور ایک حجبِ حرمان۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ جو شخص رکاوٹ بنتا ہے اس کو کہتے ہیں حاجب، حاجب؛ اور جس کے حصے میں کمی کی یا جس کو محروم کر دیا، اس کو کہتے ہیں محجوب بھئی۔ تو رکاوٹ بننے والا ہے حاجب، اور جس کے لیے رکاوٹ بنا وہ ہے محجوب بھئی، محجوب۔ اتنا آپ کو پتہ چل گیا کہ حجب کسے کہتے ہیں کہ ایک وارث دوسرے وارث کے حصے میں کمی کر دے اور اسے پورے طور پر محروم کر دے، اور یہ دو قسم پر ہے: ایک حجبِ نقصان ہے اور ایک حجبِ حرمان۔ جیسے اولاد کی موجودگی میں خاوند کو خاوند کو نصف کے بجائے کتنا ملے گا؟ ربع ملے گا۔ تو یہ بھی محجوب ہوا، اور اسی طرح بیٹے کی موجودگی میں پوتے کو کچھ نہیں ملے گا، تو یہ بھی محجوب ہوا۔ دونوں کیا ہیں؟ محجوب۔ لیکن یاد رکھنا، یاد رکھنا، محجوب کا لفظ جب بولا جائے تو وہ حجبِ نقصان کے لیے استعمال نہیں ہوتا؛ ہاں جہاں حجبِ حرمان آ رہا ہو تو وہاں محجوب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے پوتے کو کچھ نہیں ملا تو ہم کہیں گے پوتا محجوب ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پوتے کو کچھ نہیں ملا تو ہم کہیں گے پوتا محجوب ہے؛ خاوند کے حصے میں کمی آئی تو خاوند کو محجوب نہیں کہیں گے۔ گویا یوں سمجھیں، محجوب کا لفظ محروم کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں حجبِ حرمان آئے اس کے لیے استعمال ہوتا ہے، حجبِ نقصان کے لیے یہ استعمال نہیں ہوتا۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اس کے بعد ایک ہے محجوب اور ایک ہے محروم بھئی، دونوں میں فرق ہے۔ آپ نے کتاب کے شروع میں پڑھا تھا محروم کے بارے میں، آپ نے موانعِ ارث پڑھے تھے بھئی کہ چار چیزیں جو ہیں وارث ہونے سے مانع ہیں: نمبر ایک، غلامی؛ اگر مثلاً بیٹا غلام ہے تو یہ وارث نہیں بنے گا، اسے مال نہیں ملے گا۔ اسی طرح دوسرا مانع جو تھا وہ قتلِ مورث تھا۔ مثلاً اسی وارث نے کیا کیا ہے؟ اپنے مورث کو قتل کیا ہے، تو اس صورت میں بھی اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اور اسی طرح ایک سبب تھا اختلافِ دین بھئی؛ باپ تو مسلمان ہوا لیکن بیٹا مسلمان نہیں ہوا، تو دیکھو دونوں کا دین مختلف ہے، تو اختلافِ دین بھی مانع بنے گا اور بیٹا اپنے باپ کا وارث نہیں بنے گا۔ اور ایک چوتھا مانع بھی پڑھا تھا اور وہ تھا اختلافِ دار بھئی، کہ دونوں کے دار الگ الگ ہوں؛ لیکن آپ نے پڑھا تھا کہ یہ صرف غیر مسلموں کے حق میں تو مانع بنے گا، مسلمان کے حق میں یہ مانع نہیں۔ تو گویا مسلمان کے حق میں مانع صرف تین چیزیں ہو گئیں: ایک رقیت یعنی غلام ہونا، نمبر دو قتلِ مورث، اور نمبر تین اختلافِ دین بھئی۔ اور جس میں مانع پایا جائے اس کو وراثت نہیں ملتی، اور یاد رکھیے اسے محروم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محروم کہتے ہیں۔ تو ایک یہ آج آپ نے پڑھا کہ کچھ وارث وہ ہیں کہ ایک شخص دوسرے کے لیے مانع بن جاتا ہے اور اسے بھی کچھ نہیں ملتا، لیکن اسے محجوب کہتے ہیں۔ تو ایک ہے محروم، ایک ہے محجوب بھئی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ایک ہے محروم اور ایک ہے محجوب۔ محروم کو بھی کچھ نہیں ملتا اور محجوب کو بھی کچھ نہیں ملتا، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ فرق یہ کہ محروم کے اندر جو مانع ہے، وہ جو سبب ہے، وہ اس کی اپنی ذات میں ہے۔ محجوب جو ہے اسے بھی وراثت نہیں مل رہی، لیکن وہاں پر خرابی اس کی ذات میں نہیں ہے، کوئی سبب اس کی ذات میں نہیں ہے بھئی۔ محروم کی اپنی ذات میں خرابی ہے، اپنی ذات میں وہ سبب پایا جا رہا ہے جو وارث بننے سے روک رہا ہے، مثلاً غلامی؛ غلام وارث نہیں بنتا، تو یہ اس کی اپنی ذات میں خرابی ہے، اس کے اس کی اپنی ذات میں۔ خرابی ہے کہ اس کے اندر غلامی والا سبب پایا جا رہا ہے، اس لیے وہ وارث نہیں بنے گا۔ اسی طرح قتل مورث، دیکھو یہ سبب اس قاتل کی اپنی ذات میں پایا جا رہا ہے کہ اس نے کیا کیا ہے اپنے مورث کو قتل کیا ہے۔ اسی طرح اختلاف دین ہے بھئی، تو یہاں پر بھی سبب وارث کی اپنی ذات میں پایا جا رہا ہے کہ اس کا دین اپنے مورث سے الگ ہے، اس لیے وہ وارث نہیں بنے گا۔ تو محروم کو بھی مال نہیں ملتا، محجوب کو بھی مال نہیں ملتا، لیکن محروم کے اندر جو سبب ہوتا ہے، جو سبب مانع ہوتا ہے وہ اس کی اپنی ذات میں ہوتا ہے۔ جبکہ محجوب کے اندر اس کی اپنی ذات میں کوئی خرابی اور کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا۔ مثلاً دیکھو، بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب پوتے کی اپنی ذات میں کوئی سبب اور خرابی نہیں ہے۔ اسی طرح باپ کے ہوتے ہوئے دادا کو کچھ نہیں ملے گا، دیکھو اب دادا کی اپنی ذات میں کوئی خرابی اور کوئی سبب موجود نہیں ہے۔ تو محروم کے اندر خرابی اس کی اپنی ذات میں، سبب اس کی اپنی ذات میں ہوتا ہے اور محجوب کے اندر اس کی اپنی ذات میں کوئی سبب نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ جو مانع جس میں پایا جائے اس کے لیے اس کے لیے لفظ استعمال ہوگا محروم۔ اور یہ جو جس کے لیے کوئی دوسرا مانع بن گیا، اس کے لیے لفظ استعمال ہوگا محجوب بھئی، محجوب۔ تو بہرحال محروم کا لفظ محجوب کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں، استعمال کر لیتے ہیں، لیکن اصل میں محروم وہ ہے جو پہلے بیان ہو گیا بھئی جس کی ذات میں کوئی سبب موجود ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دیکھئے بھئی کتاب پر۔ باب الحجب حجب کا باب۔ الحجب على نوعين، حجب جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ حجب نقصان، ایک حجب نقصان ہے۔ وهو حجب عن سهم إلى سهم، اور وہ محجوب ہونا ہے ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف۔ یعنی زیادہ حصے سے کم حصے کی طرف۔ اولاد کے بغیر خاوند کو مل رہا تھا نصف اور اولاد کی وجہ سے ربع۔ تو ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف یعنی کم حصے کی طرف محجوب ہونا۔ وذلك لخمسة نفر، اور یہ پانچ افراد کے لیے ہوگا۔ نفر میں نے بتلایا تھا تین سے دس تک آدمیوں کی جو جماعت ہو اس کو نفر کہتے ہیں۔ لیکن جب اس کے ساتھ عدد آ جائے تو پھر اس صورت میں یہ فرد کے معنی میں ہوتا ہے۔ لخمسة نفر، ای لخمسة افراد۔ تو یہ پانچ افراد ہیں بھئی۔ پانچ افراد ہیں جن میں حجب نقصان آئے گا۔ للزوجين، میاں بیوی ہیں۔ والأم، اور ماں ہے۔ وبنت الابن، اور پوتی ہے۔ والأخت لأب، اور علاتی بہن ہے۔ میاں بیوی جو ہیں ان میں بھی حجب نقصان آئے گا بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے اولاد نہ ہو تو خاوند کو کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ اور اولاد ہو بیوی جس کا انتقال ہوا ہے اگر اس کی اولاد ہو تو پھر خاوند کو کتنا ملے گا؟ ربع ملے گا۔ اسی طرح بیوی جو ہے اس کے حصے میں بھی کمی آتی ہے۔ بیوی کو اگر مرنے والے خاوند کی کوئی اولاد نہیں تو بیوی کو ملے گا ربع۔ اور اگر خاوند کی اولاد ہے تو پھر بیوی کو کتنا ملے گا؟ ثمن۔ تو دیکھا حصے میں کمی آ گئی۔ والأم، اور اسی طرح ماں ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ ماں کو ثلث ملے گا اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور کوئی دو بھئی بہن بھی کسی جہت سے نہ ہوں۔ لیکن اگر مرنے والے کی اولاد ہوئی تو اس کی ماں جو ہے اس کو ثلث کے بجائے سدس ملے گا۔ یا اسی طرح اس کے کوئی سے دو بھئی بہن کسی بھی جہت سے آ گئے، چاہے حقیقی ہیں، چاہے علاتی ہیں، چاہے اخیافی ہیں۔ تو یہ دو بھئی بہن بھی کیا کریں گے؟ ماں کا حصہ ثلث سے کم کر کے سدس کر دیں گے بھئی۔ اسی طرح بنت الابن ہے، پوتی ہے۔ آپ نے پڑھا ہے پوتی اگر اکیلی ہو تو اسے نصف ملتا ہے۔ لیکن اگر پوتی کے ساتھ ایک بیٹی بھی جمع ہو گئی میت کی، تو پھر نصف بیٹی کو ملے گا اور پوتی کو سدس ملے گا تکملة للثلثين۔ تو دیکھو پوتی کے حصے میں کمی آ گئی۔ اسی طرح والأخت لأب بھئی، علاتی بہن۔ آپ نے پڑھا ہے علاتی بہن اکیلی ہو تو اس کو نصف ملتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ حقیقی بہن آ گئی، تو اس حقیقی بہن کو نصف ملے گا اور علاتی بہن کو سدس ملے گا تکملة للثلثين۔ تو دیکھو ان سب کے حصوں میں کمی آ رہی ہے۔ تو یہ پانچ افراد ہیں جن میں حجب نقصان آئے گا۔ کہتے ہیں وقد مر بيانه، اور تحقیق اس کا بیان گزر گیا۔ وحجب حرمان، اور دوسری قسم ہے حجب حرمان۔ والورثة فيه فريقان، اور وارث جو ہیں فيه اس حجب حرمان میں، یعنی حجب حرمان کے سلسلے میں جو وارث ہیں، فريقان، وہ دو فریق ہیں، دو گروہ ہیں بھئی۔ دو قسم کے گروہ بھئی۔ کچھ افراد ایسے ہیں جن میں حجب حرمان کبھی بھی نہیں آئے گا۔ وہ کبھی بھی محروم نہیں ہوں گے۔ ان کے حصوں میں کمی بیشی بیشک آ جائے مختلف احوال میں، لیکن ایسی کوئی صورت نہیں کہ ان کو کچھ بھی نہ ملے اور وہ محروم ہو جائیں۔ اور ایک فریق وہ ہے، ایک گروہ وہ ہے کہ جو بعض احوال میں تو ان کو مال ملتا ہے اور بعض اوقات وہ محجوب یعنی محروم ہو جاتے ہیں پورے طور پر، ان کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حجب حرمان کے سلسلے میں وارث کتنی قسم کے ہو گئے؟ دو قسم کے۔ کچھ وہ وارث ہیں جہاں کبھی بھی حجب حرمان نہیں آئے گا اور کچھ وارث ہیں جہاں پر حجب حرمان آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں والورثة فيه فريقان، اور وارث جو ہیں حجب حرمان کے سلسلے میں دو گروہ ہیں۔ فريق لا يحجبون بحال البتة، ایک وہ فریق ہے جو محجوب نہیں ہوتا کسی بھی حال میں البتہ قطعی طور پر۔ وهم ستة، اور وہ چھ افراد ہیں۔ الابن والأب والزوج والبنت والأم والزوجة۔ بیٹا اور باپ اور خاوند اور بیٹی اور ماں اور بیوی۔ یہ چھ افراد ہیں جہاں حجب حرمان کبھی بھی نہیں آئے گا بھئی۔ کون کون؟ ہاں آسانی سے یوں یاد کر لیں۔ یوں یاد کر لیں، ابوان بھئی، ماں باپ۔ وابنان، بیٹا بیٹی۔ اور زوجان، میاں بیوی۔ تغلیب پر عمل کرتے ہوئے نا، بعض اوقات دو افراد ہوتے ہیں، ایک ہی کے نام کو غلبہ دے کر دونوں پر بول دیا جاتا ہے، جیسے ماں باپ، تو کیا کہہ دیا؟ ابوان۔ حالانکہ ایک اب ہے اور ایک ام ہے اور ابوان کا معنی تو دو باپ۔ لیکن ماں کو بھی کیا کہہ دیا؟ باپ ہی کہہ دیا غلبہ دیتے ہوئے۔ اس پر بھی اب ہی کے لفظ کا گویا اطلاق کر دیا اور تثنیہ کیا بنا لی؟ ابوان۔ تو ابوان کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ ماں باپ۔ اسی طرح یہاں بیٹا ہے اور بیٹی ہے تو ان کے لیے کیا لفظ استعمال کر لیں؟ ابنان۔ اور میاں بیوی ہیں تو ان کے لیے زوجان۔ تو یہ چھ ہیں جو کبھی بھی محروم نہیں ہوتے۔ وفريق يرسون بحال ويحجبون بحال، اور ایک فریق وہ ہے جو وارث ہوتے ہیں ایک حال میں ويحجبون بحال اور محجوب ہوتے ہیں دوسرے حال میں۔ یعنی کبھی تو ان کو مال ملتا ہے اور بعض احوال میں ان کو کچھ بھی نہیں ملتا، وہ محجوب ہو جاتے ہیں۔ وهذا مبني على أصلين، اور اس کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ یہ جو حجب حرمان ہے یاد رکھیے اس کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ خود بیان کر رہے ہیں۔ سمجھ لیں اس کو بھئی۔ حجب حرمان کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ ایک تو ضابطہ یہ کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوتا ہے۔ واسطہ کے ہوتے ہوئے؟ جیسے دیکھو بیٹا اور پوتا۔ بیٹا واسطہ ہے اور پوتا ذو الواسطہ، واسطے والا ہے، واسطے کے ذریعے اس کا میت سے رشتہ جڑ رہا ہے۔ تو واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوتا ہے۔ لیکن اس میں ایک شرط ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ واسطہ پورے مال کا وارث ہونے کی صلاحیت اس میں موجود ہو۔ بشرطیکہ اس میں پورے مال کا وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔ بشرطیکہ اس میں پورے مال کا وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہو، یعنی اس کی کوئی نہ کوئی ایسی حالت بنتی ہو جس میں وہ پورا مال بھی لے جائے۔ اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو پھر وہ واسطہ مانع نہیں بنے گا بھئی۔ ضابطہ کیا ہوا؟ پہلا ضابطہ، حجب حرمان کی بنیاد کتنے ضابطوں پر؟ دو ضابطے۔ پہلا ضابطہ یہ کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوگا بشرطیکہ اس واسطہ میں پورے مال کا وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔ اور دوسرا الأقرب فالأقرب بھئی۔ دوسرا ضابطہ یہ کہ الأقرب فالأقرب، کہ قریب والے کے ہوتے ہوئے بعید والا محروم ہوتا ہے۔ جیسے بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا محروم ہوتا ہے، باپ کے ہوتے ہوئے دادا محروم ہوتا ہے، ماں کے ہوتے ہوئے نانی محروم ہوتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ قریب والے کے ہوتے ہوئے بعید والا کیا ہوتا ہے؟ محروم۔ تو کتنے ضابطوں پر بنیاد ہے حجب حرمان کی؟ دو۔ پہلا کیا ضابطہ؟ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم بشرطیکہ واسطہ میں پورے مال کے وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔ اور دوسرا یہ، الأقرب فالأقرب، کہ قریب والے کے ہوتے ہوئے بعید والا محروم ہوتا ہے بھئی۔ جی دیکھئے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں وهذا مبني على أصلين، کہ یہ حجب حرمان جو ہے اس کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ أحدهما، ان میں سے ایک ضابطہ أحدهما وهو أن كل من يدلي إلى الميت بشخص لا يرث مع وجود ذلك الشخص، کہ ہر وہ شخص من يدلي إلى الميت، أدلى يدلي باب افعال ہے اس کا معنی ہے نسبت ہونا، منسوب ہونا۔ ان ضابطوں میں سے ایک یہ ہے کہ أن كل من يدلي إلى الميت بشخص، کہ ہر وہ شخص جس کی نسبت ہو رہی ہو میت کی طرف کسی شخص کے ذریعے، توجہ ہے؟ ہر وہ شخص یعنی یوں کہو ہر وہ وارث جس کی نسبت ہو رہی ہو میت کی طرف کسی دوسرے شخص کے ذریعے یعنی کوئی بیچ میں واسطہ بن رہا ہو۔ تو وہ جو ذو الواسطہ ہے جس کی نسبت ہو رہی ہے، دیکھو پھر دیکھو ترجمہ، وهو أن كل من يدلي إلى الميت، ہر وہ شخص یعنی ہر وہ ذو الواسطہ جس کی نسبت ہو رہی ہے میت کی طرف بشخص کسی دوسرے شخص یعنی کسی واسطے کے ذریعے، لا يرث، یہ وارث نہیں بنے گا مع وجود ذلك الشخص، اس شخص کے پائے جاتے ہوئے یعنی واسطے کے پائے جاتے ہوئے ذو الواسطہ وارث نہیں بنے گا۔ سوى أولاد الأم، سوائے اولاد ام کے، یعنی اخیافی بھئی بہنوں کے۔ ماں کے ہوتے ہوئے بھی وہ وارث بنیں گے تو وہ اس ضابطے سے مستثنیٰ ہیں۔ جہاں بھی واسطہ آئے گا وہ ذو الواسطہ کو محروم کر دے گا سوائے کس کے؟ اخیافی بھئی بہنوں کے یعنی اولاد ام کے کہ وہ اس ضابطے سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ ماں کے ہوتے ہوئے بھی وارث بنیں گے۔ کیونکہ ماں جمیع ترکہ کی مستحق نہیں بنتی کسی بھی صورت میں۔ ماں کے تین احوال آپ نے پڑھے۔ ایک صورت کیا تھی؟ ثلث کل۔ دوسری صورت کیا تھی؟ سدس۔ اور تیسری کیا تھی؟ ثلث ما بقیہ، ثلث ما بقیہ بعد فرض احد الزوجین۔ تو ماں کے احوال میں کوئی ایسی صورت نہیں کہ ماں سارے مال کی مستحق بن جائے۔ ایک تو یہ وجہ، نیز اس لیے کیونکہ سبب بھی متحد نہیں ہے۔ دونوں کے وارث ہونے کا سبب الگ ہے۔ ماں کیوں وارث بن رہی ہے؟ ماں ہونے کی وجہ سے، ماں ہونے کی وجہ سے۔ اور جو بھئی بہن ہیں وہ بھئی بہن ہونے کی نسبت سے وارث بن رہے ہیں، اس کی وجہ سے وارث بن رہے ہیں۔ تو یوں کہیں، ماں وارث بن رہی ہے امومیت کی وجہ سے بھئی اور بھئی بہن وارث بن رہے ہیں اخوت کی وجہ سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ماں وارث بن رہی ہے امومیت کی وجہ سے اور بھئی بہن وارث بن رہے ہیں اخوت کی وجہ سے۔ اور آپ نے پڑھا تھا جدہ کے احوال جب آپ نے پڑھے تھے تو وہاں یہ تفصیل بیان ہوئی تھی کہ اتحاد سبب بھی مانع ارث ہے بھئی۔ جیسے اوپر جتنی بھی ہیں نانیاں دادیان، یہ سب مائیں ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ مائیں ہیں۔ ہاں، کوئی قریب والی ہے، کوئی بعید والی ہے۔ تو جب قریب والی موجود ہو، تو بعید والی کو کچھ نہیں ملے گا۔ مثلاً ماں بھی زندہ اور دادی بھی زندہ۔ اب دیکھو، دادی تو دادی کے لیے تو ماں واسطہ نہیں بن رہی، دادی کے لیے تو باپ واسطہ بن رہا ہے۔ لیکن دادی ہے تو ماں، اور دور والی ہے۔ لہٰذا جب میت کی حقیقی ماں زندہ ہو، تو دادی کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور یہ کس وجہ سے؟ اتحادِ سبب، کیونکہ ماں بھی ماں ہونے کی وجہ سے وارث، دادی بھی ماں ہونے کی وجہ سے وارث۔ تو جب ماں ہونے کی وجہ سے دونوں وارث بن رہے ہیں، تو یہ ماں ہونا کس کے اندر زیادہ قوی ہے؟ جو حقیقی ماں، جو قریب والی ہے۔ تو اس میں امیت قوی ہے، لہٰذا وہ وارث بنے گی اور دادی وارث نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: سوائے اولادِ ام کے، سوائے اولادِ ام کے یعنی اخیافی بھئی بہنوں کے۔ وہ وارث بنیں گے ماں کے ساتھ۔ وہ ماں کے ساتھ وارث بنیں گے، اس وجہ سے کہ ماں کا پورے ترکے کا مستحق ہونا معدوم ہے، ماں پورے ترکے کی مستحق نہیں بنتی کسی بھی صورت میں۔ اور دوسرا ضابطہ یہ ہے: الاقرب فالاقرب، کہ قریب والا درجہ بدرجہ، یعنی قریب والے کے ہوتے ہوئے بعید والا محروم۔ جیسے بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا محروم، باپ کے ہوتے ہوئے دادا محروم۔ جیسا کہ ہم نے کس میں ذکر کر دیا؟ عصبات کے بیان میں۔ اور محروم حجب نہیں کرتا ہمارے نزدیک۔ اب یہ ایک الگ بات ذکر کر رہے ہیں، قیمتی بات۔ اور وہ یہ کہ جو محروم ہوتا ہے، جس کی ذات میں مانع موجود ہے، یعنی وہ غلام ہے بیٹا، یا وہ قاتل ہے مورث کا، یا اس کا دین الگ ہے۔ تو یہ جو محروم ہے، یہ ہمارے نزدیک حاجب نہیں بنتا، نہ یہ حجبِ نقصان کر سکتا ہے اور نہ یہ حجبِ حرمان۔ توجہ ہے؟ میں محجوب کی بات نہیں کر رہا، محروم کی بات کر رہا ہوں۔ جس جو کیا ہے؟ جس کی ذات میں کوئی خرابی ہے، جس کی ذات میں کوئی سبب ہے جس کی وجہ سے وہ وارث نہیں بن رہا۔ مثلاً بیٹا ہے، وہ غلام ہے۔ یا بیٹا کیا ہے؟ اسی نے مورث کو قتل کیا۔ یا وہ بیٹا اس کا دین الگ۔ تو یہ اس کی ذات میں خرابی ہے، اب بیٹا وارث نہیں بنے گا اور اس کو محروم کہیں گے۔ یہ جو محروم ہے، کیا یہ حاجب دوسروں کے لیے بن سکتا ہے یا نہیں؟ تو ہمارا مذہب یہ ہے کہ جو محروم ہے، وہ حاجب نہیں بن سکتا۔ نہ وہ حجبِ نقصان کر سکتا ہے اور نہ حجبِ حرمان۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، وہ فرماتے ہیں کہ محروم جو ہے، وہ حجبِ حرمان تو نہیں کر سکتا، حجبِ نقصان کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ ان کے نزدیک جو محروم ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک جو محروم ہے، وہ حجبِ حرمان تو نہیں کر سکتا، کسی کو پورے طور پر محروم تو نہیں کر سکتا، لیکن دوسروں کے حصے میں کمی کر سکتا ہے۔ اب مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کا بیٹا بھی زندہ اور پوتا بھی زندہ۔ اب یہ جو مرنے والا تھا، یہ بھی مسلمان ہو گیا تھا اور اس کا پوتا بھی مسلمان ہو گیا تھا، لیکن بیٹا مسلمان نہیں۔ بیٹا مسلمان نہیں، تو ہمارے نزدیک یہ جو بیٹا ہے، یہ ہے محروم۔ اور جو محروم ہے، وہ کالعدم ہے، اس کو شمار ہی نہیں کرنا۔ یوں سمجھو بیٹا ہے ہی نہیں۔ جب بیٹا ہے ہی نہیں، تو پوتے کو مال ملے گا، وہ عصبہ بنے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ یہاں فرماتے ہیں کہ بیٹا اگر ا جائے تو وہ پوتے کو پورے طور پر محروم کر دیتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں بیٹا چونکہ کافر ہے، لہٰذا وہ حجبِ حرمان نہیں کر سکتا۔ محروم خود تو محروم ہے اور حجبِ حرمان یہ نہیں کر سکتا، پوتے کو پورا مال ملے گا، وہ عصبہ بنے گا۔ لیکن اگر ایسی صورت ہوئی کہ بیٹا جو ہے، وہ حجبِ نقصان کر سکتا ہو تو پھر وہ کرے گا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب کے مطابق۔ مثلاً دیکھو، ایک شخص کا انتقال ہوا، ہاں یوں کہیں، بیوی کا انتقال ہوا، بیوی کا۔ اور اس کا خاوند بھی زندہ اور اس کے دو اخیافی بھئی بہن بھی زندہ۔ توجہ ہے؟ کیا صورت؟ خاوند بھی زندہ اور اخیافی، اور اس عورت کا ایک بیٹا بھی زندہ ہے لیکن وہ کافر ہے۔ یا وہ غلام ہے، یا اسی نے اس کو قتل کیا ہے، یعنی وہ محروم ہے، وہ کیا ہے؟ اب یہ محروم ہمارے نزدیک کالعدم، شمار ہی نہیں۔ تو خاوند کو کتنا ملے گا؟ ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک، اولاد ہے ہی نہیں تو خاوند کو کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ اور اخیافی بھئی بہن دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلث ملتا ہے، تو ان کو ثلث ملے گا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اور جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک محروم حجبِ نقصان کر سکتا ہے، البتہ حجبِ حرمان نہیں کر سکتا۔ اور بیٹے کے ہوتے ہوئے خاوند کو کتنا ملتا ہے؟ ربع۔ تو بیٹا کمی کرے گا، خود تو محروم ہے لیکن خاوند کے حصے میں کمی کر دے گا، اس کو نصف نہیں ملے گا، کتنا ملے گا؟ ربع، کن کے نزدیک؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک۔ اور اپ نے پڑھا تھا کہ اگر میت کی اولاد زندہ ہو تو اخیافی بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ پڑھا تھا یا نہیں؟ میت کی اولاد زندہ ہو تو اخیافی بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ تو اب یہاں بیٹا اگر اخیافی بھئی بہنوں کے لیے رکاوٹ بنے تو کون سا حجب کرے گا؟ حجبِ حرمان کرے گا، اور حجبِ حرمان تو وہ نہیں کر سکتا۔ تو لہٰذا وہ اخیافی بھئی بہنوں کو اسی طرح ثلث ملے گا۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ اس عورت کا خاوند بھی زندہ اور دو اخیافی بھئی بہن بھی زندہ، اور بیٹا جو ہے وہ محروم ہے، اس کی ذات میں کوئی مانع موجود ہے۔ تو یہ بیٹا ہمارے نزدیک نہ حجبِ نقصان کر سکتا ہے اور نہ حجبِ حرمان۔ جب یہ حجبِ نقصان نہیں کر سکتا، تو خاوند کو نصف ہی ملے گا، کمی نہیں ہوگی۔ اور یہ حجبِ حرمان بھی نہیں کر سکتا، تو اخیافی بھئی بہنوں کو بھی مال ملے گا، ان کو محروم نہیں کرے گا۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، حجبِ نقصان یہ کرے گا۔ لہٰذا خاوند کا حصہ نصف سے کم کر کے کتنا کر دے گا؟ ربع کر دے گا۔ لیکن حجبِ حرمان یہ نہیں کرے گا، لہٰذا اخیافی بھئی بہنوں کو ثلث ہی ملے گا، وہ محروم نہیں ہوں گے۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے بھئی، والمحروم لا يحجب عندنا، محروم جو ہے وہ حاجب نہیں بنتا ہمارے نزدیک۔ وعند ابن مسعود رضی الله تعالى عنه يحجب حجب النقصان، کہ وہ حاجب بنے گا حجبِ نقصان کے ساتھ۔ كالكافر والقاتل والرقيق، جیسے کہ کافر ہے اور قاتل ہے اور غلام ہے۔ یہ تینوں مانع بیان کر دیے جو مسلمان کے حق میں ہیں۔ والمحجوب يحجب بالاتفاق، اور جو محجوب ہوتا ہے، وہ حاجب بنتا ہے۔ محروم تو حاجب نہیں بنتا، لیکن محجوب حاجب بنتا ہے بالاتفاق۔ وہ حجبِ نقصان بھی کرے گا، حجبِ حرمان بھی کرے گا۔ مثلاً باپ کے ہوتے ہوئے اخیافی بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ توجہ ہے؟ باپ کے ہوتے ہوئے اخیافی بھئی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا، تو وہ دیکھو محجوب ہو رہے ہیں باپ کی وجہ سے۔ لیکن ماں کے حصے میں وہ پھر بھی کمی کر دیں گے اور ثلث کے بجائے اس کو، ماں کو سدس ملے گا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو یہ حجبِ نقصان، اور حجبِ حرمان بھی کریں گے۔ اچھا بھئی، باب الحجب چل رہا ہے۔ اپ نے پڑھا کہ حجب دو قسم پر ہے: ایک حجبِ نقصان اور ایک حجبِ حرمان۔ لیکن جب محجوب کا لفظ بولا جائے، تو وہ حجبِ نقصان کے لیے استعمال نہیں ہوتا، کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ حجبِ حرمان۔ حصے میں اگر کمی ا جائے، خاوند کا اولاد ہو تو خاوند کا حصہ نصف سے کم ہو کر کتنا ہو جاتا ہے؟ ربع ہو جاتا ہے، لیکن خاوند کو محجوب نہیں کہیں گے۔ ہاں، پوتے کو بیٹے کی موجودگی میں کچھ نہیں ملا، تو پوتے کو محجوب کہیں گے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ یعنی حجبِ حرمان کے لیے محجوب کا لفظ استعمال ہوگا اور حجبِ نقصان کے لیے استعمال نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر اپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ حجبِ حرمان کی بنیاد دو ضابطوں پر ہے۔ ایک تو یہ کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ جو ہے وہ محروم ہوتا ہے بشرطیکہ واسطے میں پورا مال لینے کی صلاحیت اس میں موجود ہو۔ اور اگر ایسا نہیں، تو پھر وہ مانع بھی نہیں بنے گا۔ مانع بھی نہیں بنے گا بھئی۔ اور دوسرا ضابطہ تھا الاقرب فالاقرب بھئی۔ پھر اس کے بعد یہ بات بیان ہوئی کہ محروم جو ہے، وہ ہمارے نزدیک حاجب نہیں بن سکتا۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حجبِ حرمان تو نہیں کر سکتا، البتہ حجبِ نقصان کرے گا۔ نقصان کرے گا۔ والمحجوب يحجب، یہاں سے تھا؟ والمحجوب يحجب بالاتفاق، اور جو محجوب ہے، وہ حجب کرے گا بالاتفاق بھئی۔ وہ حاجب بنے گا۔ محجوب یعنی جو کسی اور وارث کی وجہ سے محروم ہو رہا ہے، خود اس کی اپنی ذات میں کوئی ایسا سبب موجود نہیں۔ تو یہ جو محجوب ہے، یہ دونوں طرح کا حجب کر سکتا ہے۔ حجبِ نقصان بھی کر سکتا ہے اور حجبِ حرمان۔ تو ہمارے نزدیک محروم وہ نہ حجبِ نقصان کر سکتا ہے اور نہ حجبِ حرمان۔ لیکن جو محجوب ہے، وہ حجبِ نقصان بھی کر سکتا ہے اور حجبِ حرمان بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً اخیافی بھئی بہن باپ کے ہوتے ہوئے محروم ہوتے ہیں، یعنی محجوب ہوتے ہیں۔ اخیافی بھئی بہن باپ کے ہوتے ہوئے محجوب ہوتے ہیں، ان کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ ماں کے حصے میں کمی کریں گے اور اسے ثلث سے کم کر کے سدس کر دیں گے بھئی۔ ثلث سے کم کر کے سدس کر دیں گے۔ اب دیکھو، ایک شخص کا انتقال ہوا، باپ بھی موجود، ماں بھی موجود، اور دو اخیافی بھئی بہن بھی موجود۔ اب یہ اخیافی بھئی بہن تو باپ کی وجہ سے محجوب ہو گئے، ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن یہ ماں کے حصے کو کم کر دیں گے ثلث سے سدس کی طرف۔ ماں کو اب ثلث نہیں ملے گا بلکہ کیا ملے گا؟ سدس۔ تو دیکھا، انہوں نے حجبِ نقصان کیا۔ کس نے کیا؟ محجوب نے۔ کون سے محجوب؟ جو حجبِ حرمان کے ساتھ محجوب ہیں، جن کو خود کچھ بھی نہیں مل رہا، لیکن پھر بھی وہ حاجب بن رہے ہیں۔ تو یہاں کیا کیا؟ ماں کے حصے میں کمی کی، حجبِ نقصان کیا۔ محجوب نے کیا کیا؟ حجبِ نقصان۔ حجبِ حرمان بھی وہ کریں گے۔ مثلاً ایک شخص کا انتقال ہوا، اور اس کا باپ بھی زندہ، دادی بھی زندہ، اور پرنانی بھی زندہ۔ کون کون؟ باپ، دادی، اور پرنانی۔ تو دادی اور میت میں کتنے واسطے؟ ایک باپ کا۔ اور پرنانی اور میت میں کتنے واسطے؟ دو واسطے۔ تو یہ جو دادی ہے، اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ واسطہ یعنی باپ موجود ہے۔ تو یہ دادی کیا ہوئی؟ محجوب۔ لیکن اس کے محجوب ہونے کے باوجود پرنانی کے لیے یہ حاجب بنے گی اور اس کو بالکل محروم کر دے گی۔ کیونکہ اپ نے پڑھا ہے دادی کے احوال میں کہ قریب والی بعید والی کو کیا کر دیتی ہے؟ ساقط کر دیتی ہے، چاہے اسی جانب سے ہو، چاہے دوسری جانب سے ہو۔ ضابطہ ذہن میں ایا؟ تو دیکھا، یہاں پر محجوب نے دوسرے کے لیے حجبِ حرمان کر دیا۔ یہ معنی ہے: والمحجوب يحجب بالاتفاق، اور محجوب جو ہے وہ حجب کرے گا بالاتفاق۔ كالاثنين من الاخوة والاخوات فصاعدا من اي جهة كانا، جیسے کہ دو بھئی بہن یا زیادہ، جس جہت سے بھی وہ دونوں ہوں۔ فانهما لا يرثان مع الاب، تو یہ وارث نہیں ہوں گے باپ کے ساتھ۔ چاہے حقیقی بھئی ہوں، چاہے علاتی بھئی ہوں، چاہے اخیافی ہوں، یہ سب باپ کے ساتھ ا جائیں تو یہ ان کو یہ وارث نہیں بنیں گے، یعنی محجوب ہوں گے۔ ولكنهما يحجبان الام من الثلث الى السدس، لیکن یہ حجب کریں گے ماں کے لیے، ماں کے لیے مانع بن جائیں گے، ثلث سے سدس کی طرف، یعنی اس کے حصے میں کمی کر دیں گے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں ا گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔