والمثال الثاني وهو ما يتضمن تغيير حكم من أحكام النص، ما يقال أن النية شرط في الوضوء بالقياس على التيمم؛ فإن هذا يوجب تغيير آية الوضوء من الإطلاق إلى التقييد. بھئی، قياس کے صحیح ہونے کی شرائط چل رہی ہیں، بھئی۔ آپ نے گزشتہ سبق میں پڑھا کہ قياس کے صحیح ہونے کی یہ پانچ شرائط ہیں، بھئی۔ پہلی شرط کیا ذکر کی تھی؟ کہ وہ قياس نص کے مقابلے میں نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ذکر کی تھی کہ اس کی وجہ قياس کی وجہ سے نص کے کسی حکم کے اندر کوئی تبدیلی نہ ائے۔ تیسری یہ شرط ذکر کی تھی کہ وہ حکم جس کو متعدی کیا گیا ہو، وہ ایسا اس کی علت ایسی نہ ہو جو عقل میں آنے والی نہ ہو، یعنی غیر معقول نہ ہو۔ اور چوتھی شرط یہ کہ وہ جو علت بیان کی جائے وہ حکم شرعی کے لیے بیان کی جائے، نہ کہ کسی امر لغوی کے لیے، بھئی۔ پانچویں شرط یہ تھی کہ فرع منصوص علیہ نہ ہو، یعنی اس کے بارے میں کوئی نص نہ آئی ہو۔ اگر نص آئی ہو تو پھر بھی قياس کی ضرورت نہیں رہتی، بھئی۔ پہلا ضابطہ کیا تھا؟ کہ وہ قياس کیا ہے، نص کے مقابلے میں ہو تو یہ قياس صحیح نہیں۔ اس کی مثالیں گزشتہ سبق میں گزر گئی تھیں۔ آج دوسرے ضابطے کی مثالیں آئیں گی، بھئی۔ جی، دوسرا ضابطہ کیا ذکر ہوا؟ کہ قياس وہ قياس ایسا نہ ہو کہ جس کی وجہ سے نص کے کسی حکم میں تبدیلی ائے۔ کیا ضابطہ ہے؟ کہ وہ قياس ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے نص کے کسی حکم میں تبدیلی ائے۔ اگر قياس کی وجہ سے نص کے کسی حکم میں تبدیلی آ رہی ہے تو یہ قياس بھی صحیح نہیں۔ اور اس کی مثال کہتے ہیں وہ جو وضو کے اندر نیت کی شرط لگائی گئی ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کے اندر نیت بھی شرط ہے، بھئی۔ نیت بھی شرط ہے۔ نیت کی تو وضو ہوگا، نیت نہ کی تو وضو بھی نہیں ہوگا۔ وجہ اس کی یہ کہتے ہیں، اس لیے کہ وضو جو ہے اس کا نائب ہے تیمم، بھئی۔ پانی ہو تو وضو کریں گے، اگر پانی نہ ملے یا پانی پر قدرت نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا۔ تو وضو کا نائب ہے تیمم، بھئی۔ دونوں طہارت ہیں نماز کے لیے، اور تیمم کے اندر بالاتفاق نیت شرط ہے، بھئی۔ نیت کریں گے تو تیمم ہوگا، نیت نہیں کریں گے تو تیمم بھی نہیں۔ تو جب تیمم کے اندر نیت شرط ہے تو پھر وضو کے اندر بھی نیت کیا ہوگی؟ شرط ہوگی۔ جب نائب کے اندر مولانا نیت ضروری ہے تو اصل کے اندر بھی نیت کیا ہوگی؟ ضروری ہوگی مولانا۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ نے وضو کو قياس کیا تیمم پر، بھئی۔ تو جیسے تیمم کے اندر نیت ضروری، اسی طرح وضو کے اندر بھی نیت ضروری۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ قياس صحیح نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ اس قياس کی وجہ سے نص کے حکم میں تبدیلی آ رہی ہے، بھئی۔ نص کیا ہے وضو کے بارے میں؟ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"۔ تو یہاں پر دیکھیے نص کے اندر مطلقا تین اعضاء دھو لو اور سر پر مسح کر لو تو وضو ہو جائے گا، مطلق ہے۔ یہاں نیت کا ذکر نہیں۔ وضو کی آیت کیا ہے؟ مطلق ہے مولانا۔ اگر ہم اس پر نیت کی شرط بڑھا دیں تو یہ تو آیت کو مقید کرنا لازم آئے گا۔ وضو کی آیت کیا ہے؟ نص تو مطلق ہے، لیکن اگر قياس کیا جائے اس وضو کو تیمم پر اور اس میں بھی نیت کی شرط لگا دی جائے تو اس صورت میں تو مطلق کو کیا کرنا لازم آئے گا؟ مقید کرنا لازم آئے گا۔ کتاب اللہ میں تو مطلق وضو کا ذکر ہے، تین اعضاء دھو لو اور سر پر مسح کر لو تو وضو ہو جائے گا، مطلق ہے۔ نیت چاہے آدمی کرے یا نیت نہ کرے، دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ لیکن اگر ہم اس قياس کے لیے اس پر نیت کی شرط بھی لگا دیں تو اس کا اطلاق باقی نہیں رہے گا، بلکہ یہ تو کیا ہو جائے گی؟ نص مقید ہو جائے گی۔ تو لہذا یہ قياس صحیح نہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس نص کی وجہ اس قياس کی وجہ سے کیا لازم آ رہا ہے؟ نص کے حکم میں تبدیلی آ رہی ہے مولانا۔ نص اطلاق وصف اطلاق ختم ہو رہا ہے اور وہاں پر تقیید آ رہی ہے، یعنی وہ نص کیا ہو جائے گی؟ مقید ہو جائے گی، بھئی۔ "والمطلق يجري على إطلاقه"، مطلق کو مطلق ہی رکھا جائے گا، اس کو مقید نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اب اس قياس کی وجہ سے اس کو مقید بنانا صحیح نہیں۔ تو وہ قياس جس کی وجہ سے نص کے حکم میں تبدیلی آئے اور مطلق کے بجائے اسے کیا بنانا پڑے؟ مقید بنانا پڑے، یہ درست نہیں۔ لہذا یہ قياس صحیح نہیں، بھئی۔ والمثال الثاني: والثاني وهو ما يتضمن تغيير حكم من أحكام النص، اور دوسرے کی مثال اور وہ قياس ہے جو متضمن ہو، یعنی مشتمل ہو کس چیز پر؟ تغيير حكم، کسی حکم کے بدلنے کو من أحكام النص، نص کے احکام۔ نص کے احکام میں سے کسی حکم کے بدلنے کو متضمن ہو، یعنی اس کی وجہ سے نص کے احکام میں سے کسی ایک حکم میں کیا آ رہی ہو؟ تبدیلی آ رہی ہو، بھئی۔ ما يقال، وہ ہے جو کہا گیا کہ أن النية شرط في الوضوء، کہ نیت کیا ہے؟ شرط ہے وضو کے اندر، بالقياس على التيمم، تیمم پر قياس کرتے ہوئے۔ فإن هذا يوجب تغيير آية الوضوء من الإطلاق إلى التقييد، اس لیے کہ یہ قياس ثابت کرتا ہے کس چیز کو؟ تغيير آية الوضوء، وضو کی آیت کے بدلنے کو۔ اس کی وجہ سے کیا لازم آتا ہے؟ کیا چیز ثابت ہوگی؟ وضو کی آیت کے کا بدلنا ثابت ہوگا، من الإطلاق إلى التقييد، اطلاق سے تقیید کی طرف۔ جی۔ وكذلك إذا قلنا الطواف بالبيت صلاة بالخبر، اسی طرح مولانا حدیث میں آتا ہے، بھئی: "الطواف بالبيت صلاة"، بھئی، بیت اللہ کا طواف کیا ہے؟ نماز ہے، یعنی نماز کی طرح ہے، بھئی، کس کی طرح ہے؟ نماز کی طرح ہے۔ تو یہ حدیث آئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اب قياس کرتے ہیں۔ حدیث میں کیا آیا کہ یہ طواف نماز کی طرح ہے، اور نماز کے اندر تو طہارت بھی شرط ہے، ستر عورت بھی شرط ہے، بھئی۔ طہارت بھی شرط ہے اور باوضو ہو آدمی اور نیز ستر عورت بھی شرط ہے کہ ستر کو ڈھانپا ہوا ہو، بھئی، ستر کو ڈھانپنا بھی شرط ہے۔ تو جیسے تو حدیث میں کہا طواف بھی نماز کی طرح ہے۔ تو نماز کے اندر تو ستر عورت بھی کیا ہے؟ شرط ہے اور طہارت بھی شرط ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ قياس کرتے ہیں کہ طواف میں بھی یہ دونوں چیزیں کیا ہوں گی؟ شرط ہوں گی۔ کس پر قياس کرتے ہوئے؟ نماز پر قياس کرتے ہوئے، اس لیے کہ حدیث میں طواف کو کس کی طرح قرار دیا گیا ہے؟ نماز کی طرح، اور نماز میں یہ دو شرطیں ہیں تو طواف میں بھی کیا ہوں گی؟ یہ دونوں شرطیں ہوں گی مولانا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، یہ دو شرطیں لگانا صحیح نہیں اس قياس کی وجہ سے، اس لیے کہ یہ ایسا قياس ہے جس کی وجہ سے نص کے حکم میں تبدیلی آ رہی ہے اطلاق سے تقیید کی طرف، بھئی، اطلاق سے۔ اس لیے کہ طواف کے بارے میں نص مطلق آئی ہے، کتاب اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں: "وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ"، اور چاہیے کہ وہ طواف کریں بیت عتیق کا، بھئی، طواف کریں بیت عتیق کا، اس پرانے گھر کا، اس قدیم گھر کا۔ تو یہاں پر دیکھیے، یہاں پر طہارت کی کوئی شرط، ذکر ہے؟ یہاں پر ستر عورت کی کوئی شرط ذکر ہے؟ تو یہاں پر مطلقا طواف کا ذکر ہوا ہے، مطلقا طواف کا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "والمطلق يجري على إطلاقه"، مطلق کو مطلق ہی رکھا جائے گا، اس کو مقید نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اب اس قياس کی وجہ سے اس کو مقید بنانا صحیح نہیں۔ تو وہ قياس جس کی وجہ سے نص کے حکم میں تبدیلی آئے اور مطلق کے بجائے اسے کیا بنانا پڑے؟ مقید بنانا پڑے، یہ درست نہیں۔ لہذا یہ قياس صحیح نہیں، بھئی۔ ہاں، وكذلك إذا قلنا، اور اسی طرح اگر ہم یہ کہیں: الطواف بالبيت صلاة، کہ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، بالخبر، بسبب خبر، یعنی حدیث کے۔ فيشترط له الطهارة وستر العورة، تو لہذا شرط لگائی جائے گی اس کے لیے طہارت کی اور ستر عورت کی، كالصلاة، جیسے نماز۔ بھئی، اگر ہم یہ کہیں کہ طواف بیت اللہ کا طواف جو ہے نماز کی طرح ہے، لہذا اس کے لیے بھی طہارت اور ستر عورت کی کیا لگانی چاہیے؟ شرط لگانی چاہیے جیسے نماز کی طرح ہے، فكان هذا قياسا، تو یہ کیا ہوگا؟ ایسا قياس ہوگا يوجب تغيير نص الطواف من الإطلاق إلى القيد، جو ثابت کرتا ہے طواف کی نص کے بدلنے کو۔ اس کی وجہ سے طواف کی نص کیا ہو جاتی ہے؟ بدل جاتی ہے، من الإطلاق إلى القيد، اطلاق سے قید، أي إلى التقييد، بھئی، قید کس معنی میں ہے؟ تقیید کے معنی میں ہے۔ تو بعض نسخوں میں تقیید ہی کا لفظ آیا ہے، بعض میں قید کا لفظ آیا ہے۔ اگر قید کا لفظ بھی ہو تو یہ بمعنی تقیید ہی کے لینا پڑے گا۔ تو نص طواف کی نص کو بدلنا لازم آئے گا من الإطلاق إلى التقييد، اطلاق سے تقیید کی طرف۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی نہیں ہے کہ طواف میں طہارت ہمارے نزدیک نہیں ہونی چاہیے یا ستر عورت نہیں ہونا چاہیے، یہ معنی نہیں، یعنی شرط نہیں ہے، یعنی شرط نہیں ہے، شرط۔ شرط تو فرض کے درجے میں ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فرض نہیں قرار دے سکتے۔ جی، والمثال الثالث، اور تیسرے کی مثال، وهو ما لا يعقل معناه، اور وہ قياس ہے جس کے کہ عقل میں نہ آتی ہو معناه، اس کی علت، بھئی۔ وہ قياس جس جس کی علت عقل میں نہ آتی ہو، وہ قياس بھی درست نہیں ہے، بھئی، وہ قياس بھی درست نہیں ہے۔ جی، تو وہ قياس جس کی علت عقل میں نہ آتی ہو، في حق جواز التوضؤ بنبيذ التمر، کس کے حق میں ہے؟ نبيذ تمر سے وضو کے جائز ہونے کے حق میں ہے۔ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں: نبيذ تمر سے وضو کرنے کے جائز ہونے کے حق میں ہے، بھئی۔ وہ قياس جس میں کیا ہے، بھئی؟ قياس کی صحت کے لیے تیسری شرط انہوں نے کیا ذکر کی تھی کہ وہ قياس غیر معقول بھی نہ ہو، یعنی اس کی علت ایسی نہ ہو جو عقل میں نہ آتی ہو جی۔ تو وہ قياس جس کی علت عقل میں نہ آتی ہو، نبيذ تمر سے وضو کے جائز ہونے کے حق میں ہے۔ نبيذ تمر سے وضو کا جائز ہونا یہ کیا ہے؟ خلاف القياس ہے، خلاف العقل ہے مولانا۔ خلاف القياس ہے اور خلاف اس کی علت عقل میں سمجھ آنے والی نہیں، بھئی، عقل میں نہیں آتی، بھئی۔ مسئلہ یہ مولانا کہ نبيذ تمر سے وضو کرنا جائز ہے مولانا، نبيذ تمر سے۔ نبيذ جانتے ہو کسے کہتے ہیں، بھئی؟ جی؟ پانی میں کھجور رکھ دیتے ہیں کچھ دیر کے لیے مولانا، تو ایک آدھ دن کے لیے کھجور رکھ دیتے ہیں اس میں، تو اس کی وجہ سے پر پانی میں پڑے رہنے کی وجہ سے کھجوریں چونکہ پانی میں پڑی رہیں، تو پانی میں اس کی مٹھاس آ جاتی ہے اور تو اسے کیا کہتے ہیں؟ نبيذ تمر، کیا کہتے ہیں؟ نبيذ تمر۔ زیادہ دیر رکھا جائے تو پھر اس میں بعض اوقات نشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یہ نبيذ تمر جو ہے، یہ پینا جائز ہے مولانا، بشرطیکہ اس سے نشہ نہ ہو، نشہ نہ ہو۔ اب حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کے لیے پانی نہ ملا، کہیں سفر وغیرہ میں ہوں گے، بھئی، تو پانی نہیں ملا اور نبيذ تمر صحابہ وغیرہ نے عرض کیا کہ نبيذ تمر موجود ہے، بھئی۔ نبيذ تمر، یا رسول اللہ، نبيذ تمر ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "تمرة طيبة وماء طهور"، بھئی۔ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا: "تمرة طيبة وماء طهور"، کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے۔ اور پھر اسی پانی سے، اسی نبيذ سے حضور علیہ السلام نے کیا فرما لیا؟ وضو فرما لیا، وضو فرما لیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تم حدیث کیا آئی مولانا؟ "تمرة طيبة وماء طهور"، طہور کا لفظ آیا، یاد رکھو، ایک ہوتا ہے طاہر، ایک ہوتا ہے طہور۔ طاہر وہ ہے جو خود پاک ہو، اور طہور وہ ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہو۔ طہور کسے کہتے ہیں جو خود پاک ہو اور دوسرے کو، یعنی طاہر بھی ہو اور مطہر بھی ہو۔ پاک، طاہر کا معنی پاک، اور مطہر کا معنی دوسرے کو پاک کرنے والا، تو طہور کس چیز کو کہیں گے؟ جو طاہر بھی ہو اور مطہر بھی ہو، جبکہ طاہر کا معنی جو خود پاک ہو۔ پھر طاہر کے اندر تو دونوں صورتیں بن سکتی ہیں، ہو سکتا ہے وہ مطہر ہو، ہو سکتا ہے وہ مطہر نہ ہو، بھئی۔ تو دیکھا، اس حدیث سے اب کیا ثابت ہوا کہ نبيذ تمر کے ساتھ کیا ہے؟ وضو کرنا جائز ہے۔ اور یہ نبيذ تمر سے وضو کا جائز ہونا خلاف القياس ہے، خلاف عقل ہے، یہ اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں، عقل میں آنے والی نہیں۔ اس لیے کہ طہارت تو وضو تو ہوگا پانی سے، بھئی، ماء سے، ماء، اور نبيذ تمر جو ہے اس کا تو الگ باقاعدہ نام ہے، اسے کوئی ماء نہیں کہتا، بلکہ اس کے کیا کہتے ہیں؟ نبيذ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو نام ہی الگ ہے، معلوم ہوا یہ الگ چیز ہے، الگ چیز ہے مولانا۔ تو حقیقت کے اعتبار سے بھی یہ الگ ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے بھی یہ کیا ہے؟ ماء نہیں ہے، اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ ماء نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے ماء نہیں، وجہ میں نے ذکر کر دی، اس لیے کہ اس پر ماء کے لفظ کا اطلاق نہیں ہوتا، اسے ماء نہیں کہتے، بھئی، اس کو بلکہ کیا کہتے ہیں؟ نبيذ کہتے ہیں۔ اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ ماء نہیں ہے، اس لیے کہ پانی جو ہے وہ نجاست کو زائل کرنے والا ہے، جبکہ نبيذ جو ہے، پانی کی طرح نجاست کو زائل نہیں کر سکتی۔ پانی تو نجاست کو اکھاڑ پھینک، اکھاڑ ڈالتا ہے، جڑ سے ہی ختم کر دیتا ہے، جبکہ نبيذ پانی کی طرح نجاست کو اکھاڑنے والی نہیں ہے۔ لازمی بات ہے، بھئی، اس میں کھجور کا رنگ بھی آ گیا، مٹھاس بھی آ گئی، تو اب وہ پانی کی طرح چیز کو صاف کرے گی؟ پانی کی طرح نجاست کو زائل کرنے والی نہیں ہوگی، بھئی۔ لیکن یاد رکھو، نبيذ یہ ایسی ہو جو گاڑھی نہ ہوئی ہو، بھئی، اگر گاڑھی ہو جائے، زیادہ دیر کھجوریں رکھیں، پھر تو اس سے بالاتفاق وضو صحیح نہیں ہے، بھئی۔ تو دیکھا، اب نبيذ نہ حقیقتا ماء ہے، نہ معنا ماء ہے، لہذا اس سے وضو جائز نہیں ہونا چاہیے، لیکن حدیث میں آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا۔ معلوم ہوا اس سے وضو جائز ہے، تو نبيذ تمر سے وضو کا جائز ہونا خلاف العقل ہوا۔ کیا ہوا؟ خلاف العقل ہوا، اور ضابطہ ہے کہ وہ حکم جو خلاف العقل ہو، اپنے مورد پر بند رہتا ہے، اس پر آگے قياس کرنا صحیح نہیں۔ وہ حکم جو کیا ہو؟ خلاف القياس ہو، اپنے مورد پر بند رہتا ہے، جائے ورود جس چیز کے بارے میں آیا، بھئی، اسی کے بارے میں رہے گا، اس پر آگے اور چیزوں کو قياس کرنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہاں پر نبيذ تمر سے وضو کا جائز ہونا خلاف القياس ہوا، لہذا اب اس پر باقی نبيذوں کو قياس کرتے ہوئے یہ کہنا کہ جیسے نبيذ تمر سے وضو جائز، اسی طرح اور نبيذوں سے بھی وضو کرنا جائز ہے، اور نبيذوں سے تو یہ قياس ان کا صحیح نہیں مولانا، یہ قياس کرنا صحیح۔ مثلاً بعض فقہاء کہتے ہیں، بھئی، جیسے نبيذ تمر کے ساتھ وضو جائز، تو اسی پر قياس کرتے ہوئے اب نبيذ نبيذ تین، یعنی زیتون کی نبيذ کے ساتھ بھی کیا ہے؟ وضو کرنا جائز، کیونکہ وہ بھی نبيذ ہے، یا اسی طرح نبيذ ہو جو کی ہو یا جوار وغیرہ کی ہو، اس سے بھی وضو کرنا جائز ہے۔ تو یہ قياس ان کا صحیح نہیں مولانا، اس لیے کہ یہ قياس ایسے حکم کا کیا جا رہا ہے جس کی علت عقل میں آنے والی نہیں۔ ہماری عقل میں اس کی علت نہیں آتی کہ اس نبيذ تمر سے وضو کیسے جائز ہے، جب علت ہی ہمیں سمجھ نہیں آتی تو باقی نبيذوں کو اس پر قياس کرنا صحیح نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں مسئلہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو کہتے ہیں: فالمثال الثالث شرك المثال وهو ما لا يعقل معناه، وهو قياس ما لا يعقل معناه وهو قياس، قياس قياس کرنا ہے ایسے ایسے حکم کو جس کی علت عقل میں آنے والی نہ ہو، فی حق جواز التوضي بنبيذ التمر، نبيذ تمر کے ساتھ وضو کے جائز ہونے کے حق میں ہے، فإنه لو قال، اس لیے کہ اگر کسی فقہاء میں سے کسی نے کہا جاز بغيره من الأنبذة، کہ وضو کرنا جائز ہے اس کے علاوہ نبيذ تمر کے علاوہ بھی من الأنبذة نبیذوں میں سے بالقياس على نبيذ التمر، قياس کرتے ہوئے نبيذ تمر پر، تو نبيذ تمر پر قياس کرتے ہوئے اور نبیذوں کے ساتھ بھی وضو کرنا جائز ہے، اگر فقہاء میں سے کسی نے یہ فرمایا، یہ ہے ہمارا نہ شرط، جزا اگلی سطر کے آخر میں آرہی ہے، لا يصح، مل گیا بھئی؟ لا يصح، تو یہ ہمارا نہ قياس صحیح نہیں، یہ قياس صحیح نہیں، کیوں؟ لأن الحكم في الأصل لم يعقل معناه، اس لیے کہ حکم جو اصل کے اندر ہے لم يعقل معناه، اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں ہے، عقل میں نہیں آتی، عقل میں نہیں آئی، فاستحالت تعديته إلى الفرع، تو محال ہوا اس حکم کو متعدی کرنا فرع کی طرف۔ اصل سے جب اصل میں ہمیں اس کی علت ہی نہیں سمجھ میں آرہی، تو فرع کی طرف ہم اس کو قياس کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ درمیان میں شرط پر عطف کرتے ہوئے ایک اور مسئلہ بھی ذکر کیا مصنف نے۔ وقال، اس کا عطف بھی اسی ماقبل قال پر ہے، اور وہ بھی شرط ہے تو یہ بھی کیا بنے گا؟ شرط، اور دونوں کی وہ جزا آگے میں نے بتلا دی لا يصح، یہ کیا ہے دونوں کی جزا ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے کہا لو شج في صلاته، یہ ہے وہ مسئلہ مولانا جو سنت کی بحث میں میں نے اپ کو بتلایا بھئی، حدیثِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے کس میں مسئلہ قئی میں، اس پر جو تقریر ہوئی تھی۔ بھئی دیکھو حدیث کے اندر آیا ہے بھئی، حدیث کے اندر آیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من قاء أو رعف أو أمذى في صلاته فليتوضأ وليبن على صلاته ما لم يتكلم، حاشیہ نمبر 6 میں یہ حدیث ہے مولانا، حاشیہ نمبر 6 میں، یہی حدیث لے لیں، یا وہی حدیث لے لیں جو وہاں پڑھی تھی مولانا، وہ بھی اسی کی طرح ہے بس وہاں أمذى کا لفظ نہیں ہے۔ جی، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں من قاء جس کو قئی آئے أو رعف یا نکسیر آئے أو أمذى یا مذی آئے في صلاته، کس میں؟ اس کی نماز میں فليتوضأ، صلاته ہونا چاہیے اس کی نماز میں فليتوضأ، تو اسے چاہیے کہ وضو کرے وليبن على صلاته، اور اس بنا کرے اپنی نماز پر ما لم يتكلم، جب تک اس نے کوئی بات نہیں کی۔ تو دیکھا اس حدیث کے اندر حکم ایک خلاف القياس حکم دیا جا رہا ہے، لہٰذا اس پر اور چیزوں کو قياس کرنا صحیح نہیں۔ خلاف القياس یہ کہ حدیث میں آرہا ہے کہ جس کو جس نے قئی کی یا نکسیر آئی یا مذی آئی، تو وہ کیا کرے؟ لوٹ کر جائے اور وضو کر کے آئے اور پھر اسی نماز پر بنا کرے۔ حالانکہ قئی کا آنا بھی اس سے بھی وضو ٹوٹے گا، نکسیر کے آنے سے بھی وضو ٹوٹے گا، اور مذی کے آنے سے بھی وضو ٹوٹے گا، تو یہ ساری چیزیں ہیں حدث، اور جب حدث لاحق ہو جائے تو طہارت تو ہوئی زائل، اور جب طہارت زائل ہو جائے گی تو نماز بھی کیا ہو جائے گی؟ نماز بھی ٹوٹ جائے گی، نماز پر بھی ٹوٹنے کا حکم لگانا چاہیے، تو اسی نماز پر بنا جائز نہیں ہونی چاہیے، لیکن حدیث میں کیا حکم دیا جا رہا ہے کہ اسی نماز پر بنا جائز ہے، تو یہ حکم خلاف القياس ہوا۔ یہ حکم کیا ہوا؟ یہ اسی نماز پر بنا کرنا خلاف القياس ہوا، لہٰذا اب اس کی علت عقل میں سمجھ میں آنے والی نہیں، تو لہٰذا اب اس پر کسی اور چیز کو قياس کرنا صحیح نہیں۔ لہٰذا اب اگر قياس کر کے یہ کہا جائے کہ کسی شخص کا سر نماز میں زخمی ہو جائے، کوئی اس کا سر کیا کر دے؟ زخمی کر دے، خون نکل آئے، یا کسی کو نماز میں احتلام ہو جائے، مثلاً التحيات میں سو گیا احتلام ہو گیا، تو اب کیا کرے؟ وہ پھر لوٹ کر جائے بھئی غسل وغیرہ کرے یا طہارت کر کے آئے، اور پھر آکر کیا کرے؟ اسی نماز پر بنا کرے، یہ قياس کرے بھئی، کیونکہ اس حدیث میں بھی کیا آیا، حدیث میں کیا آیا تھا؟ کہ حدث لاحق ہو جائے تو اسی پر کیا کر سکتا ہے؟ بنا کر سکتا ہے، تو اب یہ ان یہ بھی حدث ہیں، تو اب ان کی وجہ سے بھی کیا کرے؟ اسی نماز پر بنا کر سکتا ہے، یہ یہ قياس کرنا صحیح نہیں، اس لیے کہ وہاں پر اسی نماز پر جو بنا کا حکم دیا گیا ہے وہ غیر معقول ہے، وہ خلاف القياس ہے، اس کی علت ہی عقل میں آنے والی نہیں، کہ کیسے بنا کر سکتا ہے بھئی؟ حدث لاحق ہو چکا ہے، نماز کو تو ٹوٹ جانا چاہیے، لیکن حدیث سے ثابت ہے، تو لہٰذا اب بنا کر سکتا ہے، لیکن اب اس پر اور چیزوں کو قياس نہیں کر سکتا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وقال، اور اگر اسی طرح اگر کہا کسی فقہاء میں سے کسی نے لو شج في صلاته، اگر کسی شخص کو کا سر زخمی کر دیا جائے في صلاته، اس کی نماز میں، شج سر زخمی کرنا یا ویسے زخمی زخم لگانا بھئی، کسی کو کسی شخص کے سر کو زخمی کر دیا جائے في صلاته اس کی نماز میں أو احتلم یا کسی کو احتلام ہو جائے نماز میں يبن على صلاته، تو وہ بنا کرے اپنی اسی نماز پر بالقياس على ما إذا سبقه الحدث، قياس کرتے ہوئے بنا پر اس کے جب اس کو حدث لاحق ہو، جب اس کو کیا لاحق ہو؟ سبقه الحدث یعنی اسے حدث پیش آ جائے، جب اسے حدث پیش آ جائے۔ تو اگر کسی مشائخ میں سے، فقہاء میں سے کوئی یوں کہے، تو لا يصح، یہ قياس صحیح نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اوپر میں بھی کیا، اوپر بھی یہی کہا تھا لو قال جاز بغيره، اگر اور نبیذوں سے جائز ہونے کے بارے میں کوئی قول کرے، یا اسی طرح اگر احتلام یا زخمی ہونے کی صورت میں اسی نماز پر بنا کرنے کا کوئی قول کرے، لا يصح، تو یہ قياس صحیح نہیں لأن الحكم في الأصل لم يعقل معناه، اس لیے کہ حکم جو ہے اصل کے اندر اس کے اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں ہے فاستحالت تعديته إلى الفرع، تو محال ہوا اس کو متعدی کرنا فرع کی طرف۔ وبمثل هذا، اور اسی کے مثل قال، فرماتے ہیں أصحاب الشافعي رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب، یعنی فقہائے شوافع فرماتے ہیں قلتان نجستان إذا اجتمعتا صارتا طاهرتين، کہ جب دو قلہ کہتے ہیں یہاں ہم مٹکا، قلتان نجستان دو نجس مٹکے إذا اجتمعتا، جب جمع ہو جائیں صارتا طاهرتين، تو وہ دونوں کیا ہو جائیں گے؟ پاک ہو جائیں گے۔ بھئی ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اس مسئلے میں اتفاق ہے، کہ ماءِ قلیل کے اندر اگر نجاست واقع ہو جائے تو وہ پانی نجس ہو جاتا ہے، اور ماءِ کثیر کے اندر اگر نجاست واقع ہو تو پانی نجس نہیں ہوتا۔ ہم بھی کہتے ہیں ماءِ قلیل میں نجاست واقع ہو گئی تو وہ کیا ہو جائے گا؟ نجس، اور اگر ماءِ کثیر میں نجاست واقع ہو تو وہ نجس نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہ فرماتے ہیں اگر ماءِ قلیل کے اندر نجاست واقع ہو تو وہ پانی نجس ہو جائے گا، اور ماءِ کثیر کے اندر اگر نجاست واقع ہو تو وہ نجس نہیں ہوگا۔ اب ماءِ کثیر کتنا ہے؟ کس کو کہتے ہیں؟ تو ہمارے نزدیک مولانا یہ مبتلیٰ بہ کی رائے کے سپرد ہے۔ کس کی رائے کے سپرد ہے؟ مبتلیٰ بہ، یعنی رائے کو دیکھا جائے گا مبتلیٰ بہ کی۔ جی، تو کس کی رائے کے سپرد ہے؟ مبتلیٰ بہ کی رائے کے سپرد ہے، تو یعنی جسے مبتلیٰ بہ وضو کرنے والا شخص کثیر سمجھے وہ پانی کیا ہے؟ کثیر ہے، کثیر ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث سے ثابت کرتے ہیں بھئی۔ حدیث میں آتا ہے آپ کے حاشیہ نمبر 8 میں حدیث دی ہوئی ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں إذا بلغ الماء قلتين لم يحمل الخبث، جب پہنچ جائے پانی دو مٹکوں کی مقدار کو، جب پانی کتنا ہو؟ دو مٹکوں کی مقدار لم يحمل الخبث، تو وہ خبث یعنی نجاست کو نہیں اٹھاتا، یعنی نجس نہیں ہوتا، یعنی نجس نہیں ہوتا۔ حدیث سمجھ میں آئی بھئی؟ پانی جب کتنا ہو؟ إذا بلغ الماء قلتين، پانی جب کتنے کہاں تک پہنچ جائے؟ دو مٹکوں تک یعنی دو مٹکوں کی مقدار تک لم يحمل الخبث، تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا یعنی نجس ہو جاتا ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ دو مٹکے پانی کثیر ہے، کیا ہے؟ اس میں نجاست واقع ہو جائے تو یہ پانی نجس نہیں ہوگا، جب تک اس کے اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف نہ بدل جائے، رنگ، بو اور ذائقے میں سے کوئی ایک چیز نہ بدل جائے، اس وقت تک ماءِ کثیر نجس نہیں ہوگا۔ تو ان کے نزدیک ماءِ کثیر کتنا ہے؟ دو مٹکے ہیں، دو مٹکے ہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک مولانا دو مٹکے نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ مٹکے نہیں، ہم اس حدیث کے بہت سے جوابات دیتے ہیں، سو بہت سے جوابات۔ ایک مولانا یہ کہ قلہ کا لفظ آیا ہے، اور قلہ کا لفظ جیسے قلہ مٹکے کو کہتے ہیں، اسی طرح انسان کے قد کو بھی کہتے ہیں قلة، اسی طرح پہاڑ کی چوٹی کو بھی کیا کہتے ہیں؟ قلة۔ تو اس حدیث میں مٹکے کیوں آپ نے مراد لیے؟ انسان کا قد بھی تو مراد لے سکتے ہیں، اور پہاڑ کی چوٹی بھی تو مراد لے سکتے ہیں، اور انسان کے دو قد کے برابر پانی ہو یا دو پہاڑ کی چوٹی جتنا پانی ہو، پھر تو وہ کثیر ہے، پھر تو ہمارے نزدیک بھی کثیر ہے مولانا۔ تو آپ نے مٹکے ہی کیوں معنیٰ مراد لیے؟ نیز بعض میں تو بھئی تین مٹکوں کا ذکر ہے اس حدیث کی بعض روایتوں میں، بعض کے اندر اور زیادہ کا ذکر ہے مولانا۔ اس لیے ہم اس حدیث پر کیا ہے؟ عمل نہیں کرتے، عمل نہیں کرتے۔ نیز آپ نے کیا معنیٰ کیا؟ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں إذا بلغ الماء قلتين، کہ جب پانی پہنچ جائے دو مٹکوں تک یعنی دو مٹکوں کی مقدار تک لم يحمل الخبث، شاہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا کیا ترجمہ کیا؟ کہ وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا، یعنی کہ وہ نجس نہیں ہوتا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، معنیٰ یہ ہے وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا یعنی نجس ہو جاتا ہے، نجاست کو برداشت نہیں کرتا، نجس ہو جاتا ہے بھئی، معنیٰ یہ ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھیے اب اس حدیث کے اندر جو حکم آیا کہ دو مٹکے پانی ہو، اگر اس حدیث سے ثابت ہونے والے حکم کو تسلیم بھی کر لیا جائے، کہ دو مٹکے پانی ہو اس میں نجاست واقع ہو تو وہ نجس نہیں ہوتا، تو یہ مولانا یہ ایک حکم خلاف القياس ہے، غیر معقول ہے، اس لیے کہ جب نجاست واقع ہوئی ہے تو پانی کو کیا کہنا چاہیے؟ نجس کہنا چاہیے، لیکن حدیث میں کیا حکم دیا جا رہا ہے کہ دو مٹکے کی مقدار ہو تو نجس نہیں ہوگا۔ تو یہ حکم قياس کے مطابق ہوا یا خلاف القياس ہوا؟ خلاف القياس ہوا۔ خلاف القياس حکم کیا ہے؟ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، اس پر قياس کرنا آگے صحیح نہیں۔ تو اس حدیث میں دو مٹکے پانی پر پاک ہونے کا حکم لگایا گیا ہے، اور یہ حکم ہے خلاف القياس، لہٰذا اس پر آگے قياس کرنا صحیح اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں کہ یہ نجس کیوں نہیں ہوگا بھئی۔ تو چنانچہ اسی پر قياس کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ کے فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر دو نجس مٹکے ہوں، دو مٹکے ہیں مولانا، ان دونوں کے اندر جو پانی ہے وہ کیا ہے؟ نجس، ان دونوں کو ملا دیا گیا۔ جب ملایا تو کتنے بن گئے؟ دو مٹکے بن گئے، اور حدیث میں آیا ہے جب دو مٹکے پانی ہو جائے تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا یعنی نجس، تو لہٰذا یہ کہتے ہیں یہ پاک ہو جائے گا۔ جیسے وہ دو مٹکے پانی کے اندر نجاست گرے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا، تو یہ دو پانی جب مل گئے یہ بھی کیا ہوں گے؟ ان پر بھی ناپاک ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ یہ دونوں کیا ہو جائیں گے اب؟ پاک ہو گئے، اور پاک ہو گئے، اب ان دونوں کو پھر الگ الگ کر لو، اب یہ پاک رہیں گے، اب کیا ہیں یہ؟ پاک رہیں گے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، جو حدیث میں حکم ہے وہ خلاف القياس اور اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں، لہٰذا اس پر اب آگے قياس کرنا صحیح نہیں۔ وبمثل هذا، اور اسی کے مثل قال أصحاب الشافعي رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب فرماتے ہیں قلتان نجستان إذا اجتمعتا صارتا طاهرتين، کہ دو نجس مٹکے جب جمع ہو جائیں صارتا طاهرتين، تو دونوں کیا ہو جائیں گے؟ پاک ہو جائیں گے فإذا افترقتا بقيتا على الطهارة، پس دونوں جب وہ جدا ہوں گے تو پھر باقی رہیں گے اپنی طہارت پر۔ جب ملانے کے بعد پاک ہو گئے تو اب جب پھر الگ کر دیں گے تو بھی کیا رہیں گے؟ پاک ہی رہیں گے بالقياس على ما إذا وقعت النجاسة في القلتين، قياس کرتے ہوئے اس پانی اس اس صورت پر جب نجاست واقع ہو جائے في القلتين، کس میں؟ دو دو گھڑوں میں دو مٹکوں میں، جب اور نجاست واقع ہو تو جیسے وہ نجس نہیں ہوتا یہ بھی اب نجس نہیں ہوگا لأن الحكم لو ثبت في الأصل، یہ قياس کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر حکم جو ہے اگر وہ ثابت ہو جائے اصل کے اندر، اگر مصنف کیا فرما رہے ہیں حکم اگر ثابت ہو جائے اصل میں، کیونکہ ہمارے نزدیک یہ حکم ثابت ہی نہیں، ہاں اگر ثابت مان بھی لیا جائے اس کو، تو كان غير معقول معناه، معناه کا کیا ترجمہ میں کر رہا ہوں بھئی؟ علت کے معنیٰ کر رہا ہوں، آپ کو پہلے بتلا چکا ہوں بھئی، علت کے معنیٰ۔ تو اس لیے کہ اگر یہ حکم ثابت بھی ہو جائے اصل کے اندر یہ مان بھی لیا جائے تو كان غير معقول معناه، تو اس کی علت غیر معقول ہے، یعنی عقل میں آنے والی نہیں ہے، لہٰذا اس پر قياس کرنا صحیح نہیں۔ چلیے بس مولانا هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔