بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین حمداً شاکرین، والصلوٰۃ والسلام علی خیر البریّۃ محمد و آلہ الطیبین الطاہرین۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تعلموا الفرائض وعلموها الناس فإنها نصف العلم۔ قال علمائنا رحمہ اللہ تعالیٰ تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعہ۔ الحمد للہ رب العالمین تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام عالموں کا تمام جہانوں کا۔ حمد الشاکرین۔ حمد الشاکرین بھئی یہ مفعول مطلق ہے مولانا کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے جس کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے۔ اپ نے نحو کی کتابوں میں پڑھا ہوگا کافیہ وغیرہ میں کہ بعض موقع پر مفعول مطلق کے عامل کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے بھئی۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی، ضربت ضرباً یہ ضرباً کیا ہے؟ مفعول مطلق۔ تو مفعول مطلق کے عامل فعل کو بعض موقع پر حذف کرنا واجب ہوتا ہے۔ یہ بھی انہی موقع میں سے ایک موقع ہے تو یہاں اس کے عامل کو وجوباً حذف کیا گیا۔ بھئی۔ ای احمد حمد الشاکرین میں حمد بیان کرتا ہوں کس کی؟ کن کی طرح کی حمد؟ شکر گزار بندوں کی طرح کی حمد بیان کرتا ہوں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یقیناً شکر گزار بندوں کی حمد اور ہی ہوگی نہایت اعلیٰ درجے کی ہوگی اس لیے مصنف نے کہا کہ میں کس قسم کی حمد بیان کرتا ہوں؟ شکر گزار بندوں کی حمد بھئی۔ جی۔ اور یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ تفصیل بھی سن لیجیے بھئی۔ علمائے نحو لکھتے ہیں کہ جب مفعول مطلق تشبیہ کے لیے آئے بھئی۔ یہاں بھی مفعول مطلق کس لیے آ رہا ہے؟ تشبیہ۔ کس جیسی حمد؟ شکر گزار بندوں جیسی حمد۔ تو یہ تشبیہ کے لیے آ رہا ہے۔ اور افعال جو جوارح میں سے ہونا چاہیے بھئی۔ وہ جو مفعول مطلق ہے کس میں سے ہو؟ افعال جوارح یعنی اعضاء کا فعل ہو قلب کا فعل نہ ہو اور حمد بھی زبان سے ہوتی ہے یہ کس میں سے ہے؟ افعال جوارح میں سے ہے۔ تو جب مفعول مطلق تشبیہ کے لیے آئے اور افعال جوارح میں سے ہو اور اس سے ما قبل ایسا جملہ ہو جس کے اندر یہ مفعول مطلق کا اسم آ جائے بھئی۔ تو دیکھو حمد اس کا ما قبل جملے میں کیا اسم آ رہا ہے؟ الحمد اسما رہا ہے۔ تو اس سے ما قبل ایسا جملہ آیا جو اس کے اسم پر مشتمل ہے اور صاحب اسم یعنی جو اس سے موصوف ہو رہا ہو اس کا بھی ذکر ہو اور یہ حمد کس کی بیان ہو رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی اور ذات باری تعالیٰ کا ذکر ما قبل کے جملہ میں موجود ہے بھئی۔ تو اس صورت میں اس مفعول مطلق کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آئی بھئی کہ مفعول مطلق جب کس کے لیے آئے؟ تشبیہ کے لیے ہو اور کس میں سے ہو؟ افعال جوارح میں سے ہو اور اس سے ما قبل ایسا جملہ ہو کہ جس جملہ میں اس مفعول مطلق کا اس کا اسم اور صاحب اسم دونوں کا ذکر ہو تو پھر اس کے عامل یعنی فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ بھئی۔ صورت کو ما قبل میں الحمد وہ اسم بھی آگیا اور للہ بھئی ذات باری تعالیٰ جس کے لیے حمد ہے ان کا بھی ذکر آیا بھئی۔ حمد الشاکرین شکر گزار بندوں کی حمد کی طرح۔ والصلوٰۃ والسلام علی خیر البریّۃ اور رحمت ہو اور سلامتی ہو علی خیر البریّۃ مخلوقات میں سب سے بہتر پر محمد یعنی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ بریّہ۔ بریّہ کے اندر یاد رکھیے ایک بریّہ لفظ ہے اس میں صرف یا مشدد ہے اور ایک بریّہ جس میں را بھی مشدد ہے بھئی تو دونوں میں فرق ہے بھئی۔ بریّہ را بھی مشدد ہو یا بھی مشدد ہو تو اس کا معنی اس کے معنی جنگل کے آتے ہیں بھئی۔ تو عبارتوں میں جگہ جگہ یہ لفظ آپ کو ملے گا تو آپ نے خیال رکھنا ہے بھئی کہ را کی شد کے ساتھ ہو بریّہ تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جنگل بھئی۔ اور را کی تخفیف کے ساتھ ہو صرف یا مشدد ہو بریّہ تو اس کے معنی مخلوق کے آتے ہیں بھئی۔ مخلوق۔ علی خیر البریّۃ جو مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں یعنی کہ محمد و آلہ اور ان کی آل پر۔ الطیبین الطاہرین۔ آل بھئی آلہ ای آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ آل محمد سے کیا مراد ہے؟ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ اس کے بارے میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں بھئی۔ پندرہ بیس سے بھی زائد اقوال ہیں بھئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں اس سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں بھئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہیں بنو ہاشم میں سے۔ بعض کہتے ہیں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب جو ہیں ان میں سے جو قریبی رشتہ دار ہیں وہ مراد ہیں۔ جی اور بعض کہتے ہیں حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم مراد ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں اس سے تمام قریش والے ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام متبع متبعین مراد ہیں بھئی۔ اتباع کرنے والے تمام مومنین مراد ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں اس سے تمام متقی مومنین مراد ہیں بھئی۔ عام مومنین نہیں بلکہ متقی مومنین مراد ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہر ایک جی۔ اور بعض کہتے ہیں بھئی ایہ مشتہد علماء مراد ہیں نیک علماء مراد ہیں اس سے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے علمائے مجتہدین ہیں بھئی۔ عام علماء نہیں بلکہ علمائے مجتہدین مراد ہیں بھئی۔ اور ہر ایک کے دلائل ہیں بھئی ان کا۔ تو علماء فرماتے ہیں بھئی آل کہ آل محمد کے کئی معنی ہو سکتے ہیں موقع محل کے مطابق اس کا معنی کیا جائے گا بھئی جو مراد ہو۔ موقع محل کے مطابق بھئی۔ تو یہاں آ رہا ہے آل کے بعد آل کی صفت آ رہی ہے الطیبین الطاہرین بھئی۔ طیبین اور طاہرین کا ایک معنی ہے بھئی پاکیزہ پاکیزہ۔ تو یہ طیبین اور طاہرین کا قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہاں آل کا کیا معنی کرنا چاہیے؟ کہ دعا کا مقام ہے تو ہر متقی مومن مراد ہو یہ معنی لیا جائے تو بہتر ہے لیکن میں نے بتلایا موقع محل کی مناسبت اور قرینوں کو دیکھا جائے گا بھئی۔ समझ में आया؟ हर मोमिन मुتقي حضور کی آل میں ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا من آل محمد؟ آل محمد کون ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کل تقي ہر متقی ہر متقی۔ لیکن یہاں پر یہ طیبین اور طاہرین صفت آ گئی تو یہاں پر معلوم ہوا اس آیت کی طرف اشارہ ہے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطہرکم تطھیرا۔ انما یرید اللہ اللہ تعالیٰ تو یہی ارادہ کرتے ہیں کہ تم سے گندگی کو دور کر دیں اھل البیت ای یا اھل البیت اے پیغمبر کے گھر والو۔ و یطہرکم تطھیرا اور تمہیں اللہ خوب پاک کر دے بھئی خوب پاک کر دے۔ اور اس آیت کی تفسیر میں بھئی اھل البیت بھئی جن کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں و یطہرکم تطھیرا تو اھل البیت سے کون مراد ہیں؟ رئیس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ای نساء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مراد ہیں۔ کون مراد ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مراد ہیں بھئی۔ جن کے لیے یطہرکم تطھیرا کے الفاظ آئے تو یہاں بھی کتاب کے اندر و آلہ الطیبین الطاہرین معلوم ہوا آل سے کون کن کا مراد لینا یہاں زیادہ مناسب ہے؟ حضور کی ازواج بھئی۔ جی۔ یا یہ معنی کر لیں کہ حضور علیہ السلام کے قریبی نسبی رشتہ نسبی اور سببی رشتہ دار بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت حسن اور حسین اور حضرت فاطمہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ سب داخل ہو گئے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار چاہے نسبی رشتہ ہے یا سببی رشتہ ہے اور ایمان لے کر آئے ہیں بھئی۔ جی۔ میں نے بتلایا الطیبین الطاہرین کا ایک معنی ہے پاکیزہ پاکیزہ۔ لیکن بعض علماء نے کچھ فرق کیا وہ کہتے ہیں کہ طیبین سے مراد ہیں کہ جو قلب کے اعتبار سے پاکیزہ ہیں بھئی۔ ان کے دل کیا ہیں؟ پاکیزہ ہیں اور الطاہرین ان کے جوارح اعضا بھی کیا ہیں؟ پاک قلب بھی پاکیزہ ہیں، گناہوں کا خیال دلوں دلوں میں نہیں آتا اور ان کے اعضا و جوارح بھی پاکیزہ ہیں یعنی وہ گناہ نہیں کرتے بھئی، گناہ سے بچتے ہیں بھئی بچتے ہیں۔ یا الطاہرین سے مراد ہے کہ وہ پاکیزہ ہیں اعتقاد کے اعتبار سے ان کے عقائد کیا ہیں بڑے پاکیزہ ہیں اور الطاہرین پاکیزہ ہیں وہ بہ اعتبار اعمال کے بھئی۔ عقائد بھی ان کے بڑے پاکیزہ اور ان کے اعمال بھی بڑے پاکیزہ ہیں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تعلموا الفرائض فرائض سیکھو و علم الناس اور لوگوں کو فرائض سکھاؤ فانها نصف العلم یقیناً یہ نصف علم ہے یہ فرائض کیا ہیں؟ نصف علم ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرائض کو نصف علم قرار دیا اس کی کیا وجہ؟ کیوں نصف علم قرار دیا؟ علماء مختلف وجوہ بیان کرتے ہیں بھئی۔ وجہ اول بھئی کیونکہ انسان کی دو حالتیں ہیں بھئی ایک حیات اور ایک موت بھئی۔ باقی علوم کے اندر حیات سے متعلقہ احکام ذکر ہوتے ہیں اور علم فرائض کے اندر بھئی موت سے متعلقہ احکام کیا ہوں گے؟ ذکر ہوتے ہیں تو اس لیے اس کو نصف علم قرار دیا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ فرائض کو نصف علم اس لیے قرار دیا گیا کہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے بھئی بہت زیادہ۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں علم فرائض کا ایک مسئلہ کسی کو بتلانے پر اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے علم کے سو مسائل بتلانے پر ثواب ملتا ہے۔ تو ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے اس کو نصف علم قرار دیا۔ قول ثالث بھئی کہ اس کے مسائل بہت زیادہ ہیں بھئی اس کی جزئیات اتنی کثیر ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس کی جزئیات باقی علوم کی جزئیات کے برابر ہیں اس لیے اس کو نصف علم قرار دیا۔ اس لیے اسے نصف علم قرار دیا۔ قول رابع بعض علماء کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کے ترغیب اور تعظیم کے طور پر بھئی ترغیب دیتے ہوئے اور تعظیم کے طور پر اسے نصف علم قرار دیا بھئی تاکہ لوگ اس کے سیکھنے میں رغبت کریں بھئی ترغیباً اور تعظیماً بھئی۔ قول خامس اسباب ملک کے اعتبار سے بھئی اس کو نصف علم قرار دیا گیا بھئی انسان جب کسی چیز کا مالک بنتا ہے تو دو صورتیں ہیں یا اختیاری طور پر مالک بنے گا یا غیر اختیاری طور پر۔ اختیاری طور پر مالک جیسے آپ نے کوئی چیز خریدی تو آپ اس کے مالک بن گئے یا کسی نے آپ کو کوئی چیز دی آپ نے لے لی تو آپ اس کے کیا بن گئے؟ مالک بن گئے اور ایک غیر اختیاری طور پر چیز کا مالک بننا وہ وراثت میں ہوتا ہے بھئی۔ انسان جب کسی کا وارث ہے تو اس کے انتقال کے بعد خود بخود اپنے اس کے مال کا اس کے حصے کے بہ قدر اس کا مالک بن جائے گا چاہے رضا مندی ہو یا رضا مندی نہ ہو۔ تو اسباب ملک دو قسم کے ہوئے کچھ اختیاری ہیں اور کچھ غیر اختیاری تو باقیوں کے اندر اختیاری کا ذکر اور اس کے اندر کون سے سبق کا ذکر ہے؟ علم میراث میں غیر اختیاری کا کہ انسان غیر اختیاری طور پر میراث کا مالک بن جاتا ہے۔ چنانچہ علماء لکھتے ہیں اگر کسی وارث نے قسم اٹھائی بھئی مورث کی زندگی میں ہی کہ میں تیرے مال میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا اگر وراثت کے طور پر اگر میں نے کچھ بھی تمہارے مال میں سے لے لیا تو میری بیوی کو طلاق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں مورث کے انتقال پر خود بخود یہ اس کے مال کا مالک بن گیا اور اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور اگر وہ قبول نہیں کرتا بھئی مال کو نہیں لیتا تو مال قبول کرے یا نہ کرے وہ اس کا ہو چکا بھئی۔ تو قاضی جبراً کیا کر سکتا ہے؟ اس کے مکان پر پہنچا دے اس کے حوالے کر دے وہ پھر بے شک آگے کسی کو دے دے لیکن بہرحال مالک بن گیا ایک دفعہ اس کے بعد جو بھی کرتا رہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اللہ کی طرف سے تقسیم ہے، اللہ کا حکم ہے کسی انسان کو اس میں ردوبدل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے آج کل آپ دیکھتے ہیں پڑھتے ہیں سنتے ہیں بعض لوگ اپنی اولاد کو جائیداد سے عاق کر دیتے ہیں بھئی۔ یہ ملکی قانون تو ہے شرعی قانون نہیں۔ شریعت کے اندر کوئی شخص اپنی اولاد کو عاق نہیں کر سکتا۔ ہزار بار کہتا رہے میں اس کو میرے مال میں سے کچھ بھی نہ دینا پھر بھی شرعاً اس شخص کے انتقال کے بعد وہ اپنے حصے کا مالک بن جائے گا بھئی تو یہ عاق کرنے کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے بھئی۔ تو آپ بھی نہ کر سکا اور مکہ کا گناہ بھی اس مورث نے اپنے سر لے لیا بھئی۔ ہاں اس کا ایک حیلہ ہے، ایک طریقہ ہے کسی کو اگر جائیداد سے محروم کرنا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری جائیداد تقسیم کر دے اور ان وارثوں کے تصرف میں دے دے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب یہ مرے گا اس کی ملکیت میں کچھ ہوگا ہی نہیں تو اس شخص کو کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن بہرحال یہ حیلہ اس طرح کا حیلہ کرنا جس کے ذریعے اللہ تعالی نے جو تقسیم کی ہے اور جو حصے مقرر کیے ہیں اس میں ردوبدل کرتا ہے اور کسی کو محروم کرتا ہے تو یقیناً اپنے لیے دوزخ کے اسباب بنا رہا ہے اور کچھ بھی نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ تعالی اپنے احکام کی حکمتوں سے خوب واقف ہیں جب اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ایک شخص جو تمہارا وارث بنے گا اور اس کو اتنا حصہ تمہارے مال میں سے ملے گا تو اس شخص کو اس کو محروم کرنے کے لیے کوئی حیلہ کرنا درست نہیں ہے بھئی درست نہیں ہے۔ تو فانھا نصف العلم تو علم میراث کیا ہے؟ نصف علم ہے یہ معنی ہے اس کا بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔ آئیے بھئی دعا بھی کر لیں الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ تمام کتابوں کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو ہمارے لیے محبوب فرما۔ اے اللہ اس علم کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ اس علم کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ اس علم کو سیکھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ جتنے حاضرین ہیں سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ یہ طلبہ یقیناً آپ کے اولیاء اللہ ہیں جو اس زمانے کے اندر علم دین پڑھ رہے ہیں۔ اے اللہ اے اللہ سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ ان کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ ہم آپ کے کمزور بندے مشکلات برداشت نہیں کر سکتے۔ اے اللہ ہم سب ہمیں تمام مشکلات سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ سنتوں پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ شرک و بدعت سے حفاظت فرما۔ اے اللہ شرک و بدعت کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ جتنے حاضرین ہیں سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ مجاہدین کے لیے خصوصاً دعا ہے اللہ ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ ان کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ جو سب جس انداز میں بھی دینی کام میں مصروف ہے سب کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقه محمد و آله و صحبه اجمعین