لکھئیے بھئی آگے یہاں ایک تنسی بحث لکھ لیجئے پھر آگے کتاب سے پڑھتے ہیں انبیاء کے مال میں انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی۔ انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مال میں میراث جاری نہیں ہوتی اکثر علماء کا یہی قول ہے جبکہ بعض علماء کے نزدیک جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم میراث سے مخصوص و مستثنیٰ ہیں بہ اجماع صحابہ و اتفاق علماء حدیث میں آتا ہے ما ترکنا صدقۃ یعنی ہم انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے درہم و دینار تو نہ چھوڑے البتہ کچھ زمین اور باغ وغیرہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اس کو تقسیم کرانے کا ارادہ کیا اور آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کے تقسیم ہونے اور میراث میں دیئے جانے کی درخواست بھی فرما دی تھی لیکن جب انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد معلوم ہوا تو مطالبے کے خیال کو چھوڑ دیا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تو پھر تمام عمر اس کا ذکر بھی نہیں کیا زمین کی پیداوار میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے موافق آپ کی ازواج مطہرات کا نفقہ دینے کے بعد جو کچھ باقی رہتا وہ عام مسلمانوں کے کاموں اور جہاد وغیرہ کے ساز و سامان میں صرف ہوتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز و اقارب نواسوں وغیرہ کو مال غنیمت اور بیت المال سے بڑے بڑے وظیفے اور تنخواہیں ملتی رہیں انبیاء چونکہ تمام امت کے روحانی باپ ہوتے ہیں اور ساری امت کے ساتھ ان کا یکساں تعلق ہوتا ہے اسی وجہ سے ان کے مال کو بھی تمام مسلمانوں کے مفاد میں خرچ کیا جاتا ہے تاکہ سب کے کام آئے انبیاء کرام اپنی قبور مبارکہ میں زندہ اور حیات ہیں شیخ الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ مدارج النبوۃ جلد دو میں فرماتے ہیں حیات انبیاء متفق علیہ ہے علماء امت میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ اپنے مکتوبات میں اپنے مکتوبات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام مومنین کی ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور از قبیل حیات دنیاوی بلکہ بہت سی وجوہ سے اس سے قوی تر ہے حوالہ مکتوب نمبر 130 مکتوب نمبر 130 جلد اول علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ فتح الملہم جلد 2 صفحہ 441 پر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں جیسا کہ سب مانتے ہیں اور آپ اپنی قبر مبارک میں اذان و اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ چونکہ انبیاء اپنی قبور مبارکہ میں زندہ ہیں تو یہ اسی حیات کا اثر ہے کہ ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی جیسے زندہ شخص کے مال کو وارثوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا اور یہ اسی حیات کا اثر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے نکاح ثانی حرام رہا جیسا کہ آپ کی حیات میں حرام تھا نیز اسی حیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لفظ خاتم النبیین پر یہ نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہمیشہ کے لیے جاری ہے جبکہ مورث خود موجود ہے کوئی نبوت کا وارث نہیں ہو سکتا۔ سوال: حضرت زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ مجھ کو ایسی اولاد عطا فرما جو میری وارث ہو اسی طرح قرآن میں ہے وورث سلیمان داؤد یعنی سلیمان علیہ السلام اپنے والد داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کے مال میں میراث جاری ہوتی ہے۔ جواب: اس سے مراد مال و اسباب کا وارث ہونا نہیں بلکہ علمی وراثت اور نبوت میں وراثت مراد ہے۔