فصل فی النساء اما الزوجات فحالان الربع للواحده فصاعدا عند عدم الولد وولد الابن و ان سفل و الثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل فصل فی النساء بھئی، عورتوں کے بارے میں فصل، یعنی ان کے حصوں اور ان کے احوال بیان ہوں گے۔ عورتوں کے بھئی ذوی الفروض کے بارے میں ہم پڑھ رہے ہیں تو ذوی الفروض میں چار مرد تھے جن کے احوال آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ وہ احوال یاد ہیں یا بھول گئے بھئی؟ یاد ہیں۔ روزانہ خوب جس قدر دہرہ سکیں دہراتے رہیں، ان شاء اللہ پھر آگے اتنی آسانی ہو جائے گی کہ ارام سے ہر ہر مسئلہ حل کر سکیں گے۔ تو سب سے پہلے ان کے اندر آپ نے کس کے احوال پڑھے تھے؟ والد کے۔ والد کے کتنے احوال ہیں؟ تین۔ تین احوال ہیں، پہلی حالت فرض مطلق تھی، دوسری حالت فرض و تعصیب اور تیسری حالت تعصیب محض کہ صرف عصبہ بنے گا بھئی۔ اور اس کے بعد کس کی جد کی بھی بتلایا، وہی تین حالتیں ہیں جو والد کی ہیں اور اس کے بعد آخر کے اندر۔ اہ اخیاتی بہن بھائیوں کی، ان کی کتنی حالتیں تھیں؟ تین حالتیں تھیں، پہلی حالت سدس۔ سدس ملے گا، دوسری حالت ثلث۔ ثلث ملے گا اور تیسری حالت حرمان میراث ہوگا بھئی، تین حالتیں اور اس کے بعد خاوند کی دو حالتیں آپ نے پڑھیں کہ کبھی خاوند کو نصف ملتا ہے اور کبھی ثلث ملتا ہے جب اولاد وغیرہ ہو بھئی۔ اب عورتیں وہ ذوی الفروض میں سے آٹھ تھیں بھئی، تو ان میں سے پہلے زوجہ کا ذکر کرنے لگے ہیں کیونکہ اس سے پہلے زوج کا ذکر گزرا تھا تو اس کی مناسبت سے پہلے زوجہ کے احوال ذکر کر رہے ہیں تو کہتے ہیں اما للزوجات فحالان باقی زوجات بیویاں جو ہیں ان کی دو حالتیں ہیں الربع للواحده فصاعدا ربع جو ہے وہ ایک یا جس سے زیادہ ہوں ان کے لیے ربع ہوگا۔ کب چوتھا حصہ ملے گا؟ چاہے ایک ہو یا ایک سے۔ بھئی ایک بیوی ہو یا دو ہوں یا تین ہوں یا چار ہوں ربع ملے گا اسی کو پھر آپس میں تقسیم کریں گی۔ اگر ایک ہوئی تو سارا ربع اسی کا۔ اگر دو ہوئیں تو اسی ربع کو آپس میں کیا کر لیں گی؟ آدھا آدھا تقسیم۔ اگر تین بیویاں ہوئیں تو اس کے تین حصے کر لیں گے۔ بہرحال ملے گا ربع ہی، یہ معنی نہیں دو بیویاں تو ایک کو الگ ربع دیں گے دوسری کو الگ ربع، یہ معنی نہیں ہے بلکہ ربع بیوی کا حصہ چاہے للواحده فصاعدا ایک کے لیے بھی اور ایک سے زیادہ کے لیے بھی۔ عند عدم الولد جبکہ اولاد نہ ہو بھئی۔ وولد الابن اور اسی طرح بیٹے کی بھی اولاد نہ ہو و ان سفل اگرچہ نیچے تک یعنی معلوم ہوا اگر خاوند کا انتقال ہوا اور اس کا بیٹا بیٹی کوئی نہیں اور پوتا پوتی کوئی نہیں اسی طرح پڑپوتا پڑپوتی نہ ہوں بھئی، تو یہ جب نیچے تک ان میں سے کوئی بھی نہ ہو یعنی اولاد نہ ہو تو پھر اس صورت میں بیوی کو اس کے مال میں سے کتنا حصہ دے دیں گے؟ چوتھا حصہ دے دیں گے۔ و الثمن مع الولد او ولد الابن و ان سفلا اور ثمن دیں گے کب مع الولد؟ جب میت کی تو مرنے والے کی اولاد ہو یا بیٹے کی اولاد ہو نیچے تک بھئی، یعنی بیٹا یا بیٹی پوتا یا پوتی یا پڑپوتا یا پڑپوتی ان میں سے کوئی بھی آجائے تو بس اب بیوی کو چوتھا حصہ نہیں ملے گا، آٹھواں حصہ ملے گا چاہے ایک بیوی ہو چاہے زیادہ بیویاں ہوں، پھر اسی آٹھویں حصے کو وہ کیا کر لیں گی آپس میں تقسیم کر لیں گی۔ تو معلوم ہوا زوجہ کی دو حالتیں ہیں ربع اور ثمن۔ واما لبنات الصلب فاحوال ثلاثہ باقی حقیقی بیٹیاں جو ہیں ان کے تین احوال ہیں۔ تین احوال ذکر ہوں گے مولانا، نصف ثلثان اور عصبہ بغیر بھئی۔ تین احوال کون کون سے ہوں گے؟ نصف، ثلثان اور عصبہ بغیر۔ تو بتلانے لگے النصف للواحده نصف جو ہے ایک کے لیے ہوگا یعنی اگر ایک ہی بیٹی ہے بھئی بیٹا کوئی نہیں تو اس بیٹی کو کتنا دیں گے؟ نصف مال دے دیں گے۔ و الثلثان للثنتین فصاعدا اور دو تہائی مال ہوگا للاثنتین فصا- تین، دو کے لیے فصاعدا یا زیادہ کے لیے۔ اگر بیٹا تو کوئی نہیں بیٹیاں دو ہیں یا دو سے زیادہ ہیں تو پھر ان کو دو ثلث، دو تہائی مال دے دیا جائے گا بھئی، دو تہائی مال۔ تو یاد رکھیے بنات کے لیے مؤنث کے لیے صرف ان کو دو تہائی مال ہی ملتا ہے بھئی، اس سے زیادہ نہیں دیں گے ہم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس سے زیادہ نہیں، بطور ذوی الفروض کے بھئی۔ تو ایک ہو تو اس کو نصف دے دیں گے۔ اور اگر اور کوئی رشتہ دار نہ ہوا تو پھر باقی کا آدھا بھی اسی پر رد ہو جائے گا، سارا مال یہ لے جائے گی۔ لیکن اور رشتہ دار ہیں تو بس اس کو صرف نصف دیں گے۔ دو سے زیادہ ہیں تو صرف کتنا دے دیں گے؟ ثلثان ہی دیں گے بس۔ ومالابن للذکر مثل حظ الانثیین اور بیٹے کے ساتھ جو ہے یاد رکھیے بیٹا اس کو عصبہ بنا دے گا اپنے ساتھ۔ میت کی بیٹی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بیٹا بھی ہے تو بیٹا اس کو کیا بنا دے گا؟ عصبہ۔ اس کو عصبہ بالغیر کہیں گے ای بالسَبَب الغیر، یہ غیر کی وجہ سے عصبہ بن گئی یعنی بیٹے کی وجہ سے بھئی۔ عصبہ بالغیر۔ اور پھر مال ان کے درمیان تقسیم ہوگا للذکر مثل حظ الانثیین کہ مذکر کے لیے دو مؤنث کے حصوں کے مثل ہوگا، یعنی دو مؤنث کے برابر حصہ ملے گا۔ تو بیٹا گویا کہ دو بیٹیوں جتنا مال ایک بیٹا لے جائے گا بھئی۔ تو اب میت کا صرف ایک بیٹا ہے، ایک بیٹی ہے ایک بیٹی ہے۔ اور تیسری صورت بھی ملا لیں بیوی بھی ہے خاوند کا انتقال ہوا تو بیوی کو کتنا دیں گے؟ ثمن آٹھواں حصہ دے دیں گے۔ باقی کے سات حصے بیٹے اور بیٹی کے درمیان اس طرح تقسیم کرنے کہ اس کے تین حصے بنا لیں گے اور دو حصے بیٹے کو دیں گے اور ایک حصہ بیٹی کو۔ اگر دو بیٹے ایک بیٹی ہوئی تو تو اب کل مال کے، بیٹا کتنے بیٹیوں کے برابر ہے؟ دو، تو کتنے ہو گئے گویا کہ؟ پانچ حصے کر لیں گے، دو حصے ایک بیٹے کو، دو دوسرے کو اور ایک حصہ بیٹی کو بھئی۔ تو کہتے ہیں ومالابن للذکر مثل حظ الانثیین اور بیٹے کے ساتھ جو ہے مذکر کے لیے دو مؤنث کے حصوں کے مثل ہوگا وھو یعصبھن اور بیٹا ان بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا۔ و بنات الابن كبنات الصلب اور بیٹے کی بیٹیاں جو ہیں یعنی پوتیاں کبنات الصلب یہ کس کی طرح ہیں؟ حقیقی بیٹی کی طرح ہیں۔ یعنی جیسے حقیقی بیٹی کے تین احوال تھے بھئی، تین احوال، نصف اور ثلثان اور عصبہ بالغیر۔ اسی طرح پوتی جو ہے اس کے بھی یہ تین احوال ہیں بھئی۔ نصف اور ثلثان اور عصبہ بالغیر، البتہ یہ کہ تین اور حالتیں بھی ہیں تو ان کی کل کتنی حالتیں ہو گئیں؟ چھ جو آگے ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں ولھن احوال ست اور ان کے چھ احوال ہیں۔ چھ احوال لکھ لیجیے بھئی۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے احوال بھئی الگ الگ یاد کرتے جائیں، مثلاً والد صاحب والد کے یاد کرنے لگے ہیں تو فرض مطلق، فرض و تعصیب اور تعصیب محض۔ اسی طرح زوجہ کی حالت یاد کرنے لگے ہیں دو حالتیں ربع اور ثمن۔ خاوند کی حالتیں دو ہیں، نصف اور ربع اور اسی طرح حقیقی بیٹی کی تین حالتیں نصف، ثلثان اور عصبہ بالغیر بھئی، تو اس طرح اور پھر آگے تفصیل الگ یاد کریں لیکن یہ ساتھ جلدی ذکر ہو جاتے ہیں۔ تو چھ احوال ہیں بھئی۔ ایک تو نصف ہے بھئی نصف چھ احوال ذکر ہونے لگے ہیں بھئی پوتی کے، نصف۔ دوسری حالت ہے ثلثان ثلثان۔ تیسری حالت لکھیں سدس چھٹا حصہ، سدس۔ چوتھی حالت لکھ لیں محجوب بالبنات محجوب بالبنات محجوب، حا محجوب بالبنات۔ پانچویں حالت لکھیں محجوب بالابن محجوب بالابن اور چھٹی حالت عصبہ بالغیر عصبہ بالغیر۔ اور یہ جو بنات الابن کہا، پوتی صرف پوتی نہیں مراد بھئی۔ پوتی ہو، پڑپوتی ہو لکڑپوتی ہو، سکڑپوتی ہو، سب اس کے اندر آ گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے دیکھیے یاد رکھیے اگر بیٹی نہیں ہے، بیٹا بھی نہیں ہے، بیٹی بھی نہیں ہے صرف ایک پوتی ہے۔ تو یہ پـ اگر حقیقی بیٹیاں نہ ہوں، بیٹے نہ ہوں تو یہ جو پوتیاں ہیں یہ وہی بیٹیوں کی طرح ہو جائیں گی بھئی۔ اور اگر اسی طرح پوتیاں نہیں ہیں بلکہ پڑپوتیاں ہیں تو وہ کس کی وہ بھی حقیقی بیٹی کی جگہ لے لیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ اور اگر پوتی بھی ہے، پڑپوتی بھی ہے تو پوتی کس کی جگہ، کس کی طرح ہو گئی؟ کیونکہ بیٹی تو نہیں ہے تو پوتی کس کی طرح ہوئی گویا کہ؟ یہ حقیقی بیٹی کی وہ صورتیں اس میں جاری ہوں گی۔ اور جو پڑپوتی ہے میں کون سی حالتیں جاری ہوں گی؟ اس میں پوتی والی حالتیں پھر جاری ہوں گی بھئی۔ بات سمجھ میں ائی؟ بیٹی ہوتی اور پوتی ہوتی، تو بیٹی میں بیٹی کے حصے جاری ہوتے اور پوتی کے اندر پوتی کے حصے، لیکن اگر بیٹی نہیں ہے، تو پوتی بیٹی کی جگہ ہو گئی اور پڑپوتی کس کی جگہ ہو گئی؟ پوتی کی جگہ ہو گئی، تو ان میں اسی طرح حصے جاری ہوں گے۔ تو کہہ رہے ہیں ولہن احوال ستن کہ چھ احوال ہیں النصف للواحدة نصف کتنے کے لیے ہوگا؟ ایک ہی اگر پوتی ہے بیٹی بھی نہ ہو، بیٹا بھی نہ ہو اور صرف ایک پوتی ہے اور پوتا بھی ساتھ نہ ہو بھئی۔ والثلثان للإثنتين فصاعدا اور دو ثلث ہوں گے للإثنتين دو کے لیے فصاعدا یا دو سے زیادہ کے لیے، اگر پوتیاں دو یا دو سے زیادہ ہیں، تو ان کو کتنا دیں گے؟ دو ثلث دیں گے، لیکن اس کے ساتھ کیا دیکھنا ہے آپ نے کہ بیٹی نہیں ہونی چاہیے بیٹی یا بیٹا، اسی طرح ان کے ساتھ کوئی پوتا بھی نہیں ہونا چاہیے بھئی پوتی کے ساتھ کیونکہ اگر پوتا ساتھ آ گیا وہ ان کو عصبہ بنا دے گا۔ کیا بنا دے گا؟ عصبہ بنا دے گا۔ تو اس میں کتنی شرطیں ہو گئیں؟ پوتی کو کیا ملے گا؟ ایک ہو تو نصف ملے گا ایک کب؟ بیٹا بیٹی بھی کوئی نہ ہو اور اس پوتی کے برابر میں کوئی پوتا بھی نہ ہو، تو پھر یہ اکیلی ہے اس کو کتنا دے دیں گے؟ نصف اور اگر اس کے ساتھ پوتا آ گیا تو وہ اس کو کیا بنا دے گا؟ عصبہ بندہ بنا دے گا جو آخری چھٹی صورت آنے والی ہے عصبہ بالغیر۔ اور اگر اس کے اوپر بیٹا آ گیا پوتی ہے لیکن ساتھ میت کا بیٹا بھی زندہ ہے۔ چاہے وہ اس کا والد ہے چاہے چچا ہے والد نہ ہو لیکن بیٹا تو آ گیا، تو پھر بیٹے کی صورت میں ان کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ قریب والا جب موجود ہے تو دور والے کو کچھ نہیں ملے گا ضابطہ سمجھ میں آیا؟ یعنی میت کا جب انتقال ہوا تو اس کے بیٹے کا انتقال ہو چکا اور اولاد میں سے کوئی نہیں ہے صرف ایک پوتی ہے اور اگر اس پوتی کا چچا بھی زندہ ہے یعنی میت کا دوسرا بیٹا، تو پھر اس پوتی کو کچھ نہیں ملے گا یہ آگے صورت پانچویں صورت جو میں نے ذکر کی محروب بالابن یہ محروب ہو جائے گی کس کی وجہ سے؟ بیٹے کی وجہ سے بھئی۔ اور اگر میت کی بیٹی ہوئی چلیں یہ آگے آ رہی ہیں صورتیں بھئی کہتے ہیں النصف للواحدة نصف ملے گا ایک کے نصف ہوگا ایک کے لیے والثلثان للإثنتين فصاعدا اور دو تہائی ہوں گے دو کے لیے یا دو سے زیادہ یعنی دو یا دو سے زیادہ پوتیاں ہوں تو ان کے لیے دو ثلث ہوں گے۔ میں نے بتایا ذوی الفروض کے طور پر یہ جو بیٹیاں پوتیاں ہیں ان کو دو ثلث سے زیادہ حصہ نہیں ملے گا، تو دو ثلث سے یہ پورے خود بتلا رہے ہیں عند عدم بنات صلب یہ کس وقت ہیں پوتیوں کی حالتیں؟ جب حقیقی بیٹی حقیقی بیٹیاں نہ ہوں۔ ولہن السدس مع الواحد الصلبیة اور ان کے لیے سدس ہوگا پوتیوں کے لیے سدس یعنی چھٹا حصہ ہوگا مع الواحد الصلبیة ایک حقیقی بیٹی کے ساتھ۔ ایک حقیقی بیٹی کے ساتھ کتنا ملے گا ان کو؟ سدس ملے گا تکملۃ للثلثین دو تہائی پورا کرنے کے لیے کیونکہ بیٹیوں کو زیادہ سے زیادہ کتنا دینا ہے؟ دو تہائی دینا ہے دو تہائی سے زیادہ نہیں بطور ذوی الفروض کے۔ دیکھیے بھئی مسئلہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی ایک بیٹی ہے اور ایک ہی پوتی ہے تو بیٹی کو کتنا دیں گے کون سی حالت ہے؟ نصف دے دیں گے۔ نصف دے دیا اور پھر اس کے بعد پوتی کو کہتے ہیں پوتی کو چھٹا حصہ دے دیں گے تاکہ دو ثلث پورے ہو جائیں دو ثلث سے زیادہ تو ہم نے بیٹیوں کو نہیں دینا تو کس طرح یہ سدس پورا ہوگا دیکھیے فرض کریں مال کے چھ حصے کر لیں کتنے حصے؟ چھ میں سے بیٹی کو کتنے دے دیں گے؟ تین حصے اچھا اور کل مال کی مال کے کل کتنے حصے کیے ہیں؟ چھ سدس کتنا بنے گا چھٹا حصہ؟ ایک تو بیٹی کو مل گئے گویا کہ تین حصے اور پوتی کو مل جائے گا ایک تو یہ کتنے بن گئے؟ چار اب بتائیے بھئی چھ کا ثلث کتنا ہے؟ ثلث تین حصے کریں چھ کے ایک حصے میں کتنے آتے ہیں؟ دو یہ ہے ثلث اور دو ثلث کتنا ہو جائے گا؟ چار تو دیکھو چار بن گیا یا نہیں تین ایک بیٹی کو دیے اور ایک کس کو دے دیا پوتی کو تو یہ دو تہائی یعنی چار حصے بن گئے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ یہ معنی ہے ولہن السدس مع الواحد الصلبیة اور ان کے لیے چھٹا حصہ ہے ایک حقیقی بیٹی کے ساتھ تکملۃ للثلثین پورا کرنے کے لیے دو تہائی کو ولا یَرِثْن مع الصلبیّتین اور یہ وارث نہیں ہوں گی دو صلبی دو حقیقی بیٹیوں کے ساتھ بھئی جب دو حقیقی بیٹیاں اوپر موجود ہیں نیچے ایک پوتی بھی موجود ہے تو اوپر آپ نے پڑھا تھا بیٹیوں کے احوال میں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو کتنا ملتا ہے؟ ثلثان مل جاتا ہے ثلثان تو اوپر ہی پورا ہو گیا تو لہذا اب پوتی کو کچھ نہیں کیونکہ بیٹیوں کو ہم نے زیادہ سے زیادہ کتنا دینا تھا؟ ثلثان وہ اوپر ہی پورا ہو گیا تو اسی کو میں نے تعبیر کس سے ذکر کر دیا محروب بالبنات کہ یہ محروب ہیں بنات کی وجہ سے بھئی۔ अच्छा तो कहते हैं ولا یَرِثْن مع الصلبیّتین اور یہ وارث نہیں ہوں گی دو حقیقی بیٹیوں کے ساتھ الا ان یكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام مگر یہ حزاء کہتے ہیں مقابل سامنے کو بھئی یعنی برابر میں برابر میں مگر یہ کہ ان یكون بحذائهن مگر یہ کہ ان کے برابر میں یا أسفل منهن یا ان سے نیچے جو ہے غلام کوئی لڑکا ہو عربی میں غلام لڑکے کو بھی کہتے ہیں بھئی ان کے نیچے کوئی لڑکا ہو یعنی پوتا ان کے برابر میں ہو یا کوئی پوتا ہو یا ان سے نیچے ہو یعنی پڑپوتا ہو فیعصبهنه تو وہ ان کو کیا بنا دے گا؟ عصبہ بنا دے گا۔ क्या بنا देगा؟ عصبہ بنا دے گا۔ بھئی دیکھیے میت کے مثلاً دو بیٹ دو بیٹیاں ہیں اور ایک پوتی اور ایک پوتا ایک پوتی اور ایک پوتا تو دو بیٹیاں جو ہیں ان کو کتنا دے دیں گے؟ ثلثان دے دیں گے۔ اب باقی پوتیوں نے محروم ہونا تھا کیونکہ دو ثلث پورے ہو چکے لیکن ان پوتیوں کے برابر میں کہ کون آ گیا؟ پوتا ایک لڑکا آ گیا وہ ان کو عصبہ بنا دے گا اور پھر ما بقیہ مال ان دونوں کے درمیان اسی طرح تقسیم ہوگا للذکر مثل حظ الأنثیین بھئی کہ مذکر کو دو مونث کے حصے ملیں گے اور یاد رکھیے جو پوتا آئے یا پڑپوتا آئے یا لکڑپوتا آئے وہ عصبہ بنا دیا کرتا ہے کس کس کو عصبہ بنائے گا؟ ضابطہ یاد رکھنا اوپر جو ہیں جن کو حصے مل چکے ان کو نہیں جو جو جن کو حصے نہیں ملے جو رہ گئی تھیں ان کو بھی عصبہ بنا دے گا اور اپنے برابر والوں کو بھی۔ لڑکا کن کن کو عصبہ بنائے گا؟ اپنے اوپر اپنے اوپر سے اپنے اوپر جو محروم ہو رہی تھیں ان کو بھی بنا دے گا اور اپنے برابر والے کو بھی بنا دے گا۔ دیکھو مثلاً یہ ایک شخص کا انتقال ہوا اس کی دو بیٹیاں ہیں اور پھر ایک پوتی ہے اور پھر ایک پڑپوتی ہے اور پھر ایک لکڑپوتی ہے اور اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی ہے لکڑپوتا اب بتائیے بھئی بیٹیوں کو کتنا ملے گا؟ ثلثان پوتی کو کچھ ملے گا؟ نہیں ملے گا کیونکہ اوپر دو ثلث پورے ہو چکے پڑپوتی کو کچھ ملے گا؟ اسے بھی کچھ نہیں ملے گا اس سے نیچے کون آیا؟ لکڑپوتا اور لکڑپوتی آئی تو وہ لڑکا اپنے برابر والی یعنی لکڑپوتی کو بھی عصبہ بنائے گا اور اوپر کون محروم ہو رہی تھی؟ پڑپوتی بھی محروم ہو رہی تھی اس کو بھی عصبہ بنا دے گا اور کون محروم ہو رہی تھی؟ پوتی بھی محروم ہو رہی تھی ان سب کو وہ عصبہ بنا دے گا تو گویا کہ کتنی لڑکیاں ہوئیں؟ تین تین لڑکیاں اور ایک لڑکا اب ان کے درمیان مال کس طرح تقسیم کریں گے؟ لڑکے کو لڑکیوں سے دوگنا یعنی یہ دو لڑکیوں کے برابر ہے تو کل کتنی ہو گئیں؟ پانچ گویا کہ پانچ ہو گئیں تو مال کے پانچ حصے کریں گے دو حصے کس کو دے دیں گے؟ لڑکے کو وہ جو ایک ثلث باقی بچا ہوا ہے اس کی بات ہو رہی ہے اس ایک ثلث کے پانچ حصے ہوں گے دو کس کو دے دیں گے؟ لڑکے کو دے دیں گے اور ایک ایک حصّہ پوتے پڑپوتے اور لکڑپوتی کو دے دیں گے بھئی صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ معنی ہے الا ان یكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فیعصبهنه مگر یہ کہ ان کے برابر میں یا ان سے نیچے کوئی لڑکا ہو تو وہ ان کو عصبہ بنا دے گا والباقی بینهم للذکر مثل حظ الأنثیین اور باقی جو مال ہوگا یعنی جو باقی مال بچ گیا ہے باقیوں کو دینے کے بعد وہ ان کے درمیان للذکر مثل حظ الأنثیین کے طریقے پر تقسیم ہوگا ویسقُطْن بالابن اور پوتیاں وغیرہ جو ہیں وہ ساقط ہو جاتی ہیں بیٹے کی وجہ سے کیا ہو جاتی ہیں؟ تو یہ محروب بالابن ہوئیں بھئی یہ وہ صورت آ گئی بھئی پانچویں صورت صورتیں اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی تو یہاں دیکھیے اس کی چھ حالتیں آ گئیں اب ان حالتوں کو خوب پختہ کرتے جاؤ تو یہ آپ کو یاد رہیں گی تو آگے مسائل حل ہوں گے اور بڑا لطف آتا ہے بھئی مسئلہ نکالنے کا لیکن تھوڑی سی محنت کرتے رہیں روزانہ دہراتے رہیں روزانہ روزانہ دہراتے رہیں اس کو بھئی چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام