تو وارثوں کی دس قسموں میں سے پہلی پانچ قسموں کی تفصیل گزر گئی بھئی۔ چھٹی قسم ہے ذوی الارحام، ذوی الارحام۔ بھئی ذوی الارحام کسے کہتے ہیں؟ ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ باقی رشتہ دار ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ ذوی الفروض اور عصبات کے علاوہ باقی رشتہ دار ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ مثلاً بھانجا، بھانجی، نواسا، نواسی، خالہ، ماموں، پھوپھی وغیرہ۔ خالہ، ماموں، پھوپھی وغیرہ یہ ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ تو اگر پہلی پانچ قسموں میں سے کوئی نہ ہو یا مال بچ جائے تو وہ ذوی الارحام کو دیا جائے گا بھئی۔ اور اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو پھر چھٹی قسم ہے مولائے موالات بھئی، ساتویں قسم۔ ساتویں قسم مولائے موالات ہے۔ مولائے موالات وہ شخص جس کے ساتھ میت نے عقد موالات کیا تھا۔ مولائے موالات وہ جس کے ساتھ مرنے والے نے عقد موالات کیا تھا۔ مثلاً بھئی عقد موالات اسے کہتے ہیں کہ کوئی مجہول النسب شخص کہ کوئی مجہول النسب شخص کسی دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے مال کے وارث تم ہو گے۔ میرے مرنے کے بعد میرے مال کے وارث تم ہو گے۔ بشرطیکہ زندگی میں مجھ سے کوئی جرم اور جنایت ہو جائے بشرطیکہ زندگی میں مجھ سے کوئی جرم یا جنایت ہو جائے تو ضمان اور دیت تم ادا کرو گے۔ تو ضمان اور دیت تم ادا کرو گے اور وہ دوسرا شخص اسے قبول کر لے اور وہ دوسرا شخص اسے قبول کر لے تو یہ دونوں کے درمیان جو عقد ہوا اسے عقد موالات کہتے ہیں۔ تو دونوں کے درمیان یہ جو عقد ہوا اسے عقد موالات کہتے ہیں۔ تو جب یہ مجہول النسب شخص کا انتقال ہو جائے گا اور اس کے وارثوں میں سے کسی کا علم ہی نہیں کسی کا علم ہی نہیں تو پھر مولائے موالات کو تو پھر جس شخص کے ساتھ عقد موالات ہوا تھا اسے یہ مال بطور وراثت کے دے دیا جائے گا۔ تو یہ مال لینے والا مولائے موالات ہے بھئی، مولائے موالات ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ عقد کیا ہے تو اس کو مال ملے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلی چھ قسموں میں سے کوئی نہ ہو۔ اگر ان میں سے کسی کا پتہ لگ جاتا ہے تو پھر وہ مال کے حقدار ہوں گے اور مال یہاں تک بچتے بچتے ساتویں قسم تک پہنچا تو پھر اسے ملے گا ورنہ نہیں بھئی۔ تو پھر مولائے موالات کو ملے گا بھئی۔ آٹھویں نمبر پر ہے مقر لہو بالنصب علی الغیر بھئی۔ مقر لہو بالنصب علی الغیر بھئی دیکھیے، یہ جو مرنے والا ہے مثلاً اس نے زندگی میں ایک شخص کے بارے میں اقرار کیا تھا کہ یہ میرا بھئی ہے۔ یہ میرا بھئی ہے۔ اب جب اس نے یہ کہ یہ میرا بھئی ہے تو تو جس وہ اجنبی جس کے نسب کا علم نہیں اس کے بارے میں اس نے کیا کہا یہ میرا بھئی ہے۔ اور تو یہ اقرار کرنے والا کہلائے گا مقر، اقرار کرنے والا مقر اور وہ جس کے لیے اقرار کیا ہے وہ مقر لہو کہلائے گا۔ مقر لہو کہلائے گا، جس کے لیے اقرار کیا گیا اور اس نے اپنے سے تو اقرار کیا کیا یہ میرا بھئی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ اس اجنبی کا نسب اپنے سے ثابت کرنا چاہتا ہے یا اپنے والد سے؟ اپنے والد سے ثابت کرنا چاہتا ہے۔ تو مقر لہو بالنصب ہوا علی الغیر، یہ اقرار کرنے والا اپنے اوپر نصب نہیں ڈال رہا بلکہ اپنے غیر پر اپنے علاوہ یعنی اپنے والد پر اس کے نسب کو ڈالنا چاہتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقر لہو بالنصب علی الغیر بھئی۔ وہ جس کے لیے اقرار کیا گیا ہو نصب کا غیر پر۔ اسی طرح کسی شخص کے بارے میں مرنے والے نے کہا کہ یہ میرا چچا ہے، زندگی میں کہا تو چچا کہا تو اپنے اوپر نصب ڈالنا چاہتا ہے یا اپنے دادا پر بھئی؟ معلوم ہوا یہ بھی کہنا چاہتا ہے دادا کا بیٹا ہے تو دادا سے نسب ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کے اندر باپ یا دادا کی طرف سے تصدیق ضروری ہے، اس کے کہنے سے، اس کے اقرار کرنے سے نسب ان سے ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اپنے سے یہ کسی کا نسب ثابت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، یہ فلاں میرا بیٹا ہے یا فلاں میری بیٹی ہے، مجہول النسب ہے، ان کے نسب کا پتہ ہی نہیں، یہ کہتا ہے میرا بیٹا ہے اور یہ میری تو اپنے سے تو نسب کا اقرار کرے گا وہ معتبر ہوگا اور وہ اس کی اولاد میں شمار ہوگی۔ لیکن کسی اور پر انسان کسی کا نسب ثابت کرنا چاہے تو یہ اختیار اسے نہیں بھئی، اس کا اعتبار انہی کی طرف سے کیا جائے گا جن کے بارے میں اقرار کیا گیا بھئی۔ یعنی باپ بھی اگر تصدیق کر دے کہ ہاں یہ میرا بیٹا ہے یا دادا بھی کیا کر دے؟ تصدیق کر دے کہ یہ میرا بیٹا ہے تو پھر معتبر ہوگا اور جب وہ تصدیق کر دیں گے تو پھر یہ مقر لہو بالنصب علی الغیر نہ رہے گا بلکہ سابقہ قسموں میں سے کسی جس کے اپنے درجے کے مطابق داخل ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر تو یہ میت کا سگا بھئی ہو گیا تو سابقہ قسموں میں سے ذوی الفروض عصبات وغیرہ میں داخل ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کب؟ جب باپ یا دادا اس کی تصدیق کر دیں تو یہ صورت وہ ہے جس میں باپ یا دادا نے تصدیق نہیں کی، صرف میت نے کہا کہ یہ میرا بھئی ہے یا میرا چچا ہے، تو غیر پر نصب ڈالنا چاہتا ہے اور یہ اس کو اس کا اختیار نہیں ہے بھئی۔ لیکن بہرحال اقرار تو کیا ہے اور ہر ایک شخص اپنے اقرار کے بارے میں اس سے مواخذہ ہوتا ہے بھئی۔ پھر اس کی ذات کی حد تک یہ اقرار صحیح اور یہ مرنے تک مثلاً اسی اقرار پر جما رہا تو اب اس کا اقرار کا اثر دکھائے گا اور آٹھویں نمبر پر اگر ماقبل سے مال بچتا ہوا یا آٹھویں قسم تک آیا تو پھر جس کو اس نے اپنا بھئی قرار دیا تھا اس کو مال ملے گا بھئی۔ میت نے اقرار کیا تھا نا، مرنے والے نے زندگی میں تو اسی کا مال تقسیم ہو رہا ہے تو اب لہٰذا اس نے خود اقرار کیا تھا کہ یہ میرا بھئی ہے یا چچا ہے تو لہٰذا اب یہ آٹھویں نمبر پر اس میت کا مال اس کو ملے گا بشرطیکہ پہلی قسموں میں سے بچ جائے یا پہلی قسموں میں سے کوئی نہ ہو بھئی۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ اقرار ایسا ہو کہ شرعاً معتبر بھی ہو، یعنی جس کے بارے میں اقرار کر رہا ہے اس کی عمر بھی اتنی ہو کہ اس کے والد یا دادا کا بیٹا ہو سکے بھئی۔ اس کے والد یعنی اگر بھئی کہا ہے تو پھر اتنی عمر ہو کہ یہ اس کے باپ کی اولاد ہو سکتی ہے۔ اگر جس کے بارے میں اقرار کر رہا ہے یہ میرا ہے وہ تو اس کے باپ کی عمر کا ہے تو پھر شرعاً یہ معتبر نہیں بھئی۔ شرعاً معتبر نہیں۔ اور نیز یہ بھی ضروری ہے کہ موت تک میت اس اقرار پر قائم تھی بھئی۔ کسی وقت اس نے اس سے رجوع نہیں کیا بھئی۔ پھر اگر ان میں ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو مقرر لہو بنسب علی الغیر بھی کوئی نہ ہو تو نویں قسم ہے موصی لہو بجمیع المال۔ جس کے لیے میت نے پورے مال کی وصیت کی تھی۔ موصی لہو بجمیع المال وہ شخص جس کے لیے میت نے پورے مال کی وصیت کی ہو۔ تو اگر مثلاً میت نے کہا تھا میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال زید کو دے دیں تو یہ زید موصی لہو بجمیع المال ہوا۔ اب سب سے پہلے تجہیز و تکفین کر لیں گے قرضے ادا کر دیں گے۔ اور پھر اب تیسرے نمبر پر کیا تھا وصیت نافذ کرنی ہے اور اس نے کیا وصیت کی تھی کہ میرا سارا مال کس کو دے دیں؟ زید کو دے دیں اور وصیت آپ جانتے ہیں کتنے مال میں نافذ ہوتی ہے؟ ثلث میں۔ تو صرف تیسرا حصہ زید کو دے دیں گے اور باقی دو حصے وارثوں کے لیے روک لیں گے۔ پھر ہم نے وارثوں کی تحقیق کی تو پہلی آٹھ قسموں میں سے ایک بھی ہمیں نہیں ملا تو ہم نے تو دو ثلث ان وارثوں کے لیے روک کر رکھے تھے۔ اب وہ جو دو ثلث روکے ہوئے ہیں وہ کس کو دے دیں گے؟ اسی موصی لہو کے حوالے کر دیں گے بھئی۔ اور دسویں قسم پھر بیت المال ہے۔ اگر ان نو قسموں میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو پھر بیت المال میں اس مال کو جمع کروا دیا جائے گا اور مسلمانوں کی فلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جائے گا۔ اور آج کل چونکہ بیت المال نہیں لہٰذا متاخرین علماء فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے اگر کوئی باقی ہو تو اس پر رد کر دیا جائے گا اسے دے دیا جائے گا بھئی۔ اسے دے دیا جائے گا۔ جی یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی۔ اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ یہی دس قسمیں اب بیان کریں گے صاحب کتاب بھی بھئی۔ اچھا بھئی فیدا باصحاب الفرائض بس ابتدا کی جائے گی شروع کیا جائے گا اصحاب فرائض سے یعنی ذوی الفروض بھئی۔ صحاب فرائض کون ہیں؟ خود بتلا رہے ہیں وہم الذین لہم سہام مقدرۃ فی کتاب اللہ تعالی۔ وہ لوگ ہیں کہ ان کے حصے ہیں مقررہ اللہ کی کتاب میں۔ اور اسی طرح سنت میں بھی میں نے جیسے لکھوایا آپ کو اور اجماع سے ثابت ہے۔ کتاب اللہ کو ذکر کیا کیونکہ اکثر کا ذکر کتاب اللہ میں ہے۔ ثم بالعصبات من جہۃ النسب پھر ابتدا کی جائے گی ان عصبات سے جو نسب کی جانب سے ہوں یعنی عصبات نسبی۔ اب خود تعریف کر رہے ہیں عصبہ کسے کہتے ہیں والعصبۃ کل من یأخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض۔ اور عصبہ وہ ہر وہ شخص ہے من یأخذ جو لے لے ما اس مال کو ابقتہ اصحاب الفرائض جسے باقی چھوڑ دیں ذوی الفروض، اصحاب فرائض یعنی ذوی الفروض جس مال کو چھوڑ دیں عصبہ اس مال کو لے لے۔ وعند الانفراد اور اکیلے ہونے کی صورت میں یحرز جمیع المال۔ وہ حاصل کر لے گا سارے مال کو۔ اکیلے ہونے کی صورت میں سارے مال کو حاصل کر لے گا۔ سب باتیں پہلے بیان ہو چکی ہیں بھئی۔ ثم بالعصبۃ من جہۃ السبب پھر ابتدا کی جائے گی وہ کس سے عصبہ سبب کی جہت سے جو ہیں ان سے یعنی عصبہ سببی۔ خود بتلا رہے ہیں عصبہ سببی کون ہیں؟ کہتے ہیں وہ مول العتاقۃ۔ مولائے عتاقہ ہے یعنی معتق ہے آزاد کرنے والا۔ ثم عصبہ علی الترتیب پھر ابتدا کی جائے گی اس عصبہ سببی کے جو عصبہ ہیں علی الترتیب ترتیب سے ترتیب وار بھئی۔ ترتیب وار کیسے؟ بھئی نمبر بھی لگاتے جائیں ان پر بھئی۔ سب سے اصحاب الفرائض پر ایک لکھ لیں۔ دس قسمیں پوری آئیں گی بھئی۔ اس کے بعد کیا آیا تھا ثم بالعصبات من جہۃ النسب اس پر دو نمبر لکھیں بھئی۔ پھر ایک سطر کے بعد ہے عصبہ من جہۃ السبب یہ ہے تیسرے نمبر پر۔ ثم عصبہ علی الترتیب پھر یہ ہے چار نمبر بھئی۔ عصبہ سببی کے عصبات ترتیب سے ترتیب سے کیا معنی؟ پہلے نسبی اور پھر سببی۔ ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقہم۔ پھر رد ہوگا ذوی الفروض نسبی پر بقدر حقوقہم ان کے حصوں کے بقد، ان کے حصوں کے تناسب سے۔ ثم ذوی الارحام بھئی۔ پھر یہ چھٹے نمبر پر یہ ذوی الارحام ہیں۔ اس پر چھ نمبر لکھ لیجیے۔ ثم مول الموالات۔ پھر مولائے موالات ہے ساتویں نمبر پر۔ ثم المقر لہو بالنسب علی الغیر۔ پھر مقر لہو بالنسب علی غیر ہے یہ آٹھویں نمبر پر ہیں بحيث لم یثبت نسبہ اس حیثیت سے کہ ثابت نہ ہو نسبہ اس مقر لہو کا نسب اقرارہ اس مقر کے اقرار کی وجہ سے من ذالک الغیر اس غیر سے۔ بھئی اس نے کہا تھا یہ میرا بھئی ہے، مقر نے۔ تو کیا اس کے بھئی کہنے سے، اس کے والد سے اس کا نسب ثابت ہو گیا؟ نہیں، یہی بات کر رہے ہیں کہ اس طور پر اس مقر اقرار کرنے والے کے اقرار کی وجہ سے اس غیر سے اس کا نسب ثابت نہیں ہوا۔ بحيث لم یثبت نسبہ اس حیثیطور، اس حیثیت سے کہ ثابت نہ ہو اس مقر لہو کا نسب اقرارہ اس مقر کے اقرار کی وجہ سے من ذالک الغیر اس غیر سے۔ اذا مات المقر علی اقرارہ جب کہ مر جائے اقرار کرنے والا اپنے اقرار پر۔ یعنی اس نے اقرار سے پھر رجوع نہ کیا ہو، موت تک اسی پر قائم رہا ہو۔ ثم الموصی لہو بجمیع المال۔ پھر موصی لہو بجمیع المال بھئی وہ شخص جس کے لیے وصیت کی گئی ہے سارے مال کی ثم بیت المال۔ پھر اس کے بعد بیت المال ہے۔ اور میں نے بتایا نیچے بین السطور بھی لکھا ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک بیت المال نہ ہو تو پھر کس چیز پر رد کر دیں گے؟ میاں بیوی میں سے جو زندہ ہو۔ یاد رکھیے سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔ قیمتی بات ہے مولانا، یاد رکھیے سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد کا وراثت میں کوئی حق نہیں، کوئی حصہ نہیں۔ بھئی دیکھیے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، اس عورت کی پہلے سے اولاد ہے پہلے نکاح سے۔ ایک بیٹا ہے یا بیٹی ہے، تو یہ اس شخص نے اب اس عورت سے نکاح کیا یہ اولاد اس کی سوتیلی اولاد ہوئی۔ سوتیلی اولاد۔ اور یہ ان کا سوتیلا باپ ہوا، اور ان کا آپس میں وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس باپ کا ان، اس شخص کا انتقال ہو جائے تو اس عورت کی جو اولاد ہے پہلے خاوند سے، جو سوتیلی اولاد ہو گئی اس کی، اسے اس شخص کی وراثت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر ان اولاد میں سے کسی کا انتقال ہوتا ہے تو یہ ان کا سوتیلا باپ ہے، لہٰذا اس کو اس کی وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا، کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ ہاں، ان کا وہ خاوند پہلا عورت کا جو خاوند جو ان بچوں کا حقیقی باپ ہے، اس کو حصہ ملے گا اور کیونکہ یہ اس کی اولاد ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح بھئی بعض لوگ کسی کو منہ بولا بھئی، منہ بولا بیٹا بنا لیتے ہیں۔ اس سے بھی وراثت وہ بھئی نہیں بن جاتا، اولاد نہیں بن جاتی، وراثت سے ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح یاد رکھو کسی کی خدمت کرنے سے وراثت کا کوئی حصے دار نہیں بنتا۔ ایک شخص کی دوسرا شخص تمام زندگی خدمت کرتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ دل و جان سے اس کی خدمت کرتا ہے لیکن پھر بھی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں بھئی۔ دور کے رشتہ دار اور رشتہ دار اس کے جنہوں نے کبھی مرنے والے کو پوچھا بھی نہیں تھا اور یہ آدمی تمام زندگی اس کی خدمت کرتا رہا، یہ وارث نہیں۔ وارث کون ہیں؟ وہ رشتہ دار ہی ہیں بھئی جنہیں اللہ نے مقرر فرمایا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی بچے کی ایک شخص نے پرورش کی، تمام عمر اپنی اولاد کی طرح پرورش کی، خیال رکھا بھئی۔ اور اس کا انتقال ہوا تو اس کی وراثت اگر اس بچے کے کوئی رشتہ دار ہیں، وہ وارث ہوں گے، یہ تمام عمر پرورش کرنے والا اور اس پر خرچ کرنے والا یہ کسی بھی لحاظ سے اس کا وارث نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔